Categories
شاعری

تم آئے؟ ( رضی حیدر)

جھاڑتے جھاڑتے تاروں کی وحشت کا غبار اکتایا چاند
کھینچ رہا تھا جوں خمیازہ ۔۔۔۔۔ تم آئے
غم کا گدلا پانی پارہ پارہ کاغذ کی اک چیخ
کاہے باندھنے کو شیرازہ ۔۔۔۔۔ تم آئے
کیوں مژگاں کا مسکارا ہے سورج کے دل کی کالک
رنگِ افق گالوں کا غازہ ۔۔۔۔۔ تم آئے
عُریاں کمر کو ہونٹوں نے جو لمس کیا تھا شعر ہوئے
بندِ خیال میں اچررج تازہ ۔۔۔۔۔ تم آئے
ڈھونڈتے ڈھونڈتے درپن کا خود رفتہ  قیدی چونک اٹھا
کھول دیا کس نے دروازہ، ۔۔۔۔۔ تم آئے
رمزی کے دل کے پیڑ پہ بیٹھیں تھیں چند چڑیاں دھڑکن کی
بھاگیں ہوتے ہی اندازہ ۔۔۔۔۔ تم آئے

 

Categories
فکشن

انتزاعی نقوش (رضی حیدر)

کردار آخری صفحے پر جمع ہونے لگے۔
“تو کیا یہ سب دھوکا ہے، یہ جو زندگی ہم گزار رہے ہیں اصل میں اس بوڑھے عینک والے کی لکھی ہوئی ہے۔” ناول کے protagonist نے antagonist سے بغلگیر ہو کر کہا

“یہ جو میں نے تمہارے ساتھ کیا، میں نے کب کیا اور جو تم نے میرے ساتھ کیا تم نے کب کیا۔ یہ سب تو ایک سوانگ ہے۔ ”

اسے یہ کہتے ہوئے کتنا ہلکا محسوس ہو رہا تھا۔ Antagonist نے اسے پیچھے ہٹایا اور کہا

“بیٹے! ہاتھ ہٹا ورنا ایسا زور کا گھونسا ماروں گا کہ اس بڑھو کے پین کی سیاہی سارے منہ پہ لپ جائے گی۔” کرداروں نے سوچا کہ ہم جلوس نکالیں گے۔ پلے کارڈز بنائیں گے۔ پر پلے کارڈ بنانے کے لیے بھی تو کاغذ درکار تھا سو وہ ناول کے پلاٹ کے کسل کنندہ صفحے ڈھونڈھنے لگے۔ انھیں زیادہ مشکل نہ ہوئی کیونکہ یہ بوڑھا مصنف بار بار تو اردگرد کی بکواس گناتا رہتا تھا۔ کتنی چڑیاں اڑ رہی تھیں، آسمان کتنا گاڑھا نیلا تھا، کتنی بکریاں دھول میں اپنے بھرے تھن لے کر اپنے بچوں کو تلاش کر رہی تھیں۔ protagonist نے سارے کرداروں کو تحکم کے لحجے میں کہا

“فقط وہ صفحے پھاڑو جو کہانی کو آگے نہیں بڑھاتے۔”

سب کردار توصیفی پیراگراف کی طرف بڑھنے لگے۔ بکریاں، چڑیاں، آسمان کا نیلا گاڑھا رنگ، شفق کے اڑتے پرندے، نہ جانے کیسی کیسی پس منظر کی آوازیں ناول کی سطروں سے اٹھ اٹھ کر کہنے لگیں

“ہمارے ساتھ یہ ظلم کیوں؟ ہاں ہم کہانی کو آگے نہیں بڑھاتے مگر تمہارے اندروں کیا چل رہا ہے اس کا استعارہ بھی تو ہم ہی ہیں۔ جہاں تم اداس ہوتے ہو، مضطرب ہوتے ہو، ہنستے ہو، قہقے لگاتے یا ہیجانی حالت میں بکواس کرتے ہو، ہم آ جاتے ہیں قاری کے حواس خمصہ کو مرتعش کرنے کے لئے۔ ہمارے بغیر کیسے ہو گی کہانی۔ ”

شور اس قدر بڑھ گیا کہ مصنف جو چائے پر چائے غٹک رہا تھا کچھ متوجہ ہوا۔

“میرا ہیجان اس قدر بڑھ گیا ہے کہ خرافات سنائی دینے لگے ہیں، بہتر ہے سو جاؤں۔ ” وہ بڑبڑایا

کردار چیختے رہے پر وہ بستر پر لیٹ گیا۔ ایک فقیر نے پھلجھڑی چھوڑی

” اگر ہم کسی چیز کو ٹوٹ کر چاہیں تو وہ دعا بن جائے گی اور مصنف اس کی تکمیل میں جٹ جائے گا۔ ”

ایک قنوطی کردار نے زوروں کا قہقہہ لگایا اور کہا

“تمہیں کیا لگتا ہے کہ مصنف اپنے گریٹ پلاٹ میں تمہاری دعاؤں سے تبدیلی کر دے گا؟ یا تو تم بہت گردن فراز ہو، یا بہت بے وقوف۔”

وہ فقیر بولا

” یہ تکبر یا بیوقوفی بھی تو اس ہی کی تخلیق ہو گی”

ایک فلسفی جو کبھی کبھی مونولوگ کی خاطر کہیں نا کہیں سے آن ٹپکتا تھا کہنے لگا

“اگر مصنف خود اپنے بارے میں لکھے تو کیا وہ بھی ہماری طرح کردار بن کر ہمارے ساتھ کھڑا ہو گا کیا تب اس کی خود مختاری ختم ہو جائے گی۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ یہ مصنف کسی اور ناول کا کردار ہو اور اس کا مصنف کسی اور ناول کا اور اس کا مصنف کسی اور ناول کا تو یہ لا متناہی سلسلہ کب تک چلے گا ۔”

وہ اور قنوطی کردار ٹھٹھے مار کر ہنسنے لگے پھر فلسفی کے ذہن میں ایک اور خیال کوندا اور وہ گویا ہوا

“یہ بھی تو ممکن ہے کہ یہ آشوب، یہ ھمھمہ، یہ احتجاج کی خواہش یہ سب بھی اسی کا لکھا ہو، اور یہ جو الفاظ میرے منہ سے نکلتے ہیں اسی کے نیلے پن کے آڑھے ترچھے خطوط ہوں۔”

مکمل خاموشی چھا گئی۔ مصنف نے مسکراتے ہوئے قصہ لکھنا شروع کی.


بوڑھی کرسٹین اپنی معصومیت اور بچچنے کو یاد کر کے ہنسی، وہ بھی کیا وقت تھا جب وہ انجان لوگ بارش میں اپنے مردے لے کر احتجاج کئے جا رہے تھے۔ کریستین کو کوئٹہ میں آئے دن ہی کتنے ہی ہوئے تھے پر وہ عیسائی ہونے کے باوجود شعیہ عزاداروں کے ساتھ ماتم کر رہی تھی۔ میگنم فوٹوز کی طرف سے بھیجی گئی وہ اکیلی فوٹوگرافر تھی۔ اس کو ان لاشوں میں اپنے جوخم اور بیرنڈ کے چہرے نظر آ رہے تھے۔ وہ اس روز غم میں اس قدر گم تھی کہ فوٹوگرافی کے سب اصول بھول گئی تھی۔ Henri Cartier-Bresson کی طرح decisive moment کی تلاش میں وہ بٹن دبائے جا رہی تھی۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ کیمرا اس کے جسم کا حصہ بن تھا ہے۔ اور شاید یہ دن اس کا decisive moment ہے۔

اس رات اس نے سوچا تھا کہ اگر یہ سفید کفنوں میں لپٹے مسخ چہرے اس کو سونے نہیں دے رہے تو جن لوگوں کو ان چہروں میں اپنی گزری سانسیں نظر آتی ہوں گی۔ ان کی نیند کا کیا ہو گا۔

اس نے سوچا تھا کہ وہ ان تصویروں کو دکھا کر ان لوگوں کے غم کا مداوا کرے گی۔ وہ اپنی فوٹوز کے بل پر ہر ظلم کو بے نقاب کر دے گی۔ پر آج اسے یہ سب داد و تحسین کتنی بے معنی لگ رہی تھی۔

“کاش میں نے ڈاکٹری پڑھی ہوتی، فلنتھرومسٹ ہوتی تو زندگی میں کوئی معنویت ہوتی۔ فلسفہ پڑھ کر فوٹوگرافی کرنا میری بہت بڑی بھول تھی” اس نے سوچا۔

اسے اس نوجوان فوٹوگرافر میں اپنی جوانی کے پل نظر آ رہے تھے جو ان کفنوں میں لپٹی لاشوں کی بلیک اینڈ وائٹ تصویر دیکھ کر دمبخود تھا۔ ان میں لیڈنگ لائینز، گولڈن ریشو، رول آف تھرڈز جیسے تمام اصولوں کا خیال رکھا گیا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کاش میں کریستین کی جگہ ہوتا تو میری زندگی کتنی معنی خیز ہوتی۔

What a piece of art! your art has changed the attitudes of people , this is the power of art

اس نے جوشیلے انداز میں کہا

,It’s no art son, it’s life,  that orbit in which we will repeat the same transgressions again and again, the place might change, the time might change but, the human nature — it won’t, No art has the power to change human nature, remember that

کرسٹین نے غمدیدہ ہو کر جواب دیا


اسے کیا معلوم تھا کہ وہ آج سے دس سال بعد ،ان دو بیٹوں کو کھو دے گی جن کے ہونے پر اس کی ساس نے اس کی بلائیں لینا ہیں ۔ ایک کو تھیلیسیمیا نگل جائے گا اور دوسرے کو اپنا گودا دان کرتے زیادہ انیستھیزیا کی ڈوز۔ وہ تو بس اپنے ماں بات کو چھوڑنے کے غم میں پھولوں سجی گاڑی میں بیٹھی رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی۔


وٹس ایپ پر ترکی بہ ترکی جواب دینے کے بعد اس نے سوچا سعدی واقعی چلا گیا اب وہ اسکا نہیں رہا۔ وہ یوں تو نہیں بولتا تھا۔

“It’s none of your business”

بھلا یہ کوئی طریقہ ہے بات کرنے کا۔ اس نے تو بس اسکی بیوی کے ویزا کا ہی پوچھا تھا۔ شاید سعدی نے اپنی بیوی کو فون کا پاسورڈ دے دیا ہو گا۔


کون مان سکتا ہے کہ اس کا میاں بلڈ کینسر سے مر گیا۔ اس کے چہرے پر جو رنگ روپ تھا۔ وہ پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ احمد نے افسوس کرتے ہوئے کہا

“جمال بھائی بہت ہی نیک انسان تھے۔ جتنا ساتھ انھوں نے ہمارے مشکل وقت میں دیا کون دے سکتا تھا”

وہ خاموش ہو گئی ،ایک سیکنڈ کو اس کا رنگ اڑ گیا۔ پھر جب اس کی بیٹی نے اس کی چوٹی کھینچی تو وہ درد کے باوجود مسکرانے لگی۔


وہ جانے لگی تو دونوں زار و قطار رو رہے تھے۔ شامل سے اس نے پوچھا

” Give me one reason that I stay”

وہ خاموش ہو گیا پھر اچانک بولا

” Wash your laundry at least, you don’t have a washing machine”

اس نے کپڑے واشگ مشین میں ڈالے اور اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹی رہی۔ جیسے ہی کپڑے دھلے وہ کپڑے سبز لفافے میں ڈالنے لگی۔ اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا اور بولی

” I can’t believe this is the last time I will see you”

شامل نے لاکھ کہا کہ کپڑے خشک ہونے تک رک جاؤ پر وہ گیلے کپڑوں کی پوٹلی لے کر چلی گئی۔

شامل خالی واشنگ مشین کو گھورتے گھورتے ایک اور کہانی میں چلا گیا ۔


خدا کے ہونے نہ ہونے پر لمبی بحث ہوتی رہی۔ ابنِ سینا کی کتاب برھان الصدقین میں لکھے گئے واجب الوجود کے مفہوم کو سمجھاتے سمجھاتے اس نے اچانک جون کا شعر ببانگِ دہل پڑھا

ہم نے خدا کا رد لکھا نفی بہ نفی لا بلا

ہم ہی خدا گزیدگاں تم پر گراں گزر گئے

کیا دیوانہ شخص تھا۔ جون اولیا

“آلو جل گئے تمھاری اس بکواس میں۔ “کامران نے کہا۔ وسکی کے ساتھ اس رات کھانے کو ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔


” Diabetes mellitus کیوں کہتے ہیں اسے کبھی سوچا ہے تم نے۔ mellitus لاطینی زبان کا لفظ ہے جس سے مراد ہے شہد جیسا میٹھا ۔ ذیابیطس کے مریضوں کے پیشاب پر چیونٹیاں آتی دیکھیں تو پتا چلا کہ ان کا پیشاب میٹھا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر چکھ کر بتاتے تھے پہلے۔۔۔ او ہو آپ کو تو ذیابیطس کا مرض لاحق ہو گیا ہے۔”

پتا نہیں کتنا چکھنے کے بعد مٹھاس نصیب ہوتی ہو گی۔ ”

یہ سب کہتے ہوئے ڈاکٹر علی ہنسے جا رہا تھا۔ تب عائشہ منہ بنائے ہوئے بولی

” بہت ہی گندے ہو تم ”

پھر عائشہ نے اچانک بولا

” انسولین ڈسکوور ہو گئی ،شکر کیجیے خدا کا، بچ گئے آپ۔ ورنہ گھاٹ گھاٹ کا پانی پینا پڑتا آپ کو ڈاکٹر صاحب ”

علی اور عائشہ ٹھٹھے مار کر ہنستے ساتھ ساتھ نادم ہوتے رہے کہ کہیں کوئی سن ہی نہ لے یہ بکواس۔


مشفق ویسٹ پاکستانی فوجی کا پیٹ کاٹنے کے بعد اکڑوں بیٹھا اسے مرتے گھورتا رہا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس نے بنگالیوں پر ہونے والے ہر ظلم کا بدلا لے لیا ہو۔ ویسٹ پاکستانی فوجی نے مرتے ہوئے نحیف آواز میں پانی مانگا تو مشفق نے بوتل اسے فوراً تھما دی۔ پانی پیتے ہی انتڑیوں سے رستی خون اور پانی کی آمیزش دیکھ کر اس کے چہرے پر اچانک مسکراہٹ نمودار ہو گئی۔ اور اس نے گاڑھے بنگالی لہجے میں زور سے کہا

” اور پیو اور ”

مشفق نے اپنی گرل فرینڈ سے نئی نئی اردو سیکھنا شروع کی تھی جو 71 کے دنگوں میں لاہور سے اپنے باپ کے ساتھ واپس ڈھاکا آ گئی تھی ۔


آج جمیل کی بونڑی ہو جائے گی۔ احسن، اسد اور جمیل کمرے میں داخل ہوئے تو صوفیہ دبکی بیٹھی تھی۔ اسد اور احسن نے جمیل کو آگے دھکیلا۔ جمیل نے ڈرتے ہوئے صوفیہ کا ازار بند کھینچا۔ تو کیا بری بد بو آئی۔ اس کا خون رستا دیکھ کر جمیل کو آبکائی آنے لگی۔

” تے کی ہویا، کم پا فر”

ان دنوں میں سیکس کرنا گناہ ہے جمیل نے کہا اور احسن اور اسد قہقہے مار کر ہنسنے لگے۔


وزیراعظم کو طلسمی چراغ مل گیا۔ اس نے سوچا کہ اب وہ اس ڈوبتے ملک کے لئے کچھ نہ کچھ کر پائے گا۔ اس نے چراغ رگڑا تو اندر سے وردی والا جن وارد ہو گیا۔ وزیراعظم ڈر کر بولا

“کیا حکم ہے میرے آقا؟”


ایک روز وردی نے اپنے زعم میں سوچا ، کیا مجھے کسی انسان کی ضرورت ہے؟ مجھے اتارنے کے لئے صدر صاحب کو کہا گیا پر وہ نہ جانے کتنا عرصہ مجھے اتارنے سے انکار کرتے رہے۔ اور جیسے ہی مجھے اتارا گیا تھوڑے ہی دنوں میں ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ جرنل صاحب بھی ایکسٹینشن کروانے کا میری ہی وجہ سے ہی کہتے ہیں۔ مجھے انسان کے ساتھ symbiosis میں رہنے کی کیا پڑی ہے ۔ کیوں نہ میں خود ہی حکومت شروع کر دوں۔ اسی اثناء میں ایک بینڈ والے نے آ کر اسے پہن لیا۔ آجکل

” ویل ویل، ویلاں والیاں دی خیر ” پکارتی شادیوں میں گھومتی ہے۔


ڈھول بجتے بجتے اچانک رک گیا۔ چودھری نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش ہونے کو کہا تھا۔

” ڈھول ڈھمکا بند کرو بے غیرتو”۔

“چُکنائیزر” نے پیسے “چُکنے” بند کر دیے۔

“اے کی کنجر تال لایا ہے تساں”

” نور جہاں دا گانا گاؤ، جدوں ہولی جئی لیندا میرا ناں”

” مندڈا نواں ہے چودھری جی، اینوں ای گانا یاد نہئ”

شراب کے نشہ میں دھت چودھری نے نوجوان لڑکے کو دھکیلا اور خود ہارمونیم پر بیٹھ کر بھونڈی لے میں کچھ بجانے لگا۔

” ہون کنجر پُنڑاں ہی اسی سکھاویے توانوں”

بوڑھے جہانگیر نے نور جہاں کا گانا گانا شروع کیا اور 15 سال کے ظہر الدین بابر نے جس کو پیار سے لوگ چکنائزر کہتے تھے پھر سے پیسے اٹھانا شروع کر دیے۔

 

 

Categories
فکشن

مرشد کی قسم (رضی حیدر)

زمین پر بیٹھتے ہی مقبول نے اپنے گیلے ہاتھ اپنی نسواری قمیض سے پونچھے اور قصہ سنانا شروع کیا۔
حاجی افضال نے، جو اس وقت صرف فضلو تھا، کچھ تامل کے بعد وہ معجون یا سفوف یا جو بھی تھا پھک لیا۔ افتی اور شامی دونوں مُسک رہے تھے۔
“ما چو 15 منٹ کی بات ہے یہ تن کے سیدھا ہو جائے گا۔ لگا رہیں رات ساری فر ”

فضلو کی سہاگ رات تھی اور یہ دوست اس کا بھلا چاہتے ہی ہوں گے اب نیتوں کا حال تو خدا جانے، واللہ اعلم، پر گولڑے کی کسی خاص دکان سے لائے تھے یہ سفوف یا معجون یا جو بھی تھا۔ حکیم نے کہا تھا بوڑھے کھائیں تو جوان ہو جائیں، اور جوان کھائیں تو حیوان ہو جائیں اور حیوان اب کھائیں تو پتا نہیں کیا ہو۔ پر حیوان کیوں کھانے لگے یہ معجون سر جی۔ ان کو تھوڑا ہی نا سرعتِ انزال کا مسئلہ ہوتا ہو گا۔ اور ہوتا بھی ہو اس کا کوئی ربط ان کی انا سے تھوڑا ہی نا ہوتا ہو گا، جو ہو گیا تو ہو گیا۔ اچھا، سنیں۔۔۔

اب دوستوں نے مسکتے ہوئے اسے اندر بھیج دیا۔ اماں جی مسکراتے مسکراتے اسے گھور رہی تھیں۔ ابا جی تو کب کے لیٹنے کی تیاری میں تھے۔ چھوٹا سا تو گھر ہے ان کا۔ دو تو کمرے ہیں۔ یا یوں کہو کہ کمرا ایک ہے اور ایک برآمدہ، کمرا تو کیا ہے کمری ہے، وہ دے دیا فضلو کو اور اماں ابا جی باہر برآمدے میں آ گئے چارپائی لے کے۔ فضلو نے اندر گھستے ہی گھڑے میں گلاس ڈالا اور پانی غٹک لیا۔ اپنے کوارٹر جیسے کمرے میں گھسا، آگے اسما بیٹھی تھی بنی ٹھنی چارپائی پہ۔ کیا نظارہ ہو گا ویسے، یہ ناک میں کوکا، کان میں بندے، وہ لال چنری، اس پہ سنہری گوٹا کناری اور چھوٹے چھوٹے ستارے اور وہ کاسمیٹک کی خوشبو، ہائے سر جی! اچھا سنیں۔ فضلو اب آ کر چارپائی پر بیٹھ گیا۔ اور اسما آگے بیٹھی کسی اور ہی گھن چکر میں گھوم رہی تھی۔ فضلو گھونگھٹ اٹھانے ہی لگا تھا پر اچانک ایسی ٹیس اٹھی فضلو کے کہ چیخ ہی نکل جاتی۔ دوڑا غسل خانے کی طرف۔ پیشاب کرنے کی کوشش کرتا تو کچھ نکلتا ہی نہ تھا۔ ٹوٹی سے منہ لگایا گھڑوں پانی غٹکا پر تکلیف تھی کہ اور بڑھتی جاتی تھی۔ اب جولائی کا مہینہ تھا، ایسا حبس تھا کہ سانس اکہرا ہوتا(اس کا سانس اب حبس کی وجہ سے یا اس اللہ ماری معجون کی وجہ سے گھٹ رہا تھا یہ تو پتا نہیں)۔ کھڑکی کھولی پر تسلی نہ ہوئی۔ کھڑکی پھاند کے باہر آ گیا۔ کافی چکر کاٹتا رہا۔ ناڑا پھر سے ڈھیلا کیا، جھاڑیوں کے پیچھے ڈھلوان پہ بیٹھ گیا۔ بیٹھا ہی تھا کہ فون کی گھنٹی بجنے لگ گئی۔

