Categories
شاعری

بے کار مشغلوں کا گیت (سرمد صہبائی)

پرندے کی چہک لے کر
اسے سیٹی بنا لینا
ہوا کے ایک جھونکے کو
کبھی موسم بنا لینا
کبھی کھڑکی کے شیشوں پر
برستی بارشوں سے اک ذرا سی بوند لے لینا
اسے جگنو بنا لینا
کسی چھوٹی سی خواہش سے یہ دل آباد کر لینا
کبھی خوابوں کے پھولوں کو
سرہانے رکھ کے سو جانا
کبھی تنہائیوں کو اوڑھ کر چپکے سے رو لینا
اکیلے میں ستاروں کو
کبھی ہمراز کر لینا
کبھی آوارہ پھرتی رات کو مہمان کر لینا
کبھی پیڑوں کو ہمسایہ بنا لینا
کسی ساحل کے پتھر کو کبھی ہمراہ کر لینا
اسی سے کھیلتے پھر گھر کے دروازے پہ آ جانا
اسے کچھ سوچ کر اندر بھی لے آنا
پرانی یاد کے ٹکڑوں سے اک مفلر بنا لینا
ادھوری خواہشیں بے نام نظموں میں چھپا کر
کاغذی چڑیاں بنا لینا
انہیں پھر شہر کی گلیوں مکانوں میں اڑا دینا
یونہی بے کار سے ان مشغلوں سے
دل کو بہلاتے گزر جانا

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: جیون ایک دھمال (سرمد صہبائی، پٹھانے خان)

جیون ایک دھمال اُوسائیں
جیون ایک دھمال

تن کا چولا لہر لہو کی
آنکھیں مِثل مَشال
جیون ایک دھمال

سانولے مکھ کی شام میں چمکے
دو ہونٹوں کے لعل
جیون ایک دھمال

وصل کی برکھا باندھ کے نکلی
ست رنگا رومال
جیون ایک دھمال

کس کے دھیان کی رُت میں ڈولے
من کی کچی ڈال
جیون ایک دھمال

تیری چال کی سنگت کرتی
دھڑکتے دل کی تال
جیون ایک دھمال

آنکھوں میں دیدار کی مِستی
تن میں لہو بھونچال
جیون ایک دھمال

سانجھے دُکھ سُکھ سانجھا اَن جَل
سانجھ مویشی مال
جیون ایک دھمال

کِن گہری مُشکی راتوں کے
بھیدی کالے بال
جیون ایک دھمال

سرمدؔ یار تمھیں ہو رانجھو
ملے جو ہیرؔ سیال
جیون ایک دھمال او سائیں
جیون ایک دھمال

Categories
شاعری

تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا (سرمد صہبائی)

تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا
تیری چھتوں پر بھی تو پھیکی زرد دوپہریں اُتری ہوں گی
تیرے اندر بھی تو خواہشیں اپنے تیز نوکیلے ناخن کھبوتی ہوں گی
تو نے بھی تو رُوئیں رُوئیں میں موت کو چلتے دیکھا ہو گا
آہستہ آہستہ جیتے خون کو مرتے دیکھا ہو گا
گُھٹی ہوئی گلیوں میں تو نے
تنہائی کو ہچکیاں لیتے سُنا تو ہو گا
تیری پتھرائی آنکھوں نے
اک وہ خواب بھی دیکھا ہو گا
جس کے خوف سے تیرا دل بھی زور زور سے دھڑکا ہو گا
ناآشنائی کے شہروں میں
اپنے بدن کی تنہائی سے لپٹ لپٹ کر رویا ہو گا
جھوٹے دلاسوں کی چادر کو تُو بھی اوڑھ کے سویا ہو گا
میں نے تجھے پہچان لیا ہے
تُو نے بھی تو مجھے کہیں پر
اس سے پہلے دیکھا ہو گا
Image: Cheenu Pillai

Categories
تبصرہ

ماہِ میر آخر کون سے میر تقی میر پر بنائی گئی؟

ماہِ میر فلم میں اردو کے عظیم شاعر میر تقی میر کی زندگی کو دورِ حاضر کے ایک شاعر جمال کی زندگی سے ملا کر دکھایا گیا ہے۔ یوں یہ فلم تمام کی تمام میر تقی میر کی زندگی پر تو نہیں، لیکن اس میں میر تقی میر کی زندگی کی جھلکیاں بھی دکھائی گئی ہیں۔ میر کے بعض قصے تو محمد حسین آزاد کی کتاب ’آبِ حیات‘ کی وجہ سے ادبی حلقوں میں زباں زدِ خواص و عوام ہیں، جو اس فلم میں بھی سموئے گئے ہیں، مثلاً میر کی جانب سے یہ کہنا کہ فی زمانہ صرف دو شاعر ہیں، ایک وہ خود اور دوسرے میرزا سودا۔ میر درد آدھے شاعر ہیں اور میر سوز کو بھی شامل کر لیجیے تو یہ پونے تین ہو گئے۔ پھر وہ قصہ کہ نواب صاحب ان کے شعر سنتے ہوئے مچھلیوں سے کھیلنے میں مگن ہیں۔ مگر کچھ واقعات ایسے شامل کیے گئے ہیں جن کا میر تقی میر کی زندگی سے واسطہ نہیں۔ مثلاً میر تقی میر کو عالمِ نوجوانی میں لکھنو کے نواب آصف الدّولہ کے دربار سے وابستہ دکھایا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میر صاحب جب لکھنو گئے تو ان کی عمر ساٹھ سال ہو چکی تھی۔ میر کی جس محبوبہ کو نواب آصف الدولہ کے دربار سے وابستہ بتایا گیا ہے ان کا کوئی وجود نہیں تھا۔ میر اپنی زندگی میں ایک سے زیادہ خواتین سے محبت کے رشتے میں منسلک ہوئے۔ ان میں سے وہ خاتون جن کا نام ’مہتاب‘ بتایا جاتا ہے ان کے بارے میں میر کے سوانح پر کام کرنے والوں کا کہنا یہ ہے کہ اس کا تعلق میر اور ان کے ماموں سراج الدین علی خان آرزو کے گھرانے سے تھا اور میر کے اپنے ماموں سے اختلافات کا ایک سبب وہی بنی تھیں۔ یہ بھی ثابت نہیں کہ ان کا نام ’مہتاب بیگم ‘ ہی تھا۔ میر نے اپنی مثنوی ’خواب و خیال ‘ میں اس ابتدائی محبت کا ذکر کرتے ہوئے ابتداء یوں کی ہے کہ انھیں عالمِ جنون میں اپنی محبوبہ کی شکل مہتاب میں نظر آتی تھی اس لیے بعض محققین نے ان کی محبوبہ کا نام ’مہتاب بیگم‘ بتایا ہے۔ چلیے اتنا تو ٹھیک ہے لیکن جب مہتاب بیگم نواب آصف الدولہ کے دربار سے وابستہ نہیں تھیں تو نواب صاحب ان کو پروپوز بھی نہیں کر سکتے تھے جیسا کہ اس فلم میں دکھایا گیا ہے۔ جب میر کی نواب آصف الدولہ سے ملاقات ہوئی تو وہ جوان نہیں بل کہ بزرگ تھے اور میر کی زندگی میں ہی ان کی وفات بھی ہو گئی، مگر فلم میں نواب آصف الدولہ کو جوان دکھایا گیا ہے۔

ہاں میر کی زندگی میں آنے والی ایک اور خاتون کا ذکر شمس الرحمان فاروقی نے اپنے ایک افسانے میں کیا ہے۔ ’نورالسعادۃ‘ نامی اس خاتون کا تعلق ناچنے گانے والوں سے ہے۔ امکانی طور پر یہ سارا قصہ فاروقی صاحب کے فکشن نگار ذہن کا کرشمہ ہے۔ سرمد صہبائی نے اگر اس افسانے سے استفادہ کیا بھی ہے تو اسے تسلیم کرنے سے گریز کیا ہے۔ اگر وہ اس کہانی سے استفادہ کرنا ہی چاہتے تھے تو پوری طرح کرتے، اس طرح کہانی میں وہ جھول پیدا نہ ہوتے جو فلم میں بہت واضح طور پر نظر آتے ہیں۔

