Categories
تبصرہ

فلم “ماہِ میر” کیسی ہے؟

سرمد صہبائی اور انجم شہزاد کی فلم “ماہِ میر” ادب کے طالب علموں کو کم از کم ایک بار ضرور دیکھنی چاہیے۔ اپنی تمامتر خامیوں کے باوجود “ماہِ میر” حالیہ دنوں میں‌ ریلیز ہونے والی تمام پاکستانی فلموں سے اچھی ہے۔
سرمد صہبائی نے بطور شاعر، بطور دانشور اور بطور انسان کبھی بھی متاثر نہیں کیا۔ بطور شاعر اُن کی بے رس کتابیں “پل بھر کا بہشت” اور “نیلی کے سو رَنگ” پڑھ کر ہم خوب بے مزہ ہوئے۔ اقبال جیسے شاعر کی جس شاعری کو وہ سیریبرل پوئٹری کہہ کر رد کرتے رہے، موصوف کی اپنی شاعری اُسی سیریبرل ایکٹیویٹی کا ثمر ہے۔ اگرچہ ہمیں اس اصطلاح کے کھوکھلے ہونےمیں رتی برابر شُبہ نہیں، مگر اتنا ضرور کہیں گے کہ جس خامی کی بُنیاد پر آپ شاعرِ مشرق کو اور اُن کی شاعری کو نجی محفلوں میں گالیاں دیتے ہوں، وہ خامی آپ کی اپنی تخلیقات میں ٹھاٹھیں مار رہی ہو تو آپ کو اپنی تخلیقی سرگرمیوں سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔ بطور دانشور بھی اُنہیں ایک خاص حد تک پڑھا لکھا پایا۔ اُن کو مابعد جدیدیت نے ایسا اسیر کیا کہ خدا کی پناہ۔ اردو شاعری میں اُن کو میر کی جمالیات سے آگے کچھ سُجھائی نہیں دیتا۔ اگرچہ ان کی اس بات سے اختلاف نہیں کہ میر احساس کا شاعر ہے۔

 

البتہ؛ سرمد صہبائی نے بطور فلم “ماہِ میر” کے تخلیق کار اور اسکرین پلے رائٹر ہمیں کسی حد تک متاثر کیا ہے۔

 

سرمد صہبائی اور انجم شہزاد کی فلم “ماہِ میر” ادب کے طالب علموں کو کم از کم ایک بار ضرور دیکھنی چاہیے۔ اپنی تمامتر خامیوں کے باوجود “ماہِ میر” حالیہ دنوں میں‌ ریلیز ہونے والی تمام پاکستانی فلموں سے اچھی ہے۔

 

خدائے سُخن میر تقی میر کی وحشت کو پردہِ سیمیں پر دکھانا اور اس انداز سے دکھانا کہ فلم میڈیم کے تقاضے بھی پورے ہوں، ایک مشکل کام تھا، جسے سرمد صہبائی نے کر دکھایا۔ “ماہِ میر” کی کہانی میں اگرچہ تجسس کا پہلو زیادہ حاوی نہیں، پھر بھی اس میں دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ اور اس کا سبب ہمارے پروٹیگونسٹ “فہد مصطفٰے” ہیں جن کی شاندار اداکاری نے منظر صہبائی جیسے منجھے ہوئے اداکار کو بھی پس منظر میں دھکیل دیا۔ سینما اسکرین پر بھی منظر صہبائی کے اندر سے تھئیٹر نہیں نکلتا۔ یعنی، وہ خود کو اس میڈیم کے مطابق مکمل طور پر ڈھالنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ایسا ہم نے شعیب منصور کی فلم “بول” میں بھی دیکھا اور ایک تیسرے درجے کی فلم “زندہ بھاگ” میں بھی۔ علاوہ ازیں، منظر صہبائی کی آواز میں جو اشعار فلم “ماہِ میر” میں‌ شامل کیے گئے ہیں، جو تعداد میں کافی زیادہ ہیں، کانوں کو بھلے معلوم نہیں ہوتے۔ جو ملائمت میر کے الفاظ میں ہے، اسے منظر کی آواز کی سختی اور کھردرا پن تباہ کر دیتا ہے۔

