Categories
فکشن

گونگا گلو (جیم عباسی)

گاؤں بنام ڈگھڑی انگریزوں کی کھدائی شدہ نہرکے کنارے کنارے اس جگہ بسایا گیا تھا جہاں نہر اور گاؤں کو ریل کی پٹڑی کا پہاڑ نما ٹریک روک لیتا تھا۔ اسی ریلوے لائن کے قدموں میں دونوں کا ایک جگہ خاتمہ ہوتا تھا۔ریلوےلائن جس کی بلندی پر مٹی اور کچی اینٹیں ڈھوتے اکثر گدھے اور خچر ہمت ہار کر بیٹھ جاتے تھے، کے اس پارایک ویرانگی کی ابتدا ہوتی تھی۔ اس ویرانے کی جانب مٹی ڈھونے کی ضرورت ہی کان سے کھینچ کر لے جاتی تھی ورنہ اس طرف کوئی پیشاب کرنے بھی نہ جاتاتھا۔ اور بھلا اس ویرانگی کی انتہا؟کہا جا سکتا ہے ڈگھڑی والے شاید جانتے ہوں۔کوئی اور زیادہ متفکر نہیں ہوتاتھا۔ یہ نہر انگریز دور کے متروک شدہ منصوبوں میں سے تھی۔ مشہور یہ تھا کہ انگریز عملدار چاولوں کی کاشت کے علاقے تک آب رسانی کے لئے نہر کھودتے جب یہاں پنہچے تو ریلوےلائن پر پل بنا کر نہر کونیچے سے گذارنے کے بجائے کام کو ادھورا چھوڑ گئے۔تب سے یہ ڈیڑہ دوسو فیٹ چوڑی اور پانچ آٹھ ہاتھ گہرائی والی نہر ایسے گندے پانی کے ساتھ بھری رہتی تھی جس کے کنارے سبزی مائل رنگت اختیار کر چکےتھے۔ نہر کی لمبائی دیکھیں تو یہ میل ہا میل پیچ و خم لیتی دور دور تک چلتی جاتی۔ حتیٰ کہ اس کے دھول اڑاتے پشتے پر کوئی چلنا شروع کرے تو دو دن تک اس کےدوسرے چھوڑ تک پہنچ نہ پائے۔یہ نہر متروکہ پشتوں کے ساتھ موجود آباد اور کلر چڑھی زمینوں کا مستعمل و زائد پانی اور اپنے آس پاس گوٹھوں اور چھوٹے شہروں کے گٹروں کا مواد اور گندگی اپنے اندر سمیٹتی جاتی تھی جو کیچڑ بھری کالی نالیاں اس میں انڈیلتی رہتی تھیں۔اس کی ہیئت اس طرح سمجھی جا سکتی ہےاگر آسمان پر اڑتا پرندہ نگاہ اٹھا کر دیکھے تو اسے وہ ایسی کالی جونک نظر آئےجو قصبوں کا زہر پی پی کر فربہ ہو چکی ہو۔

ڈگھڑی اس کے کنارے آباد آخری گاؤں تھا جو دوسرے گوٹھوں سے الگ سا معلوم ہوتا تھا۔یہ گاؤں نہر کےجنوبی کنارے پر ٹکا ہوا مستطیل صورت میں دکھتاتھا۔گاؤں بھر کی چوڑائی متروک نہر جتنی کہی جائے گی۔شمال و جنوبا بنے گھروں کے درمیان گلی نما راستہ تھا اور پورے گاؤں کی لمبائی پاو میل جتنی۔متروکہ نہر کےجنوبی پشتے پر موجود یہ گاؤں ایک ایسے مدقوق اور سوکھےآدمی جیسا لگتا تھا جو اپنے لمبےپن کی وجہ سے دور کھڑا بھی دکھائی دے۔ یہ لمبا پن اس کے نام کا بھی حصہ تھا۔ لمبائی کی وجہ سے ہی سندھی زبان میں ڈگھڑی،تھوڑی سی لمبائی والا کہا جاتا تھا۔ لیکن نام کے علاوہ ایک اور چیز قابل ذکر ہے کہ علاقے کا ہر مرد و زن ڈگھڑی کے بارے کچھ جانتا تھا۔اب یہ تجسس ہوتا ہے کہ کیا جانتا تھا ؟ مگر کوئی شخص اس کچھ کو جاننا چاہے تو شاید ہی کامیاب ہو۔ کیونکہ وہ کہے سنے سے متعلق ہی نہ تھا۔بس ہر ایک جانتا تھا اور کسی کے بتائے بغیر جان لیتا تھا۔ یوں سمجھئے کوئی ایسی بات جس کا تذکرہ ایسی دیوار کے پار ہو جہاں ہرکوئی جانے سے پرہیز کرتا ہو۔ ضرورت کے سوا تو وہ ڈگھڑی کا نام زبان تک لانے سے گریزاں رہتے اور یہ غیر اختیاری ہوتا۔کبھی کبھار کوئی راہرو ڈگھڑی کا راستہ پوچھتا تو ہاتھ سے اشارہ کر کے سمت بتا دی جاتی۔ اور یقین مانیں جب ایسا موقعہ پیدا ہوتا دیکھنے والے حیرت سے اسے ڈگھڑی جاتے دیکھتے رہتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے۔ویسے کوئی پرندہ بھی بمشکل ڈگھڑی کی طرف اڑتا نظر آتا۔اس لئے جاتے شخص کو دیکھتے سوچ ابھرتی ڈگھڑی کو جاتے تو مہمان بھی ابھی پیدا نہ ہوئے۔یہ کیوں جا رہا ہے ؟۔شاید اس کا نلکا یا کنواں پانی چھوڑ گیا ہوگا۔اور یہ بات رہ تو نہ گئی کہ ڈگھڑی کے رہنے والوں میں سے اکثر نلکے لگانے اور کنویں کھودنےکا کام کیا کرتے تھے؟بس یہی ہوا ہوگا کہ ناگاہ وقت نلکہ پانی چھوڑجائے تو بندہ بشر کوادھر جانے کی مجبوری پڑہی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ باقی وقت ریل کی پٹڑی کے ساتھ ڈگھڑی کو جاتا میل بھر لمبا تیلی سا پتلا راستہ خالی پڑا ہوتا۔ ہاں سویر صبح نلکے لگانے کے کاریگر اور ان کے ہم قصبہ مددگار گاؤں چھوڑ روزی کے پیچھے شہر جاتے اور شام ڈھلے واپس آتے نظر آتے۔اس تیلی سے پتلے راستے پر چلتے ڈگھڑی کے باسیوں کا انداز الگ لگتا تھا۔قطار میں خاموشی سےسر جھکائے چلتے جانا۔ جیسے چیونٹے آپس میں جڑےجارہے ہوں۔ ایک فرق صبح و شام میں تھا۔شام میں واپس ڈگھڑی جاتے نظر آتے تو دیکھنے والا محسوس کرتا ان کے بازو ان کے بدن سے الگ پیچھے پیچھے لڑھکتے جا رہے ہوں۔ شہر میں یہ تانگا اسٹینڈ کے برابر بنے اس چھپر کے نیچے بیٹھے رہتے جس میں گھوڑوں کے پانی کی بڑی ناند رکھی ہوئی تھی۔ کیا کاریگر کیا مددگار اپنے اوزار سامنےرکھے اکڑوں بیٹھا تنکے سے زمین کریدتا رہتا۔ یہ کام ایسی محویت سے ہوتا جیسے ان پر مقدس ذمہ داری ڈال دی گئی ہو۔ جب کوئی کام کروانے آنے والا چھپر کے آگے کھڑا ہوکر آواز دیتا تو ان میں سے کوئی چپکے سے اوزار سنبھالتا اس کے پیچھے چل نکلتا۔یہ فیصلہ لینا بھی مشکل ہے کہ آنے والے کی آواز سمجھنا ضروری بھی ہوتی تھی کہ نہیں۔جب ان میں سے کوئی اٹھ کر چلا جاتا تو باقی اسی مشغولی میں مصروف ہوتے۔ سر اٹھا کر دیکھنے کا تکلف تک نہ کیا جاتا۔