فلم میں معروف شاعر انشاء اللہ خاں انشاء میر سے ملنے آتے ہیں تو میر انھیں اپنی مثنوی کے کچھ اشعار سناتے ہیں۔ ان اشعار میں کتوں کا ذکر ہے۔ اب جانے یہ ڈائریکٹر کی کارستانی ہے یا مصنف کی، کہ میر صاحب کتوں سے متعلق یہ اشعار سناتے ہوئے چہرے پر ایسے تاثرات پیدا کرتے ہیں اور لہجے کے اتار چڑھاو میں ایسا طنز پیدا کرتے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سید انشاء کو بھی کتوں میں شامل کر رہے ہیں۔ میر کو سید انشاء سے جس انداز سے بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے وہ بھی نہ میر کے شایانِ شان ہے نہ سید انشاء کے۔ سید انشاء اللہ خاں انشاء اپنے عہد کے صرف معروف شاعر ہی نہیں تھے بلکہ بہت بڑے عالم بھی تھے۔ کئی زبانیں جانتے تھے۔ اردو قواعد پر ابتدائی کام انھوں نے کیا اور ایک مرتبہ جب بات چھڑی کہ اردو میں فارسی عربی الفاظ کی بھرمار ہے تو ’رانی کیتکی کی کہانی‘ کے نام سے ایک داستان لکھی جس میں ایک بھی لفظ عربی یا فارسی کا نہیں تھا۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ میر تقی میر جیسا شاعر انشاء اللہ خاں انشاء کے مقام سے آگاہ نہ ہو، چہ جائے کہ انھیں سید انشاء سے بدتمیزی کرتے بلکہ انھیں کتے سے تشبیہ دیتے ہوئے دکھایا جائے۔ اگر مصنف یا ڈائریکٹر کو یہ دکھانا ہی تھا کہ میر اپنے دور کے شاعروںسے بے دماغی برتتے ہیں تو انھیں چاہیے تھا کہ میر کے ملاقاتی شاعر کا نام کچھ اور رکھ لیتے، انشاء اللہ خاں انشاء نہ رکھتے۔

یہ ذکر تو ہوا فلم کی واقعاتی اغلاط کا۔ فلم میں دو ٹریک ہیں اور دوسرے ٹریک کی کہانی ایک جدید شاعر جمال کے گرد گھومتی ہے جس کی زندگی میر کی زندگی سے مشابہ دکھائی گئی ہے۔ مگر اس ٹریک کی کہانی میں جھول بہت ہیں۔ فلم میں دورِ جدید کے جس شاعر کو دکھایا گیا ہے اس کی زندگی اتفاقات سے بھرپور ہے۔ کہانی میں کئی ایسے خلا ہیں جو کہانی پر بحث کر کے بہ آسانی دور کیے جا سکتے تھے، مگر لگتا ہے کہ ڈائریکٹر نے کہانی کو کسی الوہی تحفے کی طرح قبول کیا ہوا تھا۔ ایسے خلا یا فلاز عموماً ان کہانی کاروں کی کہانی میں نظر آتے ہیں جنھوں نے کبھی کوئی جاسوسی کہانی نہ پڑھی ہو اور صرف خوابوں ہی کی دنیا میں زندگی گزار دی ہو۔ آئیے کہانی کے ان گیپس کا کچھ ذکر کرتے ہیں۔

نوجوان شاعر جمال کو بس میں سفر کے دوران ایک لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے۔ اس لڑکی کا کردار ایمان علی نے ادا کیا ہے۔ لڑکی کے بس سے اترتے ہی جمال اس کا پیچھا کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ نظر سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ پھر حسنِ اتفاق سے وہی لڑکی حلقہ ء اربابِ ذوق کے اس اجلاس میں نظر آتی ہے جس میں جمال اپنا ایک تنقیدی مقالہ پیش کرتا ہے۔ لڑکی جمال کے مقالے سے متاثر ہوتی ہے اور جمال کا موبائل نمبر نوٹ کر کے حلقے کے اجلاس کے دوران ہی وہاں سے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ جمال، جس کی تحریر پر حلقے میں بحث جاری ہے، وہ بھی اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور لڑکی کا پیچھا کرتا ہے۔ کراچی یا لاہور میں حلقہ ء اربابِ ذوق کے اجلاس سے کوئی اور صاحب تو اٹھ کر جا سکتے ہیں مگر خود مصنف کا اٹھ کر جانا ایسا غیر معمولی واقعہ ہوتا ہے کہ اسے واک آئوٹ ہی کہا جائے گا۔ ایسے واقعے کے بعد کوئی اسے منانے نہ آئے، یہ بہت عجیب بات ہے۔ دوسرے یہ کہ جو لڑکی اکیلی حلقہ ء اربابِ ذوق کے اجلاس میں شرکت کے لیے آ سکتی ہے وہ جمال کو اپنا نام بھی تو بتا سکتی ہے۔ اپنے مسائل سے بھی تو آگاہ کر سکتی ہے۔ لڑکی اجلاس سے باہر نکلتی ہے تو جمال کو ایس ایم ایس پر میر کا شعر بھیجتی ہے:

دل سے مرے لگا نہ تیرا دل، ہزار حیف
یہ شیشہ ایک عمر سے مشتاقِ سنگ تھا

جمال پتا پوچھتا ہے تو بتاتی ہے کہ :ع۔ تم جہاں کے ہو، واں کے ہم بھی ہیں۔ اس پر جمال کا دوست سراج سمجھ جاتا ہے کہ وہ جمال ہی کے محلے کی ہے مگر جمال فوری طور پر یہ پتا نہیں لگا پاتا کہ وہ اس کے محلے میں رہتی کہاں ہے۔ حلقے میں لڑکی کی آمد کے حسنِ اتفاق کے بعد ایسا سوئے اتفاق اس لیے لازم سمجھا گیا کہ جمال کو اس وحشت کا شکار کیا جا سکے جس سے مصنف سرمد صہبائی فلم میں ایک خاص کام لینا چاہتے ہیں۔ ویسے اسے بھی حسنِ اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے کہ ایک لڑکی حلقہ ء اربابِ ذوق میں کسی کی تحریر سن کر اس پر عاشق ہو جائے اور تحریر بھی وہ جو ایک تنقیدی تحریر ہے۔

فلم میں کچھ اور مناظر بھی ایسے ہیں جو حقیقت کے بجائے ماورائے حقیقت یا جادوئی حقیقت کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً نوجوان شاعر جمال کافی ہاوس میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا ہے جس پر ایک ادبی پروگرام آ رہا ہے اور اس پر ڈاکٹر کلیم گفتگو کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر کلیم کی گفتگو سنتے ہی پورے کافی ہائوس میں موجود لوگ اٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور پوری توجہ سے ڈاکٹر کلیم کی گفتگو سننے لگتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آج کل کے ٹی وی ناظرین کے سامنے اگر کوئی ملکہ ء حسن پردہ ء اسکرین پر دعوتِ گناہ بھی دے رہی ہو تب بھی وہ کم از کم ایسا اشتیاق تو ظاہر نہیں کریں گے۔ ناول کا مرکزی کردار جمال اس سین کے دوران موبائل فون سے پروگرام میں لائیو کال کرتا ہے تو اینکر گھبرا کر پروگرام کے خاتمے کا اعلان کر دیتا ہے۔ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ شاید جمال نے اینکر کی آف شور کمپنی کے بارے میں انکشاف کرنے کی کوشش کی ہو گی؟ جی نہیں جمال نے صرف ڈاکٹر کلیم کے موقف سے اختلاف ظاہر کیا تھا۔ فلم کے پروڈیوسر خرم شہزاد اتنا تو جانتے ہی ہوں گے کہ ایسی بدمزگی کے موقع پر کنٹرول روم میں بیٹھا عملہ کالر کی کال ڈراپ کر دیتا ہے، پروگرام کو وائنڈ اپ نہیں کیا جاتا۔
جمال ایک نوجوان شاعر ہے جسے کلاسیکی ادب سے دلچسپی نہیں۔ وہ نثری نظمیں کہتا ہے اور پاپولر ادب تخلیق کرنے والوں پر لعنت بھیجتا ہے۔ پاپولر ادب تخلیق کرنے والی ایک خاتون اس سے باربار ملتی ہے اور اس سے گزارش کرتی ہے کہ وہ اس کی نئی کتاب پر ایک کالم لکھ دے۔ جمال اس سے انکار کرتا ہے تو وہ لڑکی اخبار میں جمال کا کالم بند کرا دیتی ہے۔ اس لڑکی کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ تو بس لفظوں کو ادھر اُدھر کرتی ہے اور شاعری تو وہ ہے جو جمال کرتا ہے۔ حالانکہ عام طور پر پاپولر لکھاری خود کو بڑا لکھاری بھی سمجھتے ہیں اور جمال جیسے بزعمِ خود بقراطوں کو زیادہ گھاس بھی نہیں ڈالتے۔ ویسے اس لڑکی کا کردار جن خاتون نے ادا کیا ہے انھوں نے اوور ایکٹنگ کے کافی ریکارڈ توڑے ہیں۔

