Categories
فکشن

بچھڑی کونج (رفاقت حیات)

معمول کے کام نمٹاکر وہ سستانے بیٹھی تو سوچ رہی تھی ’’کھا نا پودینے کی چٹنی سے کھالوں گی، بیٹے کے لیے انڈا بنا نا پڑے گا۔ پرسوں والا گوشت رکھا ہے۔ آلو ساتھ ملا کر شام کو سالن بنالوں گی۔‘‘ اس نے فریزر کھول کر گوشت کو ٹٹولا کہ پو را پڑ جائے گا یا نہیں۔پھر اسے ایک نیا کام یاد آ گیا۔

اس نے الماری سے بیٹے کے کپڑے نکالے اور استری کا سوئچ آن کر دیا۔اسے معلوم تھا کہ دھلا ہو ا پرانا جوڑا دیکھ کر وہ خفا ہو جائے گا۔ استری گرم ہوئی تو زردبتی بجھ گئی۔ وہ اسے قمیض پر پھیر رہی تھی کہ کسی نے گھنٹی بجائی۔ایک مردکی آواز بھی سنائی دی۔ وہ پریشانی میں سوچنے لگی۔ پڑو سیوں کا بچہ تو نہیں ہو سکتا کہ پتنگ چھت پر اٹک گئی ہو یا گیند آگری ہو۔ یہ تو مرد کی بھاری آواز تھی۔ اجنبی مرد کا خیال آتے ہی وہ سہم گئی۔

دوبارہ وہی آواز گھنٹی کے بغیر سنائی دی۔ ’’پوسٹ مین، رجسٹری آئی ہے۔‘‘

شہر میں گزا ری آدھی عمر کے بعد اب وہ پوسٹ مین کا مطلب سمجھنے لگی تھی۔ کچھ چیزیں۔کچھ الفاظ اب بھی ایسے تھے جو اس کی سمجھ سے بالا تر تھے۔مثلاً میٹر ریڈر، ٹی وی لائسنس انسپکٹر وغیرہ۔ اس نے دوہرا یا ’’ڈاکیہ۔‘‘ لیکن دوسرے لفظ ٹھیک طرح سن نہیں سکی۔

سیڑھیاں اتر تے ہوئے اسے اپنی اور گھر کی تنہائی کے علاوہ مرد کی اجنبیت کا مکمل احساس تھا۔

اس نے دروازہ کھولا تو چہرے کو دوپٹے سے ڈھانپ لیا اور اس کی آنکھیں خود بخود جھک گئیں۔

پوسٹ مین بڑبڑایا۔ ’’اور جگہ بھی ڈاک بانٹنی ہوتی ہے، رجسٹری ہے۔ یہاں دستخط کر دو۔‘‘ وہ آخری دو لفظ سمجھ سکی۔اس کا چہرہ لال بھبھو کا ہو گیا اور جسم انجانے احساس سے لرزنے لگا۔

کچھ سال پہلے اس کے بیٹے نے لکھائی پڑھائی شروع کروائی تھی۔ اس نے بھی حروف تہجی سے دو چارکاپیاں بھردی تھیں۔ پھر بیٹے کی سستی اور اپنی کاہلی کے سبب یہ سلسلہ ٹھپ ہو گیا۔

اس نے نام لکھنا تو سیکھ لیا مگر یہ نہیں سوچا تھاکہ غیر مرد کے سامنے دستخط کر نے پڑجائیں گے۔ وہ جانتی تھی کہ جب نام لکھے گی تو وہ آڑی ترچھی لکیروں جیسا نظر آئے گا۔

اس نے احتیاط کے ساتھ پوسٹ مین سے قلم لیا اور رعشہ زدہ ہاتھوں سے دستخط کیے۔

رجسٹری اس کے شوہر کے نام تھی۔ اس نے لفافے کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔اس کا رنگ اور سائز عام لفافوں سے مختلف تھا۔ دروازہ بند کر تے ہی اس نے لفافہ کھولا تو ایک کارڈبرآمد ہوا۔ وہ کارڈ نہیں پڑھ سکتی تھی، اس نے اندازہ لگایا، کسی شادی کا دعوت نامہ ہے۔ وہ بیٹے کی قمیض استری کرنے لگی۔ اس کا ذہن شادی کے متعلق قیافے لگا رہا تھا کہ کسی رشتہ دار کی ہے یا اس کے شوہر کے دوست کی۔ اس نے خود کو ملامت کیا کہ ڈاکیے سے پوچھ لیتی۔ یہ رجسٹری کہاں سے آئی ہے۔ اس تشویش سے اس نے پودینے کی چٹنی بنائی۔ انڈا تلا اور روٹی پکائی۔ بیٹے نے کالج سے آنے میں دیر کر دی۔ اس نے گلی میں بھی جھانک لیا۔

بیٹے نے سلام کر تے ہوئے کتابیں میز پر پھینک دیں اور بوٹ اتار نے لگا۔ وہ بوٹ کا تسمہ کھول رہا تھا کہ اس نے کارڈاس کے ہاتھوں میں تھما دیا۔

’’ذرا دیکھنا یہ کیا ہے۔‘‘ اپنے تجسس کو چھپاتے ہوئے اس کا چہرا سرخ ہو گیا۔

’’آپ کے بھائی کی بیٹی کی شادی ہو رہی ہے امی جان۔‘‘ وہ مسکراتے ہو ئے بولا۔

وہ ہنسنے لگی۔ ’’میں کہوں مجھے لگ رہا تھا کہ ضرور کسی رشتہ دار کی شادی ہے۔ گاؤں والوں نے بھی تر قی کر لی۔پہلے تو آدمی بھیجتے تھے بتانے کے لیے۔‘‘

’’میں کبھی گاؤں نہیں گیا۔امی میں جاؤں گا۔‘‘

’’تم کیوں، ہم ساتھ جائیں گے۔‘‘بیٹے نے خوشی کا نعرہ لگایا۔ انہو ں نے سفر کی منصوبہ بندی کر تے ہوئے دوپہر کا کھانا کھایا۔ وہ ذرا لیٹی تو سو نہیں سکی۔گرچہ فجر سے پہلے کی جاگی ہوئی تھی۔اس نے گاؤں والے مکان میں لاٹھی کے سہارے چلتی ماں کی تنہائی کو محسوس کیا۔ جس سے ملے بہت سال گزر گئے تھے۔ کیا ہوا، جو اسے چھوٹی بہن زیادہ عزیز ہے۔ کیا ہوا، جو مجھ سے محبت نہیں کر تی۔ اس نے خود کو نافرمانی پر کوسا۔ اس نے اپنے والد کو یاد کیا۔سفید داڑھی،سفید کرتا اور دھوتی۔

اس نے دیکھا کہ ان کے گرد فرشتے منڈلارہے تھے اور ان سے سرگوشیاں کر رہے تھے۔ ان کے ماتھے پر نماز کا نشان چمک رہا تھا۔ اس نے ان کے شکوؤں اور افسردگی کے متعلق سوچا جو انہیں اپنی قبر کی ویرانی کے متعلق تھی۔وہ جس کا خوابوں میں کئی مرتبہ اظہار کر چکے تھے۔ وہ کروٹیں لیتی رہی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اس کا شوہر کام سے آجائے تو حتمی پروگرام کی تشکیل کی جاسکے۔ بیٹا شام کی چائے پی کر ٹیوشن پڑھانے چلا گیا۔

وہ گھر کے خالی کمروں میں ٹہلتی رہی سیڑھیوں میں شوہر کے قدموں کی آواز سنتے ہی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے فوراً اس کے ہاتھ میں کارڈ تھما نا مناسب نہیں سمجھا۔وہ اسے چائے پیتے ہوئے دیکھتی رہی۔ کچھ دیر بعد بولی۔ ’’بھائی محمد خان کی بیٹی کی شادی کادعوت نامہ آیا ہے۔‘‘ اس نے کارڈ اپنے شوہر کو دے دیا۔اس نے پڑھتے ہوئے تیوری چڑھائی، پھر کھنکار کر ایک نظر اسے دیکھا۔ اسے اپنے شوہر کی آنکھیوں میں اندیشوں کی جھلک دکھائی دی۔ وہ صفائی پیش کر نے لگی۔ ’’تمہیں تو وطن کی یاد نہیں آتی،مردوں کا دل تو پتھر ہو تا ہے۔ کتنے سال گزر گئے۔ میرے دل سے تو ہوکیں اٹھتی ہیں۔ ماں کے لیے،بہنوں کے لیے اور موقع ایسا ہے کہ مجھے جانا ہی پڑے گا۔‘‘ اس کا شوہر چپ رہا۔ اس کے سوکھے ہونٹ مضبوطی سے جڑگئے۔ اس کا دایاں گال ایک دو بار تھر کا اور ساکن ہو گیا۔

وہ پہلو بدلتے ہوئے بولا۔ ’’محمد خان میر ی ماں کی فوتگی پر نہیں آیا تھا۔ تمہیں یاد ہے نا۔ اور ہماری بیٹی کی شادی پر بھی کچھ گھنٹے ٹھہر کر چلا گیا تھا۔ تمہیں کتنا افسوس ہوا تھا کہ اس نے جو کپڑے دیے تھے، کتنے گھٹیا سے تھے۔‘‘

اس نے بادل نخواستہ ہاں میں ہاں ملائی اور بھائی کے مزاج کی سخت گیری کو یاد کیا۔

اس کے شوہر نے کھنکار کر بات جاری رکھی۔ ’’دیکھو، کوٹ قاضی نزدیک تو نہیں ہے۔ صبح جائیں شام کو لوٹ آئیں۔ ایک دن اور ایک رات کا سفر ہے، پھر سردیوں کا موسم ہے۔تمہیں یہاں کے موسم کی عادت پڑگئی ہے۔ تمہاری بوڑھی ہڈیاں پالابرداشت نہیں کر سکیں گی۔ تمہاری صحت بگڑ گئی تو کوٹ قاضی میں ڈاکٹر بھی نہیں ہو گا جو تمہارا علاج کر سکے۔‘‘ وہ ڈاکٹر والی بات سن کر ہنسی اور اپنے شوہر سے مکمل اتفاق کیا۔

’’تم برادری والوں کے مزاج کو سمجھتی ہو۔ باتوں میں تیر پھینکتے ہیں۔ تم حساس ہو ان کی باتوں کا جواب نہیں بن پڑے گا۔ تم کڑھتی رہو گی، اسی وجہ سے تمہیں ٹی بی ہو نے لگی تھی۔ اچھا ہوا وقت پر پتہ چل گیا اور دوا شروع کر دی۔مجھے ڈر ہے کہ تمہاری بیمار ی نہ بڑھ جائے۔‘‘

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’تم جانتی ہو، ہمارے حالات اچھے نہیں کہ دو آدمیوں کے سفر کے اخراجات برداشت کر سکیں۔پھر بہنوں میں تم سب سے بڑی ہوا اور مد ت کے بعد جاؤگی تو کچھ دینا پڑے گا۔ نہیں دوگی تو وہ باتیں بنائیں گی اور دیکھو، دور رہتے ہو ئے حالات پر جو پردہ ہے اسے پڑا رہنے دو۔ہم ساجد کو بھیج دیں گے وہ بڑا ہو گیا ہے۔ کیوں، کیا خیال ہے۔‘‘

وہ اختلاف کر نا چاہتی تھی۔شوہر کی بیان کر دہ حقیقتوں کو مسترد کر نا چاہتی تھی لیکن اس نے چونک کر اس کی طرف دیکھے بغیر کہہ دیا ’’ہاں ٹھیک ہے۔‘‘ پھر وہ ان چیزوں کی بات کر نے کرنے لگی جو شادی کے لیے بھجوانی تھیں۔ اس نے ان چیزوں کا بھی ذکر کیا جو بھائی نے ان کی بیٹی کی شادی پر دی تھیں۔

وہ ان کی مالیت کا اندازہ لگاتے ہو ئے بولی۔ ’’وہ جوڑے چھ سو روپے سے زیا دہ کے نہیں۔ہاں دونوں کو ملا کر اور پانچ سو نقد بھی دیے تھے۔‘‘
وہ سوچ میں پڑگئی،وہ چاہتی تھی کہ زیادہ مہنگے کپڑے بھجوا ئے۔

اس نے اپنے شوہر کو بتایا تو اس نے اختلاف نہیں کیا۔ انہوں نے طے کر لیا کہ پانچ سو والے دو جوڑے خرید ے جائیں۔ ایک لڑکی اور دوسرا اس کے والد کے لیے اور ہزارروپیہ نقد بھجوایا جائے۔

اس نے تصور میں دیکھا کہ اس کی بھابھی کپڑوں کی خوبصورتی پر خوشی کا اظہار کر رہی ہے اور قیمت کا تعین کر تے ہو ئے اپنی نند کی امیری کا ذکر کر رہی ہے۔

اس کے شوہر نے اس کے تصور میں جھانک لیا۔
وہ بولا ’’ہمارے کپڑے عمدہ اور قیمتی ہوں گے اور ہماری کمی کی تلافی کر دیں گے۔‘‘
اس نے مسکراتے ہو ئے اپنے شوہر کو دیکھا۔

انہوں نے ساجد کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو وہ بہت خوش ہوا۔ایک لمبے عرصے کے متعلق سوچتے ہو ئے ساجد کو جو خیال سب سے پہلے سو جھا وہ سفری بیگ کے بارے میں تھا۔

وہ بولا ’’گھر میں کوئی بیگ نہیں ہے، میں سامان کیسے لے کر جاؤں گا۔‘‘ اس نے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’ہم اپنے وقتوں میں گٹھڑی استعمال کرتے تھے۔‘‘ پھر بیٹے کو بتا نے لگی کہ جہیز کے تین کپڑے لے کر جب وہ سسرال پہنچی تو اس کی گٹھڑی بہت میلی ہو گئی تھی۔

’’لیکن میں تو گٹھڑی لے کر نہیں جا سکتا۔‘‘
وہ متفکر لہجے میں بولی ’’ایک بیگ تھا تو سہی۔‘‘

’’وہ ابو کا پرانا بیگ ہے۔ میں جسے موچی سے سلوایا کرتا تھا۔ میں وہ لے کر جاؤں گا۔‘‘
’’تم نیا بیگ لے کر جاؤ گے۔‘‘ اس کے والد نے کہا۔

اگلے دن اس کا شوہر کام سے لوٹا تو ایک بیگ اس کے ہاتھ میں تھا۔ وہ ساجد کے ٹھاٹھ کے متعلق گاؤں والوں کے ردعمل کی باتیں کر تے رہے۔
دو روز بعد وہ مارکیٹ گئی تو خفیہ طور پرپس انداز کی ہوئی رقم لیتی گئی۔

ساجد نے اپنے لیے کپڑے پسند کیے جبکہ شادی والے کپڑے خریدتے ہوئے اس نے بیٹے کا کوئی مشورہ نہیں مانا۔اس نے بیٹے کے لیے دوسری چیزیں بھی خریدیں۔ مثلاً جرا بیں، رومال اور بنیانیں اور اسے سمجھا دیا کہ اپنے والد کو ان کی بھنک نہ پڑنے دے۔

شام کو اس کے شوہر نے چیزیں دیکھیں تو خوب تعریفیں کر تا رہا۔ساجد کی روانگی سے دو روز پہلے انہوں نے رات گئے تک باتیں کیں۔
اس کا شوہر بیٹے کو بتاتا رہا کہ اس نے کتنی مشکلوں سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ اسکول گاؤں سے دس میل دور قصبے میں واقع تھا۔

جہاں سواری نہیں جاتی تھی۔وہ جمعے کی چھٹی گزار کر آدھی رات کو سفر کا آغاز کر تا۔ ہاسٹل میں پانی بھی نہیں تھا اس کے پاس یونیفارم کے علاوہ ایک اور جوڑا تھا۔وہ جسے گاؤں آتے ہو ئے پہنتا تھا۔

وہ بھی گزری ہوئی زندگی کے تار چھیڑتی رہی۔اس کا والد اسے فجر سے پہلے جگا دیتا تھا۔ نماز پڑھ کے وہ مویشیوں کو چارہ ڈالتی تھی۔ وہ ناشتے کے بعد کھیتوں پر چلی جاتی تھی۔ اسے فخر تھا کہ وہ بیٹوں کی طرح باپ کے ساتھ کام کر تی تھی۔ساجد جماہیاں لیتے ہوئے ان کی گفتگو سنتا رہا۔
اس نے جاڑے سے کڑکتی رات کا پرانا قصہ دوہرا یا۔ وہ لوٹا اٹھائے رفع حاجت کے لیے کھیت میں گئی تھی۔ اسے نزدیک ہی، دھیمی سی شو نکار سنائی دی تھی۔ اس نے پیتل کے لوٹے سے ایک سانپ کا سر کچل دیا تھا۔ اس نے بتایا کہ پالے کے باوجود اسے پسینہ آگیا تھا۔

وہ الماری سے نیلی شال اٹھا لائی۔اسے اپنے گرد لپیٹ کر چومتے ہوئے بولی یہ میرے جنتی باپ کی نشانی ہے۔وہ اسے اوڑھ کر عبادت کر تا تھا۔ شام کو چوپال میں بیٹھتا تھا۔ میں اس شرط پہ دوں گی کہ تم ہر حال میں اسے واپس لاؤ گے۔ بیٹے نے ہنستے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ کسی کو شال ہتھیانے نہیں دے گا۔اس کا شوہر اپنی واسکٹ پہن کر سامنے آ یا تو اسے دیکھ کر وہ ہنسی میں لوٹنے لگی۔ وہ کسی ماڈل کی طرح پوز مارتے ہوئے کہنے لگا۔ ’’آٹھ سال پہلے خریدی تھی، مگر دیکھو نئی لگتی ہے۔ تم اسے پہن کر دیکھو، کسی وزیر کے بیٹے لگو گے۔‘‘

نہ چاہتے ہوئے بھی ساجد نے واسکٹ پہن لی۔سپر ایکپریس میں ریزرویشن کرائی گئی، ساجد کو اگلے دن روانہ ہونا تھا۔

وہ جانتی تھی، ریل پچیس گھنٹے میں آخری اسٹیشن تک پہنچے گی۔ پھر تین گھنٹے بس کا سفر تھا۔ اسے بس وہیں اتار ے گی جہاں سے پچیس سال پہلے اس کی رخصتی ہوئی تھی۔ سڑک پر دو ویران ہوٹل، کریانے کی دوکان اور شیشم کے دو ٹنڈمنڈ درختوں کے نیچے سائیکل والے اور موچی کا بکھرا ہو ا سامان۔وہ جگہ اسے اچھی طرح یادتھی۔ وہاں پہنچتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی۔

ذہن میں یادیں اور سانسوں میں خوشبو امڈآتی تھی۔ بل کھاتی سڑک کے آخری کونے پر ٹیلے کے پیچھے گاؤں کی ہر گلی اور مکان آنکھوں میں گھس آتے تھے۔اسے معلوم تھا وہاں کوئی چیز نہیں بدلی ہو گی۔صرف کچھ بوڑھے مر گئے ہوں گے اور نئے بچے پیدا ہو ئے ہوں گے۔
بیگ میں سامان رکھتے ہوئے اسے کچھ نہ کچھ بھول جاتا۔ٹوتھ برش، کنگھی، تو کبھی پالش۔
اس نے بیگ کو گنجائش سے زیادہ بھر دیا۔وہ مشکل سے بند ہو سکا۔
ساجد چیخ اٹھا۔ میں ہفتے کے لیے جا رہا ہوں، عمر بھر کے لیے نہیں۔
سفر میں بیٹے کے کھانے کے لیے اس نے مزید اور چیزیں بنائیں۔آلو کے پراٹھے اور میٹھے آٹے کی ٹکیاں۔

رات کو وہ اسے نصیحتیں کر تی رہی کہ نانی کے ہاں قیام کرے۔ ایسا نہ ہو کہ کسی پھوپھی کے گھر سامان رکھ دے۔ جو کوئی بھی ان کے حالات کے متعلق پوچھے وہ بتادے کہ بہت اچھے ہیں۔ اگر کوئی اس کی دعوت کر نا چاہے تو رواج کے مطابق کہہ دے۔ پہلے نانی سے اجازت لے لیں۔اس نے سمجھایا کہ وہ ساری خالاؤں کے گھر جائے۔اگر کوئی پیسے دینا چاہے تو مت لے۔ البتہ دوسری شے ہو تو قبول کر لے۔

اس نے اپنے شوہر سے چھپ کر سرگوشی میں اسے بتایا کہ اس نے اس کی نانی کے لیے سفید چادر بیگ میں ڈال دی تھی اور اگر بتیوں کا پیکٹ بھی۔ جس کے لیے اس نے تاکید کی کہ وہ قبرستان جائے اور نانا کی قبر پر انہیں لگائے۔ اور تین درود شریف اور تین قل ھو اللہ پڑھ کر ان کے ایصال ثواب کے لیے دعا کرے۔

اس نے دھیمے لہجے میں ایک بات کہی جسے سن کر اس کا بیٹا ہنسی میں لوٹنے لگا۔ اس کا شوہر بھی مسکرادیا۔ اس نے نصیحت کی تھی کہ ان کے کھیت میں ایک بے کار کنویں کے پاس مٹی کی ایک ڈھیری تھی۔ وہاں اس کے والد کی گدھی دفن تھی۔ جس نے بار برداری کے لیے ان کی خدمت کی تھی۔ وہ اس کے لیے بھی دعا کرے۔

گمشدہ نیند کی وجہ سے وہ دیر تک اپنے شوہر سے باتیں کر تی رہی۔بیٹا تو کب کا سو چکا تھا۔وہ شکایت کر تی رہی کہ اس نے گاؤں والی زمین بیچ دی۔ مکان اپنی بہن کو دے دیا اب ہم اجنبیوں کی طرح وہاں جائیں گے جیسے اس مٹی سے عارضی تعلق ہو۔ اپنا گھر ہو تا تو مہمان بننے کی نوبت نہ آتی۔
وہ شوہر کی نیند سے بے خبر بولتی رہی۔

وہ کھاٹ سے اتری تو شوہر کا سویا ہوا چہرہ دیکھ کر بڑبڑا ئی۔

غسل خانے سے نکل کر بیٹے کے کمرے میں گئی۔اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔پھر وہاں ٹھہر کر سوچنے لگی۔ کل رات سفر میں گزرے گی۔پرسوں وہ گاؤں پہنچ جائے گا۔
اس نے آہ بھر تے ہوئے اپنے بیٹے کو دیکھا اور دو بارہ کھاٹ پر جا لیٹی۔

Categories
فکشن

عامر صدیقی کے تین افسانے

کارنس

’’میں اسے گڑیا سے کھیلنے نہیں دوں گی۔‘‘
کمرے کے سناٹے کو چیرتی، تین سایوں میں سے ایک کی سرگوشی ابھری۔۔۔۔۔۔اور دلوں میں اتر گئی۔۔۔۔
۔۔۔سنگدلی، سفاکیت، پختہ ارادہ
۔۔۔تذبذب، نیم دلی،پس و پیش
۔۔۔مظلومیت،بے بسی، تاریکی
’’چوں چوں چوں‘‘
’’اس کارنس کو صاف کرو۔۔۔۔سارے گھر کو بھنکادیا ہے۔جہیز میں اور تو کچھ لائی نہیں کلموہی، سوائے ان منحوس پرندوں کے۔۔۔ ‘‘
۔۔۔تہمت، بہتان، اتہام
۔۔۔تردد،نیم رضامندی، فرمانبرداری
۔۔۔نصیب، قسمت،آنسو
’’چوں چوں‘‘
’’بس میں نے کہہ دیا، اس گھر میں گڑیا نہیں آنے دوں گی۔۔۔۔‘‘
’’میں بھی۔۔۔۔۔۔‘‘
’’میں گڑیا سے ہی کھیلوں گی۔۔۔۔‘‘
’’چوں چوں چوں‘‘
’’کارنس سے گند ہٹاؤ ابھی۔۔۔۔۔‘‘
۔۔۔بدبو، تعفن، سرانڈ
۔۔۔قصد، عزم،کارروائی
۔۔۔چیخیں، سسکیاں، کراہیں
’’چیں چیں چیں‘‘
’’چیں چیں چیں‘‘
خون،سفیدی، زردی
زردی، سفیدی، خون


الگنی کی تلاش میں بھٹکتا پیار

’’جھاگ نہیں بن رہا۔‘‘
’’تھوڑا پاؤڈر اور ڈالو نا۔‘‘
’’بہت جھاگ بن جائے گا۔‘‘
’’تمہارا کیا جاتا ہے۔‘‘
’’میرا کیا جائے گا؟ میرا ہی تو جاتاہے۔۔۔اچھااسے بھی دھو ڈالو،اوراسے بھی۔‘‘
’’جھاگ مرجائے گا۔۔۔‘‘
’’کام چل جائے گا۔ ‘‘
’’بہت مشکل ہے۔ویسے بھی الگنی چھوٹی ہے۔‘‘
’’الگنی بڑی کئے دیتا ہوں۔‘‘
’’مگر جھاگ کا کیا؟اوراب پاؤڈر بھی نہیں۔‘‘
’’تم کیا ان سے دھوتی ہو۔‘‘
’’کون میں ؟ اور کس سے بھلا۔تم کیا سمجھے؟‘‘
’’میں سمجھا۔۔۔۔‘‘
’’کیا سمجھے؟‘‘
’’ارے جھاگ نیچے گر رہا ہے۔‘‘
’’کچھ نہیں، لاؤکیا دھونا ہے،کیازندگی؟‘‘
’’رائیگاں گئی۔‘‘
’’قسمت؟‘‘
’’وہ تو پھوٹی نکلی۔‘‘
’’روپیہ پیسہ۔‘‘
’’ہاتھوں کا میل تھا۔ سواتار پھینکا۔‘‘
’’توجوانی۔‘‘
’’اسے ادھارپرلیا تھا، واپس کردی۔‘‘
’’عزت۔‘‘
’’ٹکے بھاؤ بیچ دی۔‘‘
’’شہرت۔‘‘
’’بہت داغدار ہے۔تمہارے بس کی بات نہیں۔‘‘
’’پھرحوصلے کا کیا۔‘‘
’’ماند پڑ گیا۔‘‘
’’اورجذبات۔‘‘
’’ان کا رنگ پھیکا پڑگیاہے۔‘‘
’’حسن ہی سہی۔‘‘
’’اب کہاں، ناپید ہوچکا۔‘‘
’’بشاشت۔‘‘
’’اس پرحالات کا پکا رنگ چڑھ چکاہے۔اب یہ نہ اترے گا۔‘‘
’’تو پھر اپنی کھال ہی اتار کردو۔‘‘
’’کئی بار اتاری جا چکی، اب اتاری تو پھٹ جائے گی۔‘‘
’’جب کچھ دھلوانا ہی نہیں تو اتنا جھاگ کیوں بنوایا؟‘‘
’’پیار کو جو دھلوانا تھا۔‘‘
’’فقط ایک پیارکو؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’پکا۔‘‘
’’پکااورہاں خوب رگڑ رگڑ کر دھونااور اچھی طرح نچوڑنا۔‘‘
’’ارے کتنا گندہ ہے۔‘‘
’’ہاں صدیوں سے یونہی جوپڑا تھا، کسی الگنی کی تلاش میں۔‘‘


بیر بہوٹی کی تلاش میں

میں بیر بہوٹی کی تلاش میں تھا۔
میں کہاں کہاں نہیں بھٹکا۔
نامعلوم اور خوابیدہ عدم کو ممکنات میں لے آیا۔
ساتوں آسمان، تمام جنتیں، سارے جہنم۔
یہاں تک کہ تخلیق کی دیوارِ گریہ تک بھی جا پہنچا۔
چیخوں اور کراہوں کی موسلادھار بارش کی پھسلن کو ان دیکھا کرکے۔
ناامیدی کے بھنور میں امید کے پر لگا کر
روح کی بے کسی کو متاعِ عزیزجان کر
بدن کی شکستگی و کہنگی کو مومیائی بنا کر
نفس کی منہ زوری کو لگام ڈال کر
ہر خواہش، ہر امید، ہر تمنا، ہر چاہت کوپیچھے د ھکیلتے۔۔۔۔
فقط بیر بہوٹی کو پانے کی چاہ میں۔۔۔۔۔
ایک جھلک دیکھنے کی آرزو میں۔۔۔۔۔
میں دیوار پر چڑھ گیا۔اوراب میرے سامنے تھے،تمام مناظر،تمام موجودات۔۔۔ ساحل پر پڑی کسی مردہ سیپ کی مانند۔۔۔ بے ٹھور۔۔۔بے سدھ۔۔۔بے بال وپر۔۔۔بے پا۔۔۔۔بے بود۔۔۔ مگر بیر بہوٹی۔۔۔ بیر بہوٹی کہاں تھی۔۔۔
کسی نے مجھ سے کہا تھا۔۔۔
’’ اس کی تلاش تو بہت آسان ہے۔۔۔
اسے پانی کی تلاش ہے۔۔۔۔
توُ اسے پانی کی بھینٹ دے اور وہ تجھے مل جائے گی۔۔۔‘‘
پر میں نہ مانا۔ میں مان بھی نہیں سکتا تھا۔ میرے اندر یہ صلاحیت ہی نہیں تھی۔
’’پانی جیسی حقیر شے۔۔۔ مجھے بیر بہوٹی کے شایانِ شان نہیں لگتی۔۔‘‘
’’مجھے معلوم ہے کہ تُو ماننے والا نہیں۔۔۔اگر ماننے والا ہوتا تو بھلا بیر بہوٹی کی تلاش ہی کیوں ہوتی تجھے،وہ خود تجھ تک پہنچ جاتی۔ جا پھر اسے اپنے طریقے سے تلاش کر۔‘‘
سوچوں کو پرے ڈال کر میں دیوار سے نیچے اترا۔۔۔۔اور بڑبڑایا،’’اگر اسے پانی کا ہی تحفہ دینا ہے تو یہ پھر میرے مطابق ہو گا۔۔۔’’میں‘‘۔۔۔ میں ہوں۔۔کوئی مشت غبار تو نہیں ہوں۔۔‘‘
اب میں ساتوں سمندروں کی جستجو میں تھا۔ بیر بہوٹی کے لئے، اس کی شان کے مطابق، تحفے کی تلاش میں۔۔
اور
وہیں دور کہیں،کسی سوکھے صحرا میں لب دم کوئی شخص،اپنی بے بسی پر بے اختیاررو پڑا۔۔اس کی آنکھوں سے چند قطرے گرے۔۔۔اور ریت میں جذب ہوگئے۔۔۔
بہر بہوٹی کو اس کی بھینٹ مل گئی تھی۔۔۔۔۔
Image: Wassily Kandinsky

Categories
فکشن

نیند کے خلاف ایک بیانیہ

[blockquote style=”3″]

خالد جاوید کا یہ افسانہ اشعر نجمی کی زیر ادارت شائع ہونے والے ادبی رسالے “اثبات” کے شمارہ نمبر چار اور پانچ کا حصہ ہے۔ ہم اشعر نجمی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے “اثبات” جیسے معیاری رسالے کو آن لائن قارئین تک پہنچانے کی اجازت عنایت کی۔

[/blockquote]
اثبات میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

نیند کے خلاف ایک بیانیہ
تحریر: خالد جاوید
(شمس الرحمن فاروقی کے نام)

وہ جو ایک کتے کی طرح گم ہو جائے گا، آخر میں ایک دیوتا کی طرح دریافت کیا جائے گا۔
(یہودا امی خائی)

(۱)
ڈاک گھر اور ڈاکیے

ادھر کچھ عرصے سے لگاتار چند قصہ گو حضرات کے ساتھ رات کو دیر تک وقت گزارنے کی وجہ سے میرے اندر بھی یہ خبط پیدا ہونے لگا ہے کہ میں کچھ لکھوں۔ یہ خبط یا شوق مجھے زندگی میں پہلی بار ہوا ہے اور میرا خیال ہے کہ ابھی بھی نہ ہوتا ، اگر چند ماہ پیشتر میری بیوی طاعون کا شکار ہوکر مر نہ گئی ہوتی۔ حالاں کہ جب اسے پلیگ ہوا تو وبا تقریباً اپنے خاتمے پر ہی تھی ، کیوں کہ محلے کے سرکاری شفا خانے میں اسی دن سیاہ دیوار پر چاک سے آخری کراس بنایا گیا تھا۔ سرکاری شفا خانے کی عقبی دیواریں کالے رنگ کی ہیں۔ اسی دن، سوائے ایک لڑکھڑاتے ہوئے مریل سے چوہے کے، جس کے منھ سے خون کی لکیر پھوٹ رہی تھی، دوسرا کوئی چوہا بھی علاقے میں نظر نہیں آیا۔ مگر کسی بھی وبا میں پہلی یا آخری موت بہرحال انفرادی اور امتیازی نوعیت کی حامل ہوا کرتی ہے۔

مغرب کی اذان کے وقت ، جب وہ مررہی تھی تو اس کا بخار سے تپتا ہوا جسم حیرت انگیز طور پر پسینے چھوڑتے ہوئے ٹھنڈا ہونے لگا۔ میرے دونوں بچے (بڑا تیرہ سال کا ہے اور چھوٹا بارہ کا) پلنگ کے پائنتی بیٹھے اس کا پاؤں سہلا رہے تھے کہ اچانک اس کے منھ اور ناک سے ڈھیر سارا خون باہر آیا۔ میں نے بیوی کے سرہانے سے اٹھ کر اپنے دونوں ہاتھ اس کی بغلوں میں دیتے ہوئے اسے سہارا دیتے ہوئے اٹھانے کی کوشش کی مگر اس کا سارا جسم شل اور بے جان ہوگیا تھا۔ وہ تو نہ اٹھ سکی مگر میری دونوں ہتھیلیاں اس کی بغلوں میں ابھری ہوئی طاعون کی بڑی بڑی گانٹھوں سے ٹکرا کر رہ گئیں۔ گانٹھوں سے رسنے والی پیپ سے میری انگلیاں گیلی ہوگئیں۔

میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔ مجھے بے حد کراہیت اور گھن محسوس ہوئی بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اس وقت اس کے منھ اور ناک سے نکلتے خون اور بغلوں اور رانوں کے درمیان گانٹھوں سے رستے بدبو دار مواد کی وجہ سے مجھے اس نیک بخت کی موت کا صدمہ محسوس ہی نہ ہوسکا۔ میں نے یہ بھی سوچا کہ یہ بس آخری بار ہے یعنی یہ گندگی ، یہ تعفن اور شب بیداریوں کے سبب جاگتی جلتی آنکھیں جو کہ ایک تیماردار کا ازلی مقدر ہوتے ہیں۔

مگر میں یہاں اپنی بیوی کے بارے میں یا اس کی بیماری اور موت کے بارے میں یوں ہی لکھ بیٹھا ہوں، شاید اپنے اناڑی پن اور ناتجربہ کار ہونے کے سبب۔میری سات پشتوں میں بھی کسی نے اپنے بارے میں، اپنی زندگی کے بارے میں یا اپنے احساسات و جذبات کے بارے میں کچھ نہ لکھا ہوگا۔ میں نہ تو کوئی ادیب ہوں اور نہ کوئی کاتب یا منشی۔ میں تو ایک معمولی ڈاکیہ ہوں۔ جی ہاں ! ایک بے حد معمولی اور حقیر ڈاکیہ جس کی انگلیوں کو اس طرح سے قلم پکڑنے کی عادت ہی نہیں ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے ہی عرض کیا کہ اگر وہ یعنی گھر والی مر نہ گئی ہوتی تو میں شاید اس وقت گہری نیند سو رہا ہوتا۔ مگر ٹھہریے، اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ میں نے اس کی موت سے متاثر ہو کر کچھ لکھنا شروع کردیا ہے جس طرح میں نے سنا ہے کہ شاعر لوگ کرتے رہتے ہیں۔ میں جو لکھ رہا ہوں ، اس کی نوعیت ادبی یا علمی قسم کی نہیں ہے۔