یہ کہانی جو ڈگھڑی کی دوسری کہانیوں سے مختلف ہے، اس کی ابتدا منگل وار کی اس صبح کاذب سے ہوتی ہے جب تاریکی بہت کثیف تھی۔ سردی کا راج ختم ہونے میں دن باقی رہتے تھے۔متروک شدہ نہر کے سبزی مائل گدلے گندے پانی،قصبے کی ویران گلی،گارےاور کچی اینٹوں سے بنے کوٹھوں، جھاڑ کانٹوں کی چاردیواریوں پر دھند کا ڈیرا پوشیدہ تھا۔ اس وقت گاوں کے آخر ی مغربی گھر کے اندر جلتی لالٹین کی روشنی میں گلو کی ماں بچہ جن کر مر گئی۔ ڈگھڑی کی دائی صاحباں مائی نے ناڑ کاٹا،گلوکی ماں کی آنکھیں بند کیں اور اس کے سر اور جبڑے کو پٹی باندھنے کے بعد بچہ اٹھا کرکوٹھے سے باہر اکڑوں بیٹھے گلو کے باپ کو تھمایا اور لاش کو نہلانے دہلانے پھر اندر کوٹھے میں چلی گئی۔ جب سورج کی کرنیں دھند کو مات دے کر زمین پر اتریں تو اس وقت تک لاش قبر میں ڈالے جانے کے لئے تیار تھی۔ڈگھڑی کے باسی لاش اٹھا کر قبرستان کے اور چلنے لگے۔عین اس وقت ریل کی پٹڑی پر سے بے وقت ایک ریل گاڑی دھڑدھڑاتی گزرنے لگی۔ریل کی پٹڑی، متروک نہر کے کنارے اور کچے کوٹھے ریل گاڑی کی دھمک سے لرزش میں آنے لگے۔ گاؤں کے لوگ لاش اٹھائے حرکت میں تھے۔اس لئے ریل گاڑی کی آمد کا ٹھیک طرح جان نہیں پائے اور روز مرہ کے معمول کے خلاف گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلنے کے بجائے راستے کے بیچوں بیچ لاش اٹھائےچلے جا رہے تھے۔ سب کے سر جھکے ہوئے ہونے کے بجائے سامنے سیدھ میں قبرستان کی سمت اٹھے ہوئے تھے۔تیرہ سالہ گلو کو جنازہ میں چلتے سوچ آئی۔ تین دن چاول پکیں گے اور لوگ ان کے کچے کوٹھے کے باہر صحن میں بیری کے درخت کے نیچے چٹائیوں پر بیٹھے رہیں گے۔ گلو کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور لمحے کے لمحے پھر سکڑگئے۔ اس نے سوچ کی بے دخلی کے تحت قبرستان کی اور نظریں جمائیں۔ سوچ نے پھر نقب لگالی۔ گاؤں میں موت کے سوا کسی چیز کا علم نہیں ہوتا۔ شادی کا تب معلوم پڑتا ہے جب کسی کو بچہ پیدا ہو جائے۔ اب کی بار اس نے نچلے لب کو کاٹا۔اتنے زور سے کہ سر جھرجھراگیا۔ اس نے پھر نظریں قبرستان کی طرف گاڑدیں۔اب قبرستان کے علاوہ کوئی خیال قریب نہ آیا۔ دفن کے دسویں دن جب دوپہر کی روٹی کھانے اس نے کوٹھے میں قدم رکھا تو صاحباں مائی باپ کے ساتھ بیٹھی نظر آئی۔ بچہ ماں کے مرنے والے دن سےاسی کی گود میں تھا۔ گلو کا آنا محسوس کر کے کچے کوٹھے کا سکوت خاموش ہوگیا۔ گلو نے کونے میں رکھی رکابی سے روٹی اٹھائی اور جھاؤں کی پتلی لکڑیوں سے بنی ٹوکری میں سے ایک پیاز اٹھا کر زمین پر رکھ کراس کی اوپری سطح کو مکا مار کر کھولا اور اس کی پرتوں میں نمک مرچ ڈال کر چپڑ چپڑ کھانا کھانا شروع ہوگیا۔ کھانا ختم کر کے وہ بوری کی بنی چٹائی پے سر کے نیچے بازو دےکر صاحباں مائی اور اپنے باپ کی طرف منہ کر کے لیٹ گیا۔ اس کی نگاہوں کے پاس صاحباں مائی اور اس کے باپ کے لب ہلے جا رہے تھے۔چند ساعتوں میں اس نے دیکھا اس کا باپ اچک کر کھڑا ہوگیا۔وہ حیرت زدہ ہو گیا۔ کچھ دیر میں صاحباں مائی کمر پر ہاتھ رکھے اس کے اکڑوں بیٹھے باپ کے سر پر کھڑی نظر آئی۔ گلو کے خیال نے کوئی راستہ نہ پایا۔ اگلے دو دنوں کے بعد گلو نے رات کی پڑتی تاریکی میں اپنی منگ کو اپنے گھر میں سرخ جوڑا پہنے دیکھا۔ وہ جلتی لالٹین کی روشنی میں صاحباں مائی،اس کے باپ،اس کے منگ کے باپ اور ماں کے ساتھ کچے کوٹھے میں اندر جا رہی تھی۔ گلو نلکہ چلاتا اوک میں پانی پیتا اسے دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر میں صاحباں مائی اپنی منگ کے ماں باپ کے ساتھ گھر سے باہر جاتی دیکھی۔ گلو کی سوچ نے راہ پائی۔ اچھا ہواانہوں نے اسے نہیں دیکھا ورنہ منگ کا باپ ضرور گندہ منہ بناتا۔ پر میں تو سامنے کھڑاتھا لالٹین کی روشنی میں کیسے نہ دیکھا ہوگا؟ نہیں۔نہیں دیکھا ہوگا ورنہ صاحباں مائی اس کے سر پر ہمیش کی طرح ہاتھ نہ گھماتی۔ گلو کی سوچ نکل گئی۔ مطمئن ہو کر وہ کچے کوٹھے میں سونے چلا مگر دروازہ اندر سے بند تھا۔ گلو اس رات بیری کے نیچے پڑی کھجور کی چٹائی پرسوگیا۔ بھلا کون سی سردی تھی جو نیند نہ آئے۔ اگلی صبح گلو نے منگ کو دیکھا وہ جھاڑو کر نے کے بعد روٹی پکا کر گلو کے باپ کے ساتھ بیٹھی کھا رہی تھی اور بچہ اس کے قریب لیٹا تھا۔ کھانا کھا کر گلو کی منگ نے بچے کو اندر کوٹھے میں سلایا اور گلو کی روٹی لے آئی۔ پر بیری کے نیچے گلوتو تھاہی نہیں۔

