Categories
فکشن

پارہ دوز (تین پارچے ایک کہانی)

پہلا پارچہ

اُس روز تو میری آنکھیں باہر کو اُبل رہی تھیں۔

بے خوابی کا عارضہ میرے لیے نیا نہ تھا تاہم پہلے میں مُسکّن ادویات سے اس پر قابو پا لیا کرتا تھا ‘یوں نہیں ہوتا تھا کہ ادل بدل کر دوائیں لینے سے بھی افاقہ نہ ہو۔مگر اس بار ایسا نہ ہوا تھا۔ دونوں کنپٹیوں کے نواح سے درد برامد ہوکر پورے بدن پر شب خُون مارتا تھااورمیرے عصبی ریشے بری طرح ٹوٹنے لگتے تھے۔جب سارے ٹسٹ ہو چکے اور کہیں بھی کوئی خرابی نہ نکلی تو مجھے تشویش کے دورے پڑنے لگے میں اس ٹوٹ پھوٹ سے نڈھال تھا مگر یہ درد کیوں تھا‘اس کی تشخیص ہی نہ ہو پارہی تھی۔ اور یہی بات مجھے دہلائے دیتی تھی۔ بے پناہ تشویش کے ایسے ہی دورانیے میں میرا دھیان آنکھوں کی دُکھن کی جانب ہو گیا۔ بل کہ مجھے یوں کہنا چاہیے کہ جب سارا درد آنکھوں میں برچھی کی طرح کُھب گیا تودھیان کے وہاں ارتکاز کے علاوہ میرے پاس کوئی اور صورت تھی ہی نہیں۔

بدن کا درد تو کسی کونظر نہ آیا تھا مگر میری ان آنکھوں کو تو دیکھا جاسکتا تھا جوانگاروں کی طرح دہک رہیں تھیں۔
نافی کا خیال تھا :اس میں تشویش کا کوئی پہلو نہیں تھا۔

یہ بات اس نے میری آنکھوں میں دیکھے بغیر ہی کَہ دی تھی۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑی مصنوعی پلکیں چپکا رہی تھی۔ مجھے اس کے روّیے پر طیش آرہا تھا تاہم میں نہیں جانتا تھا کہ میں اس پر اپنے غصے کا اظہار کیسے کروں۔ ہم دونوں کے درمیان رشتہ کچھ ایسی نہج پر پہنچ چکا تھا کہ ہم ایک دوسرے پرغصہ کرنا لگ بھگ ہی بھول گئے تھے۔

میں نے ہمت جمع کی اوراس کے سامنے جا کھڑا ہوا ‘ کچھ یوں کہ اس کی نظر آئینے کی بہ جائے میری سرخ بیر ا بنی ‘ابلتی ہوئی آنکھوں پر پڑ جائے۔

نافی نے کندھے سکیڑ کر پہلو بدلتے ہوے اَپنی داہنی کہنی کو قدرے باہر کونکلی ہوئی میری توند کے بائیں جانب ٹکا دیا‘ یوں کہ آئینہ دیکھتی اس کی نیلی آنکھیں میری گردن کے ایک طرف سے بغیر کسی رکاوٹ کے دیکھتی رہیں۔ میں نے بائیں کو مزید کھسک کر درمیان میں حائل ہوناچاہا تو وہ میرے ارادے کو بھانپ گئی اور ”اوں ہونہہ “ کہتے ہوے میرے پیٹ پر ٹکی کہنی پر دائیں جانب دباﺅ بڑھا دیا۔

میں مجبوراً ایک طرف کھسک گیا تاہم ہمت نہ ہاری اور لگ بھگ گھگھیا کر کہا ”نافی دیکھو نا ڈارلنگ میری آنکھیں درد سے پھٹ رہیں ہیں۔“
مجھے اَپنی آواز اجنبی لگی تھی ‘اتنی کہ میں اَدبَدا کر آئینے میں خود کو دیکھنے لگاتھا۔ ایک ثانیے کے لیے ‘ جی محض ایک ثانئے کے لیے۔ مجھے یوں لگا تھا جیسے میری آنکھیں سرخ نہیں تھیں ‘ مگر دوسرے ہی لمحے سارے آئینے میں سرخ لوتھڑا بنی آنکھیں اُگ آئی تھیں۔ میں نے ادھر سے دھیان ہٹا کر ساری توجہ نافی پر مرتکز کر دی کہ شاید یوں وہ آئینے کے واسطے سے میری آنکھوں پر نظر ڈال لے۔ میں ٹکٹکی باندھے دیکھتارہا مگر وہ اپنے آپ میں بری طرح مگن تھی کچھ اس محویت سے کہ اس سلسلے کو روک کر میری طرف دیکھنے کی گنجائش نکلتی ہی نہ تھی۔ تاہم ہمارے حسی نظام کی تربیت اس نہج پر ہو چکی تھی کہ ہم ایک دوسرے کو دیکھے بغیر سہولت سے ضروری فیصلے کر سکتے تھے ….اور اس نے فیصلہ کیا تھا کہ مجھے وہاں کھڑا رہنے کی بہ جائے اپنے لیے کوئی اور مصروفیت ڈھونڈنی چاہیے :
”اوہ موظی ڈیئر ‘ میں نے دیکھ لی ہیں نا تمہاری آنکھیں“۔

