Categories
فکشن

لوتھ

اُس کی ٹانگیں کولہوں سے بالشت بھر نیچے سے کاٹ دِی گئی تھیں۔

ایک مُدّت سے اُس نے اپنے تلووں کے گھاؤ اپنے ہی بیٹے پرکُھلنے نہ دئیے تھے۔۔۔۔ضبط کرتا رہا اور اُونچی نیچی راہوں پرچلتا رہا تھا۔۔۔۔۔۔مگر کچھ عرصے سے یہ زخم رِسنے لگے تھے اورچڑھواں درد گھٹنوں کی جکڑن بن گیا تھا۔۔۔۔ حتی کہ دَردوں کی تپک اس کے حواس معطل کرنے لگی۔ اُسے سمتوں کا شعور نہ رہتا تھا۔ جدھر جانا ہوتا، اُدھر نہ جاتا بل کہ اُلٹ سمت کو نکل کھڑا ہوتا۔
اُسے بار بار ڈھونڈ کر لایا جاتا۔

ہر بار اُس کے زخم رِس رہے ہوتے تھے۔

زخم تھے تو بہت پرانے مگر بیٹے پر اُن کے کُھلنے اور حواس پر شب خُون مارنے کا واقعہ ایک ساتھ ہوا تھا۔ ہوا یوں تھا کہ اس کا بیٹا ٹی وی کے سامنے بیٹھا بار بار دِکھائے جانے والے وقت کے عجوبہ سانحے کو حیرت سے دِیکھ رہا تھا۔ پہلے ایک طیارہ آیا ٗ قوس بناتا ہوا۔۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔ ایک فلک بوس عمارت سے ٹکرا گیاٗ شعلے بھڑک اُٹھے۔۔۔۔۔۔ اور اَبھی آنکھیں پوری طرح چوپٹ ہو کر حیرت کی وسعت کو سمیٹ ہی رہی تھیں کہ منظر میں ایک اور طیارہ نمودار ہوا۔ پہلے طیارے کی طرح۔۔۔۔۔۔ اور پہلی عمارت کے پہلو میں اُسی کی سی شان سے کھڑی دوسری عمارت کے بیچ گھس کر شعلے اُچھال گیا۔

وہ اپنے بیٹے کے عقب میں بیٹھا یہ سارا منظر انوکھے اطمینا ن سے دیکھتا رہا ٗ جیسے یہی کچھ ہونا تھا۔۔۔۔۔۔ یا پھر جیسے یہی کچھ ہونا چاہیے تھے۔ اَگلے روز اطمینان کی جگہ بے کلی نے لے لی۔۔۔۔۔۔ حتّی کہ کچھ ہی دنوں میں وہ دہشت زدہ ہو چکا تھا۔

جب پہلی بار یہ منظر سکرین پر دِکھائی دِیا تھا ٗ انوکھی طمانیت کی بھبک کے باعث اُس نے اَپنے ہی تلووں کے زخمی حصے کو سختی سے دَبا لیا تھا جس کے سبب اس کے ہونٹوں سے سسکاری نکل گئی تھی۔

بیٹے نے پلٹ کر باپ کو دِیکھا اور فوری طور پر اس سسکاری کے کچھ اور معنی نکالے تھے… تاہم جب اُس کی نظر رِستے ہوے تلووں پر پڑی تو بہت پریشان ہو گیاتھا۔
اُسے گلہ تھا کہ آخر اُس سے ان زخموں کو اوجھل کیوںرَکھا گیا تھا؟
وہ اَزحد فکرمندی ظاہر کرنے لگاتھا ٗ …اور شاید فکر میں مبتلاہو بھی گیا تھا…لگ بھگ اِتنا ہی فکر مند، جتنا کہ دونوں فلک بوس عمارتوں کے ساتھ طیاروں کے ٹکرانے کے بعد ہوا تھا۔

بعد کے دنوں میں دَرد اور تشویش میں اِضافہ ہوتا چلا گیا حتّی کہ دونوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے۔

پھر یُوں ہوا کہ بیٹے نے مختلف ہسپتالوں کا دورہ کرنے والی ملٹی نیشنل اداروں کے ڈاکٹروں کی ٹیم سے رابطہ کیا۔ غیر ملکی ڈاکٹروں نے یہاں کے ڈاکٹروں کو مشورہ دِیا اور اُن صورتوں پر غور ہونے لگا جو اُس کے باپ کے علاج کے لیے ممکن تھیں۔

مگر اُس کا باپ اِن ڈاکٹروں کے نام ہی سے بِد کنے لگا تھا۔ اُسے نہ جانے کیوں اُن کی صورتیں اس کمپنی کے کارپردازان کی سی لگنے لگتی تھیں، جنہوں نے اپنے پراجیکٹ ایریا تک بہ سہولت رسائی کے لیے سامنے کی پھلواری بھی ایکوائر کروا لی تھی۔ اُس کے باپ کا خیال تھا کہ تب جوزمین کو زخم لگے تھے اُس کے پاؤں کے تلووں نے سنبھال لیے تھے۔ اُس کا بیٹا کورآباد کو نکلتی سراب اُچھالتی شاہ راہ پر لمبی ڈرائیو کرتے ہوے اُن باتوں کی بابت سوچتا اور قہقہے مار کر ہنستا تھا۔

وہ قہقہے مار مار کر ہنستا رہا حتّی کہ قہقہوں کے تسلسل سے اُس کی آنکھوں میںکسیلا پانی بھر گیا۔
جب اُس کا باپ رَفتہ رَفتہ اَپنے حواس کھوتا چلا جا رہا تھا، تب بھی اُس کی آنکھوں میںایسا ہی کسیلا پانی تھا۔

پہلے پہل یوں ہوا تھا کہ ٹی وِی پر دونوں عمارتوں سے جہاز ٹکراتے دِیکھ کر وہ بھی قہقہہ بار ہوا ٗ اور ہوتا چلا گیا۔۔۔ حتّی کہ آنکھیں کڑوے پانیوں سے بھر گئیں۔ جب اُس کی آنکھیں، بار بار نشر کیا جانے والا منظر، دیکھنے کے قابل ہوگئیں تووہ عجیب طرح سے سوچنے لگا تھا۔ منظر میں توجہاز جڑواں فلک بوس ٹاورز کے بیچ گھستے تھے مگر اُسے یوں لگتا،جیسے وہ دونوں ٹاورز لوہے اور سیمنٹ کے نہ تھے، اُس کی اَپنی ہڈیوں اور ماس کے بنے ہوے تھے۔

اُدھر سے جب بھی شعلے اُٹھتے تھے اِدھر اس کے درد کی چاہنگیں اُسے جکڑ لیتی تھیں۔
دَرد بڑھتا گیا ، اِس قدر۔۔۔۔۔ جس قدر کہ وہ بڑھ سکتا تھا۔

جِن ڈاکٹروں کے ساتھ بیٹے نے رابطہ کیا تھا، اُن سب کا کہنا تھا ، بہت دِیر ہو چکی تھی۔ ٹانگوں کا کٹ جانا اُس کے باقی بدن کی بقا کے لیے ضروری ہوگیا تھا
اُس کے باقی بدن کو بچا لیا گیا۔

اس بدن کو، جس کے زِندہ یا مردہ ہونے کے بیچ کچھ زیادہ فاصلہ نہ تھا۔

خود اُسے بھی اَندازہ نہ ہو پایاکہ اَپریشن کے بعد وہ کتنے عرصہ تک بے سُدھ پڑا رَہا۔۔۔ تاہم اس سارے دورانیے میں اُس درد کی شدت کا سلسلہ شاید ہی معطل ہوا ہو گا، جو اَندر یوں گونجتا تھا کہ باہر کی سمت چھلک مارنے لگتا تھا۔

دَرد کی کَسمَساہَٹ جب ہونٹوں تک پہنچی تو اُس نے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے جکڑ لیا۔۔ دَرد چہرے کے خلیے خلیے کو تھرّانے لگا۔۔۔۔۔۔ حتّی کہ پورے بدن پر لرزہ سا تَیر گیا۔

اور یہ وہ آخری لَرزَہ تھا جو اُس نے اَپنے پورے بدن پر بکھر جانے دِیا تھا۔

بدن پر لوٹتی تھراہٹ کے سبب اُس کے چاروں طرف بھگدڑ سی مچ گئی۔ سب سے زِیادہ فکر بیٹے کو لاحق تھی۔ بدن سے باہر چھلکتے درد کے باوصف اَبھی تک وہ باہر کی دنیا سے بہت دور تھا۔۔۔۔۔ کہ وہ تو وہاں تھا ٗ جہاں درد کے دَھارے کے ساتھ بسین نالے کا پانی تھا۔
اس پانی کے بہاؤ کی شوریدگی تھی

اور وہ ساری دہشت بھی تو وہیں تھی جسے پرے دھکیلنے کے وہ عمر بھر جتن کرتا رہا تھا۔

۔۔۔۔۔

بسین نالہ۔۔ جہاں وہ رہتا تھا، وہاں سے سات میل ادھر پڑتا تھا۔ اَپنے اُن دِنوں کے دوستوں کے ساتھ وہ برسوں اس نالے پر جاتا رہا تھا۔ وہ عمر کے اس مرحلے میں تھا کہ جب بہتے پانیوں کو دِیکھ کر خواہ مخواہ نہانے کو جی کرتا ہے۔ وہ اَپنی شلوار نیفے میں اُڑس لیا کرتا تھا ٗ بڑے پَلّوں والی بھاری شلوار کو اِتنے بَل دِیئے جاتے کہ اُس کا آسن کاٹنے لگتا تھا۔ وہ بسین میں گھس جاتا تو اُس وقت تک پانی سے باہر نہ نکلتا تھا جب تک کہ اُس کا آخری دوست بھی باہر نہ نکل آتا۔ بسین کا پانی اُچھالناٗ اُس کی ریت پر ننگے پاؤں چلنا اور پانی کے بہاؤ کی آواز سننا ٗ مَدّھم سی اور مَدُھر سی ٗ اُسے اَچھا لگتا تھا۔

وہ اَپنے دوستوں سے اِس قدر وابستہ ہوتے ہوے بھی اُن جیسا نہ ہو سکا تھا۔ اُس کے ساتھی عین اس وقت کہ جب وہاں سے ریل کو گزرنا ہوتا تھا ٗ اُسے کھینچ کر اُدھر اوپر لے جاتے۔۔۔۔۔۔ وہاں جہاں تنگ سے پُل کے اُوپر سے ریل گزرتی تھی تو سارے میں ریل کے گزرنے کی گڑ گڑاہٹ بھر جاتی تھی۔ ریل گزرنے کے لمحات میں وہ سب پُل کے نیچے سے اُوپر کا نظارہ کرتے اور قہقہے مارتے تھے۔۔۔۔ مگر وہ دہشت زَدہ ہو کر وہاں سے بھاگ نکلتا تھا۔ قہقہے مزید بلند ہوتے ٗ وہ ساری قوت مجتمع کرکے قدم اُٹھاتا ٗ اِتنی بھرپور قوت سے کہ جیسے اُس کا اگلا قدم وہاں پڑے گا جہاں نالہ دَم توڑ دِیتا تھا۔

بعد کے زمانے میں وہ اس چھوٹے سے نالے کی بابت سوچتا تھا تو اُس کا دَم ٹوٹتا تھا۔
وہ کوشش اور ہمت سے اس کی یادوں کو حافظے پر سے پرے دھکیلتا رہا۔
جب تک وہ حواس میں رہا، اَپنی اِس کوشش میں کام یاب بھی رہا۔

مگر بسین کے اِس معصوم اور بے ضرر حوالے کوبعد ازاں وقوع پذیر ہونے والے سانحوں نے ثانوی بنادیا تھا۔ اب تو اُس کی یادوں میں بسین کے اَندر بپھرے پانیوں کا شراٹا بہہ رہا تھا اور وہ ایک ایک منظر پوری جزئیات کے ساتھ دیکھتا تھا۔
پہلے پہل کا دِھیرے دِھیرے بہنے والا بسین نالہ، بپھر کر دَریا بن چکا تھا۔

وہ پُل، جس کے نیچے کی چھاجوں برسنے والی دہشت ،اسے پَرے پھینک دِیتی تھی ٗ پانیوں کی تندی میں بہہ گیا تھا۔
اور وہ فاصلہ ٗ جو وہ بچپن میں اپنے دوستوں کے ساتھ پیدل ہی طے کر لیا کرتا تھا ٗ ٹرین پر طے ہوا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹرین پراُس کے لٹے پٹے مسافروں سے کہیںزِیادہ خوف لدا ہوا تھا
دہشت میں گندھا خوف ٗ چیخیں اور سسکیاں اُچھالتا ہوا۔
پُل ٹوٹ جانے کے سبب پٹڑی اُکھڑ کر پانیوں کے سنگ بہہ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ اور رِیل گاڑی کو، کوس بھر پہلے ہی روک لیا گیا تھا۔
ریل کے رُکتے ہی دہشت کا منھ زور ریلا اُمنڈ پڑا ،جو بسین کے کِنارے کِنارے دورتک پھیل گیا تھا۔ اُوپر کہیں شدید بارشیں ہوئی تھیں، یہاں بھی مینہ کم نہ برسا تھا اور ابھی تک پھوار سی پڑ رہی تھی مگر اُوپر کی بارشوںنے نالے کو دَریا بنا دیا تھا۔ حوصلے تو پہلے کے ٹوٹے ہوے تھے، آگے کا پُل ٹوٹ گیا تھا اوربلوائی کسی بھی وقت ان تک پہنچ سکتے تھے۔ بسین کا بپھرا ہوا پانی سامنے تھا، بلوائی نہیں پہنچے تھے مگر اُن کی دہشت پہنچ گئی تھی۔
شُوکتی ہوئی اور خوخیاتی ہوئی دَہشت…
خوف سینوں سے سسکاریاں کشید کرتا تھا…اتنی زیادہ اور اس تسلسل سے کہ یہ سسکاریاں بسین کے پانیوں کے شور شرابے پر حاوی ہو رہی تھیں۔

وہاں کچھ ہمت والے بھی تھے جو خوف کو پرے دَھکیلتے دَھکیلتے اُکتا گئے تھے۔ اب اُنہیں اُن کے حوصلے اُکساتے تھے لہذا، اُنہوں نے بپھرے پانیوں میں اَپنے قدم ڈال دیے۔

کئی پار چڑھ گئے تو اسے بھی یقین سا ہونے لگا کہ وہ بھی پار نکل جائے گا۔ اس نے اَپنی بیوی کا ہاتھ تھاما، ننھّی بیٹی کو کندھے سے لگایا اور ہمت والوں کے ساتھ ہو لیا۔ اُس نے بیوی کو نگاہ سامنے کنارے پر جمائے رَکھنے کی تلقین کی اور خود بھی پار دِیکھ کر آگے بڑھنے لگا۔

اُس کی بیوی کو آٹھواں آدھے میں تھا۔ پانی دِیکھ کر اُسے چکر آنے لگتے تھے ٗ ایک قدم آگے بڑھاتی تھی تودو پیچھے کو پڑتے تھے۔ وہ سامنے کنارہ دیکھتی تھی مگر اُچھلتا چھل اُچھالتا منھ زور پانی اس کا دھیان جکڑ لیتا تھا… حتی کہ وہ چکرا گئی ٗ پاؤں اُچٹ گئے اور وہ پانیوں پر ڈولنے لگی۔

اُس نے بیوی کو چکرا کر پانی پر گرتے ہوے دِیکھا تو اُسے سنبھالنے کو لپکا۔ ننھی بیٹی جو کندھے سے لگی تھی اس پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ بیوی کو سنبھالتے سنبھالتے بیٹی پانیوں نے نگل لی۔ اُس نے بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر وہ چند ہی لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

وہ عین بسین کے وسط سے دُکھ سمیٹ کر واپس پہلے کنارے پر پلٹ گئے۔ وہیں انہیں رات پڑ گئی اسی کنارے پر قافلے کی عورتوں نے رات کے کسی سمے اَپنی اَپنی اوڑھنیوں سے اوٹ بنائی اور سسکیوں کے بیچ ایک معصوم کی ننھی چیخوں کا استقبال کیا۔

