Categories
شاعری

تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا (سرمد صہبائی)

تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا
تیری چھتوں پر بھی تو پھیکی زرد دوپہریں اُتری ہوں گی
تیرے اندر بھی تو خواہشیں اپنے تیز نوکیلے ناخن کھبوتی ہوں گی
تو نے بھی تو رُوئیں رُوئیں میں موت کو چلتے دیکھا ہو گا
آہستہ آہستہ جیتے خون کو مرتے دیکھا ہو گا
گُھٹی ہوئی گلیوں میں تو نے
تنہائی کو ہچکیاں لیتے سُنا تو ہو گا
تیری پتھرائی آنکھوں نے
اک وہ خواب بھی دیکھا ہو گا
جس کے خوف سے تیرا دل بھی زور زور سے دھڑکا ہو گا
ناآشنائی کے شہروں میں
اپنے بدن کی تنہائی سے لپٹ لپٹ کر رویا ہو گا
جھوٹے دلاسوں کی چادر کو تُو بھی اوڑھ کے سویا ہو گا
میں نے تجھے پہچان لیا ہے
تُو نے بھی تو مجھے کہیں پر
اس سے پہلے دیکھا ہو گا
Image: Cheenu Pillai

Categories
شاعری

تیرے جوبن کے موسم میں

تیرے جوبن کے موسم میں
او مٹیالی
تیرے جسم کی سوندھی خوشبو
روئیں روئیں میں سانولی رُت بیدار کرے
دل کی اور سے گہری گھور گھٹائیں امڈیں
اور میرے یہ پیاسے ہونٹ
تیرے سینے کے پیالوں میں
تیرتے انگوروں کے رس کے لمس میں بھیگیں
تیری ہری بھری سانسوں کی مُشک نچوڑیں
او مٹیالی
تیرے جوبن کے موسم میں
دل کے اندر غیبی سورج کے گل رنگ عجائب جاگیں
پنج پوروں پر پانچ حسوں کے پھول کھلیں
اور تو ہولے ہولے اپنے
پیار بھرے ہونٹوں سے میرا
شہد کشید کرے