وہ جھوٹ بول رہی تھی یا ممکن ہے اس نے میرا چہرہ دیکھے بغیر ہی میری آنکھیں دیکھ لی تھیں تاہم میں دیکھ رہا تھا ایک لمحے کے لیے بھی اس کی نگاہ اس کے اپنے چہرے سے جدا نہیں ہوئی تھی۔ مجھے اس کے جملے پر ایک بار پھر غور کرناپڑا‘ اور جب میں اسے خوب جانچ چکا تو اس کا مطلب بھی سمجھ آگیا تھا۔

وہ ہمیشہ سے نچلے ہونٹ کو قدرے ڈھلا چھوڑ کر مجھے معظم کی بہ جائے موظی کہتی چلی آرہی تھی ‘ حتی کہ ایسے کہنا اس کی عادت ہو گئی۔ تاہم ایک زمانہ تھا کہ موظی کہتے ہوے اس کا نچلا ہونٹ رسیلا ہو جایا کرتا تھا۔ جب پہلی بار اس نے مجھے موظی کہا تھا تو میں بہت ہنسا تھا۔ میں نے سیلاب جیسی ہنسی تھمتے ہی اس کے رسیلے ہونٹوں کے صدقے اس کا موظی کہنا قبول کر لیا تھا۔ اور جب اس نے پوچھا تھا کہ میں اسے نفیسہ کی بہ جائے محبت سے کیا کہا کروں گا تو مجھے کچھ نہ سوجھا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کے نام کو بدلنے کی مجھے طلب ہی نہ ہو رہی تھی۔ میں اسے نفیسہ کہتا تھا تو اس کا پورا وجود انتہائی نفاست ہے میرے سامنے ایستادہ ہو جاتا تھا لہذا میں نے کَہ دیا کہ محبت مجھے نفیسہ کہنے سے باز نہیں رکھے گی۔ مگر اس نے ضد کرکے اپنے لیے نافی سے پکارا جانا تجویز کر لیا تھا۔

نافی جہاں تھی وہاں اب میرا ٹکنا مشکل ہو رہا تھا مگر یوں تھا کہ میں اس کی توجہ کے لیے مرے جاتا تھا۔ اس طرح کا مرنا تو میں ایک مُدّت سے بھول چکا تھا…. مگر آہ میری سرخ بوٹی کی سی آنکھیں ….میںوہاں سے کیسے ٹل سکتا تھاکہ ابھی تک اس نے ان میں جھانکا ہی نہیں تھا۔

جب وہ آئنے کے اوپر جھک کر نفاست سے بنی اَپنی بھنووں کو دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے باری باری سہلا کر جائزہ لے رہی تھی تو میری دُکھتی ہوئی آنکھیں آئینے ہی سے اس کے چکنے شانے سے پھسلتی ڈیپ وی میں گر گئی تھیں۔ روئی کے گالے جیسی نرمی ان کے لیے مرہم ہو گئی تھی۔ میں اَپنی آنکھیں ہمیشہ کے لیے وہاں‘ اُس گداز میں بھول سکتا تھا مگر عین اسی لمحے نرم اور ملائم جلد کٹتی چلی گئی‘ تیز نشتر کی نوک سے‘ بالکل ایک سیدھ میں۔ اور جب وہ پوری طرح کٹ گئی تو لہو شراٹے بھر کر بہنے لگا‘ اتنا کہ میری آنکھیں اس لہو میں ڈوب گئی تھیں۔

دوسرا پارچہ

میرے لیے وہ پہلا آپریشن نہیں تھا۔ اس عورت کی باری آنے سے پہلے اس جیسے لگ بھگ سات سو بائیس مریضوں کوچھ سال میں آپریٹ کر چکا تھا۔ ایک ایک پیشنٹ کا ریکارڈ میرے پاس تھا۔ اگر میں اس عرصے میں کام یاب نہ ہونے والے آپریشنز کی شرح نکالنا چاہوں تو وہ محض ایک اشاریہ ایک صفر آٹھ فی صد بنتی ہے۔ اس عرصے میں آپریشن کے تختے پر یا پوسٹ آپریشن ٹریٹمنٹ کے دوران مرنے والوں میں سے پانچ کی عمراٹھاون سے اوپر تھی دو لڑکے نو اور گیارہ برس کے تھے جبکہ ایک عورت عین اس عمر میں آپریٹ ہوئی تھی جس میں اب نافی تھی۔
جس کے لہو سے میری آنکھیں بھیگی تھیں وہ مرنے والی یہ عورت نہیں تھی۔ نہ یہ نہ باقی مرنے والی عورتیں۔وہ عورت تو زِندگی کے ایسے دورانئے میں آپریشن تھیٹر میںلائی گئی تھی جو طویل تر ہو گیا تھا‘ اتنا کہ کاٹتے رہنے سے بھی کٹنے میں نہ آتا تھا۔

