Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: فقیرانہ آئے صدا کر چلے (میر تقی میر، عزیر احمد خان وارثی قوال اور ہمنوا)

کلام: میر تقی میر
قوال: اُستاد عزیز احمد خاں وارثی و ہم نوا

فقیرانہ آئے صدا کر چلے
کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے

جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم
سو اس عہد کو اب وفا کر چلے

جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی
حق بندگی ہم ادا کر چلے

پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے
نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے

کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میرؔ
جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے

یہ قوالی ڈاون لوڈ کرنے کے لیے کلک کریں۔

Categories
تبصرہ

ماہِ میر آخر کون سے میر تقی میر پر بنائی گئی؟

ماہِ میر فلم میں اردو کے عظیم شاعر میر تقی میر کی زندگی کو دورِ حاضر کے ایک شاعر جمال کی زندگی سے ملا کر دکھایا گیا ہے۔ یوں یہ فلم تمام کی تمام میر تقی میر کی زندگی پر تو نہیں، لیکن اس میں میر تقی میر کی زندگی کی جھلکیاں بھی دکھائی گئی ہیں۔ میر کے بعض قصے تو محمد حسین آزاد کی کتاب ’آبِ حیات‘ کی وجہ سے ادبی حلقوں میں زباں زدِ خواص و عوام ہیں، جو اس فلم میں بھی سموئے گئے ہیں، مثلاً میر کی جانب سے یہ کہنا کہ فی زمانہ صرف دو شاعر ہیں، ایک وہ خود اور دوسرے میرزا سودا۔ میر درد آدھے شاعر ہیں اور میر سوز کو بھی شامل کر لیجیے تو یہ پونے تین ہو گئے۔ پھر وہ قصہ کہ نواب صاحب ان کے شعر سنتے ہوئے مچھلیوں سے کھیلنے میں مگن ہیں۔ مگر کچھ واقعات ایسے شامل کیے گئے ہیں جن کا میر تقی میر کی زندگی سے واسطہ نہیں۔ مثلاً میر تقی میر کو عالمِ نوجوانی میں لکھنو کے نواب آصف الدّولہ کے دربار سے وابستہ دکھایا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میر صاحب جب لکھنو گئے تو ان کی عمر ساٹھ سال ہو چکی تھی۔ میر کی جس محبوبہ کو نواب آصف الدولہ کے دربار سے وابستہ بتایا گیا ہے ان کا کوئی وجود نہیں تھا۔ میر اپنی زندگی میں ایک سے زیادہ خواتین سے محبت کے رشتے میں منسلک ہوئے۔ ان میں سے وہ خاتون جن کا نام ’مہتاب‘ بتایا جاتا ہے ان کے بارے میں میر کے سوانح پر کام کرنے والوں کا کہنا یہ ہے کہ اس کا تعلق میر اور ان کے ماموں سراج الدین علی خان آرزو کے گھرانے سے تھا اور میر کے اپنے ماموں سے اختلافات کا ایک سبب وہی بنی تھیں۔ یہ بھی ثابت نہیں کہ ان کا نام ’مہتاب بیگم ‘ ہی تھا۔ میر نے اپنی مثنوی ’خواب و خیال ‘ میں اس ابتدائی محبت کا ذکر کرتے ہوئے ابتداء یوں کی ہے کہ انھیں عالمِ جنون میں اپنی محبوبہ کی شکل مہتاب میں نظر آتی تھی اس لیے بعض محققین نے ان کی محبوبہ کا نام ’مہتاب بیگم‘ بتایا ہے۔ چلیے اتنا تو ٹھیک ہے لیکن جب مہتاب بیگم نواب آصف الدولہ کے دربار سے وابستہ نہیں تھیں تو نواب صاحب ان کو پروپوز بھی نہیں کر سکتے تھے جیسا کہ اس فلم میں دکھایا گیا ہے۔ جب میر کی نواب آصف الدولہ سے ملاقات ہوئی تو وہ جوان نہیں بل کہ بزرگ تھے اور میر کی زندگی میں ہی ان کی وفات بھی ہو گئی، مگر فلم میں نواب آصف الدولہ کو جوان دکھایا گیا ہے۔

ہاں میر کی زندگی میں آنے والی ایک اور خاتون کا ذکر شمس الرحمان فاروقی نے اپنے ایک افسانے میں کیا ہے۔ ’نورالسعادۃ‘ نامی اس خاتون کا تعلق ناچنے گانے والوں سے ہے۔ امکانی طور پر یہ سارا قصہ فاروقی صاحب کے فکشن نگار ذہن کا کرشمہ ہے۔ سرمد صہبائی نے اگر اس افسانے سے استفادہ کیا بھی ہے تو اسے تسلیم کرنے سے گریز کیا ہے۔ اگر وہ اس کہانی سے استفادہ کرنا ہی چاہتے تھے تو پوری طرح کرتے، اس طرح کہانی میں وہ جھول پیدا نہ ہوتے جو فلم میں بہت واضح طور پر نظر آتے ہیں۔

فلم میں معروف شاعر انشاء اللہ خاں انشاء میر سے ملنے آتے ہیں تو میر انھیں اپنی مثنوی کے کچھ اشعار سناتے ہیں۔ ان اشعار میں کتوں کا ذکر ہے۔ اب جانے یہ ڈائریکٹر کی کارستانی ہے یا مصنف کی، کہ میر صاحب کتوں سے متعلق یہ اشعار سناتے ہوئے چہرے پر ایسے تاثرات پیدا کرتے ہیں اور لہجے کے اتار چڑھاو میں ایسا طنز پیدا کرتے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سید انشاء کو بھی کتوں میں شامل کر رہے ہیں۔ میر کو سید انشاء سے جس انداز سے بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے وہ بھی نہ میر کے شایانِ شان ہے نہ سید انشاء کے۔ سید انشاء اللہ خاں انشاء اپنے عہد کے صرف معروف شاعر ہی نہیں تھے بلکہ بہت بڑے عالم بھی تھے۔ کئی زبانیں جانتے تھے۔ اردو قواعد پر ابتدائی کام انھوں نے کیا اور ایک مرتبہ جب بات چھڑی کہ اردو میں فارسی عربی الفاظ کی بھرمار ہے تو ’رانی کیتکی کی کہانی‘ کے نام سے ایک داستان لکھی جس میں ایک بھی لفظ عربی یا فارسی کا نہیں تھا۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ میر تقی میر جیسا شاعر انشاء اللہ خاں انشاء کے مقام سے آگاہ نہ ہو، چہ جائے کہ انھیں سید انشاء سے بدتمیزی کرتے بلکہ انھیں کتے سے تشبیہ دیتے ہوئے دکھایا جائے۔ اگر مصنف یا ڈائریکٹر کو یہ دکھانا ہی تھا کہ میر اپنے دور کے شاعروںسے بے دماغی برتتے ہیں تو انھیں چاہیے تھا کہ میر کے ملاقاتی شاعر کا نام کچھ اور رکھ لیتے، انشاء اللہ خاں انشاء نہ رکھتے۔

یہ ذکر تو ہوا فلم کی واقعاتی اغلاط کا۔ فلم میں دو ٹریک ہیں اور دوسرے ٹریک کی کہانی ایک جدید شاعر جمال کے گرد گھومتی ہے جس کی زندگی میر کی زندگی سے مشابہ دکھائی گئی ہے۔ مگر اس ٹریک کی کہانی میں جھول بہت ہیں۔ فلم میں دورِ جدید کے جس شاعر کو دکھایا گیا ہے اس کی زندگی اتفاقات سے بھرپور ہے۔ کہانی میں کئی ایسے خلا ہیں جو کہانی پر بحث کر کے بہ آسانی دور کیے جا سکتے تھے، مگر لگتا ہے کہ ڈائریکٹر نے کہانی کو کسی الوہی تحفے کی طرح قبول کیا ہوا تھا۔ ایسے خلا یا فلاز عموماً ان کہانی کاروں کی کہانی میں نظر آتے ہیں جنھوں نے کبھی کوئی جاسوسی کہانی نہ پڑھی ہو اور صرف خوابوں ہی کی دنیا میں زندگی گزار دی ہو۔ آئیے کہانی کے ان گیپس کا کچھ ذکر کرتے ہیں۔