 

ڈائریکشن:

 

فلم میں چاند کو شعلے کی روشنی کا استعارہ اور میر تقی میر کی وحشت کو پروانے کے طواف اور شعلے میں فنا ہونے کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔
“ماہِ میر” کو انجم شہزاد نے ڈائریکٹ کیا۔ بعض جگہ حیران کُن اور بعض جگہ مایوس کن۔ حیران کُن وہاں جہاں مینیکوئین انسانی روپ میں ڈھل کر شاعر احمد جمال یعنی فہد مصطفٰے سے بات کرتے ہیں۔ اس سین میں علامت کا استعمال اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ اس طرح ایک جگہ، ایک پروانہ جلتی ہوئی شمع کے شعلے میں گر کر بھسم ہو جاتا ہے اور لِیڈ رول یعنی فہد اس پروانے کو شاعرانہ حیرت کے ساتھ جل مرتا دیکھتا رہتا ہے۔ سادہ ترین الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ ایک سین پوری فلم کی جان ہے۔ کہانی میں شعلے کو تخلیق اور پروانے کو تخلیق کار کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ فلم میں چاند کو شعلے کی روشنی کا استعارہ اور میر تقی میر کی وحشت کو پروانے کے طواف اور شعلے میں فنا ہونے کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔ اس ایک سین کے اثر سے نکلنے میں ناظر کو باقاعدہ تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔

 

جب احمد جمال کی کتاب شائع ہوتی ہے اور پبلشر اسے پہلی کاپی دینے آتا ہے، تو اس کی بائنڈنگ ایم فل کے کسی تھیسس کی سی ہے۔ اس پر ذہانت سے کام کیا جا سکتا تھا اور جیسے نیناں کی کتابیں واقعی کتابیں ہی محسوس ہوتی تھیں، اس پر بھی کام کیا جا سکتا تھا۔

 

سیٹ:

 

فلم کے سیٹ عجیب و غریب تھے۔ نواب کا محل جہاں سودا و میر کو آتا جاتا دکھایا گیا، کسی غریب کا برآمدہ دکھائی دیتا تھا۔ آرٹ ڈائریکشن بھی غیر متاثر کُن تھی۔ بھلا سنجے لیلا بھنسالی سے ہی کچھ سیکھ لیا ہوتا اس ضمن میں۔

 

کیمرہ کاری:

 

شاٹ ٹیکنگ بھی کافی جگہوں پر نان پروفیشنل تھی جس کی کوئی کانوٹیشن نہیں بن پائی۔ تاہم کاپٹر شاٹس بعض جگہ عمدہ تھے، اور بعض جگہ غیر ضروری۔
شاٹ ٹیکنگ بھی کافی جگہوں پر نان پروفیشنل تھی جس کی کوئی کانوٹیشن نہیں بن پائی۔ تاہم کاپٹر شاٹس بعض جگہ عمدہ تھے، اور بعض جگہ غیر ضروری بھی۔ فریمز میں غیر مطلوبہ چیزوں کی موجودگی ناظرین کی توجہ فریم کے مرکزی خیال سے ہٹا دیتی تھی۔ یعنی فریم کی کمپوزیشن اچھی نہیں رہی۔ اگرچہ، چاند کو بہت اچھے طریقے سے زُوم بھی کیا گیا اور فور گراؤنڈ کے ساتھ چاند کے کمپلیکس شاٹس بھی لیے گئے۔

 

کوریوگرافی:

 

ڈانسز کو گویا بے دلی سے شُوٹ کیا۔ ایمان علی نے خود تو رقص کیا ہی نہیں۔ ایک رقاصہ کو دو بار موقع دیا گیا۔ جس نے بہتر ڈانس کیا مگر اسے عمدہ طریقے سے شُوٹ نہیں کیا گیا۔ رہی سہی کسر beatsپر ایڈیٹنگ کَٹس نہ لگا کر پوری کر دی گئی۔ ایمان علی سے لپ سنکرونائزیشن اچھی نہیں کروائی گئی۔ بہت مکینکل لگیں۔ گویا، کوئی روبوٹ بیگ گراؤنڈ آواز سے آواز ملانے کی کوشش کر رہا ہو۔ کاسٹیوم بھی غیر متاثر کُن تھے۔