ہوا دراصل یوں ہے کہ بیوی کے مرنے کے بعد میرے لیے رات کاٹنا مشکل ہو گیا ہے۔ بچوں کی دیکھ بھال کے لیے میں نے اپنی ایک بیوہ بہن کو گاؤں سے بلوا لیا ہے۔ میں صبح آٹھ بجے اپنی وردی پہن کر ڈیوٹی کے لیے سائیکل پر گھر سے نکلتا ہوں۔ ڈاک خانے پہنچ کر اپنے حصے کی ڈاک وصول کرتا ہوں، پھر اس ڈاک کو جس میں سینکڑوں چٹھیاں ، منی آرڈر، پارسل وغیرہ ہوتے ہیں، سائیکل کے کیرئیر پر لاد کر اپنے علاقے میں بانٹنے نکل جاتا ہوں۔ آج کل میرے پاس دادو کا کنواں نام کا محلہ ہے۔ شام کو جب تھکا ہارا گھر واپس آتا ہوں تو سب سے پہلے اپنی وردی اتار کر دیوار پر لگی ہوئی کھونٹی پر ٹانگ دیتاہوں۔ میرا چھوٹا بیٹا وردی کو پلک جھپکائے بغیر دیکھتا رہتا ہے۔ خیر اس تفصیل میں جانے سے کیا فائدہ؟ بہرحال جب رات کو کھانے کے بعد گھر سے نکلتا ہوں تو محلے کے کچھ شناسا لوگ مجھے اپنے ساتھ چبوترے پر بٹھا لیتے ہیں۔ ہیں تو یہ بالکل ان پڑھ لوگ، مگر بلا کے قصہ گو۔ یا پھر یوں کہیں کہ اول نمبر کے غپی لوگ۔ آج کل گرمیاں ہیں۔ رات کو یہ سب طرح طرح کے قصے سناتے رہتے ہیں۔ بھوت پریتوں کے قصے، سنیما کے قصے، شکار کے اور فاحشہ عورتوں کے قصے۔ میرا وقت واقعی اچھا کٹ جاتا ہے۔ اب ان کی یہ اوٹ پٹانگ قصے سن سن کر میرے دل میں بھی یہ خواہش بڑی شدت سے پیدا ہوئی ہے کہ میں بھی کچھ سناؤں یا کہوں۔ لیکن میں بڑا جھینپو اور دبو قسم کا انسان واقع ہوا ہوں، اسی لیے میں نے سوچا کہ بجائے کہنے کے، کیوں نہ میں کچھ لکھنا شروع کردوں۔ کہنے اور لکھنے میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ لکھتے وقت آدمی زیادہ جھوٹ نہیں بول سکتا ، جب کہ قصہ گوئی ، بلکہ میں تو کہوں گا کہ ہر قسم کی گفتگو زیادہ تر جھوٹ کا پلندہ ہی ہوتی ہے۔ میرا کام تو ویسے بھی لکھے گئے الفاظ کو ہی اِدھر سے اُدھر کرنا ہے۔ آخر کو میں ایک ڈاکیہ ہوں نہ۔

اسی لیے اب میں نے سوچا ہے کہ اپنے بارے میں، اپنی زندگی کے بارے میں کیوں نہ کچھ نہ کچھ لکھتا رہوں۔ حالاں کہ مجھے یہ بھی علم ہے کہ اپنے بارے میں یا اپنی زندگی کے بارے میں کچھ بھی لکھنا، میرے لیے شاید ڈاک گھر اور ڈاکیوں کے بارے میں لکھنے کے ہی برابر ہوگا۔ ویسے ایمان کی بات تو یہ ہے کہ آدمی کو جہاں تک ہو سکے، ذاتی یا نجی باتوں کے بارے میں کم سے کم لکھنا چاہیے۔ یہ باتیں ہوتی ہی کیا ہیں سوائے نفرت یا محبت یا پھر غصے یا انتقام وغیرہ کے بارے میں ….ناپختہ تجربوں کے سوائے ان میں کیا ہوتا ہے۔ ذاتی یا نجی باتیں بدلتی رہتی ہیں۔ وہ تقریباً اس قصے کی طرح ہوتی ہیں جو ہر بار سنانے میں اپنے بارے میں کچھ نہ کچھ اضافہ ، تبدیلی یا ترمیم کر لیتے ہیں۔ نجی واقعات چاہے وہ کتنے ہی ٹھوس انداز میں کیوں نہ پیش آئے ہوں، ایک نہ ایک دن سفید جھوٹ ہی ثابت ہوتے ہیں۔ لہٰذا میرا خیال ہے کہ لکھنے کے لیے اور بہت سی باتیں ہیں، مثلاً ڈاکیوں کی، ڈاک گھروں کی، ریلوے اسٹیشنوں کی، گلیوں کی، محلوں کی وغیرہ وغیرہ۔

تو جب میں اپنی سائیکل پر دن بھر کی ڈاک لاد کر سڑکیں ناپنے چلتا ہوں تو ایک عجیب سی طمانیت کا احساس ہوتا ہے۔ پتلی سے پتلی گلیاں، یہاں تک کہ بند گلیاں تک مجھے آسمان پر جانے والی سیڑھیاں محسوس ہوتی ہیں جن پر گویا میں تیزی سے چڑھتا جاتا ہوں۔ ابھی حال میں ریڈیو پر خبر سنی تھی کہ آدمی چاند تک پہنچ گیاہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو مجھے لگتا ہے کہ چاند پر پہنچنے کے لیے اس نے جو سفر طے کیا ہوگا، وہ میرے اس روز کے چٹھی پہنچانے تک کے سفر کے برابر ہی مسرت آگیں رہا ہوگا۔ یہاں میرے اس چھوٹے سے شہر کے آس پاس ندیاں بہت ہیں۔ کبھی کبھی مجھے ان کے کنارے، دلدل پر بھی چلنا ہوتا ہے۔ وہاں میری سائیکل کے پہیے بھی کبھی کبھی دھنس جاتے ہیں مگر مجھے وہ دلدل اس دنیا کی نہیں بلکہ بہشت کی دلدل نظر آتی ہے۔

مگر مجھے علم ہے کہ سب ہی ڈاکیے اس طرح سے نہیں سوچتے۔ بہت سے تو اپنی نوکری کو کوستے بھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس بارے میں بھلا میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ ہاں، اتنا تو ہے کہ ڈاکیوں کی نوکری میں خطرے بھی بہت رہے ہیں۔ پرانے زمانے میں لوگ بتاتے ہیں کہ ہر ڈاکیے کے ساتھ میں ایک ڈھول بجانے والا بھی رہتا تھاجو جنگل کے خطرناک راستوں سے گزرتے وقت زور زور سے ڈھول بجاتا رہتا تھا تاکہ جنگلی جانور وہاں سے بھاگ جائیں۔ بہت رات ہوجانے پر ڈاکیے کے ساتھ دو مشعلچی اور دو تیر انداز بھی چلا کرتے تھے۔ میں نے کل اپنے چھوٹے لڑکے کو بتایا کہ ایک بار تو ایسا ہوا کہ ایک ڈاکیے کو شیر اٹھا کر لے گیا۔ ایک ڈاکیہ بے چارہ ندی کی باڑھ کی زد میں آکر ڈوب گیاتھا۔۔۔۔۔۔اور بھی کتنے قصے ہیں۔ نہ جانے کتنے ڈاکیوں کو زہریلے سانپوں نے ڈس لیا ۔ بہت سے کسی چٹان کے پھسلنے سے یا ملبے میں دب کر مرگئے۔ لٹیروں اور ٹھگوں نے بھی بہت سے ڈاکیوں کو راستے میں لوٹ کر قتل کیا ہے۔ مگر یہ سب پرانی باتیں ہیں، بہت پرانی۔ اب کسی ڈاکیے کو اس طرح کے خطرات کا سامنا نہیں ہے۔

کچھ دنوں سے اپنے چھوٹے لڑکے میں ایک عجیب بات میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ اسے ڈاکیوں کی باتوں اور ڈاک خانوں کے تذکروں میں غیر معمولی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔ میں اس کی طرف سے تھوڑا سا فکرمند بھی ہوں۔ اب میں کیسے لکھوں۔۔۔۔بات تو ہے بے حد ذاتی نوعیت کی مگر لکھ دینے میں بھی کیا حرج ہے۔ اب آدمی اس طرح کی باتیں لکھنے سے بالکل ہی تو بچ نہیں سکتا۔

اصل میں، میرا یہ چھوٹا ان دنوں پیدا ہوا تھا جب شہر میں طاعون پھیلا ہوا تھا۔ یہ خدا کی مہربانی ہی تھی کہ ان دنوں ہمارا گھر وبا سے پوری طرح محفوظ رہا۔ اب سوچا جائے تو یہ بھی بڑی عجیب بلکہ مضحکہ خیز سی بات ہے کہ طاعون کی زد میں آکر ہی میری بیوی، یعنی اس کی ماں خدا کو پیاری ہوئی اور طاعون کے زمانے میں ہی یہ کم بخت پیدا ہوا تھا۔ بہر نوع، یہ سب تو مشیت ہے۔ اللہ کی جو مرضی۔ ادھر کے اطراف میں تو طاعون پھیلتا ہی رہتا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ چھوٹے کا سر کچھ نہ کچھ چوہے سے ملتا جلتا ہے۔ خیر وہ بھی ایسی کوئی بات نہیں۔ بہت سے لوگوں کے سروں کی بناوٹ کسی جانور کے سر سے مشابہ ہوتی ہے۔ کسی کا سر گھوڑے سے ملتا جلتا ہے تو کسی کا بلڈاگ کے سر سے۔ مگر بات یہ ہے کہ وہ مجھے دماغی طور پر کچھ کمزور محسوس ہوتا ہے۔ خدا کرے کہ یہ میرا وہم ہی ہو۔ ویسے وہ اسکول پابندی سے جاتا ہے۔ (بڑے لڑکے کو تو سوائے محلوں کے لونڈوں کے ساتھ اودھم مچانے کے اور کوئی کام ہی نہیں ہے۔)

مگر چھوٹا۔۔۔۔۔وہ آخر اپنی عمر کے بچوں کے ساتھ کھیلتا کیوں نہیں؟ بس ڈاکیوں اور ڈاک گھروں کے بارے میں پوچھ پوچھ کر میری جان کیوں کھاتا رہتا ہے؟ اور جب میں اسے جو کچھ بھی جانتا ہوں، وہ بتاتا ہوں تو بجائے بچوں کی طرح خوش ہونے کے، کچھ سنجیدہ سا ہو جاتا ہے یا پھر کہیں دور خلا میں ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہتا ہے۔میں نے اسے ڈاکیوں کے بارے میں بہت سے دلچسپ قصے بھی سنائے ہیں۔ اصل میں یہ من گھڑت قصے ہی ہوں گے، کیوں کہ انھیں میں بھی اپنے بچپن سے سنتا چلا آیا ہوں۔ مثال کے طور پر جاڑوں کی سرد اور ویران راتوں میں ایک ڈاکیے کا بھوت سنسان گلیوں میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ رات کے ٹھیک دو بجے کسی کا دروازہ کھڑکتا ہے۔۔۔۔۔۔’’تار۔تار‘‘۔ اور جو کوئی بھی اٹھ کر تار لینے کے لیے دروازہ کھولتا ہے، اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔
اسی طرح یہ بھی مشہور ہے کہ ایک چھوٹے سے گاؤں کے ویران سے ریلوے اسٹیشن پر سال میں ایک رات ایسی بھی آتی ہے جب رات کے دو بجے وہاں پہنچنے والی طوفان میل سے ڈاک کا ڈبہ آپ ہی آپ کٹ کر الگ ہوجاتا ہے۔ ٹرین ایک منٹ وہاں رکنے کے بعد روانہ ہوجاتی ہے ۔ مگر ڈاک کا وہ کٹا ہوا لال رنگ کا ڈبہ ، آپ ہی آپ، بغیر انجن کے اندھیری رات میں خاموش جھاڑیوں سے گھری ویران ریلوے کی پٹریوں میں نہ جانے کہاں کہاں بھٹکتا پھرتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ میرا تو اس اسٹیشن پر جانے کا کبھی اتفاق ہوا نہیں مگر بتانے والے بتاتے ہیں کہ غدر کے زمانے میں بہت سے سرکاری محکموں کے ساتھ ڈاک گھر بھی نشانہ بنے تھے۔ تب، ایک رات جب ڈاک گھر میں آگ لگائی جارہی تھی، اپنی جان پر کھیل کر کچھ فرنگی ڈاکیے وہاں کی ڈاک کو طوفان میل سے منسلک ڈاک کے ڈبے میں کسی نہ کسی طرح رکھ دینے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ مگر آخری وقت میں انقلابیوں نے ڈاک کے اس لال ڈبے کو ٹرین سے کاٹ کر الگ کردیا تھا اور اس میں آگ لگا دی تھی۔ بالکل اسی طرح، جس طرح انھوں نے وہاں تک ڈاک لانے والے فرنگی ڈاکیوں کے سر دھڑ کاٹ کر الگ کر دیے تھے اور پھر ان کی لاشوں کو آگ لگادی تھی۔

کہتے ہیں کہ تب سے لے کر اب تک ہر سال اسی تاریخ کو رات کے دو بجے، سر کٹے ہوئے اور جلی ہوئی وردی پہنے چند ڈاکیے اسی اندھیرے اسٹیشن پر لالٹین ہاتھ میں لیے گھومتے نظر آتے ہیں اور طوفان میل سے ڈاک کا ڈبہ کٹ کر ریلوے لائینوں پر اکیلا ہی دوڑتا پھرتا ہے ۔۔۔۔۔ایک حواس باختہ بھوت کی طرح۔

میں اس قسم کے ڈراؤنے اور دلچسپ قصے جب اسے سناتا ہوں تو وہ جواب میں کچھ نہیں کہتا، نہ ہی ڈرا ہوا سا محسوس ہوتا ہے۔ ہاں، اس دن ضرور وہ کچھ خوف زدہ سا محسوس ہوا تھا جب کالی ندی کے پُل پر سے مغرب کے وقت س نے ان لوگوں کو دیکھا جو اپنے پیروں پر بانس باندھے قطار بنا کر گزررہے تھے۔ میں نے اسے سمجھایا تھا کہ ان سے ڈرنے کے کیا معنی؟ یہ توسگریٹ کے کسی خاص برانڈ کے اشتہار کی خاطر مسخرہ پن کے لیے نکلے ہیں۔

اِدھر چھوٹے کو دین اور اللہ رسولؐ کی باتوں میں بہت دلچسپی پیدا ہوئی ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ قرآن شریف تو خیر اس کی بُوا نے پہلے ہی اس کو پڑھا دیا تھا۔ مگر فرشتے جس اللہ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں اور اپنے فرائض منصبی پورا کرتے ہیں، تو اس پورے الوہی نظام سے وہ بہت متاثر معلوم ہوتا ہے۔ خاص طور پر جبرئیل علیہ السلام سے۔

جہاں تک بڑے لڑکے کا سوال ہے ، تو اسے نہ تو اسکول کی تعلیم سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی دینی تعلیم سے۔ میرا خیال ہے کہ وہ آوارہ ہوتا جارہا ہے۔

تقریباً بیس دن سے اس کاغذ پر میں نے کچھ نہیں لکھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میرا دل ہی نہیں چاہا۔ دراصل ہوا یوں کہ چھوٹے کی گردن پتنگ کے مانجھے میں پھنس گئی تھی۔ نرخرہ کٹتے کٹتے بچا۔ خدا نے بڑی خیر کی۔ اس بے چارے کو پتنگ وغیرہ سے کیا کام، مگر اب ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ وہ میرے گھر کے سامنے، کچھ دور نکل کر کالی ندی کے پُل ہے، اس کی ریلنگ پر دونوں طرف مانجھا بنانے والے مانجھا تانتے ہیں۔ بس وہ گزر رہا ہوگا پُل پر سے۔ اسے ندیاں دیکھنے کا شوق بھی بہت ہے۔ (حالاں کہ ندیوں اور کنوؤں کے آس پاس گھومنا خطرناک بات ہے۔)وہیں اس اس کی گردن تنے ہوئے مانجھے میں پھنس گئی۔ میں تو ڈاک بانٹنے گیا ہوا تھا۔ میری بہن اور محلے کے کچھ لوگ اسے لے کر سامنے والے گھر لے گئے جہاں حال ہی میں ایک سرکاری ڈاکٹر کہیں سے تبادلہ ہوکر رہنے لگے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بہت اچھے ہیں۔ انھوں نے ٹانکے لگانے اور مرہم پٹی کرنے کی کوئی فیس بھی نہیں لی۔ ان کی بیگم صاحبہ بھی بہت اچھی ہیں۔ بیگم صاحبہ نے چھوٹے کو پڑھنے کے لیے انگریزی کی ایک کتاب بھی دی ہے۔ کتاب پر ان کی بیٹی کا نام لکھا ہوا ہے۔ وہ انگریزی اسکول میں پڑھتی ہے۔ چھوٹے سے دو سال بڑی ہوگی۔ بڑا گول چہرہ ہے اس کا ہے اور بالکل سفید۔ اتنا گول اور سفید چہرہ میں نے آج تک نہیں دیکھا۔

مگر چھوٹے کا زخم بھرنے میں بیس دن لگ گئے۔ ٹانکوں میں بار بار مواد پڑجاتا تھا۔ ہلکا ہلکا بخار بھی رہنے لگا۔اس درمیان ڈاکٹر صاحب نے اپنی بیٹی کو کئی بار ہمارے گھر، چھوٹے کی خیریت کے لیے بھیجا۔کتنی بڑی بات ہے۔ ایک معمولی ڈاکیے کے بچے کا اتنا خیال۔ یقیناًان کے دل میں خوف خدا ہوگا۔ دنیا ایسے ہی نیک لوگوں پر قائم ہے۔

تو بس میں انھیں ذہنی الجھنوں میں گرفتار رہا۔ لکھنے کا دل ہی نہ چاہا۔ ویسے بھی میں کوئی ڈائری تو لکھ نہیں رہا ہوں۔ یہ تو بڑے اور پڑھے لکھے لوگوں کے کام ہیں۔ میں بس ایک جعلی قسم قصہ گوئی کررہا ہوں جس کا چسکا مجھے ان غپ مارنے والوں نے لگادیا ہے۔ جعلی میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اگر قصہ زبانی نہ سنایاجائے تو وہ قصہ ہی کیا۔ اور اسے لکھا جائے تو وہ حرف دل کی ایک بھڑاس ہوتا ہے۔ اس میں دوسرے کیسے شریک ہوسکتے ہیں؟ کیا میرے اندر بھی ایسی ہی کوئی بھڑاس ہے جسے میں دل سے باہر نکال کر پھینکنا چاہتا ہوں؟ اگر یہ بات ہے تو بہت غلط ہے۔ کچھ کچھ ایسے جیسے کیلے کے چھلکوں کو گھر سے باہر سڑک پر پھینک دینا، دوسروں کو پھسلتے رہنے کے سامان فراہم کرنے کے برابر۔

چھوٹے کے پاس وہ جو انگریزی کی کتاب ہے، اس میں بہت سے موضوعات پر مضامین لکھنے کے اصول بتائے گئے ہیں اور ساتھ میں نمونے کے طور پر کچھ مضامین بھی شامل کر دیے گئے ہیں مثلاً تاج محل پر، گائے پر اور پوسٹ مین پر۔

اب تو پاگل کو رٹ ہی لگ گئی ہے کہ وہ پوسٹ مین پر ایک ایسا طویل اور زبردست مضمون لکھے گا جو دنیا میں آج تک کسی نے نہ لکھا ہو۔ اب میں اسے لاکھ سمجھاتا ہوں کہ تمھاری جماعت کے بچوں کو زیادہ سے زیادہ دو سو الفاظ کا مضمون لکھنا ہوتا ہے، ورنہ نمبر کاٹ لیے جاتے ہیں۔ مگر وہ مانے تب نہ۔ اس نے تو ضد پکڑ لی ہے۔ ڈاکیوں کے بارے میں ایک سے ایک معلومات اس نے نہ جانے کہاں سے حاصل کرلی ہیں۔ شاید وہ یہ مضمون لکھ کر ڈاکٹر صاحب کی بیٹی کو بھی دکھائے گا۔ کل رات میں نے اس کا پوسٹ مین پر لکھا ہوا مضمون پڑھا ہے جو ابھی ادھورا ہے۔ مضمون ابھی میرے سامنے ہی ہے۔ کیوں نہ اس کا ایک آدھ اقتباس میں یہاں نقل کردوں۔

خطوں کے ساتھ اگر ڈاکیے کی یاد نہ آئے تو وہ خط ہی کیا۔ ڈاکیے کی پہنچ جس طرح دنیا کے عام سے عام آدمی تک ہے،ایسی کسی اور سرکاری نوکر کی کہاں۔ لوگ چاہے شہروں میں رہتے ہوں یا قصبوں میں یا پھر گاؤں اور دوردراز کے جنگل کے علاقوں میں،وہ ہر جگہ پہنچ سکتا ہے۔ایک فرشتے کی طرح۔ اس کے پاس عام آدمی کی پیاری سواری یعنی سائیکل ہوتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب وہ پیدل بھی چلتا تھا۔ کبھی گھوڑوں پر بھی قاصد بجلی کی رفتار سے دوڑتے تھے اور اپنے اپنے علاقے کی سرحد تک پہنچ کر وہ دوسرے گھڑ سوار قاصد کو خط سونپ دیا کرتے تھے۔ دنیا میں امن کے کتنے مجاہد ان قاصدوں کی رفتار کے مرہون منت رہے ہیں۔ کچھ مقاموں پر کبوتروں نے بھی ڈاکیے کا کام انجام دیا ہے۔ اس لیے کبوتر کو فرشتہ نما اور پاکیزہ جانور مانا جاتا ہے۔ ڈاکیے کا سماج کے ہر طبقے میں استقبال ہے۔ تیوہاروں کے موقع پر ہمیشہ اسے کچھ نہ کچھ بخشش دی جاتی ہے۔ ڈاکیہ سرکار کا پرزہ نہیں بلکہ سماج کا ایک حصہ ہے۔ وہ جب کسی کے گھر تار لے کر جاتا تھا تو تھوڑی دیر وہیں ٹھہر جاتا تھا، انسان کے سکھ یا دکھ میں ایمان داری کے ساتھ شریک ہونے کے لیے۔آج بھی بہت سے ڈاکیے اجنبی انسانوں کے سکھ دکھ میں اسی طرح شریک ہیں۔ میرے بابو بھی ایک ایسے ہی ڈاکیے ہیں….ایک عظیم ڈاکیے۔

بہت کم لوگوں نے غور کیا ہوگا کہ اس کی وردی کا رنگ پولیس والوں کی وردی سے ملتا جلتا ہے۔ مگر پولیس والوں کی وردی نے لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کے سوا اب تک کیا کیا ہے؟ اور ڈاکیے کی وردی دیکھ کر لوگوں کے دل اپنائیت اور انسیت کی خوشبو سے بھر جاتے ہیں۔ گرمیوں کی سخت اور سنسان دوپہر میں، جب آسمان میں چیل انڈا چھوڑ رہی ہوتی ہے، اس کی خاکی وردی کی ایک جھلک دور سے نظر آنے پر ہی وہ ویران دوپہر رونق افزا ہو جاتی ہے اور دیکھنے والوں کی آنکھوں میں امیدوں کے گلزار سجنے لگتے ہیں۔ کسی کو خط لکھنا اور کسی سے خط پانا بہت بڑی نعمت ہیں۔ میرے بابو یہی کہتے ہیں۔ میں نے پڑھا ہے کہ گاندھی جی خطوں کا جواب فوراً ہی لکھنا شروع کردیتے تھے۔ ان کے پاس روزانہ ڈھیر سارے خطوط آتے تھے۔ خط کا جواب لکھتے لکھتے جب ان کا دایاں ہاتھ تھک جاتا تھا تب وہ بائیں ہاتھ سے لکھنا شروع کردیتے تھے۔ کتنے اچھے تھے گاندھی جی۔ اتنے نیک اور عظیم انسان کو بھی کسی نے قتل کردیا۔۔۔۔۔آخر کیوں؟

خطوں کے حوالے سے پوسٹ کارڈ کی بات کرنا بھی ضروری ہے۔سرکار ہر شے کو مہنگا کر سکتی ہے مگر پوسٹ کارڈ کے دام بڑھاتے ہوئے ڈرتی ہے۔ ایک وہی تو عوام کی سب سے پیاری چیز ہے۔ روٹی اور دودھ اور دال اور چاول سے بھی پیاری چیز جو حقیر سے حقیر انسان کے وجود کو بھی بامعنی اور باوقار بنا دیتی ہے۔ ابھی حال میں اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ امریکہ میں ایک الیکٹرانک میوزک بینڈ کی ایجاد ہوئی ہے جس کا نام پوسٹل سروس رکھا گیا ہے۔ یہ نام اس لیے ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے جانے کن کن ملکوں سے آپس میں پوسٹ کارڈ لکھ لکھ کر آلات موسیقی کے بارے میں اپنے اپنے تجربات بیان کیے جن کو جمع کرکے یہ عظیم الشان بینڈ بنایا گیا۔

ڈاکیے کا نہ کوئی مذہب ہے نہ ذات اور نہ ہی کوئی طبقہ بلکہ وہ سماج کی مختلف اکائیوں اور طبقوں کو آپس میں ملانے اور پرونے کا کام انجام دیتا ہے۔
ہماری فلموں میں بھی اکثر ڈاکیے کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا ہے۔میں نے تو ابھی تک کوئی فلم نہیں دیکھی ہے مگر بابو نے وعدہ کیا ہے کہ جب بھی کبھی ان کی جوانی کے دنوں کی مشہور فلم ’’ڈاک ہرکارہ‘‘ دوبارہ نمائش کے لیے پیش کی جائے گی تو وہ مجھے دکھانے کے لیے ضرور لے جائیں گے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ڈاکیہ فلموں کا نہیں بلکہ اصلی زندگی کا ہیرو ہے۔۔۔۔۔۔میرے بابو کی طرح۔ جب وہ اپنی خاکی رنگ کی وردی پہن کر ، ٹوپی لگا کر ، ڈاک گھر جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں تو اس طرح جگمگانے لگتے ہیں جس طرح مٹی میں ہیرا۔

اور اب آخر میں یہ بتانا بھی چاہتا ہوں کہ شروعات کے دنوں میں صرف خط یا چٹھی تقسیم کرنا ہی ڈاک والوں کا کام نہ تھا بلکہ وہ سرایوں کی دیکھ بھال بھی کرتے تھے۔ وہ سڑک پر دن رات چلنے والے مسافروں کے سفر کو آسان اور سہولت سے بھرا ہوا بنا دیتے تھے۔ انھیں ٹھگوں اور راہزنوں سے محفوظ رکھتے تھے۔ یہی سرائے بعد میں آگے چل کر ڈاک بنگلوں کے نام سے مشہور ہوگئے۔ رات کو مسافر راستے میں پڑنے والی ڈاک چوکیوں میں بھی آرام کرسکتے تھے۔ اور سب سے اہم بات تو یہ کہ کچھ عرصے تک گاؤں اور دوردراز کے علاقوں میں ڈاکیوں نے پلیگ کی دوائیں مریضوں تک پہنچا نے کا فریضہ بھی انجام دیا۔

اب بھلا بتائیے کیا یہ بارہ تیرہ سال کے بچے کی تحریر معلوم ہوتی ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ مضمون میں بڑی بے ربطی ہے۔ جگہ جگہ کچا پن بھی ہے مگر وہ تو فطری ہی ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس نے اتنی ساری معلومات کہاں سے حاصل کی ہیں اور بھلا ان تمام معلومات کا فائدہ؟ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب اس کے ذہن کا تخیل ہوا۔ اس میں سے کسی بھی بات میں کوئی صداقت نہ ہو ۔ مگر اگر ایسا ہے تو یہ بھی کوئی اچھی بات نہیں۔ آخر اس کے ننھے سے ذہن پر ڈاکیے اور ڈاک گھر اتنا حاوی کیوں ہیں؟ کیا اس کی وجہ میں ہوں؟ لیکن اب ایمان اور انصاف کی بات تو یہ ہے کہ میں ایک حقیر سا ڈاکیہ۔ یہ بھی کوئی رتبہ ہوا؟ اگر میں ڈاکٹر یا وکیل یا کوئی نیتا وغیرہ ہوتا تو بات سمجھ میں آسکتی تھی کہ ان لوگوں کے بچے اپنے ماں باپ کی نقل اتارا ہی کرتے ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر، بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ میں خواب میں بھی ہرگز نہ چاہوں گا کہ میری اولاد بھی ڈاکیہ بنے، بھلے ہی مجھے اپنی چٹھیاں بانٹنے کے لیے نکلنا کتنا ہی اچھا کیوں نہ لگتا ہو۔ امتحان میں ڈاکیے پر ہزار پانچ سو لفظوں میں مضمون لکھ دینا الگ بات ہے اور ڈاکیہ ایک قطعاً مختلف اور دوسری بات۔ دنیا ایسی ہی منافقتوں کی وجہ سے تو اتنی خوب صورت نظر آتی ہے۔

کچھ عرصے سے میں یہ واضح طور پر محسوس کرنے لگا ہوں کہ زمانہ بڑی تیزی سے بدل رہا ہے۔ اس میں سے شرافت غائب ہوتی جارہی ہے۔ میں بہت کم پڑھا لکھا انسان ہوں مگر یہ پیشن گوئی کرسکتا ہوں کہ آگے آنے والا زمانہ بہت ہی خراب ہوگا۔ میرا بڑا لڑکا بھی غلط صحبت میں پڑتا نظر آرہا ہے۔ اسے پڑھنے لکھنے میں تو کیا، قاعدے کے کھیل کود میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میری ڈانٹ پھٹکار کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ وہ اتنا بے غیرت ہوچکا ہے کہ میں نے اسے اب زیادہ کچھ کہنا سننا چھوڑ دیا ہے۔ محلے میں غنڈہ گردی بڑھتی جارہی ہے۔ گلیوں میں لفنگوں اور شہدوں کے جتھے ٹہلتے نظر آتے ہیں۔ بے روزگاری بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہوسکتی ہے۔ اس ماحول کی وجہ سے ہی شاید سامنے والے ڈاکٹر صاحب یہ محلہ چھوڑ کر کہیں اور جا بسے ہیں،یا شاید ان کا کہیں تبادلہ ہوگیا ہے۔وہ لوگ اتنی خاموشی سے مکان خالی کرگئے کہ کسی کو پتہ ہی نہ چلا۔ اچھا ہی ہوا۔ ویسے بھی یہ بڑا منحوس علاقہ ہے۔ جب دیکھو تب یہاں طاعون ہی پھیلتا رہتا ہے۔ مگر ان کے جانے کے بعد میں نے محسوس کیا ہے کہ چھوٹا کچھ گم سم سا رہنے لگا ہے۔

کل یہاں ایک بہت ہی تکلیف دہ اور شرم ناک واقعہ ہوا۔ کالی ندی کے پُل کو پار کرتے ہی بائیں طرف سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سے ہری مسجد ہے۔ وہاں کوئی پردیسی آکر ظہر کی نماز پڑھنے لگا۔ لوگوں کو معلوم ہوا کہ وہ دوسرے مسلک کا ہے۔ بس پھر کیا تھا، نمازیوں نے اپنی نیت توڑ کر اس پر حملہ کردیا جیسے وہ کوئی موذی سانپ تھا یا اس سے بھی بدتر۔ انھوں نے مسجد سے اسے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ محلے کے کچھ نوجوان غنڈے اس کی طرف چاقو نکال کر بھی دوڑے۔ وہ تو خیر ہوئی کہ اسے لگا نہیں۔ کسی طرح اپنی جان بچا کر بھاگا۔ اس کے بعد مسجد کا فرش، دیواریں اور یہاں تک مینار بھی دھو کر ’’پاک‘‘ کیے گئے۔ امام صاحب کا کہنا تھا کہ غیر مسلک کا آدمی وہاں نماز ادا کرے تو اللہ کا گھر ناپاک ہوجاتا ہے۔ پتہ نہیں، میں دین و مذہب کی اتنی باریک باتیں نہیں جانتا۔ مگر میں ایک بات سے اور فکر مند ہوں اور وہ یہ کہ مجھے شبہ ہے کہ بڑا بھی ان لونڈوں میں شامل تھا جو اس بے چارے کے اوپر چاقو تانتے ہوئے دوڑے تھے۔ اس واقعے سے آج کل ماحول میں تناؤ سا ہے۔ کل کوئی کہہ رہا تھا کہ آس پاس کے لڑکے زیادہ تر اپنے پاس چاقو اور دیسی طمنچہ رکھنے لگے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اپنی حفاظت کرنا سمجھ داری کی بات ہے، کیوں کہ پورب کی سمت سے، جہاں نچلے طبقے کے ہندؤں کی بستی ہے، کبھی بھی مسلمانوں پر دھاوا بولا جا سکتا ہے۔

مجھے پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے کہ آج کل ڈاک بانٹنے کے کام میں میری طبیعت لگتی نہیں۔ مسجد والے واقعے کے بعد سے میرا دل برا ہوگیا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ جو اتنے سارے خط ، پیغامات وغیرہ میں ایک انسان سے دوسرے انسان تک پہنچاتا رہتا ہوں، آخر ان میں ہوتا کیا ہے؟ یہ محبت نامے ہیں یا طاعون کے جراثیم؟ کیا انسان دوسرے سے اسی طرح مخاطب ہوتا ہے یا پھر یہ سارے لوگ ایک بھیانک نیند کے شکار تو نہیں ہوگئے ہیں؟ کسی ہدایت، کسی تلقین، کسی پیغام ، محبت اور خوشی کی ان تک واقعتا کوئی رسائی ہی نہیں ہے۔ وہ اس سیاہ نیند میں حرف نفرت اور تشدد کے خواب دیکھتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ایسی نیند کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ یہ کام صور اسرافیل کے علاوہ اور کسی کے بس میں نہیں۔

ایک عرصہ ہوا جب مجھے لکھنے کا یہ شوق چرایا تھا۔ میں نے چاہا تھا کہ ذاتی باتیں لکھوں ۔مگر اب جو اپنا لکھا ہوا پڑھتا ہوں تو یہ سب مجھے اپنی نجی ڈائری کی طرح نظر آتا ہے۔ اگر کل کلاں کسی کو میرا یہ پلندہ مل جائے تو اس بکواس کو وہ ایک ڈاکیے کی ڈائری ہی سمجھے گا ، کوئی قصہ کہانی تو ہرگز نہیں۔ لہٰذا اب جا کر اس افسوسناک امر کا احساس مجھے ہوا ہے کہ جس طرح کسی جانور کی کھال اتارتے ہوئے یہ ممکن نہیں کہ اس سے لگا لپٹا خون نہ باہر آئے، بالکل اسی طرح دنیا کے بارے میں کوئی بھی بات لکھتے وقت انسان کی ذات کے لہو کی بو لفظوں سے ہمیشہ لپٹی رہتی ہے۔
اس لیے مایوس ہو کر میں یہ بیکار کا مشغلہ اب ترک کررہا ہوں ۔ بس اتنے ہی میں میرا شوق پورا ہوگیا، یا یہ کہیے کہ اب میرا دل بھر گیا۔ میں اس کے آگے کچھ بھی لکھنے سے بھر پایا۔

اس کے بجائے میں نے سوچا ہے کہ مجھے اپنی توجہ اپنی بوسیدہ سائیکل کو دینا چاہیے جس کی مرمت ایک عرصے سے ٹل رہی ہے۔ اس کے دونوں پہیوں میں لہر آگئی ہے اور مڈگارڈ کھڑ کھڑ بولتا رہتا ہے۔ دوسرے یہ کہ مجھے چھوٹے کے ساتھ اب زیادہ وقت گذارنا چاہیے۔ آج کل رات کو سوتے وقت وہ بڑے بھاری بھاری خراٹے لینے لگا ہے۔ اور اس کا سر تو اب بالکل ایک طاعون زدہ چوہے کے سر جیسا ہی ہوتا جارہا ہے۔

(۲)
خون سے خالی سفید گول چہرہ

’’تم پھر یہاں آگئے؟ ‘‘ بڑے بھائی نے لیہی بناتے بناتے اسے خشمگیں نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔

وہ جواب میں کچھ نہ بولا۔ بس سامنے پڑی لکڑی کی کالی اور گندی میز پر ٹین کے ایک بدرنگ ڈبے میں رکھی ہوئی سفید گاڑھی لیہی کو اور کالی کالی مہروں کو چمکتی آنکھوں سے دیکھتا رہا۔ اس لیہی سے لفافے بند کیے جائیں گے۔ ڈاک ٹکٹ چپکائے جائیں گے اور پھر یہ کالی مہریں ان پر ثبت کردی جائیں گی۔

یہ ایک چھوٹا سا ڈاک گھر تھا۔ انگریزوں کے زمانے کی گوتھک طرز کی ایک گول اور منحوس پرانی عمارت۔ عام طور سے یہ گول ڈاک خانہ کے نام سے مشہور تھا۔ اس کا بھائی اس گول ڈاک خانے میں لیہی اور گوند بنانے کا کام کرتا تھا۔

’’تم بھاگ جاؤ یہاں سے۔ میرا مذاق نہ بنوایا کرو۔‘‘ بڑے بھائی نے لیہی سنی انگلیاں ایک کپڑے سے صاف کیں۔
’’میں وہ سرنگیں دیکھنے آیا ہوں۔‘‘ وہ سر جھکائے ہوئے آہستہ سے بولا ۔
’’کون سے سرنگیں؟‘‘
’’بابو نے بتایا تھا کہ اس ڈاک خانے کے نیچے کچھ سرنگیں ہیں جو بہت دور دور کے شہروں کے ڈاک خانوں میں جا کر کھلتی ہیں۔‘‘
’’ہاں۔ سنا میں نے بھی ہے مگر ان تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ وہ فوجی تحویل میں ہیں اور ان میں اسلحہ بھرا ہوا ہے۔‘‘
وہ مایوس ہوگیا۔

