Categories
تبصرہ

میرا واہ کی راتیں: ایک تاثراتی جائزہ (نسیم سید)

میرواہ کی را تیں کی دوقسطیں میں نے آن لائن میگزین “لا ل ٹین ” پر پڑھی تھیں۔ دوقسطوں نے اس ناول کو پورا پڑھنے کی طلب دل میں پیدا کی مگربوجوہ بہت سا وقت یونہی گزر گیا۔ رفاقت حیات کی مہربانی کہ اس کا پی ڈی ایف انہوں نے مجھےبھیج دیا۔ میں نے اس ناول پر چونکہ کوئی تبصرہ نہیں پڑھا اس لئے مجھے نہیں معلوم کہ اس کو تنقید کی کس کس دھارپردھرا گیا یا تعریف کی کون کون سی سند عطا کی لہذا مجھے صرف اپنے احساسات لکھنے ہیں۔ اس ناول کوپڑھ کے اندازہ ہوتا ہے کہ دیہی زندگی کورفاقت حیات نےبڑی تفصیل سے جیا ہے، وہ اس ماحول کی خوشبواوربدبو، اس کے حسن اوربدصورتی اوراس ماحول میں پرورش پانے والے ہرفرد کی نفسیات، ان کے مزاج ان کے مذہبی عقیدے، جنسی رویے غرض پورے ماحول کوجانتے اورپہچانتے ہیں، شاید برسوں اس ناول کے کرداران سے مطالبہ کرتے رہے “مجھے لکھو” انہوں نے غربت کی ہربھوک کولوگوں کو بھوگتے دیکھا ہے۔ بھوک خواہ شہرت کی ہویا دولت کی، طاقت کی ہویا اقتدارکی،پیٹ کی ہویا بدن کی، بھوک بہرحال بھوک ہوتی ہے۔ بھوک اگرپیٹ کی ہوتو کوڑے سے روٹی چننے پرمجبورہوجاتی ہےاوراگرجسم کے فطری تقاضے فاقے سے ہوں تو رشتوں کا احترام ان تقاضوں کے سامنے ننگا ہوجاتا ہے۔ ہم آئے دن اخباروں میں محترم رشتوں کی پامالی کے حوالے سے نا قابل ِ یقین سانحات کی خبریںپڑھتے ہیں اوران مجرموں پرلعنتیں بھیجتے ہیں مگراکثر یہ نہیں سو چتے کہ کن روایات اورعقا ئد کی مضبوظ زنجیروں میں جکڑاماحول ہے، اور یہی ان پڑھ رواج ہیں،رٹائے ہوئے عقائد ہیں جورفا قت حیات کی میراواہ کی راتوں کے نذیر، اس کی چچی خیرالنسا اورشمیم جیسے کردارتخلیق کرتے ہیں۔رفا قت حیات گو ماہر نفسیات نہیں ہیں لیکن انہوں نے ان تین کرداروں کے وجود میں اتر کے پورے ماحول کی نفسیاتی الجھنوں اورجنس کی بے لگام خواہشوں کواپنے سا دہ وپرکاربیانیے کے جال میں سمیٹ لیا ہے۔ ناول میں انہوں نے ان تین کرداروں کی جنسی بھوک کی گتھی کی ہر گرہ کھول کر اس کا ایک ایک دھاگہ بڑے سلیقے سے الگ کرکے ہمارے سامنے رکھ دیا ہے (میں یہاں یہ کہنا ضروری سمجھتی ہوں کہ بھوک میں اور لت یا ہوکے میں بڑا فرق ہوتا ہے، اگر رفاقت حیات کو شہرت، دولت، عورت، طاقت، شراب یا جنسی لذت کی لت یا ہوکے کا بیان مقصود ہوتا تو بہت سی دیگر کہانیوں کی طرح یہ نا ول بھی اپنا تما شہ آپ ہی لگا لیتا )۔

“میرواہ کی راتیں “ہماری دیہی زندگی کے معمولی پڑھے لکھے نوجوانوں اوران عورتوں کی وہ سچا ئی ہے جس کی پرورش ہمارا ماحول، روایات، اورمذہب سب مل جل کے بڑی محنت سے کرتے ہیں۔ ناول کے مرکزی کردار نذیرجیسے سیکڑوں کردارہردوسرے تیسرے دن اخبار کی سرخی ہوتے ہیں، جنہیں ہش ہش کرکے چادروں سے ڈھانپ دیاجاتاہے۔ ا ن قصوں کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں،رفاقت حیات نے انتہا ئی ذہانت سے چھوٹی سی کہانی میں چند کرداروں کے ذریعے چیخ چیخ کےکچھ کہے بنا ایک محدودکینوس پران کی جذباتی کشمکش کی ہر سطح کواپنے برش سے شاندار اسٹروک لگا ئےہیں۔ “میرواہ کی راتیں” پڑھتے ہوئے ہمیں ان جزیات پر گہری نظر رکھنی ہوگی جو نذیرکی کہانی کے بین السطورگاوں کے اکثرنوجوانوں کی داستان سنا تی ہیں۔

کہانی کا مرکزی کردار نذیرایک حلوا ئی کا بیٹا ہے جس نے مارے باندھے آٹھویں تک پڑھ لیا ہے اوراب وہ اردو پڑھنے کے قابل ہوگیا ہے۔ نذیرکا مزاج ایک تو لڑکپن سے عاشقانہ ہے دوسرے اس کے نوجوان بدن میں تماشہ لگاتی دن رات نئی نئی انارومہتابیوں کی تپک کوسندھ کی ایک لوک کہانی ہاتھ آجاتی ہے۔ یہ سندھ کی قدیم لوک کہانی مومل کے کاک محل میں پروش پانے والی محبت کی لازوال داستان ہے اس لوک کہانی کی مومل اس قدر حسین ہے کہ ایک دنیا اس کے حسن کی دیوانی ہے۔ رانا، اس جیسا ہی حسین اوردلیرشہزادہ مومل کی عائد کردہ شرائط کو پوراکرکے اس کا دل جیت لیتا ہے۔اس کہانی میں عشق کی آگ کی لپٹیں ہر اس وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں جواس کوپڑھ لے۔ رفاقت حیات جیسے لکھاری لمبی چوڑی تفصیلات میں جانا پسند نہیں کرتے سو وہ نذیرکے ہاتھ میں یہ کہانی تھما کے الگ تھلگ بیٹھ جاتے ہیں ” مومل و رانا کی کہانی اسے بیحد پسند تھی ” ہم جانتے ہیں کہ نذیرایک نوجوان لڑکا ہے۔ جنت کی حوروں کے حسن کی جزیات اوران کےساتھ شب بسری کی تفصیلات کی شراب ہمارا مولوی لڑکپن سےہی مردوں کو جام بھربھرکے پلا نا شروع کردیتا ہے۔ سوا س کی تفصیل میں جانا ضروری نہیں سمجھا گیا کہانی میں ہم خود بھی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ نشہ بچپن سے ہی کس طرح رگوں میں دوڑنے لگتا ہے۔ ایک طرف عورت کا ایسا نشہ آورتصوردوسری طرف عورت کی قربت تو دورکی بات اس کی ایک جھلک بھی میسرنہ ہواوراگرہو بھی تو کسی محترم رشتہ کی صورت میں تو وہ کہانیاں جنم لیتی ہیں جس کی میرواہ کی راتیں چشم دید گواہ ہیں۔ ہربڑا کہانی کارمعاشرے کے کسی ناسور، کسی واقعہ کسی سا نحہ کی نشاندہی کرتے ہوئےمعالج کا کردار نہیں ادا کرتا، منٹوکا ” کھول دو” اس کی لاجواب مثال ہے۔

رفا قت حیات نے یہ ناول جنسی تسکین کے لیے نہیں لکھا بلکہ انہوں نے بڑی ذہانت سے ان حقائق سے پردہ اٹھا یا ہے جونذیر، شمیم اورنذیر کی چچی جیسے سیکڑوں کی داستاں کا حصہ ہیں۔ یہ وہ عوامل ہیں جو جلتی پرتیل کا کام کرتے ہیں۔ خیرالنسا کاشوہرساٹھ سال کا ہے اوروہ اس اس سے پچیس سال چھوٹی ہے۔ شمیم کا شوہربھی اس سے عمرمیں اتنا ہی بڑا ہے اوریہ کوئی عجیب بات نہیں بلکہ ہمارے
ان پڑھ اوردیہی ماحول میں اکثربہت چھوٹی عمر کی بچیاں اپنے سے تین گنا بڑے مردوں سے بیاہ دی جاتی ہیں۔ ان لڑکیوں کوبچپن سے گناہ اورثواب کے درس گھرکی عورتیں رٹا تی ہیں اور مرد ” غیرت کے نام پرقتل “کے کلہاڑے کندھوں پررکھےبنا کچھ کہے سمجھا دیتے ہیں کہ انہیں شک بھی ہوگیا توبیوی یا بہن جان سے گئی۔ ان تاکیدوں اوربندشوں کے بعد بھی کیسے وہ واقعات ہوجاتے ہیں جن کی خبریں ہم اخباروں میں پڑھتے ہیں اس کا سبب رفا قت حیات نے میرواہ کی راتوں میں دکھا یا ہے۔

نذیرکی پسندیدہ کہانی کی حسین مومل نذیرکے دل میں کسی حسین عورت کودیکھنے، اسے چھونے، اس کے ساتھ رانا کی طرح پرجوش وپرشوق راتیں گزارنے کی بے پناہ خواہش پیدا کرکے اس سے ٹرین اسٹیشن کے چکرلگواتی ہےاوربرقع میں لپٹی ہرعورت کواس کی نگاہیں ٹٹولتی ہیں “اس کا مشا ہدہ تھا کہ عورتیں بھی اس تفریح سے لطف اندوز ہوتی تھیں” لہذا ٹرین اسٹیشن پرموجود بوڑھے شوہرکی نوجوان بیوی شمیم بھی نذیر کی نگاہوں کا جلد ہی مطلب سمجھ جاتی ہے اوراس کی وہ خوبصورت آ نکھیں جنہیں دیکھ کے وہ اس پرعاشق ہوگیا تھا، مسکرا اٹھتی ہیں۔ نذیر اسٹیشن سے لے کر گاوں تک برقع میں لپٹی شمیم کا پیچھا کرتا ہے۔ عورت کی جھلک کو ترسے ہوئے لڑکیوں کا پیچھا کرنے والے کرداروں کوکس نے نہیں دیکھا ہوگا۔ نذیرکا یہ رویہ اس جیسے ہی سیکڑوں کی نما ئند گی کررہا ہے۔۔ یہ ہراس نوجوان کی کہانی ہےجس کے دماغ میں بچپن میں ہی یہ بات کوٹ کوٹ کر بٹھا دی جاتی ہے کہ لڑکی سے ملناجلنا، بات کرنا شرمناک گناہ ہے لیکن جنس مخالف کی کشش ایک فطری تقا ضہ ہے سویہ تقاضے اپنی راہ ڈھونڈ نکالتے ہیں۔۔۔اس کے برعکس جن جوانوں کو اپنی ہم عمرلڑکیوں سے ملنے جلنے بات کرنے کے بچپن سے مواقع ملیں وہ کسی عورت کی آنکھیں دیکھ کے اس پرعاشق ہوتے ہیں نہ ہی ان رشتوں پر جھپٹتے ہیں جن کا احترام ہر معاشرے میں متعین ہے۔

نذیرکے لا شعورمیں بسی مومل جیسی اب دوخوبصورت عورتیں ہیں جودین دارہیں، روزے نماز کی پابند ہیں شوہر کی اطاعت گزارہیں اس کے باوجود ان کے اندرکوئی خلا ہے، بدن کے وہ فطری تقاضے ہیں جن کا شوہرسے اظہار بھی ہمارے معاشرے میں عورت کے لیےبے شرمی سمجھا جاتا ہے۔ان تقاضوں کو جب اپنی طرف ملتفت ایک جوان ملتا ہے تو تربیت اورتاکید وں کے باندھے سارے بند ٹوٹ جاتےہیں۔ شمیم تک پیغام رسانی کی نذیر صورت نکال لیتا ہے چھوٹی سے ملاقات کے بعد شمیم خود نذیرکو اپنے گھر بلا بھیجتی ہے۔نذیراور شمیم کی مرادوں والی بے سدھ رات کے دوران ایک بلی اچانک چھت سے کود کے دونوں کو یوں بے مراد کر دیتی ہےجیسے کسی بھوکے کے ہاتھ سے اس کا نوالہ چھن جائے۔ اس اچانک رونماہونے والے سانحہ کا اثرنذیرپروہی ہوتا ہے جس کے تحت مرد شدید احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔رفاقت حیات نے کہانی میں بہت ذہانت سے اس واقعے اوراس کے اثرات پر اشارتاً بہت کچھ کہہ دیا ہے۔ گو نذیرکا دل شمیم سے اچاٹ ہوجاتا ہے لیکن ابھی اس کی چچی موجود ہے وہ خوبصورت عورت جواس کے کھوئے ہوئے اعتماد کو لوٹا سکتی ہے۔ خیرالنسا گناہ اوربدن کی فطری تقاضوں کے بیچ پستی روایتی جبرکی شکارلاتعداد عورتوں کی نما ئندہ ایک ایسی عورت ہے جوباپ کی عمرکے مرد کی جاگیر ہے۔ نذیرکی وارفتگی ایک مختلف ذائقہ اورنشہ ہے جودھیرے دھیرے اس کے احساس گناہ پرغالب آجاتا ہے۔ عورت کے لمس کوترستے ہوئے مردوں کی بھوک تسکین کے کیسے کیسے ذرائع ڈھونڈ لیتی ہے رفاقت حیات ایک چھوٹے سے منظرمیں پینٹ کرتے ہیں۔” دھیرے دھیرے وہ بلاؤز کو اپنی ناک کے قریب لے گیا اوراسے سونگھنے لگا۔ اسے سونگھتے ہوئے اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ وہ خود کو کسی عورت کے قرب میں محسوس کرنے لگا۔ وصل کی سرشاری جیسی سرشاری اس پرطاری ہونے لگی” نذیر ہمارے کنفیوزڈ معاشرے کا وہ کردار ہے جوایسی عورت کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں جوچند لمحوں کے لیے سہی اس کے لیے اپنے جسم کی آغوش وا کردے۔

نذیرگوچچی کے بارے میں سوچتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتا ہے لیکن اس کے اردگرد کے توسارے ہی رشتوں پرمقدس رشتوں کا لیبل لگا ہے۔ عورت کی قربت کا فطری تقاضہ جب فاقوں سے تنگ آجائے توکوڑے پرسے بھی روٹی چن کے کھالیتا ہے۔ یہی حال ادھرخیرالنسا کا بھی ہے ” میں جانتی ہوں یہ گناہ ہے، بے حیائی ہے مگرتو خود سوچ اس کے اورمیرے درمیان کتنا فرق ہے ” رفاقت حیات کو مومل اوررانا جیسی کوئی عشقیہ داستان تحریر نہیں کرنی تھی۔ انہیں توان تین اہم کرداروں کے ذریعہ زمین کی تین تہوں تک اتری سماجی،معاشرتی اور مذہبی جکڑبندیوں کی ان جڑوں کی نشاندہی کرنی تھی جودن بدن گھنی سے گھنی ہوتی جارہی ہیں ان وحشتوں کو اجاگر کرنا ہے جو اندر ہی اندرگھن کی طرح پوری تہذیب کو کھا رہی ہیں یا کھا چکی ہیں۔ زندگی کے ہرشعبہ میں ہرطورطریقے میں دوہرا معیار رکھنے والے ہمارے معاشرے میں پچیس سال کا مرد سا ٹھ سال کی عورت سے شا دی کرلےتوعورت سمیت پورا معاشرہ حیرت سے انگلیاں چبا ڈالے۔ مگر ساٹھ سال کے مرد کی پچیس تو کیا تیرہ چودہ سال کی عمر کی لڑکیوں سے شا دی کی لا تعداد مثالیں موجود ہیں اور سب چپ ہیں۔ یہ گائے بکری جیسی عورتیں جس کھونٹے سے دل چا ہے باندھ دی جا ئیں۔ سات سال کی لڑکی تا وان میں سترسال کے بڈھے کو دے دی جا ئے جرگے کے فیصلے اس رواج کوکاری نہیں کرتے۔ ان حبس زدہ رواجوں، جرگوں، مولویوں اور عزت کے رکھوالوں میں ” کا ری ” اور” کارا” کرکے قتل کردینے کی روایت برسہابرس سے جوں کی توں قائم ہے۔ ہمارے حبس زدہ معاشرے کی نما ئندگی کرنے والے ان تین کرداروں کے مطالعہ سے یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ مذہب نے ذہنوں کی تربیت کرنے میں کیا اہم کردارادا کیا ہے ؟

رفاقت حیات کا ” میرواہ کی راتیں” اپنے فکری اعماق،فنی وسعت، چست بیا نیے، خوبصورت اسلوب اورموضوع پرگہری گرفت رکھنے والا ایک ایسا ناول ہے جو ہماری دیہی زندگی میں پلنے والے نوجوانوں اورکسی بھی کھونٹے سے باندھ دی جانے والی لڑکیوں کی داستان نہیں بلکہ فلم ہے جوہرمنظرکو تمام ترجزیات کے ساتھ نہایت خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔ یہ وہ سچا ئیاں ہیں جن سے ہم نظریں توچرا سکتے ہیں لیکن انہیں جھٹلا نہیں سکتے۔

Categories
فکشن

بوئے خوں (رفاقت حیات)

وہ اندھیرے میں دکھائی نہ دینے والی سرخ اینٹوں کے کھردرے فرش پر گھٹنے ٹیک کر اس طرح بیٹھا تھا، جیسے نماز پڑھ رہا ہو۔ گھٹنوں پر رکھے ہوئے بائیں ہاتھ کی انگلیاں کانپ رہی تھیں اور کاندھے میں بھی تیز دُکھن تھی جب کہ اس کا دایاں ہاتھ فرش پر بے حس لٹکا پڑا تھا۔ ایک لمحے کے بعد اس کی اوپر کو اٹھی ہوئی گردن آہستگی سے نیچے آئی اور ڈھلک کے رہ گئی۔ دھونکنی کی طرح چلتے اس کے سینے کو قرار آگیا اور دھیرے دھیرے اس کی سانسیں ہموار ہونے لگیں۔ اپنے جسم اور چہرے کی مختلف جگہوں پر جلن اور درد کو محسوس کرتے ہی اس کے ہاتھ یہاں وہاں زخموں کو ٹٹولنے لگے۔ کہیں پرناخنوں کی کھرونچوں سے اس کا گوشت سلگ رہا تھا اور کہیں پر دانتوں کے کاٹنے سے اسے تکلیف ہورہی تھی۔ کچھ دیر پہلے تک اس کی نگاہ میں گھمبیر تاریکی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ لیکن دھیرے سے آنکھیں مچ مچا کر، پھیلا کر اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے وہ کمرے کی چیزوں کو ان کی جگہ پر دیکھنے اور پہچاننے لگا۔ کمرے کی چھت اور دیواریں، بند کھڑکی اور دروازہ، الماری، صندوق اور پلنگ۔ وہ ہر طرف دیکھتا رہا مگر جب اس نے اپنے بہت قریب فرش کو دیکھا تو چونک پڑا۔”یہ۔۔۔یہ کیا تھا”؟ اس نے سوچا۔ “شاید کوئی چیز پڑی ہوئی تھی۔ لیکن نہیں، وہ تو ایک جسم تھا”۔

اس کے ٹوٹے ہوئی جسم کی طرح اس کا ذہن بھی ٹکڑوں میں بٹا ہوا تھا۔ اس لیے کچھ دیر پہلے کے واقعے کو یاد کرنا یا اس کے بارے میں سوچنا فی الحال ممکن نہیں تھا۔ لیکن اسے معلوم تھا اور وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ نزدیک پڑا جسم بھولے کا تھا۔ اس کی انگلیوں کی کپکپاہٹ تھم گئی اور کندھے کی دکھن بھی ختم ہو گئی۔ اس نے جھک کر ہاتھ آگے بڑھایا تو اس کی انگلیاں ایک پیر سے ٹکرائیں اور اس پر رینگنے لگیں۔

وہ پیر مٹی اور گرد سے اٹا ہوا تھا۔ اس پر ایک موٹی سی تہہ جمی ہوئی تھی۔ اس نے پیر کو ہلایا، جلایا لیکن بے حرکت جسم بے حرکت ہی رہا۔ اپنے گھٹنے گھسیٹ کر وہ آگے بڑھا۔ اب اس کا ہاتھ اس کے پیر کی پنڈلی کو ٹٹولنے لگا۔ وہ پنڈلی بہت نرم تھی اور اس پر کوئی بال نہیں تھا۔ گوشت کو دباتے ہوئے اس کی آہ نکل گئی اور دفعتاً اس کا ہاتھ پھسلا تو اس نے فرش پر رینگتے ہوئے سیال کو محسوس کیا۔ وہ بھولے کا خون تھا۔

وہ یک دم سناٹے میں آ گیا اور کمرے کی تاریکی میں آنکھیں پھیلا کر آس پاس دیکھنے لگا۔ پھر وہ اپنی جیبیں ٹٹولتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ ماچس کی تلاش میں اِدھر اُدھر ہاتھ مارتے ہوئے اس کا پاؤں فرش پر کسی چیز سے ٹکرا گیا اور وہ چیز گھسٹتی ہوئی، خاموشی میں تیز آواز پیدا کرتی ہوئی پلنگ کے نیچے چلی گئی۔ اس نے پرواہ نہیں کی اور صندوق، الماری اور پلنگ پر ہاتھ مارتا رہا۔ اسے ماچس مل گئی۔ لیکن پچھلی موم بتی بہت پہلے ختم ہو چکی تھی اور نئی موم بتی کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں رکھی ہوئی تھی۔ وہ دیا سلائیاں جلا کر، بھڑکا کر، کونوں کھدروں میں ڈھونڈ تا ٹٹولتا رہا۔ دیا سلائیوں کی بجھتی بھڑکتی روشنی میں اس نے یونہی بھولے کی طرف دیکھا تو نجانے کیوں وہ اسے پہلے سے زیادہ خوب صورت معلوم ہوا۔

پلنگ کے نیچے اسے آدھی موم بتی کا ٹکڑا مل گیا۔ وہیں فرش پر گری ہوئی چھری بھی اس کے ہاتھ لگ گئی۔ چھری کو فوراً پھینک کر، اس نے موم بتی روشن کی اور بھولے کے پاس پہنچا۔ زرد اور پھیکی سی روشنی میں اس نے دیکھا کہ ابھی تک اس کی آنکھوں میں نفرت تھی اور چہرے پر غصیلا پن جھلک رہا تھا۔ اس نے بھولے کی کھلی ہوئی آنکھوں اور ادھ کھلے ہونٹوں کو بند کر دیا۔ اچانک اس کے پیٹ میں مروڑ اٹھا اور غم کی تیز لہرنے اس کے پورے بدن کو جکڑ لیا۔ اس نے بمشکل مو م بتی فرش پر رکھی اور سسکیاں لینے لگا۔ اس کی آنکھوں میں پہلا آنسو جگمگایا اور اس نے بلند لہجے میں ماتم شروع کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دن صبح سے بوندا باندی ہورہی تھی۔ وہ شام ڈھلنے سے ذرا پہلے کارخانے سے باہر نکلا تھا اور کیچڑ سے چپچپاتی گلیوں میں آہستگی سے چلتا فوارے والے چوک تک پہنچا تھا۔ بازار کی دکانیں وقت سے پہلے بند ہو گئی تھیں اور خریداروں کے بجائے راہگیروں کی تعداد زیادہ تھی۔ وہ بھی اسٹینڈ پر تانگے کے انتظار میں کھڑی بھیڑ میں شامل ہوگیا تھا۔ ہجوم کی دھکم پیل کی وجہ سے آنے والا ہر تانگہ فوراً بھر جاتا اور تھوڑی سی دیر میں واپس چلا جاتا۔ تین مرتبہ تانگے پر سوار ہونے کی کوشش میں اسے ناکامی ہوئی تھی۔ چوک سے اس کی رہائش کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ لیکن وہ تھکاوٹ محسوس کر رہاتھا۔ اور اسے مکان پر پہنچنے کی جلدی بھی تھی۔

ایک پرانے اور خستہ حال تانگے کو دیکھ کر لوگ اس پر سوار ہونے سے کترائے اور وہ پیچھے ہٹ گئے کیونکہ اس میں بیٹھ کر بوندا باندی اور ہوا کے سرد جھونکوں سے بچنا محال تھا۔ اس تانگے کا نو عمر کو چوان آوازے لگا رہاتھا۔ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اس نے اگلی نشست پر اپنے ایک دوست کو بٹھا دیا تھا۔

وہ ٹھٹھرنے اور بھیگ جانے کی پرواہ کیے بغیر تانگے پر سوار ہو گیا تھا۔ اس کی دیکھا دیکھی تین اور لوگ بھی چڑھ کر بیٹھ گئے تھے۔ اسے کوچوان کے دوست کے پہلو میں جگہ ملی تھی، جو سر سے پاؤں تک برسات میں بھیگا ہوا تھا۔ وہ بہت کم عمر دکھائی دیتا تھا۔ اس کا رنگ سفید اور جسم صحت مند تھا۔ اس کے سرخ ہونٹوں میں کوئی کشش تھی کہ وہ اسے غورسے دیکھے بنا نہیں رہ سکا تھا۔

تانگے کا مریل گھوڑا سست رفتاری سے بازار کی مرکزی سڑک پر دوڑنے لگا۔ آگے اور پیچھے بیٹھے لوگ، ایک دوسرے سے منہ موڑ کر شام کے دھندلکے میں گم ہوتی اِدھر اُدھر کی معمولی چیزوں کو دیکھ رہے تھے۔ ہوا کے ٹھنڈے جھونکے اور پانی کی پھوار ان کے چہروں کو چومتی اور سہلاتی رہی۔ خنکی سے بچنے کے لیے وہ خود بخود اپنے جسموں کے اندر ہی اندر سمٹتے رہے۔

اس کے جسم کا دایاں حصّہ کو چوان کے دوست کے بائیں حصے کے ساتھ چپکا ہوا تھا۔ لڑ کھڑا کر اور ڈگمگا کر چلتے تانگے کی وجہ سے ان دونوں کے گھٹنے، کولہے اور کندھے آپس میں رگڑ کھا رہے تھے۔ تھکاوٹ کے سبب سردی اس کے جسم پر غالب آرہی تھی۔ اس کی مندی ہوئی نگاہ سامنے تھی اور دھیرے سے کم ہوتے فاصلے کو ناپ رہی تھی۔

کوچوان اور اس کا دوست آپس میں سرگوشی اور کبھی دھیمے لہجے میں باتیں کر رہے تھے، مشینوں کے درمیان دن بھر کی مشقت کی وجہ سے وہ تھوڑا سا بہرا ہوگیا تھا اور یوں بھی اس کا دھیان اس قابل نہیں تھا کہ کسی بھی چیز پر دیر تک لٹکا رہ سکے۔ مگر ان دونوں کا کوئی آدھا پورا جملہ خود بخود اس کے کان پڑ جاتا تھا۔

کوچوان دھیرے سے چابک چلاتے ہوئے اپنے دوست سے مخاطب ہوا۔ “تونے چاچا رحیم کی نوکری چھوڑ کر اچھا نہیں کیا۔ سوچ لے۔ وہ شہر کے آدھے تانگوں کا مالک ہے”۔ اس کے لہجے میں پر خلوص تنبیہ تھی اور نصیحت بھی۔

اس کا دوست پہلو بدلنے کے لئے تلملاتے ہوئے بولا۔ “تجھے نہیں پتہ۔ وہ ایک نمبری کنجوس ہے رات دن افیم چرس پیتا رہتا ہے۔ نشے کے بعد وہ بندہ تو رہتا ہی نہیں”۔

“تجھے کیا ؟ وہ جو بھی کرتا رہے”۔

“سارا غصہ سارا زور تو وہ مجھ پر نکالتا تھا”۔ اس نے چپکے سے آنکھوں کے کونوں سے اپنے ساتھ بیٹھے لوگوں کو دیکھا۔ ان کے جسم اس طرح جھول رہے تھے، جیسے وہ خواب میں چل رہے ہوں۔

“وہ تو بڈھا ہے اس میں زور کہاں”؟ کوچوان نے گھوڑے کو ہشکارتے ہوئے کہا۔

“وہ خبیث بڈھا نہیں ہے ڈنڈا ہے ڈنڈا۔ ابھی تک میرے درد ہو رہا ہے کوئی رات خالی نہیں گزاری۔”

دونوں دوست آپس میں بولتے رہے۔

ایک آدھ جملہ سن کے نجانے کیوں وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔ ایک تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے پہلے جھک کر اور بعد میں پہلو بدل کر کوچوان کے دوست کو اچھی طرح دیکھا۔ اس نے جان بوجھ کر اپنے کندھے اور گھٹنے کو اس کے ساتھ زور سے رگڑا اور اس کے داہنے ہاتھ کی انگلیاں اپنے آپ اس کی ران کے خوشگوار لمس کی جھیل میں بھٹکنے لگیں۔ چڑھائی اترتے وقت اس نے ہاتھ پھیلا کر نرم گوشت کو دبایا۔ نرمی کو چھوتے ہوئے اس کے اندر کی کھردراہٹ کو چین تو ملا لیکن اس کی بے قراری میں جیسے کھلبلی سی مچ گئی۔

تھوڑی دیر کے بعد تانگا اس پل کے نزدیک پہنچ گیا، جہاں اسے اترنا تھا۔

اترتے ہوئے اس نے کوچوان کے دوست کی آنکھوں میں جھانکا تو اسے ایک غصیلی بے بسی دکھائی دی۔ اس کے ہونٹوں پر ایک بدمعاش مسکراہٹ پھیل گئی جو سڑک پر چلتے ہوئے بدمعاش ہنسی میں تبدیل ہوگئی۔ اس نے کالے آسمان کو دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھری اور اپنی تاریک اور گھٹن زدہ رہائش کی طرف اترنے والی غلیظ گلی میں چلنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرش پر رکھی موم بتی کے اوپر نیچے ہوتے شعلے کی روشنی میں اس کا سایہ کانپتا رہا۔ ایک پتنگا تھوڑی دیر تک شمع کے گرد منڈلایا اور اس کی پھڑ پھڑاہٹ کمرے کی خاموشی میں دوچار لمحے گونجی لیکن پھر وہ شعلے میں راکھ ہوگیا۔ دھیرے دھیرے اس کا رونا مدہم پڑ گیا اور کچھ آنسو گالوں سے پھسل کر اس کی ٹھوڑی سے اس کی جھولی میں گرے اور اس کے بعد اس کی آنکھیں خشک ہو گئیں۔

ہاتھ چہرے سے ہٹا کر وہ ایک مرتبہ پھر بھولے کو غور سے دیکھتا رہا۔ وہ آہستگی سے اپنا ہاتھ اس کے نزدیک لے گیا۔ اس کے گالوں کو چھوتے ہوئے پہلی بار اسے اپنے دانتوں کے نشان دکھائی دیے۔ نشان، جو گہرے تھے اور جنہیں شمار کرنا ممکن نہیں تھا، جو پیشانی اور آنکھوں کے سوا تمام چہرے پر پھیلے ہوئے تھے۔

موم بتی ہاتھ میں لے کر اس نے گالوں کی سرخی کو دیکھا تو اس کی نگاہ ہونٹوں کی سرخی پر جم کے رہ گئی۔ ابھی تک وہ گیلے تھے اور سوجے ہوئے بھی، وہ ان کی نیم گرم نرمائیت کو انگلیوں کی پوروں میں جمع کرتا رہا۔ اس کے بعد اس کی کپکپاتی ہوئی انگلیاں بھولے کے بغیر بالوں والے سینے پر گھومنے لگیں۔

اس کے جسم کے خفیہ ترین گوشوں میں کوئی شے سرسرانے لگی۔ کوئی مانوس اور گمنام سی شے۔ اس نے موم بتی فرش پر رکھ دی اور لمبے سانس لینے لگا۔ یہ کیفیت اس کے لیے بالکل نئی تھی اور انوکھی بھی۔ اچانک اسے چرس بھرے سگریٹ کی طلب محسوس ہوئی۔ نادانستہ اس نے داہنی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔ اپنی جیب کو غائب پا کر اسے اپنی حماقت پر ہنسی آگئی۔ بھولے کی طرح وہ بھی ننگا تھا۔ اس نے یہاں وہاں نظر پھینکی تو اپنی قمیض کو پلنگ پر پڑے ہوئے دیکھا۔

اس نے قمیض اٹھائی اور اس کے بعد سگریٹ کی ڈبیا نکال کر لپک جھپک میں اس نے چرس کا سگریٹ بنایا۔

پہلا کش لیتے ہی اس کی بند ناک کھل گئی اور ایک بدبو کی بھبک زبردستی اس کے نتھنوں میں داخل ہوئی۔ اس نے فورًا اٹھ کر کمرے کی اکیلی کھڑکی کھول دی لیکن اگلے ہی لمحے اسے احساس ہوا کہ اگر کسی نے جھانک کر دیکھ لیا تو۔

وہ سہم گیا اور اس نے کھڑے کھڑے ایک دو کش لگانے کے بعد اپنے سر کو سلاخوں کے پاس لے جاکر باہر کی طرف دیکھا۔ وہ کچھ دیر تک پوری آنکھیں کھول کر کوئی مشتبہ چیز دیکھنے کی کوشش کرتا رہا اور کان لگا کر خطرے کی کوئی آواز ڈھونڈتا رہا۔

کھڑکی کے سامنے کچی اور غلیظ ڈھلان تھی، جس کے نیچے گندا نالہ بہتا تھا۔ دوسری طرف قبرستان تھا۔ اور اس کے ٹنڈمنڈ وحشت ناک درخت، پور امنظر تاریک تھا لیکن اسے سب کچھ نظر آرہا تھا۔ زمین کی چیزوں کو غور سے دیکھنے کے بعد وہ آسمان کو دیکھنے لگا۔ سگریٹ ختم ہوا تو اس نے کھڑکی بند کر دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جمعرات کی شام تھی اور ابھی تک بونداباندی رُک رُک کر جاری تھی۔

بوندا باندی کی یک رنگی نے اس کی زندگی کو بے مزہ بنا دیا تھا۔ کام سے فراغت کے بعد اپنے تاریک کمرے میں دبک کر بیٹھنے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس کے کمرے میں شام سے بہت پہلے رات اتر آئی تھی اور بہت دیر تک کونوں کھدروںمیں چھپی رہتی تھی۔وہ کارخانے کے جس کمرے میں کام کرتا تھا، وہ بھی کھوہ جیسا تھا۔ اس کا پورا دن ہزار وولٹ کے بلب کی روشنی میں مولڈنگ مشین کے سرخ شعلے کو گھورتے ہوئے گزر جاتا تھا۔ شام کو وہ اپنی آنکھوں میں جلن اور جوڑوں میں دکھن لیے باہر نکلتا تو اسے رات کے رنگ کے سوا کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ایک سال ہونے کو آیا تھا، اس کے لیے شہر کی اجنبیت ابھی تک ختم نہ ہو سکی تھی۔ دوستی کے بجائے لوگوں سے اس کے تعلق کی بنیاد صرف ضرورت پر قائم تھی۔ ہوٹل پر کھانے کی ضرورت، مانڈلی پر سگریٹ خریدنے کی ضرورت۔ اس کی ضرورتیں پوری کرنے والے لوگ اس کے لیے غیر اہم تھے۔

اس نے اس شام فوارہ چوک کے بجائے شاہ چن چراغ کے مزار کا رخ کیا تھا۔ وہاں سے مزار زیادہ دوری پر واقع نہیں تھا۔ درمیان میں صرف چند آڑی ترچھی گلیوں کا راستہ تھا۔

گلیاں نیم تاریک اور بھیگی ہوئی تھیں۔ جا بجا کیچڑ اور برساتی پانی کی بہتات تھی۔ مٹی اور سرخ اینٹوں کی سوندھی مہک تمام راستے میں پھیلی تھی۔ آسمان سرمئی اور سیاہ بادلوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہوا بالکل بند تھی۔ ایک چھوٹے اور تنگ سے ہوٹل میں بیٹھ کر اس نے چائے پیتے ہوئے کیک پیس کھایا اور چلنے لگا۔مزار کی جنوبی دیوار ایک چڑھائی سے شروع ہو کر کشادہ گلی کے نکڑ تک جاتی تھی۔ دیوار پیلی تھی مگر اس وقت سرمئی نظر آرہی تھی۔ وہ دیوار کے ساتھ چلتا مرکزی دروازے تک پہنچا اور اندر داخل ہوا۔ احاطے میں چند بکھری ہوئی روشنیاں تھیں مگر اندھیرے کی کیفیت غالب تھی۔ دا ہنی طرف ذرا اونچائی پر ایک حجرہ بنا ہوا تھا۔

حجرے کے ساتھ خالی زمین پر درخت اور پودے لگے ہوئے تھے۔ بائیں طرف نیچے مزار تھا اور اس کا برآمدہ اور صحن بھی۔ یہ چیزیں سفید سنگِ مرمر کی تھیں، نیم اندھیرے میں بھی سنگِ مر مر کا میلا پن دکھائی دے رہا تھا۔ پورے احاطے میں گلاب کے سوکھے پھولوں اور اگربتیوں کی گاڑھی خوشبو تھی۔ وہاں سوگوار چہروں والے چند لوگ بھی تھے، جو دبے پاؤں چلتے تھے اور سرگوشیاں کرتے تھے۔

وہ برآمدے کے ستون سے پیٹھ لگا کر بیٹھ گیا اور شاہ چن چراغ کی قبر کو دیکھتے ہوئے درود شریف پڑھنے لگا۔

اس سے ذرا فاصلے پر ایک نو عمر لڑکا فرش پر گہری نیند میں لیٹا ہوا تھا۔ ایک اچٹتی نگاہ ڈالنے کے بعد اس نے لڑکے کی طرف دوبارہ نہیں دیکھا۔ لڑکے کا لباس بہت گندا تھا اور سر کے بال آپس میں چپکے ہوئے تھے۔

کچھ لوگ چاولوں کی دیگ اٹھائے مرکزی دروازے سے داخل ہوئے تو ذرا سی دیر میں پورے احاطے میں لنگر بٹنے کا شور مچ گیا۔

وہ اپنی جگہ پر بیٹھا چپ چاپ بھوکے لوگوں کا تماشا دیکھتا رہا۔

کسی نے اس لڑکے کو بھی جگا دیا تھا۔ وہ اپنی نیند سے بوجھل آنکھیں مسلتا، جماہی لیتا اٹھ کھڑا ہوا اور بے ترتیب قدم اٹھاتا دیگ کی طرف چلنے لگا۔

نا گاہ اس نے لڑکے کو دیکھا اور فورًا پہچان لیا۔ پھر اس کی نظریں اس کا تعاقب کرنے لگیں۔

مڑے تڑے اخبار کے ٹکٹرے پر گرما گرم چاول سمیٹے وہ لڑکا وہیں آ بیٹھا اور اپنی انگلیوں کے جلنے کی پرواہ کیے بغیر وہ بے صبری سے اپنی غذا کھانے لگا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی اور پورے جسم میں عجیب سی حرکت۔ چاول ختم ہو گئے تو اس نے پہلے اخبار کے ٹکڑے کو اور بعد میں اپنی انگلیوں کو اچھی طرح چاٹا۔ اسے پانی کی طلب کا بھی احساس نہیں تھا۔

وہ اسے مسلسل تکے جارہا تھا۔

لڑکے نے قمیض سے ہاتھ صاف کئے اور پھر اپنا سر کھجانے لگا۔

وہ اس کے پاس جا بیٹھا۔

لڑکا اپنے آپ میں مگن رہا۔

اس نے سگریٹ سلگایا تو لڑکے نے اس کی طرف دیکھا۔ اس نے لڑکے کو سگریٹ پینے کی پیشکش کی تو اس نے فورًا قبول کر لی۔

وہ ایک لمبا کش لیتے ہوئے لڑکے سے مخاطب ہوا۔ “یہاں کا لنگر مزیدار ہوتا ہے نا”۔

بہت سی دیا سلائیاں ضائع کرنے کے بعد وہ لڑکا سگریٹ سلگانے میں کامیاب ہو ہی گیا۔ وہ اناڑی کی طرح کش لیتے ہوئے بولا۔ “بہت مزیدار۔ میں تین دن سے یہاں پر ہوں صبح، دوپہر، شام لنگر بٹتا ہے میں تو موج اڑاتا ہوں۔ سگریٹ کا دھواں اس کے گلے میں اٹک گیا۔ اپنی کھانسی پر قابو پاکر اس نے کہا۔ تم نے کھایا نہیں؟”

وہ ہنستے ہوئے بولا۔ “آج میری جیب گرم ہے۔ اس لیے میرے پلے جب کچھ نہیں ہوتا ۔ تب یہاں سے کھاتا ہوں”۔

“تو کرتے کیا ہو”؟
“ڈھلائی کے کارخانے کا م، اور تم”؟

“میں کوچوان تھا۔ اب کچھ بھی نہیں ہوں”۔

“تمہارا گھر کہاں ہے ” ؟

“یہ مزار میرا گھر ہے۔ یہیں پر کھاتا ہوں اور سوتا ہوں”۔

“میرے ساتھ چلو گے”؟

کوچوان زور سے ہنسا۔” تمہارے ساتھ چلا گیا۔ پھر تم مجھے نہیں چھوڑو گے”۔ اس کی ہنسی قہقہے میں تبدیل ہو گئی۔

“کیا مطلب”؟

“تم جانتے ہو”۔ اس کی طرف دیکھے بغیر وہ لڑکا اٹھ کھڑا ہوا۔

وہ اسے پانی کی ٹینکی کے پاس جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کھڑکی بند کرنے کے بعد بھی تیز بد بو کی بھبھک زائل نہیں ہو سکی اور وہ چرس کی خوشبو کے ساتھ مل کر کمرے کی فضا میں تیرتی رہی۔ وہ کمرے کے دروازے سے لگ کر کھڑاہوگیا اور جھک کر آڑی تر چھی درزوں سے باہر جھانکنے لگا۔ اسے اندھیرے کی تجرید کے سوا کچھ بھی دکھائی نہیں دیا۔ اس کی آنکھوں اور دماغ پر سرا سیمہ کیفیت چھائی تھی۔ جو باہر کی خاموشی میں غیر محسوس آوازوں کا شور سن رہی تھی۔

وہ دبے پاؤں کمرے میں ٹہلنے لگا۔ اسے وہم تھا کہ چلتے ہو ئے اس کا پاؤں کسی اینٹ سے ٹھوکر کھا کر زخمی ہو جائے گا۔ وہ ہر قدم اٹھا اٹھا کر چلتا رہا۔

موم بتی پگھلتی جارہی تھی اور اس کے ٹمٹماتے شعلے کی روشنی اور مدھم پڑ گئی تھی۔

وہ بھولے کے پاس آ بیٹھا اس نے چرس کا ایک اور سگریٹ بنا کر سلگایا۔

سگریٹ پیتے ہوئے وہ بھولے کے ابھرے ہوئے پیٹ کی طرف دیکھتا رہا۔ ابھی تک اس کا خون بہہ رہا تھا اور فرش پر کچھ گہری لکیریں رینگتی ہوئی دور تک چلی گئی تھیں۔ اس نے اٹھ کر کپڑے سے لکیروں کو صاف کر نے کی کوشش کی وہ مٹ گئیں اور ان کی جگہ ایک دھبہ سا بن گیا اس کے بعد اس نے بڑی مشکل سے آنتوں کو اندر دبا کر وہی کپڑا بھولے کے پیٹ پر باندھ دیا۔ ذرا دیر بعد کپڑے سے بھی خون رسنے لگا۔ پھر وہ دیوار سے پیٹھ لگا کر بیٹھ گیا۔

وہ بھولے کے ساتھ گزارے ہوئے شام کے وقت کو یاد کر کے ہنستا رہا اسے شدید بوسے یاد آئے اور تیز جھٹکے بھی، گالوں پر کاٹنا اور بدن کو نوچنا بھی۔ وہ بھولے کی سسکیوں اور گالیوں کو فراموش نہیں کر سکا تھا۔

اچانک اپنے خون میں عجیب سنسنی خیزی کو محسوس کرتے ہوئے وہ اپنی رانوں اور پیٹ کو زور سے کھجاتا رہا۔ اس نے بڑے جتن سے بھولے کا مردہ اٹھایا اور اسے اپنی کھاٹ پر لٹا دیا۔ کچھ لمحوں کے بعد وہ بھی اس کے پہلو میں لیٹ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے ہفتے وہ تین مرتبہ مزار پر گیا تھا اور ہر بار کوچوان لڑکے سے اس کی ملاقات ہوئی تھی۔ وہ اس سے دوستی کی کوشش کرتا رہا۔ جس میں اسے کامیابی ہو ئی تھی۔ کوچوان لڑکے کی حالت خراب ہوتی جا رہی تھی۔ اس کی چپل چوری ہو گئی تھی۔ کپڑے پھٹنے لگے تھے اور اس کی جیب میں کبھی ایک دھیلا نہیں ہوتا تھا۔ وہ ہر وقت مزار کے کسی کونے میں پڑا اونگھتا رہتا تھا۔

وہ اسے اپنے ساتھ ہوٹل لے گیا اور اس نے کڑاہی مرغ سے اس کی تواضع کی۔ اگلی بار اس نے پچاس روپے کا نوٹ زبردستی اس کی جیب میں ڈال دیا اور تیسری ملاقات میں اس نے چپل خرید کر اسے لے دی۔اس کے بعد وہ جان بوجھ کر کچھ دنوں کے لیے مزار پر نہیں گیا تھا۔

وہ پانچ روز کے بعد پہنچا تو کوچوان لڑکا اسے کہیں بھی نظر نہیں آیا۔برآمد ے کے پاس وہ اس کا انتظار کرتا رہا۔ جب وہ لڑکا آیا تو پہلی نگاہ میں وہ اسے پہچان نہیں سکا۔

کسی حمام میں غسل کے بعد اس کی رنگت نکھر آئی تھی۔ سرخ و سپید چہرہ اور چمکتی آنکھیں۔ بال ترشے۔ وہ بالکل نئے کپڑوں میں اس کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ برآمدے سے اٹھ کر خالی زمین پر درختوں اور پودوں کے درمیان جا بیٹھے وہاں روشنی نہیں تھی اور کوئی ان کی باتیں نہیں سن سکتا تھا۔

اپنی فکر مندی چھپاتے ہوئے اس نے پوچھا۔”آج بہت لش پش ہو؟ کیا بات ہے”؟

کوچوان لڑکا شرما کر مسکرایا “تمہارے جیسے یار کی مہربانی ہے”۔

“کتنے یار بنا لیے؟”

ایک وہ اور ایک تم۔”

“اس کے ساتھ باہر چلے گئے میرے ساتھ جاتے ہوئے ڈرتے ہو۔” اس نے دو سگریٹ سلگائے ایک خود پینے لگا اور دوسرا کوچوان لڑکے کو دے دیا۔

“تمہارے ساتھ بھی جاؤں گا۔”

“کب۔”

“جب کہو۔”

“آج ہی چلو۔”

“سو روپے لوں گا وہ بھی ایک بار کے۔”

“اگر دو سو دوں، تو پھر دو مرتبہ؟ ٹھیک ہے ـ”

“نہیں صرف ایک بار سو روپے میں۔”

“جیسے میرے یار کی مرضی، وہ اپنی خوشی ضبط نہیں کر سکا۔”

وہ ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چلتے ہوئے مزار سے باہر آئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور بالاآخر وہ نڈھال ہو گیا اور اس کی خواہش بھی مر گئی۔ اس کی پنڈلیوں اور گھٹنوں میں تیز درد ہونے لگا۔ وہ بہت دیر تک اپنی کھاٹ پر گم صم اور بے حس بیٹھا رہا پھر چونکتے ہوئے اٹھا ادھر ادھر ہاتھ مارتے ہو ئے اس نے اپنے کپڑے ڈھونڈے اور فوراً پہن لیے۔

کمرے میں ٹہل کر وہ لگاتار سگریٹ پینے لگا بڑبڑاتے ہوئے اس نے اپنے آپ کو بے شمار گالیاں دیں۔

وہ غسل خانے میں گھس گیا اور اپنے بدن پر پانی بہاتا رہا باہر نکلا تو اسے وہ بات سجھائی دی بہت دیر سے وہ جس کے بارے میں سوچ رہا تھا۔

اس نے بھولے کے بھاری جسم کو اٹھایا اور اسے غسل خانے میں لے گیا اس نے تمام جگہوں پر چپکا ہوا خون دھو ڈالا پانی کے لوٹے بھولے کے بدن پر بہاتے ہوئے وہ درود شریف اور سورتیں پڑھتا رہا جو اسے ٹوٹی پھوٹی یاد تھیں۔

اس نے کھاٹ کو صاف کیا اور ناپاک بستر کو تہہ کر کے فرش پر رکھ دیا۔

بھولے کو چارپائی پر لٹانے کے بعد اس نے پہلے صندوق اور پھر الماری کو چھان مارا بڑی مشکل سے پاؤڈر کا ڈبہ اور عطر کی شیشی ہاتھ آئی اس نے مردہ جسم پر دونوں چیزیں خالی کر دیں۔

کھڑکی کھول کر وہ کچھ دیر اس کے سامنے کھڑا ٹھنڈے سانس لیتا رہا۔

گندے نالے کے پانی کی سرسراہٹ سنائی دے رہی تھی۔ قبر ستان کے منظر کی وحشت اور گھمبیرتا میں اضافہ ہو گیا تھا۔

اس نے پلنگ کے بہت نیچے رکھی ہوئی کدال اٹھائی اور دروازہ کھول کر کمرے سے نکل گیا۔

Categories
فکشن

ایک وَڈیرے کی کہانی (رفاقت حیات)

اپنا قیمتی سوٹ کیس اٹھائے ہوئے،کچھ دیر تک ریل کی بوگی میں ہُمکتی بھیڑ سے جھوجھنے کے بعد،لٹکی ہوئی سیڑھیوں سے، پلیٹ فارم پراترنے کے جوکھم نے تو اس بے چارے کی جان ہی نکال دی۔نیچے اتر کر اپنے جسم کو سنبھالتے ہوئے،وہ پلیٹ فارم کے پختہ فرش پر چند قدم چلنے کے بعد ایک بہت اونچے آہنی شیڈ کے تھم کے ساتھ اپنی پیٹھ لگا کر کھڑا ہو گیا اور اپنا سامان نیچے رکھ کراپنی بوڑھی سانسیں مجتمع کرنے کی کوشش کرنے لگا۔سانسیں درست کرنے کے فوراً بعد، وہ اپنی ایک پرانی عادت دوہراتے ہوئے، جیب سے سگریٹ نکال کر اسے دیاسلائی کی مدد سے سلگانے کے بعد، دھیرے دھیرے کش لیتے ہوئے، سامنے سے گزرتے ہو ئے لوگوں کو قدرے دل چسپی سے دیکھنے لگا۔ ہر کوئی اسے نظرانداز کرتااپنی ہی دھن میں، اپنی ہی رفتار سے اس کے نزدیک سے گزر رہا تھا۔

“کیا میں نے اپنا اباناعلائقہ چھوڑ کر اس اجنبی بھیڑ کے درمیان آکر بالکل ٹھیک کیا؟ یا غلط کیا؟”۔ اپنے سوال کا خود ہی جواب دیتے ہوئے اس نے اپنا سر اثبات میں ہلایا اور سگریٹ کا کش لے کرمنہ سے دھواں نکالتے ہوئے اجنبیت کے خوف کو اپنے دل سے نکالنے کی کوشش کرنے لگا۔

کچھ ہی دیر میں گزرتے لوگوں میں اس کی دل چسپی ختم ہوگئی اوراجنبیت کا خوف بھی اس کے دل سے چھٹنے لگا۔اور اس کی جگہ ایک لاتعلقی پیدا ہونے لگی۔ وہ اپنا سر اوپر اٹھاکرآسمان کی جانب تکنے لگا کہ مبادا یہاں کا آسمان اس کے ابانے علائقے کے آسمان سے مختلف تو نہیں۔مگر وہ نہیں تھا اورسورج بھی، جو ریلوے اسٹیشن کے آس پاس کی زمین پر، عمارتوں کے پیچھے کہیں ڈوب رہا تھا۔مغربی افق پر شفق معدوم ہوتی جارہی تھی۔ پرندوں کی چھوٹی بڑی ڈاریں اپنی منزل کی جانب رواں تھیں۔انہیں اپنے آشیانوں کی طرف جاتے دیکھ کر اس کی آنکھیں اداسی اور رشک سے بھر گئیں۔ ان میں ذرا سی نمی در آئی۔ اس نے اپنا سر جھکا یا اور سفر کی گرد سے میلی پڑ چکی قمیض کی آستین سے،اپنی آنکھوں سے گردصاف کرنے لگا۔

آج صبح اپنے سفر کا آغاز کرتے ہوئے اس کے ذہن میں اپنی آخری منزل کا بس ایک دھندلا سا خیال موجود تھا۔اس نے طے کیا تھا کہ باقی رہ جانے والے برس وہیں گزار کر، وہیں کہیں زمین میں دفن ہو کر،گل سڑ جائے گا لیکن کبھی اپنے گوٹھ واپس نہیں جائے گا۔ شام کا آسمان دیکھنے کے بعداس کا یہ ارادہ ڈولنے لگا اور اس کا دل ڈوبنے لگا۔وہ اس اجنبی شہر میں خود کو نڈھال اور بے بس محسوس کر نے لگا۔ وہ زندگی بھر ایسی درد ناک کیفیت سے کبھی دوچار نہیں ہو اتھا۔اب بڑھاپے میں آکر اسے یہ سب بھی بھوگنا پڑ رہا تھا۔

اس نے شہر سے آگے اپنی منزل کا رخ کرنے کے بجائے آج کی شب پکا قلعہ کے گردوپیش واقع کسی مسافر خانے میں قیام کا فیصلہ کیااور سگریٹ پھینک کر اپنا سوٹ کیس اٹھاکر سیڑھیوں والے پُل کی جانب چلنے لگا۔

وہ پُل پرریلوے اسٹیشن سے باہر جانے والے راستے کی جانب بڑھ رہا تھا کہ مخالف سمت سے آتا ہوا ایک دبلا پتلا شخص، جو متواتر اپنی انگلیوں میں دبی ہوئی بیڑی کے کش لگا رہا تھا، پہلے تو اسے دیکھ کر ٹھٹھکا اورپھر فوراً اس سے دو قدم پیچھے ہٹ کر کھڑا ہوگیا۔اُ س نے اپنی بیڑی کا آخری کش لے کر اسے جلدی سے فرش پر پھینک دیا۔ نجانے کیوں اسے سوٹ کیس اٹھائے دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں خوف کا گھنا سایہ لہرانے لگا تھا۔

وڈیرے نے سوٹ کیس اٹھائے چھِچھلتی نظر سے اُسے دیکھا اور لاتعلقی سے اس کے پاس سے گزرنے لگا تو وہ شخص، بالکل اچانک اس کا راستہ روک کر کھڑا ہوگیا۔

اب اس شخص کی آنکھوں سے خوف کا سایہ چھٹ گیا تھا اور اس کی جگہ شناسائی کی گہری چمک نے لے لی تھی۔وہ ایک اپنائیت کے ساتھ اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرانے لگاتھااور اعتماد کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا۔اس کی زیرِلب مسکراہٹ دھیرے دھیرے اس کی باچھوں تک پھیل کر ہنسی میں تبدیل ہوتی چلی گئی اور وہ اس سے گلے ملنے کے لیے اپنے بازو پھیلائے اس کے نزدیک تر آگیا۔

“ارے وڈیرا! تم اور یہاں؟ میری اکھین کے سامنے؟لال لطیف کی قسم، آج دھنی سائیں نے تمہیں میرے روبرو لاکر معجزہ دکھا دیا۔ تم پہلے بھی میرے بھوتار تھے اور اب بھی ہو، اس لئے تمہیں مجھے بھولنے کا پوار پورا حق ہے،لیکن میں غریب، بھلا تمہیں کیسے بھول سکتا ہوں۔میری دلِڑی جانتی ہے،تمہیں یاد کر کر کے وہ بے چاری یادوں کے تندور میں ٹانڈوں کی طرح کیسے جلتی سلگتی رہی ہے۔اگر میں بھی تمہاری طرح تمہیں بھول جاتا تو مولا سائیں میری جان نہیں نکال دیتا۔”

اس کی کھڑکھڑاتی آواز سن کر وڈیرے کی یادداشت کا در پوری طرح وا ہوگیا۔اسے اپناپرانا گوٹھائی رنگو یاد آگیا، جس کے ماں باپ نے اس کا نام تو اورنگ زیب رکھا تھا لیکن وہ گھستا گھساتا پہلے رنگ علی ہو ا، بعد میں مستقل طور پر رنگو ہی پڑگیا۔وہ رنگو کواس اجنبی شہر میں، اپنے قریب پا کر ششدر رہ گیا۔گلے ملتے ہوئے اس کے ہونٹوں سے بس یہی نکل سکا۔”ارے رنگو۔۔کنجر تم؟اپنے باپ دادا کا گوٹھ چھوڑ کر تم غائب ہوگئے اور مجھ سے کہہ رہے ہو،میں بھول گیا۔میں نے تو سوچا تھا کہ اب تم سے دوزخ میں ہی ملاقات ہوگی”۔

“بھوتار! دنیا سے بڑا دوزخ اور کون سا ہے ؟ یہیں پر ہمارا دوبارہ ملنا لکھا ہوا تھا۔ وہ صرف میرے باپ دادا کا گوٹھ نہیں تھا،میرے لیے تو وہ جنت تھا جنت۔ میں نے اسے چھوڑ کر شوق سے شہرکا دوزخ مول نہیں لیا، سائیں۔ تم جانتے ہو، میری مجبوری تھی”۔وہ سیڑھیوں والے پُل سے گزرتے لوگوں سے ہٹ کر ایک جانب کھڑے ہوگئے۔

ان کے چہرے اس غیرمتوقع ملاقات کی خوشی سے دمکنے لگے تھے۔ دو دہائیوں کے طویل عرصے بعد وہ ایک دوسرے کے مُکھ دیکھ رہے تھے،جنہیں گزرے وقت نے خاصا تبدیل کردیاتھا۔وڈیرے کا بدن خاصا بھاری بھرکم ہوچکا تھا۔ زندگی بھر کی بے اعتدالیوں اور خوردونوش کی بگڑی عادتوں کے سبب اس کی توند نکل آئی تھی۔اس کے خضاب لگے بال اس کے ڈیل ڈول کے ساتھ لگا نہیں کھا رہے تھے۔اس کے سامنے اس کا گوٹھائی رنگو،بالکل ہی بے رنگ دکھائی دے رہا تھا۔اس کے سارے بال سفید پڑ چکے تھے۔کثرت سے بِیڑی پینے کے سبب اس کے گال اند ر دھنس چکے تھے اور ہونٹ گہرے سیاہ پڑ چکے تھے۔اس کابدن وڈیرے کی نسبت خاصانحیف لیکن پھرتیلا دکھائی دے رہا تھا۔

وہ پُل پر کھڑے کھڑے اس کے گھروالوں، رشتے داروں،دوستوں اور قصبے کے لوگوں کا حال احول پوچھنے لگا۔اس نے مختصراً” سب خیر” کہہ کر اپنی جان چھڑائی۔ پھر وہ یہاں آمد کا سبب معلوم کرنے لگا۔وڈیرے نے اسے ٹالتے ہوئے صرف اتناکہا۔ ” ضروری کام سے آیا ہوں”۔

اس کے بعد اس نے اجازت لیے بغیر ہی وڈیرے کا سوٹ کیس اٹھالیااور اس سے اپنے ساتھ چلنے پر اصرار کرنے لگا۔اس کی مخلصانہ پیشکش سن کر وہ جُزبُز ہوتے ہوئے اس کے ساتھ چلنے سے انکار کرتا رہا لیکن رنگو پر اس کا بس نہ چل سکا۔اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ابانے دادانے علائقے کو ترک کردینے کے بعد یہاں اسے پرانا یار مل جائے گا۔

رکشا ایک مختصرسے غلیظ بازار میں تنگ سی گلی کے سامنے رکا۔وڈیرے نے اپنی جیب کی طرف ہاتھ بڑھایا تو رنگو نے اسے کرایہ ادا کرنے سے روک دیا۔اس نے خود جلدی جلدی چند مڑے تُڑے نوٹ رکشے والے کو تھماکر اسے چلتا کیا۔اس کے بعد وہ سوٹ کیس اٹھائے گلی میں آگے آگے چلتے ہوئے اپنے اہلِ محلہ اور میونسپلٹی کے اہل کاروں کی شان میں گالیاں بکنے لگا، جن کی کاہلی اور ہڈ حرامی کی وجہ سے یہ جگہ بہت بدنما اور بدبودار ہوگئی تھی۔

اس علاقے کی کچی اور کڈھب سی گلیاں دیکھ کر وڈیرے کے نازک دل کو ٹھیس سی لگی تھی اور اس نے اپنا سر نیہوڑاکر اس کے پیچھے چلتے ہوئے اس کا اظہار بھی کیا تھا اور دبا دبا سا احتجاج بھی لیکن اب یہ سب بے سود تھا۔اسے آج کی شب یہیں گزارنی ہوگی۔

ایک مکان کے آگے رنگو کو رکتا دیکھ کر وہ بھی ٹھہر گیا۔اسے گلی میں دو منٹ ٹھہرنے کا کہہ کر وہ خود مکان کے زنگ خوردہ دروازے سے اندر چلا گیا۔وہ وہاں نیم تاریکی میں کھڑاگلی کے دونوں طرف چھوٹے چھوٹے مکانوں کی قطار دیکھنے لگا۔جو سب کے سب انہدام کے خوف سے ایک دوسرے کے کے سہارے ٹکے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔وہ ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے سوچنے لگاکہ لوگ ان میں کیسے رہتے ہوں گے؟ کیسے جیتے اور مرتے ہوں گے؟اسے قصبے میں واقع اپنی خاندانی ماڑی یاد آنے لگی، جس کا ایک کمرہ اس گلی کے ایک مکان سے زیادہ کشادہ تھا۔ اس کے سینے سے ایک آہ سی نکلی۔

کچھ ہی دیر میں اس کا گوٹھائی دانت نکالتا ہوادروازے سے برآمد ہوااور اسے اندر چلنے کو کہنے لگا۔اسے قدم بڑھانے میں تامل ہورہا تھا۔اس کے یار نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔”بھوتار! میرا غریب خانہ تمہارے لائق تو نہیں، مگر جیسا بھی ہے، حاضر ہے۔ اندر ہَلو سائیں”۔اس نے ادھ کھلے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔

“بیلی !مجھے شرم سار نہ کرو”۔وڈیرادروازے کی چوکھٹ سے اپنا سر جھکائے ہوئے آگے بڑھا۔

وہ گھر کے مختصر سے صحن میں داخل ہوا، جس میں بمشکل دوچارپائیاں سما سکتی تھیں۔دائیں طرف بیت الخلا اور غسل خانہ ساتھ ساتھ بنے ہوئے تھے۔ان کے مخالف تھوڑی سی جگہ پر کھلا باورچی خانہ واقع تھا۔وہ جیسے ہی آگے بڑھا،اس کاسر، کپڑے سکھانے والے تاروں سے ٹکرانے لگا۔تاروں سے بچنے کی خاطر اس نے اپنا سر جھکایا،تو باورچی خانے کے چولہے کے پاس چوکی پر سمٹ کر بیٹھی رنگ علی کی بیوی، دوپٹے میں اپنا چہرہ چھپاتی،اس کے استقبال کے لیے، غیرمتوقع طور پر اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔

“ادا، بھلی کرے آیا”۔یہ کہہ کراس نے اپنا روکھا سوکھاسا ہاتھ مصافحے کے لیے آگے بڑھا دیا۔اس نے بھی ذرا ساجھجکتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔”مھربانی اَدی”۔اس دوران اسے خیال آیا کہ یہی وہ عورت ہے، جس کی خاطر اس کا یار اپنی جنت چھوڑ کر نئی زندگی کی تلاش میں اس دوزخ میں چلا آیا تھا۔

رنگُو نے آگے بڑھ کر اپنی بیوی کا تعارف اپنے دوست سے کروایا۔”وڈیرا! یہ میری ذال ہے، سکھاں”۔اسے دو دہائیاں قبل ان کے غائب ہونے کے بعد قصبے میں پیش آنے والے واقعات یاد آئے تو وہ زیرِلب مسکراتا ہوا اپنے یار کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔

کمرے میں جس چارپائی پر نئی نکور رلی بچھی ہوئی تھی اور سرہانے پر مقامی کشیدہ کاری والا تکیہ رکھا ہوا تھا،اس پر بیٹھتے ہی اس نے اپنی سینڈل اتاری اور پاوں اوپر کرکے تکیے کے سہارے نیم دراز ہوگیا۔ٹرین میں کئی گھنٹے سینڈل پہن کر سیٹ پر بیٹھے رہنے کی وجہ سے اس کے پاوں سوج گئے تھے اور ان میں ہلکا ہلکا درد ہورہا تھا۔

رنگو نے اسٹیل کے گلاس میں برف والا ٹھنڈا پانی پیش کیاتو پہلا گھونٹ لیتے ہی اس کا منہ کھارے پن سے بھرگیامگراس نے اسے احساس نہیں ہونے دیا۔اسے بے اختیار قصبے کی واٹر سپلائی کا میٹھا اور ٹھنڈا پانی یاد آگیا، اب وہ جس کا ذائقہ اپنی زبان پر محسوس کرنے کے لیے عمر بھر ترستا رہے گا۔وہ اسے یاد کرکے بے اختیار اپنے دوست سے پوچھنے لگا۔”رنگو! کیا تجھے اپنی واٹر سپلائی کا پانی یاد ہے؟”

اس کی بات سن کر وہ آہ بھرنے لگا۔”اس پانی کی کیا ہی بات تھی وڈیرا۔ میرے لیے تو وہ زم زم سے بھی بڑھ کر ہے۔ کاش، تم اس کی بوتل ہی بھر لاتا تو میں اسے اپنی آنکھوں پر لگاتا۔ویسا پانی تو شاید جنت میں بھی نہیں ملے گا، ہاں۔اچھا بھوتار!بتاو کہ اپنے بازارمیں وادھومل منیاری کی دکان کے آگے ہینڈ پمپ ابھی تک لگا ہوا ہے کہ نہیں؟”۔

“بروبر لگاہوا ہے۔رنگو، مجھے یہ بتا کہ پُل پر جب تو نے مجھے پہلی بار دیکھا، تو خوف سے پیچھے کیوں ہٹ گیا تھا؟”۔

اس کی یہ بات سن کر وہ اپنے پیلے دانتوںکی نمائش کرنے لگا۔” بھوتار! میں خوف سے پیچھے کیوں ہٹا تھا، یہ تم اچھی طرح جانتے ہو”۔

“مجھے تجھ سے یہ امید نہیں تھی۔ میں تیرا پرانا سنگی ہوں چریا۔میں بھلا ویسا سوچ بھی کیسے سکتا ہوں۔ میںتیرے ساتھ وہ سب کیسے کرسکتا ہوں،بتا”۔