نوجوان شاعر جمال کو بس میں سفر کے دوران ایک لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے۔ اس لڑکی کا کردار ایمان علی نے ادا کیا ہے۔ لڑکی کے بس سے اترتے ہی جمال اس کا پیچھا کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ نظر سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ پھر حسنِ اتفاق سے وہی لڑکی حلقہ ء اربابِ ذوق کے اس اجلاس میں نظر آتی ہے جس میں جمال اپنا ایک تنقیدی مقالہ پیش کرتا ہے۔ لڑکی جمال کے مقالے سے متاثر ہوتی ہے اور جمال کا موبائل نمبر نوٹ کر کے حلقے کے اجلاس کے دوران ہی وہاں سے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ جمال، جس کی تحریر پر حلقے میں بحث جاری ہے، وہ بھی اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور لڑکی کا پیچھا کرتا ہے۔ کراچی یا لاہور میں حلقہ ء اربابِ ذوق کے اجلاس سے کوئی اور صاحب تو اٹھ کر جا سکتے ہیں مگر خود مصنف کا اٹھ کر جانا ایسا غیر معمولی واقعہ ہوتا ہے کہ اسے واک آئوٹ ہی کہا جائے گا۔ ایسے واقعے کے بعد کوئی اسے منانے نہ آئے، یہ بہت عجیب بات ہے۔ دوسرے یہ کہ جو لڑکی اکیلی حلقہ ء اربابِ ذوق کے اجلاس میں شرکت کے لیے آ سکتی ہے وہ جمال کو اپنا نام بھی تو بتا سکتی ہے۔ اپنے مسائل سے بھی تو آگاہ کر سکتی ہے۔ لڑکی اجلاس سے باہر نکلتی ہے تو جمال کو ایس ایم ایس پر میر کا شعر بھیجتی ہے:

دل سے مرے لگا نہ تیرا دل، ہزار حیف
یہ شیشہ ایک عمر سے مشتاقِ سنگ تھا

جمال پتا پوچھتا ہے تو بتاتی ہے کہ :ع۔ تم جہاں کے ہو، واں کے ہم بھی ہیں۔ اس پر جمال کا دوست سراج سمجھ جاتا ہے کہ وہ جمال ہی کے محلے کی ہے مگر جمال فوری طور پر یہ پتا نہیں لگا پاتا کہ وہ اس کے محلے میں رہتی کہاں ہے۔ حلقے میں لڑکی کی آمد کے حسنِ اتفاق کے بعد ایسا سوئے اتفاق اس لیے لازم سمجھا گیا کہ جمال کو اس وحشت کا شکار کیا جا سکے جس سے مصنف سرمد صہبائی فلم میں ایک خاص کام لینا چاہتے ہیں۔ ویسے اسے بھی حسنِ اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے کہ ایک لڑکی حلقہ ء اربابِ ذوق میں کسی کی تحریر سن کر اس پر عاشق ہو جائے اور تحریر بھی وہ جو ایک تنقیدی تحریر ہے۔

فلم میں کچھ اور مناظر بھی ایسے ہیں جو حقیقت کے بجائے ماورائے حقیقت یا جادوئی حقیقت کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً نوجوان شاعر جمال کافی ہاوس میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا ہے جس پر ایک ادبی پروگرام آ رہا ہے اور اس پر ڈاکٹر کلیم گفتگو کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر کلیم کی گفتگو سنتے ہی پورے کافی ہائوس میں موجود لوگ اٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور پوری توجہ سے ڈاکٹر کلیم کی گفتگو سننے لگتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آج کل کے ٹی وی ناظرین کے سامنے اگر کوئی ملکہ ء حسن پردہ ء اسکرین پر دعوتِ گناہ بھی دے رہی ہو تب بھی وہ کم از کم ایسا اشتیاق تو ظاہر نہیں کریں گے۔ ناول کا مرکزی کردار جمال اس سین کے دوران موبائل فون سے پروگرام میں لائیو کال کرتا ہے تو اینکر گھبرا کر پروگرام کے خاتمے کا اعلان کر دیتا ہے۔ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ شاید جمال نے اینکر کی آف شور کمپنی کے بارے میں انکشاف کرنے کی کوشش کی ہو گی؟ جی نہیں جمال نے صرف ڈاکٹر کلیم کے موقف سے اختلاف ظاہر کیا تھا۔ فلم کے پروڈیوسر خرم شہزاد اتنا تو جانتے ہی ہوں گے کہ ایسی بدمزگی کے موقع پر کنٹرول روم میں بیٹھا عملہ کالر کی کال ڈراپ کر دیتا ہے، پروگرام کو وائنڈ اپ نہیں کیا جاتا۔
جمال ایک نوجوان شاعر ہے جسے کلاسیکی ادب سے دلچسپی نہیں۔ وہ نثری نظمیں کہتا ہے اور پاپولر ادب تخلیق کرنے والوں پر لعنت بھیجتا ہے۔ پاپولر ادب تخلیق کرنے والی ایک خاتون اس سے باربار ملتی ہے اور اس سے گزارش کرتی ہے کہ وہ اس کی نئی کتاب پر ایک کالم لکھ دے۔ جمال اس سے انکار کرتا ہے تو وہ لڑکی اخبار میں جمال کا کالم بند کرا دیتی ہے۔ اس لڑکی کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ تو بس لفظوں کو ادھر اُدھر کرتی ہے اور شاعری تو وہ ہے جو جمال کرتا ہے۔ حالانکہ عام طور پر پاپولر لکھاری خود کو بڑا لکھاری بھی سمجھتے ہیں اور جمال جیسے بزعمِ خود بقراطوں کو زیادہ گھاس بھی نہیں ڈالتے۔ ویسے اس لڑکی کا کردار جن خاتون نے ادا کیا ہے انھوں نے اوور ایکٹنگ کے کافی ریکارڈ توڑے ہیں۔

جمال ایک اینگری ینگ مین ہے اور خود کو ایک منفرد شاعر سمجھتا ہے جس کا ہر شاعر کو حق بھی حاصل ہے۔ لیکن اسے میر تقی میر کے ان اشعار میں سے بھی کچھ کی سمجھ نہیں آتی جو ’ایک لڑکی‘ اسے ایس ایم ایس پر لکھ لکھ کر بھیجتی ہے۔ لگتا یہی ہے کہ اس نے ابھی تک میر تقی میر جیسے شاعر کا ٹھیک سے مطالعہ بھی نہیں کیا۔ یہ ایک حیرت انگیز بات ہے۔ کالج یا یونی ورسٹی میں ممتاز ہونے کی کافی لوگوں کو خواہش ہوتی ہے۔ جمال کا کردار ان لڑکوں کا پروٹو ٹائپ نظر آتا ہے جو کالج یا یونی ورسٹی میں اپنے انٹیلیکچوئل پرسونا کی انفرادیت کی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں۔ جو ایک دو کتابیں پڑھ کر ہی اپنے علاوہ باقی سب کو خبطی اور جاہل بل کہ ’جھائل‘ سمجھنے لگتے ہیں، بل کہ سرِ عام اس کا اعلان بھی کرتے پھرتے ہیں۔ میں بھی ابھی چند برس پہلے کالج یونی ورسٹی میں پڑھتا تھا اور میری ملاقات ایسے نمونوں سے ہوتی تھی جنھوں نے یہ طے کیا تھا کہ ادب کی تخلیق تو خیر بعد میں بھی ہوتی رہے گی فی الوقت پہلی فرصت میںعظیم ہو لیا جائے۔ جمال ایسا ہی ’عظیم‘ شاعر ہے، جسے محبت تک اپنے ’عظیم شاعر‘ ہونے کے بعد ہوتی ہے۔

