Categories
فکشن

گونگا گلو (جیم عباسی)

گاؤں بنام ڈگھڑی انگریزوں کی کھدائی شدہ نہرکے کنارے کنارے اس جگہ بسایا گیا تھا جہاں نہر اور گاؤں کو ریل کی پٹڑی کا پہاڑ نما ٹریک روک لیتا تھا۔ اسی ریلوے لائن کے قدموں میں دونوں کا ایک جگہ خاتمہ ہوتا تھا۔ریلوےلائن جس کی بلندی پر مٹی اور کچی اینٹیں ڈھوتے اکثر گدھے اور خچر ہمت ہار کر بیٹھ جاتے تھے، کے اس پارایک ویرانگی کی ابتدا ہوتی تھی۔ اس ویرانے کی جانب مٹی ڈھونے کی ضرورت ہی کان سے کھینچ کر لے جاتی تھی ورنہ اس طرف کوئی پیشاب کرنے بھی نہ جاتاتھا۔ اور بھلا اس ویرانگی کی انتہا؟کہا جا سکتا ہے ڈگھڑی والے شاید جانتے ہوں۔کوئی اور زیادہ متفکر نہیں ہوتاتھا۔ یہ نہر انگریز دور کے متروک شدہ منصوبوں میں سے تھی۔ مشہور یہ تھا کہ انگریز عملدار چاولوں کی کاشت کے علاقے تک آب رسانی کے لئے نہر کھودتے جب یہاں پنہچے تو ریلوےلائن پر پل بنا کر نہر کونیچے سے گذارنے کے بجائے کام کو ادھورا چھوڑ گئے۔تب سے یہ ڈیڑہ دوسو فیٹ چوڑی اور پانچ آٹھ ہاتھ گہرائی والی نہر ایسے گندے پانی کے ساتھ بھری رہتی تھی جس کے کنارے سبزی مائل رنگت اختیار کر چکےتھے۔ نہر کی لمبائی دیکھیں تو یہ میل ہا میل پیچ و خم لیتی دور دور تک چلتی جاتی۔ حتیٰ کہ اس کے دھول اڑاتے پشتے پر کوئی چلنا شروع کرے تو دو دن تک اس کےدوسرے چھوڑ تک پہنچ نہ پائے۔یہ نہر متروکہ پشتوں کے ساتھ موجود آباد اور کلر چڑھی زمینوں کا مستعمل و زائد پانی اور اپنے آس پاس گوٹھوں اور چھوٹے شہروں کے گٹروں کا مواد اور گندگی اپنے اندر سمیٹتی جاتی تھی جو کیچڑ بھری کالی نالیاں اس میں انڈیلتی رہتی تھیں۔اس کی ہیئت اس طرح سمجھی جا سکتی ہےاگر آسمان پر اڑتا پرندہ نگاہ اٹھا کر دیکھے تو اسے وہ ایسی کالی جونک نظر آئےجو قصبوں کا زہر پی پی کر فربہ ہو چکی ہو۔

ڈگھڑی اس کے کنارے آباد آخری گاؤں تھا جو دوسرے گوٹھوں سے الگ سا معلوم ہوتا تھا۔یہ گاؤں نہر کےجنوبی کنارے پر ٹکا ہوا مستطیل صورت میں دکھتاتھا۔گاؤں بھر کی چوڑائی متروک نہر جتنی کہی جائے گی۔شمال و جنوبا بنے گھروں کے درمیان گلی نما راستہ تھا اور پورے گاؤں کی لمبائی پاو میل جتنی۔متروکہ نہر کےجنوبی پشتے پر موجود یہ گاؤں ایک ایسے مدقوق اور سوکھےآدمی جیسا لگتا تھا جو اپنے لمبےپن کی وجہ سے دور کھڑا بھی دکھائی دے۔ یہ لمبا پن اس کے نام کا بھی حصہ تھا۔ لمبائی کی وجہ سے ہی سندھی زبان میں ڈگھڑی،تھوڑی سی لمبائی والا کہا جاتا تھا۔ لیکن نام کے علاوہ ایک اور چیز قابل ذکر ہے کہ علاقے کا ہر مرد و زن ڈگھڑی کے بارے کچھ جانتا تھا۔اب یہ تجسس ہوتا ہے کہ کیا جانتا تھا ؟ مگر کوئی شخص اس کچھ کو جاننا چاہے تو شاید ہی کامیاب ہو۔ کیونکہ وہ کہے سنے سے متعلق ہی نہ تھا۔بس ہر ایک جانتا تھا اور کسی کے بتائے بغیر جان لیتا تھا۔ یوں سمجھئے کوئی ایسی بات جس کا تذکرہ ایسی دیوار کے پار ہو جہاں ہرکوئی جانے سے پرہیز کرتا ہو۔ ضرورت کے سوا تو وہ ڈگھڑی کا نام زبان تک لانے سے گریزاں رہتے اور یہ غیر اختیاری ہوتا۔کبھی کبھار کوئی راہرو ڈگھڑی کا راستہ پوچھتا تو ہاتھ سے اشارہ کر کے سمت بتا دی جاتی۔ اور یقین مانیں جب ایسا موقعہ پیدا ہوتا دیکھنے والے حیرت سے اسے ڈگھڑی جاتے دیکھتے رہتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے۔ویسے کوئی پرندہ بھی بمشکل ڈگھڑی کی طرف اڑتا نظر آتا۔اس لئے جاتے شخص کو دیکھتے سوچ ابھرتی ڈگھڑی کو جاتے تو مہمان بھی ابھی پیدا نہ ہوئے۔یہ کیوں جا رہا ہے ؟۔شاید اس کا نلکا یا کنواں پانی چھوڑ گیا ہوگا۔اور یہ بات رہ تو نہ گئی کہ ڈگھڑی کے رہنے والوں میں سے اکثر نلکے لگانے اور کنویں کھودنےکا کام کیا کرتے تھے؟بس یہی ہوا ہوگا کہ ناگاہ وقت نلکہ پانی چھوڑجائے تو بندہ بشر کوادھر جانے کی مجبوری پڑہی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ باقی وقت ریل کی پٹڑی کے ساتھ ڈگھڑی کو جاتا میل بھر لمبا تیلی سا پتلا راستہ خالی پڑا ہوتا۔ ہاں سویر صبح نلکے لگانے کے کاریگر اور ان کے ہم قصبہ مددگار گاؤں چھوڑ روزی کے پیچھے شہر جاتے اور شام ڈھلے واپس آتے نظر آتے۔اس تیلی سے پتلے راستے پر چلتے ڈگھڑی کے باسیوں کا انداز الگ لگتا تھا۔قطار میں خاموشی سےسر جھکائے چلتے جانا۔ جیسے چیونٹے آپس میں جڑےجارہے ہوں۔ ایک فرق صبح و شام میں تھا۔شام میں واپس ڈگھڑی جاتے نظر آتے تو دیکھنے والا محسوس کرتا ان کے بازو ان کے بدن سے الگ پیچھے پیچھے لڑھکتے جا رہے ہوں۔ شہر میں یہ تانگا اسٹینڈ کے برابر بنے اس چھپر کے نیچے بیٹھے رہتے جس میں گھوڑوں کے پانی کی بڑی ناند رکھی ہوئی تھی۔ کیا کاریگر کیا مددگار اپنے اوزار سامنےرکھے اکڑوں بیٹھا تنکے سے زمین کریدتا رہتا۔ یہ کام ایسی محویت سے ہوتا جیسے ان پر مقدس ذمہ داری ڈال دی گئی ہو۔ جب کوئی کام کروانے آنے والا چھپر کے آگے کھڑا ہوکر آواز دیتا تو ان میں سے کوئی چپکے سے اوزار سنبھالتا اس کے پیچھے چل نکلتا۔یہ فیصلہ لینا بھی مشکل ہے کہ آنے والے کی آواز سمجھنا ضروری بھی ہوتی تھی کہ نہیں۔جب ان میں سے کوئی اٹھ کر چلا جاتا تو باقی اسی مشغولی میں مصروف ہوتے۔ سر اٹھا کر دیکھنے کا تکلف تک نہ کیا جاتا۔

یہ کہانی جو ڈگھڑی کی دوسری کہانیوں سے مختلف ہے، اس کی ابتدا منگل وار کی اس صبح کاذب سے ہوتی ہے جب تاریکی بہت کثیف تھی۔ سردی کا راج ختم ہونے میں دن باقی رہتے تھے۔متروک شدہ نہر کے سبزی مائل گدلے گندے پانی،قصبے کی ویران گلی،گارےاور کچی اینٹوں سے بنے کوٹھوں، جھاڑ کانٹوں کی چاردیواریوں پر دھند کا ڈیرا پوشیدہ تھا۔ اس وقت گاوں کے آخر ی مغربی گھر کے اندر جلتی لالٹین کی روشنی میں گلو کی ماں بچہ جن کر مر گئی۔ ڈگھڑی کی دائی صاحباں مائی نے ناڑ کاٹا،گلوکی ماں کی آنکھیں بند کیں اور اس کے سر اور جبڑے کو پٹی باندھنے کے بعد بچہ اٹھا کرکوٹھے سے باہر اکڑوں بیٹھے گلو کے باپ کو تھمایا اور لاش کو نہلانے دہلانے پھر اندر کوٹھے میں چلی گئی۔ جب سورج کی کرنیں دھند کو مات دے کر زمین پر اتریں تو اس وقت تک لاش قبر میں ڈالے جانے کے لئے تیار تھی۔ڈگھڑی کے باسی لاش اٹھا کر قبرستان کے اور چلنے لگے۔عین اس وقت ریل کی پٹڑی پر سے بے وقت ایک ریل گاڑی دھڑدھڑاتی گزرنے لگی۔ریل کی پٹڑی، متروک نہر کے کنارے اور کچے کوٹھے ریل گاڑی کی دھمک سے لرزش میں آنے لگے۔ گاؤں کے لوگ لاش اٹھائے حرکت میں تھے۔اس لئے ریل گاڑی کی آمد کا ٹھیک طرح جان نہیں پائے اور روز مرہ کے معمول کے خلاف گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلنے کے بجائے راستے کے بیچوں بیچ لاش اٹھائےچلے جا رہے تھے۔ سب کے سر جھکے ہوئے ہونے کے بجائے سامنے سیدھ میں قبرستان کی سمت اٹھے ہوئے تھے۔تیرہ سالہ گلو کو جنازہ میں چلتے سوچ آئی۔ تین دن چاول پکیں گے اور لوگ ان کے کچے کوٹھے کے باہر صحن میں بیری کے درخت کے نیچے چٹائیوں پر بیٹھے رہیں گے۔ گلو کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور لمحے کے لمحے پھر سکڑگئے۔ اس نے سوچ کی بے دخلی کے تحت قبرستان کی اور نظریں جمائیں۔ سوچ نے پھر نقب لگالی۔ گاؤں میں موت کے سوا کسی چیز کا علم نہیں ہوتا۔ شادی کا تب معلوم پڑتا ہے جب کسی کو بچہ پیدا ہو جائے۔ اب کی بار اس نے نچلے لب کو کاٹا۔اتنے زور سے کہ سر جھرجھراگیا۔ اس نے پھر نظریں قبرستان کی طرف گاڑدیں۔اب قبرستان کے علاوہ کوئی خیال قریب نہ آیا۔ دفن کے دسویں دن جب دوپہر کی روٹی کھانے اس نے کوٹھے میں قدم رکھا تو صاحباں مائی باپ کے ساتھ بیٹھی نظر آئی۔ بچہ ماں کے مرنے والے دن سےاسی کی گود میں تھا۔ گلو کا آنا محسوس کر کے کچے کوٹھے کا سکوت خاموش ہوگیا۔ گلو نے کونے میں رکھی رکابی سے روٹی اٹھائی اور جھاؤں کی پتلی لکڑیوں سے بنی ٹوکری میں سے ایک پیاز اٹھا کر زمین پر رکھ کراس کی اوپری سطح کو مکا مار کر کھولا اور اس کی پرتوں میں نمک مرچ ڈال کر چپڑ چپڑ کھانا کھانا شروع ہوگیا۔ کھانا ختم کر کے وہ بوری کی بنی چٹائی پے سر کے نیچے بازو دےکر صاحباں مائی اور اپنے باپ کی طرف منہ کر کے لیٹ گیا۔ اس کی نگاہوں کے پاس صاحباں مائی اور اس کے باپ کے لب ہلے جا رہے تھے۔چند ساعتوں میں اس نے دیکھا اس کا باپ اچک کر کھڑا ہوگیا۔وہ حیرت زدہ ہو گیا۔ کچھ دیر میں صاحباں مائی کمر پر ہاتھ رکھے اس کے اکڑوں بیٹھے باپ کے سر پر کھڑی نظر آئی۔ گلو کے خیال نے کوئی راستہ نہ پایا۔ اگلے دو دنوں کے بعد گلو نے رات کی پڑتی تاریکی میں اپنی منگ کو اپنے گھر میں سرخ جوڑا پہنے دیکھا۔ وہ جلتی لالٹین کی روشنی میں صاحباں مائی،اس کے باپ،اس کے منگ کے باپ اور ماں کے ساتھ کچے کوٹھے میں اندر جا رہی تھی۔ گلو نلکہ چلاتا اوک میں پانی پیتا اسے دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر میں صاحباں مائی اپنی منگ کے ماں باپ کے ساتھ گھر سے باہر جاتی دیکھی۔ گلو کی سوچ نے راہ پائی۔ اچھا ہواانہوں نے اسے نہیں دیکھا ورنہ منگ کا باپ ضرور گندہ منہ بناتا۔ پر میں تو سامنے کھڑاتھا لالٹین کی روشنی میں کیسے نہ دیکھا ہوگا؟ نہیں۔نہیں دیکھا ہوگا ورنہ صاحباں مائی اس کے سر پر ہمیش کی طرح ہاتھ نہ گھماتی۔ گلو کی سوچ نکل گئی۔ مطمئن ہو کر وہ کچے کوٹھے میں سونے چلا مگر دروازہ اندر سے بند تھا۔ گلو اس رات بیری کے نیچے پڑی کھجور کی چٹائی پرسوگیا۔ بھلا کون سی سردی تھی جو نیند نہ آئے۔ اگلی صبح گلو نے منگ کو دیکھا وہ جھاڑو کر نے کے بعد روٹی پکا کر گلو کے باپ کے ساتھ بیٹھی کھا رہی تھی اور بچہ اس کے قریب لیٹا تھا۔ کھانا کھا کر گلو کی منگ نے بچے کو اندر کوٹھے میں سلایا اور گلو کی روٹی لے آئی۔ پر بیری کے نیچے گلوتو تھاہی نہیں۔

دوسری دوپہر گلو کا باپ گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلتا گلو کو ڈھونڈھنے کے ارادے میں تھا تب ڈگھڑی کے اکلوتے چروہے ذاکو غریبڑے نے اسے بتایا گونگا گلو کل دوپہر سے کچھ پہلے قبرستان کے راستے پر تھا۔ یہ سن کر گلو کے باپ کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور پھر آپے آپ سکڑگئے۔

Categories
فکشن

نور نہار

منصور نے کیمرے کو اٹھایا۔ اس کے چہرے کو الکوحل سے صاف کرکے اس کے لینزکو چھوٹی سی مخملی رومال سے صاف کیا ۔جیسےوہ اپنی آنکھوں پرپانی کے چھینٹے ما کر صبح سویرے کام پر جانے سے پہلے صابن لگا کر صاف کیا کرتا ہے۔ منصور کیمرے کو گھورتے ہوئے بولا شکر ہے تمہارے دانت نہیں تھے۔ ورنہ خواہ مخواہ ٹو تھ پیسٹ کا خرچ بھی اٹھانا پڑتا۔ اوپر سے سالا بناہوا بھی جرمنی کاہے۔ ولایتی ٹوتھ پیسٹ کا خرچہ۔ میرا کیا ہے۔ غسل خانے میں ٹوتھ پیسٹ نہیں ہے تو کویلے سے کام چلا لیا۔ شیمپو نہیں ہے تو صابن سے۔ لیکن اس سالے کے نخرے ہی بہت زیادہ ہیں۔
ویسے مجھ میں اور اس میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ یہ بھی رپورٹ کرتاہے اور میں بھی۔ لیکن ایک فرق ہے۔ یہ جھوٹ نہیں بولتا اور میں ۔۔۔۔۔

 

کیمرے کو ریکسین کے ڈبے میں بند کیا اور سٹینڈ کو دوہرا کر کے بیگ میں رکھنے لگا تو ایک اور خیال آیا، ایک اور فرق بھی ہے ۔ اس کی تین ٹانگیں ہیں اور میری دوکی لمبائی برابر اورتیسری۔۔۔
منصور لاہور میں پریس رپورٹر ہے۔فری لانس کام کے لیے اس کی پہچان سب اخباروں سے ہے۔ بعض اوقات اتنا کام ہوتا ہے کچھ کام اسے بادل ناخواستہ بانٹنا پڑتا ہے۔ کام بانٹنے کا مطلب ہے کہ پیسے بھی بانٹو۔ اس لیے پوری کوشش کرتاہے رپورٹنگ بھی کرے اور کچھ تصویریں بھی اتارے۔ خبر بھی بنا لے۔ اور کبھی کبھی لکھ لے۔ بھاری لفافے کی اُمید میں کالم بھی لکھ لیتاہے۔ لیکن آج اسے ایک فرانسیسی کھانے کے تبصرہ نگار کے ساتھ کام کرناتھا جو ایک برقی رسالے کے لیے فرانسیسی زبان میں مضمون لکھ رہا تھا۔ اور یہ دنیا کے مشہور کھانے پر تبصرہ کرنے والا اہم نام تھا۔ فرانسواں سائمن۔ منصور دل میں بڑا بڑا یا کاش وہ ہوتاہے تو مہینے کا خرچہ نکل جاتا لیکن شاید یہ بھی اچھی تنخواہ دے رہا ہو۔ اس لیے اس نے ناشتہ ذرا ہلکا کیا کیونکہ ہوسکتاہے ناشتہ کی آفر پرل کانٹی نینٹل کے بوفے کی مل جائے۔

 

