Categories
تراجم فکشن

حلیم بروہی کی دو کہانیاں

سندھی زبان کے مزاح نگار اور ناول نگارحلیم بروہی نے پانچ اگست انیس سو پنتیس میں حیدرآباد کے ایک پولیس افسر عبدالعزیز کے گھر جنم لیا۔ انہوں نے ایل ایل بی کے بعد وکالت شروع کی۔ بعد میں انہوں نے سندھ یونیورسٹی جامشورو میں ملازمت اختیار کی۔ حلیم بروہی نے انگریزی اور سندھی میں دس کے قریب کتابیں لکھیں۔ جن میں ’حلیم شو‘ سندھی میں ان کی مقبول ترین کتاب رہی ہے۔ انہوں نے انیس سو پچھہتر میں ’اوڑاھ‘ کے نام سے ایک ناول لکھا جو نوجوانوں میں کافی مقبول ہوا۔ ان کے انگریزی کالموں کا ایک انتخاب بھی شائع ہو چکا ہے۔ حلیم بروہی سندھی کے وہ منفرد مصنف تھے جو اکثر اپنی کتابیں خود شائع کرواتے تھے۔ وہ ایک منفرد شخصیت اور منفرد اصولوں کے حامل ادیب تھے۔ انگریزی زبان پر انہیں غیر معمولی دسترس حاصل تھی۔ وہ انگریزی اخبار دی فرنٹیئر پوسٹ میں اکثر کالم لکھا کرتے تھے۔ انہوں نے ایک مرتبہ اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ انہوں نے سندھی میں لکھ کر غلطی کی اور انہیں صرف انگریزی زبان میں لکھنا چاہیے تھا۔ حلیم بروہی اپنے ادبی نظریات اور اصولوں کی وجہ سے کافی متنازع بھی رہے ہیں۔ انہوں نے طویل عرصے تک سندھی کو رومن سکرپٹ میں لکھنے کی تحریک چلائی، تاہم سندھی زبان کے کئی ممتاز ادیب ان کی اس تحریک کے مخالف رہے۔ وہ ادبی تقریبات کو وقت کا زیاں قرار دیتے تھے اور انہوں نے اپنی کتابوں کی تقاریب رونمائی یا اپنی شان میں ادبی تقاریب کی حوصلہ شکنی کی۔ نوجوان حلقوں میں مقبول ہونے کے باوجود وہ کسی ادبی محفل میں صدارتی کرسی پر نہ بیٹھے۔ ایسے ادیبوں کے بارے میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’پھولوں کے ہار پہنے وہ سٹیج پر ایسے بیٹھے رہتے ہیں جیسے دولہا ہوں‘۔

تعارف: نثار کھوکھر
بشکریہ: بی بی سی

ہم حلیم بروہی کی صاحب زادی ثناء بروہی جنہوں نے ان کہانیوں کے تراجم شائع کرنے کی اجازت دی، اور نور جونیجو جنہوں نے اجازت کے حصول میں مدد دی، کے شکر گزار ہیں.

…………

بے اولاد بادشاہ

کسی زمانے میں کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کے ساتھ اندھیر یہ تھا کہ اس کی اولاد نہ تھی۔ بادشاہ سلامت نے کوشش بہت کی کہ اسے اولاد ہو پر اسے اولاد نہ ہونی تھی، نہ ہوئی۔ الٹا یہ ہوا کہ اولاد کے لئے بادشاہ سلامت کی، کی ہوئی الٹ سلٹ اور ٹیڑھی میڑھی کوششوں کی خبریں جو عوام تک پہنچیں تو عوام کی ہنسی چھوٹنے لگی۔ جسے دیکھو ہنسے جا رہا ہے۔ بادشاہ سلامت نے برہم ہو کر پہلے پہل ہنسنے پر بندش لگائی۔ پھر دبی دبی ہنسی اور مسکراہٹ پر کوڑے لگوانے لگا۔ پھر جب ایک پہنچے ہوئے درویش نے بتایا کہ جو لوگ گمبھیر نظر آتے ہیں، وہ بھی فقط اس کے سامنے گمبھیرتا سے رہتے ہیں اور اس سے دور جاتے ہی خوفناک قہقہوں میں غرق ہو جاتے ہیں۔ تب بادشاہ سلامت آپے میں نہ رہا اور لوگوں کو کاٹنے لگا۔ پھر جب اس پہنچے ہوئے درویش نے یہ بتایا کہ اگر وہ مردوں کے بجائے صرف عورتوں کو کاٹتا تو اولاد وغیرہ کا کوئی چانس وانس ہو جاتا۔ تب بادشاہ سلامت شرما گیا اور کھاٹ اوندھی کر کے خود پلنگ پر سو گیا۔

ایسے حالات میں وہاں سے کسی درویش مرد کا گزرنا ضروری تھا۔ سو ایک دن درویش فقیر ملک ایران کا، جو اصل رہائشی ملک بغداد کا ہونے کی وجہ سے ملک ایران میں خود کو خوامخواہ نیا ایرانی بتلا کر اپنے آپ کو باور کرواتا تھا، وہاں سے گزرا۔ اسے بادشاہ سلامت پر یکدم ترس آیا۔ یہ درویش فقیر پہلا شخص تھا جسے بادشاہ سلامت پر ہنسی کے بجائے دیا آئی تھی۔ تو درویش فقیر نے بادشاہ سلامت سے پوچھا آخر تجھ پر شامت کیا ہے جو تجھے اولاد نہیں ہوتی؟ بادشاہ سلامت کی مرضی ہوئی کہ اسے لپڑ دے مارے پر لیٹے ہونے کی وجہ سے لپڑ مارنے کے لئے اٹھنا پڑ رہا تھا۔ بادشاہ سلامت غصہ پی گیا اور اسے کہا، نہیں ہو رہی تو میں کیا کروں۔ درویش فقیر جو مست اور پہنچا بھی ہوا تھا، غصے سے تپ کر لال ہو گیا اور “بھاڑ میں جا” کہہ کر پلک جھپک میں امرا، وزرا، کلرکس اور ایس ڈی ایم (سب ڈویژنل مجسٹریٹ) کے دیکھتے غائب ہو گیا۔ امرا، وزرا، کلرکس اور ایس ڈی ایم تو حیران ہو گئے اور ایس ڈی ایم تو کچھ پریشان بھی ہو گیا کہ تعلقہ میں امن امان قائم رکھنے کا خود جوابدار تھا۔ پر بادشاہ سلامت نے سکھ کا سانس لیا اور پہلو بدل کر آرام سے لیٹ گیا۔ لیکن جس بادشاہ سلامت کو اولاد نہ ہو اور اس کی الٹ سلٹ اور ٹیڑھی میڑھی کوششوں کے بعد بھی اولاد نہ ہو رہی ہو، اس کے نصیب میں سکھ کا سانس اور آرام سے لیٹنا کہاں؟

بادشاہ سلامت کچھ دیر ایسے لیٹا رہا اور پھر اُچک کر بیٹھ گیا۔ کیوں کہ اسے خیال آیا کہ درویش فقیر نے جو “بھاڑ میں جا” کہا تو اس کا مطلب کیا تھا؟ بادشاہ سلامت نے ایک دم چاروں طرف سپاہی روانہ کیے کہ فقیر جہاں بھی ہو، لے آؤ۔ پر درویش فقیر تو فقیر تھا۔ اللہ کا پیارا تھا اور شاید کوئی فرشتہ تھا جو درویش فقیر کے روپ میں آسمان سے آیا تھا اور آسمان میں غائب ہو گیا۔ اب وہ کس کے ہاتھ آئے اور کہاں سے ہاتھ آئے؟ پر بادشاہ سلامت کے سپاہی بھی سندھ پولیس کے سپاہی تھے اور ان کا کچھ واسطہ پاکستان پولیس، ایف آئی اے، سی آئی ڈی، ڈی آئی بی اور ڈی ڈی ٹی کھاتے سے بھی رہا تھا، سو معلوم نہیں کیسے اور کہاں سے اس درویش فقیر کو پکڑ کر بادشاہ سلامت کے آگے پیش کیا۔ درویش فقیر بالکل حواس باختہ اور مونجھ میں مبتلا تھا۔ حوصلے خطا اور ہوش و حواس ایسے گم تھے کہ بادشاہ سلامت کو بھی پہچان نہیں پا رہا تھا۔ فقط سپاہیوں کو پہچان رہا تھا اور ان کی چمچہ گیری میں لگا رہا۔ بادشاہ سلامت سر پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا کہ یہ درویش فقیر اب کس کام کا؟ سچ ہے کہ خدا نہ کرے جو درویش فقیر کا واسطہ سندھ پولیس سے پڑے۔ عبرت کا مقام ہے۔ وہی بادشاہ سلامت والا فقیر آج کل سندھ پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل ہے۔

پھر ایک فقیر آیا جس نے بادشاہ سلامت کو پلنگ سے اٹھا کر اوندھی کھاٹ پر سلایا۔ فقیر کے جانے کے بعد بادشاہ سلامت نے گردن موڑ کر دیکھا کہ فقیر بھی گیا یا نہیں۔ جب اطمینان ہوا کہ فقیر چلا گیا تو کھاٹ سیدھی کر کے خود اس پر الٹا لیٹ گیا۔

پھر ایک فقیر آیا جس نے بادشاہ سلامت کو ایک آم دے کر کہا کہ آدھا تو کھا اور آدھا رانی کو کھلا۔ فقیر کے چلے جانے کے بعد بادشاہ سلامت نے اس کے جانے کا اطمینان کیا اور پورا آم خود کھا گیا۔

پھر ایک فقیر آیا جس نے بادشاہ سلامت کو آیک اور آم دے کر کہا کہ آدھا تو کھا اور آدھا رانی کو کھلا۔ کچھ دیر بعد بادشاہ سلامت نے دیکھا کہ آم کو چوہا کتر گیا ہے۔ بادشاہ سلامت سمجھ گیا کہ یہ آم کھانے سے چوہا شہزادہ جنم لے گا۔ اس نے درزی منگوا کر چوہے کی ناپ پر ہزاروں لچھے اور چڈھیاں سلوا کر تیار کروائیں کہ چوہے شہزادے کو وقت پر کام آئیں مگر افسوس صد افسوس۔ بادشاہ سلامت کو اولاد نہ ہوئی۔

قدرت کے راز چند مجذوب فقیروں کے پاس پوشیدہ ہیں سو ایک دن ایک مجذوب فقیر آیا جس نے بادشاہ سلامت کو کھاٹ سے اٹھا کر پلنگ پر سلایا اور پھر کھاٹ الٹی کر کے بادشاہ سلامت کو پلنگ سے اٹھا کر پھر کھاٹ پر سلا دیا۔ پھر اِدھر اُدھر نظریں گھما کر اطمینان کیا کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا اور پلنگ اٹھا کر کھسک گیا۔ سچ ہے قدرت کے راز جتنے بے شمار ہیں اتنے ہی انوکھے بھی ہیں۔

آخر بادشاہ سلامت بے اولاد ہی مرگیا اور نصیب کا لکھا ایسے پورا ہوا۔ بہت بعد یہ خبر پڑی کہ بادشاہ سلامت کیوں بے اولاد جیا اور کیوں بے اولاد ہی مر گیا۔ دراصل بادشاہ سلامت اولاد کے اندھے شوق میں شادی کرنا ہی بھول گیا تھا۔ جس وقت بادشاہ سلامت کا جنازہ اٹھ رہا تھا اس وقت جنگل میں وہ مجذوب فقیر بادشاہ سلامت والے پلنگ پر لیٹے گنگنا رہا تھا،

ہر ایک مسافر ہے، یہاں مکان نہیں کسی کا۔

………..

ایک تھا بادشاہ

کسی زمانے میں کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کے ہاں بے شمار بیٹیاں تھیں۔ بادشاہ کی حسرت تھی کہ قصے کہانیوں کے مطابق اسے بھی دوسرے بادشاہوں کی طرح سات بیٹے یا فقط تین بیٹے یا فقط ایک بیٹی ہوتی لیکن معاملہ کچھ اس کے بس سے باہر تھا۔ کیوں کہ وہ رانی کی طرف دیکھتا تھا تو رانی حمل سے ہو جاتی تھی۔ ایک بار رانی کی طرف دیکھ کر فقط مسکرایا تو رانی کو جڑواں پیدا ہوئے تھے۔ تو اسے ہر وقت خدشہ رہتا تھا کہ رانی کی موجودگی میں اگر اس سے کوئی قہقہہ نکل گیا تو رانی سات بچے اکٹھے جن کر اسے اپنی رعایا میں اور پڑوسی ممالک میں بھی خوار و خراب اور ذلیل کرے گی۔ محل کے جاسوسوں نے تحریری طور پر پہلے ہی رپورٹ دی تھی کہ رانی کا پروگرام کچھ اسی طرح کا ہے۔ اس لئے بادشاہ سخت پریشان اور پشیمان رہتا تھا اور گھر میں داخل ہوتا تو گھٹنوں کے بل چلنا شروع کر دیتا تھا۔

ویسے ایک دوسری بات بھی تھی جس کی وجہ سے معاملہ ہوا تھا۔ وہ دوسری بات یہ تھی کہ ہر حمل کے وقت دائی رانی کا پاؤں اور جوتشی بادشاہ کا پاؤں دیکھ کر کہتے آئے کہ اب بیٹا ہوگا، اب یقیناً بیٹا ہوگا، اب ہر صورت بیٹا ہوگا۔ پر ہوا یوں کہ قاعدے سے باقاعدہ نمبر کے مطابق بیٹی پیدا ہوتی رہی جس کے نتیجے میں سارے گھر میں بیٹیاں ہی بیٹیاں ہو گئیں اور بادشاہ اپنی کھاٹ اٹھا کر مہمان خانے میں جا ڈیرا ڈال بیٹھ گیا، پرا رانی نے اس کا وہاں جا بیٹھنا بھی گوارا نہ کیا۔ (یہاں کچھ میں اضافہ کر گیا ہوں۔ بادشاہ بستر وستر کھاٹ واٹ نہیں بلکہ فقط ایک کمبل اٹھا کر مہمان خانے میں صوفے پر جا سویا تھا جہاں سے رانی نے ڈانٹ ڈپٹ کر اٹھایا کہ صوفے پر سویا نہیں جاتا۔)

ایک دن بادشاہ کے پاس کچھ مہمان آئے۔ بادشاہ مہمانوں کو مہمان خانے میں بٹھا کے، خود اندر جا کے، دونوں ہونٹوں پر خاموشی کی انگلی رکھ کر رانی سے بولا،
“آہستہ بولنا اور راہ خدا غصہ مت کرنا۔ میرے دوست ہیں، میرے پاس پہلی بار آئے ہیں۔بہت اچھے دوست ہیں اور بڑی عزت والے ہیں۔ دوسری بار نہ آئیں گے، کچھ گڑبڑی ہوئی تو کبھی نہیں آئیں گے۔ فقط چار کپ چائے بنا کر بھیج، پھر یہ کام دوبارہ نہ بولوں گا۔ آج بھی میں گھر پر نہ ہوتا تو یہ چلے جاتے پر اب تو آگئے ہیں۔ خدا کا واسطہ شور مت کرنا۔ میں ہی بدبخت تھا جو دروازہ خود جا کر کھولا۔ بڑا منحوس ہوں جو اس وقت گھر پر تھا۔ میں نے سب دوستوں سے کہہ دیا ہے کہ میرے گھر نہ آیا کریں پر یہ باہر سے آئے ہیں۔ پھر نہ آئیں گے، میں انہیں بھی بول دوں گا۔ آج عزت رکھ لے اور چائے کے چار کپ بنا کر بھیج۔” بادشاہ یہ کہتے کہتے رونے لگا اور رانی اسے حقارت سے دیکھتی باروچی خانے چلی گئی جہاں سے پھر برتن ٹوٹنے، توڑنے، پھینکنے اور پٹخنے کی دھوم دھڑام اور ٹھو ٹھاہ مہمان خانے میں مہمانوں تک بھی پہنچنے لگی۔

پھر ایک دن رانی نے بادشاہ کو کہا، “یہ اپنی کتابیں اٹھا کر کسی دوسری جگہ رکھ۔” تو بادشاہ نے اپنی کتابیں اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیں۔ پر کچھ دن بعد رانی نے بادشاہ کو پھر کہا، “یہ اپنی کتابیں اٹھا کر کہیں اور رکھ۔” بادشاہ نے کتابیں پھر اٹھائی اور کہیں اور جا رکھیں۔ اس طرح رانی کے کہنے پر ایک جگہ سے دوسری، دوسری جگہ سے تیسری، تیسری سے چوتھی جگہ رکھتا رہا۔ ایک دن بادشاہ نے دیکھا کہ کتابیں غائب ہیں۔ اس نے چیخ کر کہا، “میری کتابیں کہاں ہیں؟” رانی بولی، “وہ میں نے اٹھوا کر چھت پر رکھوا دی ہیں۔” اس کے بعد بادشاہ اور رانی کے درمیان جو زبان استعمال ہوئی، وہ قصے کہانیوں میں لکھی نہیں جاتی۔

اور پھر ایک دن بادشاہ نہانے کے لئے غسل خانے گیا اور کپڑے اتار، دو چار لوٹے پانی کے سر پر بہا کر صابن جو ڈھونڈے تو صابن تھا ہی نہیں۔ آگ بگولا ہو کر، غسل خانے کا دروازہ ذرا سا کھول کر غصے میں چیخا، “ارے یہ صابن کہاں گیا؟” رانی نے وہیں سے چیخ کر جواب دیا، “بالٹی کے پیچھے ہوگا۔” بادشاہ نے بالٹی کے پیچھے دیکھا تو وہاں بھی صابن نہ تھا۔ وہ چیخ کو بولا، “بالٹی کے پیچھے نہیں ہے۔ میرا صابن اٹھاتے کیوں ہو؟” رانی وہیں سے چیخی، ”کوئی ہاتھ بھی نہیں لگاتا تیرے صابن کو۔وہیں ہوگا کسی کونے میں۔ اوپر تختے پر ہوگا۔” بادشاہ نے اوپر تختے پر دیکھا، وہاں بھی نہیں تھا۔ بہت ڈھونڈھا پر گھر میں صابن ملا ہی نہیں۔ رانی نے بچے کے ہاتھ ہٹی سے صابن منگوایا۔ تب تک بادشاہ غسل خانے میں بُڑبُڑاتا رہا، “کتنی بار بولا ہے میرے صابن کو ہاتھ نہ لگاؤ اور اگر لگاتے ہو تو اسی جگہ رکھو۔” ہٹی سے صابن کے آنے تک بادشاہ تاؤ میں دو چار لوٹے پانی کے جسم پر بہا کر، ایسے ہی کپڑے پہن کر باہر نکلنے کے لئے دروازے کی طرف گھوما تو دیکھتا ہے کہ جس صابن کی ڈھنڈیا مچی تھی، اس کے پاؤں میں پڑا تھا۔ غسل خانے کا دروازہ بند ہونے کے باوجود چاروں طرف دیکھا کہ کسی نے دیکھا تو نہیں؟ سخت پریشان ہوا کہ بچوں کو اگر معلوم ہوا کہ جس صابن کے لئے اس نے شور مچا رکھا تھا، وہ اس کے پاؤں میں پڑا تھا تو بچے ٹھٹھا اڑائیں گے اور اس پر طنز کریں گے۔ اور رانی کو خبر پڑے گی کہ جس صابن کے لئے وہ گالی گلوچ پر اتر آیا تھا، وہ اس کے پاؤں تلے تھا تو رانی اسے نزدیک بٹھا کر لعنت منہ پر رکھے گی۔ اس نے یہ کیا کہ صابن اٹھا کر اپنی قمیض کی جیب میں ڈال لیا اور غسل خانہ سے نکل آیا۔ سگریٹ لینے کے بہانے گھر سے نکل کر، گلی میں دور جا کر کھوکھے سے سگریٹ لے کر، ایک سگریٹ سلگا کر، سیٹی بجاتا گھر کی طرف لوٹا جہاں رانی ویسے ہی لعنت تیار رکھے بیٹھی تھی۔

پھر ایک دن بادشاہ نے رانی سے کہا، “میں گھر چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔ ” رانی نے کہا، “یہ سن سن کر میرے کان پک گئے ہیں۔ آخر کب جاؤگے؟”

تو کسی زمانے میں ایک ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جو ایک دن ملک چھوڑ کر جنگل چلا گیا۔ کسی نے بولا دانا تھا، کسی نے کہا درویش تھا، کسی نے بولا اوتار تھا پر رانی نے فقط ایک لعنت اس طرف رکھ کر دی جس طرف بادشاہ گیا تھا۔

Categories
فکشن

ایک نا مختتم یکایک کے آغاز کا معمہ (جیم عباسی)