جمال ایک اینگری ینگ مین ہے اور خود کو ایک منفرد شاعر سمجھتا ہے جس کا ہر شاعر کو حق بھی حاصل ہے۔ لیکن اسے میر تقی میر کے ان اشعار میں سے بھی کچھ کی سمجھ نہیں آتی جو ’ایک لڑکی‘ اسے ایس ایم ایس پر لکھ لکھ کر بھیجتی ہے۔ لگتا یہی ہے کہ اس نے ابھی تک میر تقی میر جیسے شاعر کا ٹھیک سے مطالعہ بھی نہیں کیا۔ یہ ایک حیرت انگیز بات ہے۔ کالج یا یونی ورسٹی میں ممتاز ہونے کی کافی لوگوں کو خواہش ہوتی ہے۔ جمال کا کردار ان لڑکوں کا پروٹو ٹائپ نظر آتا ہے جو کالج یا یونی ورسٹی میں اپنے انٹیلیکچوئل پرسونا کی انفرادیت کی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں۔ جو ایک دو کتابیں پڑھ کر ہی اپنے علاوہ باقی سب کو خبطی اور جاہل بل کہ ’جھائل‘ سمجھنے لگتے ہیں، بل کہ سرِ عام اس کا اعلان بھی کرتے پھرتے ہیں۔ میں بھی ابھی چند برس پہلے کالج یونی ورسٹی میں پڑھتا تھا اور میری ملاقات ایسے نمونوں سے ہوتی تھی جنھوں نے یہ طے کیا تھا کہ ادب کی تخلیق تو خیر بعد میں بھی ہوتی رہے گی فی الوقت پہلی فرصت میںعظیم ہو لیا جائے۔ جمال ایسا ہی ’عظیم‘ شاعر ہے، جسے محبت تک اپنے ’عظیم شاعر‘ ہونے کے بعد ہوتی ہے۔

ڈاکٹر کلیم ایک جانب تو جدید شاعری کے مداح نہیں اور جمال ایک ٹی وی پروگرام میں لائیو کال کر کے ان کی بے عزتی بھی کر چکا ہے لیکن جب جمال بیمار ہوتا ہے تو وہ اس کی عیادت کو آتے ہیں اور اسے یہ بتاتے ہیں کہ وہ ایک بین الاقوامی انتھالوجی کے لیے اس کی نظموں کا ترجمہ کرنا چاہتے ہیں۔ ترجمے کی غرض سے نظمیں وہ بعد میں لیتے ہیں مگر جمال کے لیے پچاس ہزار روپے کا چیک پہلے ہی اپنے ساتھ لیتے آتے ہیں۔ یہ ایسا موقع ہے جب جمال کا کردار ادا کرنے والے فہد مصطفی ڈاکٹر کلیم کی باتیں غور سے سنتے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں ہمارا ’عظیم شاعر‘ پچاس ہزار روپے کا چیک ملتے ہی اپنے سینئر حریف کی عزت کرنے لگتا ہے۔ یہ بات اسے ڈاکٹر کلیم کی روانگی کے بعد معلوم ہوتی ہے کہ وہ ’ایک لڑکی‘ اس کے مکان کے قریب ہی ایک گھر پر رہتی ہے۔ لڑکی چھت پر کپڑے سکھانے کے لیے ڈال رہی ہے اور جمال اسے اوپر واقع اپنے مکان یا فلیٹ کی چھت سے دیکھتا رہ جاتا ہے۔

ایک ایسی کتاب جس میں قاری کو دلچسپی بھی پیدا ہو چکی ہو کتنے روز میں پڑھی جا سکتی ہے؟ میرا خیال ہے دو تین روز میں۔ چلیے ان دو تین روز کو بڑھا کر پندرہ روز کر لیتے ہیں۔ ان دو تین یا پندرہ سولہ روز کے بعد جمال ڈاکٹر کلیم سے آخری ملاقات کرتا ہے اور واپس اپنے مکان میںآتا ہے تو اسے وہ ’ایک لڑکی‘ دلہن بنی اپنے دولہا کے ساتھ گلی میں بارات کے ساتھ آتی دکھائی دیتی ہے۔

ڈاکٹر کلیم کے گھر جا کر جمال انھیں طعنہ دیتا ہے کہ انھوں نے میر کی جس ’وحشت‘ کا تذکرہ کرنے میں اپنی کتاب کے پچاس صفحات صرف کیے، انھوں نے خود ساری زندگی اس سے گریز کیا۔ ڈاکٹر کلیم نے ’وحشت‘ سے گریز یوں کیا تھا کہ اپنی محبوبہ کے ساتھ ہوائی جہاز کے ذریعے فرار کا منصوبہ پورا نہیں کیا تھا اور اپنے والد کی بات مان کر اپنے شہر میں ہی بیٹھے رہ گئے تھے۔ فلم میں جمال کا کردار دیکھ کر ہمیں یقین ہوتا ہے کہ جمال تو کم از کم اس ’وحشت‘ سے متصف ہوگا جو وہ ڈاکٹر کلیم میں مفقود دیکھ رہا ہے۔ مگر وہ بھی اپنی محبوبہ کو کسی اور کی دلہن بنے دیکھتا رہ جاتا ہے اور ’وحشت‘ کے عالم میں کچھ نہیں کر پاتا۔ حالانکہ اس سلسلے میں عملی قدم تو اسے محبوبہ کی شادی سے پہلے اٹھانا چاہیے تھا۔

فلم میں ادبی جملوں اور نظریات کی بھی بھرمار ہے۔ ایک نظریہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ ’روایت‘ اور ’کلاسیک‘ میں فرق ہوتا ہے۔ روایت ختم ہو جاتی ہے جب کہ کلاسیک ہمیشہ زندہ رہنے والی چیز ہوتی ہے۔ یہ جملہ ٹی ایس ایلیٹ نے نہیں سنا ورنہ کم از کم وہ تو پھڑک کر رہ جاتا۔ ایلیٹ نے ’روایت‘ کو کسی بھی شاعر یا ادیب کے لیے اہم ترین ماخذ قرار دیا تھا، مگر فلم ’ماہِ میر‘ کا مصنف ’روایت‘ کے انتہائی اہم لفظ کو شاید ’روایتی‘ کے لفظ سے خلط ملط کر گیا۔ ایک اور نظریہ میر کی ’وحشت‘ کا ہے۔ ڈاکٹر کلیم نے اپنی محبوبہ کے ساتھ فرار نہ ہو کر ’وحشت‘ سے گریز کیا اور ایک آرام دہ زندگی کو ترجیح دی۔ جمال ایسی آرام دہ زندگی کے امکانات کو تج کر بیٹھا ہے اور سماجی باغی کی زندگی بسر کر رہا ہے۔

جمال ڈاکٹر کلیم کو طعنہ دیتا ہے تو انھیں دل میں درد اٹھتا ہے۔ فلم دیکھنے والا ہر شخص جان لیتا ہے کہ ڈاکٹر کلیم کو دل کا دورہ پڑا ہے، لیکن جمال کو یہ بات معلوم نہیں۔ وہ ڈاکٹر کلیم کے سونے کے کمرے سے ان کی دوا لاتا ہے، وہاں ان کی محبوبہ، یعنی ہما نواب کی تصویریں دیکھتا ہے، دوا لاتا ہے، ڈاکٹر کلیم کو دیتا ہے، دو تین مرتبہ ڈاکٹر کو بلانے کی پیش کش کرتا ہے اور پھر گھر سے چلتا بنتا ہے۔ ڈاکٹر کلیم کے کمرے میں ہما نواب کی تصویریں دیکھتے ہوئے بھی وہ زیادہ تیز روی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ ایک ایسے کردار کو اگر ’منفرد‘ کردار نہ کہا جائے تو یقینا اس سے زیادتی ہو گی۔

اگلے روز وہ کافی ہاوس میں جاتا ہے تو ٹی وی پر ڈاکٹر کلیم کے انتقال کی خبر چل رہی ہوتی ہے۔ ایک پبلشر، جو اس سے پہلے جمال کو شاعری کے بجائے کوئی ڈھنگ کی کتاب لکھنے کا مشورہ دے چکا ہے، جمال کے پاس آتا ہے اور اسے یہ خفیہ اطلاع بریکنگ نیوز کی صورت میں دیتا ہے کہ اس نے جمال کی کتاب نہ صرف چھاپنے کا فیصلہ کیا ہے بل کہ وہ کتاب چھاپ بھی دی ہے، بل کہ وہ کتاب اس کے ہاتھ میں بھی موجود ہے، بل کہ اس پر ڈاکٹر کلیم اپنا دیباچہ بھی لکھ مرے ہیں۔ جمال شاید اپنی وحشت میں یہ بات بھی فراموش کر بیٹھا تھا کہ اس نے اپنی کتاب ایک پبلشر کو دے رکھی تھی۔

