Categories
فکشن

انار گلے (حمزہ حسن شیخ)

اپنے نام کی طرح ، وہ واقعی انار کی کلی تھی، بہت ہی نازک، خوبصورت اور دل موہ لینے والی۔ یہ اس کا اصل نام تھا یا اسے اس نام سے پکارا جاتا تھا۔ کوئی بھی اس بارے میں نہیں جانتا تھا۔ بچپن سے ہی ، وہ اناروں سے کھیل رہی تھی، اس لیے سب نے سوچا کہ قندھاری اناروں کا سرخ رنگ، چمک دمک اور تازگی اس میں سرایت کر گئی تھی اور اس کی شخصیت بھی اس رنگ میں رنگ گئی تھی۔ شاید، اس میں کچھ حقیقت بھی تھی۔ اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ وہ قندھار سے ہی تعلق رکھتی ہے اور واقعی اس کے والدین نے اس کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے وہاں سے ہجرت کی تھی ۔ اس کا باپ پھلوں کا بیوپاری تھا اور قندھار سے وزیرستان انار درآمد کرتا تھا۔ اگرچہ اس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ یا اس کاروبار کا اجازت نامہ تو نہ تھا مگر ان دنوں کسی کی اجازت کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔ اناروں کی بند پیٹیاں قندھار سے خوست لائی جاتیں اور وہاں سے مختلف پہاڑی راستوں سے ان کو وزیرستان سمگل کیا جاتا جہاں راستے میں کوئی سیکیورٹی روکاوٹ نہ تھی۔ یہی ان کا روزگار تھا اور اس کا باپ اس کا کاروبار کا سب سے بڑا تاجر تھا۔ ان کے دن بہت خوشحال اور خوش کن تھے۔ زندگی اتنی ہی تروتازہ تھی جتنی ان پیٹیوں میں بند انار۔ کاروبار پھیلنے کے ساتھ ساتھ ، اس کے باپ نے بھی وزیرستان میں مستقل سکونت اختیار کر لی اور ان کو ہجرت کر کے یہاں بسنے میں کوئی روکاوٹ پیش نہ آئی۔ علاقہ سارا ایک جیسا تھا، سر سبز و شاداب پہاڑوں سے بھرپور ، اونچے اونچے درخت اور موسم سرما میں جب وہاں پر برف باری ہوتی تو سارے پہاڑ برف سے اٹ جاتے۔ وہ انہی اونچے پہاڑوں پر زندگی بسر کر رہے تھے۔ گھر کی کوئی دیوار نہ تھی لیکن دو کمروں پر مشتمل گھر کے سامنے ایک چھوٹا سا صحن تھا جس کے ایک طرف لکڑی کے خالی ڈبے پڑے تھے جن میں انار پیک کر کے ان کو بھیجے جاتے تھے۔

انار گلے کے چہرے پر قندھار کی خوبصورتی چھلکتی تھی۔ وہ کپاس کی طرح نازک تھی۔ اگر اس کی جلد کو چھوا جاتا تو نشان پڑ جاتے ۔ وہ ہمیشہ لمبے لمبے گھاگھرے پہنتی جو مختلف قسم کے سکوں سے سجے ہوتے اور ہر وقت ماحول ان کی جھنکار سے گونجتا رہتا۔ جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئی، اس نے اپنے اردگرد انار ہی انار پائے۔ وہ ان سے کھیلتی اور رسیلے انار کھاتے کھاتے بڑی ہونے لگی۔ جب وہ سمجھدار ہوئی تو ماں نے اس کو بھی اپنے ساتھ کام میں لگا لیا اور اب وہ والدین کی مدد کے لیے ان کا ہاتھ بٹانے لگی۔ زیادہ تر وہ ہی پیٹیاں کھولتی، پھلوں کو پرکھتی ، ان کو معیار کے مطابق تقسیم کرتی اور دوبارہ ان کو پیک کر کے مختلف شہروں کو بھیجا جاتا۔ انار کی جلد اتنی سخت ہوتی کہ یہ لمبے عرصے تک باسی نہ ہو پاتا لیکن کبھی کبھار ذریعہ آمدورفت کی نقل و حرکت اور لمبے فاصلے کے سفر کی وجہ سے یہ خراب یا ضائع ہو جاتے تاہم ان کٹے پھٹے اناروں کا یہ لوگ رسیلا رس نکال کر پینے کے لیے استعمال کرتے۔ انار گلے کے برف کی طرح سفید ہاتھ اب ان اناروں سے رنگ چکے تھے کیونکہ جب بھی وہ ان کو کاٹتی، صاف کرتی تو یہ اس کے ہاتھوں پر نشان چھوڑ جاتے۔

زندگی اپنی موج میں رواں تھی کہ اچانک روس اور افغانستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور ساتھ ہی اناروں کی نقل و حرکت بھی بند ہو گئی۔ اس کے باپ نے ہاتھوں میں بندوق پکڑی اور ایک دن ان کو اکیلا چھوڑ کر روس کے خلاف لڑنے نکل گیا۔ ان کو اسے روکنے کا موقعہ تک نہ ملا اور وہ جہاد کرنے کے لیے پہاڑوں کے پیچھے گم ہو گیا۔ زندگی مشکل ہو گئی اور اس کی ماں نے پیٹ بھرنے کے لیے کوئی اور کام شروع کرنے کا سوچ لیا اور وہ سلائی کڑھائی کا کام کرنے لگی تاکہ گھر چلانے کے لیے کچھ پیسوں کا بندوبست ہو سکے جبکہ وہ اسی مقصد کے لیے دھاگے رنگنے کا کام کرنے لگی۔ اس کے ہاتھ دوبارہ کئی رنگوں سے رنگ گئے تھے لیکن ان سے اناروں کی خوش کن بو نہیں آتی تھی اور انار گلے باسی انار کی طرح مرجھا گئی تھی۔ وہ اناروں سے ا تنی مانوس ہو چکی تھی کہ کبھی بھی یہ کاروبار نہ چھوڑتی لیکن اب اور کوئی راستہ بھی نہ تھا۔

ایک سال سے زیادہ عرصہ بیت گیا مگر اس کا باپ واپس نہ آیا اور وہ بالکل مایوس ہو گئے۔ اس کی کوئی خیر خبر نہ تھی اور نہ ہی دوسری طرف کے تاجر نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ جنگ زوروں پر تھی اور ان کو توپوں کی گھن گرج اپنے گھر میں صاف سنائی دیتی تھی۔ کبھی کبھار تو ان کو سرحد پار سے، پہاڑوں کے پیچھے سے دھواں بھی اٹھتا دکھائی دیتا۔ وہ سرحد کے ساتھ ہی زندگی گزار رہے تھے اس لیے یہ آوازیں ان کو بآسانی سنائی دیتیں۔ کبھی کبھار تو ان کو اپنے قدموں تلے زمین بھی لرزتی محسوس ہوتی اور زوردار دھماکوں کی وجہ سے کھڑکیاں اور دروازے بھی بجنے اور لرزنے لگتے۔ یہ بہت خوفناک صورت حال تھی اور اکثر رات کو، ایسا دکھائی دیتا جیسے آسمان پر آتش بازی ہو رہی ہو۔ شدید فائرنگ اور بمباری سے ان کی رات کی نیند جاتی رہتی اور وہ کئی کئی راتوں سو نہ پاتے۔ کوئی ایسا گھنٹہ نہ تھا جب دوسری جانب کوئی میزائل نہ گرتا۔ کئی بار وہ پہاڑوں پر چڑھتی تو دوسری طرف کا دھندلا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتا۔ اگرچہ وہاں سے کئی میلوں کا فاصلہ تھا لیکن شور شرابہ، آگ اور دھواں اس کے منظر کو واضح کر دیتے ۔ وہ ہمیشہ اپنے بابا کو نہ پا کر مایوس ہو کر نیچے اترتی ۔ ان کے کوئی ہمسائے نہ تھے لیکن کچھ فاصلے پر، مختلف چوٹیوں پر کچھ گھر ضرور تھے اور اکثر گھروں کے سامنے لمبے لمبے صحن یا پھلوں کے باغات تھے۔

