Categories
شاعری

تیرہ بچے (ممتاز حسین)

میز پر دھری چائے کی پیالی
سے اٹھتی ہوئی خبریں
میں نے اپنی شیشوں کے بغیر عینک اتار لی
اور اخبار کو اپنے برہنہ
جسم پہ لپیٹ لیا
بارش بادلوں کی سیڑھی سے
زمین پر اتری
حضرت موسیٗ کو خدا نے زمین پر
گیلے پاوں دیکھ لیا
فلسطینی ماں نے تیرہ شمعیں جلائیں
اور تیرہ بچے جنمے
ایک فوجی نے اپنی بندوق سے
جڑی سنگین پر تیرہ بچے پرو دئیے
اور بندوق پر آبدیدہ مگرمچھ کی
کھال چڑھا دی
اپنے آنسووں سے حضرت موسیٗ
کے قدموں کو دھو دیا
لیکن خون کے دھبے
مٹ نہ سکے
خدا بادلوں کی سیڑھیاں چڑھ کر
بارش کے لحاف میں سو گیا۔

Categories
شاعری

حباب ہستی (ممتاز حسین)

جھاگ میں پھنسے بلبلے
اک دوسرے سے چپک گئے
خوف نے محبت کے دستانے چڑھا لیئے
علیحدہ ہو جاؤ
حکم صادر ہوا
کیا تم خدا ہو
ہاں میں پانی ہوں
پانی پانی سے کیسے جدا ہو سکتا ہے
میں خدا سے علیحدہ ہو جاؤں
پانی میں جب روح پھونکی جاتی ہے
تو بلبلہ بنتا ہے
حکمُ صادر ہوا
پانی کی دیواروں پر پانی کی چھت چھت دو
جس میں کوئی دروازہ نہ ہو
پانی کے بستر پر گہری نیند سو جاؤ
پانی کے کمرے میں مقفل ہو جاؤ
اپنے پھیپھڑوں سے پانی گزارو
سانس کیوں نہ گزاروں
پانی تو خود سانسوں کا مرکب ہے
کیونکہ
سانسوں کا صور پھونکا جائے گا
تم اپنے ناک اور منہ کو
پانی کے ماسک سے ڈھانپ لو
کیونکہ
زمین روئی کے گالوں کی طرح
اڑنے لگے گی
اور
بلبلہ پانی پانی ہو جائے گا

Categories
فکشن

کالے تجھے کتا کھالے

کالے تجھے کتا کھالے
کالے کی ماں نے کہا۔ کالے نے جواب دیا کتے کو کتا کیسے کھا سکتاہے۔ ہوں ! کالے کی ماں نے سر جھٹکا۔ کتا ہی تو کتے کا ویری ہوتاہے۔ ہاں، کالے کتے کو تو سفید کتا ہی کھائے گا۔ ہاں۔۔۔یا پھر ڈب کھڑبا،کالے نے اپنے اگلے پاؤں سے کان پے چپکے ہوئے چیچڑ کو کھجاتے ہوئے پوچھا۔ ماں یہ ڈب کھڑبا کیسے بنتاہے۔ کالے کی ماں نے کہا۔ اگر ڈب کھڑبے کی ماں سفید ہو اور اس کاباپ کالا ہو۔ تو ڈب کھڑبا کتاپیدا ہوتاہے۔سب سفید کتے کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اس کی زیادہ عزت ہوتی ہے اور ڈب کھڑبے کی ؟۔۔۔ہاں اس کی بھی عزت ہوتی ہے۔ لیکن سفید سے کم۔ اور کالے کتے کی۔نہیں۔ اس سے فرشتے ڈرتے ہیں۔ اسے دیکھ کر فرشتے بھاگ جاتے ہیں۔ تو ماں کیا خدا بھی نسل پرست ہے۔

لیکن خدا کو تو نسل انسانی زیادہ پسند ہے کیونکہ سب نسلوں کے خاندان میں نسل انسانی سب جانداروں میں خوبصورت ہے۔ پر ماں کالی نسل بھی تو خوبصورت ہے۔ اسے خدا پسند کرتاہے یا نہیں۔ وہ توہے کالا۔ حلقہ بگوش ہے۔ داس ہے۔ وہ تو بن داموں کے نوکر ہے۔ تو ماں کیا خدا رنگ پرست بھی ہے۔ تم خدا کو بیچ میں مت لا۔ وہ بڑی ہستی ہے۔ یہ تو کالے کاقصور ہے۔ اسے کس نے کہاتھا۔ سفید مادہ سے عشق کی پینگیں بڑھا۔اور اگر گدھا کسی گھوڑی سے عشق کر بیٹھے اور پیدا ہوخچر تو اس میں ہستی والے کا کیا قصور ہے۔
لیکن ماں یہاں پر بھی تو بڑی ہستی والے گھومتے پھرتے ہیں جاگیروں کے کے مالک ہیں۔ لیکن ما ں یہاں بڑی ہستی والوں کے طویلے میں گھوڑے اور خچر تو ہوسکتے ہیں، لیکن طویلے میں کالا کتا تھوڑا ہوتاہے۔ کتا تو اندر بڑی ہستی والوں کے ڈرائنگ روم میں ہوتاہے۔ کالے نے سرجھٹک کر کہا۔

پر ماں میں تو ڈرائنگ روم میں نہیں ہوتا۔ بلکہ میں تو نوکروں کے کوارٹر میں بھی نہیں ہوتا۔ بلکہ کوارٹر کے باہر بیٹھتاہوں۔ ڈرائنگ روم میں تو کتے ہوئے ہیں جو مہمانوں کا بچا کھچا کھانا صاف کرتے ہیں۔ انہیں بڑے سلیقے سے ڈائننگ ہال میں بھیج دیا جاتاہے۔ اوروہ کھانے کا لباس زیب تن ہوتے ہیں۔ جو ان کے سونے والے لباس سے مختلف ہوتاہے۔ اور تجھے پتہ ہے ماں جب کتے چہل قدمی کے لیے نکلتے ہیں۔ اس وقت چہل قدمی والی پوشاک زیب تن ہوتے ہیں۔ جب بڑی ہستی والے یہ فیصلہ سناتے ہیں،اب اپنی حاجت پوری کرسکتے ہیں۔

جب ان کی حاجت پوری ہوجاتی ہے تو بڑی ہستی والے پلاسٹک کی تھیلیوں میں جوکچھ بھی انہوں نے ڈائننگ ٹیبل پررکھا ہوتا ہے۔ اسےباندھ لیتے ہیں۔ اسے جمع کرلیتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے سرمایہ دار اصل زر سے منافع کما کر بھر کسی بڑے پلازہ پر صرف کرتاہے۔ اس سو منزلہ پلازے کے کونے کو وہ کتا سونگھتا ہے۔ اگر بلند عمارت سے زیادہ سرمایے کی خوشبو آئے تو۔ بچی ہوئی مہنگی فرانسیسی وائن۔ ا نگوری شراب۔ کو اپنی ٹانگ اٹھا کر نکال دیتاہے۔بالکل ایسے جیسے اصل سرمایہ میں منافع کا تھوڑا سا حصہ اس عمارت کی بنیادوں کو اور مضبوط کردیتاہو۔

لیکن بڑی ہستی والوں کے گھر کے باہر ایک بھکاری جس کا نام لےزیرس ہے۔ نہ تو اس کی پیٹ کی بھوک مٹائی جاتی ہے اور نہ ہی اس کے سینے پرنپکن باندھا جاتاہے۔ نہ ہی اسے بچا کھچا کھانا دیا جاتاہے۔ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کی جان بچای جاے۔اس لیے کہ خدا وندقدوس اس پر اپنا معجزہ آزمانا چاہتا ہے۔ کیونکہ اس سے زیادہ کتے صفائی پسند ہیں۔ کیونکہ وہ بیٹھنے سے پہلے اپنی دم سے زمین صاف کرلیتے ہیں۔

کالے ہوسکتاہے۔۔۔۔۔۔وہ گناہ گار ہو۔کالے کی ماں نے کندھا اچکاتے ہوئے کہا۔ خدا اسے سزا دے رہاہو۔ کالے نے سرجھٹکتے ہوئے جواب دیا۔ ماں وہ گناہ گار کیسے ہوسکتاہے۔ وہ تو خون چاٹ لیتاہے اپنا۔ وہ بہت بھوکا رہتاہے جب بہت زیادہ بھوک ستاتی ہے تو اپنے زخموں کو کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتاہے یا پھر کسی بڑی ہستی والے سے التجا کرتاہے۔ میرے پیٹ پر زور سے چٹکی بھر دو۔ لیکن بڑی ہستی والے اتنا بھی نہیں کرتے کہ اس کے پیٹ پر چٹکی بھر دیں۔ وہ تو خود ہی اپنے پیٹ پر چٹکی بھر لیتاہے۔

ماں کیسی باتیں کررہی ہو۔ میری سمجھ سے یہ سب باہر ہے۔ مجھے لگتاہے یہ سب خواب ہے۔ نہیں یہ سب خواب نہیں حقیقت ہے۔ ماں نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے کہا۔

لیکن ماں !کالے نے حیران ہو کر کہا۔ماں ماں دیکھ۔وہ کون ہے جس نے ابھی چٹکی بھری ہے۔ میرے پیٹ پر۔
تم نے نہیں دیکھا۔ ماں نے سرکو دائیں سے بائیں طرف گھمایا جیسے نماز ختم کرنے پر سلام پھیرتے ہیں۔

وہ ہستی والا تھا۔ ہستی والا۔ کالے نے پھر حیران ہو کر پوچھا۔ یہ ہستی والا کون ہوتا ہے۔ ماں نے جواب دیا اوہ جس کی کئی بستیاں ہوتی ہیں۔ قمقوں والی، امیروں کی بستیاں، لالٹینوں اور دیو ں والی،غریبوں کی بستیاں جھونپڑپٹیاں، ہاں ان سب بستیوں کا وہ مالک ہوتاہے۔۔ جتنی زیادہ بستیاں کا مالک اتنی بڑی ہستی کامالک ہوتاہے۔ جتنی بڑی اور مضبوط ہستی اس کی باہر سے ہوتی ہے اتنا ہی کمزور، بزدل وہ اندر سے ہوتاہے۔ اس لیے اندر کے خوف سے وہ باہر سے مضبوط عمارتیں بناتا جاتاہے۔ پر ماں یہ خوف کیسا؟ ہاں بیٹے۔ مرنے کا خوف۔ پر ماں مرنے کاخوف کیوں ہوتاہے۔ کیونکہ وہ گناہگار ہوتاہے۔ لیکن گناہ تو مذہبی احکام کی خلاف ورزی کو کہتے ہیں۔ وہ تو میں بھی کرتا ہوں۔ کالے نے کہا۔میں بھی بہت زیادہ کرتاہوں۔ اس لیے میں کہتاہوں کہ گناہ کا انعام موت ہے۔ مجھے تو انعام چاہیے۔ چاہے وہ موت ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن ان کے لیے۔کن کے لیے، ماں نے پوچھا بڑے ہستی والے لوگوں کے لیے موت کاقبول کرنا بہت مشکل ہے۔ کتنے جتن کرتے ہیں۔ موت سے بچنے کے لیے۔ سائنس کی،نت نئی ایجادیں،مہنگا سے مہنگا علاج خرید لیتے ہیں۔ تاکہ موت سے بچ سکیں۔ لیکن وہ تو گناہ بھی کرتے ہیں اورموت سے بھی ڈرتے ہیں۔ لیکن گناہ کون نہیں کرتا ہر کوئی کرتاہے۔ اگر ہم کہیں کہ ہم گناہ نہیں کرتے تو ہم اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ہمارے میں سچائی نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ تو پھر کیوں نہ ہم گناہ کو پیار کریں۔ جس کی منزل موت ہے۔ ہمیں ویسے بھی مر ہی جانا چاہیے کیونکہ موت کو کوئی نہیں مار سکتا۔ موت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔

لیکن ماں کیا میں مختلف ہوں۔ ہاں میں بالکل مختلف ہوں۔ بالکل ہوں۔ نہ تو میں سفید انسان ہوں اور نہ ہی میں کالا کتاہوں۔ نہیں بلکہ میں تو انسان بھی ہوں۔ اور حیوان بھی ہوں۔ یعنی میں کتا بھی ہوں اور انسان بھی ہوں۔ پر ماں میں ایسا ہوں کیوں ؟

ماں نے جواب دیا بیٹے تمہیں میں بتاؤں۔ آدم نے مجھے اپنی پسلی کی ہڈی سے بنایاتھا۔ ہم دونوں ہنسی خوشی رہتے تھے۔ لیکن ہمیں منع کیا گیاتھا سب کچھ کھا لینا۔ مگر سیب نہ کھا نا۔ شیطان نے سانپ کے روپ میں ہمیں ورغلایا اور ہم نے جنت کامیوہ کھالیا۔ کسی بھی پھل میں اتنی لذت نہیں تھی جتنی اس جنت کے پھل میں ہے اور پھر ہمیں سزا ملی۔ عورت کانچلا حصہ ہر مہینے خون رونے لگا۔ مرد ہمیشہ عورت کی منتیں کرتا رہے گا، ہم بستر ہونے کے لیے۔ لیکن اس لذیذ پھل کے بدلے یہ سب سزائیں قبول تھیں۔

لیکن۔۔۔۔۔۔لیکن کیا ماں۔۔۔۔۔۔یہ سب کچھ۔۔۔ ماں نے کہا۔سب سزائیں مجھے قبول تھیں۔ لیکن مرد کی بے وفائی مجھے قبول نہ تھی۔ اور میں نے اسے سبق سکھانے کے لیے گاکالے کتے سے محبت کرلی۔ ہم دونوں نے پیار کا کھیل کھیلا۔ یہ کھیل بہت ہی لطف اندوز تھا۔ اس کے نتیجے میں تم پیداہوگئے۔ تمہارا سر اور پچھلا حصہ کالے کتے کی مانند ہے۔ لیکن تمہارا جسم انسانی ہے، لیکن ماں۔۔۔مجھے۔۔۔

مجھے کتا بنناہے یا پھر انسان بنناہے۔ مجھے یہ دوغلا پن بالکل پسند نہیں۔ میں کیا کروں ماں۔۔۔میری عادات تو انسانوں والی ہیں اور نہ ہی میں مکمل طور پر کتاہوں۔ ماں میں جب بھی خوش ہوتا ہوں تو میری دم نہیں ہلتی۔ بھاگتی چیز کے پیچھے مجھے بھاگنا اچھا نہیں لگتا۔ نہ ہی مجھے ہڈی چبانے میں مزا آتاہے۔ میرے کان بھی کھڑے نہیں ہوتے۔ ڈھلکتے ہوئے کانوں کو لوگ تو کاٹ دیتے ہیں۔

ماں نے غور سے سنتے ہوئے کالے کو ایک نصیحت کی ’’میری بات مانو۔ تمیں ایک مہم پر جانا ہو گا۔ ہاں جاوں گا۔ کالے نے سینے پر ہاتھ مارتے ہوے کہا۔تم ایسے کرو یہاں سے دور۔۔۔بہت دور ایک سائیں بابا ہے۔ اس کانام ہے سائیں چٹا۔۔۔کالے نے اپنے آپ کو دیکھنے کی کوشش کی اور اس نام کو دہرایا۔۔۔سائیں چٹا۔۔۔ماں نے کہا سنو!

دور بہت دور۔۔۔اس کا دربار ہے۔۔۔۔وہاں تم چلے جاؤ۔۔۔اس کے دربار کی چار دیواری ایک دروازے سے کھلتی ہے۔

لکڑی کے دروازہ پر ایک کنڈا لٹکتاہے جو دروازے کی چوکھٹ پر لگے آنکڑے میں پھنسا ہے۔ اسے کھول دینا اور اگر تم زندہ رہے اور تمہیں گل گھوٹو نہ ہوا۔ تو پھر تم وہ کنڈا بالکل آرام سے ایسے ہی کھولنا جیسے مچھلی کے منہ میں چبھے کانٹے کو بڑے آرام سے نکالتے ہیں۔ اس کا مطلب ہوگاکہ سائیں چٹا نے تمہیں اندر آنے کی اجازت دے دی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا، اور سائیں چٹا نے تمہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی تو تم پھر وہیں مر جاؤ گے۔ کالا چاروں ٹانگوں پر کھڑا سر کو اوپر اٹھاتے ہوئے بولا۔۔۔ماں مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا کیونکہ موت تو مرنہیں سکتی۔ اور پھر یہ چٹا۔۔۔چٹا سائیں۔۔۔کالے کو پسند کیوں کرے گا۔ وہ تو خود چٹاہے۔۔۔ماں نے جھنجھلاتے ہوئے کہا۔۔۔یہ تم اسی سے پوچھنا۔

کالے نے چٹا سائیں کے دربار کا رخ کیا۔ کافی دنوں کی مسافت کے بعد چٹے سائیں کے دربار جا پہنچا۔ کالے نے چٹا سائیں کے دربار کے باہر جا کر زور زور سے چیخنا شروع کردیا۔
’’کالے مجھے کتا کھالے۔‘‘’’کالے مجھے کتا کھالے۔‘‘

کالے نے چٹے سائیں کے دربار کا کنڈا کھول دیا۔ کالا زندہ رہا۔ نہ تو اس کو گل گھوٹو ہوا اور نہ ہی اس کے دل نے پھولنا اور سکڑنا بند کیا اور اور نہ ہی اس کے دماغ کی شریان نے پٹاخہ بجایا۔ کالا بے دھڑک دروازے کے بٹ کھولے اندر داخل ہوا۔ سامنے برآمد ے کے پار دو کچی اینٹوں کے ستونوں پر کھڑی پڑچھتی کے اندر بہت بڑے کمرے میں سائیں چٹا لنگوٹ پہنے چوکڑی بھر کے بیٹھاتھا۔ اس کے دونوں ہاتھ اس کے گھٹنوں کی چپنی پر چپنی بنا رہے تھے۔ وہ کالے کو دیکھ کے مسکرایا۔

لیکن کالا دوازے سے ہی بآواز بلند چلایا۔ ’’مجھے اچھنبا ہے میں کالا ہوں اورتو چٹا کیوں ہے۔ ‘‘
چٹے سائیں نے بھی بآواز بلند جواب دیا’’میں چٹا نہیں ہوں۔ میں گرد و غبار کے غبارے پر چٹا کوٹ چڑھائے بیٹھاہوں۔ میں وہ آلو بخارا ہوں جس کی کھال سفید ہے۔