’’اچھا تو پھر میں چلتا ہوں۔‘‘ اس نے اپنی وردی کی شکنیں درست کیں۔ سر پر لگی ہوئی ٹوپی کو سیدھا کیا اور اپنا تھیلا سنبھالتے ہوئے تقریباً دوڑتا ہوا وہاں سے واپس جانے لگا۔
’’سیدھے گھر جانا۔‘‘ بڑے بھائی نے آواز لگائی۔ ’’آج سورج گرہن پڑے گا۔‘‘
اس نے اپنے چوہے جیسا سر ہلایا۔

اس کا سر تو ضرور ایک طاعون زدہ چوہے کی طرح بے بس اور مغموم نظر آتا تھا مگر جسم مضبوط اور قد بہت لمبا تھا۔ اس کے حلیے کو دیکھ کر کبھی کبھی یہ بھی گمان گذرتا تھا جیسے کسی تندرست و توانا آدمی نے کسی تماشے کے لیے چوہے کا نقاب پہن رکھا ہے۔ یہ ایسا سر تھاجسے دیکھ کر یہ اندیشہ پیدا ہوتا تھا کہ شاید ابھی ابھی اس کے منھ سے خون کی پتلی لکیر پھوٹنے لگے اور ننھے ننھے دانت اس طرح باہر نکل آئیں جس طرح طاعون میں دم توڑتے ہوئے چوہے کے۔

مگر اس کے دانت بھی ننھے ننھے نہیں تھے۔ وہ عام دانتوں کے مقابلے کچھ زیادہ ہی بڑے اور چوڑے تھے۔ جب وہ ہنستا تھا (ایسا کم ہی ہوتا تھا) تو دیکھنے والوں کو لگتا کہ جیسے یہ دانت منھ سے باہر نکل کر خود اس کی ہنسی کو ہی چبا چبا کر نیست نابود کررہے ہوں۔

گرمی بہت بڑھ گئی تھی۔ جون کا مہینہ تھا۔ جون کی گرمی اور تپش کی انفرادیت ہی یہ ہے کہ وہ بار بار آدمی کے دل کو ایک گیلے تولیے کی طرح نچوڑتی رہتی ہے۔

تیز تیز چلتا ہوا وہ گول ڈاک خانے سے بہت دور نکل آیا تھا۔ سڑک کے چاروں طرف جنگلی جھاڑیاں اُگ رہی تھیں۔ بس تھوڑا آگے چل کر بائیں طرف مڑنے پر کالی ندی کا وہ بوسیدہ پُل پڑتا تھا جس کے تین در تھے۔ برسات کے دنوں کو چھوڑ کر صرف ایک در میں ہی پانی بہتا تھا۔ ویسے کالی ندی کا کیا تھا، وہ تو یہاں بھی بہہ رہی تھی۔ ادھر جھاڑیوں کے پیچھے خاموشی کے ساتھ۔

کچھ دور نکل آنے پر اسے ندی کا پُل نظر آنے لگا۔ وہ چونک پڑا، مگر اس بار خوف زدہ نہیں ہوا۔ آج وہ اسے تیسری بار نظر آئے تھے۔ وہ پُل پر سے جا رہے تھے۔ قطار بنا کر، پیروں میں لمبی لمبی لکڑیاں لگائے ہوئے۔

اسے یاد تھا۔ پہلی بار جب انھیں دیکھا تھا،زمانہ گذر گیا۔
خوف زدہ ہو کر اس نے بابو کا ہاتھ سختی سے بھینچ لیا تھا۔
’’بابو یہ کیا ہے؟‘‘

’’ ارے یہ؟ یہ تو ’پاسنگ شو‘، سگریٹ کا اشتہار ہے۔ یہ ایک کرتب ہے۔ نٹوں کا کرتب۔ یہ اپنے پیروں میں بانس لگا کر چل لیتے ہیں۔ مگر اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے؟‘‘

وہ اسی طرح بابو کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے کھڑا رہا۔

وہ سب سفید کپڑوں میں ملبوس تھے۔ اتنے طویل قامت کہ ان کے سروں کی، جوکروں جیسی سفید ٹوپیاں پُل کے کنارے لگے بجلی کے کھمبوں کے تاروں کو چھُو رہی تھیں۔ وہ گھر وں کی دیواروں سے بھی اونچے تھے۔ یہ ایک بھیانک منظر تھا۔ اس کا دل گھبرانے لگا۔ دوسرے ہاتھ میں دبی ہوئی میٹھے چورن کی پڑیا چھوٹ کر نیچے گر گئی۔ کہیں بہت دور سے، سردی میں بھی نہ کہاں سے بھٹکتا ہوا پسینہ آگیا۔

اور دوسری بار اس نے انھیں جب دیکھا تو اس کے بابو کا جنازہ جا رہا تھا۔ وہ بھی جنازے کے ساتھ ساتھ تھا۔ جب میت ندی کے پُل پر پہنچی تو اس نے دیکھا کہ سامنے سے وہ آ رہے تھے۔ سفید کپڑے، پیروں میں وہی لمبے لمبے بانس لگائے۔ ایک خاموش جلوس کی شکل میں چلتے ہوئے وہ خود بھی ایک جنازے ہی کی مانند نظر آئے۔

بابو کی میت جب ان کے قریب پہنچی تو وہ سب رک گئے۔ اسے اس وقت احساس ہوا کہ چار اشخاص کے کاندھوں پر اٹھا کر لے جائے جانے والا میت کا پلنگ ان درجنوں کی تعداد میں، پیروں میں بانس لگا کر چلنے والے مہیب طویل قامت لوگوں سے اتنا نیچا ہوگیا تھا کہ نظر ہی نہ آتا تھا۔

’’کیا تم ڈر رہے ہو؟یہ ایک کرتب ہے۔ کرتب تب ہی دکھائے جاتے ہیں جب لفظ مر جاتے ہیں اور دنیا کو نیند آنے لگتی ہے۔‘‘ مغرب کی اذان ہونے والی تھی۔ پُل کے نیچے بہتی کالی ندی میں شام گر رہی تھی۔ بابو کے جنازے اور ان ہولناک اشخاص کے عکس کالی ندی میں ٹوٹ ٹوٹ کر بہنے لگے۔

وہ نہ جانے کب سے یہیں کھڑا تھا۔ وہ تو پُل پر سے نہ جانے کب کے غائب ہوچکے تھے۔ وہاں اب ہر طرف سناٹا تھا۔ بچپن میں وہ بار بار اس پُل پر سے گذرتا تھا۔ ویران سا خستہ حال پُل۔ دونوں طرف زنگ لگی ہوئی کمزور سی ریلنگ ۔ وہ اس کے گزرنے سے ہلتا تھا۔

وہ دن وہ کیسے بھول سکتا تھا۔ پُل پر بادلوں کے سائے تھے اور گذری ہوئی بارشوں کے چھینٹے تھے۔ ریلنگ پر دونوں طرف سفید رنگ کا مانجھا تنا ہوا تھا۔
سڑک نہ جانے کب ہوئی بارش سے بھیگی پڑی تھی۔ اسی بھیگی سڑک پر اس کا پیر پھسل گیا۔ اس کی گردن تنے ہوئے مانجھے کے درمیان پھڑ پھڑا کر رہ گئی۔ وہ مانجھا نہیں تھا۔ ایک چاقو تھا ۔ ایک تیز دھار والا بے رحم ہنسی ہنستا ہوا چاقو۔

گردن سے بہتی خون کی دھار کو اپنے دونوں ہاتھوں سے روکتے ہوئے، بارش سے بھیگے اسی ہلتے پُل کے نیچے بہتی ہوئی کالی ندی اس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ اس کا سر چکرا نے لگا۔ وہ ندی کو اور نہ دیکھ پایا اور آنکھیں موند لیں۔

جب اس نے آنکھیں کھولیں تو سامنے وہ کھڑی تھی۔ ایک لڑکی جو عمر میں اس سے دو تین سال بڑی تھی۔ اس کا چہرہ بالکل گول اور بے حد سفید تھا۔ اتنا سفید کہ اسے شائبہ گذرا کہ شاید اس میں خون ہی نہیں ہے۔ لڑکی کی دو گھورتی ہوئی آنکھیں اسی پرٹکی ہوئی تھیں۔ نہ جانے کیوں وہ اس کے چہرے سے لاکھ کوشش کرنے پر بھی نظریں نہ اٹھا سکا۔

ڈاکٹر صاحب نے ٹانکے لگانے اور پٹی باندھنے کی کوئی فیس نہیں لی۔ بوا نے اس کا ہاتھ تھاما اور ان لوگوں کو دعائیں دیتی ہوئی اپنے گھر کی طرف چل دیں۔

آہستہ آہستہ اس کا زخم بھرنے لگا۔ مگر اسے ہلکا ہلکا سا بخار ہوجاتا تھا۔ آواز میں بھی تھوڑی سی تبدیلی آگئی تھی۔ دراصل زخم تو بھر رہا تھا مگر ٹانکوں میں کہیں کہیں مواد پڑ گیا تھا۔ مواد ہمیشہ آنے والے کھرنڈ کا راستہ روک لیتا ہے۔

ان دنوں وہ اپنے پلنگ پر لیٹا لیٹا صرف گول ڈاک خانوں اور گول سفید چہروں کا ہی آپس میں موازنہ کرتا رہتا تھا۔
پھر ایک دن وہ آئی، اس کا حال دریافت کرنے۔ اس کے ہاتھ میں انگریزی کی ایک کتاب تھی۔
’’یہ امی نے تمھیں دی ہے۔ اسے پڑھنا۔ دل بہلے گا۔‘‘ لڑکی نے کہا۔ اور اسے محسوس ہوا جیسے یہ آواز بھی اس کے چہرے ہی کی طرح سفید اور خون سے خالی تھی۔

لڑکی نے تھوڑی دیر بوا سے کچھ رسمی باتیں کیں پھر یہ کہہ کر کہ وہ کل آئے گی، رخصت ہوگئی۔مگر دروازے پر پہنچ کر اس نے ایک بار مڑ کر اسی کی طرف دیکھا تھا۔ دیکھا تھا یا گھورا تھا، اس بارے میں کچھ کہنا مشکل تھا۔

تب تو نہیں مگر اب وہ واضح طور پر سب جانتا ہے کہ دراصل اس کی آنکھیں ہی ایسی تھیں۔ وہ گھورتی رہتی تھیں۔ وہ کسی شکرے کی آنکھیں تھیں۔ گھورنے سے ہی ان آنکھوں میں قوت اور بصارت کا نور پیدا ہوسکتا تھا۔ ورنہ وہ صرف اندھے کی آنکھیں تھیں۔ مگر بچپن میں وہ یہ سب کہاں جانتا تھا۔ان دنوں تو اسے ان گھورتی ہوئی آنکھوں اور خون سے خالی سفید گول چہرے سے محبت ہوگئی تھی۔ وہ تقریباً روز ہی اس کے گھر آتی تھی مگر باتیں صرف بوا سے کرتی تھی۔ اسے تو صرف گھورتی رہتی تھی۔

وہ اب ٹھیک ہوگیا تھا، اسے بخار بھی نہیں آتا تھا۔ مگر جب وہ اس سفید چہرے کی جانب نظر اٹھاتا تو اسے اپنی ہڈیوں کے اندر پوشیدہ ایک تازہ بخار کا احساس ضرور ہوتا۔ عجیب بات تھی کہ اسے صرف اس کا چہرہ ہی نظر آتا تھا۔ کوشش کرنے پر بھی وہاں اور کچھ نہیں دیکھا یا محسوس کیا جاسکتا تھا۔ وہ بہت ڈھیلے ڈھالے اور ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کپڑے پہنتی تھی۔ اس کے پیٹ کی طرف دیکھنے پر لگتا جیسے وہ آنتوں سے خالی پیٹ ہو۔ جیسے وہاں صرف ہوا بھری ہو۔ وہ کبھی کبھی اس کی کہنیوں کی ہڈیوں یا کلائی کی ہڈیوں کو دیکھنا چاہتا تھا مگر یہ ممکن نہ تھا۔

وہ گول سفید چہرہ بھی دراصل ایک خالی طشتری ہی کی طرح تھا جس پر اس کی بے حس ، گھورتی ہوئی دو چھوٹی چھوٹی آنکھیں کسی ڈیزائن کی مانند چسپاں تھیں۔ یقیناًوہاں ناک تھی، ہونٹ تھے، ٹھوڑی تھی اور کان بھی تھے مگر وہ یاد نہ آتے تھے۔ اور اکثر وہ چہرہ انھیں اپنی حبس بھری سفید گول دھند میں چھپا لیتا تھا۔

’’شاید وہ مجھ سے محبت کرتی ہے ،اس لیے گھورتی ہے۔‘‘ وہ اکثر سوچتا۔ دراصل گھورنا ایک پراسرار عمل ہے۔محبت میں، نفرت میں، غصے میں، غوروفکر میں اور یہاں تک کہ بے خیالی میں بھی آنکھوں کو بہرحال گھورنے کا فرض تو ادا کرنا ہی پڑتا ہے۔ وہ تو پھوٹ پھوٹ کر رونے کا وقت ہی ہے جب آنکھوں کو گھورنے سے نجات ملتی ہے۔

اس لیے وہ کوئی فیصلہ نہ کرپاتا مگر ایک دن آخر اس نے ارادہ کر ہی لیا۔ بڑی ہمت کرکے اس نے ایک سفید کاغذ پر لکھا۔
’’مجھے تم سے محبت ہے۔‘‘
پھرا س جملے کو انگریزی میں بھی لکھا ، کیوں کہ اسے یاد آیا کہ وہ انگریزی اسکول میں پڑھتی ہے۔
“I love you”

عبارت کے نیچے اس نے بچکانہ انداز میں ایک پھول بھی بنا دیا تھا۔ یہ اس کا محبت نامہ تھا۔ زندگی کا پہلا اور آخری محبت نامہ جسے اس نے لڑکی کو دی ہوئی انگریزی کتاب میں احتیاط کے ساتھ رکھ دیا۔

اس دن صبح سے دوپہر تک بارش ہی ہوتی رہی۔ جب بارش تھمی تو وہ آئی۔ اس کے آنے پر وہ کتاب ہاتھ میں تھام کر دروازے پر کھڑا ہوگیا۔ اگست کا مہینہ تھا۔ بارش کے بعد دھوپ نکل آئی تھی۔ محلے کے گھروں کی دیواریں اور منڈیر یں صبح کی بارش سے بھیگی ہوئی تھیں مگر اب ان پر سنہری دھوپ چمکنے لگی تھی۔

کچھ دیر بوا سے باتیں کرنے کے بعد وہ اپنے گھر واپس آنے کے لیے نکلی۔اس نے اسے دروازے پر کھڑے دیکھا تو چونک گئی۔
’’لو اپنی کتاب۔‘‘ اس نے اسی گھرگھراتی ہوئی آواز میں کہا جو گردن کے زخم کے بعد اس کے حلق سے نکلنے لگی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہ آواز خود ایک کٹا پھٹا زخم تھا جس میں پیپ بھر گئی ہو۔ ایک پل کے لیے اس نے خود کو دروازے پر کھڑا ایک ڈاکیہ تصور کیا۔
’’اس میں ایک خط ہے۔‘‘ اس نے اپنی پیپ بھری آواز میں اس طرح کہا جیسے ڈاکیے دروازے پر آواز لگاتے ہیں۔

لڑکی نے کتاب تھامی ، پھر اس کے اندر سے وہ سفید کاغذ نکالا۔اس کا سفید گول چہرہ اور بھی زیادہ خطرناک حد تک سفید ہوگیا۔ اس کی گھورتی ہوئی دو آنکھیں اس کے چہرے سے نکل کر اُڑنے لگیں ، کسی شکاری عقاب کی طرح۔

’’میں تمھارے چوہے جیسے نفرت آمیز سر کو دیکھتی تھی۔ میں تم سے نفرت۔۔۔۔۔۔۔‘‘ لڑکی کی خون سے خالی آواز دروازے کی چوکھٹ سے ٹکرائی۔ اس نے کاغذ کا وہ ٹکڑا پرزہ پرزہ کرکے اس کے منھ پر دے مارا۔ پھر اس کے جسم پر کپڑے اور بھی زیادہ بڑھ گئے۔ اتنے زیادہ کہ اس کے بعد وہ اسے دوبارہ نہ دیکھ سکا۔

ٹھیک اس وقت آسمان پر کہیں رینگتا ہوا گھنا سیاہ بادل آ پہنچا اور دیواروں، منڈیروں سے چپکی ہوئی دھوپ پٹ کی آواز کے ساتھ ایک حواس باختہ یا مردہ چھپکلی کی طرح نیچے گر گئی اور سڑک کنارے، کالا پانی لے جاتی ہوئی تنگ نالی میں کسی زرد سانپ کی طرح بل کھاتی ، بہتی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔

وہ سفید چہرہ اس کا اکلوتا اندھیرا بن گیا۔ اس اندھیرے میں ایک تیز دھاروالا نفرت آگیں چاقو پھر اس کی گردن پر آکر ٹھہر گیا۔

وہ پُل اب بہت پیچھے چھوٹ گیا ہے۔ چلتے چلتے وہ وہاں سے دور نکل آیا ہے۔ اب وہ بچہ یا کم سن لڑکا نہیں ہے۔ ادھیڑ عمر کا ایک آدمی ہے۔ مگر اب بھی اس کے خوابوں میں سبز رنگ کا ایک بڑا سا ڈاک ٹکٹ اُڑتا ہوا آتا ہے جس پر وہ گول اور سفید چہرہ بنا ہوا ہے۔ ان خوابوں میں، جنھیں دیکھ کر سوتے وقت وہ زور زور سے خراٹے لیتا ہے اور کبھی کبھی اس کی بیوی بے رحمی کے ساتھ زور زور سے اس کا شانہ جھنجھوڑ کر جگا دیتی ہے۔

چلتے چلتے اسے محسوس ہوا کہ تھیلے میں سے کاغذ ڈھیلے ہو کر باہر آ رہے تھے۔ تھیلے کا توازن بگڑنے لگا۔ وہ سڑک پر اکڑوں بیٹھ گیا اور تھیلے کے کاغذوں کو ایک ڈوری سے کس کر باندھنے لگا۔

اور تب اس نے سوچا کہ محبت اور نفرت دونوں اپنی الگ الگ تاریخ لکھتی ہیں۔ دو متوازی تاریخیں اور پھر آخر میں یہ دونوں ایک ہی ڈوری سے بندھ جاتی ہیں۔ کبھی نہ سمجھ میں آنے کے لیے، ایک راز، ایک معمہ بن جاتی ہیں۔

اس نے اپنی گردن کو چھوا۔ زخم جب بھر جاتے ہیں تو ان کے اندر رہنے والا درد کہاں جاتا ہے۔ کس اندھیرے گوشے میں جاکر چھپ جاتا ہے؟ کیوں کہ اس ناقابل معافی دنیا میں کوئی بھی شے ، کوئی بھی کیفیت کبھی مٹتی نہیں۔ وہ صرف اپنا چولا بدل لیتی ہے۔

وہ دوڑ دوڑ کر چل رہا تھا۔اسے یاد آیا کہ چوبیس سال بعد آج پھر سورج گرہن پڑنے والا ہے۔ مگر دھوپ میں ایک دوسرے قسم کی تیزی ہے۔ ایک شدید احتجاج، ایک تپتا ہوا غصہ چاند کے خلاف۔ زمین کے خلاف۔ آسمان کے پردے سے باہر آرہاتھا۔ دور کسی پنجرے میں بند درندے کی غراہٹ کی طرح۔ اس نے اسے واضح طور پر سنا۔

(۳)
قتل کا حلیہ کیسا ہے؟

’’بھیا۔ ڈبے میں کریلے اور روٹیاں رکھ دی ہیں۔ مگر ہوسکے تو آج دوپہر سے پہلے ہی گھر آ جانا۔ آج سورج گرہن ہے۔‘‘ بہن نے بھائی سے کہا تھا۔
’’اب جتنی ڈاک ہوگی وہ تو بانٹنا ہی پڑے گی مگر تم دونوں بچوں کو دوپہر میں گھر سے باہر مت نکلنے دینا۔‘‘ اس نے چائے پیتے پیتے جواب دیا تھا۔
’’بابو سورج گرہن میں کیا ہوتا ہے؟‘‘ چھوٹے نے باپ کی وردی پر رینگتی ہوئی چیونٹی کو جھاڑتے ہوئے پوچھا تھا۔

’’چاند زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے اور سورج کی روشنی کم ہوجاتی ہے۔‘‘
’’بابو میں بھی چلوں تمھارے ساتھ، سورج گرہن دیکھنے؟‘‘

’’میں سورج گرہن دیکھنے تھوڑی جا رہا ہوں۔ میں تو اپنی ڈیوٹی پر جا رہا ہوں۔ مگر تم دوپہر میں گھر سے مت نکلنا۔ اس کے اثرات خراب ہوتے ہیں۔‘‘
وہ اپنی چائے ختم کرکے اٹھ گیا۔ اپنی وردی اور ٹوپی کو سنبھالتے ہوئے اس نے دروازے میں کھڑی سائیکل اٹھائی جس کے کیرئیر میں چھوٹا سا المونیم کا ناشتہ دان لگاہوا تھا۔

بابو آج ہیرو نظر آ رہے ہیں، یہ وردی ان پر کتنی سجتی ہے۔ چھوٹے نے سوچا تھا۔

گیارہ بجے سے لگاتار ڈاک بانٹتے بانٹتے وہ تھک گیا تھا۔ اب دوپہر ہو رہی تھی۔ اس کی سائیکل کچھ دنوں سے بہت بھاری چلنے لگی تھی۔ پیڈل مارنے میں پیروں کی جان ہی نکل جاتی تھی۔ مئی کی دوپہر تھی۔ لُو بہت تیز چل رہی تھی، گرم گرم جھکڑ اس کی وردی کو اڑائے دے رہے تھے اور سائیل ہوا کے زور سے باربار پیچھے کی طرف جاتی تھی۔ اسے بہت طاقت لگانا پڑرہی تھی۔ سڑکیں اور گلیاں آج تقریباً ویران تھیں۔ ایک تو دوپہر کی وجہ سے اور شاید گرہن کے سبب بھی۔

بس یہ دو منی آرڈر اور پہنچا دوں، پھر آرام سے بیٹھ کر کہیں کھانا کھاؤں گا۔ اس نے سوچا۔ بھوک اور پیاس سے اس کی حالت خراب ہورہی تھی۔
اب وہ دادو کے کنویں کے قریب آگیا تھا جس کے پاس پاکھڑ کا ایک پرانا درخت تھا۔ اسے دادو کے کنویں کے سامنے والی گلی میں جانا تھا جو آگے چل کر بند تھی۔

تب اسے خیال آیا کہ یہی وقت سورج گرہن کا ہے۔
دھوپ مٹیالی ہوگئی تھی۔ دھوپ کا یہ مٹیالا پن خوش گوار نہ تھا۔ سورج کے سامنے بادل کا کوئی چیتھڑا تک نہ تھا مگر کسی پراسرار سبب سے اس کی چمک کم ہوتی سی محسوس ہوئی۔

ویران دوپہر میں آسمان میں کوئی چیل انڈا چھوڑ رہی تھی۔
ماحول میں ایک عجیب سی، ناقابل تشریح قسم کی نحوست طاری ہوگئی۔

وہ سائیکل سے اتر کر ، پیدل، سائیکل کا ہینڈل تھامے تھامے اس سنسان بند گلی میں داخل ہوا۔
اس نے دیکھا سامنے تین چار لڑکے کھڑے ایک فحش سا گیت گاتے ہوئے اس کا راستہ روکے ہوئے ہیں۔
’’ہٹ جانا بھائی،آگے جانا ہے۔‘‘ وہ مسکرایا۔

’’چپ تیری بہن کی۔۔۔۔۔نکال کتنے پیسے ہیں تیرے تھیلے میں ۔‘‘
’’اسے ہاتھ مت لگانا۔ یہ منی آرڈر کے پیسے ہیں۔ میری جیب میں جو ملے، وہ لے لو۔‘‘ وہ سہم کر تقریباًگڑگڑاتے ہوئے بولا۔
’’تیری تو ماں کی۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ایک لڑکے نے جیب میں سے لمبا سا چاقو نکالا ۔
اس نے ڈاک کے تھیلے کو کس کر اپنے سینے سے لگالیا۔
لڑکوں نے مل کر اسے دبوچ لیا اور اس پر پے درپے چاقو کے وار کرنے لگے۔

وہ بڑی ہذیانی چیخیں تھیں مگر اس وقت جیسے انھیں سننے والا کوئی نہ تھا۔ تھیلا چھین کر وہ چاروں دادو کے کنویں کی طرف بھاگتے چلے گئے۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا پیٹ تھامے ہوئے چیختا ہوا دادو کے کنویں کی طرف دوڑا مگر پھر اس میں سکت نہ رہی۔ اپنا پیٹ تھامے تھامے وہ جھکتا چلا گیا۔ پھر بے دم ہو کر زمین پر پڑی ہوئی اپنی سائیکل پر گر پڑا۔

وہ یوں ہی اپنی سائیکل پر گرا ہوا تھا۔ اس کے پیٹ سے آنتیں نکل کر باہر آگئی تھیں۔ اس کے نیچے زمین پر خون کا دھبہ بڑا ہوتا جارہاتھا۔ اسی خون پر اس کا ناشتہ دان کھل کر الٹ گیا تھا جس میں سے کریلوں کی سبزی اور دو روٹیاں نکل کر اس کے پیٹ سے باہر آئی ہوئی بھوکی آنتوں سے جا لپٹی تھیں۔
وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا پیٹ تھامے دم توڑ رہا تھا۔ آسمان اور بھی مٹیالا ہونے کی طرف جھکا۔ دھوپ یکبارگی کو بالکل مدھم ہوگئی۔آسمان کی اونچائیوں میں ایک چیل چیخی اور دادو کے کنویں میں بیٹ کرتی ہوئی گذر گئی۔ دور خلا میں سورج کو گرہن لگا۔ پھر ایک ثانیے بعد دھوپ تیز ہوئی اور تب دادو کے کنویں کی طرف سے ایک شور اٹھا۔ لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر دوڑتے ہوئے ادھر چلے آ رہے تھے۔

’’ارے ڈاکیے کو مارڈالا۔ بے چارے غریب ڈاکیے کو۔‘‘ کوئی چلا چلا کر کہہ رہا تھا مگر اس کے کانوں میں یہ آواز بہت مدھم سی سرگوشی بن کر آئی اور شاید یہ اس دنیا کی آخری آواز تھی جو اس کے کانوں نے سنی۔

چھوٹے کو صرف اتنا یاد ہے کہ بھری دوپہر میں سڑک پر خون کا ایک بڑا سا دھبہ تھا جو لُو کے گرم تھپیڑوں سے خشک اور سیاہ ہوتا جاتا تھا۔ سائیکل کی گھنٹی، مڈ گارڈ، پہیے، تیلیاں، گدی، سب پر خون کے چھینٹے تھے۔ بابو کی خاکی رنگ کی وردی خون میں اس طرح لتھڑی ہوئی تھی جیسے مٹی خون سے لتھڑ جاتی ہے۔ اس کو بابو کی شکل نظر نہیں آئی، یہاں تک کہ اس شام جب اسے باپ کی میت کے پاس لے جایا گیا تو وہاں بھی اسے کوئی شکل نہیں دکھائی دی۔ سفید کفن کے نیچے جھانکتا ہوا صرف وہی خون کا بڑا سا دھبہ ہی چارپائی پر پڑا ہوا تھا۔

بہت عرصہ گذر جانے کے بعد کسی مسخرے نے اس سے پوچھا تھا۔
’’قتل کا حلیہ کیسا ہوتا ہے، وہ دیکھنے میں کیا لگتا ہے؟‘‘
تب چھوٹے نے اعتماد اور اطمینان کے ساتھ جواب دیا تھا کہ قتل خون کے رنگ کا ایک ڈاک ٹکٹ ہے جس پر ایک چاقو بنا ہوا ہے۔

(۴)
بہروپیا

جب وہ گھر کے دروازے پر پہنچا تو بیوی باہر ہی کھڑی مل گئی۔
’’آگئے؟ آج کتنا کمایا؟‘‘ وہ زہر خند لہجے میں بولی۔

اس نے کوئی جواب نہیں دیا مگر چہرے سے خوشی کا اظہار کیاا۔ آہستہ آہستہ چلتا ہوا کمرے تک آیا، پھر وردی اتار کر دیوار پر لگی کھونٹی پر ٹانگ دی۔ پھر سر سے ٹوپی اتاری اور فرش پر پالتی مار کر بیٹھ گیا۔

’’روٹی کھاؤگے؟‘‘
اس نے بظاہر خوش دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نفی میں سر ہلادیا۔
’’اچھا ہو اگر تم اپنی ٹوپی ہر وقت سر پر لگائے رہو، ایک تو بالکل گنجے ہو چکے ہو، اوپر سے ٹوپی اتارنے پر تمھارے سر کا چوہاپن کچھ اور نمایاں ہونے لگتا ہے۔‘‘ بیوی نے کہا۔
اچانک اس کے چہرے کی خوش دلی غائب ہوگئی۔ اس کے اندر سے اداسی اس طرح نمایاں ہوگئی جیسے رنگے ہوئے بالوں میں سے سفیدی جھانکنے لگتی ہے۔
وہ خاموش بیٹھا رہا۔
’’کیا بات ہے۔ آج کچھ جلدی آگئے؟‘‘
وہ بیوی کو بغیر پلکیں ہلائے دیکھنے لگا۔جب بھی وہ اس طرح بغیر پلکیں ہلائے دیکھا کرتا تو محسوس ہوتا جیسے وہ ساری دنیا کو اپنی پلکوں پر ڈھیر کی طرح اکٹھا کرکے بیٹھا ہے اور جب پلکیں ہلاتا تو لگتا جیسے وہ ساری دنیا کو غصے کی آگ میں جلا کر راکھ کر دینے کے لیے بار بار دیا سلائیاں رگڑ رہا ہے۔
’’آج سورج گرہن پڑے گا۔ پورے چوبیس سال بعد۔‘‘ وہ افسردگی کے ساتھ بولا۔

’’تو…تو تم کیا کروگے؟ کیا کالا چشمہ لگا کر گرہن لگنے کا منظر دیکھو گے؟‘‘ وہ درشتی کے ساتھ بولی۔
اس نے بیوی کے درشت لہجے کو محسوس کیا اور یہ سوچنے لگا کہ وہ گرہن لگنے کا ایک منظر دیکھ چکا ہے…چوبیس سال پہلے کالے شیشے کے بغیر مگر آسمان پر نہیں سڑک پر۔

بیوی بھی گویا اس وقت اس کے سر ہی ہوگئی تھی۔
’’تمھیں اپنا بہروپیا پن جتنا دکھانا ہے، دکھاؤ۔ مگر اس سڑی گلی ، اگھور وردی کو تو لے جا کر کوڑے میں پھینک آؤ۔ اس میں نہ جانے کتنے جوئیں اور پسّو پڑ گئے ہوں گے۔ ایسی بھی کیا باپ کی نشانی۔ تم کیسے اسے برداشت کرتے ہو؟ اس پر تمھارے باپ کے خون کے دھبے نظر آتے ہیں۔‘‘
اور یہ حقیقت تھی کہ وردی پر جگہ جگہ خون کے دھبے تھے جو وردی کے دھلتے رہنے کے ساتھ اور وقت گذرجانے کے باعث کالے اور جامنی رنگ میں بدل گئے تھے۔ اس میں جگہ جگہ سوراخ ہوگئے تھے۔برسات میں پانی بھیگ کر اس سے ایسی سڑاندھ نکلتی کہ قریب کھڑے آدمی کو اپنی ناک پر ہاتھ رکھنا پڑ جاتا۔ بوا نے باپ کے مرنے کے بعد ہی خون سے سنی اس منحوس وردی کو پھینک دینا چاہا تھا مگر اس نے ضد پکڑ لی تھی۔

’’وردی نہیں جائے گی۔ ہر گز نہیں جائے گی۔ وردی میری ہے۔‘‘ وہ رو رو کر کہہ رہا تھا۔ آخر بوا کو بن ماں باپ کے اس سنکی سے بچے کے سامنے ہار ماننا ہی پڑا۔

’’سنو! پرانے کپڑے فروخت کر کر کے اب مجھ سے گذر بسر نہیں ہو سکتی۔ تم یہ بہروپیا پن چھوڑ کر کوئی ٹھیلہ ہی لگا لو۔‘‘ بیوی نے اس بار نرمی اور سمجھانے والے انداز میں کہا تھا۔ بیوی کے سانولے ماتھے پر پھر چند دانے ابھر آئے تھے، جیسے مچھروں کے کاٹنے سے ہو جاتے ہیں۔ جیسے ہی اس کی نظر ان دانوں پر پڑی، اسے اپنے جسم کے اندر ایک جانی پہچانی سی بو کا احساس ہوا۔ ایک ایسی بُو جو صرف شہوت جگاتی تھی اور کھال کے مساموں میں کوئی شے باہر سے آ کر رینگنے لگتی ہے۔ اس کی بیوی نے اس بُو کو پہچان لیا۔

’’ہوش میں رہو۔‘‘ اس نے حقارت کے ساتھ کہا اور اندر چلی گئی۔

وہ تھوڑی دیر یوں ہی فرش پر بیٹھا رہا، پھر لیٹ گیا اور بوا کو یاد کرنے لگا جسے گذرے ہوئے دس سال کا عرصہ ہو چکا تھا۔ اس کی بیوی بوا کی سسرال کی ایک دور کی رشتے دار ہوتی تھی۔ وہ ایک مطلقہ عورت تھی جس کے کوئی بچہ نہ ہوسکا تھا۔ بوا نے اس کے ماں باپ کو پتہ نہیں کیا پٹّی پڑھائی تھی کہ وہ اس سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنے پر راضی ہوگئے تھے۔ بیوی کا رنگ گہرا سانولا تھا۔ آنکھیں بڑی بڑی ضرور تھیں مگر ان میں کوئی جاذبیت نہ تھی بلکہ وہ ہمیشہ اس طرح پھٹی پھٹی رہتیں جیسے ان میں تنکا پڑ گیاہو اور وہ آنکھیں پھاڑ کر اسے کسی سے نکلوانا چاہتی ہو۔ دبلی پتلی ہونے کے باوجود اس کے کولہے بھاری اور ضرورت سے زیادہ گول مٹول تھے۔ اس کے پستان چھوٹے اور ڈھلکے ہوئے تھے مگر ان میں گولائی نام کو نہ تھی۔ وہ کچھ لمبوترے سے تھے۔ ایک عجیب بات اس میں یہ بھی تھی کہ اکثر اس کے ماتھے پر ایسے سرخ سرخ دانے ابھر آیا کرتے تھے جو گرمیوں میں نکلنے والی پھنسیوں سے مشابہ تھے یا پھر مچھر کاٹے سے ۔ ان دانوں کا کوئی وقت یا موسم نہ تھا ۔ وہ پراسرار انداز میں کبھی بھی نکل سکتے تھے۔ اور جب وہ نکلتے تو انھیں دیکھ کر وہ جنسی خواہش سے بے قابو ہو جاتا۔ ایک ایسی خالص اور ایمان دار جنسی خواہش جس میں محبت کی ملاوٹ کا کوئی شائبہ تک نہ تھا۔ بس یہی وہ زمانہ ہوتا جب رات کے اندھیرے میں پلنگ پر وہ دونوں وحشیوں کی طرح مضحکہ خیز انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھا پائی سی کرتے، جب تک کہ ا ن کی سانسیں ڈھیلی نہ پڑ جاتیں۔ تب اس کا مضبوط جسم سر خرو ہوتا مگر اس کا چوہے جیسا سر تکیے پر ڈھلک جاتا۔
پھر بیوی اندر والے کمرے میں جا کر سو جاتی جہاں تک اس کے خراٹوں کی آواز نہ آتی تھی۔

یقیناًیہ ایک بھیانک بات تھی مگر ہر ایمان دار اور خالص جذبے میں قسم کا ناقابل فہم اور اس کا بالکل نجی بھیانک پن ہوتا ہی ہے جس کے لیے اسے معاف کردینا چاہیے۔