ابھی جنگ جاری تھی کہ سرحد پار سے لوگ ان کے گائوں میں داخل ہونا شروع ہو گئے جن میں سے خاصی تعداد مجاہدین کی بھی تھی کیونکہ ان کے اجسام ہتھیاروں سے سجے تھے اور ان کے لمبے لمبے بال اور لمبی لمبی دڑاھیاں تھیں۔ سرحد کے اس پار لوگوں نے گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا اور ان کو گاوں کے مہمانوں کے طور پر عزت بخشی گئی اور انہیں خوراک ، رہائش اور تمام سہولیات مہیا کی گئیں۔ اس کا باپ واپس نہ آیا تھا اور انہیں یقین ہو گیا کہ وہ آگ اور جنگ کی تاریک راہوں میں کھو گیا تھا۔ زندگی اپنی سمت تبدیل کرنے لگی اور جیسے جیسے دن گزرتے چلے گئے۔ کوئی کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے ان کے دن غربت میں بدلنے لگے اور ماضی کے سارے حسین سپنے محو ہو گئے ۔ بوڑھی اور غریب حال ماں نے موت سے پہلے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے سہارا چاہتی تھی جس نے ان سنگلاخ چٹانوں میں بغیر کسی کمائی کے ساری زندگی گزارنی تھی۔ اس نے اپنے کچھ رشتہ داروں اور گائوں کے بڑوں سے مشورہ کیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ مہاجرین میں سے کسی نوجوان سے اس کی شادی کر دی جائے۔ چونکہ وہ اکیلی تھی اس لیے اسے ایک سہارا چاہیے تھا جبکہ سرحد پار سے آنے والا شخص بھی بے گھر اور اکیلا تھا اور اس اجنبی کو بھی یہاں ایک ٹھکانہ چاہیے تھا اس لیے دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب سمجھا گیا اور انار گلے کی شادی ایک ازبک لڑکے سے کر دی گئی جو بہت خوبصورت اور نفیس تھا لیکن اس کے لمبے بال اور بے ترتیب دڑاھی اس کو خوفناک بناتی تھی۔ دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے اور وہ دونوں زبانوں کے فرق کے باوجود ایک دوسرے کو سمجھنے لگے تھے۔ اس کا حسن بے مثال تھا اور وہ ابھی بھی تازہ اور سرخ انار کی طرح تر و تازہ نظر آتی تھی۔ اس کا خاوند اپنے دوستوں کے ساتھ گپ شپ اور گھومنے پھرنے کے علاوہ کچھ نہ کرتا۔ پورے خاندان کے اخراجات ماں بیٹی کی کمائی پر تھے۔ وہ دونوں کام کر کے گھر کے مرد کو بھی پال رہی تھیں۔ دن گزر رہے تھے اور جنگ کے شعلے آہستہ آہستہ کم ہو رہے تھے۔ ایک دہائی تک لڑنے کے بعد، روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور جنگ میں شکست کھانے کے بعد واپس اپنے ملک لوٹ گیا۔ ان دنوں مختلف ممالک کے مجاہدین یہاں رہتے تھے اور ان کو دوسرے مجاہدین سرحد پار روس کے خلاف جہاد کے لیے تربیت دیتے تھے۔ انار گلے کا خاوند بھی تربیت دینے والوں میں شامل تھا جو دوبارہ جہاد کرنے نہیں گیا تھا اور یہاں ٹھہر گیا تھا۔ ان میں سے بہت سے جہاد کے لیے واپس افغانستان چلے گئے جبکہ جنہوں نے یہاں شادیاں کر لی تھیں، وہ ہمیشہ کے لیے یہاں بس گئے ۔ جیسے ہی جنگ کی آگ ٹھنڈی ہوئی اور ماحول میں بارود کی بو کم ہونا شروع ہوئی اور مہاجرین کو اپنی جان و مال کا تحفظ محسوس ہوا تو انہوں نے اپنے تباہ شدہ گھروں کو واپس جانا شروع کر دیا۔

انار گلے زیادہ تر اپنے کام میں مصروف رہتی ۔ اس کا خاوند ان دنوں بالکل فارغ تھا کیونکہ اکثر مجاہدین یہیں بس گئے تھے۔ پورے علاقے میں امن تھا اور اب بمباری کا شور شرابہ ان کی سماعتوں میں خلل نہ ڈالتا۔ انہی دنوں، انار گلے جڑوں بیٹوں کی ماں بن گئی جو اس کی طرح خوبصورت بالکل سرخ سرخ اناروں کی طرح تھے۔ وہ بچوں کے ساتھ مصروف ہو گئی جبکہ اس کا خاوند اپنے دوستوں کے ساتھ باہر گھومتا پھرتا ۔ وقت برقی ٹرین کی سی تیزرفتاری سے رواں تھا کہ ایک دن ایک آدمی ان کے گھر پرانے تاجر کا پیغام لیکر آیا جس کے ساتھ وہ اناروں کا کاروبار کر رہے تھے۔ آنے والے نے اس کے باپ کے بارے میں دریافت کیا لیکن اس کی تو کوئی خبر نہ تھی اس لیے اس کی ماں اس شخص کو ملی۔ انار گلے اس شخص کا پیغام سن کر انار کی طرح کھل اٹھی اور سرخ و تر و تازہ انار اس کی آنکھوں کے سامنے جھلکنے لگے۔ وہ دوبارہ یہ کام شروع کرنے پہ رضا مند ہو گئی جبکہ اس کی ماں پریشان و حیران دکھائی دیتی تھی کیونکہ وہ نئے کام میں مصروف ہو چکی تھی لیکن انار گلے یہ کام دوبارہ شروع کرنے پر پرجوش تھی۔ شاید اس کا نام اسے یہ کام کرنے پر اکسا رہا تھا۔ اس نے اپنے خاوند کو راضی کیا اور اس نے بھی وعدہ کیا کہ وہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ اس نے اپنے خاوند کو اس کاروبار کے ماضی کی ساری کہانی سنائی ۔ انہوں نے اس آدمی کو اس یقین دہانی کے ساتھ بھیج دیا کہ وہ ان کے ساتھ کام کریں گے۔ اب سارے راستے اب کھل چکے تھے اور جنگ کے شعلے ٹھنڈے ہو چکے تھے۔ جلد ہی کاروبار دوبارہ شروع ہو گیا اور اس کا خاوند بھی باقاعدگی سے اس میں شامل ہو گیا۔ انار گلے دوبارہ سرخ اناروں میں گھیر گئی جنہوں نے اسے خوبصورت اور تر وتازہ بنا دیا جیسی وہ بچپن میں تھی۔ اگرچہ جنگ ختم ہو چکی تھی لیکن ابھی بھی اس کے خاوند کے کندھے پر بندوق جھولتی رہتی جس پر وہ فخر محسوس کرتا اور یہ عمل اسے سکون دیتا جیسے وہ جنگ کا فاتح ہو۔ زندگی پر سکون راہ پر گامزن ہو گئی اور حکومت ان مہاجرین کی دیکھ بھال میں مصروف ہو گئی لیکن دنیا کے اس کونے کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا اور لوگ یہاں کے شہری بن کر خوش وخرم ہو گئے۔

