بے کار مشغلوں کا گیت (سرمد صہبائی)

پرندے کی چہک لے کر اسے سیٹی بنا لینا
ہوا کے ایک جھونکے کو کبھی موسم بنا لینا
آج کا گیت: جیون ایک دھمال (سرمد صہبائی، پٹھانے خان)

جیون ایک دھمال اُوسائیں جیون ایک دھمال تن کا چولا لہر لہو کی آنکھیں مِثل مَشال جیون ایک دھمال سانولے مکھ کی شام میں چمکے دو ہونٹوں کے لعل جیون ایک دھمال وصل کی برکھا باندھ کے نکلی ست رنگا رومال جیون ایک دھمال کس کے دھیان کی رُت میں ڈولے من کی کچی ڈال […]
تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا (سرمد صہبائی)

تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا تیری چھتوں پر بھی تو پھیکی زرد دوپہریں اُتری ہوں گی تیرے اندر بھی تو خواہشیں اپنے تیز نوکیلے ناخن کھبوتی ہوں گی تو نے بھی تو رُوئیں رُوئیں میں موت کو چلتے دیکھا ہو گا آہستہ آہستہ جیتے خون کو مرتے دیکھا ہو گا گُھٹی ہوئی گلیوں […]
ہاں میری محبوبہ

سرمد صہبائی: لفظ سے لفظ بنانے والے
کوئی بھی غم ہو
لفظ کی گولی رنگ بدلتے لمحوں کی گنگا میں گھول کے پی جاتے ہیں
نظم-سرمد صہبائی

سرمد صہبائی: کیسے کھلے گا تیری بانہوں کے کُندن میں
میرا یہ سیال دکھ اور میرے صدمے
تیرے بدن کے ان جیتے سیار سموں میں
میرا لہو کیسے جاگے گا
تیرے جوبن کے موسم میں

دل کے اندر غیبی سورج کے گل رنگ عجائب جاگیں
پنج پوروں پر پانچ حسوں کے پھول کھلیں
ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بددعا ہے

کہاں ہے ہمارے لہو کی بشارت
ہمارے پراسرار خوابوں کا موسم
پل بھر کا بہشت

پَل کے بہشت میں رہتے ہیں
میری تاریخ کا لنڈا بازار

اس تاریخ کے میلوں پھیلے بازاروں میں
میرے ناپ کا کوئی کوٹ نہیں ہے
شاید میرے قد کا کوئی سورما نہیں ہے