دوسری دوپہر گلو کا باپ گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلتا گلو کو ڈھونڈھنے کے ارادے میں تھا تب ڈگھڑی کے اکلوتے چروہے ذاکو غریبڑے نے اسے بتایا گونگا گلو کل دوپہر سے کچھ پہلے قبرستان کے راستے پر تھا۔ یہ سن کر گلو کے باپ کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور پھر آپے آپ سکڑگئے۔

Categories
فکشن

میر واہ کی راتیں- چوتھی قسط

رفاقت حیات کے ناول ‘میر واہ کی راتیں‘ کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

نذیر شام کی نیم تاریکی میں ہوٹل پہنچا تو اس نے دیکھا کہ نورل شیشم کے درخت کی آڑ میں بیٹھا ہوا چرس کا سگریٹ بنا رہا تھا۔ اس کے سر پر مچھروں کا غول منڈلا رہا تھا مگر وہ اس سے بے پروا، سگریٹ بھرنے میں مگن تھا۔ نذیر نے اسے دیکھتے ہی کہا، “تم یہاں چھپ کر بیٹھے ہو؟”

 

دن کے وقت پل کے اطراف پھلوں اور کھانے پینے کی دیگرچیزوں کے ٹھیلے لگے ہوتے تھے اور یہاں کھانے کے شوقین لوگوں کا ہجوم رہتا تھا، مگر شام ڈھلنے سے پہلے پہلے یہاں کی رونق ختم ہو جاتی تھی۔
نورل گردن موڑ کر اسے دیکھتا مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے چرس کے تازہ تازہ سگریٹ کو اپنے انگوٹھے کے ناخن پر آخری مرتبہ ٹھوکا اوراگلے ہی لمحے وہ سگریٹ سلگاتے ہوئے بولا، “میں چھپ کر نہیں، سرِعام بیٹھا ہوں اور مجھے یہاں بیٹھے ہوئے بہت دیر ہو چکی ہے۔”

 

نذیر نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، “میں بندوبست کرنے میں مصروف تھا۔”

 

اس کی بات سن کر نورل چونکا۔ “کس چیز کا بندوبست؟”

 

“ایک بہت ہی خاص چیز کا۔ تم اٹھ کر میرے ساتھ چلو۔”

 

اس نے سگریٹ کے کش کھینچ کر اسے نذیر کی طرف بڑھا دیا۔ “پہلے اسے پی لیں، اس کے بعد چلتے ہیں۔”

 

سرد ہواؤں کی وجہ سے بڑھنے والی خنکی کے سبب چائے خانے کا عملہ اندر تھا۔ ویران اور کچی راہ گزر پر چند کرسیاں پڑی تھیں۔ نہر سے اتر کر گوٹھ ہاشم جوگی جانے والا راستہ دھول سے اٹا ہوا تھا۔ دھند اور دھوئیں کی دبیز تہہ گوٹھ کے مکانوں کے گرد حصار بناتی ٹھہر سی گئی تھی۔ آسمان پر شفق کی سرخی، سرمئی رنگ میں تبدیل ہو کر، آہستہ آہستہ مغرب سے امڈتی ہوئی تاریکی میں جذب ہوتی جا رہی تھی۔ سگریٹ کا آخری کش لگا کر نورل نے سگریٹ کا ٹکڑا نہر کی طرف اچھال دیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ اپنے سر کے اوپر لے جا کر تالیاں بجا کر مچھروں کو مارنے لگا۔ اس کی یہ حرکت دیکھ کر نذیر نے ہنستے ہوئے اسے دھکا دیا۔ نورل نے خود کو گرنے سے بمشکل بچایا۔ اس کے بعد وہ دونوں بازار کی طرف چل پڑے۔

 

نہر کے پْل کے قریب گھورے پر کتّے اور بلیاں اپنے پنجوں کی مدد سے اپنے لیے خوراک ڈھونڈ رہے تھے۔ دن کے وقت پل کے اطراف پھلوں اور کھانے پینے کی دیگرچیزوں کے ٹھیلے لگے ہوتے تھے اور یہاں کھانے کے شوقین لوگوں کا ہجوم رہتا تھا، مگر شام ڈھلنے سے پہلے پہلے یہاں کی رونق ختم ہو جاتی تھی۔ اس وقت پْل کی دیوار پر بیٹھ کر دو لڑکے آپس میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔

 

ایک کتے اور کتیا کو جفتی کرتے ہوئے دیکھ کر نورل نے قہقہہ لگایا، پھر ایک پتھر اٹھا کر ان کی طرف پھینکتے ہوئے پل سے اترنے والی ڈھلان پر دوڑتا چلا گیا۔ نذیر نے مذاقاً اسے ایک گالی سے نوازا۔ شام کے وقت بازار کی دکانیں بند ہونے کی وجہ سے سڑک بہت کشادہ معلوم ہو رہی تھی۔ سڑک پر کچھ دور جا کر وہ دونوں داہنی طرف واقع ایک گلی کی طرف مڑ گئے۔ اس گلی میں حیدری کی تمباکو کی دکان تھی۔

 

حیدری اپنی دکان کھولے بیٹھا نذیر کا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے اپنے والد کو بہت دیر پہلے گھر بھیج دیا تھا۔ وہ ان کے انتظار میں باربار اٹھ کر سڑک پر نگاہ ڈالتا اور بیٹھ جاتا۔ مختصر سی دکان بہت خستہ حال تھی۔ گلی میں اس کے دروازے کے نیچے سے ایک بدرو گزرتی تھی۔ حیدری کا باپ اس بدرو کی وجہ سے ٹاؤن کمیٹی والوں کو کوستا رہتا تھا کیونکہ اس کے سبب دکان کی بنیادوں اور دیواروں میں سیلن آ گئی تھی۔ دکان کے فرش پر تمباکو کی کھلی ہوئی بوریاں پڑی رہتی تھیں جس کی وجہ سے تمباکو کی گہری خوشبو اس کے درودیوار میں رچی بسی ہوئی تھی۔