کاروبار پھلنے پھولنے لگا اور اس کا خاوند اس کا بازو تھا۔ اکثر لوگوں کے ساتھ بات چیت وہ کرتا جو پھلوں سے بھرے بکس لے کر سرحد پار سے آتے۔ ہمیشہ انارگلے ہی ان کی جانچ پڑتال کرتی اور پھر معیار کے مطابق یہ فروخت کے لیے مختلف تاجروں کے پاس بھیجے جاتے۔ سال گزرے اور اب ان کے بچے بھی بڑے ہو گئے تھے جو کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانے لگے ۔ زندگی اپنی دھن میں رواں دواں تھی کہ سرحد پار ملک پر ایک بار پھر سے حملہ ہو گیا لیکن اس بار حملہ آور مختلف تھا۔ سرحد پار سے ایک بار پھر مہاجرین کی تعداد بڑھنے لگی اور کاروبار دوبارہ ٹھپ ہو گیا۔ اس کا خاوند بھی بندوق لے کر غائب ہو گیا جس طرح برسوں پہلے اس کا باپ ہوا تھا۔ زندگی مفلسی کا شکار ہو گئی اور اسے یقین تھا کہ وہ بھی اس کے باپ کی طرح کبھی واپس نہیں آئے گا جو ان کوہمیشہ کے لیے اکیلا چھوڑ گیا تھا۔ لیکن اس کا یہ وہم حقیقت میں نہ بدلا اور اس کی توقعات کے برعکس وہ واپس آ گیا۔ آتے ہی اس نے انار گلے کو بتایا کہ اب وہ کاروبار کی دیکھ بھال کرے گااور اس کے بیٹے اس کی مدد کریں گے۔ اگرچہ اس کا دل کبھی بھی اس کاروبار سے دور رہنے پر تیار نہ تھا لیکن خاوند کی خواہش پر، اس نے خود کو کاروبار سے علیحدہ کر لیا اور گھر کے معاملات میں مصروف ہو گئی۔ جنگ ابھی جاری تھی کہ کاروبار دوبارہ شروع ہو گیا اور اس کا خاوند اس میں مصروف ہو گیا۔ خاوند کے ساتھ کیے گئے وعدے کے مطابق اس نے کبھی بھی کاروبار میں کوئی مداخلت نہ کی لیکن اب تاجروں کے بجائے زیادہ تر مجاہدین ان کے گھر آتے جاتے اور ماحول میں ان کے قہقہے گونجتے ۔ جنگ کے شعلے کئی زندگیاں نگل رہے تھے اور اس کا خادند نئے مجاہدین کی تربیت میں مصروف رہتا اور ساتھ ساتھ اس نے کاروبار پر بھی اپنا تسلط قائم کر لیا تھا۔ گھر میں مہمانوں کی اتنی آمد رہتی کہ اسے کچن سے ہی فرصت نہ ملتی۔ زیادہ تر وقت وہ کھانا پکانے اور دوسرے گھریلو معاملات میں مصروف رہتی کہ اسے اناروں کی خوشبو تک بھول گئی۔ کبھی کبھار تاجر ان کی طرف چکر لگاتا لیکن یہ پہلے والا نہیں تھا جس کے ساتھ وہ کاروبار کر رہی تھی۔ ایک دفعہ اس نے اپنے خاوند سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ پرانا تاجر اب کاروبار جاری نہیں رکھنا چاہتا تھا اس لیے سرحد پار تاجر کو تبدیل کرنا پڑا۔یہ سادہ سا جواب اس کی تسلی کے لیے کافی تھا۔ جنگ کے دوران، کئی لوگوں نے سرحد پار کی اور مختلف پہاڑوں پر بس گئے جبکہ مجاہدین کے گرووں نے بھی سرحد پار جنگ لڑنے کے لیے سرحد عبور کی۔ کئی دفعہ گشتی جیٹ طیارے گائوں کے اوپر چکر لگاتے رہتے۔ اس صورت حال نے انار گلے کا ذہن بالکل تبدیل کر دیا اور وہ زیادہ تر وقت لوگوں کی دیکھ بھال میں لگی رہتی جو ان کے گھر ٹھہرتے یا ان غریبوں کی مدد کرتی جن کو اس کی ضرورت ہوتی ۔ اس کا صاف اور مہربان دل بھی سرخ انار کی طرح ، ہر کسی کی پیاس بجھانا چاہتا تھا۔ لوگوں کی خدمت کرتے کرتے کئی سال بیت گئے اور اس کے بیٹے جوان ہو گئے۔ اب تو وہ اس سے بھی سر نکالنے لگے تھے۔ وہ اپنے بیٹوں سے بے پناہ محبت کرتی تھی اور وہ ہمیشہ فخر محسوس کرتی جب وہ اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتے۔ چونکہ گائوں میں کوئی اسکول نہ تھا اس لیے وہ تعلیم حاصل نہ کر سکے اور انہوں نے بھی باپ کی طرح مجاہد بننے کے لیے مجاہدین کے ٹرئینگ کیمپ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ یہ بات ہمیشہ انار گلے کو کھٹکتی اور اس کے باپ کی یاد یں ہمیشہ اسے ستاتیں جو کبھی نہ لوٹا تھا اور اس کی ماں اس کا انتظار کرتے کرتے مر گئی تھی۔ وہ جب بھی اپنے بیٹوں کے کندھوں پر بندوق دیکھتی تو ان کو ڈانٹ دیتی لیکن وہ سب اس بات پر فخر محسوس کرتے جبکہ باپ بھی ان کی خوب حوصلہ افزائی کرتا۔ اس نے خبر سنی تھی کہ جنگ ختم ہو چکی ہے لیکن ابھی بھی مجاہدین کی تربیت جاری تھی۔ مہاجرین نے سرحد کی دوسری جانب پہاڑوں سے اترنا شروع کر دیا تھا لیکن سارے کیمپ ویسے کے ویسے ہی قائم و دائم رہے۔