چرسی گھسیٹےکے چکڑچھولوں سے بھرے ہوے پیٹ میں، میز کرسی چھری کانٹے کے سیٹ اور پرل کانٹی نیٹل میں کانٹی نینٹل بریک فاسٹ سٹابری جام کے ساتھ کی گنجائش کہاں بچے گی۔ لہٰذا اپنی پھٹ پھٹی کو وقت سے دو گھنٹے پہلے ہی ایسی ٹانگ رسید کی وہ فراٹے بھرتی ہوئی اپنی منزل کی طرف بھاگ کھڑی ہوئی۔ اسے راستے سے فرنچ کلچر سنٹر سے نوید کو بھی لینا تھا۔ جس نے ٹرانسلیٹر کا کام کرناتھا۔ فرنٹ ڈیسک سے مسٹر فرانسواں سائمن کو کال کیا اور اپنے کھڑے ہونے کی جگہ عین کانٹی نینٹل بوفے کے سامنے بتائی کہ قطاروں میں سجے ہوئے ناشتے کے ڈونگے مسٹر فرانسواں کو جکڑ لیں اور ناشتہ وہیں کرنے پر مجبور کر دیں۔ جیسے ہی وہ نیچے پہنچا دونوں نے ہاتھ ملایا تو منصور نے ناشتے کے بوفے کی جانب اشارہ کیا ،سراس طرف ۔ مسٹر فرانسواں کی نظر ناشتے پر پڑی تو انہوں نے اس خیال کو رد کرتے ہوئے آگے بڑھے اور فرانسیسی زبان میں بولے کہ آج ہم دلی گیٹ پر دہلی کی مشہورنہاری سے ناشتہ کریں گے۔ کیونکہ میں لاہور میں صرف اور صرف اس خاص قسم کے پکوان کے لیے آیا ہوں اور مجھے فوڈ ڈاٹ کام کے لیے لکھناہے۔ منصور کی ولایتی ناشتے کی اُمیدوں پر ٹھنڈا پانی پڑگیا۔ سالا اتنا خرچہ کرکے کھائے گا بھی تو وہ بھی دلی دروازے کی نہاری۔ یہ سالا نہاری کھائے گا اور مکھیاں اسے۔ تینوں کرائے کی بڑی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ نوید ترجمہ نگار اور مسٹر فرانسواں پچھلی سیٹ پر اور اگلی سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر منصور بیٹھاتھا۔ گاڑی کے ڈیش بورڈ پر کیمرہ رکھا تھا۔

 

منصور متواتر بولے جارہاتھا جیسے کیمرے کو زبان لگ گئی ہو۔ کیمرے کے سامنے جو جو چیز آتی منصور بولے جاتا اور نوید اس کاترجمہ کرتا۔ حتیٰ کہ گاڑی کے آگے سے کوئی سائیکل یا رکشا والا کاٹنے کی کوشش کرتا تو وہ بھی ترجمے کے ساتھ مسٹر فرانسواں کو پہنچ جاتی۔ یہ قافلہ مال روڈ سے ہوتاہوا الحمرا آرٹ کونسل کو پیچھے چھوڑتا الفلاح اور ریگل چوک سے براستہ داتا دربار دلی دروازےکے قریب جا پہنچا۔ ڈرائیور نے دلی دروازہ کے قریب پہنچ کر بتایا کہ مناسب ہوگاکہ آپ لوگ ذرا پیدل ہی دلی دروازے پہنچ جائیں کیونکہ اتنی بھیڑ میں دروازے تک چار پیہوں کے ساتھ پہنچنا بہت مشکل ہوگا۔ دروازے سے باہر دکاندار وں نے دکانوں کے باہر کپڑے کے شامیانے ٹا نگے ہوئے تھے۔بہت سارے دوکانداروں نے تو لکڑی کے طاقوں کے چھجے رکھے ہوے تھے۔ سونے تاروں کے طلے والی جوتیاں جو دکان کے اندر سے شروع ہوتی تو لگتا تھا جیسے دلی دروازے کے اندر تک بھاگ جائیں گی۔ کئی دکانوں پر دھوپ کے چشمے قرینے سے سجے تھے۔ کسی عینک کی دکان پرتو دکاندار خود ہی آنکھوں کاڈاکٹربنا کمزور نظر والے، بوڑھوں کو موٹے شیشے والی، عینکیں پہناتا اور اتارتا۔ سامنے دوکاندارکے اندر کچھ فٹ کے فاصلے پر اے بی سی ڈی کے الفاظ پوچھتا۔ اگر الفاظ صاف نظر آتے۔ عینک کے پسندیدہ فریم میں شیشے جڑکے بیچ دیتا۔

 

کہیں زمین پر بیٹھا ہوا موچی اپنے لوہے کے دو لیٹی ٹانگوں والے کلبوت پر جو تاچڑھائے لوہے کے ہتھوڑے سے جوتے کے تلوے کوپیٹ کر نرم کر رہا تھا۔ کہیں زنگ زدہ تالوں میں تیل ڈال کر چابی گھما گھما کر دیکھ رہاتھا تاکہ آرام سے بھی کھلتا اور بند ہوتا ہے یا نہیں۔

 

صبح کا وقت تھا دکاندار اپنے سامان تجارت کو سجانے اور دکان سے باہر پانی کے چھڑکاؤ کرنے میں مصروف تھے۔

 

تمام بھیڑکو چیرتا ہوا یہ کھانے کی تنقید والا قافلہ دلی نہاری والے کی دوکان کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ دوکان پر پہنچے تو کافی بھیڑسے لگتا تھا۔ جیسے لوگ سوتے ہی نہیں، نہاری کھانے کے انتظار میں۔ جب دلی نہاری والے نے سفید فام کو دیکھا تو اس نے بڑی آو بھگت کی۔ اس نے منصور سے پوچھا کہ ہماری نہاری میں نمک مرچ ذرا تیز ہوتی ہے۔ یہ انگریز اسے برداشت کرلیں گے۔ اگر نہیں تومرچی کی تیزی کو دور کرنے کے لیے میں دیسی گھی کا تڑکہ لگادیتاہوں اور اس لیے ایک رکابی منصور کو تھماتے ہوئے کہاکہ سامنے گھی والی دکان سے اپنی منشا کے مطابق دیسی گھی لے آو۔ دکان کے شروع میں نہاری کی دیگ کے سامنے رکابیوں کی قطار لگی تھی۔ اشارہ سے بتایا کہ گھی والی رکابی اس قطار میں رکھ دینا۔ حیران کن بات یہ تھی دلی نہاری والے کو ہرکابی کی پہچان تھی کہ کون سی رکابی کس گاہگ کی ہے، حالانکہ سب رکابیاں سلور کی ایک جیسی ہی تھیں۔

 

جب منصور نے بتایاکہ یہ خاص فرانس سے آئے ہیں اور نہاری پر اپنے رسالے میں لکھنا چاہتے ہیں تو انہوں نے دیگ سے اُٹھ کر اپنے بیٹے کو دیگ پر بٹھا دیا اور خود تینوں کے ساتھ دکان کے اندر چلے گئے بیخ ٹیڑھی لکڑی کے تختےمیں چار ٹھکے ہوئے ڈنڈوں سے بنے ہوئے تھے۔میز بھی و یسے ہی بنے ہوئے تھی۔ لیکن ٹانگیں اونچی اور پھٹے چوڑے تھے۔ زور سے آواز دے کر چھوٹے کام کرنے والے لڑکے کو ڈالا گھی کے ڈبے کو لگے ہوئے ہینڈل سے بنے جگ کو تھماتے ہوے کہا۔ برف والا پانی بھر کے لاؤ۔ ان بنچوں کے پیچھے ایک تندور لگاتھا جہاں سے گرما گرم تازہ نان سیدھے تندور سے بنچوں پے پڑی چھابڑیوں میں آتے تھے۔ مسٹر فرانسواں کو یہ سب چیزیں ایک دلچسپ مہم لگ رہی تھی ۔ لیکن منصور اور نوید سارے ماحول سے منہ بنا رہے تھے۔ فرانسیسی نقاد کے لیے یہ چیزیں بالکل اچھوتی تھیں اور لطف اندوز ہو رہا تھا۔

 

میز پر تین مٹی کی انگیٹھیاں رکھ دی گئی تھیں۔ جس میں لکڑی کے دہکتے ہوے کوئلے تھے۔ اس کے اوپر تین بڑے سلور کے کٹورے جس میں نہاری کے سالن کی اوپر والی سطح پر دیسی گرم گھی تیرتا ہوا تیز خوشبو چھوڑ رہا تھا جوتینوں کی بھوک اُجاگر کرنے میں کافی مدد گار ثابت ہو رہاتھا۔ فرانسیسی نقاد سے رہا نہ گیا اور بے تابی سے چھری اور کانٹے کے لیے نوید سے اشارتاً پوچھنے لگا تو دلی نہاری والا نے سمجھاتے ہوئے کہاکہ جناب یہ مسلمانوں کی من بھاتا ڈش ہے اور یہ سنت رسول ؐ ہے کھانا، ہاتھ سے کھایاجائے ،فرانسیسی نقاد انتظار کرنے لگا کہ وہ نوید اور منصور کی نقل کرے گا۔ جیسے وہ نان کے نوالے کو چمچہ بنا کر پوری کوشش کرتے نوالے کے اگلے حصے کو پوری مقدار سے نہاری کے شوربہ سے بھر لیا جائے اور پچھلے حصے کو مضبوطی سے بھیچا جائے تاکہ پچھلے حصے سے نہاری نکل نہ جائے۔

 

جب دلی نہاری والے نے سب کو کھانے پہ ٹوٹتے دیکھا تو منصور سے بولے صاحب آپ لیموں ہری مرچیں اور ہرا دھنیا تو بھول ہی گئے۔ ذرا نہاری پر ان کا چھڑکاؤ کرو گے تو آپ ہر روز یہاں ناشتہ تناول فرما ئیں گے۔ جیسے ہی نوالہ، منصور اور نوید کے منہ میں پہنچا تو دونوں کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

 

واہ صاحب لاہور میں ایسی نہاری کوئی نہیں بناتا۔ نوید ساتھ ساتھ ترجمہ کرکے فرانسیسی نقاد کو بتاتا کہ ہمارا خیال ہے ایسی نہاری کوئی اور لاہور میں نہیں بناتا۔ دلی نہاری والا فوراً کاٹتے ہوئے بولا۔ صاحب ہم یقین سے کہتے ہیں کہ لاہورمیں صرف نہیں پوری دنیا میں ایسی نہاری آپ کو کہیں نہیں ملے گی۔ ہمارا مقابلہ دلی میں بھی کوئی نہیں کرسکتاتھا۔ دلی میں ہماری دکان لاہوری دروازے پر بھی۔ جن کا رخ لاہور کی طرف تھا۔ اور اب لاہور میں دلی دروازے کا رخ دلی کی طرف ہے، ارے صاحب ہم تو ہندوستان میں مسلمانوں کا یہ کھانا ہندوؤں کو کھلاتے تھے اور وہ اپنا مذہب بدل کے مسلمان ہوجاتے تھے۔ اجی صاحب ہم نے ہندوؤں میں رہ کر اسلام کی خدمت کی ہے۔ یہاں پر تو مسلمان ہی اپنے مذہب سے غافل ہیں۔ جو اندر سے مذہب اسلام سے اتر گیا وہ اپنی زندگی سے گیا اسے جینے کا کوئی حق نہیں۔

 

فرانسیسی نقاد نے پوچھا کیا وجہ ہے۔ ان کی نہاری دوسروں سے مختلف کیوں اور ذائقے میں اتنی لذیذ کیوں ہے۔

 

دلی نہاری والے نے ہاتھ اوپر اٹھا کر کہا جناب یہ سب اوپروالے کی مہربانی ہے۔ میں اللہ و باری تعالیٰ کو دل سے چاہتا ہوں۔

 

وہ میری ان انگلیوں میں ایسی برکت ڈالتا ہے۔ ہر کھانے والے کے منہ سے اس دل تک اللہ باری تعالیٰ کا پاک پیغام پہنچ جاتاہے۔ دکان کے قریب والی مسجد سے مولوی نے عین اسی وقت بے وقت کی تقریر کرنی شروع کر دی۔ ۔ “اور تم نے نہیں دیکھا کہ مغرب والے نے اپنے عقائد کو ہم پر مسلط کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے پالیٹکس اور معاشی وسائل پر اپنا قبضہ جما کر اپنے مذاہب کو ہم پر مسلط کرنا شروع کردیا۔ ہم کو اکٹھا ہونا ہے اور اسلام کی سیاسی طاقت ہی خداکی اطاعت ہے۔”

 

سب نے مولانا کی تقریر کو نظر انداز کر دیا۔ نوید اور منصور چپ ہی رہے اور دلی نہاری والے سے بولے مسٹر فرانسواں آپ سے کچھ سوالات کرنا چاہتے ہیں۔ جسے نہاری والے نے بڑے فخر سے جواب دینا شروع کیا ۔

 

“صاحب یہ نہاری بادشاہوں کاکھاناہے۔ جب مغل بادشاہ یہ کھانا صبح ناشتے میں کھاکے دوپہر تک سوتے تھے۔

 

مزدوروں کو بھی نصیب ہوتا تھا۔ ان کو تب یہ بادشاہ لوگ نہاری کھلاتے تھے وہ ان سے فری کام کروانا ہوتا تھا۔ جو غریب لوگ بخوشی بلامعاوضہ ان کے محلوں کی تعمیر میں اپنا خون پسینہ شامل کر دیتے تھے۔ صرف اس نہاری کی بدولت۔” پھر اس نے نہاری کے مصالحوں کے بارے میں کافی لمبی چوڑی باتیں بتلائیں۔ اس کے مصالحہ میں خود باہر سے جا کر خرید کر خود پیستا ہوں۔ دیگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔ یہ دیگ ساری رات کوئلے کی آگ پر چڑھی رہتی ہے۔ صبح سحری کے وقت تیار ہوتی ہے۔

 

مسٹر فرانسواں نے جب پوچھاکہ میں نے سناہے۔ تمہاری نہاری باقی نہاری بنانے والوں سے مختلف اور بہت ہی لذیذ ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے جب کہ ترکیب استعمال تووہی ہے۔ دلی نہاری والے نے بڑے فخر سے جواب صاحب یہ ہمارا خاندانی پیشہ ہے۔ میری آباو اجداد مغلوں ،شہنشاہوں کے شاہی خانسامےتھے اور خاص ترکیب نسخہ ہمارے پرکھوں سے چلا آرہا ہے۔ سب سے ضروری بات ہے۔ اس میں جو گوشت پڑتا ہے۔ وہ میں خود بہت احتیاط سے دیکھ بھال کر کے ڈالتا ہوں۔ جو اس پکوان کو لذیذ بنا دیتا ہے۔ میں خود اپنے ہاتھوں سے جانوروں کو حلال کرتاہوں۔ جو انسان اپنے مذہب سے غافل ہوتاہے۔ وہ بھی تو انسان کہاں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا ہے۔ اس دنیا میں اس کی خدمت کریں اور آخرت میں اس کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ “منصور کے ساتھ پڑے ہوئے کیمرہ جو باری باری مسٹر فرانسواں کے سوال اور دلی نہاری والے کے جواب ریکارڈ کررہا تھا۔ اس کے ماتھے پر کچھ بل پڑے، کیمرے نے سوالوں جوابوں کا جائزہ لینا شروع کردیا۔ دلی نہاری والے کے چہرے کے تاثرات کچھ کیمرے کی سمجھ میں نہیں آرہے تھے۔ منصورنے کیمرے کو غور سے دیکھا تو دل میں شکر کیا۔ شکر ہے تمہارا منہ نہیں ہے ورنہ اپنے نہاری کا حصہ تمہیں بھی کھلانا پڑتا۔ لیکن کیمرہ کا لینز کسی اور خاص جگہ پر فوکس ہوا تھا۔ وہ دیکھ رہاتھا دیوار میں سے ایک کن کھجورا اپنی بے شمار ٹانگوں کے ساتھ بل کھاتا نکل رہا تھا۔ اور پھر اپنے سوراخ میں گھس گیا۔ سب نے پیٹ بھر کے نہاری کو اپنے پیٹ کی دیگ میں ٹھونسا کہ بس دلی نہاری والے کی بات پر یقین آنے لگا کہ یہ شہنشاہوں کا کھانا ہے۔ ناشتہ کرنے کے بعد وہ دوپہر تک سوتے تھے۔ لیکن یہ مغرب سے آئے ہوئے سفید چرم والے لوگوں پر اس کااثر نہیں ہوتا تھا۔ اپنا کام ختم کرنے کے بعد مسٹر فرانسواں دوسرے نہاری والوں سے موازنہ کرنا چاہتا تھا۔ لیکن منصور کی بات اسے دل کو بھائی کہ صاحب، زبان کاتعلق بالواسطہ معدہ سے ہے۔ اگر معدہ میں مزید کھانے کی گنجائش نہ ہو تویہ زبان جو کھانے کے بارے میں معلومات دماغ سے پیٹ کو بھیجتی ہے اس میں انیس بیس کا فرق آپ کے تجربات کو مناسب ثبوت فراہم نہ کرسکے گا۔ لہٰذا کل دوسری جگہوں کامعائنہ کر لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ مشورہ دیاکہ نہاری کی طرح یہاں دوسرے کھانوں کاذائقہ چکھ لینا بہت ضروری ہے۔ مثلاً چوبرجی پر بھنا ہوا گوشت،ناچ گھروں میں گھرا ہوا سری پائے کاذائقہ یا گوال منڈی کا ہریسہ اور تلی ہوئی مچھلی کا جواب نہیں۔ مسٹر فرانسواں نے مزید کھانوں کے تجربات سے منع کردیا کیونکہ انہیں صرف اور صرف نہاری ہی پر لکھنا تھا۔ اور یہ کہہ کر ان کی نوکری کاآخری دن کا اعلان کر دیا کہ باقی نہاری والوں کو اس نے صرف ذائقہ کرناہے تو وہ خود ہی کر لیں گے۔ اور دونوں کا حساب چکتا کیا اور اپنے ہوٹل کی راہ لی۔

 

ایک ہی دن گزرا تھا۔ مسٹر فرانسواں کی گم شدگی کی خبر سب چھوٹے بڑے اخباروں کے ماتھے کو جگمگا رہی تھی۔ منصور کو بہت افسوس بھی ہوا اور اس نے ایک لمبے چوڑے آرٹیکل کو بہت ساری تصویروں کے ساتھ ملک کے سب اخبار کو بھر دیا۔ منصور کے پاس اتنے پیسے آگئے تھے کہ اگر تین مہینے کام بھی نہ کرتا تو بڑے آرام سے گزر بسر ہوسکتی تھی۔ اپنے کیمرے کو بغل میں دبایا اور بجائے پریس کلب کے میس میں کھانے کی بجائے دلی کی نہاری یا ولایتی بوفے کو چھری کانٹے سے کھانے کے خیال نے اس کے اس مفروضے کو رد کردیا کہ اگر معدہ بھرا ہو تو کھانے کے ذائقہ میں انیس بیس کا فرق مناسب ثبوت نہیں مہیا کرتاہے۔

 

