بوڑھا چور

وہ گھات لگائے کھڑا تھا، وہ اس موقعےکی تلاش میں تھا جب وہ لوگوں کی نظروں سے بچتا ہوا اپنی مطلوبہ جگہ اور اس جگہ پہ موجود اپنی مطلوبہ شے تک پہنچ پاتا۔
مینوپاز

گھر واپس جاتے ہوئے وہ ان اذیت بھرے دنوں کا اعادہ کرنے لگی جب مجازی خدا کی ایک نگاہ التفات کو وہ ترسا کرتی تھی۔
پِٹا ہوا مہرہ

یہ عینک اس کی نظر کی کمی کو کسی طور پورا نہیں کرتی۔ یہ بس اس کی تنہائی کی ساتھی ہے۔ اس کی صفائی میں کچھ لمحے بیت جاتے ہیں۔ زندگی موت کی طرف دو قدم آگے بڑھ جاتی ہے جیسے ٹرین نے دو اسٹیشن پار کرلیے ہوں۔
خواہش کی گھنٹیاں

چھوٹا درخت اس سارے ہنگامے سے بےنیاز اپنی خواہش کی گھنٹیاں بجاتا رہا۔
اجنبی

خورشید احمد کی آنکھوں میں بھی نمی اتر آئی تھی۔ گھر کا اصلی مالک اُس کے سامنے بیٹھا تھا اور وہ خود کو اپنے گھر میں ہی اجنبی محسوس کررہا تھا۔
کیران کا میلہ

بوڑھے سادھو نے یہ بھی بتایا کہ حضرت شاہ کیران کی زندگی میں کوڑھ کی وبا عام ہوئی تو آپ نے گاؤں کی ایک بدمزاج لڑکی کو اپنے حریم میں پیش کیے جانے کا حکم دیا۔
گمنام شہید اور زندہ لاشیں
ٹھیک پچاس سال پہلے، آج ہی کی تاریخ تھی، 16 ستمبر۔۔۔۔لاہور کی بی آر بی نہر میں ایک لاش بہہ رہی تھی۔
کھنڈر
اس کے پیچھے سناٹے سے گونجتا ہوا گھر تھا اور سامنے اندھیرے کے علاوہ پہاڑیوں کا سلسلہ۔
صاحب ، کتا اور چور
بھانت بھانت کے کتے بھانت بھانت کے لہجوں میں بھونک بھونک کر اپنے وجود، اپنی ذات اور نسل کی پہچان بتا رہے تھے۔
محشر‑1
کوہ سلیماں کی
خاک سے آندھیاں لپٹی ہیں
اوردو سربریدہ
پیغمبروں کا ظہور ہے
خاک سے آندھیاں لپٹی ہیں
اوردو سربریدہ
پیغمبروں کا ظہور ہے
سفید دھاگہ

لیکن اس وقت یہ مسئلہ در پیش تھا کہ کسی نے اس حالت میں دیکھا تو کیا کہے گا اور کہنے والوں کی زبانیں بند کرنے کا کوئی نسخہ آج تک ایجاد نہیں ہوا۔
فساد

مینار کے اوپر لگے لاوڈ سپیکرکھانسا، اور اپنے گلے کو صاف کرتے ہوئے ایک چپچپا سیال اور گاڑھا بلغمی تھوک پھینک کر خاموش ہو گیا۔ نو مولود تھوک محلے کے سب گھروں کی چھتوں ،صحنوں، دروازوں اور کھڑکیوں پر چپک گیا۔