Categories
نان فکشن

ناشتہ، نہر، معاشی تفاوت اور ڈبل روٹی (ایک یادداشتی نوٹ) – قیصر نذیر خاورؔ

میرے بچپن میں ناشتے ویسے نہیں ہوتے تھے جیسے اب ہیں؛ تب برنچ بھی نہیں ہوتے تھے۔ گرمیوں میں دہی کلچہ یا لسی کلچہ عام تھا؛ صبح سویرے گلی کے ہر گھر سے ایک نہ ایک فرد ڈول اور تھیلا لیے، دہی، تِلوں والے کلچے اور برف لینے باہر نکلتا؛ واپسی پر اس کے ایک ہاتھ میں تھیلے میں کلچے دہی بھرا ڈول اور دوسرے میں سُتلی سے بندھا برف کا ٹکڑا لٹک رہا ہوتا۔ اس کی واپسی کے کچھ ہی دیر بعد تقریباً ہر گھر سے مدھانی کی آواز گونجنے لگتی؛ مدھانی جب برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے ڈول یا گڈوے میں ٹکراتی تو ایک خاص طرح کا ترنم پیدا ہوتا جیسے کسی آرکسٹرا کے چھوٹے بڑے ڈرم بج رہے ہوں؛ ایسے سمے میں جب آپ تنگ گلی میں سے گزر رہے ہوں تو آپ اس ترنم سے اندازہ لگا سکتے تھے کہ کس گھر میں کتنے لوگوں کے لیے لسی بن رہی ہوتی تھی۔ گرمیوں میں کسی کسی روز، عموماً اتوار یا چھٹی کے روز، البتہ، منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے ایک اور ہی طرح کا ناشتہ کیا جاتا۔ یہ شربت اور مربوں پر مشتمل ہوتا؛ مجھے یاد ہے کہ انارکلی کے ساتھ والے ‘ پیسہ اخبار’ بازار میں دو تین حکیموں کی دکانیں تھیں جن کے ہاں ہر طرح کے مربے اور طرح طرح کے شربت ملا کرتے تھے؛ صبح کے وقت ان حکیموں کا کاروبار انہیں دو اشیاء کی بِکری پر ہوتا تھا؛ کوئی چاندی کے ورق لگا سیب کا مربہ کھا کر صندل کا شربت پیتا اور اپنی راہ لیتا تو کوئی گاجر کا مربہ کھاتا اور اس پر بزوری شربت پی کر چل دیتا، کوئی غریب قطیرہ گوند، تخم ملنگاں اور شکر کے شربت کے ایک گلاس پر ہی اکتفا کرتا۔ میں اپنے گھر کی بات کروں تو میری والدہ کا پسندیدہ مربہ ‘آملوں ‘ کا ہوتا تھا اور شربت میں انہیں انار کا شربت سب سے زیادہ پسند تھا۔ اسی طرح میری بہنوں کی بھی اپنی اپنی پسند تھی۔ میرا بڑا بھائی دہی کلچے یا لسی کلچے کا ناشتہ نہیں کرتا تھا؛ وہ گرمیوں میں ہر روز رات کو کچھ بادام، چاروں مغز اور کچھ خشخاس پانی میں بھگوتا اور صبح اٹھ کر ورزش کرکے دودھ میں سردائی گھوٹتا اور اس کے دو گلاس پیتا؛ اسے باڈی بلڈنگ کا شوق تھا اور جب وہ کام پر نکتا تو محلے کی لڑکیاں اسے بانسی سِرکیوں کی اوٹ سے دیکھا کرتی تھیں۔ جس روز مربے اور شربت کی باری ہوتی تو میں بھی اس سے ایک گلاس سردائی کا مانگتا اور اسی پر گزارا کرتا؛ مجھے ’ شربت اور مربے ‘ والا ناشتہ کبھی پسند نہ آیا تھا۔

سردیوں میں اس کے برعکس انڈا پراٹھا یا رات کے بچے سالن کے ساتھ پراٹھا سب سے زیادہ عام تھا۔ کشمیری گھرانہ ہونے کے سبب ہمارے ہاں کالی چائے نہیں بنتی تھی، بلکہ سبز یعنی کشمیری چائے بنتی، جس کا قہوہ بنانے کے لیے ہماری ماں سونے سے پہلے پانی میں سبز چائے کی کچھ پتیاں ڈال کر رکھ دیتی تھیں اور صبح صبح اٹھ کر اسے ابالتے ہوئے اس میں ٹھنڈا پانی ملاتی جاتیں اور خوب پھینٹا لگاتیں۔ یہ چائے چونکہ نمکین ہوتی تھی اس لیے مجھے یہ پسند نہ تھی۔ میری ماں اسی لیے گلاس بھر چائے نمک ڈالنے سے پہلے الگ کر دیتیں تاکہ میں اس میں چینی گھول کر پی سکوں؛ چینی سے مجھے یاد آیا، یہ وہ زمانہ تھا جب یہ ہم جیسے لوئر مڈل کلاسیوں اور غریب عوام کو راشن ڈپوئوں سے ملا کرتی تھی اور اسے کم کم ہی استعمال میں لایا جاتا تھا؛ ویسے تو یہ راشننگ سسٹم دوسری جنگ عظیم اور قحط ِ بنگال سے جڑا تھا لیکن 1960 ء کی دہائی کے اوائل میں اسے دوبارہ رائج کر دیا گیا تھا؛ پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کے موڈ میں تھے۔ چینی کے علاوہ آٹا بھی راشن ڈپو پر ملا کرتا تھا؛ پھر یوں ہوا کہ دیسی گندم کم پڑ گئی تھی اور امریکی گندم ‘ پی ایل۔ 480 ‘ کے تحت آنے لگی اور اس کا آٹا ان ڈپوؤں پر ملنے لگا؛ اس کی روٹی اس رنگ کی بنتی جیسے ٹرمپ کے بال ہیں؛ لوگوں نے آٹا لینا چھوڑ دیا۔ اسی طرح جب چیکوسلواکیہ کی چقندر سے بنی چینی آنے لگی تو لوگوں نے یہ بھی لینا بند کر دی؛ یہ چینی گنے کے رس سے بنی چینی کے مقابلے میں کم میٹھی ہوتی تھی اور ایک چمچ کی بجائے دو چمچ ڈالنی پڑتی تھی۔ ان ڈپوؤں پر ملنے والے چاول بھی موٹے اور گھٹیا کوالٹی کے ہوتے تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب دودھ کی بھی قلت ہوئی تھی اور امریکی امداد کے تحت آیا خشک دودھ بھی ان راشن ڈپوؤں پر ملتا تھا۔

کبھی کبھار انڈے پراٹھے کی جگہ چائے میں باقر خانی، کھنڈ کلچہ، بَن یا دو تین رس ( پنجابی رسوں کو پاپے کہتے تھے ) ڈبو کر کھانا بھی ناشتے کا کام دیتا۔

سردیاں ہوں یا گرمیاں ایک اور خصوصی ناشتہ ‘پوری حلوے’ کا ہوتا تھا جو کسی کسی اتوار یا چھٹی کے روز ہی ہمیں ملتا؛ ہمارے گھر کے پاس پوریاں بنانے والے دو طرح کے تھے؛ ایک جو میدے کی پوریاں تلتے تھے دوسرے وہ جو آٹے کی پوریاں بناتے تھے؛ لاہورئیے میدے والی پوریاں کھاتے تھے جبکہ بٹوارے کے بعد مہاجر ہو کر آئے، اردو بولنے والے آٹے کی پوری کو ترجیح دیتے۔ ان دو طرح کی پوری بنانے والوں کی بھاجی* میں فرق ہوتا اور حلوے میں بھی۔ لیکن یہ دونوں ہی بھاجی اور حلوہ الگ الگ ‘ دَونوں ‘** میں دیا کرتے۔ میدے کی پوری والے آلو اور چنوں کی بھاجی ملا کر بناتے تھے اور ان کے حلوے کا رنگ سوجی جیسا ہی ہوتا جبکہ آٹے کی پوری بنانے والے آلو کی بھاجی اور چنوں کی الگ الگ بناتے، ان کا حلوہ بھی زردے کے رنگ جیسا ہوتا، اس کے علاوہ وہ ایک دَونے میں الگ سے سبزیوں کا کچا پکا اچار بھی دیتے۔