سات سو بائیس مریضوں کے آپریشن کے چھ برس کتنی جلدی بیت گئے تھے۔ میرا اپنا دل اُس سارے عرصے میں عین پسلیوں کے بیچ نشتر چلاتے ہوے ایک بار بھی نہیں کانپا تھا۔ جنہیں زِندگی ملنا تھی ‘ انہیں میرے نشتر کی دھار سے ملی اورجن کی سانسوں کا کوٹہ ختم ہو گیا تھا انہیں میراخلوص اور انتھک محنت بھی زِندگی نہ دلا سکا تھا۔ تاہم جب میری مہارت اور قابلیت کی شہرت دور دور تک پھیل گئی تو ڈاکٹر میرباز سے ملاقات ہوگئی۔

ڈاکٹر میر باز سے میں پہلے بھی مل چکا تھا غالبا پہلی بار ان دنوں جب وہ وفاقی علاقے میں اپنا ہسپتال بنانے کا منصوبہ بنا رہا تھاان دنوں وہ اس سرکاری ہسپتال کے سربراہ سے ملنے آیا تھا جس میں‘میں پریکٹس کرتا تھا۔ اسے بہت سے امور میں میرے باس کی مدد چاہیے تھی‘ یہ مدد اسے ملتی رہی ایک شاندار ہسپتال اس کے دیکھتے ہی دیکھتے بن گیا۔ جتنے سرکاری ادارے اس کے پینل پر آسکتے تھے وہ لائے گئے اور اس میں بھی میرے باس کی مدد شامل تھی۔تاہم میں اسے دیکھتا تھا تو مجھے ابکائی آنے لگتی اور جب اس کے ہسپتال کے پاس سے گزرنے کا موقع نکلتا تو مرعوبیت مجھ پر چڑھ دوڑتی تھی۔ شاید یہی وہ اسباب تھے کہ میںاس کے قریب نہ ہو پا رہا تھالہذا اپنے کام میں مگن ہو گیا حتی کہ وہ دن آگیا کہ جس کی شام کو ہمیں کرائے کا مکان بدلنا تھا اور نفیسہ نے‘ جو ابھی نافی نہیں بنی تھی‘ ہاتھ ملتے ہوے کہا تھا کہ ہم کب تک کرائے کے مکان بدلتے رہے گے۔ یہ بات نفیسہ نے عین اس وقت کہی تھی جب اس نے سامان گھسیٹتے ہوے میری پشت سے اَپنی پشت کو ٹکرالیاتھا۔ اس ٹکرانے میں کچھ ایسا لطف تھا کہ وہ یونہی سی ایک بات سمجھ کر اپنے اس جملے کو بھول گئی تھی جس کی تلخی میرے اندر اتر گئی تھی۔ جب وہ مزے سے اور اپنے آپ سے بے پروا ہو کر ہنس رہی تھی تواس کی آواز کے ہلکوروں میں ایک میٹھا سا بھید چھلکنے لگا تھا۔ اس بھید میں اس کا بدن ڈوب اُبھر رہا تھا۔ میں نے اُسے نظر بھر کر دیکھا تھا اور ساری تلخی بھول کران ہلکوروں میں خود بھی بہہ گیا تھا۔

آخری پارچہ

اسے سننا‘ اس کی آواز کے ہلکوروں میں بہہ جانایا پھر اُس کے بدن کویوں دیکھنا کہ لطف اور لذت ساری دُکھن سمیٹ لے ایک مُدّت کے بعد ہوا تھا۔ اتنی مُدّت کے بعد کہ اب یہ اندازہ کرنے کے لیے‘ کہ آخری بار ایسا کب ہوا تھا ‘مجھے ذہن پر بہت زور دینا پڑے گا۔
ذہن پر غیر معمولی زود دیئے بغیر یہ بات میں یقین سے کَہ سکتا تھا کہ یہ واقعہ سرکاری ہسپتال سے الگ ہونے اور ڈاکٹر میر باز کے نئے ہسپتال میں میرے پہلے آپریشن سے بھی پہلے کا تھا۔ جی ‘اس پہلے آپریشن کا جس نے ابھی ابھی میری آنکھیں خُون میں نہلا دی تھی۔ بعد کے برسوں کی تعداد اور یادیں میں نے قصداُ سینت سینت کر نہیں رکھی تھیں کہ انہیں سوچوں تو مجھے خود پر ویسی ہی اُبکائی آنے لگتی جیسی کبھی ڈاکٹرمیر باز خان کو دیکھ کر آتی تھی۔

تاہم اس وقت میرا مسئلہ ابکائی نہیں آنکھیں تھیں جو درد سے پھٹی جارہی تھیں۔
”دیکھو موظی ڈیئر بہتر یہ ہے کہ کچھ دیر کے لیے سو جاﺅ‘خود ہی آرام آجائے گا“

اس نے اس بار بھی میری آنکھوں میں دیکھے بغیر یہ کہا تھا۔ جملے کی ساخت میںبہ ظاہر محبت اور تشویش تھی مگر آواز جس مخرج سے برامد ہوئی تھی اس نے اسے سپاٹ اور سارے ممکنہ جذبوں سے عاری بنا دیا تھا۔

اس طرح بولنا اور اسی طرح کی آوازوں کو سننا اور ان کے مطابق اپنے آپ کو حرکت دینا اب ہماری زِندگی کا معمول تھا۔ لہذا میرے لیے وہاں کھڑے رہنا ممکن نہیں رہا تھا۔