وہ مجاہدین کی تربیت پر حیران تھی، اسے کبھی سمجھ نہ آئی کہ آج کل وہ کہاں جہاد کر رہے ہیں۔ اس نے خاوند سے پوچھنے کی کوشش کی لیکن ہمیشہ کی طرح جھڑک دی گئی۔ کاروبار ابھی بھی جاری تھا۔ انار گلے مخمصے میں تھی اور کچھ بھی جاننے سے قاصر کہ اس کے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ گھریلو معاملات نے اس کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا اور اب وہ پہلے والی انار گلے نہ رہی تھی جو کاروباری معاملات میں ماہر تھی۔ اب وہ کچن تک ہی محدود ہو چکی تھی، جیٹ طیارے ایک بار پھر پہاڑوں پر منڈلانے لگے تھے اور اس نے سنا تھا کہ مجاہدین سے لڑنے کے لیے فوج کی پلاٹونوں کا رخ ان پہاڑوں کی طرف ہے۔ اس نے یہ بھی سناکہ یہ مجاہدین سرحد کے اس پار بھی لڑ رہے تھے اور کئی بار انہوں نےعوامی جگہوں پر خود کو اڑایا تھا۔ اس نے ان کہانیوں پر یقین نہ کیا لیکن ایک دن کچھ خواتین اس کو ملنے آئیں اور بتایا کہ ان پہاڑوں سے بہت دور ، بہت سے شہر ہیں اور وہاں پر بسنے والے لوگ اس لڑائی کی وجہ سے زخمی اور مر رہے ہیں اور وہاں لڑنے والوں کو یہی کیمپ ٹرئینگ دے رہے تھے۔ اسے اس صورت حال پر سبکی محسوس ہوئی کہ سب دہشت گردوں کو اس کا خاوند تربیت دے رہا تھا۔ وہ سارا دن اداس رہی اور رات کو اس نے ساری کہانیاں اپنے خاوند کو سنائیں۔ وہ اس کے الفاظ پر متوجہ رہا لیکن اس نے کسی بھی بات کا اقرار نہ کیا۔ جب اس نے حقیقت جاننے کے لیے شور مچایاتو حسب معمول جھڑکیاں ہی اس کا مقدر بنیں۔
ایک دن دوسرے گاوں سے کچھ رشتہ دار اس کو ملنے آئے۔ انہوں نے اسے بتایا کہ اس کا خاوند مختلف شہروں میں کئی دھماکوں کا ماسٹر مائند ہے اور حکومت کو مطلوب ہے۔ حکومت نے اسے گرفتار کرنے یا مارنے کے لیے آپریشن شروع کیا ہے۔ اس خبر نے اس کو لرزا کر رکھ دیا۔ رشتہ دار اس کو بچانا چاہتے تھے، انہوں نے اصرار کیا کہ وہ یہ جگہ چھوڑ دے اور ان کے ساتھ چلے لیکن وہ چیخ پڑی۔ ’’میں یہ جگہ کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟ یہ گھر ہے میرا۔ میں اسے کیسے چھوڑ وں؟ میں نے زندگی اس کے ساتھ گزاری ہے، چاہے وہ غیر ملکی ہے لیکن پھر بھی میرا خاوند ہی ہے۔ میں اپنے بچے کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟ وہ میرے بیٹے ہیں اور میں ان کی ماں۔ سب کچھ چھوڑ دینا کیسے ممکن ہے؟ــ‘‘ رشتہ داروں نے اسے اپنے ساتھ لے جانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ نہ مانی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے سرحد پار پھٹنے والے بم اب اس کے گھر میں گر رہے ہوں۔ وہ شرمندہ سی تھی کہ اس کا خاوند ایسے گھناؤنے کاموں میں ملوث ہے۔ رات بھر ، وہ سو نہ سکی۔ ہیلی کاپٹر فضا میں گردش کر رہے تھے جبکہ اندھیری رات میں گولیاں برسنے کی آواز گونج رہی تھی لیکن اب ان گولیوں کی آواز کی سمت تبدیل ہو گئی تھی۔ پہلے یہ سرحد کے اس پار مغرب کی سمت سے آتی تھی لیکن اب ملک کے اندر سے مشرق کی جانب سے آ رہی تھی۔ وہ پشمان تھی کہ اپنے خاوند کو بھی نہ پہچان سکی۔ وہ گھر میں تنہا تھی اور اس کا خاوند اور بیٹے ابھی تک کیمپ سے واپس نہیں لوٹے تھے۔ تازہ دستے پہاڑوں سے اتر رہے تھے جو مختلف قسم کی گاڑیوں پر سوار تھے۔ وہ نعرے سن رہی تھی اور اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ وہ خاوند کی آمد کے لیے بے چین تھی کیونکہ اسے اپنے سوالوں کا جواب چاہیے تھا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ جس جنگ کے شعلے وہ بچپن میں سرحد پار دیکھا کرتی تھی، وہی شعلے اس کے گھر کی دہلیز پار کر جائیں گے۔ اس کی آنکھیں آنسووں سے تر تھیں، ’’میں نے ایک اجنبی سے شادی کی جو نہ میرے گائوں کا تھا اور نہ ہی میرے قبیلے کا۔ میں نے اپنی زندگی اس کے نام کر دی اور اپنا سارا کاروبار اس کے حوالے کر دیا۔ اس پر اندھا بھروسہ کیا اور اس نے مجھے اس طرح سے دھوکہ دیا۔ وہ ہزاروں افراد کا قاتل ہے اور اب لوگ میری جانب انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ میں نے تو کبھی بھی کسی کے لیے کچھ برا نہیں سوچا اور ہمیشہ اپنے گھر میں مقید رہی، صرف اس کے لیے اور اس نے سب کچھ مجھ سے چھین لیا، یہاں تک کہ میرا کاروبار اور بیٹے بھی۔ اس نے میرے کاروبار کو بھی اپنے وحشی کرتوتوں سے خونی دھندے میں تبدیل کر دیا ہے۔‘‘ اس کے اندر ایک جنگ جاری تھی جس کے شعلوں میں وہ جل رہی تھی۔ اس کی آنکھیں نیند سے عاری تھیں۔ نعرے ابھی بھی گونج رہے تھے لیکن وہ ان سے بے پرواہ تھی۔ وہ خاصی دیر سے چارپائی پر ساکن بیٹھی تھی۔ صبح ہونے والی تھی کہ اس کا خاوند بیٹوں کے ہمراہ گھر میں داخل ہوا۔

’’ابھی تک جاگ رہی ہو۔تم سوئی نہیں۔‘‘ اسے جاگتا دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا۔
’’نہیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’اپنے گھر میں گھسے ایک مجرم کی تفتیش کے لیے۔۔۔۔‘‘
’’کیا بکواس کر رہی ہو۔۔۔؟‘‘ وہ غصے سے بپھر کر بولا۔
’’ہاں، تم ہی میرے گھر میں ایک مجرم ہو۔ مجھے سچ بتائو۔ تم ان دنوں کیا کر رہے ہو؟‘‘ وہ چیخی۔
’’تم پاگل ہو گئی ہو۔‘‘ اس نے سختی سے جواب دیا اور اس کو ایک طرف دھکیل دیا لیکن آج وہ ایک جرات مند انار گلے تھی۔ وہ اپنی جگہ پر ساکن رہی اور اس کی ٹھوکر اسے نہ گرا سکی۔
’’میرے سوال کا جواب دو۔ تم آج کل کون سا کاروبار کر رہے ہو؟‘‘
’’وہی جو تم نے شروع کیا تھا۔۔۔‘‘ اس نے اعتماد سے جواب دیا۔
’’نہیں تم جھوٹے ہو۔۔۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر اناروں کی خوشبو کیوں نہیں آتی؟‘‘ اس نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا۔
’’کیونکہ تم پاگل ہو چکی ہو۔۔۔‘‘ اس نے اسے نفرت سے دیکھا۔
’’تم ایک قاتل اور مجرم ہو۔ تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔‘‘ وہ دوبارہ چیخی لیکن اس کے پاس اس کے کسی سوال کا جواب نہ تھا۔

’’چپ شہ او بکواس ماکوہ۔ (چپ کرو اور بکواس بند کرو)۔‘‘ وہ غصے سے دھاڑا، اس کو ایک طرف دھکیلا اور اپنے کمرے میں آرام کرنے چلا گیا۔ بچے سب کچھ دیکھتے رہے لیکن کوئی بھی ماں کا سہارا نہ بنا اور ماں بیچاری وہیں پڑی، خاصی دیر روتی رہی۔ بچے اپنے کندھوں پر بندوقوں کی وجہ سے فخر محسوس کرتے تھے اور باپ ان کے لیے مثالی اور پسندیدہ شخصیت تھا۔ ان کا زیادہ تر وقت باپ کے ساتھ گزرتا جبکہ ماں کو انہوں نے زیادہ تر گھریلو کاموں میں ہی مصروف پایا تھا۔ وہ کبھی بھی یہ زندگی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے جو اس علاقے کے لوگوں کے لیے مثالی تھی اور لوگ ان کو مجاہد جان کر ان کی بے حد عزت کرتے تھے۔