“ما چو پشاب تو کرنے دو” یہی کہا ہو گا اس نے

گھنٹی بجنا بند ہوئی تو پیشاب خارج ہونے لگا۔ اب فر گھنٹی بجنے لگ گئی- ایسے میں تو گالی دینے کا اور ہی چس آتا ہو گا نا سر جی
“ما چو کیوں لے رہے ہو پنگے”
یہی کہا ہو گا اس نے

فضلو کا درد تو جاتا رہا تھا دیکھتا کیا ہے اس کا پیشاب ڈھلوان سے بہتا چیونٹیوں کے ایک بِل کی طرف بڑھے جاتا ہے۔ فضلو نے جلدی جلدی دائیں ہاتھ سے شلوار پکڑی، بِل کے سامنے اپنی جوتی سے ایک لکیر کھود دی کہ پشاب بیچاری چیونٹیوں کے گھر کو غرق نہ کر دے کہیں۔

اسما نے فضلو کو کمرے میں آتے ہوئے دیکھا تو فضلو کا رنگ نا بالکل فق تھا، ظاہر ہے اتنا درد جو ہوا تھا غریب کو۔ اب تک تو اسما اپنا گھونگھٹ خود ہی اٹھا کے چارپائی پہ ٹانگیں لٹکا کے بیٹھ گئی تھی۔ سونے کے کپڑے بھی صندوقچی سے نکال لئے تھے۔ میں نے آپ کو کہا تھا نا اسما کے دماغ میں اور ہی کھچڑی پک رہی تھی وہ سوچ یہ رہی تھی کہ کہے کیا اور کیسے کہے۔ وہ فضلو کے ساتھ کام شام نہیں ڈالنا چاہتی تھی سر جی۔ ڈالتی بھی کیوں، دل تو وہ فیکے کو دے بیٹھی تھی۔ سوچنے لگی، کہہ دوں تو کہیں مار پیٹ نہ شروع کر دے۔ مرد ہے اور مرد تو ایسے ہی خونخوار ہوتے ہیں کہ ایسی بات سن لیں تو ٹوٹے کر دیں آرے سے۔ پر وہ کوئی ایسا ویسا مرد تھوڑی تھا، فضلو تھا۔ وہ اسے بچپن سے جانتی تھی، ساتھ بڑی ہوئی تھی اس کے۔ وہ سوچنے لگی، دل کا بہت سادہ ہے ایسا نہیں کرے گا۔ اور اب اگر کر بھی دے تو بھلے کر دے، پر جو سچ ہے وہ سچ ہے۔ نکاح کر لیا پر دل کہاں بدلتا یے وہ تو فیکا فیکا کر کے لتھیڑا جاتا تھا ریت میں۔ اب بھلے مار دے، ٹوٹے کر دے پر نہیں کرنا کچھ بھی بس۔

ان حالات میں بونگوں کی طرح مسکرانا بھی کمال ہی ہو گا نا سر جی، اور فضلو مسک ہی رہا تھا۔ آیا آ کے چارپائی پہ بیٹھ گیا۔

کہنے لگا “گھونگھٹ اتار دیا تو نے؟”
اس نے ایسے ظاہر کیا جیسا کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اسما کا بسورا منہ دیکھ کے کہنے لگا
“دوست ڈرامے کرتے ہیں۔ کبھی فون پہ مس کالیں مارتے ہیں، کبھی کھڑکی کھڑکا کے نس جاتے ہیں۔”
کہن لگا “اچھا سن تو کپڑے بدل لے ”
اسما ہچکچاتی کہنے لگی
” فضلو ایک بات کہنی تھی تجھ سے ”
فضلو آگے سے ہنستے ہوئے بولا:” ہاں جی بولیں”
“برا نہ منائیں!” ڈردی کہن لگی
اونے اگوں کہیا ” بول تے سہی ”
“پیریڈ ہو گئے ہیں مجھے۔”

“اچھا؟” کہن لگا “چل کوئی نہیں۔ پر تو کپڑے تو بدل لے۔ میں بھی بدل لیتا ہوں۔”
یہ کہہ کر اس نے پس پیش میں کلف لگی شلوار قمیض اتار دی۔ اور بنیان جانگھیے میں اسے ٹاٹرا ہو کے دیکھنے لگا۔ اسما فوراً اٹھی اور بڑی روکھی سی ہو کے نا اپنے رات کے کپڑے اٹھا کے غسل خانے کی طرف ٹُر گئی۔
“یہیں بدل لے” فضلو نے ہنستے ہوئے اسے کہا

پر اسما نے چپ کر کے نا غسل خانے کا دروازہ بھیڑا، لگی کپڑے بدلنے۔ فضلو دبے پاؤں آیا، تالے کے سوراخ سے اسما کا الف ننگا جسم دیکھنے لگا۔ ( یہ وہی سوراخ تھا نا جس سے 10 سال پہلے بھی فضلو اپنی، کیا نام ہے اللّٰہ بھلا کرے، اسما کے دو زنگولوں کو دیکھ کر بھونچکا ہوتا تھا) اسما نے ایک ایک کر کے اپنے زیر جامے اتارے۔ اس کی جھانٹیں جو تھیں نا سر جی نیزے کی نوک کی طرح بنی ہوئی تھیں، جن کا اشارا سیدھا اس کی زہار کی طرف جاتا تھا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے میں بکواس ہی کر رہا ہوں۔۔۔ پر جادو ایسا تھا نا کہ ایک بھبک اٹھتا نا تو غڑپ کر کے فضلو دھویں کا مرغولہ بن کے غیب ہو جاتا۔ فضلو کو سوجی شیطانی، اس نے دروازہ اچانک کھول دیا، اب تو شادی ہو چکی تھی اب کیوں ڈرنا ورنا ہیں جی؟ اب سوراخوں سے چوری چھپے دیکھنے کی کیا ضرورت ہے ( آپ بھی سوچتے ہوں گے)۔ایسی نقب لگی کہ اسما بوندلا ہی گئی اور اس نے فورا ًدروازہ بند کر دیا۔ فضلو کچا سا ہو گیا، پر خجالت میں بھی ہنستا تھا۔

” اب بھی شرمائے گی مجھ سے” کہن لگا۔

فضلو چارپائی پہ لیٹا اور اس روئی کے پھاہے کے بارے میں سوچنے لگا جسے پیریڈز کے دنوں میں سرخ ہونا چاہیے۔ پر وہاں تو کوئی پھاہا تھا ہی نہیں۔ کسی عیار جادوگر کا فریب تھا سر جی جو وہ پھاہا غیب ہی ہو گیا تھا۔

اسما باہر آئی تو اس نے اپنی مری ماں کی لال گلابوں والی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی، جو شادی سے تین دل پہلے ہی اس نے پیٹی سے برآمد کی تھی۔ آ کر فضلو کے ساتھ چارپائی پر لیٹ گئی۔ یہ جو چارپائی تھی نا مونج کی بان سے بنی ہوئی تھی سر جی — بالکل نئی، تبھی تو اتنی سخت تھی۔ اس حبس میں تو ایسا لگتا تھا کہ کنڈوں پر لیٹ گئے اور وہ بھی سیہہ کے۔ اب لیٹ گئے تو فضلو کے سر پہ پھاہا سوار اور اسما کہ سر پہ فیکا۔ اس خاموشی میں بہت زیادہ شور تھا سر جی۔ پھاہا ہونا نہ ہونا کوئی ایسی ضروری بات بھی نہیں تھی پر فضلو جانتا تھا کہ اسما فیکے سے پیار کرتی ہے، اس نے انجان بننے میں غنیمت جانی۔

اب میں نے دیکھا کہ لال پھاہا تخیل میں بڑا ہوتا جا رہا ہے اور چارپائی پر چادر کی طرح بچھ گیا ہے اور وہ چارپائی آسمان میں اڑن کھٹولا بنی پرواز کرتی ہے۔ مقبول، جو مجھے کہانی سنانے میں مصروف تھا، کے ہونٹ تو ہل رہے تھے پر مجھے آواز نہیں آ رہی تھی۔ میں لال پھاہے پہ فضلو کو کھڑا دیکھ رہا تھا۔ اور فضلو بارہ کہو کے چھوٹے چھوٹے گھروں کو۔ سڑکوں پر چیونٹیوں کی مانند انسان رینگتے تھے۔ وہ بانسری ہونٹوں سے لگائے ہوئے تھا جو سارے کو مبہوت کیے ہوئے تھی۔ ہُدہُد، طوطا اور نیل کنٹھ فضلو کی اڑن سواری کو دیکھ کر متحیر تھے کہ یہ کون سا پرندہ ہے جس کے پر اس کے پیروں کے نیچے ہیں۔ جو ان مردود انسانوں سا دکھتا ہے جو ان کے گھروندوں کو توڑتے تھکتے نہیں۔ نیل کنٹھ کو یاد تھا کہ کیسے اس کی ماں کو اسی شکل کے ایک لڑکے نے غلیل نامی ایک لکڑی کی دستی توپ سے مارنے کی کوشش کی تھی۔ ہُدہُد اس کو دیکھ کر ہنستی تھی کہ اس کے خانوادے میں کوئی ایسا سُر لگا نہیں سکتا تھا
جیسے سُر اس نوجوان کی بانس کی لڑی سے نکل رہے تھے۔ اور طوطا؟ وہ تو ہر طلسمی کہانی کا مرکزی جز ہوا کرتا ہے۔ میں نے طوطے سے پوچھا اے عنقائے سبز آگے کیا ہوا؟اور طوطے نے مجھے سر جی سر جی پکارنا شروع کر دیا۔ وہ آواز مار پیچوں سے ہوتی میرے کانوں میں یوں آئی کہ طوطے کا سر مقبول جیسا ہو گیا۔

سو وہ تندور پہنچ گیا نا جب۔۔۔ آپ سن بھی رہے ہیں میں کیا کہہ رہا ہوں۔
وہ تندور۔۔۔ سر جی ؟
میں واپس اپنے گھر میں تھا اور مقبول اپنا قصہ جاری رکھے ہوئے تھا۔
تو کہاں تک سنا آپ نے؟
یہی کہ وہ ایک چارپائی پر آ کر لیٹ گئے تھے۔
تو آپ نے یہ نہیں سنا کہ اس نے اسما کو چومنے کی کوشش کی تھی؟
نہیں
خدایا! یہ پڑی ہے میری قصہ گوئی۔ سن تو لیا کرو نا مسالہ بار بار نہیں لگتا سر جی۔ اب سیدھی سیدھی بات یہ ہے کہ اس نے سونے سے پہلے اسے چومنے کی کی کوشش، پر اسما نے کوئی لفٹ ہی نہیں کرائی۔ کنڈ کر کے لمبی ہو گئی۔ میں نے تو فضلو کو تندور تک بھی بھیج دیا تھا، ایک ایک ہچکولا سوزوکی کا آپ کو گنوایا تھا۔ چلیں کوئی نہیں، پر غور سے سنا کرو نا سر جی۔ اینوے نہیں بنتی یہ کہانیاں۔
میں فورا اچنبھے میں پڑا کہ کیا تم اتنی دیر سے مجھے کہانیاں سنا رہے ہو۔ تم نے مجھے کہا تھا فضلو بارہ کہو کا تندور والا ہے حاجی افضال۔
سر جی کہانی تو اسی کی ہے پر وہ کون سی کہانی ہوئی جو بالکل سچی ہو۔ جھوٹ کے بغیر تو بنتی نہیں کہانی۔

مقبولے اب مجھے یہ بتا کہ اس میں سچ اور جھوٹ علیحدہ کیسے ہو گا۔
سر جی یہ تو آپ کا کام ہے، میں نے تو کہانی سنانی ہے۔ اور پھر وہ ہنسنے لگا۔ اسے معلوم تھا قصہ گوئی کا جو گُر اس کے پاس ہے وہ تو پورے بازار کو روک دے۔ قصہ خوانی بازار میں پہلے جیسے قصہ گو ہوتے تو وہ کسی سرائے میں بیٹھا، ہر رات اشرفیوں پر اشرفیاں گنتا پر اس بد نصیب کو مجھ جیسے کوڑھ کو کہانیاں سنانا تھیں۔

مقبول بولا چلیں پہلے اسما کی سن لیں پھر فضلو کی سناتا ہوں۔ اسما اپنی ماں کے مرنے کے بعد سے اپنی مامی کے گھر پہ ہی تھی، یعنی فضلو کی اماں، وہیں پلی، سو شادی کے بعد جو ناز نخرے دلہنوں کے اٹھائے جاتے ہیں مامی نے اٹھانے کی کوشش کی اور کہا ابھی کچھ دن گھر کے کام میں آپ کروں گی تو دلہن بن کہ بیٹھ جا۔ پر وہ کیسے چھوڑ دیتی سارے کام بڈھی مامی کے سِر پہ۔ اٹھی اور کپڑے دھونے لگ گئی۔ ہاتھوں سے صابن لگی پوشاکیں رگڑتی جاتی تھی پھر مہندی کے رنگ کو دیکھتی تھی، پر مہندی کا رنگ ایسا رچا ہوا تھا کہ مٹنے کے بجائے اور گاڑا ہوتا تھا۔ جب وہ کپڑے برآمدے میں ٹانک کے فارغ ہوئی تو چھتی پہ چلی گئی اور تار پر جھٹک جھٹک کے کپڑے لٹکانے لگی۔ دو چھتیں چھوڑ کے فیکے کا گھر تھا۔ اسے یاد تھا کیسے وہ یونہی کپڑے ٹانکنے اوپر آتی تھی اور فیکا چھتیاں ٹاپتا ٹاپتا اس کو اپنے بازؤں میں جکڑ لیتا تھا۔ اس کے ہونٹ کاٹ لیتا تھا۔ وہ غمگین ہو کے رونے لگی۔ سعودی عرب مزدوری کو گیا واپس ہی نہ آیا۔ خصماں نو کھائے پیسے تو ماں پیو کو آتے ہوں گے پر فیکا نہیں آیا، پانچ ورے ہو گئے۔ راہ اس کی تکتے تکتے اسما خود دھول بن کے اڑتی جاتی، اڑتی جاتی۔ سوچنے لگی یہ جھوٹ کب تک چلے گا چار دن، پانچ دن ایک ہفتہ۔ فضلو کو کب تک منع کرے گی۔ وہ سوچتی تو اس کے سامنے اندھیرا آ جاتا۔ روہانسی ہو کے روتی جائے، اب نیا بہانہ کہاں سے لائے۔ پھر خود کو کوستی کیوں اتنی طاقت نہ آئی تجھ میں کہ مامی کو کہہ دیتی کہ پالا تو نے، تیرا احسان ہے، کسی اور طرح پورا کروا لے، پر دیکھ، بغیر فیکے کے ہور کسی سے نہ کروں گی بیاہ۔ اپنی کایرتا کو لاکھ گالیاں دیتی۔ آنسو اتنے تھے نا سر جی کہ بارش سے چھتی چوتی تھی، قسمے یہ جھوٹ نہیں ہے سر جی، ساون اسی کو تو کہتے ہیں۔ اب پھر اتارو کپڑے تاروں سے۔

اُس بازار کو، جس میں فضلو کے باپ کا تندور تھا، کوئی آسمان سے دیکھے تو ایک گلی ہو گی سر جی مگر اس بازار سے آسمان کو دیکھیں تو دیکھیں کیسے؟ سر جی یوں لگے گا کہ آسمان نہیں ہے بس ترپالیں پڑی ہیں۔ آدمی پر آدمی گرتا تھا، جھائیں جھائیں ٹر ٹر ہر طرف۔ سڑک پر نا اتنے بڑے اور گہرے کھڈے تھے کہ ایک آدھ سے تو وہ گائے بھی دکھتی تھی جس کے سینگوں پہ دنیا کھڑی ہے۔ روڈ جہاں سے مڑتی تھی وہاں پولیس کا ناکا تھا (وہ چِھلّڑ بھی پاتال کے دروغے ہی لگتے تھے)۔ شہر میں تقریباً ہر گاڑی چیک ہوتی تھی۔ پر بم پھر بھی پھٹتے تھے، سر جی آپ کو تو پتا ہے سب۔ مجھے یاد آیا ایک نا سر جی ہمارا دوست تھا سائیکل پہ ناکے سے گزر رہا تھا( غریب آدمی تھا) دسمبر کا مہینہ ہو گا، چادر ڈالی ہوئی تھی۔ چھلڑوں نے روکا تو پاگل کے پتر کے دماغ میں پتہ نہیں کیا آئی اچانک اللہُ اکبر کہہ کہ چادر کھول دی۔ چھلڑوں کا تو ترہا ہی نکل گیا سر جی۔ سارے اِدھر اُدھر دوڑ گئے۔ ایک دو منٹ کی کامیڈی کے بعد غریب کو صحیح پنج پئی۔ ہیں جی؟ ان دنوں تو آپ کو پتہ ہے ایسا دڑ پڑا ہوا تھا کہ دھڑا دھڑ بم پھٹتے تھے۔ میریٹ کا ستیا ناس ہوا تھا نا جب سر جی، اور جو وہ ڈراؤنی آواز آئی تھی جس سے شیشے تو پتا نہیں کتنے گھروں کے ٹوٹے تھے پر ایک انگریز لڑکی کا بُندا جو تھا نا میریٹ سے اڑتے اڑتے فضلو کے باپ کے قدموں میں آ کے گرا گیا تھا۔ وہ ہیرے کا بُندا بیچ کے ہی تو فضلو کی شادی کا سارا خرچ پورا ہوا تھا۔ لوگ پوچھتے تھے کہ 10 کوس دور سے بھی کوئی بُندا آ سکتا ہے اڑ کے بھلا، پر جو حق ہے سر جی سو حق ہے۔

اب اس دن ساتھ کی مرغیوں کی دکان سے ٹاپے ککڑو کوں کرتے تھے اور فضلو کا پیو روٹیاں لگا رہا تھا، فضلو پیڑے ایک کے بعد ایک کرتا تھا۔ بی اے کے امتحان کب کے ہو گئے تھے۔ اب گھر بیٹھنے سے تو بہتر یہی تھا نا کہ باپ کی مدد کرے، ہیں جی؟ تندور کے منہ کے ساتھ چھابڑی میں تل پڑے تھے جسے روٹی لگانے سے پہلے فضلو کا باپ نانوں پر لگاتا جاتا تھا ( آپ نے تو دیکھا ہی ہو گا، ہر تندور میں ایسا ہی ہوتا ہے )۔ پگھلا گھی بھی ایک پلیٹ میں پڑا تھا اور ساتھ اس کے ایک کھوچی سی تھی جسے پھیرے بغیر تل والا نان روغنی نہیں ہوتا۔ سر جی آپ کو پتا ہے نا روغن فارسی میں مکھن کو کہتے ہیں۔

میں نے مقبول سے کہا کہ روغن چکنائی یا تیل یا چربی کو کہتے ہیں۔ مکھن کو فارسی میں کرہ کہتے ہیں۔

وہ بولا : سر جی ایک ہی بات ہے مکھن میں بھی چکنائی ہی ہوتی ہے ہیں جی ؟ اچھا آگے سنیں۔

تندور کی میلی دیواروں پر بہت سی چیزیں ٹنگی ہوئی تھیں۔ ایک کیلنڈر تھا جس پہ ساون کے مہینے کی تاریخیں نظر آ رہی تھیں اور اوپر گامے پہلوان کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ ویسے، سر جی گامے پہلوان کو نا صرف ایک پہلوان نے ہرایا ہے، اس کا نام تھا نون پہلوان۔ اب تو سارے پہلوان نون غنے ہی آ رہے ہیں سر جی۔

میں نے مقبول کی تصحیح کی کہ گامے کو آج تک کسی پہلوان نے نہیں ہرایا۔ تو مقبول بولا:

سر جی نون پہلوان اس کا نانا تھا، بچہ ہو گا تب ہرا دیا ہو گا۔ گامے کو چھوڑیں یہ سوچیں کہ گامے کی تصویر بھلا تندور میں لگی کیا کر رہی تھی۔ فضلو کا باپ بھی پہلوان تھا نا سر جی۔ ایسا غصیلہ پہلوان اگر آپ کا پیو ہوتا تو آپ کو بھی فضلو کی طرح اسما اور فیکے کا قصہ جانتے بوجھتے ہوئے اس سے شادی کرنا پڑتی۔

فیکا پیڑے کہاں بنا رہا تھا، اسما کے ساتھ گزاری رات کے بارے میں سوچے جاتا تھا۔ اور یہ کہ آنے والی رات اسے مونجھ کے کانٹوں پر کیسے لیٹنا ہو گا۔ یہ سوچتے سوچتے وہ اٹھا اور گولڑہ شریف اپنے مرشد کے پاس جا پہنچا۔ پر پیر و مرشد جناب مہر علی شاہ صاحب کے پڑپوتے جناب پیر نصیر الدین نصیر کچھ بیمار تھے (اسی سال انھیں اچانک دل کا دورہ پڑا اور ان کی وفات بھی ہو گئی)،سو اس نے سوچا اگر لو لگا لی جائے تو کوئی بات دل میں بیٹھ جائے گی۔ بس لو لگی اور کوئی بات دل میں بیٹھ ہی گئی۔