میں گذشتہ طویل عرصے سے مختلف دوائیں پھانک رہا تھااور کچھ ہی دیر پہلے اَپنی ابلتی آنکھوں میں قطرے بھی ڈال لیے تھے۔مگر وہ درد جس نے میری آنکھوں کو گروی رکھا ہوا تھا۔ ٹلتا ہی نہ تھا۔اور نافی کا کہنا تھا کہ مجھے آرام کرنا چاہیے۔

بیڈ پر بیٹھتے ہی میں نے زور سے خود کو پیچھے گرا دیا۔ خود کو یوںگرانے سے میں ایسی آواز پیدا کرناچاہتا تھا جو نافی کو متوجہ کرلے مگر فومی گدے کی نرماہٹ پر میرا بدن جھول کر رہ گیا۔ اَپنی اس کوشش کے بعد اس کو دیکھا۔ وہ پہلے کی طرح آئینے میں مگن تھی تاہم میں نے محسوس کیا تھا کہ جب تک میں وہاں کھڑا رہا ‘وہ بھی کھڑی رہی تھی ‘ یوں جیسے آئینہ اس کے وجود سے کھڑا تھا۔ مگر اب وہ بیٹھ چکی تھی اور آئینہ اسے جُھک جُھک کرجھانک رہا تھا۔

دودھ جیسی گوری گردن تک سلیقے سے ترشے ہوے بالو ں کو چھونے کے لیے جب نافی دونوں کہنیاں باہر کو اُٹھا کر ہاتھ پیچھے کو لے آئی تو ایک بار پھر میں اَپنی اُبلتی آنکھوں کو بھول گیا۔ اس نے ہتھیلیوں کا رخ اپنے گالوں کی طرف کیا دونوں ہاتھوں کی چھوٹی انگلیوں کو اوپر اٹھایا اور پھر انہیں لچکا کر بالوں کے نیچے گردن پر رگڑتے ہوے باہم ملا لیا۔ اس کے سارے بال ان ننھّی مُنّی انگلیوں کے اوپر جمع ہوے گئے تھے۔ پھر اس نے یکدم ہاتھوں کو کچھ یوں جنبش دی کہ بالوں کے نیچے سے نکل آنے والی انگلیوں سمیت دونوں ہاتھوں کی آخری تین تین انگلیاں تتلی کے پروں کی طرح ہوا میں لہرا گئیں‘ کچھ اس ادا سے کہ باقی کی انگلیاںپہلے سے سمٹے سمٹائے بالوں کو دھیرے دھیرے اَپنی پوروں سے بوسے دینے لگی تھیں۔

عین اس لمحے میں نے محسوس کیا تھا کہ وہ پہلے کے مقابلے میں بلکی ہو گئی تھی۔ قمیض کی سَلوٹیں اُس کے بدن کے گداز میں دھنس رہی تھیں۔ گلا آگے پیچھے دونوں طرف سے ڈیپ تھا جو اندر کی ساری نرمی باہر پھینک رہا تھا۔ بازو اوپر اٹھانے سے اس کے کولہے دائیں بائیں اور پیچھے کو کچھ اورپھول گئے تھے۔ اتنے کہ میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی تھی کہ میں اٹھ کر انہیں پیار سے تھپتھپادوں۔ میں نے اٹھنا چاہا بھی مگر آنکھوں کی شدید چبھن نے مجھے اٹھنے ہی نہ دیا اور وہ خواہش قضا ہوگئی۔اتنی شدید اور اتنی خالص خواہش کے اس قدر مختصر دورانئے پر مجھے بہت دکھ ہوا۔ تاہم عین اسی لمحے پر حیران بھی تھا۔ اور حیرت اس بات پر تھی کہ یہ خواہش میرے اندر ابھی تک موجود تھی۔اب میں اسے دیکھتے رہنا چاہتا تھا مگر اسے یوں دیکھنا میرے لیے ممکن نہ رہا تھا کہ میرا سر گھومنے لگا۔اور میں قبر جیسے اندھرے میں ڈوبتا چلا گیا۔ شان دار روشن قبر کے گہرے اندھیرے میں۔

جو نہی میں قبر کے پیندے سے جا لگا ٹیلی فون کی گھنٹی چیخنے لگی۔ میں گن نہیں پایا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی کتنی بار بجی تھی تاہم آخری بار ابھی اس کی گونج پوری طرح معدوم نہیں ہوئی تھی کہ نافی کے ہیلو کہنے کی آواز سنائی دی۔ دوسری طرف جو بھی تھا اسے نافی نے یہ نہ بتایا تھا کہ میں اس کے کہنے پر آرام کر رہا تھا۔ اُس نے اگلے آدھے گھنٹے کے اندر میرے پہنچنے کا خود ہی تخمینہ بھی لگا لیا تھا۔ بات مکمل کرتے ہی اس نے مجھے جھنجھوڑ ہی ڈالا تھا اتنی زور سے کہ اتنا جھنجھوڑنے پر مُردے بھی زندہ ہو سکتے تھے۔
وہ آپریشن ڈے تھا اور مجھے اُوپر تلے تین آپریشن کرناتھے۔

جب میں تیار ہو کر اپنے خوب صورت گھر کے پورچ سے اَپنی نئی گاڑی نکال رہا تھا تو نہیں جانتا تھا کہ ایک مرا ہوا شخص زِندگی کے بخیے کیسے لگا پائے گا۔
Image: Zafar Iqbal