انار گلے نے زندگی میں پہلی بار خود کو اکیلا محسوس کیا تھا۔ پہلے وہ اس وقت مرجھا گئی تھی جب اس نے اپنا باپ کھویا تھا اور اب وہ اپنا سب کچھ، اپنے ہی گھر میں کھو چکی تھی، جب وہ اپنے خاندان کی زندگیاں بنانے میں مصروف تھی۔ اس نے اپنے دل میں عہد کر لیا، ’’میں بھی پٹھانی ہوں اور اس راز سے ضرور پردہ اٹھائوں گی۔‘‘ دوسرے دن سورج کی کرنوں سے پہلے ہی آپریشن کی خبر گاوں میں پھیلی اور جب انار گلے کی آنکھ کھلی تو گھر میں کوئی بھی نہ تھا۔ وہ اپنے خاوند اور بیٹوں کے کمرے چیک کرنے لگی لیکن وہاں پر کچھ بھی نہ تھا۔ وہ اسٹور روم گئی تو وہاں اسٹور کے باہر لکڑی کے خالی ڈبے اور کچھ گلے سڑے انار بھی پڑے تھے جبکہ اسٹور کو تالا پڑا تھا۔ زندگی میں پہلی بار، اس کو اسٹور روم بند ملا۔ یہ اس کو چونکا دینے والا لمحہ تھا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا تو باہر ایک بڑا پتھر نظر آیا۔ اس نے وہ پتھر اٹھایا، باربار قفل پر ضربیں لگائیں اور آخرکار قفل ٹوٹ گیا۔ وہ اندر داخل ہوئی تو اسٹور روم میں گہرا اندھیرا تھا۔ وہ واپس گھر کی جانب آئی، ایک لالٹین اٹھائی اور دوبارہ اسٹور روم میں جھانکا۔ اسٹور روم لکڑی کے ڈبوں سے پر تھا جو اوپر نیچے ایک ترتیب میں رکھے تھے۔ زمین پر کچھ گلے سڑے انار بکھرے پڑے تھے جبکہ ایک کونے میں ، اناروں کا ڈھیر لگا تھا۔ اس نے ان کو اٹھایا تو اسے محسوس ہوا کہ یہ پلاسٹک کے تھے اور کھلونے انار تھے۔ اس نے لالٹین کی لو ُ اونچی کی اور زمین پر پڑے ایک ڈبے کو اپنی جانب گھسیٹا۔ آدھی سے زیادہ زندگی، اس نے ایسے ڈبوں کو گھسیٹا تھا لیکن یہ اتنا بھاری تھا کہ وہ اس کو ہلا بھی نہ سکی۔ اس نے ہاتھ ڈبے میں ڈالا تو ایک انار سے ٹکرایا اور پہلی بار خوشی کی ایک لہر اس کے چہرے پر دوڑ گئی اور اسے خاوند کو برا بھلا کہنے پہ خود پر غصہ آیا۔ اس نے اسے لالٹین کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی لیکن اس کا حلیہ واضح نہ تھا۔ وہ اسے باہر روشنی میں لے گئی اور جیسے ہی وہ دروازے میں پہنچی ۔ وہ کانپ اٹھی اور انار اس کے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا۔ یہ تھا تو بالکل انار کی طرح لیکن حقیقت میں، یہ انار نہ تھا۔ یہ لوہے کا انار تھا جس کے سر پر ایک پن لگی تھی۔ وہ اپنی جگہ پر ٹھٹک کر رہ گئی اور اسے یوں محسوس ہوا جیسے سارے انار، جو اس نے اپنی زندگی میں چھوئے تھے، اس کے سر پر گرنا شروع ہو گئے ہوں۔ اس نے پورے کمرے میں روشنی پھیر کر دیکھی تو سارے ڈبے ان سے بھرے تھے جبکہ کچھ ڈبوں میں کچھ اور ہتھیار بھی تھے۔ دیوار پر جیکٹیں بھی لٹکی ہوئی تھیں جو انہی اناروں سے بنی ہوئی تھیں۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اور بچپن کے سارے رسیلے انار اس کی آنکھوں کے سامنے جھلکے۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے واپس صحن میں آئی تو اس کا دماغ پھٹ رہا تھا۔ کس طرح اس کی معصومیت سے کھیلا گیا تھا، اسے اس پر یقین نہ آرہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے زاروقطار آنسو بہہ رہے تھے اور وہ اس بڑے سے کمرے میں چھپ کے بیٹھی تھی جو گھنے درختوں کے پیچھے تھا۔ آج ہیلی کاپٹر بہت نیچی پرواز کے ساتھ گائوں پر چکر کاٹ رہے تھے اور توپوں اور مارٹر گولوں کی آواز بہت قریب سے آ رہی تھی۔ جنگ ان کی دہلیز پر دستک دی چکی تھی۔ لیکن وہ بالکل ساکن تھی۔ باہر انتہا کا شور تھا، چونکہ گھر کا کوئی دروازہ یا دیواریں نہ تھیں۔ اس لیے آنے والے لوگوں نے اونچی آواز میں پردہ کرنے کو بولا۔ اس نے اپنا چہرہ گھونگھٹ کی اوٹ میں کر لیا اور لوگ ایک چارپائی کے ساتھ اس کے صحن میں آن کھڑے ہوئے۔ یہ اس کے بڑے بیٹے کی لاش تھی۔ لوگوں نے بتایا کہ گائوں کے باہر جنگ جاری ہے اور اس کا خاوند اور بیٹے ادھر ہی لڑ رہے ہیں۔ وہ اس منظر پر چیخ اٹھی لیکن کوئی بھی اس کے غم میں شریک ہونے والا نہ تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کا ماتھا چوما اور ایک بار پھر اپنے دل میں پشیمانی محسوس کی۔ ابھی وہ بیٹے کی لاش سجا رہی تھی کہ باقی دو بیٹوں کی لاشیں بھی اس کے سامنے رکھ دی گئیں۔ اس نے خون میں لت پت اپنے جگر گوشوں کو دیکھا اور بچپن کی یادیں اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزر گئیں۔جب وہ اونچے پہاڑوں کی دوسری جانب سرحد پار دھواں دیکھتی تھی جو اسے کسی فلم کی طرح محسوس ہوتے۔ اسی جنگ نے اس کے سارے خاندان اور زندگی کو نگل لیا تھا۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے لیکن وہ بالکل ساکن اور خاموش تھی، نہ کوئی سسکی نہ بین، نہ کوئی چیخ اور نہ کوئی ماتم۔ اس نے ساری لاشوں کو صحن میں چھوڑا اور دوبارہ اسٹور روم میں گئی ۔ زندگی میں پہلی بار، اس نے اپنے گھر کی دہلیز کے باہر قد م رکھا۔ اس کے قدم گائوں سے باہر کی جانب اٹھ رہے تھے جہاں پر جنگ لڑی جا رہی تھی۔ اس نے اپنا جسم اور چہرہ پردے میں چھپایا ہوا تھا۔ وہ برستی آگ اور دھوائیں کے قریب پہنچی تو ایک شخص سے اپنے خاوند کے بارے میں پوچھا۔ اس نے گھور کر اسے دیکھا اور اس کو گھر جانے کی ہدایت کی کیونکہ پورے علاقے میں کسی عورت کو یوں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی۔ ہر سو گرد اور دھواں تھا اور وہ کچھ بھی دیکھنے کے قابل نہ تھی۔ اس نے اس شخص کی بات کو سنی ان سنی کر دیا اور آگے کی سمت بڑھی۔ اس نے ایک بڑے درخت کے پیچھے پناہ لی اور گہرے دھوئیں اور گرد میں دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ بچپن کا وہی منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا لیکن اب یہ منظر بہت قریب آگیا تھا۔ ابھی وہ کوئی مناسب پناہ ڈھونڈ رہی تھی کہ اس نے اپنے زخمی خاوند کو میدان جنگ سے بھاگتے دیکھا جس کا رخ اب گھر کی جانب تھا۔ اس نے اس کا تعاقب کیا اور گائوں میں داخل ہونے سے پہلے اس کو جا لیا۔ وہ اناروں کی بنی جیکٹ پہنے ہوئے تھی جبکہ ایک اناراس کے ہاتھ میں تھا۔ اس کا خاوند اسے اس حلیے میں دیکھ کر کانپ گیا۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن زندگی میں پہلی مرتبہ اس نے اسے گلے لگا لیا۔ اس نے انار اپنے دانتوں سے کاٹا جیسا کہ وہ بچپن میں، رسیلے دانوں کا رس چوسنے کے لیے انار کا چھلکا اتارتی تھی۔ انار ایک دھماکے سے پھٹا اور ساتھ میں جیکٹ میں پروئے ہوئے انار بھی پھٹنے لگے اور وہ بھی انار کے رسیلے دانوں کی طرح تقسیم ہو کر بکھر گئی۔