گھر پہنچا تو ماں سے کہنے لگا اماں خدا دا واسطہ کوئی دلائی ہی ڈال دے چارپائی پے۔ رات ساری کانٹوں کی طرح کھبتی رہی ہیں بان کی رسیاں۔ خاموشی کے بھی کانٹے ہوتے ہیں سر جی، اور دلائی ڈالنے سے نا وہ کانٹے چبھنا بند نہیں ہوتے، ہیں جی؟

اسما اور فضلو پھر چارپائی پر لیٹے تھے۔ ساتھ سیڈ ٹیبل پر ایک ریڈیو پڑا تھا جس پر ان ہندستوڑوں کے گانے چل رہے تھے۔
مقبول نے گانا گانا شروع کر دیا

“بیتی نہ بتائی رینا، برہا کی جائی رینا”
“بھیگی ہوئی اکھیوں نے لاکھ بجھائی رینا”

گانا تو سنا ہو گا نا آپ نے سر جی، جیا بچن والا

بس اس دوران اسما کا دل نا جی بہت تیزی سے پھڑک رہا تھا۔ وہ سارا وقت یہی سوچ رہی تھی کہ وہ کیسے یہ سب کہے گی۔ اور اگر یہ سب کہنے کے بعد کیا بعید کہ فضلو اسے مار ہی ڈالتا۔ بھلے مار دے اس نے سوچا پر وہ فیکے کے علاوہ کسی اور کے ساتھ محبت نہیں کر سکتی۔ اس کا دل، اس کا جسم فیکے کی امانت ہے اس نے سوچا۔ پھر وہ سوچتی فضلو بڑا اچھا انسان ہے، مجھے ہرگز کچھ نہیں کہے گا۔ پھر اچانک نہ جانے کہاں سے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے سر جی۔ اپنی قسمت کو کوسنے لگی کہ میں کتنی کو بدقسمت ہوں کہ مجھے وہ شخص بھی نہ ملا جسے میں نے یوں ٹوٹ کر چاہا۔ پگھلا ہوا مسکارا آنکھوں کی موم بتیوں سے گر رہا تھا سر جی۔ پر اسما کو کیا فکر تھی۔ اس نے فیکے کا نام لیے بغیر اپنی تیز دھڑکنوں کو اور تیز ہوتے دیکھا، پر اسے جو کہنا تھا کہہ ہی دیا۔

“میں نے سوچا تھا نکاح کے بعد میرا دل بدل جائے گا۔ پر میں وہیں کھڑی ہوں قسمے۔ نہ آگے کو جا سکتی ہوں نہ پیچھے کو۔ مجھ پہ مہربانی کر فضلو، مجھے بخش دے”۔

فضلو سر جھکائے ہوئے بولا

“نہ کر دیتی پہلے، جو قبول نہیں کرنا تھا دل سے۔ ”

“تیری ماں میری ماں ہے، اتنا جو احسان ہے اس کا، کیسے منع کرتی میں”
وہ روتے ہوئے کہنے لگی
” وہ جو ماں ہے تیری تو میں بھی ماں جایا ہوا پھر،مرشد کی قسم تجھے ہاتھ نہ لگاوں گا۔ تو ایسے ہے جیسے میری بہن ہو۔”

اب جب بات منہ سے نکلی نا سر جی فر لگا پتا اس کو کہ وہ کیا کہہ بیٹھا تھا۔ یہ بات گولڑا شریف کے سامنے لو لگاتے ہوئے تو اتنی مشکل نہیں لگی تھی پر اب یہ کہنے کے بعد اس کا سانس کیوں گھٹنا شروع ہو گیا تھا؟ ظاہر ہے ایسی قسم تو کسی بڑے ولی کو بھی ہلا دےاور وہ تو بے چارا مسکین سا آدمی تھا۔ تھوڑی دیر تو ٹوٹل خاموشی تھی سر جی، پھر فضلو کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

اسما کو فضلو اس ٹیم بہت ہی چنگا لگا تھا۔ اس نے آنکھیں اٹھائیں تو فضلو کی داڑھی آنسوؤں سے گیلی ہو رہی تھی۔

ہر رات اسما آنکھیں بند کر کے سونے کا ڈرامہ کرتی پر فضلو سوتا ہی کہاں تھا سر جی۔ ساری رات خصماں کھانے موبائل پر کچھ کھیلتا رہتا۔ ٹوں ٹوں کی آواز سارا ٹیم آتی رہتی۔ اسما مکر کرتے کرتے اصل میں سو جاتی۔ صبح ہوتے ہی فضلو تندور کو چلا جاتا۔ اور اسما مامی کے ساتھ گھر کے کاموں میں جت جاتی۔ اسے مامی کا گھر بالکل پرایا نہ لگتا تھا۔ اور لگتا بھی کیسے، بچپن سے ماں کے مرنے کے بعد اسما کو اس کی مامی نے اپنی اولاد سمجھ کر پالا تھا۔ وہ مامی کو اتنا خوش دیکھ کر دل میں بہت اداس ہوتی۔ وہ اپنی ماں جیسی مامی کو خوش نہیں کر سکتی تھی سر جی۔ وہ اس کے بیٹے کو کیسے قبول کرتی۔

اسما کو یاد تھا کہ پہلی بار فیکے نے اس کے ہونٹوں کا رس جب پیا تھا نا، وہ ساری رات فیکے کی خوشبو اپنی سانسوں میں محسوس کرتی رہی تھی۔ اس کے پسینے کو سونگھ کے کوئل باغ کا رستہ بھول جاتی ہوگی۔ ایسا گبرو جوان کس ماں نے جننا تھا۔ سیلاب کے ریلے سے گیلیاں رسی ڈال کے کھیچ لینے والا، قربانی کے ٹیم اکیلے گائے کو گرا لینے والا، باشک ناگ کو گردن سے دبوچ لینے والا، ایسا گبرو سر جی، کس ماں نے جننا تھا۔

پر فضلو بھی ایسا برا نہیں تھا، اگر فیکا گبرو تھا نا سر جی تو فضلو نازک دل ہیں جی؟ دل اس کا کلیوں جیسا نرم۔ اس کی بانسری قوس قزح کے رنگ کھینچ لیتی تھی سر جی۔ کتنا رحم دل تھا وہ۔ ورنہ کس کا ایسا دل ہو گا کہ یہ جانتے ہوئے کہ اس کی بیوی کسی اور سے پیار کرتی ہے، اسے کچھ نہ کہتا ہو۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اسے فضلو پہ پیار آنے لگا تھا۔ وہ اکثر سوچتی کہ یہ اس کا دل کیسا دل ہے کہ ایک وقت دو مردوں کو چاہنے لگا ہے۔ فضلو کی بانسری بھی اس کو اتنی چنگی لگتی جتنی فیکے کے پسینے کی خوشبو۔ وہ یہ خیال آتے ہی اپنا سر جھٹکتی۔

“میں فیکے سے پیار کرتی ہوں “۔
“فضلو میرا کچھ نہیں۔ پر وہ میرا شوہر ہے۔” وہ سوچتی۔ فیکا میرا کچھ نہیں۔”

یہ گومگونی نا اس کو چلہا کر رہی تھی سر جی۔ وہ دل ہی دل میں وہ ٹیم یاد کرتی جب اس کے ادھ ننگے جسم پر فیکا کھیت میں کسی پھنیر سانپ کی طرح جھپٹ رہا تھا۔ وہ کہاں ہل سکتی تھی سر جی۔ اس وقت اسما نے مکئی کا بوٹا سرمستی میں نوچ لیا تھا۔ ایسا گبرو سر جی کس ماں نے جننا تھا۔

اس رات جب اسما اور فضلو پھر ایک بار چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے تو فضلو کے خراٹوں کی آواز سن کے، اسما نے کروٹ لی اور فضلو کے پسینے کو سونگھنے لگی۔ اسے اس پسینے کی خوشبو میں بھی اپنایت سی محسوس ہوئی سر جی۔

دوسری طرف فضلو کی دھڑکن اب زیادہ تر تیز ہی رہتی تھی، سر جی پریشان جو تھا اور گردن میں ایک درد مسلسل محسوس ہوتا تھا، جیسے کسی سخت گیر چڑیل نے اسے دبوچ رکھا ہو۔ اس کے لئے سونا بڑا مشکل ہو گیا تھا، وہ اگر 12 بجے بھی سوتا تو دو بجے اس کی آنکھ کھل جاتی۔ ان دو گھنٹوں میں اسے عجیب و غریب چیزیں نظر آتیں۔ کبھی پورے چاند کی روشنی میں ایک لنگڑاتا کتا نظر آتا، کبھی چوہوں کے کترتے دانت اس کی آنکھوں کو نوچنے کی کوشش کرتے۔ سر جی کبھی مکڑیوں کا ایک جمگھٹا اس کی لاش کو اٹھائے پھرتا۔ اسے یقین ہو رہا تھا کہ وہ آہستہ آہستہ جھلّا ہو رہا ہے۔ جسم کو آرام درکار تھا پر نیند جیسے آنکھوں سے اٹھ کر چھت پر چلتی رہتی۔ سر جی میں نے آپ کو بتایا تھا نا کہ وہ اپنے موبائل پر رات رات گیم کھیلتا رہتا تھا، سانپ والی گیم۔ اسے اس سانپ پر اپنا سر دکھائی دینے لگا تھا۔ ہر رات اسی شش و پنج میں گزرتی۔ وہ سوچتا رہتا کہ یہ کیسی زندگی ہے، وہ شادی شدہ ہو کر بھی شادی شدہ نہیں۔ ایک عورت کے ننگے جسم کو چومنے، چاٹنے، نوچنے کی خواہش اس کی شریانوں کو سکڑا رہی تھی۔ ہوس کی دیمکیں، فکر کے گُھن سر جی اسے آہستہ آہستہ چاٹے جا رہے تھے۔

اس رات وہ اسما کی سبز قمیض پر کڑھے لال پھولوں کو گھورتا رہا۔ گلاب کے پھول اس کے جسم کے اتار چڑھاؤ پر بکھرے پڑے تھے، قمیض کا پیچھا ڈوریوں کے جال کا سا تھا۔ وہ اس جال میں سے اسما کی کمر کے باریک نیلے بالوں کو گھورتا رہا، اوئے ہوئے سر جی ایسی تصویر کو سوچ کے تو میرے اپنے بارہ طبق روشن ہو رہے ہیں۔

“چودہ طبق” میں نے کہا

“ویسے سر جی یہ طبق کا کیا قصہ ہے”

اسے میری شکل دیکھ کہ فورا اندازہ ہو گیا کہ مجھے ابھی اس سوال سے کوئی سروکار نہیں ہے سو اس نے کہانی آگے سنانی شروع کی۔
اب اس نے ایک بار پھر گیم کھیلنا شروع کر دی۔ ٹوں ٹوں ٹوں ٹوں پھر شروع۔

پھر ہوا یوں کہ وہ سانپ فون سے نکل کر چارپائی پر رینگنے لگا۔ اسما کے پیروں سے اس کی پِنّیوں کو چومتا، اس کی پنیوں سے اس کے پٹوں تک سرکتا ہوا آ پہنچا۔ اس کے آسن کو چاٹتا، اس کی قمیض کے چاک سے اس کے ناف پیالے کو اپنی زبان سے چکھنے لگا۔ وہ ریگستانی سانپ نا سر جی اس کے سینے پر جو ریت کے ٹیلے سے تھے، لوٹتا رہا۔ سر جی اس کے ہونٹوں پر اپنی زبان پھیرتا ہوا نا، اس کی گردن سے لپٹ گیا۔ اس کی کمر کے رستے رینگتا ہوا اس کے کولہوں تک آ پہنچا۔ ننگی چمڑی پر سانپ کے چلنے سے سر جی جو آواز آ رہی تھی وہ ایسی تھی کہ جیسے مردہ گوشت پر ناخن کھروچے جا رہے ہوں۔ فضلو کو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اسما کے کولہوں کے خدوخال اسی سانپ کے رینگنے سے ریت پر ابھر آئے ہیں، ہیں جی؟ اسما کے جسم سے سوکھے گھاس کی خوشبو آتی تھی سر جی۔ اگر کوئی اس خوشبو کی پٹاری فضلو کے سامنے رکھ دیتا نا تو وہ ہمیشہ کے لئے اس پٹاری میں کنڈل مار کے بیٹھ جاتا۔

وہ چارپائی سے اٹھا اور چکر کاٹ کر زمین پر ننگے پیر اکڑوں بیٹھا گیا۔ اسما کا چہرا اس کے سامنے تھا۔ اس کی بھنووں کی بناوٹ آسمان پر نا دور کسی اڑتے پرندے جیسی لگ رہی تھی سر جی۔دونوں بھنویں جڑی ہوئی تھی نا اس کی۔ وہ اس کی بند آنکھوں کے پپوٹے پر ہلکی لکیریں گننے لگا۔
ایک دو تین۔۔ ہیں جی؟ مقبول نے مجھے مسکراتے ہوئے دیکھا۔

ان لکیروں کو دیکھتے دیکھتے نا سر جی، اسے اسما کے سانولے پپوٹے مغرب کے آسمان کی طرح لگنے لگے۔ اس کی پلکیں ڈوبتے سورج کی شعاعیں بن گئیں۔ فضلو بھی اس پرندے کے ساتھ اڑنا چاہتا تھا سر جی۔ وہ پتا نہیں کب تک یوں اکڑوں بیٹھا رہا۔ ہاں جب تک کہ مولوی کے میئک کی کھڑکھڑاہٹ سنائی نہیں دی۔ اذان شروع ہوئی اور فضلو اپنی سوئی ہوئی ٹانگوں سے لنگڑاتا اسما کے ساتھ آ کے چار پائی پر ایک بار پھر لیٹ گیا۔ آنکھیں بند کرتے ہی دھنستے دھنستے وہ نیند کی ریت میں دفن ہوگیا۔

شامی نے اپنی ماں سے سنا تھا کہ فیکا سعودی عرب سے واپس آ رہا ہے۔ سر جی یہ سنتے ہی فضلو کا دماغ بُڑ بُڑ کر کے ابلنے لگا۔ اس کے دل میں یہ ڈر بیٹھ گیا کہ فیکے کے آتے ہی اسما اس کے ساتھ بھاگ جائے گی۔ پر اب وہ جو اپنے مرشد کی قسم کھائے بیٹھا تھا، بہت پچھتا رہا تھا سر جی۔ کام ہی پُٹھا کیا تھا اس نے۔ وہ اس کی بہن کہاں تھی، وہ تو اس کی منکوحہ تھی، کہنے سے تھوڑا ہی نا سر جی وہ اس کی بہن بن سکتی ہے۔ سوچنے لگا مجھے خدا نے اسما کے جسم پر حق دیا ہے۔ وہ میری کھیتی ہے، میں جیسے چاہوں اس میں داخل ہو سکتا ہوں۔ اس نے سوچا وہ نامرد تھوڑی تھا کہ اس کی منکوحہ کسی ہور کے ساتھ نس جائے۔

تندور میں خمیرا آٹا ایک علیحدہ بوتل میں پڑا تھا سر جی۔ فضلو اس بوتل کو دیکھتا تو اسے محسوس ہوتا کہ وہ خمیرا آٹا سانس لیتا ہے اور سر جی خمیر واقعی زندہ چیز ہے، نہیں؟ اس نے بوتل سے کچھ خمیرا آٹا نکالا اور سادے آٹے میں شامل کر دیا۔ اپنے چکنے ہاتھوں سے پانی، آٹے اور خمیر کو ملاتے اسے اسما کے کولہوں کا خیال آیا تو وہ اور تندہی سے آٹے کو گھوندھنے لگا۔ مُکیاں زوروں سے لگاتے سر جی، وہ ہانپتا اور اسما کے جسم کا تصور اس کے دل و دماغ میں زندہ خمیر کی طرح پھولنے لگتا۔ اس نے پیڑے بنانے شروع کیے، بیسیوں پیڑے بنا ڈالے، کچھ آٹا چھوڑ دیا، کپڑے سے ڈھکا اور خاموشی سے بیٹھ گیا۔ وہ پیڑے کہاں تھے سر جی کوئی مورتی تھی۔ اور وہ بچا ہوا آٹا ؟ پھر آپ کہیں گے میں بکواس کرتا ہوں سر جی، اس کے کولہے تھے اور وہ کیسے ٹانگیں ان سے جوڑے تھی کہ معلوم نہ پڑتا تھا کہ کولہے کہاں ختم ہوئے اور ٹانگیں کہاں شروع ہوئیں۔ پھر کیا ہوا سر جی، تندور میں آگ خود ہی لگ گئی۔ پتا نہیں آگ لگ گئی تھی یا اس کا گمان تھا۔ فضلو نے دیکھا کہ اسما تندور میں لگی آگ کو گھور رہی ہے اور پس منظر میں کسی وڈے سارے نوجوان کا سایہ موجود ہے جو فیکے جیسا دکھتا ہے۔ اسما کسی جادوگرنی کی طرح منتر پڑھنے لگتی ہے

انگ انگ زہر گھات، رنگ رنگ مضمرات
کھٹمل اور کھاٹ کھاٹ، رینگتے ہیں رات رات

آن آن رینگ رینگ گاڑ دے ہر ایک سینگ
جیبھ ہے سو چاٹ چاٹ پوٹا پوٹا کاٹ کاٹ

خمیر اور اندیشے کہیں زندہ ہو جائیں نا سر جی تو آہستہ آہستہ جو کچھ ان کے اردگرد ہوتا ہے نا اسے کریدتے کریدتے پھولتے جاتے ہیں۔

فضلو اور اسما کی شادی کو سر جی اب تین مہینے ہو چکے تھے۔اس دن بی اے کا رزلٹ آ چکا تھا، حاجی افضال کالج کی طرف بھاگا، رزلٹ بہترین تھا۔ اس نے پوری کلاس میں اول پوزیشن حاصل کی تھی۔ کبھی وہ وقت بھی تھا کہ وہ آگے پڑھنا چاہتا تھا پر ان حالات میں آگے پڑھنا کس کے لئے ممکن ہوتا۔

فضلو آج پھر وہ معجون یا سفوف یا جو بھی تھا پھک کے بیٹھا ہوا تھا۔ اب گولڑے سے خود لایا تھا یا شامی یا افتی نے دیا، اللہ جانے پر وہ واپس گھر گیا تو فضلو کی ماں روٹیاں بیل رہی تھی۔ کڑم ساگ کے ساتھ گرم روٹی کھاتے ہوئے اس نے اسما کی طرف دیکھا جو کپڑے دھو رہی تھی اور اس کی گیلی قمیض میں اس کے نوک پستان جو تھے نا صاف نظر آ رہے تھے۔ پستان کا درز سر جی جو جھکنے پر اور نمایاں ہو جاتا تھا، فضلو کی شہوت کو اور ابھار رہا تھا۔ وہ دل ہی دل میں فیصلہ کر چکا تھا کہ آج رات وہ اپنی قسم توڑ دے گا۔ اسما فضلو کو یوں گھورتے ہوئے دیکھ کر مسکرانے لگی۔

کڑم ساگ اور روٹی کھاتے ہوئے اس نے سوچا تھا کہ اب رحم سے کام نہیں چلے گا۔ وہ دل میں بار بار کہتا رہا۔ اسما میری کھیتی ہے، اسما میری کھیتی ہے اور میں جیسے چاہوں اس میں داخل ہو سکتا ہوں۔ اسما کے نوک پستان اس کے جسم میں یوں طغیانی لا رہے تھے سر جی کہ چاند سوا نیزے پر ہو۔

فضلو روٹی آدھی چھوڑ کر اسما کی طرف بڑھا اور اس کا بازو پکڑ کر کمرے میں کھینچتا ہوا لے گیا۔ ریڈیو پر کچھ گانے لگے تھے۔ سر جی پر اچانک ریڈیو کی رسیپشن آنا بند ہو گئی۔ ریڈیو کی کھڑکھڑ کے ساتھ تھوڑی ہی دیر میں اسما کی چلاہٹ سنائی دینے لگی۔ فضلو کی ماں وہ آہیں سن کر اپنی جوانی کا وقت یاد کر کے مسکرانے لگی۔

فضلو کا چہرا کمرے سے نکلتے ہوئے دمک رہا تھا سر جی جیسے کوئی بڑا کام کر کے نکلا ہو۔ کمرے کا پرانا نیلا دروازہ کھلتے ہی اس نے چیونٹیوں کی ایک قطار کو کمرے میں آتے دیکھا۔ اس کے دل میں آئی کہ وہ ان پر اپنی چپلی رکھ کر ان کا بھی کام تمام کر دے۔ اس نے انھیں مارنے کے لئے اپنا پیر اٹھایا مگر وہاں کچھ دیر کے لئے رکا رہا۔ پھر اچانک اس پر وارد ہوا کہ شیطان نے اسے بہکا دیا ہوگا ورنہ وہ اسما کے ساتھ کبھی زور زبردستی نہ کرتا۔ وہ اسی شام اپنے گھر سے یوں بھاگا کہ پھر کبھی واپس نہ لوٹا سر جی۔