جیب بھری ہوئی ہو تو کھانے کے ذائقے نخریلے ہو جاتے ہیں۔ اگلے دن کے ٹیلی ویژن اور اخبارات اس اطلاع کی منادی کر رہے تھے کہ مسٹر فرانسواں کو قتل کرنے کادعویٰ کئی دہشت گرد تنظیموں نے کر دیا۔ خبر خاص ہونے کے بعد اس خبر کا شمار بھی عام خبروں میں ہو گیا۔ اگلے روز کی کوئی اور خبر ڈھونڈھنے میں لگ گئے تاکہ کسی اور خبر کو چیخ کر سنایا جائے۔ لیکن منصور اپنے کیمرے کی جانب متواتر دیکھتا جا رہا تھا کہ تم صرف دیکھتے اور دکھاتے ہو، تم کیوں نہیں چیختے۔ منصور کو مسٹر فرانسواں پر لکھی ہوئی خبروں سے خاصی آمدن ہو رہی تھی۔ تو وہ اگلے دن پھر دلی نہاری والے کے پاس جا پہنچا۔ دلی نہاری پر ویسے ہی جمگھٹا تھا۔ گاہک ایسے کھا رہے تھے شاید یہ نہاری کی دکان بند ہوجائے گی۔ منصور کو دیکھ کر دلی نہاری والا کچھ کترا رہا تھا۔ منصور سمجھ گیا کہ سفید فام ساتھ نہیں ہے تو اس لیے ہم بھی عام گاہک ٹھہرے۔ لیکن پھر کسی نہ کسی طرح منصور نے اپنی صحافیوں والی کارکردگی استعمال کر کے انہیں گھیر ہی لیااور لگا ان کی نہاری کی تعریف کرنے۔ دلی نہاری والا اپنی تعریف سن کر پھولے نہیں سما رہاتھا کہ دنیا بھر کے بڑے بڑے تنقید کرنے والے ان کی نہاری پر لکھ رہے ہیں۔ کہنے لگے صاحب جو نور خدانے تیری انگلیوں میں بھراہے میں ان کی راہ میں اس کے دین کے لیے اپنی جان تک دینے کو تیار ہوں۔ میری ہر قربانی کے صدقے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ مجھے اس کا انعام دیتے ہیں۔ مجھے یہ شہرت، عز ت اور دولت اسی سے محبت کا والہانہ تحفہ ہے۔ میری ہر پیاری چیز کی قربانی تو پس صدقہ جو میں اُن کی راہ میں بانٹتا ہوں۔ میں ہرجمعہ کو صدقہ نکالتاہوں۔ سو دوسوآدمیوں کو کھانا کھلاتاہوں۔ اسی دوران کیمرے کے ماتھے پر پھرشکنیں ابھریں۔ اس کیمرے کالینز پھر دلی نہاری کی دکان کی دیوار پر فوکس ہوا جس میں سے وہی کن کھجورا اپنی ان گنت ٹانگوں سے رینگتا ہوا باہر نکلا۔ حیران کن بات تھی سوائے کیمرے کے کوئی اور اسے دیکھ بھی نہیں رہاتھا۔ اور وہ بل کھاتا دکان کے تہہ خانے میں فرا نسیسی سفید فام کی قمیض میں گھس گیا تھا۔ منصور نے پیٹ بھر کے نہاری کے چٹورپن سے اپنی انگلیاں تک چا ٹ لیں۔ کیمرے کو پھر مسکرا کے دیکھتے ہوئے بولا شکر ہے تمہاری انگلیاں نہیں ہیں۔ ورنہ تم چاٹتے تو کیا کھاجاتے۔ ظہر کی نماز کا وقت ہونے کو تھا۔ پھر ویسے ہی اذان سے پہلے مسجد کے سپیکر سے مولانا نے اپنی تقریر شروع کردی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کاواقعہ بیان کیا کہ کس طرح خدا کی راہ میں قربانی کے لیے انہوں نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی قبول کر لی۔ زندگی کی سب سے قیمتی چیز کو خدا کی راہ میں قربان کر دینا سورت کا حوالہ دیتے ہوے۔ابراہیم نے کہا میں تو ہجرت کر کے اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں۔ وہ ضرور میری رہنمائی کرے گا۔ اے میرے رب تو مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔ پھر جب یہ بچہ اس کے ساتھ چلنے پھرنے لگا تو ابراہیم نے کہا میرے پیارے بچے! اس خواب میں اپنے تئیں تجھے ذبح کرتے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتاکہ تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا جوحکم کیا جاتاہے۔ اسے بجا لائیے۔ اس بات کا ثبوت تھا کہ ایک انسان کی خدا سے والہانہ محبت ایک پیمانہ ہے اور پھر مولانا نے صدقے کے لیے چندے کا ذکر کیا۔ مسجد کی تعمیر کے لیے اور نمازی کی سہولت کے لیے اپنی گزارشات نمازیوں کے سامنے رکھیں۔ اسے کیمرہ کچھ بھاری بھاری لگ رہا تھا۔ کیمرے کو گھور کے دیکھ کر بولا۔ “نہاری تو میں نے کھائی ہے۔ پیٹ تمہارا بھرا بھرا لگ رہا ہے۔”غور سے دیکھا تو کیمرے کے لینز کے نیچے نہاری کا سالن لگا تھا۔جیب سے رومال نکال کر کیمرے کے لینز کو پونچھا اس میں سے مسٹر فراسواں کے جسم کی جیسی خوشبو آ رہی تھی۔ فوراً اس کا موڈ اچھا ہو گیا ایسے غیر ملکی آتے رہے تو اپنا دھندہ تو خوب چلتا رہے گا۔

 

منصور نے کیمرہ بغل میں دبایا اور خبریں ڈھونڈنے نکل کھڑا ہوا۔ دلی نہاری کامالک ہر روز شام کو نہاری کی دیگ کو دھو کر صاف کر کے شام کو ہی اگلی صبح کی نہاری کی دیگ آگ پر چڑھا کر گھر چلا جاتا تھا اور بچی ہوئی نہاری اپنی بیگم اور خاندان کے باقی افراد کے لیے لے جاتا۔ آج بیگم کافی بے تاب تھیں کیونکہ دلی نہاری کے مالک گھر کچھ حسب عادت تاخیر سے پہنچے تھے۔ بیگم کو بھوک بھی لگی تھی۔ جیسے ہی خاوند گھر میں داخل ہوئے بیگم صاحبہ نے دسترخوان سجا دیا۔ باقی لوازمات کے ساتھ نہاری کا سالن بھی چن دیا گیا۔

 

بیگم صاحبہ کو نہاری بہت ہی پسند آئی اور بولی آج تو کمال ہی کر دیا۔ بہت مزے کی نہاری پکی ہے آج ۔کیا مصالحے تبدیل کیے ہیں اپنے خاوند سے انگلیاں چاٹتے ہوئے پوچھا۔ باقی کا سالن بیٹے کے لیے بچا کر رکھ دیا۔ کیونکہ بیٹا ہمیشہ کچھ دیر سے لوٹتا تھا۔
اگلے دن منصور پھر اپنے کیمرے کے ہمراہ دلی نہاری کی دکان پر جا پہنچا۔ اسے بھی اس نہاری کاایسا چسکا لگا تھا کہ بس دلی نہاری کھائے بغیر اس کا پیٹ تھاکہ بھر تا نہیں تھا۔ لیکن آج تھوڑی تبدیلی محسوس کرنے لگا۔ دیگ پر آج دلی نہاری والے کے بیٹے کی جگہ وہ خود بیٹھاتھا اور منصور کی بغل میں دبا ہوا کیمرے کا

 

لینز دکان کے اندر کن کھجورے کو ڈھونڈ رہا تھا۔ اور کن کھجورا دلی نہاری والے کے بیٹے کے خون میں لت پت کپڑوں میں گھسا ہوا تھا۔
Categories
فکشن

تمغہ

[blockquote style=”3″]

‘نقاط’ فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک موقر سہ ماہی ادبی جریدہ ہے۔ نقاط میں شائع ہونے والے افسانوں کا انتخاب قاسم یعقوب کے تعاون سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

افسانہ نگار: علی اکبر ناطق

 

ڈی آئی جی سمیت پولیس کے تمام افسران موجود تھے۔ لمبے چوڑے سُر خ قالینوں اور کُرسیوں پر لوگوں کی بڑی تعدا د جمع تھی۔ اسٹیج کو پولیس کے شہد ا کی تصویروں اور پھولوں سے سجا دیا گیا تھا۔ درجن بھر پولیس کے شہدا کے رنگین پوسٹر ہال کی پچھلی دیوار پر بھی چسپاں تھے تاکہ اسٹیج پر بیٹھنے والوں کی نظر اُن پر بھی پڑ سکے۔ اناؤنسر نے مختصر تمہید کے بعد ڈی آئی جی شمس الحسن کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی۔ ڈی آئی جی اسپیکرپر آئے تو ہال میں مکمل خاموشی طاری ہو گئی۔

 

حضرات!
آپ سب جانتے ہیں، پنجاب پولیس نے کس طرح اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے جرائم پر قابو پایا ہے۔ ہم اپنے ان جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو معاشرے کے ان بدمعاش اور ناسور افراد کا مقابلہ دلیری سے کرتے ہوئے اُن کو کیفر کردار تک پہنچاتے ہیں۔ چنانچہ ہمیشہ کی طرح آج ہمیں پھر اپنے ان دو جوانوں پر فخر ہے۔ جنہوں نے اپنی جانوں کو شدید خطرے میں ڈال کر انسانیت کے دشمنوں کا خاتمہ کیا ہے۔ ان میں ایک سب انسپیکڑ حمید سندھوصاحب ہیں جس کی کارکردگی پچھلے کئی سالوں سے پنجاب پولیس کو کامیابیوں سے ہمکنار کر رہی ہے اور دوسرے عابد بلال ہیں جس نے اس کے شانہ بشانہ کام کیا۔ میں ان دونوں کو اگلے اسٹیج پر ترقی دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر ڈی آ ئی جی صاحب ایک طرف ہو گئے اور اناونسر نے دوبارہ اسپیکر پر آ کر اعلان شروع کیا، حمید سندھو صاحب اسٹیج پر آکر اپنا تمغہ وصول کریں۔ (حمید سندھو تالیوں کے شور میں پُر اعتماد قدموں کے ساتھ اسٹیج کی طرف بڑھتا ہے اور اپنا تمغہ وصول کرتا ہے۔ ڈی آئی جی صاحب اُس کے کاندھے پر بیجز بھی لگاتا ہے)
اب میرا نام پکارا جانا تھا جس کے تصور سے میرا جسم پسینے میں بھیگ گیا، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے اور ٹانگوں میں لرزا طاری تھا۔ مجھے ڈر تھا، اُٹھتے ہوئے گر نہ پڑوں۔ میری ساری توجہ اپنے آپ کو قابو میں رکھنے پر تھی۔ ایک دفعہ خیال آیا، پیشاب کا بہانہ کر کے بھاگ جاؤں لیکن اب وقت بالکل نہیں تھا اور مجھے ہر حالت میں اسٹیج پر جا کر اپنا تمغہ وصول کرنا تھا۔ مگر تھوڑی دیر رُکیں، پہلے تمغے کا باعث بننے والے واقعے کا ذکر ہو جائے۔

 

میں بطور پولیس کمانڈو پچھلے تین سال سے اسی تھانے میں تھا۔ ہمیشہ سول وردی میں رہنے کی وجہ سے کم ہی لوگوں کو اس بات کا پتہ تھا کہ میں پولیس کا آدمی ہوں۔ شہر کے مشرق میں بیس کلو میٹر کے فاصلے پر دریا ہے اور یہ علاقہ ایسا ہے جہاں دریا جب اپنی جولانی پر آتا ہے تو دور تک پر پھیلا دیتا ہے جس کی وجہ سے ادھر اُدھر جنگلات سے بن چکے ہیں۔ یہ جنگلات اس لیے بھی زیادہ ہیں کہ باڈر قریب ہونے کی وجہ سے تمام علاقہ پاک رینجر کی حدود میں آ تا ہے اور وہ درخت کاٹنے کی اجازت نہیں دیتی۔ دریاکے آس پاس ہزاروں کی تعداد میں زمیندار ہیں اور سب نے غنڈے پال رکھے ہیں۔ یہ غنڈے پورے علاقے میں مجرمانہ کارروائیاں کرنے کے بعد ان زمینداروں کے پاس پناہ لیتے ہیں۔ کسی زمیندار کو اپنے مخالف سے نپٹنا ہوتو اپنے غنڈے کے ذریعے ہی دو دو ہاتھ کرتا ہے۔ گویا غنڈوں کو پناہ دینا علاقے کے زمینداروں کی بقا کا مسئلہ ہے۔ میں کم وبیش ان سب زمینداروں اور اُن کے متعلقہ غنڈوں سے واقف تھا لیکن مجھے اپنی مرضی سے کارروائی کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ویسے بھی میرا منصب محض ایک حوالدار کی حیثیت سے بڑوں کے کاموں میں دخل دینا یا تھانے کی پالیسی وضع کرنا نہیں تھا اور تھانے دار کو اُس کا مطلوبہ حصہ وقت پر پہنچ جاتا۔ چنانچہ پولیس اپنا اثر رسوخ عموماً شہری حدود میں برقرار رکھتی۔ گویا پولیس، زمینداروں اور غنڈوں کے درمیان یہ ایک خاموش معاہدہ تھا۔ البتہ گرجی مہر پچھلے دو سال سے اس معاہدے سے باہر ہو چکا تھا۔ وہ علاقے کے زمینداروں،غنڈوں،پولیس اور عوام، سب کے لیے خطرہ بن تھا۔ چنانچہ اُسے کوئی بھی پناہ دینے یا ہمدردی کے قابل نہ سمجھتا۔ میں نے اُسے پہلی دفعہ اڑھائی سال پہلے حاجی شمس خا ں کے ڈیرے پر دیکھا۔ اُس وقت وہ ایسا خطرناک نہیں تھا۔میں اپنے تھانیدار کے ساتھ وہاں کسی ملزم کے حوالے سے گیا تھا۔ کم وبیش ان علاقوں کے تمام تھانیداروں کا معمول ہے کہ وہ کسی قسم کی کارروائی کرنا چاہیں تو سیدھے اُن زمینداروں کے ہاں جاتے۔ اگر ملزم کو پولیس کے حوالے کرنا ناگزیر ہوتا تو وہ خود اُسے حوالے کر دیتے ورنہ ڈیرے پر ہی مک مکا کرا دیا جاتا۔ اُس دن سہ پہر کا وقت تھا اور موسم سخت روشنی کا تھا۔ حاجی شمس خاں وہاں موجود نہیں تھا۔ ڈیرے پر بہت سے لوگوں کے موجود ہونے کے باوجود مکمل سکوت طاری تھا۔ گرجی مہر ایک طرف سنجیدگی سے بیٹھا تھا۔ یہ ساڑھے پانچ فٹ قد میں بالکل کمزور سا شخص تھا۔ چھوٹی چھوٹی باریک سی مونچھیں، کاندھے اندر کو دھنسے ہوئے، چہرہ بے رونق لیکن گندمی اور بمشکل پچاس کلو وزن ہو گا۔ الغرض پہلی نظر دیکھنے سے کچھ بھی تا ثر نہیں بنتا تھا۔ حاجی شمس کا گاؤں جلال کوٹ کے نام سے معروف تھا جہاں اُس کی تین ہزار ایکڑ زمین تھی اور گرجی مہر کو اُسی کے ہاں پناہ بھی ملی ہوئی تھی۔ وہیں ساتھ والی چارپائی پر ایک پندرہ سولہ سال کا لڑکا پینٹ شرٹ پہنے، نہایت متفکر اندازمیں لیٹا آسمان کو گھور رہاتھا۔ مجھے خیال گزرا، لڑکا حاجی شمس خاں کا بھانجا یا بھتیجا ہے لیکن جیسا کہ پولیس والوں کی عادت ہے، تھانیدار نے اس پُر اسرار خموشی میں لڑکے کی موجودگی کی کُرید شروع کر دی اور بالآخر بات کھل گئی۔ لڑکا گرجی مہر کا واقف تھا اور لاہور سے لڑکی بھگا کر لایا تھا۔ لڑکے کی شکل انتہائی معصوم تھی۔ نرم رخساروں پرابھی سبزے کی آمد ہوئی تھی جسے دو چار دن پہلے ہی شیو کر کے صاف کیا گیا تھا کیونکہ سُرخ و سفید اور چکنے چہرے پر ہلکی ہلکی لویں دوبارہ نمودار ہو رہی تھیں جو اُس کے حسن کو مزید ابھار رہی تھیں۔ الغرض لڑکا خود بھی نرم و نازک، خوبصورت اور نسوانی حسن کے خدو خال رکھنے والا تھا۔ گرجی مہر سے خدا جانے اُس کا تعلق کیسے ہوا ؟ مجھے اس تمام صورت حال سے خوف سا آنے لگا اور میں لڑکے کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہو گیا لیکن میں نے خود کو قابو میں رکھا اور لڑکے سے توجہ ہٹا لی۔بہر حال دو گھنٹے بیٹھے رہنے کے باوجود حاجی شمس گھر سے باہر نہ آیا اور نوکر کے ہاتھ پیغام بھیج دیا کہ دو دن کے بعد آ جائیں تو معاملہ طے کر لیں گے یا مطلوبہ شخص کو تھانے حاضر کر دیا جائے گا۔ چنانچہ ہم واپس آ گئے لیکن دوسرے ہی دن ہمیں خبر ملی کہ گرجی مہر حاجی شمس کو قتل کر کے فرار ہو چکا ہے۔ واردات کی خبر ملتے ہی ہم پورے تھانے کی پولیس لے کر وہاں پہنچے۔ لاش اور موقع واردات کا ملاحظہ کیا تو معاملہ کھل کر سامنے آ گیا۔ ہوا یہ کہ حاجی شمس نے لڑکی پر قبضہ جما لیا تھا اور اُسے لڑکے کے حوالے کرنے سے ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا۔ حتیٰ کہ اُس نے گرجی مہر کی بھی نہ سنی اور لڑکی سے خود نکاح کرنے کا بندوبست کرنے لگا۔ اس صورت حال کے پیشِ نظر گرجی مہر نے لڑکے کو ساتھ لے کر حملہ کر دیا اور حاجی شمس سمیت تین بندوں کوقتل اور آٹھ لوگوں کو زخمی کرکے اور لڑکی کو لے کر فرار ہو گئے۔ لڑکا موٹر سائیکل چلانے کا ماہرتھا اس لیے کسی کے ہاتھ نہ آ سکے اورخدا جانے کہاں نکل گئے۔ اس واردات کے بعد اگرچہ پولیس نے اُن کو پکڑنے کی کئی مخلصانہ کارروائیاں کیں لیکن وہ ہر دفعہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے اور مزید کارروائیاں کرنے لگے اور کھل کھیلنے لگے۔ رفتہ رفتہ حوصلے اتنے بڑھے کہ بھرے مجمعوں میں اندھا دھند کارروائی کر جاتے۔ ان ڈکیتیوں میں کئی لوگوں کو قتل اور زخمی کیا۔ انہوں نے اپنا اپنا کام اس طرح سنبھالا کہ لڑکے نے موٹر سائیکل چلانے کا فریضہ ادا کرنا شروع کر دیا اور گرجی نے ڈکیتی اور قتل کرنے کا کام۔ اس طرح دو سال گزر گئے اور وہ قابو میں نہ آ سکے۔