موتی نے سرخ پھولدار اور ریشمی کپڑے سے بنی،روئی سے بھری،پتلی اورچوکورگدیلی دیوار پر جھاڑ کر پہیےدار کرسی کے تختے پر پٹخی مگرگدیلی پر پڑےمیل کچیل کے کالے چکٹ جھاڑنے سے لا پرواہ، کپڑے سےناسور کی طرح چمٹے رہے۔موتی نے آگے کھسکتے ہوئے کرسی گاڑی کو پچھلی ٹانگ سے پکڑ ا اور گاڑی کو دھکیل کر دو قدمچے نیچے سڑک تک پہنچانے کی کوشش کی۔گاڑی عدم توازن کا شکار ہو تی،قدمچوں سےدھڑدھڑاتی سڑک پر آگے کھسکتی گئی۔قدمچوں اور کرسی گاڑی کا درمیانی فاصلہ جانچ کر موتی نے دروازے کے بیچ لگی کنڈی کو بند کر کے تالا لگایا۔خودکودونوں ہاتھوں کے بل گھسیٹ کر بازو کرسی کے ہتھوں پر جمائے اور جسم کواونچا اٹھاتے پہیے دار کرسی پر پڑی میل کچیل کے چکٹوں والی گدیلی پر رکھ دیا۔روز کا معمول ہونے کے باوجود اس مشقت نےموتی کوتھکا دیا۔ اب وہ وقت تھا کہ کپڑے بدلتے ہوئے بھی تھکن ہوجاتی اور نڈھال کر دیتی۔ سانس کے ٹھیرجانے کے بعد اس نے دھڑ کے نچلے حصہ کو ادھر ادھر کرکے گدیلی کا نرم حصہ جانچا اور جسم کو آرامدہ جگہ محسوس کرنے کے بعد پہیے دار کرسی کو دھکیلنے والی چرخی کے ہینڈل کوسیدھے ہاتھ سے گھماتا سینما والی گلی سے چمن بزار کی طرف بڑھنےلگا۔ابھی بہت سویرپن تھی۔نیم اندھیرا۔مگر پھر بھی جانے کیوں ملا کی آذان سے پہلے موتی کی نیند ٹوٹ جاتی تھی۔پہلے پہل تو وہ دیر تک پڑا اینڈتا تھا۔آذان کی آوازتک اس کے کان میں مچھر کی طرح بھنبھنا پاتی تھی۔اب یوں کہ آخری پہر کےآتےسحر خیز مرغے کی مانند اٹھ بیٹھ جاتا۔ چمن بزار کے قریب ہوتے سوچ آنے لگی وہ اس سویر جائے گا کدھر؟ہوٹل پر۔پر چائے والے نے ہوٹل کھولا ہوگا کہ نہیں؟ابھی تو سورج بھی خوفزدہ چوہے کی طرح دبکا پڑا ہے۔لیکن بھلا وہ پڑے پڑے کتنی کروٹیں بدلے؟ نذو لنگڑے کے چلے جانے کےبعد اس سےاکیلے گھر بیٹھا نہ جاتا تھا۔ ہینڈل گھماتاموتی کا ہاتھ بلا ارادہ آہستہ ہوتا گیا۔ گاڑی کی رفتار سست ہوتی گئی۔گاڑی کا ایک پہیہ لہرائے جا رہا تھا۔اسی لہرانے سے موتی کو نذو لنگڑے کی یاد آنےلگی۔نذو لنگڑے کی دونوں ٹانگیں کمزور تھیں۔جیسے ان میں ہڈیاں ہی نہ ہوں۔ خالی گوشت سے بنی۔ان لچکتی ٹانگوں کے بل چلتے نذو لنگڑے کا جسم عجیب فحش انداز میں مٹکتا تھا۔موتی کو ایک بات یاد آگئی۔ایک دن موج میں موتی نے نذولنگڑے سے پوچھ لیا تھا

“ابے لنگڑےیہ تو جھٹکے لے لے کر سارا دن کس کو چو۔۔۔رہتا ہے؟”۔
“اپنی قسمت کو اور کس کو ب۔۔۔۔” نذو لنگڑے نے سانپ کی طرح بل کھا کر گالی دی تھی۔

” شکر نہیں کرتا کنجر چ۔۔تو رہا ہے” جواب دیتے موتی کے حلق سے بے اختیار قہقہہ ابل پڑا تھا۔ تب نذو لنگڑا لچکتا اس کے منہ پر لعنت رکھنے آیا تھا اور موتی نے کرسی گاڑی بھگا کر اپنی جان بچائی تھی۔اس یاد کے آتے ہنس پڑنے سے موتی کے کھلے منہ کے اوپری ہونٹ کے دونوں کناروں اور گالوں کے درمیاں لکیرمزید گہری ہوگئی۔نذو لنگڑے سے موتی کی لگتی بھی بڑی تھی اور رہتے تو وہ کٹھے تھے۔اسی ایک کمرے میں جس سے آج کل موتی اپنے نکالے جانے کی فکرمیں پستا رہتا۔ان دنوں موتی کو یوں گھسٹ گھسٹ کر کرسی گاڑی قدمچوں سے کھسکانی نہیں پڑتی تھی۔نذو لنگڑا گاڑی کو گھر سے سڑک،سڑک سے گھر میں رکھتا۔ موتی کو اس پر جم جانے میں مدد کرتا۔پتا نہیں حرام زادہ بنا بتائے کہاں چلا گیا؟اب موتی ڈھونڈے تو کہاں؟چند ایک دن تو اس نے واپسی کی آس سجائے رکھی۔ جب وہ ٹوٹی تب موتی نےکرسی گاڑی کے پیچھے شہزاد پنٹر سے لکھوادیا “کوئی کسی کا نہیں”۔

چمن بزارپہنچ کر موتی نے دکھن کا رخ کیا۔بزار کے اوپر میلی ترپالوں اور پرانےشامیانوں کے سائبان نے اندھیر اکر رکھا تھا۔اس اندھیر پن میں ساری بزارسرنگ بنی ہوئی تھی۔کہیں کہیں جلتے زرد بلبوں کی پیلاہٹ میں پلاسٹک کی تھیلیاں اور مڑے تڑے کاغذ ہوا کے زور پر اپنی جگہیں بدل رہے تھے۔بزار پہنچ کر سڑک اوبڑ کھابڑ ہوگئی۔دکاندار لوگ صفائی کرکے کچرا سڑک پر پھینک دیتےتھے۔پھر اس کا کچھ حصہ جمعداروں کے جھاڑو سمیٹتے اور کچھ سڑک سے لپٹا رہ جاتا۔ وہی گند،مٹی اور پانی کا سہارا لے کر چھوٹے موٹے انسان کی طرح اپنی جگہ بنالیتا۔تب جمعداراور جھاڑو بھی ان کا بال بیکا کرنے سے قاصر ہو جاتے۔ان اوبڑ کھابڑوں کے ساتھ گندکچرے کی دھیڑیاں بھی تھیں۔ ابھری ہوئی۔جیسے اونٹ کے کوہان ہوتے ہیں۔یا ان سے تھوڑا مختلف۔ ایک ڈھیر میں سے سڑتے ٹماٹروں کی بو موتی کے نتھنوں میں گھسی۔ہتھ گاڑی چلاتا موتی کا ہاتھ تیز ہو گیا۔رجب قصائی کے تھڑے کے پاس خون کی بساند تھی۔اسی جگہ آوارہ کتےمرغی کے پروں اور انتڑیوں میں تھوتھنیاں گھمارہے تھے۔موتی کا ہاتھ تھکنے لگا۔اس نےتھوڑا آگے گاڑی لدھا رام جنرل مرچنٹ کے دکان پر روک دی۔پر اب لدھا رام کہاں؟اب تویہ مجاہد جنرل اسٹور ہے۔یہ سب یکایک کیسے ہو گیا؟ اس خیال کے آتے موتی کی زبان پر لفظ”یکایک” پھنس گیا۔زبان تانگے میں جتے گھوڑے کی ٹاپوں کی طرح” یکا،یک” کو دو حصوں میں دھرانے لگی۔یادیں عبد الحق ساند کے گایوں کے ریوڑ کی طرح اچھلتی ٹاپتیں موتی کے اندر آگھسیں۔آگے پیچھے،بے ترتیب و بے مہار۔اسے لدھارام کےدکان کے آگے بنا چھپر یاد آنے لگا۔تب اس بزار کا راستہ سیدھااور یکساں تھا۔روز پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا تو سڑک پر درخت کھڑے جھومتے رہتے۔ دواطراف قائم دکانیں ایک دوسرے سے دوردور تھیں۔اب کی مانند قبر کے کناروں کی طرح پسلیاں نہیں توڑتی تھیں۔ بزار کےاوپر نیلا آسماں دمکتا تھا۔موتی کو چاچا محمد پناہ کے ہاتھ سے بنی گلقند والی چائے کی یاد آئی۔وہ کبھی کبھی چائے پینے لدھا رام والےچھپر کے نیچے آٹھیرتا۔یہ چھپر جیسےدکان کا صحن تھا۔ اس میں پڑی بینچ پر کوئی نا کوئی بیٹھنے والا دکان کےاندرموجود لدھا رام سے حال احوال کر رہا ہوتا۔سردیوں کی اس شام جب وہ یہاں پہنچا لدھارام ایک تغاری میں آگ جلوائے اپنے ہاتھ تاپ رہا تھا۔ ابھی موتی سے حال احوال ہو رہا تھا کہ آخوند صاحب آپہنچے۔یہاں پہنچ کر موتی کی یادیں گڑبڑا گئیں۔آخوند صاحب کا اصل نام اس نے یاد کرنا چاہامگر اس وقت اسے اپنا اصل نام بھی یاد نہیں آرہا تھا۔ہاں یہ یقین تھا جیسے سارے اسے موتی بلاتے تھے، شہر بھر انہیں آخوند صاحب کہتا تھا۔سن پینتالیس پچاس کے لگ بھگ۔دبلے پتلے۔لمباسا قد۔شانوں پر بکھری زلفیں اور بڑھائی ہوئی قلمیں۔داڑھی مونچھ صفا چٹ۔بوسکی کی قمیص اور سفیدلٹھے کی شلوار۔یہ تھے آخوند صاحب۔ان کا کپڑا لتا،کھانا پینا سب شہروالے کرتے تھے۔رہائش ڈاکٹر سبحان علی شاہ کے بنگلےمیں۔موتی کو یاد نہ آیا کہ آخوند صاحب کس کے بیٹے تھے۔ بس اسی بنگلے کی نچلی منزل میں آخوند صاحب کے ساتھ والے کمرے میں ڈاکٹر صاحب کی اسپتال تھی۔ڈاکٹر صاحب اوپر ی منزل پر رہتے تھے۔ موتی کو یاد آیا شاید ڈاکٹر سبحان شاہ کے بڑے یا چھوٹے بھائی ہوں۔لیکن اس خیال پر موتی کو یقین نہ تھا۔اور ہاں ڈاکٹر سبحان شاہ تھے تو ڈاکٹر مگر ان کی اسپتال میں ہمیشہ کمپوڈر بیٹھا ہوتا۔ ان کو اپنی اسپتال میں موتی نے کبھی بیٹھا نہ دیکھا۔ وہ اوپر اپنے گھر پر ہی ہوتے۔ جب کوئی مریض آیا،کمپاؤنڈرنے گھنٹی دبا ئی،ڈاکٹر صاحب اسی لمحے سیڑھیاں اتر آپہنچتے۔مریض دیکھ کر اس کی دوا درمل کرتے۔اور پھر جھٹ سے اوپر چڑھ جاتے۔مریض سے پیسےتک کمپاؤنڈر لیتا رہتا۔ انہیں اپنی بیوی سے عشق تھا۔اس کے بغیر رہ نہ پاتے۔ان کو شہر بھر “زال مرید” کہتا۔خود بولتے “کچھ سمجھ نہیں آتا قبر میں اس کے بغیر کیسے رہ پاؤں گا۔”اپنے بڑے بیٹے کو وصیت کی ہوئی تھی”خبردار جو ان ملا مولویوں کی بات پرمیری قبر کچی بنوائی۔یاد رکھناباہر نکل آؤں گا۔”

آخوند صاحب پر نظر پڑتے ہی سیٹھ لدھارام اٹھ کھڑا ہواتھا۔

“شائیں بھلی کرے آیا،بھلی کرے آیا”۔لدھا رام نے اپنی کرسی خالی کر کے آخوند صاحب کو بٹھایا اورخود سامنے پڑی لکڑی کی بینچ پر جا بیٹھا۔
“اباپٹ نور محمد۔ جا۔جا بابا ایک اور گلقند والی چائے بول آ۔چاچا پناہ کو بتانا خاص آخوند صاحب کے لئے ہے۔ایسا کر تو موتی اور میرے لئے بھی لے آ۔دل کرے تو اپنے لئے بھی بول دینا۔آج آخوند صاحب کے ساتھ ہم بھی عیش کرتے ہیں۔”لدھا رام نے دکان پر کام کرنے والے لڑکے کو روانہ کیا۔
“سائیں لدھارام آج ارادہ کیا تمہارے پاس آکر تمہیں عزت دیں اور دو باتیں بھی کرلیں گے “۔آخوند صاحب لدھا رام سے بولے۔

“شائیں آج توقرب کر دیا آپ نے۔ میرے بھاگ شائیں”۔موتی کی یادداشت کی تختی پر وہ منظر صاف ابھر آیا۔لدھارام کی باتیں سنتے آخوند صاحب ہلکی مسکان میں سر ہلاتے جا رہے تھے۔ لدھا رام جھک کر آخوند صاحب کے قریب ہوا۔

“شائیں دو دن پہلے ایک جوڑا خرید کر پریل درزی کو دے آیا تھا”۔
“ہاؤلدھا رام خمیسو دھوبی کپڑے لایا تھا تو اس نے بتایا تھابابا۔”
“شائیں وہی بوسکی۔میں نے کہا آپ کو اور کپڑا پسند نہیں،شائیں میں خود لینے گیا تھا۔”لدھا رام نے بات کی اخیر کرتے دونوں ہاتھ آخوند صاحب کے سامنے جوڑے۔

“اچھا کیا میاں لدھارام۔اور سنا پٹ۔تکلیف تو نہیں کوئی؟”۔آخوند صاحب بیچ جملے میں موتی سے مخاطب ہوئے۔
“نہ ابا نہ۔آپ کے ہوتےہمیں کوئی دکھ تکلیف پہنچی گی؟خیر ہی خیر”۔موتی کے دونوں ہاتھ جڑے تھے۔
“ہاں شائیں موتی بیچارے کی بات برابر ہے۔آپ کے ہوتے ہمیں کیا فکر”۔
“ادا لدھارام وہ شمشاد مٹھائی والے نے تمہاری ادھار چکادی بابا؟”۔

“آخوند شائیں ادا شمشاد کے وعدے کو مہینہ اوپر ہوگیا ہے۔پر شائیں مجھے حیا آتی ہے کہ اس سے پوچھنے جاؤں۔ہوگا بیچارہ کسی مشلے میں “۔
“میاں لدھا رام تم نے عزت داروں والی بات کی ہے۔شمشاد کل میرے پاس آیا تھا۔ اس سے دیر سویر ہوگئی ہے۔کہہ رہا تھا اب تو مجھے تو ادا لدھارام کے دکان کے سامنے گذرتے شرم آتی ہے۔ایک ہفتے میں چکادے گا بابا”۔

“نہ شائیں نہ۔ہماری اپنی بات ہے۔کیا میں کیا ادا شمشاد؟چھ بیسوں(بیس روپے) کی تو بات ہے۔اورشائیں کچھ دن پہلے وڈیرابھورل آیا تھا۔بتا رہا تھا کہ آپ اس کے بیٹے کی نوکری “۔لدھارام نے آدھی بات پر جملہ ختم کردیا۔موتی کو دکھ لگ گیا۔وڈیرا بھورل آیا اور مجھ سے ملے بغیر چلا گیا۔وڈیرے بھورل سے میل ملاپ کا چھوٹا بڑا منتظر رہتا تھا۔جب وہ اپنے گاؤں سے شہر آتا تو گھوڑا مختیار کار آفیس میں باندھ کر پہلے ساری بزارکا چکر لگاتا۔ اور ہر ایک سے مل ملا کر، خیر خیریت دریافت کرکے پھر اپنے کام دھندھے کی فکر کرتا۔اس کے حالی احوالی ہونے کا انداز اتنا نرم اور میٹھا تھا کہ موتی کو کبھی شمشاد مٹھائی والے کی جلیبیاں اتنی میٹھی نہیں لگیں۔ویسے وڈیرے بھورل کا سارا گاؤں اپنی مثال آپ تھا۔سب کے سب اشراف اور مہربان ہونے میں ایک دوجے سے بڑھ کر تھے۔ مگر وڈیرے بھورل سا بیٹا کوئی ماں کیسے جنے؟وڈیرےبھورل کی شرافت اور مٹھاس پن کا واقعہ موتی کی گدلی آنکھوں میں پانی لانے لگا۔ایک مرتبہ وڈیرے کے گھر ایک چور نے نقب لگالی۔مٹی کی موٹی دیوارکو رنبے سے کھودتے کھودتے چور کوفجر ہو گئی۔ تب وڈیرابھورل جو یہ سارا ماجرا دیکھ رہاتھا،چور کو رسان سے بولا” ابا اب تم جاؤ۔اب تو سورج بھی نکلنے والا ہوگا۔”بس چور روتادھاڑیں مارتا بھاگ نکلا۔اسی شام کو وہ سارے خاندان سمیت معافی کے لئے آپہنچا۔وڈیرا بھورل بھلا کیسے معاف نہ کرتا۔اوپر سے کھانا وانا کھلا کر ان کے غریبی حال پر اپنی بھوری بھینس بھی ان کے ساتھ کردی تھی۔

“سائیں وڈیرا بھورل تو ہم سے ملا ہی نہیں”۔موتی اپنے الفاظ کونکلنے سے روک نہ سکا۔
“ابا موتی وڈیرے کے مہمان آئے ہوئے تھے۔وہ مہمانداری کا سامان لینے آیا تھا۔بھلا یہ ہوسکتا ہے کہ وڈیرا آئے اور کسی سے نہ ملے؟تو بھی صفا چریا ہے”۔
“ہاؤ سائیں بات تو حق کی ہے”۔موتی ہلکا پھلکا ہوگیا۔پھر اسے خود پر غصہ آنے لگا یہ وڈیرے بھورل کے بارے میں اس نے ایسے منہ پھاڑ کر کیسے بول دیا؟۔
“میاں لدھا رام اپنے بھورل کا بیٹا شہر پڑہ آیا ہے۔اب ہم نے سوچا اپنا بچہ ہے۔اپنے اسکول میں اچھی پڑھائی کروائے گا۔ ہے کہ نہیں؟”
“شائیں بلکل بلکل۔اس کی نوکری کب کروا رہے ہیں ؟”۔

لدھارام اس کی نوکری ہوگئی ہے بابا۔تمہیں سب پتا ہے ڈی سی صاحب سے ہمارے کتنے واسطے ہیں۔پر صرف ڈی سی کیا۔اوپر تک ہماری پہنچ ہے۔اب ڈی سی صاحب ہمیں کوئی جواب دیتا؟پر نہ۔ڈی سی صاحب اپنے ماسٹر منظور کا پرانہ واسطے دار ہے۔ہم نے سوچا خود ڈی سی کے پاس چلے جائیں تو ماسٹر منظور سوچے گا ہم نے اسے پھلانگ کر راہ بنالی۔سو اس کو لے کر گئے تھے اور ماسٹری لے کر آگئے”۔

“وہوا شائیں وہوا۔شائیں آفرین ہو۔ بڑا خیال رکھتے ہیں آپ اپنے شہر کا۔”۔
“لدھا رام بابا اپنا شہر ہے۔ہمیں ہی کرنا ہے”۔
شائیں برابر۔غریب شاہوکار سب آپ کو دعائیں کرتے ہیں”۔
“کرنی بھی چاہییں بابا۔یہ کام وام ایسے ہی آساں تھوڑی ہیں”۔
“صدقے صدقے۔سائیں میرا مالک مکان بھی بڑا نیک مرد ہے۔سائیں اس پر بھی شفقت کی نظر”۔موتی کے الفاظ دل سے نکل پڑے۔
“بابا موتی ہم نے بھلا کبھی کوتاہی کی ہے”۔
“نہ بابا نہ۔توبہ توبہ۔ایسےنہیں سائیں۔وہ ہمارا بڑا لیحاظ رکھتا ہے”۔
“بابا لدھا رام اپنے موتی کو ہماری طرف سے آٹھ آنے دیدو”۔
“بابا ویسے بھی آپ کا کھاتے ہیں۔ “۔موتی آٹھ آنے لیتے ہوئے بولا۔اتنے میں گلقند والی چائے بھی آگئی اور ساتھ ہوٹل کا مالک چاچا محمد پناہ بھی۔
“سائیں لڑکا چائے لینے آیا تو بتایا کہ آخوند صاحب بیٹھے ہیں۔میں نے کہا میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔”
“نہ محمد پناہ بابا نہ۔آؤ بیٹھو۔کوئی خیر خبر؟”
“سائیں آخوند صاحب حال احوال سب خیر۔وہ میونسپل والوں کو آپ نے کہہ دیا تو پھر وہ نہیں آئے۔اور سائیں حق انصاف کی بات تھی ان لوگوں کی۔ گلی میں بھینسیں باندھنے والا اپنا کام مجھے بھی ٹھیک نہیں لگا۔بس گھر کے ساتھ باڑا بنوا رہا ہوں۔بھینسوں کو وہاں رکھوں گا”۔
“کام تم نے اچھا سوچا ہے محمد پناہ پر میونسپل والوں کی بھی زورا زوری ہے۔ایسے تھوڑی ہوتا ہے کہ عزت دار کے داروازے پر جا پہنچے۔اگر ایسی بات ہے تو ہمیں کہیں۔ہم کس لئے ہیں؟۔ہم محمد پناہ کو سمجھا دیں گے۔اپنا آدمی ہے بھلا ہم سے باہر جائے گا؟کیوں میاں لدھا رام؟”۔
“ہاں شائیں ہوتا تو ایسے ہے۔ ہمارے شہر کی ریت رواج بھی یہ ہے کہ کوئی مسئلہ معاملہ ہو،خانگی سرکاری۔سب آپ کے پاس آتا ہے”۔
“بس بابا وہ بھی انسان ذات ہیں۔کبھی ایسے کبھی ویسے۔خیرمحمد پناہ تم دل میں نہ کرنا بابا”۔