دو ناشتے اور بھی ہوتے تھے جو ہمارے گھر میں کبھی بھی کھائے نہیں گئے؛ ایک، لاہوریوں کے سری پائے، کھد*** اور مغز کے سالن کے ساتھ کلچے یا نان کا ناشتہ اور دوسرا، اردو بولنے والوں کا نہاری اور خمیری روٹی کا ناشتہ، اس میں خمیری روٹی کا متبادل ’ لال روٹی ‘ **** بھی ہوا کرتی تھی۔

ڈبل روٹی کا رواج نہ تو ہمارے گھر میں تھا اور نہ ہی ہماری گلی اور آس پڑوس میں۔ یہ کہنا، بلکہ زیادہ مناسب ہو گا کہ میں نے میڑک تک اپنے گھر میں ناشتے کے لیے ڈبل روٹی آتے نہ دیکھی تھی، ہاں یہ تب ضرور آتی جب گھر میں کوئی بیمار ہوتا اور ہمارے معالج حکیم نیر واسطی مرحوم یا ڈاکٹر دلاور حسین ( ڈاکٹر انور سجاد کے والد مرحوم ) دوائی کے ساتھ زود ہضم غذا تجویز کرتے؛ زود ہضم غذاؤں میں دودھ ڈبل روٹی، دلیہ اور کسی حد تک ساگودانہ تجویز ہوا کرتے تھے؛ یہ ڈبل روٹی ہمارے والد کے دوست محکم دین کی بیکری سے آیا کرتی تھی۔ یہ نیلا گنبد کے پاس اب بھی ہے اور لاہور کی قدیم ترین بیکریوں میں سے ایک ہے۔

میں جب میڑک کرکے کالج میں داخل ہوا اور میرے کئی پر نکلے۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ناشتے میں انڈا پراٹھا یا رات کا بچا سالن و پراٹھا کھانے کی بجائے انڈوں کے ساتھ ڈبل روٹی کے سلائس کھائے جائیں؛ فرائی، سکریمبلڈ اور یا پھر آملیٹ اور ڈبل روٹی، دودھ اور انڈے میں تلے میٹھے فرنچ توس، چینی میں تلے خستہ اور کرارے توس اور ان کے ساتھ کالی چائے؛ میری ماں کو اب گلاس بھر کشمیری چائے الگ نہیں کرنی پڑتی بلکہ انہیں ایک کیتلی خریدنا پڑی جس میں وہ میرے لیے کالی چائے کا قہوہ ابال سکیں۔ یوں ہمارے گھر میں ڈبل روٹی تو آئی ساتھ میں کالی چائے بھی در آئی اور ٹی سیٹ، چینی سرامک کے کپ، ٹی کوزی بھی الماری کی زینت بنے؛ کالی چائے جسے انگریز کبھی گلیوں میں مفت بانٹا کرتے تھے؛ ہمارے والد کے بقول صبح سویرے ‘ٹم ٹمیں’ گلی گلی کوچہ کوچہ گھومتیں، ان پر لکڑیوں کی آگ پر بڑے بڑے حمام دھرے ہوتے جن میں کالی چائے کا قہوہ ابل رہا ہوتا، ان ٹم ٹموں پر بیٹھے میونسپلٹی کے کارندے گھنٹی بجاتے، بھونپو پر کالی چائے کی تعریفیں کرتے اور لوگوں کو دعوت دیتے کہ وہ برتن لے کر آئیں اور کالی چائے کا قہوہ مفت لے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شروع شروع میں تو وہ دودھ اور چینی ملا کر ‘ تیار ‘ چائے بانٹا کرتے تھے۔

کالج کے اوائلی زمانے میں مجھے ڈبل روٹی کی شناخت دو طرح سے ہی ہوئی تھی؛ چھوٹی اور بڑی؛ میں، چونکہ گھر میں ڈبل روٹی کا واحد شیدائی بنا تھا اس لیے ایک چھوٹی ڈبل روٹی خریدی جاتی جو سردیاں ہونے کے باعث دو یا بعض اوقات تین دن تک چل جاتی۔ گرمیوں میں، البتہ، میرے ناشتے کے معمول میں کوئی خاص فرق نہ آیا؛ دہی کی لسی میں پانی کی بجائے، البتہ، آدھا دودھ ہوتا۔
وقت کے ساتھ ساتھ مجھے بریڈ ( ڈبل روٹی ) کی دیگر اقسام کا بھی پتہ چلتا گیا؛ سادہ، مِلکی، میڈیم بران، فُل بران، فرانسیسی ‘ کریسوں’ وغیرہ وغیرہ۔

چھوٹی بڑی کا تصور بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا البتہ فرانسیسی ‘کریسوں’ کا سائز ایک سا ہی رہا؛ کریسوں سے مجھے یاد آیا کہ یہ میرے استاد زِم ( ZIM ) بہادر ( ظفر اقبال مرزا مرحوم ) کی پسندیدہ بریڈ تھی جسے وہ نمکین مکھن کے ساتھ بہت شوق سے کھایا کرتے تھے، جس کے ہر لقمے کے بعد وہ چائے کی چسکی نہیں وہسکی کا گھونٹ بھرا کرتے۔ چند سال پہلے مجھے ڈبل روٹی کی ایک اور قسم کے بارے میں بھی جاننے کا اتفاق ہوا۔

اس سے پہلے کہ میں یہ قصہ بیان کروں آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ جس طرح دریائے تھیمز لندن کو دو حصوں میں منقسم کرتا ہے اور چیلسی کو بقیہ لندن سے ممتاز کرتا ہے اسی طرح ‘بمباوالی۔ راوی۔ بیدیاں’ کی برانچ نہر لاہور میں سے گزرتے ہوئے اس شہر کو بھی دو حصوں میں بانٹتی ہے؛ یوں تو ‘بمباوالی۔ راوی۔ بیدیاں’ نہر مغلوں کے زمانے سے موجود تھی لیکن جب 1837/1838 ء کا بڑا قحط پڑا تو اس کے بعد شاید پنجاب کو اپنی عملداری میں لینے پر انگریزوں نے اس کی ایک برانچ نہر لاہور میں سے گزاری جو ‘ رائے ونڈ’ گاؤں تک جاتی تھی، اب تو رائے ونڈ ایک شہر کی شکل اختیار کر گیا ہے اور ‘ تبلیغیوں’ کا ایک گڑھ ہے۔ اس نہر کے مشرق میں وہ علاقے ہیں جن میں امراء اور ان لوگوں کے گھر بنگلے اور کوٹھیاں ہیں جو مالی لحاظ سے ‘کھاتے پیتے’ کہلاتے ہیں؛ دوسرے لفظوں میں یہ کینٹ ( چھاؤنی )، ماڈل ٹائون، گارڈن ٹائون، گلبرگ، ڈیفنس جیسے پوش علاقے ہیں جبکہ اس نہر کے دوسری طرف وہ علاقے ہیں جو پوش نہیں گو وہاں بھی کئی ‘کھاتے پیتے’ لوگ بستے ہیں؛ گرمیوں میں یہ نہر بہت کھل کر معاشی تفاوت کی تصویر پیش کرتی ہے جب اس میں مغربی آبادیوں کے ہزاروں بچے اس کا استعمال ‘ سوئمنگ پول ‘ کے طور پر کرتے ہیں اور پانی آلودہ ہونے کی وجہ سے دسیوں بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