 

مکالمے:

 

سرمد کھوسٹ کی فلم “منٹو” کے مکالمے کمزور تھے۔ یہ ایک ایسی کمزوری تھی جسے اس لیے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا کہ یہ ایک ادیب کی بائیوپک تھی۔ ادیب کی زندگی پر بنائی گئی فلم کے مکالمے کمزور ہوں، یہ مناسب نہیں۔ تاہم سرمد صہبائی نے اس بات کا خاص خیال رکھا یعنی فلم “ماہِ میر” اگر خدائے سخن پر بنائی جا رہی ہے تو مکالمے بھی جاندار لکھے جائیں۔ اور اس کوشش میں سرمد صہبائی کافی حد تک کامیاب رہے۔

 

اداکاری:

 

ہمارے خیال میں بہترین اداکاری کا ایوارڈ فہد کو جاتا ہے۔ منظرصہبائی پس منظر میں چلے گئے۔ ہما نواب تھوڑی سی دیر کے لیے نمودار ہوئیں اور ملی جُلی یعنی اچھی ایکٹنگ اور اوور ایکٹنگ کر کے غائب ہو گئیں۔ ایمان علی بھی زیادہ متاثر کُن نہیں رہیں۔ اُن کے حسن کو سرمد صہبائی اور انجم شہزاد نے بہتیرا بڑھا چڑھا کر دکھانے اور سُنانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ علی خان نے نواب کے روپ میں بہتر اداکاری کی۔

 

صنم سعید نے شاعرہ نیناں کے کردار کے ساتھ انصاف کیا۔ تاہم، ناصر خان کی “بچانا” میں سادگی اور دو کاسٹیومز کے باوجود حقیقت سے زیادہ حسین لگیں، “ماہِ میر” کے میک اپ آرٹسٹ نے صنم کو حقیقت سے کم حسین دکھایا۔ یاد رہے، کم حسین دکھائی دینا اس رول کی ڈیمانڈ نہیں تھی۔ ہمیں اس معاملے میں صنم کے ساتھ ہمدردی ہے۔

 

ساؤنڈ:

 

فلم کا ساؤنڈ اچھا تھا۔ اچھے بیک گراؤنڈ میوزک کی وجہ سے ہی تو یہ ڈرامہ یانرا کی فلم، سینمیٹک پِیس بن سکی۔ ورنہ فریمز کی کمپوزیشن کی تناظر میں اگر بات کی جائے تو “ماہِ میر” ایک ٹی وی ڈرامہ بن کر رہ جاتی۔

 

جہاں تک تعلق ہے آٹو میٹک ڈائیلاگ ریپلیسمنٹ کا، ڈبنگ کا، تو ہمارے خیال میں اسے خامیوں سے بالکل پاک ہونا چاہئے۔ پاکستانی فلمیں اس شعبے میں کمزور رہی ہیں۔ فاروق مینگل کی تازہ اور اب تک واحد فلم “ہجرت” اس کی بدترین مثال ہے۔ “ماہِ میر” میں بھی یہ خامی نظر آئی۔ ڈبنگ کی خامی۔ اگرچہ بعض جگہ فولی ساؤنڈ حیران کُن حد تک اچھی تھی، مثال کے طور پر نوجوان شاعر احمد جمال یعنی فہد کے گھر کی ٹپکتی چھت سے قطرے گرنے کی آواز۔ اور سگریٹ کے کاغذ سلگنے کی آواز۔

 

لائٹ:

 

فلم کی لائٹ عمدہ تھی، مگر میک اپ کو واضح دکھا رہی تھی۔ اس کا مطلب ہوا کہ یا تو میک اپ کے میدان میں‌ زیادہ جان ماری جاتی اور اسے عمدگی سے کیا جاتا، یا پھر اس کمی کو لائٹ کی مدد سے دُور کیا جاتا۔
بعض جگہ کٹرز اور کُوکیز کا استعمال البتہ بہت اچھا تھا۔ بالخصوص، کھڑکی سے اور گلی میں چاند کی چھن چھن کر آتی ہوئی روشنی۔۔۔
کلر سمبلزم بھی بعض جگہ اپنے جوبن پر نظر آیا۔