یہ سن کر وہ کھسیانا ہونے لگاکیوں کہ وڈیرے کی بات میں وزن تھا۔ وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑنے لگا۔”وڈیرا! تم سولہ آنے ٹھیک کہتے ہو۔ لیکن مجھ غریب کی حالت کے بارے میں ذرا سوچو۔ مجھے اپنے گوٹھ سے بھاگے ہوئے بیس بائیس سال ہوچکے۔ میں آج تک ایک مفرور کی طرح روپوشی کی زندگی گزار رہا ہوں۔آج بھی شہر میں گھومتے پھرتے ہوئے کاروکاری کی موت کا خیال میرے اعصاب پر سوار رہتا ہے۔اگر تم سمجھ رہے ہو کہ صرف اپنی زندگی جانے کے خوف سے میں پیچھے ہٹا تھا، تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ بس سکھاں اور اس کے بچوں کی جان جانے کا ڈر مجھے ہروقت ہلکان کیے رکھتا ہے۔”

“اچھا اچھا، ٹھیک ہے۔ سمجھ گیا۔ تمہارے چھوکرے نظر نہیں آرہے؟”۔

“وہ کام سے آتے ہوں گے سائیں۔ بڑا چھوکرا پکے قلعے میں چوڑیاں بنانے والی ایک بھٹی میں کام کرتا ہے اور چھوٹا موٹر سائینکل کی میکینکی سیکھ رہا ہے۔دھنی سائیں نے مجھے فرماں بردار اولاد دی ہے وڈیرا۔ دونوں جو بھی کماتے ہیں، لاکر اپنی امڑ کی ہتھیلی پر رکھتے ہیں، ہاں، لیکن گھر کا کوئی کام نہیں کرتے”۔

یہ سن کر وڈیرے کے سینے سے ایک ہوک سی نکلی،جسے اس نے سینے میں ہی دبادیا۔اچانک اس کی سماعت بیوی اور اپنے تین بیٹوں کے زہریلے اور کٹیلے لہجوں سے بھرنے لگی۔اسے غصے اور نفرت سے دہکتی ان کی آنکھیں یہاں بھی یاد انے لگیں۔وہ چند لمحوں کے لیے حسد اور رشک کی بھٹی میں سلگنے لگا۔

پرانے دوست کے گھر مہمان بن کر آنے کے بعد اسے اندازہ تھا کہ وہ اس سے یہاں آمد کے سبب کے متعلق تفصیلات ضرور پوچھنا چاہے گا۔اس نے اپنے جی میں مصمم ارادہ کرلیا تھا کہ اسے کسی بھی طور اپنی حقیقی صورتِ حال کی بھِنک نہیں پڑنے دے گا۔کچھ ہی دیر بعد جب رنگو نے اس سے شہر آنے کی وجہ پوچھی تواس نے جھوٹ بولا کہ وہ یہاں کی کچہری میں ایک مقدمے کی پیشی بھگتانے آیا تھا۔

اس کے بعد ان کے درمیاں خاموشی کا ایک طویل وقفہ حائل ہوگیا۔رنگو نے اپنی بات سے اس وقفے کو ختم کرنے کی سعی کی۔

وہ بولا۔”سائیں! میرے پاس بھنگ کی ایک پُڑیا رکھی ہوئی ہے۔ میں کام سے واپس آکر رات کے کھانے سے پہلے اسے گھوٹ کر دو یا تین گلاس چڑھاتا ہوں۔ اگر اجازت دو تو کارروائی شروع کروں”۔

اس کی بات سن کر وڈیرا ہنسنے لگا۔ اس کی ہنسی کو رنگو نے اجازت خیال کیا اور آگے بڑھ کر ذرا سا جھک کر چارپائی کے نیچے رکھا ہوا ڈنڈا اورکونڈا نکال لیا۔ وہ چپ چاپ چارپائی پر بیٹھ کراسے دیکھتا رہا۔وہ باہر سے پانی سے بھرے جگ کے ساتھ کچھ خشخش،بادام اور پستے لیتا آیا۔ ڈنڈے اور کونڈے کو پانی سے اچھی طرح دھونے کے بعد اس نے بھنگ کے سوکھے پتوں کے ساتھ ساتھ بادام،خشخش اور پستے کونڈے میں ڈال دیے اور انہیں ڈنڈے کی مدد سے کوٹنے لگ گیا۔

اسے مصروفِ کار دیکھ کر وڈیرے کو برسوں پرانے دن یاد آنے لگے۔ جب ہر روز کبھی صبح کے وقت تو کبھی ڈھلتی دوپہر کے آس پاس جوان رنگو اس کی اوطاق میں بیٹھ کر اس کے لیے بھنگ گھوٹنے کا کام کیا کرتا تھا۔ اس یاد نے اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔ اسے اچانک ایک شرارت سی سوجھی۔

” ارے رنگو! یہ بتا کہ تیرے ہاتھوں سے بنی بھنگ میں کیا اب بھی وہی پرانا ذائقہ ہے؟”

وہ یہ سن کے بے ساختہ ہنسا پھر ایک آہ بھرتے ہوئے سنجیدہ ہوگیا۔۔ “میرے سائیں! پرانا ذائقہ اب کسی چیز میں نہیں رہا۔سارے مزے اور سارے ذائقے تو وہیں چھوڑ آیا تھا۔اب تو بس ان کی یاد باقی ہے، جومیری چھوٹی سی دِلڑی کو رات دن جلاتی ہے”۔

اس کا جواب سن کر وڈیرے کا دل بھر آنے لگا۔اس کے جی میں آئی کہ وہ اپنی جو بپتا، اتنی دیر سے اپنے دوست سے چھپائے بیٹھاہے، وہ ساری کی ساری اس سے کہہ ڈالے، لیکن اس نے خود کو ایسا کرنے سے روک دیا۔

کچھ دیر خیالوں میں گم رہنے کے بعد اس نے فرش کی طرف نگاہ ڈالی تو اسے کونڈے میں ہلکا سبز محلول تیرتا ہوا دکھائی دیا۔رنگوکپڑا اٹھائے اس کی طرف مدد طلب نظر سے دیکھ رہاتھا۔ وہ فوراً چارپائی سے اترا اور اس کے سامنے بیٹھ کر اس نے کپڑا اس سے لے کر اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ رنگو نے جلدی سے خالی جگ کپڑے کے نیچے رکھ دیا اور کونڈے سے بھری ہوئی بھنگ احتیاط سے کپڑے پر انڈیلنے لگا۔ وہ کپڑے کے تاروں سے چھن چھن کر جگ میں گرنے لگی۔رنگو نے برف کی ٹکڑیاں لا کر اس میں ڈال دیں اور اسے جگ سے بار بار گلاس میں انڈیل کر ٹھنڈا کرنے لگا۔

ٹھنڈی ٹھار سائی کے گلاسوں کی جوڑی چڑھانے کے بعد یہ دونوں پورباش ہوگئے۔ ان کے لیے یہ سارا عمل اپنے مشترکہ ماضی کی بازیافت جیسا تھا۔ ماضی جس میں وہ جوان تھے، آپس میں جوڑی دار تھے۔کچھ دیر کے لیے سہی مگر انہوں نے اس چھوٹے سے غلیظ کمرے سے نکل نکل کر،خود کو قصبے میں واقع پیر مٹھن شاہ کی درگاہ کے احاطے میں واقع نیم کے گھنے پیڑ کے سائے میں بیٹھے ہوئے محسوس کیا، جہاں انہوں نے مل کر بھنگ گھوٹتے اور پیتے ہوئے،نوخیز مقامی لونڈوں سے نین لڑاتے اور انہیں پٹاتے ہوئے، عرس کے موقع پر رنڈیوں پر نوٹ لٹاتے ہوئے اور انہیں مباشرت پر آمادہ کرتے ہوئے بہت سا وقت ساتھ گزارا تھا۔وڈیرے کو یاد تھا کہ رنگو ہر مشکل صورتِ حال میں ہمیشہ اس کا ساتھ دیاکرتا تھا۔حتی کہ رات گئے معشوقو ں کی خواب گاہوں کی دیواریں پھلانگنے میں اوران کے گھر والوں کے جاگ پڑنے پر ان کی مارپیٹ اور تشدد سے بچنے میں بھی۔ہر طرح سے،جب بھی اسے اس کی ضرورت ہوئی۔

رنگو ایک حجام کا بیٹا تھا، اس لیے اس کی جیب ہمیشہ خالی ہوتی تھی لیکن وڈیرا اسے کبھی اس طبقاتی تفاوت کا احساس نہیں ہونے دیتا تھا۔اپنے سارے ذاتی معشوق چھوڑ کر وہ جب بھی جس لونڈے یا رنڈی سے ملا، اس نے اپنے یار کو بھی اسے استعمال کرنے کا پورا اختیار دیا۔لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت تھی کہ رنگو کے بالکل اچانک قصبے سے غائب ہوجانے کے بعد اسے اس جیسا کوئی جی دار دوست کبھی نصیب نہیں ہوا۔ اسی لیے وہ نشے کی جونجھ میں اپنا حال فراموش کرکے ماضی میں رنگو کے ساتھ حاصل ہونے والی جنسی کامیابیوں کے احوال میں گم ہوتا چلا گیا۔

ان کے قہقہے گھر بھر میں گونج رہے تھے۔ جب چارپائی کے پیچھے صحن میں کھلنے والی کھڑکی پر مسلسل دی جانے والی دستک نے اچانک اسے اپنی طرف متوجہ کیا تو وہ یکایک ماضی کی شاد کامیوں سے زمانہ موجود میں لوٹ آیا۔ اس نے اپنے میزبان کی توجہ اس جانب دلائی تو وہ ہنستا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔وڈیرے نے مستفسرانہ نظروں سے اسے گھورا تو وہ ہنستے ہوئے گویا ہوا۔”بھوتار! کھانا تیار ہے۔ ہاتھ منہ دھونے کے لیے باہر غسل خانے تک چلنا ہوگا”۔

یہ سن کر اسے احساس ہوا کہ دھول ابھی تک اس کے چہرے اور بدن پر جمی ہوئی تھی۔وہ نہانا چاہتا تھا لیکن نشے کے پیدا کردہ آلکس کی وجہ سے اسے غسل کرنے کا خیال صبح تک کے لیے ملتوی کرنا پڑا اوروہ اٹھ کر جھومتا جھامتااپنے میزبان کے پیچھے کمرے سے باہر چل دیا۔

تھکاوٹ اور بھنگ پینے کے سبب وڈیرے کی بھوک دو آتشہ ہوگئی تھی، اس لیے تازہ کھاناپرتکلف نہ ہونے کے باوجود اسے ذائقہ دار محسوس ہوا۔آلو مرغی کے شوربے کے ساتھ تلے ہوئے بینگن اور بھنڈی کھاتے ہوئے اسے اندازہ ہی نہ ہوسکا کہ اس نے کتنی روٹیاں کھائی ہیں۔بے چارہ رنگو ہر کچھ دیر بعد دوڑ کر دروازے سے باہر جاتا اور چھابی میں گرم روٹی لیے ہوئے واپس آجاتا اور اس کے ساتھ بیٹھ کرخود صرف ایک آدھ نوالہ زہرمار کرتا، جب کہ وڈیرا اس دوران پوری روٹی ہی چٹ کرچکا ہوتا۔

وڈیرے کو احساس ہی نہیں ہوا کہ اس کی بسیار خوری اس کے دوست اور اس کے کنبے کو کتنی مہنگی پڑرہی تھی۔کچھ دیر بعد رنگو نے چپکے سے کھانے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تا کہ اس کا مہمان پیٹ بھر کر کھاسکے۔چند لمحوں بعدکھڑکی بجنے پر وہ باہر گیا تو اس کی بیوی نے اسے آٹا ختم ہوجانے کی خبر سنائی اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ اس کا کوئی بیٹا دکان پر جاکر آٹا لانے اور اپنے بن بلائے مہمان سے علیک سلیک کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھا۔

چھابی میں روٹی ختم ہوجانے پر وڈیرا ایک عجیب ندیدے پن کے ساتھ اپنی انگلیاں چاٹنے لگا۔اس کی انگلیاں چاٹنے کی چُسڑ چُسڑکمرے میں پھیلنے لگی۔ایسا لذیذ کھانا اسے مدتوں کے بعد نصیب ہوا تھا۔ اس نے ا پنی جی بھر کر پھُوہڑ بیوی پر چار حرف بھیجے،جس نے زندگی میں ایک بار بھی اسے ایسا مزے دار کھانا کھلانے کے بجائے ہمیشہ جلی کٹی ہی سنائی تھی۔

کچھ ثانیوں کے بعد ایک مرتبہ پھر کھڑکی پر دستک ہونے لگی اور رنگو دوڑ کر باہر جاکر پھر سے گرم روٹیاں لانے لگا۔ یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا۔اس دوران رنگو کے گھر میں کھُسر پھُسر سے شروع ہونے والی کھلبلی،دھیرے دھیرے شور و غوغے کا روپ دھارنے لگی۔بے چارا رنگو اٹھ اٹھ کر باہر جانے لگا لیکن غوغا بڑھتا ہی جارہا تھا۔

وڈیرہ اپنے گردوپیش کی ہر چیز سے غافل اپنا شکم بھرنے میں مصروف تھا، جو کسی طرح سیر ہونے میں نہیں آرہا تھا۔ رنگو کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔ اس نے بیٹوں نے اندر بغاوت برپا کردی تھی اور اس کی بیوی بھی ان کے ساتھ مل گئی تھی۔

عین اس لمحے جب رنگو کے بیٹے اپنے مہمان کو کھانے کی غارت گری سے روکنے کی خاطر کمرے پر دھاوا بولنے والے تھے، وڈیرے نے لمبی ڈکار لیتے ہوئے کھانے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ رنگو نے یہ خبر تُرنت اندر پہنچا کر اپنے بیٹوں اور بیوی کے بھڑکتے جذبات کو ٹھنڈا کیا۔

حد سے زیادہ کھالینے کی وجہ سے وڈیرے کے لیے چارپائی سے اترکر ہاتھ دھونے کے لیے باہر جانا محال ہوگیا۔ اس نے بستر کی چادر کے ساتھ اپنا ہاتھ اور منہ دونوں صاف کیے۔ دوتین طویل جماہیاں لیں اوراللہ وائی کہتا ہوا سونے کے لیے لیٹ گیا۔ اس کے سونے کے بعد رنگو نے اطمینان کی سانس لی اور اس پر کھیس ڈال کر دبے پاؤںکمرے سے نکل گیا۔

صبح دم آنکھ کھلنے کے بعد وڈیرہ سمجھا کہ وہ اپنی ابانی حویلی میں،اپنی کشادہ خواب گاہ میں، اپنے رانگلے پایوں والے پلنگ پرلیٹا ہے اور اس کی ہٹ دھرم،ضدی اور جھگڑالو بیوی اس کے پہلو میں پڑی ہے۔ کروٹ لیتے ہی اسے مقام اور وقت کی تبدیلی کا اندازہ ہوا تو اس کے دل کو دھچکا سا لگا۔اپنے گاؤں سے یہاں تک کے سفر کی جھلکیاں اس کے ذہن میں گھوم کر رہ گئیں۔وہ رنگو کے مکان کے اس بوسیدہ سے کمرے میں، چارپائی پر دراز ایک آہ سی بھر کر رہ گیا۔کل شام سے اب تک اس کمرے میں بیتنے والے سب لمحے اس کے ذہن یکسر محو ہوچکے تھے۔

رنگو کی بے رنگ زندگی،اسے گوٹھ میں اپنی نوابی کی زندگی سے کہیں بہتر محسوس ہونے لگی تھی۔اس کی بیوی اس کی فرماں بردار تھی اور اس کے بیٹے بھی۔اس کے برعکس وڈیرے کے ہاں معاملہ یکسر مختلف تھا۔ اس کے بیٹے جوان ہونے کے بعد اسے اپنا رقیب اوردشمن سمجھنے لگے تھے۔اس کی ظالم بیوی،اس کے بیٹوں سے بھی چار ہاتھ آگے تھی۔ اسی لیے اس نے اپنی جاگیر کی آمدنی سے اسے ایک پھوٹی کوڑی تک دینے سے انکار کردیا تھا جب کہ وہ خود اپنی ساری جائیدادیں لونڈے بازی اور نڈیوں سے اپنے تعلقات میں پھونک چکا تھا۔

غسل کے بعد اس نے کپڑے نکالنے کے جب اپنا قیمتی سوٹ کیس کھولا تو اسے کپڑوں اور ضرورت کی دیگر چیزوں سے لدالد دیکھ کر رنگو بالکل دنگ رہ گیا۔ اس کی یہ حیرت وڈیرے نے بھی محسوس کی۔اس نے اس میں سے صرف ایک جوڑا باہر نکالا اور پھر اسے چابی سے بند کردیا۔رنگو نے بھی فوراً اپنی آنکھیں پھیر لیں۔

جب وڈیرہ ناشتے کے بعد رنگو کے ساتھ گھر سے جانے کے لیے تیار ہوگیا تو نکلنے سے پہلے وہ رنگو سے مخاطب ہوا۔” رنگو! میں اپنے سوٹ کیس کی چابی تیرے پاس رکھنا چاہتا ہوں۔ شہر میں رش ہوتا ہے۔ کچہری بھی لوگوں سے بھری ہوتی ہے۔ خدانخواستہ، میری جیب نہ کٹ جائے۔ اس لیے اسے تو رکھ لے۔ بعد تجھ سے ہی لے لوں گا۔”

اس نے جیب سے ایک چھوٹی سی ایک چابی نکال کر اس کے حوالے کی۔ رنگو حیرت سے سنہری رنگ کی وہ چابی دیکھنے لگا۔پھر چانک جیسے اسے کوئی اہم یاد آگئی۔”سائیں وڈا! یہ چابی میرے سے بھی کہیں گر کر کھوسکتی ہے۔میں سوچتا ہوں کہ اسے سکھاں کو دے آؤں۔ وہ سنبھال کر رکھ لے گی۔”

یہ سن کر وڈیرے نے اثبات میں سر ہلادیا۔

وہ تنگ سی گلی سے نکل کر غلیظ بازار تک پیدل آئے اور وہاں سے ایک رکشے میں سوار ہوگئے۔ رستے میں رنگو نے وڈیرے کو کچہری میں چلنے والے مقدمے کے حوالے سے کریدنا چاہا تو اس نے گول مول سا جواب دے کر ٹال دیا۔اس کے بعد دونوں میں کوئی بات نہ ہوئی۔

وہ رکشے سے گاڑی کھاتہ اتر گئے۔وڈیرہ اب رنگو سے جلد از جلد اپنا پیچھا چھڑا کر یہاں سے نکلنا چاہتا تھا لیکن وہ اس کی جان چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہورہا تھا۔وہ اس کے ساتھ عدالت جاکراس کی پیشی بھگتانے کے لیے بالکل تیار تھا۔وہ پورا دن اپنے بھوتار سائیں کی چاکری کرنا چاہتا تھا۔وڈیرہ عجیب سی صورتِ حال سے دوچار ہوگیا تھا۔

گاڑی کھاتہ سے پیدل گزرتے ہوئے ایک چائے خانے میں تسلی سے بیٹھ کر رنگو کو سمجھا نا اس نے مناسب خیال کیا۔ چائے کی پیالی کی چسکیاں لیتے ہوئے اس نے اسے سمجھایا کہ اس کا اکیلے کچہری جانا ضروری ہے۔ وہاں مقدمے میں مطلوب دیگر لوگ بھی ہوں گے،جو سب گوٹھ سے یہاں آئے ہوئے ہیں۔ اس لیے اس کا ساتھ جانا اس کے لیے ہی خطر ناک ثابت ہوسکتا ہے۔ وڈیرے نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی وہ شام تک پیشی بھُگتا کر شام ڈھلے اس کے پاس گھر پہنچ جائے گا۔اس نے اگلے دن رنگو کے ساتھ رانی باغ اور ٹھنڈی سڑک گھومنے کا منصوبہ بھی بنایا۔ وہ آخرکار رنگو کو شیشے میں اتارنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔

چائے خانے کے باہر رنگو نے اسے زور سے اس طرح بھینچا جیسے برسوں بعد ملنے والوں کو گلے ملتے ہوئے بھینچاجاتا ہے۔وڈیرہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ اپنے یار سے آخری بھاکُر(جپھی) ڈال رہا ہے۔ اس کے بعد دونوں دوست مختلف سمتوں کو چل دیے۔ مڑ کر دیکھے بغیر،وہ سیدھے چلتے چلے گئے۔

ہالا ناکے کے بس اسٹاپ سے بس میں بھٹ شاہ جاتے ہوئے، وڈیرہ مسکراتے ہوئے اپنی چشم تصور پر رنگو، اس کی بیوی سکھاں اور اس کے بیٹوں کو اپنے سوٹ کیس پر جھکا ہوا دیکھ رہا تھا۔ وہ سب اس میں سے چیزیں نکال نکال کر انہیں حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبے سے دیکھ رہے تھے۔

اسے یقین تھا کہ چند روز اس کا انتظار کرنے کے بعد وہ ان چیزوں کو استعمال میں لانے لگیں گے اور دھیرے دھیرے ان چیزوں کی طرح اس کی یاد بھی پرانی ہوکر سب کے ذہنوں سے ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گی۔بالکل اسی طرح اس کے سگے بھی اسے فراموش کر بیٹھیں گے۔ وہ اپنے بقیہ برس نیم کے ایک گھنے پیڑ کے نیچے گزرادینے کے لیے بالکل تیار تھا۔ اب اس کے دل میں نہ کوئی خوف رہا تھا نہ ہی کوئی غم۔ وہ ہوا کی طرح ہلکا ہوکر اڑا جارہا تھا، نیم کی گھنی شاخوں کی طرف۔

Categories
نان فکشن

ہمارے آصف صاحب (رفاقت حیات)

رفاقت حیات کا یہ مضمون اس سے قبل “ہم سب” پر بھی شائع ہو چکا ہے۔

بعض رخصت ہونے والے، ہمارے وجود کا کچھ حصہ نہیں، بلکہ پورا وجود ہی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہ تحریر، ایک ایسے ہی شخص کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ، اس کے وجود سے نتھی اپنا وجود کھوجنے کی ایک سعی لاحاصل بھی ہے، جو اس کے جانے بعد گم ہو چکا ہے۔

اُنیس سو پچانوے چھیانوے میں کراچی وارد ہوا تو، فکشن، شاعری اور دیگر سنجیدہ موضوعات کےمطالعے کی چاٹ پہلے سے لگی ہوئی تھی، اگر چہ شاعری ترک کرکےافسانہ نگاری کی طرف مائل ہوچکا تھا اورچند خام سے افسانے چھپ بھی چکے تھے لیکن یہاں کے ادیبوں سے ابھی ذاتی جان پہچان نہیں تھی، مگر اتنی تھی کہ ان میں سے بہت سوں کی تحریریں اور کتابیں راول پنڈی قیام کے دوران پڑھ چکا تھا، اسی لیے فطری طور پر سب سے ملنے کی خواہش تھی۔

اب سوچتا ہوں، توان برسوں کے کراچی کا ادبی(خصوصاً نثری) منظر نامہ خاصا دل چسپ اور وقیع لگتا ہے۔ غلام عباس، عسکری صاحب اور سلیم احمد آسودہِ خاک ہوچکے تھے۔ ادب میں جدیدیت آخری سانسیں لے رہی تھی اور اب مابعد جدیدیت کا دورشروع ہورہاتھا۔ جدیدیت کے سرخیل، قمر جمیل صاحب کی بیٹھک اور ان کا پرچہ بند ہوچکے تھے اور وہ اپنی صحت اور یادداشت کے مسائل سے نبرد آزما تھے۔حمید نسیم مرحوم شاعری پر دو تنقیدی کتابیں لکھنے کے بعد اب نثر پر ایک طویل تنقیدی کتاب لکھنے میں رات دن مصروف تھے، جو بوجوہ آج تک شایع نہ ہوسکی۔افسانے کی دنیا میں کہانی کی واپسی کا چرچا تھا، لیکن جو حقیقت پسند افسانہ لکھا جارہا تھا، وہ واقعاتی سطح سے بلند ہی نہیں ہوپاتا تھا اور دوسری جانب جو لوگ علامتی اور تجریدی افسانہ لکھ رہے تھے، وہ ابہام کے ساتھ ہیئت کے مسائل سے بھی دوچار تھے۔ افسانہ نگاروں کی اکثریت کا تعلق ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں نمایاں ہونے والے فکشن نگاروں سےتھا۔انیس سو اسی کے بعد منظر عام پر آنے والے افسانہ نگار چند ایک ہی تھی۔

اس عرصے میں،ایک طرف فہیم اعظمی صاحب صریر نکالنے کے ساتھ تجریدی فکشن بھی لکھ رہے تھے، دوسری طرف احمد ہمیش کے جریدے تشکیل اور ان کے افسانے “مکھی”کا بھی شور تھا۔ محمود واجد صاحب نے افسانہ نگاری نے تائب ہو کر” سہ ماہی آئندہ” نکالنا شروع کر دیا تھا۔ سخی حسن کے قریب علی حیدر ملک کے ہاں فکشن گروپ(جسے بہاری گروپ بھی کہا جاتا تھا) کے اجلاس منعقد ہو رہے تھے۔ پی ایم اے ہاؤس میں انجمن ترقی پسند مصنفین بھی فعال تھی، جس کے اجلاسوں میں حسن عابدی، نعیم آروی، ڈاکٹر شیر شاہ سید اور دیگر ترقی پسند لکھنے والے باقاعدگی سے شرکت کیا کرتے تھے۔آواری ہوٹل کے کونے پر واقع “بیک اینڈ ٹیک” نامی ریسٹورینٹ میں بھی چند معتبر ادیبوں کا اکٹھ ہوا کرتا تھا، جن میں سے چند ایک کے علاوہ اکثر مردم بے زار محسوس ہوتے تھے۔ اجمل کمال صاحب اپنا اشاعتی ادارہ سٹی پریس بک شاپ قائم کرچکے تھے اور اکثر وہاں پر محمد خالد اختر بھی آنکلتے تھے۔ اجمل صاحب نے فلم کلب بنایا تو وہاں پر فہمیدہ ریاض، افضال احمد سید تنویر انجم، سعید الدین اور کبھی کبھار ذی شاحل سے بھی ملاقات ہوجاتی۔پیرا ڈائز پیلس میں، ایک طرف عذرا عباس نثری نظمیں لکھ رہی تھیں، ان کے ساتھ انور سن رائے ناول، افسانہ، شاعری، تینوںمیں مصروفِ عمل تھے اور دوسری طرف افتخار جالب مرحوم بھی،اپنی بھاری بھر کم تنقیدی بصیرت کے ساتھ موجود تھے۔ آرٹس کونسل کراچی پر یاور مہدی اور ان کے یاروں کا اجارا تھا۔ اس کے سوا اور بھی بہت کچھ ہورہاتھا۔ کئی ادبی پرچے نکل رہے تھے۔کئی ادبی تنظیموں اور انجمنوں کے اجلاس باقاعدگی سے ہورہے تھے۔

ابتدائی برسوں میں بہت سی جگہوں پر جانا ہوا، لیکن اس کے بعدا چانک ملاقات، ایک چھتیس سینتیس سالہ خو برو اور وضع دارصاحبِ علم و ادب سے ہوگئی، جن سے ملنے کے بعد یہ ضرور محسوس ہوا تھاکہ ادبی آوارا گردی اب اپنا ثمر لے آئی ہے۔یاد نہیں آرہا کہ کب، کیسے اور کہاں، پہلی بار ان سے ملاتھا لیکن اتنا یاد ہے کہ گلشن اقبال کے بلاک نمبر چار میں واقع ان کے آبائی گھر میں ہی ملاتھا۔

ان کے تین افسانوی مجموعے اور کئی ناولوں اور افسانوں کے تراجم شایع ہو چکے تھے اورمیں ان میں سے کچھ ہی تراجم، مضامین اور ایک افسانوی مجموعہ “چیزیں اور لوگ” پڑھ چکا تھا، جسے میں آج بھی ان کا بہترین افسانوی مجموعہ خیال کرتا ہوں۔اگرچہ اس کے بعد ان کے افسانوی مجموعے” میں شاخ سے کیوں ٹوٹا”، “شہر ماجرا”،” شہر بیتی”، “ایک آدمی کی کمی” اور میرے دن گزر رہے ہیں” شایع ہوئے۔ اپنے مجموعے “ایک آدمی کی کمی” میں انہوں نے کچھ سندھی لوک کہانیوں کو کامیابی سے اردو میں ڈھالتے ہوئے انہیں ہم عصر زندگی کے پیچیدہ واقعات سے، کامیابی کے ساتھ جوڑا ہے۔شاید کچھ لوگ جانتے ہوں کہ انہوں نے ایک ناول لکھنے کا آغاز بھی کیا تھا، جس کا صرف ایک ہی باب رقم کیا جاسکا اور وہ آگے نہ بڑھ سکا۔

آصف صاحب انتظار حسین سے مرعوب و متاثر ضرور تھے لیکن انہوں نے افسانے میں اپنے لیے الگ راہ نکالنے کی بھرپور کوشش کی اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے۔وہ نئے ماخذات کی تلاش میں سندھی زبان کی لوک روایات میں اندر تک چلے گئے۔اور صرف سندھی پر ہی کیا موقوف، نجانے کتنی زبانوں کی پوری پوری روایات وہ گھول کر پیئے ہوئے تھے۔ان کافکشن اور نان فکشن پڑھ کر کم از کم مجھے تو یہی لگتا ہے۔

ان کا گلشن اقبال والاوہ گھر اور اس کا ڈرائنگ روم،کبھی فراموش نہیں کیے جاسکتے، جہاں آصف صاحب سے ہونے والی پہلی ملاقات ہی،ملنے ملانے کے ایک طویل سلسلے میں تبدیل ہوگئی۔اس گھرکے گراؤنڈ فلور پر آصف صاحب کے والدین اور پہلی منزل پر وہ خود رہتے تھے۔ گھر کی گھنٹی بجانے پر کبھی آصف صاحب تو کبھی ان کی اہلیہ اورکبھی ڈاکٹر اسلم فرخی مرحوم ( جن کے چہرے پر ہمیشہ ایسی سنجیدگی، متانت اور رعب دکھائی دیتا کہ علیک سلیک کے سوا ان سے کوئی بات کرنے کی ہمت کبھی نہ ہوسکی) آکر گیٹ کا پھاٹک کھولا کرتے اور پھاٹک سے اندر آنے کے بعد مہمان کے لیے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھول دیاجاتا۔مہمان اندر بیٹھ کر انتظار کرتے ہوئے سامنے کی دیوار پر نصب شمس العلما، ڈپٹی نذیر احمد کی تصویر دیکھتا رہتا۔ پھر کچھ دیر بعد ڈرائنگ روم کے کونے پر بنا ہوا دروازہ کھلتااور کج مج سی بھوری آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگائے،طویل قامت، ہلکے سے گھنگھریالے بالوں والے آصف صاحب برآمد ہوتے اور دیکھتے ہی پوچھتے : ہاں، بھئی کیا حال ہے؟ کیسے ہو؟ کیا لکھا اور پڑھا جارہا ہے؟۔ ان سوالوں کے جوابوں کے ساتھ ہی سلسلہ کلام دراز ہوتا چلاجاتا۔ اردوادب کے ساتھ عالمی فکشن نگاروں کا تذکرہ چل نکلتا۔

یہ ان کی اپنی شخصیت کاطمطراق تھا کہ والد صاحب کا اثر، ابتدا میں آصف صاحب سے مل کر میں ایسا مرعوب ہوا تھا کہ ان سے بات کرنے سے پہلے مجھےکئی بار سوچنا پڑتا تھا کہ کیا بات کی جائے اور اس پر مستزاد یہ کہ میری زبان میں لکنت بھی ہے، لیکن ان کا رعب داب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زائل ہوکر برابر کی دوستی میں تبدیل ہوتاچلاگیا۔ایک مرتبہ ان سے اس کا اظہار بھی کیا کہ جب آپ سے شروع میں ملتا تھا تو آپ کے رعب میں رہتا تھا لیکن اب وہ ختم ہوگیا۔ جواب میں انہوں نے ہنستے ہوئے کہاتھا : یہ تو بہت برا ہوا۔

جب تک آصف صاحب گلشن والے گھر میں رہے، ہم سے ادب کے پیاسے بار بار اس گھر کا طواف کرتے رہے۔ اور کیوں نہ کرتے۔ اس گھرکے ڈرائنگ روم میں کیسی کیسی شان دار ادبی اور فکری محفلیں برپاہوتی تھیں، جو شہر بھر میں ہونے والی تمام ادبی تقریبات پر بھاری تھیں۔ اکثر محفلوں کے روحِ رواں وہ خود ہی ہوا کرتے تھے۔میں نے وہیں پر پاکستان انڈیا کے ایٹمی دھماکوں سے حوالے سے لکھا گیا انتظار حسین کا تازہ افسانہ”مور نامہ” سنا۔ اسد محمد خان نے جب اپنا طویل افسانہ”رگھوبا اور تاریخ ِ فرشتہ” مکمل کیا تو آصف صاحب نے اسے اسد صاحب کی زبانی سننے کے لیے اپنے گھر میں باقاعدہ اہتمام کیا۔ اس افسانے کی قرات دو گھنٹے سے زیاد دیر تک جاری رہی۔ سب سنتے رہے اور اسد صاحب کی اعلیٰ نثر سن کر اپنا سر دھنتے رہے۔ اردو کے مایہ نازشاعر محبوب خزاں، جو شہر میں کسی جگہ نظر نہیں آتے تھے، انہیں بھی یہیں دیکھا اور ان سے ان کا کلام بھی سنا۔انڈیا سے تشریف لانے والے شمس الرحمن فاروقی، شمیم حنفی، سید محمد اشرف، ساجد رشید اور محسن خاں سے بھی یہیں ملاقات ہوئی۔ وہ گھر اردو ادب کا ایسا مرکز و محور تھا کہ بہت سے ادبی ستارے وہاں آکر اپنی آب و تاب دکھاتے۔کس کس کا نام لوں۔

وہ مجھے ہمیشہ تاکید کرتے رہتے۔لکھتے اور پڑھتے رہو۔پڑھنے کے لیے وہ ہمیشہ نت نئی کتابیں تجویز کرتے اور اپنے کتب خانے سے بھی فکشن کی بعض کتابیں نکال کر پڑھنے کے لیےمستعار دے دیا کرتے۔ ایک بار ان کے آگےتورگنیف کے طویل افسانوں کے اردو ترجمے “جھونکے بہار کے” کی تعریفوں کے پل باندھےتو وہ سنتے ہی بےچین ہو گئے اور کہنے لگے۔ کیسی شان دار کتاب ہے لیکن وہ کتاب مجھ سے کہیں کھو گئی ہے۔اگر تم اپنی وہ کتاب مجھے دے دو، تو اس کے بدلے تمہیں چیخوف کے تراجم دے سکتا ہوں۔چند روز بعد “جھونکے بہار کے” ان کے حوالے کردی۔

دھیرے دھیرے میرے افسانوں کے متعلق ان کی رائے بہتر ہونے لگی تھی۔جب میں نے افسانہ ”خوامخواہ کی زندگی ” لکھا، تو اسے پڑھنے کے بعد کہنے لگے: اس کا ماحول ایڈ گر ایلن پو کے افسانوں کی طرح گھمبیر اور تاریک ہے، لیکن افسانہ بن گیا ہے۔ بہت بعد میں یہی افسانہ جب لاہور میں زاہد ڈار کو پڑھنے کے لیے دیا تھا، تو ان کا جواب تھا: مجھے لگتا ہے،تم نے یہ افسانہ مجھ پر لکھا ہے۔”

کتابوں کی اشاعت کا کام وہ بہت پہلے سے شروع کرچکے تھے۔ پہلے احسن مطبوعات کےنام سےکچھ کتابیں چھاپیں، جن میں افسانہ نگار ضمیر الدین احمد کی اردو شاعری کے جنسیاتی مطالعے پر مبنی کتاب” خاطرِ معصوم” بھی شامل تھی۔اس کے علاوہ ان کے اپنے ایک دو افسانوی مجموعے بھی اسی ادارے سے چھپے۔اس کے بعد انہوں نے سین پبللیکیشن کے تحت کچھ کتابیں شایع کیں،جن میں مصطفیٰ ارباب، اکبر معصوم اور امر محبو ب ٹیپو کی کتابیں مجھے یاد ہیں۔

ان دنوں امر محبوب ٹیپو اور عرفان خان نے ریگل چوک کے بیچوں بیچ ایک قدیم عمارت” نرائن داس بلڈنگ” میں” سماوار” نامی تنظیم کے بینر تلے ہفتہ وار ادبی بیٹھک کا آغاز کیا۔ اس عمارت کا نام سین پبلشرز کے پتے کے طور پر بھی لکھا گیا۔ وہاں کچھ عرصے تک باقاعدگی سے تنقیدی نشستیں منعقد ہوئیں۔ ممتاز رفیق مرحوم نے اپنے ابتدائی خاکے وہیں پڑھ کر سنائے۔ایک افسانہ میں نے بھی پیش کیا تھا۔آصف صاحب،فہمیدہ ریاض، فاطمہ حسن، مبین مرزا اور کچھ احباب نےبھی وہاں اپنی نگارشات تنقید کے لیے پیش کی تھیں۔ لیکن یہ سلسلہ چند ماہ بعد ہی ختم ہوگیا۔

ایک شام کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی۔ پیراڈائز پیلس میں چوتھی منزل پر واقع انورسن رائے اور عذرا عباس کے گھر میں احمد فواد، وسعت اللہ خان اور آفتاب ندیم کے ساتھ میں بھی موجود تھا۔ آصف صاحب اکبر معصوم کی کتاب ” اور کہاں تک جانا ہے۔”کا مسودہ بغل میں دبائے وارد ہوئے۔ ان کے آتے ہی محفل کا رنگ بدل گیا۔ انہوں نے اکبر کی شاعری کے پل باندھنے شروع کردیے۔ اس کے بعد آفتاب ندیم نے بیٹھے بیٹھے تقریباً پورا مسودہ پڑھ کر سنا دیا۔تمام سننے والے تازہ کار شاعر کا کلا م سن کر عش عش کر اٹھے۔اس کے بعد وہ کتاب شایع ہوئی اور اس کی تقریبِ رونمائی آرٹس کونسل، کراچی میں ہوئی۔ اکبر معصوم اردو کے مین اسٹریم ادب میں شامل ہوگئے۔

شایدسن دو ہزار میں آصف صاحب نے ادبی رسالہ نکالنے کا ارادہ باندھا۔ مجھے حکم ہو ا کہ ایک افسانہ دنیازاد کے لیے انہیں دوں۔ ان دنوں میں افسانے” چریا ملک” پر کام کر رہا تھا۔اچانک مجھے چھوٹے بھائی کے ساتھ پشاور جانا پڑگیا۔وہاں ایک ہوٹل میں قیام کے دوران وہ افسانہ مکمل کیا اور پشاور سے ان کے پتے پر پوسٹ کردیا، جو انہیں مل گیا۔کراچی واپسی پر ان سے پوچھا: افسانہ کیسا لگا؟ کہنے لگے: اسے پڑھتے ہوئے مارکیز کا کرنل یاد آتا رہا، مگر افسانہ اس سے مختلف ہے۔چند ہی روز کے بعد دنیا زاد کا اجرا ہوگیا اور بہت جلد وہ اردو کے ایک وقیع رسالے کے طور شہرت پانے لگا۔دنیا زاد شروع کرنے سے پہلے وہ ایک نیا اشاعتی ادارہ “شہر زاد پبلشر” کے نام شروع کرچکے تھے۔اس ادارے کے زیرِ اہتمام انہوں نے باقاعدہ اور مسلسل کتابیں چھاپنا شروع کیں۔

لاہور میں جب عاصم بٹ سے پہلی ملاقات ہوئی تو آصف صاحب کا تذکرہ نکلا۔ عاصم نے کہا کہ وہ جب ان کے بارے سوچتا ہے تو اس کے سامنے ایک ایسا شخص آتا ہے، جس نے ایک بہت بڑے میز کو کئی خانوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ایک خانہ افسانہ نگاری کے لیے ہے، وہاں بیٹھ کر وہ افسانے لکھتا ہے۔ دوسرا ترجمے کے لیے مخصوص ہے، جہاں سے وہ تراجم کرتا ہے۔ تیسرا مضامین سے مختص ہے، وہاں بیٹھ کر وہ مضامین لکھتا ہے۔ چوتھا خانہ انگریزی کی تحریروں کے لیے ہے، جہاں سے وہ اپنے انگریزی تراجم اور مضامین تحریر کرتا ہے۔

دو ہزار ایک میں میری شادی ہوگئی۔ شادی کے بعد ایک بار اپنی شریک ِ حیات کے ساتھ ان کے گھر گیا۔ تب سیمی بھابھی بھی آکر ہمارے ساتھ بیٹھ گئی تھیں۔انہوں نے باتوں باتوں میں آصف صاحب کی شکایت کی: انہیں عید کے لیے کپڑے اور جوتے خریدنے کے رقم دی، تو یہ ان کے بجائے ٹامس اینڈ ٹامس سے مہنگی کتابیں خرید کر لے آئے۔ بعد میں ان کے لیے کپڑے اور جوتے مجھے خریدنے پڑگئے۔مجھے یاد ہے کہ بھابھی کا لہجہ آصف صاحب کے متعلق کچھ تلخ سا تھا۔اس سے پہلے تک میں یہی سمجھتا رہا تھا کہ بھابھی آصف صاحب کی ادبی قدو قامت کو نہ صرف پسند کرتی ہیں بلکہ ان کی مدد بھی کرتی ہوں گی، لیکن اس دن کے بعد میرا یہ خیال خام ثابت ہوا۔

مجھے اپنا افسانوی مجموعہ شایع کرنے کا مشورہ آصف صاحب نے ہی دیا تھا۔ان کا خیال تھا کہ اب تمہارا پہلا مجموعہ آجانا چاہیے۔ان دنوں میری کتاب کے ساتھ سید کاشف رضا کا پہلا شعری مجموعہ” محبت کا محلِ وقوع” بھی زیر طبع تھا۔مجھے اپنی کتاب کے لیے مناسب نام نہیں مل رہا تھا۔ ایک روز آصف صاحب کے ہاں انعام ندیم بھی موجود تھے۔جب اس مسئلہ کا انہیں پتا چلا تو انہوں نے افسانوں کے عنوانات دیکھتے ہوئے کتاب کا نام” خوامخواہ کی زندگی” تجویز کیا، جو مجھے اور آصف صاحب دونوں پسند آیا، اس طرح کتاب کا نام طے ہوگیا۔

کچھ عرصے بعد آصف صاحب کا فون آیا کہ تمہاری اور کاشف کی کتابیں چھپ گئی ہیں۔ میں چند کاپیاں لے کر آرہا ہوں۔ کس جگہ ملا جائے؟ میں نے جبیں ہوٹل، صدر میں ملنے کے لیے کہا۔ آصف صاحب نے وہاں مجھے اور کاشف کو شایع ہونے اولین کتابیں پیش کیں۔ ہمیں محسوس ہوا کہ ہم سے زیادہ خوشی آصف صاحب کو ہورہی ہے۔وہ بہت پرجوش تھے۔انہوں نے کتابوں کی تقریب کروانے کے لیے کہا۔ کاشف کی دوکتابوں، محبت کا محل وقوع اور نوم چومسکی کے تراجم والی کتاب اور میری افسانوں کی کتاب کی تقریبِ رونمائی ایک ساتھ ہوئی تھی، جس کے بینر پر لکھا ہوا تھا: دو ادیب، تین کتابیں۔ شرکائے گفتگو میں آصف صاحب کے علاوہ، افضال احمد سید، غازی صلاح الدین، پروفیسر سحر انصاری اور دیگر لوگ شامل تھے۔ تھیٹر کے مایہ ناز اداکار خالد احمد نے میری ایک کہانی اور کاشف کی چند نظمین پڑھ کر سنائیں۔

ایک بار آصف صاحب کے چچا انور احسن صدیقی مرحوم کی کتاب”ایک خبر، ایک کہانی” کی تقریب اجرا کراچی پریس کلب میں جاری تھی۔ میں انور سن رائے صاحب کے ساتھ آخری رو میں بیٹھا تھا۔آصف صاحب اپنا مضمون پڑھ چکنے کے بعد ہمارے پاس ہی آخر بیٹھ گئے۔ انور صاحب نے انہیں جملہ دیاتھا: یار تمہارے ہرمضمون میں محاوروں اور اشعارکی بھرمار ہوتی ہے، کبھی سیدھی بات بھی کرلیا کرو۔اپنے نان فکشن میں آصف صاحب کی نثر کا انداز کچھ ایسا ہی تھا۔

ان دنوں آصف صاحب اقوام ِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال سے وابستہ تھے۔ایک بار انہوں نے بتایا کہ ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ہاؤس جاب کےدوران انہوں نے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے میں جو بے حسی، منافع خوری، حرص و طمع دیکھی تو پھر اس کے بعد انہوں نے زندگی بھر پریکٹس نہ کرنے کا تہیہ کرلیا اور اپنی ملازمت کے لیے بالکل الگ راستہ منتخب کیا۔

ایک سے زائدبار انہوں نے مجھ سے ایک بات کہی، جو میرے ذہن میں اٹک کر رہ گئی۔ انہوں نے کہا: زندگی میں کبھی سرکاری نوکری مت کرنا۔وہ جانتے تھے کہ میں پی ٹی سی ایل میں ملازمت کرتا ہوں۔ دوہزار آٹھ میں،میں نےوہ جاب چھوڑ دی اور فری لانس ڈرامہ رائٹر کے طور پر کام کرنے لگا اور آج تک یہی کچھ کر رہا ہوں۔دشواری تو پیش آتی ہےلیکن آزادی بڑی چیز ہوتی ہے۔

بعدمیں آصف صاحب گلشن اقبال سے نقل ِ مکانی کر کے ڈیفنس میں منتقل ہوگئے۔جب میں وہاں ان سے ملنے کے لیے گیا تو باتوں باتوں میں میرے منہ سے نکلا:شادی کے بعد جوائنٹ فیملی میں رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ آپ نے مسائل کا سامنا کیا ہوگا؟ یہ سن کر وہ مخصوص انداز میں مسکرائے اورکہنے لگے: اگر میں الگ ہوکر یہاں نہ آتا تو بڑے مسائل ہوجاتے۔

آصف صاحب،ہمہ وقت متحرک رہنے والے ادیب تھے۔ان کی دلچسپی ادب کے کسی ایک شعبے سے مخصوص نہیں تھی۔یہ ٹھیک ہے کہ انہیں زیادہ لگاؤ فکشن سے تھا لیکن غزل، نظم، تنقید، ترجمہ،آپ بیتی، خاکے وغیرہ سب چیزوں کو وہ اہم سمجھتے تھے۔انہوں نے نثری نظم کے سات بہترین شاعروں کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا، جو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شایع کیا تھا۔ادب کے تمام شعبوں کے حوالے سے ایسا پرجوش، سرگرم اور مستعد میری نگاہوں سے نہیں گزرا۔

آکسفورڈ ادارے کے لیے انہوں نے بہت سی کتابیں ترتیب دیں اور ترجمہ کیں۔ امینہ سید صاحبہ سے تعلق کی بنا پر ان کے ساتھ مل کر آصف صاحب نے کراچی لٹریچر فیسٹول کی بنیاد رکھی اور کئی برس اسے کامیابی سے منعقد کرکے ملک بھر میں ادبی میلوں کی نئی روایت قائم کی، جس سے ادب اور ادیبوں دونوں کا بھلا ہوا۔

میرا ناول” میرا واہ کی راتیں” آج میں شایع ہوا تو فون کر کے پر جوش انداز میں مبارک باد دی۔انہیں مجھ سے ایک شکایت تھی، ناول کی تقریب کے دوران بھی انہوں نےجس کا برملااظہار کیا تھا، اور وہ یہ کہ مجھے زیادہ فکشن لکھنا چاہیے جو شاید میں اب تک نہ لکھ سکا ہوں۔ اسی تقریب میں اجمل کمال صاحب بھی پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔کاشف رضا کا ناول “چاردریش اور کچھوا” شایع ہوا تو سب سے زیادہ خوشی کا اظہار ان کی جانب سے کیا گیا اور وہ اس کی تعریف کرتے رہے۔

خالد جاوید صاحب کا ناول ” نعمت خانہ” انہوں نے شہر زاد سے شایع کیا تھا۔ایک جوش کے ساتھ انہوں نے مجھے پڑھنے کے لیے دیا۔میں نے پڑھ کر مکمل کیا تو ان سے اور کاشف رضا سے بہت تعریف کی۔ کاشف نے ناول پڑھنے کے لیے مانگ لیااور میں نے بھی اسے دے دیا۔ بعد میں وہ کہنے لگا کہ تم دوسرا لے لینا۔ میں نے جب آصف صاحب سے اس بات کا ذکر کیا تو اگلی ملاقات میں انہوں نے مجھے ناول کی نئی کاپی دے دی۔ لیکن وہ کاپی،عاصم بٹ کراچی آیا تو وہ لے اڑا۔آصف صاحب جیسا پبلشر دنیا میں شاید ہی گزرا ہو جو اپنے ادارے کی کتابیں دوستوں، پڑھنے والوںمیں مفت بانٹا کرتا تھا۔

میں اور اکثر دوست اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ آصف صاحب کے ہاں سب بہت اچھا چل رہا ہے۔وہ شہر کے پوش علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ یونی سیف کی ملازمت چھوڑ کر وہ حبیب یونی ورسٹی جوائن کرچکے تھے۔ وہاں جانے کے بعد ان کی شوخی گفتار میں اضافہ ہوتا چلا گیا تھا۔ وہاں کبھی اسد محمد خاں، باسودے کی مریم سنا نے کے لیے آ رہے ہیں، کبھی حسن منظر اپنا کوئی افسانہ پڑھنے۔ کبھی عذرا عباس کی نثری نظموں کا ترجمہ کیا جارہا ہے اور کبھی شمیم حنفی صاحب لیکچر دینے کے لیےتشریف لارہے ہیں۔ افضال صاحب، تنویر انجم صاحبہ اور انعام ندیم یو نیورسٹی میں ہمہ وقت ان کے ساتھ ہوتےتھے۔ہم سمجھے بیٹھے تھے کہ آصف صاحب ہمیشہ رہیں گے اور ایسے ہی رہیں گے۔

پھرفیس بک پر ان کی بعض تصویریں دیکھ کر میں ششدر رہ گیا اور سوچنے لگا کہ آصف صاحب کو اچانک کیا ہوگیا؟ان کےچہرے کی شادبی، آنکھوں کی مخصوص چمک اور لہجے کا غیر متزلزل اعتماد غائب ہوچکے تھے۔آصف صاحب سے ملنے پر پوچھنے کی ہمت بھی نہ ہوسکی۔ایک روز یارِ عزیز عرفان جاوید سے ملنے گیا تو باتوں میں انہوں نے آصف صاحب پر بیتنے والی قیامت کی خبر دی۔ جب یہ ذکر کاشف رضا سے کیا تو اس نے پراسرار طریقےاپنے دو خوابوں کے بارے میں سرسری سا بتایا، جو اس نے آصف صاحب کے بارے میں دیکھے تھے۔میرے پوچھنے پر بھی اس نے تفصیل نہ بتائی۔

آصف صاحب دوبارہ ڈیفنس سے گلشن اقبال منتقل ہوچکے تھے، ایک کرائے کے گھر میں، جو ان کے آبائی گھر کے قریب ہی واقع تھا۔اس گھر میں جب ان سے ملا تو عرفان جاوید کی سنائی ہوئی خبر کی تصدیق کرنا چاہی۔اس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان پر ڈپریشن کے شدید دورے پڑ رہے ہیں۔دو بار خودکشی کی کوشش کرچکے ہیں۔انہوں نے یہ سب اتنے سرسری طریقے سے بتایا کہ میں حیرت سے انہیں تکتا رہ گیا لیکن وہ دوسری طرف دیکھنے لگ گئے تھے۔

وہ اپنے ذاتی معاملات پر کم ہی بولتے تھے اور دوسروں کو بھی بات کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ جب ان سے آخری بار مل کر اٹھاتو سوچ رہا تھا کہ پچیس برس پہلے بھی یہی گلشن تھا، لیکن تب یہ اس طائرِ خوش الحان کی شوخی و طراری سے کیسا گونجتا رہتا تھا، لیکن اب اسے کس کی نظر لگ گئی۔

اس کے بعد تو پوری دنیا کوہی کسی کی نظر لگ گئی۔ایک وبا جنگل کی آگ سے بھی تیزرفتاری کے ساتھ ملکوںملکوں پھیلتی چلی گئی۔ آصف صاحب نے پبلک ہیلتھ میں ڈگری لی ہوئی تھی۔ جب کراچی میں لاک ڈاؤن کا علان ہوا تو انہوں نے دوسرے ہی دن سے “تالہ بندی کا روز نامچہ ” لکھنا شروع کردیا، جو عنقریب کتابی صورت میں شایع بھی ہونے والا ہے۔عرفان جاوید کے مطابق آصف صاحب گلشن والے کرائے کے گھر میں بے چینی محسوس کرتے تھے۔ دل نہیں لگتا تھا۔ اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ وقت یونیورسٹی میں رہنے کی کوشش کرتے۔ دیر تک بیٹھ کر پڑھتے رہتے تھے۔

آج انعام ندیم فون پر کہہ رہا تھا کہ اگر یونیورسٹی بند نہ ہوتی، تو مجھے یقین ہے کہ آصف صاحب ہمارے درمیان ہوتے۔ لیکن ایک بڑا صدمہ ہم سب دوستوں کے لیے یہ ہے کہ وہ اب ہماری تحریریں نہیں پڑھ سکیں گے۔ ہم ہمیشہ کے لیے کتابوں پر ان کی بیش قیمت رائے سے محروم ہو گئے اور یہ محرومی چھوٹی محرومی نہیں ہے۔

Categories
فکشن

پیل دوج کی ٹھیکری (رفاقت حیات)

کتنے دنوں سے وہ روز خوابوں میں آجاتی ہے۔ رات کو نیند میں دن کو آرام کر تے ہوئے یا دوپہر کو قیلولے کے وقت۔ حتیٰ کہ جاگتے ہو ئے بھی ایسا لگتا ہے کہ میری آنکھیں اسے دیکھ رہی ہیں ۔ میرا جسم اس کی موجودگی کو محسوس کر رہا ہے۔ میں اس کی سرگوشیاں بھی سنتی ہوں۔ دھیمی، غمگین، مسرور۔ وہ ہر بار سرگوشیاں ہی کر تی ہے اور دھیمے قہقہے لگا تی ہے۔جیسے خوفزدہ ہو، کوئی سن نہ لے۔ میں اکثر خواہش کر تی ہوں کہ خوابوں میں تو وہ زور سے قہقہے لگا ئے، چیخ چیخ کر باتیں کرے اودھم مچائے۔

کل رات پھر اسے خواب میں دیکھا ۔سرخ لباس میں دلہن بنی ہوئی۔ گھونگھٹ کے نیچے آہیں بھرتی ہوئی۔ کوئی ڈھولک تھی نہ دف۔ کوئی قہقہہ تھا نہ کوئی ہنسی۔ بس نزدیک سے گزرتی ہوئی بوڑھیوں کی آوازیں تھیں۔ اسے دیکھ کر دعائیں دیتی ہوئیں اس کی بلائیں لیتی ہوئیں۔وہ بر آمدے میں بچھی رلی پر بیٹھی تھی۔ اس کے گرد لڑکیوں کا جمگھٹا تھا۔ وہ سب چپ چاپ تھیں، جیسے کسی سوچ میں ہوں۔ پھر وہ سر گوشیاں کر نے لگیں ان کی ہنسی کی بھنبھناہٹ ماحول پر چھانے لگی۔ وہ رات کا وقت تھا۔ شاید رخصتی سے پہلے کی رات۔ مسجدوں میں عشاء کی اذانیں تھم چکی تھیں لیکن وہ کون سی جگہ تھی۔ گھر نہیں وہ تو کھنڈر لگتا تھا۔ شاید چمگادڑوں کے پروں کی آوازیں بھی سنائی دی تھیں۔ کوئی سر پھری لڑکی ماہیاگانے لگی تھی۔ بول یاد نہیں رہے۔ بہت سریلی آواز تھی اس کی ۔اس نے اپنی گائیگی سے چپ کی چادر کو چاک کر دیا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے کبھی یہاں خاموشی تھی ہی نہیں۔ اس کی ہم جولیوں نے اسے روکا تھا۔ گانے سے منع کیا تھا ۔ پھر نہ جانے کہاں سے ابا آگئے تھے۔ ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔ شاید ان کی نیند خراب ہو گئی تھی۔ ان کی دھونس کی باز گشت دیر تک میرے کانوں میں گونجتی رہی تھی۔ برآمدہ، صحن، کمرے اور دیواریں سب خاموش ہو گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب مجھے خواب یاد نہیں رہتے۔ اکثر گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔ شاید کل والا خواب ادھورا تھا یا کوئی حصہ میں بھول گئی۔نہیں خواب ایسا تھا، پتہ نہیں۔ مجھے کیا ہو رہا ہے۔ نیند سے جاگتے ہی دل میں درد کی لہریں اٹھنے لگی ہیں، یہ ہم لوگ پوپھٹے ہی کیوں جاگ جاتے ہیں۔ وہ سب صحن میں ہیں۔ میں اکیلی یہاں پڑی ہوں ۔میں کیوں ہر وقت خواب کریدتی رہتی ہوں۔ رخصتی کی رات کیا ہوا تھا۔ کچھ نہیں۔کوئی خاص بات نہیں۔ یاد ہے مجھے سب۔خوب ڈھولک بجی تھی اور دف بھی۔ لڑکیاں تو چنچل ہوتی ہیں، بوڑھی عورتوں نے بھی مایئے اور پٹے گائے تھے۔ لڈی بھی ڈالی تھی۔ پھوپھو تو ابا کو کھینچ لائی تھیں۔ انہیں ڈھول گانا پسند تھا۔

خواب میں چیزیں کتنی بدل جاتی ہیں اس رات مجھے سونے کے لیے جگہ نہیں مل رہی تھی۔ نیند کی طلب میں سارا جسم اونگھ رہا تھا۔ کسی کی منت سماجت سے ایک کھاٹ مل گئی تھی۔ میں آنکھ میچتے ہی نیند کے غار میں گم ہو گئی تھی۔ پھر کوئی دھیرے سے میرے ساتھ لیٹ گیا تھا۔ واہمہ سمجھ کر میں نے خیال نہیں کیا لیکن وہ کوئی جیتا جاگتا انسانی جسم تھا۔ چپکے سے میری پشت سے چپک گیا۔ وہ جسم خوشبو سے اٹا تھا۔ میرے گرد بازوؤں کا حلقہ بنانے کی کوشش میں چوڑیاں کھنکی تھیں۔ کچھ ٹوٹ بھی گئیں ۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو نسرین نے دھیما سا قہقہہ لگا یا تھا ۔ میں نے خفگی سے ڈانٹا تھا لیکن وہ ہنستی رہی تھی۔

’’میں گھرسے ہمیشہ کے لیے اٹھنے والی ہوں اور آپ سو رہی ہیں۔‘‘ نیند کے بوجھل پن کے باوجود یہ فقرہ سن کر میں چونک گئی تھی۔ میں نے اس کے چہرے پر کچھ ٹٹولنا چاہا تھا مگر وہ میرے بالوں کی لٹیں ہٹارہی تھی اور کہہ رہی تھی۔ ’’شاید میں سو نہ سکوں اسی لیے لگ رہا تھا کہ وہ ابھی پھوٹ کر رودے گی، پھر مجھ سے لپٹ جائے گی لیکن وہ اس رات بالکل نہیں روئی۔ مسکراتی ہو ئی اپنے شوخ لہجے میں رات بھر باتیں کرتی رہی۔

یہ رنج ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا کہ اس رات نسرین کھلکھلا کر نہیں ہنسی۔ ان واقعات کو نہیں کر یدا جو ہماری مشتر کہ ملکیت تھے۔ میں اپنی آہوں کو چھپاتی رہی۔ ذہن میں بکھرے سوالوں کو پرے دھکیلتی رہی ۔ آنکھوں کی اداسی کو خوشی میں تبدیل کرتی رہی۔

اس کی زلفوں میں ہاتھ پھیر تی رہی جن کی ملائمت اور خوشبو مجھ سے بچھڑنے والی تھی۔ میں اس کے چہرے کی نر می کو اپنی انگلیوں کی پوروں میں بھر تی رہی تا کہ اس کے حسن کی یاد کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھ سکوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امرود کے باغ کا واقعہ سن کر میں بھی بہت ہنسی تھی۔ ہم گوٹھ میں رہتے تھے۔ ایک دوپہر گھر کے سامنے سے اکتا کر ہم کسی کی اجازت کے بغیر کھیتوں کی طرف نکل گئے تھے۔ کپاس کے کھیتوں میں گھومتے ہو ئے ہم نے اپنے دوپٹے بہت سے پیلے اورسرخ پھولوں سے بھر لیے تھے۔ اس مشقت کی وجہ سے ہمیں پیاس لگ گئی تھی۔ گھر بہت دور تھا۔ میں نسرین کوبہلا کر چچا حاکم والے امرود کے باغوں کی طرف لے گئی تھی۔ کیوں کہ وہاں پانی کا نلکا بھی تھا اور سستا نے کے لیے جھونپڑی بھی۔ امرود کے باغوں کا رکھوالا اپنی سخت گیری کی وجہ سے مشہور تھا اس وقت وہ جھونپڑی میں سورہا تھا ۔ ہم نے آہستگی سے نلکے سے پانی پیا تھا اور ہاتھ منہ دھویا تھا۔ پھر ہم امرود کے باغوں کی طرف چلے گئے تھے۔ امرود کچے تھے لیکن پھر بھی ہم نے بہت سے توڑ لیے تھے اور بہت سے کھاکھا کر پھینک دیے تھے۔ شاید نسرین کسی بات پر زور زور سے ہنسنے لگی تھی۔ہنستے ہنستے امرود کے ذرے سانس کی نالی میں اٹک گئے تھے اور اس پر کھانسی کا دورہ پڑگیا تھا ۔ اسے دیکھ کر میں قہقہے لگا نے لگی تھی اور کچھ دیر بعد مجھے بھی کھانسی ہو گئی تھی۔ ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنستے اور کھانستے رہے تھے۔ حتیٰ کہ بے حال ہو کر زمین پر گر گئے تھے۔ واپسی پر نسرین نے سوئے ہوئے رکھوالے کو کچا امرود مار کر جگا دیا تھا ۔اور وہ ہمیں پکڑنے کے لیے پیچھے بھاگنے لگا تھا۔ ا س رات ہمارے پیٹ میں مروڑ اٹھے تھے اور ہم سو نہیں سکے تھے ۔ باغ کے رکھوالے نے ابا سے شکایت کر دی تھی۔ ڈانٹ کے علاوہ ہمیں مار بھی پڑی تھی۔

ہماری دادی کا مزاج بہت چڑ چڑا تھا ۔ بے ضررسی باتوں پر گالیاں دینے لگتی تھیں اور پتھر لے کے پیچھے دوڑ پر تی تھیں۔ ان سے چھیڑ خانی ہمیں لطف دیتی تھی۔ ایک بار میں انہیں نلکے پر نہلارہی تھی۔قریب ہی نیم کا چھدر اور درخت تھا۔ نسرین مٹی کے ڈھیلے اٹھائے درختوں کے پیچھے چھپ گئی تھی ۔ میں بھی سازش میں شریک تھی۔ اس لیے دادی کو نہیں بتایا۔ نسرین کا پہلا نشانہ چوک گیا۔

مگر دوسرا دادی کی لٹکی ہوئی چھاتی پر لگا اور وہ جگہ سیاہ پڑگئی تھی۔ دادی نے گالیوں کا طومار باندھ دیا تھا۔ میں نے اپنی ہنسی دبا رکھی تھی لیکن نسرین اپنے قہقہوں کو نہ روک سکی تھی۔ اس دن گھر والوں نے نسرین کو بہت پیٹا تھا۔

اس کے دھیمے لہجے کا رس اب بھی میرے کانوں میں موجود ہے۔ اس کی شدید ہنسی، مسکراہٹ مجھے یاد ہے۔ میں سوچتی ہوں اس رات وہ روئی کیوں نہیں۔ جو باتیں اسے کر نا تھیں، اس نے وہ بھی نہیں کیں۔ وہ صرف بچپن کی بے ریا با توں کو دہرا تی رہی تھی۔ وہ بار بار تاسف سے کہتی ’’اف باجی ! کتنے اچھے دن تھے وہ کتنی بے فکری ہو تی تھی۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے فکری جسے وقت چھین لیتا ہے۔ اس رات میں سوچتی رہی تھی ۔کچھ دن بعد وہ اپنے گھر کے لیے مہمان ہو جائے گی یہاں کی چیزوں سے اس کا تعلق ختم ہو جائے گا ۔پھر نئے تعلقات پیدا ہوں گے۔ وہ ان کی بھی عادی ہو جائے گی اور ان تکلیفوں اور مشکلوں کی بھی جو نئے گھر میں اس کی منتظر ہیں۔

رات بہت تھی۔ وہ مرے جسم کے ساتھ چپکی ہو ئی تھی۔پھر بھی مجھے ٹھنڈ محسوس ہو نے لگی تھی۔ اسی لیے نسرین کو چائے بنانے کی سوجھی تھی۔ میں نے روکا تھا ۔اگر کسی بزرگ کی آنکھ کھل گئی تو شور مچ جائے گا۔

اب مجھے خیال آتا ہے اگر وہ نصیر احمد سے ملاقاتوں کا حال مجھ سے کہہ دیتی توشادی کی رسومات میں اس کی شرکت ناممکن ہو جاتی ۔ شاید وہ رخصتی سے پہلے ہی کچھ کھالیتی ۔ یہ بات اکثر میری حیرت کو بڑھا دیتی ہے کہ شاید اسے معلوم تھا بلکہ یقین تھا کہ ایسا ہو جائے گا۔ اسی لیے اس نے اپنا دکھ کسی پر ظاہر نہیں کیا تھا۔ وہ سوچتی رہی تھی کہ ایسا ضرور ہو گا۔

چائے کی پیالی کے ساتھ وہ باورچی خانے سے ہیٹر بھی اٹھا لائی تھی۔ میں سونا چاہتی تھی مگر اس کی دل جوئی کے لیے بیٹھی رہی۔ ایک چسکی بھر تے ہو ئے اس نے پوچھا تھا ’’امجد بھائی دیکھنے میں تو اچھے نظر آتے تھے۔‘‘