میں نے اپنا بچپن اور جوانی کا کچھ حصہ انارکلی میں گزارا، پھر چند سال کرشن نگر ( جسے مذہبی انتہا پسندوں نے اب اسلام پورہ کا نام دے رکھا ہے۔ ) میں رہا؛ یہ دونوں نہر کے مغربی علاقے میں تھے اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ میں نے نہر کی حد پار کی اور اس کے مشرقی حصے میں آن بسا؛ ایسا کیونکر ہوا، یہ ایک الگ کہانی ہے۔

آئیے اب واپس چلتے ہیں ڈبل روٹی کے قصے کی طرف۔ ہوا یوں کہ چند برس پہلے میری زندگی میں ایک ایسی عورت آئی؛ وہ کیونکر آئی اور گئی، یہ ایک الگ قصہ ہے۔ وہ نوکری تو مشرقی حصے میں کرتی لیکن رہتی مغربی حصے کی ایک دور دراز کی بے ترتیب گنجان آبادی میں تھی؛ وہ اپنے گھر کی واحد کفیل تھی؛ اس کی چھوٹی بہن شادی شدہ تھی جبکہ اس کا چھوٹا بھائی کالج کے زمانے میں ہی موٹر سائیکل کے حادثے میں فوت ہو چکا تھا، بیاہی تو وہ بھی گئی تھی لیکن بوجوہ طلاق کے بعد ماں باپ کے ساتھ رہتی تھی۔ اس نے ایف اے کے بعد کی پڑھائی پرائیویٹ طور پر کی تھی اور انگریزی میں ایم اے کیا ہوا تھا۔ وہ ایک نجی سکول کی ہیڈ مسٹریس تھی؛ اس کے والد سے ملاقاتوں پر مجھے اندازہ ہوا تھا کہ انہیں انگریزی ادب کا خاصا ذوق تھا اور وہ بات بات میں کبھی چارلس ڈکنز، ڈی ایچ لارنس، ایچ جی ویلز یا کسی اور انگریز ادیب کا حوالہ دیتے؛ انہیں آرتھر کونان ڈوئل اور اس کے کردار شرلاک ہومز و ڈاکٹر واٹسن بہت پسند تھے۔ مجھے تبھی یہ سمجھ آیا تھا کہ خاتون نے انہیں کے زور دینے پر انگریزی میں ایم اے کیا ہو گا، گو اسے انگریزی پر کچھ خاص عبور نہ تھا۔

وہ جس گلی میں رہتی تھی، اس میں سوزوکی مہران بھی بمشکل جاتی جبکہ بڑی گاڑی کے جانے کا تو سوال ہی نہ اٹھتا تھا۔ راہ و رسم بڑھی تو میرا اس کے گھر بھی آنا جانا ہو گیا۔ مجھے جب بھی اس کے گھر جانا ہوتا تو مجھے اپنی گاڑی گلی کے باہر چوڑی سڑک کے کنارے کھڑی کرنا پڑتی یا میں اس کی ہی ‘مہران’ پر جاتا اور وہ واپسی پر مجھے ایسی جگہ اتار دیتی جہاں سے میں پبلک ٹرانسپورٹ پکڑتا اور اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتا؛ یہ ‘اوبر’ یا ‘ کریم ‘ کی اون لائن سروس شروع ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی سروسز اب بھی اس علاقے میں ناپید ہیں اور موبائل پر ان آبادیوں کے نقشے دھندلے پڑ جاتے ہیں۔

اُس برس جون کا مہینہ تھا اور سخت گرمی تھی اور ایسے میں اس کے والد کی 75 ویں سالگرہ آ گئی؛ پلاٹینیم جوبلی سالگرہ جس کے حوالے سے اس نے اپنے گھر میں ایک ڈنر کا اہتمام کر رکھا تھا۔ میں بھی مدعو تھا۔ وہ جب شام پانچ بجے اپنے دفتر سے فارغ ہوئی تو میرے دفتر آئی اور مجھے ساتھ لیے گھر کی طرف روانہ ہوئی؛ ویسے تو میرا دفتر بھی پانچ بجے بند ہو جاتا تھا لیکن میں دیر تک بیٹھا اپنے لکھنے پڑھنے کا کام کرتا رہتا اور گھر کا رُخ تبھی کرتا جب مجھے بھوک اور نیند کی طلب ہوتی۔ ہم جب راستے میں سے کیک اور کچھ دیگر لوازمات لے کر، اس کے گھر پہنچے تو گھڑی آٹھ بجا رہی تھی؛ کیک پر اس کے والد کے نام کے ہجے غلط تھے جن کو درست کرانے میں ہی گھنٹہ لگ گیا تھا۔ مدعوین کو، گو، ساڑھے آٹھ بجے کا وقت دیا گیا تھا لیکن انہوں نے آتے آتے دیر لگائی اور جب بزرگوار نے کیک کاٹا تو دیوار پر لگا کلاک دس بجانے کی تیاری کر رہا تھا۔ کھانا کھاتے گیارہ کا وقت ہو گیا اور جب باقی سب مہمان رخصت ہوئے تو بارہ بج رہے تھے؛ ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس نے نہر کے پار ان آبادیوں میں جانا تھا، جن میں سے ایک میں، میں رہتا تھا، ورنہ میں اس سے لفٹ لے کر اپنے ٹھکانے پر پہنچ سکتا تھا۔ مجھے اندازہ تھا اور اسے بھی کہ اس وقت مجھے کسی طرح کی پبلک ٹرانسپورٹ دور دور تک نہ ملنی تھی۔ میں نے اس کی طرف استفہامیہ نظروں سے دیکھا۔ اس نے اپنے والد کے کان میں کچھ کھسر پھسر کی۔ جنہوں نے مجھے رات وہیں، ان کے گھر، بسر کرنے کا بولا۔

“تم میری سٹڈی میں سو سکتے ہو۔ “، انہوں نے کہا، وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے اور انہوں نے گھر کے باہر والے کمرے میں اپنا دفتر بنا رکھا تھا، جس میں الماریاں وکالت کی کتابوں سے بھری تھیں اور دیگر فرنیچر کے علاوہ وہاں ایک ‘ بیڈ کم صوفہ’ بھی تھا؛ میں جب بھی اس گھر میں گیا مجھے ان کے اس کمرے میں کوئی مؤکل بیٹھا نظر نہ آیا تھا۔

“ڈیڈی ٹھیک کہتے ہیں۔۔۔ آپ یہیں سو جائیں۔۔۔ میں صبح دفتر جاتے ہوئے آپ کو ڈراپ کر دوں گی۔ “، خاتون نے کہا۔

اجنبی جگہ پر رات بسر کرنا میرے لیے مشکل ہوتا ہے لیکن اس سمے مجھے اور کوئی چارہ نظر نہ آیا اور میں وہیں رُک گیا۔ خاتون کے والد خاصے انگریز قسم کے انسان تھے، رات میں دھاری دار سلیپنگ سوٹ پہن کر سوتے؛ ویسا ہی جیسا میں نے بچپن میں راک ہڈسن کو فلم ‘ پِلو ٹاک ‘ میں پہنے دیکھا تھا۔ اور تو اور جب خاتون مجھے سٹڈی میں، سلیپنگ سوٹ تھمانے آئی تو وہ خود بھی نائٹ سوٹ میں نظر آئی جس پر اس نے گاؤن پہن رکھا تھا؛ سلیپنگ سوٹ مجھے قدرے چھوٹا تھا لیکن اتنا بھی نہیں کہ پھنس کر آئے؛ میں سوٹ لیے ملحقہ باتھ روم میں گھس گیا اور جب واپس کمرے میں آیا تو صوفہ بستر میں بدلا ہوا تھا اور اس پر سفید چادر بچھی ہوئی تھی، ساتھ پڑی تپائی پر پانی سے بھرا ایک گلاس پڑا تھا جو کروشیے کے ایک چھوٹے سے رومال سے ڈھکا تھا۔