 

آخری سوال:

 

سرمد صہبائی نے اس شاعری اور شاعر بیزار معاشرے میں ایک شاعر پر فلم بنائی ہے یہ عمل بلاشبہ فنکارانہ بہادری ہے۔ اور سرمد صہبائی کو اس فنکارانہ بہادری کا صلہ ضرور ملے گا۔
کیا یہ مین اسٹریم سینما کی فلم تھی؟ اگر نہیں تو کیا یہ فلم فلاپ ہو جائے گی؟
جی ہاں، اسے مین اسٹریم سینما کے لیے ہی بنایا گیا تھا۔ اس کا پروڈکشن ڈیزائین اور ساؤنڈ ڈیزائین، دونوں اس بات کے گواہ ہیں۔ مگر، افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اسے مین اسٹریم سینما کا فلم بین دیکھنے نہیں آئے گا۔ اسے پیرالل تھیٹر کا ناظر ہی دیکھنے آئے گا جس کا پاکستانی معاشرے میں وُجود ہی نہیں۔ لہٰذا، سہولت سے کہا جا سکتا ہے کہ جی ہاں، یہ فلم فلاپ ہو جائے گی۔ حالانکہ اسے فلاپ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ اوسط درجے کے ادبی و تنقیدی مباحث کا نقطہِ آغاز بھی بن سکتی ہے۔ مثلا” شاعری کیا ہے؟ وحشت کا تخلیق بالخصوص شاعری کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ مابعد جدید شاعر کو گھیر گھار کر کلاسک کی طرف لانا اُس کی تخلیقی صلاحیت کو جلا بخشے گا یا تباہ کر دے گا؟ کیا مونا لیزا کی مسکراہٹ کو واقعی ڈی کنسٹرکٹ نہیں کیا جا سکتا؟ کیا ڈی کنسٹرکشن کو “ماہِ میر” میں درست طور پر پیش کیا گیا ہے؟

 

حرفِ آخر:

 

“ماہِ میر” اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود ایک بہترین فلم ہے۔

 

سرمد صہبائی نے مین اسٹریم سینما میں پیرالل ایڈیٹنگ، فلیش بیک/موجود واقعات کی فلپ فلاپ فریکوئینسی ایڈیٹنگ، اور عوام کے لیے عسیرالفہم اشعار و اصطلاحات مین اسٹریم سینما کی فلم کے لیےاستعمال کر کے ایک خطرہ مول لیا ہے۔ سرمد صہبائی نے اس شاعری اور شاعر بیزار معاشرے میں ایک شاعر پر فلم بنائی ہے یہ عمل بلاشبہ فنکارانہ بہادری ہے۔ اور سرمد صہبائی کو اس فنکارانہ بہادری کا صلہ ضرور ملے گا۔

 

فلم ہٹ ہو یا فلاپ، سرمد صہبائی اور ٹیم کو “ماہِ میر”‌ کے حوالے سے تا دیر اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔

 

چلتے چلتے پاکستانیوں سے ایک چھوٹا سا سوال؛ یارو! منٹو پر فلم بناتے ہو، مِیر پر بناتے ہو؛ ہمارے قومی شاعر حضرتِ اقبال پر کیوں نہیں بناتے؟
Categories
نقطۂ نظر