یہ وہی معصوم تھا جو اَب اِتنا بڑا ہو گیا تھا کہ اُس نے خود ہی باپ کی ٹانگیں کٹوانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بیٹا ڈاکٹروں کے پینل سے پوری طرح متفق ہوگیاتھا کہ پاؤں کا گھاؤ پھیلتے پھیلتے اوپر تک پہنچ چکا تھا۔ وہ چلنے سے باز نہ آتا تھا۔۔۔۔۔یوں بقول اُن کے ٗ زخم تازہ ہو جاتے تھے۔ ان زخموں سے اُٹھنے والا سلسلاہٹ جیسا مسلسل درد اُس کے نچلے دَھڑمیں اِتنا شدید ہو جاتا کہ ُاس کی چیخیں نکلتی رہتیں۔ اِتنی بلند اور اِتنے تسلسل کے ساتھ کہ پڑوسی اُدھر ہی متوجہ رہتے تھے۔

ڈاکٹروں کے مطابق گھاؤ زہر بن گئے تھے لہذا اپریشن ضروری تھا۔ بیٹا بھی قائل ہو گیا تھا کہ اس ضمن میں باپ سے رائے لینا مناسب نہیں تھا اور وہ سمجھنے لگا تھا کہ اس کا باپ کوئی معقول رائے دینے کے اہل نہیں رہا تھا۔

بیٹے کو یقین ہونے لگا تھا کہ وہ ساری صورتحال کو بہتر طور پر سمجھ سکتا تھا لہذا اَپنے طور پر ہی ڈاکٹروں سے متفق ہو گیا۔ آپریشن خاصا طویل تھا، آپریشن ہو گیا تو ڈاکٹروں نے حسب عادت اُسے تسلی دیتے ہوے کہا، اس کا باپ بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا…
مگر جب باپ کو ہوش آیا تو وہ اپنے ہی بیٹے سے ایک اور گھاؤ پوری طرح چھپا لینے کے جتن کر رہا تھا۔
یہ اس کے دِل کا گھاؤ تھا۔

ایسا گھاؤ، جس کے اندر سے دَرد کا عجب غراٹا اٹھتا تھا۔۔۔۔۔
وہ غراٹا ،جو بدن کو تھرانے کے بجائے اسے لوتھ کا سا بنا دیتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Image: Mike Halem

Categories
فکشن

خونی لام ہوا قتلام بچوں کا

“ جب میری شادی ہوئی، میں گڑیا پٹولے کھیلنے والی عمر میں تھی”۔

سرجھکائے بیٹھے انیس نے چونک کر ماں کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ اب وہاں نہیں تھی،پیچھے بہت دور کسی شوخ لمحے میں گم ہوگئی تھی۔اُس کے قدرے ڈھیلے پڑ جانے والے گالوں پر جمی ہوئی پیلاہٹ جیسے دُھل سی گئی تھی۔
وہ کل صبح ہی یہاں پہنچا تھا اور شاید ہی کوئی لمحہ گزرا ہوگا کہ اس کے گلے لگ کر ملنے والے دھاڑیں مار مار کر نہ روئے ہوں۔ سانحہ ہی ایسا تھا کہ سب کے جگر کٹ گئے تھے۔یوں تویہ واقعہ پچھلی جمعرات کا تھا۔کفن دفن بھی اسی روز ہو گیا اور سوگ میں بیٹھنے والے قل کے بعد اپنے اپنے دھندوں میں جٹ گئے تھے مگر انیس کے بوسٹن سے آنے کی خبر جسے ملی وہ ایک بار پھر وہاں آیا اور یوں اس سے گلے لگ کر رویا جیسے مرنے والا انیس کا بیٹا نہیں انہی پرسا دینے والوں کا سگاتھا۔ دوسرے روز شام ڈھلے تک رونے والے رو رو کر شاید تھک گئے تھے کہ وہ بیٹھک میں اکیلا رہ گیا۔

وہ گھر میں داخل ہوا تو ماں تخت پرگھٹنے دوہرے کیے کمر دیوار سے ٹیکے بیٹھی ہوئی تھی۔ وہاں بھی ماں کے سوا کوئی نہ تھاتاہم سارے گھر میں جاچکی عورتوں کے بدنوں کی چھوڑی ہوئی باس اور گرمی فرش پر بچھی دریوں اور یہاں وہاں پڑی پیڑھیوں سے اٹھتی محسوس کی جا سکتی تھی۔وہ ماں کے پاس ہی تخت پر بیٹھ گیا۔اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے ساتھ والے کمرے کے دروازے کے اندر جھانکا اور اندازہ لگا لیا کہ ابا وہاں نہیں تھے۔یقیناً وہ ابھی تک مغرب کی نماز پڑھ کرمسجد سے نہیں آئے تھے۔اسے یاد آیا اباکا معمول رہا تھا وہ مغرب کی نماز سے پہلے مسجد چلے جاتے اور عشا کی پڑھ کر ہی لوٹا کرتے تھے، گویا ان کاا بھی تک وہی معمول تھا۔

اُس نے اپنا سر ماں کے گھٹنوں پر ٹیک دیا تو اس نے اپنا دایاں ہاتھ بیٹے کے سر پر رکھ دیا اور انگلیاں اس کے گھنے بالوں میں گھسیٹر لیں۔

“میں کہتی رہی،میرے انیس کے آنے کا انتظار کرو مگر سب کہتے تھے، امریکہ بہت دور ہے وہ جنازے تک نہ پہنچ سکے گا۔ “

ماں نے سر سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اور دوپٹے میں منہ چھپا کر گسکنے لگی۔

“ چھوٹے کفن میں لپٹا دُکھ کتنا بھاری نکلا بیٹا انیس، تمہارے توقیر کی ماں کی لاش سے بھی بھاری۔ “

انیس کی بیوی لائبہ کو مرے سولہواں سال ہو چلا تھا اور امریکہ گئے انیس کو نواں سال۔

لائبہ توقیر کو جنم دیتے ہی مر گئی تھی،اُسے شہر کے ہسپتال لے جایا گیا مگر شاید بہت دیر ہو چکی تھی،وہ زچگی کے درد سہتے سہتے نڈھال ہو چکی تھی اور ترغیب دینے پر بھی اپنے رحم میں کہیں اُلجھے بچے کو زور لگا کر نیچے دھکیلنے کی رَتی بھر کوشش نہ کر رہی تھی،ڈاکٹروں نے اپنے تئیں بہت جلدی کی مگر وہ آپریشن سے پہلے ہی دم توڑ گئی، تاہم آپریشن ہوا اور اس کا بچہ بچا لیا گیا۔ بعد میں ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ جب بچہ نیچے کھسک رہا تھا تب کہیں انول نال اس کی گردن کے گرد پھندے کی صورت لپٹ گئی تھی۔یہ تو اچھا ہوا زچہ کو ہسپتال لے آیا گیا ورنہ بچے نے بھی انول نال سے پھندا لے کر مر جانا تھا۔

بچہ جو لگ بھگ سولہ سال پہلے ماں کے رحم میں پھندا لے کر مرنے سے بچ گیا تھا، گولیوں سے بھون کر مار ڈالا گیا تھا۔

مرنے والا اپنی زندگی میں بھی زندوں میں تھا ہی کہاں۔آٹھ سال کا ہوگا کہ اُس کی گردن ایک طرف کو مٹر گئی اوروہ ڈھنگ سے بول نہیں سکتا تھا۔خیر وہ اپنے دادا اور دادی کے گھر کی رونق تھااور وہ اسی میں اپنے انیس کی جھلک دیکھ دیکھ کر جیتے تھے مگر اب جب کہ انہوں نے اس کی ننھی منی لاش دیکھ لی تھی،اُنہیں کھٹکا سا لگ گیا تھا کہ اب وہ دونوں بھی بس مہمان ہی تھے۔ ماں نے بیٹے کو ٹیلی فون ملوایا، خوب بین ڈالے اور اتنی منتیں کیں کہ بیٹے کو سب کچھ چھوڑ چھاڑکرواپس آنا پڑا۔

چوتھے روز وہ پہنچا تو سارا دن اور رات گئے تک کا وقت روتے رُلاتے گزر گیا۔ اگلے دن شام تک جنہیں پرسا دینا تھا، دے چکے تھے،جب سب چلے گئے اوروہ اندراپنی ماں کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا تو تب تک وہ بھی رو رو کر تھک چکی تھیں۔ا ب وہ اپنے بیٹے سے اور طرح کی باتیں کرنا چاہتی تھیں۔ ایسی باتیں جو اس کے بجھے ہوئے دل میں زندگی کی اُمنگ بھر دیں۔پہلی کوشش میں وہ کامیاب نہ ہو پائیں کہ اُن کا جی بھر آتا تھا،خوب ضبط کیا،حلقوم کی طرف اُٹھتے گولے کو نیچے دبایا اور ہونٹوں کو سختی سے باہم بھینچ لیا۔اُن کا پکا ارادہ تھا کہ دل پر قابو رکھیں گی یا شایدخود ہی اندر سے کچھ اور طرح کی اُمنگ جاگ اُٹھی تھی کہ اندر سے اٹھتا غبارواپس گرنے لگا تھا۔ایسے میں انہیں کچھ وقت لگ گیا تاہم اب وہ سہولت سے اپنے ماضی کی طرف بھٹک سکتی تھیں۔یہ ان کا پسندیدہ علاقہ تھا، سو بھٹک گئیں:

“ میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی کہ میری ماں، جسے میں بے بے کہا کرتی تھی، میرے سر پر آ کر کھڑی ہوئی اور ناراض ہو کر کہا: نی نکیے حیا کر، آج تیرا ویاہ ہے اور تو گڑیوں سے کھیل رہی ہے۔میں نے کہا:بے بے، آج تو میری گڑیا کی شادی ہے۔بے بے نے مجھے بازو سے پکڑا اور کھینچ کر اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا۔پھر میرے ہاتھ سے گڑیا اور رنگ برنگے پٹولے لے کر انہیں غور سے دیکھتے ہوئے کہا: “جھلیے تمہیں اس گڑیا سے بھی سوہنے کپڑے پہنائوں گی۔اس وقت میں یہی سمجھتی تھی کہ شادی خوب صورت اور کام والے کپڑے پہننے کانام تھا،میں جھٹ تیار ہوگئی،کہا :بے بے،پھر تو میں شادی ضرورکروں گی۔بے بے ہنسی مگر میں نے دیکھا اس کی آنکھیں جیسے چھلکنے کو تھیں۔”

ماں کی آنکھیں بھی چھلک پڑی تھیں۔

سید پور کی کچھ آبادی اُونچائی پر تھی جسے اُچی ڈھکی کہا جاتا اور باقی تھلی پانڈی میں۔یہ گاؤں پہاڑی سلسلے کے دامن میں کچھ اس طرح واقع تھا کہ لگ بھگ سو سواسو گھر پہاڑی کے اُبھار پر تھے اور باقی آبادی نیچے ہموار میدان میں پھیلی ہوئی تھی۔ماسٹر سلیم الرحمن کا مکان اُچی ڈھکی پر تھا۔تین کمرے اور ایک بیٹھک ایک قطار میں تھے اور سامنے لمبوترا برآمدہ تھا جسے پسار کہا جاتاتھا۔ اسی پسار کی بغل میں رسوئی بنالی گئی تھی جس کے سامنے دیوار سے لگے تخت پرماں کا زیادہ وقت گزرتا تھا۔ابا بھی گھر میں ہوتے تو وہیں آ بیٹھتے۔ جب ماں بیٹا باتوں میں مگن تھے تو بیچ میں چپکے سے ماسٹر صاحب بھی وہاں آکر بیٹھ گئے تھے۔ اپنی شادی کے قصے کا یہ حصہ سنا تو کھلکھلا کر ہنس دیے اور کہا:

“ بیٹا محمد انیس،اپنی ماں کی باتوں سے یہ نہ سمجھنا کہ میں شادی کے وقت بہت عمر رسیدہ تھا اور تمہاری ماں کم عمر بچی،ہم دونوں ہی کم سن تھے،اگر یہ بارہ تیرہ سال کی ہوں گی تو میں پندرہ سولہ سال کا تھا،تب یہی عمر ہوتی تھی شادی کی۔”

جب ماسٹر صاحب ہنس رہے تھے تواُن کے گال اور بھی زیادہ سرخ ہو گئے تھے۔ ان کی سفید داڑھی پر مدہم روشنی پڑرہی تھی مگر ہنسنے سے لگتا ساری روشنی ایک ایک بال سے پھوٹ رہی تھی۔ دونوں ماں بیٹے کو باپ کا یوں ہنسنا اور سارے میں ایک نور کی خنکی سی بھر دینا اچھا لگ رہا تھا۔ ماں نے چھچھلتی نظر بیٹے پر ڈالی اور پھر اپنے شوہر کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر گزرے وقتوں کو یاد کرنے لگیں:

“تمہارے ابا کا رنگ ایسا تھا جیسے کوئی دودھ میں شہد ملا دے۔ اب بھی ویسا ہی ہے مگر تب ایک اور طرح کی چمک سی اٹھتی تھی اس رنگت سے، کم سنی والی انوکھی چمک۔گھڑولی بھرنے والی رات میری سہیلیوں نے تب ایک گانا پہلی بار تیار کرکے گایا تھا، جی خود گھڑ کر، خاص تمہارے ابا کی مناسبت سے۔ پھر تو یہ گانا اتنا مشہور ہوا کہ تب سے اب تک سب شادیوں میں گایا جاتا ہے۔”
ماں نے دایاں ہاتھ کان پر رکھا اور بایاں قدرے فضا میں بلند کر دیا:

“گھر اُچی ڈھکی تے رنگ سوہا بھلا۔۔۔ ہو سوہا بھلا “۔

ماں کی آواز میں عجب طرح کا لوچ اور رس تھا۔ ان کی آنکھیں بند تھیں اور آواز سارے میں تھرا رہی تھی۔ ماسٹر صاحب نے ادبدا کر بیوی کو گانے سے روک دیا،کہنے لگے :

“ ماتم والا گھرہے نیک بختے،آنڈھ گوانڈھ والے سنیں گے تو کیا کہیں گے۔”

تاہم وہ آنڈھ گوانڈھ سے بے خبر رات گئے تک باتیں کرتے رہے، ادھر ادھر کی باتیں، یوں جیسے اب وہ ماتم والا گھر نہیں تھا۔

ماسٹرصاحب کہا کرتے تھے:زندہ رہ جانے والوں کو اپنی موت تک زندہ رہنے کے جتن کرنا ہوتے ہیں،اسی حیلے کو بروئے کار لا کر وہ اپنے دلوں سے گہرے دُکھ کا وہ بوجھ ایک طرف لڑھکانے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے مگر ناس مارے دکھ کا برا ہو کہ دکھ کے گولے کو حلقوم سے پیچھے دھکیل دینے والی عورت کے ایک ڈیڑھ جملے سے وہ غم تینوں کے دلوں پر بھاری پتھروں کی طرح پھر سے آ پڑا تھا۔اگلے لمحے میں وہ تینوں اپنے اپنے بستروں میں دبکے ایک دوسرے تک اپنی سسکیوں کی آوازیں پہنچنے سے روکنے کے جتن کر رہے تھے۔ اماں نے اُٹھتے اٹھتے کہا تھا:

“ بیٹا انیس،جس عمر میں تمہارے ابا کے سر پر سنہرے تاروں والا سہراسجا تھا عین اس عمر میں تمہارے معصوم بیٹے کی لہو میں لتھڑی ہوئی لاش میں نے اس گھر کے صحن میں دیکھی ہے۔ ہائے کہ یہ لاش دیکھنے سے پہلے میں مر کیوں نہ گئی تھی۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماسٹر سلیم الرحمن عمر بھر محکمۂ تعلیم سے وابستہ رہے تھے اور نکہ کلاں کے مڈل سکول سے ہیڈ ماسٹر ہو کر ریٹائر ہوئے۔تاہم اپنی ملازمت کے اسی عرصے کسی نہ کسی مسجد سے ضرور وابستہ رہے۔ سید پور گاؤں میں یا پھر آس پاس کے علاقوں میں ایسا نہیں تھا کہ کوئی کسی مسجد کا پیش امام ہو یا نماز جمعہ پڑھاتا ہو اور سرکار کی ملازمت بھی کرے کہ اسے بالعموم نادرست سمجھا جاتا تھا۔ ماسٹر صاحب بھی اسے غلط سمجھتے تھے کہ امامت اور خطابت کا معاوضہ لیں۔ وہ اسے پیشہ نہیں بنانا چاہتے تھے۔ ماسٹر صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد، سید پور والوں کی درخواست پر، وہاں کی جامع مسجد سے وابستہ ہوگئے تو انہوں نے اس خدمت کے بدلے کوئی معاوضہ نہ لینے کے اصول کو قائم رکھا۔اس بات سے گاؤں والوں کی نظر میں اُن کی عزت بڑھ گئی تھی۔ تاہم یہ بھی واقعہ ہے کہ ماسٹرصاحب اپنے متنازع نظریات کی وجہ سے،علاقہ بھر کے لوگوں میں ہمیشہ موضوع بحث بنے رہتے تھے۔ایٹم بم کے دھماکے کرنے والے دن کو جب یوم تکبیر کہا گیا تو جمعہ کے خطبے میں انہوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام تو سلامتی والا مذہب ہے اس میں ہر ایسا ہتھیار استعمال کرنا حرام ہے جو جنگ کرنے والے شخص اور عام شہری میں تمیز نہ کر سکے،جو اپنے ہدف پر پڑتے ہوئے بچوں، عورتوں،بوڑھوں، فصلوں اور جانوروں کوبھی نشانہ بنالے۔ وہ کہتے: جنہیں میرے پیارے آقا ؐنے پناہ اور امان دی ہے، اُن بے گناہوں کو مارنے والا ہتھیار حلال نہیں ہو سکتا۔

مولوی افضال نے تو کئی بار ان کے خلاف مہم چلائی تھی کہ اپنے فاسق خیالات کی وجہ سے وہ امامت کے لائق نہیں رہے مگر وہ ہر بار بچ جاتے رہے۔ مولوی افضال کے مطابق “ماسٹر، ماسٹر تھا عالم نہیں تھا اور جب اس ماسٹرنے سود کو بھی حلال قرار دیا تھا تب ہی انہیں جامع مسجد سے نکال باہر کرنا چاہیے تھا۔ “

یہ سود کو حلال کرنے والا قصہ بھی عجیب ہے۔اسی گاؤں میں ایک بیوہ تھی، حاجراں،اس نے بہت مشقتوں میں پڑ کر اپنے بیٹے کو پڑھایا۔اسے ڈگری مل گئی مگر پچھلے دو سال سے بے روزگار تھا۔خدا خدا کرکے اس نے ایک بنک میں ملازمت حاصل کر لی۔ حاجراں مولوی صاحب کے گھر کام کرتی تھی اب جو بیٹے کو پہلی تنخواہ ملی تو اس نے وہاں کام کرنا چھوڑ دیا۔مولوی صاحب نے حاجراں کو بلواکر کہا: “بیٹے سے کہو نوکری چھوڑ دے کہ بنک سود ی کاروبار کرتے ہیں جو حرام ہے۔”مولوی صاحب نے صاف صاف کہہ دیا: “تم نے ساری عمر محنت مشقت سے حلال کمایا اور بچے کو حلال کا لقمہ دیا ہے،یہ نوکری نہیں چھوڑے گا تو ساری عمر کی نیکیوں سے ہاتھ دھو بیٹھو گی اور جہنم کا ایندھن بنو گی۔” حاجراں کے بیٹے کو بہ مشکل نوکری ملی تھی مگر وہ حرام کھانا چاہتی تھی نہ اس کا بیٹا۔بیٹے سے مشورہ کیا تو وہ بھی پریشان ہو گیا، اسی پریشانی میں وہ ماسٹر صاحب کے پاس پہنچے، انہوں نے ساری بات توجہ سے سنی اور کہا: “تمہارے بیٹے کی کمائی حرام نہیں ہے۔”

بات گاؤں بھر میں پھیل گئی۔سب کا ماننا تھا کہ سود حرام تھا اور بنک سودی کاروبار کرتے تھے۔لوگوں کے اعتقاد اور جذبات کو مولوی افضال نے خوب بھڑکایا اور پھرایک روز وہ اپنے ساتھیوں سمیت جامع مسجد جا پہنچا،یوں لگتا تھا ماسٹر صاحب کو مسجد سے الگ کر دیا جائے گا۔خیر ماسٹر صاحب نے مولوی افضال سے کہا:’ اگر آپ سب لوگ کچھ وقت کے لیے تشریف رکھیں تو ہم یہ مسئلہ سمجھنے کی طرف آ سکتے ہیں۔” لوگ سکون سے بیٹھ گئے۔ انہوں نے پہلے قرآن پاک کی وہ آیات تلاوت کیں جن میں سود کو حرام اور تجارت کو حلال قرار دیا گیا تھا۔پھر احادیث کی کتب سے متعلقہ حدیثیں بیان کیں اور آخر میں سیرت پاک کا واقعہ سنانے لگے، وہ واقعہ جس کے مطابق حضرت خدیجہؓ نے حضور اکرم ؐکے لیے پیغام بھیجا تھا کہ ان کا اسباب لے کر تجارت کریں اور متعلقہ کتاب سے پڑھ کر سنایا کہ آپ ؐنے تجارت کی تھی اور چوں کہ آپؐ مکہ میں سب سے بڑھ کر صادق اور امین تھے لہٰذا اس کاروبار میں خوب منافع بھی کمایا تھا۔یہاں پہنچ کر ماسٹر صاحب نے مولوی افضال سے سوال کیا:” میرا پوچھنا یہ ہے کہ یہ تجارت تو جناب رسالت مآبؐ کر رہے تھے، منافع حضرت خدیجہؓ کو کیوں ملا؟” مولوی ا فضال نے ترت کہا :” اس لیے کہ سرمایہ حضرت خدیجہؓ کا تھا۔”ماسٹر صاحب مسکرائے۔”ٹھیک “ پہلو بدلا اور کہا:
“ گویا اسلام میں سرمایہ کاری حرام نہیں ہے۔ہاں اسلام میں سود حرام ہے۔ایسا قرض، جس کے ذریعے ضرورت پوری کر لی جائے اور سرمایہ ختم ہو جائے،اس پر اضافی رقم کا مطالبہ سود ہے اور وہ حرام ہے۔ تاہم ایسی سرمایہ کاری جس میں اصل زر محفوظ رہے اور سرمائے میں بڑھوتری ہوتی ہے، حلال عمل ہے۔ایسے چاہے افراد ہوں یا ادارے،اگر وہ صرف قرض دینے اور وصول کرنے کاکام نہیں کرتے بلکہ سرمایہ کاری کو منافع بخش کاروبار سے منسلک کرتے ہیں، حلال کام کرتے ہیں۔تب انہوں نے مخصوص بنک کا طریقہ کار تفصیل سے بیان کیا، جس میں وہ اس نوجوان کو ملازمت ملی تھی اور کہا: چوں کہ وہ بنک صرف ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری کرتا ہے اور اس امرکو یقینی بناتا ہے کہ منصوبے تکمیل کو پہنچیں اس لیے اس کاکام حلال عمل ہے اور اس نوجوان کا ملازمت کرنا رزق حلال سے جڑنا ہے۔ “

ماسٹر صاحب کا فتویٰ درست تھا یا نادرست مگر اس نئے استدلال نے مولوی افضال کو اُلجھا کر رکھ دیا تھا۔ وہ کچھ لمحوں کے لیے سوچتا رہ گیا تو لوگوں میں سر گوشیاں ہونے لگیں۔ فوری طور پر کچھ نہ سوجھا تو دلیل سے جواب دینے کے بجائے اسے ماسٹر صاحب کاایک ایسا حیلہ قرار دیا جس میں وہ حرام کو حلال بنا رہے تھے تاہم اس بحث کا یہ نتیجہ نکلا کہ لوگ فوری طور پر ماسٹر صاحب کو مسجد سے الگ کرنے سے باز رہے تھے۔

اسی طرح جب سے افغانستان میں شورش شروع ہوئی تب سے وہ جہادی تنظیموں کی کارروائیوں کو خلاف اسلام کہتے آئے تھے۔پہلے پہل اُنہیں روسی ایجنٹ کہا گیا اور جب روس پسپا ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مجاہدین دہشت گرد ہوگئے تو وہ اسی مولوی کی نظر میں وہ امریکی ایجنٹ ہو گئے مگر ان کا موقف بدلنا تھا نہ بدلا۔وہ کہتے تھے کہ نجی جہاد کا یہ عمل انارکی اور تباہی کے نتائج لائے گا اور سب نے دیکھا، ایسا ہی ہوا تھا۔ماسٹر صاحب اُن لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے خودکش حملوں اور ایٹم بم دونوں کو حرام ہتھیار کہا تھا اور دلیل یہ دی تھی کہ دونوں ظالم اور مظلوم میں تمیز نہیں کر سکتے تھے۔جس روز پشاور میں طالبان نے ڈیڑھ سو بچوں کو بے دردی سے مار ڈالا تھا اُنہوں نے فوراً بعد والے جمعے کو بہت درد بھرا خطبہ دیا تھا۔ستم ظریفی دیکھیے کہ اس خطبے والے جمعے کے بعد پڑنی والی جمعرات کوان کا اپنا پوتاتوقیرخود کش حملہ آور سمجھتے ہوئے گولیوں سے بھون ڈالا گیا تھا۔

جب ننھے توقیر کی خون میں لتھڑی ہوئی لاش گھر کے آنگن میں لائی گئی تھی تو وہ بھاگ کرکئی روز پہلے والا وہ اخبار لے آئے تھے جس میں پشاور سکول کے بچوں کی کٹی پھٹی لاشوں کی تصویریں چھپی تھیں۔وہ کبھی اخبار کی طرف انگلی لے جاتے اور کبھی پوتے کی لاش کی جانب،پھر انہوں نے اوپر آسمان کی طرف منھ کیا اور چلاتے ہوئے کہا:” ان بچوں کا کیا قصور ہے میرے مولا۔”یہ بات انہوں نے گڑ گڑاتے ہوئے تین بار کہی،پھر چاروں طرف گھوم کر ہاتھ پھیلائے پھیلائے کہا:”اگر اس دھرتی پر اس ظلم کو روکنے والا کوئی نہیں ہے تو کیا تم بھی۔۔۔۔ “ وہ کچھ کہتے کہتے رُک گئے تھے اور آسمان کی طرف یوں خالی خالی نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے اُنہیں یقین نہیں تھا کہ وہاں کوئی تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہاں وہ تینوں تھے۔ سلیم عرف لالہ، شفیق عر ف جھگڑا اور شریف عرف پھرکی۔

تھٹی نور احمد شاہ کا گورنمنٹ اسلامیہ سکول مدرسہ بھی تھا اور سکول بھی۔ہیڈ ماسٹر صاحب شام مسجد کے صحن میں قرآن،حدیث، فقہ اور سیرت کی تعلیم دیتے جب کہ سکول کی باقاعدہ پڑھائی کمرہ جماعت میں ہوتی تھی۔ ان دنوں ورنیکلر فائنل کے امتحان کے لیے ضلعی دفتر انتظام کرتا تھا۔سلیم اسی امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔اس کے باقی دونوں بھائی نچلی جماعتوں میں تھے۔ سلیم کے لالہ جی کے طور پر سکول بھر میں مشہور ہونے کا قصہ بھی عجیب ہے۔جب ان کے ابا نے سلیم کے دونوں بھائیوں کو بھی تھٹی پڑھنے بھیج دیا تو تینوں وہیں اقامت گاہ میں رہنے لگے۔ شفیق اورشریف دونوں بڑے بھائی کے احترام میں سلیم کو لالہ کہہ کر بلاتے تھے۔دیکھتے ہی دیکھتے سکول کے سارے بچے اُسے لالہ کہنے لگے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ سکول کے ماسٹر بھی اسے لالہ کہتے۔ شفیق بڑا جھگڑالو تھا اور شریف تیز طرار، لہٰذا دونوں اسی مناسب سے جھگڑا اور پھرکی ہو گئے۔اسی زمانے کا واقعہ ہے ایک صبح ہیڈ ماسٹر صاحب نے لالہ سلیم کو بلا بھیجا۔یہ معمول کی بات تھی۔وہ کسان کا بیٹا تھااور مال ڈنگر سنبھالنے کا ہنر رکھتا تھا۔جب ضرورت پڑتی ان کی بھینس کو چارہ ڈالتا اور پانی پلا دیا کرتا۔اس بار بھی یہی کرنا تھا۔ ہیڈ ماسٹر صاحب آٹھویں کا نتیجہ لینے کیمبل پور جا رہے تھے۔ ہیڈ ماسٹر صاحب نے کہا:

“میں شام تک لوٹوں گا دیکھو، میں نے بھینس کو چارہ ڈال دیا ہے۔”

وہ اس بھینس کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ان کی نظریں اس کی سیاہ چمکتی ہوئی کھال پر جمی تھیں اور ہاتھ سے اس کا بدن سہلا رہے تھے۔یکایک انہوں نے سلیم کی طرف دیکھا اور پھر گھر کے سامنے موجود بڑے تنے والے بوہڑ کے درخت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا :

“ کچھ دیر میں بھینس فارغ ہو جائے تو اسے کھول کر وہاں سائے میں لے جا کر باندھ دینا، اور ہاں دن کو اسے پانی بھی پلانا،خیال کرنا کہیں دھوپ میں نہ جھلستی رہے۔”

لالہ سلیم پر ہیڈ ماسٹر صاحب کا بہت اعتماد تھا۔وہ جو ذمہ داری دیتے وہ پوری ہو جایا کرتی تھی۔محنت کرانے والے استاد تھے، طالب علموں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے اور طالب علم بھی ان کے کام جی جان سے کرتے تھے مگراُس روز یوں ہوا کہ بھینس کے گتاوا ختم کرنے تک لالہ سلیم کو وہیں کُھرلی کے پاس انتظار کرنا پڑا۔اس میں اتنی دیر لگ گئی کہ وہ اُکتاہٹ محسوس کرنے لگا تھا۔ گتاوے میں شاید شیرہ تھا کہ آخر میں بھینس کھرلی میں تلچھٹ چاٹنے لگی تھی۔ابھی اس نے بھینس کھولی نہ تھی کہ اس کے بھائیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ وہ اُسے کھیلنے کے لیے بلا رہے تھے۔ اُس نے جلدی سے بھینس کھولی اور اُسے بوہڑ کے نیچے لے گیا۔تنے کے ساتھ پہلے سے ایک رسی بندھی ہوئی تھی جس سے بھینس کو باندھا جا سکتا تھا مگراس کی نظر اچانک اوپر ایک کٹی ہوئی مگرمضبوط شاخ پر پڑی۔ اس نے کھیل ہی کھیل میں تاک کر بھینس کی رسی اُس کی سمت اُچھالی کہ دیکھے وہاں پہنچتی بھی ہے یا نہیں۔وہ سیدھا اُسی ٹھنٹھ میں جاکر اٹک گئی۔ اس نے اسے کھینچا، ایک بار، دو بار،تین بارمگر وہاں رسی ایسی پھنسی کہ نکلتی ہی نہ تھی، حالاں کہ وہ لگ بھگ اس رسی سے لٹک ہی گیا تھا۔ جھگڑا، پھرکی اور دوسرے لڑکے اسے مسلسل بلا رہے تھے ؛ “لالہ !او لالہ آجاؤ۔” اس نے سوچا بھینس ہی باندھنی تھی، بوہڑ کے تنے سے بندھی رسی سے نہ سہی، اسی بوہڑ کے ٹھنٹھ سے ہی سہی۔وہ مطمئن ہو کرکھیلنے نکل گیا۔بیچ میں ایک دفعہ بھینس دیکھنے آیا،وہ مزے سے بوہڑ تلے بیٹھی جگالی کر رہی تھی۔اگرچہ یوں بیٹھے ہوئے اس کی رسی ذرا سی تنی ہوئی تھی اور جگالی کرنے کے لیے بھینس کو اپنی گردن کچھ اوپر اُٹھا کر رکھنا پڑ رہی تھی، مگراس کی نظر میں سب ٹھیک تھا لہٰذا وہ اقامت گاہ کے طعام خانے سے کھانا کھا کر پھر دوستوں کے ساتھ کھیلنے نکل گیا۔ حتٰی کہ سورج سر سے ہوتا دوسری طرف جھک گیا تھا۔