اوئے کالے تجھ میں تو سب رنگ ہیں تیرے سب رنگ نکل جائیں تو میں بچتاہوں۔ چٹا صرف بے رنگ۔۔۔چٹا سائیں۔ تو جمع ہے میں تفریق ہوں۔ آؤ ہم آنکھوں کے ڈھیلوں کو بدل لیتے ہیں تمہاری آنکھین کالا دیکھیں اور میں سفید۔ ‘‘

کالے نے اپنے جسم کو جنبش دی۔ ’’پر میں تو دوغلا ہوں۔ ‘‘ میں کتا بھی ہوں، انسان بھی ہوں۔ میں ڈھیلے بدلنے سے بالکل نہ بدلوں گا۔ مجھے انسان بنناہے یا کتا۔‘‘

چٹے سائیں نے اپنے گھٹنے سے ایک ہاتھ اوپر اٹھا کر چسپنی بنے ہاتھ کو سیدھا کیا۔۔۔’’تمہیں کچھ کرناہوگا۔ ‘‘’’مجھے کچھ کرناہوگا۔ ‘‘
’’مجھے کیا کرناہوگا۔‘‘ کالے نے حیران ہو کر پوچھا۔ ’’تجھے کالے کتے کو سات ہڈیاں کھلانی ہوگی۔ ‘‘ سائیں چٹے نے اپنی دوہری کمر کو سیدھا کرتے ہوئے اپنی چوکڑی بھری ٹانگوں کو سیدھا اور لمبا کیا۔ سات ہڈیاں۔۔۔ہاں۔۔۔ہاں سات ہڈیاں۔ اور وہ بھی گناہ کی سات ہڈیاں۔ جو صرف پسلیاں ہوں گی۔ ‘‘ سائیں چٹے نے سانس کو اندر کھینچا اور پھیپھڑوں کی ہڈیاں باہرنکالتے ہوئے کہا۔
’’مرد کی بارہ پسلیاں ہیں۔ پہلے وہ تیرہ ہوتی تھیں۔ اس نے اپنی ایک پسلی سے عورت کو تراشا۔ جس کی وجہ سے سات گناہ پیداہوئے۔‘

کالے نے جواب دیا۔ ’’لیکن میں تو کتا بھی ہوں۔ ‘‘
چٹے سائیں نے سانس باہر نکالتے ہوئے جواب دیا۔
’’اسی لیے تمہارے ایک طرف تیرہ پسلیاں ہیں اور دوسری طرف بارہ۔‘‘
برآمدے میں لگا ہوا نلکا خود بخود چلنے لگا۔ لیکن اس میں سے پانی نہیں نکل رہاتھا۔ صرف ہوا نکل رہی تھی۔ جیسے کالے کتے کے گلے میں ہڈی پھنس گئی ہو۔ اور وہ کافی کھانسی کھانسنے لگاہو۔ اور وہ یہ کہنے کی کوشش کررہاہو۔
’’کالے تجھے کتا کھالے۔ ‘‘

’’ہاں۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔۔تجھے سات گناہ کی ہڈیاں کالے کتے کو کھلانی ہوں گی۔ ‘‘ کالے نے حیران ہو کر پوچھا ’’کیسے گناہ سائیں۔ ‘‘
’’پہلی ہڈی۔۔۔غرور کرنے کاگناہ۔‘‘،’’غرور ‘‘۔۔۔کالے نے تفصیل جاننے کے لیے لفظ غرور کو دہرایا۔ سائیں چٹے نے وضاحت کی۔ ’’غرور۔۔۔تکبر۔۔۔۔۔۔شیخی۔۔۔ناز۔۔۔شوخی۔۔۔گھمنڈ۔

تمہیں وہ رتبہ،مرتبہ مل جائے جس کا گھمنڈ کرو۔ جس کے تم قابل نہ ہو، تو وہ تمہیں نیچا دکھا ئے گی۔‘‘
کالے نے پھر پوچھا سائیں دوسری ہڈی؟؟

چٹے سائیں نے جواب دیا ’’دوسری ہڈی ہے پیسہ کی۔ ‘‘ کالے نے جیب میں اتھ ڈالنے کی کوشش تو اس کی جیب ہی نہیں تھی۔ لیکن اس نے خیالوں میں ہی سکوں کو اپنے پنجوں میں گھمانا شروع کردیا اور پھر اور پوچھا ’’اور۔۔۔۔۔۔‘‘
چٹے سائیں نے جواب دیا ’’تیسری ہڈی عورت۔۔۔‘‘۔۔۔’’عورت ‘‘ کالے نے سائیں چٹے کے ہلتے ہونٹ جو لفظ ع۔ و۔ ر۔ت کہہ رہے تھے۔ غور سے دیکھا اور کہا ’’کیا میں عورت کی تیرہویں پسلی لے کر آؤں۔ جو مرد کی ایک پسلی سے زیادہ رکھتی ہے۔ وہ تو خود مرد کی پسلی ہے اور وہ خود ہی مرد کی۔ مادہ ہے۔ زن ہے، جسم کا وہ حصہ جسے کھولنا موجب شرم ہے۔ ‘‘

چٹے سائیں نے ہونٹوں کو بھینچتے ہوئے ’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’مجھ سے زیادہ وضاحت نہ مانگو۔ ‘‘
کالے نے پوچھا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

۴۔چٹے سائیں نے جواب دیا ’’آزادی کی ہڈی۔‘‘ کالے نے فوراً اپناہاتھ گردن پر پھیرا اورشکر کا سانس لیا کہ اس کے گلے میں پٹہ نہیں تھا اور بڑبڑایا۔

’’رہائی۔۔۔خودمختاری۔۔۔بااختیاری۔۔۔میں تو خود آزادی کی چوکھٹ کا آساں بوس ہوں۔ ‘‘
چٹے سائیں نے اپنا دایاں ہاتھ اوپر اٹھایا اور کہا:۔’’گھر کا بن گھاٹ کا نہ بن۔ ‘‘ کالے نے سرا اوپر نیچے ہلایا۔ ’’میں دھوبی کا آسہ ہوں۔ ‘‘
’’اور۔۔۔اور۔۔۔پانچویں۔ ‘‘

۵۔ چٹے سائیں نے کہا۔ ’’شہرت کی ہڈی۔۔۔وہ ہڈی۔ہڈی لا جو تیری پہچان ہے۔ جس ہڈی سے تو چناہے۔ نہ کہ جس کو تونے نے جناہے۔ جس کی وجہ سے تجھے شہرت ملی ہے۔ ‘‘

کالے نے اپنے سر کو بغیر دم والی پیٹھ کی طرف موڑ کر دائرے میں گھومنا شروع کردیا۔اپنی پیٹھ کا پیچھا کرنا شروع کردیا۔
’’میں تو۔۔۔۔۔۔پر میں تو کتے اورانسان کی ہڈی کے ملاپ سے جناہوں۔ میں انسان ہوں یا حیوان میں اپنے باپ کی ہڈی لاؤں یا ما ں کی۔ چٹے سائیں نے جواب دیا۔ دونوں ہڈی جو غلیل بنانے اور ان دو ہڈیوں کے درمیان بندھے ہوئے ربڑ میں اٹکا وہ ڈھیلا تو ہے۔۔۔جا۔۔۔جا۔۔۔وہ ہڈی لا۔۔۔اور تو اٹھایا جائے گا۔ اس غلیل کی ہڈی کے درمیان سے جس سےاس جہاں سے تو پھینکا گیاتھا۔ اس جہان سے اس دنیا میں۔۔۔اسی کے نام سے تو اٹھایاجائے گا۔ آخرت کے دن وہی تیری شہرت ہے۔ تو وہی چمکتاہوا ستارہ ہے۔ اسی ستارے سے تیری دھوم مچی ہے۔ تیری نیک نامی ہے۔ رسوائی ہے۔ بدنامی ہے تو تو ایک افواہ ہے، تو چرچاہے وہ وہ ہڈی ہے جوبنسری ہے،الغوزہ ہے جس کے بجنے سے میٹھا اور کڑوا شور اٹھتاہے۔

’’اور کون سی ہڈی ‘‘ ہے کالے نے چٹے سائیں سے پوچھا۔

’’چھٹی ہڈی ہے جنس کی ہڈی یہ وہ ہڈی ہے جو اشارہ ہے۔ جو مرد اور عورت کو ایک واردات کرنے کے لیے اکساتی ہے اور وہ واردات ایک اہم واقعہ ہوتاہے۔ سرگزشت ہوتی ہے اور یہ سرگزشت جو بے اختیاری۔۔۔بے اتنای۔۔۔بلاجبر و کراہ ہے۔۔۔یہ طبعی ہے۔ یہ ہے۔ یہ بلا ارادہ ہے۔ یہ تو خود رو پودے کی مانند ہے جو قوت عمل رکھنے کی طاقت رکھتی ہے۔ ایک قوت ہے۔ بس یہ تو قوت آفرین ہے۔ یہ ہڈی قوت کا وہ گھونسلا ہے جس میں زندگی کی بھوک کا چوگا مرد اور عورت دونوں چگتے ہیں۔ شدت سے۔ ہیجان سے، بدمستی سے اور یہ بدمستی وہ انعام ہے جو ان گھونسلے کے تنکوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔ لیکن سائیں بابا میں تو چٹا ہوں۔ انسان اور حیوان کے ملاپ سے بنا ہوں۔
چٹے سائیں نے جواب دیا ’’ہاں تبھی تو تجھے ڈھونڈناہے۔ اس ہڈی کو جو احتجاج ہے۔ اور قیمت لگانی ہے یقین کرناہےتعین کرنا ہے۔ اچھائی کا،کالے نے کہاتو کیا یہ میری ماں کا احتجاج تھا انسانوں کے خلاف۔
’’پتہ نہیں۔۔۔‘‘چٹے سائیں نے کہا۔ تبھی تو تمہیں ڈھونڈناہے۔ اس ہڈی کو۔

کالے نے پوچھا ’’ساتویں ہڈی کون سی ہے۔ ‘‘ ہاں چٹے سائیں نے جواب دیا ’’قہر و غضب۔ بغض و خلق کی ہڈی۔۔۔جسے غصے کی ہڈی بھی کہتے ہیں۔ جسے کنٹرول کرنابہت مشکل ہوتاہے۔ اگر اس پر قابو نہ پاسکو تو یہ اپنے آپ کو تباہ کرتی ہے۔یہ بالکل لکڑی کے مڑے ہوئے اس کی لکڑی کی مانند ہوتی ہے۔ جس سے آسٹریلیا کے لوگ کھیل کھیلتے ہیں۔ جسے پھینکنے کے بغیر پھینکنے والے کے پاس واپس آجاتی ہے۔ اگر یہ نشانے پر نہ لگے تو یہ پھینکنے والے کو آلگتی ہے۔ اور اس کا درد اندرونی بھی ہوتاہےاور بیرونی بھی۔
اور اس کا گناہ اندرونی اور بیرونی حالتوں میں بھینچ لیتاہے۔ اگر اس کے اسلوبی بیان کا راگ جذباتی ہو تو یہ خدا کے دیے ہوئے زندگی کے حصے کو رد کردیتاہے۔ ‘‘

کالے نے دونوں آنکھوں کو چٹے سائیں پر مرکوز کرتے ہوئے کہا۔ وہ اس کی شکل دیکھنی ہو تو انسان کتے والے سر کا ہوتاہے۔ اور جب یہ غصے میں آتاہے تو ان کی آنکھیں چہرے سے اُتر کر سینے پر آلگتی ہیں۔ اور سر جسم کے اندر دھنس جاتاہے اور غائب ہوجاتاہے۔ بالکل ایسے جیسے مسجد کے سرسے گنبد غائب ہوجاتے ہیں۔ مسجد، مسجد کے بغیر رہ جائے۔ یہ سب کچھ تب ہوتاہے جب پر امن رہنے کا غصہ مطلوب و مرغوب ہو۔ جو تمہارے پڑوسی کے پاس ہو اسے دیکھ کر۔ اس سے تمہاری آنکھیں سِل جاتی ہیں۔ سوئی دھاگے سے۔ جب تم افسوس کرو پڑوسی کی چیز کو اپنانے کے لیے۔ ‘‘

کالا یہ سب ہڈیاں لینے کے لیے نکل کھڑاہوا۔ سڑک سے چلنے والے بچے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرنے لگے۔
بہت اونچی اونچی عمارتوں کے وسط میں دو بہت بلند وبالا عمارتیں جس کی بنیادوں روپے نوٹوں اور بانڈز کے چھپے ہوئے کاغذوں پر رکھی تھیں۔

دروازے پر گھومتی ہوئی فرانسیسی طرز کی موٹی مونچھوں والا دربان جس کے لباس کی تراش و طبع۔یورپ کے شاہی دربان جیسی تھیں۔ جو بادشاہ سلامت کی کمر پر لٹکتی ہوتی ہے۔ لباس کو جھاڑو دینے سے بچانے کے لیے اٹھا رکھتا ہے۔ لیکن یہ دربان لمبے قد کاتھا۔ کالے کا دل چاہاکہ اپنی دائیں ٹانگ اٹھا کر اس دربان پر چٹے سائیں کی ساری باتیں نکال دے۔ لیکن اس کی گول بل کھاتی سانپ کی کنڈلی نما مونچوں میں اس کا سرگھوم گیا۔

دربان نے سرجھکا کر اسے اندر جانے کا راستہ دکھایا۔ سامنے بالکل سامنے معلومات والے ڈیسک پر ایک بہت ہی خوبصورت سنہری بالوں والی باکرہ بیٹھی مسکرا رہی تھی۔ کالے نے پوچھناچاہا،تم بن بیاہی ہو۔ لیکن جیسے ہی اس نے اپنے ہی پھیپھڑوں میں کھجلی ہوتی۔ کالے نے ہاتھ لگا کے دیکھا تو اس کی ایک پسلی کم ہوگئی تھی۔ کالے نے اس سے پوچھا۔

’’مجھے سات ہڈیاں چاہئیں۔ ‘‘ سنہری بالوں والی دوشیزہ نے بائیں جانب اشارہ کیا اپنی موٹی موٹی آنکھیں مٹکاتے ہوئے۔ کالے نے ایک شیشہ کاڈبہ نما کمرھ دیکھا۔ خود کار دروازے قدموں کی آہٹ محسوس کرتے ہی کھل گئے۔ شیشے کا کاڈبہ نما کمرہ تیزی سے بدلتے نمبروں کو گنے بغیر ایک منزل پر جا کر رک گیا۔ سامنے تنگ ملبوس میں جکڑا ایک دبلا پتلا پھولے بالوں کا جوان چہرے پر مسکراہٹ سجائے ٹیڈی بالم نے استقبالیہ آنکھوں سے بیٹھنے کی التجا کی اپنے ہونٹوں پر انگریزی کے لفظ یوں پھینکے جیسے ۱۹۷۰ء کاٹائپ رائٹر ایک ایک ہندسہ کو پھٹاک پھٹاک کی آواز سے کاغذ کی سطح پر ڈینٹ ڈال رہاہو۔ May I Help you.

کالے نے گلہ صاف کرتے ہوئے دائیں باتیں دیکھ کررازدارانہ انداز میں دریافت کیا۔مجھے سات ہڈیاں درکار ہیں۔۔۔پیمنٹ Paymentکیسے کریں گے۔ کیش یا کریڈٹ کارڈ سے۔۔۔ٹیڈی بالم نے اپنی ٹیڈی ٹائی کو پتلون کی کمر سے سجی Loveلیٹر زوالے بکل کے نیچے ایسڑتے ہوئے پوچھا۔ کالا بھونچکا سا گیا۔ میرے پاس تو کیش نہیں ہے اور نہ ہی کریڈ ٹ کارڈ۔

ٹیڈی بالم نے پھر مسکراہٹ کو اپنے ہونٹوں پر بکھیرا۔ نو پرابلم تم کچھ گروی رکھ کے مارگیج لے لو۔

کالا پھر مچلا۔۔۔پر میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ گروی رکھنے کے لیے۔ ٹیڈی بالم نے پھر مسکراہٹ کو ہونٹوں پر پھیلایا۔ نو پرابلم تم اپنی روح کو گروی رکھ سکتے ہو۔ کالا بہت خوش ہوا۔ ارے واہ رو ح کے بھی دام لگتے ہیں۔

’’ہاں،بالکل۔۔۔‘‘ ٹیڈی بالم نے جواب دیا۔ وہی سب سے مہنگے داموں پے گروی رکھی جاسکتی ہے۔

ٹیڈی بالم نے ایک لمبی سی درخواست سامنے رکھ دی۔ جس پر لمبے چوڑے قواعد و ضوابط لکھے تھے۔ کالے کو ضرور ت تھی۔ اس نے بغیر پڑھے لکھ ے agree والےخانے پر اچھائی کا نشان لگایا۔ نیچے والی جگہ پر دستخط اپنے نام کے ساتھ کردیے۔ ٹیڈی بالم نے اپنےڈیسک کے نیچے لگے بٹن کو دبایا اور ایک اور سنہری بالوں والی باکرہ رانوں سے اوپر سکرٹ پہنے ہائی ہیل میں مٹکتی ایک امریکن ایکسپرس کا ڈبہ کالے کو تھما دیا۔

کالے ڈبہ کھول کر تسلی کرلی کہ اس میں سات ہڈیاں موجود تھیں۔

کالا تمام ہڈیاں لے کر چٹے سائیں کے دربار پر گیا۔ چٹے سائیں نے کالے کو اپنے دربار کے پچھوڑے جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کالےکتے کی طرف بھجوادیا۔ وہ کالا کتا جو چینی نئے سال کے شروع ہونے کے ہی دو دن پہلے پیدا ہوا تھا۔

کالے نے ساتوں ہڈیاں ایک ایک کرکے کالے کتے کو کھلا دیں۔ کالے کتے نے اپنا منہ آسمان کی طرف کرکے زور سے آؤں۔۔۔کی آواز نکالی۔ کالے کا جسم آہستہ آہستہ انسانی جسم میں بدلنا شروع ہوگیا اور چند ہی لمحوں میں وہ مکمل انسان ہوگیا۔