کیا ہم منٹو کو اپنانے کو تیار ہیں؟

آپ منٹو سے واقف ہوں یا نہ ہوں، منٹو کو پسند کرتے ہوں یا نہ ہوں، منٹو منٹو کی تکرار سے بیزار ہیں یا یہ سمجھتے ہیں کہ منٹو کو ابھی تک پوری طرح دریافت ہی نہیں کیا گیا ۔۔۔۔ہر صورت میں منٹو ایک ایسی فلم ہے جو دیکھی جانی چاہیئے۔ یہ فلم صرف اس لیے اہم نہیں کہ یہ اردو افسانے کے خدا منٹو کی زندگی پر بنائی گئی ہےبلکہ اس لیے بھی قابل دید ہے کیوں کہ یہ سوانحی فلموں میں اب تک کی پاکستانی کی سب سے بہتر فلم ہے۔ سنجیدہ فلم بینوں کے ذہن میں پاکستانی فلموں میں کہانی، ہدایتکاری، عکاسی اور فلمی موسیقی سے متعلق جو تحفظات پائے جاتے ہیں وہ اس فلم کو دیکھنے کے بعد بہت حد تک دور ہوجاتے ہیں۔ منٹو کو پاکستانی سینما پر دوررس اثرت مرتب کرنے والی فلم قرار دیا جاسکتا ہے ۔اپنے موضوع اور تکنیک کے اعتبار سے بھی یہ پاکستانی سینما کی پہلی فخریہ پیشکش ہے۔ پاکستانی سینما کی بحالی اور فلم سازی کی نئی لہر کے ساتھ یکجہتی کے لیے نئے فلم سازوں کی حوصلہ افزائی کے طور پر دیکھنے کی بجائے اس فلم کو ایک معیاری فلم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
منٹو کو پاکستانی سینما پر دوررس اثرت مرتب کرنے والی فلم قرار دیا جاسکتا ہے ۔اپنے موضوع اور تکنیک کے اعتبار سے بھی یہ پاکستانی سینما کی پہلی فخریہ پیشکش ہے۔
سرمد سلطان کھوسٹ کی یہ فلم شاہد ندیم کے اس ڈرامہ سکرپٹ سے ماخوذ ہے جو اجوکا تھیٹر کے لیے لکھا گیا تھا اور اس سے قبل ‘میں منٹو’ کی صورت میں ٹی وی پر پیش کرنے کے لیے بھی بنایا جا چکا ہے۔ بجاطور پر یہ فلم اب تک پاکستان میں منٹو پر کیے گئے تھیٹراور ٹی وی ڈراموں سے بدرجہا بہتر اور معیاری ہے۔ شاہد ندیم کا لکھا سکرین پلے منٹو کی متنازع مگر اہم کہانیوں اور منٹو کی پاکستان آمد کے بعد کی زندگی پر مشتمل ہے۔ فلم کی کہانی منٹو کی کہانیوں اور منٹو کی سوانح کے تانے بانے پر مشتمل ہے۔ فلم منٹو کی ذاتی زندگی کے ان پہلووں کو بھی سامنے لاتی ہے جن پر کم بات کی گئی ہے؛ میڈم نورجہاں سے ان کا تعلق، مقدمات ، مے نوشی، خانگی حالات اورنفسیاتی الجھنیں اس فلم میں منٹو کو نئی نسل سے متعارف کرانے کے لیے ایک موزوں تعارف بن جاتی ہیں۔ فلم میں منٹو کی اہم کہانیوں ٹھنڈا گوشت، لائسنس ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ہتک، کھول دو، اوپر نیچے درمیان اور پشاور سے لاہور تک سے استفادہ کی گیا ہے اور ان کہانیوں کی فلم بندی بھی کی گئی ہے۔
فلم تکنیکی اعتبار سے بھی بے حد عمدہ ہے۔ منٹو دیکھتے ہوئے بیشتر نئی پاکستانی فلموں کی طرح یہ احساس نہیں ہوتا کہ آپ بڑی سکرین پر ایک ٹی وی ڈرامہ دیکھ رہے ہیں