ڈاکٹر کلیم ایک جانب تو جدید شاعری کے مداح نہیں اور جمال ایک ٹی وی پروگرام میں لائیو کال کر کے ان کی بے عزتی بھی کر چکا ہے لیکن جب جمال بیمار ہوتا ہے تو وہ اس کی عیادت کو آتے ہیں اور اسے یہ بتاتے ہیں کہ وہ ایک بین الاقوامی انتھالوجی کے لیے اس کی نظموں کا ترجمہ کرنا چاہتے ہیں۔ ترجمے کی غرض سے نظمیں وہ بعد میں لیتے ہیں مگر جمال کے لیے پچاس ہزار روپے کا چیک پہلے ہی اپنے ساتھ لیتے آتے ہیں۔ یہ ایسا موقع ہے جب جمال کا کردار ادا کرنے والے فہد مصطفی ڈاکٹر کلیم کی باتیں غور سے سنتے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں ہمارا ’عظیم شاعر‘ پچاس ہزار روپے کا چیک ملتے ہی اپنے سینئر حریف کی عزت کرنے لگتا ہے۔ یہ بات اسے ڈاکٹر کلیم کی روانگی کے بعد معلوم ہوتی ہے کہ وہ ’ایک لڑکی‘ اس کے مکان کے قریب ہی ایک گھر پر رہتی ہے۔ لڑکی چھت پر کپڑے سکھانے کے لیے ڈال رہی ہے اور جمال اسے اوپر واقع اپنے مکان یا فلیٹ کی چھت سے دیکھتا رہ جاتا ہے۔

ایک ایسی کتاب جس میں قاری کو دلچسپی بھی پیدا ہو چکی ہو کتنے روز میں پڑھی جا سکتی ہے؟ میرا خیال ہے دو تین روز میں۔ چلیے ان دو تین روز کو بڑھا کر پندرہ روز کر لیتے ہیں۔ ان دو تین یا پندرہ سولہ روز کے بعد جمال ڈاکٹر کلیم سے آخری ملاقات کرتا ہے اور واپس اپنے مکان میںآتا ہے تو اسے وہ ’ایک لڑکی‘ دلہن بنی اپنے دولہا کے ساتھ گلی میں بارات کے ساتھ آتی دکھائی دیتی ہے۔

ڈاکٹر کلیم کے گھر جا کر جمال انھیں طعنہ دیتا ہے کہ انھوں نے میر کی جس ’وحشت‘ کا تذکرہ کرنے میں اپنی کتاب کے پچاس صفحات صرف کیے، انھوں نے خود ساری زندگی اس سے گریز کیا۔ ڈاکٹر کلیم نے ’وحشت‘ سے گریز یوں کیا تھا کہ اپنی محبوبہ کے ساتھ ہوائی جہاز کے ذریعے فرار کا منصوبہ پورا نہیں کیا تھا اور اپنے والد کی بات مان کر اپنے شہر میں ہی بیٹھے رہ گئے تھے۔ فلم میں جمال کا کردار دیکھ کر ہمیں یقین ہوتا ہے کہ جمال تو کم از کم اس ’وحشت‘ سے متصف ہوگا جو وہ ڈاکٹر کلیم میں مفقود دیکھ رہا ہے۔ مگر وہ بھی اپنی محبوبہ کو کسی اور کی دلہن بنے دیکھتا رہ جاتا ہے اور ’وحشت‘ کے عالم میں کچھ نہیں کر پاتا۔ حالانکہ اس سلسلے میں عملی قدم تو اسے محبوبہ کی شادی سے پہلے اٹھانا چاہیے تھا۔

فلم میں ادبی جملوں اور نظریات کی بھی بھرمار ہے۔ ایک نظریہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ ’روایت‘ اور ’کلاسیک‘ میں فرق ہوتا ہے۔ روایت ختم ہو جاتی ہے جب کہ کلاسیک ہمیشہ زندہ رہنے والی چیز ہوتی ہے۔ یہ جملہ ٹی ایس ایلیٹ نے نہیں سنا ورنہ کم از کم وہ تو پھڑک کر رہ جاتا۔ ایلیٹ نے ’روایت‘ کو کسی بھی شاعر یا ادیب کے لیے اہم ترین ماخذ قرار دیا تھا، مگر فلم ’ماہِ میر‘ کا مصنف ’روایت‘ کے انتہائی اہم لفظ کو شاید ’روایتی‘ کے لفظ سے خلط ملط کر گیا۔ ایک اور نظریہ میر کی ’وحشت‘ کا ہے۔ ڈاکٹر کلیم نے اپنی محبوبہ کے ساتھ فرار نہ ہو کر ’وحشت‘ سے گریز کیا اور ایک آرام دہ زندگی کو ترجیح دی۔ جمال ایسی آرام دہ زندگی کے امکانات کو تج کر بیٹھا ہے اور سماجی باغی کی زندگی بسر کر رہا ہے۔

جمال ڈاکٹر کلیم کو طعنہ دیتا ہے تو انھیں دل میں درد اٹھتا ہے۔ فلم دیکھنے والا ہر شخص جان لیتا ہے کہ ڈاکٹر کلیم کو دل کا دورہ پڑا ہے، لیکن جمال کو یہ بات معلوم نہیں۔ وہ ڈاکٹر کلیم کے سونے کے کمرے سے ان کی دوا لاتا ہے، وہاں ان کی محبوبہ، یعنی ہما نواب کی تصویریں دیکھتا ہے، دوا لاتا ہے، ڈاکٹر کلیم کو دیتا ہے، دو تین مرتبہ ڈاکٹر کو بلانے کی پیش کش کرتا ہے اور پھر گھر سے چلتا بنتا ہے۔ ڈاکٹر کلیم کے کمرے میں ہما نواب کی تصویریں دیکھتے ہوئے بھی وہ زیادہ تیز روی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ ایک ایسے کردار کو اگر ’منفرد‘ کردار نہ کہا جائے تو یقینا اس سے زیادتی ہو گی۔

اگلے روز وہ کافی ہاوس میں جاتا ہے تو ٹی وی پر ڈاکٹر کلیم کے انتقال کی خبر چل رہی ہوتی ہے۔ ایک پبلشر، جو اس سے پہلے جمال کو شاعری کے بجائے کوئی ڈھنگ کی کتاب لکھنے کا مشورہ دے چکا ہے، جمال کے پاس آتا ہے اور اسے یہ خفیہ اطلاع بریکنگ نیوز کی صورت میں دیتا ہے کہ اس نے جمال کی کتاب نہ صرف چھاپنے کا فیصلہ کیا ہے بل کہ وہ کتاب چھاپ بھی دی ہے، بل کہ وہ کتاب اس کے ہاتھ میں بھی موجود ہے، بل کہ اس پر ڈاکٹر کلیم اپنا دیباچہ بھی لکھ مرے ہیں۔ جمال شاید اپنی وحشت میں یہ بات بھی فراموش کر بیٹھا تھا کہ اس نے اپنی کتاب ایک پبلشر کو دے رکھی تھی۔

جمال کی اس کتاب کا نام ہے ’ماہِ عریاں‘۔ یوں یہ بات فلم کے آخر میں جا کر کھلی کہ جمال کے پردہ ء زنگاری میں کون معشوق چھپا بیٹھا تھا۔ یہ سرمد صہبائی خود ہی تھے جن کے تازہ شعری مجموعے کا نام بھی ’ماہِ عریاں‘ ہے۔ یعنی سرمد صہبائی صاحب نے فلم کے نام سے یہ سارا کھیل اپنی شاعرانہ عظمت اور شعری نظریات کی درستی کو ثابت کرنے کے لیے رچایا تھا۔ ڈائریکٹر اور پروڈیوسر صاحب جانے انجانے میں اس کھیل کا حصہ بنے اور شاید انھیں اس کے لیے معاف کیا جا سکتا ہے کہ شاید انٹلیکچوئلز میں ان کی ملاقات صرف سرمد صہبائی صاحب سے ہی ہوئی تھی۔

کہانی میں اتنے زیادہ جھول ہونے کے بعد کیا یہ فلم دیکھنے کے قابل رہ جاتی ہے۔ میرا خیال ہے یہ جھول ایک اچھے ڈائریکٹر کو دور کر لینے چاہئیں تھے لیکن ڈائریکٹر نے شاید اس اسکرپٹ کو ایک تبرک کے طور پر قبول کیا تھا۔ اپنے ایک انٹرویو میں ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ وہ سرمد صہبائی سے ڈرتے تھے کیونکہ وہ تھوڑی سی بھی اونچ نیچ برداشت نہیں کرتے تھے۔سرمد صہبائی سے توقع ہے کہ انھوں نے اپنی فلم میں میر تقی میر کے اشعار درست پڑھوانے پر تو خاص طور پر اصرار کیا ہوگا۔ منظر صہبائی کی قرات تو بہت اچھی تھی، ایمان علی نے بھی شعروں کے وزن سے انصاف ہی کیا، مگر فہد مصطفی ایک دو مرتبہ شعر غلط پڑھ گئے۔