Categories
نقطۂ نظر

جنگ، جہاد اور پاکستان؛ ایک مختصر جائزہ-دوسرا حصہ

[blockquote style=”3″]

بابر ایاز کی کتاب What’s wrong with Pakistan میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اب تک 6 جنگوں میں ملوث رہا ہے لیکن پاکستان ہر جنگ کو مذہبی جنگ (جہاد) کہہ کر ہی لڑا۔ عوام کو ایک مخصوص نقطہ نظر تک محدود رکھنے اور ایک خاص نظریے کی طرف مشغول رکھنے کے لیے ہر سطح پر جھوٹ بولنا اور حقائق کو مسخ کرنا پاکستانی ریاست کی روایت رہی ہے۔ اس سے نقصان یہ ہوا، کہ ایک جانب تو آپ اپنی نسلوں کو غلط معلومات فراہم کرتے ہیں، عوامی رائے عامہ متعصب رہتی ہے تو دوسری جانب ریاست کے وہ کرتا دھرتا جنہوں نے ایسے فیصلے کئے ہوتے ہیں جن سے ریاست اور قوم کو شدید نقصان پہنچا ہو وہ عوام کی نظروں میں پاک صاف، محب وطن اور باعزت رہتے ہیں۔ تاریخ میں قوموں کے ساتھ غلط فیصلے بھی ہوتے ہیں اور مہم جو عسکری اور سیاسی رہنما بھی پیدا ہو جاتے ہیں لیکن وہی قومیں ترقی کی طرف بڑھتی ہیں جو سچائیوں کا سامنا کرتی ہیں اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتی ہیں۔ نئی نسل کے لئے ضروری ہے کہ ان کے سامنے حقائق لائے جاتے رہیں جن کے دماغوں کو ‘مطالعہ پاکستان’ کی ایمانی افیون سے سلا دیا جاتا ہے۔ چنانچہ میں ان بابر ایاز کی کتاب میں مذکور 6 جہادوں کا مختصر خلاصہ پیش کر رہا ہوں۔ آپ دیکھیں گے، کہ ہمارے عسکری کمانڈروں اور سیاسی قائدین نے پاکستان اور عوامی مستقبل کے ساتھ کتنے خطرناک کھلواڑ کیے۔ جن کے بوئے ہوئے کانٹوں کے رستے زخم 20 کروڑ عوام برداشت کر رہے ہیں۔ لیکن مجال ہے جو ہمارے کسی فوجی یا سیاسی رہنما نے اپنی غلطی تسلیم کی ہو، اس پر ذرا بھی پچھتاوا محسوس کیا ہو۔ ہاں ان کی دولت، ثروت اورمراعات میں بے پناہ اضافہ ہوتا رہا ہے۔

[/blockquote]

اس تحریر کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
چوتھا جہاد: 89- 1978 افغانی شورش

 

افغانستان میں شورش امریکہ، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور جہادیوں کا مشترکہ مشن تھا۔ بابر ایاز لکھتے ہیں،” کہ ایک دفعہ مجھے امریکی سفارت کار نے پوچھا کہ پاکستان میں مذہبی جماعتیں امریکہ کے اتنے خلاف کیوں ہیں، تومیں نے جواب دیا۔ ‘وہ خود کو امریکہ کی طلاق یافتہ بیویاں سمجھتے ہیں’۔ سوویت یونین کے خلاف جب تک سرد جنگ رہی، امریکہ اسلام پسندوں کی مدد کرتا رہا۔ امریکہ مولانا مودودی کی بڑی تعداد میں کتابیں اور جہادی لٹریچر خریدتا، چھاپتا اور تقسیم کرتا رہا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے اراکین کو وظائف دیئے جاتے (امریکہ کتابیں سمندر میں پھینک دیتا تھا یہ محض جماعت اسلامی کو فنڈز دینے کا ایک بہانہ تھا)۔

 

ایک دفعہ مجھے امریکی سفارت کار نے پوچھا کہ پاکستان میں مذہبی جماعتیں امریکہ کے اتنے خلاف کیوں ہیں، تومیں نے جواب دیا۔ ‘وہ خود کو امریکہ کی طلاق یافتہ بیویاں سمجھتے ہیں’۔
80 کی دہائی میں سوویت یونین کی حمایتی افغان حکومت کے خلاف سی آئی اے اور آئی ایس آئی نے مشترکہ مہم جوئی شروع کی۔ داود حکومت کا خاتمہ اور سوشلسٹ حکومت کا آنا افغانستان کا اندرونی معاملہ تھا لیکن پاکستان نے گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی کو خفیہ مدد دینی شروع کر دی (یاد رہے،جنرل ضیا سے پہلے گلبدین حکمت یار کو بھٹو نے پشاور میں بلا کر افغانستان میں شورش کا منصوبہ بنایا تھا)۔ دیگر اسلامی گروپوں جو ہمیشہ سے افغان حکومتوں کے خلاف رہےتھے، پشاور آنے جانے لگے۔ پاک فوج نے انہیں مکمل سرپرستی اور تعاون فراہم کیا۔ لیکن سوویت یونین کی فوجی مداخلت کے بعد امریکہ اپنے عرب اتحادیوں کے ساتھ اس ‘جہاد’ میں کود گیا۔ کسی دوسرے ملک میں یہ دنیا کی سب لمبی اوربڑی تخریب کاری اور شورش تھی جسے پاکستانی جرنیلوں، امریکی اسلحے اور عرب پیٹرو ڈالروں سے چلایا گیا۔

 

افغان جہاد کے دوران پاکستانی معاشرے کو مذہبی جنونیت، جہادی دہشت گردی اور ہیروئن کی علت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، ان امراض نے آئندہ کئی دہائیوں کے لئے ملک کو تباہ کر دیا۔ دنیا بھر سے دہشت گرد اکٹھے کر کے ان کے لئے تریبت گاہیں اور مدرسوں کی جہادی نرسریاں بنائی گئیں۔ جب افغان جنگ اپنے اختتام کے قریب تھی، راوالپنڈی میں اوجڑی فوجی کیمپ میں پڑے اسلحے میں ہونے والے دھماکوں کی وجہ سے اپریل 1988 کی ایک صبح بموں اور راکٹوں کی بارش پنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں پر برسنی شروع ہو گئی جس میں 1000 شہری ہلاک ہوئے۔ اس سانحے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہمارے جرنیل اس ملک کے ساتھ کیاکچھ کرتے رہے ہیں۔ وزیراعظم جونیجو نے لیفٹینٹ جنرل عمران اللہ خان سے اس واقعے کی تحقیقات کے بعدرپورٹ بنوائی جو کبھی قوم کے سامنے نہیں لائی گئی۔ تاہم وفاقی وزیر بیگم کلثوم سیف اللہ کا ایک بیان ریکارڈ پر ہے، کہ جنرل ضیا نے اوجڑی کیمپ میں آگ لگوائی کیونکہ امریکہ کے دیے ہوئے اسٹنگر میزائلوں کا ریکارڈ ضائع کرنا تھا۔