’’وہ تو سب ہی نظر آتے ہیں۔‘‘ میں مضطرب ہو گئی تھی ’’لیکن وہ بہت اچھے آدمی تھے۔‘‘
دو سال سے صائمہ کودیکھنے بھی نہیں آئے۔
میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس موضوع پر بات کرے جب کہ اسے سب کچھ معلوم ہے ’’اب ان کے پاس دوسری صائمہ جو ہے۔‘‘
’’تمہارے ساتھ کچھ نہیں ہو گا۔‘‘ میں نے جھوٹی تسلی دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شادی کی سب رسمیں نکاح اور رخصتی رواج کے مطابق ہوئی تھیں۔ کوئی بھی پھٹیک نہیں پڑی تھی۔ پھر خواب میں ان کا روپ کیوں بدل جاتا ہے ؟ انسانی شکلیں کیوں مسخ ہو جاتی ہیں ۔ کچھ دن پہلے خواب میں نکاح والے مولوی صاحب کو دیکھ کر میں کیوں ڈر گئی تھی۔ ان کی بڑی بڑی آنکھوں سے خون کیوں ٹپک رہا تھا؟ ان کے ہاتھ میں قلم کے بجائے تلوار کیوں تھی؟ ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ وہ نسرین کے سر پر وار کرنے ہی والے تھے کہ میری آنکھ کھل گئی تھی۔ ایسے خوفناک خوابوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے جو میں نیند میں دیکھتی رہتی ہوں ۔ اب تو جاگتے میں بھی گردو پیش کی زندگی ایسی ہی نظر آنے لگی ہے۔

نکاح والے دن جب نسرین نے اماں سے کہا تھا کہ میں ریل سے سفر نہیں کروں گی۔ ڈر لگتا ہے ۔ان سے کہیں کہ دوسرا بندوبست کر وا دیں۔جب مجھے اس بات کا پتہ چلا تھا تو میں بہت ہنسی تھی۔ کتنی معصوم شرط ہے۔ میں نے اسے قائل کر نا چاہا تھا کہ ریل کا سفر آرام دہ ہو تا ہے مگر وہ ضد کی پکی تھی۔ ابا بھی دوڑے آئے تھے اور مجمع کے بیچ اسے برا بھلا کہنے لگے تھے۔ نسرین شاید پہلی بار ان کی دھونس میں نہیں آئی تھی۔ اس نے گھونگھٹ کو ہٹائے بغیر ان کی ہر بات کا جواب دیا تھا ۔ پھر اماں نے ابا کو راضی کر لیا تھا ۔ ریل کی سیٹیں منسوخ کروا دی گئیں اور ایک بس کا بندوبست ہو گیا تھا۔ اس نے زندگی بھر بس کا سفر نہیں کیا۔

گھر کی فضاؤں میں دکھ بھر گیا تھا۔ سب لوگ ایک دوسرے سے چھپ کر روتے رہے تھے۔ گھر کی مالکن جو چلی گئی تھی۔ سوگوار ی اس وقت بڑھ گئی جب کسی نے بس کے حادثے کی خبردی تھی ۔ گھر کے لوگ محلے والوں سے لپٹ کر بین کرنے لگے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب سے گھٹیا کا آزار میرے جسم سے چپکا ہے۔

سارا وقت لیٹ کر یا بیٹھ کر ہی گزارتی ہوں۔ جسم کے سارے جوڑا کڑ گئے ہیں ۔ جب تک کوئی اٹھانے والا نہ ہو، اٹھنا ممکن نہیں ہوتا ۔ آنکھ کھلنے کے بعد سے ایک ہی کروٹ سے لیٹی ہوں۔ ابا ریاض کے ساتھ مسجد گئے ہیں جبکہ اماں، فاطمہ اور صائمہ نماز پڑھ رہی ہیں۔ ریاض اور فاطمہ مجھے کھاٹ سے اٹھا کر صحن میں کرسی پر بٹھا دیتے ہیں۔ دھوپ آنے تک وہیں بیٹھی رہتی ہوں۔

ابا اور اماں کھاٹ پر بیٹھے چائے کا انتظار کر رہے ہیں۔ وقفے سے ابا کی افسردہ آنکھیں میری طرف اٹھتی ہیں ۔ میں نظریں جھکا لیتی ہوں یا کسی اور طرف دیکھنے لگتی ہوں ۔ میں نے کبھی ان کی آنکھوں میں نہیں جھانکا ۔چولہے پر چائے کا پانی چڑھا ہے۔ فاطمہ اور صائمہ سے سرگوشیوں میں چھیڑ خانی کر رہی ہوں۔

جب فاطمہ نے مجھے چائے کا پیالہ دیا تو میں نے اداسی سے اس کی طرف دیکھا۔ اس نے مسکرا کر نظریں جھکا لیں۔ میں سوچنے لگی۔ وقت کس طرح گزر جاتا ہے۔ فاطمہ اتنی بڑی ہو گئی کہ خانہ داری کے چھکڑے کو تنہا دھکیلنے لگی ۔ مجھے یاد ہے۔ شادی سے پہلے میں اسے نہلایا کر تی تھی۔ کپڑے پہناتی تھی اور بالوں میں کنگھی کر تی تھی۔ یہ اتنی ڈرپوک تھی کہ ڈانٹ سے پیشاب کر دیتی تھی اور جب روتی تو چپ کرانا ممکن نہیں ہو تا تھا۔ پرسوں فجر قضا ہو جانے پر جب ابا نے ڈانٹا تو وہ ہنسنے لگی تھی۔

میری بیٹی صائمہ مجھ سے لپٹ کر لاڈ کر تے ہو ئے بولی۔ ’’امی آج شام کو پڑوسیوں کی مہندی ہے۔ میں اور آنٹی فاطمہ جائیں گے۔ امی مجھے شادیوں میں جانا اچھا لگتا ہے۔‘‘ میں اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر تے ہو ئے مسکرانے لگی۔

اگر اس رات مجھے نیند آگئی ہو تی تو نسرین کے راز کا کبھی پتہ نہیں چلتا۔

وہ گندم کے پکنے کا موسم تھا۔ اسی لیے دن گرم ہو نے لگے تھے۔ راتیں خشک تو ہوتی تھیں مگر ہم لوگوں نے صحن میں سونا شروع کر دیا تھا۔
رات کی ہوانے میری نیند کو بکھیر دیا تھا ۔ ٹھنڈ کے ہوتے میرا جسم تپنے لگتا تھا۔ پہلے تلوے، پھر ٹانگیں اور پھر سینہ اور ہونٹ۔ میں دیر تک ایک ہی کروٹ پڑی رہی تھی۔ پیاس لگ رہی تھی لیکن اٹھنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا ۔ذہن بھٹک رہا تھا ۔ایک سے دوسرے گھر تک ۔ پھر دوسرے سے پہلے تک۔ پہل دوج کی ٹھیکری کی طرح جسے پاؤں سے لڑھکا دیا جاتا ہے۔ ایک لہجے کے تیور مجھے یاد آجاتے تھے۔ پیار بھری باتیں، دعوؤں بھرے جملے اور جھاگ اڑاتی غلیظ گالیاں۔

جب کھاٹ کی ہلکی سی چر چراہٹ گو نجی، تو میں نے توجہ نہیں کی تھی، پھر کسی لباس کی سرسراہٹ اور زمین پر چلتے محتاط قدموں کی چاپ سنائی دی تھی۔ میں نے بوجھل نظروں سے ایک سائے کو دیکھا ۔ میں نے سوچا تھا کہ وہ گھڑونچی کی طرف جائے تو میں بھی پانی مانگ لوں گی لیکن وہ باورچی خانے کی طرف چلا گیا اور دیر تک لوٹا نہیں۔

میں حیران تھی کہ نہ ماچس جلی ۔ نہ بتی روشن ہو ئی اور نہ ہی سایہ باہر نکلا۔

چھت کے لیے سیڑھیاں باورچی خانے میں بنی تھیں، کہیں وہ ۔۔۔۔شاید میرے بے حرکت جسم میں کوئی جنبش نہیں ہوئی لیکن میری آنکھیں پاگل ہو گئی تھیں۔ اور صحن کی کھاٹوں سے ٹکرانے لگی تھیں۔ میری سماعت آوازوں کا تعاقب کر نے لگی تھی۔ ابا خراٹے لے رہے تھے، اماں کی سانسیں باہم الجھی ہوئی تھیں۔ ہوا کے جھکولوں کی سر سراہٹ تھی۔ کہیں دور کتے بھونک رہے تھے۔

دو دھیمے سے قہقہے سنتے ہی میری دھڑکن تیز ہو گئی۔ میں نے بمشکل کروٹ بدلی تھی۔ اب آسمان میرے مقابل تھا۔ چھوٹے بڑے تاروں سے اٹا آسمان، سنائی دینے والے قہقہوں نے میرے جسم پر بھی ستارے کھلا دیے تھے جس میں روشنی بھی تھی اور حرارت بھی۔ میں خود کو مسکرانے سے نہ روک سکی۔ میں نے آنکھیں پھیلا کر صحن کا جائزہ لیا۔ سب نیند میں غافل تھے۔ لیکن میری پور پور بیدار ہو گئی تھی۔ جی میں آیا پہرے دار بن جاؤں۔
ہوا کی سرگوشیوں میں لپٹی نسرین کی آواز گونجی اور میرا جسم کسی یخ بستہ جھیل میں اتر نے لگا۔

میری سماعت کسی شور سے اٹ گئی اور آنکھوں کو اندھیرے میں روشنی سی نظر آنے لگی۔ اس لمحے میں نے سوچا تھا کہ اس حرا مزادی کو بالوں سے پکڑکر سیڑھیوں سے گھسیٹتے ہو ئے نیچے لے آؤں اور چیخ چیخ کر اس کے لچھن سب کو دکھاؤں ۔ لیکن میں لیٹی رہی ۔ دیر تک ان کی آواز نہ آئی۔
میرا حلق سوکھ گیا تھا اور جسم جلتی ہو ئی لکڑی کی طرح چٹخنے لگا تھا۔

دو آوازوں کی بھنبھنا ہٹ سنائی دی۔ پھر مدہم قہقہے اور پھر سیڑھیاں اتر تے قدموں کی دھپ دھپ ۔وہ جب باورچی خانے سے نکل کر گھڑونچی کے پاس گئی تو اس کے تیز سانسوں کی آواز مجھے سنائی دی تھی۔ وہ پانی کے کٹورے غٹاغٹ چڑھاگئی تھی۔ پھر وہ کھاٹ پر آ بیٹھی اور میری طرف غور سے دیکھنے لگی۔

’’نسرین، پانی تو پلانا۔‘‘ میں بمشکل کہہ سکی تھی۔
شاید وہ خوف کے گڑھے میں گری جا رہی ہو، اسی لیے پانی کا کٹورا تھماتے ہو ئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
میں پانی پیتے ہی نڈھال ہو کر سو گئی تھی۔
یہ ان کی آخری ملاقات تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری یادداشت خراب ہونے لگی ہے۔ میں اصل واقعے کی جزئیات کو ذہن میں تازہ کر تی رہتی ہوں کہ وہ خوابوں سے گڈ مڈ نہ ہو جائیں۔ یہ عمل اذیت ناک ہے۔ سوچتے سوچتے اعصاب شل ہو جاتے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ ساری یادیں ذہن سے محو ہو جائیں گی۔ صرف خوابوں کے ہیولے رہ جائیں گے۔ شاید حقیقت اور خواب ایک ہو جائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نصیر احمد ہمارے گاؤں کے مولوی صاحب کا بیٹا تھا۔ دسویں پاس کر کے وہ قصبے کے مدرسے میں عالم کو رس کر رہا تھا۔ وہ چھٹی کا دن گزارنے ہمارے پاس آجاتا تھا۔ ابا کو نصیر احمد سے ایک انسیت تھی۔ وہ پہروں اس کے ساتھ مسلم فاتحین کا ذکر کر تے رہتے تھے ۔ شرعی مسائل پر بھی گفتگو رہتی تھی۔ وہ گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی کر دیتا تھا۔ مثلاً ٹال سے لکڑیاں لانا، چکی سے آٹا پسوانا وغیرہ ۔ گھر والے اس کے اتنے عادی ہو گئے تھے کہ بہت سے کام اس کی آمد تک ادھورے پڑے رہتے تھے۔ ابا کا حقہ گرم کر تے کرتے اسے بھی یہ لت پڑگئی تھی۔ وہ بہت جھینپوں تھا۔ اپنی نامکمل داڑھی کی وجہ سے مسخرہ نظر آتا تھا۔ ہر وقت سر پر ٹوپی اور کندھے پر رومال دھرا رہتا تھا۔ جیسے ابھی مسجد سے نماز پڑھ کے آیا ہو۔

عالم بنتے ہی وہ قصبہ چھوڑ گیا تھا ۔اسے دور دراز کسی قصبے میں امام کی نوکری مل گئی تھی۔ یہ شاید نسرین کی شادی سے دو مہینے پہلے کی بات ہے۔

شام کا وقت ہے۔ میں گلی کی آوازیں سن رہی ہوں ۔ صائمہ نئے کپڑے پہن کر صحن میں شور مچارہی ہے۔
وہ میرے پاس آتی ہے ۔ میرے بالو ں میں ہاتھ پھیر تے ہو ئے کہتی ہے ’’امی، آپ بھی چلیں نا،بہت مزہ آئے گا، ڈھول بجائیں گے، گیت گائیں گے اور مٹھائی کھائیں گے۔‘‘

میں سوچنے لگتی ہوں کہ یہ کوئی خواب تو نہیں ہے نسرین بھی ایسی باتیں کرتی تھی۔
Image: Mehwish Iqbal

Categories
فکشن

ایک اور مکان (رفاقت حیات)

نیند کی چڑیا کا چپ چاپ اڑ جانا اس کے لیے کم اذیت ناک نہ تھا۔ لیکن یہ روز نہیں ہو تا تھا۔ کیونکہ وہ چڑیا کو تو کسی بھی وقت کسی بھی جگہ پکڑ سکتا تھا۔ مثلاً بس میں سفر کر تے ہو ئے یا گھر میں اخبار پڑھتے ہو ئے۔ بس ذرا آنکھ میچنے کی دیر تھی۔ لیکن اب جسم کے اعضاء کی خستگی کے سبب وہ اس کی پکڑ سے نکلنے لگی تھی۔ وہ خود کو سمجھا تا رہتا تھا کہ اس کی وجہ شام کے سائے کی طرح ڈھلتی ہوئی عمر نہیں ہے۔ جیسا کہ اس کی بیوی اور بچوں کا خیال تھا۔ بلکہ وہ منتشر الخیالی ہے، کسی بھی فرد سے، جس کا اظہارنا ممکن تھا۔ ہلکی پھلکی ٹرنکو لائزر کا ستعمال بھی کارگر نہ ہو سکا تھا۔ ہائی پوٹینسی کی گولیاں لینے سے وہ کترا تا تھا کہ کہیں عادی نہ ہو جائے۔

آج پھر ایسا ہو اتھا۔ لیکن آج ٹوٹتی ہوئی نیند کے ساتھ ٹوٹے پھوٹے خوابوں کا سلسلہ بھی تھا، وہ جسے ایک ہی خواب کا تسلسل سمجھنے لگتا تھا۔ اس گورکھ دھندے میں اسے بہت کچھ دکھائی دیا تھا۔ مسخ شدہ چہرے، جو آشنا لگتے تھے۔ مبہم اور نامانو س لہجے، جن میں اپنا ئیت محسوس ہو تی تھی، بے نام گلیاں، ویران بازار، شکستہ عمارتیں اور گم صم لوگ، سارے خواب ریت پر لکیروں کی طرح تھے، جو ہوش مندی کی ایک لہر کو بھی سہار نہیں سکے تھے۔

وہ رشک بھری نظروں سے برابر والی کھاٹ کو دیکھنے لگتا تھا۔ جس پر دھیمی سانسوں کی تان میں کھوئی، اس کی بیوی سورہی تھی پہلے ایسے موقعوں پروہ معمولی حسد کے زیرِ اثر کھاٹ سے اتر جاتا تھا اور اندھیرے میں سلیپر ڈھونٹتے ہو ئے پاؤں کسی چیز سے ٹکرا دیتا تھا، خفیف سے شور سے بھی اس کی بیوی جاگ اٹھتی تھی اور جاگتے ہی صبح سے شام تک کے کاموں کی فہرست سنانا شروع کر دیتی تھی۔ یا کسی خواب کے ٹوٹنے پر افسوس کر نے لگتی تھی اور صبح کو اپنی نیند کی غارت گری کی داستان کئی مرتبہ دوہراتی تھی۔ نادانستہ ہو نے والی غلطی کو وہ کئی بار دُہرا چکا تھا۔

اس طرح تنہائی بھی مٹ جاتی تھی اور ایک لمحاتی تسکین بھی ملتی تھی۔ وہ ایسی غلطیوں کو دوہرا نے سے باز نہ رہتا مگر تکرار سے اکتا گیا تھا۔
غسل خانے کے فرش پر پانی گر نے کی آواز سن کر وہ چونکا تو، مگر آنکھ نہیں کھولی۔ اس کی بوجھل سماعت نے اس آواز کو برسات کی ٹپ ٹپ سے ملا دیا۔ اس کی ہڈیوں میں ٹھنڈکی لہر دوڑ گئی۔ اس نے کھیس کو سر پر تان لیا اور خوامخواہ مسکرانے لگا۔ شاید تخیل کے بوسیدہ اڑن کھٹو لے پر وہ سر مئی بادلوں کے پیچھے بھاگنے لگا تھا۔ ہلکی ہلکی بونداباندی لطف دے رہی تھی۔

دروازہ کھلنے کی چرچراہٹ سے وہ بڑبڑا گیا۔اس نے کھیس اتار کر دیکھا تو اس کی بیوی کپڑے درست کر تی غسل خانے سے نکل رہی تھی۔ وہ غلط فہمی پر مسکرا یا لیکن بولا کچھ نہیں۔ کھڑکی کی طرف منہ کیے لیٹا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ اب اس کی بیوی نماز پڑھے گی۔شاید وہ یہ بھی سوچ رہی ہو کہ میں اٹھ کر اس کے لیے چائے بنا لاؤں گا۔وہ خود کو ملامت کر نے لگا کہ میں نے اس کی عادتیں خراب کر دی ہیں ورنہ برسوں تک یہ خیال اسے خواب میں بھی نہ سوجھا ہو گا۔کچھ بھی ہوجائے چائے وہی بنائے گی۔ اس نے آخر ی فیصلہ سنایا۔ لیکن وہ خائف بھی تھا کہ نماز پڑھنے کے بعد اگر وہ کمر سیدھی کر نے کے لیے جاء نماز پر لیٹ گئی اور چائے بنانے کی فرمائش کر ڈالی تو کیا ہو گا۔ اس نے خود کو سمجھا یا کہ اسے میرے جاگنے کا پتہ نہیں چلا اسی لیے مجھ پر ایک نظر بھی نہیں ڈالی۔

جاء نماز سمیٹنے کی آواز سن کر اس نے سکون کا سانس بھرا،باورچی خانے میں برتنوں کا شور سن کر وہ سمجھ گیا کہ اس کی بیوی کو اس کے جاگنے کی خبر ہو گئی ہے۔ وہ کروٹ لے کر سیدھالیٹ گیا۔بستر چھوڑنے سے پہلے وہ چند لمبے سانس لینا چاہتا تھا۔ اس نے جسم کو سانسوں کے فطری بہاؤ پر چھوڑ دیا۔

وہ جانتا تھا کہ آج کا دن گھر پرگزارنا ہے۔ وہ چاہے تو دیر تک آرام کر سکتا ہے۔ لیکن وہ کل رات والی بات نہیں بھولا تھا۔ جب آرام کے دن کا اعلان کر تے ہی منجھلا بیٹا عارف اسے گھورنے لگا تھا۔ اس کی ضعیف سماعت نے چھوٹے بیٹے کی بڑبڑاہٹ بھی سن لی تھی۔

جبکہ بڑے والے کی لاتعلقی پر وہ مسرور ہوا تھا۔ مگر اب وہ سوچ رہا تھا کہ ناصر کو اس کی حمایت میں کچھ تو کہنا چاہئے تھا،ہفتے میں دو دن کی چھٹی اس کی عمر کا تقاضہ ہے، یوں بھی کاروبار چل نکلا ہے، وہ بچے تو نہیں ہیں۔ اگلے ہی لمحے وہ ایک شدید احساس کے زیر اثر سوچنے لگا کہ میں ان بدبختو ں کا باپ ہوں، اپنی مرضی سے جو چاہے کر سکتا ہوں، آئندہ جب جی میں آئے گا چھٹی کر لوں گا۔

وہ اپنے خون میں اس فیصلے کی حرارت کو محسوس کر رہا تھا لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کہ جب اس کے بیٹے نیند سے اٹھیں تو وہ بستر پر لیٹا ہو ا نظر آئے۔
وہ غسل خانے سے نکل کر برآمدے میں گھر کے اکلوتے واش بیسن تک گیا۔ اپنی بیوی کی طرح وہ غسل خانے کے نل سے ہاتھ منہ نہیں دھوتا تھا جب وہ اچھی طرح منہ دھو چکا تو اس نے دیکھا کہ واش بیسن جھاگ آلود پانی سے بھرگیا ہے۔ وہ گھر کے افراد کو کوسنے لگا۔ اسی لمحے باورچی خانے سے بھی ایک بڑ بڑاہٹ سنائی دی اس نے جھاڑو کے تنکوں کی مدد سے سوراخوں کو صاف کیا پھر ہاتھ دھوتے ہو ئے شیشے میں چہرے کو غور سے دیکھنے لگا۔ جو تھوڑی سی جھر یو ں کے علاوہ بڑھاپے کی ظاہری کی علامتوں سے پاک تھا۔ وہ نیم سفید بالوں کو دیکھتے ہو ئے سوچنے لگا کہ کالا کولا استعمال کیے تین دن گزر گئے۔

وہ کھاٹ پر تکیوں سے ٹیک لگائے دیوار پر بنے نقوش کو گھوررہا تھا کہ اس کی بیوی ایک ہاتھ میں کپ اور دوسرے میں چائے سے بھرا مٹی کا کٹورا تھامے داخل ہو ئی۔ کپ لیتے ہی وہ حریصانہ چسکیاں بھر نے لگا۔ جبکہ اس کی بیوی پائیتی بیٹھ کر سکون سے چائے پینے لگی۔ کمرے کی خاموشی پر چائے پینے کی آوازیں جر ح کر نے لگیں۔

وہ پہلی بار اپنی بیوی پر نگاہ ڈالتے ہو ئے بولا’’تم مٹی کے کٹورے میں کیوں چائے پیتی ہو، گھر میں پیالیاں کس لیے ہیں‘‘۔
وہ ایک سڑکی لگاتے ہو ئے بولی۔ ’’چائے جلدی ٹھنڈی ہو جاتی ہے پھر باپ دادا کے علاقے سے تعلق بھی جڑ ارہتا ہے‘‘۔
ان کے خاموش ہو تے ہی سڑکی بھر نے کی آوازیں مکالمہ کر نے لگیں۔
’’آج نیند نہیں آئی، جسم میں درد ہے، اور آنکھیں بھی جل رہی ہیں‘‘۔
’’اچھا ہوا تم نے میری نیند خراب نہیں کی‘‘وہ معصومیت سے بولی۔
اس نے کپ کو فرش پر رکھ دیا، پھر تکیے کے نیچے سگریٹ کے پیکٹ کو ٹٹولتے ہو ئے کہنے لگا ’’ایک ہی بار پیشاب کے لیے کھاٹ سے اتر اتھا پھر کروٹیں ہی بدلتا رہا‘‘۔
’’رات پیشاب نے مجھے نہیں جگایا ورنہ روز دو ایک بار نیند خراب ہوتی ہے ‘‘۔ وہ مسکراتے ہو ئے بولی۔
اس نے دن کا پہلا سگریٹ سلگایا۔ کش لگا تے ہی کھانسنے لگا۔ بلغم کا لچھا فرش پر اچھا لتے ہو ئے اس نے شور کو سنبھالا پھر کھنکار کر گلہ صاف کیا تاکہ با آسانی گفتگو کر سکے۔
اس کی بیوی نے ناک پر دوپٹہ رکھتے ہو ئے برا سامنہ بنایا ’’روز فنائل کے پانی سے رگڑ کر پوچا لگا تی ہوں۔ پھر بھی کمرے سے کبھی بو نہیں جاتی فرش سے داغ بھی نہیں اترتے‘‘۔
وہ سگریٹ پینے میں اتنا منہمک تھا کہ جیسے یہ باتیں کسی اور سے کی جا رہی ہوں۔

وہ دھوتی سے منہ صاف کر تے ہو ئے بولا۔ ’’رات بہت خواب دیکھے۔ نامکمل، ٹوٹوں کی شکل میں، ابھی تک آنکھوں میں چھبن ہو رہی ہے۔ ایک یاد ہے، باقی بھول گیا۔بہت ڈرا ؤ نا خواب تھا، میں سمجھا کہ سچ مچ ایسا ہو گیا ‘‘وہ خواب کی جزئیا ت کو ذہن میں لانے کے لیے خاموش ہو گیا۔
’’تم تو کہتے تھے کہ خوابوں کی حقیقت نہیں ہو تی۔‘‘وہ اس کی بات دوہراتے ہو ئے بولی۔

وہ اسے سمجھا نے لگا کہ ضروری نہیں۔ اس خواب کا بھی حقیقت سے کوئی تعلق ہو۔ یہ لاشعور کی کارفرمائی بھی ہو سکتی ہے۔ جو دن بھر کے واقعات کو جادوئی شکل دے کر شعور میں بھیج دیتا ہے۔ خواب کی ماہیت سمجھاتے ہو ئے اس نے محسوس کیا کہ وہ یہ باتیں نہیں سمجھ سکتی اور وہ اپنا خواب سنانے لگا۔ ’’ایک تنگ سی گلی تھی۔ مکان پرانے اور آگے کو جھکے ہو ئے تھے۔ شاید رات کا وقت تھا، نہیں شام تھی۔ ہا ں، آسمان بادلوں سے ڈھکا ہو اتھا اور بارش ہو رہی تھی، ایک قدیم طرز کے مکان کے آگے سامان بکھرا تھا۔ بڑے بڑے صندوق، پیٹیاں، الماریاں اور کر سیاں وغیرہ۔اس کے نزدیک ہی کچھ آدمی کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ ان کی زبان سمجھ نہیں آرہی تھی۔ ان کے لہجوں اور شکلوں سے نحوست ٹپکتی تھی۔ جیسے شیطان کے بیٹے ہوں‘‘۔

ایک لحظے کے لیے وہ سوچ میں پڑ گیا، بڑبڑانے لگا۔’’میں بھی تو تھا۔ میں کہا ں تھا، ہاں، گلی میں ایک گدھا گاڑی کھڑی تھی،میں اس پر سامان لاد رہا تھا۔ اسی لیے میری کمر میں درد ہو رہا ہے۔ شاید بر سات کا پانی، نہیں، پسینا پو رے جسم سے ٹپک رہا تھا۔ اچانک ایک عورت کے بین فضا میں گونجنے لگے۔ بہت غمناک آواز تھی وہ، میں نے شک بھری نظروں سے آدمیوں کی طرف دیکھا، وہ غائب ہو چکے تھے۔ میں خوف زدہ ہو کر گلی کے آخرتک دوڑ تا چلا گیا۔ پھر لوٹ کر آیا اور مکان میں گھس گیا۔ وہ مکان کسی اور کا تھا، اندر گھپ اندھیرا تھا اور چمگادڑوں کے پروں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ میں باہر نکل آیا۔مجھے سامان کسی جگہ پہچانے کی جلدی تھی اور سامان بہت زیادہ تھا۔ میں نے ایک صندوق اٹھایا بہ مشکل گدھا گاڑی پر رکھا کہ عورت کی سسکیاں دو بارہ سنائی دیں۔ وہ تمہاری آواز تھی، میں سہم کر مکان کی طرف دیکھنے لگا۔ اس وقت مجھے محسوس ہو اکہ گلی انسانی آوازوں سے بھر گئی ہے۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو مکانوں کی چھتیں اور بالکونیاں مردوزن سے بھری ہو ئی تھیں۔ میں دوڑ کر مکان میں گھسا۔ ایک عورت سیڑھیوں پر بیٹھی رورہی تھی، میں نے اس کی طرف قدم بڑھا یا کہ مکان کی چھت اور دیواریں گر گئیں، مجھے لگا کہ میں۔۔۔۔۔‘‘

اس کی بیوی عدم دل چسپی سے خواب سنتی رہی تھی، وہ جمائی لیتے ہو ئے بولی۔ ’’یہ کیسا خواب تھا، اس کا تو سر پیر ہی نہیں۔ میرے خواب تو ایسے نہیں ہوتے ‘‘۔ وہ اپنے پرانے خواب سنا نے لگی۔جن میں اس کی روح اپنے پرکھوں سے ملاقاتیں کر چکی تھی، وہ اکثر شوہر کو اس کے مرحوم فوجی باپ کے پیغام سناتی رہتی تھی۔ جب وہ اٹھ کر جانے لگی تو وہ بولا۔’’آج کوئی کام نہیں کروں گا مجھے آرام کی ضرورت ہے‘‘۔
اس نے بے ساختہ ہنستے ہو ئے کہا۔ ’’تم نے کبھی میرا کوئی کام نہیں کیا۔ ہاں مسز خورشید سے ملنے تو جانا ہی پڑے گا‘‘۔
مسلسل تیسر ا سگریٹ سلگاتے ہوئے اسے اخبار کی طلب محسوس ہو ئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب وہ اخبار خرید کر لوٹا تو کھلی ہوئی کھڑکیوں سے کمروں میں جھانکنے لگا، جہاں اس کے بیٹے سو رہے تھے۔ اخبار پڑھتے ہوئے وہ گھرکے دوسرے حصے میں گونجنے والی آوازوں کی ٹوہ میں لگا ہوا تھا۔ کسی کمرے کا دروازہ کھلنے اور پھر واش بیسن پر پانی بہنے کی آواز یں سن کر وہ پہلو بدلنے لگا۔ اب تک پیٹ کی گیسوں کا اخراج فطری طریقے سے ہو رہا تھا۔ لیکن اب اخبار پڑھتے ہوئے جھک کر کچھ زور لگا نے کے بعد مشکل آسان ہو پائی تھی۔
کچھ دیر بعد وہ جان گیا تھا کہ دوبیٹے نہادھو کر تیار ہو چکے ہیں۔ جب کہ بڑا لڑکا ابھی چائے پی رہا ہو گا۔باہر نکلنے سے پہلے وہ کمرے میں ٹہلتا رہا۔ تین چار بیٹھکیں بھی نکالیں۔ جس سے ہڈیاں چٹخنے لگیں۔ پھر وہ پیالی تھامے باورچی خانے کی طرف گیا۔ بیٹوں نے صبح کا سلام کیا۔ باورچی خانے میں اس کی بیوی بگڑنے لگی’’جب تک چائے کا دیگڑاختم نہ ہو جائے تمہیں چین نہیں آتا‘‘۔

وہ خوشامد کرتے ہوئے مسکرایا۔’’پرانی عادت جو ہے‘‘۔وہ جانتا تھا کہ بیٹوں کی موجودگی میں وہ اس کا مذاق اڑانے سے نہیں چوکتی۔ چائے کی تیسری پیالی کا آخری گھونٹ بھر نے کے بعد وہ اخبار کو بیٹوں کے پاس لے گیا۔ اخبار کے صفحات آپس میں تقسیم کر کے وہ مطالعہ کر نے لگے۔ وہ گفتگو کے لیے کوئی موضوع ڈھونڈرہا تھا۔

اتنے میں عار ف بڑبڑایا۔ ’’نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو گیا ‘‘۔
’’ہاں دیکھو، کس جماعت کی حکومت بنتی ہے۔‘‘اس نے موقع کا درست استعمال کیا۔
چھوٹے بیٹے نے رائے زنی کی۔’’حکومت جس کی بھی ہو، نظام نہیں بدلے گا‘‘۔
’’تھوڑی بہت تبدیلی تو آئے گی۔‘‘

عارف نے قہقہہ لگا تے ہو ئے کہا۔’’ہاں لوٹ مار کے طریقے ضرور بدل جائیں گے‘‘۔
بڑا بیٹا ناصر پہلی بار گو یا ہوا۔’’آپ ہر مرتبہ امید یں باندھ لیتے ہیں۔ جب کہ آپ کے پاس ساٹھ سال کا تجر بہ ہے‘‘۔
’’اس لیے کہ مایوسی کفر ہے‘‘۔
جاتے ہو ئے تینوں نے اسے تاکید کی کہ مسز خورشید کے پاس ضرور جائے اور ان سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کرے۔کچھ دیر کمرے کی تنہائی میں آہیں بھر نے کے بعد وہ سو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید سونے کی خواہش میں کروٹیں لے کر وہ جاگ اٹھا۔ کمرے کی تاریکی سے اس نے وقت کا اندازہ لگا نے کی کوشش کی۔ جب اس نے بتی جلا کر وقت کو چپ چاپ دھکیلتے گھڑیال پر نگا ہ ڈالی تو بڑبڑایا ’’ اوہ چار بج گئے‘‘۔

آئینے کے سامنے سر کے بچے کچھے بال سنوار تے ہو ئے اسے دو بار ہ کالا کو لا یاد آگیا۔ اب وقت گزر چکا تھا۔ رنگائی کا یہ کام اسے اگلی فرصت تک ملتوی کرنا پڑا۔ لیکن یہ بھی اس کے ذہن میں تھا کہ بالوں کی حقیقی رنگت کی رونمائی مسز خورشید والے معاملے پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
لیکن افسوس کر نے کی گھڑیاں بیت گئی تھیں اور ملاقات کو ٹالنا بھی ممکن نہ تھا۔

چند روز پہلے وہ ناٹے قد کی بد طینت خاتون اپنے دو ٹوک فیصلے سے آگاہ کر گئی تھی، وہ کچھ مہینوں سے اس کے بارے میں کئی اشارے دے چکی تھی۔ انہوں نے پرانی عادت جان کر جنہیں کوئی اہمیت نہ دی تھی۔ وہ اپنے بیٹوں سے بہت خفا تھا کہ چھوٹی موٹی گتھیوں کو خود کیوں نہیں سلجھا تے۔
کپڑے بدل کر وہ بر آمدے میں آیا تو اس کی بیوی جاء نماز سمیٹ رہی تھی۔ ’’آپ کا آرام کا دن ختم ہو گیا یا نہیں۔ دودھ ختم ہو گیا ہے اور مسز خورشید کے ہاں بھی جانا ہے۔‘‘اس کی بیوی نے دل کی بھڑاس دو تین جملوں میں ہی نکال لی تھی۔

گر چہ وہ گھر کے سونے پن کی عادی ہو گئی تھی۔ لیکن آج اس کی موجودگی میں بھی اسے یہ صعوبت سہنا پڑی تھی۔ وہ اپنی مصروفیت کے دوران بار بار کمرے میں جھانکتی رہی تھی۔ ہر مرتبہ وہ گہری نیند میں ڈوبا نظر آیا تھا۔ وہ باتیں کر نے کی تمنا ئی تھی۔ گھر کی صفائی کے بعد اس کا غصہ بے قابو ہو نے لگا تھا۔ اس نے سوچا تھا کہ جھاڑو کے ساتھ اس نکمے پر پل پڑے۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس خیال کی بیہودگی پر خود کو کو سنے لگی تھی۔ اس نے جن کاموں کی فہرست بنائی تھی، کچھ ادھورے رہ گئے تھے۔ آج گھر کی خاموش چیزوں کے درمیان اپنے جبڑوں کی آوازیں سنتے ہو ئے اس نے دو پہر کا کھانا کھا یا تھا۔

دودھ کے لیے پیسے مانگتے ہو ئے اس نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا تھا، رو پے گنتے ہو ئے اس نے سگریٹ کے لیے بھی رقم کا تقاضہ کیا تھا، جو معمولی سی حجت کے بعد دے دی گئی تھی۔
شام کی چائے کی لذت کے ساتھ دو پر لطف سگریٹ کھینچنے کے بعد وہ خود کو مسز خورشید کے پاس جانے پر آمادہ کر سکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسز خورشید نے ٹیڑھی بھینگی آنکھیں مچکاتے ہوئے کینہ توز مسکراہٹ سے اس کا استقبال کیا۔ جب اس نے ڈرائنگ روم کی اشیاء پر نگاہ دوڑائی تو کسی تبدیلی کو محسوس کرنے لگا۔

صوفے پر بیٹھے ہو ئے خوش دلی سے بولا۔’’کمرے میں کوئی چیز بدلی ہو ئی ہے‘‘۔مسز خورشیداٹھلا تے ہو ئے بولی۔’’ہاں پرانا صوفہ بیچ دیا ہے۔ ‘‘
’’میں جب بھی آتا ہوں، کوئی نہ کوئی شے بدل جا تی ہے۔مصروفیت کا بہا نہ تو چاہیے نا‘‘۔ اس کی چہکار میں کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔
’’کرنے کے لیے میرے پاس اور بھی بہت کچھ ہے؟‘‘

اس نے مسز خورشید کے لہجے کی تیز ابیت کو نظر انداز کر دیا تھا، وہ اس کی وجہ بھی جانتا تھا۔ اس نے ہمیشہ پیش رفت سے گریز کیا تھا، اسی لیے وہ ان کے پیچھے پڑگئی تھی، اس کی جمالیاتی حس کے لیے مسز خورشید کو قبول کر نا ممکن نہیں تھا، اسی لیے وہ نظریں جھکا کر باتیں کر رہا تھا جب کہ وہ ٹھنک کر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھی تھی۔ اس نے سرخ پھولوں والے کپڑے پہنے ہو ئے تھے، وہ اپنی کلائیوں میں سونے کو چوڑیوں کی بجاتی، انگلیوں میں لعل و زمرد کی انگوٹھیوں کو گھماتی، اسے گھوررہی تھی۔ وہ چاہتا تو معاملہ سلجھ سکتا تھا، لیکن اس کے تخیل میں عورت کے بڑھاپے کی ایک مثالی تصویر موجود تھی۔ مسز خورشید جس سے کوئی لگا نہیں کھاتی تھی۔

اس نے بچوں کا حال احوال دریافت کیا۔ خلیج میں مقیم ا س کے شوہر کے متعلق پو چھا۔

اب ان کے بیچ خاموشی کے وقفے حائل ہونے لگے تھے۔ ذہنی مشقت کے باوجود اسے کوئی موضوع نہیں مل رہا تھا۔ وہ اصل بات کرنا چاہتا تھا، مگر اس کی خواہش تھی کہ مہمان نوازی کے تقاضے پو رے ہو جائیں۔ کچھ دیر بعد اسے احساس ہو اکہ مہمان نوازی بھی تبدیلی کی زد میں آگئی ہے۔ اس نے سگریٹ نکال کر سلگا لیا۔

کھنکارتے ہو ئے اس نے بات شروع کی۔ ’’کسی مہینے ناغہ نہیں کیا۔ کر ایہ برابر پہنچاتے رہے۔ ’’ جہاں پانچ سال گزر گئے۔ کچھ سال اور گزر نے دیں‘‘۔
مسز خورشید مصنوعی آہ بھر تے ہو ئے بولی ’’مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔ یوں بھی وہ مکان ہمارے کسی کام کا نہیں رہا‘‘۔

’’ہمارے لیے تو ہے۔آپ کچھ عرصہ ٹھہر جاتیں، ہم ہی خریدار بن جاتے‘‘۔
’’تین سال سے آپ یہی کہہ رہے ہیں‘‘۔
جب اس کی بیوی کا مشورہ کارآمد نہیں ہو اتو اسے ناصر کی بات یاد آ گئی۔ ’’ہم کرایہ بڑھا دیتے ہیں‘‘۔
’’کرائے کی معمولی رقم سے مسئلہ حل نہیں ہو گا ‘‘۔ مسز خورشید قطعیت سے بولی۔
وہ اپنے پژ مردہ چاند پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ملول نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیشانی سے پسینا پونچھتا ہو اجب وہ گھر میں داخل ہوا تو اس کی بیوی بیٹوں کی تواضع میں مصروف تھی۔ نعیم خفگی سے لائٹ ریفر یشمنٹ کا تقاضہ کر رہا تھا۔ ’’دن بھر کے تھکے ہارے لوٹتے ہیں، چائے کے ساتھ کچھ اور بھی ہو ناچاہیے‘‘۔

اس سے پہلے کہ اس کی بیوی کام کاج کی فہرست کا راگ الاپنا شروع کر تی، وہ ان کے درمیان جا بیٹھا۔ بیٹے سوالیہ نظروں سے اسے گھورنے لگے۔ اس نے کسی بھی سوال سے پہلے ہی بتا دیا کہ مکان خالی کرنا ہو گا۔

ایک چھوڑی ہوئی عادت کو دوہراتے ہو ئے اس نے نہار منہ سگریٹ سلگا لیا۔ کش لیتے ہی اسے بے فکری کے دن یاد آ گئے۔ جب وہ آنکھ کھلتے ہی سگریٹ کا پیکٹ ڈھونڈنے لگتا تھا۔ ابلتے ہو ئے پانی کی سر سراہٹ نے اسے ماضی کے دھویں سے نکالا۔ گر چہ وہ جانتا تھا کہ کون سی شے کہاں رکھی ہے۔ لیکن ہڑبڑاہٹ میں وہ مصالحوں کے ڈبے ٹٹولنے لگا۔

اس نے جاء نماز پر لیٹی اپنی بیوی کو چائے کی پیالی پیش کی، کمرے کی مدھم تاریکی میں ہر شے سائے جیسی لگتی تھی۔ وہ کسی جلد بازی میں چائے کی لمبی سڑکیاں بھرنے لگا۔جب اس نے اپنی بیوی کو سر جھکائے خاموشی سے چائے پیتے دیکھا تو نہ جانے کیوں دل مسوس کے رہ گیا۔ وہ کرتا پہن کر گھر سے نکل آیا۔ وہ اخبار خریدنا چاہتا تھا۔ گلی میں کندھے ہلا کر چلتے ہوئے اخبار کا تصور اس کے دل میں گرم جوشی پیدا کر رہا تھا۔ آج اس نے نیوز اسٹال کی بھیڑ میں شامل ہو کر سرخیاں پڑھیں۔ اخبار خریدتے ہی اندرونی صفحوں کو کھول کر ایک فہرست کو دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور جسم میں حرارت دوڑ گئی۔ اخبار بغل میں دبائے وہ ایک ہوٹل میں جا بیٹھا۔

طمطراق سے چائے کا آرڈر دے کر اس نے وہی فہرست نکال لی۔ جیبیں ٹٹولتے ہوئے اسے کسی شے کی گم شدگی کا احساس ہوا۔ پہلے والی مسرت مٹ گئی۔ اس غارت گری سے نجات پانے کے لیے اس نے خبروں میں پناہ ڈھونڈی مگر توجہ منتشر تھی۔

جب وہ گھر پہنچا تو اس کی بیوی باورچی خانے میں مصروف تھی۔ اس نے کمرے کی بتی جلائی۔ پھر کچھ سوچنے لگا۔ وہ بھول گیا تھا کہ لکی نمبر والی پرچی کہاں رکھی تھی۔ اسے ہر مہینے پرچی چھپانے کے لیے نئی جگہ کی تلاش کرنی پڑتی تھی۔ اس نے بریف کیس کھولا۔ اس کے خانوں میں کاغذات ٹٹولتے ہو ئے پرچی مل گئی۔ کانپتے ہاتھوں سے اس نے نمبروں کو غور سے پڑھا، اس کے ساتھ یہی ہوتا تھا۔ نمبروں کو فہرست سے ملاتے ہوئے اس کی سانسیں پھول جاتی تھیں۔ ہند سے ناچنے لگتے تھے۔ سگریٹ پینے سے بھی صورت حال بہتر نہ ہوتی تھی۔

پہلے کی طرح آج بھی اس نے اخبار کو کھاٹ پر پٹخ دیا اور تکلیف دہ سانس بھرنے لگا۔

وہ ناشتہ کرتے ہوئے بیٹوں سے کاروباری گفتگو کر رہا تھا کہ اس کی بیوی نمبر والی پرچی کو فضا میں لہراتی اس طرح کمرے میں داخل ہوئی، جیسے گم شدہ قیمتی چیز مل گئی ہو۔ اسے اپنی بیوی پر غصہ آیا مگر خاموش رہا۔ اس نے بیٹوں کی سنجیدگی سے موڈ کا پتا چلا لیا تھا۔

لکی نمبروں کی خریداری اس کا قدیم مشغلہ تھا، وہ اچھے وقتوں میں کسی جواری کی طرح ان کا عادی ہو گیا تھا۔ اس کے گھر والے بھی اس مشغلے میں شریک ہو تے تھے۔ اس کے بیٹے تو نوٹ بک میں نمبر نوٹ کر لیتے تھے اور اسکول میں دوستوں کو فخر سے نمبروں کے بارے میں بتاتے تھے۔ جب کہ اس کی بیوی بھی نمبروں کو یاد کر تی رہتی تھی۔وہ سب لوگ پرائز بانڈ کی فہرست کی اشاعت کا انتظار کر تے تھے۔ شاید یہ ان کی اجتماعی بد نصیبی تھی کہ کبھی کوئی بڑا انعام نہیں نکلا تھا۔ ہاں ایک مرتبہ وال کلاک ضرور نکلا تھا۔

کچھ سالوں سے اس کی بیوی اور بچوں نے یہ کہتے ہوئے کہ نمبروں کی خریداری رقم کا زیاں ہے، اسے سختی اور نرمی سے منع کر دیا تھا۔ انہیں پرائز بانڈ کی خریداری پرکوئی اعتراض نہ تھا۔ وہ ایک مدت تک بڑے انعام کی اصل رقم کے پانچ گنا ہو نے کا خواب دیکھتے رہے تھے۔ جو لاکھوں میں بنتی تھی۔
خوابوں کی عدم تکمیل سے پھیلنے والے زہر نے انہیں اکسایا کہ وہ اس خطرناک عمل سے باز رکھیں، کئی بار کی روک ٹوک سے اس نے خوابوں کی خریداری کو پوشیدہ رکھنا شروع کر دیا تھا۔

بیوی کے ہاتھ میں لہراتی پرچی نے اس کے خوابوں کی دنیا کو پامال کر دیا تھا۔نہ چاہتے ہو ئے بھی اس نے اپنے عہد کو دوہرایا اور حقیقت سے تعلق جوڑنے کی قسم کھائی۔ وہ جانتا تھا کہ پرچی کی طرح اس کے خواب بھی کوڑے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔

شام کو اس نے اپنے دوست شفیع محمد سے ملنے کی خواہش کو محسوس کیا۔ وہ ٹوٹی پھوٹی گردوغبار سے اٹی سڑک کے کنارے ایک چھوٹے سے ہوٹل کا مالک تھا۔ جہاں صبح سے شام تک پرانی کرسی پر زنگ آلود اسٹیل کی عینک لگائے اخبار پڑھتا رہتا تھا۔

شفیع محمد نے کاؤنٹر ٹیبل پر اخبار پھیلا تے ہوئے اپنے دوست کو افسردہ دیکھا۔ پھر ہوٹل کے چولہے پر جھکے آدمی کو چائے کا آرڈر دیا۔

’’سیٹھوں کا ستیا ناس ہو۔ ملک برباد کر دیا ‘‘۔

وہ اس کا اشارہ سمجھ گیا۔ اکتاہٹ سے بولا۔ ’’کیوں پریشان ہوتے ہو، تم نے برسوں سے نمبر نہیں خریدے‘‘۔
وہ پیٹ کے زور پر ہنسا۔ ’’میں عقل مند ہوں۔ اس لیے ادھار اینٹھ لیتا ہوں۔ جب نمبر نہیں لگتا تو ڈانٹ کے بھگا دیتا ہوں‘‘۔
وہ گندی پیالی میں سیاہ چائے دیکھ کربولا ’’تمہارے ہوٹل پر کبھی اچھی چائے نہیں ملتی۔ـ‘‘

وہ نو بجے تک وہاں بیٹھا رہا۔ جب شفیع محمد نے اپنے خوابوں کا ذکر چھیڑا تو اس نے بھی دل چسپی ظاہر کی۔ وہ ایک دوسرے کو یقین دلانے لگے کہ ان کی قسمت بڑ بڑاکر اٹھنے والی ہے۔ وہ دن قریب ہے۔ جب دونوں دوست ٹوپیاں پہنے، کندھوں پر تھیلے لٹکائے، ڈھیلی ڈھالی چڈیاں پہنے، دنیا کی سیر کو جائیں گے۔ملکوں ملکوں آوارہ گردی کریں گے۔ شفیع محمد بہت کڑھتا تھا کہ یہاں بڑھاپے کی زندگی میں کوئی دل چسپی نہیں۔ خدا حافظ کہنے سے قبل ا س نے شفیع محمد سے کرائے کا مکان ڈھونڈنے کے لیے کہا۔

وہ جانتا تھا کہ رات نیند کو پانادشوار ہو گا۔اس نے میڈیکل اسٹور سے گولی خریدلی۔ جس کے استعمال کے باوجود دیر تک کروٹیں لیتا رہا۔ ا س کا جسم شل تھا اور سر دکھ رہا تھا۔ دروازے کی درزوں سے جھانکتی روشنی کو دیر تک گھورنے کے بعد وہ کھاٹ سے اترا۔
وہ دبے پاؤں چلتا بیٹے کے کمرے میں داخل ہوا۔ ناصر نے چونک کر کتاب بند کر دی۔
’’آج پھر نیند نہیں آ رہی ؟‘‘اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر ناصر نے سوال کیا۔
’’گولی بھی کھائی ہے۔‘‘وہ سگریٹ سلگاتے ہو ئے بولا۔
’’سگریٹ زیادہ پینے لگے ہیں۔‘‘اس نے شکایت کی۔
’’سگریٹ کا نیند سے کوئی تعلق نہیں۔ ‘‘وہ ہنستے ہو ئے بولا۔ ’’ناصر، یہ تم کون سی کتابیں پڑھتے رہتے ہو کچھ فائدہ بھی ہے۔ ‘‘
’’ٹھیک ہے، تم ملازمت کرتے ہو۔ لیکن حالات بھی تمہارے سامنے ہیں۔ ادب کو چھوڑو، معاشیات پڑھو۔ کوئی فارمولا ڈھونڈو۔ کسی کتاب میں تو امیر بننے کا گرلکھا ہو گا۔ جابر بن حیان نے کیمیاگری کتابوں سے ہی سیکھی تھی‘‘۔
ناصر زیرلب مسکراتے ہو ئے بولا ’’شاید ایسا ممکن ہو ابو‘‘۔
وہ مضحکہ اڑاتے ہوئے ہنسا ’’شاید۔ ہو نہہ ہمیشہ منفی سوچتے ہو، خواہش تھی کہ تم سی ایس ایس کرو۔ ‘‘
’’لیکن تم معمولی نوکری سے مطمئن ہو گئے‘‘۔
’’آپ سو جائیں، صبح کو بھی اٹھنا ہے‘‘۔
وہ اٹھا، کچھ سوچتے ہو ئے پھر بیٹھ گیا ’’اپنی امی کو سمجھاتے کیوں نہیں‘‘۔
’’انہیں کیا ہوا؟‘‘
’’کرایہ دار کو مکان چھوڑنا پڑتا ہے‘‘۔
’’ہم یہاں کے عادی ہو گئے ہیں‘‘۔
’’مجھے یہ مکان پسند نہیں۔ نہ روشنی آتی ہے نہ ہوا۔ بہت منحوس ہے۔ اکثر کوئی نہ کوئی بیمار رہتا ہے۔ اسی مکان میں ہمارے حالات بھی خراب ہو ئے۔ ‘‘وہ ٹرنکولائزر کے زیر اثر بولتاچلا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گم شدہ نیند پچھلی رات اسے مل گئی۔ اسی وصال کے سبب وہ تازہ دم محسوس کر رہا تھا۔ سگریٹ پیتے ہوئے کھنکارنے کی آواز سے فرحت ٹپکتی تھی۔ اخبار پڑھتے ہوئے وہ مزے سے بلغم کے لچھے فرش پر اچھالتا رہا تھا۔

اس کی قوت شامہ نے کچھ محسوس کیا، وہ سمجھا کہ گلی میں کوڑا جلنے کی بو ہے۔ لیکن یہ مختلف بو تھی۔ اور نزدیک سے آرہی تھی۔ وہ پہنچاننے سے قاصر تھا، ایک وسوسے کے زیر اثر وہ باورچی خانے تک گیا۔

اس کی بیوی کا نپتے ہاتھوں سے چولہے میں تصویر یں جلا رہی تھی۔ سلیپر کی آواز سن کر اس نے آنسو پو نچھ ڈالے تھے۔ اس نے مڑکر نہیں دیکھا۔
جلتی ہو ئی تصویر کی جھلک دیکھ کر وہ فوراً بولا۔ ’’یہ تصویریں کہاں چھپار کھی تھیں؟‘‘

وہ غم سے دو ہری ہوتی ہوئی بولی۔ ’’اتفاق سے مل گئیں‘‘۔
’’ایسی چیزیں اتفاقاً نہیں مل جاتیں۔ ‘‘وہ راکھ کو مٹھی میں بھرنے کی کوشش کرنے لگا۔
وہ غم زدہ نفرت سے اسے دیکھتے ہو ئے بولی۔ ’’میں تمہارے جھوٹ کو سچ سمجھتی رہی‘‘۔
وہ راکھ سے ہاتھ کالے کرتا رہا۔ ’’تم جانتی ہو، سب کچھ دھواں ہو چکا ہے‘‘۔
’’تو راکھ کیوں سمیٹ رہے ہو؟ـ‘‘وہ تلخی سے بولی۔
’’دیکھو کوئی تعلق پو ری طرح ختم نہیں ہوتا۔‘‘
’’لیکن اس کی زد میں آنے والی ہر شے ختم ہو جاتی ہے‘‘۔

وہ کچھ بھی نہیں بول سکا۔ بے چارگی سے کندھے جھکائے کمرے کی طرف لوٹ گیا۔ پہلی بار اس نے بڑھاپے کے ز ہر کو ہڈیوں میں رینگتے محسوس کیا۔

لگا تار سگریٹ پیتے ہو ئے وہ کچھ بھولنا چاہتا تھا۔ اخبار پڑھتے ہو ئے اس کا ذہن سوچ رہا تھا۔ ’’سب کچھ تج کر دوسرے کنارے چلا گیا ہوتا۔ کاش، ایک زندگی اور مل جاتی۔ یہ زندگی تو دھند میں ٹامک ٹوئیاں مارتے گزر گئی، جن چیزوں پر فخر کر تا رہا وہ بے وقعت تھیں‘‘۔

آوارہ بھٹکنے کی خواہش کے باوجود وہ کمرے سے باہر نہیں نکلا۔ اس کے بیٹے بھی جاگ اٹھے تھے۔ گھر کی خاموشی آوازوں سے بھر گئی تھی، بیٹوں نے ٹیپ ریکارڈر بجا نا شروع کر دیا تھا۔ مسکرانے لگا۔ ایک طربیہ گیت گنگنا تے ہو ئے وہ متفکر تھا کہ اس کی بیوی تصویروں کے متعلق بیٹوں کو نہ بتا دے۔
کچھ دیر بعد اس کی بیوی چائے کی پیالی تھامے وارد ہوئی۔

وہ سفید جھنڈی لہرا تے ہو ئے بولا، ’’دوپہر تک چائے پلاتی رہو گی۔ ناشتہ نہیں بنا یا کیا؟‘‘
’’زبر دستی نوالے تو ٹھونسنے سے رہی۔ ‘‘وہ خفگی سے بولی اور کمرے سے نکل گئی۔

وہ چائے پیتے ہوئے دیواروں کی سفیدی سے جھانکتے سیمنٹ کو دیکھنے لگا۔ وہاں زائچے کھنچے ہوئے تھے۔ بہت سی ٹیڑھی میڑھی لکیریں۔ شاید ایک آدھ لکیر مستقبل کی خستہ حالی کی نمائندہ بھی تھی۔ وہ جسے خوش حالی کی لکیر سمجھے برسوں سے ڈھونڈرہا تھا، لیکن وہ بد نصیب لکیروں کے جنگل میں گم ہو گئی تھی۔ اس نے دیوار پر اس جگہ نگاہ دوڑائی، جہاں پہاڑیو ں کی اوٹ سے نکلتے سورج کی تصویر لگی ہو ئی تھی۔ مگر اب وہ جگہ خالی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب گلی میں سوزو کی رکنے کی گھڑ گھڑا ہٹ سنائی دی تو اس کی بیوی نے حقارت سے اس کی طرف دیکھا لیکن وہ نشست چھوڑ کر دروازے کی طرف جاچکا تھا۔ اس کی بیوی نے اس لمحے اپنی برباد ی اور رسوائی کو شدت سے محسوس کیا۔

سب سے پہلے خالی پیٹی کو باہر نکالا گیا، انہوں نے فرش سے گھسٹتی ہوئی پیٹی کی دل دوز چیخیں سنیں، اس کی بیوی تلملا کر رہ گئی۔
’’وہ اسے اٹھا کیو ں نہیں لیتے ؟‘‘وہ غم زدہ لہجے میں بڑبڑائی۔

’’اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لو۔‘‘وہ بے رخی سے بولا۔
اس کی بیوی پرانی باتیں دوہرانے لگی۔ ’’یہ پیٹی شادی کے دوسرے سال خرید ی تھی۔ تمہاری تنخواہ ان دنوں اسی روپے ہو تی تھی۔ یہ بھی ہمارے ساتھ دربدر گھومتی رہی ہے۔ اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ بہت پرانی ہو گئی ہے۔ کنڈیاں ٹوٹ گئیں، قبضے ڈھیلے پڑ گئے۔ تھوڑی سی مرمت کی ضرورت ہے۔ لیکن میرے بیٹے اس سے بیچنا چاہتے ہیں‘‘۔

’’شاید چارپھیرے اور لگ جائیں۔ ‘‘ وہ سگریٹ کا کش لگا تے ہو ئے بولا۔
’’ہاں۔‘‘وہ اسے اکیلا چھوڑ کر اٹھ گئی۔
وہ دیر تک گم صم بیٹھا رہا۔
بیوی کی چہکتی ہوئی آواز سن کر وہ کسی نیند سے جاگا۔
’’دیکھو تو، کاغذوں میں سے کتنی پرانی تصویر ملی ہے۔ بلیک اینڈ وائٹ ہے۔ مجھے یاد ہے۔ وہ عید کا دن تھا۔ تم کسی دوست سے کیمر ہ مانگ لائے تھے۔ اس وقت ناصر چار سال کا تھا اور نعیم تو اسی سال پیدا ہوا تھا۔ ‘‘وہ خوشی سے کانپتی آواز میں بولتی چلی گئی۔

تصویر دیکھ کر وہ بھی ہنسنے لگا۔ اس کے بیٹے سہمے ہو ئے تھے، جب کہ وہ اپنی مردانگی پر نازاں، بیوی کے پہلو میں مسکرارہا تھا۔ وہ گزرے ہو ئے سالوں کی باتیں کر نے لگے۔

پرانی تصویر کی بازیافت نے اس کے لیے مصروفیت کا جواز پیدا کر دیا تھا۔ وہ کمرو ں کے فرش پر بکھرے کاغذ ٹٹولنے لگا۔ بے کار تلاش کے اس عمل میں بہت سے پرانے اخبارات، رسائل، دوستوں کے خطوط، عید کارڈ، پرانے شناساؤں کے وزیٹنگ کارڈ، فلمی اداکاراؤں کی نیم عریاں تصاویر اور بھی بہت کچھ اس کی نظروں سے گزر ا، وہ پسینے میں بھیگ جا نے کے باوجود کاغذ کے ہر ٹکڑے کی طرف عجیب ہوس کے ساتھ متوجہ ہوتا۔ اس نے بہت سی چیزوں کو جیبو ں میں ٹھونس لیا تھا۔

جب وہ تھکن سے چور ہو گیا تواسے بیوی کا خیال آیا۔ اسے بھی ایک پٹاری مل گئی تھی۔ وہ جس میں بہت سی چیزوں کو سینت سینت کے رکھتی جاتی تھی۔

شام سے ذرا پہلے سامان منتقل کیا جا چکا تھا۔
اس نے ناصر کو تنہاپاکر اس کے کان میں سرگو شی کی اور اسے خالی کمرے میں لے گیا۔ جیبیں ٹٹولنے کے بعد اس نے بٹوہ نکالا، اس کے ایک خانے میں مڑ ا تڑاایک روپے کا پرانا نوٹ رکھا تھا۔
اس نے وہ نوٹ ناصر کو دیتے ہو ئے کہا۔ ’’تم بھائیوں میں سب سے بڑے ہو، جو مجھے ملنا تھا مل چکا، اب تمہاری باری ہے۔ مجھے یہ نوٹ ایک اللہ والے نے دیا تھا۔ میں نے بیس سال سنبھال کے رکھا۔ اب تم رکھو۔یہ تم پر دولت کے دروازے کھول دے گا۔ اسے کبھی خرچ نہ کرنا‘‘۔

ناصر اپنے والد کی پر اسرار آواز اور دل دوز لہجے کوسنتا رہا۔
بیٹے جا چکے تھے، میاں بیوی تنہائی میں درودیوار کو گھوررہے تھے۔
وہ گرد آلود فرش پر بلغم، پھینکتے ہو ئے بولا۔ ’’ہم نئے مکان میں جارہے ہیں۔ یہ مکان منحوس تھا۔ نیا برکتوں والا ہو گا ‘‘۔
’’وہ بھی کرائے والا۔ ‘‘اس کی بیوی آنسوؤں سے بھیگی آواز میں بولی۔
وہ شام کے سر مئی اندھیر ے میں بہت سی چیزوں کا پلند ہ اٹھا ئے پرانی گلی سے رخصت ہوئے۔
Image: Dorothy Ganek

Categories
فکشن

بچھڑی کونج (رفاقت حیات)

معمول کے کام نمٹاکر وہ سستانے بیٹھی تو سوچ رہی تھی ’’کھا نا پودینے کی چٹنی سے کھالوں گی، بیٹے کے لیے انڈا بنا نا پڑے گا۔ پرسوں والا گوشت رکھا ہے۔ آلو ساتھ ملا کر شام کو سالن بنالوں گی۔‘‘ اس نے فریزر کھول کر گوشت کو ٹٹولا کہ پو را پڑ جائے گا یا نہیں۔پھر اسے ایک نیا کام یاد آ گیا۔

اس نے الماری سے بیٹے کے کپڑے نکالے اور استری کا سوئچ آن کر دیا۔اسے معلوم تھا کہ دھلا ہو ا پرانا جوڑا دیکھ کر وہ خفا ہو جائے گا۔ استری گرم ہوئی تو زردبتی بجھ گئی۔ وہ اسے قمیض پر پھیر رہی تھی کہ کسی نے گھنٹی بجائی۔ایک مردکی آواز بھی سنائی دی۔ وہ پریشانی میں سوچنے لگی۔ پڑو سیوں کا بچہ تو نہیں ہو سکتا کہ پتنگ چھت پر اٹک گئی ہو یا گیند آگری ہو۔ یہ تو مرد کی بھاری آواز تھی۔ اجنبی مرد کا خیال آتے ہی وہ سہم گئی۔

دوبارہ وہی آواز گھنٹی کے بغیر سنائی دی۔ ’’پوسٹ مین، رجسٹری آئی ہے۔‘‘

شہر میں گزا ری آدھی عمر کے بعد اب وہ پوسٹ مین کا مطلب سمجھنے لگی تھی۔ کچھ چیزیں۔کچھ الفاظ اب بھی ایسے تھے جو اس کی سمجھ سے بالا تر تھے۔مثلاً میٹر ریڈر، ٹی وی لائسنس انسپکٹر وغیرہ۔ اس نے دوہرا یا ’’ڈاکیہ۔‘‘ لیکن دوسرے لفظ ٹھیک طرح سن نہیں سکی۔

سیڑھیاں اتر تے ہوئے اسے اپنی اور گھر کی تنہائی کے علاوہ مرد کی اجنبیت کا مکمل احساس تھا۔

اس نے دروازہ کھولا تو چہرے کو دوپٹے سے ڈھانپ لیا اور اس کی آنکھیں خود بخود جھک گئیں۔

پوسٹ مین بڑبڑایا۔ ’’اور جگہ بھی ڈاک بانٹنی ہوتی ہے، رجسٹری ہے۔ یہاں دستخط کر دو۔‘‘ وہ آخری دو لفظ سمجھ سکی۔اس کا چہرہ لال بھبھو کا ہو گیا اور جسم انجانے احساس سے لرزنے لگا۔

کچھ سال پہلے اس کے بیٹے نے لکھائی پڑھائی شروع کروائی تھی۔ اس نے بھی حروف تہجی سے دو چارکاپیاں بھردی تھیں۔ پھر بیٹے کی سستی اور اپنی کاہلی کے سبب یہ سلسلہ ٹھپ ہو گیا۔

اس نے نام لکھنا تو سیکھ لیا مگر یہ نہیں سوچا تھاکہ غیر مرد کے سامنے دستخط کر نے پڑجائیں گے۔ وہ جانتی تھی کہ جب نام لکھے گی تو وہ آڑی ترچھی لکیروں جیسا نظر آئے گا۔

اس نے احتیاط کے ساتھ پوسٹ مین سے قلم لیا اور رعشہ زدہ ہاتھوں سے دستخط کیے۔

رجسٹری اس کے شوہر کے نام تھی۔ اس نے لفافے کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔اس کا رنگ اور سائز عام لفافوں سے مختلف تھا۔ دروازہ بند کر تے ہی اس نے لفافہ کھولا تو ایک کارڈبرآمد ہوا۔ وہ کارڈ نہیں پڑھ سکتی تھی، اس نے اندازہ لگایا، کسی شادی کا دعوت نامہ ہے۔ وہ بیٹے کی قمیض استری کرنے لگی۔ اس کا ذہن شادی کے متعلق قیافے لگا رہا تھا کہ کسی رشتہ دار کی ہے یا اس کے شوہر کے دوست کی۔ اس نے خود کو ملامت کیا کہ ڈاکیے سے پوچھ لیتی۔ یہ رجسٹری کہاں سے آئی ہے۔ اس تشویش سے اس نے پودینے کی چٹنی بنائی۔ انڈا تلا اور روٹی پکائی۔ بیٹے نے کالج سے آنے میں دیر کر دی۔ اس نے گلی میں بھی جھانک لیا۔

بیٹے نے سلام کر تے ہوئے کتابیں میز پر پھینک دیں اور بوٹ اتار نے لگا۔ وہ بوٹ کا تسمہ کھول رہا تھا کہ اس نے کارڈاس کے ہاتھوں میں تھما دیا۔

’’ذرا دیکھنا یہ کیا ہے۔‘‘ اپنے تجسس کو چھپاتے ہوئے اس کا چہرا سرخ ہو گیا۔

’’آپ کے بھائی کی بیٹی کی شادی ہو رہی ہے امی جان۔‘‘ وہ مسکراتے ہو ئے بولا۔

وہ ہنسنے لگی۔ ’’میں کہوں مجھے لگ رہا تھا کہ ضرور کسی رشتہ دار کی شادی ہے۔ گاؤں والوں نے بھی تر قی کر لی۔پہلے تو آدمی بھیجتے تھے بتانے کے لیے۔‘‘

’’میں کبھی گاؤں نہیں گیا۔امی میں جاؤں گا۔‘‘

’’تم کیوں، ہم ساتھ جائیں گے۔‘‘بیٹے نے خوشی کا نعرہ لگایا۔ انہو ں نے سفر کی منصوبہ بندی کر تے ہوئے دوپہر کا کھانا کھایا۔ وہ ذرا لیٹی تو سو نہیں سکی۔گرچہ فجر سے پہلے کی جاگی ہوئی تھی۔اس نے گاؤں والے مکان میں لاٹھی کے سہارے چلتی ماں کی تنہائی کو محسوس کیا۔ جس سے ملے بہت سال گزر گئے تھے۔ کیا ہوا، جو اسے چھوٹی بہن زیادہ عزیز ہے۔ کیا ہوا، جو مجھ سے محبت نہیں کر تی۔ اس نے خود کو نافرمانی پر کوسا۔ اس نے اپنے والد کو یاد کیا۔سفید داڑھی،سفید کرتا اور دھوتی۔