تب بھی میں یہ کہوں گا کہ یہ فلم دیکھنے کے قابل ہے۔ منظر صہبائی نے نہ صرف اشعار بلکہ نثر کی قرات بھی خوب کی ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایک نقاد اور انٹلیکچوئل کا کردار بھی خوب نبھایا ہے۔ ایمان علی میر تقی میر کی محبوبہ کے کردار میں خوب جچی ہیں۔ واقعی میر کی محبوبہ کو اتنا ہی خوب صورت ہونا چاہیے تھا۔ فلم کے ڈائریکٹر نے ایمان علی کی خوب صورتی نمایاں کرنے میں اپنے فن کی ساری قوتیں صرف کر دی ہیں۔ بس میں ایمان علی کے پیروں اور ہاتھوں کی جھلک واقعی دل فریب ہے۔ ایک جھول یہاں بھی موجود ہے کہ بس میں جاتی ہوئی ایمان علی کے پیروں میں سونے کی پازیب بھی موجود ہے۔ کم از کم کراچی میںتو بس میں سفر کرنے والی کوئی خاتون اس کا رسک نہیں لے سکتی۔ ایمان علی جہاں جہاں میر تقی میر کی محبوبہ کے روپ میں جلوہ گر ہوئی ہیں وہاں ان کی جلوہ آرائی اور بھی قابلِ دید ہے۔ ایک منظر میں وہ میر تقی میر کا ایک ہوس ناک شعر سنا کر میر صاحب کو آگاہ کرتی ہیں کہ اب وہ وصال کے لیے آمادہ ہیں۔ ایسے میں ان کی نوکرانی کباب میں ہڈی بن کر کمرے میں آ جاتی ہے۔ شاید یہ بتانا مطلوب ہے کہ ان دنوں ایسی قریبی ملاقاتوں کے لیے دروازوں کی اوٹ کا تکلف نہیں کیا جاتا تھا، یا پھر شاید فلم مغلِ اعظم کی یاد آ گئی ہو جس میں شہزادہ سلیم کو انارکلی کا حسین چہرہ مور کے پنکھ سے چھوتے ہوئے اس چھنال دل آرام نے دیکھ لیا تھا۔ وہ نوکرانی نواب صاحب کے تحائف کی خبر لائی ہے جسے مہتاب بیگم بہ سر و چشم قبول کر لیتی ہیں۔ اس پر میر صاحب ناراض ہو جاتے ہیںاور بتاتے ہیں کہ وہ خواب دیکھ سکتے ہیں اور یہ کر سکتے ہیں اور وہ کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر وہ مہتاب بیگم کو بانہوں سے پکڑ کر اس کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب لے آتے ہیں۔ اس موقع پر مہتاب بیگم کے چہرہ کسی سیڈکٹرس کے چہرے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کے ہونٹ، میر صاحب کے ہونٹوں کے بالکل نیچے، کھلے ہوئے ہیں اور اس کی آنکھیں بہت گمبھیر ہو چلی ہیں۔ اس موقع پر میر تقی میر کے بجائے فیض احمد فیض کا مصرعہ یاد آتا ہے کہ : ہائے اس شوخ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے ہونٹ۔ خیر میر تقی میر اس موقع پر مہتاب بیگم کو شعر پر شعر سنائے چلے جاتے ہیں، حالانکہ ایسا موقع تو نثر کا موقع ہوتا ہے اور اچھے اچھے شاعر اس موقع پر شاعری چھوڑ کر یہ کہتے ہیں کہ ’حالا نثرِ ما بشنو‘۔ لیکن اس موقع پر ڈائریکٹر کو یاد آ گیا کہ وہ یہ فلم پاکستان میں بنا رہے ہیں اور یوں لبوں کی تشنگی تشنہ ہی رہ جاتی ہے۔

فلم میں میر تقی میر کی دو غزلیں بہت اچھی طرح گائی اور فلمائی گئی ہیں۔ مہتاب بیگم، جنھیں مصنف نے نواب آصف الدولہ کے دربار کی رقاصہ بنایا ہے اور اس پر عدم تیقن کو ہمیں اس فلم کی خاطر معرضِ التواء میں رکھنا ہے، یہاں بھی بہت خوب صورت دکھائی دیتی ہیں۔ وہ میر تقی میر کے اشعار اپنے بھید بھائو کے ساتھ سناتی ہیں تو معانی کی کچھ نئی جہات سامنے آتی ہیں۔ ایک غزل میں میر کا یہ مصرعہ بھی آتا ہے کہ: ’’اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاک‘‘۔ ایمان علی کی دشمنِ ایماں پرفارمنس میں اس مصرعے کا ایک نیا مفہوم سامنے آتا ہے جو دیگر مفاہیم سے کہیں زیادہ دل فریب ہے۔ گانوں میں ایک اور خاتون رقص کرتی دکھائی دیتی ہیں اور یہ بات کہنے کے لیے کسی ماہرِ رقص کی ضرورت نہیں کہ ان کا رقص بالکل بھی خوش گوار نہیں۔

کہانی میں جتنے جھول ہیں ان کا خمیازا سب سے زیادہ فہد مصطفی کو بھگتنا پڑا۔ ایک سین میں وہ البتہ خوب جچے جس میں ان کا دوست سراج دبئی جانے سے پہلے ان سے آخری ملاقات کرتا ہے۔ البتہ جی یہ چاہتا تھا کہ میر تقی میر کے کردار میں ان کا لہجہ اس لہجے سے کچھ مختلف ہوتا جو انھوں نے جدید دور کے شاعر جمال کے کردار کے لیے اپنایا۔ جدید شاعر جمال کو اپنا شین قاف درست رکھنے کے لیے تصنع کی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی میر تقی میر کے کردار کو۔ فہد مصطفیٰ نے میر کے کردار سے کافی انصاف کیا مگر جب میر صاحب اپنے ہی شعر وزن سے خارج کر دیتے ہیں تو سوچیے میر کے مداحوں کے دل پر کیا گزرتی ہو گی۔ البتہ علی خان نے نواب صاحب کا چھوٹا سا کردار خوب نبھا لیا۔ سراج کے کردار میں پارس مسرور ٹھیک رہے۔ ہما نواب بھی ڈاکٹر کلیم کی سابق محبوبہ کے روپ میں ایک مختصر کردار میں ظاہر ہوئیں۔ ان کی ڈاکٹر کلیم سے اچانک ملاقات کو فلم کی تکنیکی زبان میں ’پلاٹ پوائنٹ‘ کہا جا سکتا ہے۔ یہ پلاٹ پوائنٹ فلم میں زبردست قسم کی ڈرامائیت پیدا کرنے کا موجب بن سکتا تھا مگر منظر صہبائی اس موقع پر فلم میں پہلی مرتبہ دبے دبے سے رہے۔ اپنی موت کے سین میں وہ انتہائی غیر موثر نظر آئے۔ جہاں جہاں اپنی آواز سے ایکٹ کرنا تھا وہاں وہ انتہائی کام یاب رہے لیکن فزیکل ایکٹنگ کرتے ہوئے وہ ویسے کام یاب نہ ہو سکے۔

ارے میں تو آپ کو یہ بتانے چلا تھا کہ فلم کی کہانی میں اتنے زیادہ جھول ہونے کے باوجود کیا یہ فلم دیکھنے کے قابل ہے اور بتا یہ گیا کہ اداکاروں کی اداکاری میں تھوڑے بہت مسائل موجود ہیں۔ لیکن شرط لگا کر یہ کہوں گا کہ ایمان علی کسی ڈرامے، کسی فلم میںاتنی خوب
صورت نظر نہیں آئیں جتنا انجم شہزاد نے انھیں اس فلم میں پیش کیا ہے۔ انھیں میر کی محبوبہ کے روپ میں دیکھنا ایک خوش گوار تجربہ ہے جس کے لیے فلم کا ٹکٹ خریدنا کوئی گھاٹے کا سودا نہیں۔ اردو کے عظیم شاعر پر ایک فلم بنائی گئی ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کرنی ہی چاہیے۔