Categories
نان فکشن

تکنیکی تنقید کے اصول اور میری گستاخیاں

Saaze-Gule-Taza-tasneef-haiderاردو ادب پر مزید ایک صدی گزر جانے سے شاید یہ بات ثابت ہوجائے کہ اس میں بیسویں صدی کے اواخر میں دو باتوں نے ہولوکوسٹ (مرگ انبوہ) کا سا ماحول پیدا کیا۔ایک شمس الرحمٰن فاروقی کی شعر فہمی اور دوسرے ظفر اقبال کی تنقید نگاری۔مرگ انبوہ میں نے اس لیے کہا کیونکہ ان دونوں باتوں نے جو تاثر پیدا کیا اس سے دو تین نسلوں کے نہ جانے کتنے لوگ برباد ہوئے اور ابھی نہ جانے کتنے اس حبس زدہ ماحول میں دب یا پھنس کر اپنی ادبی زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھیں گے۔ شعر کے معاملے میں دو چار باتیں نہایت صاف ہونی چاہیئں، اول تو یہ کہ شاعری کو سمجھنے کے لیے کوئی فرد اگر جامد اصول بنا لیتا ہے تو شاعری پر ظلم کرتا ہے۔اردو میں یہ رویہ عام ہےکیونکہ اس کا مسئلہ کچھ اور ہے، یہاں کی پروفیسرانہ اور غیر پروفیسرانہ تنقید کا صرف اور صرف ایک اصول ہے، کسی کی تعریف کیجیے تو ایسی کہ اسے خدائے سخن بنادیجیے، کسی کی برائی کیجیے تو اتنی کہ اسے بدترین ثابت کردیجیے۔اس کے لیے ہمارے استادوں نے کچھ تکنیکیں ایجاد کی ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنے اقربا اور اپنی پسند کے شاعروں کو سب کچھ سمجھے بیٹھے ہیں۔ ہم لوگ الٹی گنگا بہانے والے لوگ ہیں، ہمارے لیے ماضی زیادہ شاندار ہے، روشن ہے، ہمارا پدرم سلطان بود والا رویہ ہے اور ہمیں یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ ہم جس احترام، جس قدر اور جس جذبے سے میر و غالب کی طرف دیکھتے ہیں، اس طرح اگلی نسلوں کی طرف دیکھ ہی نہیں سکتے۔ ادب کے نام پر ہمیں پچھلے کئی برسوں سے دھوکا دیا جاتا رہا ہے، لوگ یا تو غالب کے طرفدار ہوتے ہیں یا تو اس کے مخالف۔لوگ اچھی تنقید نہیں کرپاتے، وجہ یہ ہے کہ اس کے پیچھے ایک پوری روایت ہے، حتیٰ کہ جو لوگ ہمارے یہاں تنقید و تخلیق میں ایک حد تک مجتہد سمجھے گئے وہ بھی اس رویے سے اپنا دامن چھڑا نہ سکے۔ میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ ایسا کیوں ہے، مگر ایسا ہے۔ میر نے اچھی شاعری کی، غالب نے اچھی شاعری کی، مگر ان کے فن کی شعریات مختلف تھیں، ہم اس طرح شعر نہیں کہتے۔ اس لیے انہی معیارات پر بعد کے لوگوں کو تولنا بے وقوفانہ بات ہے۔ ہمیں کہنا چاہیے تھا کہ میر اور غالب نے اپنے عہد میں بڑی شاعری کی، مصحفی نے بڑی شاعری کی، انشا اور جرات نے اپنے اپنے میدان میں کمال جوہر دکھائے، دکن میں سراج اور ولی اور ان کے ساتھ ساتھ بہت سے پرانے نئے شاعروں نے شعر کہے، مگر مختلف اصولوں کے ساتھ، ان شعریات سے ہمیں سیکھنا چاہیے تھا، نئے اصول بناتے وقت ہمیں دھیان رکھنا چاہیے تھا کہ ہر دور میں ان اصولوں کو کیسے اور پھیلایا جائے، ان کو کیسے تسلیم کرتے ہوئے، ان میں مزید اصول جوڑے جائیں، مگر ایسا نہیں ہوا اور جو ہوا، اس کی بدولت ہم نے وہ اصول کھو دیئے اور نئے اصول بنائے، چنانچہ ترقی پسندوں کے اصول الگ ہیں، جدیدیت پسندوں کے الگ اور ان کے بعد شاعری کرنے والے لوگوں کے کچھ اور ہیں۔ یہ بات بری ہے، مگر چونکہ اس کا وجود ہے، اردو ادب اور شاعری کی یہی حقیقت ہے، چنانچہ اسے تسلیم کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ ان خارجی اصولوں سے قطع نظر، شاعری کا اپنا ایک مزاج ہے، وہ خود کو منوانا چاہتی ہے، سمجھانے کے چکر میں زیادہ نہیں پڑتی۔ وہ بات جو سیدھی سیدھی سمجھ میں آجاتی ہے، وہ بھی شعر ہوسکتی ہے، اور جو بات نہایت مبہم، مہمل ہوگی وہ بھی شعر ہوسکتی ہے۔

 