اچانک اُسے ہیڈ ماسٹر صاحب کی آواز سنائی دی۔ “لالہ !او لالہ۔” وہ بھاگم بھاگ پہنچا اور مری ہوئی بھینس کو دیکھ کر بوکھلا گیا۔اس نے ایک ہی لمحے میں اندازہ لگا لیا تھا کہ دھوپ سے بچنے کے لیے بھینس درخت کے دوسری طرف ہو لی تھی۔ایسے میں اس کی رسی تن گئی۔ وہ گری اوراُسے اپنی ہی رسی سے پھندا آگیا تھا۔ہیڈ ماسٹر صاحب پاس کھڑے ہکا بکا اسے دیکھ رہے تھے۔ لالہ کی سانسیں اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے تھیں۔ آخر کار ہیڈماسٹر صاحب نے چہرہ اوپر اٹھایا اور کہا :

“ لالہ یہ تم نے۔۔۔۔”

اُنہوں نے بات نامکمل چھوڑ دی،انا للہ پڑھا، چہرے پر جیسے ایک اطمینان سا آگیا تھا۔ کہنے لگے:

“ خدا کا شکر ہے اسی میں معاملہ طے ہوا،میں تو بہت زیاہ خوش تھا۔”

پھر انہوں نے لالہ کو خبر سنائی کہ اسکول کا نتیجہ سو فی صد رہا تھا اور یہ کہ لالہ نے اس امتحان میں پہلی پوزیشن لی تھی۔
اپنے بچپن کا یہ واقعہ ماسٹر سلیم الرحمن نے بہت دفعہ اپنے بیٹے انیس کو سنایا تھا۔یہ واقعہ سنا کر ہر بار وہ کہا کرتے بچوں کی تربیت استاد اگر اس جذبے سے کرے تو وہ معاشرے کا کار آمد فرد بنتا ہے۔یہی واقعہ وہ اپنے پوتے توقیر کو بھی سنایا کرتے جس کے بارے میں انہیں یقین تھا کہ اپنے دماغ کے خلل کی وجہ سے وہ کم کم ہی سمجھ پاتا ہوگا۔اس واقعہ کو دہراتے ہوئے ہر بار وہ ان مدرسوں میں پڑھنے والوں نوجوانوں کی بابت بھی سوچا کرتے تھے جو کہنے کو تو طالب علم تھے مگر اساتذہ نے انہیں طالبان بنا دیا تھا؛ شقی القلب طالبان۔مذہب کے نام پر ہر قسم کا بدترین تشدد کر گزرنے والے،گردنوں پر چھری رکھ کر شاہ رگ کاٹ ڈالنے والے، کمر سے بارود باندھ کر اپنے آپ کو اوردوسرے بے گناہوں کو اڑا دینے والے،ان سے مسجدیں محفوظ تھیں نہ مدرسے، بازار محفوظ تھے نہ دفاتر اور سب سے شرمناک بات یہ تھی کہ وہ ایسا کرتے ہوئے نعرہ تکبیر بلند کرتے تھے حالاں کہ خوف خدا ان کے دلوں کو چھو کر نہ گزرا تھا۔
عجب طرح کی سوچیں تھیں کہ ماسٹر سلیم الرحمن کا دِل خوف خدا سے لرزنے لگتا تھا۔نہ جانے کیوں اُنہیں یقین تھاکہ گھر گھر سے دہشت پھوٹ پڑنے کاعذاب یونہی اس قوم پر نہیں ٹوٹاتھا،کہیں نہ کہیں کوئی چوک اُن کی نسل سے ہو گئی تھی۔اپنے طالب علموں کو انہوں نے حساب پڑھایا اور انگریزی بھی،وہ اسلامیات پڑھا رہے ہوتے یا اُردو، شاگردوں کی روح سے مکالمہ کرتے تھے۔ ایک زمانے میں وہ ہر طرح کی کہانیاں پڑھ جایا کرتے تھے انہوں نے رنگ رنگ کی کہانیاں پڑھائیںبھی بہت۔ تاہم پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعدانہوں نے منٹو کی ایک کہانی “کھول دو” کا چرچا سنا تو اسے بہ طور خاص پڑھا تھا۔ وہ کہانی انہیں اب رہ رہ کریاد آتی تھی۔پوری کہانی نہیں: کھیت کا وہ منظر جب رضا کاروں کا ٹولہ ایک لڑکی پر ٹوٹ پڑا تھا۔ انہیں لگتا وہ وہیں کہیں تھے اور اپنی آنکھوں سے وہ سارا منظر دیکھ رہے تھے مگر اُسے روک دینے کی قدرت رکھنے کے باوجود ایک لذت بھرے سہم کے اسیر ہو گئے تھے۔ خوف خدا کہیں نہیں تھا، شاید آس پاس خدا بھی نہیں تھا۔ وہ وہیں دبکے سارا منظر دیکھتے تھے اور اب بھی شاید کہیں دبکے سارا منظر دیکھتے ہیں۔ منٹو کے افسانے کے رضاکار،خدائی فوجدار ہو کر مسجدوں کی سیڑھیوں پر کھڑے چندہ بٹورتے ہیں۔ مال داروں کو اُٹھا کر لے جاتے ہیں اور ان کے مالوں سے خدا کا حصہ ہتھیاتے ہیں۔اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ سمجھنے والے یہ خدائی فوج دار یوں تاثر دیتے ہیں کہ جیسے وہ اسی منصب کے لیے اُوپر سے اُتارے گئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“وہ اوپر سے اُترتے تھے،چھتریوں کے ذریعے اور سارے خوف زدہ تھے۔”

ماسٹر صاحب رُکے،کھنگار کر گلا صاف کیا۔شاید ان کا گلا خشک ہو رہا تھا۔انہوں نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو ذرا فاصلے پر بیٹھی اون کا گولا لپیٹ رہی تھی اور کہا :” نیک بختے پانی “۔

اس نے اُون کا گولا ایک طرف رکھ دیا۔پاؤں کھسکا کر تخت سے نیچے لٹکائے اورگھٹنے پر ہاتھ ٹیک کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ایسے میں اُس کے ہونٹوں سے “ہائے” نکلی اور دائیاں ہاتھ خود بخود کمر پر جا ٹکا تھا۔ اُسے وہاں کھچاؤ محسوس ہوا تھا۔تاہم یہ کھچاؤ وہاں شاید وہ اِتنی ہی دیر کے لیے تھا کہ اب وہ اسے بھول کر سیدھی کمر کے ساتھ چل رہی تھی۔ اس نے ماسٹر صاحب کی چارپائی کے پاس پڑے میز پر خالی گلاس دیکھا اور اسے اٹھا کر پانی لینے باہر نکلتے نکلتے کہنے لگی :

“اس معصوم کو کیا بتاتے ہو “۔

ماسٹر صاحب نے ننھے توقیر کی سمت دیکھا: اس کی گردن دائیں جانب جھکی ہوئی تھی اور ہونٹوں سے رال بہہ رہی تھی۔ اتنے میں اس کی بیوی پانی کا بھرا ہوا گلاس لے کر پہنچ گئی تھی،ماسٹر صاحب کہنے لگے :

“ہاں تم ٹھیک کہتی ہو،اس بے چارے کو کیا سمجھ۔”

ننھے توقیر کا بدن زور سے لرزا اور اس کی گردن پر اس کا سرجھٹکے لینے لگا، لگتا تھا وہ سب سمجھ رہا تھا،اپنی توتلائی ہوئی لکنت میں کہنے لگا:

“ممومو جھے سمجھ اے،سب سنوں گا،اوووپر والے،چھتررری والے “۔

ماسٹر صاحب کی بیوی بھی پاس ہی بیٹھ گئی،گزرے وقتوں کو یوں یاد کرنا اسے اچھا لگ رہا تھا۔ ماسٹر صاحب کو اب بات سنانے میں لطف آنے لگا تھا،کہنے لگے :

“وہ دوسری بڑی جنگ کا زمانہ تھا، مجھے یاد ہے رمضان کا مہینہ تھا،لام، جرمن فوج اور فوجیوں کا چھتریوں کے ذریعے اترنا، اس طرح کی باتیں ہمارے کانوں میں پڑتی رہتی تھیں۔ایک مرتبہ یوں ہوا کہ ہم ایک منصوبے کے تحت،تراویح کی جماعت میں سب سے آخری صف میں کھڑے ہوئے اور جوں ہی لوگ سجدے میں گئے، پیچھے سے کھسک لیے،اقامت گاہ میں اپنے اپنے کمروں میں گئے،خاکی نکریں پہنیں اور اوپر بنیانیں؛ وہی وردی جو ہم پہن کر پی ٹی کرتے تھے۔پھرچھتریاں لیں اور گاؤں کی ایک طرف سے سیڑھیاں چڑھے اور گھروں کی چھتوں سے بھاگتے،رکاوٹیں الاہنگتے پھلانگتے دوسری طرف سے اُتر گئے۔اس زمانے میں شاید ہی کو ئی مکان پکا ہوتا ہوگا، سب مٹی گارے کے بنے ہوئے اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ شدید گرمی کا موسم تھا۔ ابھی بجلی نہ آئی تھی لوگ چھتوں پر کھاٹیں بچھا کر سویا کرتے۔جسے مچھر دانی جڑتی، وہ مچھر دانی لگا کر ورنہ یونہی کمر کی چادریں اوپر تان کر سوجایا کرتے تھے۔ہم گاؤں کی چھتوں پر چھاتے لیے بھاگ رہے تھے اور اپنے پیچھے ایک ہنگامہ اٹھاتے جارہے تھے۔ہم صاف مردوں اور عورتوں کے شور اور چیخوں میں سن سکتے تھے :

“جرمن آگئے”، “چھتریوں والے اتر گئے”، بچاؤ بچاؤ”۔

ہم دوسری طرف سے اُتر گئے۔کمروں میں گئے اور کپڑے بدل کر پھر تراویح میں شامل ہو گئے، یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔خیر رات بھر یوں لگتا تھا جیسے لوگ چھتریوں والے جرمنوں کو ڈھونڈتے رہے تھے، کلہاڑیاں، ڈنڈے جس کے ہاتھ جو لگا، تھاما اور گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ہم اپنے تئیں خوف زدہ ہو گئے،اگلے روز شہر کے تھانے سے پولیس آئی،پولیس والے ہیڈ ماسٹر سے بھی ملے تھے۔ شاید انہوں نے سمجھا بجھا کر انہیں واپس کر دیا تھا۔ہماری پیشی ہو گئی۔ہیڈ ماسٹر صاحب کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا،انہوں نے ہماری طرف دیکھ کر وقفے سے دو بار یوں زور سے “ہونہہ،ہونہہ” کیا تھا کہ ان کا کلف لگا شملہ جھولنے لگا، انہوں نے ہونٹ سختی سے بھینچے ہوئے تھے اور نرخرہ اوپر نیچے تھرک رہا تھا جیسے زور سے آئی ہنسی دبا رہے تھے،اسی کیفیت میں ان کا ڈنڈا فضا میں بلند ہوا اور کہنے لگے :
“ چھتری والے جرمن، تمہاری پی ٹی کی وردیاں پہن کر گاؤں میں اترے تھے۔”

بہ مشکل اُنہوں نے جملہ مکمل کیا اوران کے ہونٹوں سے ہنسی کا فوارہ پھوٹ بہا۔

“لالہ !تم بھی بہت شریر ہو۔ دفعان ہو جاؤ”۔

ہم عجلت میں ہیڈ ماسٹر صاحب کے کمرے سے نکل آئے تھے مگر میں نے پلٹ کر دیکھا تھا وہ اپنی میز پر ایک ہاتھ رکھے اور دوسری سے پیٹ دبائے ہنس رہے تھے۔”

جس رات ماسٹر صاحب نے یہ واقعہ سنایا تھا اس رات ننھا توقیر چپکے سے اپنے گھر سے نکل گیا تھا۔ توقیر کے پیدا ہونے سے قتل ہونے تک کا ایک ایک لمحہ دادا،دادی کے دلوں پر نقش تھا۔ اُس نے آنکھ کھولی تو ماں نہیں تھی، ڈھنگ سے رشتوں کو پہچاننا شروع کیاتو باپ ملک چھوڑ کر چلا گیا۔باپ کے جانے تک وہ بھلا چنگا تھا مگر ایک رات وہ اُٹھا تو اُس کی گردن درد سے ٹوٹ رہی تھی۔اُسے ہسپتال لے جایا گیا، کئی ٹسٹ ہوئے اور پتا چلا اسے گردن توڑ بخار تھا، علاج ہوتا رہا مگر وہ گردن سیدھی رکھنے کے قابل نہ ہو سکا،چلتا تو سر سے پیر تک جھٹکے کھاتا،بولتا تو زبان میں تتلاہٹ آ جاتی، بات کرتے کرتے بھول جاتا،کبھی کبھی ایک بات میں دوسری کو ملا دیتا تو سننے والوں کے قہقہے نکل جاتے تھے مگر اس بار کچھ ایسا ہوا تھا کہ سب کی چیخیں نکل گئی تھی۔شاید رات دادا سے جو سنا تھا اُس میں کچھ خبروں کو ملا کراُس نے ایک منصوبہ بنایا تھا،چھوٹے ذہن سے بڑے لوگوں کو دہشت زدہ کرنے والا منصوبہ۔ اپنے وقت سے کٹا ہوا جنگ کا جو تماشا اِس معصوم کے سامنے کھینچا گیا تھا وہ کچے ذہن پر نقش ہو گیاتھا۔

جب اُس کی لاش لائی گئی تو اسی ننھے بدن پر خون میں تر ایک ڈھیلی ڈھالی جیکٹ تھی۔ یہ وہ جیکٹ تھی جس میں سامنے کی طرف کئی جیبیں بنائی گئی تھیں۔اسے ماسٹر صاحب نے بہت سال قبل حج پر جانے سے پہلے لنڈے بازار سے اس لیے خریدا تھا کہ اِن جیبوں میں پاسپورٹ، دعاؤں کی کتابیں اور کرنسی، کچھ بھی رکھا جا سکتا تھا۔ ننھے توقیر نے اس کی جیبوں میں اپنے کھلونے بھر لیے تھے۔ایک چادر سر پر باندھی اور اس کا پلو پیچھے لٹکنے دیا اور ہاتھ میں وہ کھلوناپستول اُٹھالیا جو باپ نے پچھلے سال امریکہ سے بھیجا تھا۔وہ یہ خیال کر کے ہی خوش ہو رہا تھا کہ لوگ اُس سے ڈر کر بھاگیں گے۔بالکل اسی طرح جیسے اس کے دادا چھتری لے کر نکلے تھے تو بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ اس نے باہر نکلتے ہی اِدھر اُدھر دیکھا اور بھاگتے ہوئے بازار کی طرف ہو لیا۔ وہ کہتا جاتا تھا :
“ میں پھٹ جاااااؤں دا۔۔ میں پھٹ جاؤں داااا”۔

اس کے پیچھے ایک شور مچ گیا تھا :

“خود کش آگیا خود کش آگیا”۔

وہ اس شور شرابے سے اور پر جوش ہو گیا حتٰی کہ وہ جامع مسجد والے چوک میں پہنچ گیا۔ سانحہ پشاور کے بعد اب وہاں بھی پولیس والے کی ڈیوٹی لگ گئی تھی، سپاہی چوکنا ہو گیاکہ اسی عمر کے نوجوان دھماکے سے پھٹ جایا کرتے تھے۔توقیر کی نظراُس پر پڑی،تو ٹھٹھک کر رُکا، پھر یہ سوچ کہ جی ہی جی میں خوش ہوا کہ وردی والے کو ڈرانے میں بہت مزا آئے گا۔اگلے ہی لمحے وہ اُس کی جانب لپک رہا تھا۔پولیس والا واقعی خوف زدہ ہو گیا تھا،اس نے بوکھلا کر بندوق سیدھی کی اور ٹریگر دبا دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لام: جنگ قتلام: قتل عام