سوتے جاگتے میں رات کا باقی ماندہ وقت کٹا اور صبح ہونے پر جب مجھے لگا کہ کچن میں برتن کھڑکنے لگے تھے تو میں نے بستر چھوڑا اور منہ پر پانی کے دو چھینٹے مارے، بستر کو واپس صوفے میں بدلا سفید چادر تہہ کرکے اس پر رکھی اور کپڑے بدل کر اس کمرے میں گیا جہاں ڈائننگ ٹیبل لگی تھی اور ایک کونے میں ٹی وی رکھا تھا؛ رات منائی گئی سالگرہ کے آثار بھی موجود تھے نیلی پیلی لال گلابی کریپ پیپر کی پٹیاں پنکھے کی ہوا میں پھڑپھڑا رہیں تھی اور غبارے ہوا کم ہو جانے کی سے سکڑے ہوئے تھے، ایک کونے میں بند تحائف کا انبار تھا جنہیں بزرگوار نے ابھی کھولا نہ تھا۔ خاتون کی والدہ اور والد کرسیوں پر بیٹھے اخبار دیکھ رہے تھے۔ سلام کے بعد میں نے بھی ایک کرسی سنبھال لی۔ کچھ ہی دیر میں خاتون کچن سے ناشتے کی ٹرے لیے باہر آئیں اور سب کے سامنے ایک ایک پلیٹ میں آملیٹ کے ٹکڑے اور دوسری پلیٹ میں سلائس رکھے۔ میں نے نوٹ کیا کہ ان سلائسوں پر سیلوفین چڑھا ہوا تھا اور اس سیلوفین پر کسی مروجہ کمپنی کا برانڈ نہ لکھا تھا۔ میں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اس نے جو سلائس اپنی والدہ، والد اور میرے سامنے رکھے وہ دو دو کی پیکنگ میں تھے جبکہ اس کی اپنی پلیٹ میں رکھی پیکنگ میں چار سلائس تھے۔ اس نے چائے دانی کے پاس بچے ہوئے آملیٹ والی پلیٹ اور دو دو کی پیکنگ والے سلائسوں کے دو پیکٹ رکھتے ہوئے کہا؛
“اگر آپ کو اور چاہیے ہوں تو آپ ان میں سے لے سکتے ہیں۔”، اس نے اپنا پیکٹ کھولا اور دو سلائسوں میں آملیٹ رکھتے ہوئے مزید کہا، ” ویسے مجھے پتہ ہے کہ آپ صبح بس چائے ہی پیتے ہیں۔”

ان سلائسوں کا رنگ کچھ ویسا ہی تھا جیسا کہ آٹے کی پوریاں بنانے والے کے حلوے کا ہوتا تھا؛ ڈبل روٹی کی یہ دو اور چار سلائس والی یہ مِنی پیکنگز میرے لیے نئی تھیں جو نہر کے پار ان علاقوں میں نہیں ملتی تھیں، جن میں سے ایک میں، میں رہتا تھا۔ میں نے بھی پیکٹ کھولا اور سلائس کے ساتھ آملیٹ کھانے لگا؛ یہ سلائس عجیب طرح سے بے ذائقہ تھے۔ ناشتے کے بعد خاتون کچھ دیر غائب رہیں اور جب لوٹیں تو کام پر جانے کے لیے تیار تھیں۔

میں، جب، اس کی مہران میں بیٹھا اپنے ٹھکانے کی طرف جا رہا تھا تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ وقت کتنا بدل گیا تھا، گرمیوں اور سردیوں کے ناشتوں میں کوئی تخصیص نہ رہی تھی، ہر طرف کالی چائے کا راج تھا؛ اور ڈبل روٹی نہر کے دونوں طرف عام تھی یہ الگ بات کہ ایک طرف کی ڈبل روٹی دوسری طرف ملنے والی ڈبل روٹی سے ویسے ہی فرق تھی جیسے پوش علاقوں اور دوسرے علاقوں میں فرق تھا؛ ایک طرف یہ برانڈڈ تھی اور بس چھوٹی اور بڑی تھی جبکہ دوسری طرف شاید یہ انہیں مِنی پیکنگز میں تھی اور اس کا کوئی ‘برانڈ’ نیم بھی نہ تھا۔ خاتون، البتہ، سٹیرنگ پر ہاتھ جمائے، مسلسل بولے جا رہی تھی، کیا ؟ میں یہ صحیح طور سن نہ سکا، ہاں میں اتنا ضرور جان گیا کہ وہ مجھ میں اپنا خاوند تلاش کر رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*’بھاجی’ کم شوربے یا کم گریوی والا سالن
** ‘دَونوں’ دَونا ببول کے پتوں کو دھو اور سکھا کر اسی درخت کے کانٹوں سے تہہ در تہہ ٹانک کر پیالے کی شکل میں اس طرح بنایا جاتا تھا کہ اس میں ڈالی گئی شے رِس کر باہر نہ نکلے؛ یہ اپنے زمانے کا ڈسپوزیبل ہوا کرتا تھا۔
*** ‘کھد ‘بکرے، دُنبے یا کسی بھی بڑے جانور کے کّلوں اور زبان کا گوشت
****’لال روٹی ‘ دودھ میں گندھے میدے کی روٹی جو آہنی تندور میں لگتی تھی۔ اب اسے تندوری شیرمال بھی کہا جاتا ہے۔
نوٹ؛ اس یادداشتی نوٹ میں نہر کی جو تصویر استعمال کی گئی ہے وہ 1915 ء کی ہے۔

Categories
نان فکشن

لینڈ مارک (قیصر نذیر خاور)

اِس شہرکے بہت سے لینڈ مارک گم ہو چکے ہیں ؛ اِس کا تاریخی ‘زیرو سنگ ِمیل’ تک غائب ہے۔ اس کی مرکزی شاہراہ پر اب ‘ایس ایم رولو’ نہیں رہا، ‘ زیدیز’ ختم ہو چکا، ‘ایڈل جی’ اور ‘فرنچ وائن سٹور’ بھی بند ہو گئے۔ اوپن ائیر ریستوراں ‘مال لگژری’ بھی قصہ پارینہ ہوا، ‘شیزان کانٹی نینٹل’ کی جگہ ایک بنک نے لے لی۔ ‘کافی ہاؤس’ اور ‘چائنیز لنچ ہوم’ بھی برباد ہوئے۔ ‘فیروزسنز’ جل کر خاک ہوا، ‘نیشنل بک گیلری’ کی جگہ باٹا کے شو روم نے لے لی، ‘بمبئے کلاتھ ہاؤس’ نہ رہا، جیولری کی دکان ‘لیڈیز اون چوائس’ نہ رہی، ‘نرالا’ کی مٹھائی نہ رہی، ‘ریگل’ جیسے سینما کھنڈر ہوئے یہاں تک کہ وہ چینی جفت ساز بھی اب نہیں رہے جن کے نرم و ملائم جوتے پہننا کبھی ایک شان سمجھی جاتی تھی۔ بٹوارے کے وقت ہندوؤں اور سکھوں کی چھوڑی عمدہ تعمیر والی حویلیاں اور گھر کٹڑیوں میں بدل گئے اور تو اور ان کے گوردواروں اور مندروں میں سے بھی اکثر کو اویکُوئیی پراپرٹی کے کھاتے میں شامل کرکے ان میں مہاجروں کے کئی خاندان بسا دئیے گئے، ان کے شمشان گھاٹ اور مڑیاں بھی ختم ہو چکیں ؛ لے دے کے وہ احاطہ ہی بچا ہے جس میں رنجیت سنگھ کی مڑی ہے۔ بیلی رام کی فارمیسی کو نیشنل فارمیسی میں بدل دیا گیا اور نجانے کیا کچھ بدلا گیا یا بدل گیا ہے اور۔۔۔ اور نجانے کتنے اور لینڈ مارک یا تو ڈھا دئیے گئے یا پھر وقت کے بے رحم ہاتھوں نے انہیں مِٹا دیا۔