 

اُس دن میں پورے ایک مہینے کے بعد گھر جا رہا تھا۔ مَیں چار دن کی چھٹی لے کر سیدھا ریلوے اسٹیش کی طرف چل دیا۔ ان علاقوں میں لوکل ریل چلتی ہے، جو رائیونڈ سے بڑی لائن سے الگ ہو کر قصور، چونیاں، منڈی ہیرا سنگھ، بصیرپور، حویلی لکھا، پاکپتن اور عارف والا سے ہوتی ہوئی وہاڑی اور پھر دوسرے چھوٹے چھوٹے شہروں سے گزر کر دوبارہ بڑی لائن پر چڑھ جاتی ہے۔ میرا گھر راجہ جنگ میں تھا جو رائیونڈ سے قصور جانے والے لائن پر ہے۔ ریل سے جانے کا ایک فائدہ تھا کہ یہاں سے بیٹھتا اور سیدھا گھر کے سامنے اُتر جاتا۔ یہ دن کے دو بجے کا وقت تھا اور ریل بھی آنے میں ایک گھنٹہ باقی تھا مگر میں یہ ایک گھنٹہ تھانے میں رہنے کی بجائے اسٹیشن ہی میں گزارنا چاہتا تھا۔ ابھی میں ریل کی پٹڑی پر چڑھا ہی تھا کہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ کا خوفناک شور برپا ہوا اور ایک ہی دم ہنگامہ سا پھیل گیا۔ شور سن کر میں ایک دم اچھلا اور ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ آواز حاجی صداقت کی آڑھت کی طرف سے آئی تھی جو شہر کے اُس واحد ریلوے پھاٹک کے ساتھ تھی جس کا وجود عین شہر کی مرکزی سڑک پر تھا۔ لوگ ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ اُس وقت بالکل نہتا ہونے کی وجہ سے عملی کارروائی کرنے سے پرہیز کرنا ہی میرے لیے بہتر تھا۔ جب میں آڑھت کے پاس آیا تو دو لاشیں خون میں لت پت پڑی میرا منہ چڑا رہی تھیں۔ اس ڈکیتی میں نامراد نے کھلے بازار میں گولیوں کا ایسے مینہ برسایا کہ راہگیر چوتڑوں کے بل گر گر پڑے۔ کس کا کلیجہ تھا جو پیچھا کرتا۔ بازار کے اگلے ہی موڑ پر لطیف کپڑے والے کے منہ میں کلاشنکوف کی نال ڈال کر پورا تین کلو سیسہ غریب کے پیٹ میں داخل کر دیا اور پیسوں کا غٖلہ بیگ میں اُلٹ لیا۔ لوٹ سے فارغ ہو کر جیسے ہی یہ موٹر سائیکل پر بیٹھا لڑکے نے موٹر سائیکل ایسے اُڑایا، جیسے آنکھوں کے آگے سے چھلاوہ نکل گیا ہو۔ پل کی پل میں دونوں شہر بھر کو تلپٹ کر کے یہ جا وہ جا، ہوا کی طرح اُڑ گئے۔ مَیں یہ سارا معاملہ ریل کی پٹڑی کے دائیں جانب کھڑا دیکھتا رہا۔ یہ چھوٹا سا شہر تھا۔ پولیس کو وہاں پہنچنے میں وقت نہیں لگا۔ پل میں افراتفری مچ گئی اور پورا شہر واقعے کی جگہوں پر سمٹ گیا۔

 

میں چونکہ کافی دنوں بعد گھر جا رہا تھااور اس ڈر سے کہ چھٹی کینسل نہ ہو جائے، فوراً نظریں بچا کر وہاں سے کھسکا اور اسٹیشن پر آ گیا اور جب ریل آئی تو فوراً بھاگ کر چڑھ گیا۔ لیکن میرے گھر پہنچنے سے پہلے ہی واقعے کی اطلاع پہنچ گئی اور ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ آپ کی چھٹی کینسل ہے، فوراً واپس پہنچو۔ مجھے اس حکم پر تکلیف تو بہت ہوئی مگر حکم حاکم۔ دوسرے ہی دن شام چار بجے کی ریل سے واپس ڈیوٹی پر حاضر ہو گیا۔ پولیس اس نئی واردات سے ایسے حرکت میں آئی جیسے تلووں میں آگ لگی ہو۔ دوسری طرف گرجی مہر کے متعلق طرح طرح کی توہمات عوام میں مشہور ہونے لگیں۔ کسی کے مطابق وہ سب کچھ پولیس کی اشیر واد سے کر رہا تھا۔ کوئی اُسے انڈیا کی رینجر کا ایجنٹ قرار دینے لگا جو کارروائی کرنے کے بعد باڈر پار کر جاتا۔ اگرچہ ایسی کوئی بات نہیں تھی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اُس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا اور پولیس کے لیے ایک مستقل درد سر بن گیا۔ چنانچہ ایس ایس پی صاحب نے اعلان کروا دیے کہ مخبر کو دو لاکھ کا انعام ملے گا۔ ایگل فورس کے کئی دستے دو دو کی شکل میں ترتیب دے کر پورے علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی۔ میری ڈیوٹی سب انسپیکڑ حمید سندھو کے ساتھ لگا دی گئی۔ حمید سندھوکو چھ سال پہلے ایلیٹ فورس میں بحیثیت کانسٹیبل شامل کیا گیا تھا۔ اس دوران اُس نے بیسیوں پولیس مقابلوں میں حصہ لیا اور درجنوں جرائم پیشہ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا۔ دو دفعہ خود بھی گولی کا نشانہ بنا لیکن موت سے بچ نکلا۔ چھ فٹ قد اور جسامت کی سختی نے اُس کے اندر طاقت کا ایک احساس پیدا کر دیا تھا جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُس نے صرف چھ ہی سال میں سب انسپیکڑ کا عہدہ حاصل کر لیا۔ سندھو کا تعلق ساہیوال ڈویزن کی ایگل فورس سے تھا لیکن پچھلے دوسال سے اُس کی تعیناتی سرگودھا ڈویزن میں تھی۔ اب جب کہ گرجی مہر نے بصیر پور کے حالات اس قدر خراب کر دیے تو ایس ایس پی اوکاڑہ نے اُسے سرگودھا ضلع سے طلب کر لیا۔ سندھو کی اس روز افزوں ترقی پر نہ صرف مجھے بلکہ تمام سکواڈ کو پرلے درجے کا حسد اور کینہ تھا۔ لیکن ہم اپنی پچھلے دو سال کی ناکامی اور خجالت کو کہاں لے جاتے، جس نے ہمیں شدید طریقے سے نہ کہ عملی طور پر بلکہ ذہنی شکست سے بھی دو چار کیا۔ اس لیے ہم سندھو کی اس عزت افزائی پر سوائے کُڑھنے کے کچھ نہیں کر سکتے تھے اورخدا سے سچے دل سے دعا گو تھے کہ سندھو بھی کسی طرح ناکامی سے دوچار ہو۔ بہر حال ایس ایس پی چیمہ صاحب نے اُس کی تعیناتی بصیر پور میں فوری طور پر کر کے ضروری ہدایات جاری کر دیں اور میری ڈیوٹی اُس کے ساتھ لگا دی۔ عملی کاروائی کے لیے ہمیں جو علاقہ دیا گیا وہ بصیرپور سے لے کر سہاگ نہر، پھر وہاں سے دریا کو پار کر کے چک محمد پورہ سے ہوتے ہوئے باڈر تک چلا جاتا تھا۔ یہاں جنگلوں اور ویرانیوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ جہاں نہ آ سانی سے پولیس کی گاڑی جا سکتی ہے اور نہ دوسرے ذرائع ہی کام کرتے ہیں۔ اس لیے وہ پچھلے دو سال سے انہی علاقوں میں گھوم رہا تھا۔ میرا سابقہ ریکارڈ اس بات کا گواہ تھا کہ میں انتہائی متحمل مزاج اور سوچ سمجھ کر کارروائی کرنے کے ساتھ بہادر آدمی تھا۔ میرا خیال ہے، میرے بارے میں یہ بات اُس وقت بالکل صحیح ہے، جب میں اپنے سے کم درجے کے لوگوں کے ساتھ کام کر رہا ہوں جبکہ سندھو کے ساتھ کام کرنے سے میری حیثیت دب جانے کا پورا امکان تھا کیونکہ مَیں بہر حال اُس جیسا مضبوط اعصاب کا مالک نہیں تھا۔ ایس پی صاحب نے انفارمیشن آلات سے لے کر ہتھیاروں تک کا تمام ضروری سامان ایگل فورس کے دستوں کے حوالے کر کے گرجی کو پکڑنے کے لیے دو ماہ کا وقت مقرر کر دیا۔ بہر حال میں اور سندھو سول کپڑوں میں اپنے علاقے کی چھان بین اور غیر متوقع کارروائی کے لیے کام کرنے لگے۔

 

یہ پورا علاقہ چونکہ بیلے، جنگل، نہریں اور چراگاہوں پر مشتمل ہے، اس لیے یہاں گائیں اور بھینسوں کی اس قدر کثرت ہے۔ لہذا ہم نے بھینسوں کے بیوپاری کا بھیس بدل لیا اور نئی 125 ہنڈا موٹر سائیکل پر جگہ جگہ کھوج مارنی شروع کر دی اور گرجی کے متعلق ہر قسم کی سُن گن لینے لگے۔ لباس کے لحاظ سے ہم مکمل دیہاتی اور بیوپاری نظر آتے تھے۔ مَیلے صافے، لنگی اور کُرتے پہنے، شیویں بڑھی ہوئی، ہاتھوں میں ڈنگوریاں پکڑی اور پاؤں میں مقامی موچی کے ہاتھوں تیار چمڑے کے جوتے۔ یوں پورا ڈیڑھ مہینہ ہم نے اس کام میں صرف کیا۔ اس دوران آٹھ بھینسیں بھی خرید کر آگے بیچ دیں۔ اس کام میں ہمیں واقعی اتنا منافع بھی ہو گیا کہ ایک دفعہ سندھونے مجھ سے مذاق میں کہا،کیوں نہ نوکری چھوڑ کر یہی کام کر لیں۔ سچ یہ ہے کہ اس ڈیڑھ مہینے میں ہمارا منافع چار تنخواہوں کے برابر نکل آیا۔

 

بہر حال وقت سمٹتا گیا اور ہم غیر محسوس طریقے سے اُن کے نزدیک ہوتے گئے۔ ہمارے پاس جو نقشہ تھا اُس کو سامنے رکھتے ہوئے یہ علاقہ امیرا تیجے کا سے آگے نہر کی جھال کو عبور کر کے دریا کے ساتھ ساتھ جنگلوں کا تھا جہاں نہ تو پو لیس کی گاڑی جا سکتی تھی اور نہ آدم نہ آدم زاد۔ یہ تمام جگہ پانچ کلو میٹر مربع میں مکمل غیر آباد اور بارڈر تک چلی گئی ہے۔ ہم نے تین چار جگہ یہاں اپنے مورچے بنا لیے اور مسلسل رات چھپتے رہے۔ چھوٹی گنیں، پسٹل اور خنجروں کے علاوہ لوہے کی نوکیلی اور بھاری سلاخیں بھی ہمارے پاس تھیں۔ ہمیں پتا چلا، گرجی کسی بھی جگہ دو راتیں مسلسل نہیں گزارتا۔ متواتر ٹھکانا تبدیل کرتا ہے لیکن مطلوبہ علاقے میں کسی بھی جگہ مہینے میں ایک آدھ رات ضرور ٹھہرتا ہے۔ اس لیے ہم نے اسی خطے کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا لیکن ہمارا اُس کا سامنا نہ ہو سکا۔ بات یہ تھی کہ وہ واردات کر نے کے بعد کم از کم دو تین مہینے روپوش ہو جاتا اور بالکل سامنے نہ آتا۔ لیکن ایک بات جو ہمارے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوئی، وہ یہ کہ اُسے ریڈیو پر بی بی سی کی خبریں سننے کا بہت شوق تھا اور لوگوں نے اُسے یہ کہتے سُنا، انشاء اللہ میرے قتل کی خبر بی بی سی پر چلے گی۔ لہذا ہم نے ایس ایس پی صاحب سے ریڈیو ریڈار سسٹم حاصل کر لیا اور ارد گرد کے پانچ کلو میٹر میں بی بی سی کی خبروں کے وقت ریڈیو کی لہریں کیچ کرنے لگے جس سے ہمیں اُس کی سمت اور فاصلے کا بھی پتا چلنے لگا۔ اس میں ہمارے ایک مخبر کا بہت زیادہ عمل دخل تھا جسے ہم نے زبردستی مخبر بنا لیا کیونکہ پچھلے دو مہینے کی محنت کے بعد اس بات کا پکا یقین ہو گیا کہ یہ شخص گرجی کا مخبر ہے اور اُسے علاقے کی صورت حال کے بارے میں مطلع کرتا ہے۔ جب زمین صاف دیکھتا ہے تو نئی کاروائی کا سگنل دے دیتا ہے۔ اس سلسلے میں بصیر پور کا ایک پی سی او والا بھی ملوث تھا جہاں سے یہ شخص گرجی کو فون کرتا۔ ہم نے یہ سارا کام نہایت خفیہ رکھا حتیٰ کہ اپنے تھانے اور ایس ایس پی تک کو بھی بتانا مناسب نہ سمجھا۔ ہم نے ان دونوں کو اغوا کر لیا اور اگلی کارروائی شروع کر دی۔ اس معاملے میں اگرچہ میں ساتھ تھا لیکن مجھے اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ یہاں تک پہنچنے میں صرف اور صرف حمید سندھو کے دماغ کو دخل تھا لیکن اُس نے ہر قدم پر مجھے یہ باور کرایا کہ سب کچھ میری وجہ سے ٹھیک ہو رہا ہے اور میں اس کیس میں بہت اہم ثابت ہو رہا ہوں۔ میں تسلیم کرتا ہوں، یہ چیز اُس وقت میری ذات کو اور بھی پست کر رہی تھی اور میں لا شعوری طور پر اُس سے اتنا مرعوب ہو گیا کہ اُس کے کسی بھی حکم کی نافرمانی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ان دو مہینوں میں حمید سندھو نے میری ذات کو گویا ہپناٹائز کر دیا۔

 

