Categories
شاعری

پل بھر کا بہشت

پل بھر کا بہشت
ایک وہ پَل جو شہر کی خفیہ مٹھی میں
جگنو بن کر
دھڑک رہا ہے
اس کی خاطر
ہم عمروں کی نیندیں کاٹتے رہتے ہیں

یہ وہ پَل ہے
جس کو چھو کر
تم دنیا کی سب سے دلکش
لذت سے لبریز اک عورت بن جاتی ہو
اور میں ایک بہادر مرد

ہم دونوں آدم اور حوا
پَل کے بہشت میں رہتے ہیں
اور پھر تم وہی ڈری ڈری سی
بسوں پہ چڑھنے والی، عام سی عورت
اور میں دھکے کھاتا بوجھ اٹھاتا
عام سا مرد
دونوں شہر کے
چیختے دھاڑتے رستوں پر
پل بھر رُک کر
پھر اس پَل کا خواب بناتے رہتے ہیں
Categories
شاعری

بڑے دشمن کی دھوپ

آج صبح خبر نے کھایا ہے
میرا ایک اور دشمن
جو دوست
کسی گلی کے شرمناک میدانِ جنگ سے
تم نے کل رات اٹھوایا ہے
وہ پودا جس کی پکڑ سے پکڑنی تھی
میں نے اپنی ڈگر
تم نے اس کے پھول پر کانٹا مروایا ہے
میں تب سے اسکا خاموش لمحہ
گلے لگا کر بیٹھا ہوں
تم نے اسے خوف سے چپ کروایا ہے

یہ دیکھو
یہ دھیرے دھیرے اجڑتا ہوا
میری افزائش کا اسمِ اعظم
وہ سکتہ مجھ میں بھی اتر آیا ہے
جو تم نے اس کی سوچ میں چنوایا ہے
تمھیں سخت ضرورت ہے نہار منہ
خدا کا خوف کھایا کرو
کس باوقار نے آج تک
ایسے اپنا دشمن سدھایا ہے؟

تم میں اترنا باقی ہے
ایک لازوال نمو کا کلیہ
قسم ستارے کو توڑنے والے کی
بڑا دشمن
میرا سب سے اہم سرمایہ ہے
کبھی وہ دھوپ ہے
کبھی وہ سایہ ہے
یہ جنون میں نہیں لکھ رہا ہوں بھائی
میں نے اسے ایسے ہی نہیں اپنایا ہے

جس دیوار پر تھی میرے سر کی نظر
کس دل سے تم نے اسے گرایا ہے؟
جس کوکھ کی مہک سے دہکتا تھا میں
تم نے اس میں
موت کا بیج ڈالا ہے
کیسا منحوس حمل ٹھہرایا ہے؟
تم دیکھنا
جب اس سطح کی فتح کا جشن
تھم جاۓ
تو تم دیکھنا
تم نے خود کو وہی بنایا ہے
جس سے تم نے دامن بچایا ہے

میں اسی لیے محبت لگا کر لہجے پر
کہتا ہوں کہ اے میرے دوست
مرد کے بچے!
مرد کے بچے
بنو
یہ میرا بدن ہے
یہ میرے وقار پر لگا زخم ہے
جو تم نے میرے دشمن کی
پیٹھ کے پیچھے
دبنگ بدصورتی سے
غلط گھاؤ لگایا ہے

قسم ہے ستاروں کو جوڑنے والے کی
بڑا دشمن
دھوپ لگی مٹی ہوتا ہے
خدا نہ کرے تم پر اترے نصیب
کسی کا چھوٹا دشمن ہونے کا
یہ اپنی نوعیت کا
عجیب ہی عذاب ہوتا ہے

Image: Salvador Dali