Categories
فکشن

خونی لام ہوا قتلام بچوں کا

“ جب میری شادی ہوئی، میں گڑیا پٹولے کھیلنے والی عمر میں تھی”۔

سرجھکائے بیٹھے انیس نے چونک کر ماں کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ اب وہاں نہیں تھی،پیچھے بہت دور کسی شوخ لمحے میں گم ہوگئی تھی۔اُس کے قدرے ڈھیلے پڑ جانے والے گالوں پر جمی ہوئی پیلاہٹ جیسے دُھل سی گئی تھی۔
وہ کل صبح ہی یہاں پہنچا تھا اور شاید ہی کوئی لمحہ گزرا ہوگا کہ اس کے گلے لگ کر ملنے والے دھاڑیں مار مار کر نہ روئے ہوں۔ سانحہ ہی ایسا تھا کہ سب کے جگر کٹ گئے تھے۔یوں تویہ واقعہ پچھلی جمعرات کا تھا۔کفن دفن بھی اسی روز ہو گیا اور سوگ میں بیٹھنے والے قل کے بعد اپنے اپنے دھندوں میں جٹ گئے تھے مگر انیس کے بوسٹن سے آنے کی خبر جسے ملی وہ ایک بار پھر وہاں آیا اور یوں اس سے گلے لگ کر رویا جیسے مرنے والا انیس کا بیٹا نہیں انہی پرسا دینے والوں کا سگاتھا۔ دوسرے روز شام ڈھلے تک رونے والے رو رو کر شاید تھک گئے تھے کہ وہ بیٹھک میں اکیلا رہ گیا۔

وہ گھر میں داخل ہوا تو ماں تخت پرگھٹنے دوہرے کیے کمر دیوار سے ٹیکے بیٹھی ہوئی تھی۔ وہاں بھی ماں کے سوا کوئی نہ تھاتاہم سارے گھر میں جاچکی عورتوں کے بدنوں کی چھوڑی ہوئی باس اور گرمی فرش پر بچھی دریوں اور یہاں وہاں پڑی پیڑھیوں سے اٹھتی محسوس کی جا سکتی تھی۔وہ ماں کے پاس ہی تخت پر بیٹھ گیا۔اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے ساتھ والے کمرے کے دروازے کے اندر جھانکا اور اندازہ لگا لیا کہ ابا وہاں نہیں تھے۔یقیناً وہ ابھی تک مغرب کی نماز پڑھ کرمسجد سے نہیں آئے تھے۔اسے یاد آیا اباکا معمول رہا تھا وہ مغرب کی نماز سے پہلے مسجد چلے جاتے اور عشا کی پڑھ کر ہی لوٹا کرتے تھے، گویا ان کاا بھی تک وہی معمول تھا۔

اُس نے اپنا سر ماں کے گھٹنوں پر ٹیک دیا تو اس نے اپنا دایاں ہاتھ بیٹے کے سر پر رکھ دیا اور انگلیاں اس کے گھنے بالوں میں گھسیٹر لیں۔

“میں کہتی رہی،میرے انیس کے آنے کا انتظار کرو مگر سب کہتے تھے، امریکہ بہت دور ہے وہ جنازے تک نہ پہنچ سکے گا۔ “

ماں نے سر سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اور دوپٹے میں منہ چھپا کر گسکنے لگی۔

“ چھوٹے کفن میں لپٹا دُکھ کتنا بھاری نکلا بیٹا انیس، تمہارے توقیر کی ماں کی لاش سے بھی بھاری۔ “

انیس کی بیوی لائبہ کو مرے سولہواں سال ہو چلا تھا اور امریکہ گئے انیس کو نواں سال۔

لائبہ توقیر کو جنم دیتے ہی مر گئی تھی،اُسے شہر کے ہسپتال لے جایا گیا مگر شاید بہت دیر ہو چکی تھی،وہ زچگی کے درد سہتے سہتے نڈھال ہو چکی تھی اور ترغیب دینے پر بھی اپنے رحم میں کہیں اُلجھے بچے کو زور لگا کر نیچے دھکیلنے کی رَتی بھر کوشش نہ کر رہی تھی،ڈاکٹروں نے اپنے تئیں بہت جلدی کی مگر وہ آپریشن سے پہلے ہی دم توڑ گئی، تاہم آپریشن ہوا اور اس کا بچہ بچا لیا گیا۔ بعد میں ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ جب بچہ نیچے کھسک رہا تھا تب کہیں انول نال اس کی گردن کے گرد پھندے کی صورت لپٹ گئی تھی۔یہ تو اچھا ہوا زچہ کو ہسپتال لے آیا گیا ورنہ بچے نے بھی انول نال سے پھندا لے کر مر جانا تھا۔

بچہ جو لگ بھگ سولہ سال پہلے ماں کے رحم میں پھندا لے کر مرنے سے بچ گیا تھا، گولیوں سے بھون کر مار ڈالا گیا تھا۔

مرنے والا اپنی زندگی میں بھی زندوں میں تھا ہی کہاں۔آٹھ سال کا ہوگا کہ اُس کی گردن ایک طرف کو مٹر گئی اوروہ ڈھنگ سے بول نہیں سکتا تھا۔خیر وہ اپنے دادا اور دادی کے گھر کی رونق تھااور وہ اسی میں اپنے انیس کی جھلک دیکھ دیکھ کر جیتے تھے مگر اب جب کہ انہوں نے اس کی ننھی منی لاش دیکھ لی تھی،اُنہیں کھٹکا سا لگ گیا تھا کہ اب وہ دونوں بھی بس مہمان ہی تھے۔ ماں نے بیٹے کو ٹیلی فون ملوایا، خوب بین ڈالے اور اتنی منتیں کیں کہ بیٹے کو سب کچھ چھوڑ چھاڑکرواپس آنا پڑا۔

چوتھے روز وہ پہنچا تو سارا دن اور رات گئے تک کا وقت روتے رُلاتے گزر گیا۔ اگلے دن شام تک جنہیں پرسا دینا تھا، دے چکے تھے،جب سب چلے گئے اوروہ اندراپنی ماں کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا تو تب تک وہ بھی رو رو کر تھک چکی تھیں۔ا ب وہ اپنے بیٹے سے اور طرح کی باتیں کرنا چاہتی تھیں۔ ایسی باتیں جو اس کے بجھے ہوئے دل میں زندگی کی اُمنگ بھر دیں۔پہلی کوشش میں وہ کامیاب نہ ہو پائیں کہ اُن کا جی بھر آتا تھا،خوب ضبط کیا،حلقوم کی طرف اُٹھتے گولے کو نیچے دبایا اور ہونٹوں کو سختی سے باہم بھینچ لیا۔اُن کا پکا ارادہ تھا کہ دل پر قابو رکھیں گی یا شایدخود ہی اندر سے کچھ اور طرح کی اُمنگ جاگ اُٹھی تھی کہ اندر سے اٹھتا غبارواپس گرنے لگا تھا۔ایسے میں انہیں کچھ وقت لگ گیا تاہم اب وہ سہولت سے اپنے ماضی کی طرف بھٹک سکتی تھیں۔یہ ان کا پسندیدہ علاقہ تھا، سو بھٹک گئیں:

“ میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی کہ میری ماں، جسے میں بے بے کہا کرتی تھی، میرے سر پر آ کر کھڑی ہوئی اور ناراض ہو کر کہا: نی نکیے حیا کر، آج تیرا ویاہ ہے اور تو گڑیوں سے کھیل رہی ہے۔میں نے کہا:بے بے، آج تو میری گڑیا کی شادی ہے۔بے بے نے مجھے بازو سے پکڑا اور کھینچ کر اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا۔پھر میرے ہاتھ سے گڑیا اور رنگ برنگے پٹولے لے کر انہیں غور سے دیکھتے ہوئے کہا: “جھلیے تمہیں اس گڑیا سے بھی سوہنے کپڑے پہنائوں گی۔اس وقت میں یہی سمجھتی تھی کہ شادی خوب صورت اور کام والے کپڑے پہننے کانام تھا،میں جھٹ تیار ہوگئی،کہا :بے بے،پھر تو میں شادی ضرورکروں گی۔بے بے ہنسی مگر میں نے دیکھا اس کی آنکھیں جیسے چھلکنے کو تھیں۔”

ماں کی آنکھیں بھی چھلک پڑی تھیں۔

سید پور کی کچھ آبادی اُونچائی پر تھی جسے اُچی ڈھکی کہا جاتا اور باقی تھلی پانڈی میں۔یہ گاؤں پہاڑی سلسلے کے دامن میں کچھ اس طرح واقع تھا کہ لگ بھگ سو سواسو گھر پہاڑی کے اُبھار پر تھے اور باقی آبادی نیچے ہموار میدان میں پھیلی ہوئی تھی۔ماسٹر سلیم الرحمن کا مکان اُچی ڈھکی پر تھا۔تین کمرے اور ایک بیٹھک ایک قطار میں تھے اور سامنے لمبوترا برآمدہ تھا جسے پسار کہا جاتاتھا۔ اسی پسار کی بغل میں رسوئی بنالی گئی تھی جس کے سامنے دیوار سے لگے تخت پرماں کا زیادہ وقت گزرتا تھا۔ابا بھی گھر میں ہوتے تو وہیں آ بیٹھتے۔ جب ماں بیٹا باتوں میں مگن تھے تو بیچ میں چپکے سے ماسٹر صاحب بھی وہاں آکر بیٹھ گئے تھے۔ اپنی شادی کے قصے کا یہ حصہ سنا تو کھلکھلا کر ہنس دیے اور کہا:

“ بیٹا محمد انیس،اپنی ماں کی باتوں سے یہ نہ سمجھنا کہ میں شادی کے وقت بہت عمر رسیدہ تھا اور تمہاری ماں کم عمر بچی،ہم دونوں ہی کم سن تھے،اگر یہ بارہ تیرہ سال کی ہوں گی تو میں پندرہ سولہ سال کا تھا،تب یہی عمر ہوتی تھی شادی کی۔”

جب ماسٹر صاحب ہنس رہے تھے تواُن کے گال اور بھی زیادہ سرخ ہو گئے تھے۔ ان کی سفید داڑھی پر مدہم روشنی پڑرہی تھی مگر ہنسنے سے لگتا ساری روشنی ایک ایک بال سے پھوٹ رہی تھی۔ دونوں ماں بیٹے کو باپ کا یوں ہنسنا اور سارے میں ایک نور کی خنکی سی بھر دینا اچھا لگ رہا تھا۔ ماں نے چھچھلتی نظر بیٹے پر ڈالی اور پھر اپنے شوہر کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر گزرے وقتوں کو یاد کرنے لگیں:

“تمہارے ابا کا رنگ ایسا تھا جیسے کوئی دودھ میں شہد ملا دے۔ اب بھی ویسا ہی ہے مگر تب ایک اور طرح کی چمک سی اٹھتی تھی اس رنگت سے، کم سنی والی انوکھی چمک۔گھڑولی بھرنے والی رات میری سہیلیوں نے تب ایک گانا پہلی بار تیار کرکے گایا تھا، جی خود گھڑ کر، خاص تمہارے ابا کی مناسبت سے۔ پھر تو یہ گانا اتنا مشہور ہوا کہ تب سے اب تک سب شادیوں میں گایا جاتا ہے۔”
ماں نے دایاں ہاتھ کان پر رکھا اور بایاں قدرے فضا میں بلند کر دیا:

“گھر اُچی ڈھکی تے رنگ سوہا بھلا۔۔۔ ہو سوہا بھلا “۔

ماں کی آواز میں عجب طرح کا لوچ اور رس تھا۔ ان کی آنکھیں بند تھیں اور آواز سارے میں تھرا رہی تھی۔ ماسٹر صاحب نے ادبدا کر بیوی کو گانے سے روک دیا،کہنے لگے :

“ ماتم والا گھرہے نیک بختے،آنڈھ گوانڈھ والے سنیں گے تو کیا کہیں گے۔”

تاہم وہ آنڈھ گوانڈھ سے بے خبر رات گئے تک باتیں کرتے رہے، ادھر ادھر کی باتیں، یوں جیسے اب وہ ماتم والا گھر نہیں تھا۔

ماسٹرصاحب کہا کرتے تھے:زندہ رہ جانے والوں کو اپنی موت تک زندہ رہنے کے جتن کرنا ہوتے ہیں،اسی حیلے کو بروئے کار لا کر وہ اپنے دلوں سے گہرے دُکھ کا وہ بوجھ ایک طرف لڑھکانے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے مگر ناس مارے دکھ کا برا ہو کہ دکھ کے گولے کو حلقوم سے پیچھے دھکیل دینے والی عورت کے ایک ڈیڑھ جملے سے وہ غم تینوں کے دلوں پر بھاری پتھروں کی طرح پھر سے آ پڑا تھا۔اگلے لمحے میں وہ تینوں اپنے اپنے بستروں میں دبکے ایک دوسرے تک اپنی سسکیوں کی آوازیں پہنچنے سے روکنے کے جتن کر رہے تھے۔ اماں نے اُٹھتے اٹھتے کہا تھا:

“ بیٹا انیس،جس عمر میں تمہارے ابا کے سر پر سنہرے تاروں والا سہراسجا تھا عین اس عمر میں تمہارے معصوم بیٹے کی لہو میں لتھڑی ہوئی لاش میں نے اس گھر کے صحن میں دیکھی ہے۔ ہائے کہ یہ لاش دیکھنے سے پہلے میں مر کیوں نہ گئی تھی۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماسٹر سلیم الرحمن عمر بھر محکمۂ تعلیم سے وابستہ رہے تھے اور نکہ کلاں کے مڈل سکول سے ہیڈ ماسٹر ہو کر ریٹائر ہوئے۔تاہم اپنی ملازمت کے اسی عرصے کسی نہ کسی مسجد سے ضرور وابستہ رہے۔ سید پور گاؤں میں یا پھر آس پاس کے علاقوں میں ایسا نہیں تھا کہ کوئی کسی مسجد کا پیش امام ہو یا نماز جمعہ پڑھاتا ہو اور سرکار کی ملازمت بھی کرے کہ اسے بالعموم نادرست سمجھا جاتا تھا۔ ماسٹر صاحب بھی اسے غلط سمجھتے تھے کہ امامت اور خطابت کا معاوضہ لیں۔ وہ اسے پیشہ نہیں بنانا چاہتے تھے۔ ماسٹر صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد، سید پور والوں کی درخواست پر، وہاں کی جامع مسجد سے وابستہ ہوگئے تو انہوں نے اس خدمت کے بدلے کوئی معاوضہ نہ لینے کے اصول کو قائم رکھا۔اس بات سے گاؤں والوں کی نظر میں اُن کی عزت بڑھ گئی تھی۔ تاہم یہ بھی واقعہ ہے کہ ماسٹرصاحب اپنے متنازع نظریات کی وجہ سے،علاقہ بھر کے لوگوں میں ہمیشہ موضوع بحث بنے رہتے تھے۔ایٹم بم کے دھماکے کرنے والے دن کو جب یوم تکبیر کہا گیا تو جمعہ کے خطبے میں انہوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام تو سلامتی والا مذہب ہے اس میں ہر ایسا ہتھیار استعمال کرنا حرام ہے جو جنگ کرنے والے شخص اور عام شہری میں تمیز نہ کر سکے،جو اپنے ہدف پر پڑتے ہوئے بچوں، عورتوں،بوڑھوں، فصلوں اور جانوروں کوبھی نشانہ بنالے۔ وہ کہتے: جنہیں میرے پیارے آقا ؐنے پناہ اور امان دی ہے، اُن بے گناہوں کو مارنے والا ہتھیار حلال نہیں ہو سکتا۔

مولوی افضال نے تو کئی بار ان کے خلاف مہم چلائی تھی کہ اپنے فاسق خیالات کی وجہ سے وہ امامت کے لائق نہیں رہے مگر وہ ہر بار بچ جاتے رہے۔ مولوی افضال کے مطابق “ماسٹر، ماسٹر تھا عالم نہیں تھا اور جب اس ماسٹرنے سود کو بھی حلال قرار دیا تھا تب ہی انہیں جامع مسجد سے نکال باہر کرنا چاہیے تھا۔ “

یہ سود کو حلال کرنے والا قصہ بھی عجیب ہے۔اسی گاؤں میں ایک بیوہ تھی، حاجراں،اس نے بہت مشقتوں میں پڑ کر اپنے بیٹے کو پڑھایا۔اسے ڈگری مل گئی مگر پچھلے دو سال سے بے روزگار تھا۔خدا خدا کرکے اس نے ایک بنک میں ملازمت حاصل کر لی۔ حاجراں مولوی صاحب کے گھر کام کرتی تھی اب جو بیٹے کو پہلی تنخواہ ملی تو اس نے وہاں کام کرنا چھوڑ دیا۔مولوی صاحب نے حاجراں کو بلواکر کہا: “بیٹے سے کہو نوکری چھوڑ دے کہ بنک سود ی کاروبار کرتے ہیں جو حرام ہے۔”مولوی صاحب نے صاف صاف کہہ دیا: “تم نے ساری عمر محنت مشقت سے حلال کمایا اور بچے کو حلال کا لقمہ دیا ہے،یہ نوکری نہیں چھوڑے گا تو ساری عمر کی نیکیوں سے ہاتھ دھو بیٹھو گی اور جہنم کا ایندھن بنو گی۔” حاجراں کے بیٹے کو بہ مشکل نوکری ملی تھی مگر وہ حرام کھانا چاہتی تھی نہ اس کا بیٹا۔بیٹے سے مشورہ کیا تو وہ بھی پریشان ہو گیا، اسی پریشانی میں وہ ماسٹر صاحب کے پاس پہنچے، انہوں نے ساری بات توجہ سے سنی اور کہا: “تمہارے بیٹے کی کمائی حرام نہیں ہے۔”

بات گاؤں بھر میں پھیل گئی۔سب کا ماننا تھا کہ سود حرام تھا اور بنک سودی کاروبار کرتے تھے۔لوگوں کے اعتقاد اور جذبات کو مولوی افضال نے خوب بھڑکایا اور پھرایک روز وہ اپنے ساتھیوں سمیت جامع مسجد جا پہنچا،یوں لگتا تھا ماسٹر صاحب کو مسجد سے الگ کر دیا جائے گا۔خیر ماسٹر صاحب نے مولوی افضال سے کہا:’ اگر آپ سب لوگ کچھ وقت کے لیے تشریف رکھیں تو ہم یہ مسئلہ سمجھنے کی طرف آ سکتے ہیں۔” لوگ سکون سے بیٹھ گئے۔ انہوں نے پہلے قرآن پاک کی وہ آیات تلاوت کیں جن میں سود کو حرام اور تجارت کو حلال قرار دیا گیا تھا۔پھر احادیث کی کتب سے متعلقہ حدیثیں بیان کیں اور آخر میں سیرت پاک کا واقعہ سنانے لگے، وہ واقعہ جس کے مطابق حضرت خدیجہؓ نے حضور اکرم ؐکے لیے پیغام بھیجا تھا کہ ان کا اسباب لے کر تجارت کریں اور متعلقہ کتاب سے پڑھ کر سنایا کہ آپ ؐنے تجارت کی تھی اور چوں کہ آپؐ مکہ میں سب سے بڑھ کر صادق اور امین تھے لہٰذا اس کاروبار میں خوب منافع بھی کمایا تھا۔یہاں پہنچ کر ماسٹر صاحب نے مولوی افضال سے سوال کیا:” میرا پوچھنا یہ ہے کہ یہ تجارت تو جناب رسالت مآبؐ کر رہے تھے، منافع حضرت خدیجہؓ کو کیوں ملا؟” مولوی ا فضال نے ترت کہا :” اس لیے کہ سرمایہ حضرت خدیجہؓ کا تھا۔”ماسٹر صاحب مسکرائے۔”ٹھیک “ پہلو بدلا اور کہا:
“ گویا اسلام میں سرمایہ کاری حرام نہیں ہے۔ہاں اسلام میں سود حرام ہے۔ایسا قرض، جس کے ذریعے ضرورت پوری کر لی جائے اور سرمایہ ختم ہو جائے،اس پر اضافی رقم کا مطالبہ سود ہے اور وہ حرام ہے۔ تاہم ایسی سرمایہ کاری جس میں اصل زر محفوظ رہے اور سرمائے میں بڑھوتری ہوتی ہے، حلال عمل ہے۔ایسے چاہے افراد ہوں یا ادارے،اگر وہ صرف قرض دینے اور وصول کرنے کاکام نہیں کرتے بلکہ سرمایہ کاری کو منافع بخش کاروبار سے منسلک کرتے ہیں، حلال کام کرتے ہیں۔تب انہوں نے مخصوص بنک کا طریقہ کار تفصیل سے بیان کیا، جس میں وہ اس نوجوان کو ملازمت ملی تھی اور کہا: چوں کہ وہ بنک صرف ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری کرتا ہے اور اس امرکو یقینی بناتا ہے کہ منصوبے تکمیل کو پہنچیں اس لیے اس کاکام حلال عمل ہے اور اس نوجوان کا ملازمت کرنا رزق حلال سے جڑنا ہے۔ “

ماسٹر صاحب کا فتویٰ درست تھا یا نادرست مگر اس نئے استدلال نے مولوی افضال کو اُلجھا کر رکھ دیا تھا۔ وہ کچھ لمحوں کے لیے سوچتا رہ گیا تو لوگوں میں سر گوشیاں ہونے لگیں۔ فوری طور پر کچھ نہ سوجھا تو دلیل سے جواب دینے کے بجائے اسے ماسٹر صاحب کاایک ایسا حیلہ قرار دیا جس میں وہ حرام کو حلال بنا رہے تھے تاہم اس بحث کا یہ نتیجہ نکلا کہ لوگ فوری طور پر ماسٹر صاحب کو مسجد سے الگ کرنے سے باز رہے تھے۔

اسی طرح جب سے افغانستان میں شورش شروع ہوئی تب سے وہ جہادی تنظیموں کی کارروائیوں کو خلاف اسلام کہتے آئے تھے۔پہلے پہل اُنہیں روسی ایجنٹ کہا گیا اور جب روس پسپا ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مجاہدین دہشت گرد ہوگئے تو وہ اسی مولوی کی نظر میں وہ امریکی ایجنٹ ہو گئے مگر ان کا موقف بدلنا تھا نہ بدلا۔وہ کہتے تھے کہ نجی جہاد کا یہ عمل انارکی اور تباہی کے نتائج لائے گا اور سب نے دیکھا، ایسا ہی ہوا تھا۔ماسٹر صاحب اُن لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے خودکش حملوں اور ایٹم بم دونوں کو حرام ہتھیار کہا تھا اور دلیل یہ دی تھی کہ دونوں ظالم اور مظلوم میں تمیز نہیں کر سکتے تھے۔جس روز پشاور میں طالبان نے ڈیڑھ سو بچوں کو بے دردی سے مار ڈالا تھا اُنہوں نے فوراً بعد والے جمعے کو بہت درد بھرا خطبہ دیا تھا۔ستم ظریفی دیکھیے کہ اس خطبے والے جمعے کے بعد پڑنی والی جمعرات کوان کا اپنا پوتاتوقیرخود کش حملہ آور سمجھتے ہوئے گولیوں سے بھون ڈالا گیا تھا۔

جب ننھے توقیر کی خون میں لتھڑی ہوئی لاش گھر کے آنگن میں لائی گئی تھی تو وہ بھاگ کرکئی روز پہلے والا وہ اخبار لے آئے تھے جس میں پشاور سکول کے بچوں کی کٹی پھٹی لاشوں کی تصویریں چھپی تھیں۔وہ کبھی اخبار کی طرف انگلی لے جاتے اور کبھی پوتے کی لاش کی جانب،پھر انہوں نے اوپر آسمان کی طرف منھ کیا اور چلاتے ہوئے کہا:” ان بچوں کا کیا قصور ہے میرے مولا۔”یہ بات انہوں نے گڑ گڑاتے ہوئے تین بار کہی،پھر چاروں طرف گھوم کر ہاتھ پھیلائے پھیلائے کہا:”اگر اس دھرتی پر اس ظلم کو روکنے والا کوئی نہیں ہے تو کیا تم بھی۔۔۔۔ “ وہ کچھ کہتے کہتے رُک گئے تھے اور آسمان کی طرف یوں خالی خالی نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے اُنہیں یقین نہیں تھا کہ وہاں کوئی تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہاں وہ تینوں تھے۔ سلیم عرف لالہ، شفیق عر ف جھگڑا اور شریف عرف پھرکی۔

تھٹی نور احمد شاہ کا گورنمنٹ اسلامیہ سکول مدرسہ بھی تھا اور سکول بھی۔ہیڈ ماسٹر صاحب شام مسجد کے صحن میں قرآن،حدیث، فقہ اور سیرت کی تعلیم دیتے جب کہ سکول کی باقاعدہ پڑھائی کمرہ جماعت میں ہوتی تھی۔ ان دنوں ورنیکلر فائنل کے امتحان کے لیے ضلعی دفتر انتظام کرتا تھا۔سلیم اسی امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔اس کے باقی دونوں بھائی نچلی جماعتوں میں تھے۔ سلیم کے لالہ جی کے طور پر سکول بھر میں مشہور ہونے کا قصہ بھی عجیب ہے۔جب ان کے ابا نے سلیم کے دونوں بھائیوں کو بھی تھٹی پڑھنے بھیج دیا تو تینوں وہیں اقامت گاہ میں رہنے لگے۔ شفیق اورشریف دونوں بڑے بھائی کے احترام میں سلیم کو لالہ کہہ کر بلاتے تھے۔دیکھتے ہی دیکھتے سکول کے سارے بچے اُسے لالہ کہنے لگے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ سکول کے ماسٹر بھی اسے لالہ کہتے۔ شفیق بڑا جھگڑالو تھا اور شریف تیز طرار، لہٰذا دونوں اسی مناسب سے جھگڑا اور پھرکی ہو گئے۔اسی زمانے کا واقعہ ہے ایک صبح ہیڈ ماسٹر صاحب نے لالہ سلیم کو بلا بھیجا۔یہ معمول کی بات تھی۔وہ کسان کا بیٹا تھااور مال ڈنگر سنبھالنے کا ہنر رکھتا تھا۔جب ضرورت پڑتی ان کی بھینس کو چارہ ڈالتا اور پانی پلا دیا کرتا۔اس بار بھی یہی کرنا تھا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب آٹھویں کا نتیجہ لینے کیمبل پور جا رہے تھے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے کہا:

“میں شام تک لوٹوں گا دیکھو، میں نے بھینس کو چارہ ڈال دیا ہے۔”

وہ اس بھینس کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ان کی نظریں اس کی سیاہ چمکتی ہوئی کھال پر جمی تھیں اور ہاتھ سے اس کا بدن سہلا رہے تھے۔یکایک انہوں نے سلیم کی طرف دیکھا اور پھر گھر کے سامنے موجود بڑے تنے والے بوہڑ کے درخت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا :

“ کچھ دیر میں بھینس فارغ ہو جائے تو اسے کھول کر وہاں سائے میں لے جا کر باندھ دینا، اور ہاں دن کو اسے پانی بھی پلانا،خیال کرنا کہیں دھوپ میں نہ جھلستی رہے۔”

لالہ سلیم پر ہیڈ ماسٹر صاحب کا بہت اعتماد تھا۔وہ جو ذمہ داری دیتے وہ پوری ہو جایا کرتی تھی۔محنت کرانے والے استاد تھے، طالب علموں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے اور طالب علم بھی ان کے کام جی جان سے کرتے تھے مگراُس روز یوں ہوا کہ بھینس کے گتاوا ختم کرنے تک لالہ سلیم کو وہیں کُھرلی کے پاس انتظار کرنا پڑا۔اس میں اتنی دیر لگ گئی کہ وہ اُکتاہٹ محسوس کرنے لگا تھا۔ گتاوے میں شاید شیرہ تھا کہ آخر میں بھینس کھرلی میں تلچھٹ چاٹنے لگی تھی۔ابھی اس نے بھینس کھولی نہ تھی کہ اس کے بھائیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ وہ اُسے کھیلنے کے لیے بلا رہے تھے۔ اُس نے جلدی سے بھینس کھولی اور اُسے بوہڑ کے نیچے لے گیا۔تنے کے ساتھ پہلے سے ایک رسی بندھی ہوئی تھی جس سے بھینس کو باندھا جا سکتا تھا مگراس کی نظر اچانک اوپر ایک کٹی ہوئی مگرمضبوط شاخ پر پڑی۔ اس نے کھیل ہی کھیل میں تاک کر بھینس کی رسی اُس کی سمت اُچھالی کہ دیکھے وہاں پہنچتی بھی ہے یا نہیں۔وہ سیدھا اُسی ٹھنٹھ میں جاکر اٹک گئی۔ اس نے اسے کھینچا، ایک بار، دو بار،تین بارمگر وہاں رسی ایسی پھنسی کہ نکلتی ہی نہ تھی، حالاں کہ وہ لگ بھگ اس رسی سے لٹک ہی گیا تھا۔ جھگڑا، پھرکی اور دوسرے لڑکے اسے مسلسل بلا رہے تھے ؛ “لالہ !او لالہ آجاؤ۔” اس نے سوچا بھینس ہی باندھنی تھی، بوہڑ کے تنے سے بندھی رسی سے نہ سہی، اسی بوہڑ کے ٹھنٹھ سے ہی سہی۔وہ مطمئن ہو کرکھیلنے نکل گیا۔بیچ میں ایک دفعہ بھینس دیکھنے آیا،وہ مزے سے بوہڑ تلے بیٹھی جگالی کر رہی تھی۔اگرچہ یوں بیٹھے ہوئے اس کی رسی ذرا سی تنی ہوئی تھی اور جگالی کرنے کے لیے بھینس کو اپنی گردن کچھ اوپر اُٹھا کر رکھنا پڑ رہی تھی، مگراس کی نظر میں سب ٹھیک تھا لہٰذا وہ اقامت گاہ کے طعام خانے سے کھانا کھا کر پھر دوستوں کے ساتھ کھیلنے نکل گیا۔ حتٰی کہ سورج سر سے ہوتا دوسری طرف جھک گیا تھا۔

اچانک اُسے ہیڈ ماسٹر صاحب کی آواز سنائی دی۔ “لالہ !او لالہ۔” وہ بھاگم بھاگ پہنچا اور مری ہوئی بھینس کو دیکھ کر بوکھلا گیا۔اس نے ایک ہی لمحے میں اندازہ لگا لیا تھا کہ دھوپ سے بچنے کے لیے بھینس درخت کے دوسری طرف ہو لی تھی۔ایسے میں اس کی رسی تن گئی۔ وہ گری اوراُسے اپنی ہی رسی سے پھندا آگیا تھا۔ہیڈ ماسٹر صاحب پاس کھڑے ہکا بکا اسے دیکھ رہے تھے۔ لالہ کی سانسیں اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے تھیں۔ آخر کار ہیڈماسٹر صاحب نے چہرہ اوپر اٹھایا اور کہا :

“ لالہ یہ تم نے۔۔۔۔”

اُنہوں نے بات نامکمل چھوڑ دی،انا للہ پڑھا، چہرے پر جیسے ایک اطمینان سا آگیا تھا۔ کہنے لگے:

“ خدا کا شکر ہے اسی میں معاملہ طے ہوا،میں تو بہت زیاہ خوش تھا۔”