کہانی میں جھول نہ ہوتے اور سرمد صہبائی اس فلم کو اپنی مخصوص افتادِ طبع یا ایڈیوسنکریسیز سے محفوظ رکھتے تو یہ ایک یادگار فلم بن سکتی تھی۔کیا خبر یہی وہ ’وحشت‘ ہو جسے وہ اس فلم کے ذریعے حق بجانب ثابت کرنا چاہتے ہوں۔ لیکن فلم کی صنف ان کی اس وحشت کا بوجھ برداشت نہ کر پائی۔ سو اب سرمد صہبائی کو میر کی زبان میں یہی کہنا چاہیے کہ ع: لائق اپنی وحشت کے اس عرصے کا میدان نہیں۔

Categories
تبصرہ

شعر شور انگیز:جلد اول-ایک مطالعہ

(1)

 

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا
آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

 

میر نے اس شعر میں جس طرح اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے وہ مفہوم کو وسیع تناظر میں دیکھنے پر انگیز کرتا ہے۔
میرؔ نے دو تراکیب اور دو الفاظ کے سہارے شعر وضع کیا ہے۔ مصرع اول:ترکیب، پریشانی خاطر۔لفظ: قریں۔ مصرع دوئم:ترکیب :دل غم دیدہ لفظ: آنکھیں۔ مناسبت لفظی سے قطع نظر بقول فاروقی صاحب ’شعر کا مفہوم صاف ہے۔‘ سے مجھے اس حد تک اختلاف ہے کہ صرف اتنا کہہ دینے سے بات نہیں بنتی۔ میر نے اس شعر میں جس طرح اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے وہ مفہوم کو وسیع تناظر میں دیکھنے پر انگیز کرتا ہے۔ یہ امر بھی ناقابل فراموش ہے کہ فاروقی صاحب نے لفظ ’پریشانی (بکھراؤ)‘ اور ’ قریں(نزدیک)‘ کے معنی کی وضاحت جس انداز میں کی ہے اس سے مفہوم کی تہہ داری میں اضافہ ہوتا ہے۔ مصرعہ اولا میں جس استفسار سے بات کی شروعات کی گئی ہے اس سے شعر میں ذو معنویت پیدا ہو گئی ہے۔ایک معنی تو وہ ہی ہیں جس طرح فاروقی صاحب نے اس شعر کے دوسرے مصرعے کی تشریح کی ہے، کہ خیال یار میں عاشق گم ہے جس کی وجہ سے ایسا منظر پیدا ہو گیا ہے جس سے عاشق ’پریشانی خاطر‘ میں مبتلا ہے۔‘

 

’تھا‘ جو ماضی کا استعارہ ہے اس میں ایک منفی تاثر تو پوشیدہ ہے ہی، لیکن، ساتھ ہی وہ گذشتہ حالات کی وضاحت بھی کر رہا ہے کہ عاشق کو یا معشوق کو گویا آج ہی اپنا احتساب نصیب ہوا ہے
فاروقی صاحب یہ بھی کہتے ہیں کہ دوسے مصرعے میں جس کیفیت کو میرؔ نے پیش کیا ہے اس سے ’پریشانی خاطر‘ کا جواز ملتا ہے۔ لیکن اس استفساری رویے میں اس کے بر عکس معنی بھی موجود ہیں ۔شعر پہ ذرا غور کیجئے تو سمجھ میں آتا ہے کہ میر ؔ خود سے یا کسی ماورائی شئے سے یہ سوال پو چھ رہے ہیں کہ کیا میں حقیقتاً کسی قسم یا کسی نوع کی پریشانی خاطر میں مبتلا تھا۔ ’تھا‘ جو ماضی کا استعارہ ہے اس میں ایک منفی تاثر تو پوشیدہ ہے ہی، لیکن، ساتھ ہی وہ گذشتہ حالات کی وضاحت بھی کر رہا ہے کہ عاشق کو یا معشوق کو گویا آج ہی اپنا احتساب نصیب ہوا ہے کہ کیا بات ہے کہ میں کسی بھی طرح کی پریشانی خاطر میں مبتلا نہیں ہوں، جب کہ زمانہ، میرا عاشق، میرا معشوق، دیگر رفقا ،صوفیااور ہر ذی روح کسی نہ کسی طرح کی پریشانی خاطر میں مبتلا ہیں۔ جو مجھے نصیب نہیں۔ لیکن، یہ بھی اظہاریہ کا حسن ہے کہ میں جب اس مصرعے کا مطالعہ کر تا ہوں تو تیسری قرۃ میں میرے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ چھا جا تی ہے گویا مجھے اس بات کا افسوس نہیں ہے کہ میں ابھی تک اس عارضے میں مبتلا نہیں ہوا۔ بلکہ مجھے اپنے اس روّیے پر ہنسی آرہی ہے۔ اس مسکراہٹ کو واعظ کی سفاکی سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے جس سے میرؔ ایک ظالم اور خود غرض عاشق یا انسان کی صورت میں ہمارے سامنے آتے ہیں، خیر دوسرے مصرعے میں صرف مناسبت لفظی کا کھیل نظر نہیں آتا کہ میرؔ صرف اتنا کہہ کر آگے بڑھ گئے ہیں کہ ’آنکھیں تو کہیں تھی اور دل غم دیدہ کہیں تھا‘ پھر بھی دونوں ایک ہی جسم میں موجود تھے۔ بر خلاف اس کے میر ؔ غزل کی ردیف کا عمدہ استعمال کرتے ہوئے اسی استفساری روئے کو یہاں بھی قائم رکھتے ہیں جس سے منفی تاثر کا اظہار ہوتا ہے کہ آنکھیں تو کہیں تھی یعنی جسم میں موجود تھی اور نظر آرہی تھیں صرف اتنا ہی نہیں بلکہ آنکھوں کہ ساتھ ساتھ دل بھی تھا (دل اور آنکھ میں ایک یہ بھی مناسبت ہے کہ دونوں عشق کے اصل آلۂ کار ہیں) لیکن ایسا دل جس نے کسی قسم کا غم دیکھا ہو یا کسی نوع کی پریشانی میں مبتلا ہو، کہیں نہیں تھا گویا اس سے اس بات کا بھی احتمال ہورہا ہے کہ میرؔ ایسے دل کو دل ہی نہیں مانتے جس میں غم نہ ہو، لیکن یہ احتمال برائے نام ہے۔ میرؔ اس بات کا سرے سے انکار کر رہے ہیں کہ یہاں تو عشق وشق نام کا کوئی جذبہ موجود ہی نہیں ہے۔ پھر کیسا غم اور کیسی پریشانی۔

 

کس رات نظر کی ہے سوے چشمک انجم
آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا

 

سودا ‘واہ’ کے شاعر ہوں یا نہ ہوں لیکن میر ؔ کے ایسے کلام سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ میر ؔ حقیقتاً ‘آہ’ کے شاعر تھے۔
اس شعر کے ذریعے اگر میرؔ کی شخصیت کا احتساب کیا جائے تو انھیں منٹو کے افسانے ’بو‘ کے رندھیر سے مشابہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ فاروقی صاحب نے ’چشمک‘ کے معنی ’چھوٹی چھوٹی آنکھیں‘ بھی ہو سکتے ہیں۔‘ پر اکتفا کیا ہے جب کہ مجھے یقین ہے کہ میرؔ کی مراد وہی ہے جس کو سمجھنے میں فاروقی صاحب کامیاب رہے۔ اب دیکھئے کہ شاعری کے میرؔ میں اور اس میرؔ میں جسے گذشتہ دو صدیوں سے ایک آدم بیزار، دھیمے لہجے کا شاعر، صوفی، معتکف، اور آہ زدہ شاعر تسلیم کیا جا رہا ہے،اس میں اور اس میں کتنا فرق ہے۔ میں کہنے پر مجبور ہوں کہ سودا ‘واہ’ کے شاعر ہوں یا نہ ہوں لیکن میر ؔ کے ایسے کلام سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ میر ؔ حقیقتاً ‘آہ’ کے شاعر تھے لیکن وہ آہ میرؔ کی منہ سے کن وجوہات کی بنا پر نکلتی ہے اسے سمجھنے میں ہمارے بزرگوں سے غلطی ہوئی ہے۔