یہ سردیوں کی ایک ٹھنڈی دوپہر تھی۔ دھند اتنی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ ہم نے موٹر سائیکل چک لکھا کے قبرستان ہی میں رکھ دی کہ اُس کی آواز قرب و جوار میں دور تک جاتی۔ سراج دین عرف سراجے نے ہمیں بتایا، گرجی صبح چار بجے شاہد کے ساتھ دُلے کی بھینی پر پہنچا ہے۔ وہ ساری رات سفر میں رہا ہے اس لیے ابھی تک سویا ہو ا ہے۔ اگر ہم پیدل نہر کے ساتھ ساتھ جائیں تو ہمیں مشکل سے وہاں پہنچنے میں بیس منٹ لگیں گے۔ چنانچہ ٹھیک دو بجے ہم گرجی کے سر پر پہنچ گئے۔ وہ عک کے پودوں کے درمیان ایک پُرانی کوٹھڑی میں تھا جسے کسی زمانے میں کھوئے کی بھٹھیاں چلانے والوں نے بنایا تھا لیکن چار پانچ سال پہلے جو سیلاب آیا اُس میں یہ جگہ دریا کی لپیٹ میں آنے سے بے آباد ہو گئی، تب سے کسی نے اس پر توجہ نہ دی۔ بھٹھیاں تو بالکل ختم ہو گئیں لیکن یہ بے آباد کوٹھڑی پکی اینٹوں اور بلند جگہ پر ہونے کی وجہ سے بچ گئی تھی۔ اس کے ارد گرد کیکروں کے بے شمار درخت بھی تھے۔ کوٹھڑی کا دروازہ اندر سے بند ہونے کی وجہ سے ہم اُنہیں دیکھ تو نہ سکے البتہ اُن کے موٹر سائیکل کے ٹائروں کے نشان واضع دکھائی دے رہے تھے۔ اس کے علاوہ سانس لینے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔ جب ہمیں ہر طرح سے یقین ہو گیا کہ وہ دونوں موٹر سائیکل سمیت اندر ہیں تو ہم ایکشن کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اب ہمارے سامنے دو ہی راستے تھے کہ باہر رُک کر اُن کا انتظار کیا جائے یا فوری حملہ کر دیا جائے۔ میری صلاح یہ تھی کہ پولیس کو اطلاع کر کے بلوا لیا جائے مگر سندھو نے اس بات کو سختی سے رد کر دیا اور فوری حملے کا پلان بنانے لگا۔ وہ موقعے کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگرچہ گرجی کا اس موسم سے فائدہ اُٹھا کر بھاگ نکلنے کا بہت اندیشہ تھا۔ دروازہ بہت حد تک بوسیدہ تھا اس لیے فیصلہ ہوا کہ زور کا دھکا دے کر اُسے گرا دیا جائے۔ سراجے کو ہم نے احتیاطاً ایک کیکر کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا تاکہ وقت پر دھوکا نہ دے سکے اور چار قدم پیچھے ہٹ کر پوری طاقت سے اپنے آپ کو دروازے سے ٹکرا دیا۔ دروازہ ایک دھماکے سے اپنے تختوں سمیت اندر جا گرا۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے فائر کھول دیے۔ گولیاں اتنی تیزی اور شدت سے چلائیں کہ گرجی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا البتہ دونوں کی چیخیں ایک دو منٹ ضرور بلند ہوئیں۔ بھرپور فائرنگ کے بعد ہم نے دس منٹ تک انتظار کیا۔ جب کوئی حیل حجت نہ ہوئی تو حمید سندھو ٹارچ جلا کر کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ کمرے کا نقشہ ایک دم تلپٹ ہو چکا تھا۔ گرجی مہر چارپائی پر خون میں لت پت تھا جبکہ دوسری لاش دکھائی نہیں دی لیکن جیسے ہی دائیں طرف کے کونے میں لائٹ کی گئی تو ہمیں مٹی کی بنی ہوئی کُھرلی نظر آئی جو چھ فُٹ تک لمبی اور دو فٹ اونچی دیوار کے ساتھ بنی ہوئی تھی۔ وہاں شاہد خموشی سے زخمی حالت میں سُکڑا ہوا لیٹا تھا۔وہ اس قدر سہما اور ڈراتھا کہ مجھے اُس سے ایک دفعہ وحشت سی ہوئی۔ گولی اُس کے بائیں کاندھے پر لگی تھی جس سے خون رس رس کر کھرلی کی تہہ سے چپک رہا تھا۔ شاہد پر حمید کی نظر پڑی تو وہ ایک دم حیران رہا گیا۔ اس قدر خوبصورت لڑکا آج تک نظر سے نہیں گزرا تھا۔ اگرچہ وہ تکلیف سے کراہ رہا تھا اور چہرہ مسلسل سفید ہو رہا تھا لیکن اُس کی یہ حالت بھی اُس کی خوبصورتی میں کمی نہیں کر رہی تھی۔ سندھو کچھ لمحے اُسے دیکھتا رہا۔ پھر مَیں نے دیکھا، اچانک اُس کی آنکھوں میں ہوس تیرنے لگی۔ میں نے سندھوکی آنکھوں کی بدلتی کیفیت کو دیکھتے ہوئے فوراً کہا، سر اسے جلد یہاں سے اُٹھا کر ہاسپٹل پہنچانا چاہیے ورنہ لڑکا مر جائے گا لیکن اُس نے میری آواز کو گویا سُنا ہی نہیں اور مسلسل لڑکے کو جنسی بھیڑیے کی طرح گھورتا رہا۔ مجھے اس پورے منظر نامے سے ڈر لگنے لگا اور چاہتا تھا، کسی طرح سے لڑکے کو جلد یہاں سے نکال کر لے جاؤں۔ چند لمحوں کی شش و پنج کے بعد میں اُسے اُٹھانے کے لیے آگے بڑھا تو سندھو نے مجھے خوفناک طریقے سے دیکھا۔ مجھے محسوس ہوا، اگر میں نے ذرا بھی زحمت کی تو یہ مجھے فائر مار دے گا۔ بالکل اُسی لمحے اُس نے مجھے دھکا دے کر کوٹھڑی سے باہر کر دیا اور تھوڑی دیر بعد لڑکے کی کراہوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ مَیں وہاں سے کھسک کر سراجے کے پاس آگیا تاکہ آواز میرے کانوں میں نہ پڑے اور گومگو کی اس حالت میں رہا کہ واقعے کے انجام تک پہنچنے کی خبر کے ساتھ لڑکے کی بابت پولیس کو مطلع کر دوں لیکن اُس وقت بزدلی نے مجھ پر ایسا شدید غلبہ کیاکہ مَیں کچھ بھی نہ کر سکا اور خاموشی سے بیٹھ گیا لیکن کمرے سے لڑکے کی آواز مزید بلند ہوتی گئی جس میں قیامت کا کرب تھاگویا کانوں کے پردے پھاڑ کر دل میں ضربیں لگا رہی ہو۔ اس حالت میں مَیں دماغ میں طرح طرح کے منصوبے بنا کر رد کرنے لگا۔ حتیٰ کہ اس عمل کو بیس منٹ سے زیادہ ہو گئے۔ یہ حالت میرے لیے نحوست کو بڑھا دینے والی تھی اور کراہت پیدا کر دینے کے ساتھ ایک ایک لمحہ صدیوں پر بھاری ہوتا جا رہا تھا۔ غصے اور کراہت نے مجھ پر ایسا اُکتا دینے والا جذبہ پیدا کیا، مجھے محسوس ہوا کہ میں ابھی مر جاؤں گا۔ جس سے بچنے کے لیے میں نے نہایت غیر اضطراری طور پر اپنی رائفل کی نال کیکر سے بندھے سراجے کی طرف کر کے فائر کھول دیا۔ اگرچہ وہ پل بھر میں ڈھیر ہو گیا لیکن میں نے بار بار اپنی میگزین گولیوں سے بھر کر اُس پر خالی کی۔ گویا میں اپنی فطری بُزدلی کا حساب چکا رہا تھا۔ اس عمل کے کچھ ہی دیر بعد جس میں مجھے لڑکے کی کراہیں سننی بند ہو گئیں، حمید سندھو باہر آیا تو میں بھاگ کر کوٹھڑی میں داخل ہو گیا۔ لڑکے کا جسم بالکل برہنہ اور قریباً زرد ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ ننگے جسم پر بے شمار نیل پڑ گئے۔ نبض کی رفتار تیزی سے سست ہو رہی تھی۔ مَیں نے جلدی سے اُس کا پاجامہ اوپر کر کے اُسے کاندھوں پر اُٹھا لیا لیکن اب سب کچھ فضول تھا۔ جسم سے خون اتنا بہہ چکا تھا کہ اُس کے بچنے کی امید صفر تھی۔ شاید اس بات کو حمید سندھو نے بھی محسوس کر لیاتھا اس لیے اب اُس نے مجھ سے مزاحمت کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
پولیس آئی تو ہر طرف سکون ہو چکا تھا۔ پولیس نے تینوں کی لاشیں وین میں رکھیں اور چل دی۔

 

میرے کان پولیس کے ترانوں سے گونجتے رہے اور میں آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتا ہوا اسٹیج کی طرف بڑھتا گیا۔ حتیٰ کہ دو تین قدم چلنے کے بعد میری حالت میں اعتدال آ گیا۔ بالآخر مَیں نے بھی اپنا میڈل ترانوں اور نعروں کے شور میں وصول کر لیا۔
Categories
فکشن

چیخوف کی گلی میں

ٹوٹے بان والی چارپائی پہ لیٹا اسلم نائی مسلسل چھت کو گھورے جا رہا تھا۔ کسٹرڈ جیسے سبز روغن سے رنگی دیواریں اس بات کا ثبوت تھیں کہ جس کمرہ میں وہ لیٹا تھا وہ محض پرانا ہی نہیں تھا بلکہ اس کی آرائش کیے ہوئے بھی عرصہ بیت چکا تھا۔ بڑے بوڑھوں کے بقول یہ اسی زمانے کی بات ہے جب گاؤں میں پہلی بار لوگوں نے سفید چینی کے بارے میں سنا تھا اور پھر اس کا کوٹہ منظور ہوا جو گاؤں کے سب سے معتبر اور سمجھدار سمجھے جانیوالے شخص کو ملا۔ اسی زمانے میں بی ڈی ممبر کے بیٹے کی شادی پرگاؤں میں بجلی کی تاریں بچھیں اور کھمبے لگائے گئے اور پہلی بار مکانوں کو رنگ کیا گیا۔ شروع شروع میں روغن کرانے والوں کے متعلق لطیفے بھی کسے گئے۔ جیسے لوگ اب مکانوں میں نہیں بلکہ متنجن چاولوں میں رہا کریں گے۔ پھر دیکھے ہی دیکھتے ابلے ہوئے چاولوں کی طرح بے رنگ مکانوں کے متنجن بنتے گئے۔

 

اسی کسٹرڈ نما رنگ کے کمرے میں لیٹے ہوئے آج وہ مسلسل ماضی کو یاد کیے جا رہا تھا۔ گلی کے کنارے پر واقع ہونے کے باعث لوگوں کی آوازوں کا شور اسے بار بار حال میں کھینچ لاتا۔ لیکن ہر مرتبہ وہ سر کو جھٹک کر خود کو دوبارہ پیچھے دھکیلنے میں مصروف ہو جاتا۔ شور سے اس کے ذہن میں آندھی سی چلنے لگ جاتی مگر بستر میں دبکے ہونے کی بدولت اسے انجانے سے تحفظ کا احساس بھی تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ ان لوگوں سے اچھی تو یہ ٹوٹے روشندان والی دیواریں ہیں جنہوں نے لاکھ نظر انداز کئے جانے کے باوجود اسے پناہ دی ہوئی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ آج کی رسوائی کے بعد اگر یہ دیواریں بھی اپنی بے اعتنائی کا ہرجانہ طلب کرنے لگیں تو وہ کہاں پناہ ڈھونڈے گا۔ انہی سوچوں میں اسے گھر والوں کا خیال آیا جنہیں وہ کبھی اپنے قصے سنایا کرتا تھا کہ کیسے جب اس نے نوجوانی میں پہلی مرتبہ نے میلاد پر دیگ پکائی تو چاول یوں ختم ہو گئے کہ گویا کبھی پکے ہی نہ تھے۔ حالانکہ پہلے چاول پکوانے والے گھروں کو بھی لے جاتے اور ٹِپ کا بھی حصہ رکھا جاتا جہاں مولوی صاحب اور باہر سے آنے والے مہمان قیام کرتے تھے۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ آس پاس کے دیہات میں بھی اس کے ذائقے اور ہنر کے چرچے ہونے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اردگرد کے تمام نائیوں کا روزگار ٹھپ ہونے لگا سوائے موسیٰ نائی کے جس نے مندی کے ان دنوں میں بھی اپنی پہچان قائم کیے رکھی۔

 

اس پذیرائی کے باوجود اس نے کبھی نخرے نہیں کیے اور نہ کسی کو وقت دے کر عین موقع پہ اسے جواب دے دیا۔ تمام تر مصروفیت کے باوجود اس نے کبھی چودھری یا کمی میں تمیز نہیں کی۔ تعریف سن کر بھی اس نے ہمیشہ عاجزی کا اظہار کیا۔ وہ اپنی تعریف سن کر ہمیشہ یہی کہتا کہ یہ سب قدرت کا نظام ہے۔ نظامِ قدرت ہر کسی کو زندگی میں ایک موقع ضرور دیتا ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ لوگ ہمیشہ یہ سمجھنے میں سستی کر جاتے ہیں کہ شاید یہ وہ موقع نہیں جو ان کی قسمت بدل دے گا۔ اس روز اگر میں بھی یہ موقع گنوا دیتا یہ سمجھ کر کہ لنگر اچھا یا برا نہیں ہوتا اس کا کھایا جانا ہی کافی ہے تب کیا ہو جاتا۔ کیا لوگ گھر میں کھانا نہیں کھاتے؟ لوگ کھاتے، پکاتے اور بانٹتے رہتے۔ بھوک کا لگنا ایک فطری عمل ہے، میں نے لوگوں کی قدر کی، ان کی بھوک کی قدر کی اور انہوں نے اس کو میری ایمانداری جانا۔ بات تو فقط اتنی سی ہے۔

 

مگر جو آج اس کے ساتھ ہوا تھا اس نے ماضی کا آئینہ کرچی کرچی کر دیا تھا۔ ہاں اس سے غلطی ہوئی تھی مگر کیا یہ سزا کم نہیں تھی کہ کھانے کے وقت سب کو یہ کہہ دیا جاتا کہ اسلم اب بوڑھا ہو چکا ہے، اس کی نظر کمزور اور حواس باختہ ہو چکے ہیں۔ باقی لوگ بھی تو یہی غلطی کر جاتے ہیں جیسے الیکشن کے دنوں میں میرو نے دو دیگیں خراب کر دیں لیکن اگلے دن پھر اسی کو بلا لیا گیا کہ پہلی غلطی تو خدا بھی معاف کر دیتا ہے۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر اس کی جگہ میرو یہ دیگیں خراب کر دیتا تو کیا تب بھی وہ اُس کو بلاتے۔

 

پریشانی کے عالم میں وہ گھر سے اٹھا اور گاؤں سے باہر ایک ڈیرے میں چلا گیا تاکہ ان لوگوں اور دیواروں سے آزاد ہو کر کچھ دیر مراقبہ کر لے۔ یہاں کے درخت اور در و دیوار اس کے ساتھ رونما ہونے والے واقعہ سے بے خبر اپنی اپنی دھن میں مست چاندنی میں نہا رہے تھے۔ وہ اس وقت کو کوسنے لگا جب اس نے اپنے لئے دیگیں پکانے کا پیشہ اختیار کیا۔ پانچ جماعتیں پڑھ لینے کے بعد وہ بیلدار بھرتی ہو جاتا لیکن وائے قسمت کہ وہ اس کام میں کود گیا۔ شروع شروع میں اسے اس کام میں مزہ آتا تھا جب دیگیں پکانے کے دوران وہ مالکوں سے مختلف چیزوں کی فرمائش کرتا۔ اس کی فرمائشوں میں سستے میسی سگریٹوں کی ڈبی اور چائے یا سوڈا ضرور شامل ہوتا۔ وقت گزاری کے لئے باتیں کرتا رہتا، اس کی باتیں بھی پکوائی کے گرد ہی گھومتی تھیں۔ کبھی بتاتا کہ لیموں چاولوں کو کھٹا کر دیتے ہیں اور کبھی کہتا کہ مسالہ جس قدر تیکھا ہوگا کھانا اس قدر کم کھایا جائے گا۔

 

مگر اس دوران آگ کے قریب کھڑے رہنے کے سبب اس کی ٹانگوں کا اوپر والا حصہ جلنا شروع ہو گیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں جلن شروع ہو گئی اور یہی سوچتے سوچتے جگراتے بڑھنے لگے۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ آگ سے دور بھاگنے لگا۔ کھڑے کھڑے اسے محسوس ہوتا کہ اس کی ٹانگوں اور ناف کے نچلے حصے میں فشار خون بند ہو چکا ہے اور اندر موجود خون لاوے کی مانند پھٹ کر باہر نکلنے کو ہے۔ پھر اس کا دھیان کل شام کی طرف مڑ گیا جب اسے پیغام ملا کہ اشتیاق جٹ کے گھر میلاد ہے جس کا کھانا وہ پکائے گا۔ وہ انکار کرنے والا تھا کہ اچانک اسے بیوی کا خیال آیا جسے پچھلے چار سال سے یرقان تھا۔ اس نے دوائی لینے کے خیال سے ہاں کر دی اور اگلے دن دیگ پکانے پہنچ گیا۔ مگر قسمت کی بتی گل ہونے کا احساس اسے دیگ پک جانے کے بعد ہوا۔ وہ جسے اپنے ساتھ مدد کے لیے لایا تھا اس نے نمکین سمجھ کر بارہ کلو چاول تولے تھے جبکہ اسلم نے آٹھ کلو کے حساب سے پانی ڈال دیا اور بعد میں جب چاول پک کر تیار ہوئے تو وہ اتنے خشک تھے کہ ٹھنڈا ہونے پر جیبوں میں بھر کے بھی کھائے جا سکتے تھے۔ اس غلطی کے بعد اس کا کورٹ مارشل کر دیا گیا۔ اشتیاق جٹ نے مزدوری دینے سے انکار کرتے ہوئے دیگ اسے تھما دی اور تقاضا کیا کہ دیگ پہ آیا ہوا سارا خرچ واپس کیا جائے۔ اپنی معتدل طبعیت کے باعث وہ بغیر کوئی احتجاج کیے کڑچھے اٹھائے گھر روانہ ہو گیا۔ جب شام کو اشتیاق جٹ کا لڑکا پیسے لینے آیا تو اسے احساس ہوا کہ فطرت نے ماضی کا دیا ہوا لمحہ واپس لے لیا ہے۔

 

یہ خیال آتے ہی اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں کہ اچانک کسی نے نرمی سے اس کا کندھا دبایا۔ یہ جلیل تھا۔ اقبال موچی کا لڑکا جو کبھی ویگن ڈرائیور ہوا کرتا تھا۔ ایک دن طالبعلموں کے ساتھ جھگڑے کے نتیجے میں اس نے گاڑی بھگائی تو گاڑی بے قابو ہو جانے کے باعث ایک طالبعلم کچلا گیا۔ کچھ عرصہ اس نے جیل میں بھی گزارا لیکن پھر رہا کر دیا گیا اور اس کے بعد ڈرائیوری سے تائب ہو کر فیکٹری میں کام کرنے لگا۔ ان دنوں وہ چھٹی پہ گھر آیا ہوا تھا۔ وہ جب بھی گاؤں آتا اسلم سے ہی بال کٹواتا۔ آج جب اس نے اس بارے سنا تو پتہ کرنے چلا آیا۔ اسے گھر نہ پا کر وہ بھی یہیں ڈیرے پر آگیا کہ گھر سے باہر یہ واحد جگہ تھی جہاں وہ آجایا کرتا تھا۔ جلیل نے اسے تسلی دی اور کچھ دیر بعد اپنے بارے میں اسے بتانے لگا کہ کس طرح وہ بھی ایک انجانے جرم کی سزا کاٹ چکا تھا۔ اس دن اگر وہ طالبعلموں کے ہاتھ لگ جاتا تو شاید ہڈیاں تڑوا بیٹھتا اور اسی ڈر سے اس نے گاڑی بھگائی۔ باتیں ختم ہو جانے اور کڑھنے کے بعد جب کچھ نہ بچا تو دونوں اٹھے اور گھروں کو روانہ ہو گئے۔

 

اسی رات اسلم نے فیصلہ کیا کہ جلیل کی طرح وہ بھی کچھ اور کرنے لگ جائے گا یا اس کا میٹرک پاس بیٹا بیلدار تو بن ہی سکتا ہے۔

 

دور کہیں فطرت اس بات پہ مسکرا رہی تھی کہ خود کو آزاد کہنے والا انسان کیا آزاد ہے؟
فطرت کا غلام۔ فطرت کے قانون کا غلام۔ لاچار انسان۔
Categories
فکشن

ایک بوتل سیون اپ

مارچ کے آخری دن چل رہے تھے.ایسے دن جب گرمی اور سردی میں رسہ کشی چل رہی ہوتی ہے۔صبح اگر رسی کا پلڑا سورج کے ہاتھ کھنچ جاتا ہے تو اندھیرے کی قوتیں شام ہوتے ہی چاند کی مدد کو پہنچ جاتی ہیں۔کسان فصل کی کٹائی سے فارغ ہو کر اگلی فصل کی بوائی کا انتظار کر رہا ہوتا ہے تو بھینس بھی دودھ زیادہ دینے لگتی ہے۔ ایسی ہی ایک رات کو شاہد کے موبائل کی گھنٹی اچانک بج اٹھی، جسے اس نے کاٹ دیا۔ دوسری طرف اس کا بڑا بھائی تھا جو مسلسل فون پہ فون کیے جا رہا تھا، تنگ آکر اس نے فون اٹھا لیا۔ “بےغیرت انسان فون کیوں نئیں سی چکدا پیا” (بے غیرت انسان فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے)

 

فون اٹھاتے ہی چند عدد گالیوں میں ملبوس یہ الفاظ اس کے پردہ سماعت سے ٹکرائے۔

 

“بھائی موبائل چارجنگ پہ لگا تھا”۔

 

شاہد نے کسی لمحہ کا انتظار کئے بغیر جھوٹ بولا۔

 

“اچھا ایک بات سنو، بستر لے کر ڈیرے پر پہنچو ایک مہمان آرہا ہے، اور کھانا رہنے دینا کھانا میں اسے راستے میں کھلا دوں گا”

 