“نہ سائیں نہ۔محمد پناہ دل میں برائی نہیں رکھتا آخوند صاحب”۔موتی کا تصور اسے کڑھے ہوئے دودھ کی گاڑھی چائے میں گلقند کے تیرتے ذرات کی جانب لے گیا۔اس کے منہ میں مٹھاس آگئی۔تا وقتیکہ اس نےٹھنڈی آہ بھر کر کرسی کی پشت سے لگے سر کو اٹھایا۔آنکھیں کھول کر ادھر ادھر جانچا۔یہاں وہاں کچھ نہ تھا۔لدھا رام اپنا دکان گھر سمیٹ کر کب کا کہیں چلا گیا تھا۔ موتی کے پاس نذو لنگڑے کی طرح لدھا رام کی بھی کوئی خیر خبر نہ تھی۔ بس وہ دونوں اسے یاد بہت آتے تھے۔ موتی نے کرسی گاڑی کے ہینڈل پر دباؤ ڈالا۔ گاڑی لہراتے چلنے لگی۔یہ لہراہٹ بھی کچھ دن پہلے کی تھی۔مالک مکان مولا بخش مرحوم کا بیٹا فضل تیسری بار کرایہ لینے آیا تب بھی موتی کے پاس کرایہ کی رقم پوری نہ تھی۔اب لوگ کہاں ہاتھ ڈھیلا کرتے ہیں۔پورا دن مانگ مانگ،جھولی پھیلاتے پھیلا تےموتی نیم جان ہوجاتا تب بھی شام تک اتنا مل نہ پاتا کہ اگلا سورج سکھ سے ابھرے۔وہ دن گم ہوگئے جب شہر کےلوگ بزار سے گذرتے موتی کو روک کردو آنے چار آنے دے جاتے تھے۔کبھی موتی کو جلدی ہوتی تودکان والے سے اگلے دن کا کہہ کرگاڑی آگے بڑھا جاتا۔بس دن راتوں میں بدل گئے۔اب تو فضل نے کرایہ نہ ملنے پر موتی کی کرسی گاڑی اٹھا کر سڑک پر پھینک ماری۔پھر موتی نے اپنے کفن دفن کے لئے رکھی رقم سے پیسے نکالنا ضروری سمجھا۔کرایہ تو پورا ہوگیا مگر گاڑی میں لہراہٹ آگئی۔بزار کے اوپر ٹنگے ترپالوں اور شامیانوں کے پھٹے سوراخوں سے روشنی کے لہریے بزار میں اترنے لگے۔جمعدار اور جمعدارنیاں لمبے لمبے جھاڑو سنبھالے سڑک بہارنے شروع ہوگئےتھے۔جھاڑؤں کی زرد تیلیاں جمعداروں کے چہروں کی طرح سسست سست بے جان انداز میں ادھرادھر رینگ رہی تھیں۔سمیٹی جانے والی گندگی کے درمیاں گذرتے موتی نے گرد و غبار کے ذرات کے دھندلکے میں بخشل کلاتھ اسٹور کا بورڈ دیکھا۔ٹین کی چادر کے بورڈ پر سرخ الفاظ میں بڑے بڑے الفاظ۔ اس دکان سے ایک ہفتہ پہلے موتی کو دھکے اور گالیاں پڑی تھیں۔ صبح کا وقت تھا اور ہمیشہ کی طرح اس نے دکان کے سامنے آواز لگائی تھی۔ “سائیں کا خیر،بادشاہ کا خیر۔ بابا اللہ کے نام پر موتی مجبور کو روپیہ دو۔”بس دکان کا مالک عبد الجبار دکان کی سیڑھیاں اترتا گالیاں دیتا آیا۔”ابھی کوئی گراہک نہیں آیا اور یہ حرامی آمرا۔نکل یہاں سے بے غیرت۔ ہم نے تمہارا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔”۔ اپنےقصور کی وجہ موتی کی سمجھ میں نہ آئی اور عبدالجبار کی غصہ میں بند ہوتی آنکھوں اور منہ پر پڑتی جھریوں کی وجہ بھی وہ سمجھ نہ پایا۔یہ عبد الجبار چاچا حسن کا بیٹا تھا۔ جب چاچا حسن اس دکان پر ہوتا تھا تب یہ چھوٹی سی دکان تھی۔موجودہ دکان کا ایک تہائی۔سفید داڑھی والا چاچاحسن اس پر بیٹھا ہنستا رہتا۔بچوں کو وہ ہمیشہ “او تمہاری نانی مر جائے کیا چاہیے تمہیں ” کہا کرتا تھا۔ اس کی دکان پر ناس نسوار سے بیڑی اور تمباکو تک،پراندوں سےلے کر ٹوپی میں کاڑہے جانے والے شیشوں اور موتیوں تک،آٹے دال سے تیل صابن تک ہر چیز مل جاتی تھی۔ شہر کا قریب ہر فرد ماما حسن کا کاہگ تھا۔اورصرف کاہگ نہیں بلکہ قرضی بھی۔ کیا مرد کیا عورت۔ عورتیں بزار نہ آسکنے کی صورت میں بچے کے ہاتھ مکھیاری “دیکھنے اور پسند کرنے کے لئے ” چیزیں منگوالیتی تھیں۔ جو پسند نہ آئی۔ واپس پہنچ جاتی۔ پیسے کا ہونا نہ ہونا کوئی معنی نہ رکھتا تھا۔ بس ضرورت ہونی کافی تھی۔ بھلا کوئی آج تک پیسے ساتھ لے گیا؟۔ اگلے چاند یا اگلے فصل پر چاچا حسن کو پیسے پہنچ جاتے۔ موتی اور نذو لنگڑے تو روز کسی نہ کسی وقت اس کے ہاں پہنچ جاتے۔ پھر ان کا مذاق ہوتا۔ بڑا پد مارنے کا مقابلہ ہوتا جس میں چاچا حسن ان سے ہمیشہ جیت جاتا۔ موتی اور نذو لنگڑا چاند کے چاند ایک ایک بیسا چاچا حسن کے پاس رکھوا دیتے پھر ان پیسوں سے کبھی صابن تیل،کبھی نسوار بیڑی،کبھی موم بتی تو کبھی چاول یا چینی لیتے رہتے۔موتی کو لگتا تھاچاچا حسن سے ایک دو روپے کی چیزیں زیادہ ہی لے لی ہیں مگر چاچا ان سے حساب کہاں کرتا؟۔کبھی تو یوں بھی ہوا کسی مجبوری میں چاچا حسن سے پیسے مانگنے جا پہنچے اور اس نے دو چار روپے نکال کر رکھ دیے “بھئی سب پیسے اما نت ہیں۔ چاہو تو سارے لے جاؤ۔”چاچاحسن کی یاد پر موتی کی آنکھوں سےدو آنسولڑھک کر خالی جھولی میں آٹپکے۔اسے پھر خیال ستانےلگا یہ سب کچھ یکایک بدل کیسے گیا؟ کاش “یکایک”اس شہر میں بدروح کی طرح نہ اترتا۔ اس کی سوچوں میں غمزدگی ہربند کو توڑنےلگی۔ انگنت دائرے طواف کی ابتداکرنے لگے۔اختتام ہنوز منتظر۔

موتی کی کہانی ابھی جاری ہے مگر نذو لنگڑے کی کہانی اختتام تک پہنچ چکی ہے۔یہ تب ہوا جب بہت پہلے ایک شام، جس وقت سورج اپنا وجود خاتمہ کی نذر کرنے لگا تھا،اس وقت نذو لنگڑا تانگہ اسٹینڈ کے پاس گذر رہا تھا۔اسی چال میں۔ مٹکتا،جھٹکے لیتا۔ اس نے چار دیواری سے عاری تھانے کی پیلی عمارت کے آگے منظر دیکھا تھا اور اس منظر نے اسے وہیں گاڑ دیا۔چھڑکاؤ کی ہوئی مٹی پر ٹاہلی کے نیچے،تھانے کے سامنے باہر سے آنے والانیا تھانیدار ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے کرسی پر بیٹھا تھا۔آخوند صاحب اس تھانیدار سے ملنے ملانےگئے تھے۔ معمول کی طرح یہی کہنے اور سمجھانے۔ شہر میں کوئی فساد،جھگڑا یا جرم ہو آپ کو کسی کاروائی کی ضرورت نہیں۔بس آخوند صاحب کو آگاہ کردیں۔آخوند صاحب خود سنبھال لیں گے۔اور وہ سنبھالتے رہے ہیں۔یہ سنتے ہی باہرسے آنے والاتھانیدار غضبناک ہو کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔اور وہ آخوند صاحب کی زلفوں کو پکڑےایک دو تھپڑیں جڑ نے کے بعدسیفٹی ریزر سے آخوند صاحب کی زلفیں مونڈ وا رہا تھا۔تب نذو لنگڑے نے اپنے آپ کو وہاں سے آزاد کیا اور موتی کوخبر کئے بغیر چل نکلا۔ہو سکتا ہے اس نامختمم “یکایک” کایہی آغازہو۔ہوسکتاہے نہ ہو۔بھلا نذو لنگڑے جیسے بے وفا شخص کا کیا اعتبار۔

Categories
فکشن

گونگا گلو (جیم عباسی)

گاؤں بنام ڈگھڑی انگریزوں کی کھدائی شدہ نہرکے کنارے کنارے اس جگہ بسایا گیا تھا جہاں نہر اور گاؤں کو ریل کی پٹڑی کا پہاڑ نما ٹریک روک لیتا تھا۔ اسی ریلوے لائن کے قدموں میں دونوں کا ایک جگہ خاتمہ ہوتا تھا۔ریلوےلائن جس کی بلندی پر مٹی اور کچی اینٹیں ڈھوتے اکثر گدھے اور خچر ہمت ہار کر بیٹھ جاتے تھے، کے اس پارایک ویرانگی کی ابتدا ہوتی تھی۔ اس ویرانے کی جانب مٹی ڈھونے کی ضرورت ہی کان سے کھینچ کر لے جاتی تھی ورنہ اس طرف کوئی پیشاب کرنے بھی نہ جاتاتھا۔ اور بھلا اس ویرانگی کی انتہا؟کہا جا سکتا ہے ڈگھڑی والے شاید جانتے ہوں۔کوئی اور زیادہ متفکر نہیں ہوتاتھا۔ یہ نہر انگریز دور کے متروک شدہ منصوبوں میں سے تھی۔ مشہور یہ تھا کہ انگریز عملدار چاولوں کی کاشت کے علاقے تک آب رسانی کے لئے نہر کھودتے جب یہاں پنہچے تو ریلوےلائن پر پل بنا کر نہر کونیچے سے گذارنے کے بجائے کام کو ادھورا چھوڑ گئے۔تب سے یہ ڈیڑہ دوسو فیٹ چوڑی اور پانچ آٹھ ہاتھ گہرائی والی نہر ایسے گندے پانی کے ساتھ بھری رہتی تھی جس کے کنارے سبزی مائل رنگت اختیار کر چکےتھے۔ نہر کی لمبائی دیکھیں تو یہ میل ہا میل پیچ و خم لیتی دور دور تک چلتی جاتی۔ حتیٰ کہ اس کے دھول اڑاتے پشتے پر کوئی چلنا شروع کرے تو دو دن تک اس کےدوسرے چھوڑ تک پہنچ نہ پائے۔یہ نہر متروکہ پشتوں کے ساتھ موجود آباد اور کلر چڑھی زمینوں کا مستعمل و زائد پانی اور اپنے آس پاس گوٹھوں اور چھوٹے شہروں کے گٹروں کا مواد اور گندگی اپنے اندر سمیٹتی جاتی تھی جو کیچڑ بھری کالی نالیاں اس میں انڈیلتی رہتی تھیں۔اس کی ہیئت اس طرح سمجھی جا سکتی ہےاگر آسمان پر اڑتا پرندہ نگاہ اٹھا کر دیکھے تو اسے وہ ایسی کالی جونک نظر آئےجو قصبوں کا زہر پی پی کر فربہ ہو چکی ہو۔

ڈگھڑی اس کے کنارے آباد آخری گاؤں تھا جو دوسرے گوٹھوں سے الگ سا معلوم ہوتا تھا۔یہ گاؤں نہر کےجنوبی کنارے پر ٹکا ہوا مستطیل صورت میں دکھتاتھا۔گاؤں بھر کی چوڑائی متروک نہر جتنی کہی جائے گی۔شمال و جنوبا بنے گھروں کے درمیان گلی نما راستہ تھا اور پورے گاؤں کی لمبائی پاو میل جتنی۔متروکہ نہر کےجنوبی پشتے پر موجود یہ گاؤں ایک ایسے مدقوق اور سوکھےآدمی جیسا لگتا تھا جو اپنے لمبےپن کی وجہ سے دور کھڑا بھی دکھائی دے۔ یہ لمبا پن اس کے نام کا بھی حصہ تھا۔ لمبائی کی وجہ سے ہی سندھی زبان میں ڈگھڑی،تھوڑی سی لمبائی والا کہا جاتا تھا۔ لیکن نام کے علاوہ ایک اور چیز قابل ذکر ہے کہ علاقے کا ہر مرد و زن ڈگھڑی کے بارے کچھ جانتا تھا۔اب یہ تجسس ہوتا ہے کہ کیا جانتا تھا ؟ مگر کوئی شخص اس کچھ کو جاننا چاہے تو شاید ہی کامیاب ہو۔ کیونکہ وہ کہے سنے سے متعلق ہی نہ تھا۔بس ہر ایک جانتا تھا اور کسی کے بتائے بغیر جان لیتا تھا۔ یوں سمجھئے کوئی ایسی بات جس کا تذکرہ ایسی دیوار کے پار ہو جہاں ہرکوئی جانے سے پرہیز کرتا ہو۔ ضرورت کے سوا تو وہ ڈگھڑی کا نام زبان تک لانے سے گریزاں رہتے اور یہ غیر اختیاری ہوتا۔کبھی کبھار کوئی راہرو ڈگھڑی کا راستہ پوچھتا تو ہاتھ سے اشارہ کر کے سمت بتا دی جاتی۔ اور یقین مانیں جب ایسا موقعہ پیدا ہوتا دیکھنے والے حیرت سے اسے ڈگھڑی جاتے دیکھتے رہتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے۔ویسے کوئی پرندہ بھی بمشکل ڈگھڑی کی طرف اڑتا نظر آتا۔اس لئے جاتے شخص کو دیکھتے سوچ ابھرتی ڈگھڑی کو جاتے تو مہمان بھی ابھی پیدا نہ ہوئے۔یہ کیوں جا رہا ہے ؟۔شاید اس کا نلکا یا کنواں پانی چھوڑ گیا ہوگا۔اور یہ بات رہ تو نہ گئی کہ ڈگھڑی کے رہنے والوں میں سے اکثر نلکے لگانے اور کنویں کھودنےکا کام کیا کرتے تھے؟بس یہی ہوا ہوگا کہ ناگاہ وقت نلکہ پانی چھوڑجائے تو بندہ بشر کوادھر جانے کی مجبوری پڑہی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ باقی وقت ریل کی پٹڑی کے ساتھ ڈگھڑی کو جاتا میل بھر لمبا تیلی سا پتلا راستہ خالی پڑا ہوتا۔ ہاں سویر صبح نلکے لگانے کے کاریگر اور ان کے ہم قصبہ مددگار گاؤں چھوڑ روزی کے پیچھے شہر جاتے اور شام ڈھلے واپس آتے نظر آتے۔اس تیلی سے پتلے راستے پر چلتے ڈگھڑی کے باسیوں کا انداز الگ لگتا تھا۔قطار میں خاموشی سےسر جھکائے چلتے جانا۔ جیسے چیونٹے آپس میں جڑےجارہے ہوں۔ ایک فرق صبح و شام میں تھا۔شام میں واپس ڈگھڑی جاتے نظر آتے تو دیکھنے والا محسوس کرتا ان کے بازو ان کے بدن سے الگ پیچھے پیچھے لڑھکتے جا رہے ہوں۔ شہر میں یہ تانگا اسٹینڈ کے برابر بنے اس چھپر کے نیچے بیٹھے رہتے جس میں گھوڑوں کے پانی کی بڑی ناند رکھی ہوئی تھی۔ کیا کاریگر کیا مددگار اپنے اوزار سامنےرکھے اکڑوں بیٹھا تنکے سے زمین کریدتا رہتا۔ یہ کام ایسی محویت سے ہوتا جیسے ان پر مقدس ذمہ داری ڈال دی گئی ہو۔ جب کوئی کام کروانے آنے والا چھپر کے آگے کھڑا ہوکر آواز دیتا تو ان میں سے کوئی چپکے سے اوزار سنبھالتا اس کے پیچھے چل نکلتا۔یہ فیصلہ لینا بھی مشکل ہے کہ آنے والے کی آواز سمجھنا ضروری بھی ہوتی تھی کہ نہیں۔جب ان میں سے کوئی اٹھ کر چلا جاتا تو باقی اسی مشغولی میں مصروف ہوتے۔ سر اٹھا کر دیکھنے کا تکلف تک نہ کیا جاتا۔

یہ کہانی جو ڈگھڑی کی دوسری کہانیوں سے مختلف ہے، اس کی ابتدا منگل وار کی اس صبح کاذب سے ہوتی ہے جب تاریکی بہت کثیف تھی۔ سردی کا راج ختم ہونے میں دن باقی رہتے تھے۔متروک شدہ نہر کے سبزی مائل گدلے گندے پانی،قصبے کی ویران گلی،گارےاور کچی اینٹوں سے بنے کوٹھوں، جھاڑ کانٹوں کی چاردیواریوں پر دھند کا ڈیرا پوشیدہ تھا۔ اس وقت گاوں کے آخر ی مغربی گھر کے اندر جلتی لالٹین کی روشنی میں گلو کی ماں بچہ جن کر مر گئی۔ ڈگھڑی کی دائی صاحباں مائی نے ناڑ کاٹا،گلوکی ماں کی آنکھیں بند کیں اور اس کے سر اور جبڑے کو پٹی باندھنے کے بعد بچہ اٹھا کرکوٹھے سے باہر اکڑوں بیٹھے گلو کے باپ کو تھمایا اور لاش کو نہلانے دہلانے پھر اندر کوٹھے میں چلی گئی۔ جب سورج کی کرنیں دھند کو مات دے کر زمین پر اتریں تو اس وقت تک لاش قبر میں ڈالے جانے کے لئے تیار تھی۔ڈگھڑی کے باسی لاش اٹھا کر قبرستان کے اور چلنے لگے۔عین اس وقت ریل کی پٹڑی پر سے بے وقت ایک ریل گاڑی دھڑدھڑاتی گزرنے لگی۔ریل کی پٹڑی، متروک نہر کے کنارے اور کچے کوٹھے ریل گاڑی کی دھمک سے لرزش میں آنے لگے۔ گاؤں کے لوگ لاش اٹھائے حرکت میں تھے۔اس لئے ریل گاڑی کی آمد کا ٹھیک طرح جان نہیں پائے اور روز مرہ کے معمول کے خلاف گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلنے کے بجائے راستے کے بیچوں بیچ لاش اٹھائےچلے جا رہے تھے۔ سب کے سر جھکے ہوئے ہونے کے بجائے سامنے سیدھ میں قبرستان کی سمت اٹھے ہوئے تھے۔تیرہ سالہ گلو کو جنازہ میں چلتے سوچ آئی۔ تین دن چاول پکیں گے اور لوگ ان کے کچے کوٹھے کے باہر صحن میں بیری کے درخت کے نیچے چٹائیوں پر بیٹھے رہیں گے۔ گلو کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور لمحے کے لمحے پھر سکڑگئے۔ اس نے سوچ کی بے دخلی کے تحت قبرستان کی اور نظریں جمائیں۔ سوچ نے پھر نقب لگالی۔ گاؤں میں موت کے سوا کسی چیز کا علم نہیں ہوتا۔ شادی کا تب معلوم پڑتا ہے جب کسی کو بچہ پیدا ہو جائے۔ اب کی بار اس نے نچلے لب کو کاٹا۔اتنے زور سے کہ سر جھرجھراگیا۔ اس نے پھر نظریں قبرستان کی طرف گاڑدیں۔اب قبرستان کے علاوہ کوئی خیال قریب نہ آیا۔ دفن کے دسویں دن جب دوپہر کی روٹی کھانے اس نے کوٹھے میں قدم رکھا تو صاحباں مائی باپ کے ساتھ بیٹھی نظر آئی۔ بچہ ماں کے مرنے والے دن سےاسی کی گود میں تھا۔ گلو کا آنا محسوس کر کے کچے کوٹھے کا سکوت خاموش ہوگیا۔ گلو نے کونے میں رکھی رکابی سے روٹی اٹھائی اور جھاؤں کی پتلی لکڑیوں سے بنی ٹوکری میں سے ایک پیاز اٹھا کر زمین پر رکھ کراس کی اوپری سطح کو مکا مار کر کھولا اور اس کی پرتوں میں نمک مرچ ڈال کر چپڑ چپڑ کھانا کھانا شروع ہوگیا۔ کھانا ختم کر کے وہ بوری کی بنی چٹائی پے سر کے نیچے بازو دےکر صاحباں مائی اور اپنے باپ کی طرف منہ کر کے لیٹ گیا۔ اس کی نگاہوں کے پاس صاحباں مائی اور اس کے باپ کے لب ہلے جا رہے تھے۔چند ساعتوں میں اس نے دیکھا اس کا باپ اچک کر کھڑا ہوگیا۔وہ حیرت زدہ ہو گیا۔ کچھ دیر میں صاحباں مائی کمر پر ہاتھ رکھے اس کے اکڑوں بیٹھے باپ کے سر پر کھڑی نظر آئی۔ گلو کے خیال نے کوئی راستہ نہ پایا۔ اگلے دو دنوں کے بعد گلو نے رات کی پڑتی تاریکی میں اپنی منگ کو اپنے گھر میں سرخ جوڑا پہنے دیکھا۔ وہ جلتی لالٹین کی روشنی میں صاحباں مائی،اس کے باپ،اس کے منگ کے باپ اور ماں کے ساتھ کچے کوٹھے میں اندر جا رہی تھی۔ گلو نلکہ چلاتا اوک میں پانی پیتا اسے دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر میں صاحباں مائی اپنی منگ کے ماں باپ کے ساتھ گھر سے باہر جاتی دیکھی۔ گلو کی سوچ نے راہ پائی۔ اچھا ہواانہوں نے اسے نہیں دیکھا ورنہ منگ کا باپ ضرور گندہ منہ بناتا۔ پر میں تو سامنے کھڑاتھا لالٹین کی روشنی میں کیسے نہ دیکھا ہوگا؟ نہیں۔نہیں دیکھا ہوگا ورنہ صاحباں مائی اس کے سر پر ہمیش کی طرح ہاتھ نہ گھماتی۔ گلو کی سوچ نکل گئی۔ مطمئن ہو کر وہ کچے کوٹھے میں سونے چلا مگر دروازہ اندر سے بند تھا۔ گلو اس رات بیری کے نیچے پڑی کھجور کی چٹائی پرسوگیا۔ بھلا کون سی سردی تھی جو نیند نہ آئے۔ اگلی صبح گلو نے منگ کو دیکھا وہ جھاڑو کر نے کے بعد روٹی پکا کر گلو کے باپ کے ساتھ بیٹھی کھا رہی تھی اور بچہ اس کے قریب لیٹا تھا۔ کھانا کھا کر گلو کی منگ نے بچے کو اندر کوٹھے میں سلایا اور گلو کی روٹی لے آئی۔ پر بیری کے نیچے گلوتو تھاہی نہیں۔