اور یہ تو سب کو عیاں تھا کہ اس کی بیوی کے بچے نہ ہوسکتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اسے ایک ایسے شخص سے بیاہ دیا گیا تھا جو دنیا کی نظر میں صحیح الدماغ نہ تھا، بلکہ شاید پاگل تھا۔
شاید یہی سبب تھا کہ ٹھیک ٹھاک پڑھ لکھ لینے کے باوجود اس کو محکمۂ ڈاک میں اپنے باپ کی جگہ نوکری نہ مل پائی تھی۔ ہاں، اس کے بھائی کو ضرور گول ڈاک خانے میں لیہی اور گوند بنانے کی ایک حقیر سی نوکری مل گئی تھی۔ بڑا بھائی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ الگ مکان میں رہتا تھا اور چھوٹے بھائی کے سنکی پن سے اتنا نالاں تھا کہ اس سے تقریباً ہر قسم کا تعلق ہی توڑ چکا تھا۔

’’بہروپیا۔ بہروپیا!‘‘ باہر گلی میں بچوں نے آواز لگائی۔
وہ چونک کر اٹھ بیٹھا۔ شاید اسے جھپکی آگئی تھی۔ شام ہورہی تھی۔ سورج گرہن گذر چکا تھا۔ شاید ساتھ خیریت کے۔ صرف اس کے ہاتھ پیر کچھ گرم سے تھے۔
’’بہروپیا!‘‘ باہر بچے پھر چلائے۔

اور یہ حقیقت تھی کہ وہ ایک بہروپیا تھا۔ مگر کیسا عجیب بہروپیا، کہ صرف ڈاکیے کا ہی بہروپ بھرتا تھا۔ بچپن سے ہی وہ باپ کی زندگی میں ہی نہ جانے کہاں کہاں کے ڈاک گھروں میں بھٹکتا پھرتا۔ باپ کی چھٹی کے دن وہ اس کی وردی پہن کر ڈاکیے کی نقل اتارتا۔ یہ سلسلہ باپ کے قتل کے بعد رکا نہیں بلکہ پاگل پن میں بدل گیا۔ محلے والے اسے چھیڑا کرتے اور یوں تو شہر میں بہت سے بہروپیے گھومتے رہتے تھے، کوئی ڈاکٹر کا بہروپ بھرتا تھا، کوئی وکیل کا، کوئی ٹریفک کے سپاہی کا تو کوئی ڈاکو کا، یا چیتھڑے لگائے ہوئے مجنوں کا۔ جو بھی ہو، بہروپیے بھکاریوں سے تو بہتر تھے اور انھیں بھکاریوں کے مقابلے زیادہ عزت اور قدر کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے تھا۔ مگر وہ تو صرف ڈاکیے کا ہی بہروپ بھرتا تھا اور کچھ لوگ اسے مجذوب بھی سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ کئی بار پولیس بھی اسے غیر ملکی جاسوس ہونے کے شبہ میں پوچھ تاچھ کے لیے تھانے لے گئی تھی۔ لیکن اب اسے سب جاننے لگے تھے۔ وہ تقریباً تمام شہر میں مذاق کا نشانہ بن گیا تھا۔ خاص طور پر محکمۂ ڈاک کے لیے۔ مگر اس سے کیا ہوتا ہے؟ وہ یہ بخوبی جانتا تھا کہ مذاق اڑانے والوں میں اور مذاق کا موضوع بننے والوں میں آپس میں کچھ بھی مشترک نہیں ہوتا۔ یہ کوئی رشتہ ہی نہیں ہے، اگرچہ دنیا کے سب سے زیادہ دلچسپ اور تفریح کن رشتے کا التباس ضرور پیدا کرتا ہے۔ یہ دونوں قطعی طور پر مختلف دنیاؤں کی مخلوق ہیں۔ خدا کی بنائی ہوئی دو دنیائیں۔ مذاق اڑانے والوں کے سر طاعون سے بیمار چوہوں جیسے نہیں ہوتے اور سوتے وقت انھیں بھیانک خراٹے نہیں آتے، وہ ایک الگ دنیا کے بہروپیے ہیں۔

باہر گلی میں اب بہت سے بچوں نے مل کر ہانک لگائی۔
’’بہروپیے۔۔۔بہروپیے! کہاں ہو تم؟‘‘
مغرب کی اذان ہو چکی تھی۔ وہ گھر سے باہر آنے لگا۔ محلے کے بچے اسے دیکھ کر اچھلنے کودنے لگے۔ پھر وہ چلائے۔
’’وردی پہن کر آؤ۔ وردی پہن کر آؤ۔‘‘
وہ واپس گھر میں وردی پہننے کے لیے دوڑا۔
صبح سے شام تک اور کبھی کبھی رات میں یہی اس کا مشغلہ تھا جسے وہ ایک عین اخلاقی فرض کی حیثیت سے سالہا سال سے کرتا آرہا تھا۔ بہروپیا بن کر اپنی دانست میں وہ معاشرے میں مسرت پیدا کررہا تھا۔ ایک ایسی مسرت جو حیرت زدگی کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ معصوم حیرت زدگی جو صرف اس لیے غائب ہوتی جارہی تھی کہ خود لوگوں نے نہ جانے کتنے نقاب اوڑھ رکھے تھے۔ معصوم حیرت زدگی بہرحال لوگوں کو اپنے اصل روپ کے اندر تک تو لے جاتی تھی مگر وہ تھا ہی کیا؟ اس کی اوقات ہی کیا تھی؟ وہ تو شاید ایک ڈاکیہ بھی نہ تھا۔ صرف ڈاکیے کا بہروپیا تھا جو دوپہر، شام، رات ہر وقت گلی ، کوچوں، ویران علاقوں اور کبھی کبھی کالی ندی کے سنسان اور ویران کناروں پر بھی بھٹکتا پھرتا تھا۔ وہی کالی ندی جو شاید اس کے جسم سے امر بیل کی طرح لپٹی ہوئی تھی۔
وہ پیدل دوڑ دوڑ کر، ڈاک بانٹا کرتا اور یہ ڈاک کچھ اس طرح کی ہوتی۔
ردی کاغذ کے ٹکڑے، بچوں کی ردی میں بیچی گئی کتابیں اور کاپیوں کے اوراق، سودا فروخت کرنے والوں کی اخباری یا بانس کے کاغذ کی بنی تھیلیاں، جن میں وہ جھوٹ موٹ کے پارسل بنا لیتا۔ ان میں جنگلی پھول، گھاس اور کنکریاں وغیرہ بھردیتا تھا۔ کسی غریب بچے کو سڑک کنارے روتا ہوا دیکھتا تو بھاگ کر اس کے پاس آتا اور کہتا۔
’’لو تمھاری چٹھی آئی ہے۔‘‘ اور پھر اس کے ہاتھ میں ایک میلا سا دبا مسلا رنگین کاغذ پکڑا دیتا، جس پر کچھ نہ کچھ لکھا ضرور ہوتا تھا، کیوں کہ تحریر کے بغیر کاغذ کی کوئی اہمیت نہ تھی اور ایک چھوٹا بچہ بھی اس نکتے کو بہرحال بخوبی سمجھتا تھا۔ اس کے تھیلے میں پرانے رنگین کلینڈر، پرانے شادی کے کارڈ، سال گرہ یا تیوہاروں کی مبارک باد وغیرہ کے کارڈ بھی رہتے تھے۔ بچوں کی طرح وہ ان بوڑھے ماں باپ کو بھی کوئی نہ کوئی کاغذ یا کارڈ دے کر بہلا دیتا تھا جو اپنی اولادوں کے خطوں کے انتظار میں تقریباً مردہ ہوچکے تھے۔

کیا واقعی یہ ایک قسم کی اداکاری تھی؟ صبح سے شام تک یہ بہروپ بھرنے کے بعد اس کے پاس صرف ایک خالی اور بے معنی دنیا رہ جاتی تھی جو کہ صرف اس کا ہی نہیں بلکہ ہر عظیم اداکار کا مقدر ہوتی ہے۔ مگر نہیں اس خالی اور بے معنی زندگی میں رات کے وقت اس کے لیے ایک شے اور پوشیدہ تھی اور وہ تھی اس کے خراٹے۔ یہ کوئی عام خراٹے نہ تھے۔ اس کے سوجانے کے بعد اس کے قریب لیٹ کر دنیا کے کسی بھی شخص کو نیند نہیں آ سکتی تھی۔ دوسروں کے لیے یہ بے حد خوف ناک اور پراسرار خراٹے تھے۔ ویسے تو یہ بیماری اسے ہمیشہ سے تھی مگر بچپن میں مانجھے سے گردن کٹ جانے کے بعد سے یہ بڑھ گئی تھی اور گذشتہ دو سال سے اس نے بے حد شدت اختیار کرلی تھی۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ خراٹے لینے کی وجہ ناک کے پچھلے حصے ، تالو، حلق کے کوے اور زبان کی کوئی نہ کوئی خرابی ہوتی ہے۔ دراصل ہوا کا راستہ بند ہو جانے سے آدمی خراٹے لیتا ہے۔ اس کے لیے یا تو تالو کا آپریشن کرانا ہوگا یا پھر حلق کے کوے نکلوانے ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ نہ تو وہ اپنے ظاہری یا جسمانی زندگی کے تئیں اتنا چوکنا تھا اور نہ کوئی دوسرا اس کے لیے یہ درد سر مول سکتا تھا۔ مگر ڈاکٹروں کا اندیشہ تھا کہ اس طرح کے خراٹوں میں دل پر دباؤ بڑھتا رہتا ہے ، جس کی وجہ سے کبھی بھی سانس رک سکتی تھی۔ دل کی دھڑکن بند ہو سکتی تھی اور وہ مر سکتا تھا۔

کبھی کبھی جب اس کے گلے کے غدود بڑھ جاتے تو یہ خراٹے اٹک اٹک کر آنے لگتے۔ کچھ اس طرح جیسے تالو میں ازل سے بیج کی صورت پوشیدہ ’شبد‘ ناک اور منھ سے نکلتی ہوئی ہوا کے سہارے باہر آنا چاہتے ہوں۔ کسی نادیدہ، پرا سرار اور عظیم زبان کے حروف تہجی میں شامل ہوکر نیند کی خاموشی کے خلاف ایک بیانیہ کی تشکیل کرنے کے لیے۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے یہ خراٹے اداس اور دکھی تھے۔ ایسے خراٹے موت کے کتنا قریب تھے اور شاید اس کالی ندی سے بھی جو اس کے شہر میں ہر طرف بہتی پھرتی تھی۔

وردی پہن کر اور کاغذوں سے بھر اہوا خاکی رنگ کا تھیلا لیے ہوئے وہ گھر سے پھر نکلا اور گلیوں گلیوں دوڑتا ہوا گھومنے لگا۔کسی بچے کے ہاتھ میں کوئی رنگین کاغذ تھماتا ہوا ، کسی راہ گیر کو کسی ایسی شادی کا کارڈ دیتا ہوا جس کی تاریخ نکل چکی تھی۔ ایک سچے بہروپیے کی طرح اپنا فرض پورا کرتے ہوئے وہ دوڑ دوڑ کر اپنی ڈاک بانٹا کرتا۔ دوڑنے میں اس کی سانس بری طرح پھول جاتی تب وہ دم بھر کو سڑک کنارے یا کسی دوکان کے پٹلے پر بیٹھ جاتا۔ مگر آہستہ چلنا اس کے بس کی بات نہ تھی۔ شاید اسے معلوم تھا کہ جدید انسان کے ارتقا میں دوڑنے کا کتنا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ دوڑنے میں انسانوں کی گردن اور ریڑھ کی ہڈیوں کے گُر یوں نے تمام دھچکے برداشت کرنا سیکھ لیا۔ دونوں بانہوں اور کاندھوں نے توازن برقرار رکھنے کا کام انجام دیا ہے اور یہ انسانی کولہے ہی تو ہیں جودوڑتے وقت تیزی سے مڑنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ وہ قدیم انسان جب درختوں سے نیچے اترے تب دوڑ کا سلسلہ شروع ہوا۔
مگر وہ اور بھی تیز دوڑنا چاہتا تھا، تقریباً اڑنا چاہتا تھا۔ مگر کسی پرندے کی طرح نہیں بلکہ ایک پاگل ہوا کی طرح۔۔۔۔۔۔آزاد۔ ادھر سے ادھر۔ تقدیر میں بدلتی ہوئی ہوا، ریگستان میں ریت کے تودوں کی جگہ بدل دینے والی ہوا کی طرح۔
وہ اکثر سوچا کرتا کہ زمانہ کسی چٹھی رساں کے قدموں کے بنائے ہوئے راستوں پر کیوں نہیں چلتا۔
اور یوں تو زمانہ قیامت کی چال چل گیا تھا۔

وہ بہت تیز رفتار ہوگیا تھا۔ مگر انسانی جسم کی حرکت و رفتار تقریباً ایک مردے کے جسم کے برابر ہی رہ گئی تھی۔ جسم نظر آتے تھے، پہیوں پر بیٹھے بے جان مورتیوں کی طرح۔ پہیے ہوا سے باتیں کرتے تھے۔ انسانی جسم نہ ہلتا تھا۔ اس کو پسینہ تک نہ آتا تھا۔نظر نہ آنے والی قوت کے کاندھوں پر سوار پل بھر میں لوگ ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرلیتے تھے۔ صرف ان کی انگلیاں ادا کے ساتھ ہلتی تھیں اور اس کے خیال میں یہ ایک فحش بات تھی۔ سب کچھ مایوس کن حد تک خوب صورت ہوتا جا رہا تھا۔

یہ بھی ایک افسوسناک حقیقت تھی کہ لوگ اب اس کے اس بہروپ سے تقریباً اکتا گئے تھے۔ پھر بھی بھکاریوں کی طرح دن بھر میں اسے چند پیسے مل ہی جایا کرتے جن سے اس کی خودداری کو ٹھیس لگتی تھی۔ اسی لیے وہ ان پیسوں سے پرچون کی دوکان پر جا کر ردی کاغذ خرید لاتا۔ گھر کا خرچ بیوی ہی چلارہی تھی۔ وہ بڑے شہر جا کر وہاں سے پرانے کپڑے خرید لاتی اور یہاں غریب گھروں میں بیچ آتی۔ مگر پرانے کپڑوں میں آج تک اسے کبھی ڈاکیے کی وردی بھولے سے بھی نہ مل پائی۔ ہاں کچھ سال پہلے پرانے کپڑوں میں اسے ایک بوسیدہ سے رنگ کا کوٹ ضرور مل گیا تھا۔ یہ کوٹ کسی ایسے شخص کا رہا ہوگا جسے موٹاپے کی بیماری ہو۔ جاڑوں میں کبھی وہ اسے پہنتا تو اس کا سارا جسم اس میں چھپ جاتا۔ وہ اس کوٹ میں بھس بھرا ہوا آدمی نظر آتا اور جس طرح بھس بھرے شیر کی بے چارگی صاف اس کے منھ سے عیاں ہوتی ہے، بالکل اسی طرح اس کا چوہے جیسا سر مضحکہ خیز انداز میں بے چارہ ہو جاتا۔
اور لوگ۔۔۔۔۔۔وہ بہروپیے تو کیا، دراصل ڈاکیے سے ہی اکتا گئے تھے اور خود ڈاکیہ بھی اپنے وجود کی توقیر برقرار رکھتے ہوئے لوگوں کی زندگی سے نکل کر حاشیے پر آگیا تھا۔ وہ بس اب سمن، قانونی نوٹس، شئیر مارکیٹ کے بانڈ، ٹیلی فون کے بل، منی آرڈر اور کچھ میگزین وغیرہ ہی اِدھر سے اُدھر ڈھونڈتا نظر آتا تھا۔ بمشکل ہی کسی کے پاس کوئی خط ہوتا تھا۔ لوگوں نے خط لکھنا ہی چھوڑدیے تھے۔ دنیا کی ہڈیاں سُکڑ گئی تھیں۔ وہ بونی ہوگئی تھی جس پر کروڑوں کی تعداد میں انسان اس طرح چمٹے ہوئے تھے جیسے مٹھائی پر چیونٹیاں اور مکھیاں۔ بس ایک بالشت بھر کی دوری رہ گئی تھی جس میں دنیا کو سر سے لے کے پاؤں تک چھوا جا سکتا تھا۔ لوگوں کو صرف خبروں کی ضرورت تھی، کسی پیغام یا ہدایت کی نہیں۔ خبریں پلیگ کے زہریلے جراثیم کی طرح تھیں۔ وہ دنیا پر برس رہی تھی۔ لوگ خبروں کے اس لیے خواہاں تھے کہ وہ اپنی موت میں دوسروں کی شمولیت بھی چاہتے تھے۔ وہ وبا میں مرنا پسند کرنے والے لوگ تھے اور یقیناًانفرادی موت سے اجتماعی موت کی طرف بھاگنا قدرے عافیت کی بات تھی۔
ویسے تو ڈاکیہ ہمیشہ ہی انسانوں کے پیغامات، ان کے دکھ سکھ کو ایک دوسرے تک پہنچانے میں اپنی انفرادی شخصیت اور ساخت قربان کرتا آیا ہے۔ اس کی شکل سیال ہوکر بہتی ہے۔ تم اس کا اکثر نوٹس نہیں لیتے ، کیوں کہ وہ انسانوں کے شادی و مرگ کے کاغذوں کے حساب کتاب ڈھوتے رہنے میں تجریدی ہوجاتا ہے۔ ڈاکیے گلی میں گونجتی ہوئی وہ آوازیں ہیں جن کے ہم عادی ہوگئے یا آسمان پر آوارہ گردی کرتے ہوئے وہ بادل جن سے بھیانک بارش کا کوئی امکان نہ ہو اور اس لیے وہ اپنے حصے کا رعب اور وقار کھو چکے ہیں۔

اسے یاد ہے وہ بابو کے ساتھ شادی کی ایک تقریب میں گیا تھا۔ ایک شاندار سجی سجائی محفل جہاں بابو مٹی کے رنگ کی وردی پہنے خاموش کھڑے تھے۔ وہ سہما سہما ان کی انگلی تھامے تھے۔ محفل میں بابو کے ہاتھ پر صرف ایک نوٹ رکھ دیا گیا تھا۔ فضا میں چاروں طرف دیسی گھی کی کچوریوں کی خوشبو پھیل رہی تھی۔ اس کا دل کچوری کھانے کے لیے تڑپ رہا تھا۔ مگر دعوت اور آؤ بھگت کے وہ دونوں باپ بیٹے حقدار نہ تھے۔ انھیں نظر انداز کردیا گیا۔ یہ کیسی عجیب بات تھی کہ جن مسرتوں اور تقریبوں کے پیغام اور بلاوے وہ ساری دنیا میں بانٹتے پھرتے تھے، انھیں میں شرکت کے لیے ان کے پاس نہ کوئی بلاوا تھا اور نہ ہی کوئی مقام۔

گلیوں گلیوں بھٹکتے، وہ اچانک شہر کے سب سے رونق افزا بازار والی سڑک پر آ نکلا۔سڑک کے دونوں طرف نیون بلب، اونچے کھمبوں میں سڑک کی طرف منھ کیے اپنی روشنی پھینک رہے تھے۔ سڑک اتنی روشن تھی کہ اس پر گری ہوئی باریک سے باریک سوئی بھی نظر آ سکتی تھی۔ دوکانوں کے ساتھ بورڈ رنگین بدلتی ہوئی روشنیوں میں جھلملا رہے تھے۔ کاروں، بسوں اور موٹر سائیکلوں کا جم غفیر تھا۔ اس بھیڑ میں فیشن ایبل، نیم عریاں گداز بدن والی پکی پکائی عمر کی عورتیں سب سے زیادہ نمایاں تھیں۔خوشبوؤں کے ریلے اڑ رہے تھے۔ فٹ پاتھ پر آئس کریم اور چاٹ کے ٹھیلوں کے برابر ایک غبار والا کھڑا تھا۔ وہ یہ منظر دیکھ کر سحر زدہ سا ہوگیا۔ اگرچہ وہ سینکڑوں بار ادھر سے گذرا تھا مگر آج اس سڑک کی رونق کچھ دوسری طرح کی تھی۔
ٹھیک اسی وقت ایک عجیب سے گھر گھراہٹ سنائی پڑی۔ جیسے سڑک پر کچھ گھسیٹا جا رہا ہو اور تب اس نے دیکھا۔
دور سڑک پر سامنے سے کوڑھیوں کی گاڑیاں قطار باندے چلی آ رہی تھیں۔ لکڑی کی گاڑیاں جن میں بال بیرنگ کے چھوٹے چھوٹے پہیے لگے تھے۔ ان گاڑیوں کی اونچائی سڑک سے بس اتنی ہی تھی جتنی ایک خاص نسل کے کتے کے پیٹ کی زمین سے ہوتی ہے۔ گاڑیاں مہیب اور کریہہ آوازوں کے ساتھ گھسٹتی ہوئی قریب آ گئیں۔ کوڑھی مرد اور عورت انھیں کھینچ رہے تھے۔

مگر اس دہشت ناک منظر سے الگ ایک اور منظر بھی تھا۔ یا شاید منظر نہیں بلکہ منظر کو کھرچتی ہوئی ایک لکیر۔ ایک خراش۔ کسی کسی گاڑی میں کوڑھیوں کے معصوم بچے بیٹھے تھے اور ان کے ہاتھوں میں گیس کے غبارے دبے ہوئے تھے۔ یقیناًکوڑھیوں نے بھی اپنے بچوں کے لیے رنگین غبارے خریدے تھے۔
بازار رواں دواں تھا۔ تمام افراد ان گاڑیوں سے بچ کر نکل رہے تھے۔ مگر کوڑھیوں کے بچوں کے ہاتھ میں تھمے اونچے اٹھتے ہوئے گیس کے وہ رنگین غبارے جیسے ساری دنیا کا مضحکہ اڑا رہے تھے، زندگی کا بھی اور اپنا بھی ۔
اس نے خود کو شدت سے اداس محسوس کیا۔ اس کے تھیلے میں ایسا کوئی کاغذ نہیں تھا جو وہ ان سڑتی گلتی انگلیوں میں تھما سکتا۔ زندگی میں پہلی بار اسے اپنے بہروپیے پن کی لا حاصلی کا احساس ہوا۔
گاڑیاں آہستہ آہستہ اپنی دہشت سڑک پر گراتی ہوئی اس کے پاس سے گذرگئیں۔ اور تب اس نے بے اختیار چیخ کر کہا۔
’’میں وہ رقعہ جلد ہی لے کر آؤں گا جس میں تمھارے جسم کی کھال کو کندن کی طرح دمکنے کی خبر دی جائے گی۔ تمھاری ٹیرھی اور ناپاک انگلیاں سیدھی اور پاک ہو جائیں گی۔ چہروں پر ستواں ناک جگمگائے گی۔ بس اپنے بچوں کے ہاتھوں میں غبارے تھمائے رکھنا۔ یہ غبارے اونچے اڑتے اڑتے ایک دن آسمان تک پہنچیں گے اور خدا کو تمھاری داستان سنائیں گے۔۔۔‘‘
مگر اس نے محسوس کیا کہ اس کے منھ سے جو الفاظ باہر آ رہے ہیں، ان پر لگاتار اس کے حلق کے بڑھے ہوئے غدود کا دباؤ پڑ رہا ہے۔ اس لیے اس کی آواز محض ایک بھیانک خراٹے سے مشابہ ہے۔ اسی لیے اپنی اپنی گاڑیاں گھسیٹتے ہوئے کوڑھیوں نے اسے نہیں سنا۔ یا اگر سنا بھی ہوگا تو اس آواز کو بھی اپنی گاڑی کے پہیوں سے نکلنے والی کریہہ آواز ہی سمجھا ہوگا۔
اسے لگا جیسے اسے تیز بخار چڑھ رہا ہو۔
دور چمکتی ہوئی روشنی میں کوڑھیوں کی گاڑیوں کے بدنصیب سائے بے ہنگم انداز میں سڑک پر پڑتے نظر آئے۔ پھر وہیں کہیں دب کر رہ گئے۔

اس رات جب وہ سویا تو خراٹوں کی آواز اتنی بلند تھی کہ دوسرے کمرے میں لیٹی ہوئی بیوی کو وہاں تک آتی رہی اور وہ وہاں بھی چین کی نیند نہ سو سکی۔ اس بار خراٹوں کے ساتھ ان کی ہمزاد کھانسی بھی تھی۔ بار بار گلے میں پھندا سی لگاتی ہوئی کھانسی۔ شاید اس کے حلق کے غدود بڑھ کر سُوج گئے تھے، کیوں کہ رات بھر اسے بخار بھی رہا۔ گرمی اور حبس اپنی انتہا تک پہنچ گئے تھے۔ پوری رات جی کو متلا کر رکھ دینے والی گرمی کے منحوس سائے میں ہی گذر گئی۔

صبح جب وہ دیر سے اٹھا تو بیوی نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دیکھا۔ وہ ہمیشہ کی طرح چپ رہا۔ وہ جانتا تھا کہ ماتھے پر ہاتھ رکھنے کے پیچھے کوئی ہمدردی نہ تھی۔

’’تمہارا ماتھا جل رہا ہے۔ اور گھومو ایسی قیامت کی گرمی میں۔‘‘
’’تم نے مجھے اٹھایا نہیں۔ دن چڑھ آیا۔‘‘ اس نے اپنی گھرگھراتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
’’مجھے کیا پڑی تھی کہ اٹھاتی۔ کیا اپنی کمائی لاکر مجھے دیتے ہو؟ ویسے بھی رات اتنے خراٹے لیے ہیں اور اتنا کھانسے ہو کہ جینا دو بھر کردیا۔‘‘ بیوی کا لہجہ بدل گیا۔
وہ خاموشی سے اٹھا ۔ اس نے اپنے کاغذوں کے تھیلے کو فرش پر پلٹ دیا اور ایک سے ایک الم غلم شے کو اٹھا کر اس طرح قرینے سے لگانے لگا جیسے کسی دفتر کا بابو فائلیں لگاتا ہے۔ بیوی نے اس کی طرف نفرت سے گھورا ، پھر تیز تیز چلتی ہوئی دوسرے کمرے میں گھس گئی جہاں اسے پرانے کپڑے سلیقے سے لگا کر گھڑی میں باندھنا تھے۔
اور تب اس کی نظر تھیلے سے نکلی اخبار کے کا غذ کی بنائی ہوئی ایک تھیلی پر پڑی۔ وہ چونک پڑا۔ اس پر ایک بچی کی تصویر تھی۔ آٹھ نو سال کی بچی۔ گٹھنوں تک فراک پہنے بچی کا چہرہ بے حد اداس تھا۔ بڑی بڑی معصوم آنکھوں میں شاید آنسوؤں کی نمی تھی۔ بال بکھر کر اس کے ماتھے پر آ رہے تھے۔ تصویر کے نیچے ایک عبارت تھی۔
سات سال کی بچی اپنی چٹھی کی تلاش میں ایک سال سے شہر کے ہر ڈاک گھر میں چکر لگاتی گھوم رہی ہے۔ ’’روشنی‘‘ نام کی یہ بچی ستیہ پرکاش سنگھ کی اکلوتی بیٹی ہے۔ ستیہ پرکاش نے سال بھر پہلے سینٹرل جیل عزت نگر میں خود کشی کر لی تھی۔ اس پر اپنی بیوی کے قتل کا الزام تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ستیہ پرکاش نے یہ چٹھی اپنی خودکشی سے پہلے جیل کے کسی کارکن کے ذریعے اپنی بچی کے نام پوسٹ کروائی تھی۔ جیل کے کارکن کا بیان ہے کہ وہ چٹھی روشنی کی سال گرہ کا کارڈ تھی۔ مگر سال گرہ کی مبارکباد محکمۂ ڈاک کی گھٹیا اور غیر ذمے دارانہ کار کردگی کی وجہ سے ایک برس بیت جانے پر بھی روشنی کو نہ مل سکی۔ محکمۂ ڈاک کا بیان ہے کہ شاید وہ چٹھی ’ڈیڈ لیٹر‘ بن گئی ہے اور اسے آسانی سے اب تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔ اُدھر روشنی ماں باپ کے نہ رہنے اور چٹھی کے کھو جانے کے غم میں تقریباً پاگل ہوچکی ہے۔ وہ نہ کچھ کھاتی ہے، نہ پیتی ہے۔ بس صبح سے لے کے شام تک چھوٹے بڑے ہر طرح کے ڈاک گھروں کے سامنے کھڑی رہتی ہے۔ نائب وزیر برائے امور خزانہ نے بچی کی پرورش اور تعلیم کے لیے اپنے فنڈ میں سے ایک بڑی رقم دینے کا وعدہ کیا ہے۔ مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ معصوم روشنی کو باپ کی طرف سے اپنی سال گرہ کی مبارک باد مل پائے گی یا نہیں؟‘‘

وہ بری طرح بے چین ہوگیا۔ اس کے جسم کا سارا بخار اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں اتر آیا۔ اور اس کا چوہے جیسا سر آہستہ آہستہ دائیں بائیں ہلنے لگا۔ وہ تیزی سے فرش پر سے اٹھ گیا۔ سامنے سادہ ورقوں والی وہ کاپی رکھی تھی جس میں اس کی بیوی پرانے کپڑوں کے خرید و فروخت کا حساب لکھواتی تھی۔ اس نے کاپی میں سے ایک سادہ ورق پھاڑا۔ کچھ لکھنے کے لیے اس نے اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں ۔ کوئی قلم، پنسل، افسوس کہ کوئلے کا ٹکڑاتک نہ تھا۔ وہ گھبرانے لگا۔اب اور زیادہ وقت برباد نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس نے سوچا۔

اچانک اس نے دیکھا کہ سامنے پلنگ پر تکیے کے اوپر بیوی کا ہئیرپن پڑا ہوا ہے جس میں بیوی کے دو تین کھچڑی بال پھنسے ہوئے تھے۔ اس نے جھپٹ کر ہئیر پن اٹھایا اور پوری طاقت کے ساتھ اپنی بائیں ہتھیلی میں بھونک دیا۔ لال لال خون آہستگی کے ساتھ رسنے لگا۔ تب اس نے دوسرے ہاتھ ہاتھ کی کلمے کی انگلی کے پور کو اس خون سے تر کیا اور سادہ ورق پر لکھا۔

پیاری بیٹی روشنی کو جان نچھاور کرنے والے باپ کی طرف سے جنم دن بہت بہت مبارک ہو۔

۔ ستیہ پرکاش
پھر اس نے عبارت کے نیچے خون سے گلاب کا ایک پھول بھی بنا دیا۔ ورق کو پھونک مار کر سکھانے کے بعد اسے احتیاط کے ساتھ کھونٹی میں ٹنگی وردی کی اندرونی جیب میں رکھ دیا۔ اس کے بعد دو اخباری کاغذ کی اس تھیلی کو ہاتھ میں تھامے تھامے دروازے کی طرف دوڑا مگر اسے خیال آیا کہ اس نے وردی تو پہنی ہی نہیں ہے۔ تب بہروپیے نے ڈاکیے کی وردی پہنی ، سر پر ٹوپی لگائی اور بھوکا پیاسا ہی نکل کھڑا ہوا۔

دوپہر ہو چکی تھی۔ موسم دم گھونٹ دینے کی حد تک حبس زدہ تھا۔ ماحول اور فضا میں بے حد دھول اور دھند تھی۔ ایسا گمان ہوتا تھا جیسے ساری دنیا جس مٹی سے بنی تھی ، وہ آہستہ آہستہ کھرچی جا رہی تھی۔توڑی جا رہی تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے مٹی کی کسی عظیم الشان مورت کے توڑنے پر دھول کا ایک غبار اٹھتا ہے۔ ہوا کا تو نام بھی نہ تھا۔ جو بھی ہوا تھی وہ اس کی اپنی تھی اور اس کے دوڑنے سے پیدا ہوتی تھی۔

اور وہ دوڑ رہا تھا۔ ریل سے کٹے ہوئے ایک بدبخت ڈبے کی طرح جو ویران راتوں میں ریل کی پٹریوں پر اکیلا ہی دوڑتا تھا، بغیر انجن کے۔
آج اس کے ساتھ بچوں کی بھیڑ نہ تھی۔ سڑکیں، گلیاں ویران پڑی تھیں۔ بار بار وہ اخبار میں چھپی اس بچی کی تصویر دیکھتا۔ اسے ذہن نشین کرنے کی کوشش کرتا پھر اِدھر سے اُدھر نکل جاتا۔ وہ دھند کے ایک بگولے کی طرح چکرارہا تھا۔ اچانک اسے خیال آیا کہ وہ اپنا وقت برباد کررہا ہے۔ بچی کسی ڈاک خانے پر ہی ملے گی۔ یہ خیال آتے ہی وہ کالی ندی کے پُل پر بے تحاشا بھاگنے لگا۔ پُل سے ایک ڈیڑھ میل کی دوری پر ہی وہ چھوٹا سا گول ڈاک خانہ تھا جہاں اس کا بھائی لیہی اور گوند بنانے کا کام کرتا تھا۔ اور اسے معلوم تھا کہ اس چھوٹے سے ڈاک خانے کے اندر کہیں سرنگیں تھیں جو کہ زمین کے اندر ہی اندر کائنات کے سارے ڈاک خانے سے جا ملتی تھیں۔

اتنا تیز تیز دوڑنے پر بھی آج ڈاک گھر آتا نظر نہیں آتا۔ کدھر گیا؟ اس نے فکر مند ہو کر سوچا۔ اب اسے احساس ہوا کہ پُل پار کرنے کے بعد وہ غلط سمت کو نکل آیا تھا۔

وہ حواس باختہ ہو کر واپس مڑا اور مخالف سمت میں دوڑنے لگا۔ دھند اور مٹی کا غبار اور دبیز ہوتا جارہا تھا۔ اس کی سانس بری طرح پھولنے لگی۔ اس کی ناک اور آنکھوں میں دھول بھر گئی تھی۔ اسے کھانسی کا شدید دورہ پڑا۔ وہ ایک لمحے کو رکا اور سینے میں نہ سماتی ہوئی سانسوں کو درست کرنے لگا۔ اس کے منھ اور ناک سے مٹی کی بو آتی تھی۔

وہ پھر دوڑنے لگا اور تب دور وہ نظر آیا۔ وہ پرانا چھوٹا سا گول ڈاک خانہ۔ وہ امید سے بھر گیا۔ جلدی جلدی بھاگتے ہوئے وہ اس تک پہنچ گیا۔
گول ڈاک خانہ دھند اور دھول کے پہلے غبار میں لپٹا خاموش کھڑا تھا۔ اس کے صدر دروازے پر ایک موٹا سا زنگ آلود تالا جھول رہا تھا۔

اُف! آج اتوار تھا۔ اس نے افسوس اور صدمے کے ساتھ سانس بھری اور ڈاک خانے کی زرد دیوار سے پیٹھ ٹیک کر بیٹھ گیا۔ اب روشنی کو وہ کہاں تلاش کرے؟ روشنی کہاں ہوگی؟ اس بے رحم اور بے حس دنیا میں وہ اپنے باپ کی چٹھی کا انتظار کررہی ہے مگر کہاں؟ کدھر؟

اس کے جی میں آیا کہ وہ گھروں کے دروازے کھٹکھٹائے مگر وہ جانتا تھا کہ وہ سب اس وقت بھی نیند میں ڈوبے ہوں گے۔ یہ شہر تو مرگی کے ایک مریض کی طرح تھا جہاں ہر شخص بے ہوش تھا یا ایک پاگل نیند کا عادی ۔ افسوس کہ ایسے شہر میں کوئی خط ، کوئی پیغام یا کوئی تہنیت نامہ کس طرح دیا جاسکتا تھا۔

بہرحال، وہ پھر اٹھا۔ اسے اپنا فریضہ اداکرنا تھا۔ اس بار تیز تیز چلتے ہوئے اسے غیر معمولی تھکن کا احساس ہوا۔ سامنے دور تک سنسان سڑک پھیلی ہوئی تھی۔ کاش کے وہ اڑ سکتا۔ مگر بعد میں اس نے یہ بھی سوچا کہ اسے اپنے جسم پر بال و پر نہ ہونے کا افسوس نہ کرنا چاہیے۔ پرندے ارتقا کے سفر میں انسان سے اس طرح پیچھے رہ گئے تھے جس طرح فرشتے۔

اسے یاد آنے لگا کہ کسی دن کوئی کہہ رہا تھا کہ ڈاکیے کی وردی اب بجائے خاکی کے نیلی ہوا کرے گی۔ مگر اسے یہ منظور نہیں، کیوں کہ ڈاکیہ نیلے آسمان سے پَر لگائے زمین پر اترتا ہوا کوئی پیغام رساں نہ تھا۔ وہ خلا سے نہیں آ رہا تھا۔ ڈاکیہ تو زمین کا بیٹا تھا۔ وہ زمین سے زمین پر ہی چلتا تھا۔ اس لیے اس کو تو مٹی اوڑھے ہوئے ہی گھومتے رہنا چاہیے جو کہ زمین کا رنگ ہے۔

اچانک وہ پھر تیز تیز دوڑنے لگا۔ دوپہر کیا، سہ پہر گذر چکی تھی۔ اور اب تو شام قریب تھی ۔ اگرچہ دھند کی اس چادر کے نیچے وقت اپنے خد وخال مسخ کرچکا تھا۔