 

وفاقی وزیر بیگم کلثوم سیف اللہ کا ایک بیان ریکارڈ پر ہے، کہ جنرل ضیا نے اوجڑی کیمپ میں آگ لگوائی کیونکہ امریکہ کے دیے ہوئے اسٹنگر میزائلوں کا ریکارڈ ضائع کرنا تھا۔
جنرل ضیا نے جونیجو حکومت کو اوجڑی کیمپ کی انکوائری کرانے کے ‘جرم’ میں برطرف کردیا۔ جنرل ضیا کا یہ خواب پورا نہ ہوا، کہ وہ فاتح افغانستان کی حثیت سے جلال آباد کی مسجد میں نماز پڑھ سکیں۔ 17 اگست 1988 میں جنرل ضیا فوجی ہوائی جہاز کے حادثے میں وفات پا گئے، حادثے میں امریکی سفیر اور فوجی افسران بھی ہلاک ہوئے۔ اس واقعے ک تحقیقات بھی کبھی قوم کے سامنے نہیں لائی گئیں۔ لگتا یہی ہے کہ ‘اسٹیبلش منٹ’ اور امریکہ کی ملی بھگت سے جنرل ضیا کا خاتمہ کیا گیا۔ ضرورت پوری ہونے پر ‘ریاست’ ایسا ہی کرتی ہے۔ پاکسانی معاشرے کی تباہی کی صورت جنرل ضیا نے جو ‘ورثہ’ چھوڑا اس میں بے شمار جہادی تنظیمیں، فرقہ وارانہ تشدد، اسلحہ سے بھرا ہوا کرپٹ معاشرہ، فرقہ پرست مسجدوں اور مدرسوں کی گلی گلی یلغار، طاقت ور ملائیت اور مذہب گزیدہ عوام سمیت انتہا پسند عالمگیر سنی خلفت کے قیام کے لیے ساز گار زمین شامل ہیں جو آج دنیا بھر کے جہادیوں کا خواب ہے۔ وہ آئی ایس آئی کو سکھا گیا، کہ کیسے ہمسایہ ملکوں کو bleed کرتے رہنے کا دھندہ کرنا ہے۔

 

جنرل ضیا کے مرنے اور افغانستان میں مہم جوئی کے بعد ہمارے جرنیلوں نے تیارشدہ جہادی کھیپ کا رخ ہندوستان کی طرف پھیر دیا اور جہاد کشمیر کے ذریعے ایک اور مہم جوئی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا۔اب افغانستان کی طرح عمومی طور پر ہندوستان کو کمزور کرنا اور کابل کی طرح طور پر کشمیر کو اپنے زیر اثر لانا مقصود تھا۔ پچھلے پندرہ سال کے دوران 60 ہزارشہری اور 20 ہزار فوجی ‘شہید’ کروا کر ہم طالبان، جہادیوں، دہشت گردوں سے کھیل کھیل رہے ہیں۔ ملائیت اور فوج کی طاقت، قوت، پھیلاو مسلسل بڑھتے چلے جارہے ہیں اور مستقبل میں بھی ان کے درمیان تعاون کی صورتیں ممکن ہیں۔

 

پانچواں جہاد: کشمیر میں شورش، 1990 کی دہائی میں

 

جنرل ضیا کے مرنے اور افغانستان میں مہم جوئی کے بعد ہمارے جرنیلوں نے تیارشدہ جہادی کھیپ کا رخ ہندوستان کی طرف پھیر دیا اور جہاد کشمیر کے ذریعے ایک اور مہم جوئی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا۔
ہندوستانی کشمیر سے متعلق جہادی گروہوں کی سرپرستی ابھی تک جاری ہے۔ لیکن اب اس جہاد میں اتنی شدت پیدا نہیں کی جاتی، جو ہندوستان کے ساتھ بھرپور جنگی تصادم کا سبب بن جائے۔ جوہری طاقت ہونے کا غیر ذمہ دار ریاستوں کے لئے مطلب بلیک میلنگ کا ایک نیا ہتھیار ہاتھ آنا ہے۔ چونکہ ہم روایتی ہتھیاروں والی فوج سے مقابلہ نہیں کر سکتے، لہذا اگر ہم نے اپنے وجود کا خطرہ محسوس کیا، تو ہم جوہری ہتھیار چلا دیں گے (حالانکہ ایٹم بم چلانے کے بعد بھی اپنا وجود باقی نہیں رہنا)۔ افغان جہاد سے فارغ ہونے کے بعد ہماری سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے ہندوستان کو کشمیر شورش میں مشغول کر کے اسے bleed کرنے کا منصوبہ بنایا تا کہ اس کی فوج کشمیر میں پھنس کر رہ جائے۔ ویسے بھی کشمیر کا علاقہ گوریلا جنگ کے لئے مناسب ہے۔ پنجاب میں ہر دکان پر کشمیر جہاد کے چندے کے ڈبے رکھ دیئے گئے۔ گلی گلی جہادی تنظیموں کے دفتر اور تربیتی مراکز کھل گئے۔ پہلے جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم حزب المجاہدین کو استعمال کیا، جو کشمیرکے پاکستان سے الحاق کی حامی ہے۔ حرکت الانصار، العمر مجاہدین، لشکر طیبہ، اخوان الجاہدین، حزب المومنین، تحریک الجاہدین وغیرہ جیسی تنظیموں کی تشکیل اور سرپرستی بھی کی گئی۔ اپنی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی دہشت گرد جہادی تنظیمیں بنانے کی مہارت پر ہمیں فخرضرور کرنا چاہیئے۔ اب سب سے منظم اوربڑی تنظیم لشکرطیبہ ہی ہے۔ اقوام متحدہ کے کہنے پراس پر پابندی لگا دی اور اس کا نام جماعت دعوۃ رکھ دیا گیا۔ جنوبی پنجاب کی جیش محمد بھی کشمیر جہاد کے حوالے سے بڑی تنظیم ہے۔ اس کے کمانڈر مولانا مسعود ہیں جن پر حال ہی میں پٹھان کوٹ پر حملے کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ وہ صاحب ہیں، جنہیں ہندوستانی طیارہ اغوا کر کے چھڑایا گیا تھا اور انہیں ‘ریاست’ کی آشیرباد حاصل رہی ہے۔ لگتا ہے، اب ‘ریاست’ کی اجازت کے بغیر بھی وہ کارنامے سر انجام دینے لگ گئے ہیں۔

 

کشمیر کے اندر اب آزادی کی جہدوجہد مانند پڑ چکی ہے۔ کشمیری تاجروں کے ہندوستانی منڈی کے ساتھ معاشی تعلقات استوار ہو چکے ہیں۔ اور کشمیریوں کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ پاکستان ان کے لئے کوئی قابل ترجیح انتخاب نہیں ہے۔ پاکستان خود ایک غیرمستحکم اور غیر مثالی ریاست ہے پھر کمشیر کی آزادی کی تحریک جوبنیادی طور پر کشمیری قوم پرستی کی تحریک تھی اسے اسلامی جہادی اور فرقہ ورانہ شکل دے کربنیادی مقصد سے ہٹا دیا گیا ہے۔ دنیا میں کوئی قابل ذکر ملک نہیں جو پاکستان کے موقف کی کشمیر پر روایتی حمایت کرتا ہو۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو احساس ہو چلا ہے کہ جموں اور لداخ ہندو اور بدھ مت اکثریت ہونے کی وجہ سے کبھی نہیں مل سکتے۔ صرف سرینگر شہر ہی رہ جاتا ہے۔ ادھر گلگت بلتستان پہلے ہی پاکستان کا حصہ ہیں۔ کشمیر میں صوفی اور بریلوی اسلام تھا۔ جہاں ہماری ‘ریاست’ نے اپنی پراکسیوں کے طفیل سلفی، دیوبندی وہابی شدت پسند اسلام کو متعارف کرانے کی کوشش کی جو کشمیری معاشرے کی تخریب کا باعث بنا۔