دوسری دوپہر گلو کا باپ گلی میں دیوار کے ساتھ ساتھ چلتا گلو کو ڈھونڈھنے کے ارادے میں تھا تب ڈگھڑی کے اکلوتے چروہے ذاکو غریبڑے نے اسے بتایا گونگا گلو کل دوپہر سے کچھ پہلے قبرستان کے راستے پر تھا۔ یہ سن کر گلو کے باپ کے چہرے کے عضلات ذرا سا پھیلے اور پھر آپے آپ سکڑگئے۔

Categories
فکشن

بھگوڑا

با لآخر یونس بھاگنے پر تیار ہوگیا۔ اس بارے سوچتے،ارادہ بناتےتو اسے ہفتوں ہو چلے تھے مگر آخری گرہیں جوڑتے رسیاں دھاگوں سی صورت بنا لیتیں اورکئی سوال اس کے آگے اندھےغار کی طرح منہ کھول کر کھڑے ہوجاتے اور وہ پیٹھ پھیرلیتا۔ سوال تو اب بھی منہ پھاڑے ہوئے تھے۔ کسی ایک کو بھی بند نہیں کر پایا تھااور کرے بھی کیسے؟ افلاس میں گھرا گھر، بوڑھے ماں باپ،ضروریات کے اسیر بیوی بچے، ہمیشہ خالی رہنے والی جیب۔ اگر چند ٹیوشنیں حاصل نہ ہوتیں تو پرائیویٹ اسکول کی معمولی تنخواہ سے پیٹ بھی بھر نہ پاتے۔ کچھ مدد حکمت بھی کردیتی جو اس کے والد ساری عمر کرتے رہے۔ مگر اب ماہ میں دو چار مریض ہی حکیم محمد صالح کے ہاتھ لگتے جس سے چند سو ہاتھ آجاتے۔ صورت یہ تھی کہ کسی عید پر بچوں کے کپڑے بن جاتے، کسی پر دھلے ہوتے۔ اچھا یہ تھا کہ اسکول مالک کی مہربانی سے تینوں بچے پڑھ رہے تھے۔ نہیں تو پیلااسکول تو تھا ہی۔ اور چوتھا بچہ ابھی چھوٹا ہی تھا۔ پر سوالوں میں اس کا بھی شمار ہوتا تھا۔ مگر شگفتہ کا ان سوالوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ صرف ایم یونس کو جانتی تھی۔ یہ شگفتہ کون ہے؟ وہی جویونس کو بھگا کر لے جارہی ہے۔ اس بھاگنے کے پیچھے سب کچھ اسی کا تھا۔ اس کا ہاتھ، اسی کا پیسہ، اسی کا منصوبہ۔ حتیٰ کہ ہمت بھی اس کی تھی۔ یونس کے پاس تو صرف سوال ہی تھے۔ ایک اور بات بھی ہے۔ یونس سے رابطہ کی مضبوطی اور تعلق جسے آپ محبت کہیں، وہ بھی شگفتہ کے سر تھی۔ ذریعہ بنا فیس بک۔ سوالوں کے ساتھ یونس کے پاس صورت بھی تھی۔ فیس بک پر اس کی تعارفی تصویرمتوجہ کیے بنا نہیں چھوڑتی تھی۔ شگفتہ بھی متوجہ ہوئی۔ اورہوکے ہی رہ گئی۔ کنڈا اٹک جائے تو رہائی کہاں ملتی ہے اور رہائی چاہتا کون ہے؟ فیس بک پر وقت گذاری کرتے ایک گروپ میں شگفتہ شامل ہوئی تو یونس اس گروپ کے دلچسپ ہونے کا ایک سبب تھا۔ جس پوسٹ پر وہ نظر آتا وہاں مستی مزاح اپنا اثر ظاہر کرتی۔ وہ سنجیدہ بات کوبھی مزاحیہ رنگ دیتااور پھر دوسروں کے کمنٹس کو جس طرح ذو معنی بنا کر اپنا مطلب بیان کرتا، وہاں پھلجھڑیاں اڑنے لگتیں اور بس کمنٹس کے دھیڑ لگے رہتے۔ شگفتہ اس پوسٹ سے چپک کر رہ جاتی۔ وہ ایم یونس کے نام سے بنی آئی ڈی کی ہر پوسٹ،ہر کمنٹ لائک کرتی رہتی۔ کالج سے گھر پہنچتے ہی اپنے لیپ ٹاپ کی طرف دوڑ لگاتی اور فیس بک سے جڑ کر بیٹھ جاتی۔ کیونکہ یونس دو پہر کو ایک سے ڈیڑہ گھنٹاہی گروپ میں نظر آتاتھا۔ وہ توبعدمیں شگفتہ کو پتہ چلا یونس اپنے اسکول کے کمپیوٹر پر چھٹی کے بعد چار بجے تک آفیس میں فیس بک چلا لیتا ہے۔یہ وہی چار بجے تھے جس دوران شگفتہ اپنے بیڈ پر یونس کے کمنٹ پڑھتی اور ہنس ہنس کر دُہری ہوتی رہتی۔ گھر میں ماموں مشتاق ہوتے تو وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ دبائے بغیر آواز ہنسی سے ہلتی رہتی۔ کیونکہ اگر وہ اس کی ہنسی کی آواز سن لیتے تو پھر اپنے درس سمیت آجائے۔ نصیحت چلنا شروع کردیتی۔ ہنسنے کی قباحتیں،نیک لوگوں کے طور اطوار، شریف گھرانوں کا چلن، انٹرنیٹ کی بیہودگی۔یہ سب کچھ سننا پڑجاتا۔ اثر تو وہ خاک لیتی پرسر جھکائےمجرم بنے سننا آسان تو نہیں نا۔ کبھی کبھی اماں کو رحم آتا تو آکر آزادی دلادیتیں اورکبھی ماموں کے ساتھ مل کر ناصح بن جاتیں۔بھلا وہ بھی کریں کیا؟ شوہر عرب ریاست میں کام کرتے تھے۔ سال میں ڈیڑھ دو ماہ کے لیے آتے۔ ساری ذمہ داری وہی محسوس کرتیں۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا،جو آخر میں تھا۔ ان کی تعلیم تربیت، گھر کو سنبھالنا۔ اگر ماموں مشتاق ساتھ نہ رہتے تو وہ کہاں نبھا پاتیں۔ یہ ماموں مشتاق تھے تو اماں کے بھائی پر بچوں نے اماں کی عادت بھی ماموں کہنے پر بنا دی تھی۔عرصہ آٹھ سال سے انہی کے ہاں رہتے تھے۔ قریب کی مارکیٹ میں فوٹو اسٹیٹ مشینیں ڈالی ہوئی تھیں۔ کمپوزنگ کا کام بھی کیا کرتے تھے۔ ان کا اچھا گذارہ ہوجاتا۔ ابھی چھڑے بھی تو تھے۔ اوپر سے ابا بھی بلا ناغہ ان کے لیے اماں کو تاکیدی پیسے بھجواتے۔ ویسے تاکید کی ضرورت تھی تو نہیں پر ابا کی طبیعت۔اور تاکید وہ بچوں کے لیے کرتے”انہیں کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو”کمی وہ کیوں محسوس کرتے؟۔ گھر میں ہر چیزکی زیادتی تھی لیکن ایک کمی تھی اور وہ تھے ابا۔ مگر وہ ابا کے بھی بس میں نہ تھی۔ سال بعد ابا گھر آتے تو گھر میں سیلاب آجاتا۔ کپڑوں لتوں کا، جیولری کا، پرفیومز کا، سینڈلز کا، عادل کے لیے کھلونوں کا اور سب سے زیادہ خوشیوں کا۔ کبھی تاش چل رہی ہے، کبھی کیرم بورڈ سجا ہوا ہے،کبھی لڈو کھیلا جا رہا ہے، ٹی وی ہے کہ سارادن چلائی جا رہی ہے، موسیقی کے آواز سے گھر کے در و دیوار بجے جا رہے ہیں،ہنسی مذاق قہقہے تھمنے کو نہیں۔ بس ماموں مشتاق بیٹھے پیچ وتاب کھارہے ہیں۔

 

“سلیم بھائی خود انہیں بگاڑ رہے ہیں۔ ہر وقت ہنسی، ٹھٹھا، ٹی وی پر ہندوستانی ڈرامے چل رہے ہیں، فلمیں دیکھی جارہی ہیں، کیا سیکھیں گے؟ بھجن پوجا پاٹ؟ ہندوانہ طور اطوار گھر میں گھسے آرہے ہیں اور۔بھائی صاحب کوئی فکر ہی نہیں۔”

 

“چھوڑو ماموں۔ اب کچھ دن کے لیے تو آئے ہیں سلیم۔بچوں کو خوش ہولینے دو۔”اماں کی بات ماموں کو کہاں چپ کروا سکتیں۔کبھی تو وہ ابا سے بول بیٹھتے
“سلیم بھائی ہر وقت بچوں کا ڈرامے فلمیں دیکھنا اور ہنسی مذاق ان کے اوپر اچھا اثر نہیں ڈالے گا” ابا جوابامسکرا دیتے۔اب بھلا مسکراہٹ کے جواب میں کیا بولا جائے؟ ابا جوں ہی ابو ظہبی روانہ ہوتے وہ سب پژمردہ ہوجاتے۔ جیسے کسی نے کھلونوں میں سے بیٹری نکال دی ہو۔ شگفتہ اور اس کی بڑی بہن مریم کے لیے لمحے اکتاہٹ سے بھر جاتے۔ چھوٹا عادل بھی بھلنے تک چند دن لے لیتا۔ اور اماں تو بولائی بولائی پھرتی۔باقی ماموں مشتاق بااختیار ہوجاتے۔ تاش بند، کیرم بورڈ اسٹورروم میں پہنچ جاتا اور ٹی وی ماموں کے زیر انتظام دیکھی جانے لگتی۔ بلند آواز میں میوزک کا نام و نشان تک نہ ملتا۔ جس نے سننا ہے وہ کانوں پر ہیڈفون لگا کر سنتا رہے۔ اسی طرح زندگی بے رنگ کٹ رہی تھی کہ شگفتہ نے فیس بک تک رسائی حاصل کرلی۔ کالج سے فیس بک کا سن اور سیکھ آئی۔ اکاؤنٹ بنے۔ گھر میں ایک ہی لیپ ٹاپ تھا جو اکثر عادل کے گیموں کا ذریعہ تھا۔ اب وقت مقرر ہوئے۔ عادل کا، مریم کا، شگفتہ کا، دو دو گھنٹے۔ اور پھر شگفتہ ایم یونس کی ہر پوسٹ اور ہر کمنٹ کو لائک کرتی جاتی۔اس نے کمنٹ کرنا شروع کیا۔ جس پوسٹ پر وہ نظر آتا، ضرور گھستی۔ کچھ دنوں میں گروپ ممبرز نے اسے قبول کیا۔ اس کی کمنٹس کو داد اور جواب ملنے لگے۔ وہ جانی پہچانی جانے لگی مگر یونس نے اسے گھاس ہی نہیں ڈالی۔ نہ وہ اس کی پوسٹ پر آتا اور نہ ہی اس کے کسی کمنٹ کا جواب دیتا۔ کچھ مرتبہ تو شگفتہ نے سے ٹیگ تک کیا مگر جواب ندارد۔ شگفتہ نے خود کو غیر اہم ہوتے محسوس کیا۔ جیسے اس کا ہونا نہ ہونا ہو۔

 

“آئندہ میں کبھی فیس بک پر ہی نہ جاؤں گی”اس نے اپنا اکاؤنٹ ڈی ایکٹویٹ کیا اورلیپ ٹاپ عادل کو دے کر بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ گئی۔ آدھا گھنٹہ گذرنے سے پہلے وہ دوبارہ اکاؤنٹ ایکٹیویٹ کر چکی تھی۔”میں اس لعنتی کی وجہ سے فیس بک کیوں چھوڑوں؟ میں اس گروپ میں نہیں جاؤں گی بس۔”اس نے خود سے وعدہ کیا۔اسی شام وہ دوسرے ممبرز کی پوسٹس پڑھتے ہوئے یونس کے کمنٹ نظر انداز کیے جارہی تھی۔ اگلے دن کالج سے جلد واپسی کی اور ” لعنتی “کا ہر کمنٹ پڑھ کر لائک کیے دو بجے کا انتظار کر رہی تھی۔دو بجنے سے تھوڑی دیر بعد شگفتہ نے یونس کو گروپ میں کمنٹ کرے ہوئے دیکھتے ان باکس کیا۔

 

“سلام”
“وسلام بہن” وقفے کے بعد جواب نظر آیا۔
“مجھے بہن کہنے والے اور والیاں دونوں ہیں۔یہ لفظ آپ اپنے پاس سنبھال رکھیں۔”
“سوری میں معذرت چاہتا ہوں۔”
“چاہیں”
“جی میں سمجھا نہیں”
“یہ بھی ایک مسئلہ ہے”
“کیا؟”
“چلیں چھوڑیں، ایک بات پوچھ سکتی ہوں؟”
“جی پوچھیں؟”
“آپ بزی تو نہیں؟”
“نہیں نہیں”
“ایزی ہیں؟”
“جی ہاں”
“مائنڈ تو نہیں کریں گے؟”
“نہیں۔”
“آپ لاٹ صاحب کو جانتے ہیں؟”
“نہیں تو”
“لاٹ صاحب سے کوئی رشتہ داری ؟”
“بالکل نہیں”
“پھر یہ بتائیں میں نے آپ کی پوسٹس پر جاکر کمنٹ کیے۔ آپ کو ٹیگ کرکے متوجہ کیا، اپنی پوسٹ لگا کر دوسروں کے ساتھ آپ کو بھی کمنٹ کرنے کو کہا۔ مگر آپ کا کوئی رسپانس ہی نہیں۔میں نے سوچا لاٹ صاحب نہیں تو اس کے رشتہ دار تو ضرور ہوں گے۔”
“میں معافی چاہتا ہوں۔” اس سے آگے کچھ سجھائی ہی نہیں دیا ہوگا۔

 

“میرا نام شگفتہ سلیم ہے،سلیم میرے والد کا نام ہے، بی اے فائنل میں پڑھتی ہوں۔ شہر کا نام فی الحال نہیں بتا رہی۔اوکے؟”

 

“جی بہتر”

 

” تصویر بھی بھیج دوں؟”

 

“نہیں پلیز۔”

 

“ابھی وہ اتنا لکھ پایا تھا کہ ان باکس میں تصویر آ پہنچی۔

 

“اس پکچر کو کسی اور تک نہیں پہنچنا چاہیے۔”

 

“نہیں پہنچے گی، اعتماد کا شکریہ۔” ایم یونس نے جواب لکھا۔بھلا بیچارا اور کیا لکھتا۔ بس اسی طرح ابتدا ہوئی اور پھر چل سو چل۔ آٹھ ماہ کے بعد کی کہانی اولین سطریں بیان کر چکی ہیں۔ان آٹھ ماہ کی کچھ اور باتیں بھی سن لیں۔ آپ کو اندازہ تو ہوگا نا کہ محبت کس طرح بندے کو اس کے ماحول اور مسائل سے الگ کردیتی ہے۔ بس وہی ہوا۔ فون پر ایک دوسرے سے گھنٹوں باتیں اور ساری کی ساری اچھی اچھی۔ دماغ تک کچھ غلط سوچ نہیں سکتا۔ ویسے اگر آپسی تعلق چھے ماہ کے اوپر کا عرصہ نکال لیتا ہے تو یقین کرلیں کہ کچھ نہ کچھ اس میں ہوتا ہے۔ تو آٹھ ماہ میں باتوں کے ڈھیڑ، لاتعداد وعدے اور تین عدد ملاقاتیں بمع تحائف۔ تینوں کے تینوں شگفتہ کی طرف سے دیے گئے۔ خیر دیا تو کرایہ بھی گیا تھا۔ تینوں مرتبہ بس بمع رکشہ۔ اورتحائف کیا تھے؟ ٹچ اسکرین موبائل، لیپ ٹاپ اور پرفیوم۔ تینوں کی خریداری دونوں نے کٹھی کی تھی۔ یونس اپنے چھوٹے سے شہر سے چل کر بڑے شہر پہنچتا۔ شگفتہ کالج چھوڑ آتی۔ دونوں پہلے پارک میں بیٹھتے اور پھر میٹرو اسٹور کا رخ کرتے۔ وہیں سے یہ تینوں چیزیں خریدی گئیں تھیں۔ تو بس آٹھ ماہ کا حاصل یہی تھا اور یہ بھی کہ یونس بھاگنے کے لیے تیار تھا۔ اب بھاگا کیسے جائے؟ یہ سوال دونوں کے لیے نیا تھا۔پوچھتے تو کس سے؟بس دونوں نے اندازہ کیا۔ یونس نے کچھ معلومات لیں۔ اپنے کسی کلاس فیلو کے وکیل بھائی تک رسائی کی۔ ہدیہ مبلغ دس ہزار عوضانے سے وکیل صاحب نے کورٹ میں ان کے نکاح کی کارروائی مکمل کروادی۔ ویسے تو گاؤں چھوٹے شہروں کے لوگ اپنے تعلق ناتوں سے بغیر کسی پیسے کے ایک دوجے کے کام کردیتے ہیں لیکن وکیل تو وکیل ہوتا ہے۔باقی بچے دو لاکھ اڑتیس ہزار روپے۔ انہی پیسوں میں سے جو شگفتہ اپنے ساتھ لائی تھی۔ ساتھ میں کوئی دس بارہ تولے سونا بھی تھا۔ شادی تو ہوگئی اب کہاں جائیں؟ یہ بات طے کرنے سے رہ گئی تھی۔ شگفتہ کو تو کوئی پریشانی ہی نہیں تھی۔ وہ تو کہے جارہی تھی کہیں بھی رہ لیں گے۔ اب “کہیں “یونس کہاں سے لائے۔اب تک تو جو بھی مراحل تھے وہ شگفتہ نے طے کروائے تھے مگر اب اسے بھی کچھ کرنا تھا۔ اس نے اپنے شہر کے رخ کرنے کا ارادہ کیا۔ دوران سفر وہ اسے تسلیاں دینے آئی۔ وہی پہلے والی۔

 

“کچھ بھی نہیں ہوگا۔پریشانی کی کیا بات ہے؟”

 

“ابا مجھے ایک لفظ بھی نہیں کہتے چاہے میں کچھ بھی کرلوں”۔

 

“اصل میں امی نہیں مانتی اور میں نے تمہارے بارے میں جب سے انہیں بتایا ہے انہوں نے رشتہ بھی کردیا ہے۔ بس ابو کےآنے کاانتظار ہے”شہر پہنچے یونس کے دوست کے تعلق دار کے خالی فلیٹ میں ٹھہر گئے۔ ایک دن، دودن، تین دن۔ فلیٹ سے نکلے ہی نہیں۔فون آتے رہے۔ یونس نے گھر بتادیا کہ دوستوں ساتھ گھومنے نکلا ہوں۔ دو تین دن میں آؤں گا۔ شگفتہ کیا بتاتی اور وہاں گھر میں تو سب کو پتہ چل گیا تھا۔ تیسرے دن ابو کا میسیج آیا۔

 

“یہ بھاگنے کی کیا تک ہے بھائی۔بے وقوف ہو تم۔گھر واپس آ جاؤ”شگفتہ کو میسیج پڑھتے رونا آگیا۔

 

“ابو ہم آرہے ہیں”

 

“اچھا ہے۔ “اور پیسے زیور کی بات تک نہ کی۔حالانکہ وہ سب کا سب واپس جارہا تھا۔ بس وکیل کی فیس کے علاوہ چند ہزار اور کم ہوئے تھے۔ شگفتہ گھر اکیلے جانا چاہتی تھی مگر یونس ماننے پر آمادہ ہی نہیں۔

 

” میں تمہیں گھر پہنچا کر واپس چلا جاؤں گا۔ “عصر سے تھوڑا پہلے وہ گھر جا پہنچے۔ گھر میں کیا داخل ہوئے ہنگامہ اورغل برپا ہو گیا۔ شور، گالیاں، دھمکیاں، رونا، دوہتڑ، بدعائیں،تھپڑیں، بالوں سے پکڑنا، کھینچا تانی، پھٹی ہوئی شرٹ سب شامل تھا۔ ایک کمرے میں شگفتہ نشانہ بن رہی تھی ایک میں یونس۔ شگفتہ کے لیے ماں کی طرف سے دوہتڑ اور ادھر یونس کو دھکیل کر دیوار سے ٹکرایا گیا تھا۔ ساتھ میں کچھ تھپڑ، پھٹا گریبان، ننگی گالیاں۔ یہ کاروائی ماموں، شگفتہ کے ابو کے بڑے بھائی، شگفتہ کے خالو اور ان کے فرزند، جو شگفتہ کے متوقع منگیتر تھے،کی طرف سے عمل میں لائی گئی۔ اس دوران شگفتہ کے ابو چپ چاپ کرسی پر بیٹھے تھے۔جب کارروائی ٹھنڈی پڑتی محسوس کی تو اٹھ کھڑے ہوئے۔

 

ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ہوگیا بس ہوگیا۔اب آپ لوگ جائیں باقی میں دیکھ لوں گا۔ انھوں نے بلند آواز اور بلند ہاتھ کر کے دو تین بار بولا۔یہ سن کر مزید چلم چلی ہوئی۔کچھ اور تھپڑ گالیوں کے ساتھ پڑے۔

 

“میں آپ لوگوں کو بعد میں بلاؤں گا۔ فی الوقت آپ چلے جائیں۔”قہر برساتی آنکھیں، خطرناک دھمکیاں دیتی زبانوں اور پٹختے پاؤں کے ساتھ وہ لوگ جانے لگے اسی اثنا میں ابو نے متوقع منگیتر کا ہاتھ بھی پکڑا تھا۔

 

“بیٹا تمہارے ابو نے مارلیا ہے نا۔ فی الحال وہ کافی ہے۔ باقی بعد میں۔ شاباش۔”ابو نے سب کو چلتا کرکے گھر کا گیٹ بند کیااورواپس اپنے کمرے میں آئے۔کمرے کے فرش پر یونس اپنی بدحالی کے ساتھ موجودتھا۔

 

“ارے میاں یوں زمین پر تو نا بیٹھو۔”ابو نے یونس کا بازو پکڑ کر کرسی پر بٹھاتے کہا۔

 

“اور ماموں تم ایسے ہی کھڑے ہو۔جاؤ میاں جا کر پانی لے آؤ۔”یہ کہہ کر ذرا رکے اور پھر ماموں کو اور حکم کیا

 

“نہیں پانی لانے سے پہلے اپنی بہن کو لے آؤ۔”ماموں کیا اپنی بہن کو بلا لائے بس کمرے میں بگولا گھس آیا۔

 

“کمینے، بےشرم،بے غیرت۔تجھے اور کوئی نہیں ملا ؟ لعنت ہو تمہارے ماں باپ پر جنہوں نے ایسابے غیرت پیدا کیا ہے۔ ہماری عزت مٹی میں ملاکر ہمارے گھر آکر یوں صوفے پربن ٹھن آ بیٹھا ہے۔ بے حیا۔ وےمشتاق ان سے تو کچھ ہونے سے رہا۔پر تو یوں کھڑا ٹکر ٹکر دیکھ رہا ہے۔ اس حرامی کو ایک ہاتھ بھی نہیں مارا جاتا تجھ سے؟” ماموں غصے سے میں یونس کی طرف بڑھے۔ابا جب تک بڑھ کر روکیں تب یونس نے منہ میں نمکین ذائقہ محسوس کیا۔

 

“کیڑے پڑیں تجھے، قبر بھی نصیب نہ ہو، تم نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔”

 

“بیگم ایسا نہ کہو اور یہ اپنے ماموں نہیں کہتےکہ زور زور سے بولنا شریفوں کو زیب نہیں دیتا۔ جاؤماموں اپنی بہن کو لے جاؤ۔ بلڈپریشر والی دوائی کھلا اور پانی وانی پلا۔ پھر یہاں پانی لے آنا۔”

 

“پانی کیوں ؟اسے روح افزا پلا روح افزا۔”اماں چلانے لگیں تو ابا خود سے پانی لے آئے۔

 

“یہ پانی پی لو بیٹا۔کہیں چوٹ ووٹ تو نہیں لگ گئی؟ لگی ہے۔ اچھا۔سر میں۔ ہاں وہ دیوار سے ٹکر ہوگئی نا۔ اس میں لگ گئی ہوگی۔۔اٹھواٹھو۔ شاباس بیڈ پر لیٹ جاؤ۔سفر کی بھی تھکن ہوگی۔ ارے بھائی جوان بنو۔اٹھو۔بیڈ پر لیٹ جاؤ۔ایک تکیہ کافی ہے؟ اچھا۔ دوسرے کی ضرورت ہو تو وہ بھی لے آؤں؟ نہیں؟ ٹھیک ہے۔ بیٹا دل میں نہ کرنا۔ زینت دل کی بری نہیں۔ زینت یہ شگفتہ کی ماں۔ بس اسے بھی تکلیف ہوئی ہوگی۔ تو اس لیے میں نے روکنا ٹھیک نہیں سمجھا۔ اور باقی میرے بڑے بھائی اور دوسرے تھے شگفتہ کے خالو۔ان لوگوں کا شگفتہ سے رشتے کا خیال تھا۔ بس سمجھو کہ ہم بھی راضی تھے۔ تواس بات سے انہیں دکھ ہوا ہوگا۔ اس لیے انہوں نے تمہارے ساتھ یہ تھوڑا غلط کردیا۔ اصل میں غلطی میری ہے میں شگفتہ کو کہہ دیتا کہ وہ فی الحال تمہیں ساتھ نہ لائے۔ معاف کردینا بیٹا۔ لیکن یہ بھی ہےاچھا ہوا جو تم آگئے۔ سب کا غصہ بھی ہلکا ہوگیا نا۔ تم ٹھیک تو ہونا۔بول ہی نہیں رہے؟”

 

“سر میں درد ہورہا ہے۔” یونس کے الفاظ اور آنسو ساتھ نکلے۔

 

“ارے ارے۔ رو مت بیٹا۔ شاباس شاباس۔ میں ابھی گولی لے آتا ہوں۔ گولی کھالو۔ شاباش۔ اب میری گود میں سر رکھ کر لیٹ جاؤ۔ لیٹ جاؤ ہاں ٹھیک ہے۔ تم بڑے اچھے لڑکے ہو۔ بڑے پیارے۔ تمہارے ساتھ واقعی زیادتی ہوگئی۔ لیکن کبھی کبھی ایسے ہوجاتا ہے بیٹے۔ ہر ایک اپنے دکھ کے آگے مجبور ہوتا ہے اس لیے انہوں نے تمہارےاوپر ہاتھ اٹھا ڈالا۔ رؤو مت۔ اب کچھ بھی نہیں ہوگا۔سر زیادہ درد کر رہا ہے؟ اچھا یہ گولی تھوڑی دیر میں اثر کر لے گی۔ تم ٹھیک ہوجاؤگے۔آیوڈیکس کے مالش بھی بڑا فائدہ دیتی ہے۔میں آیو ڈیکس لے آتا ہوں۔ دیکھو بیٹا اگر مجھے شگفتہ بتا دیتی تو اس تکلیف کی نوبت ہی نہیں آتی۔ میں خود دھوم دھام سے تمہاری شادی کرواتا لیکن کوئی بات نہیں۔ تم کل پرسوں ہی اپنے والدین کو لے آؤ۔رسم دنیا ہے۔تو تمہاری رخصتی کردیتے ہیں۔بڑی دھوم دھام سے۔ہم بھی خوش ہو جائیں گے لوگ بھی خوش۔یہ ضروری تو نہیں۔ لیکن وہ کیا ہے کہ ایسے کرنا پڑتا ہے اور پھر ایک بار تم لوگوں نے اپنی مرضی سے ایک بار ہمارے مرضی سے۔ہاں؟ کیسے؟ ٹھیک ہے نا؟ تمہاری پہلے شادی ہے؟ نہیں نہیں۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ واقعی پانچ بچے؟ سچ میں؟ تم نے مشکل بنا دیا۔ مسئلہ تو مشکل ہو گیا۔ ایسے تو شگفتہ کی ماں اور رشتے دار بالکل بھی نہیں مانیں گی۔ تمہاری غلطی نہیں ہے بیٹا۔ تم معافی نہ مانگو۔ اٹھو نہیں۔ اٹھو نہیں۔ لیٹے رہو۔ تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں۔ اب درد کچھ کم ہوا ہے؟ ہوجائے گا۔ ہوجائے گا۔ مالش ہو رہی ہے نا۔تو جلد ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن بات مشکل ہوگئی۔ ہمارے ہاں ایسا ہوتا نہیں ہے۔ رواج ہی نہیں ہے۔ کیا کریں؟ تم نے شگفتہ کو بتایا ہوا ہے؟ اچھا پھر اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا؟ بس بھئی پھر تو بات ہی ختم۔ اصل فیصلہ تم دونوں کا ہے۔ تم دونوں راضی ہو تو دنیا کو بھی راضی ہونا چاہیے لیکن ہمیں ابھی عادت نہیں ہے۔ خیر ہوجائے گی۔ مگر اس بات کا کیا کریں۔ مجھے حل سمجھ نہیں آرہا۔ دیکھو بیٹا۔ اب توایک بات ہی ہوسکتی ہے۔تم دونوں ایک بار پھر بھاگ جاؤ اور کوئی راستہ نہیں۔ آج رات تم دونوں نکل جاؤ۔ میں یہیں ہوں۔ سب سنبھال لوں گا۔ فکر نہ کرو۔ میں بالکل خوشی سے کہہ رہا ہوں۔تم دونوں کی خوشی کی بات ہے۔ ارے ارے اس میں رونے کی کیا بات ہے؟ یوں نہ کرو بیٹا۔ اچھا نہیں لگتا۔ میرے پاؤں چھوڑدو شاباس۔ تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔ کوئی فکر نہ رکھو۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ یہیں لیٹے رہو۔ ابھی تمہاری طبیعت بھی ٹھیک نہیں۔ میں سر دباتا ہوں۔ سوجاؤ شاباس سوجاؤ۔ تم نے آدھی رات کو نکلنا بھی ہے۔ ” پھر دھیرے دھیرے یونس سو گیا۔ پھر اٹھا۔پتا نہیں کس وقت؟ ابا رات گئے کمرے میں اسے اٹھانے گئے تو وہ پھر بھاگ نکلا تھا۔اکیلا۔

Image:JOEY GUIDONE

Categories
فکشن

مفتی

مفتی سجاد حسین پھر نماز پڑھاتے ہوئے بھول پڑے۔ فجر کی نماز میں پہلی رکعت مکمل کرکے تشہد میں بیٹھ گئے۔۔مسجد کے قدیمی نحیف وناتواں مؤذن گل محمد نے مفتی صاحب کو خبردار کرنے کے لیے پہلے تو اپنی بلغمی آواز میں کھگاریں ماریں۔مگر مفتی صاحب لاتعلق و بے خبر رہے۔تب گل محمد کو “اﷲاکبر” کی آواز بلند کرنی پڑی۔۔لیکن مفتی صاحب نے التحیات ،درود اور دعا پڑھ کے سلام پھیرا اور مقتدیوں کی طرف منہ کرکے بیٹھ گئے۔ مقتدیوں کی صف سے بھنبھناہٹ ابھرنے لگی۔ گل محمد چانڈیو آگے ہوکر مفتی صاحب سے مخاطب ہوا
“مفتی صاحب آپ نے ایک رکعت کے بعد سلام پھیر دیا۔ نماز دوبارہ ہو گی۔” الفاظ سماعت تک پہنچے تو مفتی صاحب کو جھٹکا لگا۔ “اچھا! واقعی؟” انہوں نے خفت بھری آواز میں حاجی نزاکت علی سے استفسار کیا جو مؤذن کے دائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے۔

 

“جی مفتی صاحب ایسا ہی ہے۔ جلدی نیت باندھیں اور تکبیر کہیں۔” حاجی نزاکت نے ترشی بھرا جواب دیا۔ حاجی کو اب یہ خیال ستائے جارہا تھا کہ پھر مفتی صاحب کے پیچھے کھڑے ہوکر سست رفتار نماز پڑھنی پڑے گی۔یعنی دس بارہ منٹ اور لگ جائیں گے۔ مفتی صاحب مجرمانہ احساس لیے نظریں نیچی کیے اٹھے اور تکبیر تحریمہ کے لیے ہاتھ اٹھادیے۔ تب پہلی رکعت کے بعد پہنچنے والے وہ نمازی اپنی نماز توڑکر نئی جماعت میں شامل ہوئے جو ابھی تک قیام میں کھڑے کن انکھیوں سے یہ ماجرا دیکھے جارہے تھے۔یہ کچھ عرصہ پہلے ہی شروع ہوا تھا کہ مفتی سجاد حسین سے نماز پڑھاتے ہوئے تواتر سے غلطیاں سرزد ہو رہی تھیں۔ کبھی وہ ظہر یا عصر میں بلند آواز سے قرأت شروع کردیتے کبھی مغرب اور عشاء میں چپ سادھے کھڑے رہتے۔ کبھی تو یوں بھی ہوتا کہ تشہد میں بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنا بھول جاتے پیچھے کھڑا گل محمد کھگاریں مارتا رہتا اور حاجی نزاکت پیچ و تاب کھاتا رہتا۔ حاجی نزاکت شہر کی گڑ منڈی کا مشہور بیوپاری اور مسجد کمیٹی کا نائب صدر تھا۔ روپے پیسے کے معاملے میں بخیل اور اپنے وقت کو بھی پیسوں میں تولنے کا عادی۔ جب نماز میں مفتی صاحب لمبی صورت شروع کرتے یا اب کے دنوں مفتی صاحب سے ہوجانے والے سہو کی وجہ سے دوبارہ نماز پڑھنی پڑ جاتی تو حاجی نزاکت کو لگتا کہ جیسے بہت مہنگی نماز اس کے پلے پڑ گئی ہو۔وہ ضبط کئے نماز میں دھیان لگانے کی کوشش کرتا رہتا مگر اس کا من طے کردہ سات منٹ کے بعد دوڑا دوڑا دوکان کی طرف جاتا رہتا۔ مفتی عبدالجبار کے پرتقدس شخصیت کی وجہ سے وہ اپنی زباں پر تالا لیے رہتا حتیٰ کہ پیٹھ پیچھے خیال آرائی کی ہمت بھی ٹوٹتی رہتی۔ مفتی عبدالجبار نہ صرف مسجد میں امامت کرواتے تھے بلکہ ساتھ واقع جامعہ دارالاحسان میں درجہ حدیث کے طلباء کو پڑھانے کے ساتھ دارلافتاء کے نگران کی حیثیت سے فتویٰ نویسی کی ذمہ داری بھی نبھاتے تھے۔یہ فرائض وہ پچھلے پچیس سالوں سے مسجد کمیٹی کے صدر اور جامعہ دارالاحسان کے مہتمم علامہ روح الامین کے والد اور جامعہ کے بانی مولوی عبداﷲ فاضلی المعروف “بڑے میاں جی” کے دور سے ادا کر رہے تھے۔ اس کے عوض وہ تنخواہ یا مشاہرہ کچھ بھی نہ لیتے تھے۔ بس عید شبرات پر ان کا کوئی عقیدت مند کپڑوں کا جوڑا لے آتا۔ محلے کے گھر سے ان کا تین وقت کھانا آجاتا اور اﷲ اﷲ، خیر صلا۔ انہوں نے اپنی ضروریات محدود کرنے کو زندگی کا جز بنائے رکھا تھا۔ حتیٰ کہ بشری تقاضوں کو بھی انہوں نے نفسانی خواہشات کا نام دے کر اپنے آپ سے پرے رکھا تھا۔ شادی اس لیے نہیں کی کہ کہتے تھے کہ بیوی اور اولاد ایسی آزمائشیں ہیں جو بندے کا ایمان خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ شہر بازار کو شیطانی گھر سمجھتے اس لیے اس طرف کا کبھی رخ نہیں کیا۔ وہ نماز کے وقت مسجد میں اور بقیہ سارا وقت جامعہ کی لائبریری میں بیٹھے رہتے۔ تدریس اور فتویٰ کا کام بھی وہیں انجام دیتے۔ بس آرام کرنے اپنے حجرے میں جاتے۔ دو منزلہ مسجد کے وسیع صحن کے دائیں جانب، صحن سے متصل ہی جامعہ کی نصف دائرے میں پھیلی ہوئی عمارت تھی۔ جو اب زبوں حالی کی علامت نظر آتی۔ تدریسی کمروں کے بیچ میں ہال نما لمبا کمرہ تھا جو اندر کتابوں سے بھری بے ترتیب الماریاں لیے لائبریری بنا ہوا تھا۔ لائبریری کے ہمیشہ کھلے رہنے والے شیشم کے دروازے کے سامنے مفتی صاحب مشرقی دیوار سے پشت لگائے اپنی نشست گاہ پر بیٹھے پڑھتے یا پڑھاتے رہتے۔ نشست گاہ کے سامنے اور جنوبی طرف ڈیسک پڑے رہتے تھے جن پر مفتی صاحب کے زیر مطالعہ کتابوں کا ہجوم جما رہتا تھا۔ اسی نشست گاہ پر مفتی صاحب کی عمر کا تقریباً دو تہائی حصہ گذرا تھا۔ پڑھ کر جوں ہی افتا کا نصاب مکمل کیا تو بڑے میاں جی نے انہیں جامعہ دارالاحسان میں مدرس مقرر کردیا۔اور وہ کچھ بولے بنا سعادت مندی سے پڑھانے بیٹھ گئے تھے۔گھر والوں سے پوچھنا تو درکنار خبر بھی نہ کی تھی۔ خود مفتی صاحب کا پڑھنے کے لیے جامعہ میں آنا بھی ایک عجب داستان تھی جسے بڑے میاں جی ہر محفل چاہے خطاب میں فخریہ بیان کرتے تھے۔کہتے

 

“جب میں درس نظامی مکمل کرکے دین کی خدمت کے لیے یہاں آیا تو لوگوں کی دین سے دوری دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو رونے لگا۔ مسجدیں ویران اور اوطاقیں آباد تھیں۔ کوئی نماز پڑھنے، اذان کہنے والا نہیں تھا۔اس مسجد میں تو کتیا نے کتورے جن رکھے تھے”۔ یہ جملہ سن کر سامعین کے منہ سے توبہ توبہ کی آواز نکل جاتی اور بعض تو کانوں کو ہاتھ لگانے لگ جاتے۔ “یہ بے دینی دیکھ کر ارادہ کیا کہ یہیں رہ کر اس مسجد کو دین کی روشنی سے منور کرنا ہے۔ میں نے مسجد کو صاف کرکے کتیا کو باہر نکالا اور عصر نماز کی اذان کہی۔ اذان کی آواز سن کر محلے والے متحیر ہوکر باہر نکل آئے۔ میں نے انہیں نماز کی دعوت دی تو اکثریت بڑبڑاتی رخصت ہوگئی۔ایک دو نیک دل باوضو ہوکر نماز کے لیے آئے۔ نماز کے بعد ان سے بات چیت ہوئی۔انہوں نے میری آمد پر خوشی ظاہر کی۔کہنے لگے کہ “ہمارے ہاں تو کوئی اسلامی تعلیم رکھنے والا ہے ہی نہیں۔ خدا کا احسان ہے اس نے آپ کو رہنمائی کے لیے بھیجا ہے۔ اب آپ ہم پر احسان کریں۔یہاں ٹھہریں اور ہمیں گمراہی سے بچائیں۔” ان کی یہ بات سن کر میرا جی بہت خوش ہوا۔ کیونکہ میں تو پہلے ہی یہ نیت کیے بیٹھا تھا کہ اس شہر کو آباد کرنا ہے۔ جو دین سے بے بہرہ اور برباد ہے۔ پس میں نے اس مسجد میں ڈیرا جمایا اور بازار، اوطاقوں میں جاکر لوگوں کو دین کی دعوت دینے لگا۔ انہیں آخرت سنوارنے کی رغبت دلاتا۔ غیرت ایمانی جگانے کے جتن کرتا۔ آہستہ آہستہ مسجد خوب آباد ہونے لگی۔ تب میں نے دینی شعور بیدار کرنے کے لیے یہاں مدرسہ شروع کرنے کا ارادہ کیا۔ جمعہ کے دن خطبہ میں میں نے لوگوں سے اپیل کی کہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے لیے وقف کریں۔ یہی علم حقیقی ومنفعت ہے۔ یہ نہ صرف آپ کے بچوں کو بلکہ آپ کو بھی آخرت کے عذاب اور جہنم کی بھڑکتی آگ سے نجات دلائے گا۔ میری بات پر لوگوں نے لبیک کہا اور بچوں کو تعلیم کے لیے بھیجنا شروع کر دیا۔ مگر یہ معاملہ صرف قاعدہ اور قرآن کی تعلیم تک رہا۔ اکثریت اسکولوں میں پڑھنے والی اورکھیتوں میں کام کرنے والی تھی۔ لہٰذا علم حدیث و علم فقہ کی ابتدا نہ ہوسکی۔ مسافر طلبا کی رہائش کی سہولت نہ تھی لہٰذا شہر کے نیک پرور لوگوں کو جمع کیا اور انہیں توجہ دلائی کہ اگر مسجد کے ساتھ ہی مدرسہ تعمیر ہو جائے تو مسافر طلبہ آکر دینی تعلیم حاصل کریں گے اور قرآن و حدیث کا درس سیکھیں گے۔ پھر جب تک مدرسہ قائم رہے گا اور درس و تدریس ہوتی رہے گی آپ کے لیے آخرت کے چھٹکارے کا ثمر جمع ہوتا رہے گا۔ فوراً ہی مدرسہ کی عمارت کھڑی ہوئی اور میں دیہاتی علاقوں سے طلباء کے حصول کے لیے دورہ پر نکل کھڑا ہوا۔ ایک گاؤں سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے، جیسا کہ آپ جانتے ہیں دیہاتی لوگ ویسے بھی روشن قلب ہوتے ہیں۔تو اس دورہ میں کئی بچے اسلام کے لیے وقف کئے گئے اور یہاں مدرسہ میں زیر تعلیم ہوئے اور آج ان میں سے کئی الحمدﷲ ملک کے مختلف حصوں میں بے دین لوگوں کو دین کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں۔”

 