تندور سے کمائے پیسوں سے اس نے صرف حج کے پیسے جمع کیے اور فضلو سے حاجی افضال بن گیا ہیں جی؟ پر سر جی اپنے مرشد کی قسم توڑنے پر آج بھی وہ خود کو بہت کوستا ہے۔ گولڑہ شریف جا کر کئی بار معافی مانگ چکا ہے پر دل کو چین ہی نہیں پڑتا۔

Categories
فکشن

لم دُمّا (رضی حیدر)

سلمان تین سال کی عمر میں سائیں سہیلی سرکار کے میلے پر نقلی سفید داڑھی پہن کر کتنا خوش تھا۔ ست ربٹیا گیند ہوا میں اچھالتے اس نے کب سوچا ہو گا کہ 12 سال بعد وہ ایک چارپائی سے بندھا اس شام کو یاد کر کے رو رہا ہوگا۔

سلمان کے باپ کو مرے پانچ سال ہو چکے تھے۔ زلزلے میں اس اکیلے کا خاندان غارت نہ ہوا تھا، نجانے کتنے خاندانوں کی دنیا الٹ پُلٹ گئی تھی۔ پہ دنیا کہ ہے ہی دُھند کا پسارا، سو چند لمحوں میں سب برباد ہوا۔ سلمان کے باپ کو، جو کسی ڈاکٹر کے ہاں کمپوڈر کا کام کر کے اچھے پیسے کما لیتا تھا، زلزلہ نگل گیا اور یوں سلمان یتیم ہو گیا۔ ماں اور بہن کو کون پالتا سو سلمان 12 سال کی عمر سے نوکری پر جانے لگا۔ مظفرآباد کے گھر گھر جا کر صاف صفائی، کھانا پکانا، استری جیسے گھر کے چھوٹے چھوٹےسارے کام کرتا۔ چکن کڑاہی تو ایسی کھڑی کھڑی بناتا کہ لوگ کبھی انگلیاں چاٹتے کبھی انگلیاں کاٹتے۔

سلمان جیسے جیسے بڑا ہو رہا تھا اس کے سبھاؤ میں زنخوں والی مٹک چٹک آنے لگی تھی۔ ہاتھ تھے کہ ہوا میں لہکتی ڈاریں، کمر تھی کہ مور کی مانند غمزہ دکھاتی۔ اسے اپنا آپ باقیوں سے مختلف محسوس ہوتا۔ اس کا یہ احساس روز بروز بڑھتا جا رہا تھا۔

اسے یاد تھا کہ شوکت صاحب کے بیٹے سعدی کو کائی جمی سیم زدہ دیوار پر رینگتے سرمئی بھنوروں کو اپنی ائیر گن سے گرانے کا بہت شوق تھا۔ سعدی آخری وقت تک بھنوروں کو کافی اوپر تک پہنچنے دیتا اور پھر گھوڑا دبا دیتا۔ بندوق سے نکلتی ہوا سے ان بھنوروں کی ساری محنت غارت ہو جاتی۔ وہ نیچے گر جاتے اور سعدی ہنسنے لگاتا۔ سلمان سعدی کی بندوق کو پکڑنا چاہتا تھا۔ دیکھے تو سہی کہ وہ کتنا بانکا لگتا ہے اس بندوق کے ساتھ۔ ایک روز شوکت صاحب کے خانوادے میں شادی تھی سب لوگ تیار ہو کر جانے لگے۔ شوکت صاحب کے کپڑے استری ہونا باقی تھے، ابھی تو ہانڈی کڑچھی سے بمشکل جان چُھٹی تھی۔ شوکت صاحب سلمان کے پاس آئے اور کہنے لگے

’’پُتر کام ابھی باقی ہے تو آرام سے کر، جب ہو جائے تو آگے سے کنڈی اڑیس کے پچھلے دروزہ سے نکل جانا۔ پر دروازے کو جاتے ہوئے بھیڑنا ضرور۔ اینوے کوئی جانور، پرندہ نہ گھس جائے ۔ ‘‘

سلمان نے خاموشی سے سر ہلایا اور استری کے ٹیبل کی طرف بڑھا۔ جہاں کپڑوں کا کھلیان اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے ایک کے بعد دوسرا شلوار قمیض کا جوڑا استری کرنا شروع کر دیا۔ شوکت صاحب، ان کی بیوی اور بچہ تینوں ہی تیار ہو کر اپنی نئی مہران میں بیٹھے اور سنگم ہوٹل چلے گئے جہاں شادی کی شادمانیاں ان کی راہ تک رہی تھیں۔ سلمان کو قریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد استری کرنے سے فراغت ملی۔ وہ گھر سے جانے لگا تو اس کے مغز میں کیڑا کلبلایا۔ وہ سعدی کے کمرے میں گیا اور اس کی ایئر گن کو اٹھا لایا، جو عین سٹڈی ٹیبل کے ساتھ پڑی تھی۔ مغرب کا وقت تھا وہ باہر گیا تو اودے شفق پر اسے تیتر، کُگھیاں، پیل وارو، نیل کنٹھ، سونڑاں پیتھا سب اپنے گھروں کو جاتے دکھائی دیے۔ پر سلمان تو فقط سعدی کی ریس کرنا چاہتا تھا۔ اس نے ائیر گن کو کندھے کے ساتھ اٹکایا اور بڑی لچکیلی ادا سے ٹیڑھی آنکھ کی اور دیوار پر چڑھتے ایک سرمئی بھنورے کا نشانہ باندھا۔ گن پہلے ہی سے لوڈڈ تھی، ایک چھوٹا سا دھماکا ہوا اور بھنورے کے اسی آن پرخچے اڑ گئے۔ سلمان بھونچکا ہو کر دیوار کو دیکھتا رہا جہاں ایک چھوٹا سا کھڈا بن گیا تھا۔ وہ واپس برآمدے سے ہوتا ہوا سعدی کے کمرے کی طرف دوڑا اور اس کی بندوق وہیں چھوڑ کرپچھلے دروازے سے نکل گیا۔ دل کی دھک دھک نے یہ تو بھلا ہی دیا کہ پیچھے کا دروزہ اچھی طرح بند نہ ہوتا تھا اور تھوڑی ہوا چلے تو اس کے پاٹ فورا کھل جاتے تھے۔ پر اپنی چوری پکڑی جانے کے ڈر سے سلمان کا دماغ ماؤف ہو چکا تھا۔ اس نے دروازہ ٹھیلا اور گھر کی طرف دوڑ لگا دی۔ رات کو تھوڑے ہوش بجا ہوئے تو سوچنے لگا کہ شوکت صاحب نے سعدی کو ائیر گن میں چھرے ڈالنے کی تو کبھی اجازت نہ دی تھی، تو یہ چھرا بندوق میں کیا کر رہا تھا۔ شوکت صاحب تو بڑے رحم دل انسان ہیں۔ ہمیشہ پرندوں کی باتیں کرتے ہیں۔ کسی جاندار کو ائیرگن سے مارنا تو ان کے نزدیک بہت ہی نیچ حرکت ہے۔ آخر اس نے سوچا کہ شاید یہ سعدی کی ہی شرارت ہو گی۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ نئی صبح آئی تو سلمان سب بھول بھال کر پھر کام میں جت گیا۔ یوں ہی صبح شام گزرتے رہے۔

شوکت صاحب کے گھر گیا تو کہنے لگے
” پتر تو نے اس دن پچھلا دروازہ صحیح طرح بند نہ کیا”

یہ سنتے ہی سلمان کو اپنی نبض میں بجلی کی سرعت محسوس ہوئی۔
“پر کمال ہو گیا ایک بھولا بھٹکا سفید لَم دُمّا گھر میں گھس آیا۔ کیا خوبصورت پرندہ ہے۔ آ تجھے دکھاؤں۔”

یہ پیاری لال چونچ، سر گاڑھا آبی، پر آسمانی نیلے، پیٹ سفید، اور یہ لمبی دم کہ جس کی وجہ سے اسے لَم دُمّا کہتے ہیں۔ اگر عنقا اصل میں ہوتا تو ایسا ہوتا۔ سلمان کی جان میں جان آئی وہ مسکرانے لگا۔

” تھوڑا زخمی تھا۔ اب بہتر معلوم ہوتا ہے۔”

شوکت صاحب اسے باہر لے گئے اور اڑا دیا۔ اب دونوں آسمان میں اڑتے سفید لَم دُمے کو دیکھ کر مسکرانے لگے۔ شوکت صاحب نے سلمان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور برآمدے سے ہوتے گھر واپس آ گئے۔ کہنے لگے “آبادی کی اس بہتات میں اب ایسا پرندہ شاز و نادر ہی نظر آتا ہے۔ کیسے وہ زمانے تھے جب مظفرآباد میں معمورے تھوڑے تھے اور پیڑ زیادہ۔ رنگ رنگ کے پرندے، رنگ رنگ کے حشرات تھے اس بہشت زار میں۔ ”

سلمان کو شوکت صاحب کی شخصیت میں ایک عجیب سی کشش محسوس ہوئی۔ ایسی کشش کہ اس نے پہلے محسوس نہ کی تھی۔ وہ آزاد کشمیر میں اورنیتھولوجی کے پروفیسر تھے اور مظفرآباد کے پرندوں پر تحقیق کر رہے تھے۔ چہیلا بانڈی جا کر ایک اونچے ٹیلے پر کھڑے ہو کر پرندوں کا اپنی کالی جرمن دور بین سے نظارہ کیا کرتے تھے۔ عام طور پر جب وہ پرندوں کی تحقیق پر نکلتے تو کیمرا، دور بین، کاغذات وغیرہ سب لے کر جانا پڑتا۔ شوکت صاحب سلمان کو اس دوران اپنے ساتھ مددگار کے طور پر لے جاتے۔ سلمان خوشی خوشی سب کام چھوڑ کر ان کے ساتھ ہو لیتا۔ شوکت صاحب سے اسے ایک عجیب سی انسیت کا احساس ہونے لگا تھا۔ ایک ایسی انسیت کا جسے زبان سے بولا جاتا تو شاید پھر زلزلہ آ جاتا۔ خدا جانتا تھا کہ زلزلے سوچوں کا نتیجہ ہیں یا زمین کے نیچے ٹیٹونک پلیٹیں ایسی سوچیں پیدا کرتی ہیں۔ یا یہ دونوں ہی باتیں جھوٹی ہوں، اسے کیا معلوم تھا۔

کچھ عرصہ گزرا تو شوکت صاحب کا اعتبار سلمان پر اور بھی پختہ ہو گیا۔ اب کوئی خوشی غمی ہوتی تو سلمان کو گھر پر اکیلا چھوڑ جاتے۔

شوکت صاحب کے سسرال والوں میں سے کسی کی شادی اسلام آباد میں ہونا طے پائی تھی اور وہ بیوی، بچے سمیت وہاں جانے والے تھے۔ سلمان کو انہوں نے بلا بھیجا۔ سلمان ہنسی خوشی گھر کی رکھوالی کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ شوکت صاحب نے اسے چابی پکڑائی اور اسلام آباد چلے گئے۔ سلمان وقت کاٹنے کے لئے صاف صفائی میں جت گیا۔ صفائی ستھرائی سے فارغ ہو کر، کپڑے استری کرنے میں لگ گیا۔ دو دن میں سب کام مکمل ہو گئے۔ شوکت صاحب نے ولیمے میں شرکت کر کے آنا تھا۔ سلمان کے پاس اب کوئی کام نہ بچا تھا۔ اتنے میں سلمان کے مغز کا کیڑا پھر کلبلانے لگا۔

انہیں آنے میں 5 گھنٹے باقی ہیں کیوں نہ وہ شوکت صاحب کی ریس میں چہیلا بانڈی جا کر پرندوں کا دوربین سے نظارہ کرے۔

یہ سوچتے ہی وہ شوکت صاحب کے کمرے میں گیا اور دراز سے ان کی جرمن دوربین نکالی اور گھر بند کر کے چہیلا بانڈی چلا گیا۔ ٹیلے پر کھڑے ہو کر دور بین کی آنکھ سے دیکھنے لگا۔ وہ دور کُگھیاں درخت میں چھپی بیٹھی تھیں۔ وہ جھاڑ میں تیتروں کا ڈیرا تھا۔ وہ پیل وارو چہچاتا تھا، وہ نیل کنٹھ کا جوڑا ایک دوجے سے اٹھکیلیاں کرتا تھا۔ وہ دور ٹُکٹُکا درختوں پر ٹُک ٹُک کر رہا تھا۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ بھی ایک پروفیسر ہے۔ یہ سوچ دل میں آتے ہی وہ ہنسنے لگا اور شوکت صاحب کی چال ڈھال کی نقل کرنے لگا۔ وہ آواز موٹی کر کے کہنے لگا:

” پتر یہ یہ جو پیلے والا کوے کی طرح دکھتا ہے پیل وارو ہے”
“یہ جو آسمانی نیلے رنگ کی چڑیا ہے نیل کنٹھ ہے”
” آبادی کی اس بہتات میں اب لَم دُمّے جیسا پرندہ شاز و نادر ہی نظر آتا ہے”

وہ اپنی ان حرکتوں پر اس زور سے قہقہے مار کر ہنسنے لگا کہ دور بین ہاتھ سے چھوٹی، تو ٹیلے سے نیچے جا پڑی۔ سلمان ڈر گیا۔ اور جھاڑی جُھنڈوں سے ہوتا ہوا نیچے اترنے لگا۔ بڑے کشٹ بھوگے تو کہیں جا کر دور بین تک پہنچا۔ اٹھا کر دیکھا تو شیشہ ٹوٹا ہوا پایا۔ دل سے ایک طوفان اٹھا، خدایا اب کیا ہو گا۔ زار و قطار رونے لگا۔ خدایا کیا کروں، کیا کروں۔ اس پریشانی میں وہیں سر پکڑ کر بیٹھا رہا۔ اچانک خیال دل میں کوندا کہ گھر پہنچوں کہ وہ لوگ آتے ہی ہوں گے۔ پوٹلی جو ساتھ لایا تھا اس میں دور بین کو ڈالا، واپس ٹیلے تک پہنچا اور گھر کو دوڑ لگا دی۔ یہ ٹوٹی ہوئی دور بین کا شیشہ تو پورے مظفرآباد میں کہیں سے ملنے کا نہ تھا۔ ڈر کے مارے پوٹلی کو دراز میں رکھنے کے بجائے سٹور میں رضائیوں والی پیٹی کے پیچھے چھپا دیا۔ اور کپڑے جھاڑ کر خود کو کام میں مصروف کر لیا۔ شوکت صاحب کا خانوادہ واپس آیا تو سلمان کو چھٹی ملی۔

وہ واپس گھر آیا اور ایک کونے میں دبک کر بیٹھ گیا۔ ماں پوچھتی رہی بیٹا کھانا کھائے گا، کہنے لگا بھوک نہیں ہے۔ اس کا اڑا رنگ دیکھ کر جب ماں نے کریدا تو اس نے سچ سچ بتا دیا۔ ماں بھی یہ سن کر فورا ڈر گئی۔ الہی خیر کر۔ ایک دو دن گزرے تو سلمان گھروں میں کام کرنے کو جاتا رہا پر جب شوکت صاحب کے گھر کی باری آئی تو اس نے بیماری کا بہانہ بنا لیا۔ اگلہ ہفتہ چڑھا تو شوکت صاحب کی کال آئی کہ فورا گھر آؤ کچھ ضروری کام ہے۔ مرتا کیا نہ کرتا، وہ ہیجان زدہ حالت میں شوکت صاحب کے گھر کی اور چل دیا۔ دل میں سوچتا رہا
’’ لگ گیا پتہ انھیں، خدا جانے کیا ہو گا، میں صاف صاف منع کر دوں گا، میں کیا جانوں کیا ہوا ہے۔ ‘‘

جب شوکت صاحب کے گھر پہنچا تو شوکت صاحب کی بیوی اور اس کا بھائی جو پولیس میں انسپکٹر تھا اس کا انتظار کر رہے تھے۔ ابھی سلمان نے ڈرتے نحیف آواز میں سلام ہی کیا تھا کہ انسپکٹر نے اسے گردن سے دبوچ لیا۔
’’ کدھر کی ہے تو نے دوربین؟ ‘‘

سلمان کے اوسان بحال ہوئے ہی تھے کہ انسپیکٹر نے ایک زناٹے دار ہاتھ دیا اور سلمان کی سماعت جاتی رہی۔ وہ روئے جا رہا تھا۔

’’ میں نے کچھ نہیں کیا صاحب۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔ ‘‘

وہ معافیاں مانگتا رہا پر انسپکٹر کہاں سنتا تھا اس کی۔ دھکے دیتا ہوا ممٹی پر لے گیا۔ اور چارپائی سیدھی کر کے سلمان کو اس پر بٹھا کر باندھ دیا۔ سو اب اس کے ہاتھ چارپائی کے نیچے یوں بندھے تھے کہ وہ اس سے اٹھ نہیں سکتا تھا۔

سعدی جو ابھی بھی دیوار پر کیڑے گرانے کا کھیل کھیل رہا تھا۔ تماشہ دیکھنے اوپر آ گیا۔ اس نے دیکھا کہ سلمان چارپائی سے بندھا ہے اور اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر اس کا دل بالکل ہی دہل گیا۔ اس کے ماموں نے سلمان کو مار مار کر ادھ موا کر دیا تھا۔ پر سلمان تھا کہ بار بار کہہ رہا تھا۔

’’صاحب میں نے چوری نہیں کی
صاحب میں نے چوری نہیں کی
صاحب میں چور نہیں ہوں‘‘

وہ جتنا انکار کرتا، اتنی اس کی جوتم پیزار ہوتی۔ انسپکٹر بھی اسے مار مار کر تھک گیا تھا۔ اس نے سعدی کی طرف دیکھا تو فورا کہا:

’’ جا اس کے لئے پانی لے کر آ۔‘‘

اور خود نیچے چلا گیا۔ پانی دیتے ہوئے اس نے سلمان کی سرخ آنکھوں کی طرف دیکھا، سلمان جس کے پورے جسم پر نیل پڑ گئے تھے۔

سعدی کے دل میں سلمان کے ڈرے ہوئے چہرے کی تصویر ہمیشہ کے لئے نقش ہو گئی۔ پتنگ اڑانے کے لئے اس نے اپنے پھپی زاد بھائی کی چرخڑی جو چوری کی تھی اسے ڈھونڈنے لگا۔ اور صحن میں ایک کھڈا کھود کر اسے دفنا آیا۔

انسپکٹر نے سلمان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور اپنی بیلٹ اتار کر تیزی سے گھمانے لگا اور پھر اچانک ساکت ہو کر زمین پر اکڑوں بیٹھ گیا۔ سلمان ضرب کے انتظار میں تیزی سے سانس لے رہا تھا۔ انسپکٹر کو سلمان کو یوں ذہنی اذیت دے کر نشاط محسوس ہو رہا تھا۔ ایک ڈیڑھ منٹ میں ہی سلمان نے رونا شروع کر دیا۔ وہ چارپائی پر بندھا سائیں سہیلی سرکار کے میلے میں جا پہنچا۔ جہاں اسے سفید داڈھی میں اپنا بچپن دکھائی دیا۔ وہ سوچنے لگا خوشی کیا ہے؟ کچھ نیا کرنے کی تلاش؟ آزادی کا احساس؟ محبت کرنے والوں کا ساتھ یا خطرے کے احساس سے دوری؟ اسی لمحے اس اندھیرے میں اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے ہاتھ کھول رہا ہے۔ پھر انسپیکٹر کی آواز سنائی دی۔
’’جا تو آزاد ہے ! ‘‘
’’پر اپنا رستا اس پٹی کے ساتھ ڈھونڈھ‘‘

سلمان کسی ممولے کی طرح اٹھا اور بندھی آنکھوں سے رستہ تلاش کرتے دیواروں کھڑکیوں میں ٹکریں مارنے لگا۔ اور پھر دھڑام سے سیڑھیوں سے نیچے گرا۔ انسپکٹر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا۔

نیچے گیا اور اپنے طاقت ور بازؤں سے اسے جکڑ کر پھر اوپر لے لایا اور چارپائی سے باندھ دیا۔

شوکت صاحب اوپر آئے تو سلمان کی یہ حالت دیکھ کر سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ خدایا کتنا ظالم ہے یہ شخص۔ اس کی رسیاں کھولنے لگے۔ اور سلمان کو چمکار کر کہنے لگے۔

’’پتر دوربین جہاں رکھی تھی، وہاں اب موجود نہیں۔ ہو سکتا ہے میں نے ہی کہیں رکھ دی ہو۔ تو خود ڈھوندھ لے گھر میں، شاید تجھے مل جائے‘‘

انسپکٹر اور شوکت صاحب باہر کھڑے انتظار کرتے رہے۔ سلمان ادھر ادھر ڈھونڈنے کا سانگ رچاتا رہا۔ آخر پیٹی کے پیچھے پڑی پوٹلی سے جا کر دور بین نکالی اور شوکت صاحب کو پکڑا دی۔

شوکت صاحب شرم سے پسیج گئے۔ انھوں نے دور بین چھوڑ کر سلمان سے بہت معافی مانگی۔ پر وہ خاموشی سے لنگڑاتا ہوا گھر کی طرف چل دیا۔ اگر وہ لَم دُمّا ہوتا تو اپنے پر پھیلاتا اور ہمیشہ کے لیے یہ شہر چھوڑ کر دور کسی اندیکھے دیس کو ہجرت کر جاتا۔ پر کل اسے بشارت صاحب کے گھر جانا تھا۔ جنہوں نے اس کی میٹرک کی فیس دینے کا وعدہ کیا تھا۔

Categories
شاعری

بس کرو (رضی حیدر)

رینٹ
کلچر تیری ۔۔۔
(انسان ایک سوشل اینیمل ہے)
بس کرو!
(تمہارا جین خود غرض ہے)
بس کرو!
(تنہائی کے اس ہاویہ سے ڈرو جس کا ایندھن صرف انسانوں کے دل ہیں پتھر نہیں )
بس کرو!
فلسفے بگھارتے، فروعی بکواس کرتے کب تک گزرے گی ۔۔۔ ؟
بک بک بک بک
بس کرو!
اس کلچر کی لسی رڑکتے رہو
ہر بار سمیولیٹ کرو،
یوں کرنا ٹھیک ہے یا یوں
میں یہاں اِن جیسا ہو جاؤں؟
اور اب واپس پاکستان جاؤں تو اُن جیسا ہو جاؤں؟
(وہ ہو پائے گی اُن جیسا؟
لبرل عورتیں قدامت پسندی کی پوشاک نہیں پہنا کرتیں
پہن لے تو کیا ہرج ہے؟
میرے زخمی میل شاونسٹ بندر کو ملہم لگا دے بس
پر کیوں کرے وہ ایسا
نہیں کر پائے گی)
بک بک بک بک
بس کرو
میں خود کون ہوں؟
شاید ایک بندر ہی ہوں جو
دو ایتھوس کا بنا،
رنگ برنگا،
پیوند لگا پیراہن پہن کر
نہ ادھر کا ہے نہ ادھر کا
(بندر ہوتا ہے یا کتا؟)
(میں)
کوئی درمیان کی چیز ۔۔۔
مجھے زنخوں پر بہت پیار آ رہا ہے جو میری طرح
دو شناختوں کے درمیان ناچ رہے ہیں
میں تو فقط ہونا چاہتا تھا، نہ ایسا نہ ویسا
فقط ہونا چاہتا ہوں!
ایک آشوب جہاں ، یا ہنگامہ قیامت کا
شاید دھڑکنیں ہوں میری
یا میرا کوئی نیا فتور
یا فقط شور
سیمیولیٹڈ شور
بس کرو!