جمال کی اس کتاب کا نام ہے ’ماہِ عریاں‘۔ یوں یہ بات فلم کے آخر میں جا کر کھلی کہ جمال کے پردہ ء زنگاری میں کون معشوق چھپا بیٹھا تھا۔ یہ سرمد صہبائی خود ہی تھے جن کے تازہ شعری مجموعے کا نام بھی ’ماہِ عریاں‘ ہے۔ یعنی سرمد صہبائی صاحب نے فلم کے نام سے یہ سارا کھیل اپنی شاعرانہ عظمت اور شعری نظریات کی درستی کو ثابت کرنے کے لیے رچایا تھا۔ ڈائریکٹر اور پروڈیوسر صاحب جانے انجانے میں اس کھیل کا حصہ بنے اور شاید انھیں اس کے لیے معاف کیا جا سکتا ہے کہ شاید انٹلیکچوئلز میں ان کی ملاقات صرف سرمد صہبائی صاحب سے ہی ہوئی تھی۔

کہانی میں اتنے زیادہ جھول ہونے کے بعد کیا یہ فلم دیکھنے کے قابل رہ جاتی ہے۔ میرا خیال ہے یہ جھول ایک اچھے ڈائریکٹر کو دور کر لینے چاہئیں تھے لیکن ڈائریکٹر نے شاید اس اسکرپٹ کو ایک تبرک کے طور پر قبول کیا تھا۔ اپنے ایک انٹرویو میں ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ وہ سرمد صہبائی سے ڈرتے تھے کیونکہ وہ تھوڑی سی بھی اونچ نیچ برداشت نہیں کرتے تھے۔سرمد صہبائی سے توقع ہے کہ انھوں نے اپنی فلم میں میر تقی میر کے اشعار درست پڑھوانے پر تو خاص طور پر اصرار کیا ہوگا۔ منظر صہبائی کی قرات تو بہت اچھی تھی، ایمان علی نے بھی شعروں کے وزن سے انصاف ہی کیا، مگر فہد مصطفی ایک دو مرتبہ شعر غلط پڑھ گئے۔

تب بھی میں یہ کہوں گا کہ یہ فلم دیکھنے کے قابل ہے۔ منظر صہبائی نے نہ صرف اشعار بلکہ نثر کی قرات بھی خوب کی ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایک نقاد اور انٹلیکچوئل کا کردار بھی خوب نبھایا ہے۔ ایمان علی میر تقی میر کی محبوبہ کے کردار میں خوب جچی ہیں۔ واقعی میر کی محبوبہ کو اتنا ہی خوب صورت ہونا چاہیے تھا۔ فلم کے ڈائریکٹر نے ایمان علی کی خوب صورتی نمایاں کرنے میں اپنے فن کی ساری قوتیں صرف کر دی ہیں۔ بس میں ایمان علی کے پیروں اور ہاتھوں کی جھلک واقعی دل فریب ہے۔ ایک جھول یہاں بھی موجود ہے کہ بس میں جاتی ہوئی ایمان علی کے پیروں میں سونے کی پازیب بھی موجود ہے۔ کم از کم کراچی میںتو بس میں سفر کرنے والی کوئی خاتون اس کا رسک نہیں لے سکتی۔ ایمان علی جہاں جہاں میر تقی میر کی محبوبہ کے روپ میں جلوہ گر ہوئی ہیں وہاں ان کی جلوہ آرائی اور بھی قابلِ دید ہے۔ ایک منظر میں وہ میر تقی میر کا ایک ہوس ناک شعر سنا کر میر صاحب کو آگاہ کرتی ہیں کہ اب وہ وصال کے لیے آمادہ ہیں۔ ایسے میں ان کی نوکرانی کباب میں ہڈی بن کر کمرے میں آ جاتی ہے۔ شاید یہ بتانا مطلوب ہے کہ ان دنوں ایسی قریبی ملاقاتوں کے لیے دروازوں کی اوٹ کا تکلف نہیں کیا جاتا تھا، یا پھر شاید فلم مغلِ اعظم کی یاد آ گئی ہو جس میں شہزادہ سلیم کو انارکلی کا حسین چہرہ مور کے پنکھ سے چھوتے ہوئے اس چھنال دل آرام نے دیکھ لیا تھا۔ وہ نوکرانی نواب صاحب کے تحائف کی خبر لائی ہے جسے مہتاب بیگم بہ سر و چشم قبول کر لیتی ہیں۔ اس پر میر صاحب ناراض ہو جاتے ہیںاور بتاتے ہیں کہ وہ خواب دیکھ سکتے ہیں اور یہ کر سکتے ہیں اور وہ کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر وہ مہتاب بیگم کو بانہوں سے پکڑ کر اس کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب لے آتے ہیں۔ اس موقع پر مہتاب بیگم کے چہرہ کسی سیڈکٹرس کے چہرے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کے ہونٹ، میر صاحب کے ہونٹوں کے بالکل نیچے، کھلے ہوئے ہیں اور اس کی آنکھیں بہت گمبھیر ہو چلی ہیں۔ اس موقع پر میر تقی میر کے بجائے فیض احمد فیض کا مصرعہ یاد آتا ہے کہ : ہائے اس شوخ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے ہونٹ۔ خیر میر تقی میر اس موقع پر مہتاب بیگم کو شعر پر شعر سنائے چلے جاتے ہیں، حالانکہ ایسا موقع تو نثر کا موقع ہوتا ہے اور اچھے اچھے شاعر اس موقع پر شاعری چھوڑ کر یہ کہتے ہیں کہ ’حالا نثرِ ما بشنو‘۔ لیکن اس موقع پر ڈائریکٹر کو یاد آ گیا کہ وہ یہ فلم پاکستان میں بنا رہے ہیں اور یوں لبوں کی تشنگی تشنہ ہی رہ جاتی ہے۔

فلم میں میر تقی میر کی دو غزلیں بہت اچھی طرح گائی اور فلمائی گئی ہیں۔ مہتاب بیگم، جنھیں مصنف نے نواب آصف الدولہ کے دربار کی رقاصہ بنایا ہے اور اس پر عدم تیقن کو ہمیں اس فلم کی خاطر معرضِ التواء میں رکھنا ہے، یہاں بھی بہت خوب صورت دکھائی دیتی ہیں۔ وہ میر تقی میر کے اشعار اپنے بھید بھائو کے ساتھ سناتی ہیں تو معانی کی کچھ نئی جہات سامنے آتی ہیں۔ ایک غزل میں میر کا یہ مصرعہ بھی آتا ہے کہ: ’’اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاک‘‘۔ ایمان علی کی دشمنِ ایماں پرفارمنس میں اس مصرعے کا ایک نیا مفہوم سامنے آتا ہے جو دیگر مفاہیم سے کہیں زیادہ دل فریب ہے۔ گانوں میں ایک اور خاتون رقص کرتی دکھائی دیتی ہیں اور یہ بات کہنے کے لیے کسی ماہرِ رقص کی ضرورت نہیں کہ ان کا رقص بالکل بھی خوش گوار نہیں۔

کہانی میں جتنے جھول ہیں ان کا خمیازا سب سے زیادہ فہد مصطفی کو بھگتنا پڑا۔ ایک سین میں وہ البتہ خوب جچے جس میں ان کا دوست سراج دبئی جانے سے پہلے ان سے آخری ملاقات کرتا ہے۔ البتہ جی یہ چاہتا تھا کہ میر تقی میر کے کردار میں ان کا لہجہ اس لہجے سے کچھ مختلف ہوتا جو انھوں نے جدید دور کے شاعر جمال کے کردار کے لیے اپنایا۔ جدید شاعر جمال کو اپنا شین قاف درست رکھنے کے لیے تصنع کی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی میر تقی میر کے کردار کو۔ فہد مصطفیٰ نے میر کے کردار سے کافی انصاف کیا مگر جب میر صاحب اپنے ہی شعر وزن سے خارج کر دیتے ہیں تو سوچیے میر کے مداحوں کے دل پر کیا گزرتی ہو گی۔ البتہ علی خان نے نواب صاحب کا چھوٹا سا کردار خوب نبھا لیا۔ سراج کے کردار میں پارس مسرور ٹھیک رہے۔ ہما نواب بھی ڈاکٹر کلیم کی سابق محبوبہ کے روپ میں ایک مختصر کردار میں ظاہر ہوئیں۔ ان کی ڈاکٹر کلیم سے اچانک ملاقات کو فلم کی تکنیکی زبان میں ’پلاٹ پوائنٹ‘ کہا جا سکتا ہے۔ یہ پلاٹ پوائنٹ فلم میں زبردست قسم کی ڈرامائیت پیدا کرنے کا موجب بن سکتا تھا مگر منظر صہبائی اس موقع پر فلم میں پہلی مرتبہ دبے دبے سے رہے۔ اپنی موت کے سین میں وہ انتہائی غیر موثر نظر آئے۔ جہاں جہاں اپنی آواز سے ایکٹ کرنا تھا وہاں وہ انتہائی کام یاب رہے لیکن فزیکل ایکٹنگ کرتے ہوئے وہ ویسے کام یاب نہ ہو سکے۔