پھر انہوں نے لالہ کو خبر سنائی کہ اسکول کا نتیجہ سو فی صد رہا تھا اور یہ کہ لالہ نے اس امتحان میں پہلی پوزیشن لی تھی۔
اپنے بچپن کا یہ واقعہ ماسٹر سلیم الرحمن نے بہت دفعہ اپنے بیٹے انیس کو سنایا تھا۔یہ واقعہ سنا کر ہر بار وہ کہا کرتے بچوں کی تربیت استاد اگر اس جذبے سے کرے تو وہ معاشرے کا کار آمد فرد بنتا ہے۔یہی واقعہ وہ اپنے پوتے توقیر کو بھی سنایا کرتے جس کے بارے میں انہیں یقین تھا کہ اپنے دماغ کے خلل کی وجہ سے وہ کم کم ہی سمجھ پاتا ہوگا۔اس واقعہ کو دہراتے ہوئے ہر بار وہ ان مدرسوں میں پڑھنے والوں نوجوانوں کی بابت بھی سوچا کرتے تھے جو کہنے کو تو طالب علم تھے مگر اساتذہ نے انہیں طالبان بنا دیا تھا؛ شقی القلب طالبان۔مذہب کے نام پر ہر قسم کا بدترین تشدد کر گزرنے والے،گردنوں پر چھری رکھ کر شاہ رگ کاٹ ڈالنے والے، کمر سے بارود باندھ کر اپنے آپ کو اوردوسرے بے گناہوں کو اڑا دینے والے،ان سے مسجدیں محفوظ تھیں نہ مدرسے، بازار محفوظ تھے نہ دفاتر اور سب سے شرمناک بات یہ تھی کہ وہ ایسا کرتے ہوئے نعرہ تکبیر بلند کرتے تھے حالاں کہ خوف خدا ان کے دلوں کو چھو کر نہ گزرا تھا۔
عجب طرح کی سوچیں تھیں کہ ماسٹر سلیم الرحمن کا دِل خوف خدا سے لرزنے لگتا تھا۔نہ جانے کیوں اُنہیں یقین تھاکہ گھر گھر سے دہشت پھوٹ پڑنے کاعذاب یونہی اس قوم پر نہیں ٹوٹاتھا،کہیں نہ کہیں کوئی چوک اُن کی نسل سے ہو گئی تھی۔اپنے طالب علموں کو انہوں نے حساب پڑھایا اور انگریزی بھی،وہ اسلامیات پڑھا رہے ہوتے یا اُردو، شاگردوں کی روح سے مکالمہ کرتے تھے۔ ایک زمانے میں وہ ہر طرح کی کہانیاں پڑھ جایا کرتے تھے انہوں نے رنگ رنگ کی کہانیاں پڑھائیںبھی بہت۔ تاہم پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعدانہوں نے منٹو کی ایک کہانی “کھول دو” کا چرچا سنا تو اسے بہ طور خاص پڑھا تھا۔ وہ کہانی انہیں اب رہ رہ کریاد آتی تھی۔پوری کہانی نہیں: کھیت کا وہ منظر جب رضا کاروں کا ٹولہ ایک لڑکی پر ٹوٹ پڑا تھا۔ انہیں لگتا وہ وہیں کہیں تھے اور اپنی آنکھوں سے وہ سارا منظر دیکھ رہے تھے مگر اُسے روک دینے کی قدرت رکھنے کے باوجود ایک لذت بھرے سہم کے اسیر ہو گئے تھے۔ خوف خدا کہیں نہیں تھا، شاید آس پاس خدا بھی نہیں تھا۔ وہ وہیں دبکے سارا منظر دیکھتے تھے اور اب بھی شاید کہیں دبکے سارا منظر دیکھتے ہیں۔ منٹو کے افسانے کے رضاکار،خدائی فوجدار ہو کر مسجدوں کی سیڑھیوں پر کھڑے چندہ بٹورتے ہیں۔ مال داروں کو اُٹھا کر لے جاتے ہیں اور ان کے مالوں سے خدا کا حصہ ہتھیاتے ہیں۔اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ سمجھنے والے یہ خدائی فوج دار یوں تاثر دیتے ہیں کہ جیسے وہ اسی منصب کے لیے اُوپر سے اُتارے گئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“وہ اوپر سے اُترتے تھے،چھتریوں کے ذریعے اور سارے خوف زدہ تھے۔”

ماسٹر صاحب رُکے،کھنگار کر گلا صاف کیا۔شاید ان کا گلا خشک ہو رہا تھا۔انہوں نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو ذرا فاصلے پر بیٹھی اون کا گولا لپیٹ رہی تھی اور کہا :” نیک بختے پانی “۔

اس نے اُون کا گولا ایک طرف رکھ دیا۔پاؤں کھسکا کر تخت سے نیچے لٹکائے اورگھٹنے پر ہاتھ ٹیک کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ایسے میں اُس کے ہونٹوں سے “ہائے” نکلی اور دائیاں ہاتھ خود بخود کمر پر جا ٹکا تھا۔ اُسے وہاں کھچاؤ محسوس ہوا تھا۔تاہم یہ کھچاؤ وہاں شاید وہ اِتنی ہی دیر کے لیے تھا کہ اب وہ اسے بھول کر سیدھی کمر کے ساتھ چل رہی تھی۔ اس نے ماسٹر صاحب کی چارپائی کے پاس پڑے میز پر خالی گلاس دیکھا اور اسے اٹھا کر پانی لینے باہر نکلتے نکلتے کہنے لگی :

“اس معصوم کو کیا بتاتے ہو “۔

ماسٹر صاحب نے ننھے توقیر کی سمت دیکھا: اس کی گردن دائیں جانب جھکی ہوئی تھی اور ہونٹوں سے رال بہہ رہی تھی۔ اتنے میں اس کی بیوی پانی کا بھرا ہوا گلاس لے کر پہنچ گئی تھی،ماسٹر صاحب کہنے لگے :

“ہاں تم ٹھیک کہتی ہو،اس بے چارے کو کیا سمجھ۔”

ننھے توقیر کا بدن زور سے لرزا اور اس کی گردن پر اس کا سرجھٹکے لینے لگا، لگتا تھا وہ سب سمجھ رہا تھا،اپنی توتلائی ہوئی لکنت میں کہنے لگا:

“ممومو جھے سمجھ اے،سب سنوں گا،اوووپر والے،چھتررری والے “۔

ماسٹر صاحب کی بیوی بھی پاس ہی بیٹھ گئی،گزرے وقتوں کو یوں یاد کرنا اسے اچھا لگ رہا تھا۔ ماسٹر صاحب کو اب بات سنانے میں لطف آنے لگا تھا،کہنے لگے :

“وہ دوسری بڑی جنگ کا زمانہ تھا، مجھے یاد ہے رمضان کا مہینہ تھا،لام، جرمن فوج اور فوجیوں کا چھتریوں کے ذریعے اترنا، اس طرح کی باتیں ہمارے کانوں میں پڑتی رہتی تھیں۔ایک مرتبہ یوں ہوا کہ ہم ایک منصوبے کے تحت،تراویح کی جماعت میں سب سے آخری صف میں کھڑے ہوئے اور جوں ہی لوگ سجدے میں گئے، پیچھے سے کھسک لیے،اقامت گاہ میں اپنے اپنے کمروں میں گئے،خاکی نکریں پہنیں اور اوپر بنیانیں؛ وہی وردی جو ہم پہن کر پی ٹی کرتے تھے۔پھرچھتریاں لیں اور گاؤں کی ایک طرف سے سیڑھیاں چڑھے اور گھروں کی چھتوں سے بھاگتے،رکاوٹیں الاہنگتے پھلانگتے دوسری طرف سے اُتر گئے۔اس زمانے میں شاید ہی کو ئی مکان پکا ہوتا ہوگا، سب مٹی گارے کے بنے ہوئے اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ شدید گرمی کا موسم تھا۔ ابھی بجلی نہ آئی تھی لوگ چھتوں پر کھاٹیں بچھا کر سویا کرتے۔جسے مچھر دانی جڑتی، وہ مچھر دانی لگا کر ورنہ یونہی کمر کی چادریں اوپر تان کر سوجایا کرتے تھے۔ہم گاؤں کی چھتوں پر چھاتے لیے بھاگ رہے تھے اور اپنے پیچھے ایک ہنگامہ اٹھاتے جارہے تھے۔ہم صاف مردوں اور عورتوں کے شور اور چیخوں میں سن سکتے تھے :

“جرمن آگئے”، “چھتریوں والے اتر گئے”، بچاؤ بچاؤ”۔

ہم دوسری طرف سے اُتر گئے۔کمروں میں گئے اور کپڑے بدل کر پھر تراویح میں شامل ہو گئے، یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔خیر رات بھر یوں لگتا تھا جیسے لوگ چھتریوں والے جرمنوں کو ڈھونڈتے رہے تھے، کلہاڑیاں، ڈنڈے جس کے ہاتھ جو لگا، تھاما اور گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ہم اپنے تئیں خوف زدہ ہو گئے،اگلے روز شہر کے تھانے سے پولیس آئی،پولیس والے ہیڈ ماسٹر سے بھی ملے تھے۔ شاید انہوں نے سمجھا بجھا کر انہیں واپس کر دیا تھا۔ہماری پیشی ہو گئی۔ہیڈ ماسٹر صاحب کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا،انہوں نے ہماری طرف دیکھ کر وقفے سے دو بار یوں زور سے “ہونہہ،ہونہہ” کیا تھا کہ ان کا کلف لگا شملہ جھولنے لگا، انہوں نے ہونٹ سختی سے بھینچے ہوئے تھے اور نرخرہ اوپر نیچے تھرک رہا تھا جیسے زور سے آئی ہنسی دبا رہے تھے،اسی کیفیت میں ان کا ڈنڈا فضا میں بلند ہوا اور کہنے لگے :
“ چھتری والے جرمن، تمہاری پی ٹی کی وردیاں پہن کر گاؤں میں اترے تھے۔”

بہ مشکل اُنہوں نے جملہ مکمل کیا اوران کے ہونٹوں سے ہنسی کا فوارہ پھوٹ بہا۔

“لالہ !تم بھی بہت شریر ہو۔ دفعان ہو جاؤ”۔

ہم عجلت میں ہیڈ ماسٹر صاحب کے کمرے سے نکل آئے تھے مگر میں نے پلٹ کر دیکھا تھا وہ اپنی میز پر ایک ہاتھ رکھے اور دوسری سے پیٹ دبائے ہنس رہے تھے۔”

جس رات ماسٹر صاحب نے یہ واقعہ سنایا تھا اس رات ننھا توقیر چپکے سے اپنے گھر سے نکل گیا تھا۔ توقیر کے پیدا ہونے سے قتل ہونے تک کا ایک ایک لمحہ دادا،دادی کے دلوں پر نقش تھا۔ اُس نے آنکھ کھولی تو ماں نہیں تھی، ڈھنگ سے رشتوں کو پہچاننا شروع کیاتو باپ ملک چھوڑ کر چلا گیا۔باپ کے جانے تک وہ بھلا چنگا تھا مگر ایک رات وہ اُٹھا تو اُس کی گردن درد سے ٹوٹ رہی تھی۔اُسے ہسپتال لے جایا گیا، کئی ٹسٹ ہوئے اور پتا چلا اسے گردن توڑ بخار تھا، علاج ہوتا رہا مگر وہ گردن سیدھی رکھنے کے قابل نہ ہو سکا،چلتا تو سر سے پیر تک جھٹکے کھاتا،بولتا تو زبان میں تتلاہٹ آ جاتی، بات کرتے کرتے بھول جاتا،کبھی کبھی ایک بات میں دوسری کو ملا دیتا تو سننے والوں کے قہقہے نکل جاتے تھے مگر اس بار کچھ ایسا ہوا تھا کہ سب کی چیخیں نکل گئی تھی۔شاید رات دادا سے جو سنا تھا اُس میں کچھ خبروں کو ملا کراُس نے ایک منصوبہ بنایا تھا،چھوٹے ذہن سے بڑے لوگوں کو دہشت زدہ کرنے والا منصوبہ۔ اپنے وقت سے کٹا ہوا جنگ کا جو تماشا اِس معصوم کے سامنے کھینچا گیا تھا وہ کچے ذہن پر نقش ہو گیاتھا۔

جب اُس کی لاش لائی گئی تو اسی ننھے بدن پر خون میں تر ایک ڈھیلی ڈھالی جیکٹ تھی۔ یہ وہ جیکٹ تھی جس میں سامنے کی طرف کئی جیبیں بنائی گئی تھیں۔اسے ماسٹر صاحب نے بہت سال قبل حج پر جانے سے پہلے لنڈے بازار سے اس لیے خریدا تھا کہ اِن جیبوں میں پاسپورٹ، دعاؤں کی کتابیں اور کرنسی، کچھ بھی رکھا جا سکتا تھا۔ ننھے توقیر نے اس کی جیبوں میں اپنے کھلونے بھر لیے تھے۔ایک چادر سر پر باندھی اور اس کا پلو پیچھے لٹکنے دیا اور ہاتھ میں وہ کھلوناپستول اُٹھالیا جو باپ نے پچھلے سال امریکہ سے بھیجا تھا۔وہ یہ خیال کر کے ہی خوش ہو رہا تھا کہ لوگ اُس سے ڈر کر بھاگیں گے۔بالکل اسی طرح جیسے اس کے دادا چھتری لے کر نکلے تھے تو بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ اس نے باہر نکلتے ہی اِدھر اُدھر دیکھا اور بھاگتے ہوئے بازار کی طرف ہو لیا۔ وہ کہتا جاتا تھا :
“ میں پھٹ جاااااؤں دا۔۔ میں پھٹ جاؤں داااا”۔

اس کے پیچھے ایک شور مچ گیا تھا :

“خود کش آگیا خود کش آگیا”۔

وہ اس شور شرابے سے اور پر جوش ہو گیا حتٰی کہ وہ جامع مسجد والے چوک میں پہنچ گیا۔ سانحہ پشاور کے بعد اب وہاں بھی پولیس والے کی ڈیوٹی لگ گئی تھی، سپاہی چوکنا ہو گیاکہ اسی عمر کے نوجوان دھماکے سے پھٹ جایا کرتے تھے۔توقیر کی نظراُس پر پڑی،تو ٹھٹھک کر رُکا، پھر یہ سوچ کہ جی ہی جی میں خوش ہوا کہ وردی والے کو ڈرانے میں بہت مزا آئے گا۔اگلے ہی لمحے وہ اُس کی جانب لپک رہا تھا۔پولیس والا واقعی خوف زدہ ہو گیا تھا،اس نے بوکھلا کر بندوق سیدھی کی اور ٹریگر دبا دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لام: جنگ قتلام: قتل عام

Categories
فکشن

قاری ظفر

قاری ظفر اپنی کوٹھڑی کے فرش پرنگاہ ڈال رہا ہے۔ فرش خون کی ٹیڑھی میڑھی لکیروں سے سجا ہوا ہے۔ یہ اُس کا خون ہے۔۔۔۔ ظفر کو اِتنے زور کی کھانسی آتی ہے کہ اُس کے منہ سے خون بہنے لگتا ہے۔ یہ کھانسی اُس کے جسم میں ایک زلزلہ پیدا کر رہی ہے۔ اُس کے جسم کا انگ انگ کانپ رہا ہے۔ اُسے کچھ ہفتوں سے زکام ہے جس نے بہت خوفناک شکل اختیار کر لی ہے۔

 

ظفر کمزور ہے اَور اُس کی یہ کمزوری اُسے سیمنٹ کے اُس چبوترے پر سیدھا لیٹنے پر مجبور کرتی ہے جو یہاں پلنگ کا کام دیتا ہے۔ اَور وہ سارا دِن چبوترے پر لیٹ کر فرش کی طرف تکتا رہتا ہے اور خون کی لکیروں کی گنتی کرتا ہے اَور لکیروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

 

یہاں مکھیاں بے شمار ہیں۔ ظفر کی کوٹھڑی اُن کی عبادت گاہ ہے۔ مکھیوں کا طواف دِن رات جاری رہتا ہے۔ بعض مکھیاں تھک ہار کر ظفر کے جسم پر بیٹھ جاتی ہیں۔ مگر ظفر میں اُنھیں جسم سے ہٹانے کی طاقت نہیں ہے۔

 

ساتھ والی کوٹھڑیوں سے مختلف آوازیں اُبھر رہی ہیں۔ وہ غلیظ گالیاں سُنائی دے رہی ہیں جو سِکھ قیدی ظفر کے پاک وطن کو دیتے رہتے ہیں۔ اور وہ فحش پنجابی گانے گونج رہے ہیں جنھیں گستاخی والے قیدی اپنے ریڈیو پر تمام دِن سُنتے رہتے ہیں۔ اور وہ خوبصورت تلاوتیں بھی سُنائی دیتی ہیں جو خود کش حملہ آور ہر وقت کرتے رہتے ہیں۔ یہ قیدی ظفر کے پسندیدہ قیدی ہیں۔ وہ غازی ہیں۔۔۔۔ غازی۔ ظفر اگراُن جیسا جوان ہوتا تو وہ غازی بن جاتا؛ مگر خدا کو کچھ اَور ہی منظور تھا۔ رب نے ظفر کو اپنا غازی نہیں‘ اپنا پولیس مین بنایا ہے۔۔۔۔

 

اب ظفر کی کھانسی شروع ہو گئی ہے۔ ایک نیا زلزلہ اُس کے جسم کو ہلانے لگا ہے۔ کچھ دیر بعد خون کا ایک فوارہ اُس کے منہ سے چھوٹنے لگتا ہے اور وہ فرش پر نگاہ ڈالتا ہے۔ فرش کی سُرخ لکیروں میں مزید اِضافہ ہو گیا ہے۔ اُس کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے۔

 

پہلے ظفر کو انتظامیہ کی طرف سے علاج کی اُمید تھی؛ مگر اُس نے جلد ہی یہ اُمید گنوا دی۔ اُسے اینٹی بائیوٹک اور ڈر پس کی ضرورت تھی، مگر اُسے صرف بروفین کی جعلی گولیاں نصیب ہوئیں۔ ظفر سزائے موت کا قیدی ہے؛ مگر عین ممکن ہے کہ وہ پھانسی لگنے سے پہلے ہی اپنے رب کے پاس پہنچ جائے گا۔ وہ اپنی کوٹھڑی کے تھڑے پر لیٹا لیٹا مر جائے گا۔ اَب اُس کی کھانسی بند ہو گئی ہے۔۔۔۔ زلزلہ ختم ہو گیا ہے۔۔۔۔ وہ سُکھ کا سانس لے رہا ہے۔۔۔۔

 

ظفر اِس جیل کی کوٹھڑی میں کیا کر رہا ہے؟ وہ کوئی مجرم نہیں ہے۔ جُرم سے اُسے سخت نفرت ہے۔۔۔۔ مگر انسان اندھے اور احمق ہیں۔ شیطان نے اُن کی سمجھ بوجھ ختم کر دی ہے، اَور اُنھوں نے ظفر کو جیل میں بند کیا ہوا ہے۔ اُس کا جرم؟ اُس نے صرف اپنا فرض اَدا کیا۔ اُس نے اپنے شہر میں خدا کا قانون نافذ کیا۔ وہ رب کا پولیس مین ہے۔۔۔۔

 

شیطان اَور ظفر کے مابین ایک ازلی دُشمنی ہے۔ شیطان ظفر سے اِس وجہ سے نفرت کرتا ہے کہ ظفر نے اُس کی بہت سی مخلوقات کو جان سے مار ڈالا۔ پھر شیطان نے اُس کے خلاف ایک سازش رچائی۔ ظفر کی گرفتاری اَور اُس کی سزائے موت اِسی سازش کا نتیجہ ہیں۔ مگر اُسے اِس شیطانی سازش کا شکار ہونے کا ملال نہیں ہے۔ اُس نے بھرپور زندگی بسر کی ہے اَور اپنی ذمے داریاں بھرپور طریقے سے نبھائی ہیں۔ ظفر اس دُنیا سے رخصت ہو نے والا ہے۔

 

مگر دُنیا کی رِیت یہ ہے کہ مرنے والا‘ دُنیا چھوڑنے سے پہلے اپنی زندگی کی فلم کے اہم مناظر دیکھتا ہے۔ سو ظفر کی آنکھوں کے سامنے کچھ اَہم منظر اُبھرنے لگے ہیں۔

 

2

 

ظفر کی شادی طے ہو گئی ہے؛ مگر وہ مجبوری میں شادی کرے گا۔ اُس کے والدین نے اُسے مجبور کیا ہے۔ وہ کئی سال سے ایک مدرسے میں درسِ نظامی پڑھ رہا ہے اَور اپنی زندگی دِین کی خدمت میں وقف کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ اُس کے دِل میں شادی کرنے کی کوئی تمنا نہیں ہے؛ مگر اُس کے والدین ضعیف ہو چکے ہیں اَور اُن کی آنکھیں ظفر کے بچوں کے چہرے دیکھنے کو ترستی ہیں۔۔۔۔ والدین بڑی ضد کر رہے ہیں اَور ظفر بالآخر اُن کی ضد مان رہا ہے۔ وہ شادی کے لیے راضی ہو رہا ہے؛ مگر شادی سے پہلے وہ اپنے والدین کے سامنے اپنی شرطیں رکھ رہا ہے۔۔۔۔ شادی والے دِن نہ تو اُس کی بارات جائے گی اَور نہ ہی دُلہن کی ڈولی اُٹھے گی۔۔۔۔ نہ گیت گائے جائیں گے، نہ بھنگڑے ڈالے جائیں گے۔۔۔۔ اَور جوتا چھپائی کی رسم بھی نہیں ہو گی وغیرہ۔۔۔۔ وہ چاہتا ہے کہ اُس کی شادی شریعت کے عین مطابق ہو۔ وہ خاندان کی پہلی اسلامی شادی ہو گی۔۔۔۔ ظفر کے والدین ساری شرطیں مان رہے ہیں۔ چھے ماہ بعد اُس کی شادی ہو رہی ہے۔

 

نکاح پڑھا گیا ہے۔ رخصتی ہو رہی ہے۔ اَب سہاگ رات شروع ہو رہی ہے۔ دُلھن گھونگھٹ میں سیج پر بیٹھی ہے اَور اُس کا گھونگھٹ اُس کے آنسوؤں سے بھیگا ہوا ہے؛ اَور اُس کا بدن ڈر کے مارے کانپ رہا ہے۔ ظفر اپنی دُلہن کے مانند سہما ہوا ہے کیونکہ وہ آج پہلی بار اِزدواجی وظیفہ اَدا کرے گا‘ اَور اِس عمل کے بارے میں اُس کی معلومات صفر ہیں۔ مگر وہ کوشش کر رہا ہے اَور دُلہن کے مُکھڑے پر سے گھونگھٹ اُتار رہا ہے۔ دُلہن کا چہرہ اُجاگر ہو رہا ہے۔۔۔۔ اُس کا ناک نقشہ بہت معمولی ہے۔۔۔۔ آنکھیں چھوٹی، ہونٹ پتلے، ناک لمبی ہے۔۔۔۔ اَور اُس کی رنگت صاف نہیں ہے‘ دُلہن کالی ہے۔ یہ کیا بات ہوئی؟ (بڑا دھوکا ہوا)۔ ظفر کی ماں نے اُسے کہا تھا کہ دُلہن بڑی خوبصورت ہے۔۔۔۔ خیر۔۔۔۔ ظفر بتی بجھا رہا ہے؛اَور اندھیرے میں اپنا مردانہ فرض نبھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر دُلہن دھاڑیں مار مار کر رو رہی ہے اَور اُس کی منّتیں کر رہی ہے۔۔۔۔ ”درد ہو رہا ہے۔۔۔۔ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔۔۔۔ خدا کا واسطہ‘ مجھے چھوڑ دیں!“۔۔۔۔ رب کا پاک نام سن کر ظفر فوراً رُک رہا ہے اَور دُلہن سے ُمنہ‘ دُوسری طرف کر کے سو رہا ہے‘ اَور وہ ایک ڈراؤنا سا خواب دیکھ رہا ہے۔

 

خواب میں وہ اپنے ولیمے کا منظر دیکھ رہا ہے۔ مگر منظر بڑا انوکھا ہے! سارے مہمان خنزیر بن گئے ہیں۔۔۔۔ اُن کی جلد گلابی ہے اَور اُن کی ناک سے گندی آوازیں نکل رہی ہیں۔ وہ ایک دُوسرے کو دھکّے دے رہے ہیں؛ اَور میزوں، کرسیوں اَور پلیٹوں پر گِر رہے ہیں۔ اُن کے ساتھ کیا ہوا؟ جواب بڑا آسان ہے۔ ولیمے میں اُنھوں نے حرام کی روٹیاں کھائی ہیں۔ روٹیاں اس وجہ سے حرام کی ہیں کہ دُولھا ابھی تک ازدواجی وظیفہ اَدا نہیں کر سکا ہے۔۔۔۔ ظفر اچانک بیدار ہو جاتا ہے۔ اُس کا دِل تیزی سے دھڑک رہا ہے۔ اُسے ٹھنڈے پسینے آ رہے ہیں۔۔۔۔ آج چاندنی رات ہے۔ چاند کی ہلکی ہلکی چاندنی میں وہ اپنی دُلہن کو دیکھ رہا ہے۔ دُلہن گہری نیند سو رہی ہے اَور اُس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ہے۔ ظفر خوف زدہ ہو رہا ہے۔ دُلہن ّپکی ڈائن ہے۔۔۔۔ ّپکی شیطانی مخلوق ہے! کل پورے محلّے کو حرام کی اَشیا کھلائی جائیں گی‘ اور وہ مسکرا رہی ہے۔۔۔۔ ظفر کو اُس سے شدید نفرت ہو رہی ہے۔۔۔۔

 

ظفر ساری رات جاگ رہا ہے اَور غور و فکر کر رہا ہے۔ یہ بات اب اُس کے لیے ثابت ہوئی ہے کہ عورت ایک شیطانی مخلوق ہے اَور اُس کا مقصد دُنیا میں فتنہ پھیلانا ہے۔ اُس کی حیثیت چاہے دُلہن کی، ماں کی، بہن کی یا بیٹی کی ہو، اُس کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے۔۔۔۔ مردوں کو تباہ کر کے زمین پر فتنہ برپا کرنا۔۔۔۔ اَور اِس وقت اُس کے قریب سیج پر ایک شیطانی مخلوق سوئی پڑی ہے۔۔۔۔

 

شیطان نے ظفر کو تباہ کرنے کے لیے اُس کے پاس اپنی مخلوق بھیجی ہے۔ مگر ظفر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ شیطان سے نہیں ہارے گا۔ وہ اپنی دُلہن کو اَپنے بس میں کرے گا اَور اُسے ایک فرمانبردار دُلہن میں تبدیل کرے گا! ظفر کا اِرادہ نیک ہے۔ مگر اُس کی دُلہن اڑیل اَور سازشی ہے۔ وہ اُسے قریب نہیں آنے دیتی اَور اُس سے دُور بھاگتی ہے۔۔۔۔ شادی کو دو ہفتے گزر چکے ہیں، اَور ظفر ابھی تک اپنا اِزدواجی وظیفہ اَدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ اُس نے بارہا کوشش کی مگر وہ ہر کوشش میں نامُراد ہی ٹھہرا۔

 

وہ تنگ آ کے اپنی دُلہن کو طلاق کی دھمکی دے رہا ہے؛ مگر وہ اُس کی دھمکی سن کر مسکرا رہی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ یہ طلاق ناممکن ہے۔ دُولہا بدنام ہو جائے گا۔ برادری والے سوچیں گے کہ وہ نامردی کا شکار ہے‘ وہ دُلہن کو قابو نہیں کر سکا، اِس لیے وہ اُسے چھوڑ رہا ہے۔ ظفر یہ ساری باتیں جانتا ہے اَور وہ سخت پریشان ہے۔ اُسے کسی سیانے بندے سے مشورہ لینا ہے۔۔۔۔

 

ظفر کا ایک پرانا دوست شہر کے مرکزی چوک پر گاڑیوں کا ایک شو رُوم چلا رہا ہے۔ اُس نے ولایت میں کچھ سال گزارے ہیں۔ اُس نے دُنیا دیکھی ہے۔ وہ ہر لحاظ سے معتبر ہے۔ ظفر مشورے کے لےے اُس کے شو روم کو جا رہا ہے۔ اُس کا دوست اُسے اپنے کمرے میں بٹھا رہا ہے اور چائے پلا رہا ہے‘ اَور ظفر اُسے اپنا مسئلہ بیان کر رہا ہے۔ دوست سوچ میں ڈُوب رہا ہے۔ پھر وہ ظفر کو ایک عجیب سا طریقہ تجویز کر رہا ہے۔ ظفر اُسی رات وہی طریقہ اِختیار کر رہا ہے اَور دُلہن اُس کے قابو میں آ رہی ہے۔ ظفر کامیابی سے اپنا اِزدواجی وظیفہ اَدا کر رہا ہے۔

 

نو ماہ کے بعد ظفر کی پہلی اَولاد پیدا ہو رہی ہے۔ مگر ظفر اُس اولاد کو دیکھ کر بیزار ہو رہا ہے۔ بچی ہے بچی۔۔۔۔ چھوٹی عورت۔۔۔۔ اتنی مشکل سے دُلہن قابو میں آئی اَور شیطان نے ظفر کا امتحان لینے کے لیے اُس کے پاس ایک اَور مخلوق بھیج دی! چلو، کوئی بات نہیں! ظفر اُسے بھی قابو کرے گا! وہ اُس کا نام ”خدیجہ“ رکھ رہا ہے اَور بیٹے کی پیدائش کی اُمید میں باقاعدگی سے اِزدواجی وظیفہ اَدا کر رہا ہے۔

 

3

 

وقت بیت چکا ہے۔ ظفر کا درسِ نظامی مکمل ہو چکا ہے‘ اَور اُسے ایک نامور مدرسے میں مدرّس کی نوکری مِل گئی ہے۔ اُس کے والدین دُنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ اُن کی ساری خواہشیں پُوری ہو چکی تھیں۔ اُن کے بیٹے کی شادی ہوئی اَور اُس کے ہاں اَولاد پیدا ہوئی۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ظفر کی دُلہن کی کوکھ میں سے صرف لڑکیاں جنم لیتی ہیں۔ خدیجہ کے بعد فاطمہ پیدا ہوئی، پھر مریم، پھر تسنیم، پھر ُ طوبہ، پھر نصیبہ۔۔۔۔ ظفر کو بیٹے کا ابھی تک اِنتظار ہے۔ اُس کا گھر شیطانی مخلوقات سے بھرا ہوا ہے۔ اَور یہ مخلوقات ہر وقت شور شرابا مچائے رکھتی ہیں۔ جب اُن کا شور ظفر سے برداشت نہیں ہوتا تو وہ ڈنڈا اُٹھاتا ہے اور مار مار کر مخلوقات کو چُپ کراتا ہے۔ شور اُس سے برداشت نہیں ہوتا۔ مدرسے میں جب بچے شور مچاتے ہیں تو وہ اُنھیں بھی ڈنڈے مار کر چُپ کراتا ہے۔ مگر گھر کی مخلوقات کے برعکس بچے آسانی سے خاموش نہیں ہوتے۔ وہ چیختے، ّچلاتے، معافیاں مانگتے، مِنتیں کرتے۔۔۔۔ اَور اِس طرح بہت زیادہ شور مچانے کے بعد چُپ ہو جاتے ہیں۔

 

مدرسے کے مہتمموں کو ظفر کے کمرے سے اکثر بچوں کی چیخیں سُنائی دیتی ہیں۔اَور اُنھیں آہستہ آہستہ احساس ہوتا ہے کہ ظفر ضرورت سے زیادہ ہی ڈنڈے کا استعمال کرتا ہے۔ اُنھیں یہ اَندیشہ ہے کہ ظفر کا دماغی توازن درست نہیں ہے۔ اُس کا علاج کیسے ہو سکتا ہے؟ مہتمم آپس میں صلاح مشورہ کر رہے ہیں؛ اَور ظفر کو پگڑی والے تبلیغیوں کے سپرد کرنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ ظفر اُن کے ساتھ لمبے َدوروں پر جائے گا، گھومے پھرے گا، ملک کے مختلف حصّے دیکھے گا اور مختلف نسلوں سے ملے گا تو اُس کا دماغ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔ اُس میں یقینا صبر اور برداشت کا مادہ پیدا ہو جائے گا۔

 

ظفر پگڑی والوں کے ساتھ ایک لمبے َدورے پر جا رہا ہے اَور نو ماہ تک ملک کی سڑکوں کی خاک چھان رہا ہے۔ اَور وہ لوگوں کے سیاہ دِلوں میں سچے مذہب کا ُنور بھی بکھیر رہا ہے۔ اَور اِس کام میں وہ خاصا کامیاب ہو رہا ہے۔ شمالی علاقے کے نیلی آنکھوں والے کافر، درمیانی علاقے کے کالے عیسائی اور جنوبی علاقے کے نیلے ہندو‘ اُس کے دلائل سن کر دِین کی جانب ملتفت ہو رہے ہیں اَور کلمہ پڑھ رہے ہیں۔۔۔۔ پگڑیوں والے اُس کے کارنامے دیکھ کر بہت متاثر ہو رہے ہیں اَور َدورے کے اختتام کے فوراً بعد اُسے اپنے سالانہ اجتماع میں لیے جا رہے ہیں۔

 

4

 

اجتماع ہر سال بڑے شہر کے قریب ایک کھلے میدان میں برپا ہوتا ہے۔ میدان میں جہاں تک نظر کام کرتی ہے، پگڑی والوں کے لمبے لمبے خیمے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے یونانیوں یا مغلوں کی عظیم فوج نے دوبارہ جنم لیا ہے اَور اس میدان میں ڈیرا لگایا ہے۔ اِجتماع کے رُوحِ رواں مولانا عباسی ہیں جو پگڑی والوں کے سربراہ ہیں۔ اُن کا دیدار ہر جگہ اَور ہر وقت کیا جا سکتا ہے۔ وہ کبھی سٹیج پر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے ہیں، کبھی مسجد میں امامت فرماتے ہیں اَورکبھی کینٹین میں کباب کھاتے ہیں؛ اَور کھاتے کھاتے وہ اپنے اِرد ِگرد کھڑے پگڑی والوں کو اشیرباد دے رہے ہیں۔ ایک روز، کینٹین میں ظفر کو مولانا کا اشیرباد مل رہا ہے۔ ایک پرانا پگڑی والا اُسے مولانا سے ملا رہا ہے اَور جی بھر کے اُس کی تعریفیں کر رہا ہے‘ اور مولانا تعریفیں سن کر ظفر کے کندھے تھپتھپا کر َکہ ‘رہے ہیں: ”شاباش! آپ نے اچھا کام کیا۔ اجتماع کے بعد کسی دِن آپ میرے پاس تشریف لائیں، سکون سے باتیں کریں گے۔۔۔۔“ پھر مولانا اجازت لے کر اُٹھ رہے ہیں۔۔۔۔ اُنھوں نے بہت کباب کھائے ہیں۔ اَب مومنوں کو نماز پڑھانی ہے۔۔۔۔ دس منٹ کے بعد نماز شروع ہو رہی ہے۔ صفیں بچھ رہی ہیں اَور ظفر نمازیوں کی پہلی صف میں کھڑا ہے۔ مولانا عباسی نے اُس کی خدمات کے اعتراف میں اُسے اِس شان دار صف میں نماز پڑھنے کا اِعزاز بخشا ہے۔

 

نماز جاری ہے۔ مولانا عباسی کے پیچھے ہزاروں پگڑیوں والے کبھی کھڑے ہو کر، کبھی سجدہ کر کے دُعا پڑھ رہے ہیں‘ اَور اُن کی آوازیں باری باری اُبھر رہی ہیں۔۔۔۔ اَور آوازیں ایک دُوسرے کے ساتھ ملتے ملتے‘ ایک ہوائی گنبد تعمیر کر رہی ہیں، جس کے کلس پر ایک گہری اَور جلالی آواز گونج رہی ہے۔۔۔۔ مولانا عباسی کی آواز!