اس نے دیکھا کہ ان کے گرد فرشتے منڈلارہے تھے اور ان سے سرگوشیاں کر رہے تھے۔ ان کے ماتھے پر نماز کا نشان چمک رہا تھا۔ اس نے ان کے شکوؤں اور افسردگی کے متعلق سوچا جو انہیں اپنی قبر کی ویرانی کے متعلق تھی۔وہ جس کا خوابوں میں کئی مرتبہ اظہار کر چکے تھے۔ وہ کروٹیں لیتی رہی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اس کا شوہر کام سے آجائے تو حتمی پروگرام کی تشکیل کی جاسکے۔ بیٹا شام کی چائے پی کر ٹیوشن پڑھانے چلا گیا۔

وہ گھر کے خالی کمروں میں ٹہلتی رہی سیڑھیوں میں شوہر کے قدموں کی آواز سنتے ہی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے فوراً اس کے ہاتھ میں کارڈ تھما نا مناسب نہیں سمجھا۔وہ اسے چائے پیتے ہوئے دیکھتی رہی۔ کچھ دیر بعد بولی۔ ’’بھائی محمد خان کی بیٹی کی شادی کادعوت نامہ آیا ہے۔‘‘ اس نے کارڈ اپنے شوہر کو دے دیا۔اس نے پڑھتے ہوئے تیوری چڑھائی، پھر کھنکار کر ایک نظر اسے دیکھا۔ اسے اپنے شوہر کی آنکھیوں میں اندیشوں کی جھلک دکھائی دی۔ وہ صفائی پیش کر نے لگی۔ ’’تمہیں تو وطن کی یاد نہیں آتی،مردوں کا دل تو پتھر ہو تا ہے۔ کتنے سال گزر گئے۔ میرے دل سے تو ہوکیں اٹھتی ہیں۔ ماں کے لیے،بہنوں کے لیے اور موقع ایسا ہے کہ مجھے جانا ہی پڑے گا۔‘‘ اس کا شوہر چپ رہا۔ اس کے سوکھے ہونٹ مضبوطی سے جڑگئے۔ اس کا دایاں گال ایک دو بار تھر کا اور ساکن ہو گیا۔

وہ پہلو بدلتے ہوئے بولا۔ ’’محمد خان میر ی ماں کی فوتگی پر نہیں آیا تھا۔ تمہیں یاد ہے نا۔ اور ہماری بیٹی کی شادی پر بھی کچھ گھنٹے ٹھہر کر چلا گیا تھا۔ تمہیں کتنا افسوس ہوا تھا کہ اس نے جو کپڑے دیے تھے، کتنے گھٹیا سے تھے۔‘‘

اس نے بادل نخواستہ ہاں میں ہاں ملائی اور بھائی کے مزاج کی سخت گیری کو یاد کیا۔

اس کے شوہر نے کھنکار کر بات جاری رکھی۔ ’’دیکھو، کوٹ قاضی نزدیک تو نہیں ہے۔ صبح جائیں شام کو لوٹ آئیں۔ ایک دن اور ایک رات کا سفر ہے، پھر سردیوں کا موسم ہے۔تمہیں یہاں کے موسم کی عادت پڑگئی ہے۔ تمہاری بوڑھی ہڈیاں پالابرداشت نہیں کر سکیں گی۔ تمہاری صحت بگڑ گئی تو کوٹ قاضی میں ڈاکٹر بھی نہیں ہو گا جو تمہارا علاج کر سکے۔‘‘ وہ ڈاکٹر والی بات سن کر ہنسی اور اپنے شوہر سے مکمل اتفاق کیا۔

’’تم برادری والوں کے مزاج کو سمجھتی ہو۔ باتوں میں تیر پھینکتے ہیں۔ تم حساس ہو ان کی باتوں کا جواب نہیں بن پڑے گا۔ تم کڑھتی رہو گی، اسی وجہ سے تمہیں ٹی بی ہو نے لگی تھی۔ اچھا ہوا وقت پر پتہ چل گیا اور دوا شروع کر دی۔مجھے ڈر ہے کہ تمہاری بیمار ی نہ بڑھ جائے۔‘‘

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’تم جانتی ہو، ہمارے حالات اچھے نہیں کہ دو آدمیوں کے سفر کے اخراجات برداشت کر سکیں۔پھر بہنوں میں تم سب سے بڑی ہوا اور مد ت کے بعد جاؤگی تو کچھ دینا پڑے گا۔ نہیں دوگی تو وہ باتیں بنائیں گی اور دیکھو، دور رہتے ہو ئے حالات پر جو پردہ ہے اسے پڑا رہنے دو۔ہم ساجد کو بھیج دیں گے وہ بڑا ہو گیا ہے۔ کیوں، کیا خیال ہے۔‘‘

وہ اختلاف کر نا چاہتی تھی۔شوہر کی بیان کر دہ حقیقتوں کو مسترد کر نا چاہتی تھی لیکن اس نے چونک کر اس کی طرف دیکھے بغیر کہہ دیا ’’ہاں ٹھیک ہے۔‘‘ پھر وہ ان چیزوں کی بات کر نے کرنے لگی جو شادی کے لیے بھجوانی تھیں۔ اس نے ان چیزوں کا بھی ذکر کیا جو بھائی نے ان کی بیٹی کی شادی پر دی تھیں۔

وہ ان کی مالیت کا اندازہ لگاتے ہو ئے بولی۔ ’’وہ جوڑے چھ سو روپے سے زیا دہ کے نہیں۔ہاں دونوں کو ملا کر اور پانچ سو نقد بھی دیے تھے۔‘‘
وہ سوچ میں پڑگئی،وہ چاہتی تھی کہ زیادہ مہنگے کپڑے بھجوا ئے۔

اس نے اپنے شوہر کو بتایا تو اس نے اختلاف نہیں کیا۔ انہوں نے طے کر لیا کہ پانچ سو والے دو جوڑے خرید ے جائیں۔ ایک لڑکی اور دوسرا اس کے والد کے لیے اور ہزارروپیہ نقد بھجوایا جائے۔

اس نے تصور میں دیکھا کہ اس کی بھابھی کپڑوں کی خوبصورتی پر خوشی کا اظہار کر رہی ہے اور قیمت کا تعین کر تے ہو ئے اپنی نند کی امیری کا ذکر کر رہی ہے۔

اس کے شوہر نے اس کے تصور میں جھانک لیا۔
وہ بولا ’’ہمارے کپڑے عمدہ اور قیمتی ہوں گے اور ہماری کمی کی تلافی کر دیں گے۔‘‘
اس نے مسکراتے ہو ئے اپنے شوہر کو دیکھا۔

انہوں نے ساجد کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو وہ بہت خوش ہوا۔ایک لمبے عرصے کے متعلق سوچتے ہو ئے ساجد کو جو خیال سب سے پہلے سو جھا وہ سفری بیگ کے بارے میں تھا۔

وہ بولا ’’گھر میں کوئی بیگ نہیں ہے، میں سامان کیسے لے کر جاؤں گا۔‘‘ اس نے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’ہم اپنے وقتوں میں گٹھڑی استعمال کرتے تھے۔‘‘ پھر بیٹے کو بتا نے لگی کہ جہیز کے تین کپڑے لے کر جب وہ سسرال پہنچی تو اس کی گٹھڑی بہت میلی ہو گئی تھی۔

’’لیکن میں تو گٹھڑی لے کر نہیں جا سکتا۔‘‘
وہ متفکر لہجے میں بولی ’’ایک بیگ تھا تو سہی۔‘‘

’’وہ ابو کا پرانا بیگ ہے۔ میں جسے موچی سے سلوایا کرتا تھا۔ میں وہ لے کر جاؤں گا۔‘‘
’’تم نیا بیگ لے کر جاؤ گے۔‘‘ اس کے والد نے کہا۔

اگلے دن اس کا شوہر کام سے لوٹا تو ایک بیگ اس کے ہاتھ میں تھا۔ وہ ساجد کے ٹھاٹھ کے متعلق گاؤں والوں کے ردعمل کی باتیں کر تے رہے۔
دو روز بعد وہ مارکیٹ گئی تو خفیہ طور پرپس انداز کی ہوئی رقم لیتی گئی۔

ساجد نے اپنے لیے کپڑے پسند کیے جبکہ شادی والے کپڑے خریدتے ہوئے اس نے بیٹے کا کوئی مشورہ نہیں مانا۔اس نے بیٹے کے لیے دوسری چیزیں بھی خریدیں۔ مثلاً جرا بیں، رومال اور بنیانیں اور اسے سمجھا دیا کہ اپنے والد کو ان کی بھنک نہ پڑنے دے۔

شام کو اس کے شوہر نے چیزیں دیکھیں تو خوب تعریفیں کر تا رہا۔ساجد کی روانگی سے دو روز پہلے انہوں نے رات گئے تک باتیں کیں۔
اس کا شوہر بیٹے کو بتاتا رہا کہ اس نے کتنی مشکلوں سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ اسکول گاؤں سے دس میل دور قصبے میں واقع تھا۔

جہاں سواری نہیں جاتی تھی۔وہ جمعے کی چھٹی گزار کر آدھی رات کو سفر کا آغاز کر تا۔ ہاسٹل میں پانی بھی نہیں تھا اس کے پاس یونیفارم کے علاوہ ایک اور جوڑا تھا۔وہ جسے گاؤں آتے ہو ئے پہنتا تھا۔

وہ بھی گزری ہوئی زندگی کے تار چھیڑتی رہی۔اس کا والد اسے فجر سے پہلے جگا دیتا تھا۔ نماز پڑھ کے وہ مویشیوں کو چارہ ڈالتی تھی۔ وہ ناشتے کے بعد کھیتوں پر چلی جاتی تھی۔ اسے فخر تھا کہ وہ بیٹوں کی طرح باپ کے ساتھ کام کر تی تھی۔ساجد جماہیاں لیتے ہوئے ان کی گفتگو سنتا رہا۔
اس نے جاڑے سے کڑکتی رات کا پرانا قصہ دوہرا یا۔ وہ لوٹا اٹھائے رفع حاجت کے لیے کھیت میں گئی تھی۔ اسے نزدیک ہی، دھیمی سی شو نکار سنائی دی تھی۔ اس نے پیتل کے لوٹے سے ایک سانپ کا سر کچل دیا تھا۔ اس نے بتایا کہ پالے کے باوجود اسے پسینہ آگیا تھا۔

وہ الماری سے نیلی شال اٹھا لائی۔اسے اپنے گرد لپیٹ کر چومتے ہوئے بولی یہ میرے جنتی باپ کی نشانی ہے۔وہ اسے اوڑھ کر عبادت کر تا تھا۔ شام کو چوپال میں بیٹھتا تھا۔ میں اس شرط پہ دوں گی کہ تم ہر حال میں اسے واپس لاؤ گے۔ بیٹے نے ہنستے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ کسی کو شال ہتھیانے نہیں دے گا۔اس کا شوہر اپنی واسکٹ پہن کر سامنے آ یا تو اسے دیکھ کر وہ ہنسی میں لوٹنے لگی۔ وہ کسی ماڈل کی طرح پوز مارتے ہوئے کہنے لگا۔ ’’آٹھ سال پہلے خریدی تھی، مگر دیکھو نئی لگتی ہے۔ تم اسے پہن کر دیکھو، کسی وزیر کے بیٹے لگو گے۔‘‘

نہ چاہتے ہوئے بھی ساجد نے واسکٹ پہن لی۔سپر ایکپریس میں ریزرویشن کرائی گئی، ساجد کو اگلے دن روانہ ہونا تھا۔

وہ جانتی تھی، ریل پچیس گھنٹے میں آخری اسٹیشن تک پہنچے گی۔ پھر تین گھنٹے بس کا سفر تھا۔ اسے بس وہیں اتار ے گی جہاں سے پچیس سال پہلے اس کی رخصتی ہوئی تھی۔ سڑک پر دو ویران ہوٹل، کریانے کی دوکان اور شیشم کے دو ٹنڈمنڈ درختوں کے نیچے سائیکل والے اور موچی کا بکھرا ہو ا سامان۔وہ جگہ اسے اچھی طرح یادتھی۔ وہاں پہنچتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی۔

ذہن میں یادیں اور سانسوں میں خوشبو امڈآتی تھی۔ بل کھاتی سڑک کے آخری کونے پر ٹیلے کے پیچھے گاؤں کی ہر گلی اور مکان آنکھوں میں گھس آتے تھے۔اسے معلوم تھا وہاں کوئی چیز نہیں بدلی ہو گی۔صرف کچھ بوڑھے مر گئے ہوں گے اور نئے بچے پیدا ہو ئے ہوں گے۔
بیگ میں سامان رکھتے ہوئے اسے کچھ نہ کچھ بھول جاتا۔ٹوتھ برش، کنگھی، تو کبھی پالش۔
اس نے بیگ کو گنجائش سے زیادہ بھر دیا۔وہ مشکل سے بند ہو سکا۔
ساجد چیخ اٹھا۔ میں ہفتے کے لیے جا رہا ہوں، عمر بھر کے لیے نہیں۔
سفر میں بیٹے کے کھانے کے لیے اس نے مزید اور چیزیں بنائیں۔آلو کے پراٹھے اور میٹھے آٹے کی ٹکیاں۔

رات کو وہ اسے نصیحتیں کر تی رہی کہ نانی کے ہاں قیام کرے۔ ایسا نہ ہو کہ کسی پھوپھی کے گھر سامان رکھ دے۔ جو کوئی بھی ان کے حالات کے متعلق پوچھے وہ بتادے کہ بہت اچھے ہیں۔ اگر کوئی اس کی دعوت کر نا چاہے تو رواج کے مطابق کہہ دے۔ پہلے نانی سے اجازت لے لیں۔اس نے سمجھایا کہ وہ ساری خالاؤں کے گھر جائے۔اگر کوئی پیسے دینا چاہے تو مت لے۔ البتہ دوسری شے ہو تو قبول کر لے۔

اس نے اپنے شوہر سے چھپ کر سرگوشی میں اسے بتایا کہ اس نے اس کی نانی کے لیے سفید چادر بیگ میں ڈال دی تھی اور اگر بتیوں کا پیکٹ بھی۔ جس کے لیے اس نے تاکید کی کہ وہ قبرستان جائے اور نانا کی قبر پر انہیں لگائے۔ اور تین درود شریف اور تین قل ھو اللہ پڑھ کر ان کے ایصال ثواب کے لیے دعا کرے۔

اس نے دھیمے لہجے میں ایک بات کہی جسے سن کر اس کا بیٹا ہنسی میں لوٹنے لگا۔ اس کا شوہر بھی مسکرادیا۔ اس نے نصیحت کی تھی کہ ان کے کھیت میں ایک بے کار کنویں کے پاس مٹی کی ایک ڈھیری تھی۔ وہاں اس کے والد کی گدھی دفن تھی۔ جس نے بار برداری کے لیے ان کی خدمت کی تھی۔ وہ اس کے لیے بھی دعا کرے۔

گمشدہ نیند کی وجہ سے وہ دیر تک اپنے شوہر سے باتیں کر تی رہی۔بیٹا تو کب کا سو چکا تھا۔وہ شکایت کر تی رہی کہ اس نے گاؤں والی زمین بیچ دی۔ مکان اپنی بہن کو دے دیا اب ہم اجنبیوں کی طرح وہاں جائیں گے جیسے اس مٹی سے عارضی تعلق ہو۔ اپنا گھر ہو تا تو مہمان بننے کی نوبت نہ آتی۔
وہ شوہر کی نیند سے بے خبر بولتی رہی۔

وہ کھاٹ سے اتری تو شوہر کا سویا ہوا چہرہ دیکھ کر بڑبڑا ئی۔

غسل خانے سے نکل کر بیٹے کے کمرے میں گئی۔اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔پھر وہاں ٹھہر کر سوچنے لگی۔ کل رات سفر میں گزرے گی۔پرسوں وہ گاؤں پہنچ جائے گا۔
اس نے آہ بھر تے ہوئے اپنے بیٹے کو دیکھا اور دو بارہ کھاٹ پر جا لیٹی۔

Categories
تبصرہ

بنجر میدان—شہر خموشاں کا ناول

[blockquote style=”3″]

یہ تحریر حلقہ اربابِ ذوق ، کراچی کے زیرِ اہتمام ہونے والی شامِ مطالعات میں اس ناول کو متعارف کروانے کی غرض سے لکھی گئی۔

[/blockquote]
حوان رلفو سے پہلا تعارف تو اس کی چند کہانیوں کے ذریعے ہوا تھا، جن کا ترجمہ شاید سہ ماہی آج کے کسی شمارے میں شائع ہوا تھا۔ ان کہانیوں کے نام تو یاد نہیں رہے، لیکن ان میں چھپی گھمبیرتا ، ان کی پیچیدگی اور ان کا اسرار آج تک ذہن کے کسی گوشے میں محفوظ ہے۔ان کے مطالعے کے بعد رلفو کا نام ناقابلِ فراموش ہوگیا۔ اس کا ناول پیڈرو پرامو کئی بار مرتبہ انگریزی میں پڑھنا چاہا مگر ہر بار چند صفحات پڑھنے کے بعد ہمت جواب دے جاتی تھی۔ اس طرح اس ناول کا مطالعہ طویل عرصے تک التوا کا شکار ہوتا رہا۔پھر ایک دن جب اردو غزل کے معتبر شاعر احمد مشتاق کا کیاہوا اس ناول کا ترجمہ کتابوں کی دوکان پر دکھائی دیا تو اسے فوراً خرید لیا۔ فرصت ملتے ہی جب اس ناول کو پڑھنا شروع کیا، تو جوں جوں آگے بڑھتا گیا، حیرت و انکشاف کے کئی دروا ہوتے چلےگئے۔ ایک زندہ انسان کےبظاہر سیدھے سادے بیان سے شروع ہونے والا یہ ناول آگے چل کر توہمات اور بدروحوں کی پراسرار سرگوشیوں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ مطالعے کے دوران ناول کی ہر سطر، بدروحوں کی ہر سرگوشی اور سایوں کی ہر خودکلامی پر اعتبار کرنا پڑھنے والے کی مجبوری بنتی چلی جاتی ہے۔آسیبوں کے اس گھنے جنگل میں قاری بھی ایک بدروح کی طرح اس پراسرار ماحول کا اسیر ہوتاچلا جاتا ہے۔

احمد مشتاق اس ناول کا تعارف کرواتے ہوئے بتاتے ہیں۔‘‘یہ ناول 1955میں پیڈرو پرامو کے نام سے شایع ہوا۔پہلے پہل یہ ناول کامیابی حاصل نہ کرسکا، پھر اس کے خواص کھلنے لگے۔کہا جاتا ہے کہ اس ایک ناول سے رلفو نے لاطینی امریکی ناول کے دھارے کا رخ موڑ دیا۔اس نے حقیقت کے ساتھ توہم کو ملا دیا۔’’

‘‘ میکسیکو کے باکمال شاعر آکتاویوپاز نے ایک جگہ لکھا ہے کہ رلفو میکسیکو کا وہ واحد ناول نگار تھا، جس نے محض بیان کے بجائےہمارے طبیعی گردوپیش کے لیے ایک امیج فراہم کی۔’’

مترجم آگے چل کر ہمیں مزید بتاتے ہیں۔‘‘ مارکیز کے مطابق یہ رلفو ہی تھا، جس کے طریقِ کار کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعداس کے لیے اپنا اسلوب وضع کرنا ممکن ہوسکا’’۔

معروف امریکی نقادسوزن سونٹاگ نے اس ناول کے انگریزی کے نئے ایڈیشن کے لیے جو پیش لفظ لکھا ، مترجم نے اسے بھی ترجمہ کرکے کتاب میں شامل کردیا ہے۔وہ کہتی ہیں۔‘‘کتاب کی صاف شفاف ابتدااس کی پہلی چال ہے۔حقیقت میں پیڈرو پرامو ابتدائی جملوں سے قطع نظر کہیں زیادہ پیچیدہ بیانیہ ہے۔ناول کا مقدمہ-‘‘ایک مری ہوئی ماں کا اپنے بیٹے کو دنیا سے روشناس کرانے کے لیے بھیجنا’’،‘‘ایک بیٹے کااپنے باپ کی کھوج میں نکلنا’’۔جہنم میں ایک کثیر الاصوات عارضی قیام میں تبدیل ہوجاتا ہے۔بیانیہ دو دنیاؤں میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔زمانہِ حال کا کومالا،جس کی طرف ابتدائی جملوں کا‘‘میں’’‘‘حوان پرسیادو’’روانہ ہوتا ہےاور زمانہِ ماضی کا کومالا،جواس کی ماں کی یادوں اور پیڈرو پرامو کے عہدِ شباب کاگاؤں ہے۔بیانیہ ضمیر متکلم اور ضمیر غائب،حال اور ماضی کے درمیان آگے پیچھے رخ بدلتا رہتا ہے۔(عظیم کہانیاں نہ صرف ضیغہ ماضی میں بیان کی گئی ہیں بلکہ وہ ہیں بھی ماضی کے بارے میں)ماضی کا کومالا زندوں کا گاؤں تھا۔ حال کا کومالا مردوں کا مسکن ہے۔اور دان پرسیادو جب کومالا پہنچتا ہے تو اس کی مڈبھیڑسایوں اور پرچھائیوں سے ہوتی ہے۔ہسپانوی زبان میں‘‘ پرامو ’’کے معنی ہیں‘‘بنجر میدان’’۔خرابہ۔ نہ صرف اس کا باپ ہی، جس کی اسے تلاش ہے، مرچکا ہے بلکہ گاؤں کا ہرشخص مرچکا ہے۔مردہ ہونے کی وجہ سے ان کے پاس بیان کرنے لیے سوائے اپنی ذات کے اور کچھ نہیں۔’’

سوزن سونٹاگ ہمیں بتاتی ہیں۔‘‘رلفو نے ایک بار کہا تھا؛‘‘میری زندگی میں بہت خاموشیاں ہیں اور میری تحریر میں بھی’’۔اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس ناول کو برسوں تک اپنے اندر لیے پھرتا رہا،جب تک اسے معلوم نہیں ہوگیا کہ اسے کیسے لکھا جائے۔وہ سینکڑوں صفحے لکھتا اور پھر پھاڑدیتا تھا۔اس نے کہیں یہ بھی کہہ رکھا ہے کہ ناول لکھتے جانے اور مٹاتے جانے کا عمل ہے’’۔

‘‘مختصر کہانیاں لکھنے کی مشق نے میری تربیت کی،مجھے خود غائب ہوجانے اور کرداروں کو اپنی مرضی سے باتیں کرنے کے لیے کھلا چھوڑدینےکی ضرورت کا احساس دلایا، جس کی وجہ سے لگتا ہے کہ بعض لوگوں کو یہ کہنے کی ترغیب ملی کہ ناول میں کوئی ڈھانچہ نہیں ہے۔ایسا نہیں ہے ‘‘پیڈرو پرامو’’ میں ایک ڈھانچہ موجود ہےلیکن اس ڈھانچے کی تشکیل،خاموشیوں سے، لٹکتےہوئے دھاگوں سےاور کٹے ہوئے منظروں سے ہوئی ہے۔جہاں ہر چیز ایک زمانی وقت میں ظہور پذیر ہوتی ہے، جو ایک‘‘ لازماں’’ہے’’۔

‘‘پیڈرو پرامو ایک ایسی داستانی کتاب ہے، ایک ایسے ادیب کی لکھی ہوئی جو اپنی زندگی ہی میں خود ایک داستانی کردار بن گیا’’۔

‘‘بنجر میدان ’’کے پبلشر آصف فرخی، جو خود سینیئر افسانہ نگار اور نقاد بھی ہیں، اس کتاب میں شامل اپنے مضمون‘‘شہرِمردہ کا ایک ناول’’ میں اس ناول کی تعبیر کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں؛ ‘‘ پیڈرو پرامو ’’کا قصہ دراصل تین مرکزی کرداروں کے احوال سے مل کر ترتیب پاتا ہے۔ حوان پرسیادو، پیڈرو پرامواور سوزانا سان حوان۔ناول کا آغاز حوان پرسیادو سے ہوا ہےاور اس کے نقطہِ نظر سے دیکھیں تو یہ ناول دراصل اپنی شناخت اور ہدایت کی جستجوکے لیے ایک بیٹے کے سفر کی کہانی ہے۔حوان کی ماں ڈولوریس پرسیادو کا شوہر پیڈرو پرامو تھااور حوان اپنے باپ کے نام سے شناخت نہیں رکھتا۔وہ اپنے باپ کی اکلوتی جائز اولاد ہے۔بسترِ مرگ پر اپنی ماں سے کیے ہوئے وعدےکو پورا کرنے کے لیےحوان پرسیادو کومالا واپس آتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پڑھنے والے بھی ایسے قصے میں داخل ہوجاتے ہیں، جہاں چاروں طرف ماضی کے بھوت اور بدروحیں بھری پڑی ہیں۔اسے غیر مرئی چیزیں دکھائی دیتی ہیں،آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں۔یہاں تک کہ وہ اس شک میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ شاید وہ خود بھی مرچکا ہے۔حوان کی نظروسماعت کے ذریعے ہم گاؤں کے مردگان کی کے زندگی نامے سے واقف ہوتے ہیں اور حوان کے ساتھ ساتھ ان کی زندگیوں کے بکھرے ہوئے ٹکڑوںکو جوڑ کر کومالا اور اس کی بربادی کی ایک تصویر بنا پاتے ہیں’’۔

‘‘حوان کی اس تلاش اور ماضی دریافت کے دوران ایسے فلیش بیک آتے ہیں کہ ہم پیڈرو پرامو کی روداد سے بھی واقف ہونے لگتے ہیں۔پیڈرو پرامو ان زمین داروں کاوارث ہے،جن کا کسی زمانے میں حال اچھا تھا۔ماضی کی دولت اور شان و شوکت، پرچھائیں کی طرح ساتھ چھوڑتی جارہی ہے۔پیڈرو کو سوزانا سان حوان نامی لڑکی سے محبت ہوجاتی ہےاور اس عشق کا اثر اس کی باقی ماندہ زندگی تک قائم رہتا ہے۔لیکن سوزانا وہاں سے چلی جاتی ہےاور پیڈرو کی تنہائی اور بڑھ جاتی ہے۔وہ اپنے باپ کو مرتے ہوئے اور اپنے گھرانے کو رخصت ہوتے ہوئے دیکھتا رہتا ہے۔نوجوان پیڈرو کے کاندھوں پر اس جائیداد اور اس پر چڑھے ہوئے قرض سے نمٹنے کی ذمہ داری آجاتی ہےمگر اس کے حوصلے بلند ہیں۔آخر کار وہ دھوکے،فریب، چالاکی اور تشدد کے ذریعے سے خوب دولت اکٹھی کرلیتا ہے۔ دولت کے اس حصول کا آغاز وہ اپنے سب سے بڑے قرض خواہ کی بیٹی ڈولوریس پرسیادو سے شادی سےکرتا ہے۔ڈولوریس سے شادی کرکے وہ اس کی دولت اور زمین ہتھیا لیتا ہےاور پھر اسے اس کی بہن کے ہاں رہنے کے لیے بھیج دیتا ہے، جہاں رہ کر اس کی بیوی اس کے مذموم ارادوں میں دخل اندازی نہ کرسکے۔’’

‘‘ناول میں سیدھے سبھاؤ اور تسلسل کے ساتھ واقعات بیان نہیں کیے گئےلیکن ٹکڑوں کو جوڑ نے اور کڑیاں ملانے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا ہوگا۔اس کے بعد ناول کے واقعات دراصل پیڈرو پرامو کے رانچ(Ranch)‘‘میڈیالونا’’ اور اس کی کامیابی کا قصہ ہیں۔یہ رانچ کسی روک ٹوک کے بغیر پھلتا پھولتا رہااور 1910-20کے دوران میکسیکو کے انقلاب کو بھی سہہ گیا۔پیڈرو پرامو زمینوں کا ازحد حریص تھااور اسی وجہ سے اسے زک اٹھانی پڑی۔اسے اپنے گناہوں کی قیمت چکانی پڑی، جب اس کا ناجائز بیٹامیگوئیل پرامو–جو اس کی ناجائز اولادوں میں سے اکلوتا بیٹا تھا جسے اس نے اپنی اولاد تسلیم کیا اور اپنا نام بخشا—ایک سنگین حادثے کا شکار ہوکر جان سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے۔ اس کے بعد خبر ملتی ہے کہ سوزاناسان حوان اور اس کا باپ اس علاقے میں لوٹ آئے ہیں۔پیڈرو اپنے بندوبست کے ذریعے اس کے باپ کو موت کے منہ میں پہنچا دیتا ہےاور سوزانا سے تعلقات استوار کرلیتا ہے۔اس کے باوجود وہ اس کے قابو میں نہیں آتی اور جذباتی طور پر اس سے کوسوں دور ، دیوانگی کے عالم میں مرجاتی ہے۔جس دوران کومالا بربادی کا شکار ہوا، پیڈرو کا ایک اور بیٹا ایبنڈو مارٹینیزسامنے آتا ہے، جسے اس نے کبھی اپنی اولاد تسلیم نہیں کیا تھا۔وہ اپنی مردہ بیوی کے کفن دفن کے لیے رقم مانگنے پیڈرو کے پاس آتا ہےاور جب اسے انکار سننے کو ملتا ہےتو وہ نشے اور مدہوشی کے عالم میں اپنے باپ کو مارڈالتا ہے۔یوں اس ناول کے مرکزی کردار اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔’’

ناول کے انجام تک پہنچ کر قاری پر یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ کومالا کی تباہی کا ذمہ دار صرف اور صرف پیڈرو پرامو تھا، جس کی زمین اور دولت کے حصول کے لیے حد سے بڑھی ہوئی حرص اور گاؤں کی ہر عورت کو اپنے تصرف میں لانے کی بے محابا خواہش اور کوشش آخر کار کومالا نامی گاؤں کی مکمل تباہی پر منتج ہوتی ہے۔

چکر دار اور سر گھمادینے والے بیانیے کے حامل اس ناول کا اردو میں ترجمہ کارِ آسان ہرگز نہیں تھا۔یہ امر قابلِ مسرت ہے کہ اس ناول کے ترجمے کا کام احمد مشتاق جیسے جید غزل گو نے سر انجام دیا، جو افسانوی ادب کے پارکھ اور مترجم بھی ہیں۔وہ اس سے قبل حوزے سارامیگو کے ناول‘‘ اندھے لوگ’’ کو بھی اردو میں منتقل کرچکے ہیں۔انہوں نے کڑی محنت اور لگن کے ساتھ کے اسے اردو میں منتقل کیا۔اس ناول میں بیان کیا گیا تجربہ اور اظہار کا بالکل انوکھا انداز اردو ناول میں نئی راہیں کھول سکتا ہے۔

Categories
فکشن

باپ دادا

وہ چھوٹا سا گاؤں، جس کا نام سُکا یعنی سوکھا ہےاور جو میاں والی سے تلہ گنگ جانے والے راستے پر واقع ہے۔وہ چھوٹا ساگاؤں بہت پہلے سر کولن کیمپ بیل کے نام پر رکھے جانے والےشمالی پنجاب کے ضلع کیمپ بیل پور کی حدود میں آتا تھا، جسے مقامی لوگ اپنی سادہ لوحی کے سبب ضلع کیمبل پور کہتے تھے۔ بعد میں اس ضلعے کا نام اٹک رکھ دیا گیا۔ عرصہ دراز تک وہ گاؤں اسی ضلعے میں شامل رہا،لیکن پھر اسے ضلع چکوال کا حصہ بنادیا گیا۔ تب سے آج تک یہ گاؤں اسی ضلعے کا حصہ شمار کیا جاتا ہے۔

خشک سالی سے ہمیشہ متاثر رہنے والے اس گاؤں کے جوان شوقیہ طور پرنہیں بلکہ اپنی تنگ دستی اورتنگ دامانی سے عاجز آکر انگریز کی فوج میں شامل ہو کر پہلی جنگِ عظیم کا حصہ بنے تھے۔انہیں سیاحت کا کوئی شوق نہیں تھا مگر وہ انگریز سرکار کی خاطر ملکوں ملکوں جنگ کرنے میں مصروف رہے۔ یورپ اور ایشیا ئی ممالک کا حسن بھی ان کی نگاہوں کو خیرہ نہیں کرسکا، کیوں کہ ان کی آنکھوں میں ہروقت اپنے” گِراں” کی یاد چراغ کی لو کی مانند روشن رہتی تھی۔وہ سب دیارِ غیر کی نامہربان گلیوں میں بھٹکتے اپنے گاؤں کی مہربان گلیوں کےآسودہ سائے تلاش کرتے رہے۔

انگریزی فوج کی نوکری داداملک شیر محمد کے مزاج کے خلاف تھی، اس لیے انہوں نے بہت جلد ریٹائر منٹ لے لی۔سبک دوشی سے حاصل ہونے والی رقم بھی تادیر نہ چل سکی، کیوں کہ ملک شیر محمد ضرورت سے زیادہ شاہ خرچ واقع ہوئے تھے۔جو تھوڑی بہت زمین ان کے پاس تھی،وہ سب کی سب بارانی تھی اور باران ِ رحمت کو کبھی آدم زاد کی اغراض سے کوئی سروکار نہیں رہا۔ وہ سدا کی من موجی ہے، جیسے ملک شیر محمد اپنی زندگی میں رہے۔

ان کے بڑے بھائی ملک باقی خان نے جب زرخیز اور سرسبز زمین کی تلاش اور اس کے حصول کی خاطر ایک بار پھر اپنا گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کیا، تو دادا کو ان کا یہ فیصلہ بادل نخواستہ قبول کرکے ان کے ساتھ ایک طویل سفر پر جانا پڑا۔ انہوں نے اس سفر سے بچنے کی خاطر کئی حیلے تراشے، لیکن بڑے بھائی کا حکم بجا لانا ہی پڑا۔

جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں سے شروع ہونے والازمینوں کی خریدوفروخت اور عارضی سکونت کا سلسلہ سندھ کے ضلع خیر پور میں میرواہ نہر کے کنارےایک چھوٹے سے گاؤں کی آبادکاری پر تمام ہوا۔اس گاؤں کا نام دادا کے بڑے بھائی کےنام پر گوٹھ ملک باقی خان رکھا گیا۔ دونوں بھائی میر واہ نہر کےکنارے واقع اس زرخیز سرزمین پر آباد ہوگئے۔ انہوں نے بعص لوگوں کو بھی سُکا سے یہاں سے لاکر آباد کیا۔ان میں چند نے دونوں کے درمیان سنگین اختلافات پیدا کیے، جس کی وجہ سے دادا نے کئی بار ناراض ہوکرگاؤں چھوڑا۔
اوپر تلے پانچ بیٹیوں کی پیدائش بھی دادا کی متلون مزاجی اور رومان پسند طبیعت پر اثرانداز نہ ہوسکی۔بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے بےچاری دادی زیادہ پریشان رہتی تھیں۔ انہوں نے مزارات پر بیٹے کی پیدائش کے لیے منتین بھی مانیں۔1940 کے ابتدائی مہینوں کی ایک شب ان کے ہاں ان کے پہلے بیٹے کی پیدائش ہوئی،جس کا نام ملک خضر حیات رکھا گیا۔اس پیدائش پر گاؤں بھر میں مکھانے اور بتاشے تقسیم کیے گئے تھے۔

ابو جب چار پانچ سال کے ہوئے تو دادا نے دادی کی مرضی کے برخلاف انہیں تعلیم حاصل کرنے کے لیےآبائی گاؤں سُکا بھجوادیا۔ گاؤں کے نزدیک واقع ایک پرائمری اسکول سے پانچ جماعتیں پاس کرنے کے بعد ان کا داخلہ جس ہائی اسکول میں کروایا گیا، وہ گاؤں سے بارہ پندرہ میل دور واقع تھا۔وہاں طلبا کے لیے ہاسٹل کا انتظام بھی تھا۔ہفتے کے آخری دن سارے طلبا اپنے گھروں کو چلے جاتے تھے۔ سو ابو کوبھی اپنے گاؤں آنا پڑتا تھا۔ چھٹی ختم ہونے والے دن رات گئے وہ گاؤں سے اسکول کے لیے پیدل روانہ ہوتے۔راستے میں پڑنے والے دیہات سے اسکول کے ساتھیوں کو ہم راہ لیتے، گھُپ اندھیرے میں کئی گھنٹوں کی مسافت طے کرنے کے بعد صبحِ کاذب کے وقت وہ سب اسکول پہنچتے۔وہ کچھ عرصہ اپنے دو چچازاد بھائیوں کے ساتھ ایک گھوڑی پر سوار ہو کر بھی اسکول جاتے رہے۔انہیں ہر بار گھوڑی کی پیٹھ پر سب سے پیچھے بیٹھناپڑتا، جہاں بیٹھ کر سفر کرتے ہوئے انہیں ہمیشہ نیچے گرنے کا ڈر لاحق رہتا۔بعد میں ان چچا زاد بھائیوں نے پڑھنا چھوڑ دیا تو وہ پھر سے پیدل ہی اسکول جانے لگے۔

دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد ابو لاہور جاکر کسی کالج میں داخلہ لے کر تعلیم کے سلسلے کو آگے بڑھانا چاہتے تھے، مگر ان کی قسمت نے ان کے لیے کچھ اور ہی طے کر رکھا تھا۔دادا نے انہیں واپس بلوا لیا کیوں کہ دادا نے اپنے بھائی سے شدید اختلافات کی وجہ سے اپنا آباد کیا ہواگاؤں چھوڑدیا تھا اور تحصیل ٹھری میرواہ میں واقع سنجرانی بلوچوں کے ایک گاؤں میں آباد ہوگئے تھے۔ابو واپس آکر اسی گاؤں میں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہنے لگے۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ انہیں جلد ہی محکمہِ زراعت میں فیلڈ سپروائزر کی ملازمت مل گئی۔اب دادا اور دادی کو ان کی شادی کا خیال تنگ کرنے لگا۔

ابو کی بارات سنجرانیوں کے گوٹھ سے ان کے آبائی گاؤں سُکاروانہ ہوئی۔وہاں ان کی ماموں زاد بہن سے ان کا نکاح پڑھایا گیا۔رخصتی کے بعد امی ان کے ساتھ آکر اسی گوٹھ میں رہنے لگیں۔ابتدا میں انہیں سندھی سمجھنے اور بولنے میں خاصی دقت کا سامنا پڑا۔بعد میں آہستہ آہستہ انہیں اس کی عادت ہوتی چلی گئی۔

دادا کے ہاتھوں ایک سنجرانی بلوچ کےقتل کےبعد انہیں وہ گاؤں بھی چھوڑنا پڑگیا۔ قتل دادا نے کیا تھا مگر سنجرانیوں کے سردار نے پرچہ میرے چچا کے خلاف کٹوایا۔ابو بے چارے عدالت کی پیشیاں بھگتتے رہے اور اپنے چھوٹے بھائی کی رہائی کے لیے کوشش کرتے رہے۔سابق وزیرِ اعلی سندھ سید غوث علی شاہ نے وہ مقدمہ لڑا اور ایک سال بعد وہ مقدمہ جیتنے میں کامیاب ہوگیا۔یو ں چچا کی رہائی عمل میں آئی۔

اس دوران ابو کے ہاں دوبچوں کی ولادت ہوچکی تھی۔ان کے کچھ بڑا ہونے کے بعد انہیں ان کی تعلیم کی فکر ہوئی۔ دادا نے کوٹ ڈیجی کے قریب کچھ زمین خریدی اور چچا کے ساتھ وہاں منتقل ہوگئے۔ ابو، امی اور دوبچوں کے ساتھ محراب پور نامی قصبے میں منتقل ہوگئےاور وہاں رہنے لگے۔

محکمہِ زراعت کی نوکری کے ساتھ ساتھ انہوں نےاسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کے نمائندے کی حیثیت سے بھی کام شروع کردیا تھا۔اس کام میں انہیں جلد ہی ترقی حاصل ہوئی، جس کی وجہ سے انہوں نے محکمہِ زراعت کو خیر آباد کہا اور مستقل طور پر اسی کام سے وابستہ ہوگئے۔اس دوران ان کے ہاں چار مزید بچوں کی پیدائش ہوئی۔

پاؤں کےجس چکر نے دادا کی زندگی کو ہمیشہ ایک گردش کا اسیر بنائے رکھا، اب وہی چکر ابو کے پیروں میں آ پڑا تھا۔ محراب پور سے نکل کر نواب شاہ میں تین برس قیام کیا۔ اس کے بعد ٹھٹھہ شہر میں پانچ برس رہے۔ٹھٹھہ ان کے لیے ایک آسیبی شہر ثابت ہوا۔انہوں نے جمعرات کی ہر شب مکلی کی پہاڑی پر واقع عبداللہ شاہ اصحابی کے مزار پرگزارنا اپنا معمول بنا لیا۔ اسی مزار پر گزاری ہوئی جمعراتوں کے دوران وہ ایک خاتون کی زلفوں کے اسیر ہوگئے،جو اپنی والدہ کے ساتھ روحانی علاج کی غرض سے وہاں آئی ہوئی تھی۔

ٹھٹھہ میں قیام کو پانچ برس ہونے والے تھے، جب شاہ جہانی مسجد کے نزدیک میں اپنے ایک دوست کے گھر پر اس کی مدد کرنےمیں مصروف تھاتوابو مجھے تلاش کرتے ہوئے وہاں آگئے تھے۔ دوست کے اہلِ خانہ اپنا سامان باندھ رہے تھے تا کہ راتوں رات کہیں اور منتقل ہوجائیں۔انہیں علاقہ چھوڑنے کے لیے دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ یہ ضیاءالحق کی سفاک آمریت کے اثرات تھے، جن کی وجہ سے سارا سندھ یکایک تعصب کی آگ میں جلنے لگا تھا۔وہ دوست اردواسپیکنگ تھا اور اس کے گھر والے خطرہ محسوس کر رہےتھے۔

اسی خطرے کی بو سونگھتے ہوئے ابو نے فیصلہ کیا کہ ہم پہلے انہیں روانہ کریں گے، پھر گھر جائیں گے۔ وہ لوگ گھر میں اپنا سامان باندھنے میں مصروف تھے۔ میں اور ابو باہر واٹر سپلائی کی ٹینکی پر بیٹھے ہوئے ٹرک کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔

اچانک چہروں پر ڈھاٹا باندھے ہوئے دوموٹر سائیکل سوار نمودار ہوئے۔ پیچھے بیٹھے شخص نے پستول تان کر ہم پر سیدھے سیدھے چھ فائر کیے۔پانچ گولیاں ابو کے جسم کے مختلف حصوں میں اترگئیں۔ایک گولی میری کلائی چھوتی ہوئی گزر گئی۔میں نے دوڑ کر اپنے دوست کے گھر دروازہ بجایا۔ انہوں نے خوف سے دروازہ کھولنے سے انکار کردیا۔ دوست کے دادا نے اندر سے کہا۔‘‘گھر پر کوئی نہیں ہے’’۔

اپنےگھر واپس آتے ہوئے میں نے سہارے کے لیے اپنا ہاتھ ابو کی طرف بڑھایا مگر انہوں نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کردیا۔ وہ جب لہولہان پہلی منزل پر واقع مکان کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اندر داخل ہوئے، توامی نے جیسے ہی انہیں دیکھا، ا سی دم ان کے اوسان خطا ہوگئے۔

ٹھٹھہ کے سول ہاسپٹل میں طبی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے راتوں رات انہیں کراچی منتقل کیا گیا۔پہلے چند روز وہ سِول ہاسپٹل کراچی میں داخل رہے، پھر انہیں ایک پرائیویٹ ہاسپٹل شفٹ کردیا گیا۔وہ تقریباً چھ مہینے زیرِ علاج رہے۔ ان کے بدن میں داخل ہونے والی پوری پانچ گولیاں باہر نکال لی گئیں، لیکن وہ دوست، جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا، وہ خود یا اس کے گھر کا کوئی فرد ابو کی مزاج پرسی کرنے کبھی نہیں آیا۔

اس واقعے کے بعد ٹھٹھہ میں مزید قیام کرناممکن نہیں رہا تھا، اسی لیے ہنگامی بنیاد پر کراچی کا رخ اختیارکیا گیا۔ ابو جیسا باہمت اور آہنی مزاج رکھنے والاشخص، شاید دنیا میں نہ ہوگا۔وہ سمجھ رہے تھے کہ پانچ گولیاں نکالے جانے کے بعد ان کابدن پہلے کی طرح توانا اور بھرپور ہوچکا ہے، مگر یہ ان کی خام خیالی تھی۔وہ کئی برسوں سے اسٹیٹ لائف میں ایریا مینیجرکی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔نجانے ان کے دل میں کیا سمائی، انہوں نے اپنا تبادلہ راول پنڈی کروالیا۔ بہت کوشش کے باوجودوہاں ان کا کام صحیح طرح جم نہ سکا۔مجبوراً انہیں دوبارہ سندھ کا رخ اختیار کرنا پڑا۔

امی اور ابو کی ایک خاص عادت، میں جس کا عمر بھر گواہ رہا، وہ یہ تھی کہ دونوںرات گئے تک آپس میں باتیں کرتے رہتے تھے۔کبھی ہنس کر، کبھی اداسی سے،غرض کہ ان کی یہ گفتگو کئی تیور بدلتی دیر تک جاری رہتی۔امی صوم الصلوات کی پابند تھیں، اس لیے فجر پڑھنے میں ناغہ کم ہی کرتیں، جب کہ ابو کے مزاج پر سندھ کا صوفی رنگ غالب آچکا تھااور وہ مذہب سے بہت حد تک بیگانہ ہی رہتے تھے۔ کبھی کبھار امی کے بےحد اصرار کے بعد جمعے کی نماز یا عیدین پڑھ لیتےتھے۔

امی کی صحت زیادہ خراب رہنے لگی تھی۔انہیں بہ یک وقت کئی بیماریوں نے آلیا تھا۔ابو پوری دل جمعی سے ان کا علاج کرواتے رہےلیکن امی دن بہ دن کمزور ہوتی چلی گئیں۔اپنے آبائی گاؤں کا آخری دورہ کرتے ہوئےان کی طبیعت ایسی بگڑی کہ انہیں اسلام آباد کے پمز ہاسپٹل میں داخل کروانا پڑا۔ وہ کئی روز تک وہاں زیرِ علاج رہیں، پھر اچانک ان کی سانسیں تھم گئیں۔انہیں گاؤں کے قبرستان میں نانا کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

ان کی وفات کے بعد ابوتیرہ برس زندہ رہے، لیکن یہ پہلے والے ابو نہ رہے تھے،کیوں کہ ان کا ہر حکم بجالانے والی،ان کے ناز اٹھانے والی، اب دنیا میں نہ رہی تھی۔امی کی وفات کے بعد ابو مستقل گھر پر رہنے لگے تھے۔بس شام کے وقت گھر سے نکلتے اور قریبی ہوٹل پر بیٹھ کر، لوگوں سے گپ شپ کر کے واپس آجاتے تھے۔

تین ساڑھے تین برس پہلے ان پر دل کا دورہ پڑنے کے ساتھ فالج کا حملہ بھی ہوا۔فالج کا ظاہری اثر تو کچھ عرصے میں زائل ہوگیالیکن اس حملے کے بعد وہ زیادہ گم صم اور خاموش ہوتے چلے گئے۔ان کی وہ دبنگ آواز، جسے سن کر ان کے بھتیجوں، بھانجوں اور ان کی اولادکے پیشاب خطا ہوجاتے تھے،اب وہ دھیرے دھیرے نحیف ہونے لگی تھی۔ ان کی وہ آنکھیں، جو مشکل ترین حالات میں ہمیشہ غیر متزلزل اعتماد سے چمکتی دکھائی دیتی تھیں، اب وہ ہولے ہولے بجھنے لگی تھیں۔ان کی پُر اعتماد چال میں ڈگمگاہٹ در آئی تھی لیکن وہ اب بھی چلتے ہوئے میرا سہارے کے بڑھا ہوا ہاتھ آسانی سے قبول نہیں کرتے تھے۔پھر اچانک، ایک روز وہ ایسی جگہ چلے گئے، جہاں انہیں کسی کے سہارے کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔شاید اب وہ سات آسمان اوپر کسی کہکشاں کے سائے میں میں امی سے دادا کے بارے میں باتیں کر رہے ہوں گے۔

Categories
فکشن

گُلاں کی سرگوشیاں

پچھلی چوری کو اکیالیس دن گزر چکے تھے۔ اس کی ملامت ابھی تک جیون کے دل میں اٹکی ہوئی تھی۔ کبھی کبھار وہ اسے محسوس کر لیتا تھا اور ٹھنڈی آہ بھر کے رہ جاتا تھا۔
پچھلی مرتبہ وہ چھٹی کی رات گھر میں لیٹا ہوا تھا۔ اس کی نئی نویلی، کالی کلوٹی اور کم سن بیوی، اس کی بالوں سے اٹی چھاتی میں ہاتھ پھیر رہی تھی۔
آسمان پر آخری دنوں کا چاند تھا۔گھر میں اور گلی میں جھینگر کا شور تھا۔بیچ بیچ میں دور سے آتی بھیڑیے اور گیدڑ کی کُرلاٹ تھی۔ صحن میں ہواکے جھونکے تھے اور وہ دونوں۔
اس نے گُلاں کو اپنی طرف کھینچا تھا۔ اس کے ہونٹوں کو چوما اور سینے کو دبایا تھا۔
وہ کسمساتی ہوئی اس کی چھاتی سے چمٹ گئی تھی اور تھوڑی دیر بعد اس نے جیون کے کان میں پانچویں سرگوشی کی تھی۔
وہ بے ہودگی سے ہنسا تھا اور اس نے گال پر کاٹتے ہوئے انگوٹھی خرید لانے کا وعدہ کر لیا تھا۔

کل رات آسمان پر چاند نہیں تھا۔ بھیڑیے اور گیدڑ کی کُرلاٹ قریب سے سنائی دے رہی تھی اور ہوا بالکل بند تھی۔
وہ دونوں کھاٹ پر لیٹے ہوئے تھے۔
گُلاں نے ہنسی دباتے ہوئے سرگوشی کی۔
جیون نے قہقہہ لگایا اور پیار سے چھاتی پر کاٹتے ہوئے پازیب خریدنے کا وعدہ کیا۔

وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس مرتبہ بھی کپاس کی گانٹھ چرائے۔اس کے عوض آسانی سے کوٹ بنگلے کے بہترین زرگر وادھولال سے سونے کی پازیب بنوائی جا سکتی تھی۔
چلچلاتی دھوپ میں وہ گھر سے نکلا۔ کاندھے پر کلہاڑی تھی اور ہاتھ میں نائیلون کی نیلی رسی۔ اس نے ویران گلی کے دونوں طرف دیکھا اور دروازے کی کنڈی چڑھائی۔ دھوپ کی حدت نے لوہے کی کنڈی کو تاپ دیا تھا۔
دا ہنی طرف سڑک تھی اور بائیں جانب ریت کے ٹیلے۔ اس نے رومال کو سر پر باندھا اور اس کے باقی ماندہ حصے میں چہرے کو چھپایا اور ریت کے ٹیلوں کی طرف چل پڑا۔
گلی سے نکل کر اسے لُو کی شدت کا اندازہ ہوا۔ ریت سے اٹھتی گرم لہریں شیشے کی لرزتی کانپتی فصیل کی طرح نظر آرہی تھیں۔
پہلے چپل سلگی، پھر اس کے پاؤں جلنے لگے اور اس کے بعد سارا بدن۔ لیکن وہ ریت پر بنے ہوئے نشانوں سے مختلف اپنے قدموں کے نشان بناتا رہا۔ اس کی رفتار کم تھی۔ اور اس کی نگاہ زیادہ دور تک کام نہیں کر سکتی تھی۔ اس کے موٹے پاؤں بار بار ریت میں دھنس جاتے اور اس کی بہت سی قوت انہیں نکالنے میں صرف ہو جاتی۔
وہاں کوئی درخت نہیں تھا اور نہ ہی سبز پودا۔ اِکا دُکا سوکھی جھاڑیاں تھیں اس نے سوچا! ’’کاش یہاں ایک گھنا جنگل ہوتا!‘‘ اس نے چھاؤں کو محسوس کیا اور ہوا کے ٹھنڈے جھونکوں کو۔ اور لمبا سانس بھر کے رہ گیا۔
اس بار بھی اس کے دل میں گُلاں کے لیئے عناد نہیں تھا۔ گرچہ وہ بارہا اس کی خاطر عزت اور نوکری داؤ پر لگا چکا تھا۔ وہ اس کے لیے کسی بھی حد سے گزر سکتا تھا۔ کیونکہ وہ اس کے لیے تین وقت کی روٹی پکاتی تھی۔ اس کی قمیض پر ٹوٹے ہوئے بٹن ٹانکتی تھی۔ اور ہر شب کو اس کا سارا اضطراب چوس لیتی تھی۔
کلہاڑی کندھے پر زخم کرتی محسوس ہوئی تو اس نے اسے اتار لیا۔ چمکتے ہوئے پھل کو غور سے دیکھا۔ اور اسے ہاتھ میں پکڑ کر چلنے لگا۔
اسے پیاری گُلاں کی یاد آئی۔ اس نے سوچا کہ وہ رنگین چادر والے بستر پر سورہی ہو گی۔ اس کے کالے پاؤں میں سنہری پازیب کتنی جچے گی۔ پوری گلی میں دھوم مچ جائے گی۔ وہ مسکرایا۔
دھلے ہوئے پیروں کو چومنے کا خیال اس کی رگوں میں سرسرایا۔ اس نے کبھی انہیں چھواتک نہیں تھا۔ اسی وقت گھر پہنچ کر سجدہ ریز ہونے کی خواہش کو اس نے دبایا اور چلتا رہا۔
ٹیلوں پر چھوٹی موٹی لکڑیاں بکھری نظر آئیں۔ وہ اس کے لیے بے کار تھیں۔ بعض جگہوں پر وہ جانوروں کی ہڈیاں دیکھ کر ٹھہر گیا۔ وہ مرے ہوئے اونٹوں کے ڈھانچے تھے۔ اسے ان کا مصرف نہیں سوجھ سکا۔
ایک لمحے کے لیے اسے شدید گرم دن میں طویل مسافت اور کوٹ بنگلے کے بازار میں خواری کی مہم حماقت پر مبنی محسوس ہوئی۔ لیکن اسے گُلاں کی سرگوشی یاد آگئی اور اس نے سفر کو جاری رکھا۔
ٹیلے ختم ہوئے تو پتھریلا راستہ شروع ہو گیا۔
آڑے ترچھے پتھروں پر چلنا مشکل تھا۔ وہ غور سے نیچے دیکھتا تیزی سے چلنے کی کوشش کرتا رہا۔
تھوڑے فاصلے پر آم کا باغ تھا۔ وہ باغ کے گرد مٹی کی دیوار کے مختصر سائے میں سستانے لگا۔ اس کا جسم پسینے میں بھیگا تھا۔ وہ رومال سے چہرہ صاف کرتا رہا۔
وہ آم کے باغ میں نہیں گھسا۔ دیوار کے ساتھ نیچے اترنے والے راستے پر چلنے لگا۔
ذرا سا دور کھجور کا باغ تھا۔ زمین پر درختوں کے سائے اک دو سرے میں الجھے تھے۔
اب میر واہ نزدیک تھی۔ آم کا باغ پیچھے رہ گیا۔ مٹی کی دیوار غائب ہوگئی اور کھجور کا باغ داہنی طرف مڑ گیا۔
اس نے پانی کے بہنے کی آواز کو سنا اور فضا میں چڑیوں اور ابابیلوں کو اڑتے ہوئے دیکھا۔
تھوریلی زمین کا قطعہ عبور کر کے وہ میر واہ کے کنارے پہنچ گیا۔
اس نے کلہاڑی اور رسی پھینکی۔ چپلیں اتار کر نہر کے پانی پر جھک گیا۔ وہ اپنی اوک سے گھونٹ بھرتا رہا۔ اس نے اپنے سرکو اچھی طرح دھویا اور چہرے پر چھپا کے مارتا رہا۔
جسم سے گرمی کا بوجھ اور سفر کی تھکان اتر گئی۔
رسی اور کلہاڑی کو رومال سے باندھ کر اس نے دوسرے کنارے پر پھینکا۔ قمیض کا گولا بنا کر اسے اچھالا اور شلوار کو رانوں تک کھینچ کر اس نے چھلانگ لگائی اور تیرتے ہوئے نہر عبور کی۔
اس نے ٹانگوں پر رومال باندھ لیا اور اپنے کپڑے ایک درخت کے تنے پر لٹکا دیئے۔
وہ نہر کے کنارے درختوں کی قطار کو ٹٹولنے لگا۔
اس نے شیشم کی لکڑی کی تعریف سنی تھی۔ اسے افسوس ہوا کے آری نہ ہونے کی وجہ سے وہ موٹے تنے والے شجر کا انتخاب نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے دبلے پتلے درخت کو منتخب کیا۔
یہ درخت انگریز کے زمانے میں نہر کی کھدائی کے وقت لگائے گئے تھے۔ اس لیے ان کی لکڑی زیادہ ٹھوس تھی۔ مگر جیون کو کلہاڑی سے زیادہ اپنی قوت پر اعتماد تھا اور اپنی پر خلوص محبت پر۔
وہ گول تنے پر وار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر میں نہر کے پانی سے حاصل ہونے والی تازگی کافور ہوگئی۔ آدھے گھنٹے میں وہ تھک ہارا اور ہاتھ منہ دھو کر گھاس پر لیٹ گیا۔
کچھ دیر بعد اس نے مٹی میں ہاتھ رگڑ کر کلہاڑی اٹھائی اور درخت کاٹنے لگا۔
سخت لکڑی آہستگی سے کٹ رہی تھی۔
ایک بار جھنجھلا کر اس نے سوچا کہ اپنا سرکیوں نہ کاٹ لے۔ لیکن اسے گلاں کی گداز چھاتی یاد آئی اور نرم ہونٹ۔ وہ اور شدت سے کلہاڑی چلانے لگا۔
سنہری دھوپ زرد پڑ گئی اور آسمان پھر سے نیلا ہو گیا۔ لُو کے جھونکے خوشگوار لگنے لگے اور زمین کی حدت قابلِ برداشت ہو چلی۔
جیون نے مویشی ہانکتے چرواہے کو نہیں دیکھا۔ جو حیرت سے اسے تکتا قریب سے گزر گیا۔ اس نے سفید گھا گھرے پہنے، کمر پر گھڑ ے لٹکائے بلوچ عورتوں پر بھی توجہ نہیں کی۔
بہت وقت گزر گیا۔ جب اسے محسوس ہوا کے درخت ایک ہی دھکے سے گر جائے گا۔ تو اس لمحے وہ خود زمین پر ڈھے گیا۔ اور لمبے لمبے سانس بھرنے لگا۔
اپنا نیم عریاں جسم دیکھ کر وہ چونکا اور اس نے فورًا کپڑے پہن لیے۔
ایک ہلکی ضرب کے بعد اس نے گرتے درخت کی زد سے اپنے آپ کو بچایا۔
اس نے رسی کا ایک سرا تنے کے درمیان باندھا اور دوسرا کمر کے ساتھ۔ درخت کو نہر کے بند سے لڑھکایا اور خود بھاگتا ہوا نیچے پہنچا۔
جھک کر پورے جسم کا زور لگاتے ہوئے جیون اسے گھسیٹنے لگا۔
سورج پہاڑی والے قلعے کے پیچھے ڈوب گیا تھا، جب وہ بازار پہنچا۔ بہت سی دوکانیں بند ہو چکی تھیں۔ بازار والی گلی میں برائے نام لوگ جوتیاں گھساتے گھوم ر تھے۔ ان کے چہرے سوئے تھے اور لہجوں میں خمار بھرا تھا۔
ٹال آخری کونے میں واقع تھا۔ وہ بازار سے گزرا تو گلی غبار سے اٹ گئی۔ تنا گھسیٹنے کی آواز چاروں طرف پھیل گئی۔
دروازوں کی کنڈیاں اتریں۔ کھڑکیاں کھل گئیں۔ آنکھیں بازار میں جھانکنے لگیں۔
تھوڑے سے لوگ باہر نکل آئے اور دوکانوں کے تھڑوں پر کھڑے ہو گئے۔ وہ سب حیران تھے اور ایک اجنبی کو ثابت پیڑ گھسیٹتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔
ٹال کا مالک آواز کی ٹوہ لینے باہر نکلا۔ پیٹھ کھجاتا اس کا ہاتھ رک گیا۔ اس نے پہلے آنکھیں مچ مچا کر دیکھا اور اس کے بعد پھٹی آنکھوں سے۔ وہ مسکرایا اور پھر ہنستا ہوا کھاٹ پر جا بیٹھا۔
اس نے لکڑیا ں کاٹتے مزدوروں کو بلایا اور انہیں ٹال سے باہر بھیج دیا۔

جیون ٹھہر گیا۔ بہ دقت اس نے کمر سیدھی کی۔رسی کھول کر دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا وہ ٹال کے مالک کے پاس پہنچا۔ اس نے کچھ کہنا چاہا مگر بول نہ سکا۔ درخت کی طرف اشارہ کر کے رہ گیا۔
مالک پورے درخت کا معائنہ کرنے لگا۔ جب کہ جیون کھاٹ پر جا گرا۔ اس کی کمر جیسے ٹوٹ گئی ہو اور ایک ایک عضو اپنی جگہ سے اکھڑ گیا ہو۔ اسے کچھ ہوش نہیں رہا۔ وہ صرف آسمان کو گھورتا رہا۔ سانسیں بحال ہوئیں تو بڑی مشکل سے وہ اٹھا اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ وہ لکڑی کے برادے میں دھنسے سٹکے کے پاس گیا اور پانی کے چار پانچ کٹورے چڑھا گیا۔
مالک کھیسیں نکالتا اس کے سر پر آ کھڑا ہوا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ اسے لکڑی کے بارے میں بالکل پتہ نہیں تھا۔ ورنہ وہ فرنیچر کی بہترین لکڑی ٹال پر نہیں لے کر آتا۔
وہ افسوس کرتے ہوئے بولا۔ ’’پورا درخت گیلا ہے۔ نہر سے کاٹ کر لائے ہو؟‘‘
جیون نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’سوکھنے میں مہینہ لگ جائے گا۔ جلتے ہوئے دھوا ں بہت نکالیں گی اس کی لکڑیاں۔ کوئی اور درخت لے کر آتے شیشم کیوں کاٹ لیا۔‘‘ وہ اس کے چہرے کو غور سے دیکھتا رہا۔
’’پیسوں کی ضرورت تھی۔‘‘ اس نے کہا۔
‘‘کتنے؟‘‘
’’کم از کم ہزار روپے کی۔‘‘ وہ جھجھکا۔
ٹال والا ہنسنے لگا۔ ’’چریا سائیں۔ یہ تو سوکا بھی نہیں۔‘‘
’’تم جھوٹ بول رہے ہو۔‘‘
’’چلو، تمہاری محنت کے صدقے سو روپے دے دوں گا۔‘‘
’بہت کم ہیں۔‘‘
’’سوچ لو۔یہاں دوسرا خریدار بھی نہیں ہے میرے سوا۔‘‘ وہ زیرِ لب مسکرایا۔
جیون بے بس ہو گیا۔ اس قصبے میں دوسرا ٹال نہیں تھا اور یہاں فرنیچر بھی نہیں بنتا تھا۔
ٹال کا مالک مشکل سے ڈھائی سو روپے دینے پر تیار ہوا۔
وہ رقم جیب میں ڈال کر افسردگی سے سرہلاتا ٹال سے باہر آیا۔

وادھو لال زرگر شام کا سایہ پھیلنے سے پہلے ہی دوکان بند کر لیتا تھا۔ اسے امید تھی کہ اگر وہ مل گیا تو پازیب ادھار پر بنوائی جا سکتی تھی۔
بازار والی گلی میں وہ بند دوکانوں کو ٹٹولتا رہا۔
بہت دور ہوٹل سے نکلتی روشنی نے پختہ زمین پر چوکھٹا بنایا ہوا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا وہاں تک پہنچا اور چوکھٹے میں کھڑا ہو کر اندر جھانکنے لگا۔
اسے چائے کی طلب محسوس ہوئی اور وہ ہوٹل میں جا بیٹھا۔
دو چار لوگ قصبے سے ڈھائی کوس دور ہونے والی مرغوں کی میل پر تبصرہ کر رہے تھے۔
وہ کچھ دیران کی باتیں سنتا رہا۔ پھر گلاں کے بارے میں سوچنے لگا۔ وہ پریشان ہوگیا کیوں کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا۔ وہ اب تک ہر فرمائش پوری کرتا رہا تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ اگر وہ روٹھ گئی تو اسے کس طرح منانا پڑے گا۔ زمین پر ناک سے لکیریں نکال کر یا اس کے پیروں کو چوم کر۔
اس نے چائے کا آخری گھونٹ بھرا اور جیب سے دو روپے کا نوٹ نکال کر ہوٹل والے کو تھمایا۔

پنکھا بند ہوتے ہی گُلاں کی نیند ٹوٹ گئی۔ اس نے آنکھیں ملیں، جماہی لی اور اٹھ بیٹھی۔
دھوپ کی حدت سے کمرہ تپ گیا تھا۔ بستر، تکیہ۔ اس کا جسم، حتیٰ کہ اس کا لباس بھی گرم ہو گیا تھا۔
وہ لمبے سانس بھرتی بکھرے بال سمیٹتی رہی۔
صحن میں لُو کی سر سراہٹ کے سوا کوئی آواز نہ تھی۔
اس نے الماری سے ہاتھ والا پنکھا نکالا اور جھلنے لگی۔
چہرے کا پسینہ سوکھ گیا اور جسم کے دوسرے حصوں میں چھپی بوندیں سرد ہوگئیں۔
وہ کمرے سے نکلی اور دھوپ میں پڑی کھاٹ کو دیوار کے سائے میں گھسیٹ لیا۔ وہ ناچار بیٹھ گئی کیوں کہ باہر کی فضا میں حبس نہیں تھا۔ کچھ دیر بعد وہ ٹانگیں پسار کر لیٹ گئی۔
وہ پہلے آسمان کو تکتی رہی، پھر کروٹ لے کر زمین کو گھورنے لگی۔ وہ سوچنے لگی۔ جیون درخت کاٹ چکا ہوگا۔ شاید اب اسے کوٹ بنگلے لے جارہا ہو۔ اس نے اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ اسے کتنا فاصلہ طے کرنا پڑے گا۔
فاصلہ زیادہ تھا۔ وہ اندازہ نہ لگا سکی تو اٹھ بیٹھی۔ اس نے دیوار سے تکیہ لگایا اور اپنی پیٹھ رکھ کر اپنے پاؤں دیکھنے لگی۔
اس کے پیر چھوٹے اور بھرے بھرے تھے۔ وہ نرم ایڑیوں کو دباتی رہی۔ اس نے پرانی پھنسیوں کے سانولے د اغوں کو نظر انداز کر دیا۔
وہ اپنے بدصورت پیروں کا حسین تصو رباندھتی رہی۔ اس نے خود کو صحن میں، گلی میںاحتیاط سے چلتے دیکھا۔ اس نے تحسین بھری نظروں کوپاؤں کو گھورتے دیکھا۔ اس نے میٹھی میٹھی سرگوشیاں سنی اور رشک بھرے جملوں پر مسکرائی۔
وہ غسل خانے میں چوکی پر جا بیٹھی۔ صابن سے رگڑ رگڑ پاؤں دھونے لگی۔