یہاں بڑے میاں جی توقف کرتے۔ مفتی سجاد حسین کا نام پکارتے جو ان کے ساتھ ہی بیٹھا ہوتا اور اسے کھڑے ہوجانے کا کہتے “سب سے بڑی مثال ‘جناب مفتی’ آپ کی نظروں کے سامنے ہے۔” وہ مفتی صاحب کو ہمیشہ جناب مفتی پکارتے تھے۔ “یہ وہ بچہ تھا جس کا والد صوبیدار اور گاؤں کا چودھری تھا۔ اس بچے نے میری دینی باتیں سن کو خود کو دین کے لیے وقف کردیا تھا۔ حالانکہ اس کا والد راضی نہیں تھا۔ ماں نے بھی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ مگر ہزار آفرین اس بچے پر جس نے ماں باپ کو بھلا کر دین و شریعت کو اختیار کیا۔ کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ آج یہ آپ کی شہر کی ظلمت کو اپنی نورانیت سے منور کر رہا ہے۔” لوگوں میں سبحان اﷲ کا شور اٹھتا۔ اور یہ حقیقت بھی تھی کہ مفتی صاحب سارے رشتے ناتے بھلا آئے تھے۔ گاؤں جانے کا نام ہی نہ لیتے تھے۔عیدین تک جامعہ میں کرتے تھے۔ جب ماں کا دل بے تابی کی باڑیں پھلانگنے کو آتا تو وہ ملنے آجاتی۔ کچھ لمحے بیٹے کو دیکھ کر، کچھ باتیں بول کر روتی سسکتی واپس چلی جاتی۔ مفتی صاحب پر کچھ اثر نہ آتا۔ چند ایک مرتبہ ہی گاؤں گئے۔والد صاحب کے وصال کے بعد کبھی کبھار ماں کے بلاوے پر چلے جاتے کہ اب ضعف اور بیٹے کی جدائی نے ماں کو سفر کے قابل نہ چھوڑا تھا۔ والدہ کی جہاں سے رخصتی کے بعد وہ کبھی کبھار کا جانا بھی چھوٹ گیا۔۔چھوٹا بھائی یا اس کے بیٹے ملنے کو آتے اور گاؤں چلنے پر زور بھی دیتے مگر مفتی صاحب کا جواب ناکار میں ہی ہوتا تھا۔کہتے “بھائی تمہیں پتا ہے وہاں کے ماحول کی وجہ سے میرا دل آنے کو نہیں کرتا۔اور اللہ تمہیں یہاں ملنے کے لیے بھیج بھی دیتا ہے تو میں یہیں اچھا ہوں”۔علاوہ ازیں مفتی صاحب چونکہ نفس کشی پر سدا کار بند رہے تو اگر کبھی دل نے گاؤں جانے کی تمنا بھی کی تو اسے نفسانی خواہش قرار دے کر کچل ڈالا۔ انہوں نے جا معہ ہی کوگھر بنایا تھا اور دینی علوم پڑھناپڑھانا مقصد حیات۔بڑے میاں جی کے وفات کے بعد ان کے فرزند ارجمند روح الامین نے جب مسجد اور جامعہ کو سنبھالا تو مفتی صاحب کی درجہ عزت میں کوئی کمی نہ کی بلکہ روح الامین خود مفتی صاحب کے شاگرد بھی رہ چکے تھے، لہٰذا اس نے مسجد کی امامت کا اعزاز بھی مفتی صاحب کو بخشا۔ مفتی صاحب نے خود کو مسجد کے ساتھ ساتھ لائبریری تک ہی محدود کر رکھا تھا۔اس لیے شہر بھر کے لوگ یا عام مولوی بھی فقہی مسائل کے حل یا فتویٰ کے پوچھنے کے لیے مفتی صاحب کے ہاں لائبریری میں حاضر ہوتے جہاں مفتی صاحب سارا دن میسر رہتے۔ خواتین بھی دینی معلومات یا خانگی جھگڑوں کے حل کی خاطر ان کے پاس بلا جھجھک آتی رہتیں۔ روز مرہ کی زندگی مفتی صاحب کے اختیار کیے ہوئے طریقے پر جاری تھی کہ زیب النساء نے آکر ان کے معمولات میں خلل ڈال دیا اور مفتی صاحب کے خیالات اور رجحانات کے مرکز کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔ سویرے سویرے ابھی مفتی صاحب تسبیحات اور اشراق نماز پڑھ کر لائبریری میں داخل ہی ہوئے تھے کہ زیب النساء آپہنچی۔ زیب النساء جو ٹھسے کی عورت تھی۔۔ بیالیس،پینتالیس سال کی عمر میں بھی لمبے قد کے ساتھ بھرا بھرا جسم اور وہ بھی گٹھیلا۔ جب وہ مردوں طرح سینہ نکال کر چلتی تو گریبان کے بٹن ٹوٹنے کو آتے۔ محلے بھر کی عورتیں اسے اپنا امام مانتی تھیں۔ کسی نے خریداری کے لیے بازار جانا ہو، بچہ ڈاکٹر کو دکھاناہو، رشتہ کرنے کے لیے مشورہ لینا ہو۔ سلائی کڑھائی کا کوئی ڈیزائن سمجھنا ہو، گھر میں کوئی دینی محفل کروانی ہو سب کا رخ زیب النساء کی طرف ہوتا۔ اور وہ بھی بلاحیل وحجت ہر ایک کی مدد کے لیے تیار بیٹھی ہوتی۔ کچھ ماہ پہلے جب اس کے شوہر ماسٹر رمضان نے اسے طلاق دے دی تو محلے بھر کو سکتہ چھا گیا تھا۔ کسی کو یقین نہیں آتا تھا کہ اپنے شوہر اور بچوں سے محبت کرنے والی اور اتنی خدمت گذار کو طلاق کیسے ملی؟ وہ تو بعد میں بھانڈا پھوٹا کہ ماسٹر رمضان گرلزاسکول کی ایک ماسٹرنی کے عشق میں باؤلا ہوا پھرتا تھا۔اور اس کی فرمائش پر اس نے گھر برباد کرنے کی ٹھان لی تھی۔بعد میں خاندان کے بڑوں، دوستوں اور محلے والوں کی لعنت ملامت اور اپنے جوان بچوں کے تیرآنکھوں نے اسے ہوش میں لایا تھا اور اب وہ مائی زیبن کے آگے پیچھے گڑگڑاتا اور معافیاں مانگتا رہتا تھا۔ مگر مائی زیبن کی موت جیسی گہری چپ ٹوٹنے میں نہ آتی تھی۔ مایوس ہونے کے بعد ماسٹر رمضان کو مفتی صاحب کی ذات میں امید کا چراغ نظر آیا۔ اسے یقین تھا کہ مائی زیبن اپنے والد سمیت کسی کی بات مانے یا نہ مانے مگر مفتی صاحب کی بات نہیں ٹالے گی۔

 

ماسٹر رمضان مائی زیبن کے مفتی صاحب سے روحانی تعلق سے بخوبی آگاہ تھا۔ ماسٹر رمضان نے مائی زیبن کے ساتھ وقت بتاتے ہوئے دیکھا تھا وہ مفتی صاحب کو جیسے اپنا مرشد مانتی تھی۔۔ اگر بھولے سے بھی کسی کی زبان سے مفتی صاحب کے لیے احترام بھرا لفظ نہ نکلا تو وہ سامنے والے سے لڑائی پے تل جاتی۔بارہا ماسٹر رمضان نے نظارہ کیا کہ مفتی صاحب کا کھانا لے جانے میں اس سے یا اس کے بیٹوں میں سے کسی سے ذرا تاخیر ہوئی ہو تو مائی زیبن بے چین ہو جاتی۔ ماسٹر رمضان سے تو ذرا سی رعایت ہو جاتی مگر اپنے دونوں بیٹوں کے وہ لتے لے ڈالتی۔ اسی امید کے پیش نظر ماسٹر رمضان نے مفتی صاحب کی لائبریری کی چوکھٹ جاپکڑی۔ مفتی صاحب نے پہلے تو اسے سخت سست کہا، جائز کاموں میں سے خدا تعالیٰ کا سب سے ناپسندیدہ کام کرنے پر اسے شرم دلائی اور انجام کار اسے مائی زیبن کے والدین سے رابطہ کرنے کو کہا۔ تب ماسٹر رمضان زارو قطار رو پڑا

 

“مفتی صاحب میں سب حیلے بہانے آزما کر پھر یہاں آیا ہوں۔آپ مجھے مایوس مت کریں۔”

 

“ماسٹر توبہ نعوذبااﷲ۔ تمہیں فکر آخرت ہے یا نہیں؟ یعنی کہ میں مسماۃ زیب النساء کو کہلواؤں کہ وہ حلالہ کے لیے راضی ہوجائے؟ تمہیں علم ہے کہ شریعت میں موجودہ حلالہ کا تصور جو کہ مروج ہوگیا ہے، بالکل بھی نہیں ہے۔ شریعت نے یہ کہا ہے کہ ایک مطلقہ عورت تب اپنے طلاق دینے والے شوہر سے دوبارہ نکاح میں آسکتی ہے جب وہ کسی اور کے نکاح میں آجائے۔ اس بات سے یارلوگوں نے یہ جزی نکالی ہے کہ مطلقہ عورت کا نکاح اس بندے سے کرواتے ہیں جس سے شادی کی پہلی صبح پر طلاق دینے کی شرط عائد کی جاتی ہے۔ یہ اگر چہ غلط نہیں مگر غلط رواج ضرور ہے۔ میں ایسا عاقبت نااندیش نہیں کہ ایسے کام کا حصہ بنوں۔” مفتی صاحب کی اس بات کے بعد ماسٹر رمضان جیسے جی ہار بیٹھا۔ وہ مفتی صاحب کے پاؤں پکڑ کر بیٹھ گیا۔

 

“مفتی صاحب میں شیطان کے بہکاوے میں بہہ گیا۔ میری خطا ہے۔میں اس گناہ کی کب سے زیب النساء سے معافی مانگ رہا ہوں۔ مجھے میرے کئے ہوئے پر بہت سزا مل چکی ہے۔گناہ سے توبہ کرنے پر خدا بھی معاف کردیتا ہے۔آپ ہی زیب النساء سے میری خطا معاف کرواسکتے ہیں۔کسی کے گھر بسانے کے لیے کوشش کرنا بھی تو کار ثواب ہے۔ اب بس آپ میرا سہارا ہیں۔ خدا کے لیے میری امداد کریں۔” وہ روتا ہوا مفتی صاحب کے سامنے جھک گیا۔

 

“میاں کفر نہ بکو۔ خدا ہی سب کا سہارا ہے اور اسی کا سہارا قائم ودائم ہے۔تم جاؤ۔ میں استخارہ کرتا ہوں۔ اگر خدا کو منظور ہوا تو تمہارے لیے سعی کی جائے گی۔” اس جواب کے بعد ماسٹررمضان کی کچھ ڈھارس بندھی اور وہ رخصت ہوگیا۔ مفتی صاحب کی اس خاندان سے دلی وابستگی بھی تھی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس میں پڑنے والی دراڑ یں دو کنارے بن جائیں۔ انہوں نے استخارہ کیااور مثبت جواب آنے کے بعد انہوں نے مائی زیبن کو پیغام بھیجا “انسانی نفس شیطان کا ہمنوا ہے۔ انسان سے غلطیاں سرزد کروا دیتا ہے۔ آپ اگر ماسٹر رمضان کو معاف کر دیں اور اس کی دوبارہ گھر بسانے والی بات پر غور کریں تو بندہ ناچیز آپ کے لیے دعا گو رہے گا۔ میں نے استخارہ کیا ہے اس میں بھی مثبت جواب آیا ہے۔” مفتی صاحب کا پیغام ملنے کے پانچویں صبح زیب النساء لائبریری میں مفتی صاحب کی نشست گاہ پر ان کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔ مفتی صاحب نے زیب النساء کے سلام کا جواب دیتے ہوئے پوچھا’”وعلیکم السلام آپ اتنی صبح صبح؟”مفتی صاحب کو زیب النساء کی آمد کی وجہ کا اندازہ تو تھا مگر انہوں نے استفسار بہتر سمجھا۔
“مفتی صاحب ماسٹر جی سے دوبارہ ناتا جوڑنے کے لیے جب آپ کا حکم آیا تو میں نے اسی وقت ہی فیصلہ کر لیا تھا۔۔مگر میرا اندر پتا نہیں کیوں مان ہی نہیں رہا تھا۔ میری اتنی ساری عمر کے رشتے کو ماسٹر نے چند لفظوں سے دو کوڑی کا کردیا۔میرے وجود کو نکاح کے ذریعے اس سے جوڑا گیا تھا۔ جب اس نے اس کی پاسداری نہ کی تو اب میں دوبارہ خود کو اس سے جڑنے پر کیسے آمادہ کرلوں؟ بس خود سے منواتے منواتے کچھ دن لگ گئے۔میں تو اسی دن آپ کے پاس حاضر ہوکر ماننا چاہتی تھی مگر میں نے سوچا کہ اندر ابھی نہیں مان رہا تو ظاہر باہر سے کہہ کر میں مفتی صاحب سے منافقت کیسے کروں۔ اسی لیے کچھ دن دیر کی معافی چاہتی ہوں۔”‘زیب النساء کے الفاظ سن کر مفتی صاحب کو محسوس ہوا جیسے ہر لفظ کورے گھڑے کی طرح کھنکتا اور مٹی کی طرح خالص ہو۔

 

“دراصل میں نے صرف اس لیے پیغام بھیجا کہ میں اس گھر کو اور مکینوں کو آباد دیکھنا چاہتا تھا۔ اللہ میری نیت کو جانتا ہے۔”

 

“نہیں نہیں مفتی صاحب آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔میں آپ کی ذات کو جانتی ہوں۔” زیب النساء یہ الفاظ کہہ کر خاموش ہوگئی۔ مفتی صاحب زیب النساء کا اگلا جملا سننے کے انتظار میں رہے۔ لائبریری کے بڑے سے ہال میں سناٹا پیدا ہوگیا اور گذرتے لمحوں کے ساتھ اس کی عمر بڑھنے لگی۔تب مفتی صاحب کے نظر زیب النساء کے چہرے پر گئی اور انہیں یوں لگا جیسے جھکڑوں بھرا زوردارطوفان ان کی طرف بھاگا چلا آرہا ہو۔ تب زیب النساء بولنے لگی اور کمرے میں جامد سناٹا ریزہ ریزہ ہوگیا۔ “مفتی صاحب میں ماسٹر سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کے لیے تیار ہوں۔ بس میری ایک درخواست ہے کہ حلالہ کا نکاح مجھ سے آپ کریں گے” زیب النساء کے ان الفاظ نے مفتی صاحب کے جڑوں کو ہلا ڈالا۔
“مائی صاحب یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔” مفتی صاحب بے اختیاراپنی نشست گاہ سے کھڑے ہوگئے۔

 

“مفتی صاحب میں نے کوئی گناہ کا کام تو نہیں بولا، میں نے تو بس نکاح کا کہا ہے۔”

 

“مائی صاحبہ میں نے زندگی بھر نکاح، عورت سے دور رہنے کا عہد کیا ہوا ہے۔ میں کبھی بھی یہ کام نہیں کرسکتا۔ آپ نے سوچا بھی کیسے؟”

 

“مفتی صاحب میں نے تو وہ بات کہی ہے جسے نبی نے اپنی سنت بتایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا ہے کہ اس دنیا میں میری تین پسندیدہ اشیاء میں سے نماز، خوشبواورعورت ہے۔” مفتی صاحب کو یہ سنتے ہی چپ لگ گئی۔زیب النساء مفتی صاحب کو چپ دیکھ کر پھر بول پڑی۔ “مفتی صاحب آپ تو صاحب علم ہیں۔ آپ تو لوگوں کو نبی کی راہ پر لگانے والے ہیں۔ آپ کیسے بھول پڑے؟نبی کی سنت، ان کی پسند سے دور ہوگئے؟” زیب النساء کے لہجے میں وحشت تھی۔ مفتی صاحب کو یوں لگا جیسے ان کے وجود کے انیٹیں گرتی جارہی ہوں وہ خود کو سمٹتا ہوا محسوس کرنے لگے۔ “میں تو وہ کام کر رہی ہوں جو حضرت خدیجہ نے کیا تھا۔ میں تو ان کے نقش قدم پر آپ کو نکاح کا پیغام دے رہی ہوں۔” آہستہ آہستہ اس کے لہجے میں بے خودی، بے ربطی اور وحشت انگیزی بڑھنے لگی۔ “مفتی صاحب میں تب سے آپ کو من میں بسائے ہوئے ہوں جب میں بارہ تیرہ سال کی عمر میں مسجد میں قرآن شریف پڑھنے آتی تھی۔ پتا نہیں کیسے آپ کی تصویر میرے من میں چھپ گئی۔میں نے اسے گناہ سمجھ کر مٹانے کی بڑی کوششیں کی ہیں مگر میں کامیاب نا ہوئی۔ پوری عمر اسی کشمکش میں گذری۔اب میں خود کو گناہ گار نہیں سمجھتی۔ جس بات پر میرا بس ہی نہیں چلتا، میری قدرت ہی نہیں میں اس معاملہ میں گناہ گار کیسے ہوسکتی ہوں؟ خدا جانتا ہے جب میرے والدین نے ماسٹر رمضان سے میری شادی کی میں اس کے کھونٹے سے بندھی رہی۔میری تمام تر توجہ محبت، خوشیوں کا مرکز ماسٹر رہا۔ میں نے اس کو جی جان سے چاہا۔مگر میں آپ کو نکال نہیں پائی۔چاہنے کے باجود میں ناکام رہی۔ میں نے خود کو بچوں میں، محلے والوں کے کام کاج میں مصروف رکھ کر بھی کوشش کی مگر خدا کے راز خدا ہی جانتا ہے۔ اب اس جاتی عمر میں اگر قسمت نے یہ موقعہ دیا ہے تو میں اسے حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ آپ خدا کے لیے مجھ سے نکاح کرلیں۔ چاہے ایک رات کے لیے سہی مگرمیں آپ کے نکاح میں آنا چاہتی ہوں۔” بات کے اختتام پر زیب النساء کا چہرہ آنسوؤں نے گھیر رکھا تھا۔ مفتی صاحب نے وجود میں کمزوری پھیلتی محسوس کی۔ خود کو کھڑے ہونے کے قابل نہ پاکر نشست گاہ پر ڈھے گئے۔
“مائی صاحبہ میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔ میرے دل میں آپ کا بہت احترام ہے۔”

 

“مجھے نہیں چاہیے عزت۔ نہیں چاہیے احترام۔ اگر آپ نے دینا ہے تو وہ دیں جو میں چاہتی ہوں۔ اور شریعت بھی مجھے اس کی اجازت دیتی ہے۔” وہ بپھر گئی۔ “ آپ شادی نہ کرکے کوئی نیکی کا کام نہیں کر رہے بلکہ آپ سوچنے لگیں توآپ گناہ گار بن رہے ہیں۔ ” اس بات کے اختتام پر پھر عاجزانہ انداز اور آنسو لوٹ آئے۔ “مفتی صاحب خدا رسول کے لیے مجھے قبول کرلیں۔”

 

“مجھے معاف کیجئے گا۔ میں یہ نہیں کرسکتا۔” مفتی صاحب کے پاس بجز ان الفاظوں کے کوئی جواب نہیں تھا۔
“آپ یہ کریں یا نہ کریں۔لیکن یاد رکھیے گا آپ خود کو شادی سے دور رکھ کر کوئی نیکی کا کام نہیں کر رہے بلکہ گناہ در گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں۔” زیب النساء ہسٹریائی انداز میں چلائی۔ “ میں جارہی ہوں لیکن پھر آؤں گی اور آپ کو یہ کرنا پڑے گا۔” وہ جملے کے اختتام تک تیز تیز قدم اٹھاتی لائبریری سے نکل چکی تھی۔

 

زیب النساء کے جانے کے بعد لائبریری میں خاموشی اتری اور مفتی صاحب کے وجود پر بھی چھانے لگی۔ اس کے اثرات مفتی صاحب کے اندر تک پہنچنے لگے۔ مفتی صاحب نے برداشت کرنے کے لیے زور لگایا مگر خود کو بے بس پاکر اٹھے اور نوافل کی ادائیگی میں لگ گئے۔ طلبا جب کتب احادیث اٹھاکر درس لینے کو پہنچے تو مفتی صاحب نوافل میں مشغول تھے۔ سبق پڑھاتے ہوئے آج ان کی یکسوئی مفقود تھی۔ حدیث کی عبارت پڑھتے ہوئے زیب النساء کے الفاظ ذہن میں آتے تھے۔ بار بار” لاحول ولا” پڑھ کر ذہن کو عبارت اور معنیٰ میں لگانے کی کوشش کرتے تھے مگر خیالات انکے قابو میں نہیں آتے۔ دو اسباق سے زیادہ پڑھا نہ پائے۔ اٹھ کر اپنی اقامت گاہ میں چلے گئے۔ تین تسبیحیں پڑھنے کے بعد ذرا جی ہلکا ہوتا محسوس کیا۔ چاردن کے بعد جب جمعے کی صبح مفتی صاحب داڑھی کو مہندی لگانے کی تیاری میں تھے تو زیب النساء پھر نازل ہوگئی۔ زیب النساء پر نظر کیا پڑی مفتی صاحب کو محنت سے پیدا کی ہوئی طمانیت رخصت ہوتی محسوس ہوئی۔ وہ پریشان خیالی میں آگئے۔ زیب النساء بنا کچھ کہے مفتی صاحب کے سامنے بیٹھ گئی۔اس کا چہرہ یوں تھا جیسے اس پر مرگ واقع ہوچکا ہو۔ ہمیشہ سے اس کا اٹھا ہوا چہرہ آج اٹھتا نہ تھا۔ٹھسا غائب اور آنکھیں بے روح تھیں۔مفتی صاحب کو کبھی کوئی میت بھی اس قدر زرد نہ دکھائی دی تھی۔ مفتی صاحب زیب النساء کی مرگ صورت کو وقفے وقفے سے اپنی گری ہوئی آنکھیں اٹھاکر دیکھتے رہے مگر وہ چپ سادھے آنکھیں بند کیے بیٹھی رہی۔تادیر جب مفتی صاحب محسوس کرنے لگے کہ اتنا زمانہ بیت چکا ہے گویا قیامت کا اذن آنے والا ہے۔ زیب النساء نے آنکھیں کھول کر مفتی صاحب کو دیکھا۔ آہستہ آہستہ ان نگاہوں کی گہرائی بڑھتی گئی۔مفتی صاحب کو یوں محسوس ہونے لگا وہ نظریں ان کے گوشت، رگوں اور ہڈیوں کو چیرنے لگی ہیں۔تب زیب النساء اٹھی اور “میں پھر آؤں گی۔” کہہ کر چلتی گئی۔ زیب النساء کے جاتے ہی مفتی صاحب کا جسم جھرجھرایا اور ان کی کمر کمان کی طرح تن جانے کے بعد پیچھے پڑے تکیے پر جا پڑی۔ اس دن مفتی صاحب بہت کچھ بھول گئے۔ مہندی لگانا بھولے۔ زوال کے بعد صلوٰۃ الستبیح پڑھنا بھولے۔ جمعہ نماز پڑھاتے ہوئے بھولے۔ انہیں صرف زیب النساء کی اٹھتے وقت کی برمے کی طرح سوراخ بناتی آنکھیں یاد رہیں۔ رات کو بے چینی بلاتی رہی اور نیند کے کچھ پل ہی ان کے ہاتھ آئے۔ اگلی صبح کو جب وہ شل دماغ کے ساتھ مفلوج بیٹھے تھے تو زیب النساء پھر آن پہنچی۔ آج مفتی صاحب اس کی زبان حال کی شدت سہا ر سکے۔ چیخ پڑے۔ “مائی صاحبہ آپ کیوں میرے ایمان کے درپے ہو گئی ہیں؟ جب میں بتا چکا ہوں کہ میں یہ نہیں کرسکتا، آپ سے نکاح نہیں کرسکتا تو آپ کیوں روز روز آکرمیرے سکوں میں خلل ڈالتی ہیں؟” تب زیب النساء کی کنویں سے آتی آواز ابھرنے لگی۔
“مفتی صاحب آپ نے تو سالوں سے میری حیاتی میں خلل ڈالا ہوا ہے۔ مگر میں نے تو اس کو کبھی آپ کا قصور نہیں سمجھا۔ یہ تو رنگی رب کے رنگ ہیں۔ شکوے کرنے ہیں تو اس سے کریں۔ میں بھی اس سے کرتی ہوں۔ اس نے میرے دل کو بدل دیا تو میں کیا کروں۔ میں نے تو بہت کوششیں کی چھٹکارے کی۔”