 

5

 

اِجتماع ختم ہو گیا ہے۔ ظفر اپنے شہر کو َلوٹ آیا ہے اَور اپنی تدریسی سرگرمیوں میں مصروف ہو گیا ہے‘ اَور وہ اِس حد تک مصروف ہو گیا ہے کہ بڑے شہر جا کر مولانا عباسی سے ملاقات کا وقت نہیں نکال سکا۔ َدورے سے اُسے فائدہ ہوا۔ اُس کا ایمان پہلے سے زیادہ پختہ ہوا اَور وہ گھر یا مدرسے میں ڈنڈا اُٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ مہتمم بہت خوش ہیں۔

 

چار ماہ گزر گئے۔ ظفر کی مصروفیت کم نہیں ہوئی۔ وہ ابھی بڑے شہر نہیں گیا؛ اَور ایک دِن مدرسے کا ایک پگڑی والا ساتھی اُسے مولانا عباسی کی شہر میں تشریف آوری کی خوش خبری سُنا رہا ہے۔ مولانا نگینہ ہوٹل کے پریذیڈنٹ سوئیٹ میں ٹھہرے ہیں۔ ظفر موقع غنیمت جانتا ہے اَور اپنی موٹر سائیکل پر مولانا کی زیارت کرنے کی خاطر نگینہ ہوٹل کی طرف چل پڑا ہے۔

 

اَب ظفر مولانا کے سوئیٹ کے باہر کھڑا ہے اَور دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔ مولانا دروازہ کھول رہے ہیں اَور ظفر کے دینی حُلیے کو دیکھ کر اُسے فوراً اَندر آنے کا َکہہ رہے ہیں۔ مولانا اکیلے ہیں۔ وہ ظفر کو ایک کرسی پر بٹھا رہے ہیں اَور خود ساتھ والے صوفے پر بیٹھ رہے ہیں۔ ظفر اِجتماع میں ملاقات کا ذ ِکر کر رہا ہے؛ مگر مولانا کو ملاقات یاد نہیں ہے۔ اَور یاد کس طرح ہو گی؟ ہر اِجتماع میں اُنہیں ہزاروں افراد ملتے ہیں۔ اَور وہ سب کے کندھے تھپتھپاتے ہیں اَور فراغت ہونے پر ملنے کا کہتے ہیں۔۔۔۔ خیر۔۔۔۔ مولانا کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔ اُنھیں بہت نیند آ رہی ہے۔ اُن کی آنکھیں بار بار بند ہو رہی ہیں۔ شاید اُنہیں بخار ہے۔۔۔۔ کمرے میں ایک غیر مانوس سی ُبو پھیلی ہوئی ہے۔ ظفر اس ُبو کو پہچان رہا ہے۔ رات کے وقت اُس کے محلّے کے عیسائی گھروں سے یہی ُبو آتی ہے۔۔۔۔ سو مولانا نے عیسائیوں کا مشروب پیا ہے؟۔۔۔۔ اچانک مولانا کا موبائل بج رہا ہے اَور مولانا کال لے رہے ہیں۔ ایک لڑکی پوچھ رہی ہے: ”جناب جی، میں اپنی دوست کے ساتھ آ جاؤں؟“ اَور مولانا ایک شرارتی مُسکان کے ساتھ جواب دے رہے ہیں:” ضرور سوہنیے، فوراً سے پہلے آ جاؤ۔۔۔۔“ پھر مولانا فون بند کر رہے ہیں اَور ڈکار رہے ہیں اَور اُن کی ڈکار قریب بیٹھے ظفر کے چہرے پر بج رہی ہے۔ ظفر کی طبیعت خراب ہو رہی ہے۔۔۔۔ وہ اُٹھ رہا ہے، اور بھاگتے بھاگتے کمرے سے باہر آ رہا ہے۔۔۔۔ وہ بھاگے جا رہا ہے۔۔۔۔ اور بھاگتے بھاگتے کوریڈور سے گزر رہا ہے۔ اَور اچانک اُس کے سامنے دو ُبر ِقع والیاں نمودار ہو رہی ہیں۔۔۔۔ ُبر ِقع والیوں نے خاصا میک اپ کیا ہوا ہے۔۔۔۔ اُن کی آنکھوں میں ُسرما چمک رہا ہے اور اُن کے چہروں پر سفید پاؤڈر کی ایک موٹی َتہ ‘جمی ہوئی ہے۔ اِن دونوں ُبر ِقع والیوں کے پیشے کے متعلق شک نہیں ہو سکتا۔۔۔۔ دونوں ُبر ِقع والیاں ظفر کی حالت دیکھ کر اپنے برقعوں میں ہنس رہی ہیں۔ ظفر اُن سے کترا کر گزر رہا ہے اَور ہوٹل کے گیٹ تک پہنچ رہا ہے‘ اَوراُن دونوں کی میلی ہنسی گیٹ تک اُس کا پیچھا کر رہی ہے۔ پھر ہنسی ختم ہو رہی ہے۔ ظفر ہوٹل سے باہر آ گیا ہے اَور وہ قے کر رہا ہے۔

 

ظفر کی قے ختم تو ہو چکی ہے؛ مگر اب وہ کیا کرے گا؟ مولانا کے پاس واپس جانا دانشمندی نہیں ہے۔وہ اِس وقت اُن دونوں فاحشاؤں کے ساتھ مصروف ہوں گے، جنھوں نے اپنے بے ہودہ قہقہوں کے ساتھ اُس کی بے عزتی کی ہے۔ اُس کی موٹر سائیکل سامنے کی پارکنگ میں کھڑی ہے۔ وہ اُس پر سوار ہو رہا ہے اَور گھر کی طرف لوٹ رہا ہے۔ اَور وہ سارے راستے سوچے جا رہا ہے۔ طرح طرح کے خیال اُس کے دماغ میں ّچکر کاٹ رہے ہیں۔ اُسے یقین ہے کہ مولانا فطرتاً نیک ہیں۔ نیک نہ ہوتے تو وہ پگڑی والوں کی تنظیم کیوں بناتے؟ وہ شرابی اَور زانی ہو گئے، مگر اُن کا کوئی قصور نہیں۔ قصور شیطانی مخلوقات کا ہے جو فتنہ پھیلا رہی ہیں۔ اُن کی مہم تیز ہو گئی ہے۔۔۔۔ اُنھوں نے مولانا جیسے نیک انسان کو بھی نشانہ بنایا۔۔۔۔ اُنھیں کچھ زیادہ ہی جوش آ گیا ہے۔ اُن کے حوصلے کچھ زیادہ ہی بڑھ گئے ہیں۔ اُنھیں روکنا لازم ہو گیا ہے۔

 

اَور ظفر اپنی موٹر سائیکل کی گدی پر بیٹھے بیٹھے، شہر کی سڑکوں سے گزرتے گزرتے خدا کا پولیس مین بن جانے کا فیصلہ کر رہا ہے۔

 

6

 

تین دِن بعد خدا کا پولیس مین رات کے بارہ بجے نگینہ ہوٹل کی پارکنگ کی ایک اندھیری ّنکڑ میں اپنی موٹر سائیکل کھڑی کر رہا ہے اَور اُس کے ساتھ ٹیک لگا کر اِنتظار کر رہا ہے۔

 

ظفر کو پتا ہے کہ مولانا عباسی کو خراب کرنے والی مخلوقات اسی ہوٹل میں ہر رات دھندے کی غرض سے آتی ہیں۔ اُسے صرف اُنھِیں کا اِنتظار کرنا ہے۔ وہ ہوٹل سے باہر آتے ہی اُس کے جال میں پھنس جائیں گی۔ ظفر نے اپنے ویسٹ کوٹ کی اندر والی جیب میں ایک چاقو چھپایا ہوا ہے اَور وہ اُن کی جان لینے کے لیے تیار ہے۔۔۔۔

 

ظفر کو زیادہ دیر تک اپنی مطلوبہ مخلوقات کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ اُس کے آنے کے آدھ گھنٹہ بعد ایک ُبر ِقع والی ہوٹل سے باہر آ رہی ہے۔ اُس کے ہاتھ میں ایک چمکیلا بیگ ہے جو طرح طرح کی حرام کی اَشیا سے بھرا ہوا ہے۔ چرس، شراب، کنڈوم۔۔۔۔ اَور حرام کے پیسے۔ ُبر ِقع والی مین روڈ پر کھڑی ہو رہی ہے اَور ایک رکشے کو روک رہی ہے۔ وہ رکشے میں سوار ہو رہی ہے۔ رکشا چل پڑا ہے۔ اتنی دیر میں ظفر اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو رہا ہے۔ اَب وہ رکشے کا پیچھا کر رہا ہے۔۔۔۔

 

رکشا سُنسان سڑکوں سے گزر رہا ہے‘ اَور شہر کی ایک غریب آبادی میں پہنچ رہا ہے۔ یہاں مکان کچے ہیں، بجلی بے وفا ہے، اور صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ ملبے کے ڈھیر ہر قدم پر موجود ہیں۔ اِس آبادی کے باسی غلیظ ہیں۔ اَور وہ فاحشہ جس نے ابھی ابھی ہوٹل میں کسی شرابی کے ساتھ زنا کیا ہے، وہ اُن کی اَولاد ہے۔۔۔۔

 

رکشا ایک گھر کے لوہے والے گیٹ کے سامنے کھڑا ہو گیا ہے۔ ظفر ایک ملبے کے ڈھیر کے پیچھے موٹر سائیکل کھڑی کر رہا ہے اَور تھوڑے فاصلے سے منظر دیکھ رہا ہے۔ اُس کا د ِل تیزی سے دھڑک رہا ہے آنے والے پَل اُس کے لیے بہت اہم ہوں گے۔ اَب پتا چل جائے گا کہ اُس میں خُدا کا پولیس مین بننے کی ہمت ہے یا نہیں۔

 

ُبرقع والی رکشے سے اُتر رہی ہے‘ ڈرائیور کو ایک نوٹ پکڑا رہی ہے اَور رکشا چل پڑتا ہے۔

 

ُبر ِقع والی اب اکیلی ہے۔ مطلع صاف ہے۔ ظفر موٹر سائیکل سٹارٹ کر رہا ہے اَور تیز رفتاری سے فاحشہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اُس کے داہنا ہاتھ ہینڈل بار کو تھام رہا ہے جبکہ بائیں ہاتھ میں اُس نے چاقو پکڑ رکھا ہے۔ یہ چاقو فاحشہ کے پیٹ میں گھُس گیا ہے۔ خون بہہ رہا ہے اور فاحشہ ایک چیخ مار رہی ہے اور پھر زمین پر گر رہی ہے۔۔۔۔

 

اب خُدا کا پولیس مین اپنی پہلی ڈیوٹی دے کر گھر کی طرف لوٹ رہا ہے۔ اُس نے شہر کی فاحشاؤں کو اُن کی ایک ہم پیشہ کو ذبح کر کے ایک تنبیہ دی ہے۔۔۔۔ اس تنبیہ کا اُن پر کیا اثر پڑے گا؟۔۔۔۔ ظفر کو نگینہ ہوٹل جا کر پتا چل جائے گا۔ اگر کسی فاحشہ نے اس تنبیہ کے بعد یہاں دھندا کرنے کی گستاخی کی تو وہ اُسے اُسی ڈھنگ سے ذبح کرے گا جس ڈھنگ سے اُس نے آج رات ایک لڑکی کو ذبح کیا۔ اَور ذبح کرنے کا یہ سلسلہ فاحشاؤں کی توبہ یا فنا تک جاری رہے گا۔

 

7

 

دو مہینے گزرے۔ فاحشاؤں نے ظفر کی پہلی تنبیہ کو نظر اَنداز کر دیا۔ اُنھوں نے توبہ نہیں کی۔ چنانچہ ظفر نے اُنھیں نئی تنبیہیں دیں۔ اُس نے اب تک بارہ فاحشاؤں کو مار دِیا ہے۔

 

ظفر کی زندگی بہت مصروف ہے۔ وہ ساتھ ساتھ دو طرح کے فرائض روزانہ نبھا رہا ہے۔ دِن کے وقت وہ مدرسے میں اپنے تدریسی فرائض نبھا رہا ہے، بچوں کو کلامِ پاک پڑھا رہا ہے۔ رات کو وہ رب کی ڈیوٹی اَدا کر رہا ہے اور فاحشاؤں کو ذبح کر رہا ہے۔

 

اُس نے تمام فاحشاؤں کو ایک ہی ڈھنگ سے ذبح کیا۔ اُس نے نگینہ ہوٹل کی پارکنگ میں اُن کا انتظار کیا، اُن کا تعاقب کیا اَور اُنھیں اُن کے گھر کے باہر چاقو سے مار دِیا۔ اُسے اس کام میں بہت مزہ آیا۔ اُسے افسوس بھی ہوا کہ اُسے اپنا نیک کام کرنے کے فوراً بعد بھاگنا پڑتا ہے۔ اگر تھوڑا وقت ملتا تو وہ موٹر سائیکل سے اُترتا اور فاحشہ کی آنکھوں کو چاقو سے حلقوں سے باہر نکالتا، یا اُن کی ناک یا کان کاٹتا اَور گلی کوچوں کے کتوں کے آگے ڈال دیتا۔۔۔۔ مگر کیا کریں؟ وقت نہیں ملتا تھا۔۔۔۔ فاحشائیں ذبح ہوتے وقت اِتنا شور مچاتیں کہ سارا محلّہ جاگ اُٹھتا۔ خلقت گھروں سے باہر نکلتی اَور ظفر کو موٹر سائیکل پر سوار ہو کر بھاگنا پڑتا۔۔۔۔
ہر قتل کے بعد ظفر کو ٹی وی پر اپنی کارروائی کے بارے میں خصوصی رپورٹ دیکھنے کو ملتی۔ رپورٹ میں مقتولہ فاحشہ کا نام اور عمر بتائی جاتی۔ اُس کے سوگوار گھر والوں اور ناراض ہمسایوں کا انٹرویو بھی دکھایا جاتا اَور ظفر بہت مطمئن ہوتا۔ میڈیا کے ذریعے اُس کی تنبیہ ‘ دُنیا کی سب فاحشاؤں تک پہنچ رہی ہے۔۔۔۔

 

8

 

ظفر کو ایک طرف اِس بات کی بڑی خوشی ہے کہ میڈیا والے اُس کی کارروائیوں کو پوری کوریج دے رہے ہیں۔ مگر دُوسری طرف اُسے یہ بات ستا رہی ہے کہ اُس کی کارروائیوں کا اصل مقصد کبھی بیان نہیں کیا جاتا۔ ظفر کا مقصد واضح ہے۔ مگر خدا جانے کیوں میڈیا والے اُس کی سب کارروائیوں کو ایک ”سیریل کلر“ کا کام گردانتے ہیں۔ یہ کیا بکواس ہے؟ ”سیریل کلر“ کے ساتھ اُس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ سیریل کلر ”قتل برائے قتل“ کے قائل ہیں۔ اُن کی کارروائیاں بے مقصدہوتی ہیں۔ مگر ظفر کے قتل ایک مقصد کے تحت انجام پاتے ہیں۔ ”سیریل کلرز“ ذہنی اُلجھنوں کا شکار ہیں۔ مگر ظفر کا دماغ دورے پر جانے کے بعد بالکل ٹھیک ہو گیا ہے۔ اَور ابھی تک بالکل ٹھیک ہے۔۔۔۔ میڈیا والے عوام کے دماغوں میں غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔۔۔۔اور ظفر سوچنے لگا ہے کہ اُسے اِن غلط فہمیوں کو دُور کرنے کے لیے کسی دِن میڈیا کے سامنے آنا پڑے گا، اور تفصیلی بیان دینا پڑے گا۔۔۔۔ اگر یہ کام نہ ہوا تو غلط فہمیاں بڑھ جائیں گی، پھیل جائیں گی اَور اُس کی سب کارروائیوں کا مقصد بالکل فوت ہو جائے گا۔

 

مگر اُس کی کارروائیوں کو پہلے ہی نظر لگ چکی ہے۔ وہ اچانک ختم ہو گئی ہیں۔ ظفر ہر رات نگینہ ہوٹل کے باہر کھڑا ہوتا ہے اَور گھنٹوں فاحشاؤں کی راہ تکتا ہے، مگر کوئی بُر ِقع والی نظر نہیں آتی۔۔۔۔ فاحشاؤں نے دھندے سے توبہ کر لی؟ نہیں’ بالکل نہیں! اُنھوں نے صرف نقل مکانی کی ہے۔ ظفر کی کارروائیوں نے اُنھیں چوکنا کر دیا اَور اُنھوں نے ہوٹل کو چھوڑ کر عام گھروں میں دھندا شروع کر دیا ہے۔ ظفر اُن دو نمبر گھروں کو کیسے پہچانے گا؟ اُسے کبھی کبھی لگتا ہے کہ فاحشائیں اُ س کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔

 

مگر حوصلہ ہارنا رب کے پولیس مین کے اِیمان کے خلاف ہے۔۔۔۔ اُس کی کارروائیاں نیک ہیں۔ وہ ایسے رُک نہیں سکتیں! فاحشاؤں نے اپنا طریقہ واردات بدل لیا ہے۔ ظفر بھی اپنا طریقہ واردات بدل لے گا اَور اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا!

 

9

 

فریدہ فاروق، ایک جانی پہچانی سیاست دان، ایک جلسے میں شرکت کے لیے شہر آنے والی ہے۔۔۔۔ شہر کی سب دیواریں اُس کے بڑے بڑے پوسٹروں سے سجی ہوئی ہیں۔ ظفر روزانہ مدرسے کو جاتے وقت اُن پوسٹروں کے سامنے سے گزرتا ہے اور فریدہ فاروق کے گول سے چہرے کو غور سے دیکھتا ہے جو پوسٹروں کے کناروں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ ایک بے شرم چہرہ ہے۔ آنکھیں دیکھنے والوں کو دعوتِ نفسانی دیتی ہیں۔ ہونٹوں پر ایک فحش مُسکان ہے۔ اَور زُلفیں وحشی ہو کر ماتھے اَور گالوں پر بکھر گئی ہیں۔ فریدہ فاروق یقینا چادر اوڑھنے کو گناہ سمجھتی ہے۔۔۔۔ ظفر کو اُس کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے۔۔۔۔ یہ بی بی مغرب زدہ ہے اَور معاشرے کے اُونچے طبقے سے تعلق رکھتی ہے مگر دراصل وہ ایک فاحشہ ہے۔۔۔۔ ایک شیطانی مخلوق‘ جو اپنی فحاشی کے ذریعے عوام کو تباہ کر رہی ہے۔ اَور اُسے دیکھتے دیکھتے ظفر ایک فیصلہ کر رہا ہے۔ وہ اُسے دُوسری فاحشاؤں کی طرح ذبح کرے گا۔۔۔۔

 

مگر اُسے گھیرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ وہ ایک وی آئی پی ہے۔ وہ رکشوں میں نہیں‘ بکتربند گاڑیوں میں سفر کرتی ہے۔ اُس کے ساتھ چوبیس گھنٹے سیکیورٹی ہوتی ہے۔ کارروائی کے دوران میں مارے جانے یا پکڑے جانے کا بڑا خطرہ ہے۔۔۔۔ مگر دونوں صورتیں رب کے پولیس مین کو منظور ہیں۔ اگر اُسے مار دیا گیا تو وہ جنت میں جائے گا۔ اگر اُسے پکڑ لیا گیا تو وہ جج کے سامنے بھری عدالت میں اپنا بیان دے گا۔ اَور میڈیا والے اُس کی عدالت میں حاضری اَور بیان کو پوری کوریج دیں گے۔ اَور اُن غلط فہمیوں کا ازالہ خود بخود ہو جائے گا جو عوام کے دماغوں میں رچ بس گئی ہیں۔ عوام کو پتا چل جائے گا کہ فاحشاؤں کو ذبح کرنے والا بندہ کوئی پاگل اَور بے مقصد سیریل کِلر نہیں،وہ بچوں کو پڑھانے والا باریش آدمی ہے جس نے رب کی جانب سے شہر کو شیطانی مخلوقات سے پاک کرنے کی مہم شروع کی ہے۔

 

فریدہ فاروق کے پوسٹروں پر جلسے کی تاریخ، وقت اَور مقام لکھا ہوا ہے۔ یہ ظفر کے لیے ایک کھلی دعوت ہے۔ وہ جلسے کے دوران میں فریدہ فاروق کو ذبح کرے گا، جب وہ سٹیج پر کھڑی ہوگی اَور عوام کو مخاطب کرے گی۔ اَور وہ ایک چاقو کے بجائے ایک پستول سے کام لے گا۔ گولیاں چلتے ہی جلسے میں بھگدڑ مچ جائے گی، جس سے فائدہ اُٹھا کر ظفر فرار ہو جائے گا۔

 

ظفر کا منصوبہ بن گیا مگر پستول کا بندوبست کرنا ہو گا اَور اُسے چلانا بھی سیکھنا ہو گا۔ جلسہ اگلے ہفتے ہے۔ ظفر کے پاس صرف چھے دِن ہیں۔ ظفر پستول کے سلسلے میں اپنے محلّے کے ایک سابقہ مجاہد سے رجوع کر رہا ہے، جس نے جوانی میں افغانستان اَور کشمیر میں جہاد کیا تھا اَور جس کے بچے ظفر سے مدرسے میں پڑھ رہے ہیں۔ ظفر اُسے سمجھا رہا ہے کہ جائیداد کی وجہ سے اُس کا دُور دراز کے کچھ رشتے داروں سے جھگڑا ہو گیا ہے اَور اُسے اپنے تحفظ کے لےے پستول کی ضرورت ہے۔ سابقہ مجاہد اُسے ایک عمدہ پستول دے رہا ہے‘ اور کسی ویران مقام پر لے جا کر اُسے پستول چلانے کی مشق کروا رہا ہے۔ ظفر مجاہد کی نگرانی میں تین دِن مشق کرتا ہے اور اُس کا نشانہ بہتر سے بہتر ہو رہا ہے۔

 

10

 

جلسہ شہر کے جناح باغ میں ہو رہا ہے۔ ظفر وہاں پہنچ چکا ہے۔ سٹیج کو فریدہ فاروق کے پوسٹروں سے سجایا گیا ہے اور کرسیوں کی صفیں سٹیج کے سامنے بچھ گئی ہیں۔ ظفر جلدی پہنچ گیا ہے۔ اس لیے اُسے پہلی صف میں جگہ ملی ہے۔۔۔۔ وی آئی پی لوگوں کی کرسیوں کے نزدیک۔ پہلی صف میں بیٹھتے ہی اُس نے سُکھ کا سانس لیا ہے۔ سٹیج بالکل سامنے ہے۔ اُس کی گولیاں نشانے پر ضرور لگ جائیں گی۔ فریدہ فاروق نہیں بچے گی۔

 

ظفر اِطمینان سے جلسے کے شروع ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ بے چینی ختم ہو گئی جسے وہ شروع میں قتل کرنے سے پہلے محسوس کرتا تھا۔ اُسے قتل کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ اب وی آئی پی قریب والی کرسیوں پر بیٹھ رہے ہیں۔ ظفر بار بار اپنے ویسٹ کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال رہا ہے اور اُنگلیوں سے اپنے اُس پستول کو سہلا رہا ہے جو کچھ دیر بعد دُنیا پر ایک بڑی مہربانی کرے گا۔

 

جلسے کا آغاز ہو رہا ہے۔ فریدہ فاروق سٹیج پر تشریف لا رہی ہے۔ حاضرین بھرپور تالیوں سے اُس کا استقبال کر رہے ہیں۔ اُس کی پارٹی کے کچھ جوشیلے کارکن اُس پر پھُولوں کی بارش کر رہے ہیں۔ اُنھیں دیکھ کر ظفر کو وہ تماش بین یاد آ رہے ہیں جو مجرے کے دوران میں فاحشاؤں پر نوٹ نچھاور کر رہے ہیں۔۔۔۔ پھر تالیاں رُک رہی ہیں اَور پھولوں کی بارش ختم ہو رہی ہے۔ فریدہ فاروق مائیک کے پاس کھڑی ہو رہی ہے اَور اپنی تقریر شروع کر رہی ہے۔۔۔۔ ”بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔۔۔ میں آپ سب لوگوں کی شکر گزار ہوں کہ آپ اِتنی بڑی تعداد میں اس جلسے میں تشریف لائے ہیں۔ میں چودھری سلیم، ملک احسان اللہ اَور راجا مبشر کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنھوں نے اِس شان دار جلسے کا اہتمام کیا ہے اَور مجھے۔۔۔۔“ فریدہ فاروق اپنا فقرہ مکمل نہیں کر پا رہی ہے۔ رب کا پولیس مین اپنی کرسی سے اُٹھ رہا ہے اَور پستول نکال کر فریدہ فاروق پر گولیاں چلانا شروع کر رہا ہے۔۔۔۔ اُس کی تین گولیاں فضا میں گم ہو رہی ہیں، مگر دو گولیاں نشانے پر لگ رہی ہیں۔ فریدہ فاروق نیچے گر رہی ہے۔۔۔۔ جلسے میں بھگدڑ مچ رہی ہے۔ حاضرین چیخ رہے ہیں اَور چاروں طرف بھاگ رہے ہیں۔ کرسیاں اُلٹ رہی ہیں اَور زمین ہل رہی ہے۔ مگر پارٹی کے کارکنوں کو اچھی تربیت ملی ہے۔ وہ جلد ہی حرکت میں آ گئے ہیں۔ کچھ کارکن فریدہ فاروق کو ہسپتال لے جا رہے ہیں۔ دیگر کارکن رب کے پولیس مین پر گھیرا ڈال رہے ہیں۔ اُس کا پستول چھین رہے ہیں۔ اُسے ُمنہ ‘کے بل زمین پر لٹا رہے ہیں۔ پھر پولیس اہلکار پہنچ رہے ہیں اَور کارکن فریدہ فاروق کے قاتل کو اُن کے حوالے کر رہے ہیں۔ پولیس اہلکار اُسے ہتھکڑیاں ڈال کر اپنی پِک اَپ میں صدر تھانے لے جا رہے ہیں۔

 

پِک اَپ میں بیٹھے بیٹھے ظفر سوچ بچار کر رہا ہے۔ رب نے اپنے وفادار پولیس مین پر کرم کیا۔ کارکن اُسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنا سکتے تھے، خلقت اُسے زندہ جلا سکتی تھی۔ مگر خلقت گولیوں کی آواز سنتے ہی تتر بتر ہو گئی اَور کارکنوں نے ضبط کا غیر معمولی مظاہرہ کیا۔ اُسے ایک تھپڑ بھی نہیں پڑا۔۔۔۔ دراصل لوگوں نے اُس کی ڈاڑھی اور ٹوپی کا لحاظ کیا۔ لوگ اچھے ہیں مگر کتنے گمراہ ہیں۔۔۔۔ اُنھیں یہ نہیں پتا کہ اُن کا اصل دُشمن رب کا پولیس مین نہیں‘ وہ فاحشہ ہے جس کی خاطر وہ اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔۔۔۔

 

صدر تھانے میں ایس پی صاحب بڑی عزت سے ظفر سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ وہ پہلے کچھ رسمی سے سوال پوچھ رہے ہیں:”صوفی صاحب، آپ نے یہ مرڈر کیوں کیا؟۔۔۔۔آپ کی کسی تنظیم یا پارٹی سے وابستگی ہے؟۔۔۔۔آپ کا پیشہ کیا ہے؟“۔۔۔۔ اور ظفر اپنا بیان ریکارڈ کرا رہا ہے:

 

”ایس پی صاحب‘ ہمارے درمیان ایک بات مشترک ہے۔ ہم دونوں پولیس والے ہیں۔ مگر فرق یہ ہے کہ آپ ریاست کی طرف سے ڈیوٹی نبھا رہے ہیں، اَور میں خدا کی طرف سے۔۔۔۔“

 

پھر ظفر اعلان کر رہا ہے کہ فریدہ فاروق کا قتل ایک ایسی مہم کا آخری مرحلہ ہے جو تین ماہ پہلے شروع ہوئی ہے‘ اَور ظفر اپنی پچھلی کارروائیوں کا تفصیلی ذکر کر رہا ہے۔۔۔۔ ایس پی صاحب خاموشی سے اُس کی باتیں سن رہے ہیں۔ ایک ٹائپ رائٹر کی ٹِک ٹِک مسلسل سنائی دے رہی ہے۔ کمرے کے ایک کونے میں محر بیٹھا ہے جو اپنی مشین سے ظفر کے بیان کا ہر لفظ ٹائپ کر رہا ہے۔ ظفر خوش ہے۔ اُس کا بیان اس وقت محفوظ ہو رہا ہے۔ آنے والی نسلیں اُس سے عبرت پکڑیں گی۔

 

ظفر خاموش ہو رہا ہے۔ اُس نے اپنا پورا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔ ایس پی صاحب بھی خاموش ہیں۔ اُنھیں مزید پوچھ گچھ کی ضرورت نہیں ہے۔ ظفر نے اپنے بیانات کے ذریعے اُن کے سب سوالوں کا جواب دے دِیا ہے۔ ظفر کو حوالات میں بند کیا جا رہا ہے۔اَور ایس پی صاحب اُس کا ٹائپ شدہ بیان لے کر عدالت جا رہے ہیں۔ اُن کے جانے کے بعد ایک مشہور ٹی وی چینل کا وفد ظفر کا اِنٹرویو لینے آ رہا ہے۔ وفد نے سپاہیوں کو رشوت دے کر ظفر تک رسائی حاصل کی ہے۔ ظفر بڑی خوشی سے اُن کے سوالوں کا جواب دے رہا ہے اَور اُن کا کیمرہ اُسے فلمائے جا رہا ہے۔ وہ کتنا خوش نصیب ہے!۔۔۔۔ وہ گمنامی سے نکلا ہے۔ وہ پولیس مین سے ہیرو بن گیا ہے۔ آج رات لاکھوں لوگ اپنے ٹی وی پر اُس کا اِنٹرویو دیکھیں گے اَور بیان سُنیں گے!