یہاں کی پروفیسرانہ اور غیر پروفیسرانہ تنقید کا صرف اور صرف ایک اصول ہے، کسی کی تعریف کیجیے تو ایسی کہ اسے خدائے سخن بنادیجیے، کسی کی برائی کیجیے تو اتنی کہ اسے بدترین ثابت کردیجیے۔اس کے لیے ہمارے استادوں نے کچھ تکنیکیں ایجاد کی ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنے اقربا اور اپنی پسند کے شاعروں کو سب کچھ سمجھے بیٹھے ہیں۔
یہ باتیں واضح کرنے کے بعد میں اب اپنی دوسری باتوں کی طرف آتا ہوں۔ تکنیکی تنقید کے تعلق سے یہ بات بہت اہم ہے کہ تقابلی مطالعے کا ایک بھونڈا طریقہ ایجاد کیا جائے، اور وہ طریقہ ایسا ہو جس کی سرے سے کوئی منطق نہ ہو، مگر اسے دنیا کا سب سے مضبوط منطقی طریقہ قرار دیا جائے۔ اور ایسے میں اگر لغات اور اچھی نثر کا سہارا بھی اس تنقید کو حاصل ہو تو سمجھیے اس کی نیا پار لگ گئی۔ شمس الرحمٰن فاروقی کے ساتھ یہی کچھ ہوا ہے۔ ان کا معاملہ اردو کے دوسرے پروفیسروں سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہے، خاص طور پر تنقید کے معاملے میں۔ بس ان کا دبدبہ اس لیے قائم ہے کیونکہ وہ شاعری کو پڑھتے ہوئے بار بار قاری کو یہ یاد دلاتے رہتے ہیں کہ میں نے فلاں لغت سے فلاں لفظ کا یہ نیا معنی دریافت کیا ہے، فلاں مصرعے میں موجود رعایتوں کا بہتا ہوا، چم چم کرتا دریا ڈھونڈ نکالاہے، چنانچہ بچارا قاری سہم کر اس طرف دیکھتا ہے کہ صاحب یہ آدمی تو واقعی صاحب علم ہے، اس کی تعبیر اور تشریح میں یقیناً دم ہوگا۔ شاعری، زندگی کی طرح برتنے والی چیز ہے۔ رعایت اول بات تو یہ ہے کہ شعر کی ایک ایسی خوبی ہے، جو اس کی اضافی خوبیوں میں شامل ہے، اصل خوبیوں میں نہیں۔ یعنی یہ ممکن نہیں کہ جو شعر رعایتوں کے اعتبار سے اچھا ہوگا، وہ واقعتاً شاعری کے لحاظ سے بھی بہت اچھا ہو، اپنی بات مزید واضح کرنے کے لیے میں یہاں دو شعر نقل کرتا ہوں۔انہیں دیکھیے:

 

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں
دل ہے گویا چراغ مفلس کا
(میر)

 

یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا
دن ڈھلتے ہی دل ڈوبنے لگتا ہے ہمارا

 

میر کے شعر میں چراغ کے بجھنے کی رعایت سے مفلس کا لفظ آیا ہے، کیا شک ہے کہ یہ شعر بہت اچھا ہے، مگر شہریار کا شعر بھی زبردست ہے۔ میں اگر فاروقی صاحب کی طرح شعر کو سمجھتا تو اس کی نئی نئی تعبیریں کرکے آپ کو دکھانے لگتا، چنانچہ میں کہتا کہ دیکھیے اس میں لطف کی بات یہ ہے کہ اس شعر میں موجود کردار کا دل شام ہوتے ہی ڈوب رہا ہے، شام کو چونکہ سورج بھی ڈوبتا ہے، اس لیے یہاں اس لفظ کا استعمال کتنا خوب ہے، شام کے بعد رات آتی ہے، جب آدمی سوتا ہے، سوتے میں وہ خواب دیکھتا ہے، یہ کردار چونکہ عاشق کا ہے، اور اس کے معشوق کا خواب میں آنا طے ہے، پھر بھی دل ڈوب رہا ہے،کیوں ڈوب رہا ہے، اس کی کئی وجہیں ہوسکتی ہیں، مطلب اس وجہ سے بھی ممکن ہے کہ عاشق، معشوق کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے، اس پر ایک مقام حیرت طاری ہوجاتا ہے، اسے دیکھنا ایک قیامت سے کم نہیں، یا پھر وہ فوراہی آکر گزر جاتا ہے، جیسا کہ غالب کا ایک شعر ہے:

 

بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا
بات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا

 

یعنی کہ دل اس اندیشے سے ڈوبا جارہا ہے کہ وہ آئے گا، صائقہ کی طرح، برق کی صورت، اور وہی ارنی و لن ترانی والا معاملہ ہوگا، چنانچہ اس کا ایک پہلو متصوفانہ بھی ہے۔ فلاں، فلاں، فلاں۔۔۔ اس طرح کی باتیں کرتے کرتے نقاد بھول جاتا ہے کہ ایک بات ہے جو اس پوری تعبیر و تشریح میں رہ گئی اور وہی دراصل شاعری ہے۔ ان تکنیکوں سے آدمی نقاد بن سکتا ہے، شاعر نہیں بن سکتا، اسی لیے اتنی احتیاط سے کی گئی شاعری محراب آسماں بن جاتی ہے، جسے کلیات میر کے اتنے گہرے مطالعے کا ہلکا سا بھی فائدہ نہیں ہوتا، اس لیے سوچنا چاہیے کہ چوک کہاں ہوئی۔ شعر شور انگیز کی حد تک میں کہہ سکتا ہوں کہ جب بھی کوئی لائق فائق آدمی اس کا بغور مطالعہ کرے گا تو جس نتیجے پر پہنچے گا، اس میں اس تنقید پر شارح صاحب کو پاسنگ مارکس ملنا بھی شاید مشکل ہوجائیں۔ اس تکنیکی تنقید کا ایک مسئلہ ملاحظہ فرمائیے، جو کہ شعر شور انگیز میں شامل پہلی غزل کے ایک شعر کی تشریح سے ثابت ہوتا ہے۔