گُلاں شام تک نہا کر تیار ہو چکی تھی۔ اس نے عروسی لباس پہن لیا گرچہ اس کی سرخی ماند پڑ چکی تھی۔
اس نے زیوروں والا ڈبہ صحن میں چار پائی پر رکھ دیا اور ایک ایک چیز کو غور سے دیکھنے لگی۔
اس نے داہنی کلائی میں کانچ کی سرخ چوڑیاں پہنیں اور بائیں طرف والی میں سبز۔ اس نے پرانے کانٹے اتار دیے اور گلاب کی پتیوں کے ڈیزائن والے جھمکے پہن لیے۔
وہ زیورات کو کپڑے سے صاف کرتی رہی۔ ننھے سوراخوں میں پھونکیں مار کر مٹی اڑاتی رہی۔
وہ لدی پھندی صحن میں ٹہلتی جیون کا انتظار کرتی رہی۔ وہ اپنے لباس کی سرسراہٹ اور چوڑیوں کی کھنک کو غور سے سنتی جیون کے بارے میں سوچتی رہی۔
اندھیرا بڑھنے لگا تو اس نے بتی جلا دی۔ پھر گلی کی معدوم ہوتی آوازوں پر کان لگائے وہ کھاٹ پرجا بیٹھی اور پریشان نظروں سے بار بار دروازے کی طرف دیکھنے لگی۔
قدموں کی آہٹ سن کر وہ چونک پڑی۔ اس نے کنڈی کھولی تو دھک سے رہ گئی۔
باہر کپاس کے کارخانے کا منیجر کھڑا تھا۔
وہ جیون کے بارے میں پوچھنے لگا۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اور اس کی آنکھیں بنی سنوری گلاں پر ساکت تھیں۔
چھوٹے قد کے داڑھی والے آدمی کو دیکھ کر اس نے دروازہ بھیڑ لیا۔ وہ چھٹی مرتبہ اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔ جیون کو جب بھی کارخانے پہنچنے میں دیر ہوتی، وہ فورُا آدھمکتا۔
’’گھر پر نہیں وہ۔‘‘ گھبرائے لہجے میں گلاں نے کہا۔
’’کدھر گیا ہے ؟‘‘ منیجر نے کھنکارتے ہوئے کہا۔
پازیب لینے کوٹ بنگلے گیا ہے۔ وہ بات نہ بنا سکی۔ چند لمحوں کے بعد اسے احساس ہوا کہ اس نے غلط بات کہہ دی۔
’’بہت خیال رکھتا ہے تمہارا۔‘‘
گلاں نے ہنسنے کی آواز سنی اور خاموش رہی۔
’’کیا تمہیں پازیب اچھی لگتی ہے؟‘‘
وہ سوچنے لگی کہ کیا جواب دے پھر بولی ’’تمہارا کیا جائے؟‘‘
’’کچھ نہیں ظاہر ہے۔ حسین عورتوں کو حسین چیزیں اچھی لگتی ہیں۔‘‘
اس بار بھی وہ کچھ نہیں بولی۔ وہ حیران تھی کہ ابھی تک منیجر کھڑا کیوں تھا۔ گر چہ اس کا جملہ سن کر وہ خود کو مسکرانے سے نہیں روک سکی تھی۔ غیر مرد سے گلاں نے پہلی مرتبہ اپنی تعریف سنی تھی۔
وہ خوامخواہ ہنسا اور خدا حافظ کہہ کر چلتا بنا۔

گلاں نے دروازے کا پٹ کھول کر اسے جاتے ہوئے دیکھا۔
کنڈی چڑھا کر وہ باورچی خانے میں جا بیٹھی۔
کچھ دیر وہ منیجر کے متعلق سوچتی رہی۔ اسے وہ عجیب و غریب لگتا تھا۔ گلی سے اور کارخانے کے قریب سے گزرتے ہوئے کئی مرتبہ اسے دیکھ چکی تھی۔ وہ ہمیشہ سفید کپڑوں پر واسکٹ پہنتا تھا اور اس کی آنکھوں پر موٹے شیشوں والی عینک لگی رہتی تھی۔
اسے جیون کا خیال آیا تو وہ خود کو ملامت کرنے لگی۔ اس نے ٹھنڈا سانس بھرتے ہوئے توے سے روٹی اتاری۔
یہ سوچ کر وہ مسکرائی کہ آج اس کے قیمتی ڈبے میں ایک نئے زیور کا اضافہ ہو جائے گا۔

جیون کپاس کے کارخانے کی روشنیوں سے چھپتا گلی میں داخل ہوا۔ وہ خالی ہاتھ لوٹنے پر افسردہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے چلنے کی آواز نہ ہو۔ اس لیے احتیاط سے چلتا رہا۔ دستک دینے سے پہلے وہ اندر جھانکنے کی کوشش کرتا رہا۔
گلاں نے بھاگ کر دروازہ کھولا۔
جیون کی مسکراہٹ کے باوجود اس نے بھانپ لیا کہ وہ پازیب کے بغیر آ گیا تھا۔
پھر بھی اس نے اپنے شوہر سے سوال کر دیا۔
وہ ہاتھ منہ دھو کر تازہ دم ہونا چاہتا تھا۔
گلاں راستے میں کھڑی ہو کر جواب مانگنے لگی۔
’’کل تک مل جائے گی۔‘‘ اس نے جھوٹ بول دیا۔ اصل واقعہ بیان کرنے سے ناراضگی بڑھ سکتی تھی۔
’’آج کیوں نہیں لائے۔ تم نے وعدہ کیا تھا۔‘‘
’’وادھولال کے پاس بنی ہوئی پازیب نہیں تھی۔‘‘ جیون نے گلاں کو غور سے دیکھا تو دیکھتا رہ گیا۔اس کے دل میں ہوک اٹھی۔ اسے آج کی رات فیکٹری میں گزارنی تھی۔
جھوٹ تو نہیںبول رہے۔ گلاں نے تسلی کے لیے پوچھا۔
’’نہیں‘‘
اسے یقین نہیں آیا۔
کھانا کھاتے ہوئے اس نے اپنی بیوی کی خوب تعریفیں کیں۔
گلاں ہنسنے لگی۔ اس نے منیجر کی آمد کے بارے میں اسے بتا دیا۔ لیکن اس کی ٹیڑھی میڑھی باتوں کے متعلق کچھ نہیں بتایا۔
جیون درخت کاٹنے اور بازار میں اس کی فروخت کا قصہ سنانے لگا۔
گلاں نے درمیان میں ٹوک دیا کہ اسے فیکٹری جانے میں دیر ہو گئی تھی۔

کارخانے کے سبز رنگ پھاٹک پر جیون کی مڈبھیڑ منیجر سے ہو گئی۔
وہ عینک کے شیشوں سے آنکھیں نکالتے ہوئے بولا۔ ’’میری ڈھیل کا ناجائز فائدہ مت اٹھاؤ۔ سیٹھ سے شکایت کردی تو نوکری چلی جائے گئی۔‘‘
’’کوٹ بنگلے گیا تھا کام سے۔‘‘
’’کام ہوا یا نہیں۔‘‘
’’نہیں۔‘‘
منیجر ہنسا۔ ’’بہانے بازی نہیں چلے گی جیون۔‘‘
اس کی بات سنے بغیر جیون چوکیداروں والے دفتر کی طرف چلا گیا۔

کارخانہ بند تھا۔ کپاس کی فصل کے تیار ہونے میں تین مہینے تھے۔ ساری زمین گانٹھوں سے پٹی ہوئی تھی۔
مین دروازے کی روشنیاں پیچھے رہ گئیں۔ جیون گانٹھوں کی بھول بھلیاں میں داخل ہوا۔ وہ انہیں غور سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے جسم کے اندر کوئی وزنی چیز اٹھانے کی طاقت نہیں بچی تھی۔ اس کے پاؤں سوجے ہوئے تھے۔ اور کندھوں میں درد تھا۔
اس نے ٹارچ روشن کر لی اور فیکٹری کے اطراف نگاہ دوڑانے لگا۔
گھوم پھر کر وہ تیل کے گودام کی سیڑھیوں پر بیٹھ گیا۔ اور تھکی آنکھوں سے کارخانے کی دیواروں کو دیکھنے لگا۔
ہر ایک شے باریک سیاہ ریشمی کپڑے میں ملفوف دکھائی دی۔ دیواروں کے اوپرے کناروں پر شیشے کانٹوں کی طرح ابھرے تھے۔ ٹوٹے ہوئے شیشوں کے اوپر لوہے کی تاریں تھیں۔ پھر کالے آسمان کی حد شروع ہو جاتی تھی۔ جس پر ستارے کھلے تھے اور جو اس کے سر کے اوپر تک پھیلا تھا۔
پورا منہ کھول کر جیون نے جماہی لی اور سر گھٹنوں میں دے دیا۔
ابھی دکھن کی ہوا نہیں کھلی تھی۔ فضا میں تیل، کپاس اور سیم زدہ زمین کی تیزبورچی تھی۔
وہ آنکھیں مسلتا اٹھ بیٹھا۔ زور زور سے سیٹی بجانے لگا۔
اس نے خود کو ہوشیار کیا کہ ایک لمحے کے لیے آج رات غافل نہیں ہونا تھا۔
وہ مین دروازے سے چائے کی دو پیالیاں پی کر لوٹا تو خود کو تازہ محسوس کر رہا تھا۔
اس نے فیکٹری کے قریب ایک گانٹھ کو منتحب کیا۔ اسے معلوم تھا کہ واردات کے لیے کون سا وقت مناسب تھا۔
چہل قدمی کرتے رہنے کی وجہ سے وہ تھک گیا۔ وہ گانٹھوں کے انبار پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ مدہم ہوا چلنے لگی تھی۔ اس نے ٹانگیں پسار لیں اور ستاروں کے راستوں کی ٹوہ لینے لگا۔
جیون کے جسم نے کروٹ لی۔ وہ گرنے والا تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے مشرق میں آسمان کی زمینی سرحد کے قریب سفید لکیر کو دیکھا تو اپنا ہونٹ کاٹ لیا۔
رومال سے خون صاف کرتے ہوئے اس نے خود کو بہت گالیاں دیں۔
ڈنڈا، سیٹی اور ٹارچ سنبھالتا وہ نیچے اترا اور گانٹھوں کے درمیان گھومتا پھرا۔
ذرا سی دیر میں پچاس کلو گرام وزنی گانٹھ کو دیوار تک لے جانا اور دوسری طرف پھینکنا بہت مشکل تھا۔
سفید لکیر دھیرے دھیرے شگاف بنتی گئی اور سارے میں اجالا پھیلنے لگا۔
جیون گودام کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر مچھروں کے کاٹے کو کریدتا رہا۔ اس کا چہرہ سرخ دھبوں سے اٹ گیا تھا۔ اور دو تین جگہوں سے لہو نکل آیا تھا۔
سیٹی کی لمبی آواز سن کر وہ چونکا اور سر جھکا کر چلنے لگا۔
ہیڈ چوکیدار اسے دیکھ کر مسکرایا۔ ’’ نیند کم کیا کرو۔‘‘
وہ خوشامد کرتے ہوئے ہنسا۔ ’’میں تو جاگتا رہا تھا۔‘‘
’’آئینے میں چہرہ دیکھ لو اور ہاں، منہ اچھی طرح دھولینا۔‘‘ اس نے سگریٹ سلگایا۔

گلاں نے روکھے لہجے میں اس کا حال پوچھا۔
وہ باورچی خانے میں اس کے قریب جا بیٹھی اور اسے خوش کرنے کے لیے اِدھر اُدھر کی ہانکنے لگا۔
کوئلے ایک ہی پھونک سے جل اٹھے۔ اس نے پتیلی چولہے پر رکھ دی۔
جیون نے اپنی بیوی کے لباس کی شکنوں کو دیکھا اور اس کے جسم کی ایک رات کی بے چینی کا تصور کیا۔
رات بھر سوتے رہے اور مچھروں نے تمہارا چہرہ کاٹ لیا۔
جیون ادبدایا۔ وہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھا کہ ملازمت کے دوران وہ نیند کرتا تھا۔
گلاں ہنسنے لگی۔ پازیب لینے کب جاؤ گے۔ اس نے دوپٹے کی مدد سے پتیلی کو اتارا۔
ہاں، ابھی جاؤں گا۔ وہ پازیب کے بارے میں سوچنے لگا۔
جیون آرام کرنا چاہتا تھا۔ کل رات گانٹھوں پر نیند کچھ پر سکون نہیں تھی اور نجانے کتنی دیر کے لیے تھی۔ ہڈیوں کی دکھن اور جوڑوں کے درد کی وجہ سے محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ اسے نیند آئی بھی تھی۔ اس نے غسل نہیں کیا اور نہ ہی کپڑے تبدیل کئے۔ ناشتے کے بعد گُلاں کے رویے سے اس نے اندازہ لگا لیا کہ پازیب کے آنے تک وہ اسے گھر میں دیکھنے کی روادار نہیں تھی۔

جیون اپنی بے خواب سرخ آنکھوں اور میلے کچیلے کپڑوں کے ساتھ گھر سے نکلا۔ اسے معلوم تھا کہ مہینے کے ختم ہونے میں پانچ دن باقی تھے اور اس کی تنخواہ آخری دموں پر تھی۔ کارخانے والوں سے وہ پہلے ہی شادی کے لیے ایک تگڑی رقم ایڈوانس کے طور پر لے چکا تھا۔ وہ اپنے یاروں کا چھوٹا موٹا قرضہ اتارنے میں ابھی تک ناکام رہاتھا۔
گلی کی مٹی رات کی اُوس سے بھیگی ہوئی تھی۔ گھلی ہوئی سرخ اینٹوں والے مکان زندگی کی دھیمی آوازوں سے بھرے تھے۔ صبح کے وقت آسمان کچھ مہربان لگ رہا تھا۔ ہوا کے جھونکوں میں خفیف ٹھنڈک تھی۔ سورج کی کرنوں کی تپش برداشت کی حد میں تھی ٹوٹی پھوٹی سڑک کے دوسری طرف سیم کے پانی اور بے رنگ جھاڑیوں کا منظر سہانا معلوم ہوتا تھا۔
وہ سڑک پر کچھ دیر گم صم کھڑا، دائیں بائیں دیکھتا رہا۔
کارخانے کا پھاٹک نیم وا تھا۔ ساتھ والی دوکان کھلی ہوئی تھی۔ خادم کے ہوٹل پر دو چار لوگ جوا کھیل رہے تھے۔ پتھروں سے بھرا ٹرک گردو غبار اڑاتا اس کے نزدیک سے گزرا۔
وہ خادم کے ہوٹل کی چرخ چوں بینچ پر جا بیٹھا۔ جوا کھیلنے والوں نے ایک نظر اسے دیکھا۔ دو چار فقرے پھینکے اور کھیل میں مصروف ہوگئے۔
خادم اس کے پاس آبیٹھا۔ علیک سلیک کے بعد وہ ہارنے اور جیتنے والوں کے بارے میں اسے بتانے لگا۔
جیون بے دھیانی سے اس کی باتیں سنتا رہا۔ اس نے کبھی اس کھیل میں حصہ نہیں لیا تھا۔ آج وہ کھیلنا چاہتا تھا۔ مگر خوف بھی محسوس کر ہا تھا۔ قواعد اور ضابطوں کے بارے میں اسے کچھ معلوم نہیں تھا۔ اناڑی پن کی وجہ سے اسے اپنا جتینامحال دکھائی دیتا تھا۔
اس نے دیکھا کہ تمام جواری ایک، دو اور پانچ روپوں سے کھیل رہے تھے اور وہ سب مزدور لوگ تھے۔
کئی مرتبہ اسے شریک ہونے کی دعوت دی گئی مگر اس نے صاف انکار کر دیا۔
نا دانستہ طور اس نے اپنی جیب کو ٹٹولا۔ نوٹوں کے لمس کو محسوس کرتے ہوئے اس نے خود کو چاک و چوبند محسوس کیا۔ اس نے پانی کے دو گلاس پیے اور خادم کو دودھ پتی بنانے کو کہا۔
چائے پینے کے بعد اس نے خادم سے کلہاڑی اور رسی مانگی۔ اس نے فورُا وہ چیزیں اس کے حوالے کر دیں۔
کلہاڑی کے تیز پھل پر شہادت کی انگلی پھیرتے ہوئے اس نے ایک اور درخت کاٹنے کا منصوبہ بنایا۔
اس نے ضلعی صدر مقام کے بارے میں سوچا، جس کی آبادی کے درمیان سے دو نہریں گزرتی تھیں اور اطراف میں کچھ باغات بھی تھے۔
اوپر نیچے لوگوں سے لدی پھندی ایک سوزوکی ہوٹل کے قریب ٹھہری۔ کچھ لوگ اترے۔ جیون اس کی چھت پر سوار ہوگیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ضلعی صدر مقام سے اچھی اور سستی پازیب مل جائے گی۔ اور آج شام تک وہ گلاں کی کھوئی محبت کو دوبارہ حاصل کر سکے گا۔
مکانوں سے نکلتا دھواںگلی کے اطراف میں ٹھہر گیا۔ آوازیں پہلے مدھم ہوئیں اور پھر ختم ہوتی چلی گئیں۔آسمان سرمئی پرندوں سے خالی ہو گیا۔

گلاں نے دوپہر کے کھانے پر جیون کا انتظار کیا۔
وہ کھاٹ پر لیٹی رہی مگر سو نہ سکی۔
اس نے شام کی چائے بنائی اور پریشانی میں دو پیالیاں پی گئی۔
اس نے ذرا دیر پہلے کھانا گرم کیا لیکن وہ بھی ٹھنڈا ہو گیا اور جیون نہیں لوٹا۔
غسل خانے میں جاکر اس نے تین مرتبہ اپنے پاؤں دھوئے۔ جیون کی واپسی کے بعد اسے سونے کی پازیب پہننی تھی۔ اسے دھڑکا لگا ہوا تھا کہ کہیں آج بھی کارخانے کا منیجر جیون کے متعلق پوچھنے ادھر نہ نکلے۔
ایک بار پھر وہ کھاٹ سے اٹھ کر دروازے تک گئی۔ذرا سا کھول کر گلی میں جھانکنے لگی۔
کوئی شخص آتا دکھائی دیا۔ وہ نیم تاریکی میں پہچان نہ سکی۔
غور سے دیکھنے پر اسے پتہ چل گیاکہ وہ جیون نہیں تھا۔ وہ دروازہ بند کر کے دیوار سے لگ کر کھڑی ہوگئی۔ اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔
پہلے قدموں کی چاپ سنائی دی، پھر کھنکارنے کی آواز اور پھر دھیمی سی دستک۔
وہ کارخانے کا منیجر تھا۔ اس نے چھوٹتے ہی جیون کے متعلق پوچھا۔
گلاں نے گھبراہٹ میں دروازے کے پٹ زیادہ کھول دیے۔ اس نے جھکی نظروں سے نفی میں سر ہلایا۔
وہ ہنسا۔ اس نے واسکٹ کی جیب سے کپڑے کی سرخ تھیلی نکالی۔ ’’حسین عورت کے لیے حسین تحفہ۔‘‘ اس نے دروازے کی طرف سرکتے ہوئے کہا۔
گلاں نے اس کی بات نہیں سنی۔ بے دھیانی میں اس نے ہاتھ بڑھا دیا۔
منیجر نے اپنے کھردرے ہاتھ میں اسے جکڑ لیا۔
وہ چونکی۔ اس نے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا اور فو راًاسے چھڑوالیا۔
تھیلی زمین پر جاگری۔
گلی کے کونے پر ایک سایہ نظر آیا۔
’’جیون آگیا۔ میں چلتا ہوں پھر آؤں گا۔‘‘ یہ پازیب اٹھا لینا۔ وہ دروازے سے سٹک گیا۔
گلاں نے تھیلی اٹھائی۔ بھاگ کر اندر کی روشنی میں اسے کھول کر دیکھا۔ سونے کی پازیب اور اس میں جڑے سفید نگینے اسے بہت اچھے لگے۔ اس نے فورا تھیلی کو صندوق میں چھپا دیا اور جیون کا انتظار کرنے لگی۔

Image: Anwar Maqsood

Categories
تبصرہ

مرزا اطہر بیگ کے ناول غلام باغ کا مختصر جائزہ

اردو ناول کی سو سوا سو سال پرانی تاریخ میں ہمیں اکا دکا علامتی اور تجریدی ناول تو مل جائیں گے،شاید ایک آدھ اینٹی ناول بھی مل جائے، مگر ایسا ناول شاید ہی ملے جو اپنے اندر بہ یک وقت کئی رجحانات سموئے ہوئے ہو۔ یعنی وہ بہ یک وقت حقیقی بھی ہو، علامتی اور تجریدی بھی ہواور اینٹی ناول بھی ہو۔اسے ہماری یا اردو زبان کی خوش نصیبی کہیے کہ اب ہمارے پاس غلام باغ کی صورت میں ایک ایسا ناول آگیا ہے جو نہ صرف حقیقت، علامت، تجرید اور ان سے بہت آگے کی سرحدوں میں بھی آزادی سے گھومتا ہے بلکہ وہ ان سرحدوں کو پھلانگ کر بسا اوقات ایسے مقامات پر بھی جا نکلتاہے، جن مقامات پر پہنچنے کی حسرت تمام زبانوں کے ناول کرتے رہے ہیں۔
غلام باغ Amorphousہوتے ہوئے بھی Amorphous نہیں ہے۔ یعنی بے ہیئت، بے شکل، کسی بھی متعین فارم کے بغیر۔ جو یہ ناول ہے بھی اور نہیں بھی۔کیوں کہ اس میں ایک انتہائی دل چسپ پلاٹ بھی موجودہے۔ جیتے جاگتے ذی شعور کردار بھی ہیں، جن کی زندگی میں نت نئے انوکھے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ہر کردار کے ذاتی ماجرے میں ایک ارتقا اور تغیر بھی صاف دکھائی دیتا ہے اور وہ سب کے سب ایک انجام سے بھی دوچار ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے توغلام باغ ناول کی عمومی روایت سے بغاوت کرکے بالکل الگ اور نئی ڈگر پر چلتا ہوامحسوس ہوتاہے۔اس کی روایت سے یہ بغاوت صرف اسلوب اور فارم کی سطح پر ہی نہیں ہے بلکہ یہ ہمیں موضوع اور مواد سے جڑے عمیق اور گہرے خیالات اور تصورات کے حوالے سے بھی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

ابتدا میں جب ناول کا مرکزی کردار کبیر مہدی یہ کہتا ہے؛ وقت کا کوئی وجود ہی نہیں، یہ محض ایک واہمہ ہے۔تو ہم ناول میں آگے چل پیش آنے والے واہمے جیسے واقعات سے گزرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔جو پے درپے رونما ہوتے چلے جاتے ہیں۔ناول کے تقریباً سبھی کردار اپنی ذات میں اپنی طرح کے دانشور ہیں، جو اپنے گردوپیش کی سبھی چیزوں کی گہرائی میں جاکر غوروفکر کرتے ہیں۔ وہ سب کے سب بہت زیادہ خود آگاہ ہوتے بھی اپنی زندگی میں پیش آنے والے ناگہاں واقعات کا دھارا رتبدیل کرنے کی صلاحیت سے یکسر محروم رہتے ہیں۔ واقعات کا یہی بے رحم دھارا ان کی تقدیر کا فیصلہ بھی کرتا ہے۔ان کی قسمت انہیں بھیانک انجام سے دوچار کرتی ہے۔وہ سب کے سب میرے خیالل میں ایسے سنگین اور بھیانک انجام کے مستحق نہیں تھے۔

یہ ناول دو اہم اصطلاحوں، جو دو مختلف مکاتبِ فکر کی نمائندگی کرتی ہیں، کے محور پر گھومتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ پہلی اصطلاح ’’ ارزل نسلیں‘‘ ہے۔ گرچہ ناول نگار نے ان کی تاریخ سے بہ درجہ اتم آگاہ کیااور مانگُر جاتی کے پُگلوں اور کاچھروں سے تعلقات کی تاریخ تفصیل سے بیان کی ہے۔مانگُر جاتی چونکہ پچھڑی اور دُھتکاری ہوئی ہے اور سماجی سطح پر اپنی ایکِ حیثیت بنانے کی خواہش ِ ناکام سے کئی صدیوں سے لبریز ہے مگر رزالت اور بے توقیری اس جاتی کے لوگوں کا ازلی و ابدی مقدر رہا ہے۔کئی نسلوں کی تذلیل اور بے توقیری کے بعد اس نسل سے تعلق رکھنے والا ایک شخص خادم حسین، جو ڈاکیہ ہے۔ وہ عمر بھر سائیکل پر ڈاک تقسیم کرتا رہا۔ وہ اپنی موت سے پہلے ’ گنیجینہِ نشاط ‘‘ نامی مسودہ اپنے بیٹے یاور حسین کو سونپ کر جاتا ہے۔یاور حسین، مانگر جاتی کا نمائندہ ہے۔سماجی سطح پر ابھرنے کی صدیوں پرانی خواہش کی تکمیل وہ اس گنجینہ نشاط نامی مسودے سے عملی استفادہ اٹھا کر کرتا ہے۔ وہ بڑے شہر کے اہم ترین رئوسا، جو اعلی طبقے کے بلند ترین مقامات پر براجمان ہیں، کو آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئیAphrodisiacs (جنسی ادویات)کاعادی بنا کر ایک منفرد سماجی مقام حاصل کرتا ہے۔مانگر جاتی سے تعلق رکھنے والے اس آدمی کی بلند ترین سماجی چھلانگ کی پہنچ صرف اعلی طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے خصیوں تک ہی ہوسکی۔جنہیں ہمہ وقت تقویت پہنچا نے کی وجہ سے یاور حسین کو عزت، دولت، شہرت سب کچھ مل جاتا ہے۔

ناول میں یاور حسین کے علاوہ کچھ اور کردار بھی ایسے ہیں مجھے جن کے مانگر جاتی سے متعلق ہونے پرشائبہ سا گزرتا ہے۔ ان میں کبیر مہدی، ڈاکٹر ناصر اور ہاف مین جیسے کردار ہیں۔ یہ تینوں پڑھے لکھے، عالم فاضل،ذہین و فطین لوگ ہیں۔ لیکن ذرا ان کی مصروفیات پر نظر ڈالیے تو یہ تینوں بھی اپنے مختلف شعبوں میں مختلف مقامات پر خصیہ برداری کا کام ہی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر فرق صرف اتنا ہے کہ انہیں اپنی حقیقت معلوم ہے کہ وہ کیا کررہے ہیں اور کیوں کررہے ہیں۔ جب کہ یاور حسین اس حقیقت سے یکسربے بہرہ تھا۔وہ خود فریبی میں مبتلا تھا کہ اس نے زندگی کا بلند ترین مقصد حاصل کرلیا ہے، مگر جب اس پر اپنی حقیقت منکشف ہوتی ہے، اسی لمحے اسے موت آلیتی ہے۔ہمارے معاشرے میں دونوں طرح کے خصیہ لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ساری اذیتیں، ساری تکلیفیں، ساری کُلفتین، ساری کوفتیں انہی بے چاروں کی قسمت میں لکھی گئی ہیں۔

ناول میں استعمال ہونے والی دوسری اصطلاح ’’خصی کلب‘‘، بھی اپنی ماہئیت میں خاصی وسعت کی حامل ہے۔ اس میں ہمارے تمام سماجی، سیاسی، غیر سیاسی،روحانی، مذہبی ادارے اورریاست کے تمام اہم ستون بھی شامل ہوجاتے ہیں۔اگرچہ یاور حسین کو جو مسودہ ملا تھا وہ بادشاہوں کی نشاط و عشرت کے لیے آزمودہ نسخوں پر مبنی تھا مگر وہ ان کاا ستعمال اسلامی جمہوریہ کے مقتدر طبقات کو جنسی قوت مہیا کرنے کے لیے کرتا ہے۔یہ خصی کلب بھی محض پُگلوں اور کاچھروں پر مشتمل نہیں ہے۔ اس میں نواب ثریا جاہ نادر جنگ، امبر جان اور دیگر پردہ نشین بھی آتے ہیں۔اس کلب کے میمبران کی اکثریت تخلیے میں رہنا پسند کرتی ہے۔خلوت میں جنسِ مخالف سے ہر ممکن لذت کشید کرنے کے یہ جویا، درحقیقت ارزل نسلوں کے جدی پشتی حکم ران ہیں۔جنہوں نے نسلوںکی نسلوں کو اپنی اسی کام پر مامور کر رکھا ہے۔ اس کلب کے ارکان ہمیشہ محفوظ و مامون رہتے ہیں۔ جب کہ موت صرف اور صرف ارزل نسلوں کے نمائندوں کامقدر ہے۔

کوئی بھی ناول آخر کار لفظوں کا ایک گورکھ دھندا ہی ہوتا ہے۔ غلام باغ میں استعمال ہونے والی زبان اردو فکشن کے دل داد گان کے لیے انتہائی غیر متوقع ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اردو فکشن میں چند جید قسم کے ادیبوں کے علاوہ،اکثریت کے ہاں زبان کا استعمال بہت حد تک روایتی،گھسا پٹااور یکساینت کا مارا ہوا ہے۔ مرزا اطہر بیگ صاحب نے اس ناول کے میں جو زبان برتی ہے، وہ نہ صرف بھرپور طور پر ناول کے مناظر، کرداروں کی کیفیات،ان کی ذہنی حالت، ان کے خیالات و تصورات کا پوری طرح ابلاغ کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہت کچھ ان کہی بھی چھوڑتی چلی جاتی ہے، یہ ان کہی قاری کے ذہن ہیجان برپا کرتی رہتی ہے۔اس ناول نے اردو فکشن میں برتی جانے والی تخلیقی زبان کو نئے امکانات سے روشناس کروایا ہے۔ناول میں بہت سے مقامات پر چیزوں اور لوگوں کے انوکھے نام اور انتہائی منفرد اصطلاحات گھڑی گئی ہیں۔ مثلاً لا لکھائی اور اس کے مصنف کا نا م گیگلااور اس سے بہت پہلے ننگا افلاطون، وغیرہ وغیرہ۔اس ناول کی تخلیقی زبان کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے ایک فرہنگ کا پورا دفتر درکار ہوگا۔ان کی زبان کو ندرت ان کے منفرد تخئیل کے ساتھ، ان کے کرداروں کے مختلف نقطہ ہائے نظر نے بھی دی ہے۔ان کے کردار اپنے جسمانی مینر ازم سے زیادہ اپنے خیالات اور تصورات کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ سب مکالمے کے ساتھ خودکلامی بھی کرتے ہیں۔کبیر مہدی کی ساری لا لکھائی ایک خود کلامی ہی تو ہے۔کبیر مہدی کے لب لہجے میں سنجیدگی اور متانت کے ساتھ طنز،استہزا، مزاح اور کامیڈی کا ملا جلا تاثر پایا جاتا ہے۔اور یہی عنصر ناول میں بہت سے مقامات پر Bleak صورت بھی اختیار کر لیتاہے۔مگر یہ گھمبیرتا ناول کی قرات کے دوران گراں نہیں گزرتی۔
عام طور پر زیادہ تر ناول بیانیہ میں ہوتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ ناول نگار مکالمے، خودکلامی، تقریر،منظر نگاری، تفصیل نگاری وغیرہ کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ جب ہم غلام باغ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیںاس کے زیادہ تر حصے طویل مکالموں اور خودکلامیوں سے پٹے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔اکثر کردار خودکلامی کے انداز میںاپنی روداد کہتے دکھائی دیتے ہیں۔ناول میں تمام خودکلامیاں اور طویل مکالمے ازحد دلچسپ ہیں۔ یہ طریقہ عالمی فکشن میں دوستوفسکی سے یادگار رہا ہے۔ اس کے تقریباً سبھی ناولوں میں سبھی کردار طویل مکالمے اور خودکلامیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔مرزا اطہر بیگ صاحب نے اردو میں ان طریقوں کو درجہ کمال تک پہنچا نے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا۔غلام باغ کے تمام ابواب اس بات کا منہ بولتا ثبوت پیش ہیں۔

کبیر کے نیلے رجسٹر میں زہرہ اس کا پہلاجملہ پڑھتی ہے۔’’ فکشن کے خالق کو خدا بننے کا اختیار کس نے دیا ہے؟‘‘خدا اس دنیائے رنگ و بو کاخالق ہے، جب کہ فکشن رائٹر اپنے فکشن کی دنیا کا خالق ہوتا ہے۔ یہ اختیا ر دونوں کے عمل میں چھپا ہوا ہے اور ان دونوں کے عمل سے ہی ظاہر بھی ہوتاہے۔غلام باغ کا غالب راوی یوں تو کبیر مہدی ہے لیکن اس کا ہم زاد بن کر اسی کے لب و لہجے میں یہ سرگوشیاں کون کرتا ہے۔ ناول میں سانس لیتے انسانوں کی زندگی اور موت پر حکم کون لگاتا ہے۔ ان کی موت کے طریقے،اس کے دن اور وقت کا تعین کون کرتا ہے؟یہ خدا تو ہو ہی نہیں سکتا۔پھر کون ہے۔ کوئی فکشن زاد ہی ہوگا۔

Categories
فکشن

سزائے تماشائے شہرِ طلسم

جب فاروق کے والد کا تبادلہ چھوٹے شہر سے بڑے شہر ہونے لگا،توجہاں اس کا دل بڑے شہر میں میسر آنے والی نت نئی رنگا رنگ تفریحات کے خیال سے سرشار تھا،وہیں اس کا دل بڑے شہر پر طاری ہو نے والی ایک عجیب و غریب کیفیت یا حالت دیکھنے کے لیے بھی مچل رہا تھا، جس کے بارے میں اس نے طرح طرح کی باتیں سن رکھی تھیں کہ جب وہ عجیب و غریب کیفیت یا حالت بڑے شہر کی گلیوں، محلوں، بازاروں اور سڑکوں پر طاری ہوتی، تو یکایک چہار جانب سناٹا چھا جاتا،جیسے بڑے شہر پر کسی دیو کا سایہ پھرگیا ہو۔چاروں طرف ہُو کے عالم میں صرف اُڑن طشتری جیسی برق رفتارگاڑیاں شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں بے آواز فراٹے بھرا کرتیں اور طویل فاصلے چند ساعتوں میں طے کرتیں۔بڑے شہر پر طاری ہونے والی اُس عجیب و غریب کیفیت یا حالت کے دوران،خلائی مخلوق جیسا لباس پہنے اجنبی لوگ تمام علاقوں کے چوراہوں اور گلی کوچوں بازاروں میں گھومتے پھرتے دکھائی دیتے۔ مقامی لوگ جن کی زبان بالکل نہ سمجھتے اور انہیں اپنا مدعا سمجھانے کے لیے وہ اشاروں کی زبان کا استعمال کرتے۔فاروق نے چھوٹے شہر میں گزرنے والی اپنی زندگی میں ایسی چیزوں کا تصور تک نہیں کیا تھا، اسی لیے اپنے والد کے تبادلے کی خبر سنتے ہی اس کی نیند اچاٹ ہو گئی اور وہ رات دن بڑے شہر کی طلسماتی اور سحر انگیزفضاکے متعلق سوچنے اور اسے اپنے طریقے سے محسوس کرنے لگا۔

 

فاروق کو پرائمری اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی جادوئی دنیا سے تعلق رکھنے والی کہانیاں پڑھنے کا چسکا لگ گیا تھا۔اس کی ذہنی دنیا میں علی بابا، عمرو عیار، سند باد جہازی اور حاتم طائی جیسے کردار،جیتے جاگتے سانس لیتے انسانوں کی طرح تھے۔ وہ اکثر انہیں اپنے تخئیل میں چلتے پھرتے دیکھا کرتااور راتوں کو سوتے ہوئے خوابوں میں اُن کے ساتھ مختلف مہمات سر کرتا پھرتا۔پھر نہ جانے کب کسی دوست نے اسے ایک جاسوسی ناول پڑھنے کو دیا اوراس کی ذہنی دنیا کہانیوں کی ایک نئی جہت سے آشنا ہوئی۔یہاں اس کی ملاقات ایک نئے کردار عمران سے ہوئی اور وہ اس کردار کا ایسا اسیر ہوا کہ طلسماتی دنیا سے نکل کر، اُس کی انگلی تھام کر، اس کے ساتھ ہولیا۔اب وہ خود کو عمران کی سیکرٹ سروس کا باقاعدہ رکن خیال کرنے لگا۔اب وہ جاسوسی کی نت نئی مہمات میں عمران کا ہم رکاب رہنے لگا۔اب اکثر جب وہ گھر سے نکلتا، تو اسے گلی سے گزرتے ہوئے راہ گیر،دشمن ملک کی سیکرٹ سروس کے ایجنٹ محسوس ہوتے اوروہ خود کو عمران سمجھتے ہوئے ان کا تعاقب کرتا۔ کچھ دور جاکر اسے اپنا یہ تعاقب لاحاصل محسوس ہوتا اوراسے وہ کام یاد آجاتا جس سے اس کی والدہ نے اسے بازار بھیجا ہوتا۔ یہ شاید اس کے تخئیل میں آباد، سنسنی خیز ی سے معمور دنیا کے اثرات ہی تھے، جن کی بدولت اس نے بڑے شہر پر اچانک طاری ہونے والی اُس کیفیت یا حالت کے بارے میں سنا تواسے وہ بہت حد تک اپنے ذہن میں آباد دنیا کے مماثل محسوس کر لیا۔وہ جلد از جلد بڑے شہر پہنچ کر اس صورتِ حال کامشاہدہ اپنی آنکھوں سے کرنے کے لیے بے تاب ہو رہا تھا۔اس خواہش کے ساتھ اس کے دل کے کسی گوشے میں اُس تنہائی کا خوف بھی دُبکا ہوا تھا،وہاں پہنچ کر اس کا جس سے سابقہ پڑنے والا تھا۔ اسے جتنے دوست اور ہم جولی یہاں پر میسر تھے معلوم نہیں بڑے شہر میں بھی میسر آئیں گے کہ نہیں۔

 

چھوٹے شہر سے بڑے شہر تک کا سفرفاروق کی زندگی کا ایک کبھی نہ بھلانے والا سفر تھا۔وہ اپنے والد، والدہ او ر دو چھوٹے بھائیوں کی معیت میں،ایک کار میں سوار، جسے اس کے والد چلا رہے تھے،بڑے شہر کی جانب رواں تھا۔گردوپیش کے دل چسپ مناظر کے ساتھ ساتھ آسمان پر اڑتے ہوئے بادل بھی پیچھے کی طرف دوڑتے ہوئے گزر رہے تھے۔ اونچی نیچی ڈھلانوں سے گزرتی،گھومتی اور بل کھاتی سڑک کسی سیاہ اژدہے جیسی معلوم ہوتی تھی۔ راستے میں آس پاس چھوٹی بڑی پہاڑیاں دیکھ کر فاروق کے ذہن میں غار کا خیال آیا۔اُس غار کا خیال،جس کے باہر کھڑا ہو کر علی باباکہا کرتا تھا۔ “ کُھل جا سِم سِم “۔اور وہ غار اپنا دہانہ کھول دیا کرتا تھا۔ فاروق نے سوچا کہ وہ غار بھی کسی ایسے ہی علاقے میں واقع ہوگا۔یہ سوچتے سوچتے فاروق کی نظر دائیں جانب پڑی۔ کار ایک ڈھلان کی بلندی سے گزر رہی تھی اور اس بلندی سے دائیں طرف، بہت دور اسے نیلے پانی سے بھری ہوئی ایک پیالہ نما گول جگہ دکھائی دی۔کافی فاصلے پر ہونے کی وجہ سے وہ اسے نظر بھر کر نہیں دیکھ سکا۔ اسے گمان گزرا کہ نیلے پانی سے بھری اس پیالہ نما جگہ کا منظر اس کی نظروں کا دھوکہ بھی ہو سکتا ہے۔بالکل اسی طرح جیسے الف لیلی کے کرداروں کوصحراؤں میں سفر کے دوران نخلستان یا پانی کے ذخیرے دکھائی دیتے تھے۔مگر کچھ دیر بعد جب کار اگلی ڈھلان کی چڑھائی چڑھ کر اس کی بلندی تک پہنچی تو اس نے فوراً دائیں جانب نگاہ کی۔نیلے پانی سے بھری پیالہ نما جگہ کو دوبارہ دیکھتے ہی اس نے شور مچادیا۔اس کے شور مچانے پراس کے والد نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا تو اس نے ان سے کچھ دیر کے لیے گاڑی روکنے کی درخواست کر دی۔اس کے والد نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے سڑک پر بائیں جانب آہستگی سے گاڑی روک دی۔

 

فاروق نے کار کا دروازہ کھولتے ہی سڑک پر دائیں طرف دوڑ لگا دی۔ اسے جاتا دیکھ کر اس کے دونوں چھوٹے بھائی بھی مچلنے لگے۔ اس کی والدہ نے انہیں ڈانٹ کر کار سے نیچے اترنے سے روکا۔ ابھی فاروق بہ مشکل سڑک کے درمیان پہنچا ہوگا کہ اس کے والد کی غضب ناک آواز نے اسے بھی آگے بڑھنے سے روک لیا۔اس نے پلٹ کر دیکھا تو ااس کے والد اسے واپس آنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ سڑک بالکل خالی تھی۔ اس لیے وہ سر جھکائے فوراً ہی والد کے قریب پہنچ گیا۔
اس کے والد نے خفگی سے پوچھا۔ “ تم نے کار کیوں رکوائی؟ اوریہ تم بھاگ کر کہاں جارہے تھے؟ “۔

 

فاروق نے پریشانی سے پلٹتے اور نیلے پانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ “ ابو، وہ نیلا پانی۔۔ “۔ وہ جواب میں صرف اتنا ہی کہہ سکااور ہکلا کر چپ ہوگیا۔
اس کے والد نے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر دائیں طرف بہت دور دکھائی دینے والی پیالہ نما جگہ کی جانب دیکھا تو مسکرانے لگے۔ “ تم کار میں بیٹھو، پھر تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کیا ہے؟ “۔

 

فاروق منہ بسورتے ہوئے کار میں اگلی سیٹ پر جا کر بیٹھ گیا اور بار بار بے تابی سے گردن موڑ موڑ کر پیالے میں بند نیلے پانی کی جانب دیکھنے لگا۔اس کی والدہ اس کی سرزنش کرنے لگیں، تواس نے فرماں برداری سے والدہ کی ڈانٹ سن کر اپنا سرجھکا لیا۔اس کے والد نے گاڑی اسٹارٹ کی اور چند ہی لمحوں میں گاڑی اُس ڈھلان سے نیچے اتر گئی۔ فاروق بے تابی سے اپنے والد کے گویا ہونے کامنتظر تھا۔

 

اس کے والد کھنکار کر اپنا گلہ صاف کرتے ہوئے اس سے گویا ہوئے۔ “تم جس منظر کو دیکھ کر بے چین ہورہے تھے، وہ دراصل ایک مصنوعی جھیل تھی “۔
“مصنوعی جھیل “۔

 

اس کے والد نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ “ ہاں، پانی کی مصنوعی جھیل۔کئی برس پہلے جب بڑے شہر میں پانی کے سب کنویں خشک ہوگئے، تو بڑے شہر کے اس وقت کے پارسی میئر نے سوچا کہ بڑے شہر میں بسنے والے لوگوں کے لیے پانی کا مستقل بند و بست ہونا چاہیے۔سو اس نے بیرونِ ملک سے انجینئر بلائے۔ انہوں نے یہ مصنوعی جھیل بنوائی، جسے دریا سے نکالی جانے والی نہر کے ذریعے سیراب کیا گیا۔ “

 

فاروق اپنے والد کی معلومات سے مرعوب تو ہوا مگر اسے ان باتوں سے زیادہ دل چسپی اُس جھیل کو قریب سے دیکھنے سے تھی۔جب اس نے اپنی اس خواہش کا اظہار اپنے والد سے کیاتو انہوں نے اسے بتایا کہ وہ جھیل کی طرف جانے والے سبھی رستوں کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔انہوں نے فاروق سے وعدہ کیا کہ کچھ عرصے بعد وہ ان سب کو جھیل کی سیر کروانے لے جائیں گے۔

 

اِس کے بعد فاروق سارے رستے نیلے پانی کی اُس پیالہ نما جھیل کا تصور ہی باندھتا رہا۔تصور باندھتے باندھتے اچانک اس کی آنکھ لگ گئی اور اس نے خواب میں خود کو نیلے پانی کے کنارے کنارے چلتے دیکھا۔نیلا پانی جو بے آواز چھپاکوں کے ساتھ کناروں سے ٹکرا رہا تھا۔پانی میں چند کشتیاں تیر رہی تھیں، جن کے ملاح اپنے بدن کی پوری قوت سے چپو چلانے میں مصروف تھے۔جھیل کے کنارے وہ جس مقام پر کھڑا تھا، ایک کشتی دھیرے دھیرے وہاں آکر ٹھہر گئی۔ملاح نے اجنبی زبان میں اس سے کچھ کہا اور اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔وہ ملاح کا بڑھتا ہاتھ دیکھ کر ٹھٹھک کے رہ گیا۔ وہ پیچھے ہٹنے لگا مگر ملاح نے آگے بڑھ کر اس کی مرضی کے خلاف اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس کے ہاتھ کی گرفت مضبوط تھی۔ فاروق پیچھے ہٹنا چاہتا تھا لیکن ملاح نے اسے زور سے کشتی کی طرف کھینچا۔ اس نے نہ چاہتے ہوئے کشتی کی طرف اپنا پاؤں بڑھایا۔ جیسے ہی اس کا پاؤں کشتی پر پڑنے لگا، کشتی وہاں سے غائب ہو گئی اور فاروق پانی میں گرنے لگا۔

 

پانی میں گرنے کے خوف سے اس نے خفیف سی چینخ مار ی اور جُھرجُھری لیتے ہوئے آنکھیں کھول دیں۔بیداری پر اس نے دیکھا کہ ایک اجنبی گلی کے دونوں طرف بنے ہوئے مکانوں کے اوپر آسمان گہرا سُرمئی ہو رہاتھا۔شام ڈھل چکی تھی۔ کار میں اس کے سوا کوئی موجود نہیں تھااور کار ایک مکان کے سامنے کھڑی تھی، جس کا آہنی پھاٹک پورے کا پورا کا کھلا ہوا تھا۔فاروق آنکھیں مسلتا ہواکار سے نیچے اترنے ہی والا تھا کہ اس کا چھوٹا بھائی دوڑتا ہواآہنی پھاٹک سے برآمد ہوا اور اسے کار سے اترتے دیکھ کر خوشی سے چلایا۔ “ بھیا،ہم بڑے شہر میں اپنے نئے گھر پہنچ گئے “۔چھوٹے بھائی کی بات سن کر وہ بادلِ نخواستہ مسکرایا اور اس کے ساتھ نئے گھر کے پھاٹک کی طرف چل دیا۔

 

اگلے دو تین روز وہ اپنے بھائیوں اور والدہ کے ساتھ نئے گھر میں سامان، ترتیب اور سلیقے سے رکھنے میں مصروف رہا۔ اِس کام نے اس کے جسم پر ایسی تھکن طاری کی کہ وہ خواہش کے باوجود گھر سے باہر قدم بھی نہ نکال سکا۔ اس کے والد نے بھی اسے تاکید کی تھی کہ نئے شہر میں گھر سے باہر زیادہ نہ نکلے،اگر مجبوراً نکلنا ہی پڑے توزیادہ دور تک نہ جائے۔اسی لیے دوسرے روز اس کی والدہ نے اس سے اشیائے صرف کی فہرست بنوانے کے بعدجب اسے روپے دے کر سامان لانے کے لیے باہر بھیجا تو انہوں نے بھی اس کے والد کی تاکید کو دوہرایا، جسے سنتے ہوئے اس نے فرماں برداری سے اپنا سر اثبات میں ہلادیا۔

 

اس نے اندازہ لگایاتھا کہ گھر سے باہر نکلتے ہی بڑے شہر پر طاری ہونے والی اس عجیب و غریب کیفیت یا حالت کے کچھ آثار اس پر ہویدا ہونے لگیں گے۔ مگر گلی میں چلتے ہوئے جب ایک راہ گیر اس کے قریب سے گزرا تو فاروق نے اپنی نظروں سے اس کا چہرہ ٹٹولنے کی کوشش کی۔اسے راہ گیر کے چہرے پر کسی قسم کی گھبراہٹ یا پریشانی کے آثار دکھا ئی نہیں دیے۔و ہ کچھ اور آگے بڑھاتوسب گلیوں کو ملانے والی درمیانی گلی میں اسے ایک دکان دکھائی دے گئی۔وہ اس دوکان سے گزر کر آگے جانا چاہتا تھا مگر والدین کی جانب سے کی جانے والی تاکید نے اس کے قدم روک لیے۔وہ اس دوکان پر گیا اور اس نے جیب سے فہرست نکال کر دوکان دار کے ہاتھوں میں تھمادی۔دوکان دار فہرست دیکھ دیکھ کر اطمینان سے سامان نکالنے لگا۔اس کا اطمینان دیکھ کر فاروق بے چینی سی محسوس کرنے لگا۔دوکان دار نے سامان تھیلیوں میں بھر کر اس کی طرف بڑھایا تواس کی جلدی سے جیب سے روپے نکال کر اس کے حوالے کردیے اور سامان سے بھری تھیلیاں اٹھائے گھر کی طرف چل دیا۔چلتے ہوئے وہ اس دبدھا میں تھا کہ کہیں بڑے شہر کے بارے میں اس نے چھوٹے شہر میں رہتے ہوئے جو کچھ سنا تھا، کہیں وہ سب کچھ کسی دورغ پر مبنی تو نہیں تھا۔کیوں کہ قلیل سے وقت میں اس کے محدود مشاہدے نے اس کی ذہنی دنیا میں قائم ہونے والے تصور کوکسی حد مجروح کردیا تھا۔

 

اگلے روز جب اس نے اپنی والدہ سے سودا سلف منگوانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے دوٹوک جواب دے دیا کہ آج کچھ بھی نہیں منگوانا۔ان کا جواب سن کر وہ بہت دیر تک پیچ و تاب کھاتا رہا اور باہر جانے کا کوئی بہانہ سوچتا رہا۔سہ پہر کے وقت اس کے دونوں چھوٹے بھائی آپس میں لڑ لڑ کر سو گئے۔ اس کی والدہ نے اسے بھی سونے کا حکم دیا۔وہ اپنے پلنگ پر لیٹ توگیا مگر دیر تک کروٹیں بدلنے کے باوجودوہ اپنے آپ کو سونے پر مائل نہ کرسکا۔ قرب و جوار کی کسی مسجد سے عصر کی اذان بلند ہوئی تو وہ پلنگ سے اتر کر والدہ کے کمرے کی چلا گیا۔ کمرے میں داخل ہونے سے پہلے اس نے دروازے پر دستک دی، جسے سنتے ہی اسے والدہ کی آواز سنائی دی۔ “کون ہے؟ “۔ فاروق قجھجھکتے ہوئے اندر داخل ہوا۔ اس کی والدہ بدن پر چادراوڑھے ہوئے بیڈ پر دراز تھیں اور ان کے چہرے پر پھیلی سوگواری سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ غنودگی کے عالم سے ابھی ابھی نکلی ہیں۔ انہوں نے جماہی لیتے ہوئے اس سے پوچھا۔ “ کیا ہوا فاروق؟ “۔

 

اس نے بے ساختگی سے کہہ دیا۔ “ امی، مجھے ایک کتاب خریدنی ہے، اس کے لیے پیسے چاہئیں “۔

 

یہ سنتے ہی والدہ کی پیشانی پر لکیریں سکڑنے لگیں۔ “ ابھی تمہارا اسکول میں داخلہ ہی نہیں ہوا۔ پھر تمہیں کیسی کتاب خریدنی ہے؟ “۔

 

“کہانیوں کی کتاب؟ “۔

 

“تمہارے پاس وہ تو پہلے ہی بہت سی ہیں۔ کیا کرو گے، اور لے کر؟ “۔

 

“ امی، وہ سب میں بہت پہلے ہی پڑھ چکا ہوں۔مجھے نئی کہانیاں پڑھنی ہیں۔ “

 

“ تمہیں کیا پتہ یہاں کتابوں کی دوکان کہاں پر ہے۔ تم کہاں سے جاکر کتاب خریدو گے؟ “۔

 

“میں نے معلوم کرلیا ہے۔بازار ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں ہے۔آپ مجھے بس پیسے دے دیں۔ “ اس نے اتنے اعتماد کے ساتھ پہلے کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا۔وہ خود بھی جی ہی جی میں اپنی اس ہمت پر حیران رہ گیا۔

 

“مگر تمہارے ابو نے منع کیا تھا کہ تم با ہر نہیں جاؤ گے۔ “ والدہ نے اسے یاد دلایا۔

 

“ امی، میں دیر نہیں کروں گا۔ کتاب لے کر جلدی آجاؤں گا۔بتائیں، پیسے کہاں رکھے ہیں؟ “۔اس نے اصرار کرتے ہوئے ایک ایک بار پھر مطالبہ کیا۔

 

“ اچھا، اچھا۔ باورچی خانے میں برتنوں والے دراز میں جو کیتلی رکھی ہے، اس میں ہیں پیسے۔ تم جا کر نکال لو۔ اور سنو جلدی واپس آنا۔ تمہارے ابو کے آنے کا وقت بھی ہونے والا ہے۔ “اس کی والدہ کو اس کے آگے ہتھیار ڈالتے ہی بنی۔

 

“جی اچھا۔ میں جلدی آجاؤں گا “۔سر ہلاتے اور اپنی کامیابی پر زیرِ لب مسکراتے ہوئے وہ کمرے سے نکل کر باورچی خانے کی طرف چلا گیا۔

 

جب وہ گھر سے نکلا تو باورچی خانے میں برتنوں والے دراز میں رکھی کیتلی سے نکالے ہوئے پچاس روپے اس کی جیب میں تھے۔ اسے بڑے شہرآئے ہوئے چند روز گزر گئے تھے، مگر اسے محسوس ہورہا تھا کہ وہ آج ہی یہاں پہنچا ہے۔ اس احساس کی وجہ گھر کی چار دیواری سے باہر وہ آزادی تھی، جو اسے آج پہلی بار میسر آئی تھی۔۔ وہ اکیلا بڑے شہر کے ائرپورٹ کے قریب واقع اس آبادی کے بازار کی جانب گامزن تھا، اکیلائی کا یہ تجربہ اس کے لیے بالکل نیا تھا۔۔وہ سب گلیوں کو ملانے والی درمیانی گلی میں واقع دوکان تک پہنچا تو وہ دوکان اسے حسب معمول کھلی ہوئی دکھائی دی۔اس کے قریب سے گزرتے ہوئے فاروق کی رفتار بہت کم تھی۔ وہاں دو خواتین کھڑی سودا سلف خرید رہی تھیں۔ان میں سے ایک برقعہ اوڑھے ہوئے تھی اور اپنی آنکھوں کی جنبشوں اور اپنے بدن کی حرکات و سکنات سے درمیانی عمر کی لگ رہی تھی۔ اور دوسری، جو چہرے سے بزرگ دکھائی دیتی تھی،مگر اب بھی چاق و چوبند نظر آرہی تھی۔ اس نے میلا کچلا سا اور دُھل دُھل کر اپنا اصل پیلا رنگ کھو کر،سفیدی مائل ہوتا ہوا لباس پہن رکھا تھا۔مختصر سا مٹیالے رنگ کا دوپٹہ اُس کے سر پر پھیلے سُر مئی اور سفید سے،کھچڑی گھنگھر یالے بالوں کو چھپا نے میں بری طرح ناکام تھا۔وہ بوڑھی خاتون سانولی اور گہری رنگت کی حامل تھی اور اس کا چہرہ جھریوں اور گہری لکیروں سے پُر تھا۔ وہ کمر پر ہاتھ رکھے اجنبی سے لہجے میں دوکان دار سے کہہ رہی تھی۔ “ مجھے لسٹ میں لکھا سارا سامان دینا۔ ایک ایک چیز۔اور ہاں، کوئی چیز چھوڑ مت دینا۔ سمجھے۔شہر کے حالات پہلے کبھی اتنے غیر یقینی نہیں تھے، جتنے اب ہو گئے ہیں۔ہیلمٹ والی مخلوق کو گلیوں میں دیکھ کر میرا تو دل دہل کے رہ جاتا ہے۔ان کی سیٹیاں سن کر میری سٹی گم ہوجاتی ہے۔اور۔۔ اور لاوڈ اسپیکر پر ان کا اعلان سن کر یقین مانو، میرا کلیجہ حلق کو آجاتا ہے۔ “۔

 

فاروق نے دوکان کے قریب سے گزرتے ہوئے اس خاتون کی یہ باتیں سنیں تواس کے دل میں معدوم ہوتی امید پھر سے بیدار ہونے لگی۔اس کے دل میں اس بزرگ خاتون سے، بڑے شہر پر طاری ہونے والی اس کیفیت یا حالت کے بارے میں استفسار کرنے کی خواہش پیدا ہوئی مگر اُ س کے اور اس خاتون کے درمیان حائل اجنیبت اس کے پیروں کی زنجیر بن گئی۔وہ بار بار دوکان پر کھڑی اس بزرگ خاتون کی طرف دیکھتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ آگے بڑھتے ہی اس کے قدموں میں جیسے کوئی رَو دوڑ گئی اور وہ تیز رفتاری سے چلنے لگا۔جیسے آگے

 

اور آگے کوئی ان دیکھا منظر اس کا انتظار کر رہا ہو، لمحہِ موجود میں جس کی کشش اسے اپنی جانب کھینچے جا رہی ہو۔وہ بائیں مڑنے والی ایک گلی میں مڑ گیا۔ یہ گلی کچھ تنگ سی اور کچھ مختصر سی تھی۔اس نے دیکھا کہ یہ آگے جا کر دائیں طرف مڑ رہی تھی۔وہ اپنے تجسس کی جوت میں خوشی خوشی جلتا ہوا، اپنا سر جھکائے ہوئے اس گلی سے گزرا۔

 

دائیں طرف مُڑنے کے بعدوہ ایک کشادہ سی گلی میں داخل ہوا، جو سیدھی بازار کی طرف جارہی تھی۔اس گلی کے آخری سرے پرے پر اسے رونق سی دکھائی دی۔ دوکانوں اورٹھیلوں کے آس پاس مرد و زن خریداری میں مصروف دکھائی دے رہے تھے۔اس گلی کے دونوں طرف دوبڑی بڑی ورک شاپس بنی ہوئی تھیں، ان کے گیٹ کھلے ہونے کی وجہ سے فاروق یہ دیکھ سکا کہ ایک ورک شاپ میں گاڑیوں کی مرمت کی جارہی تھی جب کہ دوسری میں نیا فرنیچر بنانے کے ساتھ ساتھ پرانے فرنیچر کی مرمت کا کام بھی جاری تھا۔فاروق ورک شاپس سے آگے بڑھا تو اسے دونوں جانب زمین کے بڑے بڑے چوکور خالی قطعے دکھائی دیے، جن میں جھاڑیاں اور کیکر اگے ہوئے تھے۔کچھ آگے جا کر دائیں طرف کسی حکیم صاحب کا مطب واقع تھا۔، جب کہ بائیں طرف دوکانوں کا ایک سلسلہ ساتھا۔ ان دوکانوں میں ویڈیو فلمیں اور وی سی آر کرائے پر دستیاب ہوتے تھے۔سب دوکانوں کے سامنے کے حصوں پرسیاہ اور دیگر گہرے رنگوں کے شیشے لگے تھے۔ ان کے دروازے بھی شیشوں کے بنے ہوئے تھے۔ ان شیشوں پر ہندی اور امریکی فلموں کے بڑے بڑے پوسٹر لگے ہوئے تھے۔اس وقت ایک ویڈیو سینٹر سے ہندی گانا سنائی دے رہا تھا۔وہ فلموں کے پوسٹر دیکھتااور گانا سنتا ہوا آگے بڑھا۔

 

کچھ دیر پیشتر بوڑھی عورت کی باتیں سن کر اس کے دل میں جس امید نے سر اٹھایا تھا، بازار میں گہما گہمی دیکھ کر وہ نا امیدی میں تبدیل ہونے لگی۔بازار ہر طرح کے لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ شام کے اسکولوں سے چھٹی پانے والے بچوں سے، کالج اور یونیورسٹی سے شام کی کلاسیں لے کر لوٹنے والے لڑکوں اور لڑکیوں سے،دفاتر، فیکٹریوں، اور کام کی دیگر جگہوں سے چھوٹنے والے مرد و زن سے،، بھکارنوں سے، مزردوروں سے۔غرض کہ بھانت بھانت کے لوگوں سے، جو وہاں اپنی اپنی ضروریات کا سامان خریدتے، گھومتے پھر رہے تھے۔ان کے درمیان ٹہلتے ہوئے فاروق کو کتابوں کی دوکان تلاش کرنے میں زیادہ دقت کا سامنا نہیں کر نا پڑا۔

 

وہ کتابوں کی دوکان میں داخل ہوا۔ یہاں ہر طرح کی نصابی، غیر نصابی کتب اور رسائل دستیاب تھے۔فاروق نے دو پرانے ڈائجسٹ خریدنے کے لیے منتخب کیے، جن کے دام بہت ارزاں تھے۔اسے اطمینان سا ہوا کہ اگلے چند روز کے لیے بوریت سے اس کی جان چھوٹ جائے گی۔وہ ان کی قیمت ادا کرکے دکان سے باہر نکلا اور بازار میں چلنے لگا۔

 

بازار کی مرکزی سڑک،جس کے دائیں اور بائیں طرف بہت سی چھوٹی سڑکیں اور گلیاں نکلتی تھیں۔ کسی چھوٹی گلی یا سڑک سے کچھ اوباش قسم کے لڑکوں کی ٹولی ڈنڈے اور لاٹھیاں اٹھائے ہوئے نکلی اور بازار کی دوکانوں پر پِل پڑی۔وہ بازار جہاں لوگ اپنی موج میں سست خرامی سے گھوم رہے تھے،اچانک وہاں بھگدڑ سی مچ گئی۔ایسی ہا ہا کار مچی کہ لوگ اپنی خریداری بھول کر، یہاں وہاں بھاگ کر، خود کو ڈنڈوں اور لاٹھیوں کی زد میں آنے سے بچانے لگے۔دوکانیں بند ہونے لگیں۔اسی دوران نہ جانے کہاں سے دو موٹر سائکلیں نمودار ہوئیں۔ ہر موٹر سائیکل پردو لڑکے سوار تھے۔ وہ بلند لہجوں میں چینخ چینخ کردوکان داروں کو دوکانیں بند کرنے کا حکم دے رہے تھے۔

 

فاروق اس صورتِ حال کو فوری طور پر نہیں سمجھ سکا کیوں کہ یہ اس کے لیے بالکل انوکھی صورتِ حال تھی۔اس نے کھلبلی مچ جانے کے ایسے واقعات کا مطالعہ تو ضرور کیا تھا اور کسی حد تک انہیں اپنی چشمِ تصور میں بھی دیکھا تھا، مگر ایسی صورتِ حال کا کہانیوں میں مطالعہ کرنا اور اسے اپنے تصور میں دیکھنا، بالکل الگ بات تھی، جب کہ اس کا سامنا کرتے ہوئے اسے اپنی آنکھوں کے روبرو دیکھنا بالکل الگ بات تھی۔ آٹھ دس لڑکوں کی ٹولی کے غراتے، چینختے چلاتے ہوئے لہجوں، دکانوں، ٹھیلوں، اور کچھ لوگوں پر پڑتے ہوئے ڈنڈوں کے شور،تیزی سے گزرتی موٹر سائیکلوں کا غُل غپاڑہ اور فائرنگ کی آوازوں نے مل جل کر فاروق کے ذہن پر جو پہلا تاثر قائم کیا، وہ ڈر اور خوف کا تاثر تھا۔اس کی اپنی زندگی چھِن جانے کا خوف۔موت سے ہمکنار ہونے کا خوف۔ اسی خوف کے زیرِ اثر وہ بد حواس ہوکر بازار سے بائیں طرف نکلنے والی ایک گلی میں بھاگا۔یہ وہ گلی ہرگز نہیں تھی، جس میں ٹہلتا ہوا وہ اس جانب آیا تھا۔

 

دل و دماغ پر اچانک چھا جا نے والے خوف کے زیرِاثر وہ جس گلی میں بھاگا، وہ ا س کے لیے نامہربان اور اجنبی ثابت ہوئی اور اسے نا آشناگلیوں کے ایک ایسے سلسلے کی طرف لے گئی،جو اس کے لیے گم راہ کن ثابت ہوا۔ اگر یہ گلیاں اپنے راہ گیروں، خوانچہ فروشوں اور دیگر گزرنے والوں کے وجود سے بھری پری ہوتیں، تو شاید اسے یہ خوف اتنا پریشان نہ کرتا۔ مگر یہاں تو جس طرف دیکھو گہرا اور دبیز سناٹا تھا۔اس نے محسوس کیا یہاں واقعی کسی دیو کا سایہ پھر گیا ہے، جس نے ان گلیوں سے زندگی کی ہر رمق نوچ ڈالی ہے۔وہ خود کو ایسا شہزادہ خیال کرنے لگا، جو اپنے آپ کو اس دیو سے بچانے کی خاطر اس بھول بھلیاں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے۔ وہ جو گلی بھی عبور کرتا، وہ اسے مزید بھٹکانے کا سبب بنتی۔اس طرح وہ بھٹکتے بھٹکتے بہت دور پہنچ گیا۔اتنی دور پہنچ کر اسے اپنی جان کو لاحق ہو نے والا خوف تو کچھ کم ہو گیا، مگر اب اس کی جگہ نئے خوف نے لے لی تھی۔

 

سورج مقامِِ غروب کی طرف رواں تھا اورشام تیزی سے ڈھلتی جارہی تھی۔وہ جانتا تھا کہ کچھ دیر بعد پھیلنے والا اندھیرا ان نامہربان اور اجنبی گلیوں کو ایک نئے اور مختلف روپ میں ڈھال دے گا۔گہری تاریکی میں یہ گلیاں کچھ دہشت ناک اور کچھ بھیانک سی محسوس ہونے لگیں گی۔اسے اپنی والدہ کا اسے بازار جانے سے روکنا شدت سے یاد آیا۔ اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ یہ احساس درد بن کر اس کے بدن کے رگ و ریشے میں سرایت کرگیا۔اس کا گلا رندھنے لگا۔وہ خود پر ضبط کرتا ہوا ٹھہر گیا اور گردوپیش دیکھنے لگا۔کچھ دیر وہاں کھڑ ا لمبی سانسیں لیتا رہا۔ اسی دم اس نے ایک فیصلہ کیا اور آگے بڑھنے کے بجائے فوراً اسی مقام کی جانب چلنا شروع کردیا، جس مقام سے اس کا بھٹکنا شروع ہوا تھا۔

 