فلم تکنیکی اعتبار سے بھی بے حد عمدہ ہے۔ منٹو دیکھتے ہوئے بیشتر نئی پاکستانی فلموں کی طرح یہ احساس نہیں ہوتا کہ آپ بڑی سکرین پر ایک ٹی وی ڈرامہ دیکھ رہے ہیں۔ فلم کی سینماٹوگرافی، ہدایتکاری، موسیقی اور تدوین سبھی پاکستانی سینماکے لیے اجنبی ہیں اور شاید ہی پاکستان میں پہلے کبھی اس طرز کی فلم پیش کی گئی ہو۔ سرمد سلطان کھوسٹ کی اداکاری اوسط سے کچھ بہتر درجے کی تھی مگر ان کی ہدایتکاری کی صلاحیتوں پر کوئی شبہ نہیں۔ جس عمدگی سے انہوں نے ٹھنڈا گوشت، اوپر نیچے درمیان، لائسنس اور ہتک فلمائے وہ قابل تعریف ہیں۔ فلم کی موسیقی کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ جمال رحمان کی مرتب کردہ موسیقی منٹو کی کہانیوں میں موجود تلخی اوربے باکی کے ساتھ منٹو کے وجود کے ساتھ جڑی الجھنوں اور نفسیاتی خلفشار کا بھرپور اظہار کرتی ہے۔ اس فلم کے تمام گیت عمدہ ہیں خصوصاً جاوید بشیر کی آواز میں ریکارڈ کی گئی مجید امجد کی نظم “کون ہے یہ گستاخ” ایک شاہکار ہے۔ اس کے علاوہ میشا شفیع کی آواز میں شیو کمار بٹالوی کا گیت” محرم دلاں دے ماہی ” اور علی سیٹھی کی گائی غالب کی غزل “آہ کو چاہیئے ” بھی عمدہ ہیں۔
منجھے ہوئے اداکاروں کے باوجود اگر کوئی شعبہ اس فلم میں کم زور رہا ہے تو وہ مکالموں کی ادائیگی اور کاسٹیوم کا ہے
اگرچہ بعض مقامات پر مکالموں کی ادائیگی خصوصاً سرمد سلطان کھوسٹ اور صبا قمر کی اداکاری کم زور ہے لیکن اس کے باوجود دیگر تمام اداکاروں نے اپنے کرداروں سے انصاف کیا ہے خصوصاًمنٹو کی ہمزاد کا کردار نمرا بچُہ نے بے حد عمدگی سے نبھایا ہے۔ سویراندیم، عرفان کھوسٹ، ثانیہ سعید، فیصل قریشی ا ور نادیہ افگن نے بھی اچھا کام کیا ہے۔ منجھے ہوئے اداکاروں کے باوجود اگر کوئی شعبہ اس فلم میں کم زور رہا ہے تو وہ مکالموں کی ادائیگی اور کاسٹیوم کا ہے۔ سرمد سلطان بعض جگہوں پر منٹو کے اندرونی خلفشار کی ترجمانی میں ناکام رہے ہیں اور بعض مقامات پر غیر ضروری طور پر اوورایکٹ کرنے کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔اسی طرح صباقمر کسی بھی طرح میڈم نورجہاں کا کردار نبھانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اگر صباقمر نے میڈم جی کو دیکھ رکھا ہے تو انہیں معلوم ہوگا کہ ان کی موجودگی پورے منظر کو اپنی گرفت میں لے لیتی تھی۔ ان کی بھرپورشخصیت کے سامنے پردے پر کوئی اور ٹک نہیں سکتا تھا۔
کاسٹیوم کا شعبہ بھی کم زور ہے، فلم میں کہیں بھی یہ احساس نہیں ہو پاتا کہ یہ گزشتہ صدی کی چالیس اور پچاس کی دہائی کے واقعات ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود فلم اپنے ناظرین وک کسی بھی لمحے منٹو سے جدا نہیں ہونے دیتی۔ اس فلم کی کامیابی یہ ہے کہ یہ منٹو سے ناواقف افراد کو بھی منٹو کی موجودگی کا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس فلم کے بننے اور کامیاب ہونے کے بعد کیا ہم یہ تصور کرسکتے ہیں کہ اب معاشرہ منٹو کو پڑھنے ، تسلیم کرنے اور فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اپنانے کو بھی تیار ہے؟
Categories
نقطۂ نظر