ارے میں تو آپ کو یہ بتانے چلا تھا کہ فلم کی کہانی میں اتنے زیادہ جھول ہونے کے باوجود کیا یہ فلم دیکھنے کے قابل ہے اور بتا یہ گیا کہ اداکاروں کی اداکاری میں تھوڑے بہت مسائل موجود ہیں۔ لیکن شرط لگا کر یہ کہوں گا کہ ایمان علی کسی ڈرامے، کسی فلم میںاتنی خوب
صورت نظر نہیں آئیں جتنا انجم شہزاد نے انھیں اس فلم میں پیش کیا ہے۔ انھیں میر کی محبوبہ کے روپ میں دیکھنا ایک خوش گوار تجربہ ہے جس کے لیے فلم کا ٹکٹ خریدنا کوئی گھاٹے کا سودا نہیں۔ اردو کے عظیم شاعر پر ایک فلم بنائی گئی ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کرنی ہی چاہیے۔

کہانی میں جھول نہ ہوتے اور سرمد صہبائی اس فلم کو اپنی مخصوص افتادِ طبع یا ایڈیوسنکریسیز سے محفوظ رکھتے تو یہ ایک یادگار فلم بن سکتی تھی۔کیا خبر یہی وہ ’وحشت‘ ہو جسے وہ اس فلم کے ذریعے حق بجانب ثابت کرنا چاہتے ہوں۔ لیکن فلم کی صنف ان کی اس وحشت کا بوجھ برداشت نہ کر پائی۔ سو اب سرمد صہبائی کو میر کی زبان میں یہی کہنا چاہیے کہ ع: لائق اپنی وحشت کے اس عرصے کا میدان نہیں۔

Categories
شاعری

ہاں میری محبوبہ

تو نہ تو کوئی بھید ہے
اور نہ ہی بھید بھری تھیلی کا چھٹا ہوا کوئی عین محبوبہ
ہاں میری محبوبہ
تیرا نام پتہ اور شجرہ نسب تو جانتے ہیں ہم
اندر باہر
ظاہر باطن
دونوں سمت ہی آنے جانے والے ہیں ہم
تیرے گھر کے بھیدی ہیں او بھیدن باری
کبھی حقیقی کبھی مجازی
طرح طرح سے تیرے عام سے جسم کی لذت لے لیتے ہیں
اپنا تو کچھ بھی نہیں جاتا
لفظ سے لفظ بنانے والے
کوئی بھی غم ہو
لفظ کی گولی رنگ بدلتے لمحوں کی گنگا میں گھول کے پی جاتے ہیں
سارے گناہ سیاسی
اخلاقی روحانی
اپنے ساتھ لپٹ کر خواب کی گہری بے ہوشی میں
سو جاتے ہیں
دوسرے دن تو نیا سوانگ رچا لیتی ہے
ہم بھی اپنے اپنے نسخے بدل بدل کے جی لیتے ہیں

Image: Gino Rubert

Categories
شاعری

نظم-سرمد صہبائی

تم کس خواہش کی مستی میں
میرے دکھوں کو
اپنے دلاسوں کی جھولی میں ڈال سکو گے
جھوٹے دلاسوں کی یہ جھولی
میرے تُند دکھوں سے چھلنی ہو جائے گی
اور تیرے یہ لوے لوے ہاتھوں کی ڈھارس
نفرت سے کمھلا جائے گی

کیسے کھلے گا تیری بانہوں کے کُندن میں
میرا یہ سیال دکھ اور میرے صدمے
تیرے بدن کے ان جیتے سیار سموں میں
میرا لہو کیسے جاگے گا

تم اپنے مخمور لبوں کے
سرخ کفن سے
کیسے میری نعش کا نقشہ ڈھانپ سکو گے
کیسے اپنے اندیشوں سے
میرے خدشے بھانپ سکو گے

Image: Paul Kurucz

Categories
شاعری

تیرے جوبن کے موسم میں

تیرے جوبن کے موسم میں
او مٹیالی
تیرے جسم کی سوندھی خوشبو
روئیں روئیں میں سانولی رُت بیدار کرے
دل کی اور سے گہری گھور گھٹائیں امڈیں
اور میرے یہ پیاسے ہونٹ
تیرے سینے کے پیالوں میں
تیرتے انگوروں کے رس کے لمس میں بھیگیں
تیری ہری بھری سانسوں کی مُشک نچوڑیں
او مٹیالی
تیرے جوبن کے موسم میں
دل کے اندر غیبی سورج کے گل رنگ عجائب جاگیں
پنج پوروں پر پانچ حسوں کے پھول کھلیں
اور تو ہولے ہولے اپنے
پیار بھرے ہونٹوں سے میرا
شہد کشید کرے
Categories
شاعری

ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بددعا ہے

ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بددعا ہے
بددعا ہے
ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بددعا ہے
گھروں میں اترتی اذانوں میں
حکم سزا ہے
سنو بددعا ہے
ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بددعا ہے
سنو ہم نے شب بھر
اسے یاد رکھا
اندھیرے کی دیورار کے سرد سینے سے لگ کر
اسے اپنے دل کے افق سے صدا دی
کبھی اپنی سانسوں کے دکھ میں پکارا
دلاسوں کی دہلیز پر
ٹوٹے خوابوں کی دھجیاں
رات بھر جاگنے کا صلہ ہیں
سنو شہر والو
کہاں ہے ہمارے لہو کی بشارت
ہمارے پراسرار خوابوں کا موسم
جسے ہم نے بچوں کی پلکوں سے سینچا
جسے ماؤں کی التجاؤں سے مانگا
ہمارا مقدر
ہواؤں میں اڑتا ہوا
موت کا ذائقہ ہے
Categories
شاعری

پل بھر کا بہشت

پل بھر کا بہشت
ایک وہ پَل جو شہر کی خفیہ مٹھی میں
جگنو بن کر
دھڑک رہا ہے
اس کی خاطر
ہم عمروں کی نیندیں کاٹتے رہتے ہیں

یہ وہ پَل ہے
جس کو چھو کر
تم دنیا کی سب سے دلکش
لذت سے لبریز اک عورت بن جاتی ہو
اور میں ایک بہادر مرد

ہم دونوں آدم اور حوا
پَل کے بہشت میں رہتے ہیں
اور پھر تم وہی ڈری ڈری سی
بسوں پہ چڑھنے والی، عام سی عورت
اور میں دھکے کھاتا بوجھ اٹھاتا
عام سا مرد
دونوں شہر کے
چیختے دھاڑتے رستوں پر
پل بھر رُک کر
پھر اس پَل کا خواب بناتے رہتے ہیں
Categories
شاعری

میری تاریخ کا لنڈا بازار

میری تاریخ کا لنڈا بازار
ساری دکانیں اک اک کر کے گھوم آیا ہوں
لیکن اب تک ننگا ہوں
سارے سورما شاید میرے قد سے بہت بڑے تھے
ان کے کپڑے میرے جسم پہ جانے کیسے فِٹ آئیں گے
ایسی ایسی ہیبت ناک ذرہ بکتر میں چھپ کر
میں تو شاید گم ہو جاؤں
اس تاریخ کے میلوں پھیلے بازاروں میں
میرے ناپ کا کوئی کوٹ نہیں ہے
شاید میرے قد کا کوئی سورما نہیں ہے
Categories
تبصرہ