واپسی کے سفر میں زمین کی نشانیوں نے مطلوبہ مقام تک پہنچنے میں اس کی بہت مدد کی۔گرچہ خوف کے عالم میں بھاگتے ہوئے اس نے زمین کی کوئی نشانی اپنے ذہن میں محفوظ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی، مگر وہ شاید اس کے لاشعور میں کہیں خود بہ خود محفوظ ہوگئیں تھیں۔اسی لیے کوئی نقشِ پا،کوئی گڑھا، کوئی کھمبا،یا دیواروں پر بنی ہوئی کوئی علامت یا کوئی اشتہار ازبر نہ ہونے کے باوجود واپسی کے سفر میں اس کی راہنمائی کرتے رہے۔وہ کم و بیش انہی گلیوں سے گزرا، جن سے وہ ہانپتا کانپتا، دوڑتا ہوا گیا تھا۔

 

گردوپیش کی مساجد سے مغرب کی اذان بلند ہو نے لگی تھی، جب وہ نڈھال قدموں سے چلتا ہوا اس گلی میں داخل ہوا، جس میں اس کا گھر واقع تھا۔اس نے بہ دِقت اپنا ہاتھ اٹھا کر گھنٹی کا بٹن دبایااور سر جھکا کرلوہے کے پھاٹک کے پاس کھڑا ہوگیا۔ اس نے محسوس کیا اب تک اس کے دل کی دھڑکن معمول پر نہیں آئی تھی اور وہ اپنے گھر کے پھاٹک کے قریب ہونے کے باوجود غیر ارادی طور پر پلٹ پلٹ کر بھی دیکھ رہا تھا، جیسے ہنگامہ آرائی کرنے والے اس کے پیچھے لگے ہوئے ہوں۔چند لمحوں بعد پھاٹک کھلا اور اسے اپنے چھوٹے بھائی کا چہرہ دکھائی دیا،جو اسے دیکھتے ہی اس سے دیر سے آنے کے بارے میں سوال پر سوال پوچھنے لگا تھا۔ فاروق میں اس کے کسی سوال کا جواب دینے کی ہمت نہیں تھی۔وہ ڈائجسٹ ہاتھ میں لیے اندر داخل ہوا۔پھاٹک بند کرتے ہوئے چھوٹے بھائی نے اسے اطلاع دی کہ ابو دفتر سے گھر آچکے ہیں، تو وہ یہ اطلاع سن کر چونکا اورٹھٹھک کر بولا۔ “ اچھا “۔وہ اس وقت اپنے والدین کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھا۔اس لیے وہ چھوٹے بھائی کی بات کو نظر انداز کرتا اپنے کمرے کی طرف جانے لگاکہ اسے والدہ کی آواز سنائی دی۔ “ کون آیا ہے؟ “۔
اس کے چھوٹے بھائی نے فوراً بلند لہجے میں جواب دیا۔ “فاروق بھائی آئے ہیں “۔

 

“اسے ہمارے پاس بھیج دو “۔یہ سنتے ہی اس کے قدم رک گئے۔وہ کچھ سوچتا ہوا والدین کے کمرے کی طرف چل دیا۔

 

وہ ڈائجسٹ ہاتھ میں لیے، اپنا سر اور نگاہیں نیچی کیے،کمرے میں داخل ہوا تو اسے محسوس ہوا کہ اس کے والدین نے اس کی اچانک آمد کی وجہ سے چپ سادھ لی ہے۔ جھکی نظروں سے وہ صرف اپنے والد کو بیڈ پر نیم دراز بیٹھے اور چائے پیتے ہوئے دیکھ سکا۔اس کی والدہ بیڈ کے دائیں طرف رکھی ہوئی ایک کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے ہوئے بیٹھی تھیں۔ اس نے ان دونوں کے چہروں کی طرف اپنی جھکی جھکی نظروں سے دیکھا تو اسے اپنے والد کے چہرے پر معمول کے سنجیدہ تاثر کے ساتھ فکرمندی کی ہلکی سی پرچھائیں دکھائی دی، جب کہ اس کی والدہ سخت گیری اور خفگی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھیں۔

 

“تم دروازے کے پاس کیوں کھڑے ہو۔ آگے آؤ اور سر اٹھا کر ہماری طرف دیکھو “۔اس کی والدہ نے اسے حکم دیتے ہوئے کہا۔

 

وہ کچھ آگے بڑھا اور بیڈ کے قریب جاکر کھڑا ہوگیااور اپنی واپسی میں ہونے والی تاخیر کے متعلق اپنی سی وضاحت دینے لگا۔ “ ابو، میں بازار کتابیں لینے گیا تھا کہ وہاں۔۔۔۔۔ “۔

 

اس کے والد نے اس کی بات درمیان سے کاٹتے ہوئے پہلے کھنکار کر اپنا گلہ صاف کیا، پھر اس مخاطب ہوئے۔ “ فاروق، میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا اور ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ یہ بڑا شہر چھوٹے شہرسے بہت مختلف ہے۔یہاں تمہیں بہت سوچ سمجھ کر اور محتاط ہوکر گھر سے نکلنا پڑے گا۔تمہیں اپنی امی اور میری کہی ہوئی ہر بات پر عمل کرنا ہوگا۔سمجھے “۔

 

فاروق نے اپنا سر ہلاتے ہوئے کہا۔ “جی سمجھ گیا۔ “

 

“ تم ہر دفعہ یہی کہتے ہو۔ مگر سمجھتے پھر بھی نہیں۔میں نے تمہیں سمجھایا اور روکا تھا، مگر تم رکے پھر بھی نہیں۔ “

 

“ آئندہ ایسا نہیں ہوگا، امی “۔اس نے وعدہ کرتے ہوئے کہا۔

 

“دیکھو فاروق، آج شہر کے بہت سے علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔فائرنگ ہوئی۔ چھری، چاقو اور ڈنڈوں سے لوگوں کو زخمی کیا گیا۔کچھ لوگ ہلاک بھی ہوئے۔اسی لیے حکومتِ وقت نے شہر کے بہت سے علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے “۔

 

کرفیو کا لفظ فاروق کے لیے نیا نہیں تھا۔ وہ چند مرتبہ پہلے بھی یہ لفظ اپنے والد سے سن چکا تھا۔مگر وہ اس لفظ کے معنی و مفہوم سے مکمل طور پر نا آشنا تھا۔اس نے اپنے ذہن میں اس کے الگ ہی معنی طے کر رکھے تھے۔

 

“ ابو۔۔۔یہ کرفیو کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ “ اسنے جھجھکتے جھجھکتے یہ سوال پوچھ لیا۔

 

“ کرفیو کا مطلب۔۔ کرفیوجہاں بھی لگایا جاتا ہے۔ وہ علاقے فوج کے حوالے کردیے جاتے ہیں۔ فوج گلی، محلوں اور بازاروں میں گشت کرنے لگتی ہے۔عام لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی عائدکر دی جاتی ہے۔جو شخص بھی اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گھر سے نکلتا ہے، اسے سزا دی جاتی ہے۔ ملک کے عام شہری کے تمام حقوق عارضی طور پر معطل کردیے جاتے ہیں “۔

 

“ مگر فوج کا کام تو سرحدوں کی حفاظت کرنا ہوتا ہے، ابو۔ ہمارے گلی، محلوں اور بازروں میں اس کا کیا کام؟ “

 

“ دوسرے ملکوں کی فوجیں اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ ہماری فوج نے سرحدوں کے ساتھ ساتھ گلی، محلوں اور بازاروں کی حفاطت کی ذمہ داری بھی اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھی ہے۔بہر حال تم ابھی بہت چھوٹے ہو، یہ باتیں نہیں سمجھوگے۔تمہیں جو کہا جارہا ہے تم صرف اسی پر عمل درآمد کرو۔سمجھے۔ “

 

فاروق اپنے والد کی کچھ باتیں سمجھا اور کچھ نہیں سمجھا، مگر پھر بھی اس نے تائید میں اپنا سر اس طرح ہلایا، جیسے وہ سب کچھ سمجھ گیا ہو۔

 

“اچھی طرح سن لو اور سمجھ لو فاروق۔ اب جب تک کرفیو لگا ہواہے، تمہارے گھر سے باہر جانے پر مکمل پابندی ہے۔اب تم جاؤ اور جا کر اچھی طرح اپنے ہاتھ پاؤں اور منہ دھوؤ۔ کچھ دیر میں کھانا تیار ہوجائے گا۔ جاؤ۔ “ فاروق کے کمرے سے باہر جانے کا انتظار کیے بغیر اس کی والدہ اپنے شوہر سے مخاطب ہوئیں۔ “کرفیو ختم ہوتے ہی سب بچوں کے اسکول میں داخلے کروائیں۔گھر میں رہ رہ کر یہ سارا پڑھا لکھا بھول گئے ہیں۔ چھوٹے دونوں تو دن بھر لڑتے رہتے ہیں۔ ان کی شکایتیں اور آپس کی لڑائیاں ختم ہی نہیں ہوتیں “۔

 

فاروق کمرے سے باہے جانے ہی والا تھا کہ اس کے والد اس سے مخاطب ہوئے۔ “ فاروق “۔

 

“جی ابو “۔ اس نے رکتے ہوئے جواب دیا۔

 

“ بیٹا تم اپنے چھوٹے بھائیوں کو چند گھنٹے بیٹھ کر پڑھایا کرو۔ تم بڑے ہو اور ان سے زیادہ سمجھ دار بھی ہو “۔

 

“ یہ خود تو پڑھتا نہیں، انہیں کیا پڑھائے گا “۔

 

“ پڑھاؤں گا، امی۔ ضرور پڑھاؤں گا “۔ زیرِ لب مسکراتے ہوئے وہ کمرے سے چلا گیا۔

 

کمرے سے نکلنے کے بعد اس نے سکھ کا سانس لیا مگر اس کے والد کی کہی ہوئی باتیں اس کے ذہن میں گھوم رہی تھیں۔وہ انہیں مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر تھا۔ اس نے جو کچھ بازار میں دیکھا تھااور وہاں اس پر جو کچھ بیتاتھا، وہ اب تک اسے بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔وہ کون لوگ تھے،جو ڈنڈے ہاتھوں میں اٹھائے زبردستی دوکانیں بند کروا رہے تھے؟ اور فوج، کیوں گلی محلوں تک چلی آئی تھی؟ جب کہ ان کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا تھا۔اس کے ذہن میں یہ سب سوال بگولوں کی طرح کی چکر کاٹ رہے تھے۔ اسے واضح طور پر یہ محسوس ہو رہا تھا کہ اس صورتِ حال کو اس نے اپنے تئیں جس طرح قیاس کر رکھا تھا، یہ اس سے کہیں زیادہ گھمبیر تھی، اور اس صورتِ حال کا بہت بڑا حصہ اس کے لیے مکمل طور پر ناقابلِ فہم تھا۔وہ اسی الجھن میں مبتلا جب اپنے کمرے میں داخل ہوا، تو اس کے چہرے پر طاری سنجیدگی کو دیکھ کر اس کے چھوٹے بھائی یہ سمجھے کہ اسے زور کی ڈانٹ پڑی تھی اور اسی لیے اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ انہوں نے بڑے بھائی سے گفتگو سے احتراز کیا۔وہ بھی ان سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا اور ناگاہ دوکان سے خرید کر لانے والے رسالوں کی ورق گردانی کرنے لگا۔
فاروق نے رات کھانا سب کے ساتھ مل کر کھایا۔ اس دوران اس کے والد نے انہیں یقین دلایا کہ حالات معمول پر آتے ہی وہ ان تینوں کو فوراً کسی اچھے اسکول میں داخل کروادیں گے۔ان کی حالات معمول پر آنے کی بات فاروق نہیں سمجھ سکا۔اسے یہ جاننے کی کرید ہوئی کہ آخر ایسا کیا ہوگیاکہ حالات اپنے معمول سے ہٹ گئے۔اس نے اپنے والد سے اس بارے میں چند سوالات کیے، جن کے اسے تسلی بخش جوابات نہیں مل سکے۔اس کے ذہن میں پہلے سے موجود خلجان میں کچھ اور اضافہ ہوگیا۔

 

کھانے کے کچھ دیر بعد والدہ کی جانب سے سونے کا حکم صادر ہوا۔اس کے دونوں بھائی ایک پلنگ پر لیٹ گئے، جب کہ فاروق الگ پلنگ پر جا لیٹا۔اس کی والدہ انہیں تاکید کرنے کے بعد کمرے کی بتی بجھا کر چلی گئیں۔فاروق بستر پر لیٹا کروٹیں ہی بدلتا رہا۔اس کے ذہن میں شام کو بازار میں پیش آنے والا واقعہ، اپنی تمام جزئیات کے ساتھ گھومنے لگا۔اس نے اُس خوف کی ہلکی سی آنچ کو بھی محسوس کیا،جو اس وقت اچانک اس کے سارے وجود پر محیط ہوگئی تھی اور جس نے اسے جان بچانے کی خاطر بازار سے بھاگنے پر اکسایا تھا۔ وہ حیران تھا کہ اس کے قدم کس طرح اس کے وجود کا بوجھ اٹھائے اسے موت کے خطرے سے بچانے کی خاطر خود بہ خود حرکت میں آگئے تھے۔ایک خیال، جسے وہ لاشعوری طور پر شام سے دبائے جارہا تھا، اس وقت خود ہی اپنا سر اٹھانے لگاتھا، وہ یہ کہ اسے وہاں سے بھاگنا نہیں چاہیے تھا۔ اسے وہیں کہیں چھپ کر سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے تھا۔شاید اس طرح وہ اُن ڈنڈہ بردار لوگوں اور فائرنگ کرنے والوں کے بارے میں زیاد ہ جان لیتا،جن کے بارے میں جاننے کا وہ شدت سے متمنی تھا۔

 

کمرے میں تاریکی تھی مگر اس کی آنکھیں اس تاریکی سے اتنی مانوس ہوچکی تھیں کہ اب کمرے کی ہر چیز دکھائی دے رہی تھی۔اس کے چھوٹے بھائی کچھ دیر پہلے گہری نیند سوچکے تھے، مگر اس کے ذہن میں جاری کشمکش اسے نیند سے دور لیے جارہی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ عمران سیریز کی کہانیوں میں پوری سیکریٹ سروس دشمن ممالک کے اخفیہ ا یجنٹوں کے عزائم خاک میں ملانے کے لیے اپنی جان بھی داؤ پر لگا دیتی ہے۔مگر ہماری فوج ہمارے ہی خلاف سڑکوں پر نکل آئی تھی اور اس نے لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر بھی پابندی لگادی تھی۔ ایسا کیوں ہو رہا تھا؟ وہ اس عقدے کا حل ڈھونڈتے ڈھونڈتے نیند کے خمار میں کھونے لگا۔ پہلے کچھ دیر وہ جماہیاں لیتا رہا، پھر اس کی آنکھیں خود بہ خود مندتی چلی گئیں۔

 

اگلے روز وہ اپنے والدین اورچھوٹے بھائیوں سے چھپ چھپ کر چھت کا چکر لگاتا رہا۔ ہر باروہ دبے پاؤں چھت پر جاکر اپنی گلی کے سامنے واقع ساری گلیوں کو ملانے والی گلی کی طرف کچھ دیر دیکھتا اور مایوس ہو کر واپس چلا جاتا۔وہ ساری گلیوں کو ملانے والی گلی میں جو منظر دیکھنا چاہتا تھا، وہ اسے آدھا دن گزرنے کے باوجود دکھائی نہیں دیا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد جب اس کے والدین اور چھوٹے بھائی قیلولے کے لیے اپنے بستروں پر دراز ہوئے، تو اسے چھت پر جانے کا ایک اور موقع مل گیا۔ تیز دھوپ میں وہ چھت پر کھڑا گلی کی طرف دیکھتا رہا۔

 

اچانک اسے ساری گلیوں کو ملانے والی گلی کی طرف سے مائیکرو فون پر سنائی دیتی مبہم سی ایک آواز اور اس کے ساتھ ساتھ ایک گھڑ گھڑاہٹ بھی سنائی دینے لگی۔جسے سن کر فاروق سمجھ گیا، کہ اس کی خواہش پوری ہونے والی تھی۔ مائیکرو فون پر سنائی دیتی آواز دھیرے دھیرے ایک اعلان یا تنبیہ کی صورت اختیار کر نے لگی، جس میں شہریوں کو اپنے گھروں میں بند رہنے کا حکم دیا جارہا تھا اور اس حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں انہیں سخت سزا کی دھمکی دی جارہی تھی۔یہ آواز جوں جوں قریب آتی گئی، اس کا سخت اور دوٹوک قسم کالب و لہجہ واضح ہوتا چلا گیا۔اس کے ساتھ ہی سنائی دینے والی گھڑ گھڑاہٹ بھی نزدیک سے نزدیک تر آتی گئی۔

 

قریب آتی درشت لہجے کی آواز اور گھڑگھڑاہٹ سن کر فاروق کے بدن میں ایک سنسنی سی دوڑنے لگی۔وہ صبح سے جو منظر دیکھنے کا بے چینی سے منتظر تھا، اب وہ اس کے سامنے رونما ہونے والا تھا۔اس نے دل ہی دل میں اپنی جگہ سے نہ ہٹنے کا پختہ عزم کر لیا۔

 

اگلے ہی لمحے ساری گلیوں کو ملانے والی گلی میں ہلکے سبز رنگ کا ٹرک نمودار ہوا، جس کی اگلی سیٹ پر بیٹھا ہوا ڈرائیور اسے آہستگی سے چلا رہا تھا۔جب کہ اس کے پچھلے حصے میں دو فوجی کھڑے تھے۔ ان میں سے ایک مائکرو فون ہاتھ میں لیے بار بار ایک ہی اعلان دوہرا تھا، جب کہ دوسرا اپنے ہاتھوں میں رائفل پکڑے چوکس کھڑا گردوپیش کا جائزہ لے رہا تھا۔ آس پاس کی تمام چھتیں ویران پڑی تھیں۔ تمام گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند تھے۔وہاں فاروق اور ان کے سوا کوئی موجود نہیں تھا۔

 

اچانک الرٹ کھڑے رائفل بردار کی تیز نظر فاروق پر پڑی۔اس نے گھور کر اسے دیکھا اور اسے چھت سے جانے کا اشارہ کیا۔فاروق اس کے اشارے پر ٹس سے مس نہ ہوا تو مائیکرو فون بردار درشت لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔ “چھت سے نیچے چلے جائیں، ورنہ گولی ماردی جائے گی “۔مائیکرو فون والے نے جیسے ہی یہ جملے ادا کیے، رائفل بردار نے اپنی رائفل کا رخ فاروق کی طرف کردیااو ررائفل کے ٹریگر پر اپنی انگلی مضبوطی سے جما دی۔

 

ان کا جارحانہ رویہ دیکھ کر فاروق فوراً سراسیمگی سے چھت کی دیوار کے نیچے بیٹھ گیا اور بیٹھے بیٹھے اپنے پیروں پر حرکت کرتا ہوا دیوار سے پرے ہٹنے لگا اور دھیرے دھیرے آگے بڑھتا جا کرزینے کی سیڑھیوں پر بیٹھ گیااور کان لگا کر مائیکرو فون سے سنائی دینے والی آواز اور ٹرک کی گھڑ گھڑاہٹ سنتا رہا، جو اب دھیرے دھیرے دور جاتی ہوئی لگ رہی تھی۔ٹرک کی گھڑگھڑاہٹ تو کچھ ہی دیر میں معدوم ہوگئی جب کہ مائیکرو فون سے سنائی دینے والی درشت آواز کچھ وقت تک سنائی دیتی رہی۔جب وہ بھی سنائی دینا بند ہوگئی تو فاروق سیڑھیوں سے اٹھا اور دھیرے دھیرے چلتا ہوا دیوار کے پاس گیا اور جھانک کر گلی میں دیکھنے لگا۔ٹرک وہاں سے جا چکا تھا مگر اس کا دکھائی نہ دینے والا ہیولا وہیں گلی میں کھڑا تھر تھرا رہا تھااورمائیکرو فون سے نکلتی سخت اور کٹھور آواز اب مکانوں کے درودیوار سے اپنا سر ٹکرا رہی تھی۔اگلے چند لمحوں میں بعض گھروں کی کچھ کھڑکیاں کھلیں اور ان میں سے متجسس اور سراسیمہ آنکھیں جھانک جھانک کر باہر کی ٹوہ لینے لگیں۔کچھ دیر پہلے ان بند کھڑکیوں کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا، جیسے یہ برسوں سے کھلی ہی نہ ہوں۔یہ سارا منظر دیکھ کر فاروق دل برداشتہ سا ہو کر دیوار سے پیچھے ہٹ گیا اور آہستہ آہستہ چلتا زینے کی طرف بڑھنے لگا۔سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کے کم سن دماغ پر عجب طرح کے اور بھانت بھانت کے خیالات نے یورش کردی۔وہ ان کے بارے میں غوروفکر کرنے کے لیے تو تیا رتھا مگر خیالوں کی اس گتھی کو سلجھانا قطعی طور پر اس کے بس سے باہر تھا۔

 

وہ کمرے میں پہنچ کر اپنے پلنگ پر لیٹ گیا اور کروٹ لے کر اپنے چہرے کو تکیے میں دبا دیا۔قریب ہی ایک اور پلنگ پر اس کے دونوں چھوٹے بھائی آڑے ترچھے گہری نیند سو رہے تھے۔ان کے والدین نے انہیں دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولے کی عادت ڈال دی تھی۔ آج فاروق کے لیے دن کے اس پہرقیلولہ کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔وہ تکیے میں اپنا چہرہ دبائے دھیمے دھیمے سانس لیتا سوچ رہا تھاکہ وہ چھوٹے شہر میں رہتے ہوئے بڑے شہر کی جو عجیب و غریب کیفیت یا حالت دیکھنے کے لیے مچلا کرتا تھا، اب وہ کسی حد تک اس کے روبرو آچکی تھی، اوراتنی روبرو کہ کچھ دیر پہلے وہ چھت پر اس سے آنکھیں بھی ملا چکا تھا۔اسے اندازہ ہونے لگا تھا کہ بڑے شہر پر اچانک جس دیو کا سایہ پھر جاتا تھا، وہ دیو، ہمالہ یا ہندوکش کے دامن میں نہیں بلکہ اسی بڑے شہر کے بیچوں بیچ رہتا تھا۔ اڑن طشتری جیسی گاڑیوں پر مشتری کی مخلوق نہیں بلکہ ہمارے دیس کے محافظ سفر کرتے تھے۔خلائی مخلوق جیسے لباس میں اجنبی زبان بولنے والوں کا تعلق، کسی دوسرے سیارے سے نہیں بلکہ اسی ملک کے بالائی علاقوں سے تھا۔فاروق کو یہ احساس شدت سے مایوس کر رہا تھا کہ اس نے اپنی دیوارِ خیال پر جو تصویریں بنائی ہوئی تھیں، بڑے شہر کی حقیقت کے سامنے وہ سراسر بودی اور مضحکہ خیز نکلیں، اور صرف یہی نہیں بلکہ اس حقیقت نے اس کے دل و دماغ پر خوف اور دہشت کا دبیز غلاف چڑھانے بھی کوشش کی تھی۔ وہ خوف اور دہشت کے اس غلاف کو نوچ کر پھینکنا چاہتا تھا، کیوں کہ اسے دل پر دھاک بٹھانے والے یہ دونوں جذبے پسند نہیں تھے۔چند روز بیشتر بازار میں اور آج دوپہر چھت پر پیش آنے والے واقعے نے اس کے ذہن میں بسی ہوئی فینتاسی کو چکنا چور کردیا تھا۔اس کی فینتاسی کی کرچیاں اس کے خیال و احساس کی دنیا کو لہو لہان کر رہی تھیں کیوں کہ حقیقت بہت ثقیل اور سنگ لاخ تھی۔اسے اس حقیقت کے آگے اپنا سر نگوں کردینا چاہیے تھا، اسے تسلیم کرلینا چاہیے تھا، مگر یہ کیا؟۔ فاروق نے لمبی سانس لیتے ہوئے کروٹ بدلی اور سوچنے لگا۔ مگر یہ کیا؟ اس کے مزاج کی خود سری اسے اس حقیقت کے سامنے سر جھکانے سے روک رہی تھی۔اسے کسی آشفتہ سری پر اکسا رہی تھی۔مگر وہ آشفتہ سری آخر تھی کیا؟ اور اس کے لیے اسے کیا کرنا تھا۔ وہ سوچتا ہی رہ گیا اور اسے اپنے ذہن پر چھائی دھند اور گردوغبار میں سے کوئی راستہ سجھائی نہیں دے سکا۔

 

فاروق کے گھر والوں نے اگلے دوروز شدید بیزاری اور کوفت کے ساتھ گزارے،کیوں کہ گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد تھی۔ان سب کے لیے ایسی پابندی سے گزرنے کا یہ پہلا تجربہ تھااور یہ ان پر زبردستی مسلط کیا گیاتھا۔اس لیے اس چھوٹے سے کنبے نے بے زاری اور کوفت سے بھرے ہوئے یہ گزارنے کے لیے راشن بھی جمع نہیں کیا تھا۔

 

عام دنوں میں اس کے والد سارا دن اپنے دفتر میں گزارنے کے عادی تھے، مگر اب سارا دن گھر پر گزارتے ہوئے انہیں وقت رکا رکا سا محسوس ہونے لگا تھا۔وہ اکثر کھانے کے دوران بڑبڑاتے ہوئے کسی کانے دجال کو برا بھلا کہتے رہتے، جو ملک کے کسی وزیرِ اعظم کو پھانسی پر لٹکا کر خود اس ملک کا حاکم بن بیٹھا تھا۔ان کی یہ باتیں اکثر فاروق کی سمجھ میں نہ آتیں، مگر وہ ان باتوں میں عجیب سی دلچسپی ضرور محسوس کیا کرتا۔فاروق کی والدہ کی تشویش بڑھنے لگی کیوں کہ گھر میں چائے بنانے کے لیے اور پینے کے لیے دودھ ختم ہوچکا تھا۔ سبزی ترکاری تو دودن پہلے ہی کھپ چکی تھی۔وہ دو روز سے دالیں اورفرج میں رکھے ہوئے گوشت کی مدد سے کھانا بنا رہی تھیں، لیکن اب وہ چیزیں بھی اپنے خاتمے کے قریب پہنچ چکی تھیں۔ اسی لیے انہیں فکر لاحق ہو نے لگی تھی کہ اگر یہ کرفیو کچھ اور دن تک کسی وقفے کے بغیریوں ہی چلتا رہا تو گھر میں فاقوں کی نوبت بھی آسکتی تھی۔فاروق نے مشاہدہ کیا کہ اس کی والدہ اس کے والد سے کچھ خائف رہنے لگی تھیں۔ والدہ کے خیال میں ان کے والد کواپنا تبادلہ بڑے شہر ہونے سے رکوانے کے لیے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لانی چاہئیں تھیں۔

 

گزرنے والے یہ دودن فاروق پر بھی بہت بھاری گزرے تھے۔اسے گھر میں بند ہو کر رہنا سخت دشوار لگ رہا تھا۔اس نے کتابوں کی دوکان سے خریدے ہوئے دونوں ڈائجسٹ چاٹ ڈالے تھے۔اسے نِک ویلیٹ کی چوریوں اور چارلس سوبھراج کی شعبدہ بازیوں پر مشتمل کہانیاں پسند آئیں تھیں۔ان دو دنوں میں کہانیاں پڑھنے کے علاوہ گلی سے سنائی دینے والی آوازوں کو کان لگا کر سننابھی اس کا محبوب مشغلہ رہا تھا۔اس دوران اسے جب بھی ٹرک کی گھڑ گھڑاہٹ اور مائیکرو فون والی درشت آواز سنائی دی، وہ خود کو چھت پر جانے سے نہیں روک سکا، مگر ہر بار چھت پر جاکر اسے مایوسی ہوئی، کیوں کہ ہر بار اسے ٹرک کی گھڑ گھڑاہٹ اور مائیکروفون کی آواز گردوپیش کی گلیوں سے آتی سنائی تو دی مگر وہ ٹرک اسے پھر نظر نہیں آیا۔دوسری دوپہر جب اس کے گھر کے سب لوگ قیلولہ کرنے کے لیے بستروں پر دراز ہوئے تو فاروق کو گھر سے باہر جانے کا خیال آیا۔ وہ اپنے چھوٹے بھائیوں کو بستر پر سویا چھوڑ کر دبے پاؤں کمرے سے نکلا۔وہ جانتا تھا کہ اس کے گھر میں داخل ہونے اور نکلنے کے دو راستے تھے۔ایک تو مرکزی پھاٹک تھا جو سیدھا سامنے والی گلی میں کھلتا تھا، دوسراعقبی دروازہ تھا جو پیچھے کی گندی گلی میں کھلتا تھا۔ اسے اندیشہ تھا کہ سامنے والی گلی سے نکلتے ہوئے اسے کوئی محلے دار دیکھ سکتا تھا، اسی لیے اس نے عقبی گلی والے راستے کو ترجیح دی۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا عقبی دروازے تک پہنچا اور احتیاط کے ساتھ اس کی کنڈی کھولنے لگا۔کنڈی کھول کر اس نے گلی میں جھانکاتووہاں کوئی ذی روح موجود نہیں تھا۔فاروق کو اندازہ ہوا کہ یہ گندی گلی آگے جاکر ساری گلیوں کو ملانے والی گلی سے مل جاتی تھی۔

 

ابھی فاروق وہاں کھڑا جھانک ہی رہا تھا کہ اچانک کسی گاڑی کے گزرنے کا شور سا سنائی دیا۔ اس نے دیکھا ایک جیپ فراٹے بھرتی ساری گلیوں کو ملانے والی سے گزری۔اس جیپ کا رنگ بھی ہلکا سبز تھا، اور اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے شخص نے بھی اسی رنگ کا چست لباس پہن رکھا تھا اور سر پر ٹوپی لگا رہی تھی۔ اس کی ذرا سی جھلک میں فاروق کو بس اتنا ہی دکھائی دے سکا۔جیپ کے گزر جانے کے وہ کچھ دیر تک عقبی دروازے سے لگا ہوا سوچتا رہا کہ وہ باہر جائے کہ نہ جائے۔اس نے باہر جانے کا فیصلہ موخر کرتے ہوئے دروازہ بند کردیا اور آہستگی سے قدم اٹھاتا ہوا اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔

 

اس روز رات کے کھانے کے دوران اس کی والدہ نے اس کے والد کو آگاہ کیا کہ گھر میں موجود سامان کی مدد سے صرف ایک دن اورگزارا جاسکتا تھا۔ یہ سنتے ہی والد کی پیشانی کی لکیر گہری ہوگئی مگر انہوں نے کچھ سوچتے ہوئے اس کی والدہ کو تسلی دی کہ کل یا پرسوں تک کرفیو میں کچھ نرمی ہونے کی امید تھی۔ ہوسکتا تھا کہ ایک یا دوگھنٹوں کے لیے کرفیو میں نرمی کردی جائے۔ یہ جواب سن کر اس کی والدہ مطمئن نہ ہوئیں بلکہ کہنے لگیں، کہ اگر ایسا نہ ہوا۔۔ تو؟ ان کی اس “تو “ کا والد صاحب کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔وہ سر جھکا ئے چپ چاپ کھانے میں مصروف رہے۔ ان کے چہرے پر فاروق نے ایک ایسی کیفیت دیکھی، جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔وہ اس کیفیت کو کوئی نام نہیں دے سکتا تھا بلکہ صرف اسے محسوس کرسکتا تھا۔ اسی لیے اسے محسوس کرتے ہوئے اس کا دل کٹ کر رہ گیا۔اس کی بھوک اچانک غائب ہوگئی۔وہ بے دلی سے نوالے چبانے لگا۔اسے رہ رہ کر یہ خیال تنگ کرنے لگا کہ گھر میں صرف ایک دن کے کھانے کا سامان باقی بچا تھا، جو کل تک ختم ہوجائے گا۔ پرسوں وہ لوگ کیا کریں گے؟ انہیں بڑے شہر منتقل ہوئے چند ہی روز ہوئے تھے۔ابھی اہلِ محلہ انہیں جانتے پہچانتے نہیں تھے۔اس لیے کسی سے مدد مانگنا بھی ناممکن تھا۔اگر کسی سے مدد مانگ بھی لی جاتی تو یہ ضروری نہیں تھا کہ امداد مل بھی جاتی۔

 

کچھ دیر بعد جب اس کے والد ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے دستر خوان سے اٹھے تو اسے ان کے چہرے پر گہری پرچھائیں دکھائی دی۔ وہ سر جھکائے چلتے ہوئے لاؤنج میں گئے اور ٹی وی آن کرکے اس کے سامنے بیٹھ گئے۔ نو بجے کا خبر نامہ شروع ہونے میں کچھ ہی دیر تھی۔فاروق بھی دستر خوان سے اٹھ کر ان کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔کچھ ہی دیر میں خبر نامہ شروع ہوگیا۔دونوں باپ بیٹے تجسس سے خبریں سننے لگے۔

 

فاروق یہ آس لگائے بیٹھا تھا کہ اس خبر نامے میں، بڑے شہر کے جن علاقوں میں کرفیو لگایا تھا، وہاں سے کرفیو اٹھانے یا ختم کرنے کی خبر بھی نشر کی جائے گی۔وہ یہی آس لے کر شروع سے آخر تک سارا خبرنامہ سنتا اور دیکھ تا رہا،مگراسے ایسی کوئی خبر سنائی اور دکھائی نہیں دی۔خبریں ختم ہونے پر وہ اپنے والد سے مخاطب ہوا۔ “ ابو، ان خبروں میں تو کرفیو ہٹانے کی کوئی خبر تھی ہی نہیں “۔اس نے یہ بات کہتے ہوئے اپنے والد کی طرف دیکھا تو وہ اسے پریشانی کے عالم میں اپنی شہادت کی انگلی کا ناخن چباتے ہوئے دکھائی دیے۔اس نے اپنے والد کو اس سے پہلے کبھی انگلی کا ناخن چباتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔یہ دیکھ کر وہ اپنی کہی ہوئی بات بھول گیا۔ایک بار پھر اسے اپنے دل کے کٹنے کا احساس ہوا۔اس نے چاہا کہ وہ اسی لمحے اپنے والد کے سینے سے لگ جائے اوردھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردے۔ مگر وہ ایسا نہیں کرسکا۔ کچھ دیر بعد اس کے والد نے اٹھ کر ٹی وی بند کردیا اور اسے اپنے کمرے میں جاکر سونے کا حکم دیتے وہ اپنے کمرے کی جانب چلے گئے۔اسے بھی نہ چاہنے کے باوجود وہاں سے اٹھ کر جانا ہی پڑا۔

 

اس کے چھوٹے بھائی اپنے بستر پر اودھم مچا کر کچھ دیر پہلے سوچکے تھے۔وہ دھیرے سے چلتا اپنے تاریک کمرے میں آیا اور اپنے پلنگ کو ٹٹولتا اس پر بیٹھ گیا۔اس کی نظروں میں اپنے والد کا اداس چہرہ بسا ہوا تھا۔وہ ان کے چہرے پر معمول کا خوش باش اور آسودہ تاثر دیکھنے کا تمنائی تھا۔وہ انہیں ہمیشہ کی طرح بے فکر اور مطمئن دیکھنا چاہتا تھا۔اسے رہ رہ کر یہ احساس ستانے لگا کہ یہ سب محض تمنا کرنے یا چاہنے سے ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔یہ سب ممکن بنانے کے لیے اسے کچھ کرنے کی ضرورت تھی۔اسے کیا کرنے کی ضرورت تھی؟اس بارے میں اس کا ذہن اسے کوئی راستہ نہیں سجھا پا رہا تھا۔بیٹھے بیٹھے اس نے اپنا سر ہاتھوں میں تھام لیااور لمبی سانسیں لینے لگا۔کچھ دیر بعد اسے اپنے والدین کے کمرے سے ان کی باتوں کی دھیمی دھیمی لیکن مبہم سی آوازیں سنائی دینے لگیں۔کبھی اس کی والدہ کی شکایت بھری آواز نمایاں ہوتی اور کچھ دیر بعد معدوم ہو جاتی۔پھر اس جواب دیتی اس کے والد کی آواز ابھرتی۔ فاروق اپنے بچپن سے یہ آوازیں سننے کا عادی تھا۔وہ اکثر سوچا کرتا تھا کہ اس کے والدین گہری نیند سونے کے بجائے رات گئے تک آپس میں یہ کیا کھسر پھسر کرتے رہتے تھے۔آج اسے ان کی اس کھسر پھسر کا حقیقی مفہوم کسی حد تک سمجھ آرہا تھا۔وہ سوچنے لگا کہ وہ یقیناً اپنے کنبے کو درپیش پریشان کن صورتِ حال کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے ہوں گے۔وہ بھی اس کی طرح اس صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ تلاش کررہے ہوں گے۔۔۔ راستہ؟۔۔سوچتے سوچتے فاروق پلنگ پر دراز ہوگیا۔اس کے سر میں درد ہونے لگا تھا اور اس کے پپوٹے بھاری ہونے لگے تھے۔دفعتاً اسے گلی کی جانب سے گھڑگھڑاہٹ سنائی دینے لگی۔یہ گھڑ گھڑاہٹ اب اس کے لیے اجنبی نہیں رہی تھی۔ وہ گزشتہ پانچ چھ دنوں میں اس سے بہت مانوس ہوچکا تھا، مگر آج اسے سنتے ہی نجانے کیوں اس کے وجود کے ہر حصے میں ایک سنسنی سی دوڑنے لگی۔اسے اپنے خون کی گردش تیز ہوتی محسوس ہوئی اور اس کے ساتھ ہی اس کی سانسوں کی رفتار بھی تیز تر ہونے لگی۔چند لمحے قبل اس کے سر میں ہونے والا درد بھی غائب ہوگیااور اس کے پپوٹوں سے بوجھل پن بھی ختم ہوگیا۔اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ اسی لمحے ایک پتھر ہاتھ میں اٹھائے دوڑتا ہوا اپنی چھت پر جائے اور جس سمت سے گھڑگھڑاہٹ کی یہ آواز سنائی دے رہی تھی، وہ پوری قوت سے پتھر اسی جانب پھینک دے۔

 

لیکن وہ اپنے پلنگ پر بے حس وحرکت لیٹا رہا۔حتی کہ سنائی دینے والی گھڑ گھڑاہٹ دھیرے دھیرے معدوم ہوگئی اور پلنگ پر لیٹے لیٹے فاروق کے وجود میں پیدا ہونے والی سنسنی بھی ختم ہونے لگی۔ اسکے دل کی دھڑکن اپنے معمول پر آنے لگی اور اس کے پپوٹے ایک بار پھر نیند سے بوجھل ہونے لگے۔

 

اس کنبے کے لیے یہ صبح گزشتہ تمام صبحوں سے مختلف تھی۔اگر چہ اس صبح بھی آس پاس کے مکانوں اور گلیوں پر پچھلے چند دنوں جیسا سکوت چھایا تھا اور پچھلے چند دنوں کی طرح آج کی صبح کا آغاز بھی چڑیوں اور لالڑیوں کی اداس چہچہاہٹ سے ہوا تھا۔فاروق کی والدہ حسبِ معمول سب سے پہلے نیند سے جاگیں اور غسل خانے سے وضو کرکے باہر نکلیں۔ انہوں نے گھر کے صحن میں مُصلی بچھا کر فجر کی نماز کی ادا کی۔ نماز کے بعد انہوں نے مصلے پر بیٹھے بیٹھے اپنے رب سے دعائیں مانگیں۔امن و آشتی کی دعائیں اور کشادہ رزق عطا کرنے کی دعائیں۔ مصلی سمیٹنے کے بعد یہ دیکھ کر کہ گھر کے سب لوگ ابھی تک گہری نیند سو رہے تھے، وہ دوبارہ کچھ دیر کے لیے اپنے بستر پر دراز ہو گئیں۔ کچھ دیر بعد جب فاروق کے والد جاگے، تو وہ بھی اٹھ کر باورچی خانے چلی گئیں۔
فاروق اور اس کے بھائیوں کو بیدار ہونے پر ان کی والدہ نے انہیں جو چائے پینے کے لیے دی وہ دودھ کے بغیر تھی۔فاروق گزشتہ چند دنوں سے اس چائے کا عادی ہوتا جا رہا تھا،اس لیے اس نے بے چون و چرا سلیمانی چائے کا کپ اٹھا لیا اور سڑپے لینے لگا۔ جب کہ اس کے چھوٹے بھائیوں کو گزشتہ دنوں کی طرح آج بھی یہ چائے پینے میں تامل تھا۔ وہ دونوں اپنی ناک بھوں چڑھاتے ہوئے سلیمانی چائے پینے لگے۔منجھلے نے تو صرف دو گھونٹ لے کر ہی اپنی پیالی چھوڑدیاوراس کی پیروی کرتے ہوئے چھوٹے نے بھی یہی کیا۔ان کی اس حرکت پر ان کی والدہ کو غصہ تو بہت آیا مگر وہ چپ رہیں۔ انہوں نے باورچی خانے جاکر خشک دودھ کا ڈبا اٹھایا اور اس کی تہہ میں چپکے ہوئے خشک دودھ کو چھری سے کھرونچنے لگیں۔اس کے بعد وہ دودھ لاکر انہوں نے منجھلے اور چھوٹے بیٹے کی پیالیوں میں ڈال کر اسے چمچ سے چائے میں حل کردیا۔ چائے کا بدلتا ہوا رنگ دیکھ کر وہ دونوں خوش ہوگئے۔ان کی خوشی دیکھ کر فاروق اور اس کی والدہ مسکرانے لگیں۔ماں بیٹا جانتے تھے کہ ان کے ہونٹوں پر آئی یہ مسکراہٹ عارضی تھی۔

 

حسبِ معمول سب لوگ دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولے کے لیے اپنے کمروں میں بستروں پر دراز ہو گئے۔ فاروق اپنے چھوٹے بھائیوں کو بار بار سونے کی تنبیہ کرنے لگا، مگر وہ دونوں اس کی تنبیہ کو خاطر میں لائے بغیر ایک دوسرے سے باتوں میں مگن تھے۔منجھلا باتیں کرتے ہوئے چھوٹے کے سر پر ایک چپت لگاتا، جب کہ چھوٹا تلملاکراس کے چٹکی لے لیتا۔اتنے میں انہیں قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ وہ سمجھ گئے کہ ان کی والدہ آرہی تھیں۔فاروق سمیت تینوں آہٹ سنتے ہی اپنے بستروں پر سیدھے لیٹ گئے اور اپنی آنکھیں بھینچ کر سوتے بن گئے۔ان کی والدہ انہیں خوب سمجھتیں تھیں، اسی لیے اندر آتے ہی انہوں نے ان کے ناٹک کو سنجیدگی سے نہ لیا۔ وہ کمرے میں کھڑی ہو کر انہیں آخری وارننگ دینے لگیں اور اس کے چند لمحوں بعد وہ کمرے سے چلی گئیں۔ہمیشہ کی طرح ان کی وارننگ کا دونوں چھوٹوں پر فوری اثر ہوا۔ چند منٹ گزرتے ہی وہ سوگئے، مگر فاروق نہیں سویا۔کچھ دیر بعد اس نے آنکھیں کھول دیں اوروالدین کے کمرے سے سنائی دینے والی باتوں کے تھمنے کا انتظار کرنے لگا۔

 

فاروق گذشتہ روز سے ایک عجیب سی غلام گردشِ خیال میں بھٹک رہا تھا۔اس غلام گردش میں کمرے ہی کمرے ہی تھے، راہ داریاں ہی راہ داریاں تھیں۔ وہ بار بار ان کے درودیوار سے اپنا پٹخ رہا تھا۔ایک کمرے سے دوسرے اور ایک راہ داری سے دوسری میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا تھا۔وہ اپنے گھر والوں سمیت جس صورتِ حال کے زندان میں قید تھا، اس سے نکلنے کے راستے کا کوئی نقشہ اس کے پاس نہیں تھا۔ کیوں کہ یہ صورتِ حال باہر سے ان پر مسلط کی گئی تھی۔جن بازاروں میں انسانوں کی ضروریہ کا سامان بکتا تھا، وہ بند پڑے تھے۔ہسپتال، اسکول، دفاتر سب بند تھے۔گلیوں میں چلنے اور گھر سے نکلنے پر پابندی عائد تھی۔اور اس پابندی کو مسلط ہوئے آج تقریباً چھ دن ہو گئے تھے۔اس کی وجہ سے اس کا خاندان ایک المیے سے دوچار تھا۔اس کے والدین کے چہروں سے بے فکری اوراطمینان کا فور ہوچکا تھا۔وہ گھبرائے اور بولائے بولائے سے رہنے لگے تھے۔ان کی آنکھوں میں اداسیوں کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔فاروق ان کی اداسی ختم کرنا چاہتا تھا۔ اس کے لیے اس صورتِ احوال پر چپ سادھے رہنا ناممکن ہو چکا تھا۔

 

فاروق دیوار کی طرف کروٹ لیے کچھ دیر تک سوچتا رہا۔اس کے والدین کے کمرے سے آوازیں آنی بھی بند ہوگئی تھیں۔یہ بھانپتے ہوئے وہ بستر سے اٹھا اور اپنے سلیپر پہن کر دبے پاؤں چلتا کمرے سے باہر چلا گیا۔اس نے اپنے سلیپر برآمدے میں رکھے ہوئے جوتوں کے اسٹینڈ پر رکھ دیے اور وہاں جوگرز شوز اٹھا لیے۔زینے کی سب سے نچلی سیڑھی پر بیٹھ کر اس نے موزے پہننے کے بعد جوتے پہنے۔یہ جوتے پہن کر چلتے ہوئے بے آواز رہتے تھے۔اور انہیں پہن کر چلتے ہوئے وہ خود کو سبک رو محسوس کرتا تھا۔وہ بیآواز قدموں سے چلتا ہوا باورچی خانے گیا اور وہاں درازوں میں رکھے ہوئے برتن ٹٹولنے لگا۔کیتلی میں اسے دوسو روپے کے دو نوٹ مل گئے۔ اس نے مسکراتے ہوئے وہ نوٹ اپنی جیب میں رکھ لیے اور باورچی خانے سے نکل گیا۔عقبی گلی کی طرف کھلنے والے دروازے کی دہلیز پر کھڑا وہ کچھ تک باہر جھانکتا رہا، پھردروازہ باہر سے بند کرکے وہ گلی کے خالی پن میں اتر گیا۔

 

تین بجے کا عمل تھا۔عام حالات میں بھی اس وقت ان گلیوں پر سناٹا طاری ہوتا تھا مگر اب سناٹے کے ساتھ خوف کی ایک پرچھائیں بھی موجود تھی، جو فاروق کے دل و دماغ پر تھرتھرا رہی تھی۔ وہ اُس پرچھائیں کی تھرتھراہٹ کو نظرانداز کرتا عقبی گلی میں قدم آگے بڑھانے لگا۔ جس مقام پر یہ عقبی راستہ ساری گلیوں کو ملادینے والی گلی سے جا ملتا تھا، وہاں پہنچ کر وہ ٹھہر گیااور دیوار کی اوٹ سے آگے کا منظر دیکھنے لگا۔یہ وہی جگہ تھی، جہاں سے گھڑ گھڑاتا ہوا ٹرک گزرتا تھا، مگر اس وقت یہ گلی مکمل طور پر خالی تھی۔ صرف ایک خارش زدہ کتا اپنا پاؤں اٹھائے ایک مکان کی دیوار سے لگا پیشاب کر رہا تھا۔وہ اس کتے کو نظر انداز کرتا آگے بڑھا۔

 

آگے بڑھ کر جب وہ اس مقام تک پہنچا، جہاں سے بازار کی طرف راستہ جاتا تھااوراُس روز جہاں اسے،دور سے ہی بازار کی رونق دکھائی دے گئی تھی،اُسے لگاآج وہاں واقعی کسی دیو کا سایہ پھر گیا تھا۔وہ اس راستے کے بیچوں بیچ کھڑا ہو کر کسی مخبوط شخص کی طرح بازار کی جانب دیکھنے لگا۔ نہ تو گاڑیوں کی ورک شاپ کھلی تھی اور نہ ہی فرنیچر کی ورک شاپ۔ان سے تھوڑی دور واقع ویڈیو سینٹرز بھی بند پڑے تھے۔اس سے آگے کا منظر بھی پوری طرح ویران تھا۔ایسی ویرانی اور ایسے سکوت کا مشاہدہ اس نے زندگی میں کبھی نہیں کیا تھا۔اس نے معاً دائیں جانب گلی میں ایک دوسرے سے لگ کر کھڑے ہوئے مکانات کی طرف ایک حیرانی سے دیکھااورسوچنے لگا۔ “ ہر مکان میں جیتے جاگتے لوگ رہتے ہیں مگر اِس پہر ان پر چھائی خاموشی محسوس کر کے کون کہہ سکتا ہے کہ ان میں زندہ لوگ بستے ہیں۔ “ اسے لگا کہ یہ سارے مکان کسی آسیب کے زیرِ اثر ہیں اور ان کے باسی کب کے انہیں چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

 

وہ اپنے خیالوں میں گم تھا کہ اسے بازار کی سمت سے “ زنن “کی عجیب سی آواز سنائی دی۔اس نے فوراً سامنے دیکھا تو بازار کی سڑک سے کوئی چیز زناٹے سے گزری۔اس کے تخئیل نے اسے سجھایا کہ وہ اڑن طشتری جیسی کوئی چیز تھی، مگر اسی لمحے اس کے تجربے نے اسے بتایا کہ وہ کوئی جیپ یا گاڑی تھی۔اس نے اپنے تخئیل کی شرارت کو رد کرکے اپنے تجربے کی بات مان لی۔اس دوران فاروق یہ اہم ترین چیز فراموش کیے رہا کہ وہ ایک نسبتاً کشادہ راستے کے بیچوں بیچ کھڑا تھا۔یہ اسے تب یاد آیا جب دوسری مرتبہ “زنن “ کی آواز سنائی دینے کے اگلے ہی ثانیے ہلکے ہرے رنگ کی جیپ بازار والی سڑک پر نمودار ہوئی اور بالکل اچانک اس نے اپنا رخ فاروق کی جانب کرلیا۔اب جس راستے پر وہ کھڑا تھا،اس کے ایک سرے پر جیپ تھی اور دوسرے سرے پر وہ موجود تھا۔تُرنت اس کے تن بدن میں ایک بجلی سی بھر گئی مگر اس بجلی نے اس کے ہوش و حواس یکسر غائب کردیے۔وہ دائیں گلی میں بھاگنے کے بجائے پیچھے کی طرف بھاگا۔ جیپ کے قریب آنے کے ساتھ اس کے پہیوں اور انجن کی آواز بھی اس کے نزدیک تر آنے لگی۔وہ راستہ اسے ایک نئی گلی میں لے گیا۔ اُ س گلی میں بھی اس نے سمت کے انتخاب میں سنگین غلطی کردی۔اب وہ ایک ایسی سمت دوڑ نے لگا،جس کے دوسرے سِرے کے بارے میں اسے کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔

 

کچھ آگے جا کر اس نے دوڑتے ہوئے گردن موڑ کر ذرا ساپلٹ کر دیکھاتو اسے وہ جیپ اپنی سمت آتی دکھائی دی۔وہ حواس باختہ ہوکر بھاگنے لگا۔ وہ بُری طرح ہانپ رہا تھا۔ اسے اپنے دل کی دھڑکن کانوں میں گونجتی، شور مچاتی محسوس ہورہی تھی۔ اس کا جسم سر تا پا پسینے سے بھیگ گیا تھااور اس کی قمیض اس کے بدن سے چپک گئی تھی، جس کی وجہ اسے گھٹن محسوس ہونے لگی تھی۔اِس سمت کے جس سِرے کی جانب وہ دوڑ رہا تھا وہ سرا اسے تھوڑے فاصلے پر واقع ایک سڑک تک لے گیا۔یہ سڑک اس وقت سنسان تھی۔وہ سڑک کے جس کنارے پر موجود تھا،وہاں ایک بڑی سی مسجد بنی ہوئی تھی۔دن کے اس پہر مسجد کے گیٹ پر بڑا سا تالا لگا ہوا تھا۔سڑک کے اُس پار اسے محکمہ ریل کے ملازمین کے لیے بنایا گیا پیلے رنگ کا ایک پرانا سا کواٹر دکھائی دیا۔اُس کواٹر کے ساتھ ایک چھوٹی سی پھلواری تھی اور اس پھلواری کے ساتھ اسے چھوٹے چھوٹے زردو سفید پتھروں سے اٹا اورمعمولی سی اونچائی کی طرف جاتا ایک راستہ دکھائی دیا۔وہ سوچے سمجھے بغیر سڑک عبور کرکے اس راستے کی طرف بھاگا۔ایک دو پتھروں سے اس کے پاؤں کو ٹھوکر لگی مگر وہ اس ٹھوکر کو خاطر میں نہیں لایااور دوڑتا چلا گیا۔
معمولی سی چڑھائی چڑھنے کے بعداسے اپنے عقب میں جیپ کے رکنے کی آواز سنائی دی۔ جیپ میں سے کوئی شخص اس پر چلایا۔ “ اوئے رک جا، نہیں تو۔۔ “۔ یہ آواز سن کر اس کا دل دہل گیا، مگر اس نے اپنے آپ کو پلٹ کر دیکھنے سے روکا اور اپنا قدم پوری قوت سے آگے بڑھایا۔نجانے کیوں اسے لگ رہا تھا کہ اگر اس نے اس لمحے مڑ کر دیکھا تو وہ اسی دم پتھر کا بت جائے گا۔

 

اس کی توقع کے یکسر بر خلاف اب اس کے سامنے ایک کشادہ منظر تھا۔اس کشاد ہ منظر میں ریلوے کی تین لائنیں، پلیٹ فارم، ریلوے لائن کا کانٹا تبدیل کرنے والاساؤتھ کیبن تو شامل تھا ہی، اس کے علاوہ ایک دو رویہ کشادہ شاہراہ بھی تھی، جو اس چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن کے عقب سے گزر رہی تھی۔ اسے شاہرا ہ پر گاڑیاں رواں دواں دیکھ کر سخت حیرانی ہوئی۔وہ برق رفتاری سے چھلانگیں لگا تا، پٹڑیاں عبور کرتاسامنے والے پلیٹ فارم تک پہنچااور اسی رفتار سے دوڑتا ہوا ساؤتھ کیبن کے عقب سے نکل کر شاہراہ پر آگیا۔

 

اس نے شاہراہ کے کنارے ریلوے اسٹیشن کی مختصر دیوار کے ساتھ نیم اور سفیدے کے بلند قامت درختوں کا گھنا سایہ دیکھا تو اس کا دل کچھ دیر سستانے کو چاہا، مگرسستانے کے خیال کے ساتھ ایک سنگین خدشہ بھی جڑا ہوا تھا، جسے نظرانداز کرنا اس کے بس میں نہیں تھا۔وہ سوچ رہا تھا کہ کہیں وہ جیپ اڑن طشتری کی طرح چشمِ زدن میں درختوں کے گھنے سائے میں اس کے سامنے آکر کھڑی نہ ہوجائے، اور کہیں اس میں سوار شخص غیر انسانی لہجے میں چینخ کر اس سے مخاطب نہ ہوجائے۔ “اوئے رک جا، نہیں تو۔۔ “۔ اس خدشے کے پیشِ نظر اسے اپنا سستانے کا خیال ملتوی کرنا پڑااوروہ درختوں کے سائے کو نظر انداز کرتا ہواآگے بڑھنے لگا۔

 

وہ جوں جوں قدم بڑھاتا گیا، شاہراہ کے اُ س پار کھلی ہوئی دوکانیں دیکھ کر اس کی حیرت دوچند ہوتی چلی گئی۔یہ بات اس کے لیے مکمل طور پر ناقابلِ فہم تھی کہ ریلوے لائن کے اُس طرف والے علاقے کے لیے الگ قانون کیوں تھا اور ریلوے لائن کے اِس طرف واقع شاہراہ کے لیے الگ قانون کیوں تھا؟ اُس طرف بازاربندکیوں تھے؟ اور سڑکوں اور گلیوں میں سناٹا کیوں تھا؟ اور اِس طرف نہ صرف ٹریفک چل رہا تھا بلکہ دوکانیں بھی کھلی ہوئی تھیں۔یہی کچھ سوچتے ہوئے اس نے شاہراہ عبور کی اور کھلی ہوئی دوکانوں کی طرف چلا گیا۔

 

یہ دوکانیں شاہراہ کو نوے درجے پر کاٹ کر سامنے نکلتی ہوئی ایک سڑک کے کنارے واقع تھیں۔ان کے قریب ہی چائے اور کھانے کے دوہوٹل بھی تھے۔ چلتے چلتے اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کرروپوں کی موجودگی محسوس کرتے ہوئے اپنی تسلی کی۔باورچی خانے کے درازوں میں پڑے برتنوں سے چرائے ہوئے اپنی والدہ کے دوسوروپے اس کے پاس تھے۔وہ اپنی سمجھ داری کو بروئے کار لاتے ہوئے ان روپوں کی مدد سے بہت سی چیزیں خرید نا چاہتاتھا۔اس نے اپنے ذہن ہی ذہن میں روز مرہ استعمال کی اشیا کی ایک فہرست بنائی اور ایک دوکان پر جا کر کھڑا ہوگیا۔

 

اِس سہ پہریہ دوکان گاہکوں سے یکسر خالی تھی، اسی لیے دوکان دار اسٹول پر بیٹھاجماہیاں لے رہا تھا۔فاروق کو دیکھ کر وہ ڈھیلے سے انداز میں اٹھ کر کاؤنٹر تک آیا۔ فاروق اسے باری باری اشیاکے نام اور مقدار بتانے لگا اور وہ اپنے سست انداز سے وہ چیزیں نکال کر انہیں تول تول کر ایک طرف رکھنے لگا۔ان اشیا میں چاول، چینی، دالیں، گھی اور چائے کی پتی وغیرہ شامل تھیں۔جب فاروق اپنے ذہن میں مرتب کردہ فہرست کے مطابق کے اشیا خرید چکا تو اس نے دوکاندار کو بل بنانے اور اشیا کو کسی تھیلے میں بند کرنے کے لیے کہا۔

 

فاروق کے ذہن میں یہ بات دور دور تک نہ تھی کہ جب اس کے والدین اور بھائی اسے اس کے بستر پر نہ پائیں گے، تو ان پر کیا گزرے گی؟ ان کے لیے موجودہ صورتِ حال میں اسے تلاش کرنے کے لیے گھر سے نکلنا بھی ناممکن ہوگا۔ اس نے یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ جب اس کی والدہ کو باورچی خانے کے درازوں میں پڑے برتنوں سے دو سو روپے غائب ملیں گے تو ان کی کیاحالت ہوگی؟ انہیں اس کی چوری پر لازماً غصہ آئے گا۔ان سب باتوں کے برخلاف اس وقت وہ صرف یہ سوچ رہا تھاکہ جب وہ اشیائے صرف کا تھیلا اٹھائے ہوئے گھر پہنچے گا تو وہ لوگ اس کے ہاتھوں میں روزمرہ ضروریات کا سامان دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سمائیں گے۔ اس کے بھائی فوراً گلے لگ جائیں گے جب کہ اس کے والدین اس کے اس کارنامے پر اس کی پیٹھ تھپکیں گے۔

 

وہ مطمئن تھا کہ دو سو روپے میں اس کا مطلوبہ سامان آگیا تھا۔ اس نے روپے دوکان دار کے حوالے کرکے سامان کا تھیلا اٹھایا۔ابھی وہ تھیلا اٹھا کر پلٹا ہی تھا کہ ایک ہلکے ہرے رنگ کی جیپ سڑک پراس سے ذرا فاصلے پر آ کر رک گئی۔ جیپ دیکھتے ہی اس کی سٹی گم ہو گئی۔ جیپ کا اگلا دروازہ کھلا اور ڈرائیونگ سیٹ سے ایک فوجی اتر کر اس کی جانب بڑھا۔ فاروق تھیلا اٹھائے حیرت سے بت بنا اس فوجی کی طرف دیکھتا رہا۔فوجی کے چہرے سے انسانی جذبہ یکسر غائب تھا۔ فاروق کو محسوس ہوا کہ وہ اسی آن اسے بازو سے پکڑ کر جیپ کی طرف کھینچتا ہوا لے جائے گا۔مگر۔۔ مگریہ کیا ہوا؟ وہ اس کے پاس سے لاتعلقی سے گزرتا آگے بڑھ گیا۔فاروق نے طویل سانس لی اور اس کی جان میں جان آئی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو اسے وہ فوجی دوکان سے کوئی چیز خریدتا ہوا دکھائی دیا۔اس کے ہونٹوں پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ آکر غائب ہوگئی۔وہ شاہ راہ کی جانب چل دیا۔

 

وہ شاہ راہ عبور کرکے ریلوے اسٹیشن کی مختصر دیوار کے پاس لگے نیم اور سفیدے کے درختوں کے پاس پہنچا تواسے وہ بات یادآ ئی، جسے وہ بہت دیر سے بھولا ہوا تھااور وہ یہ کہ اسے گھر پہنچنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ یعنی کیا وہ راستہ جس پر دوڑتے ہوئے وہ خود بخود اس طرف آنکلا تھا، یا پھر کوئی اور نیا راستہ۔وہ کچھ دیر تک درختوں کے نیچے کھڑا اسی مخمصے میں گرفتار رہا۔اس دوران وہ اپنے گردوپیش کے ماحول سے چند لمحوں کے لیے یکسر غافل ہوگیا۔اسے یاد آیا کہ جس راستے سے وہ اتفاقاً اس طرف آنکلا تھا، اس کے سوااور کسی راستے کے بارے میں اسے علم ہی نہیں تھا۔اس لیے اگر اس نے کسی دوسرے راستے سے گھر جانے کی کوشش کی تو بھٹکنے کا شدید احتمال تھا۔ اس لیے اس نے اپنے آپ کو نیا راستہ استعمال کر کے نیاخطرہ مول لینے سے روک دیااور اسی راہ کی طرف چل دیا، جدھر سے وہ اس جانب آیا تھا۔

 

دوپہر کی جھلساتی ہوئی تیز دھوپ میں وہ تھیلا اٹھائے کچھ دیر تک پلیٹ فارم پر ٹہل کر ریلوے لائن کے اس طرف گزرنے والی سڑک کا جائز لینے کی کوشش کرتا رہا۔پسینہ جو بہت دیرسے اس کے بدن کے تمام مساموں سے جاری تھا،تھمنے میں ہی نہ آتا تھا۔اس لیے اس کے کپڑوں کے ساتھ ساتھ اس کے جوگر شوز بھی پسینے سے بھیگ گئے تھے مگر وہ اس کے باوجود پلیٹ فارم کے ایک کونے سے دوسرے تک ٹہلتا چلا گیا مگر پرلی طرف بنے ہوئے کواٹروں اور ان کی پھلواریوں کے گرد اُگے ہوئے درختوں کے سبب کسی بھی مقام سے وہ سڑک اسے دکھائی نہیں دے سکی۔اس کوشش میں ناکامی کے بعد اس نے مجبوراً آگے بڑھنے کا فیصلہ کیااور وہ ساؤتھ کیبن کے قریب، پلیٹ فارم سے نیچے اتر گیا اورریلوے لائن عبور کرنے لگا۔ آگے بڑھ کر وہ ریلوے کواٹر کی پھلواری کے نزدیک پہنچ کر ٹھہر گیا۔ یہاں سے اسے وہ سڑک اور اس کے پار کا کچھ منظر بھی دکھائی دینے لگا۔ گرچہ وہ یہاں سے پوری سڑک دیکھنے سے قاصر تھا، مگر اسے یہاں سے جتنی سڑک دکھائی دے رہی تھی،وہ خالی تھی اور اس کے پار کا منظر بھی ویران تھا۔اسے سڑک کے خالی پن اور ویرانی سے کچھ ڈر سا لگا، مگر وہ اپنے ڈر کو نظر انداز کرتا دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا پھلواری کے قریب سے گزرکر سڑک پر آگیا۔دن بھر تیز دھوپ کی تپش سہنے والی یہ سڑک اس وقت تیز حدت کی لہریں اچھال رہی تھی۔سرسری انداز سے دائیں اور بائیں دیکھنے کے بعد اس نے سڑک پار کرنے کے لیے اپنا پاؤں اس پر دھرا ہی تھا کہ اچانک ایک سیٹی کی آواز اس کی سماعت میں داخل ہوئی۔ اس نے گھبرا کر پہلے بائیں طرف دیکھا اور پھر دائیں طرف۔کچھ غور کرنے پر اسے دائیں جانب ایک پیڑ کے نیچے ہلکے ہرے رنگ کے یونیفارم میں ملبوس ایک فوجی کھڑادکھائی دیا۔ اسے دیکھتے ہی فاروق ساکت ہوگیا، جیسے کسی نے اسے پتھر کا بنادیا ہو، کیوں کہ وہ اس سے زیادہ دور نہیں تھا۔

 

اس فوجی نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اپنی طرف بلایا۔فاروق فوری طور پر اس کے حاکمانہ اشارے کی تعمیل نہیں کرسکا۔ وہ تھیلا ہاتھ میں تھامے لاچاری سے اس کی طرف دیکھتا رہا،کیوں کہ اس کے لیے اب فرار ہونا بالکل ناممکن تھا۔ایسی کوئی بھی کوشش یقینی طور پر اس کے لیے خطرناک ہوسکتی تھی۔اس کے ٹس سے مس نہ ہونے پرفوجی کی تیوری چڑھ گئی اور وہ رعب دار لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔ “کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو؟ ادھر آؤ۔ “

 

فاروق سر جھکائے دھیرے دھیرے چلتا اس کے قریب جانے لگامگر کچھ فاصلے پر ہی فوجی نے اسے رکنے کا اشارہ کیا۔ “وہیں رک جاؤ “۔ اس بار فاروق نے فوراً اس کے حکم کی تعمیل کردی اور وہ اس سے چند قدم دور ہی ٹھہر گیا۔ “کہاں سے آرہے ہو؟ “فوجی کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھیلا اٹھا کر اسے دکھادیا۔اس کا یہ انداز فوجی کو ناگوار گزرا۔ “ میں نے جو پوچھا ہے، اس کا جواب زبان سے دو “۔

 

فاروق اپنا حوصلہ مجمتمع کرکے بہ دقت گویا ہوا۔ “ میں۔۔وہ۔۔ گھر کا سامان۔۔ لینے گیا تھا “۔ اتنی سی بات کہتے ہوئے اس کی سانسیں پھول گئیں۔وہ اندر سے بری طرح سہما ہوا تھا۔کوئی خوف اس کے دل پر زوردار چابک رسید کررہا تھا اور اس کی دھڑکن کسی منہ زور گھوڑے کی طرح بگٹٹ دوڑی جارہی تھی۔اس کے ذہن میں آندھیاں بگولے اڑاتی پھررہی تھیں۔ایسے میں یکسو ہو کر کسی بات کا جواب دینا اس کے لیے مشکل ہورہا تھا۔

 

“گھر کا سامان؟۔۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اس علاقے میں سخت کرفیو لگا ہوا ہے۔ “

 

فوجی کی بات کا جواب دینے کے بجائے اس نے اثبات میں اپنا سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا۔

 