Categories
اداریہ

ناموسِ رسالت کےنام پر قتل و غارت بھی دہشت گردی ہے۔اداریہ

پسرور میں تین خواتین کی جانب سے توہین رسالت کے نام پر ایک شخص کو قتل کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست، آئین اور انسانی حقوق کے لیے اگلا خطرہ ناموس رسالت و مذہب کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی ہے۔ ریاست پہلے ہی نفاذ اسلام اور احیائے خلافت کی علمبردار مذہبی تشریحات کی بنیاد پر کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے کوشاں ہے، ایسے میں ناموس رسالت یا حرمت اسلام کے نام پر آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزیوں کا متواتر ارتکاب ریاست کے لیے مذہبی دہشت گردی کا ایک جان لیوا مظہر ہے۔

احیائے خلافت اور نفاذ اسلام کی طرح ناموس رسالت کا تحفظ بھی ایک ایسے دہشت گرد بیانیے اور مسلح جدوجہد کو جنم دینے کا باعث بن رہا ہے جو پاکستانی جمہوریت، آئین اور ریاست کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ ولی خان یونیورسٹی مردان اور پسرور میں توہین رسالت کے الزام کے تحت کیے جانے والے بہیمانہ قتل اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ حرمت رسول اور ناموس رسالت کا معاملہ بھی اب مذہبی عقیدت کی بجائے سیاسی اور معاشرتی اثرورسوخ کے حصول کا محرک بن چکا ہے اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ ناموس رسالت کے نام پر دہشت گردی کے حالیہ واقعات اس لیے بھی زیادہ تشویش ناک ہیں کیوں کہ ممتاز قادری کی صورت میں اس تحریک کو ایک ایسا شہید مل گیا ہے جو حب رسول کی گمراہ کن تعبیروں کو مزید عسکریت پسند بنا رہا ہے۔

تشویش ناک امر یہ ہے کہ ناموس رسالت کے تحفظ اور توہین رسالت کی روک تھام کے لیے ہتھیار اٹھانے والوں کو بھی پاکستان کے مذہبی طبقات کی حمایت حاصل ہے، مذہبی طبقات ناموس رسالت کے تحفظ کے نام پر اس موضوع پر ہتھیار اٹھانے کی مدح سرائی کر رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ توہین رسالت کے نام پر قتل کرنے والے افراد تاحال مشتعل ہجوم یا انفرادی سطح پر قانون کو ہاتھ لینے والے ہیں، ابھی تک نفاذ اسلام یا احیائے خلافت کے لیے سرگرداں طالبان، القاعدہ یا داعش کی طرح منظم عسکری تنظیمیں میدان میں نہیں آئیں تاہم سرل المیڈا نے اپنی حالیہ تحریر میں ممتاز قادری کے مزار کے ایک نئی لال مسجد بننے کےجس خدشے کا اظہار کیا ہے وہ حقیقی ہے اور بعید ازقیاس نہیں۔ یہ جمہوریت، آزادی فکر، انسانی حقوق اور انسانی آزادیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور اس کا ادراک کرتے ہوئے اس کا سدباب کیا جانا ضروری ہے۔ مزید براں یہ کہ دہشت گردی کی یہ لہر صرف علاقائی خطرہ نہیں، شارلی ایبڈو کے دفتر پر حملے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ توہین رسالت کے الزام کے تحت کہیں بھی کوئی بھی دہشت گردانہ کارروائی ہو سکتی ہے۔

ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں نے اگر بروقت دہشت گردی کی اس نئی صورت سے درپیش خطرات کا ادراک کرتے ہوئے خاطر خواہ اقدامات نہ کیے تو یہ واقعات شدت اختیار کریں گے۔ ممتاز قادری کی پھانسی پر عملدرآمد کے حوالے سے یہ بحث کی جا سکتی ہے کہ آیا پھانسی کی سزا ناموس رسالت کے نام پر دہشت گردی کے واقعات روک سکتی ہے یا نہیں تاہم ممتاز قادری کی سزا پر عملدرآمد سے یہ تاثر ضرور ملا تھا کہ ریاست حرمت رسول کے نام پر دیشت گردی کے واقعات سے آگاہ ہے اور ان کے سدباب کے لیے سنجیدہ بھی، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماجی رابطون کی ویب سائٹس پر مبینہ گستاخانہ صفحات کے حوالے سے سماعت اور توہین رسالت کے نام پر قتل و غارت کے متواتر واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اس قتل و غارت کو اسی طرح جائز بالکہ مذہبی فریضہ سمجھتا ہے جیسا کہ طالبان، القاعدہ اور داعش نفاذ اسلام اور احیائے خلافت کے نام پر قتل و غارت کو مذہبی حکم قرار دیتے ہیں۔

توہین رسالت و مذہب کے الزامات کے تحت تشدد اور دہشت گردی کی یہ لہر اس لیے بھی خوفناک ہے کیوں کہ یہ معاملہ پیغمبر اسلام کی حرمت کے نام پر قتل و غارت سے بہت جلد توہین اصحاب، توہین اہل بیت، توہین اولیاء اور توہین مذہبی شعائر کے نام پر قتل و غارت کی صورت اختیار کر لے گا، ریاست، حکومت اور معاشرے کو توہین رسالت و مذہب کے معاملے میں تشدد اور دہشت گردی کی ہر صورت کو مسترد کرنا ہو گا اور ممتاز قادری جیسے دہشت گردوں کو سزا دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا وگرنہ یہ ناسور بھی بہت جلد طالبان، القاعدہ اور داعش جیسے ایسے مسلح جتھوں کو جنم دے گا جو ختم نبوت، حرمت رسول یا تحفظِ اسلام کے نام پر ہمارے سکولوں، ہسپتالوں، عبادت گاہوں پر بہیمانہ حملے کریں گے۔
Categories
شاعری

آؤ گِنیں کتنے مارے گئے

youth-yell

آؤ گِنیں کتنے مارے گئے
آؤ گِنیں
کتنے مارے گئے
کتنے شہید ہو گئے
کتنے غازی
جو شہید نہیں ہوئے اب کہاں جائیں گے
کیا مارنے والے بھی شہید ہوگئے
دوسری طرف سے تو یہی کہہ کے انھیں بھیجا گیا تھا
اور وہ جو مر جاتے تو کتنا اچھا ہوتا
وہ جو اب لنگڑے لولے ہو کر اندھے ہو کر
جب تک زندہ ہیں
کیسی جہنم سے لبریز زندگی گزاریں گے-
آؤ ہاتھ اُٹھا کر دعا کریں
ان کے لئے جنت میں جگہ خالی رہے
Categories
شاعری

اگرگولی کی رفتار سے تیز بھاگ سکتا

اگرگولی کی رفتار سے تیز بھاگ سکتا
اگر شام برستی بارش میں
دفتر سے جلدی نکلنے کی بجائے
فائلوں کی ورق گردانی میں مشغول رہتا
-یا-
کھڑکی سے بھیگے کپڑوں میں ٹہلتی لڑکی کے
خواب چُرانے کی کوشش کرتا
جس کی محبت کی نسل کشی کا آغاز
ہفتے بھر سے زیر بحث ہے

اگر غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے بتیاں بُجھ جاتیں
عذر تراش لیتا
-یا-
گھڑیوں میں گھنٹہ آگے کرنے کی پالیسی
کالعدم قرار نہ پاتی

ایسا بھی ممکن تھا
ریگل کی طرف پیدل چلنے کی بجائے
گرین بس میں سوار ہوجاتا
اور ٹریفک کی بے ترتیب قطاروں میں پھنس کر
صبر کا الٹا پہاڑہ یاد کرتا
-یا-
مزارِ قائد کے سامنے پارک میں
خیراتی ادارے کے سربراہ کی تقریر سنتا
جو روٹی کے فوائد بیان کررہا تھا
-یا-
میں گولی کی رفتار سے تیز بھاگ سکتا
-یا-
اسلامی رسالے
ویلنٹائن کو متفقہ حرام قرار دے دیتے
میں کچھ دن اور زندہ رہ سکتا تھا
اگر۔۔۔۔
میرے ہاتھ میں پھول نہ ہوتے
Categories
شاعری

ظلم کے منہ کو خون لگا ہے

ظلم کے منہ کو خون لگا ہے
وہ پاگل کتوں کی طرح اپنی زنجیروں سے باہر ہے
یا باہر کیا گیا ہے
یہ کون جانتا ہے کس نے کیا ہے
شہر میں منادی ہے
ظلم کے سر کی قیمت رکھی گئی ہے
کوئی جانتا ہے؟
سب جانتے ہیں
ظلم کی گرد ش گلی کوچوں میں دندنا رہی ہے
اختیارات کی رسموں کے دورانیے میں
یہ عہد کیا جاتا ہے

ظلم کو کچھ نہ کہنا
ایک مکاری ان کے چہروں پر ہوتی ہے
جو جانتے ہیں ظلم کی پناہ گاہیں
مکار لظو ں کو باہر کرتے ہوئے
ان کے منہ سے تھوک برآمد ہوتا ہے
جو ان ہی کےچہروں پرچھنٹیں اڑا تا ہے
ا ور ان کے دل اس خوف سے ان کے حلق میں اٹک جاتے ہیں
کہیں ظلم سن تو نہیں رہا
ظلم ان کے ہاتھوں پلا ہوا
اب ایک پاگل کتاہے
Categories
شاعری

رات ہمیشہ تو نہیں رہتی ہے

youth-yell

رات ہمیشہ تو نہیں رہتی ہے
آیتیں سچ ہیں مگر تُو نہیں سچّا مُلّا
تیری تشریح غلط ہے، مِرا قُرآن نہیں
دین کو باپ کی جاگیر سمجھنے والے
تجھ سوا اور یہاں کوئی مسلمان نہیں ؟؟؟

تُو کوئی آج کا دشمن ہے؟؟ بتاتا ہوں تجھے
تیری تاریخ ابھی یاد دلاتا ہوں تجھے
کون تھے مسجدِ ضرّار بنانے والے؟؟
تہمتیں خاتمِ مُرسل پہ لگانے والے؟
آستینوں میں بُتوں کو وہ چُھپانے والے؟
یاد آیا تجھے؟؟ او ظلم کے ڈھانے والے

لاکھ فتنے تری پُر فتنہ زباں سے اُٹھّے
تُو اُدھر چیخا،اِدھر لاشے یہاں سے اُٹھّے
تُو جہاں پیر دھرے،امن وہاں سے بھاگے
دوزخی دھول ترے زورِ بیاں سے اُٹھّے
بھیس مسلم کا، زباں کوفی و شامی تیری
داعشی فکر سے ہے روح جذامی تیری

تُو نے قُرآن پڑھا ؟؟ پڑھ کے گنوایا تُو نے
درس میں بچّوں کو بارود پڑھایا تُو نے
رمزِ سجدہ کو سیاست سے مِلایا تُو نے
لوگ دشمن کے لئے سوچ نہیں سکتے جسے
کارِ بد بخت وہ بچّوں سے کرایا تُو نے

آج دنیا کو جو مسلم کا بھروسہ کوئی نئیں
اِس اذیّت کا سبب تیرے علاوہ کوئی نئیں
تری تفسیرِ غلط فکر نے وہ زخم دئیے
جن کا برسوں تو کُجا،صدیوں مداوا کوئی نئیں

ہُوک اُٹھتی ہے تو سینے کی طرف دیکھتا ہوں
بار بار آج مدینے کی طرف دیکھتا ہوں
دیکھتا ھوں کہ مِرا گنبدِ خضریٰ والا
میرا آقا مِرا مولا مِرا شاہِ اعلیٰ
شافعِ روزِ جزا، عرضِِ گدا سنتا ہے
جس کے ھونے سے یقیں ھے کہ خدا سنتا ہے
خیر کی ایک چمک ھے جو علی کہتی ہے
رات ہے؟؟
رات ھمیشہ تو نہیں رہتی ہے۔۔۔۔!!
Categories
شاعری

عشرہ / خواب جو مٹی ہو گئے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

خواب جو مٹی ہو گئے

[/vc_column_text][vc_column_text]

ہم جو اوڑھ کے سو گئے
سبز ہلالی پرچم
بڑے بڑوں کے خوانچے
بیچیں کیا ہم نیچ
باپ کے منہ پر دیکھو
دکھ کے زرد طمانچے
بن گیا گالی پرچم
ماں کو پتھر دیکھو

 

پھول کفن کے اوپر
پھول کفن کے بیچ

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

آدم بو! آدم بو!!

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

آدم بو! آدم بو!!

[/vc_column_text][vc_column_text]

تم شمشانوں کی خاموشی سے
خوابوں کو پھر باندھ رہے ہو
لو ہے کی نوکیلی باڑیں
دل کےاندرچھید کریں گے۔
جنگی ترانے۔۔۔۔۔۔۔
ارمانوں کے گیت
چرا کر لے جائیں گے
بارودوں کی آگ جلی تو
صحن کے چولھے بجھ جائیں گے
توپوں کی ان آوازوں میں
انسانوں کے خوف بکیں گے
ماں کے آنسو
شہر کا پانی زہر سا کڑوا کر جائیں گے
ہتھیاروں کی دھات تمھاری دھڑکن پی کر
کتبوں اور تابوتوں کی تعمیر کرے گی
نفرت کی آندھی پھر دروازے پر
آدم بو آدم بو چیخ رہی ہے
تم شمشانوں کی خاموشی سے
خوابوں کو پھرباندھ رہے ہو

Image: Necmettin Asma
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

بقا کی دیوار

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بقا کی دیوار

[/vc_column_text][vc_column_text]

خون کے داغ ہیں
کچھ دیر بھی رہنے کے نہیں
کل سحر ہو گی تو بازار سجے گا پھر سے
پھر اسی طور سے بہہ نکلے گا لوگوں کا ہجوم
ایک گوشے میں کسی کاغذی پٹی کی نشانی دے کر
پار جانے سے بھی روکیں گے مگر کچھ دن تک
پھول رکھ دیں گے جو مرجھاتے چلے جائیں گے
پھول تو پھول ہیں اور کاغذی پٹی بھی بہت دن تو نہیں چل سکتی
لوگ ٹھہریں گے ذرا دیر کو چلتے چلتے
ایک آدھ ہاتھ بھی اٹھ جاۓ دعا کو شاید
انگلیاں تھام کے چلتے ہوے بچوں کو ذرا دوسری جانب لے کر
موت اور زیست کے آثار کے بیچ
ایسے آ جائیں گے جیسے اب کے
موت اگر آئی دُعاؤں کو یہ اٹھے ہوے ہاتھ
اس گریبان سے جا الجھیں گے بچوں کے لیے
اپنے لوگوں کے لیے
خستہ تن لوگ مرے
زیست کے گرد اٹھائیں گے بقا کی دیوار
لشکر شاہ کے پالے یہ گرانڈیل جوان
عفریت موت ک گرد
چار پانچ انچ کی اک کاغذی پٹی کا حصار۔۔۔۔۔۔۔

Image: tribune.com.pk
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نقطۂ نظر

یہ پرچم تمہارے حوالے

youth-yell

شہید کیمرامین شہزاد خان کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے کے لئے آنے والے کمانڈر سدرن لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض جب پہنچے تو شہزاد خان کی ننھی پری کو نہ تو تعزیت کرنے والوں کے آنے کا مقصد سمجھ آیا نہ ہی ان کے منہ سے نکلے روایتی افسوس کے الفاظ۔ ہاں وردی اس کے لئے نئی ہو گی، دھماکہ کے بعد تعزیت کے الفاظ بھی نئے ہوں گے، چہرے نئے، گھر آنے والوں کا رش بھی نیا صرف ایک چیز پرانی دکھائی دی جسے اس نے پہنچانا وہ تھا پاکستان کا جھنڈا جو کمانڈر سدرن کے بازو پر لگا دکھائی دیا۔۔۔۔۔۔ شاید اس بچی کو یاد آیا ہوگا کہ وہ اپنے بابا کے ساتھ جشن آزادی کی ایک تقریب میں آتش بازی دیکھ کر آئی تھی جس پر اس کے بابا مسکراتے ہوئے تصویر بنواتے رہے، شاید اسے یاد آیا ہوگا کہ دھماکے سے دو روز قبل اس کے بابا نے پاکستان کا بہت بڑا پرچم بنانے کے تیاری میں حصہ لیا تھا۔ اسے وہ پرچم یاد رہ گیا باقی سب اس کے لئے نیا سا تھا۔ اس پر چم کو غور سے دیکھنے اور چھونے کی کوشش کرنے پر وردی والے کو سمجھ آ گیا کہ یہ بچی وطن کو پہنچانتی ہے تو اس نے وہ پرچم بازوسے اتار کر بچی کو تھما دیا۔ کاش وہ اس بچی کو یہ بھی سمجھا سکتے کہ وہ وردی سمیت کیوں ناکام ہوئے۔ اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران جان کی بازی ہارنے والے شہید کیمرامین شہزاد خان کی بیٹی کو بہت کم عمری میں اتنی بھاری ذمہ داری دے دی گئی، اپنے جسم سے پرچم اتار کر اسے تھمایا گیا تو میرے ذہن میں آیا۔۔۔ لو بیٹا وطن اب تمہارے حوالے!!!