اس کا سارا دن اسی طرح بھٹکتے بھٹکتے ختم ہوگیا۔ شہر پر مٹی برس رہی تھی جس میں وہ خود بھی خاک، دھول اور مٹی کا ایک چلتا پھرتا پتلا ہی نظر آ رہا تھا۔

اچانک سامنے اسے کالی ندی بل کھاتی ہوئی نظر آئی۔ وہ بھٹکتے بھٹکتے ندی کے کنارے آ نکلا۔ کنارے ویران پڑے تھے۔ وہ رک گیا۔ اب بارش ہونا چاہیے۔ اس نے خواہش کی۔ صرف بارش ہی زمین سے آسمان تک تنے ہوئے مٹی کے اس مہیب پردے کو دھو کر مٹا سکتی ہے۔

اور یقیناًوہ آ رہی تھی۔ اسے بارش کی آہٹ سنائی دی۔ وہ کہیں دور ہو رہی ہوگی مگر اس کے آگے آگے چلنے والی ہواؤں کا ایک اداس، ٹھنڈا جھونکا ادھر کو آ نکلا۔

اس نے آسمان کی طرف منھ اٹھایا۔ ایک بوند اس کے ماتھے پر گری اور پھر کوندے، گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ وہ خاک اور دھول کے اس خواب غفلت میں مبتلا شہر پر برسنے لگی۔ بارش نے پانی سے بنے اپنے لمبے لمبے ہاتھوں سے دھند کو مسل کر رکھ دیا۔ کالی ندی کے کنارے اندھیرے ہونے لگے۔ بارش بہت تیز تھی۔ آہستہ آہستہ ندی کے کنارے کی زمین دلدل بنتی جارہی تھی۔ پانی کے زور سے ندی میں جیسے سیلاب آ گیا تھا۔ اس سیلاب کا پانی اسی طرح زمین پر پھیل رہا تھا جیسے گھاس کو چرتا ہوا جانور۔

تیز ہوا میں اس کی وردی اڑی جارہی تھی۔ اس نے تصویر والا اخبار سنبھال کر وردی کی جیب میں رکھ لیا۔ مگر اب واپس جانا ناممکن تھا۔ واپس جانے کے لیے گھونگے کی مانند رینگنا ضروری تھا۔ ارتقا کے ٹوٹے ہوئے پیر صرف آگے کی طرف گھسٹ سکتے تھے۔ گوشت کے لوتھڑوں کی طرح لڑھکتے ہوئے ہی سہی، مگر آگے کی طرف۔

اسے اب اپنی بائیں ہتھیلی میں سخت درد محسوس ہوا۔ ہتھیلی پھول کر کپا ہوگئی تھی۔ وہ بارش میں بھیگ رہا تھا۔ اس کے پھیپھڑے بارش اور ہوا کے سخت دباؤ سے گویا پھٹنے لگے۔ اس کا بخار اس کے جسم پر گرتی ہولناک بارش کے نیچے دبا کچلا پڑا تھا۔

اب اسے ایک بھیانک نیند آتی محسوس ہوئی مگر نیند کا یہ غلبہ شاید صرف اس کے جسم پر تھا۔ اس کی روح کو تو اس نیند کے خلاف چلتے ہی جانا تھا۔ اس لیے اس کی آنکھیں بار بار نیند سے چپک چپک کر چھوٹ جاتی تھیں۔

(۵)
دلدل میں چاقو

رات تقریباً آدھی بیت گئی تھی جب کچھ آدمی اسے اس حالت میں گھر لے کر آئے کہ اس کے منھ سے خراٹے جاری تھے۔ بارش نے رکنے کا نام نہیں لیا تھا۔ اس کی وردی کیچڑ اور پانی میں سنی ہوئی تھی۔ بیوی نے ہراساں ہو کر جب اس کی وردی اتار کر کھونٹی میں ٹانگی تو پانی میں بھیگ جانے کے سبب اس میں سے ایسی بدبو آ رہی تھی جیسی اصطبل سے آتی ہے۔

وہ سیدھا سیدھا پلنگ پر پڑا ہوا تھا۔ بائیں ہتھیلی پر ایک چھوٹا سا زخم تھا مگر ہتھیلی اتنی سُوج گئی تھی کہ وہ کسی انسان کی نہ ہوکر کسی عفریت کی ہتھیلی معلوم ہوتی تھی۔

کچھ لوگوں نے مل کر اس کے بھیگے ہوئے کپڑے اتار کر سوکھے کپڑے پہنادیے اور ایک چادر سے اس کے جسم کو ڈھک دیا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور منھ آدھا کھلا ہوا تھا جس سے وہ بلند آواز میں وحشت ناک خراٹے لگاتار آئے چلے جا رہے تھے۔

’’ذرا بارش کم ہو تو ڈاکٹر کو لے کر آتے ہیں۔‘‘ کوئی بولا۔

کھونٹی کے نیچے جہاں اس کی وردی سے ٹپکتا ہوا پانی فرش کو گیلا کر رہا تھا، اس کی بیوی اس جگہ کو ایک کپڑے سے پونچھنے لگی۔ اسی وقت اس نے اخباری کاغذ کی ایک بڑی سی تھیلی کو دیکھا جو پانی میں بھیگ کر گل چکی تھی۔ اس کے دل میں نہ جانے کیا آیا کہ وہ احتیاط کے ساتھ تھیلی اٹھا کر اسے غور سے دیکھنے لگی۔

کوئی تصویر تھی جس کے نقش و نگار بارش کے پانی نے اپنے اندر جذبے کر لیے تھے۔ تصویر کے اوپر اخبار کی تاریخ قدرے مٹ جانے کے باوجود پڑھی جا سکتی تھی۔

وہ آج سے ٹھیک چودہ سال پرانا اخبار تھا۔
بیوی نے تھیلی اٹھائی اور کمرے سے باہر آنگن کی موری میں پھینک دی۔

’’اسے جھنجھوڑ کر ہوش میں لائیں؟‘‘ کسی نے آہستہ سے کہا تھا۔
’’نہیں۔ ڈاکٹر کو آنے دو۔‘‘
مگر کیا وہ واقعی بے ہوش تھا؟

اگر یہ ممکن تھا کہ کسی کا عکس آئینے میں نظر نہ آئے اور آئینے سے کہیں بہت دور جا کر بھٹکے تو شاید اس کا عکس بھی کہیں اور….بھٹک رہا تھا۔ وہ دلدل پر بنے ایک چھوٹے سے ڈاک بنگلے کے سامنے ہاتھ میں ایک خط لیے کھڑا تھا۔ یہ ڈاک بنگلہ جس کی بناوٹ گرجا گھروں کی سی تھی۔ ڈاک بنگلے کے اندر ایک کمرے میں ایک لڑکی کمپیوٹر پر بیٹھی تھی ور اس کے کان سے ایک سیل فون لگا ہوا تھا۔

لڑکی کا چہرہ بے حد گول اور سفید تھا۔ اتنا سفید کہ جیسے قلت خون کا مارا ہوا ہو۔ وہ کمرے سے باہر آئی۔ دروازے پر سرجھکائے وہ خاموش کھڑا تھا۔
’’آپ کے شوہر نے آپ کو یہ محبت نامہ بھیجا ہے۔‘‘ اس نے لڑکی کی طرف ایک کاغذ بڑھایا جس پر ’’مجھے تم سے محبت ہے‘‘ لکھا ہوا تھا اور نیچے بچکانہ انداز میں ایک پھول بھی بنا تھا۔

لڑکی مسکرائی اور شرماتے ہوئے اس کے ہاتھ سے خط لے لیا۔

اس نے بہت ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہن رکھے تھے مگر اس کے پیٹ کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے آج اس میں آنتیں واپس آ گئی ہوں۔

پھر لڑکی نے اسے لگاوٹ کے ساتھ گھورا۔ ان آنکھوں میں پیار کرنے کی جنگلی سی خوشبو اتر آئی۔ لڑکی نے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اس کے تپتے ہوئے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ اس کی خاکی وردی جنگلی پھولوں کی خوشبوؤں سے بھر گئی۔

وہ دونوں یوں ہی ایک دوسرے کی بانہوں میں سمائے ہوئے دلدل میں دھنسنے لگے۔ دلدل کے نیچے پانی میں دھوپ کھلی ہوئی تھی۔ جس طرح کسی مکان کی کھلی بنیادوں میں دھوپ چمکتی ہے۔

دلدل کے نیچے موجود پانی میں ۔۔۔۔۔۔۔گہرے پانی میں انھوں نے ایک دوسرے سے جی بھر کر پیار کیا۔ لڑکی کے بدن پر بہت کپڑے تھے مگر اس کے بڑے بڑے پستان کپڑوں سے باہر لٹک رہے تھے۔ پستانوں سے دودھ کی ایک سفید نہر دلدل پر بہتی جاتی تھی۔

پھر وہ آہستہ آہستہ پانی سے اوپر آنے لگے۔ ساری کائنات ہی جیسے پانی سے ابھر رہی تھی۔ زندگی آ رہی تھی۔ پانی سے نکل کر زمین کی طرف۔ کائی سے لتھڑ کر دونوں کے جسم ہرے ہوگئے تھے۔

’’تم مجھ سے پیار کرتی تھیں؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’مانجھے سے میرا گلا کٹ گیا تھا۔‘‘
’’ہاں ہاں۔‘‘
’’تمھیں دادو کا کنواں یاد ہے اور وہ بند گلی؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’میرے بابو کو وہیں تو مار ڈالا تھا۔ اتنا بڑا خون کا دھبہ۔‘‘

اچانک سفید ، خون سے خالی گول چہرہ اس کے منھ پر ایک غبارے کی طرح پھٹ گیا۔ غبارہ جس میں گندہ، رقیق بدبو دار سفید پانی بھی تھا۔ ایسا پانی جس کی جگہ کوئی چہرہ نہ ہو سکتا تھا۔ پھر وہ سفید پانی ایک نفرت آمیز بے رحم چاقو میں بدل گیا۔ بہت تیز ہوا چلی جھاڑیاں دلدل کے چاروں طرف اس بے ترتیبی سے پھیل گئیں جیسے وہ پاگل ہو گئی ہوں۔

چاقو ایک فحش چمک کے ساتھ اس کے چہرے کی طرف بڑھتا ہے۔ پھر خاص اس کے نرخرے کی طرف۔
اسے گلا کٹنے میں کوئی تکلیف نہ ہوئی۔ وہ تو صرف کالی ندی کے بارش سے بھیگے ہوئے پُل کو دیکھے جارہا ہے جہاں آج نہ جانے کہاں سے اتنے بہت سے کوے آکر بیٹھ گئے ہیں۔

(۶)
نیند کے خلاف

’’یہ کس قسم کے خراٹے ہیں؟‘‘ اچانک بیوی نے سراسیمہ ہو کر کہا۔
’’اسے تو یہ خراٹے آتے ہی ہیں۔‘‘ بڑا بھائی آہستہ سے بولا جو ابھی ابھی بارش میں بھیگتا ہوا آیا تھا۔
’’نہیں ۔ یہ ویسے نہیں ہیں۔ یہ تو کچھ اس طرح کی آوازیں ہیں جیسے کسی کا نرخرہ کاٹا جاتا ہو۔‘‘ بیوی چلائی۔

اور یہ درست تھاکہ اب اس کے منھ سے باہر آنے والے خراٹے دوسری ہی طرح کے تھے۔ یہ کسی شے کے خلاف احتجاج کرتی ہوئی بے زبانی تھی۔ اس کی آنکھیں بند ہونے کے ساتھ ساتھ اب منھ بھی پورا بند تھا۔ ہونٹ آپس میں بھنچ گئے تھے۔

پھر یہ خراٹے کہاں سے نکل رہے تھے؟ شاید اس کے پورے جسم سے، جسم کے تمام مساموں سے؟ ہر بار کے خراٹے میں اس کی سانس اٹک جاتی۔ سینہ اور پیٹ اوپر کو اٹھ جاتے جیسے دم نکل رہا ہو مگر چند ہی ثانیے بعد اکھڑتی اور اٹکتی سانس پھر اپنی جگہ واپس آ جاتی۔ اس کا سُوجا ہوا زخمی ہاتھ متواتر اس انداز میں آگے کو پھیلا ہوا تھا جیسے وہ کسی کو کوئی شے سونپ رہا ہو۔ مگر حیران کن امر یہ تھا کہ اس کا چہرہ اپنے تمام عضلات سمیت بالکل پر سکون تھا۔ بھائی نے اس کا ماتھا چھوا اور جلدی سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ ماتھا انگارے کی طرح جل رہا تھا۔ آنگن میں بارش کا پانی بھرتے بھرتے گھٹنوں تک آگیا۔

مگر وہ ۔۔۔۔وہ تو دراصل گانا گا رہا تھا۔ اس کا جسم بے حد فعال ہو گیا تھا ۔ اتنا فعال اور سبک رفتار کہ بستر پر لیٹے لیٹے ہی وہ سب سے دور کہیں گاتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ کوئی گیت تھا جو لوگوں کو خراٹوں کی صورت سنائی دیتا تھا۔ وہ اپنی ہی ہوا میں جھومتا ہوا دلدل پر چلا جارہا تھا جہاں کمل کے پھول اور جڑیں بکھری ہوئی تھیں۔

خدا کے پیغام آ رہے ہیں، جا رہے ہیں۔ لکھا گیا لفظ ہی سب کچھ تھا چاہے وہ قلب پر ہی کیوں نہ لکھا جائے یا انسانوں کے حلق، تالو اور غدود کے درمیان۔ وہ بھی لکھے ہوئے لفظ کو اپنے قلب، حلق اور تالو میں ثبت کررہا ہے ۔ اس کے سر کے اوپر کبوتر، بادل اور ہوائیں ہیں ۔ کبوتر کے پنجے میں لفظ بندھا ہے۔ پانی پانی بادل میں لفظ کا عکس تھا اور ہواؤں میں لفظ کی خوشبو۔ یہ سب بھی اسی جانب جا رہے ہیں جہاں وہ دلدل میں جھومتا گاتا چلا جا رہا ہے۔ دلدل پر اس کے پیروں کے نشان بنتے جاتے تھے۔ یہ ایک چٹھی رساں کے اکیلے قدم تھے۔

اسی طرح گیت گاتے گاتے اس نے دیکھا کہ وہ ندی جو امربیل کی طرح اس کے جسم سے لپٹی ہوئی تھی، وہ قطرہ قطرہ ہو کر اس سے الگ ہورہی ہے۔ وہ اب نیچے ایک گہری گھاٹی میں بہہ رہی تھی۔ ایک کالی ندی بن کر، پتلی سی، رینگتے ہوئے سانپ کی مانند۔ وہ خوشی خوشی، نشے میں جھومتے ہوئے اس گہری گھاٹی کی طرف جانے والی ڈھلان کی جانب چلا۔ اس کا دل بلیوں اچھل رہا تھا، کیوں کہ وہاں ڈھلان پر، دلدل میں وہ چھوٹی سی سات سال کی بچی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ بچی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ بال بکھر کر ماتھے پر آگئے تھے۔ گھٹنوں سے اونچی فراک کیچڑ سے سنی ہوئی تھی۔

’’روشنی۔ روشنی! میں آگیا۔ تمھارے پاپا کی چٹھی لے کر۔ سال گرہ مبارک ہو۔‘‘
وہ اس کے پیروں سے لپٹ گئی۔ وہ خوشی سے رو رہی تھی۔
اس نے بچی کے روکھے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ پھر اپنی وردی کی اندرونی جیب سے وہ کاغذ نکال کر اس کی معصوم مٹھی میں تھما دیا۔
’’میں نے تمھارے گانے کی آواز دور سے سن لی تھی۔‘‘
’’ میں تمھارے لیے ہی تو گا رہا تھا۔‘‘
’’سچ؟‘‘
’’ہاں۔آؤ اس دلدل پر گلاب اُگائیں۔‘‘
اس نے بچی کے ہاتھ میں گلاب کا ایک پھول دیا۔ پھر دونوں نے مل کر گھٹنوں کے بل جھکتے ہوئے دلدل میں گلاب بویا۔
’’وہاں روشنی ہو گئی۔‘‘
’’اچھا روشنی۔ میں چلتا ہوں۔‘‘
’’فرشتے! تم کہاں جا رہے ہو؟‘‘
’’مجھے ابھی اپنا گیت مکمل کرنا ہے۔‘‘

ڈھلان پر وہ آگے چلنے لگا۔ اس کے پیر یہاں دھنس رہے تھے مگر اسے محسوس ہوا جیسے وہ اُڑ رہا تھا۔ زوال کا راستہ ہی روح کی اُڑان تھا۔ جب وہ وردی میں نیچے بہنے والی کالی ندی میں گر رہا تھا تو ندی سے ایک بھیانک بارش کی طرح نظر آئی جو گھاٹی سے آسمان کی طرف بہہ رہی تھی۔ ندی ایک سرکش گھوڑی کی طرح کسی طور قابو میں ہی نہ آتی تھی مگر اب وہ قطعاً نہیں گھبرایا۔ پیچھے روشنی کھڑی تھی۔ اس نے اپنے وجود کو ایک عظیم الشان چھتری کی مانند کھلتا اور پھیلتا پایا جس کے اوپر سے ندی کی شور مچاتی بھیانک موجیں گذر رہی تھیں۔ اسے اپنے تمام خط، تمام محبت نامے اور پیغام بھیگنے سے بچانے تھے اور وہ کامیاب ہوگیا۔ طوفانی ہوائیں اور خوفناک بارش اس کے چھتری جیسے وجود کو صرف پھڑ پھڑانے پر مجبور کرسکی تھیں۔ بس!

اس نے اپنا گیت پھر شروع کیا۔
یہ گیت اس ردعمل کا نام تھا جو وہ دنیا اور فطرت کی خوب صورتی کو بھینٹ کر رہا تھا۔ اگرچہ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ خوب صورتی کی طرف جانے والے راستے خوب صورتی کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ یہ وہ گیت تھا جو سناٹے کی طرف نہیں جا رہا تھا بلکہ سناٹے کے خلاف لڑ رہا تھا۔
وہ اب بھی دلدل پر چل رہا تھا مگر اس کے پیروں کے نشان اب دلدل سے باہر بن رہے تھے۔

تو کتنا طویل، دکھ بھرا راستہ اس نے کاٹا تھا۔ ہوا کے اندر ہوا، بارش کے اندر بارش، لاش کے اندر لاش اور خواب کے اندر خواب کو پار کرتے ، گذرتے رہنا ہی اس کا عظیم مقدر تھا۔

یہ ایک اکیلے، اداس بہروپیے کے سونے اور بوجھل پاؤں کے نشان تھے جو غفلت اور نیند کے خلاف ایک نیا بیانیہ گڑھ رہے تھے۔
کیا انسانیت ان نشانوں کے پیچھے چلنے کو تیار تھی؟
مگر اب اسے اس کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ اس کے عقب میں دلدل پر گلزار سج رہے تھے۔ ساری سرنگوں کے دہانے روشن ہو گئے تھے….
دنیا میں پھول ہی پھول۔ روشنی ہی روشنی۔ گیت ہی گیت۔

صبح کے چار بج رہے تھے جب بارش رکی۔
ڈاکٹر آیا اور اس کا معائنہ کیا۔
’’بخار تو اب بہت کم ہے۔ کل سے اس علاقے میں پھر طاعون کی افواہ اڑ رہی ہے۔‘‘
ڈاکٹر نے اس کی بغلوں اور رانوں کو ٹٹولا۔
’’نہیں پلیگ تو نہیں ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے نفی میں سر ہلایا۔ ’’مگر بخار میں بھیگ جانے کے سبب سخت اور جان لیوا نمونیا ہوگیا ہے۔‘‘
’’اور ایک بات اور….‘‘ ڈاکٹر نے اس کی آنکھوں کی پتلیوں کو کھول کر دیکھتے ہوئے مایوسی سے کہا۔
’’یہ کوما میں چلے گئے ہیں۔ شاید ایک گھنٹہ پہلے انھیں ایک ہارٹ اٹیک بھی ہوچکا ہے۔‘‘
’’کوما؟‘‘ سب نے ڈاکٹر کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

’’ہاں۔ ایک ایسی بے ہوشی یا نیند جس میں مر کر بھی آدمی نہیں مرتا۔ کبھی سال بھر کبھی دوسال اور کبھی کبھی تو بیس سال تک بھی یا اس سے بھی زیادہ۔ کوما میں گئے ہوئے انسان کے دماغ کے خلیے کچھ اس طرح کام کرتے ہیں کہ وہ خواب ہی دیکھتا رہتا ہے۔ اور خواب بھی زیادہ تر اچھے اور خوب صورت۔ مثلاً پھولوں کے، بچوں کے، وادیوں کے اور روشنی کے۔‘‘
اس کے بلند خراٹے اسی طرح جاری تھے۔
’’یہ کیا بات ہوئی ڈاکٹر؟ یہ تو کتے کی موت مرنا ہوا۔‘‘ اس کی بیوی نے نفرت اور شکایت بھرے انداز میں کہا۔
’’ہاں مگر کہا نہیں جا سکتا کہ یہ حالت کب تک رہے گی۔ انسان کبھی کبھی اس طرح بھی لڑتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے جواب دیا۔
’’کس سے؟‘‘ بڑے بھائی نے پوچھا۔
’’پتہ نہیں۔شاید موت سے، یا زندگی سے یا پھر کسی اور شے سے۔‘‘ ڈاکٹر نے چپکے سے کہا اور تیزی کے ساتھ وہاں سے رخصت ہو گیا۔

Categories
نان فکشن

خالدہ حسین کے افسانے”ابنِ آدم” کا تاثراتی جائزہ

[blockquote style=”3″]

شین زاد نے لالٹین قارئین کو اس دور کے فکشن سے روشناس کرنے کے لیے ایک ادبی سلسلہ “کہانی میرے دور کی” شروع کیا ہے۔ اس سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[/blockquote]

ایک سوال پچھلے کچھ عرصے سے مستقل پوچھا جانے لگا ہے کہ نیا فکشن کیا ہے؟ یوں تو اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے کہ کسی بھی زمانے میں لکھا گیا اس زمانے سے جڑا ہوا فکشن اس زمانے کا نیا فکشن کہلاتا ہے۔ جیسے تقسیم اور فسادات کے زمانے میں لکھا گیا فکشن جو تقسیم اور فسادات سے جڑے موضوعات،اس وقت کے مصنفین کی ذہنی حالت اور اس زمانے کے سماجی و معاشرتی حالات کا آئنہ دار تھا وہی اس زمانے کا نیا فکشن تھا۔ آج کے سماجی اور معاشرتی حالات یکسر مختلف ہیں اس لیے آج کے نئے فکشن کو سمجھنے کے لیے آج کے عالمی منظر نامے اور فکشن نگار کے علاقائی منظر نامے کو سمجھنا بے حد ضروری ہے 11/9 کے بعد ایک اصطلاح سامنے آتی ہے دہشت گردی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے عالمی منظرنامے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور پورے عالمی سیاسی اور سماجی نظام کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیتی ہے جس سے عالمی ادبی منظرنامہ بھی یکسر بدل کر رہ جاتا ہے۔ جہاں مغرب کا ادیب نئے حسی تجربات سے کشید کیے گئے خارجی و داخلی احساس کو نئے تخلیقی جوہر میں پرو کر نئے سماج کی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کرتا دکھائی دیتا ہے وہاں اردو ادب سے وابسطہ پاک و ہند کے ادیب بھی نئی ادبی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالتے نظر آتے ہیں۔

پچھلے سترہ اٹھرہ سالوں میں دہشت گردی کے نام پر مسلط کی گئی جنگیں انسانیت کے لیے ایک گھمبیر مسئلہ رہی ہیں اور ان سے متعلقہ موضو عات پر ہر خطے کے ادیب نے قلم اٹھایا اور اپنا احتجاج قلم بند کروایا ہے اردو ادب میں بھی تقریباً ہرکہانی کار نے ان جنگوں سے متعلقہ موضوعات کو اپنا مشق ِ سخن بنایا ہے۔ ویسے تو ہر خطے کے قلم کاروں پر ان جنگوں کے اثرات بالواسطہ یا بلا واسطہ پڑے ہیں لیکن پاکستان کا ادب اور ادیب براہ ِ راست ان سے متاثر ہوا ہے کیوں کہ عراق اور افغان جنگ کے بعد دہشت گردی کا جیسے سیلاب ہی ہمارے ملک میں امڈ آیا ہے جس نے انفرادی اور اجتماعی قومی سوچ کے دھارے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ کسی بھی علاقے کے ادب میں آنے والے بدلاؤ کو سمجھنے کے لیے اس علاقے کے ادب کو پڑھنا اور باریکی سے اس کا تجزیہ کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے ویسے تو یہ کام اُس ادب کے ناقدین کا ہے اور یہ انہیں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آج کے اردو ادب کا موازنہ عالمی ادب کے ساتھ پیش کریں اور تجزیات کے ذریعے ثابت کریں کہ اردو ادب اور خاص طور پر اردو فکشن آج کہاں کھڑا ہے۔

میں ایک عام قاری کی حیثیت سے کوئی تنقیدی مقالہ تو پیش نہیں کر سکتا لیکن یہ دعویٰ ضرور کر سکتا ہوں کہ ہمارا آج کا فکشن کسی بھی طرح نئے عالمی فکشن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بس معاملہ اتنا سا ہے کہ اردو ادب کو دوسری زبانوں میں ترجمہ نہیں کیا جا رہا یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے دوسری زبانوں کے ادب کو اردو زبان میں ترجمہ کرنے کے خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں۔ انفرادی سطح پر تو احباب کچھ کام کرتے ہی رہتے ہیں لیکن اس کام کے لیے سرکاری سطح پر نہ تو پاک میں اور نہ ہی ہند میں اقدامات کیے گئے ہیں۔

اب اگر مجھ سے کوئی کہے کہ اپنے دعوے کے ثبوت میں دلیل لاؤں تو میں اپنی دلیل کے لیے محترمہ خالدہ حسین کا افسانہ “ابنِ آدم” پیش کروں گا۔
(یوں تو یہاں میں بہت سے افسانوں کا ذکر کر سکتا ہوں جو میں آئندہ بہت سے افسانوں کے تاثراتی جائزوں میں کرتا بھی رہوں گا )

گو “ابنِ آدم ” امریکہ عراق جنگ کے تناظر میں لکھی گئی کہانی لگتی ہے لیکن مصنفہ نے اپنے کمالِ فن سے اسے ایسی آفاقیت عطا کر دی ہے کہ یہ کسی ایک فرد، کسی ایک خطے،کسی ایک ملک،یا کسی ایک براعظم کی کہانی نہیں رہی بلکہ یہ کل انسانیت اورکلی دنیا کی کہانی بن گئی ہے۔

افسانہ پُر اسرار انداز میں شروع ہوتا ہے اور قاری کو پہلی سطر سے ہی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے بالکل مکڑی کے جال جیسی گرفت جس میں قاری ہر آن تڑپتا پھڑکتا تو ہے لیکن اس گرفت سے آزاد ہونا اس کے بس میں نہیں رہتا۔ خالدہ حسین اپنے چھوٹے چھوٹے حسی تجربات سے کشید کیے گئے شدید احساسات کو اپنی کہانیوں میں یوں پرو دیتی ہیں کہ پڑھتے ہوئے قاری کو وہ اپنے ہی حسی تجربے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ تیزی سے گزرتے وقت میں پے در پے رو نما ہوتے حالات و واقعات سے پیدا ہونے والی یقین و بے یقینی کی کیفیت کو جس چابکدستی سے کہانی میں گوندھا گیا ہے پڑھ کر طبیعت عش عش کر اٹھتی ہے۔۔۔

“ہیلی کاپٹر کا جسیم پنکھا ابھی بند نہیں ہوا تھا اور چاروں سمت ریت اڑ رہی تھی اور شاید اس پنکھے کے بند ہونے کا کوئی ارادہ بھی نہ تھا۔ مگر نہیں، ہوسکتا ہے یہ رک چکا ہو اور وہ اسے چلتا ہوا دیکھ رہا ہو کیوں کہ اب واقعات مسلسل ہوتے رہتے تھے۔ جیسے آنکھ پر کسی شے کی منفی تصویر بہت دیر تک جمی رہ جائے۔”

بظاہر یہ کہانی ایک جہادی تنظیم کے گرفتار کیے گئے چند مجاہدوں کے گرد گھومتی ہے لیکن پس ِ متن قابض فوج اور اسکے پر آشوب رویے کا پردہ چاک کرتی چلی جاتی ہے۔ اس فوج کے اس علاقے میں ہونے اور اس کے پیچھے محر ک سوچ کو سمجھنے کے لیے صرف ایک جملہ کافی ہے جسے مصنفہ نے بڑی ہی سہولت سے کہانی میں جڑ دیا ہے اپنے احساسات پر لگنے والی اس کاری ضرب کو قاری اپنی روح تک محسوس کیے بنا نہیں رہ پاتا۔
“آخر یہاں پر ایسا کیا مسئلہ پیش آ گیا ہے”؟ ماہر نے سکریٹ منہ میں دبائے دبائے کہا۔”ہم اس کمبخت نحوست مارے ریگستان میں اس لیےتو خوار نہیں ہو رہے کہ یہ حشرات الارض ہمیں پاگل کر دیں۔ کچھ ہے کوئی بڑی پُر اسرار شیطانی قوت جو ان کے اندر مرتی ہی نہیں۔ ہم جو خواب دیکھتے ہیں نا کہ آدمی مر کے بھی نہیں مرتا، چند ثانیے مرنے کے بعد پھر اچھا بھلا اٹھ بیٹھتا ہے اور گلا دبانے کو ہمارا پیچھا کرتا ہے تو یہ اس ریگستان کا نائٹ میئر ہے”۔

یعنی وہ فوج جس زمین پر قابض ہے اس میں بسنے والے اس کے لیے حشرات الارض ہیں یہی وہ سوچ ہے جو ان بڑی عالمی قوتوں کے ذہن میں پنپ رہی ہے جس کے زیرے اثر بڑی عالمی قوتویں اپنے زیرِ تسلط آ جانے والوں کو انسان ہی نہیں سمجھتیں اگر دیکھا جائے تو حقیقتاً یہ عراق پر امریکہ کی بہیمانہ جنگی جارحیت تھی جس نے ایک پوری قوم اور اس کے تشخص کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا خالدہ حسین نے جنگ سے پیدا ہونے والے انسانی المیے کو افسانے کا موضوع بنایا ہے اور سماجی اور معاشرتی سطح پر جنگی جبر سے پیدا ہونے والی صورت ِ حال سے انسانوں کی زندگیوں میں آنے والے اتار چڑھاؤ کو جس خوبی سے کرداروں کا روپ دیا ہے اس کی داد کے لیے میرے الفاظ کم ہیں کرداروں کی تحلیل ِ نفسی کی جائے تو مختلف کرداروں پر اس جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات کے اثرات کا مختلف ہونا بعید از قیاس نہیں آئیے یہ حالات کرداروں پر کیا کیا اثر ڈالتے ہیں اور ان کے رویوں میں کیا کیا تبدیلیاں رو نما ہوتی ہیں ان کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ امین کا کردار معاشرے میں لالچی، خود غرض دنیاوی ذلت بھری زندگی کو انسانی خودی پر فوقیت دینے والے انسانوں کا نمائندہ ہے جو اپنی نام نہاد محبت میں ناکامی اپنی سہل پسند طبیعت،اپنی حرص و ہوس اور اپنی جینے کی بےکار سی خواہش کے زیر ِ اثر دشمنوں سے مل جانے اور اپنوں کے خلاف کام کرنے اور دشمنوں کے آلہ ء کار بنے کو درست سمجھتا ہے اور اس کے لیے بھونڈے جواز خود ہی گھڑتا چلا جاتا ہے ایسے کردار عام زندگی میں بھی ہر معاشرے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔۔۔

“ابو حمزہ!مجھے تم پر حیرت ہوتی ہے۔ اس قدر توہم پرست ہو۔ ڈاکٹر ہو کر بھی تم ایسی باتوں پر یقین رکھتے ہو۔یہ کچھ بھی نہیں۔ ساری دنیا معصوم لوگوں کے خون سے لبریز ہے۔ انسانی تاریخ ہے ہی یہی کچھ۔کس کس نے بد دعا نہ دی ہو گی اور یہ دعا بد دعا آخر ہے ہی کیا؟”

“مگر ضروری نہیں، موت ضروری نہیں،ہر گز نہیں۔ زندہ رہنا زیادہ قرینِ قیاس ہے زیادہ فطری ہے۔ اس کے اندر کسی نے کہا تھا اور وہ بے حد شرمندہ ہو گیا تھا۔ اس نے پھر سوچا، یہ بزدلی اس میں کب اور کس طرح پیدا ہو گئی۔ شاید یہ موروثی ہے۔”

کیا بھونڈا جواز ہےیہ صرف جینے کی خواہش کی تکمیل کے لیے۔ اور جینا بھی کیا صرف جسمانی آسائش اور بھیک کے چند نوالے امین کے لیے درد اور تکلیف کے معنی بدل ڈالتے ہیں

“وہ لمحہ عجیب تھا۔یقیناً کھال کا ادھڑنا، ناخن کا اکھڑنااور نازک مقامات کوکچلا جانا بہت غیر ضروری ہے۔یقینا! تر و تازہ روٹی اور جسم کی آسائش بہت ضروری ہے۔ سب سے ضروری۔”

اس کی یہی سوچ اسے ذلت بھری زندگی کی کھائی میں اتار دیتی ہے جہاں زندگی کا آفاقی تصور کچھ نہیں رہتا زندگی سے جڑے سارے حقیقی تصورات ایک انسان کے لیے محض تصور ہی رہ جاتے ہیں۔

” جبریل الامین، کتنا غلط نام تھا اس کا۔” یہ بھی اس نے سوچا، مگر امانت اور خیانت۔۔۔۔یہ بھی محض تصورات ہیں جب کہ جسم اور حواس اور ان کی آسودگی حقیقت۔”

خالدہ حسین نے انسانی نفسیات کے علم سے مکمل آگہی اور اپنے فنی تجربے سے اس کردار کو یوں گھڑا ہے کہ یہ ذلت بھری زندگی اور گھٹیا انسانی سوچ کی علامت بن گیا ہے۔۔۔جب کہ اس کے بر عکس ایک کردار لیلٰہ کا ہے ریاستی جنگی جبر اور اپنے معصوم لوگوں کے ساتھ کیا گیا الم ناک سلوک اس کی سوچ کو یکسر بدل کر رکھ دیتا ہےاورحب الوطنی اور اپنوں کی خاطر جان نثاری کا جزبہ اس کے اندر ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے۔

” اس وقت لیلیٰ اپنی کمر کے گرد وہ بیلٹ باندھ رہی تھی۔ ’’مگر اس سے حاصل کیا ہو گا۔ تم خود اور کچھ وہ … اور یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کیسے اور کتنے؟ ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی دوسرے بے فائدہ قسم کے لوگ ہوں جو اس دھماکے کی لپیٹ میں آ جائیں اور سب سے بڑھ کر تمہاری بہن اور بابا کو اس کا کچھ فائدہ نہ ہو گا؟‘‘ اس نے لیلیٰ سے کہا تھا۔

’’ ان کو تو اب کسی بات سے کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ ‘‘ لیلیٰ نے جواب دیا تھا۔ ’’مجھے معلوم ہے اب سکینہ اگر زندہ ہے تو کس حال میں ہو گی اور میرا باپ…!‘‘ وہ خاموش ہو گئی۔

’’کیا تم چاہو گے کہ میرا بھی وہی حال ہو جو سکینہ کا ہوا؟‘‘
’’ نہیں نہیں !‘‘ اس نے فوراً کہا تھا اور پھر خود اٹھ کر اس کی ڈیوائس سیٹ کرنے لگا۔ لیلیٰ بالکل پرسکون تھی۔ اس نے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا۔ اس وقت اس میں ایک نرم گرماہٹ تھی۔ اس کی بھوری آنکھیں اور بھی گہری نظر آ رہی تھیں۔”

یہ تو خالدہ حسین کا ہی خاصہ ہے کہ ایک ہی افسانے میں زندگی کے بارے مختلف کرداروں کے مختلف نظریات کو یک جا کر کے پیش کیا ہے اور بین المتن ایسا معنیاتی نظام ترتیب دیا ہے جس نے اس فنپارے کو آفاقیت عطا کر دی ہے۔ایسے فنپارے بے شک کسی بھی زبان میں تخلیق کیے گئے ہوں وہ ہیں در اصل کل انسانی سماجی رویوں کے آئنہ دار اور نمائندہ۔ اور یہ افسانہ تو ہے ہی مثال کی حد تک خالدہ حسین کی فنی مہارت، مشاہدے اور علم کا عکاس جسے صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