 

شراب کا ذکر سنتے ہی نورل نے اٹھ کر فوراً جیے شاہ نورانی اور جیے لاہوتی کا نعرہ بلند کیا۔ حیدری نے اسے جھڑکا کہ گلی سے گزرنے والے لوگ بلاسبب ان کی طرف متوجہ ہو جائیں گے اور یہ دعوتِ بادہ و ساغر برباد کر دیں گے۔
نذیر کو تاخیر پر دل ہی دل میں ملامت کرتا ہواحیدری ایک بار پھر اٹھا، اس نے الماری کے پاس جا کر اس کا ایک پٹ کھولا اور وہاں رکھے ہوئے لفافے کو ٹٹولنے لگا۔ لفافے میں موجود شے کو محسوس کر کے اسے اطمینان سا ہوا۔
نذیر نالی پھلانگ کر دکان میں داخل ہوا، جبکہ نورل اس کے پیچھے چھلانگ لگا کر بدرو پار کرتا اندر داخل ہوا۔ تمباکو کی گہری بو کے زیرِاثر نورل لگاتار چھینکیں مارنے لگا۔ مسلسل چھینکنے سے اس کی جو حالت ہو رہی تھی اس سے محظوظ ہوتے ہوئے وہ دونوں ہنسی میں لوٹنے لگے۔ نورل نے سو کینڈل پاور کے بلب کی زرد روشنی میں دکان کا جائزہ لیا تو وہ اسے قبر جیسی معلوم ہوئی۔ قبر کا خیال آتے ہی اس نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا اورزیرِلب توبہ توبہ کرنے لگا۔ نذیر نے اسے تمباکو سے بھری بوری پر بٹھاتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اس کی دعوت کی خاطر اس کے لئے شراب کا بندوبست کیا ہے۔ شراب کا ذکر سنتے ہی نورل نے اٹھ کر فوراً جیے شاہ نورانی اور جیے لاہوتی کا نعرہ بلند کیا۔ حیدری نے اسے جھڑکا کہ گلی سے گزرنے والے لوگ بلاسبب ان کی طرف متوجہ ہو جائیں گے اور یہ دعوتِ بادہ و ساغر برباد کر دیں گے۔ جھڑکی سننے کے بعد نورل نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ لی۔ اس کی آنکھوں میں حریصانہ چمک واضح طور پر دکھائی دے رہی تھی۔ حیدری ایک بار پھر اٹھ کر الماری تک گیا اور اس کا ایک پٹ کھول کر لفافہ باہر نکالا اور اس کے ساتھ ہی پانی سے بھرا جگ اور تین خالی گلاس بھی نکال لیے۔ نذیر نے حیدری کے ہاتھ سے لفافہ لے لیا اور اس میں سے بوتل نکال کر نورل کو دکھانے لگا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے کانچ کی بوتل اور اس میں بھرے آتشیں محلول کو دیکھنے لگا۔

 

نذیر اس کا تجسس مزید بڑھانے کے لیے اسے بتانے لگا:”اس شراب کا انگریزی نام لائن ہے۔ لائن کو سندھی زبان میں شینھ کہتے ہیں۔ مطلب، اسے پینے کے بعد آج کی رات تم شیر بن جاؤ گے۔ بس ہم دونوں کا خیال رکھنا، باقی سب خیر ہو گی۔”
اس بات پر وہ تینوں بیساختہ ہنسنے لگے۔ نورل جوگی نے اچھی طرح بھانپ لیا کہ یہاں کا ماحول دوستانہ ہے۔ اس کا فائدہ اٹھا کر وہ انہیں اپنی شراب نوشی کی تاریخ سنانے لگا۔ وہ پلاسٹک کی بوتلوں میں ملنے والی دیسی شراب اب تک سات مرتبہ پی چکا تھا۔ وہ اپنی زندگی میں پہلی بار شیشے کی بوتل والی شراب پی رہا تھا۔ وہ اس قدرافزائی کے لیے نذیر کا بے حد ممنون تھا۔

 

حیدری نے ناپ تول کر شراب کے تین پیگ بنائے اور اس کے بعد ان میں پانی ملانے لگا۔ جب وہ نورل کے پیگ میں پانی ڈالنے لگا تو اس نے اس کا ہاتھ روک لیا اور اسے اپنی شراب میں پانی نہیں ملانے دیا۔ تینوں نے اپنے اپنے گلاس تھام لیے اور چسکیاں لے لے کر پینے لگے۔

 

حیدری نے اس کے گھٹنے پر ہاتھ مارتے ہوئے اس سے پوچھا، “نورل ! ہمیں بتاؤ۔ کبھی تم نے کسی سے محبت کی؟”

 

پکوڑافروش تو پہلے سے ہی موج میں تھا۔ شراب کی وجہ سے اس کا نشہ دوآتشہ ہو گیا تھا۔ وہ انہیں قصبے میں بھیک مانگنے والی باگڑی عورتوں کے متعلق بتانے لگا، چند روپوں کے عوض وہ جن سے مباشرت کر چکا تھا۔ ان عورتوں میں سے ایک لچھمی اسے آج بھی بہت یاد آتی تھی۔ وہ جب اس سے ملا تھا تب وہ سولہ سال کی تھی اور اس کے تن پر جوانی کی باڑھ آئی ہوئی تھی۔ اس سے ملنے والی لذت کو وہ آج بھی اپنے رگ و ریشے میں محسوس کررہا تھا۔

 

نورل کے بعد حیدری اپنا فرضی معاشقہ سنانے لگا۔ اس دوران نذیر گم صم بیٹھا رہا۔ اسے اس حال میں دیکھ کر نورل نے ہنستے ہوئے کہا، “مجھے لگتا ہے، یہ محبت میں ناکام ہو گیا ہے۔ یا پھر کسی نے اس کے ساتھ محبت ہی نہیں کی۔” وہ اپنے سوال پر خود ہی کھیسیں نکالنے لگا۔

 

وہ انہیں قصبے میں بھیک مانگنے والی باگڑی عورتوں کے متعلق بتانے لگا، چند روپوں کے عوض وہ جن سے مباشرت کر چکا تھا۔
نذیر گلاس سے گھونٹ بھر کر سنجیدگی سے بولا، “میرا دل ایک پردہ نشین کی آنکھوں میں غرق ہو چکا ہے۔ وہ پڈعیدن سے ٹرین میں آتے ہوئے مجھے راستے میں ملی تھی۔” اس نے جان بوجھ کر پڈعیدن کا ذکر کیا تھا تاکہ نورل کوئی ردِعمل ظاہر کرے، مگر وہ اس شراب سے طاری ہونے والی کیفیت سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

 

یہ بات سن کر حیدری چونکا جیسے اسے بہت اہم کام یاد آ گیا ہو۔ وہ جلدی سے پکوڑافروش سے مخاطب ہوا۔ “نورل! ہمارا یار بہت دکھی ہے۔ ہم پر خدا کی لعنت ہو اگر ہم اپنے دوست کی مدد نہ کریں۔ کیوں بھئی؟”

