گونگا گلو (جیم عباسی)

گاؤں بنام ڈگھڑی انگریزوں کی کھدائی شدہ نہرکے کنارے کنارے اس جگہ بسایا گیا تھا جہاں نہر اور گاؤں کو ریل کی پٹڑی کا پہاڑ نما ٹریک روک لیتا تھا۔ اسی ریلوے لائن کے قدموں میں دونوں کا ایک جگہ خاتمہ ہوتا تھا۔ریلوےلائن جس کی بلندی پر مٹی اور کچی اینٹیں ڈھوتے اکثر گدھے اور […]
نور نہار

ممتاز حسین: لینز دکان کے اندر کن کھجورے کو ڈھونڈ رہا تھا۔ اور کن کھجورا دلی نہاری والے کے بیٹے کے خون میں لت پت کپڑوں میں گھسا ہوا تھا
تمغہ

علی اکبر ناطق: میرے کان پولیس کے ترانوں سے گونجتے رہے اور میں آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتاہوا اسٹیج کی طرف بڑھتا گیا۔ حتیٰ کہ دو تین قدم چلنے کے بعد میری حالت میں اعتدال آگیا۔ بالآخر مَیں نے بھی اپنا میڈل ترانوں اور نعروں کے شور میں وصول کر لیا۔
چیخوف کی گلی میں

جنیدالدین: اشتیاق جٹ نے مزدوری دینے سے انکار کرتے ہوئے دیگ اسے تھما دی اور تقاضا کیا کہ دیگ پہ آیا ہوا سارا خرچ واپس کیا جائے۔
ایک بوتل سیون اپ

بوتل دیکھتے ہی نصیر کی آنکھیں چمک اٹھیں، ایسے جیسے قارون کا خزانہ ہاتھ آگیا ہو۔
مینوپاز

گھر واپس جاتے ہوئے وہ ان اذیت بھرے دنوں کا اعادہ کرنے لگی جب مجازی خدا کی ایک نگاہ التفات کو وہ ترسا کرتی تھی۔
اجنبی

خورشید احمد کی آنکھوں میں بھی نمی اتر آئی تھی۔ گھر کا اصلی مالک اُس کے سامنے بیٹھا تھا اور وہ خود کو اپنے گھر میں ہی اجنبی محسوس کررہا تھا۔
کیران کا میلہ

بوڑھے سادھو نے یہ بھی بتایا کہ حضرت شاہ کیران کی زندگی میں کوڑھ کی وبا عام ہوئی تو آپ نے گاؤں کی ایک بدمزاج لڑکی کو اپنے حریم میں پیش کیے جانے کا حکم دیا۔