 

“مائی صاحبہ یہ نفس کی چال ہے۔ آپ شیطان کے ورغلانے میں نا آئیں۔” مفتی صاحب نے اتنا کہا تھا کہ زیب النساء پہلے دن کے روپ میں آگئیں۔ “مفتی صاحب آپ نے کیا دین پڑھا ہے جو نبی کی سنت کو شیطان کا ورغلانااور نفس کی چال کہتے ہیں؟”زیب النساء کے گرجتے الفاظ مفتی صاحب پر کوڑے کی طرح پڑے۔ “استغفار کریں ایسے الفاظ پر۔” زیب النساء کے الفاظ سن کر مفتی صاحب کے فکر کے زنگ آلود کواڑ جیسے دھڑام سے جا گرے۔ ان کا دل صدق سے استغفار کرنے لگا۔ “مائی صاحبہ خدارا آپ مجھے بخش دیں۔ میں آپ کو ہاتھ جوڑتا ہوں۔” مفتی صاحب کی بے بسی انتہا تک جا پہنچی تھی۔ یہ جملہ کہہ کر وہ تیر کی طرح لائبریری سے باہر نکل جانا چاہتے تھے۔ مفتی صاحب میں پھر آؤں گی۔ ” زیب النساء کا جملہ تعاقب کرتا ان تک پہنچا۔ مفتی صاحب کا وجودجھکڑوں کی زد میں تھا۔ اپنی اقامت گاہ کے فرش پر لیٹے انہیں چین نہ آتا تھا۔ وقفے وقفے سے زیب النساء کا جملہ ” مفتی صاحب آپ نے کیا دین پڑھا ہے جو نبی کی سنت کو شیطان کا ورغلانا اور نفس کی چال کہتے ہیں؟” ان کے دماغ میں کسی توپ کے دھماکے کی طرح گونجتا تھا۔ انہوں نے خواہشوں کے ترک کرنے کو جو اسلام کا جز بنا رکھا تھا اس فکر کی سد سکندری کی طرح موٹی دیوار آج زلزلے کی زد میں تھی۔ وہ پوری کی پوری لرزتی گرتی جا رہی تھی۔ مفتی صاحب کو سمجھ نہ آتی تھی کہ ان سے اتنی بڑی غلطی کیسے ہوئی؟ انہوں نے کیوں نفس کشی کو ہی نیکی وتقویٰ کا معیاربنا لیا؟ انہیں یاد آیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا تھا اسلام میں رہبانیت نہیں۔ پھر حدید سورۃ کی آیت بھی آنکھوں کے سامنے آکھڑی ہوئی۔” رہبانیت ان لوگوں نے خود شروع کی۔ ہم نے ان پر لازم نہیں کی تھی۔”

 

مفتی صاحب کو اپنی جہالت پر رونے کی سوا کوئی راہ نظر نہ آئی۔ وہ عمر بھر کولہو کے بیل کی طرح آنکھوں پر کھوپے چڑھائے خود کو پیستے رہے۔ وہ روتے ہی رہے۔ دل ودماغ ماتم میں مصروف تھے۔ اس دن تدریس پر بھی نہیں گئے۔ اندر کا مفتی انہیں گناہ گار ٹھہراتا، تفسیر وحدیث کے پڑھانے کا قابل نہیں مانتا تھا۔ تب قاری نورالحسن ان کے پاس چلے آئے۔ وہ مفتی صاحب کے دوست اور جامعہ میں شعبہ حفظ سنبھالتے تھے۔ دو بیویوں اور گیارہ بچوں کے باپ قاری نور الحسن درمیانہ سے ذرا کم قد رکھتے تھے۔ ہلکی پھلکی جسامت۔ چہرے پر شرعی داڑھی۔ تسبیح پھرو لئے ہوئے قاری صاحب مفتی سجاد حسین کی اقامت گاہ میں داخل ہوئے۔ مفتی صاحب مصلے پر دو زانو قبلہ رخ ہچکیوں میں تھے۔ نورالحسن ٹھہر گئے کہ مفتی صاحب دعا سے فارغ ہولیں۔ مگر دعا اور ہچکیاں لمبی ہوتی رہیں۔ بالآخر مجبور ہوکر قاری نور الحسن نے بلند آواز سے مفتی صاحب کو پکارا۔مفتی صاحب کو اندازہ ہوا کہ کمرے میں کوئی اور بھی ہے۔ کچھ لمحوں تک وہ آنکھیں بندے کیے ضبط کرتے رہے۔پھر مصلے سے اٹھے۔ قاری نورالحسن نے ان کے چہرے پر گریہ کے واضح آثار دیکھے۔ “کیا بات ہے مفتی صاحب آج آپ تدریس کے لیے بھی تشریف نہیں لائے۔ کوئی پریشانی لاحق ہے؟” قاری نور الحسن کے استفہام کے باوجود مفتی صاحب قاری نورالحسن کو ابھی واقعات سے آگاہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔ مگر پچھلے دنوں سے ان کے اندر میں جو تلاطم تھا اس کی کیفیت اتنی اذیت خیز تھی کہ وہ زبان پر قابو کھوبیٹھے اور انہوں نے ماسٹر رمضان کی آمد سے لیکر زیب النساء کی شدت بھری تقاضا اور اس کی باربار آمد کا تذکرہ کردیا۔ بات کے اختتام تک قاری نورالحسن کی گھنی بھویں آپس میں جا ملی تھیں اورخشونت سے پیشانی بھر آئی تھی۔ “مفتی صاحب یہ آپ پر شیطان کا حملہ ہے۔ وہ آپ کی عمر بھر کی کمائی تباہ کرنا چاہتے ہے۔ چھوڑیں اس کو۔ اس بات سے دور بھاگیں۔” “قاری صاحب میں خود اس سے بھاگ رہا ہوں۔لیکن مائی زیب النساء میرے پیچھے پڑگئی ہے۔ میری جان ہی نہیں چھوڑتی۔” بات ختم کی تو مفتی صاحب کو ایسے لگا جیسے ایسا کہہ کر انہوں نے غلطی کردی ہو۔ “مفتی صاحب وہ تو ہے ہی ایک فاحشہ عورت۔ بدذات۔ کیسی بے حیائی سے خود کو پیش کررہی ہے۔۔آپ نے کبھی دیکھا سنا کہ کسی عورت نے خود کوبے حیاؤں کی طرح جاکے پیش کیا ہو؟ کوئی پاکباز عورت ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔ کسبی عورتوں کا یہ طریقہ ہوتا ہے۔” قاری نورالحسن کا غضب ناک لہجہ تھوکیں اڑا رہا تھا۔ مفتی صاحب کے سامنے زیب النساء کی صورت شکوہ سے آکھڑی ہوئی۔ “مفتی صاحب یہ آپ نے بھری بازار میں میری چادر کو تارتار کرکے رسوائی میں ڈبو دیا۔ میری سالوں کی اطاعت، نیکی، پاکیزگی یوں ایک لمحے میں ملیا میٹ ہوگئی۔” تب مفتی صاحب بول پڑے “ قاری صاحب کچھ دھیان کریں۔ کسی نیک عورت پر ایسے الزام آپ پر زیب نہیں دیتے۔ اور حضرت خدیجہؓ نے بھی رسول اﷲ کو دعوت نکاح بھیجی تھی۔آپ الفاظ کے انتخاب میں محتاط رہیں۔” “استغفراﷲ۔استغفراﷲ” قاری نورالحسن اچھل کر کھڑے ہوگئے۔ “ ایسی پاک ہستی سے آپ ایک بدکردار کو تشبیہ دے رہے ہیں۔ توبہ کریں مفتی صاحب توبہ کریں۔ آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ اس بدذات کو تو شوہر نے بھی طلاق دے رکھی ہے۔ اگر اتنی پاک پوتر ہوتی تو طلاق کیوں ملتی اسے؟ آپ خدا سے معافی مانگیں اور اس عورت سے دور ہو جائیں ورنہ آپ کا دین ایمان لے جائے گی۔” قاری نور الحسن ناراض ناراض سلام کیے بغیر چلے گئے۔

 

دن مفتی صاحب کے لیے دشوار ہوتے چلے گئے۔ان کی سوچیں دائرے میں سفر کرتی رہتیں۔ نکلنے کا راستہ نہ ملتا تھا۔بے چینی جسم کے ارد گرد ہی پھرا کرتی۔کوشش کے باوجود دور نا جاتی تھی۔عبادت میں یکسوئی ختم ہوگئی۔ تدریس میں دھیان نہ لگتا تھا۔ یہی وہ دن تھے جب مفتی صاحب سے نمازیں پڑھاتے سہو سرزد ہونے کی کثرت ہونے لگی۔ ہفتہ ایک بعد زیب النساء نے لائبریری میں پاؤں رکھا تو مفتی صاحب نتیجے تک پہنچ چکے تھے۔ “آپ کا شکریہ کہ آپ نے مجھے جہالت سے نکال لیا۔ مجھے خود پر شرمندگی ہے کہ میں اندھیرے کو روشنی مانتا رہا۔ میں عمر بھر رہبانیت کی سوچیں خود پر سوار کیے یہ سمجھتا رہا کہ یہی دین کی اصل روح ہے۔ میں نکاح سے دور رہ کر فخر کرتا رہا کہ میں نیکی، تقویٰ کا صاحب ہوں۔ مجھے پتا ہی نہیں لگا کہ میں تارک سنت بن گیا ہوں۔ مجھے خود پرشرمندگی ہے۔ بہت شرمندگی۔” مفتی صاحب آج بولتے ہی جارہے تھے۔ “مگر میں یہ عرض کروں کہ میں حلالہ کا نکاح کرنے سے معذور ہوں۔ یہ شرع میں پسندیدہ فعل نہیں ہے۔میں نکاح کروں گا۔ نبی کی سنت کی تابعداری کروں گا۔لیکن میں آپ سے حلالہ کے نکاح کرنے سے معذور ہوں۔”

 

“ مفتی صاحب میری تویہ آرزو ہے کہ میں روز محشر آپ کی منکوحہ بن کر اٹھائی جاؤں۔ میں آپ کے نکاح میں مرنا چاہتی ہوں۔ مجھ سے آپ عقد کرلیں۔ میں حلالہ کا نکاح نہیں چاہتی۔”زیب النساء کی آواز تھرتھرارہی تھی۔ “ آپ کاگھر اور بچے ہیں۔ آپ کا شوہر آپ سے محبت رکھتا ہے۔۔ وہ دوبارہ گھر کو آباد کرنا چاہتا ہے۔ میں اس گھر کو برباد کرنا نہیں چاہتا۔ ” میرا کون سا گھر ہے مفتی صاحب؟ کیا کسی عورت کا گھر بھی ہوتا ہے؟ وہ تو دوسروں کے در پر گذاراہ کرتی ہے۔ باپ کا گھر کچھ اس کا اپنا ہوتا ہے جو اس کے جانے کے بعد بھائی کا بن جاتا ہے۔ بھلا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی عورت باپ کے جانے کے بعد اس گھر کی مالکہ ہوئی ہو؟ اور شادی کے بعد تو وہ شوہر کے رحم وکرم پر گذارتی ہے جو کسی بھی لمحے لات مار کر اسے گھر سے نکال سکتا ہے۔ اور پھر شوہر کے گھر کے مالک بھی بیٹے بن جاتے ہیں۔ گھر کا عورت سے کیا کام مفتی صاحب؟ میرا کوئی گھر نہیں۔ اس لیے آپ اس بات کی فکر چھوڑدیں۔” زیب النساء کی باتوں سے عورت کی بے گھری نمایاں تھی۔ “ مگر لوگ کیا تو یہی کہیں گے کہ مفتی نے ماسٹر رمضان کا گھر اجاڑ دیا۔”

 

“مفتی صاحب لوگ تو خدا اور رسول کے بارے میں بھی کہتے رہتے ہیں۔ آپ لوگوں کی بات نہ کریں۔” زیب النساء یہ بات کہنے کے بعد مفتی صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھنے لگی۔ مفتی صاحب نے جواب سے خود کو معذور پایا۔ “میں روح الامین صاحب سے مشورہ کے بعد آپ کو بتا سکوں گا۔ فی الوقت میں کچھ کہنے کی راہ نہیں پا رہا۔” اس واقعے کے چوتھے دن جب مفتی صاحب پراگندہ خیال سے عاجز ہو گئے۔ دماغ سوچوں کا انبار اٹھانے سے قاصر ہوگیا۔تب اس دن نماز عصر کے بعد مفتی صاحب نے روح الامین سے تخلیہ میں بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ “آپ کے والد گرامی مرحوم حضرت کے مجھ پر صدہا احسانات ہیں کہ انہوں نے مجھے راہ دکھائی اورحیوان سے انسان بنایا۔ خدا انہیں اپنے مقربین کے قرب وجوار میں جگہ عنایت کرے۔ بیشک وہ اسلام کے داعی، مصلح اور کامل شخص تھے۔انکے مجھ پر بے پایاں عنایات رہیں کہ انہوں نے میرے سر پر ہمیشہ اپنا دست شفقت تھامے رکھا۔ حالانکہ اس کا نہ میں اہل تھا نہ حقدار۔ ان کی رحلت کے بعد جس طرح نوجوانی میں آپ کے کندھوں پر بار ذمہ داری ومنصب آیا آپ نے اسے بطریق احسن نبھایا ہے۔ یقیناً آپ کے والد گرامی کی روح کو اس بات پر فخر محسوس ہوتا ہو گا۔ اللہ آپ کی عزت ومرتبے میں اضافہ کرے میں ایک ذاتی مسئلے میں آپ سے رہنمائی چاہتا ہوں۔” مفتی صاحب یہ بات کہہ کر خاموش ہوگئے۔ “حضرت میں تو صرف کوشش کرتا ہوں۔ اﷲقبول فرمائے۔ آپ حکم فرمائیں۔ “ “ ماسٹر رمضان اور اس کی بیوی کی علیٰحدگی کا تو آپ کو علم ہے۔ اب زیب النساء خاتون مجھ سے نکاح کرنے کی خواہش مند ہیں۔ آپ مجھے مشورہ دیں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ آپ اور آپ کا مشورہ میرے لیے محترم ہیں۔ “

 

مولانا روح الامین مفتی صاحب کی بات سن کر اچھنبے میں آگئے۔ “حضرت آپ کی پاکبازی ونیکی تقویٰ کی لوگ قسم کھاتے ہیں آپ اتنی بزرگ ہستی ہیں۔ اگر آپ نے زیب النساء سے عقد کیا تو کل کلاں لوگ زہر اگلتے پھریں گے۔صرف آپ کی ذات پر نہیں بلکہ اس دینی ادارے کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ لوگ تو ویسے ہی دین سے دوری کو اپنائے ہوئے ہیں۔ اور اگر انہیں یہ بات ہاتھ آگئی تو دعوت و تبلیغ کو بڑا نقصان پہنچے گا۔بالخصوص ہمارا مخالف پیر برکت علی ہر جگہ ہر محفل میں ٹھٹھے اڑاتا پھرے گا۔” “مگر میں تو سنت نکاح کرنا چاہتا ہوں۔کوئی غیر شرعی عمل تو نہیں کرنا چاہتا۔” مفتی صاحب نے کمزور لہجے میں مدافعت کی۔ “آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں مگر حالات اور معاشرے کو بھی دیکھ کر چلنا پڑے گا۔ ورنہ والد گرامی کی محنت اکارت چلی جائے گی۔ کیونکہ آپ کی ذات اور ارادہ الگ الگ نہیں ہیں۔ اس لیے میرے نزدیک یہ بات مناسب نہیں۔ باقی آپ کے عقد کا خیال صائب اور مناسب ہے۔ کوئی اچھا رشتہ دیکھ کر یہ سنت جلد پوری کی جائے گی۔میں خود بھی اس بارے میں کوشش کرلیتا ہوں۔” مولانا روح الامین کی اس بات کے بعد گفتگو کی گنجائش نہ رہی تھی۔ مفتی صاحب کو ان کی باتوں میں وزن بھی نظر آیا۔ لہٰذا وہ کہہ کر اٹھ پڑے “بہت بہتر مشورہ ہے۔۔آپ نے صحیح فرمایا ہے۔ یہی ٹھیک رہے گا کہ عقد کے لیے کوئی اور رشتہ دیکھا جائے۔” مفتی صاحب کی بات کے بعد روح الامین نے بھی راحت محسوس کی۔ “آپ بے فکر رہیں۔ لوگ تو نیک رشتوں کی تلاش میں پریشان رہتے ہیں۔ جلد ہی کوئی اچھا رشتہ ڈھونڈ کر آپ کو اطلاع کروں گا۔”

 

مفتی صاحب کو اب زیب النساء کو جواب دینے کا مشکل مرحلہ عبور کرنا تھا۔مگر روح الامین کی باتوں کے بعد وہ یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ ان کے کسی فعل کی وجہ سے ادارہ پرایسا وقت آئے جس میں ان پر اتہام آئے یا دین کو بدنام کیا جائے۔ چند ایک دن کے بعد انہوں نے زیب النساء کو پیغام بھیجا۔ زیب النساء گویا اڑتی آپہنچی۔ “مائی صاحبہ میرا خاندان دنیادار اور ظاہر پرست تھا۔ عزیز رشتہ داروں بشمول والد صاحب کا دین ایمان سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا۔ بلکہ میں یہاں تک کہوں کہ وہ صرف کلمہ گو تھے اور روایات کو ایمان کا درجہ دیتے تھے۔ حضرت عبداﷲ فاضلی مرحوم کو اﷲ غریق رحمت کرے انہوں نے مجھے روشن راہ دکھائی۔ شرعی علوم سے آراستہ کیا ورنہ میں بھی آج بھنگ افیون کا چسیارا ہوتا اور سور وں، کتوں کی لڑائیاں کرواتا ہوتا۔ مرحوم حضرت عبداﷲ نے مجھے دینی کام میں اپنا شریک کیا اور جامعہ ہٰذا میں اہم ذمہ داریاں سونپیں۔۔ میری جو بھی عزت وحیثیت ہے وہ اس ادارے کی وجہ سے ہے۔ اور میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے ادارے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی ہو۔ میں اگر آپ سے عقد کرتا تو مخالفین کو ایک ذریعہ ہاتھ لگ جائے گا جس کے بعد وہ اس ادارے کو بد نام کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس لیے میں خود کو معذور سمجھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ بھی مجھے معذور سمجھیں گی۔”

 