 

نورل نے فوراً اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا، “ہاں ہاں! جو یار کی مدد نہ کرے اس پرلعنت ہو بے شمار۔”

 

حیدری نے بات آگے بڑھائی۔ “مگر نورل، ایک مسئلہ ہے۔ ہمارے یار کی معشوق ذات کی جوگی ہے اور رہتی بھی تمہارے گوٹھ میں ہے۔”

 

“اچھا؟ وہ میرے گوٹھ میں رہتی ہے؟ پھر نذیر یار، تجھے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مجھے بس اس کا نام بتاؤ۔”

 

“ یہی تو مسئلہ ہے۔ میں اس کا نام نہیں جانتا۔” نذیر اسے پڈعیدن سے ٹھری میرواہ تک کے اپنے سفر کی روداد سنانے لگا۔ روداد مکمل ہونے پراس نے نورل سے پوچھا، “اب تم ہی بتا سکتے ہو، اس پردہ نشین کا نام کیا ہے؟”

 

اس کی بات ختم ہوتے ہی نورل نشے کی جھونجھ میں سر ہلاتے ہوئے بولا، “ہاں۔ میں سب سمجھ گیا۔ وہ…وہ میرے گوٹھ کے معمولی وڈیرے اور ٹیلی فون آپریٹر موسیٰ جوگی کی زال ہے اور اس کا نام شمیم ہے۔ اسے وہ پیار سے چھمی کہہ کر بلاتا ہے۔”

 

“تم کس طرح اس سے نذیر کے بارے میں بات کرو گے؟” حیدری نے اسے کریدا۔ نورل نے فوراً اس کے جواب میں کہا، “وہ میری ماموں زاد بہن ہے اور میرا اس کے گھر آنا جانا ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے، وہ اپنے شوہر سے خوش نہیں ہے۔”

 

“وہ کیوں؟” نذیر نے بے چینی سے دریافت کیا۔

 

نورل اسے تفصیل بتانے لگا۔ “موسیٰ جوگی اسے گھر کا خرچہ نہیں دیتا کیونکہ وہ چوٹی کا رنڈی باز اور جواری ہے۔ وہ آئے دن مار پیٹ کے ساتھ اسے گندی گالیاں بھی دیتا رہتا ہے۔وہ بے چاری مجبوری میں سب برداشت کر رہی ہے”۔
“کیا تم اپنی بیوی کے ذریعے اس سے میرے بارے میں بات نہیں کر سکتے؟” نذیر نے جھجکتے ہوئے اس سے اپنے دل کی بات کہہ دی۔

 

وہ آپس میں ایک دوسرے کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے تھے کہ انہیں نشہ نہیں چڑھا ہے، جبکہ باتیں کرتے ہوئے ان کے لہجے بگڑ گئے تھے اور لفظوں کے تلفظ تک بالکل غلط ہو گئے تھے۔
نورل نے یہ سن کر کچھ دیر کے لیے چپ سادھ لی۔ چند لمحوں بعد وہ کہنے لگا، “کچھ دن پہلے میری بیوی نے مجھے بتایا تھا کہ موسیٰ جوگی کی بیوی پڈعیدن سے آتے ہوئے راستے میں کسی کو دیکھ دیکھ کر ہنستی رہی تھی۔ “

 

“تم اس کے ذریعے میرے یار کی بات چلاؤ، نورل۔” حیدری نے کرسی کے نیچے سے بوتل نکالتے ہوئے کہا۔
نورل بوتل کے سحر میں مبتلا، سر ہلاتے ہوئے بولا، “جو سنگت کی صلاح۔”

 

انہیں شراب پینے کی عادت نہیں تھی، اس لیے انہیں اس کے نشے کا اندازہ نہیں تھا۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے تھے کہ انہیں نشہ نہیں چڑھا ہے، جبکہ باتیں کرتے ہوئے ان کے لہجے بگڑ گئے تھے اور لفظوں کے تلفظ تک بالکل غلط ہو گئے تھے۔ وہ گفتگو میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے ہڑبونگ مچا رہے تھے۔

 

ان کے بلندآہنگ لہجے سن کر گلی سے گزرتے ہوئے راہگیر ٹھٹک کر دکان کے سامنے رک گئے اور شور مچانے کا سبب پوچھنے لگے۔ انہیں یہ ہوش نہیں رہا تھا کہ وہ مرکزی سڑک سے متصل گلی میں حیدری کی دکان پر بیٹھے تھے۔ کسی واقف کار یا رشتے دار کی آمد اِن کی شراب نوشی کو تمام قصبے کے باسیوں کے لیے گفتگو کا دلچسپ موضوع بنا سکتی تھی ۔جس کے بعد بات صرف گفتگو تک ہی محدود نہ رہتی۔

 

نذیر اور حیدری کو خدشہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو پکوڑ افروش موالی اپنے گھر پہنچ کر اپنی بیوی سے اس ضمن میں بات کرنا بھول جائے۔ وہ اسے یہ بات یاد رکھنے لیے اپنی دوستی کے ساتھ ساتھ مولا مشکل کشا اور شاہ نورانی کے واسطے دیتے رہے جبکہ پکوڑا فروش باربار سر ہلا کر انہیں یقین دلاتا رہا کہ وہ نشے میں نہیں ہے اور وہ گھر پہنچ کر اپنی گھروالی سے ضرور بات کرے گا۔ وہ انہیں یہ یقین بھی دلاتا رہا کہ اب اس کی ان دونوں سے پکی دوستی ہے اور وہ ان کے لیے اپنی جان بھی قربان کر سکتا ہے۔ اس بات پر نذیر نے اٹھ کر اس کا ماتھا چوم لیا اور ساتھ ہی اس سے یہ وعدہ بھی کر لیا کہ ٹیلی فون آپریٹر کی بیوی سے اس کا تعلق قائم ہو جانے پر وہ اسے گھوڑا مارکہ بوسکی کا کپڑا خرید کر اور اس کا جوڑا اپنے ہاتھوں سے سی کر اسے دے گا۔ اس پیشکش پر نورل نے اسے ایک فوجی کی طرح کھڑے ہو کر سلیوٹ کیا اور اپنا قدم آگے بڑھایا۔ وہاں پڑی ہوئی تمباکو کی بوری اسے دکھائی نہیں دی اور وہ اس پر سے ڈگمگا کر نیچے گر گیا۔ کھلی ہوئی بوری سے نکل کر تمباکو فرش پر پھیل گیا۔ حیدری یک دم اٹھا اور فرش پر گرا ہوا تمباکو بوری میں بھرنے لگا۔

 