جیسے ہی وہ چلنے لگا اسے ایک ہلکا سا جھٹکا محسوس ہوا اور اسے ہلکا ہلکا سرور آنے لگا۔ جیسے بھنگ پی کے آیاہو۔ اس کا سر گھومنے لگا۔ اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ عین کانوں کے اوپر سے اسے محسوس ہواکہ اس کے دو چھوٹے چھوٹے سینگ نکل آئے ہیں اور بالکل اس کے سامنے سرخ چہرے اور جسم پر سرخ لباس زیب تن کیے سرخ رنگ کا شیطان ہاتھ میں سرخ رنگ کی جمع بندی تھامے کھڑاتھا۔ اس نے سرخ رنگ کے قلم کے نب کو اپنے تھوک سے نم کیا اور جمع بندی کے صفحے پر کالے کے نام کے آگے اچھے ہونے کانشان لگاتے ہوئے زور داد قہقہہ لگایا۔

’’کالے۔۔۔تجھے کتا کھالے۔‘‘

Categories
فکشن

نوح، فاختہ اورکبوتر باز

خدانے بادلوں کو دھکیل کر آسمان اور زمین کے درمیان کے راستے کو صاف کر دیااور خدا کی آواز سورج کی کرنوں کے ساتھ مسافت طے کرتی ہوئی حضرت نوح علیہ السلام کے کانوں سے جا ٹکرائی۔ وہ آواز حکم نہیں تھا۔ بلکہ مشورہ تھا۔ خدا کے عذاب سے اْن بے گناہوں کو بچانے کا۔ اس زمین کو دھودیا جائے۔ گناہوں کی میل کو نکال نچوڑ پھینک دیا جائے۔خدا کا ایک فیصلہ تھا۔حضرت نوح علیہ السلام سجدے میں گر گئے اور خدا کے فرمان کے ایک ایک لفظ کو جمع کرنے لگ گئے جیسے کسی ملک کا وزیرخزانہ غلے کی ذخیرہ اندوزی کرلیتاہے۔ کسی بہت بڑے طوفان کی آمد سے پہلے ایک محفوظ جگہ پر اکٹھا کر لیتا ہے۔

 

خدا نے مشورہ دیا سفینہ حیات عمل میں لاؤ۔ ایک بڑی کشتی کو وجود دو۔ حضرت نوح علیہ السلام شش و پنج میں کھو گئے۔ اتنی بڑی کشتی کیسے بناوں گا؟ خدا نے حضرت نوح کی پشیمانی کو سمجھتے ہوئے کہا۔ ہم نے تجھے جس کام کے لیے چناہے ہم وسیلہ بھی مہیا کردیں گے۔ یہ کشتی ساگوان کے درخت سے تشکیل دینا۔ ساگوان اور زمین کے کان کھڑے ہوئے۔ اور اسی وقت زمین نے حضرت نوح علیہ السلام کے ارد گرد اپنے جسم پر گھاس کپاس کی جگہ ساگوان کو پلک جھپکتے اُگا کر بہت بڑا جنگل کھڑا کر دیا۔

 

خدا نے کہا ساگوان کی لکڑی سے پرندے کا پیٹ بنا لینا۔ یہ اس لیے پیٹ کو سب سے محفوظ جگہ بنادیا گیا ہے کہ ماں اپنے بچے کو اپنی زندگی سے زیادہ محفوظ کر لیتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔انسانوں کے گناہ کی سزا معصوم جانوروں کو کیوں ملے۔ انسان نے لالچ کیا طمع کیا اور اپنی بھوک مٹانے کے لیے اپنے ہی جنے ہوئے بچوں کو چبانے لگی۔

 

تو پھر سب کچھ مٹادیا جاتا ہے۔ تباہی ایسی تباہی جو جنم دے۔ اتحاد کی ماں کو اور وہ ما ں پھر جنم دے محبت کو، امن کو، سکون کو، خوشحالی کو، صلح کو، پناہ کو۔

 

حضرت نوح نے کالی پہاڑی کوے کو زیتون کی ٹہنی دی اور کہاکہ امن کا یہ پیغام تم لے جاؤ اور دنیا کو بتادو۔ اس دنیا میں گناہ اور گناہ گار کو مٹا دیا جائے گا۔ پھر نئے سرے سے یہ دنیا گناہوں سے پاک ہو کر اُٹھے گی۔
اورحضرت نوحؑ خدا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے کام میں جت گئے۔ ایک بہت بڑی کشتی بنانے لگے۔ اتنی بڑی کہ جس میں تمام چرند پرند انسان حیوان سماسکیں۔ اور اپنے آپ کو قہر خدا سے بچاسکیں۔

 

پرندے کے شکم نما وجو بنانے میں مصروف ہوگئے۔ تاریخ کے سب سے بڑے طوفان جو قہر غضب ہے اس سے لڑ سکے۔ پرندے کے شکم نما بیڑے کو تین بڑے بڑے حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس کی تین مشترکہ عمارتیں نما کشتی کی ایک منزل میں جنگلی اور خونخوار کے لیے وقف کیا۔ دوسرے حصے میں پالتو جانوروں کا قیام کابندوبست کیاگیا۔ دوسری منزل انسانوں کے لیے وقف کردی گئی۔ اور تیسری منزل پر پرندوں کابسیرا طے پایا گیا۔ سب سے اوپر والے حصے پر حضرت نوح کے اگلے حصے میں انکے بیٹے اوج کو جگہ دے دی گئی۔ اوج واحد جن تھے جن کو سفینہ نوح میں پناہ ملی۔ تینوں حصوں کو تین پیغمبروں کے نام سے منسوب کردیاگیا۔ حضرت آدم نے انسانوں کے لیے کشتی کے درمیانی حصے کو چنا۔ جو تقسیم کردیا دو حصوں میں۔ عورتوں اور مردوں کے درمیان ایک راستہ نکال دیا۔

 

اللہ کے نام سے ہی سفینہ نوح اپنی زندگی کے سفر کاآغاز کرے گااور اسی کے نام سے اختتام۔
حضرت نوح ؑ نے پانچ سے چھ مہینے اس سفینہ حیات میں گزارے۔

 

زندگی کے اس سفر کے اختتام پر جب حضرت نوح ؑ نے کوے کوواپس سفینہ نوح پر آتے دیکھا تو جس کی چونچ میں زیتون کی ٹہنی کی بجائے مردار گیدڑ کے گوشت کے ریشے تھے۔ غصے سے آگ بگولا ہوئے۔ ’’لعنت ہو تم پر، تم لالچی ہو، حرصی ہو۔ تم میرا امن کاپیغام دنیا تک پہنچانے میں ناکام ہوئے۔ تم نےراستے میں مردہ گیدڑ دیکھا اور امن کانشان زیتون کی ٹہنی کو چھوڑ کر اپنی پیٹ کی بھوک مٹانے لگ گئے۔ “

 

حضرت نوح علیہ السلام نے فاختہ کوبلایا اور کہاکہ تم انسانوں سے محبت کرنے والا پرندہ ہو۔ ا ور یہ لو۔ زیتون کی اک ٹہنی جو پتوں سمیت تھی کو توڑ کر فاختہ کو دیتے ہوئے کہا۔

 

جاؤ تم امن کا پیغام دنیا کو پہنچانا خدا تمہارا حامی و ناصر ہو گا۔

 

فاختہ کے لیے اصل سفینہ نوح تو اب شروع ہواتھا۔ اس کے ذمے ایک پیغام تھا جو اس نے دنیاکو پہنچاناتھا۔ یہ پیغام اس کی زندگی سے زیادہ اہم تھا۔ اسے فخر محسوس ہو رہاتھا۔ مجھےچنا گیاہے کہ میں انسانیت کی بقا کے لیے ایک امن کا پیغام لے کر انسانوں سے دوستی کا حق ادا کرسکوں۔ مجھے سب پرندوں میں سے افضل اور چنا گیاہے کہ میں اس عظیم عمل کو پورا کروں۔

 

فاختہ کو یوں لگ رہاتھاکہ دنیا میں سب صوفیاؤں نے اپنے درباروں کے دروازے اس کے لیے کھول دیے ہیں۔ اپنے گنبدوں کو اجازت دے دی ہےمیرے فاختالی رنگوں کو اپنے سبز رنگ میں نمایاں کرنے کی۔

 

ننھی سی فاختہ امن کے زہتونی پرچم کو چونچ میں دبائے پھڑپھڑاتی اڑتی چلی گئی۔ سمندری طوفانوں کے منہ زور تھپیڑے اس کی ہمت کے آگے کچھ بھی نہ تھے۔ وہ اڑتی رہی اڑتی رہی۔ طوفان اور ہوا کی کچھ ایسی قاری ضرب لگی کہ نہ جانے یورپ کے اس حصے میں جا پہنچی جہاں فوجی وردی میں ایک چھوٹے قد کاانسان۔ قدآور خدا سے مقابلہ کرنے پر تُلا ہوا تھا۔ ٹینک اور فوجی مشقیں اس کے حکم کے انتظار میں انسانوں کو کچلنے کے لیے تیار کھڑی تھیں۔ اس نے اپنی ناپسندیدہ قوم کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ خود اپنی موت خودہی مرگیا۔

 

فاختہ اڑتی ہوئی جاپان جا پہنچی جہاں دنیا کی ایک بڑی طاقت نے دوسری طاقت کو سبق سکھانے کہلیےایٹم بم پھینکے۔ فاختہ دیکھ رہی تھی۔ ایک طوفان ا ٹھا تھا برقی شعاعوں کا جو مقناطیسی موجوں کی مدد سے مادے کو ذروں میں منقسم کر تا ہو انسان چرند پرند نباتات کو بے جان ذروں میں منتقل کر رہی تھیں اور چند لمحوں میں ایک نفرین کی بوچھاڑ اور ایک بڑے جکھڑ نے فلک بوس عمارتوں کو ایک چٹیل میدان بنا دیا۔لیکن پھر بھی وہ طوفان نوح جیسا طافان نہ تھا۔ پھر بھی لوگ بچ گیے تھے۔

 

پھر فاختہ زیتون کی ٹہنی دبائے اُڑتی اُڑتی نہ جانے ایشیا کے ایسے خطے میں آن پہنچی جہاں سینکڑوں، ہزاروں دس ہزاروں لوگ اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر دوسرے کے چھوڑے ہوے گھروں میں بسنے کے لیے ہجرت کررہے تھے۔ ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں۔ سرحد کی کھینچی ہوئی خار دار تار پر بیٹھ کر فا ختہ کا رونے کو اس کا دل چاہا۔ لیکن اسے اپنا مقصد یاد تھا۔ اوپر آسمان کی طرف اڑنا شروع کردیا۔ اپنے سفید رنگ کے امن کا پرچم پھڑپڑھاتا نظر آیا۔ وہ جھنڈے کی چوٹی پر بیٹھ کر گوں، گوں، گوں کرکے حضرت نوح کا دیا ہوا پیغام پہچانا چاہتی تھی۔ ابھی جھنڈے کی جانب اڑ ہی رہی تھی کہ گولیوں کی بوچھاڑ سے جھنڈ ا زمین پر آن گرا۔ چھریوں، برچھیوں نے جھنڈے کا ریزہ ریزہ کر دیا گیا۔ اپنے منہ میں دبائے ہوئے زیتون کی ٹہنی جو امن کی ٹہنی تھی۔ منہ میں دباتی کبھی اپنے پنجے سے امن کا ایک ہر ابھرا پتہ سکون پناہ صلح کا سندیسہ ساتھ لیے آسمان پر تیرتے ہوئے بادلوں کے ساتھ تیرتی کہاں سے کہاں جا پہنچی۔ ہوائیں ہمیشہ اسے وہاں دھکیل دیتی جہاں اس کو امن کا پیغام پہنچانا ہوتاتھا۔ وہ اس مقام پر پہنچی جہاں انسانیت ظلم کے تیز دھار تلوار کی نوک پر دم توڑ رہی تھی۔ جہاں حاملہ ماؤں کو ٹینکوں کے آہنی تیشے کچل رہے تھے۔ فلسطین کے گھروں کو روندتے ہوئے اسرائیلی ٹینک کی چڑھائی کا تماشہ دنیا تو دیکھ رہی تھی لیکن اس فاختہ سے یہ منظر نہ دیکھا گیا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ ان ٹینکوں سے گولے برساتی نالیوں کے منہ پر اپنا پنجہ رکھ دے۔ فاختہ ایک ٹینک کی نالی پر جا بیٹھی۔ ٹینک نے جب گولہ برسایا تو ٹینک کی نالی بارو کی تپش سے دیکھتے ہوئے کوئلے کی طرح سرخ ہوگئی۔ بیچاری فاختہ کے دونوں پنجے جل گئے اور چیخ سے اس کے منہ سے امن کی ٹہنی گر گئی۔ اس کے لیے جان دینا تو آسان تھا لیکن جان بچا کر پیغام پہنچانا زیادہ ضروری تھا۔ وہاں سے اڑتی اڑتی مشرق وسطی کی کسی عرب امارات کی ریاست میں ایک بہت بڑی مسجد کے تالاب سیے اپنے جلے ہوئے پنجوں کو ٹھنڈے پانی میں بھگونے کے لیے تالاب کے پانی میں اتر کر تیرنے لگی۔

 

کھلو اس زخمی فاختہ کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ اس بیچاری کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔ کھلو کا اصل نام خالد تھا۔ وہ پاکستان کے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتاتھا۔ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے یہاں محنت مزدوری کرنے آیا ہواتھا۔ کام سے فارغ ہو کر مسجد کے تالاب پر آکرکبوتروں کو دانہ ڈالتا، ان کی دیکھ بھال کرتا۔ کھلو اپنے شہر کامشہور کبوتر باز تھا۔ کبوتربازی کے شوق میں وہ بالکل نہ پڑھ سکا۔ اکیلے سارا سارا دن کوٹھے کی چھت پر اپنے پالتو کبوتروں کی ٹولی کو آسمانوں سے اڑاتا۔ اس کی کبوتروں کی ٹولی دوسرے کبوتروں میں گھل مل کر کئی کبوتروں کو اپنی ٹولی میں ساتھ لے آتے۔ جبھٹ کر کھلو اجنبی کبوتروں کو پکڑ کر ان کے پر دھاگے سے باندھ دیتا۔ ہمیشہ فخر سے کبوتربازوں کو نسخہ بتاتااگر کبوتر کو گردان کرنا ہو تو اسے ہر روز موتی چور کے لڈوکے دانے کھلا دو۔ تمہارا گھر نہیں چھوڑیں گے۔ وہ اپنے بیمار کبوتروں کا علاج بھی کرلیتا۔ اسی وجہ سے جو کبوتر اس کی ٹولی میں شامل ہوتا کبھی وہاں سے نہ جاتا۔ اس کے گھر کی مٹی سے بنے ہوئے کبوتروں کے کُھڈے میں جنگلی کبوتروں سے لے کر جھونسے۔چنیے۔لکے۔کل سرےٹیڈی قصوری کبوتر تھے۔ اسے کبوتروں سے عشق تھا۔ وہ کبوتروں کے کبوتروں کے پاوں میں سونے اور چاندی کے گھنگرو باندھتا۔ایک دفعہ تو کبوتر خریدنے کے لیے اپنی بیوی کے زیور تک بیچ دئیئے۔ اس عشق میں میٹرک کے امتحان میں فیل ہوگیا۔ لیکن کبوتربازی سے اسے اتنی آمدنی تھی وہ آرام سے گزر بسر کر لیتا تھا۔ کیونکہ وہ جو بھی کبوتر بیچتا وہ کچھ دنوں بعد اُڑکر اس کے گھر آجاتا۔ جب اس نے زخمی فاختہ کو دیکھا تو فوراً اس نے فاختہ کے پیچھے سے جاکے جھپٹ کر پکڑ لیا۔ اپنے منہ کے لعاب سے زخمی فاختہ کے پنجوں پر لگادیا اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا کمرے میں دروازہ بند کرکے ہلدی اورشہد کے ملاپ سے مرہم بنا کر فاختہ کے پنجوں پر لگا کر اپنی پرانی قمیض کی چھوٹی سی پٹی پنجوں پر باندھ کر اس کاعلاج کرنا شروع کردیا۔

 

وہ ہمیشہ اپنی بیوی کو کہا کرتا تمہاری آنکھیں فاختہ کی طرح ہیں۔جب تم چلتی ہو تو جیسے فاختہ گنگنا رہی ہو۔جو غصے اور شدت سے عاری ہےجو محبت اور خوبصورتی سے بھرپور ہیں۔ جو مجھے چاہت اور معصومیت سے دیکھتی ہیں۔سرِ تسنیم خم خم کرتی رکھتی ہے۔

 

وہ اپنی بیوی کو کہتا تم فاختہ کی طرح شرمیلی ہو۔ جب تم بولتی ہو تو لگتاہے فاختہ جنگل کے سائے میں ہوں ہوں کر رہی ہے۔ تمہاری آواز ٹھنڈ ک بخشتی ہے۔ وہ ننھی فاختہ کو دیکھتا رہتا اور فاختہ بھی اسے حیرانی سے پیاربھری نگاہوں سے سر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پر جنبش دے کر تکتی رہتی۔ فاختہ بالکل کھلو سے نہیں ڈرتی تھی۔اسے محسن کے ہاتھوں گرمائش میں اسےایک سکون ملتاتھا۔

 

وہ اس کے منہ کو تکتی رہتی اس کی مسکراہٹ کھلو محسوس کرلیتا تھا۔ وہ اسے بتانا چاہتی تھی۔ مجھے ایک بہت اہم فرض سونپاگیاہے۔ مجھے ہر حالت میں بھی اپنا فرض پوراکرناہے۔ اس کی آنکھوں میں تیرتے ہوئے آنسو سب کچھ تو نہیں لیکن کھلو کو ا تنا سمجھا سکے کہ فاختہ یہاں نہیں رہنا چاہتی۔ کھلو اسے کہتا تمہارے پنجے ٹھیک ہوجائیں میں تمہیں تالاب میں چھوڑ دوں گا۔ لیکن اس کی آنکھوں کے تر آنسوؤں نے کھلو کو مجبور کردیا کہ میں اسے اسی حالت میں تالاب پر لے جآئے ۔ کھلو نے ویسا ہی کیا اور فاختہ کو پنجوں پر پٹیاں بندھے ہوئے تالاب پر لے گیا۔ اور اسے وہاں چھوڑ دیا۔ اپنی نوکری کو بھی خیر باد کہہ کر سارا دن فاختہ کی دیکھ بھال کرتا۔ تالا ب کے سب کبوترکھلو کے اردگرد جمع رہتے۔ جیسے وہ ان کا بہت اچھا دوست ہو۔ مالک شیخ نے کھلو کا والہانہ عشق دیکھ کر اسے مسجد میں کبوتروں کی دیکھ بھال کے لیے نوکر رکھ لیا۔