 

“کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا
آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

 

میر کے اس شعر کے تعلق سے شمس الرحمٰن فاروقی صاحب فرماتے ہیں:
آتش نے اس مضمون کو براہ راست میر سے مستعار لیا ہے، لیکن اسے بہت پست کرکے کہا ہے:

 

دل کہیں جان کہیں چشم کہیں گوش کہیں
اپنے مجموعے کا ہر ایک ورق برہم ہے

 

آتش کے یہاں خود کو مجموعہ فرض کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے (یعنی کوئی تخلیقی منطق نہیں ہے) محض ایک مفروضہ ہے۔ اس بنا پر دل، جان، چشم، گوش کو اس مجموعے کا ورق فرض کرنا، پھر ان اوراق کو برہم بتانا، خالی از تصنع نہیں۔ میر کے کلام میں تخلیقی منطق کے تقریباً تمام پہلو اور انداز مل جاتے ہیں، اسی لیے ان کا معمولی شعر بھی “بھرپور ہوتا ہے۔

 

جبکہ اس کے آگے کی غزل میں میر کے ایک شعر کے تعلق سے تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں، پہلے شعر سن لیجیے:

 

“درہمی حال کی ساری مرے دیواں میں ہے
سیر کر تو بھی یہ مجموعہ پریشانی کا

 

پریشانی کے ساتھ مجموعہ بھی بہت خوب ہے۔ خاص کر اس وجہ سے کہ اشعار کے دیوان کو بھی مجموعہ کہتے ہیں۔”

 

ظفر اقبال اچھی شاعری کرتے ہیں، اور ان کی اچھی شاعری کو تو خیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، جیسے شمس الرحمٰن فاروقی کی فکشن نگاری کو تنقید سے کوئی دھچکا لگنا نہایت مشکل ہے۔ نہایت غیر جانبداری سے یہ بات سمجھنی اور کہنی چاہیے کہ شاعری کی میدان میں ظفر اقبال اور فکشن کے میدان میں شمس الرحمٰن فاروقی بہت اہم لوگ ہیں۔ انہوں نے واقعی ان دو مختلف اصناف میں اچھا اوربڑا کام کیا ہے۔
یہ عجیب سی صورت حال دیکھیے، برہم کا ایک مطلب پریشان بھی ہے، مگر آتش کے شعر میں، برہم اور مجموعے کا آنا بالکل خوبی نہیں تھا، اور اس کی کوئی تخلیقی منطق بھی نہیں تھی۔لیکن یہاں ہوگئی۔ یہاں یہ بھی یاد آگیا کہ مجموعہ، اشعار کے دیوان کو کہتے ہیں، آتش کے شعر کی یہ خوبی پی گئے کہ غزل میں ہر شعر کا مضمون ایک ساتھ ہوتے ہوئے بھی برہم و پریشان رہا کرتا ہے، اس نسبت سے آتش نے بڑی اچھی رعایت پیدا کی کہ یہ سارے مضامین اس طرح بکھرے ہوئے ہیں، جیسے ہمارے مجموعے کے اوراق بکھرے ہوئے ہیں، اس میں دل کا مضموں کہیں ہے، جان کا کہیں، چشم کا کہیں ہے تو گوش کا کہیں۔ مگر صاحب تخلیقی منطق ہی عنقا ہوگئی اس شعر میں جو کہ اچھا شعر ہے، میرکے شعر سے بالکل کم نہیں، رعایت وعایت سے شعر اچھا نہیں بنتا بلکہ بعض دفعہ ایک ہی مفہوم کے دو بار پیدا ہونے سے عجیب سی بدرونقی پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر شمس الرحمٰن فاروقی نے یہ کیسے تصور کرلیا کہ آتش نے خود کو مجموعہ تصور کرلیا ہے، اس نے اپنے مجموعے لکھا ہے اور مجموعے کا مطلب کسی لغت میں بدن یا جسم وغیرہ تو نہیں لکھا ہے۔
اس طرح کی ایک پوری داستان ہے، اور یقین کیجیے یہ تو تفصیلی مطالعہ ہی بتاسکے گا کہ تنقید کے میدان میں جتنے شعبوں پر فاروقی صاحب کا کام ہے، اس میں ان کی عجلت پسندی نے کیا کیا رنگ دکھائے ہیں۔ میرے نزدیک کوئی آدمی صرف اس بات سے معتبر نہیں ہوجاتا کہ اس نے کتنی کتابیں ترتیب دی ہیں، تالیف یا تصنیف کی ہیں، وہ اپنے متن میں کتنا گہرا، دبیز، حق بجانب اور اچھا ہے۔یہ دیکھنے کی بات ہے، میں نہیں کہتا کہ شعر کی تفہیم پر غور نہیں کرنا چاہیے، مگر اپنی تفہیم پر اصرار کرنا ایک غلط رجحان ہے۔