 

پاکستانی جہادیوں نے کشمیر میں ہندوستانی فوج کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ فرقہ بند فسادات کرانے شروع کر دیئے جسے کشمیر کے عوام نے نفرت سے دیکھا۔ یوں ہر لحاظ سے کشمیر پرپاکستان اپنا اخلاقی جواز کھو چکا ہے۔ اب وہ صرف ہندو نفرت اور ہندوستان سے کشیدگی قائم رکھنے کا ذریعہ ہے۔

 

چھٹا جہاد: کارگل 1999

 

کشمیر میں صوفی، شیعہ اور بریلوی اسلام تھا۔ جہاں ہماری ‘ریاست’ نے اپنی پراکسیوں کے طفیل سلفی، دیوبندی وہابی شدت پسند اسلام کو متعارف کرانے کی کوشش کی جو کشمیری معاشرے کی تخریب کا باعث بنا۔
اس کی کہانی ہمارے ایک اور ‘عظیم جرنیل’ مشرف کے گرد گھومتی ہے۔ کہتے ہیں کہ کارگل کا منصوبہ بے نظیر دور میں اس کے سامنے رکھا گیا جسے بے نظیر نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ سفارتی سطح پر یہ قابل عمل نہیں اور دوسرے ہندوستان کا امکانی ردعمل کیا ہو گا اس سوال کا جواب اس منصوبے میں شامل ہی نہیں کیا گیا (ایسی ہی غلطی آپریشن جبرالٹر کے دوران کی گئی تھی)۔ 1999 میں یہی منصوبہ وزیراعظم نواز شریف کے سامنے رکھ کر بتایا گیا کہ یہ مسئلہ کشمیر کو حل کر دے گا تو اس نے مبینہ طور پر اس مہم جوئی کے نتائج سمجھے بغیر جرنیلوں کو آگے بڑھنے کی اجازت دے دی۔ کچھ مبصرین کے خیال میں یہ نواز شریف کی سادہ لوحی تھی۔ جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ایک تو فوجی سربراہ پیش کر رہا تھا، دوسرے بھارتی وزیراعظم اٹل واجپائی لاہور آ چکے تھے جس پر ہماری فوج ناراض تھی چنانچہ نواز شریف نے اس لئے حامی بھرلی کہ فوج کہیں اس پر پاکستان مخالف ہونے کا الزام نہ لگا دے اور وہ دکھا سکے، کہ بطور وزیراعظم پاکستان وہ بھی کشمیر کاز کے ساتھ پوری طرح وفادار ہے۔

 

ایک دوسری رائے یہ ہے کہ کارگل کے حوالے سے یا تو وزیر اعظم کو مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم کو آگاہ کیے جانے سے پہلے ہی پاکستانی جرنیل اس منصوبے پر عملدرآمد شروع کر چکے تھے۔ بہرحال ہمارے عظیم جرنیلوں نے اس پہلو پر سوچ بچار ہی نہیں کی کہ اس مہم جوئی پر ہندوستانی ردعمل ردعمل کتنا سختہو گا۔ (ویسے دشمن کا ردعمل کیا ہوگا۔ یا ان کے کسی عمل کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں۔ ہمارے جرنیلوں نے کبھی سوچا ہی نہیں۔ یہ شائد ان کو پڑھایا ہی نہیں جاتا)۔ ان کے ذہن میں بس یہی تھا، کہ جیسے 1984 میں ہندوستان نے اچانک سیاچین پر قبضہ کر لیا تھا۔ہم بھی ایسا ہی کچھ کرکے دکھائیں۔ہم سیاچین تک رسد کا راستہ کاٹ دیں گے اور ہندوستانی فوج برف میں بھوکی مرجائے گی۔

 

ان سینکڑوں فوجیوں جنہیں کشمیری سویلین مجاہد کہہ کر پاکستانی تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا تھا، کی بے اعزاز موت کی زمہ داری مشرف اور ان کے ساتھ کارگل جنگ میں شریک جرنیلوں پر عائد ہوتی ہے۔
اس مہم جوئی کے بعد پاکستانی عوام اور عالمی برادری کو یہ کہہ کر دھوکہ دیا گیا کہ کشمیری مجاہدین کارگل کی پہاڑیوں پرچڑھ گئے ہیں۔ جب کہ درحقیقت ناردرن لائٹ انفینٹری کے سپاہیوں کوگوریلوں کی وردیاں پہنا کر آگے محاذ پر بھیج دیا گیا تھا۔ ہمارے شیخ چلی جرنیل اپنے تئیں یہ سوچ کر مطمئن تھے کہ ہندوستان اپنی فضائیہ کا استعمال نہیں کرےگا۔ پاکستان کے بحری اور فضائی افواج کے سربراہان سے بھی کارگل جنگ کی تفصیلات چھپائی گئیں کہ کہیں وہ مخالفت نہ کر دیں۔ حتیٰ کہ آئی ایس آئی کے انڈین ڈیسک کو بھی خبر نہ تھی۔ جنرل مشرف نے آئی ایس آئی سے بھی Intelligence Assessment نہیں مانگی کیونکہ مشرف کو نواز شریف کے مقررکردہ آئی ایس آئی چیف جنرل ضیالدین بٹ پراعتماد نہ تھا۔ مشرف کی اس ذاتی مہم جوئی نے جو ملکی سلامتی کو داو پر لگاتے ہوئے ہندوستان سے امن عمل کو پٹڑی سے اتار دیا۔

 

کارگل آپریشن کی ناکامی کے بعد آئی ایس آئی نے رپورٹ تیار کر کے وزیراعظم کے دفتر بھجوا دی تھی۔ جس پر جنرل مشرف کے حامی جنرلوں نے نواز شریف کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنایا۔ ان سینکڑوں فوجیوں جنہیں کشمیری سویلین مجاہد کہہ کر پاکستانی تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا تھا، کی بے اعزاز موت کی زمہ داری مشرف اور ان کے ساتھ کارگل جنگ میں شریک جرنیلوں پر عائد ہوتی ہے۔ کارگل کی مہم جوئی سے دنیا کو پیغام ملا کہ پاکستان ایک غیرذمہ دارریاست ہے۔ اور دوسرے ثابت ہوا، پاکستانی جرنیلوں نے آپریشن جبرالٹر کی ناکامی سے کچھ نہیں سیکھا۔ قومی سلامتی کو داو پر لگانے والے شریک جرنیلوں کا کوئی احتساب نہ ہوا بلکہ ان سب کی ترقیاں ہوئیں۔ وزیراعظم نواز شریف کوامریکہ کی آزادی کے دن 4 جولائی کو صدر بل کلٹن کے پاس جانا پڑا کہ وہ پاکستان کو ہندوستان کے ساتھ ایک مکمل جنگ سے بچائے۔ یہ بھی سوچ لیجئے، کہ نواز شریف کا تختہ الٹنے میں آئی ایس آئی کی تیار کردہ اس کارگل رپورٹ کا بھی ہاتھ تھا، جو نواز شریف کی میز پر پڑی تھی۔۔۔