 

ایک بہت ہی خوبصورت کبوتر فاختہ کو دیکھتا رہتا کہ یہ بیچاری چل نہیں سکتی ایک جگہ بیٹھی رہتی ہے ہر روز اس کے پاس جا کر بیٹھ جاتاہے۔ ایک دن اس نے اسے کہہ ہی دیا کہ کچھ حسین حادثات ستاروں سے لٹک کر نیچے اُتر آتے ہیں۔ لیکن کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے اس زمین کو اس کی تپش برداشت کرنے کی سکت نہیں ہے۔ کیا زمین نےتیرے حسن کی گرمائش سے تیرے ہی پنجوں کو جلا دیا۔ فاختہ شرماکے مسکرانے لگی۔ ہنستے ہوئے بولی میں تو خود برفیلی فاختہ کو وں کے غول میں پھنس گئی ہوں۔ جلتی زمین میرے پیار سے ٹھنڈی پڑ جاتی ہے۔ مشعل کی جلتی روشن آگ جلے بھی تو چمک دیتی ہے۔ اس میں نفرت کے لیے اتنا کچھ دیا جاتاہے کبھی کسی نے محبت اور امن کے لیے بھی کچھ کیا؟۔ کبوتر نے کہا میرے پنجوں کو ہونٹ سمجھ اور اس نے اپنے پنجے فاختہ کے پٹی سے لپٹے پنجوں پر رکھ دیے۔ دونوں بہت دیر تک ایک دوسرے کو دیکھتے سروں کو ہلکے سے جھٹکوں سے مختلف زاویوں پر رکھ کر دیکھتے رہے اور فاختہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی میرے ہونٹ میرے دل کی طرح زخمی ہیں۔ یہ دنیا ہر روز اپنے ظلم وستم سے میرے دل کو زخمی کرتی رہتی ہے۔ کبوتر نے اپنی چونچ کو فاختہ کی چونچ کے ساتھ یوں ملایا جیسے دونوں ایک دوسرے کے رخساروں کو چھو رہے ہوں۔ آج سے مجھے اپنے غموں میں شریک سمجھنا۔ دونوں نے مل کر عہد کیا کہ ہم دونوں امن کاپیغام جو حضرت نوح علیہ السلام نے میرے ذمے سونپا تھا پوری دنیا تک پہنچائیں گے۔ لیکن فاختہ کی آنکھیں پھر تر ہوگئیں۔ مجھ سے امن کا جھنڈ ا زیتون کی ٹہنی کھو گئی ہے۔ کبوتر نے اسے تسلی دی تم فکر نہ کرو میں ڈھونڈ نکالوں گا۔ فاختہ کو محسوس ہواکہ یہ کبوتر اس کی روح کاساتھی ہے۔ کبوتر اور کھلو اس کابہت خیال کرتے۔ کھلو باقاعدگی سے اس کی پٹی بدلتا اور اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی مرہم اس کے جلے ہوئے تلوؤں پر لگاتا۔

 

کھلو جیسے ہی مسجد میں داخل ہوتا سب کبوتر اس کے اردگرد جمع ہوجاتے کوئی اس کے کندھے پر بیٹھ جاتےکوئی اس کے سر پر۔ کھلو بھی اپنا منہ پھلا کر اوں اوں کی آوازیں نکال کبوتروں سے باتیں کرتا۔ نومولود کبوتروں کے بچوں کو اپنے منہ میں گندم کے دانے بھر کر انہیں ماں کی طرح چوگا چوگاتا۔ فاختہ سے اسے والہانہ محبت تھی۔ اسے ایسے دیکھتا جیسے اپنی بیگم کو دیکھتا ایک دن اس نے دیکھا کہ فاختہ اپنی چونچ سے پنجوں پر بندھی ہوئی پٹی کو کھولنے کی کوشش کررہی تھی۔ کھلو نے بھاگ کر پٹی کھول دی تو خوشی کی انتہانہ رہی۔ فاختہ کے پنجے بالکل ٹھیک ہوگئے تھے۔ وہ چوکڑیاں بھرتی چھم چھم کرتی مورتی کی طرح ناچ رہی تھی، گا رہی تھی، بہت سارے کبوترفرداً اپنااپنا منہ پھلا ے سینہ تانے فاختہ کے گرد ٹہلتے اور محبت کا پیغام سرکو جھکا کر دیتے۔ لیکن فاختہ سب کے پیغاموں کو رد کردیتی جب کوئی بدمعاش کبوتر فاختہ کو بہت تنگ کرتا تو کھلو بدمعاش کبوتر کو بھگا دیتا۔
“بدمعاش کہیں کے جب وہ تمہیں پسند نہیں کرتی کیوں اسے تنگ کرتے ہو۔ ویسے بھی وہ فاختہ ہے کبوتری تھوڑی ہے۔ مجھے پتہ ہے تمہاری چچا زاد ہے۔ تمہارا تعلق جائز ہے لیکن اس میں فاختہ کی رضا مندی بہت ضروری ہے۔ لیکن فاختہ کو اس دوست چینا کبوتر بہت پسند تھا۔ کھلو سمجھ گیا۔ فاختہ اس چینے کبوتر کو پسند کرتی ہے۔ کھلو نے دونوں کو اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیا۔ دونوں کواپنے ہاتھوں سے پیار کرنے لگا۔ جیسے وہ اپنے بچوں کو گود میں اٹھایا کرتا تھا۔ بہت دیراوں اوں کرتا رہا۔ جیسے دونوں کواشیرواد دے رہاہو یا دونوں کا نکاح پڑھا رہا ہو۔

 

کھلو نے دونوں کو ہوا میں اڑا دیا۔ دونوں اڑتے اڑتے ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے۔ کبوتر نے دوسرے کبوتروں کی سینہ پھلاکر سرکو جھکا یا فاختہ سے رضامندی پوچھی تو فاختہ نے اپنی خوبصورت مخمور آنکھیں بند کرکے سرجھکا لیا۔ فاختہ نے رضا مندی ظاہر کردی ہے۔ دونوں بہت خوش تھے۔ دونوں میاں بیوی کی طرح ایک دوسرے کا خیال رکھتے۔ کھلو نے جب دونوں کو اکٹھے دیکھا تو بہت خوش ہوا اور سمجھ گیاکہ فاختہ کو اس کا ساتھی مل گیا ہے۔ کھلو کو اپنے بیوی بچے بہت یاد آتے۔ یا تو خدا نے اس کے بچوں اور بیوی کی دعاسن لی تھی کیونکہ اگلے ہی دن مسجد کے شیخ نے اسے کہاتمہارا نوکری کامعاہدہ ختم ہوگیا ہے تمہیں واپس جانا ہوگا۔ لیکن کھلو نے شیخ سے التجا کی کہ مجھے فاختہ اور کبوتر کو ساتھ لے جانے کی اجازت دے دو۔ جسے شیخ نے باخوشی قبول کر لیا۔

 

کبوتر کو اپنا فاختہ سے کیا ہوا وعدہ اچھی طرح یاد تھا۔ وہ روز زیتون کے درخت ڈھونڈتا۔ لیکن اس ریگستان میں پتھروں کی عمارتوں کا جنگل تو تھا لیکن زیتون کے درخت کا دور دور کہیں نشان نہ ملتا۔ لیکن ایک پرچون کے بہت بڑے گودام میں اسے ایک زیتون کےبیجوں کی بوری کی خوشبو نے کبوتر کو اپنی طرف کھینچا۔ وہ اڑتاپھڑپھڑاتا گودام میں جاپہنچا اور اپنی چونچ سے بوری کو پھاڑنے لگا۔ چھوٹی سی چونچ پٹ سن کے موٹے دھاگوں سے بنی ہوئی بوری پر لگی ہوئی ضربیں اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکتی تھیں۔ لیکن فاختہ سے عشق نے اس میں بہت سی طاقت انڈیل دی تھی۔ اور وہ لگاتا چونچ کے پے درپے واروں سے بوری کو پھاڑنے میں جتا رہا۔ تھک ہارکر ہانپنے لگا۔ سانس لے کر پھر بوری کے اسی خاص مقام چونچ کو ہتھوڑا بنائے ضربوں کی بوچھا ڑ کردی۔ اور وہ بوری کو پھاڑنے میں کامیاب ہوگیا۔ کچھ دیر بیٹھ کر آرام کرنے کے بعد اس نے زیتون کے بیجوں کو چگنا شروع کردیا۔ کھا کھا کر اپنے گردن کے نیچے پوٹے کو پھلا لیا۔ جیسے اس کی سانس بندہونے لگی ہو۔

 

وہاں سے اڑکر فاختہ کے پاس آیا۔ فاختہ اس کاپھولا ہوا پیٹ دیکھ کر حیران ہوئی تم کہاں تھے۔ کہیں نہیں بس زیتون کے درخت ڈھونڈ رہا تھا۔

 

فاختہ ہنسنے لگی یہاں ریگستان میں تمہیں درخت کہاں ملیں گے۔ اسی لمحے کھلو دونوں کے پاس آیا دونوں کو پیار کرنے لگا۔ پیار کے بہانے دونوں کو پکڑ کر ایک تاروں کے پنجرے میں بند کردیا۔ دونوں کو بہت غصہ آیا۔ تم بھی دوسرے انسانوں کی طرح ہو۔ جو آزادی کو سلب کرکے خوش ہوتے ہو۔ تمہاری فطرت میں ہی ہے۔ فاختہ بہت چلائی مجھے تو پیغام پہنچانا ہے دنیا کو مجھے پنجرے میں قید نہ کرو۔

 

لیکن کھلوبے زبانوں کو کیا سمجھاتا کہ میں تو تم سے محبت کرتاہوں، تمہیں اپنے پاس رکھوں گا۔ کھلودونوں کو ہوائی جہاز میں اپنے ساتھ لے آیا۔

 

لیکن سفر میں کبوتر کی حالت ٹھیک نہ تھی وہ بالکل بیمار ہوگیا۔ پیٹ میں زیتون کے بہت زیادہ بیج اس کی قوت برداشت سے زیادہ تھے۔ جس نے اسے بیمار کرنا شروع کردیا۔ کھلو جیسے ہی گھر پہنچا تو وہ اپنے بیوی بچوں سے مل کر بہت خوش تھا۔ غیر دیار سے اپنی محنت مزدوری سے کمائے ہوئے کافی سارے پیسے اس کے لیے خاصی تھے۔ اس نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلانے کے لیے اپنے شہر کے سب سے اعلیٰ سکول میں اپنی بیٹی اور بیٹے کو داخل کروا دیا بیٹی کو فاختہ کی کہانیاں سناتا۔ فاختہ اور مکھی کی کہانی سن کے بیٹی پوچھتی کیا کہانیاں سچی ہوتی ہیں۔ کھلو کہتا۔کہانی جو بھی ہو سبق اچھا ہونا چاہیے۔اس نے فاختہ اور کبوتر دونوں کو پنجرے سے نکال کر آزاد کر دیا۔ اسے یقین تھا کہ دونوں میرے اسی گھر میں رہیں گے۔ کیونکہ پرندے تو انسانوں کے وفادار ہوتے ہیں۔ فاختہ اور کبوتر نے اردگرد کی دیوار پر بیٹھے کھلو کے خاندان کو پیار سے تکتے رہے۔ کھلو جب بچوں کو سکول چھوڑنے جا رہا تھا دونوں کھلو کا پیچھا کرتے سکول کی دیوار کے ساتھ لگے درخت پر بیٹھ کر بچوں کو دیکھتے دونوں نے فیصلہ کیا۔ کیوں نہ ہم اپنا گھونسلہ اسی درخت پر بنالیں دونوں نے تنکے جمع کرکے اسی درخت پر گھونسلہ بنا لیا۔ لیکن کبوتر کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ اس کے پیٹ میں پڑے ہوئے زیتون کے بیج اس کے معدے کو موافق نہ آئے۔ اس نے ایک قے کی اور سارے بیج نکال دیے اور کبوتر نے اپنی بے بس آنکھوں سے اپنی محبوب فاختہ کو دیکھتے دیکھتے اس نے اپیی آنکھوں کو موند لیا۔ فاختہ بہت روئی۔ اس کا جیون ساتھی رخصت ہوگیا تھا۔ اس نے محسوس کیاکہ اس کے پیٹ میں اس کے جیون ساتھی کی نشانی سانسیں لے رہی ہے۔ وہ بہت خوش ہوئی۔ وہ دن رات اپنی محبت کی نشانی کی پرورش کرنے لگی۔ آخر ایک فاختہ نے اپنے رنگ جیسا ایک ننھا سا انڈا اپنے جسم سے باہر دھکیل دیا۔ وہ بہت خوش تھی۔ وہ ہر طوفان اور برے اور بڑے پرندے سے اس کی حفاظت کرتی اپنے جسم کی حرارت سے زمانے کی حرارت سے اسے محفوظ رکھتی۔اسی گھونسلے کے اوپر ہی شہد کی مکھیوں کا چھتہ تھا ان میں سے ایک مکھی سے فاختہ کی دوستی ہوگیئ۔ ہر روز پھولوں سے شہد اکٹھا کر کےاپنے چھتے کو بھر کے فاختہ سے ملنے چلی آتی۔اسی درخت کے سامنے کھلو کی بیٹی کا سکول تھا۔ کچھ مذہبی جنونیوں نے کھلو کو پیغام بھیچا کہ وہ اپنی بیٹی کو سکول نہیں بھیج سکتا۔ اکھلو نے ان کے پیغام کو کوئی اہمیت نہ دی۔ کوسنے لگا۔ تعلیم یافتہ ماں ہی تو قوم کو بناتی ہے۔ مذسی جنونیوں نے تمام لوگوں کو سبق سکھانے کے لیے فیصلہ کیاکہ وہ سکول سے نکلتی ہوئی کھلوکی بیٹی کو گولی کانشانہ بنادیں گے تاکہ کوئی بھی آئندہ جرأت نہ کرسکے۔ سکول سے کچھ فاصلے پر ایک دہشت گرد نے اپنی بندوق کی نالی پر چپکی ہوئی دور بین کو فوکس کیا۔ سکول کے دروازے پر شست باندھی۔ فاختہ ہمیشہ بچوں کاانتظار کرتی۔ اس نے جب دیکھاکہ دہشت گرد نشانہ باندھے کھڑا ہے تو فاختہ پریشان ہوئی۔ پھڑُپھڑانے لگی۔ شہدکی مکھی کو سارا ماجرا سمجھ آگیا۔ باہراڑ کر دہشت گرد کے ہاتھ ہی پر بیٹھ گئی۔ جیسے ہی کھلوکی بیٹی سکول سے باہر نکل رہی تھی دہشت گرد نے بندوق سیدھی کرکے نشانہ باندھا۔ انگلی کو لبلبی پر رکھ کر گولی چلانے ہی والاتھا کہ مکھی نے اس کے ہاتھ پر ایسے زور سے کاٹا کہ اس کی چیخ نکل گئی۔ نشانہ تو چوک گیا لیکن گولیوں کی بوچھاڑ سے سکول کے گیٹ پر لگے بورڈ پر کئی چھید ہوگئے۔ ایک بھگڈر مچ گئی کھلو کی بیٹی کے بستے سے ایک کتاب زمیں پر گری جس میں شہد کی مکھی اور فاختہ کی کہانی جیسے فاختہ کے پروں کی طرح پھڑپھڑا رہی تھی اور سکول کو بند کردیاگیا۔

 

کھلونے سر کو اوپر اٹھا کر خدا سے دعا مانگی۔ آئے خدا جب ظلم حد سے بڑھ جائے انسان کو اپنے پیدا کیے ہوئے بچوں کو ہی نگلنے لگےان پر تعلیم کے دروازے بند کر دیے جایئں اور ظالم مذہب استعمال کرکے ظلم کی انتہاکردے تو پھر تمہیں اس دھرتی کو گناہوں سے پاک کرناہوگا۔ جب کوئی بھی تدبیر پر نہ آئے تو طوفان لاناہوگا۔ظلم سے پاک دنیا پھر سے بسانی ہوگی۔ جیسے خدا نے اس کی سن لی ہو۔ بارش کا ایک قطرہ جب کھلو کے منہ پر گرا تو وہ سمجھ گیا۔ ایک بہت بڑا طوفان آنے والاہے۔ اس نے فوراً قدرت کے فیصلے پر عمل کیا۔ ایک بہت بڑے درخت کے تنے کو صاف کرکے ایک کشتی بنائی۔ کشتی میں اپنی بیوی بچوں کو بٹھایا۔ فاختہ اور اس کے ننھے بچے کو ساتھ لیا۔ بارش تیز ہونی شروع ہوگئی۔ شدید گرمی کی وجہ سے پہاڑوں پر جمی ہوئی برف بھی پانی بن کر دریاؤں میں بندھ توڑتی ہوا تھوڑی ہی دیر میں اسی طرح طوفان کا حصہ بن گیا۔ طوفان اتنے زور کاتھا بڑی بڑی مضبوط عمارتیں گرنے لگیں۔ کھلو کی کشتی تیزی سے طوفان کامقابلہ کرتی بہتی جارہی تھی۔ فاختہ نے کیا دیکھاکہ کشتی کے کنارے اس کی دوست شہد کی مکھی بارش سے بھیگی ہوئی محفوظ جگہ پر چڑھنے کی کوشش کررہی ہے۔ فاختہ بہت خوش ہوئی۔ لیکن اسی لمحے پانی کے زور دار تھپیڑے نے مکھی کو اپنے ساتھ بہا کے لے جانے لگی۔ فاختہ بہت پریشان ہوئی۔ اس کو تدبیر سوجھی اور اس نے درخت کے چھوٹے پودے سے ٹہنی کو اپنی چونچ سے توڑنے کی کوشش کرنے لگی۔ کھلو نے دیکھاتو کچھ سمجھنے کی کوشش میں چلتی ہوی کشتی سے ٹہنی کو توڑ کر فاختہ کو دے دیا۔

 