ڈاکٹر شعیب نے تحکمانہ لہجہ میں کہا۔ ڈاکٹر شعیب کو کچھ عرصہ قبل بطور ایک ویٹرنری ڈاکٹر مظفرگڑھ میں تعینات کر دیا گیا تھا۔ کسی سیکرٹری کے ساتھ تلخی کی پاداش میں وسطی سے جنوبی پنجاب کے دوردراز علاقہ میں بھیج دیا گیا تھا۔ ایک سادہ اور ایماندار شخص جو رشوت لینے سے اتنا ہی خوفزدہ تھا جتنا کوئی نیا سگریٹ نوش نوجوان محلے کی دوکان سے سگریٹ لیتے وقت ہوتا ہے۔ اپنی سادگی کی وجہ سے اکثر تضحیک کا نشانہ ٹھہرتا تھا۔ اس کے آباؤ اجداد جن کو لوگ آج بھی اس وجہ سے یاد کرتے ہیں کہ جب پورے گاؤں میں گوشت ختم ہو جاتا تھا تب صرف انہی سے ملتا تھا۔ آباؤ اجداد کی اسی سخاوت نے ایک طرف تو مہمان نوازی ان کی سرشت میں ڈال دی تھی مگر اگلی نسل کے لئے کچھ چھوڑا نہیں تھا اور ان کے پاس سنانے کو اگلوں کے قصے ہی بچے تھے۔

 

مہمان اور ڈیرہ کا نام سنتے ہی شاہد حیرت اور پریشانی کے عالم میں ڈوب گیا۔ یہ پریشانی اسی بات کا تسلسل تھی کہ گنجا نہائے گا کیا اور نچوڑے گا کیا۔ پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ کسی مہمان کو ڈیرہ پر ٹھہرایا جانا تھا۔
اس نے کلیم اور بلال کو فون کر کے بلا لیا۔ دونوں یونیورسٹی کے طالب علم تھے اور سارا دن ادھر سے ادھر آوارہ پھرا کرتے تھے۔ دونوں گاؤں سے باہر ہی کہیں بیٹھے ہوئے تھے۔

 

کلیم نفسیات کا طالبعلم,سگمنڈ فرائیڈ کا پرجوش قاری، جس نے گرتے ہوئے بالوں کی پریشانی سے نجات حاصل کرنے کیلئے وجاہت سعید کا روپ دھار لیا تھا نے بلال کو ساتھ لیا جس کے والد نے اپنا علاقہ چھوڑ کر سوات سے الیکشن لڑا اور فقط اس دوست کے جس کے پاس وہ سوات میں قیام کرتا تھا دوسرا ووٹ حاصل نہ کر سکا اور دوبارہ سوات نہ جانے کی قسم کھا لی تھی شاہد کی طرف روانہ ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد تینوں دوست ڈیرے پہ بیٹھے مہمان کا انتظار کر رہے تھے۔ ڈیرہ کیا تھا ٹوٹی پھوٹی اینٹوں کو جوڑ کر ایک چار دیواری بنا دی گئی تھی جس میں ایک لوہے نصب تھا۔.ندر چند کمزور بھینسیں بندھی ہوئی تھیں جو سڑک پہ چلتی تو لگتا کہ کپڑے سوکھنے ڈالے ہوئے ہیں۔

 

اتنی دیر میں قریب آتی ہوئی ایک ایکس ایل آئی کی ہیڈ لائٹس نے ان کی توجہ اپنی طرف موڑ دی۔ ڈرائیور گاؤں کا ہی ایک شخص تھا جو سرگودھا گیا ہوا تھا اور اس کے ساتھ مہمان کو بٹھا دیا گیا تھا کہ اسے ٹاہلی والا اتار دینا۔
“اپنے بندے کو اتار لیں جناب، چیک کر لیں کہ ٹھیک ہی ہے بعد میں اعتراض نہ کیجیے گا”۔
اسلم ڈرائیور نے ہنستے ہوئے کہا۔

 

درایں اثنا مہمان باہر نکلا۔ میلے کچیلے کپڑے، پھٹے پرانے جوتے اور سر پر سرمئی عمامہ پہنے جو کبھی سفید رہا ہو گا، جب اس سے آگے بڑھ کر ملنے کی کوشش کی گئی تو اس نے کمال بے نیازی سے تمام اخلاقی اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے سلام کا جواب دئیے بغیر اپنے بستر کا پوچھا اور جاتے ہی پاؤں پسار کر بیٹھ گیا۔
کسی انجانی بات سے خفگی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔ ایسی خفگی جو تب طاری ہوتی ہے جب انسان کو اپنے خواب ٹوٹتے محسوس ہوتے ہیں۔

 

ڈاکٹر شعیب کی تمام باتیں، اس کا ڈیرہ ریت کا محل اور فصلیں سبز باغ کی شکل میں اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہی تھیں۔

 

اس نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے بوسیدہ سے شاپر میں ملبوس اخبار نکالا اور اس کے اندر لپٹی ہوئی دو عدد روٹیاں اور سالن نکالا۔ سالن اتنا کم تھا کہ اس سے آدھی روٹی بھی نہیں کھائی جا سکتی تھی۔ ایک دو نوالے لینے کے بعد اس نے ایک آہ بھری اور کھانا ایک طرف رکھ کے لیٹ گیا۔

 

کھانا کھائیے نا، بلال نے استفسار کیا۔

 

راستے میں ڈاکٹر نے پتہ نہیں کتنے دن پرانا دودھ کا ملک شیک بنا کے پلا دیا ہے، پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔
غرض اس سے جو بھی پوچھا گیا اس نے نہایت بد تہذیبی و لا پرواہی سے جواب دیا، جیسے اپنا کتھارسس کر رہا ہو۔
میں اپنی جیب سے پیسے بھر کر اس کو اس کے گاؤں پہنچاؤں گا۔ شاہد نے کہا اور داد بھری نظروں سے باقیوں کو دیکھا کہ جیسے اس کو اس کے گھر پہنچانا کوئی مورچہ فتح کرنے کے مترادف تھا۔

 

نصیر بطور مزارع یہاں آیا تھا پہلی دفعہ گھر سے باہر نکلا تھا,یہ سوچ کر کہ ڈاکٹر شعیب کوئی چوہدری ہو گا، اس کا عالی شان ڈیرہ ہو گا جس میں وہ نوابوں کی طرح رہے گا۔ یہ صورتحال اس کے اوسان خطا کر رہی تھی کہ اگر سب ویسا ہی ہوا جیسا پہلے دن ہوا ہے تو یہ تو ماضی سے بھی بدتر ہے۔ اس نے بہت برے دن گزارے تھے اچھے دنوں کی آس نے اسے گھر چھوڑنے پہ مجبور کیا تھا۔

 

میں گاؤں سے کچھ لے کر آتا ہوں۔ شاہد نے کہا اور جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔

 

جے پیسے نئیں نے تے ایہہ میرے کولوں لے لو” (اگر پیسے نہیں ہیں تو مجھ سے لے لیں) نصیر نے جیب سے پیسے نکالتے ہوئے کہا۔”

 

مہمان نوازی کے شاندار ماضی کے وارثوں کے لیے یہ باعث شرم صورتحال تھی کہ ان کا مزارع انہیں ہی پیسوں کا طعنہ دے رہا تھا۔ نصیر نے ایسا اس انداز سے کہا جیسے کوئی فاتح کسی مفتوح کی جان بخشی کر رہا ہو۔
شاہد نے جواب دینا مناسب نہ سمجھا اور چل دیا۔

 

واپسی پر اس کے ہاتھ میں بسکٹ، سگریٹ اور سوڈے کی ایک بوتل تھی۔

 

بوتل دیکھتے ہی نصیر کی آنکھیں چمک اٹھیں، ایسے جیسے قارون کا خزانہ ہاتھ آگیا ہو۔

 

شاہد نے گلاس پکڑا جسے اسی سوڈے سے دھویا گیا تھا، اس کے اندر بوتل ڈالی اور اسے نصیر کو تھما دیا۔
گھونٹ بھرتے ہی نصیر نے جیب سے موبائل نکالا اس پہ مجرا چلایا اور آواز بلند کر دی۔ جھومتے ہوئے اس کے منہ سے یہ الفاظ نکل رہے تھے:

 

“اجے تساں میرے رنگ ای نئیں ویکھے”
(ابھی اپ نے میرے رنگ ڈھنگ نہیں دیکھے)۔
Categories
فکشن

مینوپاز

آج وہ بہت خوش تھی۔ ڈاکٹر نے بالآخر وہ خوش خبری سنا دی تھی جس کا اسے ایک طویل عرصے سے انتظار تھا۔ اس کے تو گویا پیر زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ درد بھری اذیت ناک، بے خواب راتیں اس کے دروازے سے رخصت جو ہو گئی تھیں اور دائمی خوشیاں اور سکون اس کے در پر دستک دے رہا تھا۔ اف ! ڈاکٹر کے الفاظ نے تو جیسے مدت کے سوکھے پیاسے دھانوں پر ٹھنڈے میٹھے پانی کے چھینٹے مار کر ان کو تازہ دم کر دیا تھا۔
بہت دنوں سے اپنی جسمانی اور جذباتی کیفیت میں تبدیلیاں محسوس کر رہی تھی۔ وقت بے وقت متلی اور ابکائی کی سی کیفیت، بھاری پن، بوجھل ذہن، کسل مندی، کسی کام میں دل نہ لگنا اور عجیب سی بےچینی جسے وہ کوئی نام نہ دے پا رہی تھی۔ کبھی پورے جسم میں گرمی کی سی لہر دوڑ جاتی،اور دل کی دھڑکنیں قابو سے باہر ہوجاتیں، راتوں کی نیندیں تو مدت سے ہی روٹھی ہوئی تھیں لیکن اب ان کے تسلسل میں اضافہ در آیا تھا۔ بے وجہ آنسو بہانے کی خواہش ہوتی۔ وزن بھی کچھ بڑھا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ اب جو اس نے حساب لگایا تو اندازہ ہوا کہ اس بار ماہواری آئے دو ماہ سے زائد ہو گئے ہیں۔ اور اب ڈاکٹر سے رجوع کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔

 

گھر واپس جاتے ہوئے وہ ان اذیت بھرے دنوں کا اعادہ کرنے لگی جب مجازی خدا کی ایک نگاہ التفات کو وہ ترسا کرتی تھی۔
گھر واپس جاتے ہوئے وہ ان اذیت بھرے دنوں کا اعادہ کرنے لگی جب مجازی خدا کی ایک نگاہ التفات کو وہ ترسا کرتی تھی۔ کبھی ساری رات کڑھتے گزار دیتی۔ ان بے خواب راتوں میں اپنے جسم اور روح کی طلب سے بےحال وہ ہمیشہ اکیلی ہوتی۔ کیسے انگ انگ میں چیونٹیاں سی کاٹتی تھیں اور وہ ان کی چبھن سے ہلکان نیر بہائے چلی جاتی کہ شاید یہ نمکین پانی ہی کسی طرح اس تکلیف کا مداوا بن جائے۔ ایسے ہر موقعے پر اس کا مجازی خدا اس کے جذبات سے انجان محض چند فٹ کے فاصلے پر بیٹھا یا تو ٹی وی دیکھ رہا ہوتا یا پھر بے خبر سوجاتا۔ کبھی جب یہ اذیت حد سے سوا ہوجاتی تو بےاختیار اس کا دل چاہتا کہ اس کو جھنجوڑ کر اٹھائے اور اپنا قصور پوچھے، کبھی سوچتی کہ اس کو اٹھا کر زبردستی محبت پر مجبور کرے، اپنے انگ انگ پر اس کی محبت کے بوسے محسوس کرے۔ لیکن کیا محبت ایسا ہی زبردستی کا سودا ہے!

 

کیا محبت زبردستی وصولی جا سکتی ہے؟ شاید نہیں۔ جن کی خواہش صرف جسم نہ ہو بلکہ محبت، توجہ، التفات بھری نظریں، لگاوٹ آمیز لمس اور تمام تر حسیات کے ساتھ محسوس کرنے اور کیے جانے کی خواہش ہو ان کو مشینی قسم کی محبت اور جسم کے خراج کی ادائیگی یونہی نامطمئن کیے رکھتی ہے۔ وہ تو جسم اور روح دونوں کا ملاپ چاہتی تھی۔ اور یہی اس کا نصیب نہیں تھا۔ اس جسم و روح کے میل کی خواہش نے اس کو کیسا کیسا نہ ستایا تھا، رات کروٹ بدلتے بدلتے صبح کو جالیتی لیکن پلک نہ لگتی۔ آخر کب اس درد بھری رات کی سحر ہو گی۔

 

شادی سماج کا ایسا بندھن ہے جس میں نا چاہتے ہوئے بھی فریقین کو بندھے رہنا پڑتا ہے۔ محض جبلت ان کو قریب آنے اور جسمانی ضرورت پوری کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ بالخصوص عورت کے لیے تو اس تصور کو یقین کی حیثیت دے دی گئی ہے کہ عورت میں نہ جذبات ہیں اور نہ ہی جسمانی ضروریات۔ وہ بس مرد کی ضرورت پوری کرنے کا ایک آلہ ہے، ایک کٹھ پتلی۔ یوں ساری زندگی ندی کے دو مخالف دھاروں کی طرح دونوں اپنی سمت رواں دواں رہتے ہیں۔ یہاں بھی سماج مرد کو کسی قدر تقویت دیتا ہے، ایک سے زائد نکاح اور بنا نکاح نظریں سینکنے کی خصوصی اجازت کا سرٹیفیکیٹ۔ عورت ایسے حصار میں جکڑی جاتی ہے جس سے قدم باہر نکالنا اس کے لیے ناممکنات میں سے ہوتا ہے۔
سیتا نے رام کی کھینچی لکیر پار کی اور راون اٹھا لے گیا۔ وہ ریکھا تو کیا پار کرتی، ایک کھڑکی کھولنے کی جرات کر بیٹھی۔ لیکن کھڑکی کے اس پار ہوس کے پھنکارتے ناگوں سے خوفزدہ ہوکر کھڑکی بھی بند کرنی پڑی۔ کبھی کبھی سانس بھر آسمان کا حصول کتنا مشکل ہوجاتا ہے نا!

 

یونہی ہر طرف سے مایوس ہو کر اس نے انتظار میں پناہ ڈھونڈ لی تھی۔ روز آئینہ دیکھتی، اپنے لو دیتے حسن، اور حشرساماں جسم سے نظریں چراتی اپنے بالوں میں چاندنی تلاشتی۔
یونہی ہر طرف سے مایوس ہو کر اس نے انتظار میں پناہ ڈھونڈ لی تھی۔ روز آئینہ دیکھتی، اپنے لو دیتے حسن، اور حشرساماں جسم سے نظریں چراتی اپنے بالوں میں چاندنی تلاشتی۔ کبھی کلینڈر اٹھا کر ماہ و سال کا حساب لگاتی۔ کب وہ دن آئے گا جب اس پیاس تشنگی اور طلب کا احساس مٹ جائے گا۔ سائنس کہتی ہے کہ عمر کے پینتیسویں سال کے بعد کبھی بھی مینوپاز ہو سکتا ہے۔ ہاں! مینو پاز ہوجائے گا اور اس جسم میں بھڑکتا شعلہ سرد ہو جائے گا، نہ ہی ان جانا لمس آگ لگائے گا اور نہ ہی کسی پیاس کے زیر اثر نس نس میں بےچینی کی لہریں دوڑیں گی۔ کب آئے گا وہ دن ۔۔۔جب ان جاگی ہوئی راتوں کی سحر ہوجائے گی، جذبات کا شوریدہ طوفان تھم جائے گا۔ پھر میں سادہ رنگ اور سادہ لباس پہنوں گی، سنگھار، زیور اور جوبن کچھ بھی تو نہ ستائے گا۔

 

ڈاکٹر نے تفصیلی جسمانی معائنے کے بعد مینوپاز کی تصدیق کردی۔ اس کی تپسیا رنگ لائی۔ گھر میں داخل ہوتے مارے خوشی کے اس کی چال لڑکھڑا رہی تھی، انگ انگ میں مستی کی لہریں دوڑنے لگیں، کیسا سرخوشی کا عالم تھا۔ بےاختیار اپنا سب سے حسین شوخ رنگوں سے مزین لباس زیب تن کیا۔ ہمرنگ زیور اور موزوں میک اپ کے ساتھ دل کی خوشی نے جسم و جاں کو نکھار دیا تھا۔ گنگنانے کو من کرنے لگا اور اڑنے کو اور تیرتے جانے کو اور ہمیشہ کے لیے آسمان سے کودنے کو اور بلاوجہ رونے کو اور بلا وجہ ہنسنے کو اور کسی کے بھی جسم کا انتظار کیے بغیر سو جانے کو۔۔۔۔ لیکن بہت جلد اسے ایک ایسے ٹھنڈے، گہرے اور تاریک خلا نے نگل لیا جہاں سے اس کی آواز کا باہر نکلنا تک نا ممکن تھا۔ اسے ایک ایسے خالی پن کی ویرانی نے کاٹ لیا جس کا تریاق اس کے شوہر کے پاس نہیں تھا۔۔۔اس نے اپنے جسم کے علاوہ کسی اور جسم کی حرارت کی طلب کو اس شدت سے محسوس کیا کہ اسے لگا جیسے وہ ہمیشہ سے ان چھوئی رہی ہو۔
Categories
فکشن

اجنبی

ہوا میں تپش تھی، وہ بگولوں کی صورت اٹھتی اور دور تک پگڈنڈی پہ مٹی کو گول دائروں میں اٹھائے چلی جاتی تھی۔ گھوڑا سفید رنگ کا منہ زور اور اتھرا تھا۔ تانگہ طوفانی رفتار سے پگڈنڈی پہ دوڑ رہا تھا گھوڑے کے سموں اور تانگے کے پہیوں سے اٹھنے والی دھول کچھ دیر کے لیے حیرت سے تانگے کے پیچھے بیٹھے دو اجنبیوں کو تکتی اور پھر آرام سے پگڈنڈی پہ بیٹھ جاتی تھی۔ بوڑھے شخص نے نیلے رنگ کی پگڑی باندھ رکھی تھی اور پگڑی کے نیچے پیشانی پہ شکنیں گہری ہو رہی تھیں۔ دو مسافر اور کوچون تانگے کے اگلے حصّے میں براجمان تھے۔ اُس سال خوردہ بوڑھے شخص نے اپنی برف سفید داڑھی پہ ہاتھ پھیرا اور گردن موڑ کر پگڈنڈی کو دیکھا۔ بڑھاپے سے لاغر ہوتے چہرے پہ دو گڑھوں میں دھنسی نیم پیلی آنکھوں سے اُس نے متفکر انداز میں سامنے دیکھا۔ عمر کے اسی دہائیوں کے سفر نے اُس کا حلیہ ہی نہیں بدلا تھا پنجاب کے اس دور افتادہ علاقے کی شکل بھی کافی حد تک تبدیل ہو گئی تھی۔ وہ تذبذب اور پریشانی میں تھا کیا وہ صحیح راستے پہ جارہے ہیں؟ کیا یہی راستہ اُس کے گھر کو جاتا ہے۔ سالوں کے سفر نے راستوں کے حلیے ہی نہیں بدلے تھے اُس کی یادداشت کا چراغ بھی کسی حد تک دھیمی آنچ پہ کر دیا تھا۔