پکوڑافروش موقع تاک کر حیدری کی کرسی پر براجمان ہو گیا۔ اپنی اس کارگزاری پر وہ کھیسیں نکالنے لگا۔ حیدری اسے کرسی پر بیٹھا دیکھ کر بہت جزبز ہوا۔ اس نے اسے الف ننگی گالیاں دیں جنہیں سنتے ہوئے پکوڑافروش ہنس ہنس کر محظوظ ہوتا رہا۔ حیدری نے کلائی پر بندھی گھڑی کو آنکھوں کے نزدیک لے جا کر اس پر وقت دیکھا تو دس بجنے والے تھے۔ وہ سٹپٹایا، کیونکہ اسے گھر دیر سے پہنچنے پر اپنے والد کے طمانچوں کا خیال آنے لگا تھا۔ وہ سہم گیا کہ اگر والد کو اس کی شراب نوشی کا پتا چل گیا تو وہ اسے کھڑے کھڑے گھر سے ہی نکال دے گا۔ اسے معلوم تھا کہ اب اگلے دن تک اس کے منھ سے شراب کی بو نہیں جائے گی۔

 

اس نے ایک ہاتھ میں لکڑی کا بڑا سا ڈنڈا تھام رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ میں ٹارچ پکڑی ہوئی تھی۔ اس نے ٹارچ سے باری باری ان تینوں کے چہروں پر روشنی ڈالی۔
دکان کے دروازے پر کسی قوی الجثہ شخص کا سایہ دیکھ کر حیدری خوف سے کانپ کر رہ گیا۔ اس کی آنکھیں پھیل گئیں اور زبان سے ایک لفظ تک نہیں نکلا۔ نذیر اور پکوڑافروش بھی مبہوت ہو کر اسے تکنے لگے اور اندازہ لگانے لگے کہ یہ کوئی بشر ہے یا جن بھوت۔ اس طویل قامت ہیولے جیسے شخص نے اپنے چہرے کو ڈھاٹا باندھ کر چھپایا ہوا تھا۔ اس کے پورے جسم پر چادر پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے ایک ہاتھ میں لکڑی کا بڑا سا ڈنڈا تھام رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ میں ٹارچ پکڑی ہوئی تھی۔ اس نے ٹارچ سے باری باری ان تینوں کے چہروں پر روشنی ڈالی۔

 

نذیر اور حیدری کے اوسان خطا ہو چکے تھے۔ انھوں نے دکان پر کھڑے طویل قامت شخص کو واقعی کوئی ماورائی ہستی تصور کر لیا تھا، مگر نورل جوگی مسلسل اسے دیکھتے رہنے کی وجہ سے پہچان گیا کہ وہ ٹھری میرواہ کے بازار کا پرانا چوکیدار ہے۔ اس کے ہونٹوں سے بے ساختہ نکلا: “ارے لاہوتی سلیمان شر، یہ تم ہو کیا؟ کیا تمہارے نازل ہونے کا وقت ہو گیا؟ آدھی رات گزر گئی ہے کیا؟”

 

یہ سن کرجناتی قدکاٹھ والے سلیمان شر نے قہقہہ لگایا۔ “ارے نورل! پکوڑے بیچنے والے، اس وقت تیرا یہاں کیا کام؟”
چوکیدار کو پہچانتے ہی حیدری پر ہنسی کا دورہ پڑگیا۔ “ارے سلیمان شر! تو نے تو ہماری روح فنا کر ڈالی۔”

 

چوکیدار مسکراتا ہوا دکان کے اندر داخل ہوا۔ وہ سامنے زمین پر پڑے ہوئے گلاسوں، جگ اور بوتل کو دیکھ کر فوراً معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا۔

 

وہ افسوس سے اپنے سر کو جنبش دیتا دونوں لڑکوں سے مخاطب ہوا۔ “تم دونوں کیوں حرام چیز اپنے منھ سے لگا کر اپنے بزرگوں کی عزت خراب کر رہے ہو؟ تم دونوں کو شرم آنی چاہیے۔” انہیں ڈانٹنے کے بعد وہ نورل جوگی پر برسنے لگا۔ شاید اسے پکوڑافروش سے کوئی پرانی پرخاش تھی۔ وہ اسے تھانے میں بند کروانے کی دھمکیاں دینے لگا۔ پکوڑافروش زیرلب مسکراتے ہوئے اس کی ڈانٹ سنتا رہا۔ وہ چوکیدار کے ہنگامہ خیز مزاج سے بخوبی آشنا تھا۔ دھمکیاں دیتے دیتے اس نے نورل کو بازو سے پکڑ کر کرسی سے اٹھایا جیسے وہ اسے اسی وقت تھانے لے جانا چاہتا ہو۔ یہ دیکھ کر حیدری اور نذیر اس کی مدد کے لیے لپکے اور چوکیدار کو برابھلا کہنے لگے۔ نورل کا ایک ہاتھ تو اس کی گرفت میں تھا مگر اس نے اپنے دوسرے ہاتھ کو استعمال کرتے ہوئے اپنی جیب سے تھوڑی سی چرس نکال ہی لی۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر وہ چوکیدار کو دکھائی تو اس نے فوراً اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ نورل کی ہوشیاری پر نذیر مسکرانے لگا۔

 

چوکیدار نے نورل سے چرس لینے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تو اس نے فوراً چرس جیب میں ڈال لی اور اسے تنگ کرنے لگا۔ اب اسے کھری کھری سنانے کی نورل کی باری تھی۔ اس نے سلیمان شر کی تمام گالیاں اسے سود سمیت واپس کر دیں۔ سلیمان شر نے زبان نہیں کھولی اور چپ چاپ سنتا رہا۔

 

چوکیدار نے نورل سے چرس لینے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تو اس نے فوراً چرس جیب میں ڈال لی اور اسے تنگ کرنے لگا۔
نذیر اور حیدری نے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی مگر ان دونوں کا رویہ سمجھ نہیں آ سکا۔ کچھ دیر بعد حیدری نے اپنی دکان بند کرنے کا اعلان کیا تو وہ سب جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

 

نورل نے اپنے گھر پر حقہ پینے کے لیے حیدری سے تمباکو مانگا تو اس نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر بہت سا تمباکو اسے دے دیا۔

 

دکان پر تالا لگانے کے بعد حیدری ان سے ہاتھ ملا کر اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔ چوکیدار سلیمان شر سیٹی بجاتا سڑک کے دوسری جانب چل پڑا جبکہ نذیر اور نورل نہر کے پل کی سمت چلے گئے۔

 

کھلی سڑک پر نذیر کو ٹھنڈ لگنے لگی۔ نہر کے پْل پر پہنچ کراس نے پکوڑافروش کو ایک مرتبہ پھر وعدہ یاد دلاتے ہوئے مصافحہ کیا اور ڈگمگاتے ہوئے قدموں سے ڈاک بنگلے کی طرف چل پڑا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