فاختہ ٹہنی لے کر مکھی کے قریب پہنچی اور اس کے آگے پھینک دی۔ شہد کی مکھی بڑی مشکل سے ٹہنی پر چڑھنے میں کامیاب ہوگئی۔ فاختہ نے ٹہنی اٹھائی اور کشتی میں واپس آگئی۔ شہد کی مکھی کو بحفاظت چھوڑ کر کھلو کے منہ کی طر ف دیکھا۔ کھلونے ٹہنی کو فاختہ کو دیتے ہوئے کہا جاؤ امن کاپیغام دنیا کو پہنچا دو۔فاختہ نے ٹہنی کو قبول نہیں کیا کیونکہ وہزیتون کے درخت کی نہیں تھی۔

 

کشتی میں پڑے ہوے فاختہ کےننھے بچے اور سکولوں پر پڑے تالوں کے ساتھ انسانوں کے لٹکتے سروں کو کو دیکھ کر کھلو کہہ رہا گا۔شاید صدیوں کا نوح مر گیا ہےاتنا ظلم دنیا کی تایخ کبھی نہیں ہوا جتنا اب ہو رہا ہے۔اب کبھی طوفان نوح نہیں آئے گا۔

 

پورا خاندان واپس گھر پہنچا۔ ساری زمین پر نئی مٹی چڑہئ ہوی تھی۔ سکول کے سامنے والے درخت پر لگا ہو سیلاب
اپنے قد کا نشان چھوڑ گیا تھا۔ساتھی کبوتر یاد آنے لگا۔ اس نے اسی درخت پر اپنا گھونسلہ بنانا شروع کر دیا فاختہ کو اپنے بیتے دنوں کی یاد ستانے لگی۔

 

دل کے درد نے دو موٹے موٹے آنسو آنکھوں سے دھکیل دیے۔آنسو زمین پر گرنے کی بجآئے ایک پتے پر گرے۔ جس کی چھن سی آواز نے فاختہ کہ نیچے دیکھنے پر مجبور کر دیا۔ گردن کو ایک طرف جھکا کے دیکھا تو درخت کے نیچے جہان اس کے محبوب کبوتر نے قے کی تھی۔ ایک ننھا سا پودا اپنا سر نکالے کھڑا تھا۔ فاختہ درخت سے نیچے اتر آئی۔ پودے کے پتوں کو دیکھ کر اس کی آنکھوں سے خوشی کے دو اورآنسو نکل آئے۔ کیونکہ وہ پودازیتون کا تھا۔
Categories
شاعری

تقریرکرنے والوں کے ہونٹوں پر

تقریرکرنے والوں کے ہونٹوں پر
تقریر کرنے والوں کے ہونٹوں پر
ہم اپنی ضرورتوں کی جمع بندی
رکھ دیتے ہیں
اور اس کی جلد پر سرخ کپڑا چڑھا دیتے ہیں
ہر صفحے کو ہم اپنی کھال سے
ساہوکار کے نوکیلے سوے سے پرو کر
ایک تمغے کا کریڈٹ کارڈ ہم
اپنے سینے پر آویزاں کر لیتے ہیں
جس پر سکندراعظم کے ٹوپ کےاندر
ہماراپیپ زدہ چہرہ
یہ خواہش کرتا ہے
اتنے فیتے ہمارے جسم پر آوزاں ہو جائیں
کہ ہماری رگوں میں خون کی جگہ
سلور گولڈ پلاٹیم ویزہ ماسٹر کارڈ پر لکھے ہوئے ہندسے
سیکیورٹی کوڈ کے ساتھ دوڑنے لگیں
جس کی ایکسپیائریشن ڈیٹ
ہمارے پیدا ہونے سے پہلے ہی
ختم ہو چکی ہو

Image: Paweł Kuczyński

Categories
فکشن

منجمد آگ

یار کیا کرو ں آج چوتھا مہینہ ہوگیاہے۔ کوئی کام ہی نہیں مل رہا۔ کب تک اپنی بہن کاصوفہ توڑتا رہوں گا۔

 

بھائی صاحب آپ یہاں امریکہ میں وزٹ ویزہ پر آئے ہوئے ہیں۔ چھ مہینے کا ٹھپہ تمہارے پاسپورٹ پر ہے۔ پھر تم بھی غیر قانونی باہر کے ہوجاؤ گے۔

 

تب فکر کرنا۔ ابھی توچھ مہینے تک تو تم امریکہ اور اپنی بہن کے مہمان ہو۔

 

نہ نہ نہ۔۔۔۔میں واپس نہیں جانے والا اور واپس جا کر کیا کروں گا۔ ایک تو چک ۸۴گ ب میں کوئی کام نہیں۔ اتنا پڑھ لکھ کے بھی کوئی کام نہیں دیتا۔ ویسے بھی میری سوچ کا دھارا وہاں کے لوگوں سے بالاتر ہے۔ ان کی سمجھ میں میری باتیں آتی ہی نہیں، جس کو ملووہ اس دنیا کی نہیں اس دنیا کی باتیں کرتاہے۔

 

مرنے کے بعد کیاہوگا۔ تمہارا حساب کتاب ہوگا۔ گناہوں کی فہرست اچھائیوں کی فہرست سے لمبی ہوئی ہو تو چنی مائی کے تندرو میں ڈال دیاجاؤں گا۔

 

جہاں وہ سارے چک ۸۴ کے گوگیرہ برانچ کی روٹیاں جلاتی ہے اور کبھی کبھی دانے بھی بھونتی ہے۔ اور میں وہ مکئی کے دانے کی طرح گرم ریت کے اوپر بیٹھا مہدی حسن کی طرح منہ بگاڑ کر گاتا ہوں گا۔

 

زندگی میں تو سبھی پیار کیاکرتے ہیں۔ میں تو مر کے بھی میری جان تجھے چاہوں گا۔

 

بھائی صاحب چھوڑ و ان باتوں کو ۔کام کا سوچو کام کا۔

 

یا ر وہی تو سوچ رہاہوں۔ سوچنے کے سوا میرے پاس اور کوئی کام بھی تو نہیں ہے۔

 

جناب والا جو شخص دنیا کو چاہتاہے اسے موت ڈھونڈتی ہے تاکہ اسے دنیا سے نکال باہر کردے اور جو آخرت چاہتاہے اسے دنیا ڈھونڈتی ہے تاکہ روزی اس تک پہنچادے۔

 

پھر وہی موت کامنتظر، مرنے کے بعد کیاہوگا۔ بھائی صاحب یہ موت اور زندگی ان لوگوں کے سوچنے کاکام ہے جن کے پاس کام ہوتاہےانہیں زندگی چھوڑنے کاڈر لگا رہتاہے اور موت سے بھاگتے ہیں، میرے پاس کام نہیں ہے۔
تو کاہے فکر ہے کڑی اے آہیں بھرنا توپی اور جی۔

 

آفاق خیالی کو پیاس لگی اور وہ ریفریجٹر سے پانی کی بوتل نکالنے کے لیے اٹھا۔ اس دفعہ وہ خیالوں میں نہیں تھا۔ آفاق واقعہ حقیقت میں ریفریجٹر سے پانی کی بوتل نکال کر گلاس دھو رہاتھا۔ اسی لمحے کلثوم باورچی خانے میں داخل ہوئی اور دیکھا بھیا کسی سے باتیں کررہے تھے۔

 

آفاق کہہ رہا تھا۔ وہی کمبخت سعید ساغر۔

 

کلثوم نےادھر ادھر دیکھ کر حیران ہوکے پوچھا یہاں تو کوئی بھی نہیں آیا۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔کیاکہہ رہاتھا وہ کمبخت۔

 

آفاق نے گلاس میں پانی بھر کے پوچھا کیا کہہ رہاتھا۔ آفاق نے گلاس میں پانی بھر کے کلثوم کو دکھاتے ہوئے بولا ہاں وہ کہہ رہاتھا۔

 

کہہ دیا ہے۔

 

یہاں نہیں ہوگا تو ستم گر، فغاں نہیں ہوگا۔ ایک ایسا طلسم جانتاہوں۔ آگ ہوگی، دھواں نہیں ہوگا۔۔

 

باجی ایک بات پوچھوں۔یہ بتاؤ میں ہوں گا اور کیا یہ جہاں نہیں ہوگا۔

 

یہ کیا تم اول فول اپنے آپ سے بولتے رہتے ہو۔ کون ہے یہ سعید ساغر۔۔

 

۔ کون۔آفاق خیا لی نےحیران ہوکے پوچھا۔ میں کسی سعید ساغر کو نہیں جانتا۔ لیکن باجی تم یہ بتا سکتی ہو کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا۔

 

ہاں جانتی ہوں۔ تیرا سر ہوگا۔ گلی کی نکڑ پر البہ پیزہ والے کے بڑے گیس کے تندور میں جل رہاہوگا اور تیرے دماغ میں جو بھوسہ بھرا ہے اس کے جلنے سے اطالوی پیزہ پک رہاہوگا اس کی خوشبوسے لوگوں کو بھوک لگ رہی ہوگی۔ اور بچوں کے آنے کا وقت ہے۔ وہ بھوکے ہوں گے اور میں نے کچھ نہیں پکایا اور تم پیزہ سٹور سے پیزا لے آؤ۔

 

آفاق گنگناتا ہوا اپنے جوتےاور جیکٹ سنبھالتے ہوئے گناتے باہر نکلا

 

اپنے معدوں سے کہہ دو کہیں اور جابسیں۔۔ آفاق ابھی سیڑھیاں اتر رہا تھا۔

 

کلثوم نے اونچی آواز میں کہا۔ تمہارے بھیا کہہ رہے تھے انہوں نے کسی سے بات کی ہے تمہارے ٹھکانے کی۔ آفاق نے اونچی آواز میں پھر گانا شروع کردیا۔ ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جابسیں۔ نہ گھر ہے، نہ ٹھکانا۔

 

تھوڑی دیر میں آفاق خیالی ایک بڑے چوکور ڈبے میں پیزا لے آیا۔ اور کلثوم سے پوچھا ہاں میرے ٹھکانے کا کیا بندوبست کیا۔ مجھے نخلستان میں رہنا ہے۔

 

مجھے نخلستان میں رہنا ہے جہاں بس پانی کا چشمہ ہو اور میری تنہائی میرے ساتھ ہو وہ میرے گلے میں بانہیں ڈال دے اور مجھ سے کہے

 

۔تنہا تھی اور ہمیشہ سے تنہا ہے زندگی۔۔

 

جناب مسٹر آفاق تنہائی جاؤابھی چلے جاؤاور حشمت کے کوئی واقف ہیں وہ بہت سارے غیر قانوں طارکین وطن کو قانونی حیثیت دلوا چکے ہیں۔ان سے مل لو۔آفاق نے پوچھا۔ کیا وہ خود قانونی ہیں۔

 

کلثوم نے جھنجلا کے جواب دیایہ تم ان ہی سے دریافت کر نا۔

 

آفاق بولا دیکھتے ہیں

 

غیر قانونی کو قانونی کر دے دیکھ کبیرا رویا۔باجی اس سے پہلے میں بھوک سے رو دوں میرے لیے پیز ے کا ایک تکونی ٹکڑا بچا کے رکھ دینا۔

 

نیویارک میں برقی ریل گاڑیوں کا جال بچھا ہواہے۔ پلک جھپکتے ہی آپ اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں اور زیادہ تر دکانوں کانام بھی ’’دوکان کے پتے پر ہوتاہے۔ مثلاً براڈے وے سڑک کا نام ہے۔ تو اخبار کی دوکان کانام بھی بارڈوے نیوز ہوگا۔ اسی طرح اس کے بہنوئی کی دوائیوں کی دکان ۳۸ ایونیوپر تھی۔ لہٰذا دکان کو ڈھونڈھنا آفاق کے لیے بہت ہی آسان تھاکیونکہ دوکان کا نام ۳۸ایونیو فارمیسی تھا۔ آفاق وہاں پہنچا تو مسٹر قانونی غیر قانونی وہاں پہلے سے ہی موجود تھا جو اپنی ہر بات اس فقرے سے شروع کردیتے تھے۔ سرجی آپ کو نہیں پتہ یہاں ایسا ہوتاہے۔ آفاق نے سرجی کے سر کو غور سے دیکھا درمیان سے سر بالوں سے بال بال بچا ہواتھا۔ اور کانوں کے اوپر ایک لمبی قطار بالوں کی فوجیوں کی مانند کھڑی تھی۔ جو زیادہ دیر اس کان کو چھپا ےہوئی تھی۔ جیسے بار بار وہ ہاتھ سے چمکتے سر کو صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں کے مصداق سر کو ڈھانپے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ تعارف کے بعد وہ آفاق کو کاؤنٹر کے دوسری طرف لے گئے۔ چھوٹے ہی بولے سر جی آپ کو نہیں پتہ۔ اب عام پولیس کاآدمی بھی آپ سے گرین کارڈ پوچھ لیتاہے۔ ڈرائیونگ لائسنس کے لیے گرین کارڈ ضروری۔کام کرنے کے لیے گرین کارڈ ضروری۔

 

آفاق نے جواب دیا جی مجھے پتہ ہے۔

 

سر جی آپ کو نہیں پتہ۔ پھر بولے آپ کی اب کیا حیثیت ہے۔ میرا مطلب قانونی ہو یا غیر قانونی ہو۔

 

آفاق نے جواب دیا ابھی تو قانونی ہوں۔ لیکن دوماہ کے بعد غیرقانونی ہو جاؤں گا۔ جناب قانونی اور غیر قانونی صاحب آفاق سے زیادہ فکر مند ہوگئے۔

 

وقت بہت کم ہے۔ اس کم وقت میں سب سے آسان اور تیز رفتار طریقہ یہ ہے کہ اپنی ایک آنکھ کو دباتے ہوے۔ آپ کاغذی طریقے سے رشتہ ازدواج میں بندھ جائیں۔

 

آفاق نے چھوٹتے جواب دیا۔سرجی کاغذ کی کشتی تو سنی تھی۔یہ کاغذ کی بیوی کبھی نہیں سنی۔ غیر قانونی پھر بولے سرجی آپ کو نہیں پتہ۔ میں بہت ساری لڑکیوں کو جانتاہوں آپ کے ساتھ کاغذوں میں آپ کی بیوی ہوگی۔ اصل میں آپ اسے جو مرضی بنالیں اور زور سے ہنسنے لگے۔کھی کھی کھی۔

 

آفاق ذرا سنجیدہ ہوگئے۔ سرجی کے سر کو دیکھنے لگا۔
یہ کاغذی پھول جیسا چہرہ مذاق اڑاتے ہیں۔ آدمی کا۔

 

سرجی زندگی میں شادی تو بس ایک ہی دفعہ کروں گااور وہ بھی اس سے جس سے محبت کروں گا۔ اس کے لیے مجھے نکاح کے کاغذپر دستخط کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کسی مولوی یا وکیل یا گواہ کی۔ میری وہ شادی چاہے قانونی ہو یا غیر قانونی شادی توہ ہی ہوگی۔ مسٹر قانونی غیر قانونی پھر اسے چھوڑو۔اچھا چھوڑو شادی کو۔ گولی مارو شادی کو۔ہمیں کوئی ایسا پیشہ ڈھونڈنا ہوگا جس کی اس ملک میں مانگ زیادہ ہو اور رسائی کم ہو۔ مثلاً موذن۔بہت کم لوگ ہیں جو اذان دے سکتے ہیں۔نماز پڑھوانے والا امام۔ یہاں زیادہ تر آبادی عیسائیوں کی ہے۔اورکوئی عیسائی تو اذان دینے سے رہا۔ دوسری حلال گوشت کی دوکان پر جانوروں کو حلال کرنے والا۔ آپ ایسے کریں۔ آج سے کوشش شروع کردیں ان تینوں نوکریوں کو ڈھونڈنے کی۔ آفاق نے پھر کہا اگر نوکری ڈھونڈ بھی لی تو نوکری کروں گا کیسے۔ مسئلہ تو وہاں بھی قانونی اور غیر قانونی کاہوگا۔

 

مسٹر قانونی غیر قانونی نے پھر سر کو جھٹکا دیا۔ سرجی آپ کو نہیں پتہ۔ آپ ایسے کریں اسی ایونیو کی نکڑ پر چلے جائیں۔ وہاں ایک کولیمبین لڑکا کھڑا ہو گا۔ اس سے کہنا میں فلاں دوکان سے آیا ہوں مجھے سوشل سیکورٹی کارڈ چاہیے۔ آفاق نے ویسا ہی کیا وہ کو لیمبین اسےدوکان سے جڑے ہوئے ایک چھوٹے سے دروازے میں لے گیا اور آفاق سے دو سو ڈالر لے لیے اور کہا کل آکے کارڈ لے جانا۔

 

آفاق گھر آیا تو حساب لگانے لگا یار دو سو ڈالر تو بیس ہزار روپے بنتے ہیں۔ اگر کولیمبین بھاگ گیا تو مسٹر قانونی کی خیر نہین ایسی غیر قانونی پٹای کروں گا سب قانون یاد آجائیں گے۔اور کچن میں رکھے ہوئے پیزے کو اٹھا کر دیکھنے لگا جوکہ ٹھنڈا تھا۔ گیس کے چولہے پر توے کے اوپر گھمانے لگا۔ چولہا بالکل نہیں جلایا۔ اور پیزے کو توے کے اوپر بار بار گھمانے لگا۔ کلثوم باورچی خانے میں داخل ہوئی اور بغیر آگ کے چولہے پر آفاق کو پیزے کو گرم کرتے دیکھا تو بولی آگ تو تم نے جلائی نہیں۔ آفاق چولہے کو دیکھتے ہوئے بولا ہاں جان بوجھ کر نہیں جلائی۔ پیٹ کی آگ چولہے کی آگ سے تھوڑی ہی بجھتی ہے اور پیٹ کے نیچے جو آگ لگتی ہے اس کے لیے بھی ضروری نہیں ہے۔ مدمقابل کا جسم بھی گرم ہو اور اگر جسم بخار سے جل رہاہو تو پھر کلثوم نے ہلکی سی چپت لگائی۔ بے شرم کہیں کا۔ شرم نہیں آتی بہن سے ایسی باتیں کرتے ہوئے۔ آفاق بولا شادی شدہ ہو۔ دو بچوں کی ماں ہو۔ تمہیں سب کچھ پتہ تو ہے۔ کلثوم نے چولہے کی آگ جلانے کی کوشش کی تو آفاق نے پھر چولہا بند کردیا۔ کہنے لگا۔

 

جو اشکوں نے بھڑکائی ہو اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے۔

 