 

اب کوفت ہے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ
جو درد و الم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا

 

فاروقی صاحب نے جس طرح اس شعر کی تشریح کی ہے، بعید العقل معلوم ہوتا ہے کہ میرؔ نے اس عام طبی مشاہدے کو نظم کیا ہے۔ جب کہ شعر کا مفہوم اور گزشتہ اشعار کی مانند اس شعر کے اظہاریے کا استفساری رویہ اس امر کی وضاحت کر رہا ہے، کہ یہ صریحاً جنسی مضمون ہے۔ جس کو میرؔ نے ایک نفسیاتی علاج کی صورت تجویز کیا ہے۔ شعر کا پہلا مصرع تسکین اوسط سے قبل استفسار پر مبنی ہے اور اس کی دوسری شق اور دوسرا مصرع اس استفسار کا جواز۔ اس کی نثر کچھ اس طرح ہوگی کہ: ’جہاں تن (اس تن) پہ تو نے ہاتھ رکھا۔ اس غم ہجراں یا صاف الفاظ میں محبوب کے دور جانے کا جتنا درد و الم تھا سب جاتا رہا، گویااس فعل سے یہ بھی ثابت ہورہا ہے کہ سارا درد جسے تو ’یہاں‘ کا درد سمجھ رہا تھا حقیقتاً وہ ’وہاں‘ کادرد تھا۔ ’وہیں‘ سے میرؔ نے جو کھیل رچاہے وہ بہت خوب ہے۔ ’وہیں‘ یا ’وہاں‘ الفاظ کا استعمال ہم عام بول چال میں بھی دل کے لئے نہیں کرتے ۔سینے یا دل میں درد ہو بھی تو اس کے لئے لفظ اشارہ ’ یہاں‘ یا ’یہیں‘ کا استعمال ہوتا ہے۔ اس کے باوجود لفظ ’ یہاں ‘ کی بحث چھوڑ بھی دی جائے تو ’وہیں‘ سے دل مراد نہیں لیا جا سکتا۔ فاروقی صاحب سے ایک بڑی غلطی یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے لفظ ’جہاں‘ کو ’جس جگہ‘ کے معنی میں سمجھا، جب کہ ’جہاں‘ کا استعمال ’جس گھڑی‘ کے معنی میں ہوا ہے۔اس صورت میں ’جہاں‘ لفظ ’وہیں‘ کا جواز پیش نہیں کرتا اور اس سے اسی جنسیت کے مضمون کی جانب اشارہ ہوتا ہے جس کا ذکر میں نے اوپر کیا۔ اب یہ جنسیت ’منٹو‘ والی ہے یا ’میراجی‘ والی اس کا فیصلہ قاری کے مزاج کے مطابق ہو گا۔

 

(2)

 

نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا
یاددہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا

 

چلیے وقتی طور پر مان لیجئے کہ مصرع میں: ہے، جو، کوئی یا کا اضافی ہیں تو کیا آپ انھیں مصرع سے نکال دیں گے، اور کیا یہ اتنے ہی غیر ضروری ہیں جتنا انھیں سمجھا جا رہا ہے؟
اس شعر کے ضمن میں فاروقی صاحب کے اس تنقیدی رویے سے مجھے اختلاف ہے جس کو وہ اکثر شعرا کے اشعار پر تنقید کرتے وقت روا رکھتے ہیں۔ مثلاً مصرعِ اولیٰ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’چشمہ کے ساتھ ’پانی کا‘ کہنے کی ضرورت نہ تھی۔‘ یا ’مصرع میں بھرتی کے الفاظ بہت ہیں۔‘ آگے اپنے ہی بیان کی تردیدمیں کہہ گئے کہ ’یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ اگر چہ لفظ ’چشمہ‘ خود ہی ’پانی‘ کا مفہوم رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ’پانی‘ کا لفظ اکثر استعمال ہوتا ہے۔‘ اس کے بعد ’خضر راہ‘ سے اقبال کا ایک لا جواب شعر پیش کیا ہے۔ اول بات جب ’پانی‘ کی موجودگی کی دلیل مل گئی تھی تو اس جملے کو سرے سے کاٹ دینا چاہئے تھا کہ ’چشمہ کے ساتھ ’پانی کا‘ کہنے کی ضرورت نہ تھی۔‘ دوسری بات یہ کہ ہمیں اس بات پر زور نہیں دیناچاہئے کہ شاعر نے فلاں لفظ کیوں استعمال کیا ہے۔اس لئے کہ شاعر کو الفاظ کے استعمال کی آزادی ہے۔ (اور نہ کہ میرؔ جیسے شاعر جو ایک ایک لفظ کو سجا، بنا کر استعمال کرتے ہیں) اس کے بر عکس اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ کیا شاعر اس لفظ کا استعمال کر کے شعر بنانے میں کامیاب ہوا ہے، فاروقی صاحب نے اس شعر میں ’حشو و زواید‘ کا عیب بھی گنایا ہے ،کہ’مصرع میں بھرتی کے الفاظ بہت ہیں۔‘ حالاں کہ مصرع میں الفاظ ہی کتنے ہیں، چلیے وقتی طور پر مان لیجئے کہ مصرع میں: ہے، جو، کوئی یا کا اضافی ہیں تو کیا آپ انھیں مصرع سے نکال دیں گے، اور کیا یہ اتنے ہی غیر ضروری ہیں جتنا انھیں سمجھا جا رہا ہے؟ کیا یہ شعر میں موسیقی کی تکمیل کا کام انجام نہیں دے رہے ؟معنوی اعتبار سے ہو سکتا ہے کہ کسی لفظ کے بنا بات مکمل ہو سکتی ہے، لیکن شعر کے Musical System میں ہر لفظ کی اپنی اہمیت ہے جس کا نعم البدل بھی تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ہو سکتا ہے میرؔ ’ہے، جو، کوئی یا کا‘ کا استعمال نہ کرتے تو اس سے اچھا شعر بن جاتا۔ لیکن، یہ بھی ممکن ہے کہ اس مفہوم کی ادائیگی میں میرؔ ان الفاظ کا استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے ہوں کہ ان کے نعم البدل سے شعر کی صورت اور خراب ہو جائے گی۔مجموعی طور پر کوئی شعر اگر خراب ہے تب تو اس میں حشو و زواید کی اغلاط گنوائی جا سکتی ہیں لیکن اچھا شعر خواہ اس میں کتنے ہی الفاظ بھرتی کے ہوں اس میں یہ عیب گنانا غیر معقول فعل ہے۔

 

اس کا منہ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوں
نقش کا سا ہے سما میری بھی حیرانی کا

 

فاروقی صاحب نے نقش سے متعلق جو رائے قائم کی ہے وہ بالکل درست ہے ۔نقش میں ’سحر‘ کی بھی کیفیت ہے، لیکن میر ؔ کے جس دوسرے شعر کو اس شعر کے مفہوم کے عین مطابق قرار دیا ہے اس پہ کسی حد تک سوال قائم ہوتا ہے۔

 

رہیں ہیں دیکھ جو تصویر سے ترے منھ کو
ہماری آنکھ سے ظاہر ہے یہ کہ حیراں ہیں

 

اس شعر کو سمجھنے میں فاروقی صاحب کتنے کامیاب رہے ہیں اس سے قطع نظر اس شعر کو مندرجہ بالا شعر کے مماثل قرار دینے میں ’وہی‘ کا ابہام آڑے آتا ہے۔
اس کا منہ دیکھ رہا ہوں سو وہی دیکھوں ہوں

 

اس مصرع میں میرؔ نے ’وہی‘ کے التزام سے گیرائی پیدا کر دی ہے، جس سے دو نوں اشعار معنوی اعتبار سے مختلف ہو گئے ہیں۔’وہی‘ میں پست اور بلند دونوں معنی ہیں۔ ’وہی‘ سے ’وہیں‘ کی طرف بھی ذہن جاتا ہے جس پر اوپر بحث ہو چکی ہے اور’وہی‘ میں متصوفانہ رنگ بھی پوشیدہ ہے۔