 

تانگہ طوفانی رفتار سے پگڈنڈی پہ دوڑ رہا تھا گھوڑے کے سموں اور تانگے کے پہیوں سے اٹھنے والی دھول کچھ دیر کے لیے حیرت سے تانگے کے پیچھے بیٹھے دو اجنبیوں کو تکتی اور پھر آرام سے پگڈنڈی پہ بیٹھ جاتی تھی۔
“بھاجی آپ کو یقین ہے نا چک نظام کو یہی رستہ جاتا ہے؟” بوڑھے شخص نے کوچوان کو مخاطب کیا۔

 

“بزرگو چک نظام کا تو مجھے پتہ نہیں مگر جو آپ نے نشانیاں بتائی ہیں اور جو آپ نے نقشہ بتایا ہے وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے پر اس سے ملتی جلتی بستی خیر دین ہے اور میں وہیں پر آپ کو لے جا رہا ہوں، اگر وہ آپ کا مطلوبہ گاؤں ہوا تو سمجھو آپ کا سفر رنگ لایا اور اگر نہ ہوا تو سمجھو آپ نے مفت میں اس بڑھاپے میں سفر کی یہ صعوبت برداشت گی۔”

 

کوچوان کی بات سن کر بوڑھے کی پیشانی پہ شکنیں اور بھی گہری ہو گئیں گرد آلود گرم ہوا اُس کی پیشانی سے ٹکرا رہی تھی بیساکھ اپنے شروع کے دنوں پہ تھا۔ گندم کے سونا کھیت پگڈنڈی کے دونوں طرف دور تک پھیلے تھے۔ گرم ہوا سبز بالیوں سے ٹکرا کر ایک احساس تفاخر میں اوپر اٹھتی تھی۔ کھیتوں میں کسرتی بدن کے کسان تیز دھوپ سے بچاؤ کے لیے پگڑیاں باندھے گردن جھکائے انتہائی پھرتی کے ساتھ درانتیاں چلا رہے تھے اور گندم کی فصل کاٹ رہے تھے۔ گھوڑے کے سموں اور تانگے کے پہیوں کی آواز سن کر اکا دکا کسان گردن اٹھا کر کچھ دیر تک اُن کو دیکھتے اور اس بہانے تھوڑا سا سستا بھی لیتے تھے۔ کہیں کہیں ونگار کی صورت میں کسانوں کی ٹولیاں مل جل کر فصل کاٹ رہی تھیں اُن میں سے کچھ لوگ ڈھول کی تھاپ پر رقص کر رہے تھے اور بھنگڑا ڈال کر خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔

 

“تانگے والا خیر منگدا تانگہ لاہو ردا ہووے تے بھانویں جھنگ دا” کوچوان مشہور پنجابی دھن گنگنا رہا تھا۔ گنگناتے ہوئے اُس نے دھیمی پڑتی رفتار پر اچانک اتھرے کو دو چار پنجابی گالیاں بکیں اور چھانٹا رسید کیا۔ اتھرے کے سموں میں جیسے بجلیاں سی بھر گئیں اُس نے طوفانی رفتار کے ساتھ دوڑنا شروع کر دیا۔
بوڑھا مسافر بدستور پریشان تھا۔ اُس نے متفکر نظروں سے اپنی بوڑھی بیگم کو دیکھا جو اُس کے ساتھ پچھلی نشست پر بیٹھی تھی۔ بوڑھی عورت نے سر سے سرکتا دوپٹہ کھینچ کر سفید بالوں کے اوپر کیا۔ پریشانی سلوٹیں بن کر بڑھیا کے ماتھے پر بھی پھیلی تھی۔

 

“لو جی بزرگو لگتا ہے آپ کی منزل آگئی ہے، یہ دائیں ہاتھ بستی خیر دین ہے” کچھ دور جا کر کوچوان نے تانگہ روکتے ہوئے کہا۔ کرایہ ادا کرکے عمر کے ہاتھوں کمزور اور سفر کے ہاتھوں نڈھال ہوتا بدن سمیٹ کر وہ بوڑھا، بڑھیا تانگے سے نیچے اتر آئے۔ دائیں ہاتھ قبرستان کے ساتھ ساتھ ایک کچا راستہ جاتا نظر آیا۔ وہ دونوں اُس راستے پہ چل پڑے۔ چک نظام کے راستے میں ایک چھوٹا سا قبرستان تھا یہ قبرستان اُس سے کافی بڑا تھا۔ پھر اُس نے سوچا وقت کے ساتھ جب بستیاں بڑی ہوتی ہیں تو اُن کے ساتھ قبرستان بھی پھیلنے لگتے ہیں۔ بستیوں میں زندگی اِس سے بے خبر کہ موت کا دامن بھی وسیع ہو رہا ہے اپنی دھن میں بے فکر اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔ قبرستان سے آگے بائیں ہاتھ ایک جوہڑ تھا اور جوہڑ کے کنارے برگد کا ایک بوڑھا درخت تھا۔ بوڑھے برگد کے نیچے پرانی اور بوسیدہ اینٹوں کا ایک کھنڈر سا پھیلا تھا ۔بوڑھے نے رک کر اُس برگد کے درخت کو دیکھا۔ چک نظام کے آس پاس بھی برگد کا ایک درخت ہوا کرتا تھا پر اُس کے نیچے ایک کنواں تھا۔ بوڑھے نے سوچا یہ کھنڈر شاید اُس کنویں کے ہی ہوں۔ برگد کے قریب یہ جوہڑ نیا ہمسایہ تھا پہلے وقتوں میں تو برگد کے آس پاس ہرے بھرے کھیت ہوا کرتے تھے۔ جوہڑ سے آگے کچے پکے مکانوں کی ایک بستی شروع ہو گئی۔

 

پھر اُس نے سوچا وقت کے ساتھ جب بستیاں بڑی ہوتی ہیں تو اُن کے ساتھ قبرستان بھی پھیلنے لگتے ہیں۔ بستیوں میں زندگی اِس سے بے خبر کہ موت کا دامن بھی وسیع ہو رہا ہے اپنی دھن میں بے فکر اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔
وہ دونوں جب بستی میں داخل ہوئے تو یکایک بوڑھے کی پیشانی سے شکنیں غائب ہو گئیں خوشی شفق بن کر گالوں کے افق پر اترتی چلی جا رہی تھی۔ یہ گلیاں یہ کوچے، یہ درودیوار کافی حد تک بدل ضرور گئے تھے مگر اُس کے لیے مکمل اجنبی نہیں ہوئے تھے۔ چک نظام اُس کی طرح بوڑھا نہیں ہوا تھا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ کافی حد تک پھیل گیا تھا اور جوان ہو گیا تھا۔ چک نظام جہاں اکا دکا پکی حویلیاں تھیں اور باقی سارے کچے مکان تھے۔ وہاں اب اکا دکا کچے مکان تھے اور اکثریت پکے گھروں کی تھی۔ لوگ حیرت سے اُس اجنبی بوڑھے کو تکتے تھے۔ آج وہ اُس چک نظام کے لیے اجنبی تھا جہاں وہ پیدا ہوا پلا بڑھا۔ جس کے گلی کوچوں میں بچپن کا کھلنڈر اپن پھیلا تھا اور منہ زور اتھری جوانی کی ٹھوکریں بکھری پڑی تھیں۔ کچھ دیر کی تگ و دو اور تلاش کے بعد وہ بالآخر اپنی حویلی کے دروازے کے سامنے پہنچ گیا ڈیوڑھی کی اینٹیں خستہ ہو کر بھربھری ہو چکی تھیں۔ کہیں کہیں بھربھری سرخ اینٹوں پر کلر کی سفید تہہ جمی ہوئی تھی۔ سیمنٹ کے ٹکڑے باقی تھے اُن پر سیمنٹ ہی سے بنے نقش و نگا رکے معدوم ہوتے نشان باقی تھے۔ ڈیوڑھی کے کواڑ نیچے سے کافی حد تک وقت اور دیمک کی نذر ہو چکے تھے۔ کواڑبند تھے اور باہر سے کنڈی لگی تھی۔ بوڑھے اجنبی نے کنڈی کھولی اور کواڑ کو اندر دھکیلا ۔ ایک دھیمی چرچراہٹ کے ساتھ وقت کے ہاتھوں بوسیدہ ہوتا دروازہ لزرتے ہوئے کھل گیا۔ بوڑھے شخص کی پیلی گدلی آنکھوں میں آنسوؤں کے موتی نمودار ہوتے چلے گئے۔ اُس نے بوڑھے پپڑی جمے ہونٹوں سے دروازے کو بوسہ دیا اور دہلیز پہ سجدہ ریز ہو گیا۔ آتے جاتے لوگ حیرت سے اُس سٹھیائے ہوئے بوڑھے کے پاگل پن کو تکتے تھے۔ کافی دیر سجدے میں رہنے کے بعد وہ اٹھا تو اُس کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو چکی تھی۔ وہ اٹھا اور وارفتگی سے ڈیوڑھی کی دیواروں سے لپٹ گیا۔ وہ بوسیدہ دیواروں پہ لاغر ہاتھ پھیرتا اور اپنے چہرے پہ مل لیتا۔

 

سورج کہیں دور مغرب کے اندھے کنویں میں اتر رہا تھا اور ڈوبتے سورج کی آخری کرنیں جو ڈیوڑھی کے راستے برآمدے پر اتر آئی تھیں منڈیروں سے رخصت ہونے کی تیاری کررہی تھیں۔ صحن میں بیری کے درخت کے نیچے بان کی چارپائی پڑی تھی وہ دونوں اُس پر بیٹھ گئے ۔ وہ ابھی چارپائی پر بیٹھے ہی تھے کہ ڈیوڑھی سے ایک نوجوان اندر داخل ہوا اُس نے ہاتھ میں حقہ اٹھا رکھا تھا اور دن بھر کی مشقت کے آثار اُس کے چہرے سے عیاں تھے۔ اُس جوان کے کے پیچھے ایک دیہاتی عورت اور دو لڑکے بھی حویلی میں داخل ہوئے۔ اُن دونوں اجنبیوں کو دیکھ کر وہ تمام حیرت کے سکتے میں تھے۔ بالآخر وہ نوجوان بولا:

 

“جیی آپ کون؟”

 

“میں اس گھر کا مالک ہوں!” بوڑھے نے لرزتے ہوئے ہونٹوں سے لفظ ادا کیے۔

 

” اس گھر کا مالک تو میں ہوں!!!” نوجوان کے لہجے میں غصے اور حیرت کا ملا جلا تاثر تھا۔ وہ غصے میں اس لیے تھا کہ اجنبی اُس کے گھر میں گھس آیا تھا اور اب اُس کے گھر پر بلا جواز ملکیت کا دعویٰ کررہا تھا۔

 

“بیٹا تمہارا نام کیا ہے؟” بوڑھے نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

 

“میرا نام خورشید احمد ہے” بوڑھے نے باری باری اُس کی بیوی اور بیٹوں کے سر پر بھی ہاتھ پھیرے ۔

 

دن بھر وہ گندم کی کٹائی میں مصروف رہے تھے اور اب اس ناگہانی آفت نے انہیں چکرا دیا تھا۔

 

“بہت پیارا نام ہے خورشید۔۔۔۔ خورشید بیٹا اگر تم لوگ اطمینان سے بیٹھ سکتے ہو تو میں تمہیں ایک چھوٹی سی کہانی سنانا چاہتا ہوں!!!!” خورشید نے برآمدے میں سے چارپائی اٹھائی اور اُن کے سامنے ڈال دی اور وہ پورا خاندان اُس پر بیٹھ گیا۔

 

بچپن سے لے کر جوانی تک کی سبھی خوشیاں انہی درودیوار کے اندر تو بکھری ہوئی ہیں۔ اسی ڈیوڑھی سے میری بارات نکلی تھی اور اسی صحن میں اجیت کور کی ڈولی اتری تھی” بلوندرسنگھ نے اپنی پتنی کی طرف اشارہ کیا۔
“خورشید بیٹا یہ گھر میرا گھر ہی تھا، وہ جو سامنے برآمدے میں کونے والا کمرہ ہے نا میں اُس کمرے میں پیدا ہوا تھا۔ ماتا پریت کور یہی بتایا کرتی تھی۔ میرے باپ کا نام سردار جتندرسنگھ تھا وہ اس گاؤں کے سرپنچ تھے۔ میرے دادا سردار نظام سنگھ نے یہ گاؤں آباد کیا تھا۔ جب ہم لوگ چلے گئے تو گاؤں کا نام بھی بدل کر چک نظام سنگھ سے بستی خیر دین ہو گیا۔ میرے باپ نے میرا نام سردار بلوندر سنگھ رکھا۔ اسی برآمدے میں گھٹنوں کے بل چلتے چلتے میں نے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا سیکھا۔ گرمیوں کے دنوں میں اسی دالان میں ماتا پریت کور کی لوریوں کی آواز گونجتی تھی اور نیند دبے قدموں آنکھوں کی وادیوں میں اتر آتی تھی۔ اسی صحن میں بہن امرت کور “ککلی کلیردی پگ میرے ویر دی” گایا اور کھیلا کرتی تھی اُس کی سکھیوں کے ہنسنے اور گانے کا شور دن بھر ان درودیواور کے اندر گونجتا رہتا تھا۔ وہ سامنے ڈیوڑھی میں سردار جتندر سنگھ کی پنچایت لگا کرتی تھی اور لوگوں کا میلہ تھا کہ ختم ہونے میں نہ آتا تھا اور ماتا پریت کور کا سارا دن لسی پانی اور روٹی ٹکر کے بندوبست میں گزر جاتا تھا۔ اسی ڈیوڑھی میں سے سردار سکھوندر سنگھ پہلے اپنے کندھوں پہ بٹھا کر اور پھر انگلی پکڑکر اپنے ساتھ سکول لے جایا کرتا تھا” بوڑھے سردار نے پگڑی درست کرتے ہوئے تھوڑا توقف کیا۔ وہ پورا خاندان بیتے وقتوں کی الف لیلیٰ میں گم ہو چکا تھا۔

 

“بچپن سے لے کر جوانی تک کی سبھی خوشیاں انہی درودیوار کے اندر تو بکھری ہوئی ہیں۔ اسی ڈیوڑھی سے میری بارات نکلی تھی اور اسی صحن میں اجیت کور کی ڈولی اتری تھی” بلوندرسنگھ نے اپنی پتنی کی طرف اشارہ کیا۔
” اسی صحن میں میں نے اپنوں کو پرائے ہوتے اور دوستوں کو دشمن بنتے دیکھا۔ میں لوگوں کو دوش نہیں دیتا وہ وقت ہی ایسا تھا۔ جب تقسیم کا اعلان ہوا تھا تو سبھی بدل گئے تھے۔ وہی جو ماتا پریت کور کے ہاتھ سے لسی پیتے تھے اور پراٹھے کھاتے تھے اور اپنی ماں کہتے تھے اُنہی کے ہاتھوں ماتا پریت کور ، بہن امرت کور اور بھائی سکھوندرسنگھ کے سینے چھلنی ہوئے وہ وقت ہی ایسا تھا ہندوستان جاتے ہوئے جو راستے میں ملے جو وہاں سے آرہے تھے اُن کے ساتھ بھی یہی بیتی تھی۔۔۔۔۔” بوڑھے سردار کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو چکی تھی “ان درودیوار نے اُن کی چتاکی آگ کے شعلے دیکھے تھے اور اسی صحن میں سب رشتے راکھ ہو گئے تھے دکھ اور سکھ کے ان گنت لمحے جو زندگی کا اثاثہ ہیں اس آنگن سے وابستہ تھے۔۔۔۔سردار جتندر سنگھ، اجیت کور اور میں جان بچا کر ادھر چلے گئے ۔ مگر میرا دل ساٹھ سال سے مسلسل ان گلی کوچوں، ان درودیوار کے لیے تڑپتا ہے۔۔۔۔ آیا تو میں بابے نانک کی جنم بھومی پہ ماتھا ٹیکنے کے بہانے سے ہوں پر اصل ماتھا میں نے اس دہلیز پر ٹیکنا تھا۔۔۔۔زندگی کی ایک آخری خواہش تھی کہ جب آنکھیں بے نور ہوں تو اس حویلی کا ایک آخری نقش ان آنکھوں کی پتلیوں میں محفوظ ہو۔۔۔۔” شام کی تاریکی آہستہ آہستہ درودیوار پہ بسیرا کرتی جارہی تھی۔ خورشید احمد کی آنکھوں میں بھی نمی اتر آئی تھی۔ گھر کا اصلی مالک اُس کے سامنے بیٹھا تھا اور وہ خود کو اپنے گھر میں ہی اجنبی محسوس کررہا تھا۔
Categories
فکشن

کیران کا میلہ

ریگ مال سلسلے کی بقیہ کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

جن دنوں میں وہاں گیا تھا، شہری آبادی سے کوئی پکی سڑک بستی کیران کی طرف نہیں جاتی تھی۔ ریل گاڑی صوبے کے آخری کونے پر واقع ایک کم آباد ضلعے کے چھوٹے سے اسٹیشن پر اتار کر مشرق کو مڑ جاتی ہے۔ اسٹیشن کے پاس ایک پرانا قبرستان ہے۔ ایک کچی پگڈنڈی جنوب کی سمت قبرستان کو بیچ میں سے کاٹتی ہے، اسی سمت میں اونٹ کے کجاوے پر کوئی سولہ پہر کا سفر ہو گا۔ مقامی لوگ اساڑھ کی پہلی جمعرات کو ٹولیاں بنا کر پیدل کیران پہنچتے ہیں۔

 