اور ٹھنڈا پیزا ہی کھالیا۔ گرم کرکے پیزہ کھانے سے یہ خوف تو نہیں رہتا کہ یہ ٹھنڈاہوجائے گا تو کیوں نہ ٹھنڈا پیزا ہی کھالو۔

 

کلثوم بولی ویسے تیرے دماغ کے پرزے کچھ ڈھیلے ہیں۔ اسے بادام روغن سے رگڑ کر گرم کیا کرو۔جو مرضی کرو۔

 

دوسرے دن بہنوئی کی فارمیسی کے ساتھ والی گلی کی نکڑ پر پہنچا تو کولیمبین کھڑا اس کاانتظار کررہاتھا۔ اس سے کارڈ لیا اور مقامی اخباروں میں مؤذن اور ہلال اور مشینی جھٹکے سے گوشت کاٹنے کی نوکریوں کی تلاش شروع کردی۔ بد قسمتی سے ہیلپ وائنڈڈ والے سیکشن میں اسے کوئی اس قسم کی نوکری نظر نہیں آئی اگر کہیں تھی بھی تولگتاہے۔ آفاق نے وہ نوکری نظر انداز کردی ھوگی۔ کیونکہ لگا تھا سوچنے۔ اذان دوں گاکیسے۔ کبھی زندگی میں نماز تو پڑھی نہیں۔ لیکن اس کی نظر ایک نوکری پر جمی جو ملتی جلتی تھی۔ کیتھولک جنازگاہ میں نوکری دستیاب تھی۔ آفاق نے کمر باندھی اور اگلے دن ہی فون کرکے انٹرویو کے لیے وقت لے لیا۔ لیکن آفاق ڈر رہا تھا کہ سوشل سیکورٹی نمبر چیک ہوگیا تو کہیں رپورٹ نہ ہوجائے۔ آفاق ڈرتے ڈرتے جنازگاہ پہنچا۔ شہر کا کافی بڑا جنازگاہ تھا۔ ایک طرف گاڑی کا پارکنگ لاٹ تھا۔ دوسری طرف پھولوں کی دوکان تھی۔ نئی عمارت صاف ستھری فٹ پاتھ سے سڑک اور جناز گاہ کے مین گیٹ پر آدھے دائرے کی چھتری بنی تھی۔جسے کانوپی کہتے ہیں۔ اندر کئی دفاتر اور ایک بڑا ہال کمرہ، ہال کمرے سے بڑا جنازگاہ۔جوتہہ خانے میں تھا۔ اور تمام سہولتوں سے آراستہ تھا۔ آفاق معلومات والے میز پر اپنا نام کی اطلاع دینے کے بعد ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ جنازگاہ کے مالک نے چند لمحوں کے بعد آفاق سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ آفاق کالے سوٹ اور ٹائی میں ایسا لگ رہاتھا جیسے کسی امریکن کے جنازے میں پہنچا ہوا ہو۔ جب کہ ہمارے جنازوں میں صاف ستھرے کپڑے زیب تن کرنا معیوب لگتاہے۔ لیکن آفاق ہمیشہ نئے کپڑے جنازے میں پہناکرتاتھا۔ اس کاخیال تھاایک گھر سے دوسرے گھر کی ہجرت ہے۔اس کے لیے خوشی کا جشن منانا تو ضروری ہے۔ آفاق نے اپنی باتوں سے جنازہ گاہ کے مالک کو خاصا محظوظ کیا۔ یہ جان کر آفاق کو خوشی ہوئی۔ یہ یہاں کے لوگوں کی جناز گاہ کا دروازہ سب مذاہب کے لیے کھلا ہےہمارے ہاں تو ایک فرقہ دوسرے فرقے کی میت کو ہاتھ نہیں لگاتا۔ یہاں پر ہر مذہب کے رسم و رواج کے مطابق دفن و تدفین کے لوازمات موجود ہیں۔

 

جناز گاہ کے مالک نے یہ بھی بتایا کہ یہاں لاشوں کو مصالحے اور خوشبو لگاکر کافی عرصہ تک محفوظ رکھنے کا بندوبست بھی ہے۔ ابھی جناز گاہ کا یہ محکمہ نیا ہے۔ اور انہیں تجربہ کار کاریگر کی ضرورت ہے تاکہ اس محکمے کے تمام فرائض بخوبی انجام دے سکیں۔

 

آفاق نے ایمانداری سے بتادیا مجھے اس پیشے سے بالکل شناسائی نہیں ہے۔ لیکن میں بہت دلچسپی رکھتاہوں اس کام کو سیکھنے کے لیے بالکل تیار ہوں۔ جناز گاہ کے مالک نے اسے اس شرط پر رکھ لیا تم اس پیشے کی کلاسز کے ساتھ ساتھ جناز گاہ میں دوسرے کاموں میں ہاتھ بٹاؤ گے۔ جب تم سیکھ جاؤ تو ہم تمہارے حوالے یہ محکمہ کردیں گے۔ آفاق بہت خوش ہوا کہ چلو کاروبار زندگی کے مردہ جسم میں زندگی کی برقی لہر کا جھٹکا تو لگا۔ اور بڑی چابکدستی سے کام شروع کردیا۔ فارغ اوقات میں جناز گاہ کے ساتھ والی پھلواری دوکان پر اپنا وقت گزارتا۔ پھولوں والی دوکان جنازگاہ کے برابر بڑے ایونیو اور گلی کی نکڑ پر تھی۔

 

اس سے ساتھ گلی میں ایک چھوٹے بچوں کی نرسری تھی۔ بیکی وہاں استانی تھی۔ بیکی کانکلتا قد، صاف ستھری رنگت، نیچی آنکھیں، دقیانوسی پہناوا۔ اسے باقی لڑکیوں سے منفرد کرتاتھا۔ وہ ہمیشہ چھوٹے بچوں میں گھر ی ہوتی جیسے وہ اس کے اپنےبچے ہوں اسے بچوں کی رفاقت پسند تھی۔ ہر روز بچوں کی قطار کبھی آگے اور پیچھے جیسے بھیڑوں کی نگرانی پر نگران کتا آگے پیچھے بھاگ کر بھیڑوں کی قطار کو سیدھا رکھتا ہے۔ بیکی ہرروز نرسری کے اوقات کے ختم ہونے پر پھلواری سے ایک پھولوں کا گلدستہ خریدتی۔ آفاق ہرروز بیکی کو دیکھتے پھلواری کے پاس چلا جاتا اور کسی نہ کسی بہانے سےپھلواری کے لیے ڈنکن ڈونٹ سے ڈونٹ اور کافی لے آتااور ترچھی نگاہوں سے بیکی کے حسن کو اپنے حسِ جمال کی تسکین کے لیے اپنی نظروں کے سکینر سے۔ بیکی کے جسم کو اپنے دماغ کی ہارڈ ڈرائیو میں سٹور کرتا۔

 

ّّّّّّّّّّّّّّّّّآخرایک دن آفاق نے بیکی کو پھلواری کی دکان کے سامنے روک لیا اور اسے اس کی پسند کاگلدستہ پیش کرتے ہوئے کہا۔ آپ کو چائے پسند ہے یا کافی۔ بیکی نے جھٹ سے جواب دیا وہ تو میں ہرروز خود گھر چھوڑنے سے پہلے بغیر شکر اور بغیر دودھ کے کافی پی کے نکلتی ہوں۔ لیکن تم کیاانڈیا سے ہو۔

 

آفاق بولا نہیں آپ سب لوگ ہر زیتون کی رنگت والے کو انڈیا سے۔ ترچھی آنکھوں والوں کو چاہناسے۔گھنگریالے بالوں کو افریقہ سے کیوں سمجھتے ہیں۔

 

ہاں تم نے ٹھیک کہا ہم امریکن کو بڈلائٹ بیئر اور بیس بال کے سٹیڈیم کے جغرافیہ کے علاوہ کچھ اور پتہ ہی نہیں۔
آفاق بولااور ہندوستانی کھانوں میں سوائے تندوری چکن کے۔ بیکی نے بات کاٹتے ہوئے مجھے انڈین کھانے بہت ہی پسند ہیں۔آفاق نے بھی بات کاٹی۔ تو کل چلیں میں شہر کے سب سے اچھےانڈین ریسٹورنٹ جانتاہوں۔ بیکی نے پوچھا۔تم سب ریسٹورنٹ کو انڈین ریسٹورنٹ کیوں کہتے ہو۔ بیکی نے بدلہ لیا۔ جبکہ یہاں پاکستانی، بنگلہ دیشی،انڈین ریسٹورنٹ کی بھرمار ہے۔ بہت ریسٹورنٹ کے نام انڈین ہی ہوتے ہیں۔ تمہیں کیسے پتہ چلتاہے کہ انڈین ہے یا پاکستانی یا بنگلہ دیشی۔ آفاق نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ ہر ریسٹورنٹ کے نام کے نیچے تین ملکوں کے نام لکھے ہوتے ہیں، اگر ترتیب میں سب سے پہلا پاکستانی، انڈین،بنگلہ دیشی کھانوں کامرکز،تو سمجھ لو کہ یہ پاکستانی کاریسٹورنٹ ہے۔

 

کلثوم کی گرجدار آواز نے آفاق کو خیالوں کی دنیا سے نکال کر صوفہ پر لا بٹھایا۔ یہ پھر تم بہکی بہکی باتوں میں بیکی کا کیا ذکر کررہے تھے۔کیا ریسٹورنٹ کھولنے کاارادہ ہے۔ نہیں باجی میں آپ کو بہت تنگ کرتا ہوں۔

 

آفاق شرمندہ ہو گیا۔ بات بدلتے ہوے۔کچھ پیسے جمع ہو گئے تو اپنا اپارٹمنٹ لے لوں۔

 

کلثو بولی ہاں تمہیں اس صوفے بیڈ پر آرام بھی تو نہیں ملتا۔ تم تواب کام بھی کرتے ہو اور سکو ل بھی جاتے ہو۔ اب تھوڑے سے پیسے جمع کرو تاکہ تمہاری شادی کر دوں۔

 

جناز گاہ میں آفاق دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا تھا۔ مالک بھی اس سے بہت خوش تھا۔ اس نے ہر ڈیپارٹمنٹ میں خوب جانکاری کرلی تھی۔ لیکن اس کی مہارت مردہ انسانوں کے جسم میں ادویات بھر کے انہیں ایسا بناناتھاجیسے وہ بالکل زندہ ہوں۔ ان کے جسم کی لچک۔چہرے کی تازگی ایسے رہے جیسے وہ سامنے بیٹھے ہوں۔تاکہ مردہ انسانوں کے چاہنے والے کافی دیر اسے اپنے پاس رکھ سکیں یا جب دفن کریں تو وہ مسکراتا زندہ جاگتا رخصت ہو۔ جیسے وہ تابوت میں گہری نیند سو رہاہے۔ اپنے سفر پر ہے اور خوشی سے ایک لمبی چھٹی گزارنے جا رہا ہے۔

 

جناز گاہ کے مالک نے آفاق کو اچھی خبر سنائی۔کل تم ایک مردہ میں ادویات بھرنے کاکام شروع کردو گے۔ تاکے مردہ کو کافی دیر تک رکھا جا سکے۔ Embaling کرنا کہتے تھے۔

 

اگر تم نے اپنے استاد کوقائل کرلیا تو پھر یہ شعبہ تمہارے حوالے کردیاجائے گا۔

 

ویسے تو سکول میں اس نےکافی مہارت حاصل کر لی تھی۔ تھی۔ آفاق نےاس میں کافی مہارت حاصل کرلی تھی۔ لیکن آج اس کاامتحان۔ امبامنگ کرنا

 

اپنے افضل افسر کی زیر نگرانی وہ یہ عمل کررہاتھا۔ تھوڑا سا گھبرایا ہواتو تھا۔ لیکن وہ خاصا محظوظ بھی ہو رہاتھا۔ سب سے پہلے انہوں نے جسم کی گردن کے قریب رگوں کو کھول کر پہلے اس میں سے بہنے والا کیمیای مادہ جو مردہ جسم کو دیرپا اور تازہ رکھےبھر دیا اور رگوں میں کھڑے ہوئے خون کو خارج کردیا۔ دوسری دفعہ دوا جو کیمیاتی مادہ تھا بھر دیا جو مردہ جسم میں لچک اور خوبصورت بنا دیتا ہے،رنگت زندہ انسانوں والی،چہرے پر لالی اور جسم صحت مند لگنےلگا۔ یہ لاشیں مردوں کی تھی اسے کسی نے قتل کیاتھا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش جناز گاہ میں پہنچی تو حیران کن بات یہ تھی کہ اس کا آلہ افزائش نسل کسی نے کاٹ دیاتھا۔

 

آفاق کے افضل افسر کا خیال تھا یہ کوئی نفرت کا جرم لگتاہے۔ لیکن آفاق کانظریہ مختلف تھا۔ عروج محبت کاکیس بھی تو ہوسکتاہے۔ کیونکہ جسم کے جس حصے کو آپ آلہ افزائش نسل کہہ رہے ہیں وہ آلہ تسکین لذت بھی ہےجو محبت کے ماپنے کا آلہ بھی ہو سکتا ہے۔ ہوسکتاہے کہ یہ آلہ مرنے کے بعد علیحدہ کیاگیاہو۔ اگر میں اس جسم کی موت کے بعد چیر پھاڑ تفیش کے لیے کرتا تو اس کے دل کو کھول کے دیکھتا۔کیونکہ دل ہی میں روح بسیرہ کیے ہوئے ہے۔ اور دماغ تو نفرت اور محبت کا بیج بوتا ہے۔جس کی نشوونما دل کررہاہوتاہے۔ آفاق کاافضل افسرکو اس کی باتوں کی بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ بہرحال اس کاامتحان کامیاب تھا۔ جناز گاہ کے مالک نے تنخواہ میں اضافے کے ساتھ یہ محکمہ آفاق کے حوالے کر دیا۔

 

آفاق ہمیشہ کہتا کہ انسان کو خوش رہنے کے لیے لوگوں کی بھیڑ اور مہنگے شہر میں نوکری چھوکری اور اپنا گھر ضرورہونا چاہیے۔ چاہے وہ اس کی مارگیج دیتاہو یا مالک مکان کو اس کا کرایہ وقت پر ادا توکرتا ہو۔ نوکری شروع کرتے ہی اس کے دماغ کی بساط پر شطرنج کے مہرے خود ہی نوکری سے چھوکری کی چال چل رہے تھے اور مکان بھی اس کی خوشی کے کھیل کا حصہ تھا۔

 

آفاق ہر روز حسب معمول بیکی کاپھولوں کی دکان پر انتظار کرتا۔ لیکن کچھ دنوں سے بیکی پھولوں کی دوکان پر آ نہیں رہی تھی۔ آفاق نے پھلواری سے معلوم کرنے کی کوشش کی تو وہ بھی حیران تھی وہ تو سوائے ہفتہ اور اتوار سکول کی چھٹیوں کے علاوہ ناغہ نہیں کرتی پتہ نہیں کیا ہوا۔ آفاق کو کچھ پریشانی ہوئی تو وہ بچوں کی نرسری میں بلا جھجک پہنچ گیا۔ جھجک تو ایسے بیکی سے تھی۔ اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اسے کبھی جھجک نہ ہوئی۔ سکول کی ہیڈمسٹرس سے پھلواری کے پیغام رساں بن کے پوچھنے پہنچ گیا تو پتہ چلاکہ وہ سخت بیمار ہے اور جان لیوا بیماری کے علاج کے لیے ہسپتال میں داخل ہے۔ آفاق نے ہسپتال کاپتہ اور کمرہ نمبر بستر نمبر لے کر پھولوں کے گلدستے کے ساتھ ہسپتال پہنچ گیا۔ لیکن بیکی اپنے بستر پر موجود نہ تھی۔ معلومات کے ڈیسک سے اسے نامکمل سی معلومات ملیں پتہ نہیں زندہ ہے مردہ ہے اور گلدستہ لے کر بیکی کے گھر پہنچ گیا۔

 

بیکی کی عمارت کے سامنے ایک لمبی سیاہ گاڑی کھڑی تھی اور کافی گہماگہمی تھی۔

 

آفاق سوچنے لگا یہ کسی کا جنازہ ہے یا شادی ہے کیونکہ یہاں پتہ بھی تو نہیں چلتا مردہ کو بھی ایک لمبی سیاہ کارمیں نے لے کر جاتے ہیں اور شادی شدہ جوڑے کو بھی۔

 

لیکن اس کے پاس بیکی کے گھر کا نمبر تھا اس نے گھنٹی بچائی اور بیکی سامنے کھڑی مسکرارہی تھی۔

 

آفاق نے تعارف کروایا تو بیکی ہنسنے لگی میں جانتی ہوں تمارے دل میں روح بستی ہے۔ اور دماغ تو نفرت اور محبت کا بیج بو دیتاہے۔ لیکن میرے دماغ نے ہمیشہ تمہارے لیے محبت کے خوبصورت پھول کی نشوونما کی ہے۔ آفاق کے ہاتھ سے گلدستہ لے کر سونگھتے ہوئے بولی۔ تمہاری محبت خوشبو کی طرح ہے جسے دیکھا نہیں جاسکتا۔صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔

 

آفاق کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ بیکی نے آفاق کو اندر بلا لیا۔

 

آفاق نے تھرکتے ہونٹوں سے کہا میں ہمیشہ تمہیں اپنے خوابوں میں دیکھتا تھا۔لیکن آج میرے خواب حقیقت میں بدل گئے ہیں۔ بیکی نے اپنی خوبصورت آنکھوں کو بند کر کے کہا۔خواب حقیقت ہی تو ہوتے ہیں یہ تو دماغ ہی ہے چاہے حقیقت کو خواب سمجھے یا خواب کو حقیقت۔آفاق نے بیکی کو بغیر جھجک کے سینے سے لگا لیا اور والہانہ بیکی کو چومنے لگااور اپنے زانوں پر کھڑا ہوکے بیکی کو اپنے ارادہ سے مطلع کیا

 

مجھ سے شادی کروگی۔بیکی نے مسکراتے ہوئے ہاں کہی۔بیکی بہت خوش ہوئی۔اس نے آفاق سے کہا میں نے زندگی میں بہت دھوکے کھائے ہیں۔مجھے تم دھوکہ نہ دینا۔ بیکی نے اسے اپنی اور جیک کے ساتھ شادی کی کہانی سنائی۔ بیکی نے بتایا دیکھ میں نے اپنے پیسوں سے دلہن اور اس کے دولہا کا ٹیکسڈ و خریدا اور عین موقع پر وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔آفاق تم مجھے چو ڑ کر تو نہیں جاؤ گے۔آفاق نے قسم اٹھائی۔تم میری منزل ہو تم میری خوشیوں کا محل ہو۔میں تو مر کے بھی میری جان تجھے چاہوں گا۔میں پاکستانی ہوں ہم جب کسی کا ہاتھ پکڑتے ہیں تومرنے کے بعد بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔

 

چلوآؤ آج ابھی اسی وقت شادی کر لیتے ہیں۔ خدا کو حاضر ناضر جان کر۔ میں سچا ہوں۔خدا ہمارا تمہارا گواہ ہے میں تمہیں اپنے ہاتھو سے سجاؤں گا۔میں خود میک اپ کر لیتا ہوں۔ہمیں کسی بیوٹیشن۔ راہب یا نکاح خواں کی ضرورت نہیں۔

 

آفاق نے اپنے ہاتھوں سے بیکی کو دلہن کا لباس زیب تن کیا،خود کالا سوٹ پہنا۔اس کا بناؤسنگھار اپنے ہاتھوں سے کیا۔ اس کے لمبے بالوں میں کنگھی کی۔اس نے کمرے کی ساری روشنیاں جلا دیں۔بیکی کے چہر پر فاؤنڈیشن لگائی اور تمام کمر خوشبوں سے محظر کر دیا۔ آنکھوں میں کاجل کی دھار لمبی کھینچ کے لگائی۔ اپنے ہاتھوں سے ہونٹوں پر سرخ لب سٹک سے سرخی لگائی، گالوں پر ہلکی سی لالی سے رخسار کی ہڈیوں کو نمایا کر دیا۔

 

بیکی دلہنوں سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔

 

آفاق بیکی کو اپنے ساتھ چلا کر سونے کے کمرے میں لے گیا۔اسے پلنگ پر بٹھا دیا۔ بیکی سے بولا ہمارے ہاں دلہن سر جھکا کے گھونگھٹ نکا ل کر دولہا کا انتظا ر کرتی ہے۔ بیکی نے ویسے ہی گھونگھٹ کھینچ کر آنکھیں نیچی کر لیں۔آفاق نے ریفریجریٹر سے دودھ گرم کر کے دلہن کو پلایا۔اورآہستہ سے گھونگھٹ اٹھایا۔بیکی نے شرم سے اپنی آنکھوں اپنے بازو میں چھپا لیں۔

 

آفاق نے آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے بیکی کے کپڑ ے اتارے اور پھر اپنا کالا سوٹ اتارا سرد خانے کی دیوار پر لگی کھونٹی پر ٹانگ دیااور بیکی سے کہا ہماری شادی مکمل نہیں جب تک دونوں جسم ایک دوسرے میں سما نہ جائیں۔پھر ہمارا ولیمہ جائز ہوتا ہے بیکی نے پوچھا ولیمہ کیا ہوتا ہے آفاق نے وضاحت کی۔ دلہا اور دلہن کے ملاپ کا کھانا۔بیکی نے آفاق کو سینے سے لگا لیا۔

 

پھر آفاق نے کپڑے پہنتے ہوئے چھت کی طرف منہ کر کے کہا

 

تو تھا میں تھا کوئی گواہ نہ تھا۔ آ جو کچھ ہوا وہ گناہ نہ تھا۔

 

اسی لمحے جنازہ گاہ کے مالک نے یک بستہ مردہ خانے کا دروازہ زور سے کھٹکایا اور آفاق سے پوچھا مردہ تیار ہے سب مہمان جنازہ کے لئے انتظار کر رہے ہیں۔ آفاق نے مردہ خانے کا لاک کھولتے ہوئے کہا۔ ہاں باڈی تیار ہے۔ جنازہ گاہ کے باقی لوگ بیکی کے تابوت کو دفنانے کے لئے قبرستان کی طرف ایک سیاہ لمبی گاڑی میں لے جا رہے تھے۔ دھواں چھوڑتی گاڑی کے پیچھے آفاق کھڑا تھا اور اس کا جسم تپ رہا تھا ماتھے سے پسینہ ٹپک رہا تھا۔اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا تو وہ بالکل ٹھنڈی یخ تھی۔
Categories
فکشن

نور نہار

منصور نے کیمرے کو اٹھایا۔ اس کے چہرے کو الکوحل سے صاف کرکے اس کے لینزکو چھوٹی سی مخملی رومال سے صاف کیا ۔جیسےوہ اپنی آنکھوں پرپانی کے چھینٹے ما کر صبح سویرے کام پر جانے سے پہلے صابن لگا کر صاف کیا کرتا ہے۔ منصور کیمرے کو گھورتے ہوئے بولا شکر ہے تمہارے دانت نہیں تھے۔ ورنہ خواہ مخواہ ٹو تھ پیسٹ کا خرچ بھی اٹھانا پڑتا۔ اوپر سے سالا بناہوا بھی جرمنی کاہے۔ ولایتی ٹوتھ پیسٹ کا خرچہ۔ میرا کیا ہے۔ غسل خانے میں ٹوتھ پیسٹ نہیں ہے تو کویلے سے کام چلا لیا۔ شیمپو نہیں ہے تو صابن سے۔ لیکن اس سالے کے نخرے ہی بہت زیادہ ہیں۔
ویسے مجھ میں اور اس میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ یہ بھی رپورٹ کرتاہے اور میں بھی۔ لیکن ایک فرق ہے۔ یہ جھوٹ نہیں بولتا اور میں ۔۔۔۔۔

 

کیمرے کو ریکسین کے ڈبے میں بند کیا اور سٹینڈ کو دوہرا کر کے بیگ میں رکھنے لگا تو ایک اور خیال آیا، ایک اور فرق بھی ہے ۔ اس کی تین ٹانگیں ہیں اور میری دوکی لمبائی برابر اورتیسری۔۔۔
منصور لاہور میں پریس رپورٹر ہے۔فری لانس کام کے لیے اس کی پہچان سب اخباروں سے ہے۔ بعض اوقات اتنا کام ہوتا ہے کچھ کام اسے بادل ناخواستہ بانٹنا پڑتا ہے۔ کام بانٹنے کا مطلب ہے کہ پیسے بھی بانٹو۔ اس لیے پوری کوشش کرتاہے رپورٹنگ بھی کرے اور کچھ تصویریں بھی اتارے۔ خبر بھی بنا لے۔ اور کبھی کبھی لکھ لے۔ بھاری لفافے کی اُمید میں کالم بھی لکھ لیتاہے۔ لیکن آج اسے ایک فرانسیسی کھانے کے تبصرہ نگار کے ساتھ کام کرناتھا جو ایک برقی رسالے کے لیے فرانسیسی زبان میں مضمون لکھ رہا تھا۔ اور یہ دنیا کے مشہور کھانے پر تبصرہ کرنے والا اہم نام تھا۔ فرانسواں سائمن۔ منصور دل میں بڑا بڑا یا کاش وہ ہوتاہے تو مہینے کا خرچہ نکل جاتا لیکن شاید یہ بھی اچھی تنخواہ دے رہا ہو۔ اس لیے اس نے ناشتہ ذرا ہلکا کیا کیونکہ ہوسکتاہے ناشتہ کی آفر پرل کانٹی نینٹل کے بوفے کی مل جائے۔

 

چرسی گھسیٹےکے چکڑچھولوں سے بھرے ہوے پیٹ میں، میز کرسی چھری کانٹے کے سیٹ اور پرل کانٹی نیٹل میں کانٹی نینٹل بریک فاسٹ سٹابری جام کے ساتھ کی گنجائش کہاں بچے گی۔ لہٰذا اپنی پھٹ پھٹی کو وقت سے دو گھنٹے پہلے ہی ایسی ٹانگ رسید کی وہ فراٹے بھرتی ہوئی اپنی منزل کی طرف بھاگ کھڑی ہوئی۔ اسے راستے سے فرنچ کلچر سنٹر سے نوید کو بھی لینا تھا۔ جس نے ٹرانسلیٹر کا کام کرناتھا۔ فرنٹ ڈیسک سے مسٹر فرانسواں سائمن کو کال کیا اور اپنے کھڑے ہونے کی جگہ عین کانٹی نینٹل بوفے کے سامنے بتائی کہ قطاروں میں سجے ہوئے ناشتے کے ڈونگے مسٹر فرانسواں کو جکڑ لیں اور ناشتہ وہیں کرنے پر مجبور کر دیں۔ جیسے ہی وہ نیچے پہنچا دونوں نے ہاتھ ملایا تو منصور نے ناشتے کے بوفے کی جانب اشارہ کیا ،سراس طرف ۔ مسٹر فرانسواں کی نظر ناشتے پر پڑی تو انہوں نے اس خیال کو رد کرتے ہوئے آگے بڑھے اور فرانسیسی زبان میں بولے کہ آج ہم دلی گیٹ پر دہلی کی مشہورنہاری سے ناشتہ کریں گے۔ کیونکہ میں لاہور میں صرف اور صرف اس خاص قسم کے پکوان کے لیے آیا ہوں اور مجھے فوڈ ڈاٹ کام کے لیے لکھناہے۔ منصور کی ولایتی ناشتے کی اُمیدوں پر ٹھنڈا پانی پڑگیا۔ سالا اتنا خرچہ کرکے کھائے گا بھی تو وہ بھی دلی دروازے کی نہاری۔ یہ سالا نہاری کھائے گا اور مکھیاں اسے۔ تینوں کرائے کی بڑی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ نوید ترجمہ نگار اور مسٹر فرانسواں پچھلی سیٹ پر اور اگلی سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر منصور بیٹھاتھا۔ گاڑی کے ڈیش بورڈ پر کیمرہ رکھا تھا۔

 

منصور متواتر بولے جارہاتھا جیسے کیمرے کو زبان لگ گئی ہو۔ کیمرے کے سامنے جو جو چیز آتی منصور بولے جاتا اور نوید اس کاترجمہ کرتا۔ حتیٰ کہ گاڑی کے آگے سے کوئی سائیکل یا رکشا والا کاٹنے کی کوشش کرتا تو وہ بھی ترجمے کے ساتھ مسٹر فرانسواں کو پہنچ جاتی۔ یہ قافلہ مال روڈ سے ہوتاہوا الحمرا آرٹ کونسل کو پیچھے چھوڑتا الفلاح اور ریگل چوک سے براستہ داتا دربار دلی دروازےکے قریب جا پہنچا۔ ڈرائیور نے دلی دروازہ کے قریب پہنچ کر بتایا کہ مناسب ہوگاکہ آپ لوگ ذرا پیدل ہی دلی دروازے پہنچ جائیں کیونکہ اتنی بھیڑ میں دروازے تک چار پیہوں کے ساتھ پہنچنا بہت مشکل ہوگا۔ دروازے سے باہر دکاندار وں نے دکانوں کے باہر کپڑے کے شامیانے ٹا نگے ہوئے تھے۔بہت سارے دوکانداروں نے تو لکڑی کے طاقوں کے چھجے رکھے ہوے تھے۔ سونے تاروں کے طلے والی جوتیاں جو دکان کے اندر سے شروع ہوتی تو لگتا تھا جیسے دلی دروازے کے اندر تک بھاگ جائیں گی۔ کئی دکانوں پر دھوپ کے چشمے قرینے سے سجے تھے۔ کسی عینک کی دکان پرتو دکاندار خود ہی آنکھوں کاڈاکٹربنا کمزور نظر والے، بوڑھوں کو موٹے شیشے والی، عینکیں پہناتا اور اتارتا۔ سامنے دوکاندارکے اندر کچھ فٹ کے فاصلے پر اے بی سی ڈی کے الفاظ پوچھتا۔ اگر الفاظ صاف نظر آتے۔ عینک کے پسندیدہ فریم میں شیشے جڑکے بیچ دیتا۔

 

کہیں زمین پر بیٹھا ہوا موچی اپنے لوہے کے دو لیٹی ٹانگوں والے کلبوت پر جو تاچڑھائے لوہے کے ہتھوڑے سے جوتے کے تلوے کوپیٹ کر نرم کر رہا تھا۔ کہیں زنگ زدہ تالوں میں تیل ڈال کر چابی گھما گھما کر دیکھ رہاتھا تاکہ آرام سے بھی کھلتا اور بند ہوتا ہے یا نہیں۔

 

صبح کا وقت تھا دکاندار اپنے سامان تجارت کو سجانے اور دکان سے باہر پانی کے چھڑکاؤ کرنے میں مصروف تھے۔

 

تمام بھیڑکو چیرتا ہوا یہ کھانے کی تنقید والا قافلہ دلی نہاری والے کی دوکان کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ دوکان پر پہنچے تو کافی بھیڑسے لگتا تھا۔ جیسے لوگ سوتے ہی نہیں، نہاری کھانے کے انتظار میں۔ جب دلی نہاری والے نے سفید فام کو دیکھا تو اس نے بڑی آو بھگت کی۔ اس نے منصور سے پوچھا کہ ہماری نہاری میں نمک مرچ ذرا تیز ہوتی ہے۔ یہ انگریز اسے برداشت کرلیں گے۔ اگر نہیں تومرچی کی تیزی کو دور کرنے کے لیے میں دیسی گھی کا تڑکہ لگادیتاہوں اور اس لیے ایک رکابی منصور کو تھماتے ہوئے کہاکہ سامنے گھی والی دکان سے اپنی منشا کے مطابق دیسی گھی لے آو۔ دکان کے شروع میں نہاری کی دیگ کے سامنے رکابیوں کی قطار لگی تھی۔ اشارہ سے بتایا کہ گھی والی رکابی اس قطار میں رکھ دینا۔ حیران کن بات یہ تھی دلی نہاری والے کو ہرکابی کی پہچان تھی کہ کون سی رکابی کس گاہگ کی ہے، حالانکہ سب رکابیاں سلور کی ایک جیسی ہی تھیں۔

 

جب منصور نے بتایاکہ یہ خاص فرانس سے آئے ہیں اور نہاری پر اپنے رسالے میں لکھنا چاہتے ہیں تو انہوں نے دیگ سے اُٹھ کر اپنے بیٹے کو دیگ پر بٹھا دیا اور خود تینوں کے ساتھ دکان کے اندر چلے گئے بیخ ٹیڑھی لکڑی کے تختےمیں چار ٹھکے ہوئے ڈنڈوں سے بنے ہوئے تھے۔میز بھی و یسے ہی بنے ہوئے تھی۔ لیکن ٹانگیں اونچی اور پھٹے چوڑے تھے۔ زور سے آواز دے کر چھوٹے کام کرنے والے لڑکے کو ڈالا گھی کے ڈبے کو لگے ہوئے ہینڈل سے بنے جگ کو تھماتے ہوے کہا۔ برف والا پانی بھر کے لاؤ۔ ان بنچوں کے پیچھے ایک تندور لگاتھا جہاں سے گرما گرم تازہ نان سیدھے تندور سے بنچوں پے پڑی چھابڑیوں میں آتے تھے۔ مسٹر فرانسواں کو یہ سب چیزیں ایک دلچسپ مہم لگ رہی تھی ۔ لیکن منصور اور نوید سارے ماحول سے منہ بنا رہے تھے۔ فرانسیسی نقاد کے لیے یہ چیزیں بالکل اچھوتی تھیں اور لطف اندوز ہو رہا تھا۔

 

میز پر تین مٹی کی انگیٹھیاں رکھ دی گئی تھیں۔ جس میں لکڑی کے دہکتے ہوے کوئلے تھے۔ اس کے اوپر تین بڑے سلور کے کٹورے جس میں نہاری کے سالن کی اوپر والی سطح پر دیسی گرم گھی تیرتا ہوا تیز خوشبو چھوڑ رہا تھا جوتینوں کی بھوک اُجاگر کرنے میں کافی مدد گار ثابت ہو رہاتھا۔ فرانسیسی نقاد سے رہا نہ گیا اور بے تابی سے چھری اور کانٹے کے لیے نوید سے اشارتاً پوچھنے لگا تو دلی نہاری والا نے سمجھاتے ہوئے کہاکہ جناب یہ مسلمانوں کی من بھاتا ڈش ہے اور یہ سنت رسول ؐ ہے کھانا، ہاتھ سے کھایاجائے ،فرانسیسی نقاد انتظار کرنے لگا کہ وہ نوید اور منصور کی نقل کرے گا۔ جیسے وہ نان کے نوالے کو چمچہ بنا کر پوری کوشش کرتے نوالے کے اگلے حصے کو پوری مقدار سے نہاری کے شوربہ سے بھر لیا جائے اور پچھلے حصے کو مضبوطی سے بھیچا جائے تاکہ پچھلے حصے سے نہاری نکل نہ جائے۔

 

جب دلی نہاری والے نے سب کو کھانے پہ ٹوٹتے دیکھا تو منصور سے بولے صاحب آپ لیموں ہری مرچیں اور ہرا دھنیا تو بھول ہی گئے۔ ذرا نہاری پر ان کا چھڑکاؤ کرو گے تو آپ ہر روز یہاں ناشتہ تناول فرما ئیں گے۔ جیسے ہی نوالہ، منصور اور نوید کے منہ میں پہنچا تو دونوں کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

 

واہ صاحب لاہور میں ایسی نہاری کوئی نہیں بناتا۔ نوید ساتھ ساتھ ترجمہ کرکے فرانسیسی نقاد کو بتاتا کہ ہمارا خیال ہے ایسی نہاری کوئی اور لاہور میں نہیں بناتا۔ دلی نہاری والا فوراً کاٹتے ہوئے بولا۔ صاحب ہم یقین سے کہتے ہیں کہ لاہورمیں صرف نہیں پوری دنیا میں ایسی نہاری آپ کو کہیں نہیں ملے گی۔ ہمارا مقابلہ دلی میں بھی کوئی نہیں کرسکتاتھا۔ دلی میں ہماری دکان لاہوری دروازے پر بھی۔ جن کا رخ لاہور کی طرف تھا۔ اور اب لاہور میں دلی دروازے کا رخ دلی کی طرف ہے، ارے صاحب ہم تو ہندوستان میں مسلمانوں کا یہ کھانا ہندوؤں کو کھلاتے تھے اور وہ اپنا مذہب بدل کے مسلمان ہوجاتے تھے۔ اجی صاحب ہم نے ہندوؤں میں رہ کر اسلام کی خدمت کی ہے۔ یہاں پر تو مسلمان ہی اپنے مذہب سے غافل ہیں۔ جو اندر سے مذہب اسلام سے اتر گیا وہ اپنی زندگی سے گیا اسے جینے کا کوئی حق نہیں۔