 

(3)

 

شب ہجر میں کم تظلم کیا
کہ ہمسایگاں پر ترحم کیا

 

اس شعر کی سب سے اہم بات ہے کہ جہاں زیادہ تر شعرا نے اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے ’رات‘ اور ’رونے‘ کے الفاظ کا استعمال کیا ہے، وہیں میرؔ نے اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے ’شب‘اور ’تظلم‘ جیسے الفاظ کا سہارا لیا ہے۔
اس شعر کی سب سے اہم بات ہے کہ جہاں زیادہ تر شعرا نے اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے ’رات‘ اور ’رونے‘ کے الفاظ کا استعمال کیا ہے، وہیں میرؔ نے اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے ’شب‘اور ’تظلم‘ جیسے الفاظ کا سہارا لیا ہے۔ شب تو بہر حال ادائے مطا لب کے لئے عام ہے لیکن تظلم جیسے الفاظ کو غزل کے شعر میں اس خوبی سے استعمال کرنا میرؔ کا ہی خاصہ ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس شعر میں میرؔ نے تظلم یا آہ و زاری کا جواز پیش کیا ہے کہ ’شب ہجر ‘ہے اس لئے تظلم کی نوبت آن پہنچی اور اس پر بھی یہ طنطنہ کہ اس حالت میں بھی مجھے ہمسائگاں کا خیال ہے ۔بقول فاروقی صاحب ’بے چارگی میں بھی اپنی وقعت دیکھنا میرؔ کا ہی کرشمہ ہے۔‘ یہ میرؔ کی بڑی خاصیت ہے جس جانب فاروقی صاحب نے ہماری توجہ مبذول کرائی ہے۔فاروقی صاحب نے اس شعر کی تشریح کرتے ہوئے خاقانی ؔ کا ایک شعر رقم کیا ہے۔

 

ہمسایہ شنید نالہ ام گفت
خاقانیؔ را دگر شب آمد
(ترجمہ: پڑوسی نے میرا نالہ سنا تو بولا، خاقانی پر ایک اور رات آ گئی۔)

 

نیچے لکھتے ہیں ’اس شعر اور میرؔ کے شعر پر مزید بحث ’شعر، غیر شعر، اور نثر‘ میں ملاحظہ کریں۔‘ جس سے گمان گزرتا ہے کہ فاروقی صاحب نے خاقانیؔ کے شعر اور میرؔ کے ’تظلم‘والے شعر پر اپنے مضمون میں بحث کی ہے۔جس کے بر عکس فاروقی صاحب نے میرؔ کے مندرجہ ذیل شعر جس کا مفہوم کچھ حد تک اس شعر سے مشابہ ہے پر بحث کی ہے۔

 

جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا
تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا

 

فاروقی صاحب نے اپنی بحث میں مصحفیؔ اور میرحسنؔ کے یہ اشعار بھی شامل کئے ہیں۔
جو تو اے مصحفیؔ راتوں کو اس شدت سے رووے گا
تو میری جان پھر کیوں کر کوئی ہمسایہ سوئے گا

 

پھر چھیڑا حسنؔ اپنا قصہ
بس آج کی شب بھی سو چکے ہم

 

افسوس کہ فاروقی صاحب نے خاقانیؔ کے شعر کا موازنہ میرؔ کے’تظلم‘ والے شعر سے نہ کرتے ہوئے اسی مفہوم کے ایک ہلکے شعر سے کیا،اسی طرح دردؔ کے اسی مفہوم سے متعلق اس لا جواب شعر کو اپنی بحث میں شامل نہ کیا کہ:

 

رکھتا ہوں ایسے طالع بیدار میں کہ رات
ہمسایہ میرے نالوں کی دولت نہ سو سکا

 

دولت جو بمعنی بدولت استعمال ہوا ہے اس میں بھی شاعر نے یہ خیال پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کے میرے نالے ہی حقیقتاً میری دولت یا میرا کل اثاثہ ہیں۔
رعایت لفظی کا کھیل دیکھئے کہ سونا اور بیدار کا تضاد سوائے دردؔ کے کسی نے قائم نہیں کیا۔ دولت جو بمعنی بدولت استعمال ہوا ہے اس میں بھی شاعر نے یہ خیال پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کے میرے نالے ہی حقیقتاً میری دولت یا میرا کل اثاثہ ہیں۔اس سے یہ احتمال بھی ہوتا ہے کہ آہ و زاری کوئی نقصان کا سودا نہیں بلکہ منفعت بخش عمل ہے ۔دردؔ اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ میری طالع بیداری یا میری خوش قسمتی ہے کہ میرے پاس نالوں کی دولت ہے ۔لیکن ساتھ ہی انہیں اس بات کا افسوس بھی ہے کہ میری اس دولت کی بدولت میرا ہمسایہ سو نہیں پاتا تو یہ دولت کس کام کی کہ میں ایذا رسانی کا سبب بن رہا ہوں ،کتنی عمدگی سے متضاد کیفیت پیدا کی ہے کہ جو سرمایہ باعثِ افتخار ہے حقیقتاً وہی وجہ افسوس۔ طالع بیدا ر کے ایک معنی ’معشوق‘ بھی ہیں، جس سے شعر کی صورت مختلف ہو جاتی ہے ۔پھر بھی دردؔ کا شعر کسی طرح میرؔ کے’ تظلم‘والے شعر سے کمتر نہیں معلوم ہوتا۔ جبکہ خاقانی ؔ، حسنؔ اور مصحفی ؔ کے ساتھ میرؔ کے ’جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا‘ کے اشعار سے بڑھا ہوا ہے۔

 

کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا

 

اس شعر کی تشریح فاروقی صاحب نے جس انداز میں کی ہے یا گوپی چند نارنگ نے جس طرح شعر کا عقدہ سلجھایا ہے، کچھ باتوں کو چھوڑ کر مجھے ان سے صد فی صد اتفاق ہے ۔لیکن میں نے اس شعرکو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ جس کی ہلکی سی جھلک بھی ان دونو ں ناقدین کی تشریحات میں نظر نہیں آتی۔ جہاں تک اختلاف کی بات ہے تو مجھے فاروقی صاحب کے اس جملے سے اختلاف ہے کہ ’پہلے مصرع میں جو سوال ہے اس کا مخاطب کوئی نہیں۔ وہ کلی تو ہر گز نہیں جس نے اسے سن کر جواب دیا۔بلکہ محض تبسم کیا ہے۔‘ اس کے علاوہ خود کلامی، اظہارِ حیرت جیسے مفروضے بھی ہیں،لیکن ان کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فاروقی صاحب کی اپنی رائے ہے۔ اسی طرح انہوں نے کلی کی مسکراہٹ کو جن وجوہات کی بنا پرعام اشارہ، طنزیا انداز یا الم ناک و قار وغیرہ سے تعبیر کیا ہے یہ سب ذاتی آرا ء کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن پر سوال قائم نہیں کیا جا سکتا ۔رہی نارنگ صاحب کی بات تو مجھے ان کی تشریح میں اس جملے سے اختلاف ہے جو بہر حال مجھے پسند آیاکہ انہوں نے فارو قی صاحب سے یا ایک حد تک سب سے مختلف رائے قائم کرنے کی کوشش کی۔ وہ اپنے مضمون ’اسلوبیات میر‘ میں اس شعر کے ضمن میں فرماتے ہیں۔ ’مکالمہ جاندار اور بے جان کے پیچ میں ہے۔‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوال کرنے والا حقیقتاً کوئی شخص یا ذی رو ح ہے ۔اس جملے سے شعر کو سمجھنے کی ایک نئی جہت فراہم ہوتی ہے۔ جس کی جھلک فاروقی صاحب کی تشریح میں نظر نہیں آتی۔ لیکن میں ان سے اس حد تک اختلاف رکھتا ہوں کہ میری تشریح ان کے اس خیال کی تر دید کرتی ہے ورنہ شعر کو دیکھنے کا ایک رخ یہ بھی ہو سکتا ہے۔

 