ماہِ میر؛ مسخ شدہ تاریخ کا پلندہ

چند روز قبل ہمارے دوست زبیر فیصل عباسی صاحب ہمیں سینٹورس کے ایک مہنگے سینما میں لے گئے جہاں ہم نے ماہِ میر جیسی سستی فلم دیکھی۔ ہمیں تو پہلے ہی یقین تھا کہ ایک متشاعر میر جیسے نابغہ اور عظیم شاعر کو کیا خاک فلمائے گا کیونکہ اس سے پہلے ہم اِسی صاحب کے ڈائریکٹ کیے ہوئے منٹو کے ایک افسانے سوگندی کو دیکھ چکے تھے، جس میں حضرت صاحب نے افسانے کے آخر ی حصے میں جا کر اپنا لُچ تلا تھا، یعنی منٹو کا افسانہ کچھ تھا، لیکن اِنہوں نے ڈرامہ بناتے وقت بچارے منٹو کی اچھی خاصی تصیح کر دی تھی۔ خیر بر سرِ مطلب زبیر صاحب سے ہمارے دوستانہ مراسم ایسے تھے کہ اُن کے اصرار کو رد نہ کر سکے اور فلم دیکھنے نکل گئے۔

 

فلم کا پہلا حصہ اس قدر غیر متعلق ہے کہ اُکتاہٹ اور بوریت کا احساس شدید ہو جاتا ہے
فلم شروع ہوئی، پانچ منٹ گزرے، دس گرزے، پندرہ، آدھ گھنٹا ہو گیا، ہمیں میر کی کہیں خبر نہیں مل رہی، ایک لونڈا ہے جو جدید شاعر بنا ہے اور کراچی کی کھولیوں میں اور قہوے خانوں میں اور اخبار کے دفتروں میں گھوم پھر رہا ہے، اور بے سُری اور بے تُکی نظمیں پڑھ رہا ہے، جس کی زبان، لغت، ادائیگی غرض ہر شے غلط تھی اور یہ نظمیں یہ نظمیں سرمد صہبائی کی ہی تھیں۔ تب کھُلا کہ یہ فلم میر پر نہیں تھی، فلم کا سکرپٹ لکھنے والے نے خود اپنے آپ پر بنائی ہے جس میں اپنی چند نظمیں اورایک غزل فلم کے ہیرو فہد مصطفیٰ سے پڑھوائیں۔ ان نظموں اور غزلوں کا معیار اس قدر پست ہے کہ ناظر کو شاعری سے ہی نفرت ہو جائے۔ فلم کا پہلا حصہ اس قدر غیر متعلق ہے کہ اُکتاہٹ اور بوریت کا احساس شدید ہو جاتا ہے اور کم و بیش ایک گھنٹے بعد جب میر کا کردار منظر نامے میں داخل ہوتا ہے، تو بوریت کے ساتھ غصے کا بے پناہ غلبہ خود اپنی ہی آنکھیں نوچ لینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ گاہے گاہے میر کے شعر جس طریقے سے پڑھوائے گئے، اُن کا تلفظ، صوتی تاثر اور ادائیگی اس قدر تیسرے درجے کی ہے کہ خدا پناہ، میر صاحب اگر خود دیکھ لیں تو کہیں منہ چھپا کے پیٹتے ہوئے جنگلوں میں نکل جائیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اداکار تو ایک طرف خود پروڈیوسر کو بھی میر صاحب کے اشعارکا شعور نہیں۔ ایک جگہ تو ‘میر’ نے خود اپنا ہی شعر غلط پڑھا بعض مقامات پر تو قرات کا تلفظ اتنا بُرا تھا کہ یقین نہیں آیا کہ ایک شاعر اس فلم کی تیاری میں شامل رہا ہے۔ اس فلم میں میر صاحب تو ایک طرف، اُن کے زیرِ ناف تک کا حق ادا نہ ہو سکا۔

 

فلم میں موجود دیگر تکنیکی خامیوں کا بیان تو کارِ فضول ہے کہ وہ بالکل ہی گلی محلوں کے تھیڑ سے بھی گیا گزرا تھا۔ اصل تشویش تاریخی کرداروں کے مسخ ہونے پر تھی:

 

1۔ تاریخی واقعات کی عکاسی میں میر صاحب کے زمانے کی تہذیب، رکھ رکھاو اور وضع قطع کی نمائندگی کی بجائے لاہوری گجروں کا رنگ ڈھنگ نمایاں تھا۔

 

فلم میں انشا کو میر صاحب سے کم از کم چالیس سال بڑا دکھایا گیا ہے مگر حقیقت اس کے اُلٹ ہے، یعنی انشا اللہ خاں میر صاحب سے کم از کم چالیس سال چھوٹے تھے
پوری فلم میں میر صاحب کو 20 یا 22 سال کا لونڈا دکھایا گیا ہے، جس کا نہ اردو کا تلفظ ٹھیک، نہ لباس، نہ وضع قطع۔ ممکن ہے سوانحی فلم نہ ہونے کے سبب فہد مصطفیٰ خود کو اور اپنی محبوبہ کو میر صاحب اور مہتاب بیگم کی جگہ تصو ر کر رہے ہوں لیکن اس کے باوجود ایمان علی اور فہد مصطفیٰ کی اداکاری کسی بھی طرح اس زمانے کی نشست و برخاست سے مطابقت نہیں رکھتی۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ میر تقی میر ماہتاب بیگم نامی ایک طوائف پر عاشق ہے جسے عشق کا سلیقہ تک نہیں۔ غضب یہ کہ اُسی طوائف کا عاشق نواب آصف الدولہ کو بھی دکھایا گیا ہے اور غضب پر غضب یہ کہ نواب صاحب طوائف کا رشتہ لینے اُس کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ نواب صاحب کی شکل کسی لاہوری غنڈے سے کم نہیں۔ فلم میں اُسی طوائف کے سبب نواب آصف الدولہ کو میر صاحب کا رقیب اور دشمن ظاہر کیا گیا جبکہ میر کی زندگی میں کسی طوائف کا وجود نہیں تھا۔ نواب صاحب تو آخر دم تک میر صاحب کے مربی اور دوست رہے اور تمام تاریخی کتب اُنہیں فرشتہ سیرت انسان ثابت کرتی ہیں جس نے مرتے دم تک میر صاحب کا وظیفہ جاری رکھا۔ نواب صاحب کا طوائف کے گھر اُس کا رشتہ لینے چلے جانا تو ایسا عجوبہ ہے کہ جسے غلطی بھی نہیں کہا جا سکتا، یہ ایک صریح حماقت ہے۔ نوابان لکھنو سے یہ کثافت منسوب کرنے کا کوئی جواز ممکن نہیں۔

 

2۔ فلم میں انشا کو میر صاحب سے کم از کم چالیس سال بڑا دکھایا گیا ہے مگر حقیقت اس کے اُلٹ ہے، یعنی انشا اللہ خاں میر صاحب سے کم از کم چالیس سال چھوٹے تھے۔ جب میر صاحب دہلی سے لکھنئو آئے تو اڑسٹھ برس کے تھے جبکہ انشا اُس وقت لکھنئو میں تھے ہی نہیں، وہ دہلی میں تھے اور بیس برس کے تھے۔ سید انشا تو سعادت علی خاں کے دور مٰیں لکھنئو آیا اور اُسی کا مصاحب تھا اور اُس وقت تیس برس کا تھا جب میر صاحب سے ملاقات ہوئی۔

 

3۔ فلم میں میر کو لکھنئو میں بیس برس کی عمر کا دکھایا گیا ہےجو کہ سرا سر غلط ہے۔ اور جو میر صاحب کے منہ سے مثنوی کہلوائی جاتی ہے وہ بھی کہیں ستر برس کی عمر میں میر صاحب نے کہی تھی، جب کہ فلم میں اُن کی زبان سے بیس برس کی عمر میں سُنوائی گئی اور وہ بھی انشا کے سامنے، جو تاریخی اعتبار سے غلط ہے۔

 

4۔ انشا کی جانب سے میر کو خلعت پیش کیے جانے کا واقعہ سعادت علی خاں کے دور کا ہے جبکہ فلم میں اسے آصف الدولہ کے ساتھ نتھی کیا گیا ہے۔ جہاں انشا موجود ہی نہیں تھے۔ تب وہ ایک لڑکا تھا جو دہلی میں مقیم تھا۔
5۔ نواب صاحب کے دربار کا نقشہ کسی غنڈے کی حویلی سے زیادہ کا نہیں لگتا، اس میں نہ لکھنوی رنگ ہے نا نوابی شان۔ ممکن ہے بجٹ کی کمی اس مفلسانہ عکسبندی کی وجہ بنی ہو۔

 

فلم میں میر کی وحشت کا تذکرہ تو بہت ہے مگر اسے احمد جمال اور پروفیسر کلیم کی جنسی کج رویوں، ناکام معاشقوں اور شراب نوشی کے تناظر میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ حقیقت سے بے حد دور ہے۔
6۔ میر صاحب کا مجرا سننا اور مجرے کے دوران شراب پینا تو سبحان اللہ۔ میر نے کبھی شراب کو چھوا تک نہیں تھا ۔ البتہ یہ دونوں فعل اسکرپٹ رائٹر نے اپنے اوپر ضرور منطبق کیئے ہیں۔