Categories
فکشن

ماہی سیاہ کوچولو (صمد بہرنگی کی کہانی سے ماخوذ، ترجمہ: رضی حیدر)

سردیوں کی سب سے لمبی رات یعنی شبِ یلدا تھی۔ ندی کی تہہ میں ایک بوڑھی مچھلی نے اپنے 12000 بچوں اور نواسے نواسیوں کو اکٹھا کیا اور کہانی سنانی شروع کی :

تو بچو! ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دور ایک وادی میں ایک ندی تھی جہاں ایک چھوٹی سی کالی مچھلی اپنی اماں کے ساتھ رہا کرتی تھی، نام تھا اس کا ماہی کوچولو۔ ماہی یعنی مچھلی اور کوچولو یعنی چھوٹی سی پاری سی۔ ندی کا پانی پہاڑ کے پتھروں سے نکل کر وادی کی گہرائیوں میں کھو جاتا تھا۔ ماہی کوچولو اور اس کی اماں کا گھر ایک کالے پتھر کے پیچھے تھا جس پر کائی جمی ہوئی تھی۔ رات ہوتی تو ماں بیٹی دونوں کائی کے نیچے خاموشی سے سو جاتیں۔ ماہی کوچولو کی بڑی خواہش تھی کہ کوئی ایسی رات بھی ہو کہ کسی صورت چاند کی روشنی اس کے گھر میں دیکھنے کو ملے پر اس کائی جمے کالے پتھر کو چاند کی روشنی کہاں نصیب ہونا تھی۔

دونوں ماں بیٹی ایک چھوٹی سی ندی میں صبح سے شام ایک دوسرے کے آگے پیچھے تیرتے رہتے۔ کبھی کبھی دوسری مچھلیاں بھی ساتھ ہو لیتیں اور زندگی ایک چھوٹے سے دائرے میں گھومتی رہتی۔ ماہی کوچولو بہت عقل مند تھی اور شاید اس کی یہ وجہ تھی کہ اس کی اماں کے 10000 انڈوں میں سے اکیلی وہ تھی جو انڈے کے خول سے صحیح سلامت باہر نکل پائی تھی۔ چند دنوں سے ماہی کوچولو کسی سوچ میں گم تھی اور بہت تھوڑا بول رہی تھی۔ بوریت اور سستی سے اپنی اماں کے پیچھے پیچھے آہستہ آہستہ تیرتی رہتی۔ اماں کا خیال تھا کہ اس سستی کی کوئی چھوٹی موٹی وجہ ہو گی مگر ماہی کوچولو کی تھکن کی وجہ چھوٹی تو ہرگز نہیں تھی۔

ایک روز علی الصبح جب ابھی سورج بھی نہیں نکلا تھا ماہی کوچولو اماں کو جگا کر کہنے لگی :

“اماں اماں آپ سے بات کرنا تھی”

“میری پتری ابھی کون سا وقت ہے بات کرنے کا، اپنی باتیں بعد کے لئے اٹھا رکھو، اگر کچھ کرنا ہی ہے تو آؤ ندی میں گھوم کے آتے ہیں”

ماہی کوچولو نے کہا ” اماں میں گھومنے وومنے سے تنگ آ گئی ہوں، میں یہاں سے باہر جانا چاہتی ہوں۔ ”

اماں نے کہا “اتنی صبح کہاں جانے کی پڑ گئی تمہیں؟”

“اماں میں دیکھنا چاہتی ہوں اس ندی کا پانی جاتا کہاں ہے۔ آپ کو پتا ہے میں نجانے کتنے مہینوں سے یہ سوچ رہی ہوں اور اب تک مجھے اِس کا کوئی جواب نہیں مل سکا۔ کل تو میں ساری رات جاگتی رہی۔ یہ سوچ میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہی۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں خود جا کر اس پانی کا آخر تلاش کروں گی۔ میں اس ندی سے باہر کی دنیا دیکھنا چاہتی ہوں۔ ”

اماں ہنسی اور کہنے لگی ” تم بالکل میری طرح ہو میں جب چھوٹی تھی تو یہی سوچتی تھی کہ یہ پانی آخر کہاں جاتا ہے۔ میری پارو کوچولو! اس پانی کا کوئی اول آخر نہیں ہے۔ اس ندی کے پانی نے کہاں جانا ہے یہیں رہتا ہے۔ یہ پانی ہمیشہ سے چل تو رہا ہے پر اس کی کوئی منزل نہیں ہے۔ ”

“مگر اماں ہر چیز، جو میں دیکھتی ہوں، اس کا کوئی اول اور کوئی آخر ہوتا ہے صبح کا اول آخر ہے، رات کا اول آخر ہے، دنوں کا، مہینوں کا سالوں کا سب کا اول آخر ہے”

اماں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ” یہ کیا الٹی سیدھی باتوں میں پڑ گئی ہو۔ چھوڑو سب باتیں، آؤ ندی میں گھومنے چلتے ہیں۔ یہ گھومنے کا وقت ہے ایسی بے وقوفانہ باتوں کا نہیں”

ماہی کوچولو نے کہا ” اماں میں اب گھومنا پھرنا نہیں چاہتی، میں جا کر دیکھنا چاہتی ہوں کہ اور جگہوں پر کیا ہو رہا ہے۔ تم سوچتی ہو گی کہ مجھے کسی نے ان سوالوں کی ٹوہ میں لگایا ہے ایسا ہرگز نہیں ہے! میں نے خود ہی ان چیزوں کے بارے میں سوچا ہے۔ ہاں بہت سی چیزیں میں نے اِدھر اُدھر کے تجربہ سے سمجھی ہیں مثلاً یہ کہ جب مچھلیاں بوڑھی ہو جاتی ہیں تو ہمیشہ کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی ضائع کر دی، ہر چیز میں نقص نکالتی ہیں اور بہت رونا دھونا کرتی ہیں۔ میں یہ جاننا چاہتی ہو کہ کیا اس چھوٹی سی ندی میں ادھر ادھر تیرنا ہی زندگی ہے یا زندگی گزارنے کا کوئی اور بھی ڈھنگ ہو سکتا ہے ”

اماں کہنے لگیں:
“میری جان تیرا دماغ خراب تو نہیں ہو گیا؟ دنیا ! دنیا! زندگی ! زندگی ! یہ سب کیا ہے۔ دنیا یہی ہے جہاں ہم ہیں اور زندگی یہی ہے جو ہم گزار رہے ہیں اس کے علاؤہ اور کچھ نہیں۔ ”

ہمسائے کی بوڑھی مچھلی نے پتھر کھٹکھٹایا اور کہا
” کیا صبح صبح اپنی بیٹی کے ساتھ غل غپاڑا کر رہی ہو، یہ ہماری سیر کا وقت ہے، گھومنے جانا نہیں؟”

غم و غصّے سے بھری اماں، گھر سے باہر گئیں اور اپنی بوڑھی ہمسائی سے کہنے لگیں
“ہائے ! بس یہ وقت بھی دیکھنا تھا، آج کل کے بچے ماؤوں کو مشورے دینے لگے ہیں۔ بڑے چھوٹے کی پہچان ہی کہاں رہی ہے”

اس کی بوڑھی ہمسائی کہنے لگی ” ہو ہائے! ایسا بھی کیا ہو گیا بہنا”

” کی دساں تینوں، اس آدھی چھٹاکی کی اولاد نے میرا ناک میں دم کر دیا ہے، کہتی ہے میں نے دنیا دیکھنی ہے۔ بھلا کوئی ایسی الٹی سیدھی باتیں بھی سوچتا ہے”

بوڑھی مچھلی نے گھر کے اندر جھانکتے ہوئے کہا :
“کوچولو ہمیں تو پتہ بھی نہ چلا اور تم عالم فاضل فلسفی بن گئیں”

کوچولو نے جواب دیا:
” مجھے نہیں پتا کہ عالم فاضل فلسفی کیا ہوتا ہے میں تو بس اس جگہ کے گھومنے پھرنے سے تنگ ہوں۔ میں اپنی ساری زندگی آپ لوگوں کی طرح آنکھیں بند کر کے غارت نہیں کرنا چاہتی۔ یہ نہ ہو کہ میں بوڑھی ہو جاؤں اور خود کو آپ لوگوں کی طرح بےوقوف ہی پاؤں یعنی تب بھی میری آنکھیں کان بند ہی ہوں ”

“توبہ استغفار! کیسی بدتمیز ہے یہ جو اتنا بڑھ بڑھ کے بولتی ہے” ہمسائی بولی

میں نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایک دن میری اکلوتی اولاد ایسی بدتمیز ہو جائے گی۔ ضرور میری پیاری بچی کو کسی نے پٹی پڑھائی ہے” اماں بولیں

” مجھے کسی نے پٹی وٹی نہیں پڑھائی۔ میری اپنی آنکھیں ہیں اور اپنے کان بھی۔ میں اپنے دماغ سے خود سوچ سکتی ہوں” کوچولو نے جواب دیا

ہمسائی نے اچانک بولا ” ہو ہائے! تمہیں وہ ٹیڑا میڑا گھونگا(snail) یاد ہے، اسی نے تمہاری بیٹی کو یہ پٹیاں پڑھائی ہیں۔ خدا کی قسم دوبارہ مل جائے کہیں مجھے تو۔۔۔ ”

کوچولو نے کہا ” بس کرو وہ میرا دوست تھا”

اس کی اماں نے کہا ” کبھی مچھلی اور گھونگے کی دوستی بھی سنی ہے کسی نے”

کوچولو کہنے لگی ” تو دشمنی بھی نہیں سنی کسی نے، پر پھر بھی آپ لوگوں نے مل کر اسے پانی میں ڈبو دیا”

بوڑھی مچھلی بولی ” پرانی باتیں چھوڑو”

کوچولو نے کہا ” آپ نے خود ہی تو یہ پرانی باتیں چھیڑی ہیں۔ ”

اماں نے کہا ” ہم نے اس کو جو ڈبویا بالکل صحیح کیا، یاد ہے تمہیں وہ کیسی کیسی باتیں کرتا تھا۔ ”

” تو پھر مجھے بھی ڈبو دیں کہ میں بھی تو وہی باتیں کرتی ہوں” کوچولو بولی

اس کی ماں ہنستے ہوئے کہنے لگی ” مچھلیاں کون سی ڈوبتی ہیں؟ او پئی ہے تیری عقل! بڑی آئی سائنسدان”

بحث مباحثے کی آواز اتنی اونچی ہوگئی کہ اور بھی مچھلیاں اسے سنتے ہوئے وہاں آن پہنچیں۔

” تجھے کیا لگتا ہے ہم تجھے بخش دیں گے؟ ایک لتر پڑے گا نا، ساری عقل ٹھکانے لگ جائے گی” مچھلیوں کے غول میں سے ایک مچھلی بولی

اماں فوراً بولی “میری بچی سے دور ہو جاؤ!”

غول میں سے ایک مچھلی کہنے لگی ” اگر اپنی بیٹی کی ندی کے اصولوں کے مطابق تربیت نہ کرو گی تو اس کی سزا بھی ضرور دیکھو گی”

بوڑھی ہمسائی بولی” میں تو اس بات پر شرمندہ ہوں کہ تم جیسی مچھلیاں میری ہمسائی ہیں”

ایک اور نے کہا ” اس سے پہلے کہ یہ ہمارا نام خراب کرے آؤ اس کا بھی وہی حال کریں جو ہم نے اس گھونگے کا کیا تھا”

اس سے پہلے کہ وہ مچھلیاں کوچولو کو آن پکڑتیں، کوچولو کی سہیلیوں نے ہل ہل کر پانی کو گدلا کر دیا اور کوچولو وہاں سے فرار ہو گئی۔

کوچولو کی ماں اپنا سینا پیٹ کر رونے لگی ” ہائے میری بیٹی مجھے چھوڑ کر جا رہی ہے۔ میں کس دیوار میں جا کر سر ماروں؟ ”

ماہی کوچولو بولی” اماں میرے لئے نہ رو ان بوڑھی مچھلیوں کے لئے رو جو پیچھے رہ گئیں ہیں”

اب اس کی سہیلی مچھلیوں میں سے ایک بولی
” بدتمیزی نہ کر چھٹاکی سی تو ہے تو”

دوسری بولی ” اگر تو آج یہاں سے چلی گئی اور کل کو شرمندہ ہو کر واپس آنے کی کوشش کی نا، تو ہم واپس نہیں آنے دیں گی ”

تیسری بولی ” یہ جوانی کے چونچلے ہیں، نہ جا”

چوتھی بولی ” ہمیں بھی تو پتا چلے یہاں مسئلہ کیا ہے”

پانچویں بولی” یہی تو دنیا ہے اور کوئی دنیا نہیں واپس آ جا”

چھٹی بولی” اگر تجھے ہماری بات سمجھ آ جائے اور تو واپس آ جائے تو پھر ہی ہم تجھے عقلمند مانیں گے۔ ”

” ہم تجھے بہت یاد کریں گے، ہمیں چھوڑ کر نہ جا” سب یک زبان ہو کر بولیں

اماں بھی چیخی” بیٹا مجھ پر رحم کر مجھے چھوڑ کر مت جا”

کوچولو نے ان سب باتوں کا جواب نہ دیا۔ اب اس کی ہمجولیاں اسے آبشار تک چھوڑنے آئیں۔ ماہی کوچولو جب ان سے جدا ہونے لگی تو کہنے لگی
” زندگی رہی تو پھر ملیں گے، مجھے بھولنا نہیں”

اس کی سہیلیاں بولیں “ہم تمھیں کیسے بھلا سکتے ہیں تم نے ہمیں نیند سے جگایا ہے۔ ورنہ ہم تو کبھی تمھاری طرح سوچ ہی نہیں سکتے تھے۔ ہماری بہادر اور دانا مچھلی! تجھے ہمارا سلام، خدا حافظ”.

ماہی کوچولو آبشار سے گری تو تالاب میں آن پہنچی۔ پہلے تو اوسان اس کے خطا ہوئے پر بعد میں اس نے تالاب میں یہاں وہاں تیرنا شروع کر دیا۔ اس نے یوں ایک جگہ جمع ہوا پانی پہلے نہیں دیکھا تھا۔ مینڈکوں کے بچوں کا ایک غول وہاں جمع تھا جو اسے دیکھ کر اس کا مذاق اڑانے لگا۔

” اس کا منہ تو دیکھو، تیرے جیسی مخلوق بھی ہوتی ہے؟”

ماہی کوچولو نے سب کو ایک نظر غور سے دیکھا اور پھر کہا ” یوں میرا مذاق مت اڑاؤ میرا نام ماہی کوچولو ہے۔ مجھے اپنے نام بتاؤ تا کہ ہم ایک دوسرے کو جان سکیں۔ ”

ہم تو ایک دوسرے کو ڈڈو کے بچے ہی کہتے ہیں” ایک نے کہا

ہمارا جیسا عالی نصب تو پوری دنیا میں کہیں نہیں ہے” دوسرا بولا

ایک اور مینڈک نے کہا ” ہم جیسا تو خوبصورت بھی دنیا میں کوئی نہیں”

ایک اور بولا ” تیری طرح ہم بدشکل اور بے ڈھنگے نہیں ہیں ”

ماہی سیاہ کوچولو کی باتوں پر مینڈکی کو شدید غصہ آیا

ماہی کوچولو بولی” میں نے نہیں سوچا تھا کہ تم اتنے خود پسند ہو گے پر میں تمہیں معاف کرتی ہوں کیونکہ تم یہ باتیں صرف اپنی نادانی میں کر رہے ہو۔ ”
اس پر مینڈک کے بچے یکصدا ہو کر بولے ” تم یہ کیوں کہہ رہی ہو کہ ہمیں کچھ پتہ ہی نہیں ہے”

کوچولو کہنے لگی
” اگر تم نادان نہ ہوتے تو تمہیں پتہ ہوتا کہ اس دنیا میں اور بھی بہت سی مخلوقات ہیں جو خود کو خوبصورت سمجھتی ہیں۔ تم لوگوں کو تو اپنا کوئی صحیح نام بھی نہیں پتہ”

اب اس پر مینڈک کے بچے بہت غصہ ہوئے
” تم اپنے الفاظ اینویں ہی ضایع کر رہی ہو۔ ہم ہر روز دنیا میں گھومتے ہیں، اپنے ماں باپ کے علاؤہ ہمیں تو کوئی دکھتا ہی نہیں۔ ہاں دو چار کیڑے بھی نظر آ جاتے ہیں پر وہ کسی شمار میں نہیں آتے۔ ”

کوچولو نے کہا ” تم تو اس تالاب سے بھی باہر نہیں جا سکتے تو پھر کیسے دنیا دیکھنے کی باتیں کر رہے ہو”

میڈک کے بچے بولے “کیا تالاب سے باہر بھی کوئی دنیا ہے؟”

کوچولو کہنے لگی ” سائنسدانوں تمہیں کیا لگتا ہے یہ پانی جو اس تالاب میں ہے کہاں سے بہتا ہوا یہاں آتا ہے۔ اور اس پانی سے باہر کیا ہے؟”

” ہیں؟ پانی سے باہر ؟ کیا مطبل ؟ پانی سے باہر کیا ہے؟ کش وی نہیں! ہم نے تو کبھی بھی نہیں دیکھا ایسا کچھ۔ پاگل تو نہیں ہو تم، بونگڑ ہی ہے یہ ”

ماہی کوچولو لوٹ پوٹ ہو کر ہنسنے لگی۔ سوچنے لگی اپنا وقت برباد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، ان کو ان کے حال پر چھوڑ دینا چاییے۔ پھر اسے خیال آیا کہ ان کی ماں سے کیوں نہ بات کر لی جائے۔ اس نے پوچھا

” تمھاری امی کدھر ہیں ؟ ” یہ پوچھنا تھا کہ ایک سبز مینڈکی کی اچانک آواز نے کوچولو کی جان ہی نکال دی۔

” اوے ! کون ہے جڑھا میری تہیاں نو چھیڑ ریا”

کوچولو نے دیکھا کے دور تالاب کے کنارے پر ایک پتھر پر ان کی امی جان براجمان ہیں۔

” میں ایدھر ہاں، جو وی بکواس کرنی ہے ایدھر آ کہ کرو”

کوچولو اس کے پاس گئی تو مینڈکی نے کہا

” سن وے کالیے، اپنے کام سے کام رکھو، میرے بچوں کو نئی نئی پٹیاں نہ پڑھاو۔ میں نے اس دنیا پہ بڑا ٹائم گزارا ہے، مجھے پتا ہے یہ دنیا بس تالاب ہی ہے اور کچھ نہیں، بڑی آئی”

کوچولو بولی ” اگر تم ایسے سو سال بھی گزار لو تو رہو گی کم عقل اور بےوقوف ہی”