ڈاچی بان نے مجھے بتایا کہ یہاں کی ریت پوہ ماگھ میں سوجی کی سی سفید نظر آتی ہے، جیٹھ کے آتے ہی ریت سنولانے لگتی ہے اور میلے کے دنوں میں پورا صحرا دیسی انڈے کے رنگ کا دکھنے لگتا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ پورے چاند کی راتوں میں صحرا کا سفر کرتے ہوئے خود کو دودھ کے سمندر میں جہاز تیراتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اندھیری راتوں میں اکثر اوقات مر چکے مقامی راکھشوں کی ارواح خبیثہ ٹیلوں پر نکل آتی ہیں اور بھیانک آوازے نکالتی ہیں، ساربان نے بتایا کہ وہ خود بھی انہی راکھشوں کی نسل سے تھا۔ گداز ٹیلوں پر چلتے ہوئے پگڈنڈی کے اطراف میں لومڑیوں کا مَل اور سنگچور سانپوں کی لکیریں بھی نظر میں آتی ہیں۔ ساربان کا کہنا تھا کہ حضرت شاہ کیران سے پہلے کے وقتوں میں، کری کی ویران جھنگیوں میں پیل کفتر رہا کرتے تھے۔ پیل کفتروں کا رنگ سفید تھا، دو ہاتھ برابر پر، اور گدھ جیسی گنجی گردن تھی۔ اس عجیب جانور کی بالشت بھر لمبی چونچ تھی، جس میں اوپر تلے آریاں بنی ہوتی تھیں، وہ صحرا میں مر چکے جانوروں کے خشک ڈھنچروں پر بیٹھتے اور ان کی ہڈیاں کھاتے تھے۔ ان کے غول راتوں کو کری کے جھنڈ میں اکٹھے ہوتے اور ان ویرانوں سے رات بھر زور سے رونے اور دیوانہ وار ہنسنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ صحرا میں سفر کرتے ہوئے اگر کسی بیاہتا کا اس سے سامنا ہوتا تو اس کی کوکھ بنجر ہو جاتی اور جو جوان ایک بار ان کے ویرانے سے ہو آتا، اس کے چہرے کا ماس لٹک آتا، ڈاڑھی سفید ہو جاتی اور وہ ہفتوں میں بوڑھا ہو جاتا تھا۔ جو شخص پیل کفتروں سے جنگ کا منصوبہ بناتا تھا، دنوں میں ہی اس میں دیوانگی کے آثار نمودار ہونے لگتے اور وہ صحرا کی ریت پھانکتا ہوا مر جاتا۔ کسی ریگستانی باشندے کو پیل کفتروں کی نحوست پر کوئی شبہ نہیں تھا، لیکن کوئی بھی ان کے ویرانے میں جا کر ان کے بندوبست میں دخل دینے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔

 

ساربان نے بتایا کہ صدیاں پہلے ملک عرب میں وہاں کے ایک خدا رسیدہ بزرگ کو ایک عجیب و غریب مرض لاحق ہوا۔ شیخ کی ڈاڑھی کے بال جھڑ گئے اور قوت مردانہ جاتی رہی۔ خدا نے انہیں بے پناہ مال و حشم سے نوازا تھا، لیکن انہیں اپنے ترکہ کے وارثِ صلبی کا ابھی انتظار تھا۔ حکماء نے انہیں بتایا کہ پیل کفتر کا جگر، ان کے مرض کا علاج ہے۔ شیخ نے پیل کفتر کا غول شکار کرنے کی ٹھانی۔ وہ تیر اندازوں، عقاب و شہباز بردار دستوں اور پیل کفتر کی نحوست کا توڑ کرنے کے لیے عاملوں ساحروں کی الگ الگ فوج کو ساتھ لیے، طویل مسافت کے بعد کیران کے قریب ایک ٹیلے پر خیمہ زن ہوئے۔ پیل کفتر اڑ اڑ کر آتے اور ہڈی کے بنے طلسماتی منکے شیخ کے دستوں کی طرف پھینکتے۔ منکا گرتے ہی شیخ کے شہباز و شاہین پھڑپھڑانے اور اپنے پروں کو نوچنے لگتے۔ ادھر شیخ کے ساحر و عامل اپنے سفالی کٹوروں سے پانی چھڑک کر منکے کا طلسم توڑ دیتے اور ادھر پیل کفتروں کے سینوں کی شست باندھے تیر انداز سوفاروں سے انگلی چھوڑ دیتے۔ چالیس دن اور چالیس راتیں بستی کیران کے لوگ اپنے گھروں میں دبک کر اس جنگ کا شور و غوغا سنتے رہے۔ چالیسویں دن بستی کے لوگ گھروں سے نکلے تو پورے ریگستان میں کوئی پیل کفتر باقی نہیں تھا۔ اس عجیب نسل کے سبھی پکھشی مارے گئے تھے، ان کا گوشت عقابوں کو کھلایا گیا اور ان کے جگر بھون کر شیخ کے خوان پر سجائے گئے۔ شیخ نے اپنی تجوریوں اور غلے کے ذخیرے بستی والوں کے لیے کھول دیے، دور ویرانے میں جہاں پیل کفتروں کا بسیرا تھا، سبھی بدشگون کریوں کو جلا دیا گیا۔ گھروں کے دروازوں پر سبز شاخوں کے دستے آویزاں کیے گئے اور بستی میں رات بھر جشن منایا گیا۔ پیل کفتر کے جگر کی تاثیر سے شیخ کا شباب لوٹ آیا اور بستی والوں نے اپنی کنواری لڑکیاں شیخ کے حرم کے لیے نذر کیں۔ بستی کی وہ سب عورتیں جن کی کوکھ پیل کفتر کے نحس سائے نے بنجر کر دی تھی، انہیں شیخ کے خیمے میں پیش کیا گیا اور ان سب کی کوکھ بارآور ہوئی۔

 

ٹبہ شاہ کیران کا منارہ صحرا میں چلتے ہوئے کافی دور سے نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ اساڑھ کی دوپہروں میں سراب کے پار یہ منارہ دور سے پرچم کی طرح پھڑپھڑاتا ہوا نظر آتا ہے۔ جوں جوں اس کے قریب آتے ہیں، پیلائے ہوئے مرمر کا یہ منارہ واضح اور جامد ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اس کے آس پاس ٹیلے پر زائروں کی ٹولیاں، بساطیوں کے خیمے اور اونٹوں گھوڑوں کی چہل پہل، یہاں کسی لوک اجتماع کا پتہ دینے لگتے ہیں۔ مقبرے کے صدر دروازے کی جانب جانے والے راستے کے دونوں طرف بازار سجا ہوا ہے۔ حلوائی، منکے فروش، سپیرے، مداری، کوزہ فروش، جواری اور فال والے اپنی اپنی بساطیں بچھائے زائروں کو لبھاتے اور بلاتے ہیں۔ صدر دروازے کی لکڑی سیاہ پڑ گئی ہے، جس کے تختوں پر قطار میں بڑے ٹوپ کی میخیں گڑی ہیں۔ صدر دروازہ اتنا بڑا ہے کہ اس میں سے ایک سوار، بنا جھکے گزر سکتا ہے۔ لیکن یہ دروازہ صرف میلے کے دنوں میں کھولا جاتا ہے، عام دنوں کے لیے دروازے کے اندر ایک ذیلی دروازہ ہے، جس سے بمشکل جھک کر گزرا جا سکتا ہے۔ دروازے میں داخل ہوتے ہی پکی اینٹوں کا وسیع صحن ہے، جس میں زائر ٹہل رہے ہیں، کچھ دیوار کے سائے میں سو رہے ہیں، کچھ چٹائی بچھا کر عبادت میں مصروف ہیں۔ صحن کے وسط میں ایک کنواں ہے جو صدیوں سے خشک ہے۔ مقبرے کی مرکزی عمارت بھی لال کیری اینٹوں سے بنی ہے۔ صحن میں ٹھیک سے جھاڑو کیا گیا ہے لیکن ریگستانی ہواؤں نے پوری عمارت پر گرد کا تازہ لبادہ چڑھا دیا ہے۔ دیواروں کی سنگھا شاہی طرز کی اینٹیں بنیادوں سے گل کر لال مٹی گرا رہی ہیں، اوپر اینٹوں کی درزوں میں اڑسی اگر بتیوں نے ساری فضا کو روحانیت سے معمور کیا ہوا ہے۔ عمارت کا اگلا حصہ ایک محراب دار برآمدہ ہے جہاں پکے رنگ کی ایک عورت ڈھولکی پر مقامی بولی میں مناجات پڑھ رہی ہے؛

 

تیرا ڈیوا چڑھے ہر سال وو
دے عمراں والڑا بال وو
سائیں شاہ کیراں لجپال وو

 

برآمدے سے گزر کر مقبرے کے اندر داخل ہوں تو گلاب کی خوشبو اچانک دماغ تک آتی ہے، لیکن کہیں گلاب کی کوئی پتی نظر نہیں آتی۔ شاید یہاں عرق گلاب چھڑکا گیا ہے۔ مقبرے کی مرکزی عمارت میں قبر سے مشابہہ کوئی چیز نہیں ہے۔ گنبد کے عین نیچے ساگوان کے ایک نفیس جنگلے کے درمیان سبز و سرخ چادروں میں لپٹا چکنی مٹی اور پھونس کے گارے سے بنا انسانی لِنگ کا ایک مجسمہ ایستادہ ہے۔ اس ریگزار میں چکنی مٹی کا وجود بھی مرمر کی طرح ہی بیش قیمت ہے، لنگ کی لیپائی تازہ ہے، اس کی اونچائی کوئی سوا گز ہو گی، جس کا کوئی چوتھائی حصہ خشک میووں، گڑ مشری کی ڈلیوں، بتاشوں اور تمباکو کے سوٹوں میں گھرا ہوا ہے۔ ساتھ نقد چڑھاووں کے لیے ایک چوبی گلہ دھرا ہے۔ دیواروں پر روشندان ہیں جن میں نہایت قرینے سے چھوٹے چھوٹے ہشت پہلو روزن بنائے گئے ہیں۔ اوپر چھت کے وسط میں بہت بڑے پیالے جیسا گنبد ہے، چھت سے پیتل کے بڑے بڑے تین ناقوس لٹکے ہیں۔ میرے پیچھے کھڑی ایک مقامی عورت فرفر ہونٹ مٹکاتی زیر لب کچھ پڑھ رہی ہے۔

 

عورت نے لنگ کے پیچھے ایستادہ ایک بڑے مرمریں کتبے کے پہلو میں پڑی چادر کو سرکا کر ہاون دستے جیسی ایک چوبی چیز نکالی جس کا ایک پہلو پٹ سن کے دھاگے کے ساتھ کتبے کے پہلو میں کہیں بندھا ہوا تھا۔ میں نے کن انکھی سے عورت کے ہاتھ میں اس چیز کو دیکھا۔ یہ کسی بڑھئی کی خراد پر گھڑی گئی انسانی لنگ کی ایک اور شبیہہ تھی، جس پر کھاٹ کے پایوں والے رنگ سے سرخ، زرد اور سیاہ رنگ کی خوشنما دھاریاں بنی تھیں۔ اس عورت نے چڑھاووں کے گلے پر اپنا ایک پیر جمایا اور بلا جھجک دائیں ہاتھ میں تھامے ہوئے اس چوبی لنگ کو اپنے لہنگے میں چھپا لیا۔ وہ دوسرے ہاتھ سے اوپر لٹکا پیتل کا ناقوس بجائے جا رہی تھی، جبکہ اپنے لہنگے میں چھپائے ہاتھ کو ناقوس بجاتے ہاتھ سے کہیں رواں آہنگ کے ساتھ حرکت دیے جا رہی تھی اور زیر لب کچھ پڑھے جا رہی تھی۔ میرا دھیان اس مرمریں کتبے کی طرف گیا، جس کے پہلو کے ساتھ ایسے کوئی درجن بھر چوبی لنگ باندھے گئے تھے۔ نفیس دہلوی نستعلیق میں لکھا ہوا یہ کتبہ کافی پرانا لگ رہا تھا؛

 

“حضرت شیخ حیی بن حیان، المعروف بہ حضرت شاہ کیران، متولد در ارض نجران بمطابق سال ٦٣٣ھجری، ثمّ متہاجر در ریگزار ہندوستان، در سال ٦٧٧ھجری۔ مؤلف تذکرۃ الکبار در بارۂ وی می نویسد؛ شیخ موصوف بہ عون خدائے متعال معمورۂ دنیا میں صاحب نعمت و مال اور معرفت حق میں صاحب کشف و کمال ہیں۔ عہد غلاماں میں وطن مالوف عرب سے ریگزار ہند میں سریر آرائے توطن ہوئے ہیں اور اس خرابے کو اپنا جوار مطلع انوار بنایا ہے۔ پرند توحش نشین و ادبار آفرین موسوم بہ پیل کفتر سے بعد از مبارزۂ خونین فتح مبین پائی ہے اور دہ نشینان کیران کو اس حیوان موذی کےمنقار بد آثار سے نجات دوام دلائی ہے۔ آپ کا فیضان مراد امکان بے بار ارحام مادر کے لیے مژدۂ اولاد نرینہ کا سامان ہے۔ جسد مبارک ان کا وطن مالوف میں مدفون ہے، جبکہ قضیب مبارک ان کا قریۂ کیران میں مرجع حوائج خاص و عام ہے۔”

 

مقبرے کے باہر مجھے کچھ الف ننگے سادھو نظر آئے، جن کے پہلو میں لنگ کی جگہ پرانے زخم تھے، اور اس جگہ پیتل کی گھنٹیاں لٹکی تھیں جن کے دھاگے ان کے کالے کچیلے کولہوں کے گرد حمائل تھے۔ وہ ونڑ کے ایک پیڑ کے نیچے بیٹھے سلفیوں میں بھر بھر کے گانجا پیے جا رہے تھے۔ میں ان کے پاس گیا تو ایک نوعمر لنگ کٹے سادھونے، جو ابھی بہ مشکل بالغ ہوا ہو گا، میرے لیے جگہ چھوڑ دی اور ایک بوڑھے سادھو نے میرے بیٹھتے ہی اپنی سلفی میری طرف بڑھا دی۔ باتیں شروع ہوئیں تو ایک سادھو نے مجھے بتایا کہ بہت پہلے رواج تھا کہ ہر اساڑھ کی پہلی کو گاؤں کی ایک نوجوان دوشیزہ کو برہنہ کر کے یہاں لایا جاتا اور کیران کے نورل قصاب کے آباء میں سے ایک قصاب اس دوشیزہ کے پستان قطع کر کے کنویں میں پھینک دیتا۔ اس کے بعد اس دوشیزہ کے سینے میں چاقو پیوست کر کے اسے نیم مردہ حالت میں کنویں میں پھینک جاتا دیا جاتا۔ کنویں کے پیچھے جو ٹوٹی اینٹوں کی شکل میں جو چبوترے کی سی باقیات نظر آتی ہیں، یہاں مجاوروں کا تخت سجتا تھا اور وہ بلندی سے لڑکی کو تڑپتا ہوا دیکھتے تھے اور اس کے ٹھنڈا ہوتے ہی میلے کا مارو بجا دیا جاتا۔ اس نے کہا کہ سالوں پہلے یہ رسم ختم کر دی گئی تھی، لیکن جب سے یہ رسم ختم ہوئی ہے، شہر میں کوڑھ کی وبا پھر سے سر اٹھانے لگی ہے۔ بوڑھے سادھو نے یہ بھی بتایا کہ حضرت شاہ کیران کی زندگی میں کوڑھ کی وبا عام ہوئی تو آپ نے گاؤں کی ایک بدمزاج لڑکی کو اپنے حریم میں پیش کیے جانے کا حکم دیا۔ اس بدبخت نے خیمے میں پیش کیے جانے کے بعد شیخ کا حکم نہ مانا اور شیخ نے اس کے پستان کاٹ کر یہاں کنویں میں ڈالے اور پھر اس کے جسم کو تڑپنے اور مرنے کے لیے اس میں پھینک دیا۔ اس لڑکی کے مرتے ہی گاؤں کے سبھی کوڑھی اچھے ہو گئے۔ لیکن وہاں سے اٹھتے ہی ایک اور سادھو نے میرے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے مجھے بتایا کہ اصل میں اس رات شیخ عالم استغراق میں تھے کہ اس عورت نے شیخ کی تلوار سے انہیں مار ڈالا اور ان کے ٹکڑے کر کے ایک پاگل اونٹ کو کھلا دیے۔ صبح کے وقت جب لوگ شیخ کی خلوت گاہ کی طرف آئے تو سامنے ریتلے صحن میں وہ پاگل اونٹ کھڑا تھا، اس نے جگالی کرتے ہوئے منہ سے شیخ کا لنگ ثابت حالت میں اگل دیا، جسے بعد میں اس جگہ دفنایا گیا۔ شیخ کے اس بیدردی سے مارے جانے کے بعد گاؤں میں کوڑھ پھیل گیا، لوگ اس لڑکی کو ڈھونڈ لائے اور اسے اس کنویں کے قریب بلی چڑھایا گیا۔ اس کے بعد جب بھی علاقے میں یہ وبا پھیلنے لگتی، اس رسم کو دوہرایا جاتا۔

 

میں مقبرے کے گرداگرد سجائے گئے عارضی بازاروں کے بیچ میں گزرتا ہوا بساطیوں اور ان کی دکانوں کو خالی نظروں سے دیکھتا جاتا تھا۔ ان میں سے کچھ بہت پرجوش انداز میں گاہکوں کو پکارے جاتے تھے، کچھ کے چہروں پر محض خاموشی اور انتظار تھا۔ میلے کی بھیڑ بھاڑ سے فاصلے پر کچھ خیمے تھے، جن میں تھکے ہارے جاتری سو رہے تھے، کچھ خیموں میں عورتیں آگ جلائے کچھ پکائے جاتی تھیں۔

 

میں سنگچور سانپ کی ایک لکیر پر چلتے چلتے بھیڑ بھاڑ سے کافی دور نکل آیا۔خبر نہیں کس وقت میں ایک اونچا ٹیلہ اترکر ایک ویرانے میں پہنچ گیا جہاں کہیں گنجے اور کہیں گھنے کری کے کانٹے دار پیڑ تھے۔ پاس ہی کسی پیڑ کی جڑ میں ایک صحرائی لومڑی زمین کھود کر نیچے نم مٹی باہر نکالے جاتی تھی۔ میرے سامنے کچھ فاصلے پر اونٹ کا ایک پرانا ڈھنچر پڑا تھا جو بالکل خشک تھا اور امتداد وقت نے اس کی ہڈیوں کو پیلا دیا تھا۔ میں اس ڈھنچر کے پاس آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ ویرانے میں ہوا چندے زور سے چلنے لگی اور مجھے ریت کے دھندلکے میں قہقہوں اور گریے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ میں ہواؤں کے تھمنے تک اپنے زانو میں سر دیے اس ڈھانچے کے پاس بیٹھا رہا۔ کچھ وقت میں ہوا تھم گئی اور ویرانے میں پھر سے خاموشی چھا گئی۔ مجھے اپنے پیچھے کسی پیڑ پر بڑے بڑے پروں کے پھڑپھڑانے کی آواز سنائی دی، لیکن میں نے مڑ کر دیکھنا مناسب نہیں سمجھا۔ میں اونٹ کی پسلی کی ایک ہڈی سے زمین پر بے سمت لکیریں کھینچے جا رہا تھا۔میں نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا، میری ڈاڑھی سفید ہو چکی تھی۔