مفتی صاحب نے بات ختم کی تو زیب النساء کو یوں لگا کہ جیسے اس کی رگوں شریانوں میں دوڑتا خون منجمد ہوگیا ہو۔ اس نے اپنے دماغ میں گھپ اندھیرا پھیلتا محسوس کیا۔۔ چاروں اطراف روشنیاں خستہ اور کمزور ہو کر رہ گئیں۔ “مگر مفتی صاحب۔” زیب النساء نے بولنا شروع ہی کیا تھا کہ مفتی صاحب نے اس کی بات قطع کرکے قطعی لہجے میں مخاطب ہوئے۔ “دیکھئے آپ میرے نزدیک بہت معتبر ہیں۔ مگر ادارے کے تقدس وعظمت پر کچھ گوارا نہیں کرسکتا۔ اور اگر میری ذات کی وجہ سے دین پر کوئی حرف آئے میں اس سے پہلے مرنا پسند کروں گا۔ میں آپ سے معافی مانگتا ہوں۔آپ مجھے معذور سمجھیں۔” مفتی صاحب نے زیب النساء کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔ “ نہیں مفتی صاحب نہیں۔ خداکے لیے نہیں۔” زیب النساء نے مفتی صاحب کے جڑے ہاتھوں کو بے اختیار تھام کر کھولتے ہوئے کہا۔۔ “آپ مجھے اتنا ذلیل نا کریں کہ میں زندہ ہی رہ نہ پاؤں۔ بس جیسے آپ کی مرضی۔” زیب النساء اٹھی اس کے چہرے پر مقتل گاہ کی طرف جاتے ہوئے سزائے موت کے قیدی کی طرح ناامیدی واضح تھی۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں کے چلتی اوجھل ہو گئی۔ مفتی صاحب نے اسے جاتے ہوئے دیکھ کر اپنے اندر اذیت کی لہر جسم میں چمکتی بجلی کی طرح پھیلتی محسوس کی۔ زیب النساء کے لوٹ جانے کے بعد مفتی صاحب پر بے کلی ہر وقت سوار رہنے لگی۔ وقت بے وقت زیب النساء کی یاد آجاتی اور دل سے ٹیسیں اٹھنے لگتیں۔ انہیں زیب النساء کو چھوڑ دینا غلط محسوس ہونے لگتا۔ مگر پھر دماغ تسلی دینے لگتا اور ان کے فیصلے کے نتائج سے آگاہ کرتا مگر دل دماغ پرحاوی ہوتے ہوئے بغاوت کا علم بلند کرنے لگتا۔ راتوں کی نیند روٹھی ہی رہتی اور انہیں تنہائی گلا گھونٹ کر مارنے کو آجاتی۔ اس صورتحال پر نجات کا ایک ہی راستہ انہیں سوجھتا کہ جلد عقد کرلیا جائے۔ مولانا روح الامین کے پاس مجبور ہو کر جا پہنچے” میں بے وقت تکلیف پر شرمندہ ہوں مگر کافی دن بیت چکے تھے۔میں نے سوچا ملاقات کے ساتھ آپ سے اس عاجز کے عقد کے متعلق دریافت کر لیا جائے۔ اس لیے حاضر ہو گیا۔”

 

“قبلہ آپ کی مہربانی کی آپ نے شرف زیارت بخشا۔ میں پوری کوشش کررہا ہوں کہ مناسب رشتہ مل سکے۔ ایک دو احباب سے بھی کہا ہے۔ جیسے ہی کوئی ایسی مثبت بات ہوگی میں خود عرض کروں گا۔” مولانا روح الامین کی بات سے مفتی صاحب کو تسلی نہ ہوپائی مگر حضور شرم کے مارے واپس ہو گئے۔ بے چینی تھی کہ انتہا کو چھوتی رہتی۔ چین کا کہیں نام نہ تھا۔ نماز پڑھتے ہوئے تو غلطیاں ہوتی رہتیں مگر اب تدریس وعبادات بھی چھوٹنے لگیں تھیں۔ مفتی صاحب خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتے رہتے مگر قوت ضبط ان کے اختیار سے نکلتی جارہی تھی۔ دو دن کے بعد مفتی صاحب خود کو روکتے روکتے پھر مولانا روح الامین کے پاس جا نکلے۔ “مولانا صاحب میرے معاملے میں کچھ پیش رفت ہوئی؟” روح الامین تب تک اپنے تئیں اچھی خاصی کوشش لے چکا تھا مگر صورتحال مایوس کن تھی۔ بھلا مفتی صاحب کی پچاس پچپن کی عمر۔ نہ اپنا گھر ناہی کوئی بہتر معاشی حالت۔ ایسے میں جن سے بھی بات کی گئی کوئی امید افزا جواب نہیں ملا تھا۔ روح الامین مفتی صاحب کو مایوس نہیں کرنا چاہتا تھا۔ “حضرت کوشش لے رہے ہیں۔ انشاء اﷲ کوئی تدبیر نکل آئے گی۔” مفتی صاحب کے جانے کے بعد مولانا روح الامین نے قاری نور الحسن کو مشاورت کے لیے بلا لیا۔ “ قاری صاحب حضرت مفتی صاحب عقدمسنونہ کی خواہش رکھتے ہیں۔ان کے رشتے کے لیے جن سے بھی بات کی ہے وہ مفتی صاحب کی بڑی عمر اور گھر گھاٹ نہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہیں۔ کوئی مثبت جواب نہیں مل رہا۔میں پریشان ہوں کہ مفتی صاحب کے معاملے کو کیسے حل کیا جائے۔؟ “

 

“ آپ پریشانی نہ لیں۔مفتی صاحب کو اس عمر میں اب اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ نجانے انہیں کیا ہوگیا ہے کہ اب دنیا میں گھر بسانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اب تو انہیں اخروی دائمی گھر کی توجہ کرنی چاہیے۔ آپ ہی انصاف کریں کوئی اپنی بچی کا مستقبل خراب کرے گا؟” “قاری صاحب کہتے توآپ ٹھیک ہی ہیں مگر جب مفتی صاحب مجھ سے معلوم کرنے آئیں تو میں کیا جواب دوں؟ میرے تووہ محترم اور استاد بھی ہیں۔”

 

“جناب آپ دلاسہ دیتے رہیں۔ یہ شادی کا بھوت کچھ ہی عرصہ میں اتر جائے گا۔” قاری نور الحسن کی بات مولاناروح الامین کو بھی ایک حل دے گئی۔ جب پھر مفتی صاحب مولانا روح الامین کے پاس آئے تو انہوں نے قاری نورالحسن کی بات ذہن میں لاتے ہوئے انہیں دلاسہ دیدیا۔ “جی حضرت کچھ رشتے ہیں میں جلد آپ کو آگاہ کردوں گا۔ “ مگر یہ جلد نہ آنا تھا۔ دن گذرتے گئے۔مفتی صاحب صبر حوصلہ ہارتے گئے۔۔ نوبت یہاں تک جا پہنچی کہ مفتی صاحب آنے جانے والے اورعام ملاقاتیوں سے بھی اپنی شادی کے لیے رشتہ دیکھتے کی تقاضہ کرنے لگے۔۔ لوگوں کے اندر مفتی صاحب کی پرتقدس شخصیت کا پرتو آہستہ آہستہ اترنے لگا۔۔ لوگ جہاں بھی مفتی صاحب کو دیکھتے آپس میں معنی خیز نظروں کا تبادلہ کرتے۔ طلبا کو جس دن مشکل سبق درپیش ہوتا وہ مفتی صاحب کے رشتے کی بات نکال لاتے اور پھر سارا وقت مفتی صاحب کے لیے رشتے دیکھے جاتے۔ بحث ومباحثہ ہوتا۔۔ شریر طلبا تو طنز بھی کر دیتے مگر مفتی صاحب طنز وطعنوں سے بے خبر اپنی دنیا میں مست رہتے۔ نماز کے دوران غلطیوں کی کثرت ہوگئی۔پہلے جو لوگ مفتی صاحب کے ادب میں زبان دانتوں تلے رکھتے تھے اب ان کی زبانیں گز بھر لمبی ہوگئیں تھیں۔ خصوصاً حاجی نزاکت پیٹھ پیچھے تو چھوڑیے سامنے بھی کبھی گستاخی بھرا جملہ نکال دیتا۔۔

 

خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ بعض منچلوں نے مفتی صاحب کی دل میں یہ بات ڈال دی کہ شوکت تاجر، رانا جلال الدین، ذاکر اﷲ خان اور قاری نورالحسن کے گھروں میں جوان رشتے موجود ہیں مگروہ ان کا رشتہ کروانے میں تساہل برت رہے ہیں اور مولانا روح الامین نے تو رانا صلاح الدین اور قاری نورالحسن کو مفتی صاحب کے رشتے کے لیے کہا بھی مگر انہوں نے صاف جواب دے دیا۔ مفتی صاحب جونہی جمعہ کے خطبے کے لیے منبر پر بیٹھے انہوں نے بیٹیاں گھر بٹھا کے ان کے رشتے نہ کروانے والوں کی خوب مذمت کی اور ایسے افراد کو نار جہنم کا مستحق قرار دیا۔ دوران خطابت انہوں نے صرف نام لینے سے گریز کیا باقی ایسے افراد کی طرف واضح اشارات کیے جو ہر ایک سمجھ سکتا تھا۔ مزید انہوں نے صالح بندوں کے رشتے ٹھکرانے والوں کو بھی وعید سے نوازا۔ رانا صلاح الدین، شوکت تاجر، دوران تقریر بل کھاتے رہے اور ذاکراﷲ خان تو اٹھ کر لڑائی لینا چاہتا تھا مگر قاری نور الحسن نے اسے روکے رکھا۔ جمعے کے بعد غصے سے بھرے یہ افراد مولانا روح الامین کے پاس جا پہنچے۔ “مولانا صاحب ہم مسجد ومدرسے کی قدیمی زمانہ سے خدمت کر رہے ہیں۔ ہم یہاں دین حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔مفتی صاحب کی باتیں آج آپ نے بھی سن لیں۔ اس نے سربازار ہماری پگڑیاں اچھالی ہیں۔ اس نے یہ تک کہا کہ مسجد کے پڑوس میں آباد زمیندار اپنی چار بیٹیوں کے رشتے نہیں کرتا اور اپنی ذات برادری کے باہر رشتہ کرنے کو بے غیرتی سمجھتا ہے۔ ایسے لوگ سن لیں کہ نبی آخرالزماں ذات پات رنگ ونسل کو ختم کرنے آئے تھے۔ یہ بات ہے جمعے کے خطبے میں کرنے کی؟ یہ ہے مفتی آپ کا جو مسجد میں بیٹھ کر ہمیں ذلیل کرتا ہے؟ اگر اس کو آپ نے امامت وخطابت سے نہ ہٹایا تو میرا اس مسجد میں پاؤں رکھنا حرام ہے۔”رانا صلاح الدین نے بات ختم کی تو ذاکر اﷲ خان شرع ہوگیا۔ “مولانا صاحب یہ مفتی ہماری بچیوں پر خراب نظر رکھتا ہے۔ خدا کی قسم ہم نے اسے اس کی داڑھی کی وجہ سے بخش دیا۔ ورنہ گولی مارنے کو دل کرتا ہے۔ آپ اس کا بندوبست کرو۔”

 

مولانا روح الامین ان کے چہروں کے بگڑے زاویے اور بدلتے لہجوں سے پریشان ہوگئے۔ یہ لوگ مخیرین کی صف اول میں سے تھے لہٰذا روح الامین کو فیصلہ کرنے میں دقت پیش نہ آئی۔ “ آپ سے معذرت کرتا ہوں کہ آپ نیک دوستوں کو ذہنی اور روحانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ مفتی صاحب کی صحت بھی اب ٹھیک نہیں رہتی۔ نماز پڑھانا بھی ان کے لیے دشوار لگتا ہے۔ آپ بے فکر رہیں۔اب امامت کی ذمہ داری قاری نورالحسن کو تفویض کیے دیتے ہیں۔ اور خطابت میں خود نبھاؤں گا۔” “آپ مفتی کو سمجھائیں بھی۔ آج کل جس طرح کی باتیں ان کے بارے میں سننے کو ملتی ہیں وہ نیک لوگوں کا شیوہ نہیں۔ جہاں بھی بندہ بشر دیکھتے ہیں اسے پکڑ کر اپنا رشتہ کروانے کی التجائیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ یہ تو کوئی تک ہے؟ ہم تو ان کو نیک و کار پرہیزگار سمجھتے تھے یہ کیا نکلے؟ “رانا صلاح الدین کا غصہ کم ہونے کو نہیں آ رہا تھا۔ “میں انہیں ضرور سمجھادوں گا۔ آپ کو آئندہ شکایت نہیں ہوگی۔” اسی روز ہی مفتی صاحب سے امامت و خطابت واپس لے لی گئی مگر انہیں کوئی دکھ تکلیف محسوس نہ ہوئی۔ ان کی ساری توجہ اسی طرف ہی تھی کہ کسی بھی طرح ان کے عقد نکاح کا بندوبست ہوپائے۔ایک طرف تو وہ سنت کی تکمیل کرنا چاہتے تھے دوسری طرف ان کے اندر فطری جنسی خواہش بہت شدت سے ابھرتی تھی۔ یہ خواہش پہلے بھی ان کے اندر سر اٹھاتی رہتی تھی مگر وہ اس کو نفسی کشی کے ہتھیار سے کچل ڈالتے تھے۔ مگر اب معاملہ دوسرا تھا۔ ان کو اپنی راتیں محرومی سے بھری دکھائی دیتیں۔ خالی پہلو ان کو نیند نہ کرنے دیتا تھا۔ آدھی آدھی رات کو وہ اٹھ کے نلکے کے نیچے جا بیٹھتے اور کئی گھنٹے بیٹھے نہاتے رہتے۔ اچانک ایک دن زیب النساء کی موت ہوگئی۔ صحت مند، تندرست، گھومتے پھرتے اچانک گریں اور رخصت ہوگئیں۔ مفتی صاحب جو والد اور والدہ کے انتقال پر بھی رونے سے پرہیز کرتے رہے تھے۔ وہ تڑپ تڑپ کر روئے۔ کوئی انہیں حال دل سننے والا ہمراز نہ ملا تھا جس کے ساتھ وہ اپنا غم بانٹ سکتے۔ زیب النساء کی موت کے بعد وہ اس صدمے سے بیمار پڑے۔بیماری سے اٹھے تو بلکل کمزور اور نقاہت سے بھرا جسم لے کر اٹھے۔ خود کلامی کی وصف ان میں پیدا ہوگئی تھی۔ لائبریری ہو، مسجد یا اقامت گاہ۔ وہ بیٹھے خود سے باتیں کرتے رہتے۔ ایک دو اسباق ہی پڑھا پاتے اور پھر بیٹھے خلاؤں میں گھورتے رہتے یا لائبریری میں پڑی چٹائی کے تنکے نکال کر سامنے ٹیبل پر خیالی انداز میں لکھتے رہتے۔ اگر ان دو کاموں سے علیحدگی ہوتی تو بیٹھے کتابوں، الماریوں سے مخاطب ہوکر ان کو نصیحتیں کرتے رہتے۔ مفتی صاحب کی تقدس بھری قدر آور شخصیت نے لوگوں کے دلوں میں بونے کا روپ دھار لیا تھا۔

 

ان کی ذات ٹھٹھے مذاق اڑانے کے ہی کام آتی تھی۔ مولانا روح الامین اب ان سے تنگ آچکا تھا مگر وہ انہیں ادارے سے نکال باہر کرنے کا راستہ نہ پاتا تھا۔ زیب النساء کے جانے کے بعد اب مفتی صاحب کے کھانے میں بھی فرق آگیا۔ پہلے جو وقت مقررہ پر کھانا پہنچتا تھا اب مدرسے کا کوئی طالب مدرسے میں پکنے والا کھانا پہنچا کے جاتا۔ کبھی دیر کبھی سویر۔ مفتی صاحب کو اب اشتہا بھی باقی نہ رہی تھی۔ کبھی کھاتے کبھی یونہی رکھا ہوا کھانا صبح کو طالب سمیٹ کر لے جاتا۔کھانے میں بے اعتدالی نے جسم کو نقاہت سے جکڑ لیا۔ مفتی صاحب دنوں میں بوڑھے ہونے لگے۔ اعضاء نے جواب دینا شروع کیا۔ مگر مفتی صاحب کی شادی کی خواہش ابھی بھی برقرار تھی۔ بلکہ جوان ہوتی جارہی تھی۔ جب بھی لڑکے بالے ان کے ساتھ بیٹھ کر تفریحاً ان کی شادی یا کسی رشتے کا تذکرہ چھیڑتے مفتی یاصاحب کی آنکھیں دمکنے لگتیں اور بیٹھے ہشاش بشاش ہوجاتے۔ زیب النساء کے جانے کے چھٹے ماہ جب مفتی صاحب کا جسم فکرات اور صدموں میں بوسیدہ ہوچکا تھا۔تب وقت ظہر وضو کرنے کے لیے جاتے وضوخانہ کے فرش پر لڑکھڑاتے جا گرے۔ ابھی ادھر سے بھاگتے طلباء نے جب تک انہیں سنبھالا وہ بے ہوش ہوچکے تھے۔ اس بار بیماری کی شدت بلا کی تھی۔ ہفتہ دس دن کے بعد بھی مفتی صاحب کا سنبھلنا مشکل دکھائی دے رہا تھا۔ مولانا روح الامین نے مفتی صاحب کے گاؤں ان کے چھوٹے بھائی کو پیغام کیا۔ سکیلدھو جو گاؤں میں ہی رہتا اور زمینداری کرتا تھا، جب پہنچا تو مفتی صاحب کو کمزوری اور ضعف کے عالم میں بے سروسامانی کے ساتھ کمرے میں چٹائی پر پڑے دیکھ کر سکیلدھو کے آنسو ٹپک کر اس کی بڑی بڑی مونچھوں پر آرکے۔ اس نے کسی سے بات کیے بغیر مفتی صاحب کو اٹھوایا اور گھر لے کر چلا گیا۔ دوماہ کے مسلسل علاج معالجے کے بعد مفتی عبدالجبار اس قابل ہوئے کہ خود اٹھ بیٹھ سکیں اور چل سکیں۔ ان دو ماہ میں سکیلدھو دن رات مفتی صاحب کی خدمت میں مشغول رہا۔ اس کی بیوی بچوں نے بھی مفتی صاحب کی بہت خدمت کی۔ انہی دنوں میں جب مفتی صاحب نیم بے ہوشی میں ہذیاں بولتے رہے تو سیکیلدھو ان کی زبانی شادی کی تیاریاں اور زیب النساء کا ذکر سنتا رہا۔ جس دن مفتی صاحب کی تندرستی کا یقین ہوا سکیلدھو مفتی صاحب کے سامنے آ بیٹھا۔ “بھائی صاحب مولا کا شکر ہے اب آپ ٹھیک ہیں۔یہ میں آپ کی زبان سے زیب النساء اور شادی کے قصے سنتا رہا۔ یہ کون ہے اور شادی کی کیا بات ہے؟ “ مفتی صاحب کو پہلی بار کوئی دکھ درد سننے والا ملا تھا۔ انہوں نے اپنی سارے دکھ تکلیفیں دل سے نکال کر سکیلدھو کی جھولی میں رکھ دیں۔مفتی صاحب کی محرومیوں نے سکیلدھو کے دل پر بھاری سل دھر دی۔ اندرونی کیفیت بیابانی سے بھر گئی۔ اسے یوں لگا جیسے مفتی صاحب تپتے صحرا میں پیاس سے نڈھال بے دم ہونے والا ہو۔

 

سکیلدھو بول پڑا۔ “ بھائی صاحب یہ گھر یہ زمینیں ان میں آپ کا برابر کا حصہ ہے۔ آپ کے لیے ہزاروں رشتے۔آپ یہیں رہیں اور میں آپ کی شادی کرواؤں گا۔ سکیلدھو کی پر عزم آنکھیں اور صادق لہجہ سن کر مفتی صاحب کی دل میں امید کی کونپل اگ آئی۔ سکیلدھوجی جان سے اپنے بھائی کے لیے رشتہ ڈھونڈنے میں جت گیا۔ گاؤں، رشتے دار، آسے پاسے۔ ہر طرف اس نے کوششیں کرلیں مگرکوئی امید آسرا نہ ملا۔مفتی صاحب اپنے فرقے کی وجہ سے عزیز واقارب کے لیے غیر بن چکے تھے۔ ہر دروازے، ہر چوکھٹ سے سکیلدھوکو مایوسی ملی۔لوگ کہتے “سکیلدھو تو تو ہمارا اپنا ہے۔ مگر مفتی سجاد ہم میں سے نہیں رہا۔ تو اگر اپنے لیے کہے تو ہم حاضر ہیں مگر مفتی سجاد حسین کو رشتہ دے کر ہم مولا کے سامنے کیا منہ لے کر جائیں گیں؟” سکیلدھو اس بات پر چپ سادھ لیتا۔ جواب دیتا تو کیا دیتا۔ وہ خود بھائی کی محبت میں مولا کے سامنے اپنے آپ کو شرمندہ پاتا تھا۔ جب سب دروازے بند پائے تو سکیلدھو مفتی سجاد حسین کے آگے آحاضر ہوا۔ “بھائی جی میں نے ہر شاخ ، ہر درخت میں رسی ٹانگنے کی کوشش کی مگر لوگ ماننے سے منکر ہیں۔ وہ کہتے ہیں مفتی ہم میں سے نہیں ہے۔ ہر ایک طرف سے امید کا دامن کھوکر میں تمہارے سامنے ایک درخواست لے کر آیا ہوں۔ لوگوں کا مذہب اپنا ہے۔ تمہارا مذہب اپنا ہے۔ مگر میرا کچھ اور ہی ہے۔ میری چھوٹی بیٹی سکینہ ،جس کو بالغ ہوئے دو تین سال ہوگئے ہیں۔ وہ کسی کی منگ بھی نہیں ہے۔اس سے تم شادی کرلو۔ گھر کی بات گھر تک رہے گی۔۔کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا۔” سکیلدھو کے الفاظ مفتی صاحب کے کانوں سے جسم میں داخل ہوئے اور انہوں نے اس کی رگوں اور شریانوں کو پھاڑ ڈالا۔ مفتی صاحب کو یوں لگا جیسے اس کا دماغ ہزاروں لاکھوں چھوٹے چھوٹے ذروں میں تقسیم ہو گیا اور ا س کے روئیں روئیں سے بہہ نکلا ہو۔ مفتی صاحب نے جنون کے عالم میں اپنا لوتھڑا بنا جسم اٹھایا اور سکیلدھو کو سجدے کرنے شروع کردیے۔۔ چار سجدوں کے بعد اس کے حلق سے بے اختیار زمیں لرزا دینے والی چیخ نکلی۔ آواز فضا کو دہلاتی اوپر اٹھی توگھر کے چوبارے پر بیٹھے کبوتروں میں سے دو کبوتر قلابازیاں کھاتے زمین پر آگرے اور ٹھنڈے ہوگئے۔ مفتی نے ٹوپی اتارکر کچی مٹی کے فرش پر پھینکی۔اپنی ابھری ہوئی نسوں والے لرزتے ہاتھوں سے گریبان کو پکڑ کر دو حصوں میں چیر دیا اور بھاگتا ہوا ڈیوڑھی میں سے گذر کر گم ہوگیا۔