 

7۔ میر صاحب کا بچپن آگرہ میں، لڑکپن، جوانی اور ادھیڑ عمری دہلی میں اور بڑھاپا لکھنئو میں گزرا مگر فلم میں ان ادوار کا کوئی تذکرہ کہیں موجود نہیں۔ اگر کچھ لڑکپن یا جوانی اناڑی پنے اور بھونڈے انداز میں دکھائی بھی گئی تو فلم یہ بتانے میں ناکام رہتی ہے کہ یہ واقعات کس علاقے میں رونما ہو رہے ہیں۔

 

8۔ فلم میں میر کی وحشت کا تذکرہ تو بہت ہے مگر اسے احمد جمال اور پروفیسر کلیم کی جنسی کج رویوں، ناکام معاشقوں اور شراب نوشی کے تناظر میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ حقیقت سے بے حد دور ہے۔

 

یہ فلم میر تقی میر سے ایک (جدید) شاعر کا ذاتی تعارف تو ہو سکتا ہے مگر اسے میر کے کلام یا حالات زندگی پر نمائندہ کام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بادی النظر میں پرو ڈیوسر اس فلم کے ذریعے خود کو اور اپنی شاعری کو متعارف کرانا چاہتے ہیں جس کی ایک مثال آخر میں اپنی کتاب ماہِ عریاں کی برملا تشہیر ہے۔ خدائے سخن کی یہ غیر معیاری نمائندگی ماہِ میر کا سب سے بدصورت پہلو ہے اور اس فلم کو ناپسند کرنے کی سب سے بڑی وجہ بھی۔
Categories
تبصرہ

فلم “ماہِ میر” کیسی ہے؟

سرمد صہبائی اور انجم شہزاد کی فلم “ماہِ میر” ادب کے طالب علموں کو کم از کم ایک بار ضرور دیکھنی چاہیے۔ اپنی تمامتر خامیوں کے باوجود “ماہِ میر” حالیہ دنوں میں‌ ریلیز ہونے والی تمام پاکستانی فلموں سے اچھی ہے۔
سرمد صہبائی نے بطور شاعر، بطور دانشور اور بطور انسان کبھی بھی متاثر نہیں کیا۔ بطور شاعر اُن کی بے رس کتابیں “پل بھر کا بہشت” اور “نیلی کے سو رَنگ” پڑھ کر ہم خوب بے مزہ ہوئے۔ اقبال جیسے شاعر کی جس شاعری کو وہ سیریبرل پوئٹری کہہ کر رد کرتے رہے، موصوف کی اپنی شاعری اُسی سیریبرل ایکٹیویٹی کا ثمر ہے۔ اگرچہ ہمیں اس اصطلاح کے کھوکھلے ہونےمیں رتی برابر شُبہ نہیں، مگر اتنا ضرور کہیں گے کہ جس خامی کی بُنیاد پر آپ شاعرِ مشرق کو اور اُن کی شاعری کو نجی محفلوں میں گالیاں دیتے ہوں، وہ خامی آپ کی اپنی تخلیقات میں ٹھاٹھیں مار رہی ہو تو آپ کو اپنی تخلیقی سرگرمیوں سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔ بطور دانشور بھی اُنہیں ایک خاص حد تک پڑھا لکھا پایا۔ اُن کو مابعد جدیدیت نے ایسا اسیر کیا کہ خدا کی پناہ۔ اردو شاعری میں اُن کو میر کی جمالیات سے آگے کچھ سُجھائی نہیں دیتا۔ اگرچہ ان کی اس بات سے اختلاف نہیں کہ میر احساس کا شاعر ہے۔

 

البتہ؛ سرمد صہبائی نے بطور فلم “ماہِ میر” کے تخلیق کار اور اسکرین پلے رائٹر ہمیں کسی حد تک متاثر کیا ہے۔

 

سرمد صہبائی اور انجم شہزاد کی فلم “ماہِ میر” ادب کے طالب علموں کو کم از کم ایک بار ضرور دیکھنی چاہیے۔ اپنی تمامتر خامیوں کے باوجود “ماہِ میر” حالیہ دنوں میں‌ ریلیز ہونے والی تمام پاکستانی فلموں سے اچھی ہے۔

 

خدائے سُخن میر تقی میر کی وحشت کو پردہِ سیمیں پر دکھانا اور اس انداز سے دکھانا کہ فلم میڈیم کے تقاضے بھی پورے ہوں، ایک مشکل کام تھا، جسے سرمد صہبائی نے کر دکھایا۔ “ماہِ میر” کی کہانی میں اگرچہ تجسس کا پہلو زیادہ حاوی نہیں، پھر بھی اس میں دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ اور اس کا سبب ہمارے پروٹیگونسٹ “فہد مصطفٰے” ہیں جن کی شاندار اداکاری نے منظر صہبائی جیسے منجھے ہوئے اداکار کو بھی پس منظر میں دھکیل دیا۔ سینما اسکرین پر بھی منظر صہبائی کے اندر سے تھئیٹر نہیں نکلتا۔ یعنی، وہ خود کو اس میڈیم کے مطابق مکمل طور پر ڈھالنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ایسا ہم نے شعیب منصور کی فلم “بول” میں بھی دیکھا اور ایک تیسرے درجے کی فلم “زندہ بھاگ” میں بھی۔ علاوہ ازیں، منظر صہبائی کی آواز میں جو اشعار فلم “ماہِ میر” میں‌ شامل کیے گئے ہیں، جو تعداد میں کافی زیادہ ہیں، کانوں کو بھلے معلوم نہیں ہوتے۔ جو ملائمت میر کے الفاظ میں ہے، اسے منظر کی آواز کی سختی اور کھردرا پن تباہ کر دیتا ہے۔

 

ڈائریکشن:

 

فلم میں چاند کو شعلے کی روشنی کا استعارہ اور میر تقی میر کی وحشت کو پروانے کے طواف اور شعلے میں فنا ہونے کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔
“ماہِ میر” کو انجم شہزاد نے ڈائریکٹ کیا۔ بعض جگہ حیران کُن اور بعض جگہ مایوس کن۔ حیران کُن وہاں جہاں مینیکوئین انسانی روپ میں ڈھل کر شاعر احمد جمال یعنی فہد مصطفٰے سے بات کرتے ہیں۔ اس سین میں علامت کا استعمال اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ اس طرح ایک جگہ، ایک پروانہ جلتی ہوئی شمع کے شعلے میں گر کر بھسم ہو جاتا ہے اور لِیڈ رول یعنی فہد اس پروانے کو شاعرانہ حیرت کے ساتھ جل مرتا دیکھتا رہتا ہے۔ سادہ ترین الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ ایک سین پوری فلم کی جان ہے۔ کہانی میں شعلے کو تخلیق اور پروانے کو تخلیق کار کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ فلم میں چاند کو شعلے کی روشنی کا استعارہ اور میر تقی میر کی وحشت کو پروانے کے طواف اور شعلے میں فنا ہونے کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔ اس ایک سین کے اثر سے نکلنے میں ناظر کو باقاعدہ تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔

 

جب احمد جمال کی کتاب شائع ہوتی ہے اور پبلشر اسے پہلی کاپی دینے آتا ہے، تو اس کی بائنڈنگ ایم فل کے کسی تھیسس کی سی ہے۔ اس پر ذہانت سے کام کیا جا سکتا تھا اور جیسے نیناں کی کتابیں واقعی کتابیں ہی محسوس ہوتی تھیں، اس پر بھی کام کیا جا سکتا تھا۔

 

سیٹ:

 

فلم کے سیٹ عجیب و غریب تھے۔ نواب کا محل جہاں سودا و میر کو آتا جاتا دکھایا گیا، کسی غریب کا برآمدہ دکھائی دیتا تھا۔ آرٹ ڈائریکشن بھی غیر متاثر کُن تھی۔ بھلا سنجے لیلا بھنسالی سے ہی کچھ سیکھ لیا ہوتا اس ضمن میں۔

 

کیمرہ کاری:

 