 

ٹی وی والے اچانک اجازت لے رہے ہیں۔ سپاہیوں نے اُنھیں اطلاع دی ہے کہ ایس پی صاحب عدالت سے چل پڑے ہیں۔۔۔۔ پھر دس منٹ بیت گئے ہیں اَور ایس پی صاحب تھانے میں قدم رکھ رہے ہیں‘ اَور حوالات کے سامنے کھڑے ہو کر ظفر کو مخاطب کر رہے ہیں: ”صوفی صاحب، آج دوپہر آپ جیل جا رہے ہیں! آپ کا مقدمہ وہیں چلے گا“۔۔۔۔

 

ظفر کا مقدمہ کچھ ہفتے جیل کی حدود میں چلے گا۔۔۔۔ مگر اُس کی طبیعت اُسے ایک ہی بار عدالت کے سامنے حاضر ہونے کی اجازت دے گی۔۔۔۔ اَور جج صاحب اُس کی غیر حاضری میں اُسے سزائے موت سنائیں گے۔

 

11

 

فلم ختم ہو گئی۔ ظفر ماضی میں گھوم پھر کر اپنی کوٹھڑی میں پلٹ آیا ہے۔ وہ سیمنٹ والے چبوترے پر لیٹا ہواہے۔ مکھیوں کا طواف ختم ہونے میں نہیں آرہا۔ اَور اُس کی نظریں فرش پر خود ہی ٹِک رہی ہیں‘ اور ظفر خون کی لکیروں کی گنتی کرنے لگتا ہے۔۔۔۔

 

مگر ظفر زیادہ دیر تک لکیروں کی گنتی نہیں کر پائے گا۔۔۔۔ نور آہستہ آہستہ اُس کی آنکھوں سے علیٰحدہ ہو رہا ہے۔۔۔۔ وہ نابینا ہو رہا ہے۔

 

ظفر کی آنکھیں بے کار ہو گئی مگر اُس کے کان ابھی تک کام کر رہے ہیں۔۔۔۔ اُسے سب آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ سِکھوں کی گالیاں، گستاخوں کا ریڈیو، غازیوں کی تلاوتیں۔ اَور اُن آوازوں میں انوکھی آوازیں شامل ہو گئی ہیں۔۔۔۔ چالیس نئے قیدی آ گئے ہیں۔ گارڈز اُنھیں ظفر کی وارڈ کے پیچھے لاتے اَور تلاشی کے بہانے اُن سے پیسے، گھڑیاں اَور لاکٹ چھین رہے ہیں۔ نئے قیدی اُن کی منّتیں کر رہے ہیں، مگر گارڈز اُنھیں کچھ بھی واپس کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔۔۔۔ اَور جب کوئی نیا قیدی تلاشی دینے سے اِنکار کر رہا ہے، تو گارڈز اُس کی شلوار اُتار کر اُس کی چھترول کر رہے ہیں اَور قیدی کی چیخیں فضا میں بلند ہو رہی ہیں۔ ظفر کو اُن کی چیخیں سن کرمدرسے کے بچوں کی چیخیں یاد آ رہی ہیں۔۔۔۔ اَور اُسے تھوڑا سا افسوس ہو رہا ہے۔۔۔۔ اُس نے اُن معصوموں پر بہت ظلم کیا۔۔۔۔

 

ظفر کے کان آہستہ آہستہ اُس کی آنکھوں کے مانند بے کار ہو رہے ہیں۔۔۔۔ باہر کی آوازیں گم ہو گئی ہیں۔۔۔۔ اب ظفر کو صرف اپنے بدن کے اندر کی آوازیں سُنائی دے رہی ہیں۔۔۔۔ رگوں میں لہو کا بہنا، سینے میں دِل کا دھڑکنا، پیٹ میں انتڑیوں کا لڑنا۔۔۔۔ اور اُس کی روح آہستہ آہستہ اُس کے بدن سے رخصت ہو رہی ہے۔ وہ پرلی طرف جا رہی ہے۔۔۔۔ وہاں اندھیرا پھیل چکا ہے اَور اندھیروں میں ایک دھیمی سی َلو جل رہی ہے۔۔۔۔ نیچے پانی ہے۔۔۔۔ ظفر کی رُوح پانیوں پر پھسل رہی ہے۔ سردی اِس وقت بہت زیادہ ہے۔ رُوح سردی کے باعث سکڑتی جا رہی ہے اَور اتنی چھوٹی ہو رہی ہے کہ رب کی طاقتور آنکھیں بھی اُسے نہیں دیکھ سکتیں۔۔۔۔ ظفر کے مرنے کے بعد اُسے جیل کی باہر والی دیوار کے نیچے ایک بے نام قبر میں دبایا جائے گا۔۔۔۔
Categories
فکشن

سزائے تماشائے شہرِ طلسم

جب فاروق کے والد کا تبادلہ چھوٹے شہر سے بڑے شہر ہونے لگا،توجہاں اس کا دل بڑے شہر میں میسر آنے والی نت نئی رنگا رنگ تفریحات کے خیال سے سرشار تھا،وہیں اس کا دل بڑے شہر پر طاری ہو نے والی ایک عجیب و غریب کیفیت یا حالت دیکھنے کے لیے بھی مچل رہا تھا، جس کے بارے میں اس نے طرح طرح کی باتیں سن رکھی تھیں کہ جب وہ عجیب و غریب کیفیت یا حالت بڑے شہر کی گلیوں، محلوں، بازاروں اور سڑکوں پر طاری ہوتی، تو یکایک چہار جانب سناٹا چھا جاتا،جیسے بڑے شہر پر کسی دیو کا سایہ پھرگیا ہو۔چاروں طرف ہُو کے عالم میں صرف اُڑن طشتری جیسی برق رفتارگاڑیاں شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں بے آواز فراٹے بھرا کرتیں اور طویل فاصلے چند ساعتوں میں طے کرتیں۔بڑے شہر پر طاری ہونے والی اُس عجیب و غریب کیفیت یا حالت کے دوران،خلائی مخلوق جیسا لباس پہنے اجنبی لوگ تمام علاقوں کے چوراہوں اور گلی کوچوں بازاروں میں گھومتے پھرتے دکھائی دیتے۔ مقامی لوگ جن کی زبان بالکل نہ سمجھتے اور انہیں اپنا مدعا سمجھانے کے لیے وہ اشاروں کی زبان کا استعمال کرتے۔فاروق نے چھوٹے شہر میں گزرنے والی اپنی زندگی میں ایسی چیزوں کا تصور تک نہیں کیا تھا، اسی لیے اپنے والد کے تبادلے کی خبر سنتے ہی اس کی نیند اچاٹ ہو گئی اور وہ رات دن بڑے شہر کی طلسماتی اور سحر انگیزفضاکے متعلق سوچنے اور اسے اپنے طریقے سے محسوس کرنے لگا۔

 

فاروق کو پرائمری اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی جادوئی دنیا سے تعلق رکھنے والی کہانیاں پڑھنے کا چسکا لگ گیا تھا۔اس کی ذہنی دنیا میں علی بابا، عمرو عیار، سند باد جہازی اور حاتم طائی جیسے کردار،جیتے جاگتے سانس لیتے انسانوں کی طرح تھے۔ وہ اکثر انہیں اپنے تخئیل میں چلتے پھرتے دیکھا کرتااور راتوں کو سوتے ہوئے خوابوں میں اُن کے ساتھ مختلف مہمات سر کرتا پھرتا۔پھر نہ جانے کب کسی دوست نے اسے ایک جاسوسی ناول پڑھنے کو دیا اوراس کی ذہنی دنیا کہانیوں کی ایک نئی جہت سے آشنا ہوئی۔یہاں اس کی ملاقات ایک نئے کردار عمران سے ہوئی اور وہ اس کردار کا ایسا اسیر ہوا کہ طلسماتی دنیا سے نکل کر، اُس کی انگلی تھام کر، اس کے ساتھ ہولیا۔اب وہ خود کو عمران کی سیکرٹ سروس کا باقاعدہ رکن خیال کرنے لگا۔اب وہ جاسوسی کی نت نئی مہمات میں عمران کا ہم رکاب رہنے لگا۔اب اکثر جب وہ گھر سے نکلتا، تو اسے گلی سے گزرتے ہوئے راہ گیر،دشمن ملک کی سیکرٹ سروس کے ایجنٹ محسوس ہوتے اوروہ خود کو عمران سمجھتے ہوئے ان کا تعاقب کرتا۔ کچھ دور جاکر اسے اپنا یہ تعاقب لاحاصل محسوس ہوتا اوراسے وہ کام یاد آجاتا جس سے اس کی والدہ نے اسے بازار بھیجا ہوتا۔ یہ شاید اس کے تخئیل میں آباد، سنسنی خیز ی سے معمور دنیا کے اثرات ہی تھے، جن کی بدولت اس نے بڑے شہر پر اچانک طاری ہونے والی اُس کیفیت یا حالت کے بارے میں سنا تواسے وہ بہت حد تک اپنے ذہن میں آباد دنیا کے مماثل محسوس کر لیا۔وہ جلد از جلد بڑے شہر پہنچ کر اس صورتِ حال کامشاہدہ اپنی آنکھوں سے کرنے کے لیے بے تاب ہو رہا تھا۔اس خواہش کے ساتھ اس کے دل کے کسی گوشے میں اُس تنہائی کا خوف بھی دُبکا ہوا تھا،وہاں پہنچ کر اس کا جس سے سابقہ پڑنے والا تھا۔ اسے جتنے دوست اور ہم جولی یہاں پر میسر تھے معلوم نہیں بڑے شہر میں بھی میسر آئیں گے کہ نہیں۔

 

چھوٹے شہر سے بڑے شہر تک کا سفرفاروق کی زندگی کا ایک کبھی نہ بھلانے والا سفر تھا۔وہ اپنے والد، والدہ او ر دو چھوٹے بھائیوں کی معیت میں،ایک کار میں سوار، جسے اس کے والد چلا رہے تھے،بڑے شہر کی جانب رواں تھا۔گردوپیش کے دل چسپ مناظر کے ساتھ ساتھ آسمان پر اڑتے ہوئے بادل بھی پیچھے کی طرف دوڑتے ہوئے گزر رہے تھے۔ اونچی نیچی ڈھلانوں سے گزرتی،گھومتی اور بل کھاتی سڑک کسی سیاہ اژدہے جیسی معلوم ہوتی تھی۔ راستے میں آس پاس چھوٹی بڑی پہاڑیاں دیکھ کر فاروق کے ذہن میں غار کا خیال آیا۔اُس غار کا خیال،جس کے باہر کھڑا ہو کر علی باباکہا کرتا تھا۔ “ کُھل جا سِم سِم “۔اور وہ غار اپنا دہانہ کھول دیا کرتا تھا۔ فاروق نے سوچا کہ وہ غار بھی کسی ایسے ہی علاقے میں واقع ہوگا۔یہ سوچتے سوچتے فاروق کی نظر دائیں جانب پڑی۔ کار ایک ڈھلان کی بلندی سے گزر رہی تھی اور اس بلندی سے دائیں طرف، بہت دور اسے نیلے پانی سے بھری ہوئی ایک پیالہ نما گول جگہ دکھائی دی۔کافی فاصلے پر ہونے کی وجہ سے وہ اسے نظر بھر کر نہیں دیکھ سکا۔ اسے گمان گزرا کہ نیلے پانی سے بھری اس پیالہ نما جگہ کا منظر اس کی نظروں کا دھوکہ بھی ہو سکتا ہے۔بالکل اسی طرح جیسے الف لیلی کے کرداروں کوصحراؤں میں سفر کے دوران نخلستان یا پانی کے ذخیرے دکھائی دیتے تھے۔مگر کچھ دیر بعد جب کار اگلی ڈھلان کی چڑھائی چڑھ کر اس کی بلندی تک پہنچی تو اس نے فوراً دائیں جانب نگاہ کی۔نیلے پانی سے بھری پیالہ نما جگہ کو دوبارہ دیکھتے ہی اس نے شور مچادیا۔اس کے شور مچانے پراس کے والد نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا تو اس نے ان سے کچھ دیر کے لیے گاڑی روکنے کی درخواست کر دی۔اس کے والد نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے سڑک پر بائیں جانب آہستگی سے گاڑی روک دی۔

 

فاروق نے کار کا دروازہ کھولتے ہی سڑک پر دائیں طرف دوڑ لگا دی۔ اسے جاتا دیکھ کر اس کے دونوں چھوٹے بھائی بھی مچلنے لگے۔ اس کی والدہ نے انہیں ڈانٹ کر کار سے نیچے اترنے سے روکا۔ ابھی فاروق بہ مشکل سڑک کے درمیان پہنچا ہوگا کہ اس کے والد کی غضب ناک آواز نے اسے بھی آگے بڑھنے سے روک لیا۔اس نے پلٹ کر دیکھا تو ااس کے والد اسے واپس آنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ سڑک بالکل خالی تھی۔ اس لیے وہ سر جھکائے فوراً ہی والد کے قریب پہنچ گیا۔
اس کے والد نے خفگی سے پوچھا۔ “ تم نے کار کیوں رکوائی؟ اوریہ تم بھاگ کر کہاں جارہے تھے؟ “۔

 

فاروق نے پریشانی سے پلٹتے اور نیلے پانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ “ ابو، وہ نیلا پانی۔۔ “۔ وہ جواب میں صرف اتنا ہی کہہ سکااور ہکلا کر چپ ہوگیا۔
اس کے والد نے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر دائیں طرف بہت دور دکھائی دینے والی پیالہ نما جگہ کی جانب دیکھا تو مسکرانے لگے۔ “ تم کار میں بیٹھو، پھر تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کیا ہے؟ “۔

 

فاروق منہ بسورتے ہوئے کار میں اگلی سیٹ پر جا کر بیٹھ گیا اور بار بار بے تابی سے گردن موڑ موڑ کر پیالے میں بند نیلے پانی کی جانب دیکھنے لگا۔اس کی والدہ اس کی سرزنش کرنے لگیں، تواس نے فرماں برداری سے والدہ کی ڈانٹ سن کر اپنا سرجھکا لیا۔اس کے والد نے گاڑی اسٹارٹ کی اور چند ہی لمحوں میں گاڑی اُس ڈھلان سے نیچے اتر گئی۔ فاروق بے تابی سے اپنے والد کے گویا ہونے کامنتظر تھا۔

 

اس کے والد کھنکار کر اپنا گلہ صاف کرتے ہوئے اس سے گویا ہوئے۔ “تم جس منظر کو دیکھ کر بے چین ہورہے تھے، وہ دراصل ایک مصنوعی جھیل تھی “۔
“مصنوعی جھیل “۔

 

اس کے والد نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ “ ہاں، پانی کی مصنوعی جھیل۔کئی برس پہلے جب بڑے شہر میں پانی کے سب کنویں خشک ہوگئے، تو بڑے شہر کے اس وقت کے پارسی میئر نے سوچا کہ بڑے شہر میں بسنے والے لوگوں کے لیے پانی کا مستقل بند و بست ہونا چاہیے۔سو اس نے بیرونِ ملک سے انجینئر بلائے۔ انہوں نے یہ مصنوعی جھیل بنوائی، جسے دریا سے نکالی جانے والی نہر کے ذریعے سیراب کیا گیا۔ “

 

فاروق اپنے والد کی معلومات سے مرعوب تو ہوا مگر اسے ان باتوں سے زیادہ دل چسپی اُس جھیل کو قریب سے دیکھنے سے تھی۔جب اس نے اپنی اس خواہش کا اظہار اپنے والد سے کیاتو انہوں نے اسے بتایا کہ وہ جھیل کی طرف جانے والے سبھی رستوں کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔انہوں نے فاروق سے وعدہ کیا کہ کچھ عرصے بعد وہ ان سب کو جھیل کی سیر کروانے لے جائیں گے۔

 

اِس کے بعد فاروق سارے رستے نیلے پانی کی اُس پیالہ نما جھیل کا تصور ہی باندھتا رہا۔تصور باندھتے باندھتے اچانک اس کی آنکھ لگ گئی اور اس نے خواب میں خود کو نیلے پانی کے کنارے کنارے چلتے دیکھا۔نیلا پانی جو بے آواز چھپاکوں کے ساتھ کناروں سے ٹکرا رہا تھا۔پانی میں چند کشتیاں تیر رہی تھیں، جن کے ملاح اپنے بدن کی پوری قوت سے چپو چلانے میں مصروف تھے۔جھیل کے کنارے وہ جس مقام پر کھڑا تھا، ایک کشتی دھیرے دھیرے وہاں آکر ٹھہر گئی۔ملاح نے اجنبی زبان میں اس سے کچھ کہا اور اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔وہ ملاح کا بڑھتا ہاتھ دیکھ کر ٹھٹھک کے رہ گیا۔ وہ پیچھے ہٹنے لگا مگر ملاح نے آگے بڑھ کر اس کی مرضی کے خلاف اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس کے ہاتھ کی گرفت مضبوط تھی۔ فاروق پیچھے ہٹنا چاہتا تھا لیکن ملاح نے اسے زور سے کشتی کی طرف کھینچا۔ اس نے نہ چاہتے ہوئے کشتی کی طرف اپنا پاؤں بڑھایا۔ جیسے ہی اس کا پاؤں کشتی پر پڑنے لگا، کشتی وہاں سے غائب ہو گئی اور فاروق پانی میں گرنے لگا۔

 

پانی میں گرنے کے خوف سے اس نے خفیف سی چینخ مار ی اور جُھرجُھری لیتے ہوئے آنکھیں کھول دیں۔بیداری پر اس نے دیکھا کہ ایک اجنبی گلی کے دونوں طرف بنے ہوئے مکانوں کے اوپر آسمان گہرا سُرمئی ہو رہاتھا۔شام ڈھل چکی تھی۔ کار میں اس کے سوا کوئی موجود نہیں تھااور کار ایک مکان کے سامنے کھڑی تھی، جس کا آہنی پھاٹک پورے کا پورا کا کھلا ہوا تھا۔فاروق آنکھیں مسلتا ہواکار سے نیچے اترنے ہی والا تھا کہ اس کا چھوٹا بھائی دوڑتا ہواآہنی پھاٹک سے برآمد ہوا اور اسے کار سے اترتے دیکھ کر خوشی سے چلایا۔ “ بھیا،ہم بڑے شہر میں اپنے نئے گھر پہنچ گئے “۔چھوٹے بھائی کی بات سن کر وہ بادلِ نخواستہ مسکرایا اور اس کے ساتھ نئے گھر کے پھاٹک کی طرف چل دیا۔

 

اگلے دو تین روز وہ اپنے بھائیوں اور والدہ کے ساتھ نئے گھر میں سامان، ترتیب اور سلیقے سے رکھنے میں مصروف رہا۔ اِس کام نے اس کے جسم پر ایسی تھکن طاری کی کہ وہ خواہش کے باوجود گھر سے باہر قدم بھی نہ نکال سکا۔ اس کے والد نے بھی اسے تاکید کی تھی کہ نئے شہر میں گھر سے باہر زیادہ نہ نکلے،اگر مجبوراً نکلنا ہی پڑے توزیادہ دور تک نہ جائے۔اسی لیے دوسرے روز اس کی والدہ نے اس سے اشیائے صرف کی فہرست بنوانے کے بعدجب اسے روپے دے کر سامان لانے کے لیے باہر بھیجا تو انہوں نے بھی اس کے والد کی تاکید کو دوہرایا، جسے سنتے ہوئے اس نے فرماں برداری سے اپنا سر اثبات میں ہلادیا۔

 

اس نے اندازہ لگایاتھا کہ گھر سے باہر نکلتے ہی بڑے شہر پر طاری ہونے والی اس عجیب و غریب کیفیت یا حالت کے کچھ آثار اس پر ہویدا ہونے لگیں گے۔ مگر گلی میں چلتے ہوئے جب ایک راہ گیر اس کے قریب سے گزرا تو فاروق نے اپنی نظروں سے اس کا چہرہ ٹٹولنے کی کوشش کی۔اسے راہ گیر کے چہرے پر کسی قسم کی گھبراہٹ یا پریشانی کے آثار دکھا ئی نہیں دیے۔و ہ کچھ اور آگے بڑھاتوسب گلیوں کو ملانے والی درمیانی گلی میں اسے ایک دکان دکھائی دے گئی۔وہ اس دوکان سے گزر کر آگے جانا چاہتا تھا مگر والدین کی جانب سے کی جانے والی تاکید نے اس کے قدم روک لیے۔وہ اس دوکان پر گیا اور اس نے جیب سے فہرست نکال کر دوکان دار کے ہاتھوں میں تھمادی۔دوکان دار فہرست دیکھ دیکھ کر اطمینان سے سامان نکالنے لگا۔اس کا اطمینان دیکھ کر فاروق بے چینی سی محسوس کرنے لگا۔دوکان دار نے سامان تھیلیوں میں بھر کر اس کی طرف بڑھایا تواس کی جلدی سے جیب سے روپے نکال کر اس کے حوالے کردیے اور سامان سے بھری تھیلیاں اٹھائے گھر کی طرف چل دیا۔چلتے ہوئے وہ اس دبدھا میں تھا کہ کہیں بڑے شہر کے بارے میں اس نے چھوٹے شہر میں رہتے ہوئے جو کچھ سنا تھا، کہیں وہ سب کچھ کسی دورغ پر مبنی تو نہیں تھا۔کیوں کہ قلیل سے وقت میں اس کے محدود مشاہدے نے اس کی ذہنی دنیا میں قائم ہونے والے تصور کوکسی حد مجروح کردیا تھا۔

 

اگلے روز جب اس نے اپنی والدہ سے سودا سلف منگوانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے دوٹوک جواب دے دیا کہ آج کچھ بھی نہیں منگوانا۔ان کا جواب سن کر وہ بہت دیر تک پیچ و تاب کھاتا رہا اور باہر جانے کا کوئی بہانہ سوچتا رہا۔سہ پہر کے وقت اس کے دونوں چھوٹے بھائی آپس میں لڑ لڑ کر سو گئے۔ اس کی والدہ نے اسے بھی سونے کا حکم دیا۔وہ اپنے پلنگ پر لیٹ توگیا مگر دیر تک کروٹیں بدلنے کے باوجودوہ اپنے آپ کو سونے پر مائل نہ کرسکا۔ قرب و جوار کی کسی مسجد سے عصر کی اذان بلند ہوئی تو وہ پلنگ سے اتر کر والدہ کے کمرے کی چلا گیا۔ کمرے میں داخل ہونے سے پہلے اس نے دروازے پر دستک دی، جسے سنتے ہی اسے والدہ کی آواز سنائی دی۔ “کون ہے؟ “۔ فاروق قجھجھکتے ہوئے اندر داخل ہوا۔ اس کی والدہ بدن پر چادراوڑھے ہوئے بیڈ پر دراز تھیں اور ان کے چہرے پر پھیلی سوگواری سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ غنودگی کے عالم سے ابھی ابھی نکلی ہیں۔ انہوں نے جماہی لیتے ہوئے اس سے پوچھا۔ “ کیا ہوا فاروق؟ “۔

 

اس نے بے ساختگی سے کہہ دیا۔ “ امی، مجھے ایک کتاب خریدنی ہے، اس کے لیے پیسے چاہئیں “۔

 

یہ سنتے ہی والدہ کی پیشانی پر لکیریں سکڑنے لگیں۔ “ ابھی تمہارا اسکول میں داخلہ ہی نہیں ہوا۔ پھر تمہیں کیسی کتاب خریدنی ہے؟ “۔

 

“کہانیوں کی کتاب؟ “۔

 

“تمہارے پاس وہ تو پہلے ہی بہت سی ہیں۔ کیا کرو گے، اور لے کر؟ “۔

 

“ امی، وہ سب میں بہت پہلے ہی پڑھ چکا ہوں۔مجھے نئی کہانیاں پڑھنی ہیں۔ “

 

“ تمہیں کیا پتہ یہاں کتابوں کی دوکان کہاں پر ہے۔ تم کہاں سے جاکر کتاب خریدو گے؟ “۔

 

“میں نے معلوم کرلیا ہے۔بازار ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں ہے۔آپ مجھے بس پیسے دے دیں۔ “ اس نے اتنے اعتماد کے ساتھ پہلے کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا۔وہ خود بھی جی ہی جی میں اپنی اس ہمت پر حیران رہ گیا۔

 

“مگر تمہارے ابو نے منع کیا تھا کہ تم با ہر نہیں جاؤ گے۔ “ والدہ نے اسے یاد دلایا۔

 

“ امی، میں دیر نہیں کروں گا۔ کتاب لے کر جلدی آجاؤں گا۔بتائیں، پیسے کہاں رکھے ہیں؟ “۔اس نے اصرار کرتے ہوئے ایک ایک بار پھر مطالبہ کیا۔

 

“ اچھا، اچھا۔ باورچی خانے میں برتنوں والے دراز میں جو کیتلی رکھی ہے، اس میں ہیں پیسے۔ تم جا کر نکال لو۔ اور سنو جلدی واپس آنا۔ تمہارے ابو کے آنے کا وقت بھی ہونے والا ہے۔ “اس کی والدہ کو اس کے آگے ہتھیار ڈالتے ہی بنی۔

 

“جی اچھا۔ میں جلدی آجاؤں گا “۔سر ہلاتے اور اپنی کامیابی پر زیرِ لب مسکراتے ہوئے وہ کمرے سے نکل کر باورچی خانے کی طرف چلا گیا۔

 

جب وہ گھر سے نکلا تو باورچی خانے میں برتنوں والے دراز میں رکھی کیتلی سے نکالے ہوئے پچاس روپے اس کی جیب میں تھے۔ اسے بڑے شہرآئے ہوئے چند روز گزر گئے تھے، مگر اسے محسوس ہورہا تھا کہ وہ آج ہی یہاں پہنچا ہے۔ اس احساس کی وجہ گھر کی چار دیواری سے باہر وہ آزادی تھی، جو اسے آج پہلی بار میسر آئی تھی۔۔ وہ اکیلا بڑے شہر کے ائرپورٹ کے قریب واقع اس آبادی کے بازار کی جانب گامزن تھا، اکیلائی کا یہ تجربہ اس کے لیے بالکل نیا تھا۔۔وہ سب گلیوں کو ملانے والی درمیانی گلی میں واقع دوکان تک پہنچا تو وہ دوکان اسے حسب معمول کھلی ہوئی دکھائی دی۔اس کے قریب سے گزرتے ہوئے فاروق کی رفتار بہت کم تھی۔ وہاں دو خواتین کھڑی سودا سلف خرید رہی تھیں۔ان میں سے ایک برقعہ اوڑھے ہوئے تھی اور اپنی آنکھوں کی جنبشوں اور اپنے بدن کی حرکات و سکنات سے درمیانی عمر کی لگ رہی تھی۔ اور دوسری، جو چہرے سے بزرگ دکھائی دیتی تھی،مگر اب بھی چاق و چوبند نظر آرہی تھی۔ اس نے میلا کچلا سا اور دُھل دُھل کر اپنا اصل پیلا رنگ کھو کر،سفیدی مائل ہوتا ہوا لباس پہن رکھا تھا۔مختصر سا مٹیالے رنگ کا دوپٹہ اُس کے سر پر پھیلے سُر مئی اور سفید سے،کھچڑی گھنگھر یالے بالوں کو چھپا نے میں بری طرح ناکام تھا۔وہ بوڑھی خاتون سانولی اور گہری رنگت کی حامل تھی اور اس کا چہرہ جھریوں اور گہری لکیروں سے پُر تھا۔ وہ کمر پر ہاتھ رکھے اجنبی سے لہجے میں دوکان دار سے کہہ رہی تھی۔ “ مجھے لسٹ میں لکھا سارا سامان دینا۔ ایک ایک چیز۔اور ہاں، کوئی چیز چھوڑ مت دینا۔ سمجھے۔شہر کے حالات پہلے کبھی اتنے غیر یقینی نہیں تھے، جتنے اب ہو گئے ہیں۔ہیلمٹ والی مخلوق کو گلیوں میں دیکھ کر میرا تو دل دہل کے رہ جاتا ہے۔ان کی سیٹیاں سن کر میری سٹی گم ہوجاتی ہے۔اور۔۔ اور لاوڈ اسپیکر پر ان کا اعلان سن کر یقین مانو، میرا کلیجہ حلق کو آجاتا ہے۔ “۔

 

فاروق نے دوکان کے قریب سے گزرتے ہوئے اس خاتون کی یہ باتیں سنیں تواس کے دل میں معدوم ہوتی امید پھر سے بیدار ہونے لگی۔اس کے دل میں اس بزرگ خاتون سے، بڑے شہر پر طاری ہونے والی اس کیفیت یا حالت کے بارے میں استفسار کرنے کی خواہش پیدا ہوئی مگر اُ س کے اور اس خاتون کے درمیان حائل اجنیبت اس کے پیروں کی زنجیر بن گئی۔وہ بار بار دوکان پر کھڑی اس بزرگ خاتون کی طرف دیکھتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ آگے بڑھتے ہی اس کے قدموں میں جیسے کوئی رَو دوڑ گئی اور وہ تیز رفتاری سے چلنے لگا۔جیسے آگے

 

اور آگے کوئی ان دیکھا منظر اس کا انتظار کر رہا ہو، لمحہِ موجود میں جس کی کشش اسے اپنی جانب کھینچے جا رہی ہو۔وہ بائیں مڑنے والی ایک گلی میں مڑ گیا۔ یہ گلی کچھ تنگ سی اور کچھ مختصر سی تھی۔اس نے دیکھا کہ یہ آگے جا کر دائیں طرف مڑ رہی تھی۔وہ اپنے تجسس کی جوت میں خوشی خوشی جلتا ہوا، اپنا سر جھکائے ہوئے اس گلی سے گزرا۔

 

دائیں طرف مُڑنے کے بعدوہ ایک کشادہ سی گلی میں داخل ہوا، جو سیدھی بازار کی طرف جارہی تھی۔اس گلی کے آخری سرے پرے پر اسے رونق سی دکھائی دی۔ دوکانوں اورٹھیلوں کے آس پاس مرد و زن خریداری میں مصروف دکھائی دے رہے تھے۔اس گلی کے دونوں طرف دوبڑی بڑی ورک شاپس بنی ہوئی تھیں، ان کے گیٹ کھلے ہونے کی وجہ سے فاروق یہ دیکھ سکا کہ ایک ورک شاپ میں گاڑیوں کی مرمت کی جارہی تھی جب کہ دوسری میں نیا فرنیچر بنانے کے ساتھ ساتھ پرانے فرنیچر کی مرمت کا کام بھی جاری تھا۔فاروق ورک شاپس سے آگے بڑھا تو اسے دونوں جانب زمین کے بڑے بڑے چوکور خالی قطعے دکھائی دیے، جن میں جھاڑیاں اور کیکر اگے ہوئے تھے۔کچھ آگے جا کر دائیں طرف کسی حکیم صاحب کا مطب واقع تھا۔، جب کہ بائیں طرف دوکانوں کا ایک سلسلہ ساتھا۔ ان دوکانوں میں ویڈیو فلمیں اور وی سی آر کرائے پر دستیاب ہوتے تھے۔سب دوکانوں کے سامنے کے حصوں پرسیاہ اور دیگر گہرے رنگوں کے شیشے لگے تھے۔ ان کے دروازے بھی شیشوں کے بنے ہوئے تھے۔ ان شیشوں پر ہندی اور امریکی فلموں کے بڑے بڑے پوسٹر لگے ہوئے تھے۔اس وقت ایک ویڈیو سینٹر سے ہندی گانا سنائی دے رہا تھا۔وہ فلموں کے پوسٹر دیکھتااور گانا سنتا ہوا آگے بڑھا۔

 

کچھ دیر پیشتر بوڑھی عورت کی باتیں سن کر اس کے دل میں جس امید نے سر اٹھایا تھا، بازار میں گہما گہمی دیکھ کر وہ نا امیدی میں تبدیل ہونے لگی۔بازار ہر طرح کے لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ شام کے اسکولوں سے چھٹی پانے والے بچوں سے، کالج اور یونیورسٹی سے شام کی کلاسیں لے کر لوٹنے والے لڑکوں اور لڑکیوں سے،دفاتر، فیکٹریوں، اور کام کی دیگر جگہوں سے چھوٹنے والے مرد و زن سے،، بھکارنوں سے، مزردوروں سے۔غرض کہ بھانت بھانت کے لوگوں سے، جو وہاں اپنی اپنی ضروریات کا سامان خریدتے، گھومتے پھر رہے تھے۔ان کے درمیان ٹہلتے ہوئے فاروق کو کتابوں کی دوکان تلاش کرنے میں زیادہ دقت کا سامنا نہیں کر نا پڑا۔