“ یہ جانتے ہوئے بھی تم اپنے گھر سے باہر کیوں نکلے؟ بتاؤ؟ “ فوجی کے لہجے میں تندی کا عنصر بڑھتا جارہا تھا۔فاروق کے پاس اس کے سوال کا خاموشی کے سوا کوئی جواب نہیں تھا۔اس کی خاموشی کو فوجی نے اس کی ہٹ دھرمی پر محمول کیا۔اس نے اسے غصیلی نظر وں سے سر تاپادیکھااور اس کے لبوں سے ہلکی سی ہونہہ نکلی۔وہ کچھ کہنا چاہتا تھا کہ اسی اثنا میں آگے کہیں سے ایک زور دار سیٹی کی آواز سنائی دی۔فوجی نے سرعت سے گردن موڑ کر اس جانب دیکھا، جہاں سے سیٹی کی آواز گونجی تھی۔فاروق نے بھی جب اس سمت دیکھا تو اس کی پریشانی دوچند ہوگئی۔

 

اسی سڑک پر آگے جاکر پڑنے والے ایک چوک پراسے تین فوجی کھڑے دکھائی دیے۔ان میں سے ایک نے اپنا ہاتھ ہلا کر کوئی اشارہ کیا۔ فاروق وہ اشارہ نہیں سمجھ سکا مگر اس کے قریب کھڑا فوجی فوراً اس اشارے کا مطلب سمجھ گیا۔ وہ اس سے مخاطب ہوا۔ “ فٹافٹ دوڑ کر ان کے پاس چلے جاؤ۔ تمہارا فیصلہ ہمارے صوبیدار جی کریں گے۔ “

 

فاروق اس کی بات سننے کے باوجود نہ سمجھاتوفوجی دوبارہ بولا۔ “ فورا دوڑ لگا کر ان کے پاس جاؤ۔ “یہ کہتے ہوئے اس نے اسے ہلکا سا دھکا بھی دیا۔
اس مقام سے چوک تک کا فاصلہ طے کرنے کے لیے فاروق کو دوڑ لگانی پڑی۔گرچہ ہاتھ میں تھامے سامان سے بھرے ہوئے تھیلے کی وجہ سے اسے تیز دوڑنے میں مشکل پیش آرہی تھی۔اس کا گرمی کی تمازت سے سرخ ہوتا چہرہ پسینے میں شرابور تھا،پھر بھی وہ جیسے تیسے بھاگتاہوا چوک میں کھڑے فوجیوں تک پہنچ ہی گیا۔

 

یہ چوک کشادہ سی جگہ پر بنا ہوا تھا۔جس سڑک سے فاروق آیا تھا، وہ چوک سے گزر کر ریلوے لائن کے ساتھ سیدھی آگے کی طرف چلی گئی تھی۔ریلوے لائن کی طرف پٹڑیوں سے پیدل گزرنے والوں کے لیے پختہ راستے کے ساتھ لوہے کا ایک دیو قامت پل بنا ہوا تھا۔اس پل کے عین مخالف یعنی چوک کے بیچوں بیچ، جہاں وہ اس وقت تین فوجیوں اور دو عام شہریوں کے ساتھ موجود تھا، د ومتوازی لیکن مختلف راستے الگ الگ سمتوں کی طرف جا رہے تھے۔

 

اس کا سامنا جس فوجی سے ہوا وہ اپنے ڈیل ڈول اور قامت کی وجہ سے اور اپنے سرخ ٹماٹر جیسے چہرے پر واقع بڑے بڑے گُل مچھوں کی وجہ سے، اسے صوبیدار محسوس ہوا، کیوں کہ اس نے اپنی عقابی آنکھ سے فاروق کا سرتاپا جائزہ لیا تھا۔فاروق اس کے سامنے کھڑا ہوکر کچھ دیر تک ہانپتا رہا۔

 

“ سیدھے کھڑے ہوجاؤ۔اٹین شن۔ “فاروق کو محسوس ہوا کہ اس شخص کی آوازاسے سنائی نہیں دی بلکہ برقِ سیاہ فلک بن کر اس پر ٹوٹی ہے۔ اس کا پورا بدن حتی کہ وہ بازو بھی، جس کے ہاتھ سے اس نے کئی کلو سامان کا تھیلا اٹھا رکھا تھا، لاشعوری طور پر خودبخود اٹین شن ہوگئے۔

 

صوبیدار نے اس سے کچھ فاصلے پر رہ کر ایک تیز نظر اس کے تھیلے پر ڈالی۔ “ اس میں کیا ہے؟ “۔اس بار اس کی آواز کسی زمینی تازیانے کی طرح فاروق کی سماعت میں داخل ہوئی۔

 

اس نے منمنائی سی آواز میں جواب دیا۔ “گھر۔۔ کاسامان۔ “

 

“سامان؟۔گھر کا؟۔۔ کرفیو میں سامان لینے گیا؟ “

 

اس بار فاروق نے جواب دینے کے بجائے اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا۔اس سے قبل کہ صوبیداراپنی آواز کا ایک اورسنگین پتھراسے دے مارتا،کہ سامنے والے ایک رستے سے ہلکے ہرے رنگ کی ایک جیپ سبک رفتاری سے چلتی، چوک میں ان کے قریب ہی آکر رک گئی۔جیپ کے رکتے ہی تمام فوجیوں نے فوراًشہریوں سے اپنی توجہ ہٹا کر،اسی دم الرٹ کھڑے ہوکرجیپ کی اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے افسر کو سیلوٹ مارا۔ افسر نے جیپ میں بیٹھے بیٹھے اپنی زیرک نظروں سے شہریوں کو غور سے دیکھا، پھر اس کی نگاہ فاروق پر دوتین ثانیے ٹھہر کر، صوبیدار کی طرف مڑ گئی۔اس کی گردن کے ہلکے سے خم ہونے کا اشارہ پاتے ہی صوبیدار الرٹ حالت میں چلتا ہواجیپ تک پہنچ گیا۔ صوبیدار اور افسرکو آپس میں خفیف لہجے میں باتیں کرتے دیکھ کر فاروق کو کچھ تشویش سی ہوئی۔اسے لگا کہ یہ وہی لوگ نہ ہوں، جوآتے ہوئے اس کے تعاقب میں لگے تھے۔ان کی حفیف سازباز تین چار لمحے جاری رہی۔اس کے بعد صوبیدار تُرنت اپنی جگہ پر واپس آگیا اور جیپ بھی سبک روی سے اس سمت آگے بڑھ گئی، جس سمت سے فاروق کو پکڑا گیاتھا۔

 

یہ کاروائی آناً فاناً ہوئی اور اس کے فوراً بعد صوبیداراور دوسرے دو فوجی شہریوں کے ساتھ اپنے معاملات میں مشغول ہوگئے۔ صوبیدار ایک بارپھر فاروق پر اپنا صدائی کوڑا برسانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔بارہ برس کا فاروق اب اپنے حواس پر کچھ کچھ قابو پا چکا تھامگرآسمان سے برستی ہوئی دھوپ اورکولتار کی سڑک پر اس دھوپ سے پیدا ہونے والی حدت نے اسے تھوڑا تھوڑا سا بولادیا تھا۔ وہ سامان سے بھرا چند کلو وزنی تھیلا کبھی دائیں ہاتھ میں پکڑتا کبھی بائیں ہاتھ میں۔اب یہ وزن اس کے لیے سوہانِ وجود بن چکا تھا، وہ نہ تو اس سے چھُٹکارہ پا سکتا تھا اور اب نہ ہی اسے پھینک سکتا تھا۔

 

“ بالکے! اپنا تھیلا ایک طرف رکھ کر مرغے بن جاؤ۔ تم نے قانون کی سنگین خلاف ورزی کی ہے “۔صوبیدار نے دو ٹوک انداز میں اپنا صدائی کوڑا اس پر برسایا۔فاروق اس کا یہ حکم فوراً سمجھ گیا، کیوں کہ اپنے پرائمری اسکول کے ابتدائی برسوں میں وہ اپنے استادوں کی جانب سے کئی بار ایسے ہی احکامات کی بے چون وچرا تعمیل کرچکا تھا۔اس نے چوک میں کھڑے کھڑے دیکھ لیا تھا کہ دوسرے فوجیوں نے دیگر دو شہریوں، جن میں سے ایک اپنے سفید بالوں کی وجہ سے عمر رسیدہ لگ رہا تھا جب کہ دوسرا اپنے چھریرے بدن کی وجہ سے درمیانی عمرکا معلوم ہوتا تھا،ان کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا گیا تھااور وہ دونوں اس سے ذرا فاصلے پر ٹانگوں کے بل جھکے ہوئے اور اپنے کانوں کو ہاتھوں سے پکڑے ہوئے، مرغے بنے ہوئے تھے۔ان کی یہ درگت دیکھ کر فاروق زیرِ لب مسکرائے بنا نہیں رہ سکا کیوں کہ دونوں کی کمر یں زیادہ اوپر کو اٹھی ہوئی تھیں۔

 

“تم نے سنا نہیں۔ مر غے بن جاؤ مرغے۔ “ اس بار صدائی کوڑے کی آواز کی غضب ناکی کچھ سوا ہی تھی۔اس لیے فاروق نے فوراً اپنا تھیلا ایک طرف رکھ کر،پھر اپنی ٹانگیں کھول کر مرغے کا آسن جمانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔اسے اپنی پوزیشن ایڈجسٹ کرنے میں دو تین لمحے لگے مگر اس کے بعد اسے یقین ہو گیا کہ وہ ان دونوں سے بہتر انداز میں کرفیو میں گھر سے باہر نکلنے کی سزا کاٹ رہا تھا۔

 

مرغے کے آسن میں فاروق کا دائرہِ چشم بہت محدود ہوگیا تھا۔کھڑے ہوکر اسے اپنے گردوپیش کا سارا منظر اپنی جزئیات سمیت دکھائی دے رہا تھامگر اب اس دشوار گزار آسن میں منظر کی جزئیات تو کجا، منظر کا ہی بہت تھوڑا سا حصہ اسے اپنی چھوٹی سی آنکھوں سے دکھائی دے رہا تھا۔اس کی آنکھیں اب صرف کولتار کی سیاہی مائل سڑک اور اس پر چلتے ہوئے فوجیوں کے بھاری بھر کم بوٹ ہی دیکھ پا رہی تھیں۔

 

جوں جوں وقت گزرتا گیا، فاروق کے پاؤں شَل ہوتے گئے۔اس کی کمر میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں اور اس کا حلق سوکھ کر کانٹا ہونے لگاکیوں کہ اس نے گھر سے نکلنے کے بعد سے اب تک پانی نہیں پیا تھا۔دھیرے دھیرے اس کے حواس گم ہونے لگے اور اس دوران فوجیوں کے بوٹ اس کے آس پاس ٹہلتے رہے۔کولتار سے اٹھتی حدت اس کے جسم کے ساتھ اس کی روح تک کو پگھلانے لگی۔اس کے بدن کے تمام مساموں سے پسینہ اتنے زوروں سے جاری تھا کہ اسے لگنے لگا کہ اس کا وجوداسی دم پانی میں تحلیل ہو کر کولتارمیں چھپے پتھروں کی حدت سے آبی بخارات بن کر فضا میں شامل ہوجائیگا۔

 

دفعتاً فاروق کو کسی گاڑی کے آنے کی آواز سنائی دی، جس کی رفتار چوک میں پہنچ کر کچھ کم ہوگئی اور اس کے بعد وہ کسی دوسری سمت کو نکل گئی۔یہ وہی جیپ تھی، جو علاقے میں مسلسل پیٹرولنگ کر رہی تھی۔جیپ کے جانے کے بعداسے حکم دیتی ایک مختلف قسم کی آواز سنائی دی، جو دوسرے دو فوجیوں میں سے کسی کی تھی۔

 

“تم دو کھڑے ہو جاؤ۔تمہارے لیے اتنی سزا ہی کافی ہے۔اب تم جس طرف آئے تھے، اسی طرف واپس چلے جاؤ۔جب کرفیو ختم ہوجائے تب آنا۔سمجھے! “

 

ان کی آوازکے بجائے فاروق کوان کے تیزی سے دور جاتے ہوئے قدموں کی آواز سنائی دی۔وہ اب اِس چوک میں ان تین فوجیوں کے ساتھ اکیلا رہ گیا تھا۔اس کا حلق پیاس کے مارے چٹخی ہوئی زمین کی طرح تڑخ گیا تھا۔ مرغے کے آسن میں کھڑے کھڑے اسے نجانے کتنے لمحوں کی صدیاں بیت گئی تھیں۔اس کے بدن کا ریشہ ریشہ اس آزار کی گراں باری سے تڑپ رہا تھابلکہ سلگ رہا تھا۔اس کا وجوداس اذیت اور ہزیمت کی وجہ سے عدم کا نشان بن چکا تھا۔

 

“ اب اسے بھی چھوڑ دیتے ہیں صوبیدار جی۔ “

 

“ ہاں چھوڑ دو، مگر اسے بھیجو گے کس طرف؟ “پہلی بار صوبے دار کی آواز اسے انسانی خصوصیات کی حامل محسوس ہوئی۔

 

“ مجھے یہ یہیں کا لگتا ہے۔ اپنے گھر چلا جائے گا۔ “

 

“ اچھا چھوڑ دے۔ “ یہ کہہ کر صوبے دار اس کے قریب سے گزر کر ایک جانب چلا گیا۔

 

“ چل اٹھ بالکے، اور یہاں سے تیز دوڑ لگا کر غائب ہوجا۔چلا اٹھ “۔ فوجی نے تحکمانہ انداز میں کہا۔

 

فاروق کیسے دوڑ سکتا تھا، اور وہ بھی اتنا تیز کہ ان عقابی نگاہیں رکھنے والوں کے سامنے سے چشم ِ زدن میں غائب ہو جاتا۔وہ تو کئی صدیوں سے بھاری، لاتعداد لمحوں سے، ایک غیر انسانی آسن میں جکڑا ہوا تھا۔اس نے اپنے ہاتھوں سے پکڑے اپنے کان فوراً چھوڑدیے، لیکن جب وہ سیدھا کھڑا ہونے لگا تو اس کی کمر نے فوری طور پر ایسا کرنے سے انکار کردیا۔درد کی بے شمار لہریں تھیں، جو اس کی ریڑھ کی ہڈی میں اذیت کا طلاطم بپا کیے ہوئے تھیں۔

 

“سنا نہیں کیا! دوڑ لگا اور غائب ہوجا “۔فوجی کی آواز میں غصہ تھا۔

 

فاروق نے جھک کر بہ دِقت سڑک پر پڑا ہوا اپنا تھیلا اٹھایا اورسامنے یعنی بند بازار کی طرف جانے والے راستے کی طرف تیزی سے چلنے کی کوشش کرنے لگا۔اس وقت اس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا باعثِ صد آزار ہورہا تھا،مگر جیسے تیسے وہ آگے بڑھنے لگا۔

 

“ دوڑ لگا، دوڑ! “ پیچھے سے فوجی چینخا۔

 

فاروق نے دوڑنے کی کوشش کی، مگر اس کی کمر اور اس کی ٹانگیں اس کا ساتھ دینے سے قاصر تھیں۔وہ بس اپنے دونوں پیروں کو تیز تیز حرکت دینے کی اپنی سی کوشش کر رہا تھا، اور اس کے دونوں پیرچل بھی رہے تھے، لیکن بہت کم رفتار سے۔اسے اِس آزار سے، جو اس نے کچھ دیر پہلے کاٹا، ملنے والی رہائی عزیز تھی۔وہ غیر انسانی آسن والی سزا دوبارہ بھگتنے کے لیے تیار نہیں تھا۔سو اس سے جتنا تیز بن پارہا تھا، وہ چل رہا تھا۔ایسے میں اسے گرمی کی حدت اورراستے کی سمت کا بھی کچھ خیال نہیں رہا تھا۔اس کے ماؤف ذہن اور شدید نفرت اور غصے سے بھرے ہوئے اس کے دل کی حالت، نقطہِ جوشِ پر کھولتے پانی جیسی ہورہی تھی۔مگر وہ جولائی کی اس سہ پہر، اس سڑک پر اپنے ٹھوس وجود کے ساتھ موجود تھا۔کاش وہ کوئی ٹھوس وجود نہ ہوتا، بلکہ مایع ہوتا۔کم از کم اس طرح وہ فوری طور پر ان خبیثوں کی نگاہ سے اوجھل تو ہوجاتا۔

 

“دوڑ۔۔ نہیں تو۔۔ “یہ تازیانہ ایک بار پھر ہوا کے دوش پر لہراتا اس کی سماعت سے ٹکرایا۔اب فاروق میں اسے سہنے کی تاب ہرگز نہ رہی تھی۔بازار کی سڑک پراسے دائیں طرف جو پہلی گلی دکھائی دی، وہ اسی میں مڑگیااور مڑنے کے بعدتکلیف سے لنگڑاتا ہوا وہ اسی گلی میں آگے ہی آگے چلتا چلا گیا۔اس نے محسوس کیا کہ اس کے بدن کا جھکاؤ بائیں طرف بڑھتا جارہا تھا، کیوں کہ اس نے سامان والا تھیلابائیں ہاتھ میں ہی پکڑا ہوا تھا۔اس نے چلتے چلتے سامان کا تھیلا دوسرے ہاتھ میں منتقل کرنا چاہا، تو اس کا بایا ہاتھ اٹھنے کے بجائے مزید جھک گیا۔ فاروق کی ٹانگیں توازن برقرار نہ رکھ سکیں اور وہ پختہ گلی کے بیچوں بیچ بائیں جانب ڈھیتا چلا گیا اور اگلے ہی لمحے اس کا وجود، دن بھر دھوپ سے جھلستی ہوئی اِس کنکریٹ گلی کی سطح پر گرا پڑا تھااور اس کے سامان کا تھیلا بھی اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر یوں نیچے گرا،کہ گرتے ہی پھٹ گیااوراس کے پھٹنے سے اس میں موجود تھیلیوں میں رکھی ہوئی چیزیں یعنی آٹا، دالیں، چاول اور چینی وغیرہ، گلی میں پڑے ہوئے فاروق کے جسم کے گرد پھیلی ہوئی تھیں۔اس کے بعد کچھ دیر کے لیے، نجانے کتنی دیر کے لیے اس کے حواس کا تعلق اپنے گردوپیش کی آزاروں بھری دنیا سے کٹ گیااور اس کا وجود کچھ وقت کے لیے ہی سہی اسے پہنچنے والی اذیت اور ہزیمت فراموش کرنے میں کامیاب ہوا، جس کی وجہ سے اس کا آئندہ کا عالم ِخیال و احساس پوری طرح تہہ و بالا ہونے والا تھا۔
Categories
فکشن

میر واہ کی راتیں – آخری قسط

رفاقت حیات کے ناول ‘میر واہ کی راتیں‘ کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شام ڈھلنے سے کچھ پہلے ہی نذیر چائے خانے پر جا بیٹھا۔ وہ گردوپیش کی چیزوں کو دیکھنے کے بجائے باربار فکرمندی سے کاریگر کی بتائی ہوئی باتوں کے متعلق سوچتا رہا۔

 

غفور چاچا کی پریشانی کا راز جاننے کے بعد وہ شدید احساسِ گناہ میں مبتلا ہوگیاتھا۔ وہ خود کو ملامت کرتا رہا کہ اس نے جانے یا انجانے میں چاچی کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ حیران تھا کہ چاچے کو اس معاملے کی خبر آخر کیسے مل گئی۔ اب وہ فرار چاہتا تھا تاکہ اس کی وجہ سے یہ محترم رشتہ کہیں پامال نہ ہو جائے۔ مگر اس کے دل کی گہرائی میں کوئی شدید جذبہ موجود تھا جس کے آگے وہ خود کو پوری طرح بے بس محسوس کر رہا تھا۔ اس کے لیے اب وسوسوں اور اذیت کے مہیب جنگل میں چاچی خیرالنسا ہی واحد پناہ گاہ رہ گئی تھی۔

 

وہ ان ہی سوچوں میں گم تھا کہ اس نے یعقوب کاریگر کو آتے ہوئے دیکھا۔ وہ آتے ہی چپ چاپ کرسی پر بیٹھ گیا اور جلدی جلدی بیڑی پھونکتا رہا۔ اس کی پیشانی پر دو گہری لکیریں تھیں۔

 

اس نے چٹکی بجا کر بیڑی کی راکھ کو جھٹکا اور استغراق سے نکل کر نذیر کو گہری نظر سے دیکھتے ہوئے وہ کھنکار کر اپنا گلا صاف کرنے لگا۔ پھراس نے اس کی طرف تھوڑا جھک کر دھیمے لہجے میں کہا، “غفور سے میری دوستی بہت پرانی ہے۔ تمھاری عمر سے بھی زیادہ پرانی۔ اس نے بڑی بدفعلیاں کیں۔ تم اندازہ نہیں لگا سکتے۔ تین ضلعوں میں کوئی چکلا نہیں بچا ہو گا جہاں جا کر اس نے زنا نہ کیا ہو۔ اس کے بیسیوں معاشقے اس کے علاوہ ہیں۔ اسی وجہ سے جب اس نے شادی کی تو کچھ عرصے کے بعد اسے پہلی مرتبہ اپنی کمزوری کا احساس ہوا۔ وہ مجھ سے چھپ چھپ کر اپنا علاج کرواتا رہا۔ مگر اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ ایک دن پریشان ہوتے ہوئے اس نے شرمندگی سے مجھے بتا ہی دیا۔ میں اسے رانی پور میں ایک واقف حکیم کے پاس لے گیا۔ اس کی دوا سے غفور کی قوت بحال ہونے لگی اور وہ شادی کے مزے سے ہمکنار ہوا۔” کہتے کہتے وہ خاموش ہوا اور اِدھراْدھر دیکھنے لگا۔

 

نذیر اس کے ہونٹوں سے نکلنے والا ایک ایک لفظ بغور سن رہا تھا۔
کاریگر نے چائے کا گھونٹ بھرا اور سرگوشی میں پھر سے کہنے لگا، “کل پہلی بار اس نے مجھ سے تمھارے قتل کے بارے میں بات کی۔ دکان کے کام میں تمھاری عدم دلچسپی کی وجہ سے اسے شک ہونا شروع ہوا۔ وہ اندر ہی اندر کڑھنے لگا۔ کئی مرتبہ اس نے تمھاری جاسوسی کی۔ دیوار پھاند کر اپنے گھر میں گھسا۔ رحیم سنار والے مسئلے پر اس نے تم پر ہاتھ اٹھانے کے بارے میں مجھے بتایا تو میں نے اس پر لعن طعن کی کہ اسے تم پر شک نہیں کرنا چاہیے۔” اس نے چائے کی پیالی ختم کی اور نئی بیڑی سلگائی۔

 

تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر گویا ہوا۔ “اس کی باتوں نے مجھے پریشان کر دیا۔ میں رات بھر سوچتا رہا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ تم سے ضرور بات کروں گا۔ شاید غفور اپنی بیوی کو وہ آسودگی نہیں دے سکا جو اس کا حق تھا۔ اسے ہر وقت کھٹکا لگا رہتا ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر کسی اور سے اپنا تعلق جوڑ لے گی۔ یہ معاملہ تمھارے حق میں خطرناک ہو سکتا ہے۔ تم اس کے گھر میں رہتے ہو اور تمھاری اس کی بیوی کے ساتھ بے تکلفی بھی ہے۔” وہ جواب طلب نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔

 

نذیر ٹھنڈا سانس بھر کر بولا، “تمھارا اندازہ ٹھیک ہے۔”
“میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ تم اپنی عزت اور زندگی بچاؤ اور میرپور ماتھیلو واپس چلے جاؤ۔ تمھیں یہاں سے جانے کے لیے وہ کبھی نہیں کہے گا لیکن اگرکسی دن اس کا مغز گھوم گیا تو پتا نہیں وہ کیا کر بیٹھے گا۔” اس کے لہجے میں تشویش تھی۔
“تم یہ بات کیسے کہہ سکتے ہو؟”

 

کاریگر ہنسا۔ “مت بھولو میں اس کا پرانا دوست ہوں۔ وہ اپنی دو محبوباؤں کے شوہروں کو زخمی کر چکا ہے۔ یہاں غیرت کا مسئلہ بھی ہے اور کل بے ساختگی میں اس کے منہ سے نکل گیا کہ اسے ثبوت ملنے کی صورت میں اس نے تمھیں قتل کرنے کا منصوبہ بھی تیار کر رکھا ہے۔ وہ تمھیں کارا کر کے مار ڈالے گا، کیا سمجھے؟”

 

نذیر یہ سن کر ہکابکا رہ گیا۔ ناقابلِ یقین بات کی حقیقت کو اسے اپنے دل سے تسلیم کرنا پڑا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

شام ڈھلے کچھ ہی دیر ہوئی تھی۔ آسمان پرستارے نکل آئے تھے۔ چائے پینے والے سب گاہک بھی جا چکے تھے۔ ہوٹل کا مالک برتن سمیٹ رہا تھا۔ وہ اٹھے اور نہر کے پل تک ساتھ چلتے ہوئے گئے۔ وہاں سے نیچے اترنے والے راستے پر وہ ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔

 

کچھ دور تک اس کے ذہن میں کاریگر کی باتیں گھومتی رہیں۔ یہ سب تو اس کے سان گمان میں بھی نہیں تھا مگر اب اسے اندازہ ہونے لگا تھا کہ یہاں رہتے ہوئے اس کے ساتھ کوئی بھی واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ اسے غفور چاچا پیشہ ور قاتل معلوم ہونے لگا۔ اس کی سماعت میں اس کی پاٹ دار آواز گونجنے لگی۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں اسے یاد آئیں جن میں ہر وقت اسے اپنے لیے عناد بھرا محسوس ہوتا تھا۔ اسے گزشتہ روز کی مارپیٹ یاد آئی۔ وہ کتنے نفرت انگیز لہجے میں اسے مخاطب کرتا ہوا چیخ رہا تھا۔

 

نذیر نے خود کو اپنے گھر والوں سے دور، اجنبی لوگوں کے درمیان مکمل طور پر غیرمحفوظ محسوس کیا۔

 

وہ نیم تاریک سڑک پر روشنی کے دائروں میں چلتا رہا۔ اس نے سوچا کہ کیا خبر اس کا چاچا یعقوب کاریگر کے ساتھ مل کر اسے قصبے سے بھگانا چاہتا ہو تاکہ اس کے تمام خدشات ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔

 

وہ گھر جانے کے بجاے پہلوان دستی کے چائے خانے پر جا بیٹھا۔
اسے کاریگر پر اعتماد تو تھا مگر وہ فرار ہونے کے خیال سے ہچکچا رہا تھا۔ چاچی خیرالنسا کے بارے میں سوچتے ہوئے اس کے دل میں باربار ہوک سی اٹھ رہی تھی۔ اسے اس کا طویل قامت جسم یاد آیا، اس کے فسوں کاربدن کے انگ یاد آئے۔ اس نے چاچی کو دیکھنے، اس کے پاس بیٹھنے اور اس سے لپٹنے کی ناقابلِ مزاحمت خواہش محسوس کی۔

 

وہ چائے خانے پر بیٹھا رہا اور ٹھری میرواہ میں اپنے گزرے ہوئے وقت کے بارے میں سوچتا رہا۔ اس کے دل میں گناہ کا احساس دھیرے دھیرے ختم ہو رہا تھا۔ کل اسے سوچتے ہوئے جو ندامت محسوس ہو رہی تھی اب وہ مٹتی جا رہی تھی۔ اب وہ عورت واقعی اس کی محبوبہ بن گئی تھی۔ وہ خود سے کہتا رہا کہ پہلی بار اسے محبت ہوئی ہے اور اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کے متعلق جو چاہے سوچتا رہے۔ اس نے چاچے کو رقیب جان کر اس کے خلاف اپنے دل میں شدید نفرت محسوس کی۔ نفرت سے ا س کے اعصاب تن گئے اور وہ مٹھیاں بھینچ کے رہ گیا۔ اسے معلوم تھا کہ اپنی محبت کی خودغرضی کے باوجود وہ اسے ہمیشہ کے لیے حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر فرار نہیں ہو سکتا تھا۔ بہت دیر تک وہ ذہنی کشمکش سے دوچار رہا۔

 

ڈبو کھیلنے والے لڑکے شور مچا رہے تھے۔ پہلوان دستی اپنے دکھل کے پاس اونگھ رہا تھا۔ رات کے دس بجنے والے تھے۔ قصبے سے باہر جانے والی گاڑیاں شام سے پہلے ہی بند ہو جاتی تھیں۔

 

وہ چائے خانے سے اٹھا اور جھجکتے ہوئے قدموں سے اس مکان کی طرف چل دیا جو اب اس کا گھر نہیں رہا تھا۔ گلی میں پہنچ کر وہ کچھ دیر کے لیے ٹھیر گیا۔ سارے مکان تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ایک خیال کی دہشت سے جھرجھری لیتے ہوئے اس نے پاؤں آگے بڑھایا۔

 

دروازے کی کنڈی کھول کر وہ اندر آیا تو اس نے باورچی خانے والی کوٹھڑی کو بند پایا۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا برآمدے میں بچھی اپنی چارپائی تک پہنچا اور بیٹھ گیا۔ اسے بھوک نہیں تھی۔ وہ اپنا سر ہاتھوں میں لیے بیٹھا رہا۔

 

کچھ دیر بعد کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز سن کر وہ چونکا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو چاچی خیرالنسا دروازے سے باہر نکلتی دکھائی دی۔ وہ اسے دیکھ کر عجیب انداز میں مسکرائی۔ اس نے فوراً آگے بڑھ کر برآمدے کی بتّی جلا دی۔

 

نذیر پریشانی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ “چاچا جاگ جائے گا۔”

 

“آج وہ صبح سے پہلے نہیں جاگے گا۔” وہ ایک بار پھر مسکرائی۔
“کیوں ؟” نذیرنے حیرت سے پوچھا۔

 

“نیند کی ایک گولی اس نے خود کھائی اور دو میں نے دودھ میں گھول کر اسے پلا دیں۔”

 

“آخر ایسا کیوں کیا؟”

 

چاچی خیرالنسا نے لجاتے ہوئے کہا، “تم سے ملنے کے لیے۔”

 

نذیر نے خود کو اس عورت کے زیرِاثر محسوس کیا۔ وہ دونوں باورچی خانے کی کوٹھڑی میں جا بیٹھے۔

 

“میرے لیے کھانا مت گرم کرنا۔ میں نے باہر کھا لیا ہے۔”

 

وہ چولھے کے پاس بیٹھی تھی جبکہ نذیر اس کے قریب پیڑھی پر بیٹھا تھا۔ اس نے لمبا سانس لیتے ہوئے خود کو پْراعتماد پایا۔ وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرایا۔

 

“مجھے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں،” وہ بولا۔

 

“کہو۔”

 

“توْ میرے چاچے کی بیوی ہے مگر میں تجھ سے محبت کرتا ہوں،” اس نے بے جھجک اپنے دل میں سمائی بات کہہ دی۔

 

“میں جانتی ہوں یہ گناہ اور بے حیائی ہے، مگر تو بھی جان لے کہ تو مجھے اچھا لگتا ہے۔ اسی لیے آج رات میں نے بڈھے کو نیند کی گولیاں کھلا دیں۔ میں جانتی ہوں تو اس کا احترام کرتا ہے۔” وہ بہت آہستہ بول رہی تھی۔ “میں بھی تیری طرح ڈرتی ہوں اس سے۔ لیکن توخود سوچ! اس کے اور میرے درمیان کتنا فرق ہے۔”

 

اسے اداس دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا۔ “آدھی عمر کا فرق ہے! اور میں جب سے یہاں آیا ہوں، یہی سوچ رہا ہوں۔ تو اس سے بہت چھوٹی ہے اور خوبصورت بھی بہت ہے۔” وہ مسکرانے لگا۔ “پرسوں رات میرے اور تیرے بیچ جو کچھ ہوا میں اس کے بارے میں سوچتا رہا۔ میں سمجھا کہ تو مجھ سے بہت ناراض ہو گی اور مجھے تجھ کو منانا پڑے گا۔”

 

یہ سن کر چاچی خیرالنسا اپنی مسکراہٹ کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتی رہی مگر مسکراہٹ خودبخود اس کے ہونٹوں پر نمایاں ہو گئی تھی۔

 

نذیر نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ یعقوب کاریگر سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں اسے کچھ نہیں بتائے گا۔ اس نے تشویش سے اس سے ایک سوال پوچھا، “صبح چاچے کو گولیوں کے بارے میں پتا نہیں چل جائے گا؟”

 

“نہیں چلے گا۔ وہ یہی سمجھتا رہے گا کہ جو گولی اس نے کھائی یہ اسی کا نشہ ہے۔” وہ پھر مسکرانے لگی۔

 

“میں پہلے تیرے بارے میں جب بھی سوچتا تھا تو خود کو بڑا گناہ گار سمجھتا تھا،” اس نے سنجیدگی سے کہا۔

 

“اور اب؟” چاچی نے شرارت سے پوچھا۔

 

“اب تیری محبت کو میں اپنا حق سمجھتا ہوں۔”

 

“میں تو اندر سے کانپ رہی ہوں۔ وہ گہری نیند کر رہا ہے، میں پھر بھی یہاں سہمی ہوئی ہوں، اور یہ گناہ ہے، بڑا گناہ!” اس نے جھرجھری لی اور آنکھیں میچ لیں۔

 

“یہ گناہ نہیں ہے، محبت کبھی گناہ نہیں ہوتی،” وہ بلند لہجے میں بولا۔

 

“آخر تم رشتے میں میرے بھتیجے لگتے ہو۔”

 

“تْو اپنی مرضی سے میری چاچی نہیں بنی اور میں۔۔۔” وہ جذبے کی شدت سے خاموش ہو گیا۔

 

“کچھ بھی ہو، میں اس بوجھ سے نہیں بچ سکتی۔۔۔ مگر خود کو روکنا بھی مشکل ہے،” وہ آہ بھر کر بولی۔

 

نذیر اس کے سوگوار چہرے کو دیکھتا رہا۔ وہ حیران تھا کہ اسے کیا ہو گیا۔ وہ اسے خوش دیکھنا چاہتا تھا مگر اس کے پاس تمام الفاظ ختم ہو گئے تھے۔ اسے خوشی سے ہمکنار کرنے کے لیے اور اپنی باقی ماندہ زندگی کے لیے ایک خوشگوار یاد کو اپنے سینے میں محفوظ رکھنے کے لیے وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اس کے بدن کا لمس کشید کرنے لگا۔ وہ ایک نئی لذت سے آشنا ہوتا جا رہا تھا۔

 

انھوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکا اور ہنسنے لگے۔ کچھ دیر بعد وہ برآمدے میں بچھی ہوئی چارپائی پر جا کر ایک دوسرے کے پہلو میں لیٹ گئے اور ان کے ترسے ہوئے جسم نہ جانے کب تک ایک دوسرے میں مدغم ہانپتے کانپتے رہے۔

 

بہت دیر کے بعد چاچی خیرالنسا اپنے کپڑے اٹھا کر غسل خانے کی طرف چلی گئی مگر وہ وہیں چارپائی پر لیٹا رہا۔

 

غسل خانے سے باہر نکل کر چاچی نے نذیر کے ہونٹوں پر آخری بوسہ دیا اور اسے نگاہ بھر دیکھنے کے بعد کمرے میں اپنے سوئے ہوئے شوہر کے پاس چلی گئی۔

 

اس کے جانے کے بعد نذیر آہ بھرتے ہوئے مسکرایا۔ اس نے چاچی خیرالنسا کو پا کر کھو دیا تھا، ہمیشہ کے لیے۔ مگر اپنے لیے ایک یاد کو محفوظ کر لیا تھا۔

 

وہ بہت دیر تک جاگتا رہا۔ پھر اس نے دیکھا کہ صبح کی روشنی پھیلنے والی ہے۔ اس نے اٹھ کر کپڑے پہنے۔ غسل خانے میں گیا لیکن غسل نہیں کیا۔ ہینڈپمپ چلا کر وہ اپنے ہاتھ اور منھ دھو کر باہر نکل آیا۔ وہ صحن میں چند لمحے ٹہل کر کچھ اور وقت گزرنے کا انتظار کرتا رہا۔ اس نے کمرے کے دروازے سے کان لگا کر ان دونوں کی سانسوں کی آو از سنی اور دھیرے دھیرے چلتا باہر کی طرف چل پڑا۔

 

وہ جانتا تھا کہ اس وقت قصبے سے باہر جانے کے لیے سواری نہیں ملے گی۔ اس نے چلتے ہوئے گلی عبور کی، سڑک پر پہنچا۔ پہلوان دستی کے چائے خانے کے قریب سے گزرااور ٹھنڈے سانس بھرتا ہواآہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا وہ قصبے کی حدود سے باہر نکل گیا۔
Categories
فکشن

میرواہ کی راتیں – آٹھویں قسط

رفاقت حیات کے ناول ‘میر واہ کی راتیں‘ کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شام سے ذرا پہلے غفور چاچا بکھرے ہوئے بالوں اور گرد میں اٹے ہوئے چہرے کے ساتھ دکان میں داخل ہوا۔ اپنی تھکاوٹ اور اضطراب چھپانے کے لیے اس نے ہنس کر ان سے دو چار باتیں کیں۔ یعقوب کاریگر نے اس سے رانی پور جانے کا سبب پوچھا تو اسے ٹالنے کے لیے اس نے گول مول جواب دے دیا۔ نذیر کو پتا چل گیا کہ وہ اس سے جھوٹ بول رہا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ چاچا غفور سے اجازت لے کر دکان سے چلا گیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

نذیر شام ڈھلنے سے کچھ دیر پہلے نہر کنارے واقع چائے خانے پر پہنچا تو وہاں پکوڑافروش کو اپنا منتظر پایا۔ وہ چائے پینے کا خواہشمند تھا مگر نورل نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ ایک نئی جگہ چلنے کے لیے کہا۔

 

وہ تاریک گلیوں میں چلتے ہوئے قصبے کے شمال میں واقع ایک مے خانے میں پہنچے۔ نذیر اچھی طرح جانتا تھا کہ اندرونِ سندھ کے بیشتر گوٹھوں اور قصبوں میں ایسے مے خانے عموماً مزاروں اور درگاہوں کا حصہ ہوتے ہیں، مگر اس کے علاوہ بھی کئی جگہوں پر قابلِ تعظیم سادات گھرانے کے معتقدین کی بڑی تعداد نے پنجتن پاک سے منسوب مخصوص نشان سے آراستہ بڑے بڑے سیاہ علم لگا کر ایسے مے خانے قائم کر رکھے ہیں۔ یہاں چرس اور بھنگ کے موالیوں کا ڈیرہ رہتا ہے۔ اسے معلوم تھا کہ یہاں آنے والے ہر خاص وعام کی تواضع بھنگ اور چرس سے کی جاتی ہے۔ یہاں سادات گھرانے سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ لاہوتیوں کو خاص احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ مے خانے عموماً کسی قسم کی شان و شوکت اور آرائش سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ موالی نشے کی جھونجھ میں سادات گھرانے کی قربانی، ان کے ساتھ ہونے والے مظالم، ان سے منسوب کرامات اور معجزات کا ذکر بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں۔

 

وہ دونوں داخلی دروازے سے بے نیاز ایک مختصر سے احاطے میں داخل ہوئے جس کے اطراف دیواروں کے بجائے سوکھی شاخوں اور جھاڑیوں کی باڑھ تھی۔ یہاں کی زمین کچی مگر ہموار تھی۔ احاطے کے بیچوں بیچ مٹی کے چبوترے پر نصب ایک موٹے سے بانس پر سیاہ علم لگا تھا، جس پر پنجتن پاک کی نسبت سے مخصوص پنجے کی شکل کا نشان بنا ہوا تھا۔ اس کے اوپر ایک بلب روشن تھا، جس کی پھیکی سی روشنی میں ہوا سے لہراتا ہوا علم دکھائی دے رہا تھا۔ نیچے چبوترے پر دو چراغ جل رہے تھے جن کی لویں ہوا کے جھونکوں سے لرز رہی تھیں۔

 

احاطے کے ایک کونے میں گھاس پھوس کی ایک جھونپڑی سے باربار موالیوں کے نعرے بلند ہوتے سنائی دے رہے تھے۔ جھونپڑی میں داخل ہوتے ہی نورل نے بھی نعرہ حیدری بلند کر کے اپنی آمد کا اعلان کیا۔ کشادہ سی جھونپڑی کے عین وسط میں چھوٹے سے گول دائرے میں آگ کا مختصر سا الاؤ روشن تھا جس کے گرد پندرہ بیس موالی حلقہ بنائے بیٹھے تھے۔ ان کے قریب ہی ان دونوں کو زمین پر بچھی پیال پر بیٹھنے کی جگہ مل گئی۔ اس وقت وہاں چرس کی سلفی کا دور چل رہا تھا اور پوری جھونپڑی چرس کے دھویں اور بو سے بھری ہوئی تھی۔

 

موالیوں نے آس پاس ہٹ کر انہیں الاؤ کے قریب ہو کر بیٹھنے کے لیے جگہ دی۔ نذیر نے جیب سے پچاس روپے نکال کر ایک موالی کو دیے اور اسے بھنگ اور چرس لانے کے لیے کہا۔ وہاں بیٹھے موالی اس کی سخاوت سے متاثر ہوئے اور نورل سے پوچھ پوچھ کر اس کاتعارف حاصل کرنے لگے۔ نذیر عام طور پر زیادہ گفتگو نہیں کرتا تھا مگر ان بے کار لوگوں کے بیچ بے دھڑک بولنے لگا۔

 

الاؤ کے گرد بیٹھے لوگوں کے چہرے نشے کی کثرت سے سوجے ہوئے تھے اور ان کی آنکھیں گہری سرخ ہو رہی تھیں۔ نذیر کے تعارف کے بعد وہ سب ایک دوسرے پر تصوف کی جھوٹی سچی باتیں جھاڑنے لگے۔ ہر آدمی زیارتوں اور مزاروں کے قصّے سنا رہا تھا، جن سے نذیر کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وقفے وقفے سے کسی درگاہ کا کوئی بھولا بھٹکا درویش ادھر آ نکلتا تو مے خانے کی رونق اور بڑھ جاتی۔

 

نذیر نے اپنے نشے کی حد سے تجاوز کرتے ہوئے بھنگ کے دو گلاس چڑھائے اور گاہے بگاہے چرس کی سلفی کے کش بھی کھینچتا رہا۔ اسے خود پر اعتماد تھا کہ نشے کی زیادتی کے باوجود وہ نہیں بہکے گا۔ جب اس نے بہت زیادہ نشہ کر لیا تو اس کے دل میں کسی سے بھی بات کرنے کی خواہش یکسر ختم ہو گئی۔ الاؤ کے گرد بیٹھے ملنگوں کی بے سروپا لن ترانیوں پر وہ باربار اپنا سر دھنتا رہا۔ دھیرے دھیرے اس کی سماعت کے در بند ہونے لگے اور وہ ان کی آوازوں سے دور ہوتا چلا گیا۔ وہ یوں ہی خالی خالی نظروں سے موالیوں کے چہروں کو دیکھنے لگا۔ الاؤ کی مچلتی اور تلملاتی لپٹوں کی روشنی میں وہ سب کے سب اسے اس وقت بدروحوں جیسے معلوم ہونے لگے تھے۔ ان کے چہروں کی تمام سرخی ان کی آنکھوں میں سمٹ آئی تھی۔

 

جھونپڑی سے باہر گہری رات پھیلی ہوئی تھی۔ اس کی نظر جھونپڑی میں داخل ہونے کے لیے بنے ہوئے چوکھٹے پر ٹھیر گئی۔ آسمان پر ٹمٹماتے ہوئے تارے اسے صاف دکھائی دیے۔ اس نے ایک حواس باختہ شخص کو زور سے زمین پر پاؤں پٹختے ہوئے دیکھا اور ایک جھرجھری سی لی۔ ذرا فاصلے پر نورل جوگی بیٹھا تھا۔ نذیر نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے اسے چلنے کا اشارہ کیا۔ وہ اپنے کپڑے جھاڑتا ہوا پیال سے اٹھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر مے خانے کے موالیوں سے اللہ وائی کہا اور ڈگمگاتے ہوئے قدموں سے جھونپڑی سے باہر چلا گیا۔

 

وہ دونوں لہراتے ہوئے آہستگی سے قدم اٹھاتے ہوئے گلیوں میں چلنے لگے۔ رات کا پہلا پہر ابھی ختم نہ ہوا تھا مگر قصبے کی گلیوں اور سڑکوں سے زندگی رخصت ہو گئی تھی۔ لیکن نذیر کو شب کے تیسرے پہرکا شدت سے انتظار تھا۔ وہ مضطرب تھا مگر اس نے رستے بھر نورل سے کوئی بات نہ کی۔ وہ باربار اپنے تخیل میں ایک دیہاتی حویلی کی خواب گاہ میں حجاب سے بے نیاز شمیم کے بدن کے مہین خدوخال دیکھ رہا تھا، جو بے قراری سے وہاں اس کی منتظر تھی۔ وہ اس کے ساتھ اپنی گزشتہ بے ڈھب ملاقاتوں کو یاد کرتا رہا۔ اس کی انگلیوں کی پوریں اس کے اعضائے بدن کے لمس، اور اس کے ہونٹ اس کے لبوں کے نرم گرم بوسوں کے لیے مچل رہے تھے۔ اس کے گزشتہ لمس اور پرانے بوسوں میں لذت و سرور سے زیادہ افسوس اور تشنگی شامل تھی۔

 

گلیوں سے گزرتے ہوئے نورل اسے مختلف نصیحتیں کرتا رہا۔ “اس کے گھر پہنچنے کے لیے گاؤں کے اندرونی راستوں سے جانا تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہو گا۔ اس نے جو بندوبست کیا ہے اس سے لگتا ہے وہ ذہین عورت ہے۔ اس لیے اس نے تمہاری آمد کے لیے پچھلے راستے کو چنا۔ اور دیکھو! اگر کوئی گڑبڑ ہو جائے تو تم اسی راستے سے باہر نکلنا۔ مولا مشکل کشا تمھاری مدد کرے گا۔ “

 

“نورل! اب مجھے وہاں جانے سے کوئی خوف نہیں،” نذیر نے اعتماد سے کہا۔

 

پکوڑافروش نے چلتے چلتے جماہی لی۔ “مگر یاد رکھنا! کسی کے گھر میں گھس کر اس کی عورت سے ملنا اتنا آسان نہیں۔”

 

اپنے گھر والی گلی کے کونے پر پہنچ کر ہاتھ ملاتے ہوئے اس نے نورل سے کہا، “تم اسی پرانی جگہ پر میرا انتظار کرنا۔ میں بالکل ٹھیک وقت پر پہنچ جاؤں گا۔”

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

دروازے میں ہاتھ ڈال کر کنڈی کھول کر وہ گھر میں داخل ہوا اور ہولے ہولے چلتا ہوا برآمدے میں اپنی چارپائی تک پہنچا۔

 

چاچی خیرالنسا نے شاید اس کی آہٹ سن لی تھی، وہ کمرے سے باہر نکل آئی۔ چاچا غفورکے خرّاٹے برآمدے میں نذیر کو بھی سنائی دے رہے تھے۔

 

اسے دیکھ کر نذیر حیران ہوا مگر اپنی حیرت چھپاتے ہوئے کہنے لگا، “میں نے دروازے پر کنڈی لگا دی ہے۔ معاف کرنا میری وجہ سے تیری نیند ٹوٹ گئی۔ تو دوبارہ جا کر سو جا۔ میں خود ہی روٹی نکال کر کھا لوں گا۔”

 

خیرالنسا نے اپنے چہرے سے بال ہٹاتے اور سر پر چادر اوڑھتے ہوئے کہا، “میں نے تیرے لیے آج روٹی نہیں پکائی، اور سالن بھی تو گرم کرنا ہو گا۔”

 

یہ بات نذیر کے لئے یکسر خلافِ معمول تھی اس لیے اسے شدید حیرت ہوئی، لیکن وہ چپ سادھے رہا۔ وہ جماہی لیتی ہوئی باورچی خانے کی طرف چلی گئی۔

 

نذیر نے برآمدے کا بلب روشن کر دیا اور دوبارہ آ کر چارپائی پر بیٹھ گیا اور وہاں سے بیٹھے بیٹھے کمرے میں جھانک کر چاچے کی طرف سے ایک بار پھر اطمینان کرنے لگا۔ پھر وہ اٹھ کر غسل خانے میں جا کر ہاتھ منہ دھونے لگا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ چاچی کو اس کے نشے کے بارے میں کچھ معلوم ہو۔

 

وہ دھیرے دھیرے چلتا باورچی خانے میں داخل ہوا اور چولہے کے پاس رکھی پیڑھی پر جا بیٹھا۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے دھیمے لہجے میں کہنا شروع کیا: “ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ میں جب سے یہاں آیا ہوں، تْو میرا بہت خیال رکھتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تْو میری دور کی رشتے دار بھی نہیں لگتی۔ جو میرے رشتے دار ہیں، وہ سب کے سب مجھے گالیاں دیتے ہیں۔ میرپور ماتھیلو میں تھا تو وہاں ابا اور بھائی مجھے گالیاں دیتے تھے۔ اور یہاں پر میرا چاچا دیتا ہے۔ میں نے اچھی طرح سوچ لیا ہے کہ تھوڑے ہی دن میں ٹھری میرواہ بھی چھوڑ کر چلا جاؤں گا، اور کسی ایسی جگہ جاؤں گا جہاں سے کسی کو میری کوئی خبر نہیں مل سکے گی۔ آخر مجھے تو ہی بتا، کیا میں بہت خراب ہوں؟ کیا میں واقعی بہت برا شخص ہوں؟” کہتے کہتے وہ اچانک خاموش ہو گیا۔

 

اس کے کہے ہوئے جملوں نے چاچی کے دل پر بہت اثر کیا۔ وہ اس کے لیے پہلے سے جو ہمدردی محسوس کر رہی تھی اس کی یہ باتیں سن کر اس میں اضافہ ہو گیا۔ آج کا تمام دن اس نے نذیر کے بارے میں سوچتے ہوئے گزارا تھا۔ اس نے پہلی بار اپنے ذہن میں اس کے لیے ابھرنے والے جذبات کی رو کو دبایا نہیں تھا۔ اپنے شوہر کے نامناسب طرزِعمل پر وہ اسے جی ہی جی میں ملامت کرتی رہی تھی اور اسے مسترد کرتی رہی تھی۔ وہ بھی چاہتی تھی کہ نذیر سے صرف ایک بار ہی سہی مگر کھل کر بات کرے۔

 

اس نے اندازہ لگا رکھا تھا کہ شاید وہ اس سے کبھی کوئی بات نہ کرے، کیونکہ وہ اس کے گھر میں مہمان کی حیثیت سے رہتا تھا اور ان کے رشتے کی نوعیت بھی بے حد حساس تھی۔ اس نے سوچ کر خود سے ہی طے کر لیا تھا کہ بات کرنے میں وہ پہل کرے گی۔ نذیر کی اس کے لیے دلچسپی کے متعلق اسے اب پورا یقین ہو چکا تھا۔ وہ اس بات کا بخوبی اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ ہار اب بھی اسی کے پاس تھا اور وہ موقع محل دیکھ کر اسے دینا چاہتا تھا مگر صبح کو پیش آنے والے واقعے کی وجہ سے اس نے جھوٹ بول دیا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ اپنے لیے بنوایا جانے والا ہاردیکھے اور اسے اپنے گلے میں سجائے۔

 

مگر اس وقت وہ اس کے ہونٹوں سے ٹھری میرواہ چھوڑ کر جانے کی بات سن کر دھک سے رہ گئی تھی۔ اس کی افسردگی دیکھ کر وہ بھی آزردہ خاطر ہو گئی تھی۔ کاش وہ اسے بانہوں میں بھر سکتی اور اس کے لبوں کو چوم چوم کر اس کا غم اپنے اندر جذب کر سکتی۔

 

وہ کسمساتے ہوئے بولی، “دیکھ! تیرے چاچے کی بدگمانی اور غلط فہمی اب ختم ہو گئی ہے اور تْو نے اس کا شک دور کر کے اسے مطمئن کر دیا ہے۔ میں نے بھی اس سے بہت کچھ کہا سنا۔ اس کے بارے میں ایک بات میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ وہ دل کا بْرا نہیں ہے۔ تم اسے چھوڑ کر نہیں جاؤ گے، ورنہ وہ ٹھری میرواہ میں اکیلا رہ جائے گا۔ “

 

نذیر غور سے اس کی طرف دیکھتا اس کی باتیں سنتا رہا۔

 

چاچی خیرالنسا نے مزید کہا، “میں اپنی شادی سے پہلے تمہاری رشتے دار نہیں تھی مگر اب تیری چاچی لگتی ہوں۔ اگر تم میری عزت کرتے ہو تو میرواہ چھوڑ کر نہیں جاؤ گے۔ نہیں جاؤ گے نا؟”

 

وہ جواب میں کچھ نہیں بولا۔ اپنا سرجھکائے چپ چاپ روٹی کا نوالہ چباتا رہا۔

 

وہ نذیر سے مثبت جواب سننا چاہتی تھی مگر اس کی خاموشی سے تلملا کر رہ گئی۔

 

“میں اسے اچھی طرح سمجھاؤں گی۔ آج کے بعد وہ تجھے کچھ نہیں کہے گا،” وہ پیڑھی پر بیٹھی بیٹھی پہلو بدل کر بولی۔

 

“بس چاچی، میں نے فیصلہ کر لیا ہے!” نذیر نے حتمی بات کہہ دی۔
اس کی خموشی کو اس کا اٹل فیصلہ سمجھ کر چاچی خیرالنسا چپ ہو گئی اور اذیت بھرے سانس لینے لگی۔

 

نذیر نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا تو وہاں اسے کرب کی خفیف سی لہر دکھائی دی۔

 

وہ رہ رہ کر سوچ رہی تھی کہ اس کے جانے کے بعد کیا ہو گا۔ اس کے بغیر اپنے بنجر ماہ و سال کا خیال اسے بہت ہول ناک محسوس ہو رہا تھا۔ زندگی پھر ویسی ویران اور بے مزہ ہو جائے گی جیسی کہ پہلے تھی۔

 

نذیر دل ہی دل میں سوچ رہا تھا: “یہ آخر رات کے اس پہر یہاں کیوں بیٹھی ہے؟ اپنے کمرے میں جا کر سو کیوں نہیں جاتی؟”

 

خیرالنسا نے دونوں بازو پھیلا کر انگڑائی لی تو وہ خود کو اس کی طرف دیکھنے سے نہیں روک سکا۔ وہ ہٹ دھرمی سے اس کے بدن کا جائزہ لیتا رہا۔ اسے محسوس ہوارہا تھاکہ وہ اگر چاہے تو ابھی اسی وقت اس سے ہمکنار ہو سکتا تھا۔ شاید اسی وجہ سے وہ اب تک یہاں بیٹھی تھی۔

 

کچھ دیر بعد وہ جھرجھری سی لیتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی، “کیا تْو واقعی ہمیشہ کے لیے میرواہ سے چلا جائے گا؟”

 

نذیر اس کی تشویش پر مسکراتے ہوئے اٹھا اور نفی میں سر ہلاتے ہوئے باورچی خانے کے دروازے تک گیا۔ وہ اس کی مسکراہٹ اور اس کے اٹھ کر جانے کو نہیں سمجھ سکی۔ وہ دو لمحوں تک باہر جھانکنے کے بعد پلٹ آیا اور اس کے نزدیک آ کھڑا ہوا۔ “نہیں جاؤں گا۔ میں یہاں سے کبھی نہیں جاؤں گا۔ اور وہ بھی صرف تیری خاطر۔ “

 

اس کا جواب سن کر وہ ضبط کی کوشش کے باوجود ہنسنے لگی۔ “تو مجھے تنگ کرنے کے لیے یہ بات کر رہا تھا۔ جانتی ہوں تجھے!”

 

نذیر اس کے قدموں کے قریب بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اس نے اس کے ہاتھ تھام لیے اور انہیں بے طرح چومنے لگا۔ اپنے ہاتھوں پر اس کے بوسوں کو محسوس کر کے وہ لرز کر رہ گئی۔ اس کے وجود پر چڑھا ہوا کوئی پرانا میل اتر نے لگا اور اس کے بدلے اس کے وجود پر ایک انوکھا اور منفرد رنگ چڑھنے لگا۔ اس نے کچھ دیر کے لیے کبوتر کی طرح آنکھیں میچ لیں۔ مگر اگلے ہی لمحے وہ اسے ہلکا سا دھکا دے کر اپنے ہاتھ چھڑا کر اْٹھ کھڑی ہوئی۔
دھکا لگنے سے وہ لڑکھڑا گیا۔ مگر اگلے ہی لمحے سنبھل کر تیزی سے آگے بڑھا اور اس نے خیرالنسا کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔ دونوں کے بدن کچھ دیر کے لیے ایک وجود معلوم ہونے لگے۔ وہ اس کے شانے کو چومتا ہوا اس کے چہرے تک پہنچا اور والہانہ انداز سے اس کے ہونٹوں پر بوسہ باری کرنے لگا۔ وہ اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش کرتی رہی۔

 

نذیر نے اس کی سماعت میں شیریں سی سرگوشی کرتے ہوئے کہا، “میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ میں تم سے پیار کرتا ہوں۔ تم بہت اچھی ہو۔”

 

وہ اس کے بوسوں کا جواب دینے کے بجائے کسمسا رہی تھی اور دھیرے دھیرے کہہ رہی تھی: “وہ جاگ جائے گا۔ وہ جاگ گیا تو بہت برا ہو گا۔ میں جاتی ہوں۔” یہ کہتے ہوئے اس نے نذیر کو اپنے آپ سے الگ کیا اور تیزی سے وہاں سے چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد وہ باورچی خانے میں کھڑا کچھ دیر تک اپنی بپھری ہوئی سانسیں درست کرتا رہا۔ پھر وہ جا کر برآمدے میں کھاٹ پر لیٹ گیا۔

 

لیٹے لیٹے وہ حیرت سے مسکرایا، پھر آہستگی سے ہنسنے لگا۔ وہ حیران تھا کہ اتنی بڑی انہونی آخر کیسے ہو گئی؟ مگر جو کچھ بھی ہوا وہ اچانک اور اس کے کسی ارادے کے بغیر ہوا تھا۔ اس نے اس کی دست درازی کا برْا نہیں مانا۔ اس نے کسی خفگی کا اظہار بھی نہیں کیا۔ اپنی اس غیرمتوقع کامیابی پر خوش ہوتے ہوئے اس نے اندھیرے میں اپنے ہاتھوں کو دیکھا اور انہیں اپنے ہونٹوں کے پاس لے جا کر چومتے ہوئے ان میں چھپے لمس کو محسوس کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے سوچا کہ اس کی زندگی میں چند اور خوشگوار لمحوں کا اضافہ ہو گیا۔ وہ مدت سے ایسی عورت کی تلاش میں سرگرداں تھا جو چند لمحوں کے لیے سہی، اس کے لیے اپنے جسم کی آغوش وا کر دے۔ وہ مستقبل سے وابستہ اپنی توقعات کے بارے میں سوچ سوچ کر لذت کشید کرنے لگا۔

 

آج کی رات اس کی زندگی کی سب سے خوش نصیب رات تھی۔ دو طرف سے اس پر لطف و کرم کی پھوار گرنے لگی تھی۔ یہ پھواراس کے بے قرار اعضائے بدن کو قرار دے رہی تھی۔ وہ چارپائی سے اتر کر صحن میں آ گیا۔ اس کی نگاہ اٹھ کر آسمان پر گئی اور وہاں چمکتے ہوئے ستاروں پر بھٹکتی رہی۔ ہر ستارہ اسے آج خوشی کا چراغ معلوم ہو رہا تھا۔ اس کا رنگ، اس کی چمک گویا کسی شادمانی کا اظہار کر رہی تھی۔ اس نے اس گھر کے درودیوار سے ملحقہ مکانوں کے ابھرے ہوئے نو ک دا ر سایوں کو دیکھا۔ رات کے اس پہر ہر مکان خاموشی اور تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اور تمام کھڑکیاں اور روشندان بند تھے۔

 

ٹہلتے ٹہلتے اسے چاچے غفور کا خیال آیا۔ وہ اس کی لاعلمی پر دھیرے دھیرے ہنسنے لگا، مگر اگلے ہی لمحے خود کو ملامت کرتے ہوئے اس عجیب وغریب انتقام پر حیران ہو گیا۔ اس نے اپنے دل میں چاچے کے لیے ہمدردی محسوس کی۔ اس نے گناہ کے شدید احساس کو ذہن سے نکالنے کی کوشش کی۔ خود کو سمجھایا کہ یہ سارا معاملہ اس کی مرضی کے بغیر خودبخود طے ہوا ہے۔ اس نے اس راز کے کھلنے کی صورت میں اپنے لیے منتظر بدنامی اور ذلت کے بارے میں سوچا تو اس کے جی میں آیا کہ اسی وقت دروازہ کھول کر کمرے کے اندر گھس جائے اور بوڑھے درزی کو ہلاک کر دے۔

 

جوگیوں کے گوٹھ جانے کا خیال جوکچھ دیرکے لیے اس کے ذہن سے محو ہو گیا تھا۔اب اچانک اسے شمیم یاد آئی تووہ چونک پڑا۔ اس نے گھڑی پر وقت دیکھا۔ ابھی اس کے گھر سے نکلنے میں پون گھنٹہ باقی تھا۔ پچھلی مرتبہ کی طرح اس بار بھی یہ سفر اسے دشوارگذار معلوم ہو رہا تھا لیکن وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے لیے یہ سفر ناگزیر ہو چکا ہے۔

 

کچھ دیر آرام کرنے کے بعد وہ چارپائی سے اٹھا اور پہلے کی طرح اپنے تکیے کو رضائی کے نیچے رکھ کر اسے اس کے اوپر بچھا دیا۔ چپل پہن کر وہ دھیرے دھیرے دروازے کی طرف بڑھا۔ دہلیز پار کرنے کے بعد اس نے باہر سے دروازے پر کنڈی لگائی اور چل پڑا۔ وہ محتاط انداز میں دبے پاؤں چلتا ہوا مختلف گلیوں سے گزرا۔ اس نے مختلف جگہوں پر تعینات چوکیداروں کی سیٹیوں کو سنا تو اس کے حوصلے خطا ہونے لگے۔ ایک گلی میں داخل ہوتے ہی آپس میں گتھم گتھا دو آوارہ کتے اچانک اس کے سامنے آ گئے۔ اس کی سانسیں لمحہ بھر کے لیے ساکت ہو گئیں۔ ان کی چیخوں میں وحشت کے ساتھ ساتھ دہشت بھی تھی۔

 

ابھی بمشکل آدھا راستہ طے ہوا تھا۔ وہ چلتے ہوئے چاروں سمتوں میں باربار دیکھتا رہا۔ جوں جوں راستہ کٹ رہا تھا، اس کے قدموں میں ایک عجیب سی ڈگمگاہٹ آتی جا رہی تھی۔ اسے اپنے پورے وجود میں ڈر پھیلتا محسوس ہو رہا تھا۔ ایک بجلی کے کھمبے کے سائے سے خوف کھا کر اس نے لوٹ جانے کے بارے میں سوچا۔ چلتے چلتے وہ ٹھٹک کر رکا، مگر پھر دھیمی رفتار سے آگے بڑھنے لگا۔

 

اسے باربار یہ خیال ستا رہا تھا کہ کسی لمحے کوئی شخص اچانک اسے پکڑ لے گا اور چور یا ڈاکو سمجھ کر پولیس اسٹیشن لے جائے گا۔ وہ ہر مکان کے دروازے کو غور سے دیکھتا ہوا گزر رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اچانک سب کے سب مکانوں کے دروازے بھک سے کھل جائیں گے اور وہاں سے اچانک بہت سے لوگ باہر نکلیں گے اور اسے ہلاک کر ڈالیں گے۔ وہ خود کو ملامت کرنے لگا کہ آج کی شب اس نے بھنگ اور چرس کا استعمال ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کر لیا تھا۔ اسی وجہ سے اس کا ذہن واہموں اور وسوسوں سے بھر گیا تھا۔ ان سے پیچھا چھڑانے کے لیے وہ تیزرفتاری سے چلنے لگا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا تو اسے حیرت ہوئی۔ اسے اپنے گھر سے خوش باش نظر آنے والے ستارے یکسر تبدیل ہو گئے تھے اور اب آنکھیں مچمچاتے ہوئے اسے کینہ توز نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ اسے لگ رہا تھا، زمیں و آسمان کے تمام مظاہر اور مناظر آج کی رات اس کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔

 

وہ نہر کے کنارے پہنچا تو سردی کا احساس شدت اختیار کر گیا، مگر آج وہ سویٹرکے اوپر جرسی پہن کر آیا تھا۔ اس کے گلے میں مفلر بھی تھا۔ اس کے باوجود درختوں کے قریب سے گزرتے ہوئے وہ ٹھنڈ سے کپکپانے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے نہر کے پل تک پہنچا۔ یہاں ہر چیز دھند میں اٹی ہوئی تھی اور کہرا پڑ رہا تھا۔ پل کے نیچے سے گزرتا پانی مدھم سی سرگوشیاں کرتا بہہ رہا تھا۔ اس نے پل کی دیوار پر اپنا ہاتھ رکھا تو اس کا ہاتھ گیلا ہو گیا۔ پل سے نیچے اترنے سے پہلے اس نے رک کر گردوپیش کے منظر پر نظر دوڑائی۔ گہری تاریکی کے باوجود ایک مدھم سی روشنی سارے میں پھیلی ہوئی تھی۔ پل سے نیچے اتر کر وہ کچھ دیر کچی سڑک پر چلتا رہا۔ اس کے بعد وہ داہنے ہاتھ پر واقع کھیتوں کے اندرگھس گیا اور گیلی گھاس پر پاؤں جما کر چلنے لگا۔ کچھ آگے جا کر وہ ٹھہر گیا اور پکوڑافروش کو آوازدینے لگا۔ اس نے آس پاس بہت غور سے دیکھا۔ اسے نہ کہیں سے اٹھتا ہوا دھواں نظر آیا اور نہ ہی فضا میں چرس کی خوشبو محسوس ہوئی۔ وہ ہاتھ سے جھاڑیوں کو ٹٹولتا رہا مگر نورل اسے کہیں بھی نہیں ملا۔

 

اس نے انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ ایسی جگہ کھڑا ہو گیا جہاں سے اسے پْل آسانی سے دکھائی دے رہا تھا۔ بہت وقت گزرنے کے بعد بھی اس طرف سے کوئی نہیں آیا۔ وہ مخمصے میں تھا۔ اسے اپنے دوست سے اس بات کی توقع نہیں تھی۔ وہ اس پر ہمیشہ اندھا اعتماد کرتا رہا تھا۔

 

ملاقات کے لیے مقررہ وقت میں تھوڑی دیر باقی تھی۔ وہ سوچنے لگا کہ ہو سکتا ہے شمیم نے اس کے لیے دروازہ کھول دیا ہو، مگر رہ رہ کر اسے پکوڑافروش کی دغابازی تنگ کر رہی تھی۔ اس کے بغیر وہ خود کو بے آسرا اور بے بس محسوس کر رہا تھا۔ وہ گومگو کے عالم میں کچھ دیر وہیں کھڑا رہا۔ پچھلی بار بھی وہ اسی کے سہارے وہاں تک چلا گیا تھا، مگر آج وہاں تک جانا اسے پْرخطرمحسوس ہو رہا تھا۔ اس کا ذہن اسے باربار وہاں سے چلے جانے کے لیے کہہ رہا تھا مگر اس کا دل اس کے قدم روکے ہوئے تھا۔ رہ رہ کر اسے شمیم کا مخملیں بدن یاد آ رہا تھا۔ اس کی یاد کی کشش خودبخود اس کے قدموں کو اپنی طرف کھینچنے لگی۔