 

ہونا یہ چائیے تھا کہ اپنے رعونت بھرے لہجے مدھم کر کے قوم سے معافی مانگی جاتی، ہونا یہ چائیے تھا کہ قوم کو بتایا جاتا کہ اب ان کے لئے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ لکھتے وقت دل بہت بھاری ہے، آنکھیں نم ہیں لیکن مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ بہت کم ہی یہ کیفیت طاری ہوتی ہے کیونکہ میں بھی اس بے حس قبیلے کی ایک فرد ہوں جہاں کوئی مرے تو وقتی افسوس ہوتا ہے، چار دن کا سوگ ہوتا ہے اور پھر زندگی اپنی ڈگر پر چل پڑتی ہے، پھر کوئی دھماکہ ہوتا ہے دل زور سے دھڑکتا ہے اور پھر تاریخ بدلتی ہے اور دھیان بٹ جاتا ہے۔ ہماری قوم کی حالت اس مریض کی سی ہوگئی ہے جو جاں بلب ہے لیکن پھر بھی جینا چاہتا ہے۔ وینٹیلیٹر پر پڑی اس قوم کی حرکت قلب کو چیک کر نے کے لئے ایک جھٹکا دیا جاتا ہے تو مردہ جسم میں جنبش پیدا ہوتی ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد وہ اسی حالت میں واپس چلا جاتا ہے اور حکمران اور ہماری حفاظت کی ضمانت دینے والے، اس قابل ڈاکٹر جیسے لگتے ہیں جو تجربے کا غرور لئے مریض کی دیکھ بھال اسپتال کے انٹرنیز پر چھوڑ دیتا ہے کہ ان کو سیکھنے کو ملے۔ جب مریض مر جائے تو اس شام سب اس ڈاکٹر کا چہرہ دیکھتے ہیں جو خاندان کے پاس آکر کہتا ہے کہ آئی ایم سوری ہم آپ کے پیارے کو بچا نہ سکے۔۔۔۔ ایوان زیریں میں بھی تو بڑے ڈاکٹر صاحب یہی کہہ رہے تھے کہ مجھے افسوس ہے آپ کا مریض بچ نہ سکا آپ نے مجھ پر اعتبار کیا اس کا شکریہ لیکن زندگی موت تو خدا کے ہاتھ میں ہے جو مرے ہیں ان کے نقصان پر مجھے بھی افسوس ہے لیکن اطمینان رکھئے آئندہ کم مریض مریں گے۔ پھر بڑے ڈاکٹر صاحب بیٹھے تو ان کا معاون اٹھا اور اس نے اپنی بات شروع کی اور بتایا کہ ہمارے ڈاکٹر صاحب کے ہاتھوں کیسز خراب ہونے کی تعداد بہت کم ہے اس اسپتال میں جو پہلے معالج تھے وہ تو علاج کی الف ب تک سے واقف نہ تھے ان کے ہاتھوں تو کئی مریض مرے یہاں تک کہ وی آئی پی مریض تک، جن کی سرجری میں 36گھنٹے گزر گئے۔ قومی اسمبلی میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیر اعظم کی سپاٹ تقریر کے بعد رسم پوری کی اور پوری قوم کو جتایا کہ مشرف کے دور حکومت میں روز تین سے چار دھماکے معمول تھے یہاں تک کہ افواج پاکستان کے محفوظ ترین مقامات و تنصیبات بھی دہشت گردی کی زد پر رہیں۔ بہت خوب جناب۔۔۔ ہونا تو یہ چائیے تھا کہ تسلیم کیا جاتا کہ نیکٹا اور افواج پاکستان سمیت سبھی ادارے جن کی کامیابیوں کی داستانیں روز سنائی جاتی ہیں وہ سب ناکام ہو کر ایک طرٖف ہو گئے ہی اور مٹھی بھر ٹوٹی کمر والے دشمن سبقت لے گئے ہیں۔ ہونا یہ چائیے تھا کہ اپنے رعونت بھرے لہجے مدھم کر کے قوم سے معافی مانگی جاتی، ہونا یہ چائیے تھا کہ قوم کو بتایا جاتا کہ اب ان کے لئے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ ہونا یہ چائیے تھا حکومت، اپوزیشن ایک صفحے پر دکھائی دیتے۔ لیکن قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں بھی بار بار ماضی کا حوالہ دے کر یہ بتایا جاتا رہا کہ دیکھو تمہارے وقت میں لاکھ مرے ہمارے وقت میں ہزار امن تو قائم ہوا ہے ناں۔

 

کوئی ان سے پوچھے کہ اگر کسی ایک کی بھی ناحق لاش گرتی ہے تو کیا ریاست کے نزدیک اس ایک کی اہمیت نہیں؟ میں آج تک اعدادوشمار کے اس کھیل پر مبنی امن حکمت عملی کو نہیں سمجھ سکی۔ کیا ہماری قسمت کے فیصلے کرنے والے یہ طے کرتے رہیں گے کہ فلاں سڑک پر آج سے پانچ سال قبل دس لاشیں گری تھیں آج ایک گری تو امن کا فرق واضح ہے۔جب انتخابات قریب ہوں تو یہی حکمران ووٹ پورے کرنے کے لیے پورا زور لگاتے ہیں کیونکہ اس وقت ان کے لئے انگوٹھے کا ایک ایک نشان اہمیت رکھتا ہے لیکن جب دھماکہ ہو جائے تو لاشوں کی گنتی کر کے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ نقصان کم ہوا ہے، دھماکہ بڑی نوعیت کا نہیں تھا محض پانچ یا دس لوگوں کا مرنا ایسے ہے جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔

 

میں آج تک اعدادوشمار کے اس کھیل پر مبنی امن حکمت عملی کو نہیں سمجھ سکی۔ کیا ہماری قسمت کے فیصلے کرنے والے یہ طے کرتے رہیں گے کہ فلاں سڑک پر آج سے پانچ سال قبل دس لاشیں گری تھیں آج ایک گری تو امن کا فرق واضح ہے۔
پشاور سانحے میں جب 150 زندگیوں کے چراغ بجھیں تو ایک آواز سنائی دی کہ دشمن اب کمزور پڑ گیا ہے تو آسان ہدف اس کا شکار ہیں یہاں پھر وہی سوال ہے کہ عوام کو اگر آسان ہدف سمجھ کر بھوکے بھیڑیوں اور کتوں کے سامنے چھوڑ دیا گیا ہے تو جنگل کا بادشاہ شیر آج کل کہاں ہوتا ہے؟ یہ شیر انتخابات میں ہی جنگل کی سیر کو نکلتا ہے یا پھر دوسرے جنگلوں کا دورہ کرنے؟ چلیں جناب ان کو چھوڑیں اس شیر نے ملک کی حفاظت کی کمان جنہیں دے رکھی ہے ان کا جنگل میں کیا کام ہے؟ جنگل میں باہر سے کوئی آ کر حملہ نہ کرے اس مقصد کے لیے خاردار باڑ لگانے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے، کوئی ہتھیار سے وار نہ کردے تو ہم نے بھی ہتھیار بنا کر دشمن کو جتا دیا۔ لیکن خاردار باڑ لگانے والے جنگل کی تلاشی لینا بھول گئے۔ تلاشی سے یاد آیا کوئٹہ سانحے کے بعد سے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کومبنگ آپریشن کا حکم دے دیا۔ چلیں کوئی بات نہیں جہاں اتنے آپریشن ہوئے ایک اور سہی اب وینٹیلیٹر پر پڑے مریض کو موت سے بچانے کے لئے ایک دوا اور سہی ایک نیا ڈاکٹر آزمانے میں حرج ہی کیا ہے؟ لیکن یاد رہے قاتل اسپتال میں ہی کہیں گھوم رہا ہے آپ دوا ڈھونڈنے نکلیں گے اور وہ زہر کا ٹیکہ لگا کر اپنا کام کر جائے گا۔ ویسے ٹوٹی کمر والا یہ دشمن کمر سے نہیں دماغ سے کام کرتا ہے، سانحہ پشاور ہو، یا واہگہ بارڈر دھماکہ، سانحہ لاہور ہو یا سانحہ کوئٹہ دشمن نے ٹوٹی کمر کے ساتھ کامیاب سرجری کی اور ہمارے معالجین نے آ کر صرف یہی کہا کہ آئی ایم سوری ہم آپ کو نہیں بچا سکے۔

 

حالیہ اجلاس بھی بلند و بانگ دعووں، افواج کی ستائش، حملہ آوروں کی مذمت، عوام کے لیے ڈھکوسلوں، قرادادوں اور تقاریر کے بعد تمام ہوا، فوج اور ایجنسیوں کی جانب سے کومبنگ آپریشن کا آغاز ہوا اور ایک بار پھر کسی لنگڑے لولے نے کوئٹہ کی زرغون روڈ پر دھماکہ کر کے بتا دیا کہ ٹوٹی ہوئی کمر کے لوگ اکڑی ہوئی گردنوں سے بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ یہ دشمن آخر ہے کون اور ان کے حواری آپ کے جدید ہتھیاروں، کاری ضربوں اور خفیہ ایجنسیوں کے باوجود کہاں سے چھلاوہ بن کر آتے ہیں اور دھماکہ کر کے آپ کو چونکا جاتے ہیں؟ تو صاحب دشمن منصوبہ بندی آپ کی لگائی ہوئی باڑ کے باہر کرتا ہے اور پھر آپ کے دھتکارے ہوئے نظر انداز کیے ہوئے، ناانصافی کی چکی میں پسے ہوئے دلبرداشتہ ذہنوں کو خریدتا ہے۔ یہ دشمن وہی ذہن اور جسم خریدتا ہے جو جنگل کے اندر موجود ہیں۔ دشمن ان کو جنت کا راستہ دکھا کر عوامی مقامات پر حملے کرواتا ہے اور آپ کہتے رہ جاتے ہیں کہ یہ وطن ہمارا ہے ہم ہیں پاسبان اس کے۔ ڈھونڈنا ہے تو ان کو ڈھونڈیں جو ان لوگوں کے ہاتھوں بک رہے ہیں وہ غیر نہیں آپ کے اپنے ہیں۔ ان کے چارہ گر بنیں ان کے ٹوٹے دلوں کی رفو گری کریں اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ آپ نے کس کا حق چھینا کس کے ساتھ ناانصافی کی؟ کس کو زیادہ نوازا کس کا حق چھین کر اپنے منہ میں نوالہ ڈالا صرف ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کا حوصلہ کیجئے جوابات ملنا شروع ہوجائیں گے، لوگ ملنا شروع ہوجائیں گے ڈھونڈیے اس شخص کو جو اپنے وطن سے پیار کرتا ہوگا اس پر جان نثار کرنے کا متمنی بھی ہوگا مثبت ذہن بھی رکھتا ہوگا کچھ کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہوگا کہیں اس کو وطن سے محبت کرنے پر ناحق تو نہیں بھینٹ چڑھا دیا گیا؟ کہیں اس کا حق کسی نااہل کو تو نہیں دے دیا گیا۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یاد رکھئیے گھر کو آگ لگتی ہے گھر کے چراغ سے۔

 

یہ دشمن آخر ہے کون اور ان کے حواری آپ کے جدید ہتھیاروں، کاری ضربوں اور خفیہ ایجنسیوں کے باوجود کہاں سے چھلاوہ بن کر آتے ہیں اور دھماکہ کر کے آپ کو چونکا جاتے ہیں؟
شہزاد خان ہو یا اس جیسے ہزاروں سپوت جنھوں نے آگ کو لگتے دیکھا اس میں خود کو جلتا پایا جب ان کی جانیں نکل رہی ہوں گی تو زند گی کے کون کون سے لمحات، اپنے پیاروں کے چہرے ان کی نظروں کے سامنے آئے ہوں گے؟ کئی لمحات تو ایسے ہوں گے جو ان کی زندگی کے سب سے خوبصورت لمحے ہوں گے اس نے اپنی بیٹی کو یاد کیا ہوگا، گھر اور اس کا خیال رکھنے والی بیوی کا بھی آیا ہوگا یا پھر یہ سوچا ہو گا کہ اگر جانے کا وقت آگیا ہے تو میرے اپنے میرے بعد خود کو کیسے سنبھالیں گے میں نے تو ان کی عادتیں ہی بگاڑ ڈالیں۔ شاید وہی ایک لمحہ ایسا تھا جب شہزاد کی بیٹی نے بابا کی وطن سے محبت کو پہلی بار اپنے شعور میں محفوظ کیا ہوگا تب ہی اس کا ہاتھ بلوچستان کی حفاظت پر مامور سب سے بڑی ملٹر ی کمپنی کے کرتا دھرتا کی وردی پر لگے پرچم کی جانب بڑھا تھا۔ نہ تو اس بچی تو اس وردی نے متاثر کیا نہ شام کو ہونے والی جنگل کے شیر کی تقریر نے، صرف ایک لمحے کو سوچئیے آج یہ ننھا ہاتھ پرچم مانگنے کے لئے آگے بڑھا ہے یہ جو ستر سے زائد خاندان بے سہارا ہوئے ہیں اور ان جیسے لاکھوں اور کل کو ان کے ہاتھ آپ کے گریبانوں تک نہ پہنچ جائیں ان چراغوں کو کوئی غیر جلنے کے لئے ایندھن ادھار نہ دے ڈالے۔۔۔۔۔۔۔
Categories
نقطۂ نظر