نذیر سے الگ ہو کر پل سے نیچے اترتے ہی نورل کا دھیان ایک ست رنگے لیکن مست خیال کے زیرِاثر آ گیا۔ وہ لڑکھڑا کر چلتے ہوئے دھیرے دھیرے اپنے گوٹھ کی طرف بڑھنے لگا۔ اپنے گوٹھ کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے اس نے بھوک سے بلبلاتے ہوئے اپنے معدے کے بارے میں نہیں بلکہ صرف اپنی رگوں میں سرسراتے ہوئے نشے کے بارے میں سوچا جس کی وجہ سے آج اسے وصل بھری ایک طویل شب میسر آنے والی تھی۔ اس نے جی ہی جی میں نذیر کی مہمان نوازی کو سراہا جس کی بدولت اس نے شیر نامی شراب کا ذائقہ پہلی بار چکّھا تھا۔ اپنے گوٹھ کی حدود میں داخل ہوتے ہی آوارہ کتوں کا ایک غول اسے دیکھ کر اس کی جانب لپکا، مگراس کے قریب آ کراس کے بدن کی مانوس بو محسوس کرنے کے بعد کتوں کا وہ غو ل سر جھکائے اس کے آس پاس منڈلانے لگا۔ وہ اپنے گھر میں داخل ہوا تو یہاں تاریکی اور سکوت نے اس کا خیرمقدم کیا۔ وہ ڈگمگاتے قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔ دروازے کو دھکیل کر کھولتے ہوئے اندر داخل ہو کر وہ ٹھہر گیا اور اندھیرے میں آنکھیں مچمچا کر دیکھتے ہوئے وہ اپنی گھروالی کی چارپائی ڈھونڈنے لگا۔ اس کی چارپائی نظر آتے ہی وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنے لگا۔ اس کے قریب پہنچ کر اس نے جھک کر ہولے سے اپنی بیوی کے پیروں کو چھوا تواس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ وہ خوف سے چیخنے ہی لگی تھی کہ نورل کے ہنسنے کی آواز سن کروہ سمجھ گئی کہ اس کا شوہر گھر واپس آ گیا ہے۔ وہ خفگی سے بڑبڑانے لگی۔ نورل اس کے پہلو میں لیٹ گیا اور اس نے اس کے بڑبڑاتے ہونٹوں پر اپنے جلتے ہوئے ہونٹ رکھ کر اسے خاموش ہونے پر مجبور کر دیا۔ ایسے میں نذیر کا خیال اس کے ذہن کے مخفی ترین گوشے میں جا کر چھپ گیا۔اس سے کیا ہوا وعدہ بھی اس کے ذہن سے محو ہوگیا۔ وہ اس کی اذیت ناک تنہائی کا ذرا سا بھی خیال ذہن میں لائے بغیر وصل کی لذت میں کھو گیا۔

 

اگلے دن پکوڑافروش کی بیوی نوراں سویرے ہی اٹھ گئی۔ اس نے اٹھ کراپنے سر پر ڈوپٹہ باندھتے ہوئے خود کو بیمار محسوس کیا۔ آج اس نے دو سیر دودھ خریدا اور اپنے بچوں کو نورل سے چغلی نہ کھانے کی نصیحت کرنے کے بعد وہ اس میں سے ایک سیر دودھ غٹاغٹ پی گئی۔ دودھ پینے کے بعد کل شب کی صحبت سے زائل ہونے والی توانائی کو اس نے قدرے بحال ہوتے محسوس کیا، مگر نجانے کیوں چائے کی دو پیالیاں پیتے ہی اس کا دل ایک بار پھر ڈوبنے لگا۔ لیکن وہ مضبوط کاٹھی کی عورت تھی، اس لیے دل کے ڈوبنے کو خاطر میں نہیں لائی اور جھاڑو اٹھا کر گھر کی صفائی میں مصروف ہو گئی۔ وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ کل رات نورل نے اس کی جو درگت بنائی تھی اس کا ذمہ دار پڈعیدن کے ریلوے اسٹیشن پر ملنے والا وہی چھوکرا تھا جس نے اسے اور اس کی ساتھی کو چائے پلائی تھی۔

 

اس نے جان بوجھ کر نورل کو نیند سے جلدی نہیں جگایا۔ وہ اس کی نیند خراب نہ کر کے اس کی رات کی محبت کا قرض چکانا چاہتی تھی۔ کام کاج سے فارغ ہو کر وہ کمرے میں گئی تو چند لمحے اس کی چارپائی کے پاس کھڑی اسے تکتی رہی۔
نورل کی ٹانگ اور چہرہ لحاف سے باہر نکلے ہوئے تھے۔ اس کی بے ترتیب مونچھوں اور بکھرے ہوئے بالوں کو دیکھ کر نوراں مسکرائی۔ مگر پھر یکایک نجانے کیوں اسے اپنے شوہر پر غصہ آنے لگا۔ وہ پکوڑوں سے بھرا ہوا تھال اندر لے گئی اور اسے اچھی طرح ڈھانپ کر زمین پر رکھ دیا۔ پھر کمرے میں واپس آ کر اس نے نورل کی رضائی کو اْتار کر پھینک دیا۔ وہ آنکھیں مسلتا ہوا اٹھ بیٹھا۔ اس نے صحن میں پھیلی ہوئی دھوپ دیکھی تو دیر سے جگانے پر اپنی بیوی کو ملامت کرنے لگا۔ اس کے بعد وہ کھیتوں کی طرف چلا گیا۔

 

دودھ پینے کے بعد کل شب کی صحبت سے زائل ہونے والی توانائی کو اس نے قدرے بحال ہوتے محسوس کیا، مگر نجانے کیوں چائے کی دو پیالیاں پیتے ہی اس کا دل ایک بار پھر ڈوبنے لگا۔
گنے کے کھیت میں رفعِ حاجت کے بعد وہ اپنے وڈیرے کی اوطاق میں لگے ہوئے ہینڈ پمپ پر غسل کر کے گھر واپس آیا۔ نوراں نے اسے چائے کی پیالی لا کر تھمائی۔ سڑکیاں لگا کر چائے پیتے ہوئے اسے نذیر کی باتیں یاد آنے لگیں۔ اس نے فوراً آواز دے کر نوراں کو بلایا۔

 

نوراں اسے شک بھری نظر سے دیکھتی کھاٹ پر اس کے برابر بیٹھ گئی۔ نورل چائے کا گھونٹ لینے کے بعد اس سے مخاطب ہوا۔ “تیری ساس مرے، ایک بات غور سے سن۔ مگر بات سننے سے پہلے مجھ سے وعدہ کر کہ میں تجھ سے جیسے کہوں گا، تو ہوبہو ویسے ہی کرے گی۔”

 

اپنے شوہر کی مضحکہ خیز سنجیدگی پر اسے ہنسی آنے لگی مگر وہ اپنی ہنسی کو بمشکل ضبط کرتے ہوئے سر ہلا کر بولی، “اچھا اچھا، وعدہ کرتی ہوں۔”

 