یہ بات سننی تھی کہ مینڈکی نے کوچولو پر چھلانگ لگا دی پر کوچولو بجلی کی رفتار سے ایسے ہلی کہ تالاب کی مٹی اور کیڑے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔
وادی میں بہت موڑ تھے۔ اب تو اس ندی کا پانی بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔ اگر پہاڑی کی اونچائی سے اس ندی کو دیکھتے تو اس کی شکل ایک سفید اونی دھاگے سی دکھائی دیتی۔ سو، ایک جگہ پہاڑی سے ٹوٹے ایک بڑے سے پتھر نے، جو وادی میں آن گرا تھا، دریا کو دو ٹکڑوں میں بانٹ رکھا تھا۔ وہاں ایک ہاتھ کے جتنی کھردری سی چھپکلی پیٹ کے بل بیٹھی دھوپ سینک رہی تھی۔ وہ دور ایک گول اور کھردرے کیکڑے کو دیکھ رہی تھی جو تالاب کی ریت میں، وہاں جہاں پانی کم تھا، آرام سے بیٹھا اپنا شکار کیا ہوا مینڈک کھا رہا تھا۔

ماہی کوچولو نے جب اس کیکڑے کو دیکھا تو اسے ڈر لگا، اس لئے اس نے دور سے ہی بات کرنا مناسب سمجھا۔ کیکڑے نے چپ کئے ہوئے اس کی طرف نگاہ کی اور بولا

واہ کیا تمیزدار مچھلی ہے! ادھر میرے قریب آؤ میری نکچو”

کوچولو کہنے لگی ” میں دنیا کی سیر کرنے نکلی ہوں اور نہیں چاہتی کہ اپنی سیر کے شروع ہی میں آپ جناب کی شکار بن جاؤں”

کیکڑا کہنے لگا ” نکچو تم ہر چیز میں برا پہلو کیوں نکالتی ہو، ڈرنے کی کوئی بات نہیں میرا پاس آؤ”

کوچولو کہنے لگی ” میں نہ تو ہر چیز میں برا پہلو نکالتی ہوں اور نہ ہی میں کسی سے ڈرتی ہوں۔ میں تو بس وہی کہہ رہی ہو جو اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہوں اور عقل سے سمجھتی ہوں”

کیکڑے نے کہا ” تو تمہاری آنکھوں نے ایسا کیا دیکھ لیا اور تمہاری عقل نے ایسا کیا سمجھ لیا کہ تمہیں لگا کہ میں تمہارا شکار کرنا چاہتا ہوں”

کوچولو نے کہا ” اپنی چکنی چپڑی باتوں سے مجھے بے وقوف نہ بنائیں، میں وہی کہہ رہی ہوں جو میرے اور آپ کے سامنے ہے”

کیکڑا بولا ” او ہو! تو تم اس مینڈک کا حال دیکھ کر یہ اندازہ لگا رہی ہو، میری معصوم نکچو، مینڈکوں سے نا، مجھے بہت چڑ ہے، اس لئے میں ان کا شکار کرتا ہوں، یہ مینڈک سمجھتے ہیں کہ بس یہی دنیا میں موجود ہیں اور کوئی نہیں، میں تو ان کا شکار اس لئے کرتا ہوں کہ انہیں بھی لگ پتا جائے کہ یہ دنیا آخر ہے کس کے ہاتھ میں۔ بس اب تو تمہیں بات سمجھ آ گئی ہو گی۔ آ جا میری جان میری سونی آ جا ادھر”

یہ کہہ کر کیکڑے نے ماہی کوچولو کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ اب جب کوچولو نے کیکڑے کو اس بےڈھنگے طریقے سے رینگتے دیکھا تو بولی ” تجھے تو چلنا بھی نہیں آتا۔ تو کیا جانے کہ دنیا کس کے ہاتھ میں ہے”

ماہی کوچولو کیکڑے سے دور ہوئی اور یوں چھلانگ لگائی کہ ایک سایہ پانی پر چھا گیا۔ کیکڑا ماہی کوچولو کی ایک ہی ضرب سے ریت کے اندر دھنس گیا۔ چھپکلی نے یہ منظر دیکھا تو اتنا زور سے ہنسی کہ پھسلی اور قریب تھا کہ وہ بھی پانی میں گر جاتی۔

ماہی کوچولو نے دیکھا ایک گڈریے کا بیٹا دریا کے کنارے پر کھڑا اسے اور کیکڑے کو گھور رہا تھا۔ بھیڑ بکریوں کا گلہ پانی کے نزدیک ہوا اور اپنے منہ پانی میں ڈال کر اپنی پیاس بجھانے لگا۔ پوری وادی “میں میں بے بے” کی آوازوں سے بھر گئی۔ ماہی کوچولو نے تب تک انتظار کیا کہ تمام بھیڑ بکریاں پانی پی لیں اور وہاں سے چلی جائیں اور پھر چھپکلی سے مخاطب ہو کر بولی

” باجی چھپکلی، میں ماہی کوچولو ہوں اور اس ندی کا آخری سرا ڈھونڈنے نکلی ہوں۔ مجھے آپ عقل مند لگیں، آپ سے ایک بات پوچھ سکتی ہوں؟”

چھپکلی بولی ” جو بھی پوچھنا ہے پوچھو”

کوچولو بولی” سارا رستہ مجھے مرغ سقا(Pelican)، آرا ماہی(Sword Fish) اور بگلے( پرندہ ماہی خور) سے لوگ ڈراتے رہے ہیں۔ اگر تم ان کے بارے میں کچھ جانتی ہو تو بولو۔ ”

چھپکلی بولی:
“آرا ماہی اور بگلے تو یہاں پائے نہیں جاتے۔ خصوصاََ سورڈ فش تو سمندر میں رہتی ہے۔ مگر مرغ سقا یہاں سے تھوڑا نیچے شاید تمہیں مل جائے۔ ایسا نہ ہو کہ تم اس کے فریب میں پھنسو اور اس کے جیب میں چلی جاؤ۔ ”

کوچولو نے پوچھا ” چھپکلی باجی کیسا جیب؟”

چھپکلی کہنے لگی ” مرغ سقا کی گردن کے پاس ایک جیب سا ہوتا ہے جس میں کافی کچھ بھرا جا سکتا ہے۔ مرغ سقا پانی میں آ کر نہاتا ہے۔ مچھلیاں انجانے میں اس کے جیب کے چنگل میں جا پھنستی ہیں اور پھر وہاں سے اس کے پیٹ میں موت کے گھاٹ اتر جاتی ہیں۔ مگر اگر مرغ سقا بھوکا نہ ہو تو پھر وہ انہیں اس جیب میں ہی رہنے دیتا ہے کہ بعد میں انہیں کھا سکے۔ ”

کوچولو نے سوال کیا ” اگر کوئی مچھلی اس کے جیب میں پھنس جائے تو باہر آنے کا کوئی بھی راستہ نہیں؟”

چھپکلی نے کہا ” رستہ تو کوئی نہیں سوائے اس کے کہ اس کا جیب ہی پھاڑ دیا جائے۔ میں تمہیں ایک خنجر دیتی ہوں اگر خدا نہ کرے تم مرغ سقا کے چنگل میں پھنس جاؤ تو اس کا استعمال کر لینا”

یہ کہہ کر وہ ایک دراڑ میں گھسی اور پتھر کا بنا ایک خنجر لا کر کوچولو کو دے دیا۔

کوچولو نے کہا ” باجی چھپکلی! تم کتنی اچھی اور مہربان ہو۔ میں تمہارا شکریہ کیسے ادا کروں؟”

چھپکلی نے بولا ” شکریہ ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میرے پاس ایسے بہت سے خنجر پڑے ہوئے ہیں۔ میں جب بور ہو رہی ہوتی ہوں تو یہ خنجر بنا لیتی ہوں اور تم جیسی عقل مند مچھلیوں کو دے دیتی ہوں۔ ”

کوچولو بولی ” تو کیا مجھ سے پہلے بھی یہاں سے اور مچھلیاں گزری ہیں”

چھپکلی بولی” ہاں ہاں بہت سی مچھلیاں۔ اب تو انہوں نے ایک غول بنا لیا ہے۔ اور مچھیروں کو خوب تنگ کرتی ہیں۔ ”

کوچولو نہ کہا ” معاف کیجیے گا، بات سے بات نکلتی ہے، اگر آپ کو برا نہ لگے تو یہ بتا دیں کہ وہ مچھیروں کو تنگ کیسے کرتی ہیں”

چھپکلی بولی ” ساتھ رہ کر۔ جب بھی مچھیرے جال پھینکتے ہیں اور وہ اس میں پھنس جاتی ہیں تو مل کر زور لگاتی ہیں اور جال کو دریا کی تہہ میں لے جاتی ہیں، بےچارے مچھیرے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں”

یہ کہہ کر اس نے دراڑ پر کان دھرے اور کہا ” میرے بچے جاگ گئے ہیں۔ میں اب چلتی ہوں” یہ کہتے ہی وہ دراڑ میں گھس گئی۔

ماہی کوچولو ناچار وہاں سے چل پڑی۔ ابھی تو اس کے ذھن میں اور بھی بہت سے سوال تھے جو اس نے خود سے ہی کیے کہ
“یہ ندی کیا سمندر میں جا کر گرتی ہے؟
اس سے پہلے کہ میں مرغ سقا کو دیکھ سکوں وہ پہلے ہی مجھ تک پہنچ جائے تو کیا ہو گا؟
کیاآرا ماہی کے دل میں آئے تو وہ اپنے ہی ہم جنسوں کو مار سکتی ہے؟
بگلوں کی ہم سے آخر دشمنی کیا ہے؟”

ماہی کوچولو انہی سوچوں میں گم آگے کو تیرتی رہی۔ ہر قدم پر وہ کچھ نیا دیکھتی اور اسے یاد کر لیتی۔ اسے آبشاروں سے گرنے، سنبھلنے اور پھر تیرنے میں مزا آنے لگا تھا۔ اس نے سورج کی روشنی کو اپنی کمر پر محسوس کیا اور اس سے توانائی حاصل کرنے لگی۔

ایک جگہ اس نے ایک ہرن کو جلدی میں پانی پیتے دیکھا۔ ماہی کوچولو نے اسے سلام کیا اور کہا ” اے پیارے ہرن ! تجھے کس بات کی جلدی ہے۔ ”

ہرن بولا ” ایک شکاری میرے پیچھے پڑا تھا اس نے مجھے گولی ماری ہے۔ یہ دیکھو اس کا سوراخ۔ ”

ماہی کوچولو کو کوئی سوراخ تو دکھائی نہ دیا پر ہرن کی لنگڑاتی چال دیکھ کر اس نے اندازہ لگا لیا کہ ہرن سچ بول رہا ہے۔

پھر اس نے کچھوؤں کو دیکھا جو سورج کی گرمی سینکتے قیلولہ کر رہے تھے۔ ایک اور جگہ اس نے تیتروں کو دیکھا جن کے قہقہے پوری وادی میں گونج رہے تھے۔ پہاڑوں کی گھاس کی خوشبو ہوا میں جھومتی ہوئی پانی میں گھل مل جاتی تھی۔

سہ پہر ہوئی تو کوچولو ایک ایسی جگہ پہنچ گئی جہاں وادی چوڑی اور پانی کافی گہرا ہو گیا تھا۔ پانی جیسے جیسے زیادہ ہوتا جاتا کوچولو اور جذباتی ہوتی جاتی۔

کچھ دیر بعد اس کی مڈبھیڑ چند اور مچھلیوں سے ہو گئی۔ جب سے وہ اپنی ماں سے جدا ہوئی تھی اس نے کسی اور مچھلی کی شکل تک نہ دیکھی تھی۔ ان مچھلیوں کے گروہ نے اسے گھیر لیا۔

“تم تو اجنبی معلوم ہوتی ہو”
کوچولو نے جواب دیا ” ہاں میں اجنبی ہوں اور بہت دور سے یہاں آئی ہوں”

مچھلیوں نے پوچھا ” اور جانا کہاں چاہتی ہو؟”
“میں ندی کا آخری سرا ڈھونڈھ رہی ہوں” کوچولو بولی

ان مچھلیوں نے حیرانی سے پوچھا ” کون سی ندی؟”
کوچولو بولی ” یہی ندی جس میں ہم تیر رہے ہیں”

ہم تو اسے دریا کہتے ہیں ندی نہیں ”
ماہی کوچولو نے اس بات کا کوئی جواب نہ دیا پر سمجھ گئی کہ وہ اب دریا میں آن پہنچی ہے۔

مچھلیوں میں سے ایک نے سوال کیا
” تمہیں یہ بھی پتہ ہے کہ اس رستہ میں مرغ سقا بھی ہو سکتا ہے”
کوچولو بولی ” ہاں مجھے بالکل پتہ ہے”

دوسری مچھلی کہنے لگی ” تو پھر تمھیں یہ بھی پتہ ہو گا کہ اس کا جیب کتنا بڑا ہے”
” یہ بھی مجھے پتہ ہے” کوچولو نے جواب دیا

اس کے باوجود تم آگے جانا چاہتی ہو”
” جو بھی ہو، جیسا بھی ہو مجھے آگے جانا ہی ہے”
کوچولو نے کہا

جلد ہی یہ بات مچھلیوں میں پھیل گئی کہ ایک چھوٹی سی کالی مچھلی بہت دور سے دریا کا آخر ڈھونڈنے آئی ہے اور تو اور اسے پیلیکن سے بھی ڈر نہیں لگتا۔ چند مچھلیوں کے دل میں آئی کہ وہ بھی ماہی کوچولو کے سفر میں اس کے ساتھ ہو لیں پر ڈر کی وجہ سے ان کی آواز نکل ہی نہ پائی۔ کچھ نے آخر کار کہہ ہی دیا کہ
” اگر مرغ سقا نہ ہوتا تو ہم تمہارے سفر میں تمہارا ساتھ دیتے مگر ہمیں مرغ سقاکے جیب سے بہت ڈر لگتا ہے”

دریا کے کنارے ایک گاؤں تھا۔ کوچولو نے دیکھا کہ اس گاؤں کی عورتیں دریا کے کنارے بیٹھی برتن اور کپڑے دھو رہی تھیں۔ کوچولو کچھ دیر تک ان کی گپ شپ سنتی رہی اور بچوں کو پانی میں نہاتے دیکھتی رہی اور پھر آخر کار دوبارہ اپنے سفر پر نکل پڑی۔ تیرتی رہی، تیرتی رہی، یہاں تک کہ رات ہوگئی اور وہ ایک پتھر کے نیچے رات گزارنے کے لیے رکی اور سو گئی۔ آدھی رات کو اس کی آنکھ کھل گئی اور اس نے دیکھا کہ چاند کی روشنی پانی پر پڑ رہی ہے اور سارے کو روشن کر رہی ہے۔ ماہی کوچولو کو چاند بہت پسند تھا۔ جب جب راتوں کو چاند پانی پر چمکتا تھا کوچولو کے دل میں آتی کہ وہ اس سبز کائی کی دنیا سے تیرتی باہر آ جائے اور چاند سے باتیں کرے۔ مگر اس کی ماں جاگ جاتی اور اسے کائی کے نیچے لٹا کر سلا دیتی۔ ماہی کوچولو چاند کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی

” میرے پیارے چندہ ماما سلام ”

چاند نے جواب دیا ” واعلیکم السلام! میری پیاری کوچولو! تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟”

کوچولو نے کہا ” میں دنیا دیکھنے نکلی ہوں”

چندہ ماما نے کہا ” میری کوچولو ! دنیا بہت بڑی ہے اور زندگی بہت چھوٹی سی، تم ساری دنیا نہیں دیکھ پاؤ گی”

کوچولو نے کہا ” آپ صحیح کہتے ہیں چندہ ماما، پر اس چھوٹی سی زندگی میں مجھ سے جتنا بھی ہو سکا میں اتنا تو دیکھوں گی”

چاند نے کہا ” میرا دل تو کرتا ہے کہ صبح تک تمھارے ساتھ رہوں پر یہ جو کالا بادل چلا آ رہا ہے، میری روشنی کو روک لے گا۔ ”

کوچولو بولی ” پیارے چندا ماما میں آپ کی چاندنی کو بہت پسند کرتی ہوں۔ میرا دل بھی کرتا ہے کہ آپ ہمیشہ میرے سامنے چمکتے رہیں.”

چاند گویا ہوا ” میری پیاری کوچولو سچ کہوں تو یہ روشنی میری نہیں، سورج مجھے یہ چاندنی دیتا ہے اور میں اس سے زمین کو چمکاتا ہوں۔ کیا تم نے یہ سنا ہے کہ انسان چاہتا ہے کہ چند سال میں اڑ کر میری زمین پر لینڈ کر جائے۔ ”

کوچولو نے کہا ” پر یہ تو بالکل ناممکن بات ہے”

چاند نے کہا ” کام تو مشکل ہے پر انسانوں کے دل میں طرح طرح کے خیال آتے ہیں اور پھر وہ ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور۔۔۔ ”

کوچولو نے چاند کو بتایا کہ وہ دنیا دیکھنے نکلی ہے

چاند ابھی اپنی بات مکمل نہیں کر پایا تھا کہ کالے بادل نے اس کا چہرہ ڈھک دیا اور رات دوبارہ اندھیری ہو گئی اور ماہی کوچولو اکیلی۔ چند منٹ دم بخود تاریکی کو گھورتی رہی، پھر آخر کار اسی پتھر کے نیچے جا پڑی اور سو گئی۔

صبح اٹھی تو اس نے اپنے گرد اسی مچھلیوں کے گروہ کو کھسر پھسر کرتے ہوئے پایا جن کو وہ چھوڑ کر آگے نکل آئی تھی. اس کے اٹھتے ہی سب یک زبان ہو کر بولیں ” صبح بخیر!”

کوچولو نے انہیں پہچان لیا اور بولی ” صبح بخیر! تو تم میرا پیچھا کرتے یہاں تک آ ہی گئیں؟”

ان مچھلیوں کے جمگھٹے میں سے ایک بولی ” ہاں، مگر ابھی بھی ہمارا ڈر کم نہیں ہوا۔ ”
ایک اور بولی ” مرغ سقا کے بارے میں سوچ سوچ کر ہمیں تو چین ہی نہیں پڑتا۔ ”

ماہی کوچولو نے کہا ” تم لوگ ایک تو سوچتے بہت ہو۔ ہر وقت کی فکرمندی اچھی نہیں، آؤ! جیسے جیسے ہم سفر کرتے جائیں گے ویسے ویسے ہمارا ڈر بھی کم ہوتا جائے گا”

مگر اس سے پہلے کہ وہ سفر شروع کرتے، ایک زور دار چھپ کی آواز کے بعد پانی میں لہریں پیدا ہوئیں، ایک سایہ سا ان کے سروں پر چھا گیا اور پھر اچانک گھپ اندھیرا ہو گیا، جہاں سے باہر نکلنے کا کوئی بھی راستہ نہ رہا۔ ماہی کوچولو فوراً سمجھ گئی کہ وہ آخرکار مرغ سقا کے جیب میں آن پھنسے ہیں۔ وہ بولی

” دوستو ہم مرغ سقا کے چنگل میں پھنس گئے ہیں پر یہاں سے نکلنے کا راستہ ابھی بالکل بند نہیں ہوا۔

مچھلیوں کے جمگھٹے نے رونا شروع کر دیا۔ ایک بولی ” اب تو باہر نکلنے کا کوئی رستہ ہے ہی نہیں”

ایک اور بولی ” بس اب ایک ہی آن میں یہ ہمیں نگل لے گا اور ہمارا کام تمام”

اچانک ایک ڈراؤنا قہقہہ پانی میں گونجنے لگا یہ مرغ سقا کا قہقہہ تھا۔ وہ ہنسے جا رہا تھا، ہنسے جا رہا تھا، رکتا ہی نہ تھا۔

” مچھلیوں کا جمگھٹا اب میرے قبضے میں ہے۔ ہا ہا ہا ہا ہا۔ سچی، میرا دل تمھارے لئے بہت اداس ہے۔ میرا دل تو نہیں چاہتا کہ تم سب کو نگل جاؤں پر کیا کرو”

جمگھٹے کی ساری مچھلیاں منت سماجت کرتے ہوئے یک زبان ہو کر بولیں ” جناب عالی! انکل آپ کی ہم نے بڑی تعریفیں سنی ہے۔ اگر مہربانی کریں تو بس تھوڑی سی چونچ مبارک کھول دیں، تو ہم باہر نکل جائیں۔ ہم ہمیشہ آپ حضرت کے لئے دعا گو رہیں گے۔ ”

مرغ سقا نے جواباً کہا ” ابھی تو میں تمہیں کھانا نہیں چاہتا، کیونکہ ابھی میں نے اور مچھلیاں نگل رکھی ہیں۔ ذرا نیچے ہو کر دیکھو تو”

اب جب انہوں نے اس کے معدے میں جھانکا اور مری ہوئی مچھلیوں کی طرف نگاہ ڈالی تو اور ڈر گئیں اور کہنے لگیں ” جناب مرغ سقا ہم نے تو کچھ نہیں کیا، ہم سب بے گناہ ہیں۔ یہ ساری کارستانی تو اس ماہی سیاہ کوچولو کی ہے جو ہمیں بہلا پھسلا پر یہاں لے آئی”

ماہی کوچولو بہادری سے بولی ” اوئے ڈرپوکو! تمہیں کیا لگتا ہے کہ یہ دھوکے باز مرغ سقا تمہیں، منت سماجت کرنے سے، چھوڑ دے گا”

ایک مچھلی بولی” تمہیں کچھ معلوم نہیں تم کیا کہہ رہی ہو۔ دیکھنا ابھی جناب مرغ سقا صاحب ہمیں کیسے چھوڑتے ہیں اور تجھے کیسے نگلتے ہیں”

مرغ سقا بولا ” ہاں ہاں میں تم سب کو بخش دوں گا مگر ایک شرط پر”

سب مچھلیاں یک زبان ہو کر بولیں ” قربان جائیں آپ کی شرط پہ، جلدی بتائیں کیا کرنا ہے”

” اس فضول مچھلی کو پہلے مار دو پھر میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔ ” مرغ سقا نے جواب دیا

ماہی کوچولو نے خود کو باقی مچھلیوں سے علیحدہ کر لیا اور پھر ان سب سے مخاطب ہوئی

“اس کی یہ بات ہرگز قبول نہ کرو! یہ دھوکے باز پرندہ ہمیں ایک دوسرے کے خلاف لڑوانا چاہتا ہے۔ میرے پاس ایک پلان ہے!”