دہشت گردوں کے مددگار اور سہولت کار

چھ ستمبرکوشہدائے پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جی ایچ کیو راولپنڈی میں خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ آج پاکستان پہلے سے زیادہ مضبوط، قوم پہلے سے زیادہ پرعزم ہے، دہشت گردوں کو شکست اور ریاست کی بالادستی قائم ہوگئی ہے، دہشت گردوں کے مددگاروں اور سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچاکر دم لیں گے۔ دو ستمبر کووزیراعظم نوازشریف نے آزادکشمیر باغ میں اپنے خطاب میں دہشت گردی کے حوالے سے کہا کہ فوج اور عوام طے کرچکے دہشت گردی کو ہر قیمت پر ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کریں گے، دہشت گردوں کا خاتمہ کرکے عالمی برادری کو مستقل امن کا تحفہ دیناچاہتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کےلیے نہیں بنا، دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔
آپریشن ضرب عضب میں اب تک مختلف کارروائیوں کےدوران 2763 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیاگیا، جبکہ آپریشن میں سیکیورٹی فورسز کے347 افسر اور جوان بھی شہید ہوئے۔
آٹھ جون 2014ء اتوارکی درمیانی شب کو کراچی کےجناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہ حکومت کے ناقص سیکیورٹی انتظام کی وجہ سےطالبان دہشت گردوں کی جانب سے ائیرپورٹ پر حملہ ہواتو دہشت گردی سے متعلق کئی سنجیدہ سوال سامنے آئے۔ ان میں سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ نواز شریف حکومت اور طالبانی دہشت گردوں کا مذاکرات کا ڈرامہ جو ایک سال سے چل رہا تھا کب ختم ہوگا۔ گزشتہ سال جون 2014ء تک دہشت گردی کے واقعات میں دس سال کے عرصے میں 52ہزار409 افراد شہید ہوئے، سیکیورٹی فورسز کے 5ہزار775 اہلکار شہید ہوئے، 396 خود کش حملے ہوئے جس میں 6ہزار21 افراد جاں بحق اور 12ہزار558 افراد ذخمی ہوئے، اور 4ہزار932 بم دھماکے ہوئے۔
مسلم لیگ (ن) نے اقتدار میں آنے کے بعد ایک سال تک مذاکرات مذاکرات کا کھیل رچایا، اور اس کھیل میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جماعت اسلامی اورطالبان کے نام نہاد باپ مولانا سمیع الحق شامل بھی تھے۔ عمران خان اور مولانا فضل الرحمان بھی طالبان کو فوجی کارروائی سے بچانے میں پیش پیش تھے۔ یہ سب جماعتیں آپریشن کی مخالفت میں آگے آگے تھیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور موجودہ وزیراعظم تو مجبور تھے ورنہ وہ کافی عرصہ پہلے طالبان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امیر المومنین بن چکے ہوتے۔ کراچی ایئرپورٹ پر طالبان دہشت گردوں کے حملے کے بعداتوار 15 جون 2014ء کو افواج پاکستان نے طالبان دہشت گردوں کے خلاف ایک بھرپور آپریشن کا آغاز کیا۔ پاک فوج نے آپریشن کا نام “ضرب عضب” رکھا جس کا مطلب “ضرب کاری” یعنی دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ۔ اس کے ساتھ ہی نواز شریف حکومت اور دہشت گردوں کے مذاکرات ختم ہوگئے۔
سول عدالتوں نے 15 ہزار کے قریب دہشت گردوں کو بری الزمہ قرار دیا اور 10 ہزار پانچ سو سے زیادہ دہشت گردوں کی ضمانتوں پر رہائی کا حکم جاری کیا۔
آپریشن ضرب عضب میں اب تک مختلف کارروائیوں کےدوران 2763 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیاگیا، جبکہ آپریشن میں سیکیورٹی فورسز کے347 افسر اور جوان بھی شہید ہوئے۔ فوجی ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے شہری علاقوں میں خفیہ اطلاعات پر کی گئی 9000 کارروائیاں کیں جن میں 218 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں کارروائیوں کے دوران مختلف نوعیت کے 18087 ہتھیار اور 253 ٹن دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف گزشتہ ایک سال سے جاری فوجی کارروائی کے دوران ضرب عضب اور متاثرہ علاقوں سے مقامی افراد کی نقل مکانی اور اُن کی بحالی پر اب تک تقریباً دو ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں اور یہ رقم امریکہ کی جانب سے اتحادی سپورٹ فنڈ کے بجائے سرکاری خزانے سے استعمال کی گئی ہے۔2001ء سے اب تک افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہونے کے باعث پاکستان کواتحادی سپورٹ فنڈ کے تحت 13 ارب ڈالر مل چکے ہیں۔تاہم امریکہ نے کہا ہے کہ 2015ء کے بعد سے پاکستان کو اس فنڈ کے تحت رقوم جاری نہیں کی جائیں گی۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ دہشت گردی ہمارے ملک میں لانے کی ذمہ داری ہمارے عسکری اداروں کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اُسکے حواریوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔
دہشت گردی کی تحریک آدھی سے زیادہ دنیا میں پھیل چکی ہے اوراس کا بڑا نشانہ پاکستان ہے۔1965ءکی پاک بھارت جنگ میں 3800پاکستانیوں کی جانیں گئی تھیں، 1971ءمیں 9 ہزار پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے جبکہ 2001ءسے 2015ءکے دوران 56ہزار سے زیادہ پاکستانیوں نے جام شہادت نوش کیا گویا طالبان دہشت گرد بھارت سے بھی زیادہ خطرناک دشمن ہیں جو پاکستان کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ دوسری طرف سول عدالتوں نے 15 ہزار کے قریب دہشت گردوں کو بری الزمہ قرار دیا اور 10 ہزار پانچ سو سے زیادہ دہشت گردوں کی ضمانتوں پر رہائی کا حکم جاری کیا۔ حکومتی نااہلی کھل کر سامنے آچکی ہے ورنہ فوجی عدالتوں کی ضرورت پیش نہ آتی۔ آپریشن ضرب عضب ملک بھر میں جاری ہے، ایسا لگتا ہے ملک کے کونے کونے میں دہشت گردوں کا جال پھیلا ہوا ہے۔ اُن کی پناہ گاہیں کون سی ہیں ان کے مددگار اور سہولت کار کون ہیں؟ ملک کی 33خفیہ ایجنسیوں کو اتنی معلومات تو ضرور ہوں گی۔ حکومت پاکستان نے جن دہشت گرد تنظیموں کو کالعدم قرار دے رکھا ہے وہ حکومتی فائلوں میں مرچکی ہیں لیکن عملاً بقید حیات ہیں۔ حکومت جانتی ہے کہ یہ دہشت گرد کالعدم تنظیمیں نئے ناموں کے ساتھ سرگرم عمل ہیں ان کے ذرائع آمدن کی پائپ لائن بدستور پیسے اگل رہی ہے۔ حکومت کو ان مدرسوں کے نام بھی سامنے لانے چاہیں جو عسکریت پسندی کے رحجان کو فروغ دے رہے ہیں۔ اُن رفاعی تنظیموں کو بھی بے نقاب کرنا ضروری ہے جو بیرونی فنڈر لیتی اور آگے منتقل کرتی ہیں۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ دہشت گردوں کے حامیوں کے پیٹ میں اس وقت مروڑ اٹھتا ہے جب لوگ اپنے پیاروں کی یاد میں موم بتیاں جلاتے ہیں یا خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ دہشت گردوں کے حامی قومی روزناموں میں کالم لکھ لکھ کر جہادی ذہن تیار کررہے ہیں ۔
جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سراج الحق نےتو منور حسن سے بھی زیادہ منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپریشن ضربِ عضب کو نہ صرف ڈرامہ کہا بلکہ اس آپریشن کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کرڈالا
وزیراعظم نواز شریف اورآرمی چیف جنرل راحیل شریف دونوں کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کیلئے نہیں بنا، ہم دہشت گردوں کے مددگاروں اور سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچاکر دم لیں گے۔ طالبان کے لفظی معنی کچھ بھی ہوں مگر ہمارے ملک میں طالبان تحریک ایک دہشت گرد تحریک ہے۔ طالبان کے 45سے زائد گروہ ہیں اور ہر گروہ قتل و غارت گری اور پاکستان پر حملوں میں شریک ہے۔ یہ گروہ برسرعام اس کا اقرار بھی کرتے ہیں۔ ان گروہوں میں سے کوئی عام انسانوں کا قتل عام کررہا ہے تو کوئی فرقہ وارانہ قتل و غارت گری میں مصروف ہے، یہ اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، منشیات کی اسمگلنگ، ڈکیتیوں اور دوسرے جرائم میں بھی مصروف ہیں۔ یہ صرف نام کے انسان ہیں ورنہ ان کے سب خصائل درندوں جیسے ہیں، لہٰذا ان میں یہ احمقانہ تمیز کرنا کہ اچھے کون ہیں اور برے کون ہیں بجائے خود ایک سنگین غلطی ہے۔ لیکن پاکستان میں طالبان کی دو قسمیں ضرور موجود ہیں ایک وہ ہیں جو قتل و غارت گری اور دوسرئے جرائم کرتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو سیاسی اور مذہبی جماعتوں یا پھرصحافت کی آڑمیں دہشت گردوں کے مددگار اور سہولت کار ہیں۔
طالبان کی کسی بھی قتل و غارت گری کے بعد سراج الحق، مولانا فضل الرحمان، مولانا عبدالعزیز اور مولانا سمیع الحق کی جانب سے مرنے والوں کے ساتھ ہمدردی کے باوجود یہ حضرات اور ان کے پیروکار طالبان کی صفائیاں دینے لگتے ہیں، اُن کے ساتھ ہی کچھ صحافی جن میں خاص کرانصار عباسی اور اوریا مقبول جان صحافت کی آڑ میں طالبان کی ہمدردی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ عمران خان بھی طالبان کے ہمدرد ہیں، طالبان کی کسی بھی دہشت گردی پر افسوس ضرور کرتے ہیں لیکن اُس کے بعدقوم کوڈرانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ خان صاحب کی سنگدلی کا یہ عالم ہے کہ وہ حادثہ کی جگہ پر ہی کہہ دیتے تھے کہ آپریشن کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، نو سال سے آپریشن ہورہا ہے ہم نے کیا کرلیا۔ فوجی آپریشن کے بعد البتہ انہوں نے یو ٹرن لیا اورآپریشن کی حمایت کرنی شروع کردی مگر کافی عرصہ تک مذاکرات کا راگ الاپنا نہیں بھولے۔ مولانا فضل الرحمان کا تو سب کو پتہ ہے کہ جس طرف فائدہ نظر آئے مولانا اُسی طرف ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی کو تو اب بھی دہشت گردوں کےخلاف ہونے والے آپریشن پر اعتراض ہے۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن دہشت گرد طالبان کو اپنا بھائی کہتے ہیں۔ منور حسن صاحب طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والےباون ہزار سے زائد پاکستانیوں کو جن میں عام آدمی، پولیس کے سپاہی، رینجرز کے اہلکار اور پاکستانی فوجی شامل ہیں اُنہیں شہید ماننے سے انکار کرتے ہیں لیکن ہزاروں انسانوں کے قاتل دہشت گردحکیم اللہ محسود کو شہید کہتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سراج الحق نےتو منور حسن سے بھی زیادہ منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپریشن ضربِ عضب کو نہ صرف ڈرامہ کہا بلکہ اس آپریشن کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کرڈالا۔ دہشت گردی پاکستان کی وہ بیماری ہے جس کا علاج نام نہاد “مذاکرات” سے کیا جارہا تھا لیکن یہ مرض اس قدر بڑھ چکا تھا کہ آپریشن کے علاوہ شاید کوئی چارہ نہیں تھا۔ اب حکومت کو چاہیئے کہ دونوں قسم کے طالبان کاتدارک کرے، اُن کا بھی جو دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہیں اوراُن کا بھی جو سیاسی اور مذہبی جماعتوں یا پھرصحافت کی آڑمیں دہشت گردوں کے مددگار اور سہولت کار ہیں، ایسا کرنے کے بعد ہی ہم پاکستان سے دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کرسکتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