زندگی ہے کہ پھر بھی پیاری ہے۔

پاکستان کو بطورریاست اور معاشرہ بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔تاہم رائج الوقت بیانیے میں مسائل کی فہرست دیکھیں تو سخت گیر سماجی رویے، مذہبی اخلاقیات کادوہرا پن، عورت دشمنی، بے قابو آبادی اور تیسری جنس کی تکالیف جیسے عنوانات اس میں معدوم نظر آئیں گے۔ ایسے میں پاکستانی فلم جیسی نایاب جنس اگر ان مسائل کو اجاگر کرے تو اس سے زیادہ خوشگوار احساس پاکستان میں کم ہی نصیب ہوتا ہو گا۔ یہ احساس شعیب منصور کی نئی فلم’ بول‘ دیکھنے پر ہوا۔ اگرچہ شعیب منصور کی ہر تخلیق اپنی مثال آپ ہے مگر فلم ’بول‘ سماجی ذمہ داری، حقیقت نگاری اور کثیر جہتی مفاہیم کی بدولت ان سب میں سر فہرست ہے۔ چند ایک کمزوریاں شناخت کی جاسکتی ہیں مگر شاید وہ کاروباری نقطہ نظر سے ضروری تھیں ۔ان کے سوا فلم فنی کارکردگی اور سماجی شعور کو یکجا کرنے کی ایک اعلیٰ مثال ہے جس نے ان تاثرات کو ایک بار پھر جھٹلایا ہے کہ پاکستان میں اچھے فلم ساز نہیں یا عوام معیاری سینما دیکھنا نہیں چاہتی۔
اگرچہ شعیب منصور کی ہر تخلیق اپنی مثال آپ ہے مگر فلم ’بول‘ سماجی ذمہ داری، حقیقت نگاری اور کثیر جہتی مفاہیم کی بدولت ان سب میں سر فہرست ہے۔ چند ایک کمزوریاں شناخت کی جاسکتی ہیں مگر شاید وہ کاروباری نقطہ نظر سے ضروری تھیں ۔ان کے سوا فلم فنی کارکردگی اور سماجی شعور کو یکجا کرنے کی ایک اعلیٰ مثال ہے جس نے ان تاثرات کو ایک بار پھر جھٹلایا ہے کہ پاکستان میں اچھے فلم ساز نہیں یا عوام معیاری سینما دیکھنا نہیں چاہتی۔
بول زندہ کرداروں پر مبنی ایک حساس کہانی ہے۔ مرکزی کردار ’حکیم صاحب‘ بنیادی طور پر معاشرے کا وہ کردار ہے جسے ہم عُرف عام میں ’مولوی‘ کہتے ہیں ۔ یہاں وضع قطع اور مذہبی عقا ئد کو دخل نہیں بلکہ اس سے مراد احساسات سے عاری، بند نظام فکر کا وہ پیروکار ہے جو اپنی فکر پر نظرثانی اور سمجھوتے پر تیار نہیں ۔ مگر وقت کی دوڑ میں وہ اپنے اعمال تلے کُچلا جاتاہے۔ شعیب منصور نے پاکستانی فلموں کی ایک اور روایت کو توڑا ہے ۔ مولوی جو اس فلم کا ولن ہے اسے سکرین پر نہ صرف سب سے زیادہ وقت دیا گیا ہے بلکہ اس کی نفسیاتی اُلجھنوں کو انسانی انداز میں سمجھانے کی کوشش
بھی کی گئی ہے۔ مولوی کے ہاتھوں اس کی بیوی اور بیٹیاں استحصال اور تشدد کا شکار ہوتی ہیں ۔
بیٹیوں کو قابو میں رکھنے اور اپنی مخنث اولاد کے وجود سے گھر کو پاک کرنے کے خبط میں وہ ایسی پیچیدگیوں میں اُلجھتا ہے کہ معاشرے کے کمتر ترین سمجھے جانے والے طبقے کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوتا ہے۔ مگر حیران کن بات ہے کہ اپنی سوچ کی ناکامی تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔فلم میں اگرچہ اچھے اور بُرے کرداروں کی روایتی خلیج موجود ہے مگر ہر کردار حقیقی رنگ میں اپنی حد بندیوں کے ساتھ نظر آتا ہے جیسے فلم کی کہانی بیان کرنے والی حکیم صاحب کی صاحبزادی اپنی تمام تر عقل اور حکیم صاحب کی دست درازیوں کے خلاف مزاحمت کے باوجود مخنث کو مردوں کی طرح عمل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔یہ بھی دکھایا ہے کہ ہمارے ہی معاشرے میں جہاں نام نہاد شرفاء بھی بیٹی کو انسان کا درجہ نہیں دیتے، وہاں کئی گھرانوں میں اس کی اہمیت مرکزی ہے۔ ہیرا منڈی کا کنجر اپنی تمام برائیوں کے ساتھ اخلاقی معیارمیں حکیم صاحب سے بلند نظر آتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ناخوش ہے۔ اس ناخوشی میں مالی وجوہات بنیادی حیثیت نہیں رکھتیں ۔درحقیقت مو لویانہ ذہنیت جو معاشرے میں انتہائی گہرائی تک سرایت کر چکی ہے، بنیادی طور پر انسانی خوشی کی دشمن ہے۔ یہ بات کہنا اور منوانا شاید مشکل ہے مگر ’بول‘ میں ایسی کمال فنکاری سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ انکار ممکن نہیں ۔
سینما میں یہ فلم دیکھنا بذات خود ایک اہم عمرانیاتی تجربہ ہے۔ اگرچہ کرداروں کے مثبت اور منفی پہلو شروع سے ہی واضح کر دیے جاتے ہیں مگر گھریلو تشدد پر ناظرین کے بے حس تبصرے اور ایک مخنث سے جنسی زیادتی پربلند قہقہے ہماری اجتماعی اخلاقی سطح کے بارے میں چشم کُشا ہیں ۔ تاہم شعیب منصور کی فنکارانہ صلاحتیوں کا ایک اور ثبوت سامنے آتا ہے جب فلم کے نصف سے پہلے ہی مظلوم کرداراپنی تکلیفوں کا اتنا گہرا تاثر چھوڑتے ہیں کہ باقی ماندہ حصے کے دوران ہال میں گہری ہمدردانہ خاموشی چھائی رہتی ہے۔اور جب مظلوم کردار صدائے بغاوت بلند کرتے ہوئے اپنی آزادی کا اعلان کرتے ہیں تو تالیوں کا شور اس کی گواہی دیتا ہے کہ فلم کا مقصد پورا ہوا ہے۔
’بول‘ گرجدار لہجے اورنحیف آواز میں کیے جانے والے سوالات کے درمیان مکالمہ ہے جس میں حتمی بقاموخر الذکر کو ہی ہے۔یہ ہمارے گھروں کے تاریک کونوں میں ہونے والی ان ذیادتیوں پربے لاگ تبصرہ ہے جن سے ہمارا اجتماعی مزاج تشکیل پاتا ہے۔
فیض صاحب نے اپنی نظم ’بول‘ کے ذریعے لفظ ’بول‘ کو سیاسی مفہوم دیا تھااور عمومی طور پر یہ آمرانہ حکومت کے خلاف مزاحمت کا ایک استعارہ رہاہے۔ شعیب منصور نے اس کے مفہوم کو وسیع کرتے ہوئے ان تمام برائیوں کو اس کے دائرہ عمل میں لانے کی کوشش کی ہے جنہیں عموماً کلچر، خاندان، مذہب اور اخلاقیات کے نام پر روا رکھا جاتا ہے۔مثلاً منصوبہ بندی کے بغیر بچے پیدا کرنا۔ یہ جتنا بڑا مسئلہ ہے اتنا ہی زیادہ نظر انداز بھی ہے۔ اور اگر بات شروع ہو تو مذہب کے نام پر روک دی جاتی ہے۔ ’بول‘ میں صحیح طور پربغیر منصوبہ مندی بچے پیدا کرنے کو جُرم کہا گیا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ اولاد کی اچھی تربیت اتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ اس سے غفلت ایک مجرمانہ فعل ہے ۔اس احساس ذمہ داری کے بغیر ایک صحت مند معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
’بول‘ گرجدار لہجے اورنحیف آواز میں کیے جانے والے سوالات کے درمیان مکالمہ ہے جس میں حتمی بقاموخر الذکر کو ہی ہے۔یہ ہمارے گھروں کے تاریک کونوں میں ہونے والی ان ذیادتیوں پربے لاگ تبصرہ ہے جن سے ہمارا اجتماعی مزاج تشکیل پاتا ہے۔سب سے بڑھ کر یہ انسانی حساسیت کا بیان ہے جو فلم میں شامل کیے گئے سجاد علی کے گانے کی صورت میں بہتر طور پر واضح ہوتا ہے۔
دن پریشاں ہیں ، رات بھاری ہے
زندگی ہے کہ پھر بھی پیاری ہے