مگر مچھلیوں کے جمگھٹے کے دماغ میں اپنی آزادی کی بات اس قدر گھر کر چکی تھی کہ اور کچھ سنائی ہی نہ پڑتا تھا۔ اب وہ ماہی کوچولو کی طرف بڑھنے لگیں۔

ماہی کوچولو مرغ سقا کے جیب کے ایک کونے میں بیٹھی آہستہ سے بولی ” اوئے ڈرپوکو! تم اب بہر حال پکڑے جا چکے ہو اور فرار کا کوئی راستہ نہیں۔ مجھ پر بھی تمہارا زور وور نہیں چلے گا”

مچھلیوں کا جمگھٹا ہولا ” تمہیں تو ہم ضرور مار دیں گے اور آزادی حاصل کر کے رہیں گے۔ ”

کوچولو بولی ” اگر مجھے مار بھی دو تو وہ تمہیں آزادی نہیں دے گا، یہ دھوکے باز ہے۔ اس کے پھسلاوے میں مت آؤ۔ ”

مچھلیاں بولی ” تم یہ باتیں اس لئے کر رہی ہو تا کہ تم اپنی جان بچا سکو تمہیں ہماری جان کی کوئی فکر نہیں۔ ”

کوچولو بولی ” بس میری بات دھیان سے سنو۔ میں اس کا ایک حل بتاتی ہوں۔ میں تم سب پرجوش مچھلیوں کے درمیان مرنے کا ڈھونگ رچاتی ہوں۔ پھر دیکھ لیں گے کہ یہ تمہیں رہا کرے گا یا نہیں۔ اور اگر تم میری یہ بات نہیں مانو گی تو یاد رکھنا میں تم سب کے اس چاقو سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دوں گی۔ پھر اس جیب کو پھاڑ کر باہر نکل جاؤں گی اور تم لوگ۔۔۔ ”

ان میں سے ایک مچھلی نے کوچولو کی بات کاٹی اور رندھی ہوئی آواز میں کہنے لگی

” بس چپ کرو! میں اور نہیں سن سکتی یہ بکواس” اور ساتھ ہی اس نے رونا شروع کردیا۔

کوچولو باقی سب سے مخاطب ہو کر بولی ” اس پارے سے گپلو روندو بچے کو کدھر تم اپنے ساتھ لے آئیں”

اس کے بعد اس نے اپنا خنجر نکالا اور مچھلیوں کے سامنے پکڑ کر لہرانے لگی۔ مچھلیاں مرتیں کیا نہ کرتی۔ ناچار انھیں کوچولو کا مشورا ماننا ہی پڑا۔ ماہی کوچولو نے مرنے کا ڈھونگ رچایا۔ اور مچھلیوں نے جا کر مرغ سقا سے کہا

” جناب عالی، ہم نے اس بدتمیز فضول مچھلی کو مار دیا ہے”

مرغ سقا بولا ” بڑا چنگا کیتا!! اب اس کام کو کرنے کے انعام کے طور پر میں تم سب کو نگل جاتا ہو تاکہ تم سب میرے معدہ کی سیر کر لو”

مچھلیوں کے جمگھٹے کی اب اور کیا مجال تھی کہ کچھ کہتیں۔ وہ بڑی تیزی سے اس کے گلے سے نیچے جانے لگیں کہ اب ان کا کام تمام ہوا۔ عین اسی وقت کوچولو نے اپنا خنجر نکالا اور ایک ہی وار سے مرغ سقا کا جیب پھاڑ کر باہر نکل آئی۔ مرغ سقا درد سے چیخنے لگا اور اپنا سر پانی پر مارنے لگا پر ماہی کوچولو کا پیچھا نہ کر سکا۔

ماہی کوچولو تیرتی رہی، تیرتی رہی اور اتنا تیری کہ دوپہر ہو گئی اور پھر پہاڑ اور وادیاں ختم ہو گئیں۔ دریا اب میدانی علاقے میں آن پہنچا تھا۔ دائیں بائیں سے چھوٹے چھوٹے دریاؤں کا پانی اب اس بڑے دریا میں شامل ہو رہا تھا۔ ماہی کوچولو کو اس زیادہ پانی کا اور بھی مزہ آنے لگا۔ اچانک اسے احساس ہوا کہ پانی کی کوئی تہہ ہے ہی نہیں۔ اس نے بار بار نیچے تک پہنچنے کی کوشش کی پر ناکام رہی۔ پانی اتنا زیادہ تھا کہ ماہی کوچولو اس میں گم ہونے لگی۔ وہ بہت تیری پر گم ہی رہی۔ اس نے اچانک دیکھا کہ ایک لمبا تڑنگا، بہت ہی بڑا جانور اس کی طرف حملے کی نیت سے بڑھ رہا تھا۔ اس کے منہ میں دو طرفہ آری تھی۔ کوچولو کو فوراً سمجھ آ گئی کہ
” یہ تو آرا مچھلی ہے۔ یہ تو ایک ہی لمحے میں میری تکا بوٹی کر دے گی”وہ فورا ہلی، اپنی جگہ سے ہٹی اور پانی کی سطح پر آ گئی۔ بہت دیر بعد ایک بار پھر پانی کی گہرائی میں گئی کہ پانی کی تہہ کو ایک بار پھر دیکھے۔ کیا دیکھتی ہے کہ ہزاروں مچھلیوں کا ایک غول اس کے سامنے ہے۔ ان میں سے ایک سے کوچولو نے پوچھا
“میں یہاں اجنبی ہوں، بہت دور سے آئی ہوں، ہم کہاں ہیں؟”
اس مچھلی نے اپنے دوستوں کو مخاطب کیا اور کہا
” لو ایک اور”
پھر ماہی کوچولو سے بولی ” میری سہیلی ! Welcome to the samandar”
“ہی ہی میری انگریزی تھوڑی پھنستی ہے”
ایک اور مچھلی نے اس سے کہا
“سارے دریا، ساری نہریں، ساری ندیاں اسی سمندر میں آ کر گرتی ہیں، سوائے ان کے جو دلدلوں میں ڈوب جاتے ہیں”

ایک اور بولی “جب بھی تمہارا دل چاہے ہمارے غول میں شامل ہو سکتی ہو۔ ”
ماہی کوچولو بہت خوش ہوئی کہ وہ آخرکار سمندر میں آن ہی پہنچی۔

سمندر میں ماہی کوچولو کی ملاقات مچھلیوں کے ایک غول سے ہوئی

کوچولو کہنے لگی ” میں پہلے سمندر کی سیر اکیلے کرنا چاہتی ہوں۔ پھر واپس آ کر تمہارے غول میں ضرور شامل ہو جاؤں گی۔ میرا دل چاہتا ہے کہ اب کے تم لوگ مچھیرے کا جال لے کر فرار ہو تو میں بھی تمہارے ساتھ ہوں”

ان مچھلیوں میں سے ایک خوشی سے بولی
” تمہاری یہ خواہش جلد پوری ہو گی۔ ابھی جاؤ اور سمندر کی سیر کرو۔ مگر سطح سمندر پر جاتے ہوئے بگلے سے ہوشیار رہنا۔ آج کل وہ کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔ ہر روز جب تک چار پانچ مچھلیوں کا شکار کر نہیں لیتا ہماری جان نہیں چھوڑتا”

اس وقت ماہی کوچولو باقی مچھلیوں سے جدا ہوئی اور اکیلی تیرتی رہی۔ کچھ عرصہ بعد وہ سطح سمندر پر آئی، سورج چمک رہا تھا۔ ماہی کوچولو نے سورج کی گرمی کو اپنی کمر پر محسوس کیا۔ اسے بہت مزا آیا۔ سکون اور خوشی سے وہ سطح سمندر پر تیرتی رہی اور خود سے بولی

شاید موت میرے بہت قریب ہو اور میرا سراغ ڈھونڈھتی ہو۔ پر میں موت کے بارے میں ابھی کیوں سوچوں؟ اگر کسی روز میں موت کے سامنے آن کھڑی ہوئی تو کوئی بات نہیں۔ میرا جینا مرنا اہم نہیں۔ ہم سب کو ہی ایک دن اس دنیا سے جانا ہے۔ اہم بات تو یہ ہے کہ میری زندگی اور موت کا لوگوں کی زندگی پر کوئی مثبت اثر پڑتا ہے یا نہیں۔ ”

ماہی کوچولو اس سے زیادہ اور سوچ نہ سکی۔ بگلہ آیا اور اس کو اٹھا لے گیا۔ ماہی کوچولو بگلے کی چونچ میں پھنسی ہاتھ پیر مارنے لگی مگر خود کو چھڑا نہ سکی۔ بگلے نے ماہی کوچولو کی کمر کو یوں پکڑ رکھا تھا کہ اس کی جان نکل رہی تھی۔ آخر کب تک ایک چھوٹی سی مچھلی پانی کے بغیر زندہ رہ سکتی تھی۔
ماہی کوچولو سوچنے لگی کہ
“کاش بگلہ مجھے اسی حالت میں نگل جائے تا کہ اس کے پیٹ کے مٹھی بھر پانی میں تھوڑی دیر اور زندہ رہ سکوں۔ ”
یہی سوچتے ہوئے ماہی کوچولو نے بگلے سے کہا
” میاں بگلے تم مجھے زندہ نگل کیوں نہیں لیتے۔ میں ان مچھلیوں میں سے ہوں جن کا جسم مرنے کے بعد زہر سے بھر جاتا ہے”
بگلہ کچھ نہ بولا اور سوچنے لگا ” بڑی چالاک ہے تو ! تجھے کیا لگا کہ میں بولنے کے لئے اپنی چونچ کھولوں گا اور تو بھاگ جائے گی”

بگلے کی چونچ میں پھنسی ماہی کوچولو کا انجام کیا ہوا؟

خشکی اب دور سے نمایاں ہونے لگی تھی اور نزدیک سے نزدیک تر ہوتی جا رہی تھی۔ ماہی کوچولو سوچنے لگی
“اگر ہم خشکی تک پہنچ گئے تو پھر تو کام ہوا تمام”

فوراً بولی “مجھے پتا ہے تم مجھے اپنے بچوں کے لئے لے کر جا رہی ہو۔ جب تک ہم خشکی تک پہنچیں گے میں مر جاؤں گی۔ میرا جسم زہریلا ہو جائے گا۔ کیوں اپنے بچوں پر ظلم کرتی ہو۔ ”

بگلے نے سوچا ” احتیاط اچھی چیز ہے، تجھے خود کھا لوں گا، اور بچوں کے لئے کوئی اور مچھلیاں پکڑ لوں گا۔ پر تیری ڈرامے بازی کسی کام نہیں آئے گی، تو اب کر تو کچھ نہیں سکتی”

وہ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ کوچولو کا بدن ٹھنڈا اور بے جان پڑ گیا۔
” کوچولو! مر گئی؟ اوے مر گئی؟ ” بگلے نے پریشانی سے سوال کیا

” ایسے ہی اتنی مزےدار مچھلی کو حرام کیا”
پھر کہنے لگا
” اوئے! آدھی پونی جان ہے اگر تو کھا لوں۔۔۔۔۔ ؟”

ابھی اس نے یہ کہتے ہوئے اپنی چونچ کھولی ہی تھی کہ ماہی کوچولو اُچھلی اور آزاد ہو گئی۔ بگلے کو جیسے ہی سمجھ میں آیا کہ اسے کیسی بری ٹوپی پہنا دی گئی ہے، وہ فوراً ماہی کوچولو کی طرف جھپٹا۔ پر ماہی کوچولو نے بجلی کی رفتار سے ہوا میں غوطہ لگایا۔ اس کے اوسان پانی کے اشیاق میں بسرتے جاتے تھے۔ اس نے اپنے خشک حلق کو سمندری ہوا کی نمی کے حوالے کر دیا تھا۔ مگر جیسے ہی وہ پانی تک پہنچی اور اپنی سانس تازہ کی، بگلے نے کوند کی سی تیزی سے پھر اس کا شکار کر لیا اور اسے نگل گیا کہ ایک مدت تک کوچولو کو یہ سمجھ ہی نہ آئی کہ اسے کس بلا نے آن لیا۔ اس نے فقط محسوس کیا کہ ہر جگہ نمی اور اندھیرے سے بھری ہے۔ کوئی رستہ موجود نہیں اور یہ کہ کسی کے رونے کی آواز آتی ہے۔ جب کوچولو کی آنکھیں اندھیرے کی عادی ہوئیں تو اس نے اسی مچھلیوں کے غول میں سے ایک مچھلی کو وہاں پایا جو ایک کونے میں سکڑی ہوئی رو رہی تھی اور اپنی اماں کو یاد کر رہی تھی۔

کوچولو اس کے پاس گئی اور کہنے لگی
” اٹھو! اور یہاں سے نکلنے کا سوچو۔ رونے سے اور امی کو یاد کرنے سے کیا ہو گا”

مچھلی نے کوچولو سے پوچھا ” تم آخر ہو کون۔۔۔۔ دیکھتی نہیں ہو میں۔۔۔ میں۔۔ میں برباد ہو گئی ہوں اماں جی۔۔۔ اھوں اھوں اھوں۔۔۔ میں اب تیرے ساتھ مچھیرے کا جال سمندر کی تہہ تک نہیں لے جا سکتی۔۔۔۔ اھوں اھوں اھوں”

کوچولو نے کہا ” اب بس بھی کرو تم نے ہر مچھلی کی جو بھی عزت تھی مٹی میں ملا دی”

جب اس چھوٹی مچھلی نے رونا ختم کیا تو ماہی کوچولو نے کہا ” میں چاہتی ہو کہ اس بگلے کا کام تمام کر دوں اور مچھلیوں کو اس عذاب سے نجات دلاؤں مگر اس سے پہلے تمہیں یہاں سے باہر نکالوں گی تا کہ کہیں تم میرا پلان برباد نہ کر دو۔

مچھلی بولی ” تم تو خود مر رہی ہو تم کیسے بگلے کو مار سکتی ہو”

کوچولو نے اپنا خنجر دکھایا اور کہا ” اسی سے اس کا پیٹ اندر سے چیر پھاڑ دوں گی۔ اب غور سے سنو کہ میں کیا کہہ رہی ہوں۔ میں اب ادھر ادھر ہلنا شروع کروں گی تا کہ بگلے کو گدگدی شروع ہو جائے اور جیسے ہی وہ منہ کھول کر ہنسنا شروع کرے گا تم باہر چھلانگ لگا دینا۔ ”

غول کی اس مچھلی نے کہا ” خود تمہارا کیا ہو گا”

ماہی کوچولو بولی ” میری فکر مت کرو میں جب تک اس بد بخت کا کام تمام نہیں کرتی باہر نہیں آؤں گی”

یہ کہہ کر ماہی کوچولو نے ادھر ادھر ہلنا اور بگلے کے پیٹ میں گدگدی کرنا شروع کیا۔ غول کی مچھلی بگلے کے معدے کے کنارے پر تیار کھڑی تھی۔ جیسے ہی بگلے نے منہ کھول کر ہنسنا شروع کیا اس غول کی مچھلی نے باہر چھلانگ لگا دی۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ پانی میں تھی۔ اب اس نے ماہی کوچولو کا بہت انتظار کیا مگر اس کی کوئی خبر نہ آئی۔

اچانک اس نے دیکھا کہ بگلہ بار بار پیچ و تاب کھا رہا تھا اور درد سے چیخ رہا تھا۔ پھر اس نے ہاتھ پیر مارنے شروع کر دیے اور غوطہ کھا کر سیدھا پانی میں آن گرا۔ پھر اس کے ہاتھ پیر ہلنا بند ہو گئے۔ مگر ماہی کوچولو کی کوئی خبر نہ آئی۔

نانو مچھلی نے اپنا قصہ تمام کیا اور اپنے 12000 بچے اور نواسے نواسیوں سے مخاطب ہوئی ” اب سونے کا وقت ہو گیا ہے چلو اب سب سو جاؤ”

بچے اور نواسے نواسیاں بولے “پر آگے کیا ہوا؟ ماہی کوچولو بگلے کے منہ سے باہر نکل سکی یا نہیں، اس چھوٹی مچھلی کا کیا ہوا، وہ اپنی امی سے مل سکی یا نہیں”

نانو مچھلی نے کہا ” ان سوالوں کا جواب اب کل ! ابھی سونے کا ٹائم ہے، شب بخیر”

11999 مچھلیاں تو نانو کو شب بخیر کہہ کر سونے چلی گئیں پر ایک چھوٹی لال مچھلی نے بہت کوشش کی پر اسے ساری رات نیند نہ آئی۔ وہ صبح ہونے تک سمندر کی لہروں کے بارے میں سوچتی رہی۔

Categories
شاعری

تمہارا سایہ (رضی حیدر)

تمہارا سایہ ابھی بھی ٹیبل کے اس پار
مجھے گھور رہا ہے
واپس آ جاؤ
آؤ گیلی ریت پر لیٹ جائیں گے
آؤ کچھوؤں کی پشت پر سمندر کی
تہ میں موتی ڈھونڈیں گے
وہ سپی کہاں رکھ دی تم نے
جس کی قید میں ایک آنسو نے
اس سمندر کا سپنا دیکھا تھا
آؤ ہم پھر سے اسے ڈھونڈتے ہیں
واپس آ جاؤ
میں نے گھر کی ساری مکڑیاں مار دی ہیں
ان کے جالے ہٹا دیے ہیں
میں اب ان سے طلسمی کہانیاں نہیں سنتا
نیم شب میں ان سے باتیں نہیں کرتا
واپس آ جاؤ
ہر شام آنسوؤں کی ایک کتاب لکھنے کا سوچتا ہوں
رات کے آخری پہر تک اسے لکھتا ہوں
پر صبح اٹھ کر دیکھتا ہوں تو اس کے صفحوں پر سمندری نمک کے علاؤہ کچھ نہیں پاتا
میرے لفظ مٹ رہے ہیں
واپس آ جاؤ
چادریں صاف ہیں اور فرش چمکتے ہیں
تمہاری پسندیدہ چاکلیٹ فرج میں لا رکھی ہے
اور یہ بکھری کتابیں جن سے تم ہمیشہ چڑتی تھیں
سب جلا دی ہیں
یہ بک بک کرتے فلسفے
اور میری زبان سے نکلتی قنوطی بکواس
زبان کاٹ دوں؟
واپس آ جاؤ
وہ بستر جہاں ہم دونوں لخت لیٹا کرتے تھے
میری چتا ہے
آؤ اسے جلتا دیکھو
کیا اس آگ کو ہمیشہ جلنا ہے
خامیاں، خرابیاں، بحثیں، سوال
سوال در سوال
وہ سب تو ابھی تک یہیں ہیں
ناچتے ہیں
میں بھی ناچ رہا ہوں
میں بھی ایک سوال ہی تو ہوں شاید
پر میرے پاس اپنا کوئی جواب نہیں ہے

Categories
شاعری

اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی (رضی حیدر)

اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی
تو تم عام سی لڑکی نہیں رہو گی
میری سطریں سمندروں میں کود کر
تمہارے ناف پیالے کے لئے
زمرد کے ٹھنڈے پتھر جمع کریں گی
اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی
تو شہد کی مکھیاں
تمھارے پستان چومنے کی لو میں
گلابوں کے لوبھ سے آزاد ہو جائیں گی
اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی تو
تمھارے چہرے کی روشنی سے
عدم کے تاریک قریوں میں
رنگین کمانوں سے
خوابوں کے بان چلائے جائیں گے
اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی تو
پیڑوں کی انگلیاں
تمہاری آمد کی خوشی میں
ہوا کی تاروں سے سُر نکالتے
خود کو زخمی کر لیں گی
اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی
تو تمہاری کمر کے تیغے پر
لب اپنا آپ رکھ کر
خون کی پھواروں میں زندگی تلاش کریں گے
اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی تو
تمہارے کولہے کا تل
تمثیل کی کان بن جائے گا
غم جس کی یاد میں
نئے استعارے کھودنے وہاں آیا کرے گا
اگر مجھے تم سے محبت ہو گئی تو
تمھارے کاکل کے مردہ سانپ
جنگ میں لڑتے
مجھ مردہ سپاہی کی جیب سے ملیں گے