شاٹ ٹیکنگ بھی کافی جگہوں پر نان پروفیشنل تھی جس کی کوئی کانوٹیشن نہیں بن پائی۔ تاہم کاپٹر شاٹس بعض جگہ عمدہ تھے، اور بعض جگہ غیر ضروری۔
شاٹ ٹیکنگ بھی کافی جگہوں پر نان پروفیشنل تھی جس کی کوئی کانوٹیشن نہیں بن پائی۔ تاہم کاپٹر شاٹس بعض جگہ عمدہ تھے، اور بعض جگہ غیر ضروری بھی۔ فریمز میں غیر مطلوبہ چیزوں کی موجودگی ناظرین کی توجہ فریم کے مرکزی خیال سے ہٹا دیتی تھی۔ یعنی فریم کی کمپوزیشن اچھی نہیں رہی۔ اگرچہ، چاند کو بہت اچھے طریقے سے زُوم بھی کیا گیا اور فور گراؤنڈ کے ساتھ چاند کے کمپلیکس شاٹس بھی لیے گئے۔

 

کوریوگرافی:

 

ڈانسز کو گویا بے دلی سے شُوٹ کیا۔ ایمان علی نے خود تو رقص کیا ہی نہیں۔ ایک رقاصہ کو دو بار موقع دیا گیا۔ جس نے بہتر ڈانس کیا مگر اسے عمدہ طریقے سے شُوٹ نہیں کیا گیا۔ رہی سہی کسر beatsپر ایڈیٹنگ کَٹس نہ لگا کر پوری کر دی گئی۔ ایمان علی سے لپ سنکرونائزیشن اچھی نہیں کروائی گئی۔ بہت مکینکل لگیں۔ گویا، کوئی روبوٹ بیگ گراؤنڈ آواز سے آواز ملانے کی کوشش کر رہا ہو۔ کاسٹیوم بھی غیر متاثر کُن تھے۔

 

مکالمے:

 

سرمد کھوسٹ کی فلم “منٹو” کے مکالمے کمزور تھے۔ یہ ایک ایسی کمزوری تھی جسے اس لیے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا کہ یہ ایک ادیب کی بائیوپک تھی۔ ادیب کی زندگی پر بنائی گئی فلم کے مکالمے کمزور ہوں، یہ مناسب نہیں۔ تاہم سرمد صہبائی نے اس بات کا خاص خیال رکھا یعنی فلم “ماہِ میر” اگر خدائے سخن پر بنائی جا رہی ہے تو مکالمے بھی جاندار لکھے جائیں۔ اور اس کوشش میں سرمد صہبائی کافی حد تک کامیاب رہے۔

 

اداکاری:

 

ہمارے خیال میں بہترین اداکاری کا ایوارڈ فہد کو جاتا ہے۔ منظرصہبائی پس منظر میں چلے گئے۔ ہما نواب تھوڑی سی دیر کے لیے نمودار ہوئیں اور ملی جُلی یعنی اچھی ایکٹنگ اور اوور ایکٹنگ کر کے غائب ہو گئیں۔ ایمان علی بھی زیادہ متاثر کُن نہیں رہیں۔ اُن کے حسن کو سرمد صہبائی اور انجم شہزاد نے بہتیرا بڑھا چڑھا کر دکھانے اور سُنانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ علی خان نے نواب کے روپ میں بہتر اداکاری کی۔

 

صنم سعید نے شاعرہ نیناں کے کردار کے ساتھ انصاف کیا۔ تاہم، ناصر خان کی “بچانا” میں سادگی اور دو کاسٹیومز کے باوجود حقیقت سے زیادہ حسین لگیں، “ماہِ میر” کے میک اپ آرٹسٹ نے صنم کو حقیقت سے کم حسین دکھایا۔ یاد رہے، کم حسین دکھائی دینا اس رول کی ڈیمانڈ نہیں تھی۔ ہمیں اس معاملے میں صنم کے ساتھ ہمدردی ہے۔

 

ساؤنڈ:

 

فلم کا ساؤنڈ اچھا تھا۔ اچھے بیک گراؤنڈ میوزک کی وجہ سے ہی تو یہ ڈرامہ یانرا کی فلم، سینمیٹک پِیس بن سکی۔ ورنہ فریمز کی کمپوزیشن کی تناظر میں اگر بات کی جائے تو “ماہِ میر” ایک ٹی وی ڈرامہ بن کر رہ جاتی۔

 

جہاں تک تعلق ہے آٹو میٹک ڈائیلاگ ریپلیسمنٹ کا، ڈبنگ کا، تو ہمارے خیال میں اسے خامیوں سے بالکل پاک ہونا چاہئے۔ پاکستانی فلمیں اس شعبے میں کمزور رہی ہیں۔ فاروق مینگل کی تازہ اور اب تک واحد فلم “ہجرت” اس کی بدترین مثال ہے۔ “ماہِ میر” میں بھی یہ خامی نظر آئی۔ ڈبنگ کی خامی۔ اگرچہ بعض جگہ فولی ساؤنڈ حیران کُن حد تک اچھی تھی، مثال کے طور پر نوجوان شاعر احمد جمال یعنی فہد کے گھر کی ٹپکتی چھت سے قطرے گرنے کی آواز۔ اور سگریٹ کے کاغذ سلگنے کی آواز۔

 

لائٹ:

 

فلم کی لائٹ عمدہ تھی، مگر میک اپ کو واضح دکھا رہی تھی۔ اس کا مطلب ہوا کہ یا تو میک اپ کے میدان میں‌ زیادہ جان ماری جاتی اور اسے عمدگی سے کیا جاتا، یا پھر اس کمی کو لائٹ کی مدد سے دُور کیا جاتا۔
بعض جگہ کٹرز اور کُوکیز کا استعمال البتہ بہت اچھا تھا۔ بالخصوص، کھڑکی سے اور گلی میں چاند کی چھن چھن کر آتی ہوئی روشنی۔۔۔
کلر سمبلزم بھی بعض جگہ اپنے جوبن پر نظر آیا۔

 

آخری سوال:

 

سرمد صہبائی نے اس شاعری اور شاعر بیزار معاشرے میں ایک شاعر پر فلم بنائی ہے یہ عمل بلاشبہ فنکارانہ بہادری ہے۔ اور سرمد صہبائی کو اس فنکارانہ بہادری کا صلہ ضرور ملے گا۔
کیا یہ مین اسٹریم سینما کی فلم تھی؟ اگر نہیں تو کیا یہ فلم فلاپ ہو جائے گی؟
جی ہاں، اسے مین اسٹریم سینما کے لیے ہی بنایا گیا تھا۔ اس کا پروڈکشن ڈیزائین اور ساؤنڈ ڈیزائین، دونوں اس بات کے گواہ ہیں۔ مگر، افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اسے مین اسٹریم سینما کا فلم بین دیکھنے نہیں آئے گا۔ اسے پیرالل تھیٹر کا ناظر ہی دیکھنے آئے گا جس کا پاکستانی معاشرے میں وُجود ہی نہیں۔ لہٰذا، سہولت سے کہا جا سکتا ہے کہ جی ہاں، یہ فلم فلاپ ہو جائے گی۔ حالانکہ اسے فلاپ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ اوسط درجے کے ادبی و تنقیدی مباحث کا نقطہِ آغاز بھی بن سکتی ہے۔ مثلا” شاعری کیا ہے؟ وحشت کا تخلیق بالخصوص شاعری کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ مابعد جدید شاعر کو گھیر گھار کر کلاسک کی طرف لانا اُس کی تخلیقی صلاحیت کو جلا بخشے گا یا تباہ کر دے گا؟ کیا مونا لیزا کی مسکراہٹ کو واقعی ڈی کنسٹرکٹ نہیں کیا جا سکتا؟ کیا ڈی کنسٹرکشن کو “ماہِ میر” میں درست طور پر پیش کیا گیا ہے؟

 

حرفِ آخر:

 

“ماہِ میر” اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود ایک بہترین فلم ہے۔

 

سرمد صہبائی نے مین اسٹریم سینما میں پیرالل ایڈیٹنگ، فلیش بیک/موجود واقعات کی فلپ فلاپ فریکوئینسی ایڈیٹنگ، اور عوام کے لیے عسیرالفہم اشعار و اصطلاحات مین اسٹریم سینما کی فلم کے لیےاستعمال کر کے ایک خطرہ مول لیا ہے۔ سرمد صہبائی نے اس شاعری اور شاعر بیزار معاشرے میں ایک شاعر پر فلم بنائی ہے یہ عمل بلاشبہ فنکارانہ بہادری ہے۔ اور سرمد صہبائی کو اس فنکارانہ بہادری کا صلہ ضرور ملے گا۔

 

فلم ہٹ ہو یا فلاپ، سرمد صہبائی اور ٹیم کو “ماہِ میر”‌ کے حوالے سے تا دیر اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔

 

چلتے چلتے پاکستانیوں سے ایک چھوٹا سا سوال؛ یارو! منٹو پر فلم بناتے ہو، مِیر پر بناتے ہو؛ ہمارے قومی شاعر حضرتِ اقبال پر کیوں نہیں بناتے؟