میں اپنے خاندان کی چوتھی نسل سے ہوں جو اب بھی تابوت سازی اور میتیں اُسارنے و سنوارنے کا کام کرتی ہے۔ اس شہر کی آبادی کا بیشتر حصہ ایک ایسے مذہب کا پیروکار ہے جو نہ تو تابوت بنواتا ہے اور نہ ہی میت کو اسارنے اور سنوار کر دفنانے کا قائل ہے ؛ یہ صرف اسے غسل دیتے ہیں اور سفید لٹھے، جسے یہ کفن کہتے ہیں، میں لپیٹ کر دفنا دیتے ہیں۔ میرے مذہب کے لوگ البتہ یہ دونوں کام کرتے ہیں اور ہم اس شہر میں اقلیت ہونے کے باوجود کم نہیں ہیں۔ مجھے اپنے دادا اور پڑدادا کے بارے میں براہ راست تو کچھ معلوم نہیں، البتہ اپنے والد کی زبانی مجھے یہ ضرور پتہ ہے کہ کبھی اس شہر میں، جب ابھی انگریز کی حکومت تھی تو بہت سے گورے اور اینگلو انڈین بھی شہر کی آبادی کا حصہ تھے۔ تب یہاں کئی لوگ تابوت ساز اور میتیں سنوارنے کے پیشے سے وابستہ تھے جن میں وہ خود بھی شامل تھے۔ مالدار گورے تو تھے ہی لیکن کئی اینگلو انڈین اور دیسی خاندان بھی خاصے امیر اور مسیحی اشرافیہ کا حصہ تھے۔ میرے والد کے بقول میرے پڑدادا پہلے تھے، جنہوں نے ایک کیتھولک مشنری کے ہاتھوں مسیحیت قبول کی تھی؛ وہ پیشے کے لحاظ سے ترکھان تھے اور جاتی کے اعتبار سے وِیشواکرم۔ اسی کیتھولک مشنری نے ہی انہیں تابوت سازی کی طرف مائل کیا تھا اور میتوں کو اُسارنے سنوارنے والے کچھ کاریگر ان کے ساتھ جوڑے تھے۔ جلد ہی میرے پڑدادا کا نام چل نکلا تھا اور گورا قبرستان کے پاس ان کی ورکشاپ میں دور دور سے نہ صرف کیتھولک آتے بلکہ ہمارے مذہب کے دیگر فرقوں کے لوگ بھی انہی سے اپنی بساط کے مطابق میت کی آرائش و تزئن کرواتے اور تابوت تیار کرواتے۔ میرے والد بتایا کرتے کہ دادا کے زمانے میں ان کا کاروبار اپنے عروج پر تھا لیکن ہندوستان کی تقسیم کے بعد، اس شہر سے گوروں کے چلے جانے کے ساتھ ہی کئی مالدار اینگلو اور دیسی مسیحی بھی ہجرت کر گئے۔ تب سے ہماراکام زیادہ تر تابوت سازی تک ہی محدود ہو کر رہ گیا اور اب تو میت اُسارنے، سنوارنے اور سجانے کا کام کم سے کم ہوتا جا رہا ہے جس کی ایک بڑی وجہ ہم مسیحیوں میں سے اکثر کا غریب ہونا ہے۔ گورا قبرستان بھر جانے کے بعد مسیحیوں کے لئے ایک نیا قبرستان قائم ہوا تھا جو اس شہر کی چھاؤنی شروع ہونے سے پہلے آتا ہے۔ ہمارے والد نے پرانی ورکشاپ ایک مسلمان کو بیچ دی جس نے وہاں کریانے اور منیاری کی دکان کھول لی اور ساتھ میں مزارں پر چڑھائی جانے والی ہری چادریں رکھ لیں کہ پاس ہی پیر مکی شریف اور داتا دربار تھا۔ ہمارے والد نے نہ صرف یہ ورکشاپ بیچی بلکہ کچے راوی روڈ پر وہ گھر بھی بیچ دیا جس کو میرے پڑدادا نے آباد کیا تھا، یوں انہوں نے پرانے لاہور کو خیر آباد کہا اور نئے قبرستان کے نزدیک کنال پارک کے ساتھ بنی نئی بستی میں پلاٹ لے کر پچھواڑے گھر اور اَگواڑے میں ورکشاپ قائم کی۔

میرے والد نے میرے بڑے بھائی اورمجھے خصوصی طور پر میت اسارنے، سنوارنے اور سجانے کی تربیت دی تھی۔ یہ ایک نازک اور پیچیدہ کام ہے۔ ہمیں میت کو نہ صرف سنوارنا اور سجانا ہوتا ہے بلکہ لواحقین کی خواہش کے مطابق کچھ ایسا بھی کرنا ہوتا ہے کہ بندہ، مردہ نہ لگے، کچھ ایسا لگے کہ جیسے وہ سویا ہوا ہے ؛ ایسے میں وہ ہمیں مرحوم یا مرحومہ کی کوئی ایسی تصویر بھی مہیا کرتے ہیں جیسا کہ وہ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں چہرے اور ہاتھوں پر خصوصی توجہ دینی پڑتی ہے کہ تابوت میں یہی نظر آتے ہیں، باقی جسم تو کپڑوں میں ڈھکا ہوتا ہے۔ ہمیں بڑھاپے کے نشانات ختم کرنے پڑتے ہیں اور کچھ ایسا میک اَپ کرنا پڑتا ہے کہ جھریاں، پھولی ہوئی نسیں، دھنسے ہوئے رخسار، کھڈا ہوئی آنکھیں سب اُس شکل میں آ جائیں جیسے وہ تصویر میں نظر آتی ہو، مطلب مرا بندہ یا بندی، ایسے لگے جیسے وہ سویا یا سوئی ہو۔ اگر موت کسی حادثے یا قتل میں ہوئی ہو تو ہمیں اس کے اُن سارے زخموں کو بھی ختم کرنا پڑتا ہے جو اس کے چہرے اور ہاتھوں پر موجود ہوتے ہیں۔ یہ سب کرنے میں ہمیں یہ احتیاط لازماً برتنا ہوتی ہے کہ ہماری لیپا پوتی، میک اَپ کا تاثر نہ دے۔ لوگ میت کو تو دفنا دیتے ہیں لیکن مرحوم کے جسم، بلکہ چہرے، گردن اور ہاتھوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا، کو ہمارا دیا گیا اُسار برسوں، یاد رکھا جاتا ہے ؛ ایسے ہی جیسے لوگ دلہنوں کے میک اَپ کے حوالے سے آپس میں باتیں کرتے ہیں۔

جس طرح لوگوں کے فیملی ڈاکٹر ہوتے ہیں، اسی طرح ہم بھی کئی خاندانوں کے فیملی تابوت ساز اور میت اُسارنے و سنوارنے والوں میں سے ایک ہیں۔ یہ کہانی ایک ایسے ہی رومن کیتھولک خاندان سے تعلق رکھتی ہے جو ہے تو خالص دیسی چودھری خاندان لیکن اِس شہر کا ایک اہم خاندان رہا ہے اور اس کی میتیں تیاری کے لئے ہمارے ہی پاس آتی رہیں ہیں۔