یوں تو اس افسانے کا ہرکردار ہی اپنی جگہ طویل بحث کا متقاضی ہے کہ ہر کردار میں خالدہ حسین کا تخلیقی عنصر اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے لیکن اس کہانی کا وہ متحرک کردار جس نے مجھے اس شکست و ریخت سے گزارا جس نے خالدہ حسین کو ایسا شاہکار کردار تخلیق کرنے پر مجبور کیا ہو گا۔ ابو حمزہ جو کسی صورت سماجی جنگی جبر کے آگے جھکتا نہیں جو ہر صورت ان استبدادی قوتوں کے خلاف اپنا احتجاج درج کرواتا ہے پھر چاہے وہ احتجاج موت کی ہی صورت کیوں نہ ہو۔جس شخص کے لیے زندگی خودی اور وضعداری کا نام ہے لیکن بصورت ِ دیگر موت، زندگی سے زیادہ اعلٰی و عرفہ شے بن جاتی ہے۔جنگی جبر اور سماجی ادھیڑ بُن ایک انسان کے اندر ایسی گھٹن اور حبس پیدا کردیتے ہیں کہ پھر اس کے لیے زندگی کے مقابلے میں موت بہتر انتخاب بن جاتی ہے۔ خالدہ حسین نے اسے جس خوبصورتی سے نقش کیا ہے اس کی مثال ملنا مشکل لگتا ہے۔۔۔۔

” ابو حمزہ اس روز اپنے آپ کو خودکش حملے کے لیے تیار کر رہا تھا۔ لیلیٰ اور قدوس بھی وہیں تھے۔ وہ اس تباہ شدہ عمارت کی چھوٹی سی کوٹھری میں تھے جو ملبے میں گھری نظروں سے اوجھل تھی۔ اس روز وہ بڑی مشکل سے روٹی کے چند پھپھوندی لگے ٹکڑے کوڑے کے ڈھیر پر سے چن کر لایا تھا۔ وہاں سب اپنے اپنے ٹکڑے ٹھونگنے کی کوشش کر رہے تھے۔

لیلیٰ کے رخسار پر ایک لمبا گہرا شگاف تھا۔ ایک بم دھماکے میں شیشے کا ٹکڑا پیوست ہو گیا تھا۔ ابو حمزہ نے اپنی ڈائی سیکشن کی چمٹی سے اسے نکالا تھا۔ لیلیٰ کے ہاتھ تکلیف کی شدت سے بالکل برف ہو رہے تھے اور پورا جسم کانپ رہا تھا۔ اس روز اس کے باپ اور چھوٹی بہن ہنکا کر لے جائے گئے تھے۔ حالانکہ وہ سب در اصل ابوحمزہ اور لیلیٰ کی تلاش میں تھے۔ دہشت گردی کے نام پر محلے کے محلے زندانوں میں ٹھونس دیے گئے تھے۔ اس سے پہلے انہیں کب خبر تھی کہ زندان آبادیوں سے زیادہ بڑے ہیں۔ یوں بھی ان کے نزدیک جانے کی کسی کو اجازت نہ تھی۔

ابو حمزہ نے پھپھوندی لگی روٹی کی ایک چٹکی منہ میں ڈالی اور اسے ابکائی آ گئی۔

’’ اس میں تمام بیکٹیریا بھرے ہیں۔ اس سے مرنے سے بہتر ہے کہ آدمی بہتر موت کا انتخاب کرے۔ ‘‘
“صدیوں سے قدرت یہ منصونہ بنا رہی تھی۔ صدیاں تو اس کی تقویم میں چند ایک ثانیوں سے زیادہ نہیں۔یہ زمین بے گناہوں کے خون سے سیراب ہوتی چلی آئی ہے۔ اس کو دی گئی بد دعا حرف ِ سچ ثابت ہو رہی ہے”

“میں بھی نہیں مانتا تھا مگر اس زمین کی ہوائیں بین کرتی ہیں اور کرتی چلی آئی ہیں۔ یہاں کی زمین سیال سونا اُگلتی رہے۔ اس سے کچھ نہیں ہوتا۔فاقہ اور جبر یہاں کی نسلوں پر لباس کی طرح منڈھ دیے گئے ہیں۔ اس وقت میرا مسئلہ صرف اپنے حصے کا احتجاج ہے۔ایک بہتر موت کا انتخاب کر کے۔”

یہ کردار ہر دو صورتوں میں آفاقی معنویت کا حامل ہے جب یہ آزاد ہے اپنے فیصلے کرنے میں اور اپنے قول و فعل کے لیے کلی طور پر ذمہ دار ہے تب بھی یہ اخلاق کی بلند سطح پر نظر آتا ہے حالات کا جبر اور سماج کی بدلتی صورت اس کی آدمیت اور آفاقی سوچ کو مسخ نہیں کر پاتی۔

“امین !جبریل الامین۔” اس نے پرانے وقتوں کی طرح بڑے دُلار سے کہا،”لو ہماری تصویر بناؤ اور ہمارے بعد اسے میڈیا پر پہنچانا کہ ہم اس وقت کتنے خوش تھے۔”
اس کا صبر واستقلال اور استقامت اس وقت بھی دیدنی ہوتا ہے جب وہ دشمن کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور ظلم اور تذلیل کی شدید آگ سے گزار دیا جاتا ہے۔

“اس کے ہاتھ میں ایک موٹا پٹّاتھا اور پٹّا ایک متحرک وجود کے گلے میں تھا اور وہ وجود معلوم نہیں کون تھا۔آدمی یا سنگ، معلوم نہیں مگر وہ چار ہاتھوں پاؤں پر چلتا تھا۔ کتے سے بڑی جسامت، بالکل برہنہ۔اس کی برہنگی چوپائے کی مانند عیاں تھی”

“اس کا منہ تھوتھنی کی طرح سامنے اٹھا تھا اور جھاڑ داڑھی لٹکی تھی (کیا کتوں کی راڑھی ہوتی ہے؟ اس نے یاد کرنا چاہا)۔” فوجن زور زور سے پٹّے کو جھٹکا مارتی تھی اور چوپائے کی گردن گھوم گھوم جاتی تھی۔پھر وہ ایک زور دار ٹھڈا اپنے ایڑی دار فوجی بوٹوں کا اس کے پچھلے دھڑ پر رسید کرتی اور فاتحانہ نظروں سے مجمعے کی طرف دیکھ کر دوسرا ہاتھ لہراتی۔”

“اب ماہر، افسروں کی قطار سے نکل کر باہر آیا۔ اس نے فوجن کی طرف ہاتھ کی دو انگلیوں سے وی کا نشان بنایا اور نعرہ لگایا۔
“براوو۔۔۔۔جاری رکھو۔”فوجن اپنی تعریف پر اور بھی مستعد ہوگئی۔ پھر ماہر نے سب کی طرف فخریہ دیکھا اور پکارا اور وہ جس کے گلے میں پٹّا تھا، اس کی طرف اشارہ کیا۔ پھر اپنا بھاری بوٹ اس کی تھوتھنی پر رسید کیا۔

“سگ،سگ،کلب،کلب،بھوں،بھوں۔”اور آدھا ہنسا جب کہ ادھا خاموش رہا۔پھر ماہر نے اشارہ کیا اور بہت سے فوٹوگرافر دوڑے دوڑے آئے ہر طرح کے کیمروں سے لندے پھندے۔پھر دو فوجی بیچ میدان کے آئے اور انہوں نے اپنی پینٹوں کی زپیں کھولیں اور اس چوپائے پر اپنا مثانہ خالی کرنے لگے اور وہ چوپایا اس متعفن سیال کے نیچے چاروں ہاتھوں پاؤں پر کھڑا تلملانے لگا۔اپنا سر، منہ، آنکھیں بچانے کے لیے۔

تشدد،رسوائی اور ذلت کی اس بد ترین سطح پر لے آنے کے باوجود دشمن نہ تو اس سے کوئی راز ہی اگلوا پاتا ہے اور نہ اپنے لیے رحم اور زندگی کی بھیک ہی منگوا پاتا ہے یوں یہ کردا ر انسانی عزم و ہمت کی آفاقی علامت بن جاتا ہے۔اور افسانے کے پورے ڈسکورس کو ایک بڑے تخلیقی تجربے میں ڈھال دیتا ہے۔ جس کی داد آنے والے زمانے دیتے ہی رہیں گے۔

“آدمیت ختم کرنا بھی ایک ہنر ہے اور جب تک تم آسمیت ختم نہ کر دو گے،کمزور سے کمزور بھی تمھیں تنگ کرتا رہے گا۔تمہارا جینا حرام کردے گا،دیوانہ کر دے گا۔”

ماہر کی گفتگو ٹکڑوے ٹکڑوے اس تک پہنچ رہی تھی۔وہ باقیوں کو بتا رہا تھا کہ تفتیش اور راز اگلوانے سے پہلے اب لوگوں کو کنڈیشن کرنا ضروری ہے۔ اور اس کے لیے ان کی آدمیت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔دراصل آدمی میں خود آدمیت ہی سب سے بڑا فساد ہے۔اور اس نسل میں تو خاص طور پر۔”

یہ وہ سوچ ہے جس پر شدیدضرب لگاتا ہے یہ افسانہ۔خالدہ حسین یہ جملے فوجی کے منہ سے کہلواتی ہیں اور پھر پورے ڈسکورس کو اس سوچ کے بر خلاف یوں بنتی ہیں کہ افسانے کے اختتام پر قاری سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہاں در حقیقت کس کی آدمیت ختم ہوئی ہے اور وہ اصلاً کُتا بن گیا ہے اور کون آدمیت کے اعلٰی ترین معیار پر قائم و دائم ہے بے شک ایسی تخلیقی کاریگری اور ہنرمندی سے ایسا شاہکار افسانہ تخلیق کرنا خود اپنی جگہ ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔میں محترمہ خالدہ حسین کے اس افسانے ” ابن ِ آدم” کو اکیسویں صدی میں لکھے گئے شاہکار افسانوں میں شمار کرتا ہوں اور اسے نئے فکشن کی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہوں مصنفہ کے لیے مبارک باد کہ انہوں نے ایسا فن پارہ تخلیق کیا۔ میں اس فنپارے کو پڑھنے اس کے تخلیقی جوہر کو اپنے اندر اترتے ہوئے محسوس کرنے اور اس پر اپنے تاثرات پیش کرنے کو اپنا فخر سمجھتا ہوں۔

Categories
فکشن

پہلے میرا باپ (محمد عباس)

فجر کی نماز اور بچوں کو قرآن ناظرہ کی تعلیم دینے کے بعد گاؤں کی مرکزی جامع مسجد کے امام صاحب اپنے گھر میں استراحت فرما رہے تھے جب بیٹھک کے دروازے پر تیز دستک ہوئی۔آنے والا یقینا امام صاحب سے ملنے آیا تھا ورنہ بیٹھک کی بجائے گھر کے دروازے پر دستک دیتا۔ بے وقت اور اتنی تیز دستک۔ ان کی بی بی چونک اٹھی۔ گاؤں کے سبھی لوگ جانتے تھے کہ امام صاحب اس وقت آرام کرتے ہیں، ایسے وقت کوئی بھی ان کے پاس مسئلہ لے کر نہیں آتا تھا۔دوسرے ، گاؤں کے سبھی لوگ ان کی بہت عزت کرتے اور ان کے سامنے اونچی آواز میں بولنے سے بھی اجتناب کرتے تھے۔ان کے دروازے پر اتنی تیز دستک کی کسی میں ہمت ہی نہ ہوتی تھی، عام طور پرلوگ درمیانی انگلی کی پشت سے دروازے پر ہلکے سے بجاتے، اگر امام صاحب دروازہ کھول دیں تو ٹھیک ورنہ تین دستکوں کے بعد وہ برا مانے بغیر ادب کے ساتھ لوٹ جاتے تھے۔ آج اتنی صبح اور اتنی تیز دستک سن کر ان کی بی بی چونک اٹھی تھی۔ امام صاحب کی طرف فوراً دیکھا ، وہ بھی اس خلافِ معمول ملاقاتی کی آمد پر حیران ہو کرچارپائی سے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ آنکھوں میں ’’اللہ خیر کرے‘‘ کے تاثرات تھے۔ جلدی سے انہوں نے بیٹھک کا دروازہ کھولا تو باہر گاؤں کا ایک معزز شخص ملک بشیر کھڑا تھا۔ گو کہ گاؤں کی آبادی میں ملکوں کا تناسب بارہ پندرہ فیصد ہی تھا لیکن یہ ان سب کا سرکردہ تھا اور الیکشن اور دیگر اجتماعی سرگرمیوں میں سبھی ملک اس کی پیروی کرتے تھے۔ اس کی اسی مقبولیت کی وجہ سے گاؤں میںچودھری اور راجے دونوں اس کی عزت کرتے تھے۔ مسجد کمیٹی کے معاملات میں بھی وہ دخیل رہتا تھااور امام صاحب بذاتِ خود بھی اس کی نیک نیتی اور خلوصِ دل کے قائل تھے۔ اس وقت ملک بشیر کے چہرے پر پریشانی تو نہ تھی البتہ بے تابی کے تاثرات اس کے تمام بدن سے مترشح تھے۔ امام صاحب نے اسے اندر آنے کی دعوت دیتے ہوئے استفسار کیا:’’خیریت تو ہے ناں؟‘‘

’’بالکل خیریت ہے امام صاحب۔ ‘‘ وہ امام صاحب کے پیچھے پیچھے ذرا ادب سے اندر آ گیا: ’’ آپ سے معذرت ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ آپ کے آرام کا وقت ہے لیکن خبر ایسی ملی ہے کہ مجھ سے رہا نہ گیا۔ ‘‘

امام صاحب چونک گئے۔ آخر ایسی کیا خبر ہے جو انہیں سنانی اتنی ضروری تھی۔ ان کی نظروں میں سوال دیکھ کر ملک نے کہنا شروع کر دیا:’’آج فجر کی نماز کے فوراً بعد کالے خان میرے گھر آیا تھا‘‘

کالے خان کا نام سن کر امام صاحب کو ذرا اطمینان کا احساس ہوا۔ انہوں نے ملک کو کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا :’’آپ پہلے بیٹھیں تو سہی، میں ذرا چائے کا کہہ کے آتا ہوں۔‘‘

باوجود ملک کے روکنے کے، وہ بیٹھک سے نکل آئے۔ ناگواری کا ہلکا سا احساس ان کے چہرے پر عیاں ہو چکا تھا۔ کالے خان گاؤں کے بڑے قبرستان کا گورکن اور رکھوالا تھا۔ اس کا کوئی والی وارث نہ تھا ، ماں باپ بچپن میں ہی مر گئے تھے۔ گاؤں میں اس کی کوئی برادری نہیں تھی، نہ ہی اسے گاؤں سے کوئی رشتہ ملا تھا ۔ چھ گاؤں دور سے اپنی ہی طرح کے مفلس گھر کی لڑکی بیاہ لایا تھا اور اسی کے ساتھ قبرستان سے ملحقہ حجرے میں رہتا تھا۔ اگر اس کے متعلق کوئی خبر تھی تو آخر کتنی اہمیت کی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کسی ممکنہ خبر پر غور بھی نہ کیا ۔بہت ہوا توقبرستان کے درختوں کی کٹائی یا پگڈنڈیوں کی صفائی کا معاملہ ہو گا یا پھر سہاگے جتنے بڑے سانپ کے نظر آنے یا چارچوروں کو اکیلے مار بھگانے کی فرضی کہانی ہو گی۔ اس طرح کی کہانیاں گھڑ کے اپنا جیب خرچ بنائے رکھنے میں وہ خاصا تیز تھا۔ اس کے متعلق جو بھی ہوا، معاملہ قبرستان کمیٹی سے متعلقہ ہو گا۔ ان کا کیا تعلق۔ سو ان کا یہی خیال تھا کہ چائے پلا کے، اس کی بات مختصراً سن کر رخصت کر دیں گے۔

جب وہ بیٹھک میں واپس پہنچے تو ملک بے چینی سے پہلو بدل رہا تھا۔ انہوں نے چائے کے کپ میز پر رکھے اور ملک کے سامنے بیٹھ گئے۔ ملک نے چائے کی طرف دیکھا تک نہیں:’’امام صاحب۔ میں نے آپ سے کہا تھا کہ اس کی ضرورت نہیں۔ میں تو بس وہ بتانے آیا ہوں جو کالے خان نے مجھے بتایا۔‘‘
’’کالے خان نے کوئی اور کہانی گھڑ لی کیا؟‘‘

’’کہانی ! نہیں نہیں۔ اس نے کہانی نہیں گھڑی۔ ایک سچا واقعہ سنایا ہے۔ آج رات وہ اپنے حجرے میں لیٹا تھا کہ اسے قبرستان سے کوئی آواز سنائی دی۔ آپ تو جانتے ہیں کہ ہمارے قبرستان میں اس قدر جھاڑ جھنکاڑ ہے کہ رات کو کوئی ادھر جاتا ہی نہیں۔‘‘

’’ارے بھائی! قبرستان میں دن کو بھی کون جانا چاہتا ہے۔ مردے سے بھی پوچھو تو وہ بھی نہیں جائے گا۔ سب اسی دنیا میں مشغول رہنا چاہتے ہیں۔ ‘‘
’’کالے خان بتا رہا تھا کہ کبھی کبھار رات کو چوروں یا چرسیوں کا کوئی گروہ قبرستان میں گھس جایا کرتا ہے۔ اور وہ جو اس نے ماچھیوں کے لڑکے لڑکی کو قبرستان میں کسب کرتے پکڑا تھا، وہ تو آپ کو بھی یاد ہی ہو گا خیر۔‘‘ملک نے ہاتھ بڑھا کر چائے کا کپ اٹھا لیا اور تیز چسکی لے کر بولا:’’اس نے بتایا کہ یہ آواز سن کر وہ دبے پاؤں، بغیر ٹارچ جلائے قبرستان کے اندر آواز کے پیچھے چل پڑا۔ جب وہ میرے چاچاجی (ملکوں کی پوری برادری باپ کو چاچاجی اور تایا کو ابا جی کہتی تھی)کی قبر کے قریب پہنچا تب تک آواز بالکل صاف سنائی دینے لگی تھی۔ کوئی اونچی آواز میں درود شریف پڑھ رہا تھا ۔ وہ کافی دیر وہاں کھڑا رہا۔ اندھیرے میں دیکھنے کی اسے کافی مہارت ہے۔ وہ قسم کھا کر کہہ رہا تھا کہ میرے چاچا جی تھے جو اپنی قبر کے سرہانے بیٹھے درود شریف پڑھ رہے تھے۔ ‘‘

امام صاحب یہ سن کر حیرت زدہ تھے۔ کافی دیر کوئی جواب نہ دیا۔ پھر ایک لمبا سانس لے کر بولے:’’نبی کی ذاتِ مقدس جہاں شامل ہو جائے ، وہاں جھوٹ کی گنجائش ذرا بھی نہیں رہتی۔‘‘

’’آپ اس معاملے پر کیا کہیں گے؟‘‘

’’میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ آپ کے والد گرامی بے شک اللہ کے برگزیدہ بندے تھے۔ زندگی میں بھی کوئی عیب ان سے منسوب نہیں تھا اور بعد از مرگ تو ان کے عمل سے ثابت ہو گیا کہ وہ خدا اور اس کے پیارے محبوب کے بہت مقرب ہیں۔ ‘‘

ملک بشیر اپنے مرحوم چاچا جی کی تعریف سن کر خوش تھا۔اس کی آنکھیں مسرت سے چمک رہی تھیں: ’’تو کیا میں یہ بات گاؤں میں سبھی کو بتا سکتا ہوں کوئی مسئلہ تو نہیں نا؟‘‘

’’مسئلہ کیا۔ جس بستی میں زندوں کو کبھی درود شریف پڑھنے کی توفیق نہ ہو، وہاں مردے ہی پڑھیں گے ناں!آپ اپنے گھر میں ہر جمعرات کو درود کی محفل سجایا کریں۔ پورے گاؤں کو اس میں شرکت کی دعوت دیا کریں۔ خدا آپ اور آپ کے اہلِ خانہ کے درجات بلند فرمائے گا اور آپ کے چاچا جی کو بھی اس کا ثواب پہنچے گا۔ اور ہاں کالے خان کو بھی ضرور کچھ صدقہ کریں۔ اس بے چارے کو بھی کچھ دن سہولت کے ساتھ زندہ رہنے کا حق ہے۔‘‘
ملک صاحب ان کے مشورے پر سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے رخصت ہوگئے ۔ امام صاحب کی ساری ذہنی کلفت دور ہو چکی تھی، انہوں نے بھی ’صلِ علیٰ‘ پڑھتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔

٭٭٭

آنے والے دنوں میں ملک صاحب نے اس واقعے کو گاؤں کے تقریباً ہر فرد کو سنا دیا تھا اور سب گاؤں والے ان کے والد صاحب کی منازلِ عاقبت میں نصرت پر انہیں مبارک باد دے چکے تھے۔ جمعرات کو انہوں نے میلاد کی محفل سجائی جس میں آس پاس کے گاؤں دیہاتوں سے بھی نعت خوان حضرات بلوائے گئے۔ محفل کے آخر میں امام صاحب نے سیرت کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی اور ساتھ ہی ساتھ ملک بشیر کے والد گرامی کی ذات کو پورے گاؤں کی نجات کا ذریعہ بھی قرار دیا جو بعد ازمرگ بھی اس گاؤں کی طرف سے درود کے تحفے شانِ اقدس میں ارسال کر رہے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے فرمایا کہ میلاد کا یہ سلسلہ جو ملک صاحب کے صاحبزادے نے آغاز کیا ہے، یہ بالواسطہ طور پر ان کے والد گرامی کی خواہش تھی اور ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی ہر جمعرات کو یہ محفل سجتی رہے۔

گاؤں میں ملک صاحب کے والد کی برگزیدگی کی اس شہرت پر چودھری اور راجے کافی حسد کر رہے تھے۔ ان کے خیال میں ان کی ذات بڑی تھی اور گاؤں کے حوالے سے ان کی بے لوث خدمات اور عبادات بھی زیادہ تھیں تو پھر کم تر لوگوں کو کیوں اس نیک کام کے لیے چنا گیا ۔ چودھری اس گاؤں میں بڑی مدت سے سیاسی حوالے سے حکمران تھے اور مقامی الیکشن میں ہمیشہ فتح مند قرار پاتے تھے جب کہ راجے ان کے مستقل حریف تھے اور سیاست میں سخت مقابلے کے ساتھ ساتھ دیہی زندگی کے ہر شعبے میں برابر کی ٹکر رکھتے تھے۔ اگر گاؤں میں کسی کا مقابلہ تھا تو وہ ان دونوں کا آپس میں تھا۔ مذہبی حوالے سے بھی انہی دونوں ذاتوں کا عمل دخل زیادہ تھا۔ گاؤں کی سات مساجد میں سے پانچ کے لیے چودھریوں نے اور دو کے لیے راجوں نے زمین عطیہ کی تھی۔ سبھی مسجدوں کا بجلی کا بِل چودھریوں کا کوئی نہ کوئی گھرانہ دیتا تھا۔ سردیوں میں وضو کے پانی کو گرم کرنے کے لیے تمام لکڑی راجے مہیا کرتے تھے ۔تینوں سکولوں کے لیے جگہ چودھریوں نے اور سرکاری دواخانے کے لیے زمین کا ٹکڑا راجوں نے دیا تھا۔ گاؤں کی سبھی نالیاں، گلیاں چودھریوں نے پکی کروائی تھیں اور تھانہ کچہری میں بھی یہی دونوں گروہ عوام کی مدد کیا کرتے تھے۔ اگر آخرت کی منزل میں درجات کی بلندی دنیاوی اعمال کے نتیجے میں عطا کی جاتی ہے تو پھر ان دونوں ذاتوں کا حق زیادہ بنتا تھا۔ اگر ملکوں کو یہ بلند رتبہ مل گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں کسی سے چوک ہو گئی ہے۔ خدا اس قدر نا انصاف نہیں ہو سکتا کہ حق دار کو اس کے حق سے محروم رکھے۔

ایک رات چودھریوں کا ایک سرکردہ آدمی عشاء کے بعد کالے خان کے حجرے میں جا پہنچا۔ اس کی بیوی کے ہاتھوں سے گرما گرم چائے پینے کے بعد اس نے کالے خان سے یہی سوال کیا کہ خدا نا انصاف کیسے ہو سکتا ہے۔ کالے خان نے عاجزی سے ہاتھ باندھ کر استدعا کی کہ جس بستی میں بڑے بڑے دولت مندوں کے ہوتے ہم جیسے غریب خاندان بھوک سے مرنے لگیں، وہاں عدل و انصاف کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ چودھری نے خدا کے اس زمینی نمائندے سے آئندہ کے لیے زمین پر کامل انصاف کا وعدہ کیا اور بیعانے کے طور پر دو مہینے کے خانگی اخراجات عنایت کر دیے۔

اگلے دن آسمان پر انصاف کی میزان درست ہونے کی نوید گاؤں کے ہر چودھری گھرانے تک پہنچ گئی۔ کالے خان چہرے پر روحانی چمک لیے ہر گھر میں جا جا کے بتاتا پھر رہا تھا کہ آج رات قبرستان میں اس نے نور کی بارات دیکھی۔رات کے پچھلے پہر کسی غیبی آواز نے اسے نیند سے جگا دیا ۔ وہ اٹھ کر باہر نکلا تو قبرستان کے پہلے سرے کی طرف روشنی کے آثار نظر آئے۔ وہ ایک پر اسرار سی کشش کے تحت ادھر کھنچتا چلا گیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ آسمان سے نور کا ایک دھارا (کیا خبر نوری فرشتے اتر رہے ہوں، وہ درمیان میں اپنی ہی بات کاٹ کر کہتا)زمین کی طرف رواں تھا۔آسمان سے دودھ جیسی چمکتی روشنی کی ایک آبشار قبرستان کے اس کونے کی طرف گر رہی تھی۔ حمد و ثنا کی آوازیں ہر طرف چھائی ہوئی تھیں۔ اس کا دل رعب سے تھم گیا تھا۔ وہ صمٌ بکمٌ وہیں کھڑا رہا۔ کافی دیر بعد جب یہ سلسلہ رکاتو اس کے بدن میں جنبش کااحساس جاگا اور اس نے آگے بڑھ کر اس کونے میں جا کر دیکھا تو چودھری رشمت علی کی قبر کے چاروں طرف دودھیا روشنی کا تالاب بنا ہوا تھا۔ ان کی قبر کا سینہ چاک تھا اور یہ سبھی روشنی اسی طرف سمٹ رہی تھی۔حمد و ثنا کی آواز اسی قبر میں سے آ رہی تھی۔ ہوتے ہوتے آواز بھی مدھم پڑتی گئی اور تمام روشنی بھی اسی قبرمیں سمٹ گئی۔ پھر کسی نامعلوم طاقت نے قبر کا تعویذ دوبارہ جوڑ دیا اور اس سارے عمل کا کوئی نشان بھی نہ چھوڑا۔ صبح وہ اس قبرکو غور سے دیکھ کر آیا ہے۔ بالکل اپنی اسی حالت میں ہے جیسے روز وہ دیکھتا تھا۔ حتیٰ کہ کھبل گھاس بھی اسی طرح اگی ہوئی ہے اورچھ مہینے پہلے شبِ برات کو جلائی گئی اگر بتیوں کے ادھ جلے سرے بھی اُسی طرح ٹھکے ہوئے ہیں۔ اوپر والے کی شان ہے، جو کرتا ہے، اس کا راز وہی جانے۔

اب چودھری لوگوں کا وقت تھا۔ ان کے سب سے بڑے سیاسی رہنما چودھری ظریف علی کے باپ کی قبر پر خدا نے اپنی رحمتیں نازل کی تھیں۔ اسے عاقبت کی زندگی میں اعلیٰ مقام ملنے کی نشانی دی گئی تھی۔ امام صاحب گو کہ اس دفعہ سمجھ گئے تھے کہ یہ کالے خان کی گھڑی ہوئی کوئی کہانی ہے مگر ایک طرف چودھریوں کی دل شکنی کا خیال تھا دوسرے یہ احساس کہ اس واقعے کو جھٹلانے پر پہلے واقعے کی بھی تردید ہو جائے گی اور ان پر ملکوں کے ساتھ فریب میں ملی بھگت کا الزام آ جائے گا۔ سو انہوں نے خاموشی میں عافیت سمجھی۔ چودھریوں نے اس کا خاصا شہرہ کیا اور تمام گاؤں والوں کوان کی دین داری ، پرہیز گاری اور آخرت میں یقینی بخشش پر ایمان قائم ہو گیا۔

٭٭٭

کالے خان کی بیوی دہل گئی جب ان کے حجرے کا دروازہ کسی نے ٹھوکر مار کر کھولا۔ آنے والے تین افراد تھے جن کے چہرے رات کی تاریکی میں نظرنہ آرہے تھے۔ کالے خان ہڑبڑا کر رضائی سے نکلا اور کون ہے، کون ہے کی صدا لگائی۔ فوراً ہی اسے چارپائی سے دبوچ کر نیچے گرا لیا گیا اور گھٹنوں تلے دبا کر دھپوں اورگالیوں سے نوازاگیا۔ بیوی جو رضائی میں ہی دبکی تھی،یہ سب دیکھ کر چیخنے لگی لیکن ایک آواز نے اسے ڈپٹ کر خاموش کرا دیا:’’تو چپ رہ، تم دونوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ ‘‘

وہ پہچان گئی کہ یہ کرامت راجہ ہے۔ یہ ہمیشہ چودھری ظریف کے مخالف الیکشن لڑا کرتا تھا۔ وہ دونوں ہر دفعہ اسی کو ووٹ دیتے تھے ۔ بیوی نے سُکھ کا سانس لیا اور اٹھ کر طاق پر دِیا جلا یا اور خود رضائی لپیٹ نیچے زمین پر دبک کر بیٹھ گئی۔ کرامت راجہ کے دونوں آدمیوں نے کالے خان کو پکڑ کر پیڑھے پر بٹھا دیا ، ایک آدمی نے اس کے بازو مروڑ کر پیچھے سے پکڑ لیے، دوسرا اس کی گردن پر لاٹھی تانے کھڑا تھا۔ کالے خان منمنایا:’’راجہ صاحب! ہوا کیا۔ مجھ سے کیا گستاخی ہو گئی؟‘‘

راجہ صاحب اب چارپائی پر بیٹھ گئے تھے:’’گستاخی نہیں، حرامزدگی ہوئی ہے۔‘‘

’’راجہ صاحب۔ قسم لے لیں ، آپ کا نمک کھا کھا کر زندہ ہوں۔ میں نے کبھی آپ کے ساتھ دغا بازی کا سوچا تک نہیں۔ ہمیشہ ووٹ آپ کو دیا۔‘‘
’’ووٹ گیا تیل لینے۔ لگاؤ اسے دو چھتر۔‘‘

بازو جکڑے آدمی نے اپنا جوتا اتار کر کالے خان کی پشت پر دو چھتر کس کے لگائے اور اس کے پھڑکتے بدن کی تکلیف سے بے نیاز دوبارہ اس کے بازو مروڑ کر پکڑ لیے۔ کالے خان چیخوں کو اندر ہی اندر روکتا، سسکیاں لیتا ہوا بولا:’’راجہ صاحب ! مجھے تکھر کھا جائے اگر آپ کے متعلق کبھی غلط سوچا بھی ہو تو۔آپ کا دیا ہی تو کھاتا ہوں۔‘‘

’’حرام زادے۔ تم نے کبھی دغابازی کا نہیں سوچا تو نمک حلالی کا خیال بھی تو نہیں کیا۔ ہمارے دشمنوں کے باپ دادا کی قبروں پر نور کی بارات نازل ہو رہی ہے اور ہماری قبریں ویران پڑی ہیں۔ دشمن دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی سرخرو ہونے کا جشن مناتا ہے اور ہمارے حصے میں دونوں جہان کی شرمندگی۔ ہم کسی پر کیسے ثابت کریں کہ ہمارے بڑے بھی اتنے نیک اعمال کر کے گئے ہیں کہ آخرت میں بخشے جائیں۔‘‘

کالے خان گڑگڑانے لگا:’’راجہ صاحب۔ غلطی ہو گئی۔یہ سب تو بھوک کا کیا دھرا ہے۔ میں آپ ہی کا وفادار ہوں مگر اپنے اور زنانی کے پیٹ نے مجبور کردیا تھا۔‘‘

’’مجبوری ہمیں نہیں پتا۔ اب بہت جلد ہمارے باپ کے متعلق بھی ایسی کوئی حکایت سامنے آ جانی چاہیے ورنہ ہم دوبارہ آئے تو ساتھ اگلا گورکن پکڑ کر لائیں گے۔‘‘

’’لیکن آپ کے والد صاحب تو ابھی زندہ ہیں‘‘

’’زندہ تو خیر کیا ہیں، بس دو چار دنوں میں مرنے ہی والے ہیں۔ مگر تم یہ بتاؤ کہ کیا خدا زندہ لوگوں کو اگلے جہان میں بخشش کا وعدہ نہیں کرسکتا؟ یہ سب سوچنا تمہارا کام ہے۔ تم ہی کرو۔‘‘

راجہ صاحب اسے ایک اور ٹھڈا مار کے حجرے سے نکل گئے۔

کچھ دن بعد کالے خان کی بیوی گاؤں میں سرکاری دواخانے پہنچی تو سخت پریشان حال تھی۔ وہاں موجود عورتوں نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو اس نے رو رو کر بتایا کہ کالے خان سخت بیمار ہے۔ عورتوں نے بیماری کا سبب دریافت کیا تو اس نے دوپٹے سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا کہ کالے خان سے گستاخی ہو گئی ہے اور اب مرنے والا ہو رہا ہے۔ کیسی گستاخی، عورتوں کے چہرے پر سوال کندہ تھا۔ جواباً کالے خان کی بیوی نے سسکیاں بھرتے ، ہچکیاں لیتے جو کہانی سنائی،وہ یہ تھی:

’’رات کو ہم بستری کے بعد ہم سونے لگے تھے کہ قبرستان کی طرف سے ایک تیز خوشبو آنے لگی۔ کالے خان نے فوراً ہی بتایا، یہ کستوری ہے۔ مگر ساتھ ہی وہ حیران بھی تھا کہ کستوری کی خوشبو اور وہ بھی اتنی تیز کہاں سے آرہی ہے۔ اس نے باہر نکلنے میں جلدی کی، میں نے کہا، میں بھی ساتھ چلوں، مگر وہ نہ مانا۔ وہ کافی دیر بعد واپس آیا تو اس نے بتایا کہ قبرستان میں عجیب سماں تھا۔ قبروں میں سے مردے نکل نکل کر قبرستان کے درمیان اکٹھے ہورہے تھے۔ وہ بھی چھپتا چھپاتا ان کے پیچھے چلتا گیا۔ قبرستان کے درمیان میں جہاں درختوں اور جھاڑیوں کی وجہ سے دن کو بھی اتناگھپ اندھیراہوتا ہے کہ اونچی اونچی قبریں بھی دکھائی نہیں دیتی، صاف قطعہ بنا ہوا تھا جس میں چاندنی جیسی تیز روشنی نے اجالا کر رکھا تھا۔ اس تمام جگہ پر سبھی چیزوں کا صرف اور صرف ایک رنگ تھا، دودھیا۔ سبھی روحوں کا لباس بھی اجلا کفن تھا(کالے خان کہہ رہا تھا کہ ضرور صرف نیک روحیں اکٹھی ہوئی تھیں)ان سب کے درمیان ایک تخت رکھا تھا جس پر دودھیا رنگ کے ہی قسما قسم پھول پڑے تھے۔ سبھی نے اس تخت کے گرد گھوم گھوم کر چکر لگائے ، اونچی اونچی آواز میں سورہ یٰسین کی تلاوت کی اور پھر سبھی اس کے چار چوفیرے اَدب کے ساتھ سر جھکا کے بیٹھ گئے۔ ایک روح جو شاید ان میں سب سے نیک تھی، کھڑی رہی اور ان سے خطاب کرنے لگی: آپ سب نیک روحو ںکو مبارک ہو، ہمارا کئی عشروں کا انتظار ختم ہونے کو ہے۔ وہ جو اللہ کے نزدیک سب سے پیارا ہے، ہماراوہ سردار بہت جلد ہمارے ہاں آنے والا ہے۔ ہم سب اس کے نورانی وجود سے برکتیں حاصل کریں گے۔ سبھی نیک روحیںاپنے آنے والے سردار کے حق میں درود و صلوٰۃ پڑھنے لگیں۔ ایک روح جو شاید وہاں نئی تھی، پکار کے پوچھنے لگی، ہمارا یہ سردار ہے کون، سبھی روحوں نے اس کی نادانی پر اسے گھورا مگر کھڑی ہوئی برگزیدہ روح نے بتایا کہ ہمارا سردار وہ ہے جو دنیا میں انتہائی خاموشی سے اپنے نیک اعمال سر انجام دیتا رہا، تمام عمر لوگوں کی خدمت میں گزاری اور کبھی دکھاوا نہیں کیا۔ اس کی بہت سی نشانیاں ہمارے پاس ہیں جو اس کے یہاں آنے کے بعد ظہور ہوںگی، البتہ اس کے فانی جسم کے سینے پر عین دل کے اوپر تین تِل ہیں اور اس کی پیدائش رمضان کے مہینے میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد تمام روحوں نے کچھ دیر ذکر اذکار کیا، پھر تبرک تقسیم ہوا جس کا کچھ حصہ کالے خان تک بھی پہنچ آیا اور اس نے بغیر سوچے سمجھے چکھ لیا۔ یہ سب ختم ہوا تو روحوں نے واپسی کا ارادہ کیا۔کالے خان پلٹ کر جھونپڑے میں جب پہنچا ، اسی وقت اس کا پِنڈا تپنا شروع ہو گیا تھا۔ ناپاک حالت میں تبرک جو چکھ آیا تھا، سزا تو ملنی تھی ۔ اب تین رضائیوں تلے پڑا ہے اور ابھی بھی پالا پالا چِلا رہا ہے۔‘‘