 

ہم انسان ہیں، ہمارے نزدیک کچھ لوگ بلا سبب اچھے یا برے بھی ہوسکتے ہیں، مگر جب بات فنکاری کی ہو، تو قدردانی یا تنقید نگاری کرتے وقت یہ دیکھنا اور سوچنا غلط ہے کہ جس پر تنقید کرنی ہے، وہ ہمارا اپنا ہے یا پرایا، ہندستانی ہے یا پاکستانی، ہندو ہے یا مسلمان۔
اب رہی ظفر اقبال کی بات۔ ظفر اقبال اچھی شاعری کرتے ہیں، اور ان کی اچھی شاعری کو تو خیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، جیسے شمس الرحمٰن فاروقی کی فکشن نگاری کو تنقید سے کوئی دھچکا لگنا نہایت مشکل ہے۔ نہایت غیر جانبداری سے یہ بات سمجھنی اور کہنی چاہیے کہ شاعری کی میدان میں ظفر اقبال اور فکشن کے میدان میں شمس الرحمٰن فاروقی بہت اہم لوگ ہیں۔ انہوں نے واقعی ان دو مختلف اصناف میں اچھا اوربڑا کام کیا ہے۔ ظفر اقبال کی کلیات میں پڑھ چکا ہوں، انہوں نے ایسے ایسے شعر کہہ رکھے ہیں جن کا زندگی کے معروضی یا منطقی طریق کار سے دور تک کا واسطہ نہیں۔ اب ایسا شخص اگر کسی نقاد کی اس بات کی حمایت کرتا ہے، یا اس کی ایسی تضحیک پر صبر کر لیتا ہے تو معاملہ کچھ اور ہے، ظفر اقبال کو سمجھنا چاہیے کہ اپنے سے پچھلوں کے اچھے شعروں کو خراب ثابت کرنے سے کوئی آدمی آج تک بڑا شاعر ثابت نہیں ہوا۔ ان تعصبات کا کوئی مطلب نہیں۔ میر تقی میر نے اپنے تذکرے میں یقین کی بہت برائیاں کیں، اسے بدکردار اور خراب شاعر قرار دیا مگر ان سب باتوں سے یقین کی ذات پر کیا فرق پڑگیا۔ میر اس کی برائی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنی اچھی شاعری کی وجہ سے زندہ ہے اور رہے گا۔ ہم انسان ہیں، ہمارے نزدیک کچھ لوگ بلا سبب اچھے یا برے بھی ہوسکتے ہیں، مگر جب بات فنکاری کی ہو، تو قدردانی یا تنقید نگاری کرتے وقت یہ دیکھنا اور سوچنا غلط ہے کہ جس پر تنقید کرنی ہے، وہ ہمارا اپنا ہے یا پرایا، ہندستانی ہے یا پاکستانی، ہندو ہے یا مسلمان۔اس طرح کی باتوں سے جو لوگ ادبی فن پاروں کی قدر متعین کرتے ہیں وہ انسان اچھے نہیں ہوسکتے، تخلیق کار اچھے ہوں تو یہ الگ بات ہے۔ نیت میں فتور پیدا کرنے سے صرف برائی پیدا ہوتی ہے۔اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا اور مسئلے پیدا ہوجایا کرتے ہیں۔ اگر ڈھونڈا جائے اور معروضی نقطۂ نظر سے تنقید کی جانے لگے تو ظفر اقبال کے مجموعے ہے ہنومان میں موجود واقعات کے اشارے ان کی رامائن دانی کی پول کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ مگر ہم ایسا کرتے نہیں، کیونکہ ہم شاعری میں موجود واقعات کو نہیں دیکھتے، شعر دیکھتے ہیں، کہنے کو تو غالب نے بھی کہا تھا

 

یہ زمرد بھی حریف دم افعی نہ ہوا

 

تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ زمرد دکھانے سے واقعی سانپ اندھا ہوجاتا ہے اور میر بھی چاند کو دیکھ کر وحشت زدہ ہوجاتے تھے، مگر اس کامطلب یہ تو نہیں کہ چاند میں واقعی کوئی معشوق موجود تھا، یہ سب شاعری کی باتیں ہیں، فن کاری کی باتیں ہیں، یہاں کا جھوٹ ہی، یہاں کا سب سے بڑا سچ ہے۔ اس لیے شعر کو پڑھتے وقت کہاں معروضی انداز نقد اختیار کرنا ہے اور کہاں نہیں، اس کا خیال بھی بے حد ضروری ہے۔ اور یہی زمانے نے آپ کی شاعری کے ساتھ کیا ہے، ورنہ فاروقیانہ تنقید ظفر اقبال کے چیتھڑے بھی اڑا سکتی ہے اور اسے اپنے دور کی سب سے اعلیٰ شاعری بھی قرار دے سکتی ہے، کیونکہ وہ یہ تکنیک بہت اچھی طرح جانتی ہے۔