یہ چند برس پہلے، اپریل کے دوسرے عشرے کی بات ہے کہ اس خاندان میں ایک بہت ہی اداس کر دینے والی موت ہوئی۔ ایک سو چار سالہ باپ زندہ تھا، بڑا بھائی بھی حیات تھا لیکن چھوٹا بیٹا چوہدری جونیئر جن کی عمر لگ بھگ ستر سال تھی، فوت ہو گئے ؛ وہ کئی برسوں سے پھیپھڑوں کے کینسر کو جھیل رہے تھے۔ جب ان کا مردہ جسم ہمارے حوالے کیا گیا تو خاصی دیر تک میں اسے پہچان نہیں پایا حالانکہ میں اس سکول میں دس سال پڑھا تھا، جہاں وہ پرنسپل رہے تھے۔ ان کے پورے جسم میں ایک عجیب طرح کا تناؤ تھا ؛ درد کی لہریں پیروں سے چلتی جلد پر اپنے نشان، متوازی طور پر چھوڑتی ماتھے سے ہوتی، جھڑے ہوئے بالوں والے سر سے واپس گھوم کر پیٹھ سے ہوتی پیروں کی طرف لوٹ گئی تھیں۔ کینسرکی ایسی ہی پِیڑھا نے ان لکیروں کو عمودی طور پر کاٹ کر سارے جسم پر باریک جھریوں کے مربعے، مستطیلیں اور بے شکل ڈبے بنا رکھے تھے۔ میرے والد ابھی زندہ تھے۔ انہوں نے چودھری جونئیر کی لاش کو دیکھا۔ میں اور میرا بھائی بھی ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ انہوں نے ہم سے لاش کو تین چار بار پلٹوایا اور اسے غور سے دیکھتے رہے۔ وہ خاصے متفکر نظر آرہے تھے۔ پاس ہی تپائی پر ایک تصویر پڑی تھی جو اُن کی بیوی نے ہمیں دی تھی اور خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کے خاوند کا چہرہ ویسا ہی نظر آئے جیسا کہ تصویر میں تھا ؛ یہ تصویر لگ بھگ تیس برس پرانی تھی۔ اس میں چودھری جونئیر، ائیر فورس کی وردی میں ملبوس کراچی کے ساحل پر کھڑے تھے۔ یہ ایک ایسا ’ کلوز اپ ‘ تھا جس میں ان کا چہرہ واضح اور آدھا دھڑ نظر آ رہا تھا جبکہ پیچھے وسیع و عریض سمندر اور لامتناہی حد تک پھیلے آسمان کا ملاپ تھا ؛ سورج شاید تصویر کھینچنے والے کے پیچھے تھا۔ انہوں نے گروپ کیپٹن کی وردی پہن رکھی تھی۔

ہم نے پہلے بھی بہت سی پیچیدہ نعشوں کو پھر سے اُسارا تھا لیکن یہ ایک انوکھی نعش تھی۔ میرے والد نے ہمیں برف کے ڈھیلے لا کر اس میز، جس پر نعش پڑی تھی، کے چاروں طرف رکھنے کے لئے کہا اور خود ان کتابوں میں کھو گئے جن میں میت اُسارنے اور حنوط کرنے کے سینکڑوں طریقے درج تھے۔ برف کا انتظام کرکے میں ان کے ایک طرف اور میرا بھائی دوسری طرف بیٹھے انہیں کتابوں کے ورق الٹاتے پلٹاتے دیکھتے رہے ؛ ایسے میں مجھے یاد آنے لگا کہ وہ سکول کے پرنسپل بننے سے پہلے پاکستانی ائیر فورس کے ایک جیالے فائٹر پائلٹ تھے اور انہوں نے ایک پڑوسی ملک کے ساتھ دو جنگوں میں شاندار کارکردگی دکھائی تھی اور حکومت نے انہیں کوئی میڈل بھی دیا تھا ؛ ان کی یہ شاندار کارکردگی کیا تھی وہ تو ہم نے صرف اخباروں میں ہی پڑھی تھی لیکن وہ کتنے شفیق اور عمدہ استاد اور پرنسپل تھے، اس کا گواہ میں خود اور میرا بھائی تھا۔

اگلا سارا دن ہمارے والد چودھری جونئیر کی لاش پر کام کرتے رہے اور ہم دونوں بھائی انہیں مختلف قسم کے محلول اور لیپ بنا کر دیتے رہے۔ ہمارے والد نے گردن سے کام شروع کیا لیکن نیچے سے اوپر آتی، منجمد درد کی لہریں، اس لیپ میں، پھر سے دراڑیں ڈال دیتیں، جن کو وہ پھر سے بھرنے کی کوشش کرتے ؛ یہ کچھ ایسا تھا جیسے جسم تو بے جان ہو لیکن کینسر کی پِیڑھا میں ابھی تک جان باقی ہو۔ اگر سیدھی لہریں بند ہو جاتیں تو عمودی انہیں پھر سے کاٹ دیتیں، یا پھر اس کے الٹ ہوتا۔ سہ پہر کے قریب میرے والد نے تب ہمت ہاری جب درد سے اینٹھی یہ لاش ان کے قابو میں نہیں آئی۔ انہوں نے چودھری جونئیر کی بیوی کو فون کیا اور انہیں اپنی مشکل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سروس و تدفین کے وقت کو فی الحال ملتوی کردیں۔ وہ ایک بار پھر کتابوں میں کھو گئے۔ اپریل کے دوسرے عشرے میں موسم ابھی گرم نہیں ہوا تھا لیکن ہم میز کے گرد برف کے ڈھیلے پگھلنے پر انہیں مسلسل بدلتے رہے۔ سورج غروب ہو گیا، بتیاں روشن ہو گئیں لیکن میرے والد مسلسل کتابوں میں گم رہے۔ گھر کی طرف سے گھنٹی کی آواز آئی ؛ ہماری ماں کی عادت تھی کہ میز پر کھانا لگانے سے پہلے پیتل کی وہ چھوٹی سی چمکیلی گھنٹی بجایا کرتی تھیں کہ اسے سن کر سب کھانے کے کمرے میں پہنچ جائیں۔ ہمیں اندازہ ہوتا کہ گھنٹی کے بجنے کے بعد دس منٹ میں کھانا لگ جانا ہوتا تھا اور اس دوران ان کے پاس نہ پہنچنے کا مطلب ڈانٹ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس گھنٹی کی آواز کو تو ہمارے والد بھی نظرانداز نہیں کرتے تھے لیکن اس روز انہوں نے اسے نظرانداز کیا اور کتاب پڑھنے میں مشغول رہے۔ اس روز پہلی بار ہوا تھا کہ ہماری والدہ نے لگ بھگ پندرہ منٹ کے بعد پھر سے گھنٹی بجائی تھی اور اس کی آواز کی لہروں کے اِرتعاش میں ان کے غصے کو صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔ ہمارے والد نے مطالعہ جاری رکھا اور پھر کتاب کے ایک ورقے کا کونہ موڑ کر اسے بند کر دیا۔ انہوں نے نظر بھر کر میز پر پڑی لاش کو دیکھا اور پھر بولے ؛ ” ساری برف یہاں سے ہٹا دو۔ ”

“لیکن ڈیڈی۔۔۔۔۔ “، میرا بھائی بولا۔

“میں جیسا کہہ رہا ہوں، ویسے کرو۔ ”