یہ واقعہ فوراً ہی گاؤں بھرمیں پھیل گیا۔ سبھی کو جستجو ہوئی کہ آخریہ اللہ کا نیک بندہ کون ہے جو ان روحوں کا سردار بنے گا۔ رمضان میں پیدائش والی نشانی تو فضول ہی تھی۔گاؤں میں پچیس تیس سال پہلے پیدا ہونے والے شخص کا درست سالِ پیدائش نہیں ملتا تھا، مہینہ کسے معلوم ہوتا۔ اوپر سے اتنے بڑے گاؤں میں تین چار سو لوگ ایسے نکل آئے جن کی پیدائش رمضان میں ہوئی ہوتی۔ سو تِل والی نشانی ہی کارگر تھی۔ جوں جوں یہ واقعہ پھیلتا گیا، ہر گھر کے مردو زن اپنے کنبے کے افراد کے سینے پرکھنے لگے، کسی کسی کو ایک آدھ تل بھی مل گیا تو وہ خوش ہوتا رہا۔ کافی دیر بعد راجہ کرامت کے گھر سے خوشی کا ایک نعرہ بلند ہوا۔ معلوم ہوا کہ بسترِ مرگ پر پڑے باباجی ،راجہ کرامت کے والد راجہ سلامت علی کے سینے پہ عین دِل کے اوپر تین تِل ہیں۔ ان کی بیٹی نے اپنے باپ کی مالش کرتے کرتے یوں ہی بے دھیانی میں باپ کے سینے پہ غور کیا تو تین تِل نظرآ گئے، اس نے جو گھر والوں کو بتایا تو سبھی خوشی سے جھوم اٹھے۔ وہ رات اور اگلا آدھا دن ان کے ہاں اس مبارک خبر پر اتنا جشن منایا گیا کہ باباجی گھبرا کر اپنا سانس بھول بیٹھے۔ ان کی اتنی جلدوفات نے بھی کالے خان کی بیوی کے سنائے واقعے میں حقیقت کا رنگ بھر دیا۔ سبھی گاؤں باباجی کے کردار کی عظمت کا قائل ہو گیا۔ امام صاحب اس دفعہ بھی سب سمجھ گئے تھے لیکن بوجوہ خاموش رہے۔ باباجی کو اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا اور ان کی تختی پر فخر کے ساتھ ولیِ آخرت، قطبِ عقبیٰ جیسے القابات کھدوائے گئے ۔ قبرستان میں ان کا چھوٹا سا مزار بھی بنا دیا گیا جس کے باہر تختی پر یہ سارا واقعہ کالے خان کے حوالے سے کندہ کرادیا گیا تھا۔

گاؤں میں سبھی خوش تھے اور ان سب کی خوشی کی وجہ سے کالے خان کی زندگی بھی آسانی سے گزرنے لگی تھی۔

٭٭٭

چار ماہ بعد ایک دن کالے خان کے بارے میں لوگوں نے سنا کہ وہ پاگل ہو گیا ہے۔ کالے خان کی بیوی صبح سویرے گاؤں کے ایک سیانے کو بلا کر حجرے میں لے گئی تھی، وہاں کالے خان چارپائی پر لیٹا تھا، مگر اس کی حالت عجیب تھی۔ یوں لگتا تھا کہ وہ نہ کچھ دیکھ رہا ہے نہ سن رہا ہے۔ بس دور کسی چیز کو گھورے جا رہا تھا ۔ سیانے نے اس کا معائنہ کیا۔ اسے نہ تو بخار تھا اور نہ ہی کوئی اور جسمانی تکلیف ۔ البتہ وہ کسی بھی بات کا جواب نہیں دے رہا تھا اور نہ ہی ہلانے جلانے پر کوئی ردِعمل دکھاتا تھا۔ سیانے نے پہلے بیوی پھر گاؤں واپس پہنچ کر سبھی کو سنا دیا کہ کالے خان اپنے حواس سے باہر چلا گیا ہے۔گاؤں کے لوگ پہلے اکا دکا پھر بعد میں گروہ در گروہ کالے خان کی خیریت معلوم کرنے آئے۔ اگر کسی نے اپنے اپنے دیسی ٹوٹکے آزمائے لیکن اسے کسی طرح ہوش میں نہ لاسکے۔نہ کسی کو پاگل پن کی وجہ سمجھ آئی اور نہ ہی اس کا چارہ سوجھا۔اس کی یہی حالت تھی کہ جہاں بٹھا دیا جاتا ، بیٹھا رہتا، نگاہیں دور کسی اور دنیا میں جھانکتی رہتیں اور یوں لگتا جیسے دماغی طور پر اس کا اِس دنیا سے رشتہ ختم ہو گیا ہے۔ آخر کار دو تین دن کے بعد سب نے تھک ہار کر چھوڑ دیا اور کالے خان اور اس کی تیمار داربیوی حجرے میں اکیلے رہ گئے۔

٭٭٭

ایک شام امام صاحب کے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ بی بی نے دروازہ کھولا تو باہر کالے خان کی بیوی کھڑی تھی۔یہ عورت ان کے گاؤں کی نہیں تھی لیکن بی بی اسے پہچانتی تھی۔اس نے امام صاحب سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ بی بی حیران تو ہوئی کہ یہ عورت ان سے کیوں ملنا چاہتی ہے ،گاؤں کی عورتیں اپنے شرعی مسائل بی بی سے ہی پوچھا کرتی تھیں۔ امام صاحب تک کوئی عورت کم ہی آتی تھی۔ لیکن پھر بھی بی بی نے اسے بیٹھک میں بٹھایا اور امام صاحب کو خبر کر دی۔ امام صاحب خود بھی حیران تھے کہ اس عورت کو ایسا کیا مسئلہ ہو سکتا تھا جو وہ ان سے پوچھنا چاہ رہی تھی۔

امام صاحب اندر داخل ہوئے تو کالے خان کی بیوی نے نظریں جھکائے جھکائے کھڑے ہو کر انہیں سلام دیا۔ امام صاحب نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کر کے فوراً استفسار کیا کہ اس کا کیا مسئلہ ہے۔ اس نے نگاہیں تھوڑی سی اُٹھا کر امام صاحب سے سوال کیا:’’امام صاحب! میرا شوہر تو ہمیشہ کے لیے پاگل ہو چکا ہے۔ میرا کسی بھی قسم کا حق وہ پورا نہیں کرسکتا۔اب کیا میں اس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے فضول بندھی رہوں گی یا دین مجھے اپنی زندگی کہیں اور ڈھونڈنے کی اجازت دیتا ہے؟‘‘

امام صاحب چونک گئے۔ آخر دوسرے گاؤں سے آئی ہوئی عورت ایک ہی مہینے میں بیزار ہو گئی۔ یہاں گاؤں میں کتنی ہی عورتوں کی مثال موجود ہے جو دہائیوں سے اپنے بیمار اور معذور شوہروں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ اس عورت کا صبر اتنا جلدی جواب دے گیا۔ امام صاحب نے اس پر جھنجھلا کر اسے شرع کے مطابق جواب دیا:’’دیکھیں جی! شرع اس معاملے میںصاف کہتی ہے کہ اگر مرد کا تمام بدن پیپ سے بھرا ہواور زوجہ کو اسے زبان سے چاٹ کر صاف کرنا پڑے تب بھی مرد کا حق ادا نہیں ہوتا۔ تم کیسی عورت ہو جو ذرا سی آزمائش سے گھبرا گئی ہو۔ دیکھو ان عورتوں کو جو کب سے اپنے بیکار حتیٰ کہ معذور شوہروں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ان کے مرد بھی تو کوئی حق نہیں پورا کرتے۔‘‘

وہ شرمسار ہوئی مگرپھر دونوں ہاتھ امام صاحب کے آگے جوڑ کر بولی:’’امام صاحب ! وہ سب رجے پُجے لوگ ہیں۔ ہمارا ان سے کیا مقابلہ ۔ ان عورتوں کو کھانے پہننے کی کمی تو نہیں ہے نا، پوری برداری ان کی مدد کردیتی ہے۔ میں تو اکیلی جان، کالے خان کا بھی کوئی والی وارث نہیں۔ مرد کے بغیر تو رہ لوں گی مگر روٹی تو روز کھانی ہوتی ہے نا۔مجھے تو کوئی کام آتا نہیں، کالے خان ہمیشہ کے لیے پاگل ہو گیا ہے‘‘

’’تم دوسری دفعہ کہہ رہی ہو ، ہمیشہ کے لیے پاگل ہو گیا ہے، تمہیں کیسے اتنا یقین ہے۔ وہ بیمار ہوا ہے، کسی وقت بھی ٹھیک ہو سکتا ہے۔ ‘‘

وہ جھجکے جھجکے بولی:’’امام صاحب! مجھے اس کے پاگل ہونے کی وجہ معلوم ہے نا، میں اسی لیے کہہ رہی ہوں۔‘‘

’’ایں! کیا وجہ ہے ؟ میں نے تو ا بھی تک کوئی وجہ نہیں سنی۔‘‘

’’امام صاحب! میں نے خود ہی کسی کو ابھی تک وجہ نہیں بتائی تھی۔ مجھے تھا کہ کوئی اس پر یقین نہیں کرے گا۔‘‘اس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا:’’مگر آپ پر مجھے یقین ہے، آپ کو بتا سکتی ہوں، سن کر آپ مجھے بتانا کہ میرے مسئلے کا کیا حل ہے۔‘‘

’’ٹھیک ہے بتاؤ۔‘‘

’’امام صاحب!کالے خان جس طرح کی جھوٹی کہانیاں گھڑتا رہتا تھا، اس نے اسی کی سزا پائی ہے۔ کالے خان شب برات کی رات پاگل ہوا ہے۔ شب برات کے متعلق آپ ہی بتایا کرتے ہیں کہ اس رات پرانی تمام روحیں زمین پر آتی ہیں۔ معلوم نہیں پہلے کبھی ایسا ہوا یا نہیں ،اس رات یقیناً ایسا ہوا تھا۔ ہم دونوں اپنے حجرے میں الگ الگ چارپائی پر سوئے ہوئے تھے۔گرمی کی وجہ سے ویسے بھی نیند پوری طرح نہیں آرہی تھی۔آدھی رات کے قریب دروازے پر ہونے والی تیز دستک سے ہم دونوں جاگ اٹھے۔ کالے خان نے دروازہ کھولا تو ایک بوڑھا آدمی دروازے پر کھڑا تھا۔ پندرہویں کے چاند کی تیز چاندنی میں اس نے پہلی نظر میں ہی اسے پہچان لیا اور جھٹکا کھا کر واپس حجرے میں لڑکھڑا آیا۔البتہ جب وہ آدمی اندر داخل ہوا تو میں اسے نہ پہچان سکی۔ اس نے اندر آتے ہی چپل اتار لی اور کالے خان پربرسانے لگا۔ یہ دیکھ کر مجھے غصہ آیا ہی تھا کہ کالے خان کے الفاظ سن کر میں سُن ہو گئی ۔ کالے خان کہہ رہا تھا۔’’ابا جی! آپ کہاں سے آ گئے؟ آپ کو تومیں نے خود اپنے ہاتھوں سے دفنایا تھا۔‘‘

میں حیرت سے مرنے والی ہو گئی۔ اس کا باپ تو کب کا مر کھپ چکا تھا۔وہ کیسے آ سکتا ہے۔

بڈھے نے چپل برساتے برساتے کہا:’’کیوں، میں نہیں آ سکتا۔ جب تیرے پیو ملک، چودھری اور راجے آ سکتے ہیں تو میں نہیں آسکتا؟‘‘

کالے خان خوف سے گھگھیانے لگا:’’ابا جی ! ابا جی! مجھے معاف کر دو۔ کیا قصور ہو گیا مجھ سے جو ایسے مار رہے ہیں؟‘‘

اتنے میں اس نے چپل برسانی روک کر کالے خان کا کان پکڑ کر اتنی طاقت سے مروڑ دیاکہ کالے کی چیخ نکل گئی: ’’مردود! تم نے ثابت کیا کہ تم میرا بیٹا کہلانے کے لائق ہی نہیں ہو۔ مجھے تم پر غصہ ہی بہت ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے پھر چپل کے وار شروع کر دیے۔

کالے خان گھگھیا کر معافی مانگ رہا تھا اور اپنا قصور پوچھ رہا تھا۔ بڈھے نے چپل ایک طرف پھینک کر اسے بالوں سے پکڑ کر اوپر اٹھا لیا۔ ’’ قصور قصورحرام کے جنے۔ مجھ سے قصور پوچھتا ہے۔ پوری دنیا کے باپوں کو تُو نے بخش بخشوا دیا، سب کے متعلق گاؤں میں مشہور کروا دیاکہ ان کی عاقبت رحمتوں اور برکتوں سے مالا مال ہے۔ اور مجھے اپنے باپ کو بھول ہی گیا۔ کیا میں نے تمہاری ماں کو تھا یاوہ چودھریوں اور راجوں نے۔ ‘‘

’’ابا جی، آپ ہی میرے باپ ہیں۔ مجھ پر رحم کریں۔ ‘‘

’’میں باپ ہوں تو تم مجھے کیوں بھول گئے تھے؟ میرے متعلق کیوں کوئی کہانی تمہارے منہ سے نہیں نکلی بد بخت۔اب میں تمہیں کبھی نہیں بخشوں گا۔ یاد رکھ تمہیں اپنے باپ سے نا انصافی بھگتنی پڑے گی۔ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے کالے خان کو دو دھموکے مارے اور پاؤں پٹختا باہر کو چل دیا۔

کالے خان اس کے جانے کے بعد اٹھ کر قبرستان کی طرف نکل گیا۔ میں بھی ڈرتی ڈرتی اس کے پیچھے چلی مگر وہ آدھے راستے میں واپس ہوتا مل گیا۔ ’’یہ تو واقعی ابا جی تھے، اپنی قبر میں ہی گھس رہے تھے۔‘‘جب وہ جھونپڑی میں پہنچا تو اس کے پورے بدن پر جھرجھری طاری تھی۔ چارپائی پر لیٹا مگر بولا کچھ نہیں۔ میں بھی خاموش اس کے سرہانے بیٹھ اس کا ماتھا دباتی رہی۔ جانے کب میری آنکھ لگ گئی اور میں اس کے ساتھ ہی لیٹ رہی۔ صبح جب جاگی تو کالے خان نہ ہل رہا تھا نہ میری طرف دیکھ رہا تھا۔ بس ایک ہی طرف نظریں جمائی ہوئی تھیں۔ میں اس کی حالت سے ڈر گئی اور سیانے کو بلا کر لائی۔ تب معلوم ہوا کہ اس کا دماغ الٹ گیا ہے۔ ‘‘

کالے خان کی بیوی اتنا سنا کر رونے لگی۔ امام صاحب اسے پچکارتی نظروں سے دیکھتے رہے اور پھر آخر کار بولے:’’دیکھو بیٹی! کالے خان کے ساتھ جو ہوا، سو ہوا۔ اس کا اپنا کیا دھرا سامنے آیا۔ تم اس کہانی کو اپنے تک رکھو ، کسی کو سنانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

’’اور امام صاحب! میں اس کالے خان کا ساتھ چھوڑ سکتی ہوں کیا؟‘‘اس نے امید بھری نظروں سے امام صاحب کو دیکھا۔

’’شرعی طور پر ایک مخبوط الحواس کے ساتھ عقد کا رشتہ قائم نہیں ہوتا۔ تم خود کو کالے خان سے الگ ہی سمجھو۔ جاؤ اپنے گاؤں واپس چلی جاؤ،کچہری سے خلع لے لو اوراپنا گھر کہیں اور بسالو۔ اورہاں اس بات کویہیں بھول جاؤ۔ کسی سے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

کالے خان کی بیوی انہیں تشکر بھری نظروں سے دیکھتی اٹھی ، ہاتھ اٹھا کر سلام کیا او ر امام صاحب سے رخصت ہو گئی۔

اس عورت نے امام صاحب کا کہا مانا اور کسی سے کبھی اس واقعے کا ذکر نہیں کیا۔ کچھ ہی دنوں بعد وہ کالے خان کو اس کے حال پر چھوڑ کر اپنے مائیکے گاؤں واپس چلی گئی جب کہ کالے خان حجرے سے بے دخل ہو کر گاؤں کی گلیوں پر آن پڑا۔ اب وہ سارا دن ایک ہی جگہ ساکت و صامت کھڑا رہتا ہے ، نہ کسی سے بات کرتا ہے، نہ کسی سے کچھ کہتا ہے۔ کوئی کچھ کھلا دے تو کھا لیتا ہے ورنہ کسی سے مانگتا نہیں ہے۔ کسی پر اس کے پاگل پن کا باعث نہیں کھلتا۔ بس ایک امام صاحب ہیں جن کی نظر کبھی کبھار اس پر پڑتی ہے تو ایک آشنائے راز مسکراہٹ ان کے لبوں پر پھیل جاتی ہے لیکن اس آشنائی نے بھی کبھی ہونٹوں سے زبان تک کا ذرا سا فاصلہ طے نہیں کیا۔

Image: Francisco de Goya

Categories
فکشن

نعمت خانہ – چھبیسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

آخر رمضان کا مہینہ آگیا۔ مجھے چھوڑ کر گھر کے تمام افراد پابندی سے روزے رکھتے تھے۔ میں بس دو روزے رکھا کرتا تھا۔ ایک تو منجھلا روزہ اور دوسرا الوداع کا۔ کیونکہ مجھے لگاتار روزے رکھنے کی عادت نہیں تھی۔ اِس لیے روزہ رکھ کر میں بہت چوکنّا رہتا تھا کہ کہیں غلطی سے منھ سے حلق میں تھوک نہ نگل جاؤں۔ اس لیے میں تقریباً ہر وقت تھوکتا رہتا تھا۔ یقینا یہ ایک گھناؤنی عادت تھی۔ تھوک تھوک کر میں زمین پاٹ دیا کرتا تھا۔

ہمارے گھر سحری کے وقت بہت اہتمام کیا جاتا۔ دودھ، ڈبل روٹی، پھینی، کھجلا، پراٹھا، کباب اور تازہ سالن بھی۔ بغیر گوشت کا سالن پکنا، رمضان میں شاید ممنوع تھا۔ سحری کھانے کا وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے آکر اس طرح ٹھہر جاتا ہے جیسے ایک چلتی ہوئی فلم اچانک رُک جائے۔ اور اندھیرے سنیما ہال میں ایک سین، بس ایک سین، پردے پر مُردہ ہوکر چپک جائے۔ دیوار پر چپکی ہوئی مردہ چھپکلی کی کھانکڑ کی طرح۔

وہ منظر بہت عجیب ہوتا۔

وہ رات کا اندھیرا نہ ہوتا، وہ صبح کا اندھیرا ہوتا جب گھر کے تمام افراد نیند سے اُٹھ کر ادھ مچی اور کیچڑ زدہ آنکھوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے باورچی خانے میں داخل ہوتے اور اپنی اپنی پٹلیوں پر بیٹھ جاتے۔

سوتے وقت، دانتوں کے درمیان زبان آکر کٹ جانے کے باعث اُن سب کے منھ سے خون نکل رہا ہوتا مگر وہ کلّی نہیں کرتے، کیونکہ اُنہیں سحری کھانے کے بعد ایک طویل کلّی کرنا ہی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک سنک ہو مگر سنک تو ہر جاندار، چاہے وہ انسان ہو یا حیوان سب کا مقدّر ہے (میرا وہ کن کٹا خرگوش بھی سنکی تھا) چولہا روشن ہوتا، کھانا گرم کیا جاتا، پھر تام چینوں کی رکابیاں سب کے سامنے سجا دی جاتیں۔ وہ سب کھانا شروع کر دیتے، وہ ڈبل روٹی کا ایک بڑا ٹکڑاکاٹ کر لقمہ بناتے اور وہ لقمہ اُن کے ہونٹ اور تھوری سے بہتے ہوئے وحشت ناک خون سے سن کرلال ہوجاتا۔

سحری کھاکر وہ سب باورچی خانے کے سامنے لگے نل پر کلّی کرتے، تھوڑا پانی پیتے، پھر وضو کرتے۔ فجر کی اذان ہوتی۔ مرد نماز پڑھنے کے لیے مسجد چلے جاتے اور خواتین گھر میں ہی جانماز بچھاکر نماز ادا کرنے میں مصروف ہو جاتیں۔ اُس کے بعد، جب ہلکا ہلکا سا اُجالا پھیل جاتاتو سب خاموشی کے ساتھ اپنے اپنے بستروں پر چلے جاتے۔ یہ نہیں معلوم کہ وہ سو جاتے تھے یا یونہی لیٹے رہتے تھے مگر اتنا پتہ ہے کہ جب وہ بستروں سے اُٹھ کر اپنے روزمرّہ کے کاموں میں مشغول ہوتے تو دن کافی چڑھ آتا۔

اُن دنوں ہر گھر کا یہی رواج تھا اور ممکن ہے کہ اب بھی ہو۔

افطار سے مجھے زیادہ دلچسپی نہیں رہی کیونکہ وہ باورچی خانے میں نہیں کیا جاتا تھا۔ باہری دالان میں، فرش پر ایک دری اور چاندنی بچھا دی جاتی اور طرح طرح کے لوازمات چُن دیے جاتے مگراُن میں سب سے نمایاں شے تو پکوڑیاں ہی تھیں اور وہی مجھے یاد رہ گئی ہیں۔ اب سوچتاہوں تو دل ہی دل میں مسکرا بھی اُٹھتا ہوں کہ افطار کے وقت پکوڑیاں ہونا اتنا ناگزیر تھا کہ جس کے بغیر جیسے افطار ہی شرعاً حرام یا مکروہ ہو جاتا۔ ہندوستان کے پکوڑے، پکوڑیاں، اس معاملے میں اور ان لمحات میں عرب کی کھجوروں کے شانہ بشانہ تھے۔
سحری کے بعد مجھے نیند نہیں آتی تھی۔ جب صبح ہوجاتی اور خوب اُجالا پھیل جاتا تو میں اکثر انجم آپا کے گھر چلا جایا کرتا۔ انجم آپا کے باپ بھی سحری کھاکر سو جاتے اور دوپہر بارہ بجے کے بعد ہی اُٹھتے۔ مگر انجم آپا، ہر وقت اپنی بے نور آنکھوں کے ساتھ مجھے باورچی خانے میں ہی بیٹھی نظر آتیں۔

اُس روز بھی، جب دن چڑھ آیا اور دھوپ منڈیروں سے اُتر کر آنگن میں چلی آئی تو میں نے انجم آپا کے گھر کی راہ لی۔
صبح صبح، راستے میں پڑنے والی قبریں بھی اونگھ رہی تھیں۔ اُن پر کوئی بچّہ مجھے کھیلتا ہوا نظر نہیں آیا۔ قبرستان اس وقت کچھ زیادہ ہی خاموش اور سنسان تھا۔ میں بھی بہت احتیاط سے کام لیتا ہوا، قبروں سے بچ بچ کر گزرتا رہا۔

جب میں انجم آپا کے گھر پہنچا تو دروازے پر ہی ٹھٹک کر رہ گیا۔ اندر کوئی زور زور سے گالیاں بک رہا تھا۔ اس بوسیدہ دروازے کے بالکل سامنے باورچی خانہ تھا، آوازیں باورچی خانے سے ہی آرہی تھیں۔

میں دروازے میں ایک کونے میں چھپ کر اور سمٹ کر کھڑا ہو گیا۔ یہاں سے آدھا باورچی خانہ صاف نظر آتا تھا۔ انجم آپا کے باورچی خانے میں کِواڑ نہیں تھے۔

میں نے ایک شخص کو دیکھا، جس کی آنکھیں بھوری اور بے رحم تھیں اور دہانہ کسی ہیبت ناک کتّے سے ملتا تھا۔ وہ ایک داغ دار اور تشدّد آمیز سفید رنگت کا آدمی تھا۔ اس کے ہونٹوں میں ایک نفرت انگیز سگریٹ دبا ہوا تھا۔ میں نے اس آدمی کو، اور ایسی کریہہ، ناگوار بُو والی سگریٹ کو پہلے کہاں دیکھا تھا؟؟ میں نے، دماغ پر زور دیا اور پھر مجھے یاد آیا، مجھے سب کچھ یاد آگیا۔

وہ شراب کے نشے میں لڑکھڑا رہا تھا اور متواتر انجم آپا کو گالیاں دے رہا تھا۔ اور تب مجھے وہ بھی نظر آگئیں۔
انجم آپا فرش پر اکڑوں بیٹھی تھیں، مجھے اُن کا چہرہ صاف نہیں دکھائی دیا۔
’’رنڈی— چھنال۔ نکال پیسے جو تونے دبا کر رکھے ہیں۔‘‘
انجم آپا یونہی بغیر ہلے جلے اکڑوں بیٹھی رہیں۔

’’نکال، ورنہ اس بار تیری ناک کاٹ کر چیل کوّؤں کو کھلا دوں گا۔ اندھی ہوکر بھی تیری عقل ٹھکانے نہیں آئی؟‘‘
’’میرے پاس نہیں ہیں۔‘‘

’’تیری ماں کی۔۔۔ تیرے اُس بھڑوے باپ کے پاس تو ہیں۔‘‘
’’میں اُن سے نہیں لوں گی۔‘‘

’’تو یہ لے۔‘‘ ایک وزنی، ہاتھی جیسا بدہیئت پیر خلا میں اوپر اُٹھتا ہے اور انجم آپا کے ماتھے پر ایک زبردست ٹھوکر مارتا ہے، میں انجم آپا کو فرش پر لڑھکتے ہوئے اور درد سے دوہری ہوتے، چیخیں مارتے ہوئے دیکھتا ہوں۔

’’اس بار لات تیرے پیٹ پر پڑے گی۔ یہ جو بچّہ لیے گھوم رہی ہے نا، ابھی ٹانگوں کے بیچ سے نکل جائے گا، پہلے کی طرح۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ انجم آپا کی یہ ہذیانی چیخ ہے۔

میں ایک چاقو کڑکڑاہٹ کے ساتھ کھلتا ہوا دیکھتا ہوں۔ چاقو کے پھل کی فحش چمک میں انجم آپا کا چہرہ پہلی بار مجھے صاف نظر آتا ہے۔ خوف اور نفرت کی انتہا، کو پہنچا، ایک بالکل سیاہ پڑ گیا چہرہ۔

’’لا— میں تیری ناک کاٹوں— اِدھر آ۔‘‘

ایک بھیانک، کوڑھ زدہ سفید مٹھی میں انجم آپا کے کالے بالوں کو دبا ہوا دیکھتا ہوں۔ مٹّھی اوپر اُٹھتی ہے۔ انجم آپا کا چہرہ سیدھا ہوتا ہے۔ پھر پیچھے دیوار کی جانب جھکنے لگتا ہے۔ یہ وہی دیوار ہے جو بہت پہلے، باڑھ کے زمانے میں ایک بار گرگئی تھی۔ مگر اِس بار یہ دیوار نہیں گری، انجم آپا گریں۔ اور ایک تیزدھار والا چاقو اُن کی ناک پر جاکر ٹھہر گیا۔

’’ہا ہا ہا ہا۔‘‘ میں شیطان کو قہقہہ لگاتے ہوئے سنتا ہوں۔ اور مجھے پہلی بار اس امر کا عرفان ہوتا ہے کہ انسانوں کی دنیا خرابے میں تبدیل ہوچُکی۔

’’ابا‘‘ ایک بے معنی اور بے بس چیخ اُس ٹوٹے پھوٹے ویران مکان میں گونج کر رہ جاتی ہے۔

ایک پل کو میں اُن بدہیئت، ہاتھی جیسے پیروں کو لڑکھڑاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ وہ پیر شراب کی مستی میں چولہے سے ٹکراتے ہیں۔ فحش بے رحم چاقو، ایک نامرد سی آواز کے ساتھ فرش پر گرتا ہے۔

انجم آپا تیزی سے اُٹھتی ہیں، وہ بھاگتی ہوئی باورچی خانے سے باہر دروازے میں آتی ہیں۔ جہاں ایک کونے میں، دبکا ہوا میں خاموش کھڑا ہوں۔

وہ حواس باختہ، بغیر دوپٹے کے گھر سے باہر بھاگتی چلی جاتی ہیں۔ وہ مجھے نہیں دیکھتیں، مگر میں اُن کو دیکھتا ہوں۔ اُن کو بھاگتے، روتے، چیختے دور قبروں کی آڑ میں گم ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں اور میں۔۔۔

میں تو اُن کی ناک اور چہرے پر سے خون ٹپکتا ہوا بھی دیکھ لیتا ہوں۔ انجم آپا کے قبروں کے عقب میں غائب ہو جانے کے بعد بھی، اُن کا چہرہ، ان کی ناک اور خون میری آنکھوں کے سامنے ایک ساکت وجامد منظر کی مانند موجود رہتے ہیں۔ اور مجھے یہ راز معلوم ہے کہ جہاں جہاں لال رنگ ہوتا ہے، وہاں وہاں ایک کالا رنگ بھی ہمیشہ آگے پیچھے موجود ہوتا ہے۔ اور یقیناً وہاں، اُس خون کے ساتھ بھی ایک کالا رنگ رینگ رہا تھا۔

مجھے اچھی طرح عِلم تھا کہ وہ کالا رنگ کہاں سے نکل نکل کر باہر آرہا تھا۔

میں نے اپنے ہاتھوں میں ایک عجیب سی بے چینی محسوس کی۔ میرا پورا جسم اِس طرح اکڑگیا جیسے اپنے اندر سے کوئی شے باہر نکال دینے کے لیے تیار ہورہا ہو۔ شاید میری سانس تک رُک گئی تھی۔

اسی عالم میں، دروازے میں کھڑے کھڑے مجھے صدیاں بیت جانے کا واہمہ ہوا۔

مجھے ہوش اُس وقت آیا جب باورچی خانے سے اسٹوو جلنے کی ایک پرُہول آواز آئی۔ جیسے ایک دل گھبرا دینے والی بارش ہورہی ہو۔ اس آواز میں انجم آپا کا گھر ایک نادیدہ بارش میں بھیگنے لگا۔

اور ٹھیک اسی وقت میں نے اپنے اندر سے ایک تاریک طویل القامت سائے کو باورچی خانے کی طرف جھپٹتے ہوئے دیکھا۔
میں نے اپنے سائے کا تعاقب کیا۔

باورچی خانے کی دہلیز پر پہنچ کر میں چپ چاپ کھڑا ہوگیا۔

وہ فرش پراکڑوں بیٹھا ہوا اسٹوو پر بے شرمی کے ساتھ چائے بنا رہا تھا۔ اس کی بھی میری طرف سے پیٹھ تھی۔ اسے شاید نہیں معلوم تھا کہ غصّے کے پاگل تاریک ساؤں کی طرف سے پیٹھ کرکے بیٹھنا کتنا خطرناک اور مہلک ثابت ہوسکتا تھا۔

المونیم کی ایک چھوٹی سی، گندی دیگچی میں چائے کا کتھئی رنگ اُبل رہا تھا۔ اور میں نے اُسے بھی پہچان لیا۔

اسے یعنی کاکروچ کو۔ کسی کو یقین ہو یا نہیں مگر یہ بالکل سچ ہے کہ وہی پرانا کاکروچ حیر ت انگیز طور پر یہاں بھی چلا آیا تھا۔ وہ اسٹوو کے قریب رکھے تام چینی کے ایک پیالے کے اوپر بیٹھا ہوا مجھے گھور رہا تھا۔ کچھ دیر بعد شاید وہ کاکروچ پہلے کی طرح مجھ پر ہنسنے والا بھی تھا۔

مجھے لگا جیسے میں ایک پرانی فلم کا چربہ دیکھ رہا ہوں مگر تب ہی میری نظر دیگچی میں اُبلتی ہوئی چائے پر دوبارہ پڑی۔ ابھی اُس میں دودھ نہیں ڈالا گیا تھا۔ چائے اچانک اُبلتے ہوئے خون میں بدل گئی۔ خون جس میں جھاگ اور بلبلے اُٹھ رہے تھے۔

اسٹوو کے ٹھیک اوپر، ایک کارنس پر چند معمولی برتنوں کے ساتھ مٹّی کے تیل کی ایک بوتل رکھی تھی۔ شیشے کی بوتل جس کے منھ پر ایک گندا سا کپڑا ٹھونسا ہوا تھا۔

اسٹوو کی وحشت ناک آواز میرا ساتھ دے رہی تھی۔اس نے میری کوئی آہٹ نہیں محسوس کی۔ اس کا سر نشے میں آہستہ آہستہ ادھر اُدھر ڈول رہا تھا۔

میں اس کی پیٹھ کے بالکل پیچھے جاکر کھڑا ہو گیا۔ اس نے میل سے چیکٹ چارخانے کی ایک قمیص پہن رکھی تھی۔ وہ تہبند باندھے ہوا تھا۔ جو آدھا کھل کر فرش پر اِدھر اُدھر پھڑپھڑا رہا تھا۔

میں نے اپنی ایڑیاں اچکائیں، دم سادھا اور اس کے ہلتے ڈلتے سر کے اوپر سے، اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا، میرا بایاں ہاتھ، نیکر کی جیب میں پڑے پڑے دائیں ہاتھ کے ارادے کا ساتھ دے رہا تھا۔

کمالِ خوبی سے ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ، میں نے مٹّی کے تیل کو کارنس سے نیچے گرا دیا۔

بوتل، جلتے اور شور مچاتے ہوئے اسٹوو کے اوپر گری۔ میں اُلٹے پاؤں تیزی کے ساتھ دروازے کی طرف واپس بھاگا۔ میں نے بمشکل دروازے کی چوکھٹ پار ہی کی ہوگی کہ اپنے پیچھے ایک دِل دہلا دینے والا دھماکہ سنا۔ جس میں اس کی ہذیانی چیخیں بھی شامل تھیں۔

میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ میں دوڑتا ہوا ایک قبر کے پیچھے جاکر چھپ گیا۔ میں نے دیکھا کہ سارا محلہ انجم آپا کے گھر کی طرف بھاگا چلا جارہا تھا۔

کوئی زور زور سے کہہ رہا تھا۔
’’اسٹوو پھٹ گیا، آگ لگ گئی۔‘‘

مجھے اپنے پیروں میں ہلکی سی کپکپاہٹ کا احساس ہوا۔ میں اُس قبر کے اوپر ہی پاؤں لٹکا کر بیٹھ گیا جس کی آڑ میں، میں چھپا ہوا تھا۔ میں نے دور، بوسیدہ گھروں کے پیچھے دھوئیں کا کالا بادل اُٹھتے دیکھا۔

تھوڑی دیر بعد شاید آگ پر قابو پا لیا گیا تھا مگرلوگوں کا شور تھمنے کا نام نہیں لے رہاتھا۔ پھر اسی شور اور مجمع میں، میں نے رکشہ پر لاد کر لے جاتی ہوئی ایک کالی لاش کو دیکھا۔ شاید لاش میں ابھی کوئی شے زندہ تھی ورنہ اُسے اسپتال لے جانے کا کیا مطلب تھا؟مگر کالا دھواں ہوا کے دوش پر پھیلتا جارہا تھا۔ دھوئیں کے اس بادل میں مجھے لوگوں کی شکلیں صاف نہیں نظر آرہی تھیں۔ رکشہ اور مجمع کے پیچھے پیچھے دھوئیں کا یہ بادل چلتا رہا۔ پھر وہ قبروں پر بھی آکر منڈلانے لگا۔ آسمان کا ایک ٹکڑا دھوئیں سے کالا ہوگیا۔