 

وہ کتابوں کی دوکان میں داخل ہوا۔ یہاں ہر طرح کی نصابی، غیر نصابی کتب اور رسائل دستیاب تھے۔فاروق نے دو پرانے ڈائجسٹ خریدنے کے لیے منتخب کیے، جن کے دام بہت ارزاں تھے۔اسے اطمینان سا ہوا کہ اگلے چند روز کے لیے بوریت سے اس کی جان چھوٹ جائے گی۔وہ ان کی قیمت ادا کرکے دکان سے باہر نکلا اور بازار میں چلنے لگا۔

 

بازار کی مرکزی سڑک،جس کے دائیں اور بائیں طرف بہت سی چھوٹی سڑکیں اور گلیاں نکلتی تھیں۔ کسی چھوٹی گلی یا سڑک سے کچھ اوباش قسم کے لڑکوں کی ٹولی ڈنڈے اور لاٹھیاں اٹھائے ہوئے نکلی اور بازار کی دوکانوں پر پِل پڑی۔وہ بازار جہاں لوگ اپنی موج میں سست خرامی سے گھوم رہے تھے،اچانک وہاں بھگدڑ سی مچ گئی۔ایسی ہا ہا کار مچی کہ لوگ اپنی خریداری بھول کر، یہاں وہاں بھاگ کر، خود کو ڈنڈوں اور لاٹھیوں کی زد میں آنے سے بچانے لگے۔دوکانیں بند ہونے لگیں۔اسی دوران نہ جانے کہاں سے دو موٹر سائکلیں نمودار ہوئیں۔ ہر موٹر سائیکل پردو لڑکے سوار تھے۔ وہ بلند لہجوں میں چینخ چینخ کردوکان داروں کو دوکانیں بند کرنے کا حکم دے رہے تھے۔

 

فاروق اس صورتِ حال کو فوری طور پر نہیں سمجھ سکا کیوں کہ یہ اس کے لیے بالکل انوکھی صورتِ حال تھی۔اس نے کھلبلی مچ جانے کے ایسے واقعات کا مطالعہ تو ضرور کیا تھا اور کسی حد تک انہیں اپنی چشمِ تصور میں بھی دیکھا تھا، مگر ایسی صورتِ حال کا کہانیوں میں مطالعہ کرنا اور اسے اپنے تصور میں دیکھنا، بالکل الگ بات تھی، جب کہ اس کا سامنا کرتے ہوئے اسے اپنی آنکھوں کے روبرو دیکھنا بالکل الگ بات تھی۔ آٹھ دس لڑکوں کی ٹولی کے غراتے، چینختے چلاتے ہوئے لہجوں، دکانوں، ٹھیلوں، اور کچھ لوگوں پر پڑتے ہوئے ڈنڈوں کے شور،تیزی سے گزرتی موٹر سائیکلوں کا غُل غپاڑہ اور فائرنگ کی آوازوں نے مل جل کر فاروق کے ذہن پر جو پہلا تاثر قائم کیا، وہ ڈر اور خوف کا تاثر تھا۔اس کی اپنی زندگی چھِن جانے کا خوف۔موت سے ہمکنار ہونے کا خوف۔ اسی خوف کے زیرِ اثر وہ بد حواس ہوکر بازار سے بائیں طرف نکلنے والی ایک گلی میں بھاگا۔یہ وہ گلی ہرگز نہیں تھی، جس میں ٹہلتا ہوا وہ اس جانب آیا تھا۔

 

دل و دماغ پر اچانک چھا جا نے والے خوف کے زیرِاثر وہ جس گلی میں بھاگا، وہ ا س کے لیے نامہربان اور اجنبی ثابت ہوئی اور اسے نا آشناگلیوں کے ایک ایسے سلسلے کی طرف لے گئی،جو اس کے لیے گم راہ کن ثابت ہوا۔ اگر یہ گلیاں اپنے راہ گیروں، خوانچہ فروشوں اور دیگر گزرنے والوں کے وجود سے بھری پری ہوتیں، تو شاید اسے یہ خوف اتنا پریشان نہ کرتا۔ مگر یہاں تو جس طرف دیکھو گہرا اور دبیز سناٹا تھا۔اس نے محسوس کیا یہاں واقعی کسی دیو کا سایہ پھر گیا ہے، جس نے ان گلیوں سے زندگی کی ہر رمق نوچ ڈالی ہے۔وہ خود کو ایسا شہزادہ خیال کرنے لگا، جو اپنے آپ کو اس دیو سے بچانے کی خاطر اس بھول بھلیاں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے۔ وہ جو گلی بھی عبور کرتا، وہ اسے مزید بھٹکانے کا سبب بنتی۔اس طرح وہ بھٹکتے بھٹکتے بہت دور پہنچ گیا۔اتنی دور پہنچ کر اسے اپنی جان کو لاحق ہو نے والا خوف تو کچھ کم ہو گیا، مگر اب اس کی جگہ نئے خوف نے لے لی تھی۔

 

سورج مقامِِ غروب کی طرف رواں تھا اورشام تیزی سے ڈھلتی جارہی تھی۔وہ جانتا تھا کہ کچھ دیر بعد پھیلنے والا اندھیرا ان نامہربان اور اجنبی گلیوں کو ایک نئے اور مختلف روپ میں ڈھال دے گا۔گہری تاریکی میں یہ گلیاں کچھ دہشت ناک اور کچھ بھیانک سی محسوس ہونے لگیں گی۔اسے اپنی والدہ کا اسے بازار جانے سے روکنا شدت سے یاد آیا۔ اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ یہ احساس درد بن کر اس کے بدن کے رگ و ریشے میں سرایت کرگیا۔اس کا گلا رندھنے لگا۔وہ خود پر ضبط کرتا ہوا ٹھہر گیا اور گردوپیش دیکھنے لگا۔کچھ دیر وہاں کھڑ ا لمبی سانسیں لیتا رہا۔ اسی دم اس نے ایک فیصلہ کیا اور آگے بڑھنے کے بجائے فوراً اسی مقام کی جانب چلنا شروع کردیا، جس مقام سے اس کا بھٹکنا شروع ہوا تھا۔

 

واپسی کے سفر میں زمین کی نشانیوں نے مطلوبہ مقام تک پہنچنے میں اس کی بہت مدد کی۔گرچہ خوف کے عالم میں بھاگتے ہوئے اس نے زمین کی کوئی نشانی اپنے ذہن میں محفوظ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی، مگر وہ شاید اس کے لاشعور میں کہیں خود بہ خود محفوظ ہوگئیں تھیں۔اسی لیے کوئی نقشِ پا،کوئی گڑھا، کوئی کھمبا،یا دیواروں پر بنی ہوئی کوئی علامت یا کوئی اشتہار ازبر نہ ہونے کے باوجود واپسی کے سفر میں اس کی راہنمائی کرتے رہے۔وہ کم و بیش انہی گلیوں سے گزرا، جن سے وہ ہانپتا کانپتا، دوڑتا ہوا گیا تھا۔

 

گردوپیش کی مساجد سے مغرب کی اذان بلند ہو نے لگی تھی، جب وہ نڈھال قدموں سے چلتا ہوا اس گلی میں داخل ہوا، جس میں اس کا گھر واقع تھا۔اس نے بہ دِقت اپنا ہاتھ اٹھا کر گھنٹی کا بٹن دبایااور سر جھکا کرلوہے کے پھاٹک کے پاس کھڑا ہوگیا۔ اس نے محسوس کیا اب تک اس کے دل کی دھڑکن معمول پر نہیں آئی تھی اور وہ اپنے گھر کے پھاٹک کے قریب ہونے کے باوجود غیر ارادی طور پر پلٹ پلٹ کر بھی دیکھ رہا تھا، جیسے ہنگامہ آرائی کرنے والے اس کے پیچھے لگے ہوئے ہوں۔چند لمحوں بعد پھاٹک کھلا اور اسے اپنے چھوٹے بھائی کا چہرہ دکھائی دیا،جو اسے دیکھتے ہی اس سے دیر سے آنے کے بارے میں سوال پر سوال پوچھنے لگا تھا۔ فاروق میں اس کے کسی سوال کا جواب دینے کی ہمت نہیں تھی۔وہ ڈائجسٹ ہاتھ میں لیے اندر داخل ہوا۔پھاٹک بند کرتے ہوئے چھوٹے بھائی نے اسے اطلاع دی کہ ابو دفتر سے گھر آچکے ہیں، تو وہ یہ اطلاع سن کر چونکا اورٹھٹھک کر بولا۔ “ اچھا “۔وہ اس وقت اپنے والدین کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھا۔اس لیے وہ چھوٹے بھائی کی بات کو نظر انداز کرتا اپنے کمرے کی طرف جانے لگاکہ اسے والدہ کی آواز سنائی دی۔ “ کون آیا ہے؟ “۔
اس کے چھوٹے بھائی نے فوراً بلند لہجے میں جواب دیا۔ “فاروق بھائی آئے ہیں “۔

 

“اسے ہمارے پاس بھیج دو “۔یہ سنتے ہی اس کے قدم رک گئے۔وہ کچھ سوچتا ہوا والدین کے کمرے کی طرف چل دیا۔

 

وہ ڈائجسٹ ہاتھ میں لیے، اپنا سر اور نگاہیں نیچی کیے،کمرے میں داخل ہوا تو اسے محسوس ہوا کہ اس کے والدین نے اس کی اچانک آمد کی وجہ سے چپ سادھ لی ہے۔ جھکی نظروں سے وہ صرف اپنے والد کو بیڈ پر نیم دراز بیٹھے اور چائے پیتے ہوئے دیکھ سکا۔اس کی والدہ بیڈ کے دائیں طرف رکھی ہوئی ایک کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے ہوئے بیٹھی تھیں۔ اس نے ان دونوں کے چہروں کی طرف اپنی جھکی جھکی نظروں سے دیکھا تو اسے اپنے والد کے چہرے پر معمول کے سنجیدہ تاثر کے ساتھ فکرمندی کی ہلکی سی پرچھائیں دکھائی دی، جب کہ اس کی والدہ سخت گیری اور خفگی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھیں۔

 

“تم دروازے کے پاس کیوں کھڑے ہو۔ آگے آؤ اور سر اٹھا کر ہماری طرف دیکھو “۔اس کی والدہ نے اسے حکم دیتے ہوئے کہا۔

 

وہ کچھ آگے بڑھا اور بیڈ کے قریب جاکر کھڑا ہوگیااور اپنی واپسی میں ہونے والی تاخیر کے متعلق اپنی سی وضاحت دینے لگا۔ “ ابو، میں بازار کتابیں لینے گیا تھا کہ وہاں۔۔۔۔۔ “۔

 

اس کے والد نے اس کی بات درمیان سے کاٹتے ہوئے پہلے کھنکار کر اپنا گلہ صاف کیا، پھر اس مخاطب ہوئے۔ “ فاروق، میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا اور ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ یہ بڑا شہر چھوٹے شہرسے بہت مختلف ہے۔یہاں تمہیں بہت سوچ سمجھ کر اور محتاط ہوکر گھر سے نکلنا پڑے گا۔تمہیں اپنی امی اور میری کہی ہوئی ہر بات پر عمل کرنا ہوگا۔سمجھے “۔

 

فاروق نے اپنا سر ہلاتے ہوئے کہا۔ “جی سمجھ گیا۔ “

 

“ تم ہر دفعہ یہی کہتے ہو۔ مگر سمجھتے پھر بھی نہیں۔میں نے تمہیں سمجھایا اور روکا تھا، مگر تم رکے پھر بھی نہیں۔ “

 

“ آئندہ ایسا نہیں ہوگا، امی “۔اس نے وعدہ کرتے ہوئے کہا۔

 

“دیکھو فاروق، آج شہر کے بہت سے علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔فائرنگ ہوئی۔ چھری، چاقو اور ڈنڈوں سے لوگوں کو زخمی کیا گیا۔کچھ لوگ ہلاک بھی ہوئے۔اسی لیے حکومتِ وقت نے شہر کے بہت سے علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے “۔

 

کرفیو کا لفظ فاروق کے لیے نیا نہیں تھا۔ وہ چند مرتبہ پہلے بھی یہ لفظ اپنے والد سے سن چکا تھا۔مگر وہ اس لفظ کے معنی و مفہوم سے مکمل طور پر نا آشنا تھا۔اس نے اپنے ذہن میں اس کے الگ ہی معنی طے کر رکھے تھے۔

 

“ ابو۔۔۔یہ کرفیو کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ “ اسنے جھجھکتے جھجھکتے یہ سوال پوچھ لیا۔

 

“ کرفیو کا مطلب۔۔ کرفیوجہاں بھی لگایا جاتا ہے۔ وہ علاقے فوج کے حوالے کردیے جاتے ہیں۔ فوج گلی، محلوں اور بازاروں میں گشت کرنے لگتی ہے۔عام لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی عائدکر دی جاتی ہے۔جو شخص بھی اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گھر سے نکلتا ہے، اسے سزا دی جاتی ہے۔ ملک کے عام شہری کے تمام حقوق عارضی طور پر معطل کردیے جاتے ہیں “۔

 

“ مگر فوج کا کام تو سرحدوں کی حفاظت کرنا ہوتا ہے، ابو۔ ہمارے گلی، محلوں اور بازروں میں اس کا کیا کام؟ “

 

“ دوسرے ملکوں کی فوجیں اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ ہماری فوج نے سرحدوں کے ساتھ ساتھ گلی، محلوں اور بازاروں کی حفاطت کی ذمہ داری بھی اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھی ہے۔بہر حال تم ابھی بہت چھوٹے ہو، یہ باتیں نہیں سمجھوگے۔تمہیں جو کہا جارہا ہے تم صرف اسی پر عمل درآمد کرو۔سمجھے۔ “

 

فاروق اپنے والد کی کچھ باتیں سمجھا اور کچھ نہیں سمجھا، مگر پھر بھی اس نے تائید میں اپنا سر اس طرح ہلایا، جیسے وہ سب کچھ سمجھ گیا ہو۔

 

“اچھی طرح سن لو اور سمجھ لو فاروق۔ اب جب تک کرفیو لگا ہواہے، تمہارے گھر سے باہر جانے پر مکمل پابندی ہے۔اب تم جاؤ اور جا کر اچھی طرح اپنے ہاتھ پاؤں اور منہ دھوؤ۔ کچھ دیر میں کھانا تیار ہوجائے گا۔ جاؤ۔ “ فاروق کے کمرے سے باہر جانے کا انتظار کیے بغیر اس کی والدہ اپنے شوہر سے مخاطب ہوئیں۔ “کرفیو ختم ہوتے ہی سب بچوں کے اسکول میں داخلے کروائیں۔گھر میں رہ رہ کر یہ سارا پڑھا لکھا بھول گئے ہیں۔ چھوٹے دونوں تو دن بھر لڑتے رہتے ہیں۔ ان کی شکایتیں اور آپس کی لڑائیاں ختم ہی نہیں ہوتیں “۔

 

فاروق کمرے سے باہے جانے ہی والا تھا کہ اس کے والد اس سے مخاطب ہوئے۔ “ فاروق “۔

 

“جی ابو “۔ اس نے رکتے ہوئے جواب دیا۔

 

“ بیٹا تم اپنے چھوٹے بھائیوں کو چند گھنٹے بیٹھ کر پڑھایا کرو۔ تم بڑے ہو اور ان سے زیادہ سمجھ دار بھی ہو “۔

 

“ یہ خود تو پڑھتا نہیں، انہیں کیا پڑھائے گا “۔

 

“ پڑھاؤں گا، امی۔ ضرور پڑھاؤں گا “۔ زیرِ لب مسکراتے ہوئے وہ کمرے سے چلا گیا۔

 

کمرے سے نکلنے کے بعد اس نے سکھ کا سانس لیا مگر اس کے والد کی کہی ہوئی باتیں اس کے ذہن میں گھوم رہی تھیں۔وہ انہیں مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر تھا۔ اس نے جو کچھ بازار میں دیکھا تھااور وہاں اس پر جو کچھ بیتاتھا، وہ اب تک اسے بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔وہ کون لوگ تھے،جو ڈنڈے ہاتھوں میں اٹھائے زبردستی دوکانیں بند کروا رہے تھے؟ اور فوج، کیوں گلی محلوں تک چلی آئی تھی؟ جب کہ ان کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا تھا۔اس کے ذہن میں یہ سب سوال بگولوں کی طرح کی چکر کاٹ رہے تھے۔ اسے واضح طور پر یہ محسوس ہو رہا تھا کہ اس صورتِ حال کو اس نے اپنے تئیں جس طرح قیاس کر رکھا تھا، یہ اس سے کہیں زیادہ گھمبیر تھی، اور اس صورتِ حال کا بہت بڑا حصہ اس کے لیے مکمل طور پر ناقابلِ فہم تھا۔وہ اسی الجھن میں مبتلا جب اپنے کمرے میں داخل ہوا، تو اس کے چہرے پر طاری سنجیدگی کو دیکھ کر اس کے چھوٹے بھائی یہ سمجھے کہ اسے زور کی ڈانٹ پڑی تھی اور اسی لیے اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ انہوں نے بڑے بھائی سے گفتگو سے احتراز کیا۔وہ بھی ان سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا اور ناگاہ دوکان سے خرید کر لانے والے رسالوں کی ورق گردانی کرنے لگا۔
فاروق نے رات کھانا سب کے ساتھ مل کر کھایا۔ اس دوران اس کے والد نے انہیں یقین دلایا کہ حالات معمول پر آتے ہی وہ ان تینوں کو فوراً کسی اچھے اسکول میں داخل کروادیں گے۔ان کی حالات معمول پر آنے کی بات فاروق نہیں سمجھ سکا۔اسے یہ جاننے کی کرید ہوئی کہ آخر ایسا کیا ہوگیاکہ حالات اپنے معمول سے ہٹ گئے۔اس نے اپنے والد سے اس بارے میں چند سوالات کیے، جن کے اسے تسلی بخش جوابات نہیں مل سکے۔اس کے ذہن میں پہلے سے موجود خلجان میں کچھ اور اضافہ ہوگیا۔

 

کھانے کے کچھ دیر بعد والدہ کی جانب سے سونے کا حکم صادر ہوا۔اس کے دونوں بھائی ایک پلنگ پر لیٹ گئے، جب کہ فاروق الگ پلنگ پر جا لیٹا۔اس کی والدہ انہیں تاکید کرنے کے بعد کمرے کی بتی بجھا کر چلی گئیں۔فاروق بستر پر لیٹا کروٹیں ہی بدلتا رہا۔اس کے ذہن میں شام کو بازار میں پیش آنے والا واقعہ، اپنی تمام جزئیات کے ساتھ گھومنے لگا۔اس نے اُس خوف کی ہلکی سی آنچ کو بھی محسوس کیا،جو اس وقت اچانک اس کے سارے وجود پر محیط ہوگئی تھی اور جس نے اسے جان بچانے کی خاطر بازار سے بھاگنے پر اکسایا تھا۔ وہ حیران تھا کہ اس کے قدم کس طرح اس کے وجود کا بوجھ اٹھائے اسے موت کے خطرے سے بچانے کی خاطر خود بہ خود حرکت میں آگئے تھے۔ایک خیال، جسے وہ لاشعوری طور پر شام سے دبائے جارہا تھا، اس وقت خود ہی اپنا سر اٹھانے لگاتھا، وہ یہ کہ اسے وہاں سے بھاگنا نہیں چاہیے تھا۔ اسے وہیں کہیں چھپ کر سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے تھا۔شاید اس طرح وہ اُن ڈنڈہ بردار لوگوں اور فائرنگ کرنے والوں کے بارے میں زیاد ہ جان لیتا،جن کے بارے میں جاننے کا وہ شدت سے متمنی تھا۔

 

کمرے میں تاریکی تھی مگر اس کی آنکھیں اس تاریکی سے اتنی مانوس ہوچکی تھیں کہ اب کمرے کی ہر چیز دکھائی دے رہی تھی۔اس کے چھوٹے بھائی کچھ دیر پہلے گہری نیند سوچکے تھے، مگر اس کے ذہن میں جاری کشمکش اسے نیند سے دور لیے جارہی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ عمران سیریز کی کہانیوں میں پوری سیکریٹ سروس دشمن ممالک کے اخفیہ ا یجنٹوں کے عزائم خاک میں ملانے کے لیے اپنی جان بھی داؤ پر لگا دیتی ہے۔مگر ہماری فوج ہمارے ہی خلاف سڑکوں پر نکل آئی تھی اور اس نے لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر بھی پابندی لگادی تھی۔ ایسا کیوں ہو رہا تھا؟ وہ اس عقدے کا حل ڈھونڈتے ڈھونڈتے نیند کے خمار میں کھونے لگا۔ پہلے کچھ دیر وہ جماہیاں لیتا رہا، پھر اس کی آنکھیں خود بہ خود مندتی چلی گئیں۔

 

اگلے روز وہ اپنے والدین اورچھوٹے بھائیوں سے چھپ چھپ کر چھت کا چکر لگاتا رہا۔ ہر باروہ دبے پاؤں چھت پر جاکر اپنی گلی کے سامنے واقع ساری گلیوں کو ملانے والی گلی کی طرف کچھ دیر دیکھتا اور مایوس ہو کر واپس چلا جاتا۔وہ ساری گلیوں کو ملانے والی گلی میں جو منظر دیکھنا چاہتا تھا، وہ اسے آدھا دن گزرنے کے باوجود دکھائی نہیں دیا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد جب اس کے والدین اور چھوٹے بھائی قیلولے کے لیے اپنے بستروں پر دراز ہوئے، تو اسے چھت پر جانے کا ایک اور موقع مل گیا۔ تیز دھوپ میں وہ چھت پر کھڑا گلی کی طرف دیکھتا رہا۔

 

اچانک اسے ساری گلیوں کو ملانے والی گلی کی طرف سے مائیکرو فون پر سنائی دیتی مبہم سی ایک آواز اور اس کے ساتھ ساتھ ایک گھڑ گھڑاہٹ بھی سنائی دینے لگی۔جسے سن کر فاروق سمجھ گیا، کہ اس کی خواہش پوری ہونے والی تھی۔ مائیکرو فون پر سنائی دیتی آواز دھیرے دھیرے ایک اعلان یا تنبیہ کی صورت اختیار کر نے لگی، جس میں شہریوں کو اپنے گھروں میں بند رہنے کا حکم دیا جارہا تھا اور اس حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں انہیں سخت سزا کی دھمکی دی جارہی تھی۔یہ آواز جوں جوں قریب آتی گئی، اس کا سخت اور دوٹوک قسم کالب و لہجہ واضح ہوتا چلا گیا۔اس کے ساتھ ہی سنائی دینے والی گھڑ گھڑاہٹ بھی نزدیک سے نزدیک تر آتی گئی۔

 

قریب آتی درشت لہجے کی آواز اور گھڑگھڑاہٹ سن کر فاروق کے بدن میں ایک سنسنی سی دوڑنے لگی۔وہ صبح سے جو منظر دیکھنے کا بے چینی سے منتظر تھا، اب وہ اس کے سامنے رونما ہونے والا تھا۔اس نے دل ہی دل میں اپنی جگہ سے نہ ہٹنے کا پختہ عزم کر لیا۔

 

اگلے ہی لمحے ساری گلیوں کو ملانے والی گلی میں ہلکے سبز رنگ کا ٹرک نمودار ہوا، جس کی اگلی سیٹ پر بیٹھا ہوا ڈرائیور اسے آہستگی سے چلا رہا تھا۔جب کہ اس کے پچھلے حصے میں دو فوجی کھڑے تھے۔ ان میں سے ایک مائکرو فون ہاتھ میں لیے بار بار ایک ہی اعلان دوہرا تھا، جب کہ دوسرا اپنے ہاتھوں میں رائفل پکڑے چوکس کھڑا گردوپیش کا جائزہ لے رہا تھا۔ آس پاس کی تمام چھتیں ویران پڑی تھیں۔ تمام گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند تھے۔وہاں فاروق اور ان کے سوا کوئی موجود نہیں تھا۔

 

اچانک الرٹ کھڑے رائفل بردار کی تیز نظر فاروق پر پڑی۔اس نے گھور کر اسے دیکھا اور اسے چھت سے جانے کا اشارہ کیا۔فاروق اس کے اشارے پر ٹس سے مس نہ ہوا تو مائیکرو فون بردار درشت لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔ “چھت سے نیچے چلے جائیں، ورنہ گولی ماردی جائے گی “۔مائیکرو فون والے نے جیسے ہی یہ جملے ادا کیے، رائفل بردار نے اپنی رائفل کا رخ فاروق کی طرف کردیااو ررائفل کے ٹریگر پر اپنی انگلی مضبوطی سے جما دی۔

 

ان کا جارحانہ رویہ دیکھ کر فاروق فوراً سراسیمگی سے چھت کی دیوار کے نیچے بیٹھ گیا اور بیٹھے بیٹھے اپنے پیروں پر حرکت کرتا ہوا دیوار سے پرے ہٹنے لگا اور دھیرے دھیرے آگے بڑھتا جا کرزینے کی سیڑھیوں پر بیٹھ گیااور کان لگا کر مائیکرو فون سے سنائی دینے والی آواز اور ٹرک کی گھڑ گھڑاہٹ سنتا رہا، جو اب دھیرے دھیرے دور جاتی ہوئی لگ رہی تھی۔ٹرک کی گھڑگھڑاہٹ تو کچھ ہی دیر میں معدوم ہوگئی جب کہ مائیکرو فون سے سنائی دینے والی درشت آواز کچھ وقت تک سنائی دیتی رہی۔جب وہ بھی سنائی دینا بند ہوگئی تو فاروق سیڑھیوں سے اٹھا اور دھیرے دھیرے چلتا ہوا دیوار کے پاس گیا اور جھانک کر گلی میں دیکھنے لگا۔ٹرک وہاں سے جا چکا تھا مگر اس کا دکھائی نہ دینے والا ہیولا وہیں گلی میں کھڑا تھر تھرا رہا تھااورمائیکرو فون سے نکلتی سخت اور کٹھور آواز اب مکانوں کے درودیوار سے اپنا سر ٹکرا رہی تھی۔اگلے چند لمحوں میں بعض گھروں کی کچھ کھڑکیاں کھلیں اور ان میں سے متجسس اور سراسیمہ آنکھیں جھانک جھانک کر باہر کی ٹوہ لینے لگیں۔کچھ دیر پہلے ان بند کھڑکیوں کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا، جیسے یہ برسوں سے کھلی ہی نہ ہوں۔یہ سارا منظر دیکھ کر فاروق دل برداشتہ سا ہو کر دیوار سے پیچھے ہٹ گیا اور آہستہ آہستہ چلتا زینے کی طرف بڑھنے لگا۔سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کے کم سن دماغ پر عجب طرح کے اور بھانت بھانت کے خیالات نے یورش کردی۔وہ ان کے بارے میں غوروفکر کرنے کے لیے تو تیا رتھا مگر خیالوں کی اس گتھی کو سلجھانا قطعی طور پر اس کے بس سے باہر تھا۔

 

وہ کمرے میں پہنچ کر اپنے پلنگ پر لیٹ گیا اور کروٹ لے کر اپنے چہرے کو تکیے میں دبا دیا۔قریب ہی ایک اور پلنگ پر اس کے دونوں چھوٹے بھائی آڑے ترچھے گہری نیند سو رہے تھے۔ان کے والدین نے انہیں دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولے کی عادت ڈال دی تھی۔ آج فاروق کے لیے دن کے اس پہرقیلولہ کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔وہ تکیے میں اپنا چہرہ دبائے دھیمے دھیمے سانس لیتا سوچ رہا تھاکہ وہ چھوٹے شہر میں رہتے ہوئے بڑے شہر کی جو عجیب و غریب کیفیت یا حالت دیکھنے کے لیے مچلا کرتا تھا، اب وہ کسی حد تک اس کے روبرو آچکی تھی، اوراتنی روبرو کہ کچھ دیر پہلے وہ چھت پر اس سے آنکھیں بھی ملا چکا تھا۔اسے اندازہ ہونے لگا تھا کہ بڑے شہر پر اچانک جس دیو کا سایہ پھر جاتا تھا، وہ دیو، ہمالہ یا ہندوکش کے دامن میں نہیں بلکہ اسی بڑے شہر کے بیچوں بیچ رہتا تھا۔ اڑن طشتری جیسی گاڑیوں پر مشتری کی مخلوق نہیں بلکہ ہمارے دیس کے محافظ سفر کرتے تھے۔خلائی مخلوق جیسے لباس میں اجنبی زبان بولنے والوں کا تعلق، کسی دوسرے سیارے سے نہیں بلکہ اسی ملک کے بالائی علاقوں سے تھا۔فاروق کو یہ احساس شدت سے مایوس کر رہا تھا کہ اس نے اپنی دیوارِ خیال پر جو تصویریں بنائی ہوئی تھیں، بڑے شہر کی حقیقت کے سامنے وہ سراسر بودی اور مضحکہ خیز نکلیں، اور صرف یہی نہیں بلکہ اس حقیقت نے اس کے دل و دماغ پر خوف اور دہشت کا دبیز غلاف چڑھانے بھی کوشش کی تھی۔ وہ خوف اور دہشت کے اس غلاف کو نوچ کر پھینکنا چاہتا تھا، کیوں کہ اسے دل پر دھاک بٹھانے والے یہ دونوں جذبے پسند نہیں تھے۔چند روز بیشتر بازار میں اور آج دوپہر چھت پر پیش آنے والے واقعے نے اس کے ذہن میں بسی ہوئی فینتاسی کو چکنا چور کردیا تھا۔اس کی فینتاسی کی کرچیاں اس کے خیال و احساس کی دنیا کو لہو لہان کر رہی تھیں کیوں کہ حقیقت بہت ثقیل اور سنگ لاخ تھی۔اسے اس حقیقت کے آگے اپنا سر نگوں کردینا چاہیے تھا، اسے تسلیم کرلینا چاہیے تھا، مگر یہ کیا؟۔ فاروق نے لمبی سانس لیتے ہوئے کروٹ بدلی اور سوچنے لگا۔ مگر یہ کیا؟ اس کے مزاج کی خود سری اسے اس حقیقت کے سامنے سر جھکانے سے روک رہی تھی۔اسے کسی آشفتہ سری پر اکسا رہی تھی۔مگر وہ آشفتہ سری آخر تھی کیا؟ اور اس کے لیے اسے کیا کرنا تھا۔ وہ سوچتا ہی رہ گیا اور اسے اپنے ذہن پر چھائی دھند اور گردوغبار میں سے کوئی راستہ سجھائی نہیں دے سکا۔

 

فاروق کے گھر والوں نے اگلے دوروز شدید بیزاری اور کوفت کے ساتھ گزارے،کیوں کہ گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد تھی۔ان سب کے لیے ایسی پابندی سے گزرنے کا یہ پہلا تجربہ تھااور یہ ان پر زبردستی مسلط کیا گیاتھا۔اس لیے اس چھوٹے سے کنبے نے بے زاری اور کوفت سے بھرے ہوئے یہ گزارنے کے لیے راشن بھی جمع نہیں کیا تھا۔

 

عام دنوں میں اس کے والد سارا دن اپنے دفتر میں گزارنے کے عادی تھے، مگر اب سارا دن گھر پر گزارتے ہوئے انہیں وقت رکا رکا سا محسوس ہونے لگا تھا۔وہ اکثر کھانے کے دوران بڑبڑاتے ہوئے کسی کانے دجال کو برا بھلا کہتے رہتے، جو ملک کے کسی وزیرِ اعظم کو پھانسی پر لٹکا کر خود اس ملک کا حاکم بن بیٹھا تھا۔ان کی یہ باتیں اکثر فاروق کی سمجھ میں نہ آتیں، مگر وہ ان باتوں میں عجیب سی دلچسپی ضرور محسوس کیا کرتا۔فاروق کی والدہ کی تشویش بڑھنے لگی کیوں کہ گھر میں چائے بنانے کے لیے اور پینے کے لیے دودھ ختم ہوچکا تھا۔ سبزی ترکاری تو دودن پہلے ہی کھپ چکی تھی۔وہ دو روز سے دالیں اورفرج میں رکھے ہوئے گوشت کی مدد سے کھانا بنا رہی تھیں، لیکن اب وہ چیزیں بھی اپنے خاتمے کے قریب پہنچ چکی تھیں۔ اسی لیے انہیں فکر لاحق ہو نے لگی تھی کہ اگر یہ کرفیو کچھ اور دن تک کسی وقفے کے بغیریوں ہی چلتا رہا تو گھر میں فاقوں کی نوبت بھی آسکتی تھی۔فاروق نے مشاہدہ کیا کہ اس کی والدہ اس کے والد سے کچھ خائف رہنے لگی تھیں۔ والدہ کے خیال میں ان کے والد کواپنا تبادلہ بڑے شہر ہونے سے رکوانے کے لیے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لانی چاہئیں تھیں۔