نورل اپنا مدعا بیان کرنے سے پہلے اسے کچھ دیر کے لیے چمک دار خوابوں کی دنیا میں لے گیا۔ اس نے رنگین چوٹیوں، مرزا کمپنی کی مضبوط چپل، پھول دار ملبوسات اور لیس والے ریشمی ڈوپٹوں کا ذکر کچھ ایسے پرکشش انداز سے کیا کہ ان سب چیزوں کے لیے ترسی ہوئی نوراں خود کو تھوڑی دیر کے لیے وڈیرے ہاشم جوگی کی بہو خیال کرنے لگی۔ اس دوران وہ اپنے بے رنگ ڈوپٹے میں اپنے سفید اور کالے بال چھپاتی ہوئے نورل کی باتوں میں کھوئی رہی۔

 

اپنی کامیابی پر زیرِلب مسکراتے ہوئے نورل نے اس کے پڈعیدن جانے کا ذکر چھیڑ دیا۔ اس سفر کے بارے میں سنتے ہی نوراں نے اپنے شوہر کو صاف صاف بتا دیا کہ اس لڑکے نے بڑے پْل تک ان کا پیچھا کیا تھا اور شمیم ابھی تک اسے بھول نہیں سکی تھی، اور اکثر کسی نہ کسی بہانے سے اس کا ذکرکرتی رہتی تھی۔

 

پکوڑافروش نے اپنی بیوی کو یہ بتا کر حیران کر دیا کہ وہ اس لڑکے کو اچھی طرح جانتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد وہ اصل مقصد کی طرف آیا اور کہنے لگا، “وہ لڑکا اب میرا اچھا دوست ہے اور میں اسے زبان دے چکا ہوں۔ سمجھتی ہو نا؟ وہ بے چارہ اس کی محبت میں چرس پینے لگا ہے۔ مگر وہ سگریٹ بھی نہیں پیتا تھا پہلے۔”

 

نذیر کی حالتِ زار کا سن کر سادہ لوح نوراں کا دل پسیجنے لگا اور وہ اس سے ہمدردی محسوس کرتے ہوئے آہ بھر کر بولی، “وے چارو!”

 

اس نے رنگین چوٹیوں، مرزا کمپنی کی مضبوط چپل، پھول دار ملبوسات اور لیس والے ریشمی ڈوپٹوں کا ذکر کچھ ایسے پرکشش انداز سے کیا کہ ان سب چیزوں کے لیے ترسی ہوئی نوراں خود کو تھوڑی دیر کے لیے وڈیرے ہاشم جوگی کی بہو خیال کرنے لگی۔
پکوڑافروش نذیر کا حال بڑھاچڑھا کر بیان کرتا رہا اور ساتھ ہی اپنے فائدے کی بات بھی کرتا رہا، جس کا اس کی بیوی پر بہت اثر ہوا اور اس نے تباہ حال نوجوان کی مدد کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔

 

پکوڑوں سے بھرا ہوا تھال اٹھاتے ہوئے اس نے اپنی بیوی کو آخری نصیحت کی۔ “اور یہ بات اچھی طرح سن لے! شمیم کو میرے بارے میں نہ بتانا۔ اسے کہنا کہ وہ لڑکا تمہیں بازار میں اچانک ملا تھا اور تمہارے قدموں میں آ کر گر پڑا تھا۔ اگر تم نے اس کے سامنے میرا نام لے لیا تو وہ اس سے ملنے پر رضامند نہیں ہو گی۔ سمجھ گئیں نا؟”

 

نوراں یہ سن کر ذرا سی پریشان تو ہوئی مگر پھر کہنے لگی، “ایسے معاملے میں اگر کوئی مرد درمیان میں آ جائے تو عورت فوراً بدک جاتی ہے۔”

 

پکوڑافروش اپنی بیوی کی ذہانت پر اس کی تعریف کرنے لگا اور تھال سر پر رکھ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

نورل نے گاؤں کی شریف اور معتبر عورت کے دل میں نذیر کے لیے موجود محبت کو کچھ دنوں تک اس سے چھپائے رکھا۔ وہ ایک طرف اپنے دوست کے جذبوں کی شدت کا اندازہ لگانا چاہتا تھا مگر دوسری طرف وہ اپنے گوٹھ کی عورت کی رسوائی سے بھی خوفزدہ تھا۔ اسے معلوم تھا کہ ذرا سی بے احتیاطی سے یہ معاملہ قصبے اور گردوپیش کے دیہات کے لوگوں کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن سکتا تھا اور اس عورت کے لیے ہمیشہ کی رسوائی اور ذلت کا باعث بھی بن سکتا تھا۔ اس نے نذیر کو بھی اس معاملے میں رازداری برتنے کی تنبیہ کی اور اسے اس کی محبت کے ہر ممکنہ انجام کے متعلق بھی آگاہ کیا۔

 

نورل نے اپنی باتوں سے اپنے دوست کے دل میں مایوسی کو گھر بنانے نہیں دیا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ہر نوجوان عاشق کا دل قنوطی ہونے کے باوجود کبھی بھی بے آس نہیں ہوتا وہ ہمیشہ کسی نہ کسی معجزے کی رونمائی کا منتظر رہتا ہے۔

 

نذیر جو ہر وقت اسے کریدتا رہتا تھا اور اس کی باتوں کی ٹوہ لیتا رہتا تھا، تو وہ یہ بے سبب نہیں کرتا تھا وہ پوری سنجیدگی اور انہماک سے پردہ نشین خاتون سے اپنا تعلق استوار کرنا چاہتا تھا۔

 

نذیر نے ان معاملات کو غفور چاچا اور یعقوب کاریگر سے چھپایا ہوا تھا۔ اب وہ دن کا بیشتر وقت دکان پر گزارتا تھا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد چاچا غفور قیلولہ کرنے کی غرض سے چند گھنٹوں کے لیے گھر چلا جاتا تھا۔ نذیر اور کاریگر سہ پہر تک جمائیاں لیتے کام کرتے رہتے اور شام کو چاچے کی آمد سے پہلے تک چاق و چوبند ہو جاتے۔

 

وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ہر نوجوان عاشق کا دل قنوطی ہونے کے باوجود کبھی بھی بے آس نہیں ہوتا وہ ہمیشہ کسی نہ کسی معجزے کی رونمائی کا منتظر رہتا ہے۔
نذیر کو شام سے پہلے ہی دکان سے چھٹی مل جاتی۔ اس کے بعد وہ رات نو بجے تک حیدری کے ساتھ قصبے میں آوارہ گردی کرتا رہتا۔

 

اس نے پچھلے کچھ عرصے کے دوران جیب خرچ بچا بچا کر جتنی بھی رقم جمع کی تھی وہ نورل سے ملاقاتوں میں اس کے بہت کام آئی تھی۔ کپڑوں کی خریداری کے بعد وہ پریشان ہو گیا، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اظہارِمحبت کے بعد بھی اسے روپوں کی ضرورت پیش آئے گی۔ لوگوں سے محبت کی کہانیاں سن سن کر اس نے یہ اصول اخذ کیا تھا کہ دولت کے بغیر کسی محبوبہ کا دل جیتنا ممکن ہی نہیں تھا۔

 

(جاری ہے)