ہم نے برف ہٹا دی۔ مجھے لگا جیسے ہمارے والد کو راہ مل گئی ہو۔ وہ اطمینان سے اٹھے اور بولے :
“چلو کھانا کھاتے ہیں۔ ہم اب اِس پر صبح کام کریں گے۔”

ہم جب ورکشاپ کے پچھلے دروازے کی طرف بڑھے تو ماں جالی والے دروازے کے پٹ کے ساتھ لگی کھڑی تھیں اور ان کے چہرے پر غصہ تھا۔

اگلی صبح ہم ناشتہ کرکے ورکشاپ کے اس کمرے میں آئے جہاں چودھری جونئیر کا لاشہ میز پر پڑا تھا۔ والد صاحب نے ان کے جسم کو کئی جگہ سے ٹٹولا اور منہ ہی منہ میں بولے ؛

“اب یہ نرم ہو گئی ہے اور ہم اسے سنبھال لیں گے “، وہ کچھ دیر چودھری جونئیر کے مردہ جسم کو دیکھتے رہے۔

اور پھر انہوں نے الماری میں رکھی بوتلوں اور مرتبانوں میں سے چار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہمیں ان میں پڑے محلولوں اور کیمیاوی مادوں سے لیپ بنانے کو کہا۔

“مقداروں کا تناسب کتاب میں اس صفحے پر درج ہے جسے میں نے موڑ رکھا ہے۔ اسے سامنے رکھو۔ ”

ہم نے لیپ تیار کر لیا تو انہوں نے ایک بار پھر ہاتھوں سے لاش کو ٹٹولا اور پھر لیپ کو پسلیوں پر لگانے سے کام شروع کیا ؛ ہمارے لئے یہ بات نئی تھی۔ ہم عام طور پر چہرے، گردن اور ہاتھوں پر ہی اُساری اور آرائش کا کام کرتے تھے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ وہ یہ لیپ گولائی میں لگا رہے تھے جیسے پِیڑھا کی لکیروں کو لیپ کے مساج سے مٹانا چاہتے ہوں۔ انہوں نے ہماری طرف دیکھے بغیر کہا ؛

“جسم میں منجمد درد یہیں سے سارے جسم میں پھیلا ہے۔ ”

ہم دیکھ رہے تھے کہ اب لیپ میں دڑاریں نہیں پڑ رہی تھیں۔ دوگھنٹے کی محنت کے بعد ہمارے والد نے چودھری جونئیر کے پورے جسم کو لیپ سے ڈھانپ دیا اور مجھے کافی لانے کو بولا۔ میں کافی لایا۔ انہوں نے ہاتھ دھوئے اور کرسی پر بیٹھ کر کافی پینے لگے۔ ان کی نظریں مسلسل میز پر جمی ہوئی تھیں۔ کافی ختم کرکے وہ اٹھے، لیپ کردہ جسم کو الٹوا پلٹوا کر تفصیلی معائنہ کیا۔ انہیں جب لیپ لگے جسم پر کوئی دراڑ نظر نہ آئی اور ان کی تسلی ہو گئی کہ لیپ کہیں سے بھی چٹخا نہیں تھا تو انہوں نے چِلمچی میں ایک بار پھر سے ہاتھ دھوئے اور بولے ؛

“اب چہرہ، گردن اور ہاتھ تمہارے حوالے ہیں۔ تصویر کو لٹا کر سامنے رکھو اور چہرے کو ویسے ہی اُسار دو۔۔۔۔ پھر گردن، اور ہاتھ آخر میں کرنا “، وہ ہم دونوں سے مخاطب تھے۔

وہ اس میز کی طرف بڑھے جہاں بیکولائٹ کا بنا کالا فون، جس کے ڈائل پر سفید رنگ سے گولائی میں نمبر لکھے ہوئے تھے، پڑا تھا۔ انہوں نے نمبر گھمائے۔ ہم نے چہرے پر کام کرنا شروع کر دیا تھا اور ہم اس پر موم کی ایک مہین تہہ لگا رہے تھے۔

“ہیلو، گڈ آفٹر نون مسز چودھری، آپ اب تدفین کا اعلان کر سکتیں ہیں۔ ”

دوسری طرف سے کچھ کہا گیا جو میرے بھائی اور مجھے سنائی نہ دیا۔

“جی، جی، کل شام چھ بجے چرچ کی سروس اور اس کے بعد تدفین مناسب رہے گی۔ “، وہ کہہ رہے تھے۔

ہم اپنے کام میں لگے رہے اور وہ اس کمرے میں چلے گئے جہاں کاریگر میت کے لیے بنے تابوت کو پالش کی آخری گدیاں لگا رہے تھے ؛ ہمارے ہاں بہت عرصے بعد سیاہ آبنوسی لکڑی کا تابوت تیار ہو رہا تھا۔

میرے بھائی نے بھی اسی سکول سے میڑک کیا تھا جہاں چودھری جونئیر پرنسپل رہ چکے تھے۔ جب ہمارے والد نے یہ کہا تھا کہ چہرہ، گردن اور ہاتھ تمہارے حوالے ہیں، تو میں سمجھ گیا تھا کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا تھا ؛ ایک تو ہم اس کام میں ماہر ہو چکے تھے اور دوسرے ہم نے چودھری صاحب کو دس سال تک بہت قریب سے دیکھا تھا ؛ ان کے چہرے کو عام، شفیق، غصے بلکہ ہر طرح کی حالت میں۔ جب ہم پہلی جماعت میں تھے تو وہ اس وقت ائیر فورس سے نئے نئے ریٹائر ہوئے تھے اور کیتھولک چرچ کے بڑوں نے انہیں اس سکول کا پرنسپل بنایا تھا۔ ہمیں ان کے ہاتھوں کی بھی گہری شناخت تھی، وہ ہاتھ جو کبھی بھی کسی طالب علم کو جسمانی سزا کے لیے استعمال نہ ہوئے تھے ؛ ان کی کلائیاں مضبوط، ہتھیلیاں چوڑی جبکہ انگلیاں کسی فنکار کی طرح لمبی اور مخروطی تھیں۔

میرا بھائی اور میں ان کا چہرہ، گردن اور ہاتھ اسارنے میں فخر محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ گھبرائے ہوئے تھے۔ ہمیں یہ کام ایک کڑے امتحان سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ ہمارے والد شام تک اس کمرے میں دوبارہ نہ آئے اور جب وہ کافی کا مگ تھامے ہمارے پاس آئے تو ہم اپنا کام ختم کر چکے تھے اور اُن کپڑوں کو ترتیب دے رہے تھے، جو ان کو پہنائے جانے تھے ؛ یہ اُن کا سب سے بہترین سوٹ تھا ؛ آسمانی رنگ کی بہترین سِلکی قمیض، بہترین نیلی ٹائی، سیاہ چمڑے کی بیلٹ، چاندی کے عمدہ کف لِنگز جن میں یاقوت جڑے تھے، ٹائی پر لگایا جانے والا یاقوت جڑا چاندی کا کلپ، ان کی شادی کا سونے کا چَھلا، سیاہ موزے اور تسموں والے سیاہ ہی جوتے۔ یہ لباس ہمیں اجنبی نہ لگا کیونکہ ہم نے ان کی زندگی میں انہیں ایسے ہی نیوی بلیو ڈبل بریسٹ سوٹ میں کئی بار دیکھا ہوا تھا۔ ہمارے والد نے چودھری جونئیر کے چہرے، گردن اور ہاتھوں کو دیکھا، وہ کچھ دیر ان پر نظر جمائے دیکھتے رہے، بیچ بیچ میں وہ تصویر پر بھی نظر ڈالتے رہے، ہم سے ہونٹوں کی لالی مدہم کرائی اور پھر انہوں نے ہمیں دیکھا ؛ ان کی نظر میں توصیف تھی۔