 

گزرنے والے یہ دودن فاروق پر بھی بہت بھاری گزرے تھے۔اسے گھر میں بند ہو کر رہنا سخت دشوار لگ رہا تھا۔اس نے کتابوں کی دوکان سے خریدے ہوئے دونوں ڈائجسٹ چاٹ ڈالے تھے۔اسے نِک ویلیٹ کی چوریوں اور چارلس سوبھراج کی شعبدہ بازیوں پر مشتمل کہانیاں پسند آئیں تھیں۔ان دو دنوں میں کہانیاں پڑھنے کے علاوہ گلی سے سنائی دینے والی آوازوں کو کان لگا کر سننابھی اس کا محبوب مشغلہ رہا تھا۔اس دوران اسے جب بھی ٹرک کی گھڑ گھڑاہٹ اور مائیکرو فون والی درشت آواز سنائی دی، وہ خود کو چھت پر جانے سے نہیں روک سکا، مگر ہر بار چھت پر جاکر اسے مایوسی ہوئی، کیوں کہ ہر بار اسے ٹرک کی گھڑ گھڑاہٹ اور مائیکروفون کی آواز گردوپیش کی گلیوں سے آتی سنائی تو دی مگر وہ ٹرک اسے پھر نظر نہیں آیا۔دوسری دوپہر جب اس کے گھر کے سب لوگ قیلولہ کرنے کے لیے بستروں پر دراز ہوئے تو فاروق کو گھر سے باہر جانے کا خیال آیا۔ وہ اپنے چھوٹے بھائیوں کو بستر پر سویا چھوڑ کر دبے پاؤں کمرے سے نکلا۔وہ جانتا تھا کہ اس کے گھر میں داخل ہونے اور نکلنے کے دو راستے تھے۔ایک تو مرکزی پھاٹک تھا جو سیدھا سامنے والی گلی میں کھلتا تھا، دوسراعقبی دروازہ تھا جو پیچھے کی گندی گلی میں کھلتا تھا۔ اسے اندیشہ تھا کہ سامنے والی گلی سے نکلتے ہوئے اسے کوئی محلے دار دیکھ سکتا تھا، اسی لیے اس نے عقبی گلی والے راستے کو ترجیح دی۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا عقبی دروازے تک پہنچا اور احتیاط کے ساتھ اس کی کنڈی کھولنے لگا۔کنڈی کھول کر اس نے گلی میں جھانکاتووہاں کوئی ذی روح موجود نہیں تھا۔فاروق کو اندازہ ہوا کہ یہ گندی گلی آگے جاکر ساری گلیوں کو ملانے والی گلی سے مل جاتی تھی۔

 

ابھی فاروق وہاں کھڑا جھانک ہی رہا تھا کہ اچانک کسی گاڑی کے گزرنے کا شور سا سنائی دیا۔ اس نے دیکھا ایک جیپ فراٹے بھرتی ساری گلیوں کو ملانے والی سے گزری۔اس جیپ کا رنگ بھی ہلکا سبز تھا، اور اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے شخص نے بھی اسی رنگ کا چست لباس پہن رکھا تھا اور سر پر ٹوپی لگا رہی تھی۔ اس کی ذرا سی جھلک میں فاروق کو بس اتنا ہی دکھائی دے سکا۔جیپ کے گزر جانے کے وہ کچھ دیر تک عقبی دروازے سے لگا ہوا سوچتا رہا کہ وہ باہر جائے کہ نہ جائے۔اس نے باہر جانے کا فیصلہ موخر کرتے ہوئے دروازہ بند کردیا اور آہستگی سے قدم اٹھاتا ہوا اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔

 

اس روز رات کے کھانے کے دوران اس کی والدہ نے اس کے والد کو آگاہ کیا کہ گھر میں موجود سامان کی مدد سے صرف ایک دن اورگزارا جاسکتا تھا۔ یہ سنتے ہی والد کی پیشانی کی لکیر گہری ہوگئی مگر انہوں نے کچھ سوچتے ہوئے اس کی والدہ کو تسلی دی کہ کل یا پرسوں تک کرفیو میں کچھ نرمی ہونے کی امید تھی۔ ہوسکتا تھا کہ ایک یا دوگھنٹوں کے لیے کرفیو میں نرمی کردی جائے۔ یہ جواب سن کر اس کی والدہ مطمئن نہ ہوئیں بلکہ کہنے لگیں، کہ اگر ایسا نہ ہوا۔۔ تو؟ ان کی اس “تو “ کا والد صاحب کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔وہ سر جھکا ئے چپ چاپ کھانے میں مصروف رہے۔ ان کے چہرے پر فاروق نے ایک ایسی کیفیت دیکھی، جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔وہ اس کیفیت کو کوئی نام نہیں دے سکتا تھا بلکہ صرف اسے محسوس کرسکتا تھا۔ اسی لیے اسے محسوس کرتے ہوئے اس کا دل کٹ کر رہ گیا۔اس کی بھوک اچانک غائب ہوگئی۔وہ بے دلی سے نوالے چبانے لگا۔اسے رہ رہ کر یہ خیال تنگ کرنے لگا کہ گھر میں صرف ایک دن کے کھانے کا سامان باقی بچا تھا، جو کل تک ختم ہوجائے گا۔ پرسوں وہ لوگ کیا کریں گے؟ انہیں بڑے شہر منتقل ہوئے چند ہی روز ہوئے تھے۔ابھی اہلِ محلہ انہیں جانتے پہچانتے نہیں تھے۔اس لیے کسی سے مدد مانگنا بھی ناممکن تھا۔اگر کسی سے مدد مانگ بھی لی جاتی تو یہ ضروری نہیں تھا کہ امداد مل بھی جاتی۔

 

کچھ دیر بعد جب اس کے والد ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے دستر خوان سے اٹھے تو اسے ان کے چہرے پر گہری پرچھائیں دکھائی دی۔ وہ سر جھکائے چلتے ہوئے لاؤنج میں گئے اور ٹی وی آن کرکے اس کے سامنے بیٹھ گئے۔ نو بجے کا خبر نامہ شروع ہونے میں کچھ ہی دیر تھی۔فاروق بھی دستر خوان سے اٹھ کر ان کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔کچھ ہی دیر میں خبر نامہ شروع ہوگیا۔دونوں باپ بیٹے تجسس سے خبریں سننے لگے۔

 

فاروق یہ آس لگائے بیٹھا تھا کہ اس خبر نامے میں، بڑے شہر کے جن علاقوں میں کرفیو لگایا تھا، وہاں سے کرفیو اٹھانے یا ختم کرنے کی خبر بھی نشر کی جائے گی۔وہ یہی آس لے کر شروع سے آخر تک سارا خبرنامہ سنتا اور دیکھ تا رہا،مگراسے ایسی کوئی خبر سنائی اور دکھائی نہیں دی۔خبریں ختم ہونے پر وہ اپنے والد سے مخاطب ہوا۔ “ ابو، ان خبروں میں تو کرفیو ہٹانے کی کوئی خبر تھی ہی نہیں “۔اس نے یہ بات کہتے ہوئے اپنے والد کی طرف دیکھا تو وہ اسے پریشانی کے عالم میں اپنی شہادت کی انگلی کا ناخن چباتے ہوئے دکھائی دیے۔اس نے اپنے والد کو اس سے پہلے کبھی انگلی کا ناخن چباتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔یہ دیکھ کر وہ اپنی کہی ہوئی بات بھول گیا۔ایک بار پھر اسے اپنے دل کے کٹنے کا احساس ہوا۔اس نے چاہا کہ وہ اسی لمحے اپنے والد کے سینے سے لگ جائے اوردھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردے۔ مگر وہ ایسا نہیں کرسکا۔ کچھ دیر بعد اس کے والد نے اٹھ کر ٹی وی بند کردیا اور اسے اپنے کمرے میں جاکر سونے کا حکم دیتے وہ اپنے کمرے کی جانب چلے گئے۔اسے بھی نہ چاہنے کے باوجود وہاں سے اٹھ کر جانا ہی پڑا۔

 

اس کے چھوٹے بھائی اپنے بستر پر اودھم مچا کر کچھ دیر پہلے سوچکے تھے۔وہ دھیرے سے چلتا اپنے تاریک کمرے میں آیا اور اپنے پلنگ کو ٹٹولتا اس پر بیٹھ گیا۔اس کی نظروں میں اپنے والد کا اداس چہرہ بسا ہوا تھا۔وہ ان کے چہرے پر معمول کا خوش باش اور آسودہ تاثر دیکھنے کا تمنائی تھا۔وہ انہیں ہمیشہ کی طرح بے فکر اور مطمئن دیکھنا چاہتا تھا۔اسے رہ رہ کر یہ احساس ستانے لگا کہ یہ سب محض تمنا کرنے یا چاہنے سے ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔یہ سب ممکن بنانے کے لیے اسے کچھ کرنے کی ضرورت تھی۔اسے کیا کرنے کی ضرورت تھی؟اس بارے میں اس کا ذہن اسے کوئی راستہ نہیں سجھا پا رہا تھا۔بیٹھے بیٹھے اس نے اپنا سر ہاتھوں میں تھام لیااور لمبی سانسیں لینے لگا۔کچھ دیر بعد اسے اپنے والدین کے کمرے سے ان کی باتوں کی دھیمی دھیمی لیکن مبہم سی آوازیں سنائی دینے لگیں۔کبھی اس کی والدہ کی شکایت بھری آواز نمایاں ہوتی اور کچھ دیر بعد معدوم ہو جاتی۔پھر اس جواب دیتی اس کے والد کی آواز ابھرتی۔ فاروق اپنے بچپن سے یہ آوازیں سننے کا عادی تھا۔وہ اکثر سوچا کرتا تھا کہ اس کے والدین گہری نیند سونے کے بجائے رات گئے تک آپس میں یہ کیا کھسر پھسر کرتے رہتے تھے۔آج اسے ان کی اس کھسر پھسر کا حقیقی مفہوم کسی حد تک سمجھ آرہا تھا۔وہ سوچنے لگا کہ وہ یقیناً اپنے کنبے کو درپیش پریشان کن صورتِ حال کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے ہوں گے۔وہ بھی اس کی طرح اس صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ تلاش کررہے ہوں گے۔۔۔ راستہ؟۔۔سوچتے سوچتے فاروق پلنگ پر دراز ہوگیا۔اس کے سر میں درد ہونے لگا تھا اور اس کے پپوٹے بھاری ہونے لگے تھے۔دفعتاً اسے گلی کی جانب سے گھڑگھڑاہٹ سنائی دینے لگی۔یہ گھڑ گھڑاہٹ اب اس کے لیے اجنبی نہیں رہی تھی۔ وہ گزشتہ پانچ چھ دنوں میں اس سے بہت مانوس ہوچکا تھا، مگر آج اسے سنتے ہی نجانے کیوں اس کے وجود کے ہر حصے میں ایک سنسنی سی دوڑنے لگی۔اسے اپنے خون کی گردش تیز ہوتی محسوس ہوئی اور اس کے ساتھ ہی اس کی سانسوں کی رفتار بھی تیز تر ہونے لگی۔چند لمحے قبل اس کے سر میں ہونے والا درد بھی غائب ہوگیااور اس کے پپوٹوں سے بوجھل پن بھی ختم ہوگیا۔اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ اسی لمحے ایک پتھر ہاتھ میں اٹھائے دوڑتا ہوا اپنی چھت پر جائے اور جس سمت سے گھڑگھڑاہٹ کی یہ آواز سنائی دے رہی تھی، وہ پوری قوت سے پتھر اسی جانب پھینک دے۔

 

لیکن وہ اپنے پلنگ پر بے حس وحرکت لیٹا رہا۔حتی کہ سنائی دینے والی گھڑ گھڑاہٹ دھیرے دھیرے معدوم ہوگئی اور پلنگ پر لیٹے لیٹے فاروق کے وجود میں پیدا ہونے والی سنسنی بھی ختم ہونے لگی۔ اسکے دل کی دھڑکن اپنے معمول پر آنے لگی اور اس کے پپوٹے ایک بار پھر نیند سے بوجھل ہونے لگے۔

 

اس کنبے کے لیے یہ صبح گزشتہ تمام صبحوں سے مختلف تھی۔اگر چہ اس صبح بھی آس پاس کے مکانوں اور گلیوں پر پچھلے چند دنوں جیسا سکوت چھایا تھا اور پچھلے چند دنوں کی طرح آج کی صبح کا آغاز بھی چڑیوں اور لالڑیوں کی اداس چہچہاہٹ سے ہوا تھا۔فاروق کی والدہ حسبِ معمول سب سے پہلے نیند سے جاگیں اور غسل خانے سے وضو کرکے باہر نکلیں۔ انہوں نے گھر کے صحن میں مُصلی بچھا کر فجر کی نماز کی ادا کی۔ نماز کے بعد انہوں نے مصلے پر بیٹھے بیٹھے اپنے رب سے دعائیں مانگیں۔امن و آشتی کی دعائیں اور کشادہ رزق عطا کرنے کی دعائیں۔ مصلی سمیٹنے کے بعد یہ دیکھ کر کہ گھر کے سب لوگ ابھی تک گہری نیند سو رہے تھے، وہ دوبارہ کچھ دیر کے لیے اپنے بستر پر دراز ہو گئیں۔ کچھ دیر بعد جب فاروق کے والد جاگے، تو وہ بھی اٹھ کر باورچی خانے چلی گئیں۔
فاروق اور اس کے بھائیوں کو بیدار ہونے پر ان کی والدہ نے انہیں جو چائے پینے کے لیے دی وہ دودھ کے بغیر تھی۔فاروق گزشتہ چند دنوں سے اس چائے کا عادی ہوتا جا رہا تھا،اس لیے اس نے بے چون و چرا سلیمانی چائے کا کپ اٹھا لیا اور سڑپے لینے لگا۔ جب کہ اس کے چھوٹے بھائیوں کو گزشتہ دنوں کی طرح آج بھی یہ چائے پینے میں تامل تھا۔ وہ دونوں اپنی ناک بھوں چڑھاتے ہوئے سلیمانی چائے پینے لگے۔منجھلے نے تو صرف دو گھونٹ لے کر ہی اپنی پیالی چھوڑدیاوراس کی پیروی کرتے ہوئے چھوٹے نے بھی یہی کیا۔ان کی اس حرکت پر ان کی والدہ کو غصہ تو بہت آیا مگر وہ چپ رہیں۔ انہوں نے باورچی خانے جاکر خشک دودھ کا ڈبا اٹھایا اور اس کی تہہ میں چپکے ہوئے خشک دودھ کو چھری سے کھرونچنے لگیں۔اس کے بعد وہ دودھ لاکر انہوں نے منجھلے اور چھوٹے بیٹے کی پیالیوں میں ڈال کر اسے چمچ سے چائے میں حل کردیا۔ چائے کا بدلتا ہوا رنگ دیکھ کر وہ دونوں خوش ہوگئے۔ان کی خوشی دیکھ کر فاروق اور اس کی والدہ مسکرانے لگیں۔ماں بیٹا جانتے تھے کہ ان کے ہونٹوں پر آئی یہ مسکراہٹ عارضی تھی۔

 

حسبِ معمول سب لوگ دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولے کے لیے اپنے کمروں میں بستروں پر دراز ہو گئے۔ فاروق اپنے چھوٹے بھائیوں کو بار بار سونے کی تنبیہ کرنے لگا، مگر وہ دونوں اس کی تنبیہ کو خاطر میں لائے بغیر ایک دوسرے سے باتوں میں مگن تھے۔منجھلا باتیں کرتے ہوئے چھوٹے کے سر پر ایک چپت لگاتا، جب کہ چھوٹا تلملاکراس کے چٹکی لے لیتا۔اتنے میں انہیں قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ وہ سمجھ گئے کہ ان کی والدہ آرہی تھیں۔فاروق سمیت تینوں آہٹ سنتے ہی اپنے بستروں پر سیدھے لیٹ گئے اور اپنی آنکھیں بھینچ کر سوتے بن گئے۔ان کی والدہ انہیں خوب سمجھتیں تھیں، اسی لیے اندر آتے ہی انہوں نے ان کے ناٹک کو سنجیدگی سے نہ لیا۔ وہ کمرے میں کھڑی ہو کر انہیں آخری وارننگ دینے لگیں اور اس کے چند لمحوں بعد وہ کمرے سے چلی گئیں۔ہمیشہ کی طرح ان کی وارننگ کا دونوں چھوٹوں پر فوری اثر ہوا۔ چند منٹ گزرتے ہی وہ سوگئے، مگر فاروق نہیں سویا۔کچھ دیر بعد اس نے آنکھیں کھول دیں اوروالدین کے کمرے سے سنائی دینے والی باتوں کے تھمنے کا انتظار کرنے لگا۔

 

فاروق گذشتہ روز سے ایک عجیب سی غلام گردشِ خیال میں بھٹک رہا تھا۔اس غلام گردش میں کمرے ہی کمرے ہی تھے، راہ داریاں ہی راہ داریاں تھیں۔ وہ بار بار ان کے درودیوار سے اپنا پٹخ رہا تھا۔ایک کمرے سے دوسرے اور ایک راہ داری سے دوسری میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا تھا۔وہ اپنے گھر والوں سمیت جس صورتِ حال کے زندان میں قید تھا، اس سے نکلنے کے راستے کا کوئی نقشہ اس کے پاس نہیں تھا۔ کیوں کہ یہ صورتِ حال باہر سے ان پر مسلط کی گئی تھی۔جن بازاروں میں انسانوں کی ضروریہ کا سامان بکتا تھا، وہ بند پڑے تھے۔ہسپتال، اسکول، دفاتر سب بند تھے۔گلیوں میں چلنے اور گھر سے نکلنے پر پابندی عائد تھی۔اور اس پابندی کو مسلط ہوئے آج تقریباً چھ دن ہو گئے تھے۔اس کی وجہ سے اس کا خاندان ایک المیے سے دوچار تھا۔اس کے والدین کے چہروں سے بے فکری اوراطمینان کا فور ہوچکا تھا۔وہ گھبرائے اور بولائے بولائے سے رہنے لگے تھے۔ان کی آنکھوں میں اداسیوں کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔فاروق ان کی اداسی ختم کرنا چاہتا تھا۔ اس کے لیے اس صورتِ احوال پر چپ سادھے رہنا ناممکن ہو چکا تھا۔

 

فاروق دیوار کی طرف کروٹ لیے کچھ دیر تک سوچتا رہا۔اس کے والدین کے کمرے سے آوازیں آنی بھی بند ہوگئی تھیں۔یہ بھانپتے ہوئے وہ بستر سے اٹھا اور اپنے سلیپر پہن کر دبے پاؤں چلتا کمرے سے باہر چلا گیا۔اس نے اپنے سلیپر برآمدے میں رکھے ہوئے جوتوں کے اسٹینڈ پر رکھ دیے اور وہاں جوگرز شوز اٹھا لیے۔زینے کی سب سے نچلی سیڑھی پر بیٹھ کر اس نے موزے پہننے کے بعد جوتے پہنے۔یہ جوتے پہن کر چلتے ہوئے بے آواز رہتے تھے۔اور انہیں پہن کر چلتے ہوئے وہ خود کو سبک رو محسوس کرتا تھا۔وہ بیآواز قدموں سے چلتا ہوا باورچی خانے گیا اور وہاں درازوں میں رکھے ہوئے برتن ٹٹولنے لگا۔کیتلی میں اسے دوسو روپے کے دو نوٹ مل گئے۔ اس نے مسکراتے ہوئے وہ نوٹ اپنی جیب میں رکھ لیے اور باورچی خانے سے نکل گیا۔عقبی گلی کی طرف کھلنے والے دروازے کی دہلیز پر کھڑا وہ کچھ تک باہر جھانکتا رہا، پھردروازہ باہر سے بند کرکے وہ گلی کے خالی پن میں اتر گیا۔

 

تین بجے کا عمل تھا۔عام حالات میں بھی اس وقت ان گلیوں پر سناٹا طاری ہوتا تھا مگر اب سناٹے کے ساتھ خوف کی ایک پرچھائیں بھی موجود تھی، جو فاروق کے دل و دماغ پر تھرتھرا رہی تھی۔ وہ اُس پرچھائیں کی تھرتھراہٹ کو نظرانداز کرتا عقبی گلی میں قدم آگے بڑھانے لگا۔ جس مقام پر یہ عقبی راستہ ساری گلیوں کو ملادینے والی گلی سے جا ملتا تھا، وہاں پہنچ کر وہ ٹھہر گیااور دیوار کی اوٹ سے آگے کا منظر دیکھنے لگا۔یہ وہی جگہ تھی، جہاں سے گھڑ گھڑاتا ہوا ٹرک گزرتا تھا، مگر اس وقت یہ گلی مکمل طور پر خالی تھی۔ صرف ایک خارش زدہ کتا اپنا پاؤں اٹھائے ایک مکان کی دیوار سے لگا پیشاب کر رہا تھا۔وہ اس کتے کو نظر انداز کرتا آگے بڑھا۔

 

آگے بڑھ کر جب وہ اس مقام تک پہنچا، جہاں سے بازار کی طرف راستہ جاتا تھااوراُس روز جہاں اسے،دور سے ہی بازار کی رونق دکھائی دے گئی تھی،اُسے لگاآج وہاں واقعی کسی دیو کا سایہ پھر گیا تھا۔وہ اس راستے کے بیچوں بیچ کھڑا ہو کر کسی مخبوط شخص کی طرح بازار کی جانب دیکھنے لگا۔ نہ تو گاڑیوں کی ورک شاپ کھلی تھی اور نہ ہی فرنیچر کی ورک شاپ۔ان سے تھوڑی دور واقع ویڈیو سینٹرز بھی بند پڑے تھے۔اس سے آگے کا منظر بھی پوری طرح ویران تھا۔ایسی ویرانی اور ایسے سکوت کا مشاہدہ اس نے زندگی میں کبھی نہیں کیا تھا۔اس نے معاً دائیں جانب گلی میں ایک دوسرے سے لگ کر کھڑے ہوئے مکانات کی طرف ایک حیرانی سے دیکھااورسوچنے لگا۔ “ ہر مکان میں جیتے جاگتے لوگ رہتے ہیں مگر اِس پہر ان پر چھائی خاموشی محسوس کر کے کون کہہ سکتا ہے کہ ان میں زندہ لوگ بستے ہیں۔ “ اسے لگا کہ یہ سارے مکان کسی آسیب کے زیرِ اثر ہیں اور ان کے باسی کب کے انہیں چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

 

وہ اپنے خیالوں میں گم تھا کہ اسے بازار کی سمت سے “ زنن “کی عجیب سی آواز سنائی دی۔اس نے فوراً سامنے دیکھا تو بازار کی سڑک سے کوئی چیز زناٹے سے گزری۔اس کے تخئیل نے اسے سجھایا کہ وہ اڑن طشتری جیسی کوئی چیز تھی، مگر اسی لمحے اس کے تجربے نے اسے بتایا کہ وہ کوئی جیپ یا گاڑی تھی۔اس نے اپنے تخئیل کی شرارت کو رد کرکے اپنے تجربے کی بات مان لی۔اس دوران فاروق یہ اہم ترین چیز فراموش کیے رہا کہ وہ ایک نسبتاً کشادہ راستے کے بیچوں بیچ کھڑا تھا۔یہ اسے تب یاد آیا جب دوسری مرتبہ “زنن “ کی آواز سنائی دینے کے اگلے ہی ثانیے ہلکے ہرے رنگ کی جیپ بازار والی سڑک پر نمودار ہوئی اور بالکل اچانک اس نے اپنا رخ فاروق کی جانب کرلیا۔اب جس راستے پر وہ کھڑا تھا،اس کے ایک سرے پر جیپ تھی اور دوسرے سرے پر وہ موجود تھا۔تُرنت اس کے تن بدن میں ایک بجلی سی بھر گئی مگر اس بجلی نے اس کے ہوش و حواس یکسر غائب کردیے۔وہ دائیں گلی میں بھاگنے کے بجائے پیچھے کی طرف بھاگا۔ جیپ کے قریب آنے کے ساتھ اس کے پہیوں اور انجن کی آواز بھی اس کے نزدیک تر آنے لگی۔وہ راستہ اسے ایک نئی گلی میں لے گیا۔ اُ س گلی میں بھی اس نے سمت کے انتخاب میں سنگین غلطی کردی۔اب وہ ایک ایسی سمت دوڑ نے لگا،جس کے دوسرے سِرے کے بارے میں اسے کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔

 

کچھ آگے جا کر اس نے دوڑتے ہوئے گردن موڑ کر ذرا ساپلٹ کر دیکھاتو اسے وہ جیپ اپنی سمت آتی دکھائی دی۔وہ حواس باختہ ہوکر بھاگنے لگا۔ وہ بُری طرح ہانپ رہا تھا۔ اسے اپنے دل کی دھڑکن کانوں میں گونجتی، شور مچاتی محسوس ہورہی تھی۔ اس کا جسم سر تا پا پسینے سے بھیگ گیا تھااور اس کی قمیض اس کے بدن سے چپک گئی تھی، جس کی وجہ اسے گھٹن محسوس ہونے لگی تھی۔اِس سمت کے جس سِرے کی جانب وہ دوڑ رہا تھا وہ سرا اسے تھوڑے فاصلے پر واقع ایک سڑک تک لے گیا۔یہ سڑک اس وقت سنسان تھی۔وہ سڑک کے جس کنارے پر موجود تھا،وہاں ایک بڑی سی مسجد بنی ہوئی تھی۔دن کے اس پہر مسجد کے گیٹ پر بڑا سا تالا لگا ہوا تھا۔سڑک کے اُس پار اسے محکمہ ریل کے ملازمین کے لیے بنایا گیا پیلے رنگ کا ایک پرانا سا کواٹر دکھائی دیا۔اُس کواٹر کے ساتھ ایک چھوٹی سی پھلواری تھی اور اس پھلواری کے ساتھ اسے چھوٹے چھوٹے زردو سفید پتھروں سے اٹا اورمعمولی سی اونچائی کی طرف جاتا ایک راستہ دکھائی دیا۔وہ سوچے سمجھے بغیر سڑک عبور کرکے اس راستے کی طرف بھاگا۔ایک دو پتھروں سے اس کے پاؤں کو ٹھوکر لگی مگر وہ اس ٹھوکر کو خاطر میں نہیں لایااور دوڑتا چلا گیا۔
معمولی سی چڑھائی چڑھنے کے بعداسے اپنے عقب میں جیپ کے رکنے کی آواز سنائی دی۔ جیپ میں سے کوئی شخص اس پر چلایا۔ “ اوئے رک جا، نہیں تو۔۔ “۔ یہ آواز سن کر اس کا دل دہل گیا، مگر اس نے اپنے آپ کو پلٹ کر دیکھنے سے روکا اور اپنا قدم پوری قوت سے آگے بڑھایا۔نجانے کیوں اسے لگ رہا تھا کہ اگر اس نے اس لمحے مڑ کر دیکھا تو وہ اسی دم پتھر کا بت جائے گا۔

 

اس کی توقع کے یکسر بر خلاف اب اس کے سامنے ایک کشادہ منظر تھا۔اس کشاد ہ منظر میں ریلوے کی تین لائنیں، پلیٹ فارم، ریلوے لائن کا کانٹا تبدیل کرنے والاساؤتھ کیبن تو شامل تھا ہی، اس کے علاوہ ایک دو رویہ کشادہ شاہراہ بھی تھی، جو اس چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن کے عقب سے گزر رہی تھی۔ اسے شاہرا ہ پر گاڑیاں رواں دواں دیکھ کر سخت حیرانی ہوئی۔وہ برق رفتاری سے چھلانگیں لگا تا، پٹڑیاں عبور کرتاسامنے والے پلیٹ فارم تک پہنچااور اسی رفتار سے دوڑتا ہوا ساؤتھ کیبن کے عقب سے نکل کر شاہراہ پر آگیا۔

 

اس نے شاہراہ کے کنارے ریلوے اسٹیشن کی مختصر دیوار کے ساتھ نیم اور سفیدے کے بلند قامت درختوں کا گھنا سایہ دیکھا تو اس کا دل کچھ دیر سستانے کو چاہا، مگرسستانے کے خیال کے ساتھ ایک سنگین خدشہ بھی جڑا ہوا تھا، جسے نظرانداز کرنا اس کے بس میں نہیں تھا۔وہ سوچ رہا تھا کہ کہیں وہ جیپ اڑن طشتری کی طرح چشمِ زدن میں درختوں کے گھنے سائے میں اس کے سامنے آکر کھڑی نہ ہوجائے، اور کہیں اس میں سوار شخص غیر انسانی لہجے میں چینخ کر اس سے مخاطب نہ ہوجائے۔ “اوئے رک جا، نہیں تو۔۔ “۔ اس خدشے کے پیشِ نظر اسے اپنا سستانے کا خیال ملتوی کرنا پڑااوروہ درختوں کے سائے کو نظر انداز کرتا ہواآگے بڑھنے لگا۔

 

وہ جوں جوں قدم بڑھاتا گیا، شاہراہ کے اُ س پار کھلی ہوئی دوکانیں دیکھ کر اس کی حیرت دوچند ہوتی چلی گئی۔یہ بات اس کے لیے مکمل طور پر ناقابلِ فہم تھی کہ ریلوے لائن کے اُس طرف والے علاقے کے لیے الگ قانون کیوں تھا اور ریلوے لائن کے اِس طرف واقع شاہراہ کے لیے الگ قانون کیوں تھا؟ اُس طرف بازاربندکیوں تھے؟ اور سڑکوں اور گلیوں میں سناٹا کیوں تھا؟ اور اِس طرف نہ صرف ٹریفک چل رہا تھا بلکہ دوکانیں بھی کھلی ہوئی تھیں۔یہی کچھ سوچتے ہوئے اس نے شاہراہ عبور کی اور کھلی ہوئی دوکانوں کی طرف چلا گیا۔

 

یہ دوکانیں شاہراہ کو نوے درجے پر کاٹ کر سامنے نکلتی ہوئی ایک سڑک کے کنارے واقع تھیں۔ان کے قریب ہی چائے اور کھانے کے دوہوٹل بھی تھے۔ چلتے چلتے اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کرروپوں کی موجودگی محسوس کرتے ہوئے اپنی تسلی کی۔باورچی خانے کے درازوں میں پڑے برتنوں سے چرائے ہوئے اپنی والدہ کے دوسوروپے اس کے پاس تھے۔وہ اپنی سمجھ داری کو بروئے کار لاتے ہوئے ان روپوں کی مدد سے بہت سی چیزیں خرید نا چاہتاتھا۔اس نے اپنے ذہن ہی ذہن میں روز مرہ استعمال کی اشیا کی ایک فہرست بنائی اور ایک دوکان پر جا کر کھڑا ہوگیا۔

 

اِس سہ پہریہ دوکان گاہکوں سے یکسر خالی تھی، اسی لیے دوکان دار اسٹول پر بیٹھاجماہیاں لے رہا تھا۔فاروق کو دیکھ کر وہ ڈھیلے سے انداز میں اٹھ کر کاؤنٹر تک آیا۔ فاروق اسے باری باری اشیاکے نام اور مقدار بتانے لگا اور وہ اپنے سست انداز سے وہ چیزیں نکال کر انہیں تول تول کر ایک طرف رکھنے لگا۔ان اشیا میں چاول، چینی، دالیں، گھی اور چائے کی پتی وغیرہ شامل تھیں۔جب فاروق اپنے ذہن میں مرتب کردہ فہرست کے مطابق کے اشیا خرید چکا تو اس نے دوکاندار کو بل بنانے اور اشیا کو کسی تھیلے میں بند کرنے کے لیے کہا۔

 