Categories
شاعری

تمہیں کیسے بتاوں (رضی حیدر)

تمہیں کیسے بتاؤں کہ میں
ایک بھولی ہوئی وادی کے
گمنام شہر کا بچہ تھا
وہ دھول،
جو اس کے پہاڑوں پر اڑا کرتی تھی
ہر سال مون سون کے آنسوؤں میں
اپنا دامن تر کیے
گھاس پر تھک کر بیٹھ جاتی تھی
میرے دل پر جمی ہے
تمہیں کیسے بتاؤں کہ مجھ میں
اور چند بچوں کی گرفت سے نکلے
ٹوٹی پکھڈنڈیوں کی ڈھلوانوں سے
لڑھکتے پرانے ٹائروں میں
کوئی فرق نہیں
ہماری قسمت میں
دریاؤں کے غوغوں میں گر کر
کھو جانا بہت پہلے لکھ دیا گیا تھا
تمہیں کیسے بتاؤں کہ
میرے شہر کی مائیں
خاکستروں کی آخری چنگاری کو
زندہ کرتے کرتے
خود راکھ میں بکھرنے لگتی تھیں
اور میں ان ماؤں کا آخری وارث
اس خاکستر کی آگ کو چھوڑ کر
تمہارے پہلو میں بیٹھا ہوں
تمہیں کیسے بتاؤں کہ
آج میں زندہ رہنا،
تمہارے ساتھ سب بھلا کر
رقص کرنا میرے بس میں نہیں ہے
تمہیں کیسے بتاؤں کہ
پرتگال کی اس فادو سنگر کی آہ و زاری میں
مجھے اپنی موت کا مرثیہ کیوں سنائی دیتا ہے

Categories
شاعری

جانتی ہو (رضی حیدر)

جانتی ہو، نظمیں لکھ لینے سے
دل کی سیاہی نہیں دھلتی
اس ابلتے کھارے پانی میں
حافظے کی جھاگ نہیں گھلتی
پھر بھی یہ آخری قطرۂ جاں
دل کی سپی میں سنبھالے
سورج کو ڈوبتے دیکھ رہا ہوں
شاید تمھارے جانے کا سن کر ،
آج رات بھی کوئی سمندر بین کرتا
مجھ میں سمانے آ جائے

Categories
شاعری

یہ پہلی بار نہیں (رضی حیدر)

یہ پہلی بار نہیں
کہ کسی نے محبتوں کا اترن سمجھ کر
سیب کے مربے کی خالی بوتلیں
چمڑے کا ٹوٹا دست بند
چیڑ کے مخروطے
اور بجھے سگریٹ سنبھال رکھے ہوں
اس زمین کی خاک میں نہ جانے کتنی آنکھیں دفن ہیں
جو عمیق سمندروں کے نمکین پانی سے گھری ہوئی ہیں

Categories
شاعری

میں تیرے قہقہے میں دھنسا جا رہا ہوں (رضی حیدر)

میں تیرے قہقہے میں دھنسا جا رہا ہوں
یا تیری رندھی ہوئی ہچکی میں
دونوں میں ایک طویل سکتہ تھا
یہ کوئی دلدل ہے شاید
یا کوئی شہرِ مدفون
وقت کی سِلوں کی عبارتیں مٹ رہی ہیں
خاموشی کی چھپکلی زبان سے اپنے ڈیلے صاف کرتی ہے

(خدایا کیا دھنسنا ہمارا مقدر ہے
اس ماتھے پر تیرے ناخنوں کا لکھا
جبہ سائی کرتے مٹ نہیں سکتا؟ )

سب ہی تو دھنس رہے ہیں
تری برہنہ کمر کا جادہ
ترے سوالوں کی اڑتی گرد
ترے ہونٹوں پر میرا آخری بوسہ
یہ بکھری کتابیں
یہ بوگس فلسفے
میری پانچ گھنٹے سے کچھ کم کی نیند
اور وہ فشارِ خون کہ رگوں کے چیتھڑے بکھیر دے
چمن کو فقط ایک بار دیکھ لینے کی آخری چاہ
اور پھولوں کی دکان میں ملا ایک بلبل کا لاشہ
میرا دو دن کا فاقہ
یہ ابلے آلوؤں کے سوکھے چھلکے
یادداشت کے کواڑوں سے آتی
“کلفی کھوئے والی” کی صدا
2 روپے کا بند سموسہ
ایک روپے کی چھے کولا ٹافیاں
اور چونی کی طلسمی کہانی کا گرانڈیل جن ۔۔۔
سب ہی تو دھنس رہے ہیں

کیا حکم ہے میرے آقا
کہیے تو آپ کی روح کھا لوں، کہیے تو آپ کا جسم
کھانا ہو تو دل سا یہ شعلہ فشاں کھا
وہ شعلہ فشاں جو سینوں کو آسماں بنا دے
یہ جگر پارے کھا
کہ انھیں کھاتے تجھے ستارے نگلنے کا گماں ہو گا
دیکھ یہاں ان دو کنوؤں کو
آبِ آزردگی کے سرچشمے،
جن کا نشہ ہر شرابِ ناب سے بہتر تھا
سوکھ گئے
اے رحمدل مخلوق
مجھے دھنسنے دے کہ دھسنا میرا مقدر ہے
پر کسی ایسے ہاویہ میں
جس کا کوئی اخیر ہو
اے رحمدل مخلوق
تو بن دھوئیں کی آگ سے بنایا گیا
میری خاک کو بھی اس کے اصل سے ہٹا دے
اسے وقت کی مُٹھی سے سرکنا بھلا دے
اے رحمدل مخلوق،
خداؤں نے ہم سے منہ پھیر لیے
اگر ہم پر رحم کر سکے
تو طلسمی کہانی سے نکل آ
اور اس سکتہ کو انت بنا دے

Categories
شاعری

سمندر خالی ہو گئے؟ (رضی حیدر)

سمندر خالی ہو گئے؟
اور زمینں بنجر؟
سورج کی کرنیں چمکنا بھول بیٹھیں ہیں
اور چڑیاں ہسنا؟
میری یادداشت کی دنیا میں
میرے ساتھ فقط ایک نیل کنٹھ ہے
اور کھڑکی سے باغ دکھتا ہے
ہم اس جیل کی زلال دیواروں کو ٹکریں مارتے مارتے تھک گئے ہیں
ہم فقط تمہارے چہرے کو دیکھ کر وقت بتا سکتے تھے
تم کہاں چلی گئیں؟
کیا رات ہو گئی ہے
یا ہم اندھے ہو گئے ہیں

Categories
فکشن

مننجائٹس (رضی حیدر)

یہ عجیب خط ہے کہ میں ہی اسے لکھ رہا ہوں اور میں ہی اسے پڑھے جاتا ہوں، تسبیح کی طرح، صبح شام۔ میں نے ضرورت سے زیادہ چشموں سے باتیں کی ہیں، قطروں کی ہنسی کو چھوا ہے، سرسراتی ہوا کی اداسی کو گھنٹوں چکھا ہے۔ میں سچ سن چکا، وہ سچ جو قبروں میں مقید مُردوں کو سنائے جاتے ہیں۔ وہ سچ جن کی تجلی زندوں کے حواسِ سامعہ کو سرمہ کر دے۔

تو پھر یہ سچ مجھے کیوں سنائے جا رہے ہیں؟ میں تو زندہ ہوں___کیا میں زندہ ہوں؟؟

جون گر رہا تھا، کالے بادلوں سے بارش کے قطروں کے ساتھ۔ وہ بھی ایک قطرہ تھا،خون کا، ایک لوتھڑا، ایک جنین، بچہ دانی کی تلاش میں۔مگر جس بچہ دانی میں اسے جگہ ملی وہ خاردار تاروں سے گِھری تھی-جس کے باہر بندوق بردار لمبے قد اور داڑھی والے، پٹے رکھے پہرہ دار، پہرہ دے رہے تھے۔یاداشت کے خالی رخنے تخلیق کیے جا رہے ہیں، جہاں چالیس سال بعد وہ اپنی تخلیق کے بوسیدہ پنے کھودنے آئے گا۔ دل میں خدا کا وہم پرویا جا رہا تھا جہاں چالیس سال بعد خدا کی جگہ ایک شگاف ہو گا، کالے بادلوں میں گِھرا۔۔ وہ زبانوں کےاس بدنصیب شہر میں پیدا ہوا جہاں چپ کا دریا بہتا تھا۔

“حقیقت وہ شام ہے جس کا ڈوبتا سورج گگن کے چہرے پر اپنی سرخ پیک تھوک کر نہاں ہوتا ہے۔

تف ہے تمہارے پندار کی پنہاں داریوں پر ، اپنی خام خرد کے خُنخُنے سن رہے ہو؟ سورج ڈوبا نہیں کرتے، تم ڈوب رہے ہو!” اس نے سوچا۔

سک سک سک

ادھورے کمرے کا پنکھا، جو خراماں خراماں چلے جا رہا تھا، جس کے پروں پر سرخ ساڑھی پہنے ایک عورت کا خاکہ بنا تھا، رک گیا اور وہ تین حصوں میں بٹ گیا۔ جون جو خاموشی سے چارپائی پر لیٹا اپنی تخلیق کے سحر میں محصور تھا، بجلی جاتے ہی دنیا میں واپس آگیا تھا۔ اس کے کمرے کی دیواروں پر بلیک اینڈ وائٹ تصاویر آویزاں تھیں جو اس نے پچھلے کئی سالوں میں کھینچی تھیں۔

ہا! بے معنی تصاویر!

اب اسے اُن سے کوئی لگاو نہیں تھا۔ وہ انکا انتا عادی ہو چکا تھا کہ انکے فریمز کے اندر سےدیوار کے اُکھڑتے پینٹ کو دیکھ سکتا تھا۔

بلڈ پریشر مشین کا پارہ جو ہر رات اس کی شریانوں کی تغیانی پر کان دھرتا، چڑھے جاتا اور سرگوشی کرتا کہ مورکھ ! سوالوں سے کہہ دے رات کی چادر اوڑھ کر سو جائیں یا انہیں کسی پیٹی میں بند رکھ ،اور مغز میں فروعی عادتوں کی غلاظت بھر!

مانا کہ زندگی اور اس سے متصل تمام محرکات بے معنی ہیں، اس شعبدہ بازی کو شیڈو باکسنگ سمجھ، تیرا خرخشہ، تیری ہی خصومت___ تو خود تجھی کو لڑنا ہے۔ لال بوشٹیں پہنے یہ بود اور نبود کے بونے ہمیشہ ناچتے رہیں گے ___ انہیں صرفِ نظر کر دے۔

خفقان کسی نہنگ کی مانند ساحل پر اس کے محزون دل کو نوچ کھانے میں مصروف تھا-

جبلت، خصلت کیسے بھونڑے الفاظ ہیں اس نے سوچا۔ پر حقیقت جتنی بھونڈی ہو اتنی ہی یقینی ہوتی ہے۔جون زندگی کے تجربے کو پھوکل دلائل سے بھر دینا چاھتا تھا۔ پر زندگی کے ارادے جسے شوپنھار نے “ول آف لائف” کہا تھا اس سے کہیں زیادہ پختہ تھے۔

“زندگی ایک پچھل پیری ہے”وہ بڑبڑانے لگا،

“جو روحیں نگلنے پر قادر ہے۔”

“ہم بھاگ رہے ہیں اور بے لاگ بھاگ رہے ہیں، شورہ پشت بونے! گمبدِ خِضرا کے برجوں کو تسخیر کرنے کےخواہاں اور خود کی رمیدگی سے مُسَخّر ___ پِپڑی جمے ہونٹوں پر لالیاں لیپنے والے، سوختہ گالوں پر غازے تھوپنے والے___ تف ہے ہم پر “وہ ہنسنے لگا۔

ڈاکٹر عالیہ مننجائٹس کے مرض میں مبتلا جون کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ وہ مسکراتا، بڑبڑاتا مریض اس کے لئے بو العجب نہ ہوتا اگر اس نے اپنی بیوی کی ساڑھی پہن نہ رکھی ہوتی، اپنے پھٹے ہونٹوں پر اسکی لپسٹک لیپ نہ رکھی ہوتی۔ جلال لالا جرنیٹر چلا آیا تھا۔اور پنکھا گھومنا شروع ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ ہی جون کی آنکھیں بھی۔

وہ نظمیں جو کبھی نوجوانی میں جون نے لکھیں، سٹیپٹوکوکس کے جرثوموں کے ساتھ برہنہ ناچ ناچ رہی تھیں۔ ڈاکٹر عالیہ نے جلال لالا کو جون کے سر اور گٹنوں کو جوڑ کر سختی سے پکڑنے کو کہا۔ اور ایسا کرتے ہی سرنج جون کی ریڑھ کی ہڈّی کے مُہروں میں انجیٹ کر دی، پِسٹَن کھینچتے ہی رقص کناں جرثوموں کا ایک غول ٹیکے میں بھر گیا۔

“ترے بغیر مری نیند کے صفحوں پر،
خالی قلم سے خاموش نظمیں لکھی گئیں
نِب میری کھال کی پپڑیاں اتارتی ہے
جیسے اُکھڑتے پینٹ سے لیپی دیواریں
کمرے میں ایک خاص سڑانھد ، بھر دیتی ہے
میرے خوابوں کے سیم زدہ کمرے بھی
ایسی ہی باس سے بھرے ہیں”
جرثومے ابھی بھی گنگنا رہے تھے۔

ڈاکٹر عالیہ نے جلال لالا کو بتایا کہ بیماری کی علامتیں گردن توڑ بخار کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ اور یہ بخار جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

جلال لالا نے کھنگارتے ہوئے کہا :

” ڈاکٹر صاحب برا نہ مانیں تو عرض کروں، ہمارے والد امروہے کے بہت بڑے حکیم تھے، وہ اخوینی البخاری صاحب کی کتاب کا ذکر کرتے تھے، سنا تو ہو گا بخاری صاحب کے بارے آپ نے ؟

بڑے حکیم ہوئے ہیں وہ،

مالیخولیا کے بارے میں بخاری صاحب کی کتاب میں ذکر ہے بابا کہتے تھے ،

ایک ان دیکھا ڈر، ایسے سوالوں کا دل میں اٹھنا کہ جن کے جواب نہ ہوں، خود پہ ہنسنا، خود پہ رونا، بے وجہ بڑبڑانا۔ یہ سب تو ہے ان کو، ورنہ کون پہنتا ہے اپنی بیوی کی ساڑھی، لپ اسٹک لگائی ہے دیکھو ”

اور اس نے رونا شروع کر دیا۔

وہ جون کے پاس گیا اور اس کے ہونٹوں سے لپ اسٹک اتارنے لگا۔ عالیہ نے بوڑھے جلال کی بات سنی ان سنی کر دی۔

“کل تک ٹسٹ کے رزلٹ آ جائیں گے۔ میں انٹی بائٹک لکھ رہی ہوں فوراً لائیے اگر صبح تک حالت بہتر نہ ہو تو فوراً ہسپتال داخل کیجیے۔

میں صبح راونڈ پر ہی ہوں گی۔ مجھ سے آ کہ ملیے گا۔ میں بتاوں گی آگے کیا کرنا ہے۔ ”

یہ کہہ کر عالیہ نے اپنی سٹیتھو سکوپ اٹھائی اور باہر کی طرف چل دی۔ خاموشی کا سفید شور، جون کے کانوں کے پردوں کو ہزاروں ٹڈیوں کی ماند کتر رہا تھا کہ اخیونی البخاری نے جون کے کان میں سرگوشی کی “السوداء”، ” السوداء”، “السوداء”۔

اور اس سودائی جون کی تلی سے بلیک بائل کا اس قدر اِخراج ہوا کہ ایک اِستخر بن گیا۔ اور وہ اس بلیک بائل میں ڈوبنے لگا۔ ابن سینا کی کتاب ” القانون فی الطب ” کے صفحے خود کو جَگَتی چھند میں بڑبڑانے لگے۔ چھند کے 48 اکشر جون کی ناف سے نئی ناڑ بن رہے تھے وہ ایک جنین بن گیا تھا۔ ایک فیٹس۔

کہ پھر اچانک ___ لوگوں کے قدموں کی آوازیں طبلے کی تال بن گئیں۔

تا، کی، تَا، کی، تَا، دِھن، گِھنا، تُم۔

راگ للت ہسپتال کی اس صبح کے کشکول میں ریزگاری بھرنے لگا۔

ایک رکی ہوئی چیخ، ہوا میں معلق تھی جیسے سیاہی کی بوند پانی میں لٹک رہی ہو۔ نگار نے، جس کے دائیں گال پر ایک کالا آنسو چمک رہا تھا، زور سے کہا:

“میں جا رہی ہوں جون ”

اور اس کے جاتے ہی وہ خاموش ہو گیا۔ یوں جون خاموشی کےخالی گلاس میں مقید تھا، مقید ہے ۔ وائن کی بوتل آدھی ہو چکی تھی اور وہ شعر بڑبڑا رہا تھا۔

اس کو کیسے نکالیے دل سے
ہم کہ دل ہی نکال بیٹھے ہیں
دل سے مردے کے خون پینے کو
کچھ گِدھوں سے ملال بیٹھے ہیں

محبتیں بھلائی جا سکتی ہوں گی، عادتیں نوچ کھاتی ہیں۔ ہم خود کو محبتوں اور عادتوں کے رخنوں میں بھرتے ہیں۔ اور ایک دفعہ یہ رخنے بھر جائیں تو ان سے نکلنا محال۔

جون بڑبڑانے لگا

” وائے عادتیں !! اور حیف ان کے رخنے !!جن کی غلام گردشوں میں آدمزاد برہنہ مقید ہیں۔”

“کیا بکتے ہو، کیوں بکھارتے ہو۔۔۔ خاموش!”

“تمام یاوہ گویان ساکت باشید!
تمام ہرزہ گویان بےصدا باشید!”

جون کے لئے عالیہ کی آواز کسی شور سے زیادہ نہیں تھی۔ اس کی تصویروں کی طرح، جن کے اندر سے وہ اُکھڑتے پینٹ کی پپڑیاں دیکھ سکتا تھا۔ یہی نہیں وہ اپنی لال آنکھوں سے کئی سال آگے کئی سال پیچھے دیکھنے پر مقدور تھا۔

“خاموش!!! خاموش!! سفید شور خاموش!!!”

جون نے کئی سال بعد یا کئی سال پہلے پر نظر کی، تو دیکھا کہ ایک زمیں دوز غار سے بارہ سنگے یکے بعد دیگرے نکل رہے ہیں۔ اور پھر جون خود نکلتا ہے۔ وہ خود ایک بارہ سنگا بن چکا ہے ۔ اچانک ایک ہیجانی گرم چیخ جون کے دل میں داغ دی جاتی ہے، وہ کراہ رہا ہے۔ لہو آہستہ آہستہ جون کے پیٹ سے نکل رہا ہے اور اسکے نافہ سے نکلتی مُشک سارے میں پھیل رہی ہے۔

ٰImage: Zedekiah Schild

Categories
شاعری

بودا درخت (رضی حیدر)

یہ کون کٌھنڈی آری سے میرا تنا کاٹ رہا ہے
کون میری وکھیوں کی ٹہنیاں توڑ رہا ہے
مجھ سے نیانوں کے جھولے بنانا،
یا سکول کی نِکی نِکی کرسیاں
میرے ہاتھوں سے سالنوں کے ڈونگے چمچ
میرے پیٹ سے سہاگ رات کے رنگلے پلنگ
چل بھانوے، مجھے انگیٹھی میں ڈال دے
میری آنکھیں بس میری رہن دے
میں نے اپنی ماں کا رستہ تکنا ہے

میں ایک بودا درخت ہوں
جسے سبزا دیکھے اسی سال ہو گئے ہیں
مائے وے مائے!
تیرے کہن پر
میں اپنی انتڑیاں پھیلائے
پانی ڈھونڈتے، ہزاروں فٹ نیچے آ گیا ہوں
مائے وے مائے !
یہ کدھر جنا تو نے مجھے؟
جدھر انّے دریا، پتھر ٹٹولتے رستہ بھول جائیں
کوے بھوک سے اپنے موئے ساتھیوں کے
ڈھانچوں کا سُکھا گوشت چابتے ہوں۔

کوئل موت کی تسبیح پڑھتی ہے مائے!

مائے وے مائے !
یہ کدھر جنا تو نے مجھے؟
جدھر سانپ زہر کی دوات میں اپنی زبان ڈوب کے شعر کہتے ہوں
جدھر مچھیوں کے آنسووں کا کھارا پانی یاد کرتے کشتیاں بودی ہو گئی ہوں
مائے میں ان کشتیوں سے بھی زیادہ بودا ہوں
ریت کے جھکڑ میں جو تیری تصویر بنتی ہے
اس سے ہر روز کہتا ہوں،
میں اس سال کے سوکھے میں
اور نیچےنہیں کھود سکتا
اسی سال ہو گئے یہ کہتے کہتے
میں اب اور نہیں کھود سکتا مائے!
مجھے اپنے خشک ہونٹوں میں داب لے
میرے ٹھنڈے پیر اپنے گرم پیٹ سے لگا لے
مجھے اپنے بوڑھے سینے میں بھر لے
میں تھک گیا ہوں
قسمے مائے
میں تھک گیا ہوں