گھر کے پچھواڑے سورج غروب ہو رہا تھا اور پرندوں کی چہچہاہٹ اس بات کی غماز تھی کہ وہ اپنے اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے اور ہم چودھری جونئیر کو ہر طرح سے سنوار اور سجا کر تابوت میں لٹا رہے تھے ؛ اس تابوت میں، جس میں لیٹے لیٹے، انہوں نے نئے مسیحی قبرستان تک اپنا آخری سفر طے کرنا تھا۔ تابوت میں لیٹے چودھری جونئیرکی میت کو دیکھ کر یہ احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ کینسر کی پِیڑھا جو ان کے جسم میں تب منجمد ہو گئی تھی، جب انہوں نے آخری سانس لیا تھا اور ان کے چہرے پر کریہہ طور پر نمایاں تھی۔ اب ان کا چہرہ ویسے ہی تر و تازہ اور جوان لگتا تھا جیسا ہم نے، برسوں پہلے، اپنے سکول کے زمانے میں دیکھا تھا۔

یہ آخری میت تھی جو ہمارے والد نے خود اور اپنی نگرانی میں تیار کروائی تھی۔

سال بھی نہ گزرا تھا کہ مارچ کے مہینے میں ہمارے والد صاحب ایک روز سہ پہر کے وقت ہمیں ساتھ لیے چودھری سینئر کے گھر گئے ؛ یہ سکول سے ملحقہ گرجا گھر کے احاطے میں تھا جس میں کبھی چودھری جونیئر بھی ان کے ساتھ رہتے تھے۔

“کل بڑے چودھری صاحب کی سالگرہ ہے۔ یہ ان کی 105 ویں سالگرہ ہو گی۔ ”

” تو ہمیں کل جانا چاہیے۔ “، میرے بڑے بھائی نے کہا۔

” کل ایک طرح کا فیملی فنکشن ہو گا۔۔۔۔ بہت سے لوگ ہوں گے، بچے، بچوں کے بچے اور اب تو آگے ان کے بھی بچے ہیں۔ ایسے میں آج جانا ہی بہتر ہے۔ ”

راستے میں انہوں نے مارکیٹ کے پاس مجھ سے گاڑی رُکوائی اور جب ہم وہاں پھول بیچنے والی ایک دکان سے 105 گلابوں کا گلدستہ تیار کروا رہے تھے تو انہوں نے کہا؛

” لوگ انہیں ایک فوٹوگرافر کے طور پر جانتے ہیں، فوٹوجرنلزم میں ان کے شاگرد انہیں چاچا کہتے ہیں لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ وہ پہلے اسی سکول میں استاد تھے، جہاں تم دونوں بھی پڑھتے رہے ہو۔ ”

گلدستہ تیار ہوا تو انہوں نے اس کے پھول گنتے ہوئے پھر کہا؛

“یہ تب کی بات ہے جب میں اس سکول میں میڑک کا طالب علم تھا، اس وقت جرمنی میں ہٹلر نے نیا نیا اقتدار سنبھالا تھا اور ہند کی انگریز سرکار دوسری گول میز کانفرنس کی ناکامی پر گھبرائی ہوئی تھی۔ میں نے فزکس اور ریاضی کے مضمون انہی سے پڑھے تھے۔ ”

پھر وہ سوچ میں پڑ گئے اور انہوں نے گلدستہ بنانے والے کو گلدستہ واپس دیتے ہوئے اسے کہا کہ وہ اس میں سے ایک پھول کم کر دے۔

بڑے چودھری صاحب ہم سے تپاک کے ساتھ ملے۔ والد صاحب نے انہیں گلدستہ پیش کیا اور 104 سال مکمل ہونے پر مبارک باد دی۔ ہم نے کچھ دیر ان کے ساتھ وقت گزارا، چائے کے ساتھ چودھری جونیئر کی مسز کے ہاتھوں کی بنی ہوئی تازہ ‘کوکیز’ اور ‘براؤنیز’ کھائیں جو وہ بڑی تعداد میں اپنی جیٹھانی اور نندوں کے ساتھ مل کر اگلے روز کے لیے تیار کر رہی تھیں؛ اگلے روز کو جشن کی طرح منانے کے حوالے سے سب ہی اُن کے ہاں اکٹھے تھے اور گھر بھر میں چھوٹے بچوں کے کھیلنے کودنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں؛ وہ لیونگ روم، جہاں ہم بیٹھے تھے، سے ملحقہ باورچی خانے میں گھستے اور ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود کوکیز اور براؤنیز اڑا لے جاتے۔ سورج نے جب خود کو مغرب میں، نیچے تک اترے بادلوں، میں چھپانا شروع کیا تو ہم ان سے اجازت لے کر گھر لوٹے؛ ہمارے والد نے ان کے پیروں کو چُھو کر ان سے وداعی لی تھی۔

اگلی صبح ہم ابھی ناشتہ کر ہی رہے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی۔ ہماری تربیت میں شامل تھا کہ اگر والد صاحب موجود ہوں تو ہم میں سے کوئی فون تب تک نہیں اٹھاتا تھا، جب تک وہ نہ کہتے۔ عام طور پر وہ خود ہی فون اٹھاتے تھے۔ ہماری والدہ اٹھیں اور فون اٹھا کر ان کے پاس لائیں۔ انہوں نے فون اٹھایا ؛

“ہیلو، گڈ مورننگ”، انہوں نے بس اتنا ہی کہا اور دوسری طرف سے آتی آواز سنتے ہوئے ” جی۔۔۔۔۔ جی” ہی کہتے رہے۔ اور پھر فون رکھ کر انہوں نے اتنا ہی کہا

” بڑے چودھری صاحب فوت ہو گئے ہیں۔ میت تیار کرنے کے حوالے سے تیاری کر لو۔ “، وہ ہم دونوں سے مخاطب تھے۔ مجھے لگا جیسے ان کی آنکھیں نم آلود ہوں۔ انہوں نے ناشتہ ادھورا چھوڑا، چائے کا مگ اٹھایا اور بِنا کچھ کہے کمرے سے نکل گئے۔ ہماری والدہ بھی ان کے پیچھے پیچھے چل دیں۔

بھائی اور مجھے بڑے چودھری صاحب کی میت اُسارنے، سنوارنے اور سجانے میں چنداں دشواری پیش نہ آئی کیونکہ اتنی عمر کے باوجود ان کا جسم توانا تھا، کسی موذی بیماری نے ان کے جسم کو کھایا نہ تھا اور بڑھاپے نے بھی اِس جسم کا کچھ نہیں بگاڑا تھا۔ ان کے چہرے پر ایک ایسا سکون تھا جو ہم نے کم ہی کسی کے چہرے پر دیکھا تھا ؛ ہلکا پیازی غازہ ہی اس پُرسکون چہرے، گردن اور ہاتھوں کو نکھارنے کے لئے کافی ثابت ہوا تھا۔

تدفین کے وقت، جب ہم قبرستان میں تھے تو مجھے پتہ چلا کہ وہ رات کو کھانا کھا کر اپنی آل اولاد کے ساتھ ہنستے کھیلتے رات دیر تک جاگتے رہے تھے۔ انہوں نے رات بارہ بجے اپنے بچوں، پوتوں، پوتیوں، نواسوں، نواسیوں اور ان کے بچوں کا کورس میں گایا ‘ہیپی برتھ ڈے۔۔۔۔’ سنا تھا اور ان سب کے ماتھے چوم کر دُعا دیتے ہوئے سونے کے لیے لیٹے تھے۔۔۔۔ ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اسی روز، لگ بھگ پو پھٹنے کے وقت سوتے میں ہی دم دیا تھا۔