فاروق کے ذہن میں یہ بات دور دور تک نہ تھی کہ جب اس کے والدین اور بھائی اسے اس کے بستر پر نہ پائیں گے، تو ان پر کیا گزرے گی؟ ان کے لیے موجودہ صورتِ حال میں اسے تلاش کرنے کے لیے گھر سے نکلنا بھی ناممکن ہوگا۔ اس نے یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ جب اس کی والدہ کو باورچی خانے کے درازوں میں پڑے برتنوں سے دو سو روپے غائب ملیں گے تو ان کی کیاحالت ہوگی؟ انہیں اس کی چوری پر لازماً غصہ آئے گا۔ان سب باتوں کے برخلاف اس وقت وہ صرف یہ سوچ رہا تھاکہ جب وہ اشیائے صرف کا تھیلا اٹھائے ہوئے گھر پہنچے گا تو وہ لوگ اس کے ہاتھوں میں روزمرہ ضروریات کا سامان دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سمائیں گے۔ اس کے بھائی فوراً گلے لگ جائیں گے جب کہ اس کے والدین اس کے اس کارنامے پر اس کی پیٹھ تھپکیں گے۔

 

وہ مطمئن تھا کہ دو سو روپے میں اس کا مطلوبہ سامان آگیا تھا۔ اس نے روپے دوکان دار کے حوالے کرکے سامان کا تھیلا اٹھایا۔ابھی وہ تھیلا اٹھا کر پلٹا ہی تھا کہ ایک ہلکے ہرے رنگ کی جیپ سڑک پراس سے ذرا فاصلے پر آ کر رک گئی۔ جیپ دیکھتے ہی اس کی سٹی گم ہو گئی۔ جیپ کا اگلا دروازہ کھلا اور ڈرائیونگ سیٹ سے ایک فوجی اتر کر اس کی جانب بڑھا۔ فاروق تھیلا اٹھائے حیرت سے بت بنا اس فوجی کی طرف دیکھتا رہا۔فوجی کے چہرے سے انسانی جذبہ یکسر غائب تھا۔ فاروق کو محسوس ہوا کہ وہ اسی آن اسے بازو سے پکڑ کر جیپ کی طرف کھینچتا ہوا لے جائے گا۔مگر۔۔ مگریہ کیا ہوا؟ وہ اس کے پاس سے لاتعلقی سے گزرتا آگے بڑھ گیا۔فاروق نے طویل سانس لی اور اس کی جان میں جان آئی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو اسے وہ فوجی دوکان سے کوئی چیز خریدتا ہوا دکھائی دیا۔اس کے ہونٹوں پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ آکر غائب ہوگئی۔وہ شاہ راہ کی جانب چل دیا۔

 

وہ شاہ راہ عبور کرکے ریلوے اسٹیشن کی مختصر دیوار کے پاس لگے نیم اور سفیدے کے درختوں کے پاس پہنچا تواسے وہ بات یادآ ئی، جسے وہ بہت دیر سے بھولا ہوا تھااور وہ یہ کہ اسے گھر پہنچنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ یعنی کیا وہ راستہ جس پر دوڑتے ہوئے وہ خود بخود اس طرف آنکلا تھا، یا پھر کوئی اور نیا راستہ۔وہ کچھ دیر تک درختوں کے نیچے کھڑا اسی مخمصے میں گرفتار رہا۔اس دوران وہ اپنے گردوپیش کے ماحول سے چند لمحوں کے لیے یکسر غافل ہوگیا۔اسے یاد آیا کہ جس راستے سے وہ اتفاقاً اس طرف آنکلا تھا، اس کے سوااور کسی راستے کے بارے میں اسے علم ہی نہیں تھا۔اس لیے اگر اس نے کسی دوسرے راستے سے گھر جانے کی کوشش کی تو بھٹکنے کا شدید احتمال تھا۔ اس لیے اس نے اپنے آپ کو نیا راستہ استعمال کر کے نیاخطرہ مول لینے سے روک دیااور اسی راہ کی طرف چل دیا، جدھر سے وہ اس جانب آیا تھا۔

 

دوپہر کی جھلساتی ہوئی تیز دھوپ میں وہ تھیلا اٹھائے کچھ دیر تک پلیٹ فارم پر ٹہل کر ریلوے لائن کے اس طرف گزرنے والی سڑک کا جائز لینے کی کوشش کرتا رہا۔پسینہ جو بہت دیرسے اس کے بدن کے تمام مساموں سے جاری تھا،تھمنے میں ہی نہ آتا تھا۔اس لیے اس کے کپڑوں کے ساتھ ساتھ اس کے جوگر شوز بھی پسینے سے بھیگ گئے تھے مگر وہ اس کے باوجود پلیٹ فارم کے ایک کونے سے دوسرے تک ٹہلتا چلا گیا مگر پرلی طرف بنے ہوئے کواٹروں اور ان کی پھلواریوں کے گرد اُگے ہوئے درختوں کے سبب کسی بھی مقام سے وہ سڑک اسے دکھائی نہیں دے سکی۔اس کوشش میں ناکامی کے بعد اس نے مجبوراً آگے بڑھنے کا فیصلہ کیااور وہ ساؤتھ کیبن کے قریب، پلیٹ فارم سے نیچے اتر گیا اورریلوے لائن عبور کرنے لگا۔ آگے بڑھ کر وہ ریلوے کواٹر کی پھلواری کے نزدیک پہنچ کر ٹھہر گیا۔ یہاں سے اسے وہ سڑک اور اس کے پار کا کچھ منظر بھی دکھائی دینے لگا۔ گرچہ وہ یہاں سے پوری سڑک دیکھنے سے قاصر تھا، مگر اسے یہاں سے جتنی سڑک دکھائی دے رہی تھی،وہ خالی تھی اور اس کے پار کا منظر بھی ویران تھا۔اسے سڑک کے خالی پن اور ویرانی سے کچھ ڈر سا لگا، مگر وہ اپنے ڈر کو نظر انداز کرتا دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا پھلواری کے قریب سے گزرکر سڑک پر آگیا۔دن بھر تیز دھوپ کی تپش سہنے والی یہ سڑک اس وقت تیز حدت کی لہریں اچھال رہی تھی۔سرسری انداز سے دائیں اور بائیں دیکھنے کے بعد اس نے سڑک پار کرنے کے لیے اپنا پاؤں اس پر دھرا ہی تھا کہ اچانک ایک سیٹی کی آواز اس کی سماعت میں داخل ہوئی۔ اس نے گھبرا کر پہلے بائیں طرف دیکھا اور پھر دائیں طرف۔کچھ غور کرنے پر اسے دائیں جانب ایک پیڑ کے نیچے ہلکے ہرے رنگ کے یونیفارم میں ملبوس ایک فوجی کھڑادکھائی دیا۔ اسے دیکھتے ہی فاروق ساکت ہوگیا، جیسے کسی نے اسے پتھر کا بنادیا ہو، کیوں کہ وہ اس سے زیادہ دور نہیں تھا۔

 

اس فوجی نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اپنی طرف بلایا۔فاروق فوری طور پر اس کے حاکمانہ اشارے کی تعمیل نہیں کرسکا۔ وہ تھیلا ہاتھ میں تھامے لاچاری سے اس کی طرف دیکھتا رہا،کیوں کہ اس کے لیے اب فرار ہونا بالکل ناممکن تھا۔ایسی کوئی بھی کوشش یقینی طور پر اس کے لیے خطرناک ہوسکتی تھی۔اس کے ٹس سے مس نہ ہونے پرفوجی کی تیوری چڑھ گئی اور وہ رعب دار لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔ “کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو؟ ادھر آؤ۔ “

 

فاروق سر جھکائے دھیرے دھیرے چلتا اس کے قریب جانے لگامگر کچھ فاصلے پر ہی فوجی نے اسے رکنے کا اشارہ کیا۔ “وہیں رک جاؤ “۔ اس بار فاروق نے فوراً اس کے حکم کی تعمیل کردی اور وہ اس سے چند قدم دور ہی ٹھہر گیا۔ “کہاں سے آرہے ہو؟ “فوجی کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھیلا اٹھا کر اسے دکھادیا۔اس کا یہ انداز فوجی کو ناگوار گزرا۔ “ میں نے جو پوچھا ہے، اس کا جواب زبان سے دو “۔

 

فاروق اپنا حوصلہ مجمتمع کرکے بہ دقت گویا ہوا۔ “ میں۔۔وہ۔۔ گھر کا سامان۔۔ لینے گیا تھا “۔ اتنی سی بات کہتے ہوئے اس کی سانسیں پھول گئیں۔وہ اندر سے بری طرح سہما ہوا تھا۔کوئی خوف اس کے دل پر زوردار چابک رسید کررہا تھا اور اس کی دھڑکن کسی منہ زور گھوڑے کی طرح بگٹٹ دوڑی جارہی تھی۔اس کے ذہن میں آندھیاں بگولے اڑاتی پھررہی تھیں۔ایسے میں یکسو ہو کر کسی بات کا جواب دینا اس کے لیے مشکل ہورہا تھا۔

 

“گھر کا سامان؟۔۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اس علاقے میں سخت کرفیو لگا ہوا ہے۔ “

 

فوجی کی بات کا جواب دینے کے بجائے اس نے اثبات میں اپنا سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا۔

 

“ یہ جانتے ہوئے بھی تم اپنے گھر سے باہر کیوں نکلے؟ بتاؤ؟ “ فوجی کے لہجے میں تندی کا عنصر بڑھتا جارہا تھا۔فاروق کے پاس اس کے سوال کا خاموشی کے سوا کوئی جواب نہیں تھا۔اس کی خاموشی کو فوجی نے اس کی ہٹ دھرمی پر محمول کیا۔اس نے اسے غصیلی نظر وں سے سر تاپادیکھااور اس کے لبوں سے ہلکی سی ہونہہ نکلی۔وہ کچھ کہنا چاہتا تھا کہ اسی اثنا میں آگے کہیں سے ایک زور دار سیٹی کی آواز سنائی دی۔فوجی نے سرعت سے گردن موڑ کر اس جانب دیکھا، جہاں سے سیٹی کی آواز گونجی تھی۔فاروق نے بھی جب اس سمت دیکھا تو اس کی پریشانی دوچند ہوگئی۔

 

اسی سڑک پر آگے جاکر پڑنے والے ایک چوک پراسے تین فوجی کھڑے دکھائی دیے۔ان میں سے ایک نے اپنا ہاتھ ہلا کر کوئی اشارہ کیا۔ فاروق وہ اشارہ نہیں سمجھ سکا مگر اس کے قریب کھڑا فوجی فوراً اس اشارے کا مطلب سمجھ گیا۔ وہ اس سے مخاطب ہوا۔ “ فٹافٹ دوڑ کر ان کے پاس چلے جاؤ۔ تمہارا فیصلہ ہمارے صوبیدار جی کریں گے۔ “

 

فاروق اس کی بات سننے کے باوجود نہ سمجھاتوفوجی دوبارہ بولا۔ “ فورا دوڑ لگا کر ان کے پاس جاؤ۔ “یہ کہتے ہوئے اس نے اسے ہلکا سا دھکا بھی دیا۔
اس مقام سے چوک تک کا فاصلہ طے کرنے کے لیے فاروق کو دوڑ لگانی پڑی۔گرچہ ہاتھ میں تھامے سامان سے بھرے ہوئے تھیلے کی وجہ سے اسے تیز دوڑنے میں مشکل پیش آرہی تھی۔اس کا گرمی کی تمازت سے سرخ ہوتا چہرہ پسینے میں شرابور تھا،پھر بھی وہ جیسے تیسے بھاگتاہوا چوک میں کھڑے فوجیوں تک پہنچ ہی گیا۔

 

یہ چوک کشادہ سی جگہ پر بنا ہوا تھا۔جس سڑک سے فاروق آیا تھا، وہ چوک سے گزر کر ریلوے لائن کے ساتھ سیدھی آگے کی طرف چلی گئی تھی۔ریلوے لائن کی طرف پٹڑیوں سے پیدل گزرنے والوں کے لیے پختہ راستے کے ساتھ لوہے کا ایک دیو قامت پل بنا ہوا تھا۔اس پل کے عین مخالف یعنی چوک کے بیچوں بیچ، جہاں وہ اس وقت تین فوجیوں اور دو عام شہریوں کے ساتھ موجود تھا، د ومتوازی لیکن مختلف راستے الگ الگ سمتوں کی طرف جا رہے تھے۔

 

اس کا سامنا جس فوجی سے ہوا وہ اپنے ڈیل ڈول اور قامت کی وجہ سے اور اپنے سرخ ٹماٹر جیسے چہرے پر واقع بڑے بڑے گُل مچھوں کی وجہ سے، اسے صوبیدار محسوس ہوا، کیوں کہ اس نے اپنی عقابی آنکھ سے فاروق کا سرتاپا جائزہ لیا تھا۔فاروق اس کے سامنے کھڑا ہوکر کچھ دیر تک ہانپتا رہا۔

 

“ سیدھے کھڑے ہوجاؤ۔اٹین شن۔ “فاروق کو محسوس ہوا کہ اس شخص کی آوازاسے سنائی نہیں دی بلکہ برقِ سیاہ فلک بن کر اس پر ٹوٹی ہے۔ اس کا پورا بدن حتی کہ وہ بازو بھی، جس کے ہاتھ سے اس نے کئی کلو سامان کا تھیلا اٹھا رکھا تھا، لاشعوری طور پر خودبخود اٹین شن ہوگئے۔

 

صوبیدار نے اس سے کچھ فاصلے پر رہ کر ایک تیز نظر اس کے تھیلے پر ڈالی۔ “ اس میں کیا ہے؟ “۔اس بار اس کی آواز کسی زمینی تازیانے کی طرح فاروق کی سماعت میں داخل ہوئی۔

 

اس نے منمنائی سی آواز میں جواب دیا۔ “گھر۔۔ کاسامان۔ “

 

“سامان؟۔گھر کا؟۔۔ کرفیو میں سامان لینے گیا؟ “

 

اس بار فاروق نے جواب دینے کے بجائے اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا۔اس سے قبل کہ صوبیداراپنی آواز کا ایک اورسنگین پتھراسے دے مارتا،کہ سامنے والے ایک رستے سے ہلکے ہرے رنگ کی ایک جیپ سبک رفتاری سے چلتی، چوک میں ان کے قریب ہی آکر رک گئی۔جیپ کے رکتے ہی تمام فوجیوں نے فوراًشہریوں سے اپنی توجہ ہٹا کر،اسی دم الرٹ کھڑے ہوکرجیپ کی اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے افسر کو سیلوٹ مارا۔ افسر نے جیپ میں بیٹھے بیٹھے اپنی زیرک نظروں سے شہریوں کو غور سے دیکھا، پھر اس کی نگاہ فاروق پر دوتین ثانیے ٹھہر کر، صوبیدار کی طرف مڑ گئی۔اس کی گردن کے ہلکے سے خم ہونے کا اشارہ پاتے ہی صوبیدار الرٹ حالت میں چلتا ہواجیپ تک پہنچ گیا۔ صوبیدار اور افسرکو آپس میں خفیف لہجے میں باتیں کرتے دیکھ کر فاروق کو کچھ تشویش سی ہوئی۔اسے لگا کہ یہ وہی لوگ نہ ہوں، جوآتے ہوئے اس کے تعاقب میں لگے تھے۔ان کی حفیف سازباز تین چار لمحے جاری رہی۔اس کے بعد صوبیدار تُرنت اپنی جگہ پر واپس آگیا اور جیپ بھی سبک روی سے اس سمت آگے بڑھ گئی، جس سمت سے فاروق کو پکڑا گیاتھا۔

 

یہ کاروائی آناً فاناً ہوئی اور اس کے فوراً بعد صوبیداراور دوسرے دو فوجی شہریوں کے ساتھ اپنے معاملات میں مشغول ہوگئے۔ صوبیدار ایک بارپھر فاروق پر اپنا صدائی کوڑا برسانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔بارہ برس کا فاروق اب اپنے حواس پر کچھ کچھ قابو پا چکا تھامگرآسمان سے برستی ہوئی دھوپ اورکولتار کی سڑک پر اس دھوپ سے پیدا ہونے والی حدت نے اسے تھوڑا تھوڑا سا بولادیا تھا۔ وہ سامان سے بھرا چند کلو وزنی تھیلا کبھی دائیں ہاتھ میں پکڑتا کبھی بائیں ہاتھ میں۔اب یہ وزن اس کے لیے سوہانِ وجود بن چکا تھا، وہ نہ تو اس سے چھُٹکارہ پا سکتا تھا اور اب نہ ہی اسے پھینک سکتا تھا۔

 

“ بالکے! اپنا تھیلا ایک طرف رکھ کر مرغے بن جاؤ۔ تم نے قانون کی سنگین خلاف ورزی کی ہے “۔صوبیدار نے دو ٹوک انداز میں اپنا صدائی کوڑا اس پر برسایا۔فاروق اس کا یہ حکم فوراً سمجھ گیا، کیوں کہ اپنے پرائمری اسکول کے ابتدائی برسوں میں وہ اپنے استادوں کی جانب سے کئی بار ایسے ہی احکامات کی بے چون وچرا تعمیل کرچکا تھا۔اس نے چوک میں کھڑے کھڑے دیکھ لیا تھا کہ دوسرے فوجیوں نے دیگر دو شہریوں، جن میں سے ایک اپنے سفید بالوں کی وجہ سے عمر رسیدہ لگ رہا تھا جب کہ دوسرا اپنے چھریرے بدن کی وجہ سے درمیانی عمرکا معلوم ہوتا تھا،ان کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا گیا تھااور وہ دونوں اس سے ذرا فاصلے پر ٹانگوں کے بل جھکے ہوئے اور اپنے کانوں کو ہاتھوں سے پکڑے ہوئے، مرغے بنے ہوئے تھے۔ان کی یہ درگت دیکھ کر فاروق زیرِ لب مسکرائے بنا نہیں رہ سکا کیوں کہ دونوں کی کمر یں زیادہ اوپر کو اٹھی ہوئی تھیں۔

 

“تم نے سنا نہیں۔ مر غے بن جاؤ مرغے۔ “ اس بار صدائی کوڑے کی آواز کی غضب ناکی کچھ سوا ہی تھی۔اس لیے فاروق نے فوراً اپنا تھیلا ایک طرف رکھ کر،پھر اپنی ٹانگیں کھول کر مرغے کا آسن جمانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔اسے اپنی پوزیشن ایڈجسٹ کرنے میں دو تین لمحے لگے مگر اس کے بعد اسے یقین ہو گیا کہ وہ ان دونوں سے بہتر انداز میں کرفیو میں گھر سے باہر نکلنے کی سزا کاٹ رہا تھا۔

 

مرغے کے آسن میں فاروق کا دائرہِ چشم بہت محدود ہوگیا تھا۔کھڑے ہوکر اسے اپنے گردوپیش کا سارا منظر اپنی جزئیات سمیت دکھائی دے رہا تھامگر اب اس دشوار گزار آسن میں منظر کی جزئیات تو کجا، منظر کا ہی بہت تھوڑا سا حصہ اسے اپنی چھوٹی سی آنکھوں سے دکھائی دے رہا تھا۔اس کی آنکھیں اب صرف کولتار کی سیاہی مائل سڑک اور اس پر چلتے ہوئے فوجیوں کے بھاری بھر کم بوٹ ہی دیکھ پا رہی تھیں۔

 

جوں جوں وقت گزرتا گیا، فاروق کے پاؤں شَل ہوتے گئے۔اس کی کمر میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں اور اس کا حلق سوکھ کر کانٹا ہونے لگاکیوں کہ اس نے گھر سے نکلنے کے بعد سے اب تک پانی نہیں پیا تھا۔دھیرے دھیرے اس کے حواس گم ہونے لگے اور اس دوران فوجیوں کے بوٹ اس کے آس پاس ٹہلتے رہے۔کولتار سے اٹھتی حدت اس کے جسم کے ساتھ اس کی روح تک کو پگھلانے لگی۔اس کے بدن کے تمام مساموں سے پسینہ اتنے زوروں سے جاری تھا کہ اسے لگنے لگا کہ اس کا وجوداسی دم پانی میں تحلیل ہو کر کولتارمیں چھپے پتھروں کی حدت سے آبی بخارات بن کر فضا میں شامل ہوجائیگا۔

 

دفعتاً فاروق کو کسی گاڑی کے آنے کی آواز سنائی دی، جس کی رفتار چوک میں پہنچ کر کچھ کم ہوگئی اور اس کے بعد وہ کسی دوسری سمت کو نکل گئی۔یہ وہی جیپ تھی، جو علاقے میں مسلسل پیٹرولنگ کر رہی تھی۔جیپ کے جانے کے بعداسے حکم دیتی ایک مختلف قسم کی آواز سنائی دی، جو دوسرے دو فوجیوں میں سے کسی کی تھی۔

 

“تم دو کھڑے ہو جاؤ۔تمہارے لیے اتنی سزا ہی کافی ہے۔اب تم جس طرف آئے تھے، اسی طرف واپس چلے جاؤ۔جب کرفیو ختم ہوجائے تب آنا۔سمجھے! “

 

ان کی آوازکے بجائے فاروق کوان کے تیزی سے دور جاتے ہوئے قدموں کی آواز سنائی دی۔وہ اب اِس چوک میں ان تین فوجیوں کے ساتھ اکیلا رہ گیا تھا۔اس کا حلق پیاس کے مارے چٹخی ہوئی زمین کی طرح تڑخ گیا تھا۔ مرغے کے آسن میں کھڑے کھڑے اسے نجانے کتنے لمحوں کی صدیاں بیت گئی تھیں۔اس کے بدن کا ریشہ ریشہ اس آزار کی گراں باری سے تڑپ رہا تھابلکہ سلگ رہا تھا۔اس کا وجوداس اذیت اور ہزیمت کی وجہ سے عدم کا نشان بن چکا تھا۔

 

“ اب اسے بھی چھوڑ دیتے ہیں صوبیدار جی۔ “

 

“ ہاں چھوڑ دو، مگر اسے بھیجو گے کس طرف؟ “پہلی بار صوبے دار کی آواز اسے انسانی خصوصیات کی حامل محسوس ہوئی۔

 

“ مجھے یہ یہیں کا لگتا ہے۔ اپنے گھر چلا جائے گا۔ “

 

“ اچھا چھوڑ دے۔ “ یہ کہہ کر صوبے دار اس کے قریب سے گزر کر ایک جانب چلا گیا۔

 

“ چل اٹھ بالکے، اور یہاں سے تیز دوڑ لگا کر غائب ہوجا۔چلا اٹھ “۔ فوجی نے تحکمانہ انداز میں کہا۔

 

فاروق کیسے دوڑ سکتا تھا، اور وہ بھی اتنا تیز کہ ان عقابی نگاہیں رکھنے والوں کے سامنے سے چشم ِ زدن میں غائب ہو جاتا۔وہ تو کئی صدیوں سے بھاری، لاتعداد لمحوں سے، ایک غیر انسانی آسن میں جکڑا ہوا تھا۔اس نے اپنے ہاتھوں سے پکڑے اپنے کان فوراً چھوڑدیے، لیکن جب وہ سیدھا کھڑا ہونے لگا تو اس کی کمر نے فوری طور پر ایسا کرنے سے انکار کردیا۔درد کی بے شمار لہریں تھیں، جو اس کی ریڑھ کی ہڈی میں اذیت کا طلاطم بپا کیے ہوئے تھیں۔

 

“سنا نہیں کیا! دوڑ لگا اور غائب ہوجا “۔فوجی کی آواز میں غصہ تھا۔

 

فاروق نے جھک کر بہ دِقت سڑک پر پڑا ہوا اپنا تھیلا اٹھایا اورسامنے یعنی بند بازار کی طرف جانے والے راستے کی طرف تیزی سے چلنے کی کوشش کرنے لگا۔اس وقت اس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا باعثِ صد آزار ہورہا تھا،مگر جیسے تیسے وہ آگے بڑھنے لگا۔

 

“ دوڑ لگا، دوڑ! “ پیچھے سے فوجی چینخا۔

 

فاروق نے دوڑنے کی کوشش کی، مگر اس کی کمر اور اس کی ٹانگیں اس کا ساتھ دینے سے قاصر تھیں۔وہ بس اپنے دونوں پیروں کو تیز تیز حرکت دینے کی اپنی سی کوشش کر رہا تھا، اور اس کے دونوں پیرچل بھی رہے تھے، لیکن بہت کم رفتار سے۔اسے اِس آزار سے، جو اس نے کچھ دیر پہلے کاٹا، ملنے والی رہائی عزیز تھی۔وہ غیر انسانی آسن والی سزا دوبارہ بھگتنے کے لیے تیار نہیں تھا۔سو اس سے جتنا تیز بن پارہا تھا، وہ چل رہا تھا۔ایسے میں اسے گرمی کی حدت اورراستے کی سمت کا بھی کچھ خیال نہیں رہا تھا۔اس کے ماؤف ذہن اور شدید نفرت اور غصے سے بھرے ہوئے اس کے دل کی حالت، نقطہِ جوشِ پر کھولتے پانی جیسی ہورہی تھی۔مگر وہ جولائی کی اس سہ پہر، اس سڑک پر اپنے ٹھوس وجود کے ساتھ موجود تھا۔کاش وہ کوئی ٹھوس وجود نہ ہوتا، بلکہ مایع ہوتا۔کم از کم اس طرح وہ فوری طور پر ان خبیثوں کی نگاہ سے اوجھل تو ہوجاتا۔

 

“دوڑ۔۔ نہیں تو۔۔ “یہ تازیانہ ایک بار پھر ہوا کے دوش پر لہراتا اس کی سماعت سے ٹکرایا۔اب فاروق میں اسے سہنے کی تاب ہرگز نہ رہی تھی۔بازار کی سڑک پراسے دائیں طرف جو پہلی گلی دکھائی دی، وہ اسی میں مڑگیااور مڑنے کے بعدتکلیف سے لنگڑاتا ہوا وہ اسی گلی میں آگے ہی آگے چلتا چلا گیا۔اس نے محسوس کیا کہ اس کے بدن کا جھکاؤ بائیں طرف بڑھتا جارہا تھا، کیوں کہ اس نے سامان والا تھیلابائیں ہاتھ میں ہی پکڑا ہوا تھا۔اس نے چلتے چلتے سامان کا تھیلا دوسرے ہاتھ میں منتقل کرنا چاہا، تو اس کا بایا ہاتھ اٹھنے کے بجائے مزید جھک گیا۔ فاروق کی ٹانگیں توازن برقرار نہ رکھ سکیں اور وہ پختہ گلی کے بیچوں بیچ بائیں جانب ڈھیتا چلا گیا اور اگلے ہی لمحے اس کا وجود، دن بھر دھوپ سے جھلستی ہوئی اِس کنکریٹ گلی کی سطح پر گرا پڑا تھااور اس کے سامان کا تھیلا بھی اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر یوں نیچے گرا،کہ گرتے ہی پھٹ گیااوراس کے پھٹنے سے اس میں موجود تھیلیوں میں رکھی ہوئی چیزیں یعنی آٹا، دالیں، چاول اور چینی وغیرہ، گلی میں پڑے ہوئے فاروق کے جسم کے گرد پھیلی ہوئی تھیں۔اس کے بعد کچھ دیر کے لیے، نجانے کتنی دیر کے لیے اس کے حواس کا تعلق اپنے گردوپیش کی آزاروں بھری دنیا سے کٹ گیااور اس کا وجود کچھ وقت کے لیے ہی سہی اسے پہنچنے والی اذیت اور ہزیمت فراموش کرنے میں کامیاب ہوا، جس کی وجہ سے اس کا آئندہ کا عالم ِخیال و احساس پوری طرح تہہ و بالا ہونے والا تھا۔
Categories
فکشن

منجمد آگ

یار کیا کرو ں آج چوتھا مہینہ ہوگیاہے۔ کوئی کام ہی نہیں مل رہا۔ کب تک اپنی بہن کاصوفہ توڑتا رہوں گا۔

 

بھائی صاحب آپ یہاں امریکہ میں وزٹ ویزہ پر آئے ہوئے ہیں۔ چھ مہینے کا ٹھپہ تمہارے پاسپورٹ پر ہے۔ پھر تم بھی غیر قانونی باہر کے ہوجاؤ گے۔

 

تب فکر کرنا۔ ابھی توچھ مہینے تک تو تم امریکہ اور اپنی بہن کے مہمان ہو۔

 

نہ نہ نہ۔۔۔۔میں واپس نہیں جانے والا اور واپس جا کر کیا کروں گا۔ ایک تو چک ۸۴گ ب میں کوئی کام نہیں۔ اتنا پڑھ لکھ کے بھی کوئی کام نہیں دیتا۔ ویسے بھی میری سوچ کا دھارا وہاں کے لوگوں سے بالاتر ہے۔ ان کی سمجھ میں میری باتیں آتی ہی نہیں، جس کو ملووہ اس دنیا کی نہیں اس دنیا کی باتیں کرتاہے۔

 

مرنے کے بعد کیاہوگا۔ تمہارا حساب کتاب ہوگا۔ گناہوں کی فہرست اچھائیوں کی فہرست سے لمبی ہوئی ہو تو چنی مائی کے تندرو میں ڈال دیاجاؤں گا۔

 

جہاں وہ سارے چک ۸۴ کے گوگیرہ برانچ کی روٹیاں جلاتی ہے اور کبھی کبھی دانے بھی بھونتی ہے۔ اور میں وہ مکئی کے دانے کی طرح گرم ریت کے اوپر بیٹھا مہدی حسن کی طرح منہ بگاڑ کر گاتا ہوں گا۔

 

زندگی میں تو سبھی پیار کیاکرتے ہیں۔ میں تو مر کے بھی میری جان تجھے چاہوں گا۔

 

بھائی صاحب چھوڑ و ان باتوں کو ۔کام کا سوچو کام کا۔

 

یا ر وہی تو سوچ رہاہوں۔ سوچنے کے سوا میرے پاس اور کوئی کام بھی تو نہیں ہے۔

 

جناب والا جو شخص دنیا کو چاہتاہے اسے موت ڈھونڈتی ہے تاکہ اسے دنیا سے نکال باہر کردے اور جو آخرت چاہتاہے اسے دنیا ڈھونڈتی ہے تاکہ روزی اس تک پہنچادے۔

 

پھر وہی موت کامنتظر، مرنے کے بعد کیاہوگا۔ بھائی صاحب یہ موت اور زندگی ان لوگوں کے سوچنے کاکام ہے جن کے پاس کام ہوتاہےانہیں زندگی چھوڑنے کاڈر لگا رہتاہے اور موت سے بھاگتے ہیں، میرے پاس کام نہیں ہے۔
تو کاہے فکر ہے کڑی اے آہیں بھرنا توپی اور جی۔

 

آفاق خیالی کو پیاس لگی اور وہ ریفریجٹر سے پانی کی بوتل نکالنے کے لیے اٹھا۔ اس دفعہ وہ خیالوں میں نہیں تھا۔ آفاق واقعہ حقیقت میں ریفریجٹر سے پانی کی بوتل نکال کر گلاس دھو رہاتھا۔ اسی لمحے کلثوم باورچی خانے میں داخل ہوئی اور دیکھا بھیا کسی سے باتیں کررہے تھے۔

 

آفاق کہہ رہا تھا۔ وہی کمبخت سعید ساغر۔

 

کلثوم نےادھر ادھر دیکھ کر حیران ہوکے پوچھا یہاں تو کوئی بھی نہیں آیا۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔کیاکہہ رہاتھا وہ کمبخت۔

 

آفاق نے گلاس میں پانی بھر کے پوچھا کیا کہہ رہاتھا۔ آفاق نے گلاس میں پانی بھر کے کلثوم کو دکھاتے ہوئے بولا ہاں وہ کہہ رہاتھا۔

 

کہہ دیا ہے۔

 

یہاں نہیں ہوگا تو ستم گر، فغاں نہیں ہوگا۔ ایک ایسا طلسم جانتاہوں۔ آگ ہوگی، دھواں نہیں ہوگا۔۔

 

باجی ایک بات پوچھوں۔یہ بتاؤ میں ہوں گا اور کیا یہ جہاں نہیں ہوگا۔

 

یہ کیا تم اول فول اپنے آپ سے بولتے رہتے ہو۔ کون ہے یہ سعید ساغر۔۔

 

۔ کون۔آفاق خیا لی نےحیران ہوکے پوچھا۔ میں کسی سعید ساغر کو نہیں جانتا۔ لیکن باجی تم یہ بتا سکتی ہو کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا۔

 