خودکشی پر مائل معاشرے کے خدوخال

کراچی میں اسماعیلی برادری کے قتل عام کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے بعض ایسے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیں اسماعیلی افراد کے قتل عام اور کراچی میں سبین محمود کے قتل کے علاوہ دہشت گردی کی کئی دوسری وارداتوں میں ملوث قرار دیا جارہا ہے۔انکشافات خاصے حیران کن ہیں لیکن غیر متوقع نہیں۔پاکستان سمیت کئی دوسرے ممالک میں تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کی دہشت گرد تنظیموں میں شمولیت ایک بڑے گھمبیر مسئلے کا رخ اختیار کر چکی ہے اور مغربی ممالک میں اس حوالے سے کئی اقدامات تجویز کیے جارہے ہیں۔مثال کے طور پر دہشت و بربریت کی دلدادہ دولت اسلامیہ کے ارکان کی سب سے بڑی تعداد دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔بیرونی محاذوں پر مہمان اور رضاکارانہ انتہا پسندی کا بڑھتا ہوا رحجان اسلامی ممالک اور معاشروں کے لیے ایک براہ راست تشویشناک عنصراور خطرہ ہے۔ہمارے ہاں چوں کہ حقائق سے جان بوجھ کر نظریں پھیرنا ایک مخصوص قسم کی حب الوطنی اور حب اسلامی کے زمرے میں آتا ہے اس لیے ہم ابھی تک اپنے ملک اور سماج کو لاحق انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے اجزائے ترکیبی کا مکمل جائزہ نہیں لے پائے۔ اس کے اثرات اور مستقبل میں اس سے نبٹنے کے بارے میں کیا لائحہ عمل تیار کریں گے، کوئی نہیں جانتا۔اوراگر کہیں ایسی کوئی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستانی ریاست کو لاحق دہشت گردی اور فرقہ واریت کے حقیقی ماخذات کو سامنے لایا جائے تو لاتعداد مہم جو حملہ آور ہوجاتے ہیں اور اس طرح کے کام کو اسلام اور پاکستان کے خلاف گہری سازش سے جوڑ دیتے ہیں، جس کے بعدکچھ بھی نہیں بدلتا ۔ہم یہ تک نہیں سوچنا چاہتے کہ ہمارے اپنے بھائی بند جو کسی نہ کسی طرح انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی لہر میں شامل ہوگئے آخر وہ کون سی وجوہات تھیں جو اِنہیں اس انتہائی قسم کے اقدام کی طرف لے آئیں۔
ہمارے ہاں چوں کہ حقائق سے جان بوجھ کر نظریں پھیرنا ایک مخصوص قسم کی حب الوطنی اور حب اسلامی کے زمرے میں آتا ہے اس لیے ہم ابھی تک اپنے ملک اور سماج کو لاحق انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے اجزائے ترکیبی کا مکمل جائزہ نہیں لے پائے
اس ضمن میں سب سے زیادہ دہرائی جانے والی منطق یہ ہے کہ ایسا سب کچھ اغیار کے ہاتھوں سرانجام پایا ہے اور یہودو نصاری کے ساتھ ساتھ ہنود کے شیطانی ہاتھوں نے ہمارے معصوم نوجوانوں کو ورغلا کر ہمارے ہی خلاف استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔لیکن اس منطق کو منطقی انجام دینے کے لیے کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاتا کہ اگر ایسا ہی ہوا ہے تو آخر اس کا بھی تو کوئی نہ کوئی علاج یا حل ہوگا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مصیبت کا حل وہ بتاتے ہیں جو اس صورت حال سے پھوٹنے والے فوائد سے براہ راست منسلک ہیں اور اُن کا تیارکردہ سادہ ترین حل یہ ہے کہ یہود و نصاری اور ہنود کے ساتھ فوری طور پر حتمی جنگ چھیڑ دی جائے اور اس فتنے کو نیست و نابود کردیا جائے۔اب مصیبت یہ ہے کہ مذکورہ بالا تینوں غلیظ فتنوں کو کیسے یک لخت نیست و نابود کردیا جائے؟ریاستوں کی معیشت جذبہ ایمانی سے زیادہ دوسرے عوامل پر پھلتی پھولتی ہے اور ہماری معیشت اس قدر لاغر ہے کہ اغیار کی بیساکھیوں کے بغیر ایک قدم نہیں اُٹھا سکتی۔ہم یہ تسلیم کرنے سے ہچکچاتے ہیں کہ ہماری ریاست اندر سے کھوکھلی ہورہی ہے اور اس کے دشمن اندر ہی اندر توانا ہوگئے ہیں۔نہ صرف دہشت گردی کے بیشتر ذرائع اندرونی ہیں بلکہ اب اس قابل بھی ہیں کہ باقی دنیا کو اپنی’’پیداوار‘‘ برآمد کرسکیں۔یہ ایک مہلک قسم کی مصلحت ہے یا خوف کہ ہم اِن ذرائع کی طرف اشارہ بھی نہیں کرسکتے، پچھلے دنوں ایک وفاقی وزیر نے محض اشارے کی مدد سے مقامی انتہا پسندوں کی کمین گاہوں کے بارے میں کچھ بتانے کی کوشش تو اِنہیں اپنی جان اور وزارت کے لالے پڑگئے۔عین ممکن ہے اُنہیں نشانہ بنانے کی بھی کوشش کی جائے کیوں کہ اُنہوں نے جو سچ بولا ہے وہ کسی طور ہضم نہیں ہورہا۔
جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک،جامع ابوہریرہ خالق آباد نوشہرہ،جامع منبع العلوم میران شاہ،جامع بنوریہ،جامع اسلامہ نیو ٹاون،جامعہ فاروقیہ،جامعہ رشیدیہ ،خیر المدارس،مدرسہ عثمان و علی اور سب سے بڑھ کر جامع محمدیہ کبیر والا نے جس قسم کا کردار پاکستان میں انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے حوالے سے ادا کیا ہے اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی
اب یہ انتہائی ناگزیر ہے کہ ہم پاکستان کے اندر پلنے والی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے مقامی ذرائع کو غور سے دیکھیں اور اس حوالے سے معاون عناصر کی حقیقی نشاندہی کریں تاکہ مسئلے کا تدارک کیا جاسکے۔ہمیں یہ سوچنا پڑے گا کہ کیوں ہمارے تعلیمی ادارے تعلیم یافتہ ماہرین کے ساتھ ساتھ دہشت گرد بھی پیدا کرنے لگے ہیں؟ ایسا کیا ہوا ہے کہ ایک انتہائی تعلیم یافتہ نوجوان دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہوکر قتل و غارت کرنے پر اُتر آتا ہے؟کیا یہ سب کچھ اغیار کی کوششوں کا نتیجہ ہے یا ہمارے ہاں ایسے حالات پیدا ہوچکے ہیں کہ مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والوں اور فرقہ پرستوں نے ریاست کو اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے اور اِن کی رسائی اس قدر مضبوط اور جاندار ہے کہ لاتعداد تعلیم یافتہ نوجوان قتل وغارت گری میں ملوث ہوچکے ہیں۔ ایک ایسا موقف جس کو قبول عام کا درجہ حاصل ہے وہ یہ ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی اور فرقہ واریت میں ہمارے مدارس کا کوئی کردار نہیں۔بعض بد بخت دین بیزار عناصر محض مدارس کو بدنام کرنے کے لیے اس قسم کی افواہیں پھیلاتے ہیں کہ دہشت گردی اور فرقہ واریت میں مدارس مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔اسلام دشمن طاقتیں دینی مدارس کو ختم کروانا چاہتی ہیں تاکہ پاکستان کو سیکولر ملک بنانے میں آسانی رہے۔
ہمارے ہاں اس دعوئے کا رد اس لیے نہیں کیا جاتا کہ ملک میں تحقیقاتی صحافت کی روایت نہ ہونے کے برابر ہے اور مٹھی بھر ایسے صحافی جو ملک میں جاری دہشت گردی اور فرقہ وارانہ قتل و غارت پر لکھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ مدارس کی طرف اس لیے رجوع نہیں کرتے کہ اس کام میں خطرات بہت زیادہ ہیں۔مثال کے طور پر کوئی بھی مقامی صحافی یہ نہیں لکھ سکتا کہ پاکستان اور افغانستان میں طالبانائزیشن کا سہرا خیبر پختونخواہ اور کراچی کے مدارس کے سر بندھتا ہے۔جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک، جامع ابوہریرہ خالق آباد نوشہرہ، جامع منبع العلوم میران شاہ، جامع بنوریہ،جامع اسلامہ نیو ٹاون، جامعہ فاروقیہ،جامعہ رشیدیہ ،خیر المدارس، مدرسہ عثمان و علی اور سب سے بڑھ کر جامع محمدیہ کبیر والا نے جس قسم کا کردار پاکستان میں انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے حوالے سے ادا کیا ہے اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔اِن مدارس کے ہزاروں طالب علم جہاد افغانستان اور جہاد کشمیر میں کام آئے ہیں اور آج بھی پاکستان کے قبائلی علاقوں سے لے کر سینٹرل ایشیاء تک اِنہیں سرگرم دیکھا جاسکتا ہے۔لیکن مقامی سطح پر اس حوالے سے کوئی تشویش نہیں پائی جاتی بلکہ اِن مدارس کے بارے میں مبالغہ آمیز داستانیں سنائی جاتی ہیں اوراگر کوئی اِن کی طرف انگلی اُٹھانے کی کوشش بھی کرے تو اس کی خیر نہیں۔آج تک کسی نے یہ سوال نہیں پوچھا کہ پورے ملک میں فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے اور خودکش حملوں سے لے کر ٹارگٹ کلنگ تک ہورہی ہے، سماجی طور پر فرقہ وارانہ تقسیم واضح طور پر نظر آتی ہے، کیا یہ تمام ’’مصنوعات‘‘ دین بیزار لوگوں کی تیارکردہ ہیں؟ مسیحیوں اور ہندووں کی بستیوں پر حملے ہوتے ہیں، بے گناہوں کو توہین کے الزامات کے تحت سربازار قتل کردیا جاتا ہے،گورنر،ڈی سی،ایس ایس پی،کمشنر،وفاقی وزیر جیسے عہدیدار قتل کردئیے جاتے ہیں اور اِن تمام وارداتوں کی ذمہ داری قبول کی جاتی ہے،بچوں کے سکولوں پر وحشیانہ حملے ہوتے ہیں،پاکستانی افواج کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔کیا اِن تمام وارداتوں کا ارتکاب کرنے والے لاہور کے حلقہ ارباب ذوق سے آئے تھے؟ بوٹا ٹی سٹال پرانی انارکلی میں برسوں سے علمی محفلیں برپا کرنے والے چھ سات سرخوں نے یہ خون کی ہولی کھیلی ہے؟ یااِن تمام وارداتوں کی منصوبہ بندی نجم سیٹھی،عاصمہ جہانگیر،ڈاکٹر مہدی حسن،ڈاکٹر مبارک علی،ڈاکٹر مبارک حیدر،وجاہت مسعود،ایاز امیر،حسن نثار وغیرہ نے کی ہے؟
یہ سارا کام ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں،فرقہ پرست گروہوں اور پاکستان میں القاعدہ کے سہولت کاروں نے سرانجام دیا ہے اور اس کے لیے افرادی قوت ہمارے عظیم مدارس کی مہیا کردہ ہے۔اگر یقین نہ آئے تو اِن مدارس کے ماہانہ مجلے دیکھ لیے جائیں، اِن کے اداریے پڑھ لیے جائیں اور سب سے بڑھ کر ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے مدارس میں کی جانے والی جہادی و فرقہ وارانہ تقریریں سن لی جائیں۔اگر کوئی غیر جانبدار محقق صرف ماہنامہ الحق، ماہنامہ القاسم،ماہنامہ لولاک، ماہنامہ صدائے مجاہد، ماہنامہ الہلال، ماہنامہ بنات عائشہ، ماہنامہ خلافت راشدہ، ماہنامہ المرابطون، ہفت روزہ انصار اُمہ، ماہنامہ الحرمین اور ماہنامہ آب حیات ہی پڑھنے کی زحمت کرلے تو وہ آسانی سے دہشت گردی و فرقہ واریت کا ماخذوں کا کھوج لگا سکتا ہے۔لیکن چوں کہ عامتہ الناس کو یہ باور کروادیا گیا ہے کہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل نہیں کرسکتا اور پاکستان جو اسلام کا قلعہ ہے اس میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کے تمام واقعات بیرونی ہاتھ کی کارستانی ہے تاکہ پاکستان کو کمزور کیا جاسکے، اس لیے ایسی کوئی کوشش بھی بے سود ہوگی جو مقامی دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں کو بے نقاب کرنے کے لیے کی جائے۔
اگر کوئی غیر جانبدار محقق صرف ماہنامہ الحق، ماہنامہ القاسم، ماہنامہ لولاک، ماہنامہ صدائے مجاہد، ماہنامہ الہلال، ماہنامہ بنات عائشہ، ماہنامہ خلافت راشدہ، ماہنامہ المرابطون، ہفت روزہ انصار اُمہ، ماہنامہ الحرمین اور ماہنامہ آب حیات ہی پڑھنے کی زحمت کرلے تو وہ آسانی سے دہشت گردی و فرقہ واریت کا ماخذوں کا کھوج لگا سکتا ہے
یہ ایک ایسی مہلک صورت حال ہے جو ریاست کی عملداری کو تقریباًختم کرنے کی راہ پر گامزن ہے اور اس کا کوئی تدارک دور دور تک نظر نہیں آتا۔ملکی ذرائع ابلاغ پر چھائے ہوئے دانش ور اس طرف دھیان دینے سے قاصر ہیں اور اگر کبھی ناچار اُنہیں اس موضوع پر بات کرنا پڑے تو اُن کے خیالات سن کر اُبکائی آتی ہے۔جب کہ زیادہ تر ایسے ہیں جو مذہبی انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کے لیے راستہ صاف کرنے میں مصروف ہیں اور قلمی ناموں کے ساتھ متشدد مذہبی رسائل و جرائد میں ایمانی مضامین لکھتے ہیں۔خوشامد اور ناراضی کے خوف کی وجہ سے پاک فوج کے جاری آپریشن ضرب عضب کے بارے میں یہ دانش ور اپنے آپ پر جبر کرکے چند تعریفی کلمات ادا کرتے ہیں جب کہ اِن کی اندرونی کیفیات اِن کا منہ چڑا رہی ہوتی ہیں کیوں کہ اِنہوں نے ایک ایسے جاندار بیانیے کو جنم دیا ہے جس کے سامنے کسی قسم کی حقائق پر مبنی تصویر کشی بھی بے اثر ہے۔پاکستان کے تقریباً تمام شعبہ ہائے زندگی میں سرایت کرجانے والی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا تدارک ممکن نظر نہیں آتا کیوں کہ اس حوالے سے اتفاق رائے نہ ہونے کے برابر ہے۔اب اعلیٰ تعلیم یافتہ فرقہ پرست قاتل ہمارے شہروں میں دندناتے پھر رہے ہیں اور اُن کے مددگاروں کا ایک ہجوم ہر جگہ موجود ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں آسانی کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ریاست تیزی کے ساتھ اپنے انہدام کی طرف رواں دواں ہے اور سماجی سطح پر مہلک تقسیم اس کا واضح اشارہ ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

سیاسی رہنما کی رہائی کے لیے لانگ مارچ

عوامی ورکرز پارٹی اور پروگریسو یوتھ فرنٹ کے کارکنان نے گلگت بلتستان کے زیرحراست سیاسی رہنما بابا جان اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کے لیے احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا۔ ریلی ہنزہ میں نکالی گئی۔ شرکاء نے دو عمر قید کی سزا بھگتنے والے باباجان کی رہائی کا مطالبہ کیا جنہیں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت سزا سنائی گئی ہے۔ مقامی آبادی نے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے سیاسی رہنماوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف استعمال کو ریاستی جبر سے تعبیر کیا۔ باباجان عطاآباد جھیل کے متاثرین کے حق میں مظاہروں کا اہتمام کرتے رہے ہیں جنہیں ایک مظاہرے میں پولیس کی جانب سے مظاہروں کو بزور طاقت کچلنے کی کارروائی کے دوران دو افراد کی ہلاکت کے بعد گرفتار کیاگیا تھا۔

1

2

2a

3

4

5

6

9

Categories
نقطۂ نظر

ممتاز قادری محض ایک قاتل نہیں

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ممتاز قادری کو انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت دی جانے والی موت کی سزا کالعدم قرار دینا ایک شرمناک فیصلہ ہے، اگرچہ محترم عدالت نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302کے تحت ممتاز قادری کی سزا برقرار رکھی ہے لیکن سلمان تاثیر کو قتل کرنے کے اقدام کو دہشت گردی کے قوانین کے تحت سزا دینے سے گریز کیاہے۔ لیکن کیا ممتاز قادری محض ایک قاتل ہے؟
نہیں ممتازقادری محض ایک قاتل نہیں بلکہ وہ دشمن ہے جسے ہم وزیرستان اور خیبرایجنسی میں تو مارنے کو تیار ہیں لیکن اپنے نظام انصاف کے تحت سزادینے پر قادر نہیں۔
نہیں، ممتاز قادری محض قاتل نہیں بلکہ ایک دہشت گرد بھی ہے۔ اس نے ان سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں آوازوں کو دہشت زدہ کیا ہے جو مذہب کے نام پر بننے والے غیر منصفانہ قوانین اور ان قوانین کے غلط استعمال کے خلاف بلند کی گئیں۔ اس نے انسانی حقوق کے ان کارکنوں کوخاموش ہونے پر مجبور کیاہے جو مذہب کے نام پر ہونے والے ظلم کے خلاف شمعیں روشن کرنے کو نکلتے تھے۔ جو آسیہ بی بی جیسے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے تھے۔ جو مذہبی شدت پسندی سے لڑنا چاہتے تھے۔
نہیں ممتاز قادری صرف ایک قاتل نہیں بلکہ دہشت، مذہبی جنون اور بربریت کا ایک پیغام بر بھی ہے جس نے سبھی پاکستانیوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ خبردار جو کوئی کبھی کسی مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوا۔ اس نے ہم سب کو یہ جتایا ہے کہ پاکستان میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے کھڑے ہونا جرم ہے اور اس جرم کی سزا دینے کے لیے کسی عدالت کی بجائے کوئی بھی سر پھرا جنونی ایک بندوق سے آپ کو مار سکتا ہے۔
نہیں ممتاز قادری محض ایک قاتل نہیں بلکہ مذہبی شدت پسندی کا نیا چہرہ ہےاوریہ چہرہ ہے جو اس قدر بھیانک ہے کہ اس کے سامنے آتے ہی بازار، گلیاں اور مکان خالی کر دیے جانے چاہئیں۔ یہ ایک ایسی ذہنیت کا چہرہ ہے جو ہم سب پر طاقت کے زور پر مسلط کی جارہی ہے اور اس شدت پسند اور انتہا پسند نقطہ نظر سے اختلاف کی اجازت نہیں۔
نہیں ممتازقادری محض ایک قاتل نہیں بلکہ وہ دشمن ہے جسے ہم وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں تو مارنے کو تیار ہیں لیکن اپنے نظام انصاف کے تحت سزادینے پر قادر نہیں۔ شاید اس لیے کہ مذہب اور پیغمبر امن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر قتل کرنے والے ہی ہمیں پسند ہیں، ہم ان سے خوف زدہ ہیں کیوں کہ ہم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
نہیں ممتاز قادری ایک قاتل ہی نہیں بلکہ انسانیت کا بھی مجرم ہے کیوں کہ اس نے ایک ایسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر قتل کرنے جیسا گھناونا جرم کیا ہے جو کل انسانیت کے لیے رحمت تھے ۔
ممتاز قادری صرف ایک قاتل نہیں بلکہ ان طالبان جتنا ہی ظالم اور فتنہ پرور ہے جو ہماری ریاست کو کھوکھلا کرنے میں مصروف ہیں۔ طالبان اور ممتاز قادری کی سوچ اور نظریے میں کوئی فرق نہیں اور ممتاز قادری بھی بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود اور ملا فضل اللہ ہی کی طرح دہشت گرد اور قابل گرفت ہے۔ ممتاز قادری کے حامی بھی طالبان کے حامیوں کی طرح ہی پاکستان اور انسانیت کے دشمن ہیں۔
ممتازقادری صرف ایک قاتل نہیں بلکہ ایک علامت ہے، ایک آزمائش ہے اور ایک امتحان ہے۔ یہ امتحان ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ ہم کس کے ساتھ ہیں۔ کیا ہم ان کے ساتھ ہیں جو ممتاز قادری جیسے قاتلوں پر پھول نچھاور کرتے ہیں یا ان کے ساتھ ہیں آسیہ بی بی جیسے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ یہ آزمائش ہے کہ ہم طے کریں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیسے محبت کرنا چاہتے ہیں۔ کیا ہم ممتاز قادری کی طرح لوگوں کی جان لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں یا ہم آسیہ بی بی کی رہائی کی کوشش کرکے اسلام کا وہ حقیقی پیغام امن سامنے لانا چاہتے ہیں جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دنیا میں بھیجا گیا تھا۔
نہیں ممتاز قادری ایک قاتل ہی نہیں بلکہ انسانیت کا بھی مجرم ہے کیوں کہ اس نے ایک ایسے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر قتل کرنے جیسا گھناونا جرم کیا ہے جو کل انسانیت کے لیے رحمت تھے ۔ ممتازقادری صرف سلمان تاثیر، ان کے خاندان اور پاکستانیوں کا مجرم نہیں بلکہ ہراس انسان کا مجرم ہے جو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا داعی ہے۔ وہ ہر اس فرد کا مجرم ہے جو مذہب کی انتہاپسندتشریح کے خلاف ہیں، جو مذہب کو قتل و غارت گری کے لیے استعمال کرنے کے خلاف ہیں اور مذہب کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کے خلاف ہیں۔