 

فرانسیسی نقاد نے پوچھا کیا وجہ ہے۔ ان کی نہاری دوسروں سے مختلف کیوں اور ذائقے میں اتنی لذیذ کیوں ہے۔

 

دلی نہاری والے نے ہاتھ اوپر اٹھا کر کہا جناب یہ سب اوپروالے کی مہربانی ہے۔ میں اللہ و باری تعالیٰ کو دل سے چاہتا ہوں۔

 

وہ میری ان انگلیوں میں ایسی برکت ڈالتا ہے۔ ہر کھانے والے کے منہ سے اس دل تک اللہ باری تعالیٰ کا پاک پیغام پہنچ جاتاہے۔ دکان کے قریب والی مسجد سے مولوی نے عین اسی وقت بے وقت کی تقریر کرنی شروع کر دی۔ ۔ “اور تم نے نہیں دیکھا کہ مغرب والے نے اپنے عقائد کو ہم پر مسلط کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے پالیٹکس اور معاشی وسائل پر اپنا قبضہ جما کر اپنے مذاہب کو ہم پر مسلط کرنا شروع کردیا۔ ہم کو اکٹھا ہونا ہے اور اسلام کی سیاسی طاقت ہی خداکی اطاعت ہے۔”

 

سب نے مولانا کی تقریر کو نظر انداز کر دیا۔ نوید اور منصور چپ ہی رہے اور دلی نہاری والے سے بولے مسٹر فرانسواں آپ سے کچھ سوالات کرنا چاہتے ہیں۔ جسے نہاری والے نے بڑے فخر سے جواب دینا شروع کیا ۔

 

“صاحب یہ نہاری بادشاہوں کاکھاناہے۔ جب مغل بادشاہ یہ کھانا صبح ناشتے میں کھاکے دوپہر تک سوتے تھے۔

 

مزدوروں کو بھی نصیب ہوتا تھا۔ ان کو تب یہ بادشاہ لوگ نہاری کھلاتے تھے وہ ان سے فری کام کروانا ہوتا تھا۔ جو غریب لوگ بخوشی بلامعاوضہ ان کے محلوں کی تعمیر میں اپنا خون پسینہ شامل کر دیتے تھے۔ صرف اس نہاری کی بدولت۔” پھر اس نے نہاری کے مصالحوں کے بارے میں کافی لمبی چوڑی باتیں بتلائیں۔ اس کے مصالحہ میں خود باہر سے جا کر خرید کر خود پیستا ہوں۔ دیگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔ یہ دیگ ساری رات کوئلے کی آگ پر چڑھی رہتی ہے۔ صبح سحری کے وقت تیار ہوتی ہے۔

 

مسٹر فرانسواں نے جب پوچھاکہ میں نے سناہے۔ تمہاری نہاری باقی نہاری بنانے والوں سے مختلف اور بہت ہی لذیذ ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے جب کہ ترکیب استعمال تووہی ہے۔ دلی نہاری والے نے بڑے فخر سے جواب صاحب یہ ہمارا خاندانی پیشہ ہے۔ میری آباو اجداد مغلوں ،شہنشاہوں کے شاہی خانسامےتھے اور خاص ترکیب نسخہ ہمارے پرکھوں سے چلا آرہا ہے۔ سب سے ضروری بات ہے۔ اس میں جو گوشت پڑتا ہے۔ وہ میں خود بہت احتیاط سے دیکھ بھال کر کے ڈالتا ہوں۔ جو اس پکوان کو لذیذ بنا دیتا ہے۔ میں خود اپنے ہاتھوں سے جانوروں کو حلال کرتاہوں۔ جو انسان اپنے مذہب سے غافل ہوتاہے۔ وہ بھی تو انسان کہاں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا ہے۔ اس دنیا میں اس کی خدمت کریں اور آخرت میں اس کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔ “منصور کے ساتھ پڑے ہوئے کیمرہ جو باری باری مسٹر فرانسواں کے سوال اور دلی نہاری والے کے جواب ریکارڈ کررہا تھا۔ اس کے ماتھے پر کچھ بل پڑے، کیمرے نے سوالوں جوابوں کا جائزہ لینا شروع کردیا۔ دلی نہاری والے کے چہرے کے تاثرات کچھ کیمرے کی سمجھ میں نہیں آرہے تھے۔ منصورنے کیمرے کو غور سے دیکھا تو دل میں شکر کیا۔ شکر ہے تمہارا منہ نہیں ہے ورنہ اپنے نہاری کا حصہ تمہیں بھی کھلانا پڑتا۔ لیکن کیمرہ کا لینز کسی اور خاص جگہ پر فوکس ہوا تھا۔ وہ دیکھ رہاتھا دیوار میں سے ایک کن کھجورا اپنی بے شمار ٹانگوں کے ساتھ بل کھاتا نکل رہا تھا۔ اور پھر اپنے سوراخ میں گھس گیا۔ سب نے پیٹ بھر کے نہاری کو اپنے پیٹ کی دیگ میں ٹھونسا کہ بس دلی نہاری والے کی بات پر یقین آنے لگا کہ یہ شہنشاہوں کا کھانا ہے۔ ناشتہ کرنے کے بعد وہ دوپہر تک سوتے تھے۔ لیکن یہ مغرب سے آئے ہوئے سفید چرم والے لوگوں پر اس کااثر نہیں ہوتا تھا۔ اپنا کام ختم کرنے کے بعد مسٹر فرانسواں دوسرے نہاری والوں سے موازنہ کرنا چاہتا تھا۔ لیکن منصور کی بات اسے دل کو بھائی کہ صاحب، زبان کاتعلق بالواسطہ معدہ سے ہے۔ اگر معدہ میں مزید کھانے کی گنجائش نہ ہو تویہ زبان جو کھانے کے بارے میں معلومات دماغ سے پیٹ کو بھیجتی ہے اس میں انیس بیس کا فرق آپ کے تجربات کو مناسب ثبوت فراہم نہ کرسکے گا۔ لہٰذا کل دوسری جگہوں کامعائنہ کر لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ مشورہ دیاکہ نہاری کی طرح یہاں دوسرے کھانوں کاذائقہ چکھ لینا بہت ضروری ہے۔ مثلاً چوبرجی پر بھنا ہوا گوشت،ناچ گھروں میں گھرا ہوا سری پائے کاذائقہ یا گوال منڈی کا ہریسہ اور تلی ہوئی مچھلی کا جواب نہیں۔ مسٹر فرانسواں نے مزید کھانوں کے تجربات سے منع کردیا کیونکہ انہیں صرف اور صرف نہاری ہی پر لکھنا تھا۔ اور یہ کہہ کر ان کی نوکری کاآخری دن کا اعلان کر دیا کہ باقی نہاری والوں کو اس نے صرف ذائقہ کرناہے تو وہ خود ہی کر لیں گے۔ اور دونوں کا حساب چکتا کیا اور اپنے ہوٹل کی راہ لی۔

 

ایک ہی دن گزرا تھا۔ مسٹر فرانسواں کی گم شدگی کی خبر سب چھوٹے بڑے اخباروں کے ماتھے کو جگمگا رہی تھی۔ منصور کو بہت افسوس بھی ہوا اور اس نے ایک لمبے چوڑے آرٹیکل کو بہت ساری تصویروں کے ساتھ ملک کے سب اخبار کو بھر دیا۔ منصور کے پاس اتنے پیسے آگئے تھے کہ اگر تین مہینے کام بھی نہ کرتا تو بڑے آرام سے گزر بسر ہوسکتی تھی۔ اپنے کیمرے کو بغل میں دبایا اور بجائے پریس کلب کے میس میں کھانے کی بجائے دلی کی نہاری یا ولایتی بوفے کو چھری کانٹے سے کھانے کے خیال نے اس کے اس مفروضے کو رد کردیا کہ اگر معدہ بھرا ہو تو کھانے کے ذائقہ میں انیس بیس کا فرق مناسب ثبوت نہیں مہیا کرتاہے۔

 

جیب بھری ہوئی ہو تو کھانے کے ذائقے نخریلے ہو جاتے ہیں۔ اگلے دن کے ٹیلی ویژن اور اخبارات اس اطلاع کی منادی کر رہے تھے کہ مسٹر فرانسواں کو قتل کرنے کادعویٰ کئی دہشت گرد تنظیموں نے کر دیا۔ خبر خاص ہونے کے بعد اس خبر کا شمار بھی عام خبروں میں ہو گیا۔ اگلے روز کی کوئی اور خبر ڈھونڈھنے میں لگ گئے تاکہ کسی اور خبر کو چیخ کر سنایا جائے۔ لیکن منصور اپنے کیمرے کی جانب متواتر دیکھتا جا رہا تھا کہ تم صرف دیکھتے اور دکھاتے ہو، تم کیوں نہیں چیختے۔ منصور کو مسٹر فرانسواں پر لکھی ہوئی خبروں سے خاصی آمدن ہو رہی تھی۔ تو وہ اگلے دن پھر دلی نہاری والے کے پاس جا پہنچا۔ دلی نہاری پر ویسے ہی جمگھٹا تھا۔ گاہک ایسے کھا رہے تھے شاید یہ نہاری کی دکان بند ہوجائے گی۔ منصور کو دیکھ کر دلی نہاری والا کچھ کترا رہا تھا۔ منصور سمجھ گیا کہ سفید فام ساتھ نہیں ہے تو اس لیے ہم بھی عام گاہک ٹھہرے۔ لیکن پھر کسی نہ کسی طرح منصور نے اپنی صحافیوں والی کارکردگی استعمال کر کے انہیں گھیر ہی لیااور لگا ان کی نہاری کی تعریف کرنے۔ دلی نہاری والا اپنی تعریف سن کر پھولے نہیں سما رہاتھا کہ دنیا بھر کے بڑے بڑے تنقید کرنے والے ان کی نہاری پر لکھ رہے ہیں۔ کہنے لگے صاحب جو نور خدانے تیری انگلیوں میں بھراہے میں ان کی راہ میں اس کے دین کے لیے اپنی جان تک دینے کو تیار ہوں۔ میری ہر قربانی کے صدقے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ مجھے اس کا انعام دیتے ہیں۔ مجھے یہ شہرت، عز ت اور دولت اسی سے محبت کا والہانہ تحفہ ہے۔ میری ہر پیاری چیز کی قربانی تو پس صدقہ جو میں اُن کی راہ میں بانٹتا ہوں۔ میں ہرجمعہ کو صدقہ نکالتاہوں۔ سو دوسوآدمیوں کو کھانا کھلاتاہوں۔ اسی دوران کیمرے کے ماتھے پر پھرشکنیں ابھریں۔ اس کیمرے کالینز پھر دلی نہاری کی دکان کی دیوار پر فوکس ہوا جس میں سے وہی کن کھجورا اپنی ان گنت ٹانگوں سے رینگتا ہوا باہر نکلا۔ حیران کن بات تھی سوائے کیمرے کے کوئی اور اسے دیکھ بھی نہیں رہاتھا۔ اور وہ بل کھاتا دکان کے تہہ خانے میں فرا نسیسی سفید فام کی قمیض میں گھس گیا تھا۔ منصور نے پیٹ بھر کے نہاری کے چٹورپن سے اپنی انگلیاں تک چا ٹ لیں۔ کیمرے کو پھر مسکرا کے دیکھتے ہوئے بولا شکر ہے تمہاری انگلیاں نہیں ہیں۔ ورنہ تم چاٹتے تو کیا کھاجاتے۔ ظہر کی نماز کا وقت ہونے کو تھا۔ پھر ویسے ہی اذان سے پہلے مسجد کے سپیکر سے مولانا نے اپنی تقریر شروع کردی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کاواقعہ بیان کیا کہ کس طرح خدا کی راہ میں قربانی کے لیے انہوں نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی قبول کر لی۔ زندگی کی سب سے قیمتی چیز کو خدا کی راہ میں قربان کر دینا سورت کا حوالہ دیتے ہوے۔ابراہیم نے کہا میں تو ہجرت کر کے اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں۔ وہ ضرور میری رہنمائی کرے گا۔ اے میرے رب تو مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی۔ پھر جب یہ بچہ اس کے ساتھ چلنے پھرنے لگا تو ابراہیم نے کہا میرے پیارے بچے! اس خواب میں اپنے تئیں تجھے ذبح کرتے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتاکہ تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا جوحکم کیا جاتاہے۔ اسے بجا لائیے۔ اس بات کا ثبوت تھا کہ ایک انسان کی خدا سے والہانہ محبت ایک پیمانہ ہے اور پھر مولانا نے صدقے کے لیے چندے کا ذکر کیا۔ مسجد کی تعمیر کے لیے اور نمازی کی سہولت کے لیے اپنی گزارشات نمازیوں کے سامنے رکھیں۔ اسے کیمرہ کچھ بھاری بھاری لگ رہا تھا۔ کیمرے کو گھور کے دیکھ کر بولا۔ “نہاری تو میں نے کھائی ہے۔ پیٹ تمہارا بھرا بھرا لگ رہا ہے۔”غور سے دیکھا تو کیمرے کے لینز کے نیچے نہاری کا سالن لگا تھا۔جیب سے رومال نکال کر کیمرے کے لینز کو پونچھا اس میں سے مسٹر فراسواں کے جسم کی جیسی خوشبو آ رہی تھی۔ فوراً اس کا موڈ اچھا ہو گیا ایسے غیر ملکی آتے رہے تو اپنا دھندہ تو خوب چلتا رہے گا۔

 

منصور نے کیمرہ بغل میں دبایا اور خبریں ڈھونڈنے نکل کھڑا ہوا۔ دلی نہاری کامالک ہر روز شام کو نہاری کی دیگ کو دھو کر صاف کر کے شام کو ہی اگلی صبح کی نہاری کی دیگ آگ پر چڑھا کر گھر چلا جاتا تھا اور بچی ہوئی نہاری اپنی بیگم اور خاندان کے باقی افراد کے لیے لے جاتا۔ آج بیگم کافی بے تاب تھیں کیونکہ دلی نہاری کے مالک گھر کچھ حسب عادت تاخیر سے پہنچے تھے۔ بیگم کو بھوک بھی لگی تھی۔ جیسے ہی خاوند گھر میں داخل ہوئے بیگم صاحبہ نے دسترخوان سجا دیا۔ باقی لوازمات کے ساتھ نہاری کا سالن بھی چن دیا گیا۔

 

بیگم صاحبہ کو نہاری بہت ہی پسند آئی اور بولی آج تو کمال ہی کر دیا۔ بہت مزے کی نہاری پکی ہے آج ۔کیا مصالحے تبدیل کیے ہیں اپنے خاوند سے انگلیاں چاٹتے ہوئے پوچھا۔ باقی کا سالن بیٹے کے لیے بچا کر رکھ دیا۔ کیونکہ بیٹا ہمیشہ کچھ دیر سے لوٹتا تھا۔
اگلے دن منصور پھر اپنے کیمرے کے ہمراہ دلی نہاری کی دکان پر جا پہنچا۔ اسے بھی اس نہاری کاایسا چسکا لگا تھا کہ بس دلی نہاری کھائے بغیر اس کا پیٹ تھاکہ بھر تا نہیں تھا۔ لیکن آج تھوڑی تبدیلی محسوس کرنے لگا۔ دیگ پر آج دلی نہاری والے کے بیٹے کی جگہ وہ خود بیٹھاتھا اور منصور کی بغل میں دبا ہوا کیمرے کا

 

لینز دکان کے اندر کن کھجورے کو ڈھونڈ رہا تھا۔ اور کن کھجورا دلی نہاری والے کے بیٹے کے خون میں لت پت کپڑوں میں گھسا ہوا تھا۔
Categories
شاعری

ممتاز حسین کی ایک نظم

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

[/vc_column_text][vc_column_text]

جب انسانیت کا گلاب
روح افزا بنا
ماتمی جلوسوں پر
سوگ کی پتیاں بکھیرے ہوئے
آنکھوں کی پلکوں سے
لٹکی زنجیریں سے
دوسروں کی پشت پر
جھانکتے ڈیلوں کو
چیرنے لگتی ہیں
گروہوں میں بٹے
مالک مکانوں کے چوکیدار کتے
اپنے ہی زخموں کو چاٹنے لگتے ہیں
دماغ کی گلیوں میں
چپ کا ماتم ہوتا ہے
دل کے تھرکتے لب
نفرت کے نشتر سے
سل جاتے ہیں
کانوں میں لفظوں کا پگھلا سیسہ
صبر کی صراحی کا
گلہ گھونٹ دیتا ہے
عقیدت کا آٹھواں برج
کندھوں پر اٹھائے تعزیے
کو بارگاہوں کی صفوں کے نیچے
شہادت کے کلموں میں
دفن کر دیتا ہے
دس دنوں کا بھوکا پیاسا ذولجناح
جسم میں پروئے تیروں کو
چاندی کے ورق لگے پیالے
سنہری خوں سے
لبا لب بھر لیتا ہے
کراہت کا بہتا دریا
گندھارا کے بھوکے بدھا کو
سیم اور تھور کے
نمک سے ہنوز کر دیتا یے
دریائے سندھ کی تہذیب
ٰعجاہب گھر میں رکھے ہوئے
نفاق کے پیالے میں
بخارات میں تحلیل ہو جاتی ہے

Image: Kadhim Haider
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

آج بھی ہر روز کی طرح

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

آج بھی ہر روز کی طرح

[/vc_column_text][vc_column_text]

آج بھی ہر روز کی طرح
میری قسمت کی لکیریں
میری ہتھیلی سے پھسل کر
حالات کی گرد میں کھو گیں۔
فال نکالنے والے طوطے نے
دل کی لکیر ڈھونڈ کر
مشورے کے لفافے میں
بند کر کے مجھےتھماتے ہوئے کہا
تمہارے دل میں جو سوراخ ہے
اس لکیر سے بھر دو۔
میں نے دل کی لکیر کو
چاہت کے چولہا پہ پگھلا کر
دل کے سوراخ کو بھرنے کی کوشش کی
لیکن سوراخ بند نہ ہوا
ہر روز کی طرح تم آج بھی
دل کے سوراخ سے
پھسل کر میری ہتھیلی پر
بدگمانی کے نشتر سے
قسمت کی لکیر کو کھرچ رہی ہو!!

Image: Alexander Beschorner
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]