ہاں جانتی ہوں۔ تیرا سر ہوگا۔ گلی کی نکڑ پر البہ پیزہ والے کے بڑے گیس کے تندور میں جل رہاہوگا اور تیرے دماغ میں جو بھوسہ بھرا ہے اس کے جلنے سے اطالوی پیزہ پک رہاہوگا اس کی خوشبوسے لوگوں کو بھوک لگ رہی ہوگی۔ اور بچوں کے آنے کا وقت ہے۔ وہ بھوکے ہوں گے اور میں نے کچھ نہیں پکایا اور تم پیزہ سٹور سے پیزا لے آؤ۔

 

آفاق گنگناتا ہوا اپنے جوتےاور جیکٹ سنبھالتے ہوئے گناتے باہر نکلا

 

اپنے معدوں سے کہہ دو کہیں اور جابسیں۔۔ آفاق ابھی سیڑھیاں اتر رہا تھا۔

 

کلثوم نے اونچی آواز میں کہا۔ تمہارے بھیا کہہ رہے تھے انہوں نے کسی سے بات کی ہے تمہارے ٹھکانے کی۔ آفاق نے اونچی آواز میں پھر گانا شروع کردیا۔ ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جابسیں۔ نہ گھر ہے، نہ ٹھکانا۔

 

تھوڑی دیر میں آفاق خیالی ایک بڑے چوکور ڈبے میں پیزا لے آیا۔ اور کلثوم سے پوچھا ہاں میرے ٹھکانے کا کیا بندوبست کیا۔ مجھے نخلستان میں رہنا ہے۔

 

مجھے نخلستان میں رہنا ہے جہاں بس پانی کا چشمہ ہو اور میری تنہائی میرے ساتھ ہو وہ میرے گلے میں بانہیں ڈال دے اور مجھ سے کہے

 

۔تنہا تھی اور ہمیشہ سے تنہا ہے زندگی۔۔

 

جناب مسٹر آفاق تنہائی جاؤابھی چلے جاؤاور حشمت کے کوئی واقف ہیں وہ بہت سارے غیر قانوں طارکین وطن کو قانونی حیثیت دلوا چکے ہیں۔ان سے مل لو۔آفاق نے پوچھا۔ کیا وہ خود قانونی ہیں۔

 

کلثوم نے جھنجلا کے جواب دیایہ تم ان ہی سے دریافت کر نا۔

 

آفاق بولا دیکھتے ہیں

 

غیر قانونی کو قانونی کر دے دیکھ کبیرا رویا۔باجی اس سے پہلے میں بھوک سے رو دوں میرے لیے پیز ے کا ایک تکونی ٹکڑا بچا کے رکھ دینا۔

 

نیویارک میں برقی ریل گاڑیوں کا جال بچھا ہواہے۔ پلک جھپکتے ہی آپ اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں اور زیادہ تر دکانوں کانام بھی ’’دوکان کے پتے پر ہوتاہے۔ مثلاً براڈے وے سڑک کا نام ہے۔ تو اخبار کی دوکان کانام بھی بارڈوے نیوز ہوگا۔ اسی طرح اس کے بہنوئی کی دوائیوں کی دکان ۳۸ ایونیوپر تھی۔ لہٰذا دکان کو ڈھونڈھنا آفاق کے لیے بہت ہی آسان تھاکیونکہ دوکان کا نام ۳۸ایونیو فارمیسی تھا۔ آفاق وہاں پہنچا تو مسٹر قانونی غیر قانونی وہاں پہلے سے ہی موجود تھا جو اپنی ہر بات اس فقرے سے شروع کردیتے تھے۔ سرجی آپ کو نہیں پتہ یہاں ایسا ہوتاہے۔ آفاق نے سرجی کے سر کو غور سے دیکھا درمیان سے سر بالوں سے بال بال بچا ہواتھا۔ اور کانوں کے اوپر ایک لمبی قطار بالوں کی فوجیوں کی مانند کھڑی تھی۔ جو زیادہ دیر اس کان کو چھپا ےہوئی تھی۔ جیسے بار بار وہ ہاتھ سے چمکتے سر کو صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں کے مصداق سر کو ڈھانپے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ تعارف کے بعد وہ آفاق کو کاؤنٹر کے دوسری طرف لے گئے۔ چھوٹے ہی بولے سر جی آپ کو نہیں پتہ۔ اب عام پولیس کاآدمی بھی آپ سے گرین کارڈ پوچھ لیتاہے۔ ڈرائیونگ لائسنس کے لیے گرین کارڈ ضروری۔کام کرنے کے لیے گرین کارڈ ضروری۔

 

آفاق نے جواب دیا جی مجھے پتہ ہے۔

 

سر جی آپ کو نہیں پتہ۔ پھر بولے آپ کی اب کیا حیثیت ہے۔ میرا مطلب قانونی ہو یا غیر قانونی ہو۔

 

آفاق نے جواب دیا ابھی تو قانونی ہوں۔ لیکن دوماہ کے بعد غیرقانونی ہو جاؤں گا۔ جناب قانونی اور غیر قانونی صاحب آفاق سے زیادہ فکر مند ہوگئے۔

 

وقت بہت کم ہے۔ اس کم وقت میں سب سے آسان اور تیز رفتار طریقہ یہ ہے کہ اپنی ایک آنکھ کو دباتے ہوے۔ آپ کاغذی طریقے سے رشتہ ازدواج میں بندھ جائیں۔

 

آفاق نے چھوٹتے جواب دیا۔سرجی کاغذ کی کشتی تو سنی تھی۔یہ کاغذ کی بیوی کبھی نہیں سنی۔ غیر قانونی پھر بولے سرجی آپ کو نہیں پتہ۔ میں بہت ساری لڑکیوں کو جانتاہوں آپ کے ساتھ کاغذوں میں آپ کی بیوی ہوگی۔ اصل میں آپ اسے جو مرضی بنالیں اور زور سے ہنسنے لگے۔کھی کھی کھی۔

 

آفاق ذرا سنجیدہ ہوگئے۔ سرجی کے سر کو دیکھنے لگا۔
یہ کاغذی پھول جیسا چہرہ مذاق اڑاتے ہیں۔ آدمی کا۔

 

سرجی زندگی میں شادی تو بس ایک ہی دفعہ کروں گااور وہ بھی اس سے جس سے محبت کروں گا۔ اس کے لیے مجھے نکاح کے کاغذپر دستخط کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کسی مولوی یا وکیل یا گواہ کی۔ میری وہ شادی چاہے قانونی ہو یا غیر قانونی شادی توہ ہی ہوگی۔ مسٹر قانونی غیر قانونی پھر اسے چھوڑو۔اچھا چھوڑو شادی کو۔ گولی مارو شادی کو۔ہمیں کوئی ایسا پیشہ ڈھونڈنا ہوگا جس کی اس ملک میں مانگ زیادہ ہو اور رسائی کم ہو۔ مثلاً موذن۔بہت کم لوگ ہیں جو اذان دے سکتے ہیں۔نماز پڑھوانے والا امام۔ یہاں زیادہ تر آبادی عیسائیوں کی ہے۔اورکوئی عیسائی تو اذان دینے سے رہا۔ دوسری حلال گوشت کی دوکان پر جانوروں کو حلال کرنے والا۔ آپ ایسے کریں۔ آج سے کوشش شروع کردیں ان تینوں نوکریوں کو ڈھونڈنے کی۔ آفاق نے پھر کہا اگر نوکری ڈھونڈ بھی لی تو نوکری کروں گا کیسے۔ مسئلہ تو وہاں بھی قانونی اور غیر قانونی کاہوگا۔

 

مسٹر قانونی غیر قانونی نے پھر سر کو جھٹکا دیا۔ سرجی آپ کو نہیں پتہ۔ آپ ایسے کریں اسی ایونیو کی نکڑ پر چلے جائیں۔ وہاں ایک کولیمبین لڑکا کھڑا ہو گا۔ اس سے کہنا میں فلاں دوکان سے آیا ہوں مجھے سوشل سیکورٹی کارڈ چاہیے۔ آفاق نے ویسا ہی کیا وہ کو لیمبین اسےدوکان سے جڑے ہوئے ایک چھوٹے سے دروازے میں لے گیا اور آفاق سے دو سو ڈالر لے لیے اور کہا کل آکے کارڈ لے جانا۔

 

آفاق گھر آیا تو حساب لگانے لگا یار دو سو ڈالر تو بیس ہزار روپے بنتے ہیں۔ اگر کولیمبین بھاگ گیا تو مسٹر قانونی کی خیر نہین ایسی غیر قانونی پٹای کروں گا سب قانون یاد آجائیں گے۔اور کچن میں رکھے ہوئے پیزے کو اٹھا کر دیکھنے لگا جوکہ ٹھنڈا تھا۔ گیس کے چولہے پر توے کے اوپر گھمانے لگا۔ چولہا بالکل نہیں جلایا۔ اور پیزے کو توے کے اوپر بار بار گھمانے لگا۔ کلثوم باورچی خانے میں داخل ہوئی اور بغیر آگ کے چولہے پر آفاق کو پیزے کو گرم کرتے دیکھا تو بولی آگ تو تم نے جلائی نہیں۔ آفاق چولہے کو دیکھتے ہوئے بولا ہاں جان بوجھ کر نہیں جلائی۔ پیٹ کی آگ چولہے کی آگ سے تھوڑی ہی بجھتی ہے اور پیٹ کے نیچے جو آگ لگتی ہے اس کے لیے بھی ضروری نہیں ہے۔ مدمقابل کا جسم بھی گرم ہو اور اگر جسم بخار سے جل رہاہو تو پھر کلثوم نے ہلکی سی چپت لگائی۔ بے شرم کہیں کا۔ شرم نہیں آتی بہن سے ایسی باتیں کرتے ہوئے۔ آفاق بولا شادی شدہ ہو۔ دو بچوں کی ماں ہو۔ تمہیں سب کچھ پتہ تو ہے۔ کلثوم نے چولہے کی آگ جلانے کی کوشش کی تو آفاق نے پھر چولہا بند کردیا۔ کہنے لگا۔

 

جو اشکوں نے بھڑکائی ہو اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے۔

 

اور ٹھنڈا پیزا ہی کھالیا۔ گرم کرکے پیزہ کھانے سے یہ خوف تو نہیں رہتا کہ یہ ٹھنڈاہوجائے گا تو کیوں نہ ٹھنڈا پیزا ہی کھالو۔

 

کلثوم بولی ویسے تیرے دماغ کے پرزے کچھ ڈھیلے ہیں۔ اسے بادام روغن سے رگڑ کر گرم کیا کرو۔جو مرضی کرو۔

 

دوسرے دن بہنوئی کی فارمیسی کے ساتھ والی گلی کی نکڑ پر پہنچا تو کولیمبین کھڑا اس کاانتظار کررہاتھا۔ اس سے کارڈ لیا اور مقامی اخباروں میں مؤذن اور ہلال اور مشینی جھٹکے سے گوشت کاٹنے کی نوکریوں کی تلاش شروع کردی۔ بد قسمتی سے ہیلپ وائنڈڈ والے سیکشن میں اسے کوئی اس قسم کی نوکری نظر نہیں آئی اگر کہیں تھی بھی تولگتاہے۔ آفاق نے وہ نوکری نظر انداز کردی ھوگی۔ کیونکہ لگا تھا سوچنے۔ اذان دوں گاکیسے۔ کبھی زندگی میں نماز تو پڑھی نہیں۔ لیکن اس کی نظر ایک نوکری پر جمی جو ملتی جلتی تھی۔ کیتھولک جنازگاہ میں نوکری دستیاب تھی۔ آفاق نے کمر باندھی اور اگلے دن ہی فون کرکے انٹرویو کے لیے وقت لے لیا۔ لیکن آفاق ڈر رہا تھا کہ سوشل سیکورٹی نمبر چیک ہوگیا تو کہیں رپورٹ نہ ہوجائے۔ آفاق ڈرتے ڈرتے جنازگاہ پہنچا۔ شہر کا کافی بڑا جنازگاہ تھا۔ ایک طرف گاڑی کا پارکنگ لاٹ تھا۔ دوسری طرف پھولوں کی دوکان تھی۔ نئی عمارت صاف ستھری فٹ پاتھ سے سڑک اور جناز گاہ کے مین گیٹ پر آدھے دائرے کی چھتری بنی تھی۔جسے کانوپی کہتے ہیں۔ اندر کئی دفاتر اور ایک بڑا ہال کمرہ، ہال کمرے سے بڑا جنازگاہ۔جوتہہ خانے میں تھا۔ اور تمام سہولتوں سے آراستہ تھا۔ آفاق معلومات والے میز پر اپنا نام کی اطلاع دینے کے بعد ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ جنازگاہ کے مالک نے چند لمحوں کے بعد آفاق سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ آفاق کالے سوٹ اور ٹائی میں ایسا لگ رہاتھا جیسے کسی امریکن کے جنازے میں پہنچا ہوا ہو۔ جب کہ ہمارے جنازوں میں صاف ستھرے کپڑے زیب تن کرنا معیوب لگتاہے۔ لیکن آفاق ہمیشہ نئے کپڑے جنازے میں پہناکرتاتھا۔ اس کاخیال تھاایک گھر سے دوسرے گھر کی ہجرت ہے۔اس کے لیے خوشی کا جشن منانا تو ضروری ہے۔ آفاق نے اپنی باتوں سے جنازہ گاہ کے مالک کو خاصا محظوظ کیا۔ یہ جان کر آفاق کو خوشی ہوئی۔ یہ یہاں کے لوگوں کی جناز گاہ کا دروازہ سب مذاہب کے لیے کھلا ہےہمارے ہاں تو ایک فرقہ دوسرے فرقے کی میت کو ہاتھ نہیں لگاتا۔ یہاں پر ہر مذہب کے رسم و رواج کے مطابق دفن و تدفین کے لوازمات موجود ہیں۔

 

جناز گاہ کے مالک نے یہ بھی بتایا کہ یہاں لاشوں کو مصالحے اور خوشبو لگاکر کافی عرصہ تک محفوظ رکھنے کا بندوبست بھی ہے۔ ابھی جناز گاہ کا یہ محکمہ نیا ہے۔ اور انہیں تجربہ کار کاریگر کی ضرورت ہے تاکہ اس محکمے کے تمام فرائض بخوبی انجام دے سکیں۔

 

آفاق نے ایمانداری سے بتادیا مجھے اس پیشے سے بالکل شناسائی نہیں ہے۔ لیکن میں بہت دلچسپی رکھتاہوں اس کام کو سیکھنے کے لیے بالکل تیار ہوں۔ جناز گاہ کے مالک نے اسے اس شرط پر رکھ لیا تم اس پیشے کی کلاسز کے ساتھ ساتھ جناز گاہ میں دوسرے کاموں میں ہاتھ بٹاؤ گے۔ جب تم سیکھ جاؤ تو ہم تمہارے حوالے یہ محکمہ کردیں گے۔ آفاق بہت خوش ہوا کہ چلو کاروبار زندگی کے مردہ جسم میں زندگی کی برقی لہر کا جھٹکا تو لگا۔ اور بڑی چابکدستی سے کام شروع کردیا۔ فارغ اوقات میں جناز گاہ کے ساتھ والی پھلواری دوکان پر اپنا وقت گزارتا۔ پھولوں والی دوکان جنازگاہ کے برابر بڑے ایونیو اور گلی کی نکڑ پر تھی۔

 

اس سے ساتھ گلی میں ایک چھوٹے بچوں کی نرسری تھی۔ بیکی وہاں استانی تھی۔ بیکی کانکلتا قد، صاف ستھری رنگت، نیچی آنکھیں، دقیانوسی پہناوا۔ اسے باقی لڑکیوں سے منفرد کرتاتھا۔ وہ ہمیشہ چھوٹے بچوں میں گھر ی ہوتی جیسے وہ اس کے اپنےبچے ہوں اسے بچوں کی رفاقت پسند تھی۔ ہر روز بچوں کی قطار کبھی آگے اور پیچھے جیسے بھیڑوں کی نگرانی پر نگران کتا آگے پیچھے بھاگ کر بھیڑوں کی قطار کو سیدھا رکھتا ہے۔ بیکی ہرروز نرسری کے اوقات کے ختم ہونے پر پھلواری سے ایک پھولوں کا گلدستہ خریدتی۔ آفاق ہرروز بیکی کو دیکھتے پھلواری کے پاس چلا جاتا اور کسی نہ کسی بہانے سےپھلواری کے لیے ڈنکن ڈونٹ سے ڈونٹ اور کافی لے آتااور ترچھی نگاہوں سے بیکی کے حسن کو اپنے حسِ جمال کی تسکین کے لیے اپنی نظروں کے سکینر سے۔ بیکی کے جسم کو اپنے دماغ کی ہارڈ ڈرائیو میں سٹور کرتا۔

 

ّّّّّّّّّّّّّّّّّآخرایک دن آفاق نے بیکی کو پھلواری کی دکان کے سامنے روک لیا اور اسے اس کی پسند کاگلدستہ پیش کرتے ہوئے کہا۔ آپ کو چائے پسند ہے یا کافی۔ بیکی نے جھٹ سے جواب دیا وہ تو میں ہرروز خود گھر چھوڑنے سے پہلے بغیر شکر اور بغیر دودھ کے کافی پی کے نکلتی ہوں۔ لیکن تم کیاانڈیا سے ہو۔

 

آفاق بولا نہیں آپ سب لوگ ہر زیتون کی رنگت والے کو انڈیا سے۔ ترچھی آنکھوں والوں کو چاہناسے۔گھنگریالے بالوں کو افریقہ سے کیوں سمجھتے ہیں۔

 

ہاں تم نے ٹھیک کہا ہم امریکن کو بڈلائٹ بیئر اور بیس بال کے سٹیڈیم کے جغرافیہ کے علاوہ کچھ اور پتہ ہی نہیں۔
آفاق بولااور ہندوستانی کھانوں میں سوائے تندوری چکن کے۔ بیکی نے بات کاٹتے ہوئے مجھے انڈین کھانے بہت ہی پسند ہیں۔آفاق نے بھی بات کاٹی۔ تو کل چلیں میں شہر کے سب سے اچھےانڈین ریسٹورنٹ جانتاہوں۔ بیکی نے پوچھا۔تم سب ریسٹورنٹ کو انڈین ریسٹورنٹ کیوں کہتے ہو۔ بیکی نے بدلہ لیا۔ جبکہ یہاں پاکستانی، بنگلہ دیشی،انڈین ریسٹورنٹ کی بھرمار ہے۔ بہت ریسٹورنٹ کے نام انڈین ہی ہوتے ہیں۔ تمہیں کیسے پتہ چلتاہے کہ انڈین ہے یا پاکستانی یا بنگلہ دیشی۔ آفاق نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ ہر ریسٹورنٹ کے نام کے نیچے تین ملکوں کے نام لکھے ہوتے ہیں، اگر ترتیب میں سب سے پہلا پاکستانی، انڈین،بنگلہ دیشی کھانوں کامرکز،تو سمجھ لو کہ یہ پاکستانی کاریسٹورنٹ ہے۔

 

کلثوم کی گرجدار آواز نے آفاق کو خیالوں کی دنیا سے نکال کر صوفہ پر لا بٹھایا۔ یہ پھر تم بہکی بہکی باتوں میں بیکی کا کیا ذکر کررہے تھے۔کیا ریسٹورنٹ کھولنے کاارادہ ہے۔ نہیں باجی میں آپ کو بہت تنگ کرتا ہوں۔

 

آفاق شرمندہ ہو گیا۔ بات بدلتے ہوے۔کچھ پیسے جمع ہو گئے تو اپنا اپارٹمنٹ لے لوں۔

 

کلثو بولی ہاں تمہیں اس صوفے بیڈ پر آرام بھی تو نہیں ملتا۔ تم تواب کام بھی کرتے ہو اور سکو ل بھی جاتے ہو۔ اب تھوڑے سے پیسے جمع کرو تاکہ تمہاری شادی کر دوں۔

 

جناز گاہ میں آفاق دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا تھا۔ مالک بھی اس سے بہت خوش تھا۔ اس نے ہر ڈیپارٹمنٹ میں خوب جانکاری کرلی تھی۔ لیکن اس کی مہارت مردہ انسانوں کے جسم میں ادویات بھر کے انہیں ایسا بناناتھاجیسے وہ بالکل زندہ ہوں۔ ان کے جسم کی لچک۔چہرے کی تازگی ایسے رہے جیسے وہ سامنے بیٹھے ہوں۔تاکہ مردہ انسانوں کے چاہنے والے کافی دیر اسے اپنے پاس رکھ سکیں یا جب دفن کریں تو وہ مسکراتا زندہ جاگتا رخصت ہو۔ جیسے وہ تابوت میں گہری نیند سو رہاہے۔ اپنے سفر پر ہے اور خوشی سے ایک لمبی چھٹی گزارنے جا رہا ہے۔

 

جناز گاہ کے مالک نے آفاق کو اچھی خبر سنائی۔کل تم ایک مردہ میں ادویات بھرنے کاکام شروع کردو گے۔ تاکے مردہ کو کافی دیر تک رکھا جا سکے۔ Embaling کرنا کہتے تھے۔

 

اگر تم نے اپنے استاد کوقائل کرلیا تو پھر یہ شعبہ تمہارے حوالے کردیاجائے گا۔

 

ویسے تو سکول میں اس نےکافی مہارت حاصل کر لی تھی۔ تھی۔ آفاق نےاس میں کافی مہارت حاصل کرلی تھی۔ لیکن آج اس کاامتحان۔ امبامنگ کرنا

 

اپنے افضل افسر کی زیر نگرانی وہ یہ عمل کررہاتھا۔ تھوڑا سا گھبرایا ہواتو تھا۔ لیکن وہ خاصا محظوظ بھی ہو رہاتھا۔ سب سے پہلے انہوں نے جسم کی گردن کے قریب رگوں کو کھول کر پہلے اس میں سے بہنے والا کیمیای مادہ جو مردہ جسم کو دیرپا اور تازہ رکھےبھر دیا اور رگوں میں کھڑے ہوئے خون کو خارج کردیا۔ دوسری دفعہ دوا جو کیمیاتی مادہ تھا بھر دیا جو مردہ جسم میں لچک اور خوبصورت بنا دیتا ہے،رنگت زندہ انسانوں والی،چہرے پر لالی اور جسم صحت مند لگنےلگا۔ یہ لاشیں مردوں کی تھی اسے کسی نے قتل کیاتھا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش جناز گاہ میں پہنچی تو حیران کن بات یہ تھی کہ اس کا آلہ افزائش نسل کسی نے کاٹ دیاتھا۔

 

آفاق کے افضل افسر کا خیال تھا یہ کوئی نفرت کا جرم لگتاہے۔ لیکن آفاق کانظریہ مختلف تھا۔ عروج محبت کاکیس بھی تو ہوسکتاہے۔ کیونکہ جسم کے جس حصے کو آپ آلہ افزائش نسل کہہ رہے ہیں وہ آلہ تسکین لذت بھی ہےجو محبت کے ماپنے کا آلہ بھی ہو سکتا ہے۔ ہوسکتاہے کہ یہ آلہ مرنے کے بعد علیحدہ کیاگیاہو۔ اگر میں اس جسم کی موت کے بعد چیر پھاڑ تفیش کے لیے کرتا تو اس کے دل کو کھول کے دیکھتا۔کیونکہ دل ہی میں روح بسیرہ کیے ہوئے ہے۔ اور دماغ تو نفرت اور محبت کا بیج بوتا ہے۔جس کی نشوونما دل کررہاہوتاہے۔ آفاق کاافضل افسرکو اس کی باتوں کی بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ بہرحال اس کاامتحان کامیاب تھا۔ جناز گاہ کے مالک نے تنخواہ میں اضافے کے ساتھ یہ محکمہ آفاق کے حوالے کر دیا۔

 

آفاق ہمیشہ کہتا کہ انسان کو خوش رہنے کے لیے لوگوں کی بھیڑ اور مہنگے شہر میں نوکری چھوکری اور اپنا گھر ضرورہونا چاہیے۔ چاہے وہ اس کی مارگیج دیتاہو یا مالک مکان کو اس کا کرایہ وقت پر ادا توکرتا ہو۔ نوکری شروع کرتے ہی اس کے دماغ کی بساط پر شطرنج کے مہرے خود ہی نوکری سے چھوکری کی چال چل رہے تھے اور مکان بھی اس کی خوشی کے کھیل کا حصہ تھا۔

 

آفاق ہر روز حسب معمول بیکی کاپھولوں کی دکان پر انتظار کرتا۔ لیکن کچھ دنوں سے بیکی پھولوں کی دوکان پر آ نہیں رہی تھی۔ آفاق نے پھلواری سے معلوم کرنے کی کوشش کی تو وہ بھی حیران تھی وہ تو سوائے ہفتہ اور اتوار سکول کی چھٹیوں کے علاوہ ناغہ نہیں کرتی پتہ نہیں کیا ہوا۔ آفاق کو کچھ پریشانی ہوئی تو وہ بچوں کی نرسری میں بلا جھجک پہنچ گیا۔ جھجک تو ایسے بیکی سے تھی۔ اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اسے کبھی جھجک نہ ہوئی۔ سکول کی ہیڈمسٹرس سے پھلواری کے پیغام رساں بن کے پوچھنے پہنچ گیا تو پتہ چلاکہ وہ سخت بیمار ہے اور جان لیوا بیماری کے علاج کے لیے ہسپتال میں داخل ہے۔ آفاق نے ہسپتال کاپتہ اور کمرہ نمبر بستر نمبر لے کر پھولوں کے گلدستے کے ساتھ ہسپتال پہنچ گیا۔ لیکن بیکی اپنے بستر پر موجود نہ تھی۔ معلومات کے ڈیسک سے اسے نامکمل سی معلومات ملیں پتہ نہیں زندہ ہے مردہ ہے اور گلدستہ لے کر بیکی کے گھر پہنچ گیا۔

 

بیکی کی عمارت کے سامنے ایک لمبی سیاہ گاڑی کھڑی تھی اور کافی گہماگہمی تھی۔

 

آفاق سوچنے لگا یہ کسی کا جنازہ ہے یا شادی ہے کیونکہ یہاں پتہ بھی تو نہیں چلتا مردہ کو بھی ایک لمبی سیاہ کارمیں نے لے کر جاتے ہیں اور شادی شدہ جوڑے کو بھی۔

 

لیکن اس کے پاس بیکی کے گھر کا نمبر تھا اس نے گھنٹی بچائی اور بیکی سامنے کھڑی مسکرارہی تھی۔

 

آفاق نے تعارف کروایا تو بیکی ہنسنے لگی میں جانتی ہوں تمارے دل میں روح بستی ہے۔ اور دماغ تو نفرت اور محبت کا بیج بو دیتاہے۔ لیکن میرے دماغ نے ہمیشہ تمہارے لیے محبت کے خوبصورت پھول کی نشوونما کی ہے۔ آفاق کے ہاتھ سے گلدستہ لے کر سونگھتے ہوئے بولی۔ تمہاری محبت خوشبو کی طرح ہے جسے دیکھا نہیں جاسکتا۔صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔

 

آفاق کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ بیکی نے آفاق کو اندر بلا لیا۔

 

آفاق نے تھرکتے ہونٹوں سے کہا میں ہمیشہ تمہیں اپنے خوابوں میں دیکھتا تھا۔لیکن آج میرے خواب حقیقت میں بدل گئے ہیں۔ بیکی نے اپنی خوبصورت آنکھوں کو بند کر کے کہا۔خواب حقیقت ہی تو ہوتے ہیں یہ تو دماغ ہی ہے چاہے حقیقت کو خواب سمجھے یا خواب کو حقیقت۔آفاق نے بیکی کو بغیر جھجک کے سینے سے لگا لیا اور والہانہ بیکی کو چومنے لگااور اپنے زانوں پر کھڑا ہوکے بیکی کو اپنے ارادہ سے مطلع کیا

 

مجھ سے شادی کروگی۔بیکی نے مسکراتے ہوئے ہاں کہی۔بیکی بہت خوش ہوئی۔اس نے آفاق سے کہا میں نے زندگی میں بہت دھوکے کھائے ہیں۔مجھے تم دھوکہ نہ دینا۔ بیکی نے اسے اپنی اور جیک کے ساتھ شادی کی کہانی سنائی۔ بیکی نے بتایا دیکھ میں نے اپنے پیسوں سے دلہن اور اس کے دولہا کا ٹیکسڈ و خریدا اور عین موقع پر وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔آفاق تم مجھے چو ڑ کر تو نہیں جاؤ گے۔آفاق نے قسم اٹھائی۔تم میری منزل ہو تم میری خوشیوں کا محل ہو۔میں تو مر کے بھی میری جان تجھے چاہوں گا۔میں پاکستانی ہوں ہم جب کسی کا ہاتھ پکڑتے ہیں تومرنے کے بعد بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔

 

چلوآؤ آج ابھی اسی وقت شادی کر لیتے ہیں۔ خدا کو حاضر ناضر جان کر۔ میں سچا ہوں۔خدا ہمارا تمہارا گواہ ہے میں تمہیں اپنے ہاتھو سے سجاؤں گا۔میں خود میک اپ کر لیتا ہوں۔ہمیں کسی بیوٹیشن۔ راہب یا نکاح خواں کی ضرورت نہیں۔

 

آفاق نے اپنے ہاتھوں سے بیکی کو دلہن کا لباس زیب تن کیا،خود کالا سوٹ پہنا۔اس کا بناؤسنگھار اپنے ہاتھوں سے کیا۔ اس کے لمبے بالوں میں کنگھی کی۔اس نے کمرے کی ساری روشنیاں جلا دیں۔بیکی کے چہر پر فاؤنڈیشن لگائی اور تمام کمر خوشبوں سے محظر کر دیا۔ آنکھوں میں کاجل کی دھار لمبی کھینچ کے لگائی۔ اپنے ہاتھوں سے ہونٹوں پر سرخ لب سٹک سے سرخی لگائی، گالوں پر ہلکی سی لالی سے رخسار کی ہڈیوں کو نمایا کر دیا۔

 

بیکی دلہنوں سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔

 

آفاق بیکی کو اپنے ساتھ چلا کر سونے کے کمرے میں لے گیا۔اسے پلنگ پر بٹھا دیا۔ بیکی سے بولا ہمارے ہاں دلہن سر جھکا کے گھونگھٹ نکا ل کر دولہا کا انتظا ر کرتی ہے۔ بیکی نے ویسے ہی گھونگھٹ کھینچ کر آنکھیں نیچی کر لیں۔آفاق نے ریفریجریٹر سے دودھ گرم کر کے دلہن کو پلایا۔اورآہستہ سے گھونگھٹ اٹھایا۔بیکی نے شرم سے اپنی آنکھوں اپنے بازو میں چھپا لیں۔

 

آفاق نے آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے بیکی کے کپڑ ے اتارے اور پھر اپنا کالا سوٹ اتارا سرد خانے کی دیوار پر لگی کھونٹی پر ٹانگ دیااور بیکی سے کہا ہماری شادی مکمل نہیں جب تک دونوں جسم ایک دوسرے میں سما نہ جائیں۔پھر ہمارا ولیمہ جائز ہوتا ہے بیکی نے پوچھا ولیمہ کیا ہوتا ہے آفاق نے وضاحت کی۔ دلہا اور دلہن کے ملاپ کا کھانا۔بیکی نے آفاق کو سینے سے لگا لیا۔

 

پھر آفاق نے کپڑے پہنتے ہوئے چھت کی طرف منہ کر کے کہا

 

تو تھا میں تھا کوئی گواہ نہ تھا۔ آ جو کچھ ہوا وہ گناہ نہ تھا۔

 

اسی لمحے جنازہ گاہ کے مالک نے یک بستہ مردہ خانے کا دروازہ زور سے کھٹکایا اور آفاق سے پوچھا مردہ تیار ہے سب مہمان جنازہ کے لئے انتظار کر رہے ہیں۔ آفاق نے مردہ خانے کا لاک کھولتے ہوئے کہا۔ ہاں باڈی تیار ہے۔ جنازہ گاہ کے باقی لوگ بیکی کے تابوت کو دفنانے کے لئے قبرستان کی طرف ایک سیاہ لمبی گاڑی میں لے جا رہے تھے۔ دھواں چھوڑتی گاڑی کے پیچھے آفاق کھڑا تھا اور اس کا جسم تپ رہا تھا ماتھے سے پسینہ ٹپک رہا تھا۔اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا تو وہ بالکل ٹھنڈی یخ تھی۔