 

وہ چاروں طرف سے کماد کی فصل میں گھرا ہوا تھا۔ اِدھراْدھر نظر ڈالنے پر اسے ایک پگڈنڈی دکھائی دینے لگی اور وہ اس پگڈنڈی پر چلنے لگا۔ کچھ آگے جا کر وہ فصل سے باہر نکلا۔ احتیاط سے آس پاس دیکھتے ہوئے اس نے گوٹھ کی جانب جانے والا راستہ عبور کیا اور اس طرف کھڑی فصل کے اندر چلا گیا۔ فصل کے درمیان چلتے چلتے اسے پانی کی قلقاریاں سنائی دینے لگیں۔ پانی کا نالا قریب ہی واقع تھا۔ کچھ دور جا کر وہ ایک بار پھر کماد کی فصل سے باہر نکلا اور سیمنٹ سے بنے پختہ نالے کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ شرینہہ کے درخت کے پاس پہنچ کر وہ نالے کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ آج اس کی سطح اْس دن سے بھی زیادہ ٹھنڈی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ ٹھنڈ سے کانپنے لگا تھا۔ نورل کی غیرحاضری پر اسے جی ہی جی میں غصہ آ رہا تھا۔ اس کا ذہن اب بھی اسے واپس جانے پر اکسا رہا تھا۔ وہ باربار اس خیال کو رد کر رہا تھا۔ اس کے دل میں کہیں یہ خواہش بھی چٹکی لے رہی تھی کہ وہ جا کر حویلی کے اس دروازے کو نزدیک سے دیکھ لے جہاں سے اس دن شمیم آئی اور گئی تھی۔

 

اس نے آس پاس نگاہ دوڑائی۔ کماد کی فصل میں یخ ہوا کے جھونکے سرسرا رہے تھے۔ ان کی سرسراہٹ پر اسے باربار کسی چڑیل کی ہنسی کا گمان گزرتا تھا۔ وہ گرد ن موڑموڑ کر اس جانب دیکھنے لگتا تھا۔ اس طرف پانی کے نالے کی لکیر دور تک چلی گئی تھی جبکہ دوسری طرف ایک کھیت خالی پڑا ہوا تھا۔ وہاں اگلے مہینے کپاس کا بیج ڈالا جانا تھا۔

 

وہ ٹھٹھرتا کانپتا ہوا نالے پر بیٹھا، شمیم سے اب تک ہونے والی ملاقاتوں کو یاد کرتا رہا۔ یاد کی شدت نے اسے اٹھنے پر مجبور کیا۔ وہ اٹھ کر خالی کھیت کی جانب بڑھا۔ کھیت میں چلتے ہوئے اس کے پاؤں کے نیچے سوکھی لکڑیاں چرچرانے لگیں۔

 

“وہ شاید آخری مکان میں رہتی ہو گی، نورل جسے باربار حویلی کہہ رہا تھا،” اس نے سوچا۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا اس کے قریب پہنچا اور اردگرد دیکھنے لگا۔

 

اسے معاً کسی دروازے کی کنڈی اترنے کی آواز اور پھر دروازہ کھلنے کی چرچراہٹ سنائی دی۔ چند لمحوں کے بعد ایک دھیمی سی ہشکار اس کے کانوں میں پڑی۔ اس نے شمیم کے سائے کو دروازے سے باہر جھانکتے ہوئے دیکھا تو اطمینان کی لمبی سانس لینے لگا۔ اس کے ذہن سے تمام اندیشے اور وسوسے آناً فاناً مٹ گئے۔ ناہموار زمین پر دھیرے دھیرے چلتا ہوا وہ اس کے قریب پہنچ گیا۔ رات کے تیسرے پہر جب دنیا گھٹاٹوپ اندھیروں کے فسوں میں لپٹی، نیند کے خمار میں ڈوبی ہوئی تھی، دو پیار کرنے والوں کے سائے ایک دوسرے کے نزدیک آ کر، ٹھٹک کر رک گئے۔ ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹوں کے جگنو دو لمحوں کے لیے جگمگائے اور انہیں لاحق تشویش کی دھند میں چھپ گئے۔
“میں بہت دیر سے تمھاری منتظر ہوں۔ تین بار دروازے سے باہر جھانک کر دیکھا مگر تم نظر نہیں آئے۔ میں پریشان اور مایوس ہو رہی تھی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ تم نہیں آؤ گے۔ شاید تم مجھ سے روٹھ گئے… یا۔۔۔” وہ دھیمے لہجے میں بات کرتی کرتی رک گئی۔ اس کے لہجے کے اتارچڑھاؤ سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اپنی موجودہ صورتِ حال سے گھبرائی ہوئی ہے اور اسے اپنی باتوں میں ظاہر نہیں کرنا چاہتی۔

 

نذیر نے آہستگی سے کہنا شروع کیا: “میں یہاں بہت پہلے پہنچ جاتا مگر میرا رازدار عین وقت پر آج مجھے دھوکا دے گیا۔ پھر تم جانتی ہی ہو کہ آدھی رات کو قصبے سے نکل کر اس طرف آنا کتنا بڑا جوکھم ہے۔ ہے کہ نہیں؟” وہ اپنے استفسار کے بعد شمیم کی طرف دیکھنے لگا۔

 

وہ جواب دینے سے پہلے دھیرے سے ہنسی۔ اس کی ہنسی کی مدھم سی کھنک نے سناٹے کا سینہ چاک کر دیا۔ “جوکھم تو ہے، مگر تم سے زیادہ بڑا جوکھم تو میں نے مول لیا ہے۔ سنو!میرے سب گھروالے اس وقت گہری نیند سو رہے ہیں۔ تم چیزوں کو دیکھ بھال کر آہستہ آہستہ میرے پیچھے آؤ۔ دیکھو، کسی چیز سے ٹکرا کر گر مت جانا!” اس کے لہجے سے جھلکتی شوخی یہ عندیہ دے رہی تھی کہ وہ اپنی تشویش اور گھبراہٹ پر قابو پاتی جا رہی ہے۔

 

وہ آگے بڑھی تو نذیر بولایا ہوا سا دروازے کو بھیڑتا ہوا اندر داخل ہوا۔

 

شمیم نے پلٹ کر اسے دیکھتے ہوئے پوچھا، “سمجھ گئے نا؟ آؤ۔”
نذیر نے چند قدم آگے بڑھا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ “کوئی خطرہ تو نہیں ہے؟”

 

یہ بات سن کر اس نے بمشکل اپنے آپ کو ہنسنے سے روکا۔ “ڈرتے ہو تویہاں تک آئے کیوں ہو؟” یہ کہہ کر وہ آگے چل پڑی جبکہ وہ ہولے ہولے اس کے پیچھے آنے لگا۔

 

دروازے سے کچھ دور جا کر ایک طویل برآمدہ شروع ہوتا تھا جہاں کئی ستون قطاروار کھڑے تھے۔ برآمدے میں ایک طرف تین کمرے واقع تھے جن کے دروازے بند تھے۔ برآمدے سے گزر کر وہ ایک کشادہ صحن میں آ گئے۔ صحن میں سو کینڈل پاور کے ایک بلب کی پھیکی سی روشنی پھیلی تھی۔ نذیر دبے پاؤں چلنے کی کوشش کر رہا تھا مگر اس کے بے ترتیبی سے پڑتے ہوئے قدم آواز پیدا کررہے تھے، جبکہ شمیم اس طرح بے آواز قدم اٹھا رہی تھی جیسے پانی کی سطح پر چل رہی ہو۔

 

کشادہ صحن میں چلتے چلتے داہنی طرف واقع ایک بڑے سے چھپر کے نیچے پہنچ کر وہ دونوں ٹھہر گئے۔

 

“میں نے تمھارے لیے بہت پہلے سے ہی چائے تیار کر لی تھی۔ تم یہاں کھاٹ پر بیٹھو۔ میں چائے لے آتی ہوں۔” یہ کہہ کر وہ کشادہ صحن کے کونے پر واقع باورچی خانے کی سمت چلی گئی۔

 

نذیر اسے بلب کی پھیکی روشنی میں جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ وہ اپنے دل و دماغ میں شدید بے قراری محسوس کر رہا تھا۔ اس وجہ سے اس کے لیے بیٹھ جانا ممکن نہیں ہو رہا تھا۔ وہ چھپر کے نیچے دھیرے دھیرے ٹہل کر گھر کا جائزہ لینے لگا۔ یہاں سے اس کی نگاہ پورے گھر کا احاطہ کر رہی تھی۔ اس نے باورچی خانے سے ملحقہ لکڑی کے اونچے سے دروازے کو دیکھا جو شاید گھر میں داخل ہونے کا مرکزی راستہ تھا۔

 

شمیم کو واپس آتا ہوا دیکھ کر وہ بیٹھ گیا۔ اس نے ایک ہاتھ میں کیتلی اور دوسرے میں دو پیالیاں اٹھا رکھی تھیں۔ چھپر کے نیچے پہنچ کر اس نے پیالیاں کھاٹ پر رکھ دیں اور کیتلی سے ان میں چائے انڈیلنے لگی۔

 

نذیر خوش دلی سے گویا ہوا، “تم نے بہت اچھا کیا کہ اس وقت چائے بنا لی۔”

 

شمیم چائے کی پیالی اس کی طرف بڑھاتے دھیرے سے ہوئے بولی، “رات میں سردی بہت زیادہ ہوتی ہے اور پالا بھی گرتا ہے۔ اس لیے اس وقت چائے بہت ضروری تھی۔”

 

“میں پہلی بار تمھارے ہاتھ سے بنی چائے پیوں گا،” نذیر نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا۔ اس نے شمیم کی طرف دیکھا تو وہ اپنے سر پر ڈوپٹہ اوڑھے ہوئے بیٹھی تھی۔

 

“تم جانتے ہو، مہمان نوازی تو ہماری رگ رگ میں شامل ہے۔”
“بالکل ٹھیک کہتی ہو،” وہ چائے کا گھونٹ لے کر کہنے لگا۔ “درازہ شریف میں ہونے والی ملاقات کے بعد میں سمجھا کہ تم ڈر گئیں اور اب مجھ سے ملنا نہیں چاہتی۔ “

 

وہ ہنسی۔ “میں تم سے نہیں ملنا چاہتی؟ اچھا! تو تم میرے بارے میں یہ سوچتے رہے؟ مجھے تاپ چڑھ گیا تھا۔ پورا ایک ہفتہ میں کھاٹ پر بیمار پڑی رہی۔ نوراں نے تمھارے پیغام مجھ تک پہنچائے تو تھے مگر میں نے ملنے سے منع کر دیا تھا۔”

 

“مگر میں تمھاری بیماری کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔”

 

“میں نے اسے کہا تو تھا کہ وہ اس بارے میں تمھیں بتا دے۔” وہ باربار گردن گھما کر برآمدے کی طرف دیکھ رہی تھی۔

 

“اس روز تمھارے شوہر کو مجھ پر شک تو نہیں ہوا؟”

 

وہ کسمسا کر بولی، “اسے شک نہیں ہوا۔ ویسے قبرستان بہت خوفناک جگہ ہے۔ قبروں کے درمیان پیار کی باتیں کرنا مجھے عجیب لگ رہا تھا۔ مگر تم مجھے اچھے لگتے ہو اس لیے تم سے ملنے کی خاطر میں وہاں چلی آئی۔” وہ مسکرائی۔

 

“مجھے تم سے وہاں ملنے کے لیے جب کوئی اور جگہ نہیں مل سکی تو قبرستان کا انتخاب کرنا پڑا۔” وہ پہلی بار ہنسا۔ “تمھارے ہاتھوں کی چائے بہت مزیدار ہے۔”

 

اپنی تعریف سن کر وہ مسکرائی، پھر اسے اپنے شوہر اور اپنے سسرال والوں کے بارے میں بتانے لگی۔ اس کی یہ باتیں سنتے ہوئے نذیر جماہیاں لینے لگا۔ وقفے وقفے سے گوٹھ کے آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ چھپر کے کسی کونے میں چھپا ہوا جھینگر بھی مسلسل شور مچا رہا تھا۔

 

اس کی باتوں کے دوران نذیر نے اپنی جیب سے اس کے لیے بنوایا ہوا ہارنکالا اور اسے ہاتھ میں لہرا کر اسے دکھاتے ہوئے کہنے لگا، “میں نے سنارسے تمھارے لیے یہ ہار بنوایا ہے۔”

 

ہار کو دیکھ کرشمیم اپنی خوشی کو دبا نہ سکی۔ وہ بے ساختہ ہنسنے لگی۔ “میرے لیے؟”

 

“ہاں، تمھارے لیے۔ اگر تم اجازت دو تو میں یہ ہارتمھاری گردن میں پہنا دوں۔”

 

اسے جواب دینے کے بجاے وہ شرمانے لگی۔ نذیر اٹھ کر اس کے نزدیک آ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں ہار تھام لیا اور ذراسا جھک کر اپنے یخ بستہ ہاتھ اس کی نرم گردن تک لے گیا۔ اس کی انگلیاں اس کی مخملیں گردن کو چھونے لگیں۔

 

اس نے چہرہ جھکا لیا تھا۔ اس کی انگلیوں کو گردن پر محسوس کرتے ہوئے اسے گدگدی سی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ اپنے آپ کو ہنسنے سے مشکل سے روکے ہوئے تھی۔ اس کی بنجر اور بیزار زندگی کے لیے یہ لمحات مسرت و شادمانی سے بھرپور تھے، مگر ساتھ ہی اس کے دل کو گھر کے کسی فرد کے جاگ اٹھنے کا دھڑکا بھی لگا ہوا تھا۔ اسی لیے وہ اپنی خوشی کا دبا دبا اور گھٹا گھٹا سا اظہار کر رہی تھی۔
کم روشنی کی وجہ سے نذیر ہار کی زنجیر بند نہیں کر سکا۔ عاجز آ کراس نے ہار شمیم کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ “یہ تم خود ہی پہن لینا۔ اور اب اپنے پیارے پیارے ہاتھ مجھے دکھاؤ۔” وہ اس کے مقابل آ کر زمین پر بیٹھ گیا اور اس کے سمٹے ہوئے نرم ہاتھوں کو اپنے کھردرے ہاتھوں میں لے کر انہیں دبانے لگا۔ پھر انہیں اپنے چہرے پر لے جا کر محسوس کرتا رہا۔ اس کے بعد وہ اس کی ہتھیلیوں کو اپنے ہونٹوں سے چومنے لگا۔

 

“ہار نیچے گر گیا،” شمیم نے سرگوشی سے اسے بتایا۔

 

نذیر فوراً اس کے ہاتھوں کو چھوڑ کر، زمین پر جھک کر مٹی میں ہاتھ مارتے ہوئے ہار ڈھونڈنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں وہ اسے مل گیا۔ اس نے اپنی قمیض سے ہار صاف کر کے اسے تھما دیا۔ “تم پہن لو ابھی۔”

 

شمیم نے اس کا کہا مان لیا اور ہار پہن لیا۔ اس کے بعد اس نے کیتلی اٹھائی اوراس میں سے چائے انڈیل کر اسے پینے کے لیے دوسری پیالی پیش کی۔ چائے پیتے ہوئے وہ مسلسل اس کی تعریف کرنے لگا۔ شمیم نے جب اس سے ہار کی قیمت دریافت کی تواس نے ہار کی جھوٹی قیمت بتائی۔ زیادہ قیمت کا سن کر وہ مرعوب ہوئی اور اسے اپنے پاس پہلے سے موجود زیورات کے متعلق بتانے لگی۔

 

اس کی بات کاٹتے ہوئے نذیر نے کہا، “آج میں صبح تک تمھارا مہمان ہوں۔”

 

“ہاں میرے پیارے۔”

 

اس مرتبہ نذیر اس کے نزدیک ہی بیٹھ گیا اور بیٹھتے ہی اس نے اپنا ہاتھ اس کی کمر کے گرد حمائل کر دیا۔ اگلے ہی لمحے کسی مزاحمت کے بغیرشمیم اس سے لپٹ گئی۔ نذیرکے پیاسے اور خشک ہونٹ شمیم کے نازک اور شیریں لبوں سے زندگی کا رس کشید کرنے لگے۔ وہ اس کے بوسوں کی شدت کے سامنے عاجز اور بے بس ہوتی چلی گئی۔ اس نے آنکھیں زور سے میچ لیں اور خود کو اس کے پیار کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی ندی کے دھارے پر چھوڑ دیا، جو اس کے لبوں سے ہوتا ہوا دھیرے دھیرے اس کے پورے وجود تک پھیلتا چلا گیا۔ نذیر کا جوش جتنا بڑھتا جا رہا تھا وہ اس کے بازوؤں میں اتنی ہی سمٹتی جا رہی تھی، پگھلتی جارہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں دونوں اپنی قباؤں سے بھی یکسر بے نیاز ہو گئے۔

 

پہلی بار کسی عورت کا جسم نذیر کے سامنے پوری طرح کھلا تھا۔ خود کو سنبھالنے کی کوشش کے باوجود اس کی وحشت بے قابو ہوتی جا رہی تھی۔

 

شمیم آنکھیں میچے لمبے سانس بھر رہی تھی۔ اس کا ہر سانس، اس کی ہر سسکی، اس کی ہر لذت بھری آہ نذیر کی احسان مند تھی۔ اس کی رگوں میں عرصے سے جما ہوا لہو کسی آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا تھا۔ اس کی نرم و گداز اندام نہانی گلاب کے پھول کی طرح کھلی ہوئی تھی اور عضوِ خاص کے لیے مچل رہی تھی۔

 

چھپر کی چھت سے اچانک ایک غراتی اور چیختی ہوئی بلی نذیر کی پشت پر آ گری۔ اسے محسوس ہوا کہ کوئی چڑیل آ کر اس کی پیٹھ سے چمٹ گئی ہے۔ نذیر کا منھ زوردار چیخ کے لیے کھلنے ہی والا تھا کہ شمیم نے اس پر ہاتھ رکھ دیا، مگر اس بیچارے کی روح فنا ہو چکی تھی۔ بلی کے پنجوں نے نذیر کی پشت کو زور سے رگیدا۔ اس کے بعد وہ اس کی پشت سے اتر کر چھپر کے کونے میں کہیں غائب ہو گئی۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

میرواہ کی راتیں – پانچویں قسط

رفاقت حیات کے ناول ‘میر واہ کی راتیں‘ کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

نذیر کی زندگی میں شمیم پہلی عورت تھی جس نے اس سے ملنے کے لیے اسے پیغام بھیجا تھا، ورنہ اس سے پہلے بھی وہ بے شمار لڑکیوں اور عورتوں کا تعاقب کر چکا تھا مگر ان میں سے کسی کی جانب سے پیغام آنا تو درکنار، اسے ان کو دیکھنے کا دوسرا موقع تک میسر نہیں آ سکا تھا۔ وہ سب کی سب اپنے گھروں میں جانے کے بعد اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بھول گئی تھیں۔ پکوڑافروش کے ذریعے موصول ہونے والے پیغام کی اس کے لیے بہت خاص اہمیت تھی۔ اسی لیے اس کا اپنا بے کار وجود بھی اب اس کی اپنی نظروں میں یکایک کچھ اہم ہو گیا تھا۔ باربار کسی سبب کے بغیر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ جاتی تھی۔ آج اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ انسانوں سے بھری ہوئی اس دنیا میں ایک عورت ایسی بھی ہے جو اس کے بارے میں سوچتی ہے۔ اس کے لیے یہ خیال بہت مسحورکن تھا۔ مگر اس سے بھی زیادہ مسحورکن خیال آج کی شب پیش آنے والے وصل کی لذت کا خیال تھا، جس کا ہلکا سا احساس ہی اس کے بدن پر سرشاری طاری کر رہا تھا۔

 

آج اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ انسانوں سے بھری ہوئی اس دنیا میں ایک عورت ایسی بھی ہے جو اس کے بارے میں سوچتی ہے۔
اسی خیال کے زیرِاثر وہ بہت دیر تک متواتر سلائی مشین چلاتا رہا۔ اسے وقت کے تیزی سے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہو رہا تھا۔ بہت دیر کے بعد اس نے اپنا ہاتھ روکا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ اس کی نظر یعقوب کاریگر کے چہرے پر جا کر ٹھہر گئی جو ایک ریشمی لباس کی سلائی میں مصروف تھا۔ اس کی آنکھیں سلائی مشین کی ٹانکے لگاتی باریک سوئی کو شوق بھری نظر سے دیکھ رہی تھیں۔ اس کے ہاتھوں کی انگلیاں ریشمی کپڑے کو کچھ اس طرح جھجکتے ہوئے چھو رہی تھیں جیسے وہ کسی عورت کے جسم کو اس کی اجازت کے بغیر اور اس سے چھپ کر چھو رہی ہوں۔

 

نذیر نے حیرت سے سوچا کہ نسوانی کپڑوں کی سلائی کے دوران یعقوب کاریگر اپنے گردوپیش سے اتنا لاتعلق ہو جاتا تھا کہ اسے بیڑی پینے کا ہوش بھی نہیں رہتا تھا۔ عجیب لذت سے تمتماتا ہوا اس کا چہرہ دیکھ کر نذیر کو اس کے ہاتھوں کے ہنر کی مقبولیت کا راز معلوم ہو گیا۔

 

ابھی شام ڈھلنے میں خاصا وقت تھا اور آدھی رات ہونے میں تو اس سے بھی زیادہ وقت باقی تھا۔ یکایک وہ محسوس کرنے لگا کہ ہیجان خیز محسوسات و خیالات کی یورش کی وجہ سے دھیرے دھیرے اس کے جذبات کند ہونے لگے تھے، اور وہ اپنے آپ کو فاترالعقل سمجھنے لگا تھا۔ اپنا ذہن بٹانے کا سوچ کر اس نے دیوار پر چسپاں تصویروں پر ایک نگاہ ڈالی۔ فلمی اداکاراؤں کے میک اپ سے بھرے چہرے اس کی نگاہوں سے خودبخود اوجھل ہو گئے۔ اسے صرف کسے کسائے ملبوسات میں پھنسے ہوئے بدن دکھائی دیے۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ دکان کی چھت سے فرش تک صرف نسوانی اعضا کی تصویریں لگی ہوئی ہیں اور ہر نسوانی عضو ہر قسم کی نزاکت اور حسن سے یکسر عاری ہے اور اس میں سے صرف شہوانیت کا اظہار ہو رہا ہے۔ وہ کچھ دیر تک بھرے بھرے جسموں کی گداز چھاتیوں اور ابھرے ہوئے پیٹ کی ناف کو دیکھتا رہا۔ اس عمل سے اچانک اس کا خون گرم ہو گیا اور ناک کے نتھنوں سے گرم گرم سانسیں نکلنے لگیں۔

 

نذیر نے حیرت سے سوچا کہ نسوانی کپڑوں کی سلائی کے دوران یعقوب کاریگر اپنے گردوپیش سے اتنا لاتعلق ہو جاتا تھا کہ اسے بیڑی پینے کا ہوش بھی نہیں رہتا تھا۔
یعقوب کاریگر اسے محویت سے تصویروں کو تاکتے دیکھ کر مسکرانے لگا۔ اسے مسکراتا دیکھ کر نذیر کھسیانا ہو کر اٹھا اور دکان سے باہر چلا گیا۔ گلی سے نکل کر وہ سڑک پر آیا اور یہاں کی کھلی فضا میں لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے اپنی طبیعت بحال کرنے لگا۔

 

سڑک کے پرلی طرف کپڑے کی ایک دکان پر لٹکی ہوئی پھول دار چادریں اور دوپٹے ہوا کے جھونکوں سے ہل رہے تھے۔ ایک دکانداراپنی پردہ نشین گاہک کے سامنے ریشمی کپڑے کا تھان کھول رہا تھا۔ نذیر اس برقع پوش عورت کی طرف دیکھنے لگا۔ دکان پر پڑتی سورج کی تیز روشنی کے سبب اس کے برقعے میں عجیب سی چمک پیدا ہو گئی تھی۔ اسے لگا کہ وہ یہاں کھڑا ہو کر زیادہ دیر تک اس برقعے کی چمک کو اپنی آنکھوں میں جذب نہیں کر سکتا۔

 

تھوڑی دیر بعد وہ دکان پر لوٹ آیا۔ یعقوب کاریگر اسے دیکھتے ہی بولا، “آج میں دکان پر بہت اکیلائی محسوس کر رہا ہوں۔ آج میرے یار کی طبیعت خراب ہے، اس لیے وہ نہیں آیا۔ اور تم ہو کہ مجھ بوڑھے سے کوئی بات ہی نہیں کرتے۔” وہ ایک بیڑی سلگا کر کش لینے لگا۔

 

نذیر اس کے قریب رکھے ہوئے اسٹول پر جا کر بیٹھ گیا اور وہ دونوں چاچے غفور کے بارے میں باتیں کرنے لگے۔ زیادہ تر باتیں پرانی تھیں جو وہ پہلے بھی کئی بار دوہرا چکے تھے۔ نذیر کو کوئی نئی بات نہیں سوجھ رہی تھی اس لیے وہ خاموش ہو گیا، کیونکہ کاریگر باتیں کرنے کی موج میں آیا ہوا تھا۔ نذیر کو اچانک چاچی خیرالنسا یاد آئی۔ آج چاچا بھی گھر پر موجود تھا۔ اس نے اپنی چشمِ تصور میں انہیں اپنے کمرے میں ایک دوسرے کے ساتھ پیوست مسلسل حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔

 

اسے محسوس ہونے لگا کہ دکان کی چھت سے فرش تک صرف نسوانی اعضا کی تصویریں لگی ہوئی ہیں اور ہر نسوانی عضو ہر قسم کی نزاکت اور حسن سے یکسر عاری ہے اور اس میں سے صرف شہوانیت کا اظہار ہو رہا ہے۔
یعقوب کاریگر کی باتیں سنتے ہوئے اسے لگا کہ چاچے غفور سے اس کی دوستی کی ضرور کوئی خاص وجہ رہی ہو گی، جس کے بارے میں کاریگر نے بھول کر بھی باتوں میں کوئی اشارہ نہیں کیا تھا۔ نذیر نے سوچا کہ اگر کسی دن وہ کاریگر کو اعتماد میں لے کر اس سے پوچھ گچھ کرے تو شاید اسے کچھ گڑے مْردوں کا پتا چل جائے۔

 

دکان کے باہر ایک سائیکل کو رکتا دیکھ کر وہ دونوں چپ ہو گئے۔

 

ماسٹر طفیل اپنی دھوتی سنبھالتا ہوا سائیکل سے اتر کر دکان میں داخل ہوا۔

 

“میں تمہارا ہی کام کر رہا تھا ماسٹر۔ صرف قمیص کے بٹن لگانے رہ گئے ہیں،” یعقوب نے خوش مزاجی سے اسے اس کے کپڑوں کے بارے میں بتایا۔ ماسٹر طفیل کچھ دیر بعد آنے کا کہہ کر چلا گیا۔

 

گلی میں دکانوں کے شٹر بند ہونے کی کھڑاک پڑاک شروع ہو گئی۔ تمام درزی ہنستے، شور مچاتے ہوئے اپنی اپنی دکانوں سے نکلے۔ تھوڑی دیر بعد مغرب کی اذان بھی سنائی دینے لگی۔

 

ماسٹر طفیل کو اس کے کپڑے دینے کے بعد انھوں نے بھی دکان بند کر دی اور یعقوب کاریگر چاچے غفور کی عیادت کرنے کے لیے اس کے ساتھ چل پڑا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

صحن میں پھیلتی تاریکی کو دیکھ کر اس نے بلب روشن کرنے کی خاطر دیوار پر نصب کالا بٹن دبایا تو برآمدے میں روشنی پھیل گئی۔
ملگجی شام میں چاچی خیرالنسا کشادہ صحن میں جانماز پر سمٹی ہوئی بیٹھی نماز پڑھ رہی تھی۔ اس کے ہونٹ دعا مانگتے ہوئے لرز رہے تھے۔ نذیر کے قدموں کی چاپ سن کر اس نے مڑ کر دیکھا اور اس کے ہونٹ تیزی سے دعا ختم کرنے لیے ہلنے لگے۔

 

نذیر دو محرابوں کے درمیان کھڑا عبادت ختم ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ صحن میں پھیلتی تاریکی کو دیکھ کر اس نے بلب روشن کرنے کی خاطر دیوار پر نصب کالا بٹن دبایا تو برآمدے میں روشنی پھیل گئی۔ اس نے تاریک کمرے پر نظر دوڑائی۔ غفور چاچا وہاں رضائی اوڑھ کر لیٹا ہوا تھا۔ اس کے خراٹوں کی خرخراہٹ سن کر وہ مسکرایا۔

 

چاچی کو جانماز سے اٹھتا دیکھ کر اس نے اس کے پاس جا کر یعقوب کاریگر کی آمد کے بارے میں بتایا۔ وہ فوراً اپنے شوہر کو جگانے کے لیے کمرے میں چلی گئی۔ چاچا غفور اپنے یار کا نام سن کر فوراً اْٹھ بیٹھا۔

 

چاچی خیرالنسا پردے کی خاطر باورچی خانے والی کوٹھڑی میں چلی گئی۔

 

یعقوب کاریگر کو دیکھ کر بوڑھا مریض خوشی سے کھل اْٹھا۔

 

نذیر اپنی گھڑی پر وقت دیکھ رہا تھا، کیونکہ پہلوان کے چائے خانے پر نورل جوگی اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اسی بے چینی میں وہ باورچی خانے میں چاچی کے سامنے چوکی پر جا بیٹھا۔ چاچی خیرالنسا نے اپنے شوہر اور کاریگر کی پرانی دوستی کا ذکر چھیڑ دیا۔

 

باتوں کے دوران نذیر کو پہلے اس کے ہاتھ کا لمس یاد آیا اور پھر غسل خانے میں لٹکا ہوا اس کا بلاؤز۔ بیٹھے بیٹھے وہ چاچی کے سرخ و سفید ہاتھوں کو دیکھنے لگا۔ اس نے سوچا کہ ان ہاتھوں میں پوشیدہ حدت کتنی نرم و ملائم ہو گی۔ اس کا جی چاہا کہ وہ اسی وقت انہیں چھو کر محسوس کرے اور ان کی ہتھیلیوں پر ایک بوسہ ثبت کردے۔ اس نے خود کو گستاخی پر آمادہ محسوس کیا۔ وہ اس کے کشادہ سینے کے زیروبم کو دیر تک محویت سے دیکھتا رہا۔

 

وہ حیران تھا کہ اس کی باتوں میں عدم دلچسپی کے باوجود وہ بے خبری کے عالم میں دیر تک باتیں کرتی رہی۔ جب وہ چولہے میں پھونک مارنے کے لیے جھکی تو نذیر نے چپ چاپ اس کے سینے کے ابھار کو دیکھا، مگر اگلے لمحے چاچی خیرالنسا اپنے سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے شک بھری نظروں سے گھورنے لگی۔ اس کے گھورنے پر وہ جھینپ سا گیا۔ اسے الجھن ہونے لگی۔ وہ باتونی نہیں تھا مگر چاہتا تھا کہ پرْکشش جسم والی اس حسین عورت سے دیر تک لچھے دار باتیں کر کے اس کا دل بہلائے۔

 

ان کی باتیں سنتے ہوئے اس نے سوچا کہ غفور چاچا دلچسپ گفتگو کرنے کا ماہر تھا، اسی لیے اس نے ابھی تک چاچی کو اپنے قابو میں رکھا ہوا تھا۔
چاچی نے پتیلی اٹھا کر چینک میں چائے انڈیلی۔ وہ ٹرے میں رکھی چینک اور پیالیاں اٹھائے ہوئے باورچی خانے سے باہر چلا گیا۔

 

کمرے میں ان کے سامنے چائے رکھنے کے بعد وہ آدھے گھنٹے تک ان دو بوڑھے آدمیوں کے ساتھ بیٹھا رہا۔ ان کی باتیں سنتے ہوئے اس نے سوچا کہ غفور چاچا دلچسپ گفتگو کرنے کا ماہر تھا، اسی لیے اس نے ابھی تک چاچی کو اپنے قابو میں رکھا ہوا تھا۔

 

کچھ دیر بعد یعقوب کاریگر نے چاچے سے جانے کی اجازت مانگی اور جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔

 

وہ اسے رخصت کرنے گلی کے آخر تک چلا گیا۔ الوداعی مصافحے کے بعد وہ کچھ وقت وہیں کھڑا اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ اس کے بعد وہ پہلوان کے چائے خانے کی طرف چل پڑا۔

 

چائے خانے میں نوجوان لڑکے ڈبّو کھیلتے ہوئے شور مچا رہے تھے۔ وہاں ٹیپ ریکارڈر پر جلال چانڈیو کا گانا بج رہا تھا۔ ایک طرف پڑے ہوئے موڑھوں پر دو چار آدمی بیٹھے دھیمے لہجوں میں گفتگو کر رہے تھے، جبکہ نورل منھ بسورتا ہوا اکیلا بیٹھا تھا۔

 

نذیر پکوڑافروش کے پاس گیا تو وہ اسے دیکھ کر مسکرایا۔ انہوں نے موڑھے اٹھا کر ایک کونے میں کھسکا لیے اور آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے۔

 

پکوڑافرو ش نے رازداری سے اسے بتایا کہ آج رات ایک بجے وہ اپنے گھر کے پچھلے دروازے سے نکل کر پانی کے نالے کے پاس اس کا انتظار کرے گا۔ اس پر لازم تھا کہ وہ ایک بجے سے پہلے وہاں پہنچ جائے۔ اس نے اسے مزید یقین دلایا کہ ملاقات کے دوران وہ دونوں عاشقوں کے آس پاس کسی فرشتے کی طرح منڈلا تا رہے گا۔

 

نذیر نے اس کی ہر بات غور سے سنی۔ اس نے اپنے ذہن میں پہلی ملاقات کا جو تصور باندھا تھا، اس پر خوف کی پرچھائیں لہرانے لگی۔ اس کے باوجود چائے خانے سے اٹھ کر جاتے ہوئے نذیر نے وعدہ کیا کہ وہ ساڑھے بارہ بجے تک نہر سے اْترنے والی سڑک پر پہنچ جائے گا۔

 

نورل نے بھی سنجیدگی سے اپنا وعدہ دْہرایا اور وہاں سے چلا گیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کل وہ اپنے بستر پر جس شب کے انتظار میں لیٹا ہوا کروٹیں لے رہا تھا، وہ شب آخر کار آ پہنچی تھی اور اپنے بازو پھیلا کر اسے دعوتِ نشاط دے رہی تھی۔ مگر یہ کیا؟ گزرتے ہوئے لمحوں کے ساتھ نہر پار جانے کے خیال سے اس کے دل میں دہشت بڑھنے لگی تھی۔ وہ خود کو کسی طور پر ڈرپوک یا بُزدل ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس نے بزدلی کو واہمہ قرار دے دیا اور اس خیال کو جھٹکنے کے لیے وہ چاچے غفور کے ساتھ اس وقت کمرے میں بند چاچی خیرالنسا کے بارے میں سوچنے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر اس کا ذہن اس پل چاچی کے متعلق کچھ بھی سوچنے کے لیے آمادہ نہیں ہوسکا۔ اسے کوئی بات نہیں سوجھی، اس کے دل میں کوئی احساس پیدا نہیں ہوا، حتیٰ کہ چاچی کے گداز سینے کا خیال بھی اس کے ذہن کو اپنی طرف مائل نہ کر سکا۔ اور دوسری طرف کسی کوشش کے بغیر اس کا ذہن باربار خودبخود شمیم کے بارے میں سوچنے لگتا تھا۔ اگرچہ اس نے اب تک اس برقع پوش شمیم کی آواز نہیں سنی تھی،وہ اس کے ہونٹوں اور اس کے سینے کا شاہد نہیں ہوا تھا، اس کے باوجود فوراً اس کے ذہن میں درازقد اور بھرپور جسم کی ایک شاندار عورت در آئی تھی۔ وہ اس کے سحرانگیز حْسن کی باریکیوں میں اْلجھ گیا۔

 

اس نے اپنی چشمِ تخیل میں کتھئی لباس میں ملبوس ایک جوان عورت کو دیکھا جس کے جسم سے چنبیلی کی خوشبو کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں۔ اس کے سر سے چادر ڈھلکی ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس کے بالوں کی مانگ نظر آ رہی تھی۔ وہ کہیں کسی گھنے پیڑ کے نیچے کھڑی ہوئی شدت سے اس کی منتظر تھی۔

 

اس نے اپنی چشمِ تخیل میں کتھئی لباس میں ملبوس ایک جوان عورت کو دیکھا جس کے جسم سے چنبیلی کی خوشبو کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں۔
چند لمحوں کے بعد وہ ٹھنڈی آہیں بھرتا ہوا اپنے تخیل کے اڑن کھٹولے سے نیچے اترا اور چھت کی کڑیوں کی طرف دیکھتے ہوئے بلاسبب مسکرانے لگا۔ کچھ دیر قبل اس کے لیے شعوری طور پر جس چیز کے لیے سوچنا محال ہو رہا تھا، اب اس کا ذہن اس کے بارے میں خودبخود سبک روی سے سوچنے لگا۔ شمیم کے تصور کے بعد اب وہ چاچی کا تصور باندھنے لگا۔ سوچتے سوچتے اس نے لحاف اتارا، چارپائی سے اتر کر کمرے کے دروازے کے پاس گیا اور اس سے کان لگا کر کچھ دیر تک ان کی آپس کی باتیں سننے کی کوشش کرتا رہا۔ اس کے جی میں آیا کہ وہ دروازے کو دھکا دے کر اسی لمحے کھول دے اور اپنی آنکھوں سے انہیں قابلِ اعتراض حالت میں دیکھے۔ مگر اگلے ہی ثانیے وہ دروازے سے ہٹ گیا اور ٹہلتا ہوا برآمدے سے صحن میں آ گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ پہلی ملاقات پر اسے کیا باتیں کرنی چاہییں اور کس انداز سے کرنی چاہییں؟ کس طرح چکنی چپڑی اور دل لبھانے والی باتوں کے ذریعے شمیم کو شیشے میں اْتارنا چاہیے؟ اس حوالے سے اسے خود پر اعتماد نہیں ہو رہا تھا کیونکہ ماضی میں دو مرتبہ پہلے بھی وہ ایسے معاملات میں ناکامی کی اذیت برداشت کر چکا تھا۔

 

بہت پہلے کی بات تھی ۔نذیر نے اپنی بہن کی سہیلی سے پہلی بار ملتے ہی اس سے محبت کا اظہار کر دیا تھا۔ اس کے بے سلیقہ اظہار کا برا مان کر وہ لڑکی اس سے بدک گئی تھی اور اس نے اس کی بہن سے بھی ہمیشہ کے لیے ملنا ترک کر دیا تھا۔ دوسرا واقعہ اسی قصبے میں پیش آ چکا تھا۔ ایک دن وہ پرائمری اسکول کی عمارت کے قریب سے گزر رہا تھا۔ اس نے ایک لڑکی کو اپنے گھر کے دروازے سے باہر جھانکتے ہوئے دیکھا۔ وہ اسے پہلی نظر میں ہی بھا گئی۔ اس کے بعد وہ کئی روز تک اس کے گھر کے باہر چکر لگاتا رہا۔ کبھی کبھار وہ دکھائی دے جاتی لیکن ہر بار اسے دیکھتے ہی پردہ گرا کر اندر بھاگ جاتی۔ ایک شام وہ اسے ایک سنسان گلی میں دکھائی دے گئی۔ اس نے فوراً اپنا دل کھول کر اس کے سامنے پیش کر دیا۔ لڑکی نے اس کا دل اپنے پیروں تلے روند ڈالا اوراسے برابھلا کہتی ہوئی چلی گئی۔

 

اسے خدشہ تھا کہ شمیم بھی کہیں اس کی بے ربط اور اکھڑی باتیں سن کر اس سے اکتا نہ جائے۔ پچھلے کچھ برسوں سے وہ شادی شدہ عورتوں سے تعلقات قائم کرنے کے خواب دیکھتا رہا تھا۔ اب اس نے لڑکیوں کو اپنی محبت کے لائق سمجھنا چھوڑ دیا تھا۔ ان کے نخروں کو برداشت کرنا اس جیسے کم ہمت کے بس کی بات نہیں تھی۔ جوانی کے حُسن اور فطری کشش کے باوجود اب قصبے کی لڑکیاں اسے بالکل اچھی نہیں لگتی تھیں۔

 

وہ اپنے خیالوں میں گم، صحن کے ٹھنڈی اینٹوں والے فرش پر چہل قدمی کرتا رہا۔ اچانک اسے محسوس ہوانے لگاکہ صحن کے چاروں کونوں سے بچھو اور سانپ اس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس احساس سے خوفزدہ ہو کر وہ فوراً بھاگ کر برآمدے میں پڑی ہوئی چارپائی پر چڑھ گیا اور رضائی اپنے جسم پر اوڑھ کر بیٹھ گیا۔

 

بستر یخ بستہ ہو رہا تھا۔ اپنی رضائی پاؤں پر اچھی طرح اوڑھنے کے باوجود بہت دیر تک اس کے پیر گرم نہیں ہو سکے۔ تنگ آ کر وہ انہیں اپنے ہاتھوں سے مَلنے لگا۔

 

پکوڑافرو ش نے رازداری سے اسے بتایا کہ آج رات ایک بجے وہ اپنے گھر کے پچھلے دروازے سے نکل کر پانی کے نالے کے پاس اس کا انتظار کرے گا۔
اسے اپنی حماقت کا احساس بہت تاخیر سے ہوا۔ اوس سے بھیگتی ہوئی رات میں صرف شلوار قمیض پہنے ہوئے گھر سے نکلنا بہت دشوار تھا۔ کمرے میں رکھے ہوئے اپنے صندوق سے چادر، مفلر اور جرابیں نکالنا اسے یاد نہیں رہا تھا۔ اس کے پاس صرف بغیر آستینوں والا سویٹر تھا۔ اس سویٹر کی مدد سے سردیوں کی رات کی ٹھنڈ اور پالے کا رْکنا محال تھا۔
اسے محسوس ہونے لگا کہ رات آدھی سے زیادہ گزر چکی ہے۔ گھڑی پر وقت دیکھنے کے لیے برآمدے کا بلب جلانا ممکن نہیں تھا۔ اس کے پاس کوئی ماچس بھی نہیں تھی۔ وہ چارپائی سے اْتر کے دبے پاؤں باورچی خانے کی کوٹھڑی تک گیا۔ اس کے ٹھنڈے ہاتھ چولھے کی راکھ اور اس کے گردوپیش کی زمین ٹٹولتے رہے لیکن اسے وہاں ماچس نہیں ملی۔ اندازے سے اس نے خانوں والی الماری کھول کر اس میں ہاتھ مارا تو وہاں اسے ماچس مل گئی۔ دیاسلائی جلا کر اس کے شعلے کی روشنی میں اس نے گھڑی پر وقت دیکھ ہی لیا۔ بارہ بج کر دس منٹ ہو رہے تھے۔ وہ دیواریں ٹٹولتا باورچی خانے سے باہر نکلا اور دھیرے دھیرے چلتا ہوا برآمدے میں اپنی چارپائی تک پہنچا۔ اس نے رات کے پالے سے بچنے کے لیے بستر سے چادر اتار کر اپنے گلے میں ڈال لی۔ پھر تکیے کو بستر کے درمیان رکھ کر اسے رضائی میں چھپا دیا تاکہ اگر کمرے سے کوئی باہر نکلے تو ابھری ہوئی رضائی دیکھ کر یہ سمجھے کہ وہ یہاں سو رہا ہے۔ رضائی کا اونچا ابھار بنا کر وہ خاصا مطمئن ہو گیا۔ اس کے بعد وہ دبے پاؤں چلتا ہوا گھر سے باہر نکلنے والے دروازے تک گیا۔ دروازے سے نکلنے کے بعد اس نے کنڈی چڑھا دی اور احتیاط سے چلتا گلی میں نکل گیا۔

 

گلی میں گہرا سناٹا تھا۔ موسمِ زمستاں کی یہ شب کہرآلود تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے آسمان سے یخ بستہ بوندیں برس رہی ہوں۔ ابھی نہر کے پْل تک اسے بہت سی گلیوں سے گزرنا تھا۔ وہ اپنے بے اعتماد قدموں اور بے ترتیب سانسوں کی آوازیں سنتا نپے تلے قدموں سے چلتا رہا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ بہت مرتبہ کی دیکھی بھالی اور دن کے وقت مہربانی سے پیش آنے والی گلیاں آدھی رات کو جانی دشمن کی طرح نظر آ رہی تھیں۔

 

چوکیدار کی سیٹی سن کر وہ ہر بارچونک جاتا تھا۔ اسے محسوس ہوتا کہ وہ برابر والی گلی سے گزر رہا ہے۔ وہ اس کے قدموں کی آہٹ سننے کی کوشش کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہا۔ ہر گلی کے دونوں طرف دیواروں کا طویل سلسلہ تھا۔ ہر موڑ کے بعد نئی دیواریں آ جاتیں اور وہ ان کے بیچ سہما ہوا اور خوف سے لرزتا ہوا قدم بڑھاتا رہا۔

 

ایک ڈھلان کی چڑھائی چڑھنے کے بعد وہ نہر کے کنارے پر پہنچ گیا۔ تیز چلنے کی وجہ سے اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ قصبے کی آبادی سے نکل کر کھلی فضا میں آتے ہی اسے سردی زیادہ محسوس ہونے لگی۔ وہ درختوں کی قطار کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ اس کی نظریں پْل پر جمی ہوئی تھیں جو دور سے دھند اور کہرے میں لپٹا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے نہر کے پانی کی سطح پر چمکتے ہوئے ستاروں کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے پانی میں موتی جگمگا رہے ہوں۔ رات کے اس پہر پْل ویران لگ رہا تھا۔ اس نے ٹھٹھرتے ہوئے تیزرفتاری سے چل کر پل عبور کیا۔ پل سے نیچے اتر کر اسے تھوڑی دور چلنے کے بعد دائیں جانب کی جھاڑیوں سے گاڑھا دھواں اْٹھتا ہوا دکھائی دیا۔ دھواں دیکھتے ہی وہ ٹھٹک کر رک گیا۔ اس نے چرس کی مخصوص خوشبو کو پہچان لیا تھا۔ وہیں کھڑے کھڑے وہ دھیرے سے کھنکارا تو اسے جھاڑیوں میں سے کسی کے کھانسنے کی آواز سنائی دی۔ کھانسی کی آواز پہچانتے ہوئے وہ جھاڑیوں کی طرف چلا گیا۔ وہاں نورل جوگی اس کا انتظار کرتے ہوئے چرس کی سلفی پینے میں مگن تھا۔

 

اس کے جی میں آیا کہ وہ دروازے کو دھکا دے کر اسی لمحے کھول دے اور اپنی آنکھوں سے انہیں قابلِ اعتراض حالت میں دیکھے۔ مگر اگلے ہی ثانیے وہ دروازے سے ہٹ گیا اور ٹہلتا ہوا برآمدے سے صحن میں آ گیا۔
رات کے اس پہر ہوا مکمل طور پر بند تھی۔ تمام چیزوں پر سکوت طاری تھا۔ آسمان کی چاروں انتہاؤں سے یخ بستگی زمین پر ٹپک رہی تھی اور دھیرے دھیرے ساری فضا میں پھیل رہی تھی۔ نذیر محسوس کر رہا تھا کہ اس کے کپڑے بھی آسمان سے گرتی اوس سے بھیگنے لگے تھے اور اس کی ناک کے نتھنوں میں سانسیں جم رہی تھیں۔ اس کے باوجود پکوڑافروش کی فراخدلانہ پیشکش ٹھکراتے ہوئے اس نے سلفی پینے سے انکار کر دیا۔ اس کے انکار کے بعد نورل جوگی نے بھی اصرار نہیں کیا۔ وہ نشے کی کثرت کے باوجود بچے رہ جانے والے اپنے ہوش وحواس کو بروے کار لاتے ہوئے نذیر کو گوٹھ میں واقع شمیم کے مکان کا حدوداربعہ سمجھانے لگا۔

 

“وہ دیکھو۔۔۔ اْس طرف! ہاں، وہ جو سیمنٹ سے بنی ہوئی صاف ستھری عمارت ہے نا، وہ ہمارے گوٹھ کی یونین کونسل ہے۔ کبھی بھول کر بھی اس کے قریب سے مت گزرنا۔ یونین کونسل کا چوکیدار شام ڈھلتے ہی اس کے باہر کتے چھوڑ دیتا ہے۔ بڑے مادرچود کتے ہیں وہ۔ ایک بار انھوں نے میری پنڈلی بھی نوچ کھائی۔ میں پورے چار مہینے چارپائی پر لیٹا رہا تھا۔ اچھا؟ ہاں، اس یونین کونسل سے کچھ آگے ہاریوں کی جھونپڑیاں ہیں۔ یہ سب کے سب ہاری گل پانگ قبیلے سے ہیں۔ گل پانگ پورے خیرپور میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی عورتیں ضلع بھر میں مشہور ہیں۔ ہر سال ہمارے جوگیوں کا بھی بہت سا روپیہ ان پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اگر تمھاری ٹھرک بڑھ جائے تو بتانا۔” بات کرتے کرتے وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگا۔

 

نذیر دیکھ رہا تھا کہ پکوڑافروش دن بھر قصبے میں جوتیا ں چٹخانے کے بعد اس وقت تھکن سے چور تھا اور نشے کی زیادتی کی وجہ سے اس کے اعصاب مضمحل لگ رہے تھے۔

 

اس نے مسکراتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔ “یہ گل پانگ ہم جوگیوں کی عزت پر داغ ہیں۔ مگر ہم کیا کر سکتے ہیں؟ کچھ بھی نہیں کر سکتے! ان بھڑووں کو اپنے گوٹھ سے نہیں نکال سکتے کیونکہ ہمارے وڈیرے ایک نمبر کے رنڈی باز ہیں۔”
اس کی بے تکی باتیں سن کر نذیراونگھنے لگا تھا۔ اس نے ماچس کی تیلی جلا کر گھڑی پر وقت دیکھا۔ نورل سے چرس کا سگریٹ بنانے کی درخواست کرتے ہوئے اس کے دانت کٹکٹانے لگے تھے۔ اس کی آنکھیں شدید تکان کے سبب بند ہو رہی تھیں۔

 

اسے محسوس ہو رہا تھا کہ بہت مرتبہ کی دیکھی بھالی اور دن کے وقت مہربانی سے پیش آنے والی گلیاں آدھی رات کو جانی دشمن کی طرح نظر آ رہی تھیں۔
نورل جوگی کے ہاتھوں نے چابک دستی سے سگریٹ بنا کر اس کی طرف بڑھایا۔ نذیر نے اسے دیاسلائی سے سلگاتے ہوئے ایک زوردار کش لگایا۔ سگریٹ پینے کے بعد وہ خود کو بہتر محسوس کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے پوری طرح اپنے ہاتھ پھیلا کر انگڑائی لی اور اس کے بعد ڈنڈ نکالنے لگا۔

 

وہ رات کے اس پہر ویران سڑک پر چلنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔ جھاڑیوں کے ساتھ ہی گنے کے کھیت واقع تھے۔ وہ جھاڑیوں کے بیچ چلتے چلتے گنے کے کھیتوں میں داخل ہو گئے۔ گنے کے قدآور پودے ان کے جسموں سے ٹکرا ٹکرا کر دھیما سا شور مچانے لگے۔ نورل نے اس کے پاس آ کر سرگوشی میں کہا، “تمام گوٹھوں کے عاشقوں کے لیے کماد کی فصل خدا کی طرف سے ایک انمول تحفہ ہے۔”

 

یہ بات سن کر نذیر خود کو ہنسنے سے نہ روک سکا۔

 

گنے کی فصل میں کچھ دور تک چلنے کے بعد وہ رک گئے۔ انھوں نے فصل سے باہر سر نکال کر اِدھراْدھر دیکھا، پھر احتیاط سے دبے پاؤں چلتے ہوئے گاؤں کی طرف جانے والا راستہ پار کیا اور تیزی سے پرلی طرف کے کھیت میں گھس گئے۔ چلتے چلتے نذیر کی چپلیں گیلی مٹی لگنے کی وجہ سے بھاری ہو گئی تھیں۔ مزید آگے جا کر پانی بہنے کی سرسراہٹ سنائی دی۔ یہ آواز پانی کے نالے سے آ رہی تھی۔ کچھ دور جانے کے بعد انہیں وہ نالہ دکھائی دینے لگا۔ سیمنٹ سے بنے ہوئے اس نالے کے پاس جا کر فصل ختم ہو جاتی تھی۔

 

نورل نذیر کو نالے کے پاس، شیشم کے ایک درخت کی اوٹ میں کھڑا ہونے کا مشورہ دے کر غائب ہو گیا۔ نذیر پگڈنڈی پر تیزی سے چلتے اس کے پیروں کی دھپ دھپ سنتا رہا۔ اس کے بعد وہ گردوپیش نگاہ ڈال کر آہستہ آہستہ چلتا شیشم کے پیڑ کی اوٹ میں جا کھڑا ہوا۔ کچھ دیر بعد وہ کھڑا رہ رہ کر تھک گیا تو نالے پر جا کر بیٹھ گیا۔ نالے کا سیمنٹ اس وقت یخ ہو رہا تھا۔

 

گل پانگ پورے خیرپور میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی عورتیں ضلع بھر میں مشہور ہیں۔ ہر سال ہمارے جوگیوں کا بھی بہت سا روپیہ ان پر خرچ ہو جاتا ہے۔
گوٹھ کے مکانوں کا پچھلا حصہ اس کی نظروں کے سامنے تھا۔ وہ ان مکانوں میں شمیم کا مکان تلاش کرنے لگا۔ اسے یقین تھا کہ بائیں طرف بنے ہوئے تین پختہ مکانوں میں سے ایک میں شمیم رہتی تھی۔ کپاس کی لکڑیوں اور شرینہہ کے پیڑوں کے سایوں کی وجہ سے وہ ان مکانوں کے دروازے نہیں دیکھ سکا۔

 

وہ شیشم کے جس طویل قامت پیڑ کے نیچے کھڑا تھا اس نے جب اس کے موٹے سے تنے کو دیکھا تو اس کے رگ و پے میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ بچپن میں سنے ہوئے بھوتوں اور چڑیلوں کے قصّے اسے یاد آنے لگے۔ وہ زمین پر پھیلے ہوئے اس درخت کے سائے کو دیکھتا رہا۔

 

نجانے کیوں باربار اس کا دل کہہ رہا تھا کہ وہ اس سے ملنے یہاں نہیں آئے گی، مگر اس کے باوجود وہ دیر تک وہاں سر جھکائے بیٹھا رہا۔ اس نے گھڑی پر وقت بھی نہیں دیکھا۔ اسے اندازہ تھا کہ اب شاید رات کے دو بجنے والے ہوں گے۔ وہ اپنے تخیل کی مدد سے سوچنے لگا۔ “شاید وہ اپنے کمرے سے باہر آ گئی ہو مگر اپنے شوہر کو دھوکا نہ دینا چاہتی ہو اور برآمدے میں ٹہلتی ہوئی کوئی فیصلہ کرنے کی کوشش میں ہو۔”

 

اچانک ایک لرزا دینے والے خیال نے اس کے خوف میں اضافہ کر دیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کہیں پکوڑافروش نے اسے کوئی فریب نہ دیا ہو؛ کہیں اس کی سنائی ہوئی ساری باتیں جھوٹی نہ ہوں اور کہیں اس نے اس کے خلاف کوئی سازش تیار نہ کر رکھی ہو۔ اس کا ذہن مختلف وسوسوں اور اندیشوں سے بھر گیا۔ اسی کیفیت کے زیرِاثر وہ سیمنٹ کے نالے سے اْٹھ کر چلتا ہوا کماد کے کھیت میں جا کر چھپ گیا۔ بہت دیر تک وہ وہاں چھپا سامنے کی طرف دیکھتا رہا۔ اس کی نگاہ شرینہہ کے دیوقامت پیڑوں کے سایوں پر جمی تھیں۔

 

اچانک اسے کسی کے قدموں کے نیچے کپاس کی سوکھی لکڑیوں کے کچلنے کی دھیمی دھیمی سی چرمراہٹ سنائی دی۔ اس کے بعد اس نے چاندنی میں وہاں ایک سائے کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔ وہ اطمینان کا سانس لیتے ہوئے گنے کی فصل سے باہر نکلا اور شیشم کے درخت کے پاس کھڑا ہو گیا۔ اب وہ واضح طور پر دیکھ رہا تھا کہ شمیم ہولے ہولے قدم اٹھاتی اس کی طرف بڑھتی آ رہی تھی، مگر چلتے چلتے وہ اچانک کھڑی ہو گئی۔ چادر میں لپٹی ہوئی شمیم نے اسے اشارہ کرتے ہوئے اپنی طرف بلایا۔ اس کے اشارے پر وہ حواس باختگی سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا تیزی سے اس کے قریب پہنچا۔

 

شمیم لجاتے اور کسمساتے ہوئے اس سے مخاطب ہوئی۔ “نزدیک ہی ایک محفوظ جگہ ہے۔ آؤ چل کر وہاں بیٹھتے ہیں۔”

 

سردیوں کی رات کے گہرے سکوت میں اس کی آواز نذیر کو کسی شیریں نغمے جیسی محسوس ہوئی۔ وہ اس کی آواز کی تعریف کرنا چاہتا تھا مگر سر جھکائے چپ چاپ اس کے پیچھے چلنے لگا۔ سردی کے سبب اس کا جسم کپکپا رہا تھا۔ اس کے بند ہونٹ ہل رہے تھے۔ وہ آگے چلتی، کپڑوں میں سمٹی ہوئی عورت کو دیکھ رہا تھا جو بے آواز قدم اٹھاتی چل رہی تھی۔
کچھ دور جا کر وہ ٹھہر گئی۔ اسے دیکھ کر نذیر بھی رک گیا۔ نذیر نے جگہ کے انتخاب کی بہت تعریف کی۔ شمیم اسے بتانے لگی کہ اسے اس علاقے کے چپے چپے کی خبر تھی۔

 

نورل نے اس کے پاس آ کر سرگوشی میں کہا، “تمام گوٹھوں کے عاشقوں کے لیے کماد کی فصل خدا کی طرف سے ایک انمول تحفہ ہے۔”
آج بھی اس نے اپنا چہرہ نقاب میں چھپایا ہوا تھا۔ اندھیرے کے سبب وہ اس کی تاب ناک آنکھوں کو نہیں دیکھ سکا۔ اس کے جسم کا کوئی حصہ بھی چادر سے باہر نہیں تھا۔

 

کچھ دیر بعد اس نے دو قدم پیچھے ہٹاتے ہوئے اپنے چہرے سے نقاب اْتار دیا۔

 

نذیر بہت غور سے اسے دیکھنے لگا۔ وہ زیادہ خوبصورت نہیں تھی مگر اس وقت اسے بیحد پر کشش محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سندھی گانوں کی مدد سے اس کی تعریف کرنے لگا۔ اس کے چہرے کو چاند اور آنکھوں کو ستاروں سے تشبیہ دینے لگا۔ ایک نوجوان لڑکے سے اپنی تعریفیں سن کر شمیم مسکرانے لگی۔ وہ کئی برسوں کے بعد کسی کے ہونٹوں سے اپنی اتنی تعریف سن رہی تھی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ وہ اسے اپنی معمولی زندگی کی معمولی سی باتیں مزے لے لے کر سنانے لگی۔
نذیر کو حیرت ہو رہی تھی کہ اب تک اس نے اپنے شوہر کے خلاف کوئی جملہ نہیں کہا تھا، جبکہ پکوڑافروش نے اسے بتایا تھا کہ ان دونوں کے تعلقات ٹھیک نہیں چل رہے۔

 

شمیم کو نذیر سے ملاقات کے لیے جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا وہ ان کا بیان مبالغہ آرائی سے کرتی رہی۔ اس کی گنگناتی آواز سنتے ہوئے وہ اپنی تمام اذیت بھول گیا۔ وہ صرف اس کی صورت دیکھتا اور اس کی باتیں سنتا رہا۔ اس نے اس کے نزدیک کھڑے ہو کر اس کے بالوں کی مانگ کو دیکھا، پھر اس کی پیشانی اور اس کی آنکھوں کو، اس کے بعد اس کے ہونٹوں اور گالوں کو۔ اس نے اس کی جلد کی سفید رنگت کو دیکھا۔ اس کی کلائی کی چوڑیوں کو دیکھا جو باربار خودبخود کھنک پڑتی تھیں۔ اس کا مترنم اور دھیما لہجہ اس پر فسوں طاری کر رہا تھا۔ اوڑھی ہوئی چادر کے باوجود اس کے سینے کا ابھار صاف دکھائی دے رہا تھا۔

 

شمیم بھی اس کی نظروں سے غافل نہیں تھی۔ وہ اس کی نگاہوں کی خاموش تعریف سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ اچانک کسی احساس کے زیرِاثر اس کے لہجے کی بے ساختگی ختم ہو گئی اور وہ اٹک اٹک کر باتیں کرنے لگی۔

 

نذیر کے لیے یہ لمحات اس کی زندگی کے سب سے زیادہ مسرور لمحات تھے۔ ایک شادی شدہ جوان خاتون اس کے پہلو میں تھی اور اس کی خاطر اپنی جان داؤ پر لگا کراس سے ملنے آئی تھی۔ وہ دونوں آنے والے دنوں میں اپنی ملاقاتوں کے بارے میں گفتگو کرنے لگے۔

 

شمیم کو نذیر سے ملاقات کے لیے جن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا وہ ان کا بیان مبالغہ آرائی سے کرتی رہی۔ اس کی گنگناتی آواز سنتے ہوئے وہ اپنی تمام اذیت بھول گیا۔
شمیم نے اسے بتایا کہ آئندہ اس کے لیے رات کے وقت کھیتوں میں آنا ممکن نہیں ہو گا۔ وہ خوفزدہ تھی۔ اس نے کہا کہ وہ اس سے ملنے کے لیے کوئی اور بندوبست کرے گی۔ اس نے اپنے دل میں امڈتی ہوئی محبت کا اظہار کیا اور نذیر کی تعریفیں کرنے لگی۔ وہ مسکرایا اور اس نے موج میں آ کر، آگے بڑھ کر شمیم کو اپنے بازوؤں میں لے لیا۔ اس نے پہلی بار نسوانی جسم کے اضطراب اور اس کی نرمی کو اپنے بازوؤں میں مچلتے محسوس کیا۔ اسے لگا کہ وہ ریشم کے نرم و ملائم تھان سے لپٹ گیا ہے۔ وہ اس کے بازوؤں میں کسمسانے لگی۔ اس کے بدن سے اٹھتی کسی عطر اور پاؤڈر کی خوشبو اسے بے حد مسحورکن محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے پہلابوسہ اس کے داہنے ہاتھ پر دیا، وہ جس کی مدد سے اپنا چہرہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ نذیر نے اپنے ہاتھوں سے اس کے دونوں ہاتھ ہٹا کر اس کے نرم ہونٹوں کو چومنے لگا۔ وہ ان لمحوں کے ذریعے اپنی زندگی بھر کی محرومی کو سیراب کرنا چاہتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اسے نجانے کیا ہوا کہ وہ اس کی چادر کو چومتے چومتے اس کے سینے سے نیچے آیا اور اس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔

 

شمیم گڑبڑا گئی۔ اس نے اس کے بوسوں کے خلاف برائے نام مزاحمت کی۔ اس نے اپنے نوآموز عاشق کے وحشی پن کا برْا نہیں مانا اگرچہ اس کے تیزوتند بوسوں نے اس کے انگ انگ میں ہیجان برپا کر دیا تھا۔ نذیر بھی اپنے آپ میں نہیں تھا۔ وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ کر اس کی ٹانگوں کو بھینچتا رہا۔ اس صورتِ حال میں شمیم کو خود کو سنبھالنے کا موقع مل گیا۔

 

کچھ دیر بعد وہ زمین سے اٹھا اور اس نے دوبارہ اس کی کمر کے گرد بازو ڈالنے کی کوشش کی مگر اس مرتبہ وہ پیچھے ہٹ گئی۔ اس نے دھیمے لہجے میں اسے سرزنش کی۔

 

عورت کے جسم سے پہلی ہم آغوشی نے نذیر کو نشے سے چْور کر دیا تھا۔ وہ اس کے ہم راہ زمین پر اگی ہوئی گھاس پر، گنے کے کھیتوں میں، شیشم کے پیڑ کے نیچے، غرض ہر جگہ بوس و کنار کرنا چاہتا تھا، اس کے جسم کو آغوش میں لے کر رقص کرنا چاہتا تھا، مگر شمیم نے اگلے ہی ثانیے اسے دھکا دے کر سب کچھ ختم کر دیا۔ وہ نذیر پر طاری ہونے والی پیار کی وحشت سے خوفزدہ ہو گئی تھی۔ اس سے الگ ہوتے ہی وہ اپنی بپھری ہوئی سانسوں کو سنبھالنے لگی۔ نذیر نے اس کے قریب آ کر اس سے اپنے رویے پر معذرت کی تو وہ مسکرانے لگی۔

 

اگلے ہی لمحے اس نے اپنارخِ روشن نقاب میں چھپا لیا۔ نذیر سے مخاطب ہو کر اس نے اسے”اللہ وائی” کہا اور اس کے بعد پلٹ کر سبک خرامی سے چلتی ہوئی، دیوقامت شرینہہ کے درختوں کے سائے میں غائب ہو گئی۔

 

عورت کے جسم سے پہلی ہم آغوشی نے نذیر کو نشے سے چْور کر دیا تھا۔ وہ اس کے ہم راہ زمین پر اگی ہوئی گھاس پر، گنے کے کھیتوں میں، شیشم کے پیڑ کے نیچے، غرض ہر جگہ بوس و کنار کرنا چاہتا تھا
اس کے جانے کے فوراً بعد نذیر کو احساس ہوا کہ شاید اس نے اپنے رویے سے اسے سہما دیا۔ اپنے احمقانہ رویے کی تلافی کی خاطر اس نے اسے آواز دی مگر اس کی آواز گوٹھ کے مکانوں کے درودیوار سے ٹکرا کر واپس آ گئی۔ وہ دیر تک وہیں پر مبہوت کھڑا اسی سمت دیکھتا رہا، کچھ دیر پہلے وہ جس طرف گئی تھی۔

 

گھر سے گوٹھ ہاشم جوگی کی جانب آتے ہوئے خوف کے سبب نذیر کے رگ و ریشے میں جو کپکپی طاری تھی، واپس جاتے ہوئے اس کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ آتے ہوئے اسے جو راستہ طویل اور لامتناہی محسوس ہو رہا تھا، واپسی پر اسے پتا ہی نہیں چلا اور وہ سبک روی سے چلتا ہوا گھر تک پہنچ گیا۔

 

(جاری ہے)