مجمع کم ہوگیا، کچھ لوگ اِدھر اُدھر کھڑے باتیں کر رہے تھے اور محلے کی عورتیں اپنے اپنے دروازوں پر کھڑی چہ میگوئیاں کر رہی تھیں۔
کچھ دیر بعد، میرے نیکر اور پنڈلیوں پر قبر سے نکل کر چیونٹیاں چڑھنے لگیں تو میں بہت اطمینان کے ساتھ اُٹھ کر اپنی ہی ہوا میں جھومتا ٹہلتا ہوا اپنے گھر کی جانب چل پڑا۔

اِس بار مجھے کچھ بھی نہیں ہوا، نہ کوئی گھبراہٹ، نہ کوئی اندیشہ، نہ کوئی خوف اور نہ کوئی احساسِ جرم۔
کیا میں ایک پیشہ ور قاتل میں تبدیل ہو چکا تھا؟؟

’’گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ ‘‘ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا، طوطا بولا۔

گھر پہنچ کر، دوپہر میں،میں آرام سے سو گیا۔ ہاں بس اتنا ضرورایک بار دل میں خیال آیا کہ اگر اس وقت انجم آپا کے باورچی خانے میں چائے نہ بنتی تو صورت حال کچھ اور بھی ہوسکتی تھی۔ اس وقت وہاں چائے کا اُبلنا ایک اچھا شگون نہ تھا۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ اس بار، ایک بدشگونی نے پہلے سے مجھے کوئی اشارہ نہیں کیا تھا یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں میری پانچوں حِسیں کچھ دیر کے لیے اتنی طاقتور ہوگئی تھیں کہ چھٹی حس کی بیداری اُن کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہو۔

اس بار نہ مجھے یرقان ہوا، نہ سردی لگی، نہ بخار آیا اور نہ ہی اُلٹیاں ہوئیں۔میں اپنے وجود میں پلتے رہنے والے اُس تاریک سائے، اس کالے سانپ سے مکمل طور پر مفاہمت کر چکا تھا۔

دوسرے دن ریحانہ پھوپھی نے مجھے بتایا کہ انجم آپا کا میاں اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی مر گیا تھا۔ آگ اتنی زبردست لگی تھی کہ پورا باورچی خانہ جل کر راکھ ہو گیا۔ اگر وقت پر محلے والے مل کر آگ نہ بجھاتے تو سارا گھر ہی نذرِ آتش ہوگیا ہوتا۔ انجم آپا کے باپ باورچی خانے سے بہت دور، دور والی کوٹھری میں سونے کے باعث بس بال بال بچ گئے تھے۔ جہاں تک انجم آپا کا سوال ہے تو وہ تو بہت دیر پہلے محلے کے ایک گھر میں جاکر بیٹھ گئی تھیں، کیونکہ اُن کے شوہر نے اُنہیں صبح صبح ہی جان سے مار ڈالنے کی کوشش کی تھی اور اُن کی ناک پر چاقو سے وار کیا تھا۔

’’پولیس نہیں آئی۔‘‘ میں نے پوچھا۔

’’آئی تھی مگر کیا کرتی، حادثہ تو حادثہ ہے۔ ویسے بھی خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔‘‘ ریحانہ پھوپھی پیاز چھیلتے چھیلتے بولیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جو یقینا پیاز چھیلنے کے باعث ہی آئے ہوں گے۔

اس کے بعد میں انجم آپا کے گھر جانے کی ہمت کبھی نہ کر سکا۔ ایک زمانے تک میں نے اُنہیں نہیں دیکھا۔ نہ وہ کبھی ہمارے گھر آئیں۔ بہت بعد میں یہ بھی سننے میں آیا کہ اُن کے باپ نے اُن کا دوسرا نکاح پڑھا دیا ہے۔ کسی بہت شریف اور نیک شخص کے ساتھ جس کی پہلی بیوی فوت ہو چکی تھی اور اُس کے کئی بچّے بھی تھے۔ انجم آپا کا نیا شوہر خاصا مالدار بھی تھا اور اُس کی اعلیٰ نفسی کا ثبوت تو یہی تھا کہ اس نے ایک بیوہ اور اندھی عورت کو سہارا دیا تھا۔

بہرحال میں نے انجم آپا کو نہیں دیکھا اور جب دیکھا تو زمانہ قیامت کی چال چل چکا تھا۔ وہ بھی قیمتی زیورات سے لدی ہوئی تھیں۔ بہت موٹی ہوگئی تھیں بلکہ اُن کی خاصی توند بھی نکل آئی تھی۔ اُن کے آگے پیچھے کئی چھوٹے بڑے بچّے شور مچاتے ہوئے گھوم رہے تھے۔ مگر یہ بہت بعد کی، ایک الگ اور لرزہ خیز داستان ہے۔

وقت گزرتا گیا، گزرتا گیا۔ میں بڑا ہوگیا۔ داڑھی مونچھوں سے میرا چہرہ بھر کر رہ گیا۔ میں روزانہ شیو کرنے لگا۔ لوگوںکی نظروں میں، میں اب ایک نوجوان لڑکا تھا مگر خود میں، یہ محسوس کرتا تھا کہ میری جوانی بیت چکی ہے۔ بچپن یا لڑکپن کی وہ یادیں ایک بھیانک خواب بن کرمجھ سے میری جوانی چھین لے گئی تھیں۔ میں ان بھیانک خوابوں سے پیچھا چھڑانا چاہتا تھا مگر یہ ممکن نہ تھا۔ وہ یادیں اُس کالے سیلاب کی مانند تھیں جو آگے اور آگے بڑھتا ہی جاتا تھا، جو میرے ماضی کو بہا لے جانے کے بعد میرے حال اور میرے مستقبل کو بھی غرق کر دینے کے درپے تھا۔

میں اگر جوان ہوگیا تھا تو گھر کے باقی افراد بوڑھے ہونے کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے۔ سنبل، میرا طوطا تک بوڑھا ہوگیا تھا اور بیمار رہنے لگا تھا۔ اُسے ہری مرچ کھانے میں دلچسپی بہت کم رہ گئی تھی۔ یہاں تک کہ وہ کن کٹا خرگوش تک کاہل اور سست ہو گیا تھا۔ جہاں پڑ جاتا، پڑا ہی رہتا اور اپنی لال لال آنکھوں سے گھر کے مکینوں اور در ودیوار کو گھورتا رہتا۔

گھر میں زیادہ تر لوگ بیمار بیمار سے رہنے لگے۔ وہ ہر وقت کھانستے، بلغم تھوکتے اور ذرا سا چل لینے پر برسوں کے تھکے ہوئے نظر آتے۔ اُن کے پیٹ زیادہ تر خراب رہتے۔ جس کی وجہ سے وہ بات بات پر ایک دوسرے کو کھانے کو دوڑتے۔ وہ کٹکھنے کتّے بن گئے تھے اورباورچی خانہ ہی اُن کی آپسی تکرار کا باعث تھا۔ وہ بہت اونچا سننے لگے تھے۔ انھیں چیزیں بہت کم نظر آتی تھیں۔ کیڑے مکوڑے اور چیونٹیاں دیکھنے سے بوڑھی بے نور آنکھیں قاصر تھیں۔ اُن کی آنتیں کوئی مرغّن یا ثقیل غذا برداشت نہ کر پاتی تھی۔ دراصل بوڑھی زبانوں میں اب کوئی ذائقہ نہ تھا۔ان کی قوتِ ذائقہ، قوتِ شامّہ، قوتِ لامسہ اور سماعت و بصارت سب کے حواس ٹوٹ ٹوٹ کر ہوا میں بکھر رہے تھے یا پھر مٹّی میں مل رہے تھے۔ اُسی ہوا اور اُس مٹّی میں جہاں سے زندہ اور جوان یہ حواس خمسہ نکل کر کبھی سینہ تانے باہر آئے تھے۔ اب وہ صرف پانی کا ذائقہ محسوس کرتے تھے۔ گرمیوں میں ٹھنڈے پانی کی تلاش میں اُن کی زبانیں ہانپتے ہوئے کتّوں کی طرح باہر لٹکی رہتی تھیں۔
وہ سب ایک پرانے درخت پر لگے بوڑھے پتّے تھے۔ جو ذرا سی ہوا برداشت نہ کرکے چڑچڑا جاتے تھے۔

نورجہاں خالہ کا پاگل پن اتنا بڑھ گیا تھا کہ اُنہیں محلّے والوں اور رشتہ داروں نے مل کر اُن کے ہاتھ پاؤں رسّی سے باندھ کر ایک دن پاگل خانے میں پہنچا دیا تھا۔ جب سے وہ پاگل خانے میں بھرتی ہوئی تھیں مجھے یاد نہیں کہ کوئی اُنہیں کبھی وہاں دیکھنے یا ملنے گیا ہو۔
اور یہ ٹھیک بھی تھا، گھر میں جھاڑو لگانے کے بعد، کوڑا کرکٹ اور سڑا ہوا کھانا یا پیاز، لہسن اور ترکاریوں کے چھلکوں کو اکٹھا کرکے، جب باہر نکال دیا جاتا ہے تو انھیں دیکھنے کوڑے دان میں جھانکنے، موریوں اور نالیوں میں ہاتھ ڈال ڈال کرٹٹولنے بھلا کون جاتا ہے۔

جہاں تک اچھّن دادی کا سوال تھا تو وہ تو اب بالکل ہڈّیوں کے ایک ڈھانچے میں بدل گئی تھیں، افسوس کہ ہڈّیوں کے اس ڈھانچے میں ابھی جھلّی نما گوشت اور کھال موجود تھے، جہاں زخم سڑ رہے تھے اور اُن میں کیڑے پڑ گئے تھے۔

میں سوچتا ہوں کہ اگر وہ بغیر کھال اور گوشت کے خالص ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاتیں تو ایک نئے حسن سے مالامال ہوجاتیں آخر، ہڈّیاں کے ڈھانچے کی اپنی خوبصورتی ہے۔ اپنا تناسب۔ اپنی چمک اپنی گولائیاں، خطوط اور زاویے۔

مگر عام طور پر انسان حسن اور خوبصورتی کے بارے میں بہت محدود بلکہ متعصّبانہ نظریات رکھتے ہیں۔

جب میں بظاہر ایک کڑیل جوان میں تبدیل ہو گیا تو گھر میں زیادہ تر جلے ہوئے یا سڑے ہوئے کھانے کی بو پھیلنے لگی۔ اب باورچی خانے میں اکثر ہانڈی جل جاتی یا پھر رکھّے رکھّے کھانا سڑ جاتا اور کسی کو کوئی بدبو نہ آتی۔ روٹیاں پک جل کر سیاہ ہو جاتیں۔ اُنھیں پروا نہ ہوتی، وہ جلے اور سڑے کھانے کھاتے رہنے کے عادی ہو گئے تھے۔ جسے وہ بدمزہ کھاناکہہ کہہ کر اُس میں ڈھیر سا نمک مرچ ڈال ڈال کر کھاتے اور ایک دوسرے کو اِس بدمزگی کا ذمے دار ٹھہراتے۔ گھر کی عورتیں باورچی خانے میں ایک دوسرے سے لڑا کرتیں۔ اُن میں کبھی کبھی ہاتھا پائی تک کی نوبت آجاتی۔ باورچی خانہ اب صحیح معنوں میں کُشتی کا اکھاڑہ بن گیا تھا۔

اور یہ سب کمزور جسموں اور معذور ذہنوں میں لگاتار بڑھتی ہوئی عمر کا کرشمہ تھا۔ وہ بوڑھے ہوتے جاتے تھے اور تمام گزری ہوئی باتوں کو بھولتے جاتے تھے۔ماضی کا ایک بہت بڑا ٹکڑا کٹ کر اُن کی یادداشت سے دور جا گرا تھا۔ اگر اُنہیںکچھ یاد رہ گیا تھا تو وہ صرف گزرے زمانے کے کھائے ہوئے کھانوں کے نام اور اُن کے ذائقے تھے۔ وہ ذائقے جن کو گرفت میں لینے والے اُن کی زبانوں کے خلیے، سڑ گل کر کب کے ختم ہو چکے تھے۔ اب یہاں ایک ضروری اعتراف کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اور وہ یہ کہ، اگرچہ میں ایک خطرناک قاتل تھا، میں نے بے حد ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ ایک نہیں بلکہ دو دو قتل کیے تھے، کسی کو مجھ پر رتی برابر بھی شک نہیں ہو سکتا تھا، میں دو دو قتل کرکے صاف بچ نکلاتھا۔ مگر پھر بھی اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا تھا کہ میں ایک بچّہ تھا۔ جب میں نے وہ قتل کیے تھے تو میں نیکر پہنتا تھا۔

اس لیے اہم اور غور کرنے لائق نکتہ یہ تھا کہ دو دو قتل کرنے کے باوجود میں نے کسی کی موت نہیں دیکھی تھی۔ موت میرے لیے ایک اجنبی شے تھی۔ قتل اور موت دو الگ الگ باتیں ہیں۔ میں نے اپنی ماہیت میں قتل کا حلیہ دیکھا ہے بلکہ وہ حلیہ میں نے ہی اپنے ہاتھوںسے تیار کیا تھا۔ قتل کا لباس بھی خود میں نے اپنے ہاتھوں سے سوئی دھاگہ پکڑ کر سِیا تھا مگر میں موت سے واقف نہیں تھا۔

موت کیا ہوتی ہے، اس کا چہرہ کیسا ہوتا ہے، وہ کس طرح چلتی ہے، کسی طرح آتی ہے؟ ان میں سے کسی بات سے میں آشنا نہ تھا۔
مگر جلد ہی وہ وقت بھی آنے والا تھا اگرچہ مجھے اس کا ذرا سا احساس تک نہ ہوا۔

تجربے کار لوگ، موت کی آہٹ کو بہت پہلے سے پہچان لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ کتّے اور بلّیاں تک۔ مگر میں اُن دنوں ا س معاملے میں قابل رحم حد تک ناتجربہ کار بلکہ احمق تھا۔ میری وہ چھٹی حس جس پر مجھے بہت ناز تھا، مجھے یہ توبتا سکتی تھی کہ کچھ برُا یا خراب ہونے کا امکان ہے، مگر وہ برُا کیا ہے؟ وہ بدشگونی موت تو نہیں اور اگر موت ہے تو پھر اس موت کی شکل کیسی ہے؟ یہ چاروں ہاتھ پیروں سے چلتی ہے یا کہ گھٹنوں کے بل؟؟ چھٹی حس کو اس کا علم نہیں تھا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – سولہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اُنہیں دنوں نورجہاں خالہ کی رشتے کی ایک بھتیجی جو ایک قریبی تحصیل میں رہتی تھی، شہر میں علاج کرانے کے لیے آئی۔ وہ ہمارے گھر ہی ٹھہری، اُس کا نام ’’انجم بانو‘‘ تھا۔

وہ اپنے بھائی کے ساتھ آئی تھی جو قصبے سے رساول کی ہانڈی بھی ساتھ لایا تھا۔ مٹّی کی ہانڈی جس پرلال کاغذ منڈھا ہوا تھا۔ ان دنوں یہ روایت تھی کہ ہمارے گھر سے جب کوئی کسی رشتے دار کے یہاں دور گائوں یا قصبے جاتا تو رساول کی ہانڈی لے کر ضرور جاتا اورجو رشتے دار ہمارے یہاں آتے وہ بھی رساول کی ہانڈی لے کر آتے۔ یہ ہانڈی اپنی بناوٹ اور ہیئت کے اعتبار سے ہمیشہ مجھے پُراسرار ہی نظر آئی۔ اگرچہ رساول میں بھی بہت شوق سے کھاتا تھا۔

انجم بانو عمر میں میرے برابر تھی۔ اس کے جسم میں خون کی کمی تھی۔ وہ زرد رنگ کی تھی۔ ممکن ہے کہ اس کی رنگت پہلے گوری رہی ہو مگر اب اُس کی تمام کھال زرد تھی۔ اس کی پیلی رنگت کا موازنہ انجم باجی کی رنگت سے نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جو کہ اُنہیں فطرت کی طرف سے دیا گیا ایک خوبصورت اور پاکیزہ رتحفہ تھا۔اس کی آنکھیں بڑی بڑ ی اور خالی خالی سی تھیں۔ جس کی پتلیوں میں صرف پیلا رنگ لگا ہوا تھا۔ جب وہ مسکراتی تو اُس کی پتلیوں کا یہ پیلا رنگ ہلکی سی سرخی میں تبدیل ہوتا نظر آتا مگر فوراً ہی معدوم ہوجاتا۔

دوپٹے میں اُس کے سینے کا اُبھار بہت غور سے دیکھنے کے بعد ہی محسوس ہوتا ورنہ وہ صرف ایک سپاٹ سینہ تھا۔ میری عمر اب اتنی ہوگئی تھی کہ میں عورت کے تئیں خاص جنسی دلچسپی بھی لے سکتاتھا۔ اور یقینا مجھے انجم بانو سے ایک خالص جنسی دلچسپی پیدا ہوگئی۔ ممکن تھاکہ آگے چل کر اس میں محبت کا عنصر بھی شامل ہو جاتا کیونکہ محبت اور جنس ایک دوسرے کے اس طرح پیچھے لگے رہتے ہیں جیسے اُمس کے پہلے بارش یا حبس کے پیچھے پیلی آندھی۔ مگر ایسا نہ ہو سکا، اس کی وجوہات تب تو نہیں مگر اب میں تھوڑا تھوڑا سمجھ سکتاہوں۔

انجم بانو کی آنکھوں میں بھی ایک پیاس تھی۔ ایک سخت جنسی پیاس جو کسی بھی جوان لڑکی، جو بیمار رہتی ہو، میں غیر معمولی طور پر پائی جاتی ہے۔ صرف ایک ہفتے کے اندر اندر ہم دونوں نے ایک دوسرے کی آنتوں۔۔۔ معاف کیجیے گا، آنکھوں کو مکمل طور پر پڑھ لیا۔
ایک سنسان سی دوپہر میں، میں چپکے سے اُٹھ کرباورچی خانے میں آگیا۔ وہ باہری دالان میں بیٹھی مسورکی دال بین رہی تھی۔
باورچی خانے میں آکر میں نے اُسے اشارہ کیا۔ وہ پہلے تو خاموشی سے دال بینتی رہی پھر ایک چوکنّی بلی کی طرح اُس نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ اور دال کی سینی لیے لیے، دبے پائوں، بلّی کی چال چلتی ہوئی باورچی خانے میں آگئی۔

میں اُسے اندر کوٹھری میں لے گیا جہاں روشندان سے چھن چھن کر دوپہر کے سورج کی روشنی اندر آرہی تھی۔ مجھے کوئی پہل نہیں کرنی پڑی، وہ تو آتے ہی مجھ سے بری طرح لپٹ گئی اور مجھے دیوانہ وار چومنے لگی۔ اس کی سانسوں سے آم کے اچار کی بو آرہی تھی۔ میں نے اُس کے پستانوں کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہاں کچھ بھی نہ تھا یا اگر تھا تومیری انگلیوں کو محسوس نہ ہوسکا۔

مگر وہ بالکل ہی ہوش کھو بیٹھی۔ اس نے میرا ایک ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر زور سے چپکا لیا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی عورت کے پستان باہر کو اُبھرے ہوئے یا بڑے بڑے ہیں یا نہیں۔ شاید جس طرح کچھ انسانوں کے ایک آدھ دانت مسوڑھوں کے اندر ہی رہتے ہیں۔ اور زندگی بھر باہر نہیں نکلتے۔ اسی طرح کچھ عورتوں کے پستان سینے کی نامعلوم، پُراسرار گہرائیوں میں چھپے رہتے ہیں۔ اور مرد کے ہاتھ لگنے سے باہر آنے کے لیے تڑپ اُٹھتے ہیں۔

وہ بری طرح تڑپ رہی تھی۔ اس کی سانسیں بہت تیز ہوگئیں۔ اس کی دھونکنی سی چلنے لگی۔لگا کہ جیسے اس کے پھیپھڑے پھٹنے والے ہیں۔ آم کے اچار کی بُو بڑھتی گئی۔ مجھے آم کی بو یا خوشبو سے نفرت تھی جو آج تک قائم ہے۔ میں بدمزہ ہونے لگا۔ اور پھر دھیرے دھیرے خوف زدہ بھی۔

اُس کے پیلے چہرے پر روشندان سے آتی ہوئی دھوپ کی کرن پڑ رہی تھی۔ مجھے اچانک اُس کا پیلا چہرہ اور پیلا جسم بہت پاکیزہ نظر آیا۔

یہ جسم بیمار تھا، اس جسم میں خون نہیں بنتا تھا۔ آدمی کے جسم میں زیادہ خون ہونا ہوس کی نشانی ہے اور بھدّا بھی۔
مگر انجم بانو کی ہوس اُس کی روح میں پوشیدہ تھی اور اُس بھیانک ہوس اور شہوت کا ساتھ دینے میں اُس کا بیمار، خون کی کمی کا مارا ہوا، یرقان زدہ جسم ساتھ نہیں دے سکتا تھا۔ اس لیے وہ جسم ایک خزاں رسیدہ پتّے کی طرح لرزنے اور کانپنے لگا۔ انجم بانو کی روح کی پیاس نہ جانے کتنی صدیوں کی پیاس تھی اور یہ پیاس اس لیے بے قابو تھی کہ انجم بانو کا جسم بہت بیمار تھا۔ روح جسم پر اپنی شہوت، اپنی خواہش اور اپنی ہوس کے وار پہ وار لگاتی جارہی تھی۔ وہ اس کمزور، بیمار مگر پاکیزہ جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر ہلاک کر دینے کے درپے تھی۔

میں انجم بانو سے دور ہٹ گیا۔ وہ میری طرف بڑھی۔ میں نے اُسے جھٹک دیا۔ اس کی بڑی بڑی خالی آنکھوں میں انڈے کی سی زردی آکر بیٹھ گئی۔ ایسا لگا جیسے اُسے مرگی کا دورہ پڑنے والا ہو۔ وہ دھم سے زمین پر بیٹھ گئی۔ اس کے دانت بھنچنے لگے اور پورا جسم اکڑنے لگا۔ اس کا پیلا جسم اچانک ناقابل یقین طور پر سیاہ پڑنے لگا۔ انجم بانو پیلی سے کالی ہوگئی۔ میرے سامنے، ہاں بالکل میری آنکھوں کے سامنے۔

مگر میں واضح طور پر کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایک مقدس سیاہی تھی۔ ہوس زدہ روح نے پاکیزہ جسم سے بدلہ لیا تھا۔ مگر جسم نے بھی روح کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔ میں تھوڑی دیر تک، ڈرا ڈرا اُسے یونہی دیکھتا رہا پھر جلدی سے باورچی خانے سے باہر نکل گیا۔
انجم بانو تین دن اور ہمارے گھر میں رہی مگر نہ میں نے اُس کی جانب دیکھا اور نہ اس نے میری طرف نظر اُٹھائی۔ تین دن بعد اُس کا بھائی آکر اُسے واپس لے گیا۔ مگر اس بار بھی وہ لال کاغذ منڈھی رساول کی ہانڈی لانا نہیں بھولا تھا۔ ڈاکٹروں نے اُس کا مرض لاعلاج بتایا تھا۔ اسے ایک بہت خطرناک بیماری تھی۔ اس کا جسم خون بناتا ہی نہیں تھا، سوائے اس کے کہ اُسے خون چڑھایا جاتا رہے۔ اور کوئی چارہ نہ تھا۔

کیا کسی نے بھی اس پر غور کیا کہ محض روح کی پاکیزگی کے ڈنکے پیٹتے رہنے سے ہی کچھ نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ تو جسم کا ہے، جسم کی پاکیزگی ہی اصل شئے ہے۔ انسان کو چاہئیے کہ شعور بالذات کی بات تو بہت ہو چکی، اب ذرا بدنام زمانہ مادّے کی بات بھی ہو جائے۔ مادّے کو بھی اُس کاجائز حق دیا جائے۔ آخر کب تک روح اپنے اعمال کی سزا جسم کو دیتی رہے گی۔

روح نے کیا سوچا ہے کہ اگر کبھی جسم اس کے احکام کی تعمیل کرنے اور اُس کی غلامی کرنے سے انکار کر دے تو؟ تو پھر شاید دنیا کی تاریخ دوسری طرح سے لکھی جائے گی۔

ایک عرصے بعد میں نے سنا کہ انجم بانو کاانتقال ہوگیا۔ وہ جب تک زندہ رہی اُس کے جسم میں لگاتار خون چڑھایا جاتا رہا۔ مگر پھر اُس کے جسم نے دوسروں کا خون بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ جب بھی اُسے خون کی بوتل چڑھائی جاتی۔ تو اُس کے بعد اس کی ناک، کانوں اور منھ سے خون باہر آنے لگتا۔ مرنے سے ایک ماہ پہلے انجم بانو نے کھانا پینا بالکل چھوڑ دیا تھا۔ اس کی آنتیں بالکل صاف اور پاک تھیں اور پرانی آلودگی، بدنیتی، چٹورے پن اور بھوک کے ہر نشان سے عاری تھیں۔
آخر انجم بانو کے جسم کی پاکیزگی نے سب کو ہراکر رکھ دیا۔

افسردہ کر دینے کے لیے انسان کے پاس کتنی باتیں، کتنی یادیں ہوتی ہیں اور خوش ہونے کے لیے بہت کم۔ ماضی کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ ماضی کی مسرتوں اور خوشیوں کو بھی اگر یاد کریں تو وہ بھی ایک اُداسی اور افسردگی میں ہی بدل جاتی ہیں۔ گزرا ہوا وقت ہوبہو سامنے نہیں آتا— وہ ایک پریت کی خوفناک شکل میں سامنے آتا ہے۔ مردہ بندر کے پنجے یا ہڈی کی طرح۔

اکتوبر کا مہینہ بھی گزر گیا اور نومبر کا مہینہ آپہنچا۔ نومبر کا مہینہ دراصل کوئی مہینہ ہی نہیں۔ اس کا اپنا کوئی موسم ہی نہیں۔ یہ ایک زوال پذیر مہینہ ہے۔ اندھیری ڈھلان پربے جان چٹانوں کی طرح لڑھکتے ہوئے، نومبر کے یہ دن، راتوں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہوئے۔ آنے والے سرد، گاڑھے، ہوائوں کے شور سے لدے پھندے، دسمبر کے اندھیروں کے انتظار میں پہلے سے ہی صفیں باندھیں، سیلوٹ کرتے ہوئے،نومبر کے یہ دن جو سال کے بارہ مہینوں میں کہیں اپنی کوئی انفرادی یا باوقار چھاپ نہیں چھوڑتے۔ موسم کے اعتبار سے، یہ معمولی، حقیر دن، گرتے ہوئے، جلدی سے غائب ہوتے ہوئے۔ ان کی چھاپ صرف اُن بدنصیبوں پر ہی پڑتی ہے جن کے سینے پر نومبر کا کوئی لڑھکتا ہوا پتھّر آکر ٹھہر گیا ہو۔

روح کے پاگل پن کی سزا جسم کو جھیلنا پڑتی ہے۔

انھیں دنوں ایک پاگل بندریا نے ہمارا گھر دیکھ لیا۔ وہ بندریا ہر وقت حیض سے ہوتی رہتی تھی اور جب موقع ملتا، کسی نہ کسی کو کاٹ کھاتی۔ اُس زمانے میں مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ بندریوں کو بھی حیض ہوتا ہے، مگرجب میں نے اُس بندریا کی دُم پر خون کے دھبے دیکھے تو میں سمجھ گیا۔ آخر سائنس کے مطابق بندر ہی تو انسانوں کے آبائواجداد ہیں۔ انھیں حیوانوں کی ساری لعنتیں، انسان بھی بھگت رہے ہیں۔

رات کو سوتے وقت، ہر شخص کو خوف تھا کہ کہیں سوتے میں بندریا نہ آکر کاٹ لے۔ محلّے میں بہت سے لوگوں کو اس نے سوتے میں کاٹ لیا تھا۔

دن میں وہ، چھتوں اور منڈیروں پر اِدھر اُدھر کودتی پھاندتی اور بھٹکتی پھرتی اور رات میں پتہ نہیں کہاں دُبک کر بسیرا کرتی۔
میں نے اُسے دیکھا تھا،وہ ایک قوی الجثّہ بندریا تھی جس کی آنکھوں میں پاگل پن اور ایک بے قابو اور بے تُکا غصّہ بھرا رہتا تھا۔ اسے کوئی بیماری تھی۔ وہ شاید ہمیشہ حیض سے ہوتی رہتی تھی۔ یہ کوئی ایسی حیران کن بات نہیں۔ جسم کے اندر ہزارہا پُراسرار پہلو ہوتے ہیں۔ اس پاگل بندریا کی وجہ سے جاڑے کے یہ شروعاتی دن بڑی دہشت میں گزر رہے تھے، مگر ایک دن یہ مسئلہ حل ہو گیا۔ وہ سامنے والے گھر کی تین منزلہ عمارت کی چھت پر کودتے کودتے اچانک ٹپ سے سڑک پر گر پڑی۔ سارا محلہ اُسے دیکھنے بھاگا۔ میں بھی گیا۔

وہ سڑک پر مردہ پڑی تھی۔ اس کے منھ میں ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا پھنسا ہوا تھا۔ اس کے جسم کا نچلا حصّہ خون سے سنا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں جن میں وہی پاگل غصہ لگاتار اب آسمان کی طرف تاکے جارہا تھا۔ شام ہو رہی تھی، مغرب کی اذان ہونے لگی۔ میں نے سوچا کیا بندریا نے بھی خودکشی کی ہے۔ لوسی کی طرح؟ ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو یا نہ ہو۔ بڑھتی ہوئی تاریکی نے سڑک پر پڑی بدنصیب بندریا کی لاش کو ڈھک دیا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – تیرہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اور پھر بارش آگئی۔ وہ تو اُمس اور حبس کے ریشوں میں پہلے ہی سے پوشیدہ تھی۔ ایک رات جب میں نے اپنی کلائیوں اور چہرے کو انگلیوں سے چھوا، تب ہی مجھے محسوس ہوگیا کہ وہ آپہنچی ہے۔

رات کے تقریباً تین بجے ہوں گے۔ جب بادلوں کی زبردست گرج اور چمک کے ساتھ پانی برسنے لگا۔ ساتھ میں بارش کی ازلی رفیق ہوا بھی آئی۔ اُمس کی دیوار ٹوٹ کر گر گئی اور میں باہری دالان میں ٹین سے لگے داسے سے لگ کر کھڑا ہوگیا۔ برابر میں سنبل کا پنجرہ لٹک رہا تھا۔ ہوا کے تیز جھونکے میں داسے میں لٹکی ہوئی لالٹین بھک سے بجھ گئی۔ سارا گھر تاریک ہوگیا۔ ایک بار بہت زور سے بجلی چمکی تو میں نے دیکھا کہ طوطے نے اپنے پروں میں منھ چھپا لیا ہے۔

اندھیرے میں، بارش کے بھیانک شورمیں مجھے بھی ڈر لگنے لگا۔ چھتوں کے پرنالوں سے زبردست آواز پیدا کرتا ہوا پانی بہہ رہاتھا۔
بارش کے شور میں اچانک میں نے ایک مختلف اور پُراسرار آواز سنی۔ ایک عجیب سی سرسراہٹ اور پھنکار زینے کے قریب بنے مرغیوں کے ڈربے کی طرف سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ پھرباورچی خانے کے دروازے پر، پھر آم کے درخت کے قریب اور پھر معدوم ہو گئی۔ یہ بارش کی آواز ہرگز نہ تھی۔ بارش کا زور بڑھتا جارہا تھا۔ مجھے سردی اور خوف دونوں محسوس ہوئے۔ میںجلدی سے اندر جاکر اپنے پلنگ پر لیٹ گیا اور چادر میں منھ ڈھانپتے ہی مجھے گہری نیند آگئی۔

صبح جب میری آنکھ کھلی تو بارش ہورہی تھی۔ گھر میں کچھ ہلچل سی محسوس ہوئی۔ معلوم ہوا کہ ڈربے میں بند ساری مرغیاں مر گئی ہیں۔

اچھّن دادی نے بتایا کہ رات ناگ کا گزر اِدھر سے ہوا تھا۔ وہ اتنا زہریلا ہے کہ اس کی پھنکار سے ہی مرغیاں اور کبوتر مردہ ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ سانپ اِس گھر کا بہت پرانا مکین ہے، جب یہ گھربن رہا تھا تب ہی سے، یہ اس کی بنیادوں میں رینگتا اور سرسراتا ہوا دیکھاگیا تھا۔ اس کے اثر سے جانور تو کئی بار مر چکے ہیں مگر کسی انسان کو اس ناگ نے کبھی نہیں ڈسا۔

اچھّن دادی یوں تو غپ مارنے میں مشہور تھیں مگر اُن کی اس بات کی تائید گھر کے دوسرے افراد نے بھی کی۔ اگر رات کا وقت ہوتا تو مجھے بہت ڈر لگتا مگر اُس وقت تو مجھے اُس ناگ کو دیکھنے کا تجسّس پیدا ہوگیا۔ رات اور دن کا یہی تو فرق ہے۔ انسان روز ایک دوہری زندگی جیتا ہے۔ دن میں کچھ اور رات میں کچھ بلکہ ایک دوسری زندگی۔ زمین کی گردش کوئی معمولی واقعہ نہیں، اِسے ہمیشہ یاد رکھنا چاہئیے۔ اس امر کو فراموش کرنا ہمیشہ خطرناک نتائج کا موجب ہوا کرتاہے۔

آپ نے ناگ کو دیکھا ہے؟ میں نے اچھّن دادی سے پوچھا تھا۔ ’’ہاں، کئی بار۔ جب میں تیرہ سال کی تھی اور اُس کے بعد بھی کئی بار۔ اس کے اوپر یہ بڑے بڑے بال ہیں۔ وہ بہت پرانا ہے اور بالکل کالا۔ ایسا کالا کہ اُس کے آگے چراغ نہیں جل سکتا۔‘‘ اچھّن دادی نے جھرجھری لیتے ہوئے جواب دیا۔

’’وہ اکثرباورچی خانے کی کوٹھری میں بھی دکھائی دیا ہے۔‘‘ نورجہاں خالہ نے کہا تھا۔ مگر اُس پُراسرار سانپ کو دیکھنے کی آرزو میرے دل میں ہی رہ گئی۔ میں جب تک اپنے گھر میں رہا، مجھے وہ کبھی نظر نہ آسکا۔ مگر اب مجھے اُسے نہ دیکھ پانے کا کوئی ملال یا افسوس نہیں ہے کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میرے دل میں بھی ایک اتنا ہی زہریلا، اتنا ہی کالا اور اتنا ہی عمر رسیدہ ایک ناگ کنڈلی مارے بیٹھا ہے۔ میں یہ جواپنی یادداشتیں لکھ رہا ہوں یا سنا رہا ہوں، یہ اپنے دل کے اس سیاہ ناگ کو پٹاری میں بِٹھا کر اُس کے سامنے بین بجاکر تماشہ دکھانے کے ہی مترادف ہے۔یہ ہمت اور جان جوکھوں کا کام ہے، میں تو خیر اپنی عدالت کو ڈھونڈھ رہا ہوں یا عدالت مجھے شکاری کتّے کی طرح سونگھتی پھر رہی ہے، مگر تم سب کیا کر رہے ہو؟

میں نے تو اپنا کوبرا دکھا دیا۔ یہ رہا میرا ناگ، مگر تم بھی تو اپنے اپنے ناگ، اپنے اپنے کوبرے دکھائو۔ اے نیک دل اور شریف انسانو!
اس وقت میری یاددشت کو بہت زیادہ محنت کرنا یا بھٹکنا نہیں پڑ رہا ہے۔ بارش کی یاد، میرے حافظے کو اِس طرح اپنے ساتھ لیے لیے چل رہی ہے جیسے بادل پانی کو لے کر چلتا ہے۔ بارش کتنی بھی اندھیری ہو، وہ یادداشت کے لیے ایک کبھی نہ مٹنے والے اُجالے کی مانند ہوتی ہے۔ اب کچھ دیر تک میں جو بھی لکھوں گا وہ تحریر قلم کی سیاہی کے ذریعے نہیں بلکہ ٹین پر ٹپ ٹپ گرتی ہوئی بارش کے ذریعے خودبخود وجودمیں آ جائے گی۔ بارش کی دھند اور اُس کی بوندیں، اس کی بوچھار اور جھاوٹ اور سیاہ بادلوں سے منڈھا ہوا آسمان یہ سب میرے کاغذ قلم ہیں۔ بارش ہی وہ لفظ ہے جس کے سہارے میں بغیر لکنت کے، اپنی فرّاٹے دار زبان میں اُس سیلن زدہ اور بھیگے ہوئے زمانے کو حفظ کر سکتا ہوں۔