میر ؔ کا یہ کمال ہے کہ اس نے معشوق کو بیک وقت ’گل‘ اور ’کلی‘ دو استعاروں سے نو ازا ہے۔ کردار ایک ہی ہے پر نام دو ہیں۔
نارنگ صاحب سے چوک ہوئی کہ انہوں نے صرف خطیب پر نگاہ کی اور بظاہر معنی سے استفادہ کرتے ہوئے مخاطب کی شخصیت کا بغور جائزہ نہیں لیا ورنہ انھیں محسوس ہوتا کہ مکالمہ جاندار اور بے جان کے پیچ نہیں، بلکہ دو ذی روح اشخاص کے درمیان ہو رہا ہے۔ شعر میں بنیادی طور پر دو کردار ہیں۔ ایک عاشق دوسرا معشوق۔ عاشق وہ ہے جو سوال پوچھ رہا ہے اور معشوق وہ ہے جو جواباً مسکرا رہا ہے۔ میر ؔ کا یہ کمال ہے کہ اس نے معشوق کو بیک وقت ’گل‘ اور ’کلی‘ دو استعاروں سے نو ازا ہے۔ کردار ایک ہی ہے پر نام دو ہیں۔ لہٰذا جب عاشق اپنے معشوق سے یہ سوال کرتا ہے کہ آج اس خلوت خانے میں تمہارا ثبات یا پائداری یا قیام کتنا ہے۔ تو اس ’ کتنا‘ میں جھلّاہٹ اور خفگی کے ملے جلے اثرات نظر آتے ہیں۔ جس سے اس بات کا بھی اظہار ہو رہاہے کہ کل تو تم آتے ہی چل دئے تھے لہٰذا کیا آج بھی وہی کرنے کا ارادہ ہے۔ کلی (جو معشوق کا دوسرا استعارہ ہے۔) نے جیسے ہی اپنے عاشق کا یہ شکوہ سنا تو وہ مسکرا اٹھی۔اس مسکرا ہٹ میں چھیڑ چھاڑ بھی ہے اور قیام کے اقرار کا اظہار بھی۔ مزاجاً بھی شعر کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ میرؔ صاحب کا کمال ہے کہ انہوں نے یہاں بھی متضاد رویہ بخوبی برقرار رکھا ہے ۔پہلے مصرع میں اگر خفت اور ناراضگی کا اثر ہے تو دوسرے میں لفظ مسکراہٹ سے پورا ماحول خوشگوار بنا دیا ہے۔

 

زمانے نے مجھ جرعہ کش کو ندان
کیا خاک و خشت سرخم کیا

 

فاروقی صاحب اس شعر کے متعلق ایک مقام پر فرماتے ہیں ’خاک ہونے پر کوئی غم نہیں ہے‘ یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن اسی کے ساتھ جب یہ کہتے ہیں کہ شعر میں ’ہٹ دھرمی سے ابھرا ہوا غرو رہے‘ تواس کاجوازکہیں نظر نہیںآتا۔ہٹ دھر می اس صورت میں ہوتی جب میر ؔ صاحب شعر اس طرح کہتے کہ:

 

زمانے نے مجھ جرعہ کش کو ندان
کیا خاک و خشت سر خم ہوا

 

لیکن میر ؔ نے ’ہوا‘ کی جگہ شعر میں ’کیا‘ کا استعمال کیا ہے۔ جس کے معنی واضح طور پر یہ ہیں کہ جس نے خاک کیا اسی نے خشت سر خم بھی کیا۔ میرؔ صاحب اس ذات کا اعتراف کر رہے ہیں جسے وہ ’زمانے‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں کہ اس نے مجھے خاک تو کیا اور خاک ہونا میرا مقدر بھی تھا کہ ہر وہ شخص جو جرعہ کشی کے عمل میں مبتلا ہوتا ہے اآخر کار اسے خاک ہونا ہی پڑتا ہے۔ اسی مفہوم کا ایک شعر میر دردؔ کے یہاں بھی ملتا ہے جس پر شاید فاروقی صاحب کی نگاہ نہیں پہنچی اور وہ رندؔ اور خیامؔ تک بہنچ گئے کہ:

 

زمانے کی نہ دیکھی جرعہ ریزی درد کچھ تو نے
ملایا مثلِ مینا خاک میں خوں ہر شرابی کیا

 

درد ؔ کے شعر میں یہ بات نظر آتی ہے کہ ’شعر میں ایک طنزیہ پہلو بھی ہے‘ لیکن میرؔ کے شعر میں وہ طنزیہ پہلو کہیں نظر نہیں آتا
درد ؔ کے شعر میں یہ بات نظر آتی ہے کہ ’شعر میں ایک طنزیہ پہلو بھی ہے‘ لیکن میرؔ کے شعر میں وہ طنزیہ پہلو کہیں نظر نہیں آتا بلکہ ہٹ دھرمی کے برعکس ایک التفات کی جھلک ہے کہ اس نے، جس کے تصرف میں ہے کہ جب چاہے خاک میں ملا دے اور جب چاہے پھر خلق کرے۔ اس نے خاک میں ملانے کے باجود ہم پر یہ کرم کیا کہ ہمیں خشت سر خم بنا دیا۔ جس کی وجہہ سے ہم ہر وقت ہر لمحے اپنے مقصود یا محبوب کا دیدار کر سکتے ہیں۔ ایک جگہ فاروقی صاحب نے خود بھی اس مفہوم کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن ’طنزیہ پہلو‘ کو ملحوظ رکھنے کی وجہہ سے اس مفہوم سے آگے نکل گئے۔ فرماتے ہیں۔ ’شعر میں ایک طنزیہ پہلو بھی ہے کہ جب تک میں زندہ رہا ،صرف بوند بوند شراب ملتی رہی، لیکن جب میں خاک ہو گیا تو مجھے خم کے سر پر بٹھا دیا۔اس میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ خشت خم چونکہ ڈھکنے کا کام کرتی ہے۔اس لئے شراب سے مجھے اتنی محبت ہے کہ مرنے کے بعد بھی خم کو ڈھانک رہا ہوں۔تاکہ شراب ضائع نہ ہو۔‘ اسی لئے انھیں یہ گمان گزرتا ہے کہ’شعر کا انداز بظاہر محزونی کا ہے، لیکن شاعر کا غرور پسِ پردہ جھانک رہا ہے۔‘ جب کہ شعر میں نہ محزونیت ہے نہ پس پردہ کسی قسم کا غرور۔

 

(4)
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

 

اس شعرمیں بنیادی کردا ر ’بیماری دل‘نے ادا کیا ہے۔ جب کہ دوسرے شعر میں جسے فاروقی صاحب نے اس شعر کا ہم مضمون قرار دیا ہے :

 

نافع جو تھیں مزاج کو اول سو عشق میں
آخر انھیں دواؤں نے ہم کو ضرر کیا

 

اس میں ’دواؤں‘ کے کرنے نے اہم رول ادا کیا ہے۔پہلے شعر میں شاعر اس بات کا اعتراف کر رہا ہے کہ یہ میری غلطی ہے کہ میں نے انجام کار پر غور کر کے جو نتیجہ نکالا تھا وہ پوری طرح سے الٹ گیااور وہ تمام دوائیں جن کا اہتمام اس نتیجے کی بنیاد پر کیا گیا تھا جونتیجہ غلط نکلا۔ اس لئے تمام دوائیں بھی بے کار ثابت ہوئیں ۔اور دوسرے مصرع میں وہ (شاعر) اس بیان کی دلیل پیش کر رہا ہے کہ میں غلط نتیجے پر ہر گز نہ پہنچتا لیکن کیا کروں کہ یہ بیماری دل ،پریشانی خاطر جو ہے اس نے مجھے کسی کام کا نہیں رکھ چھوڑا۔ ’آخر کام تمام کیا‘ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اب تمہاری یہ حالت بچی ہی نہیں ہے کہ تم کسی کام کو انجام دے سکو،لیکن اس میں مزید ایک پہلو یہ بھی پوشیدہ ہے کہ’آخر کام تمام کیا‘کی تکرار پورے شعرکو ایک مثبت معنی بھی فراہم کر دیتی ہے۔ وہ مثبت معنی یہ ہیں کہ ہماری ساری تدبیریں بھی الٹی ہو گئیں جو اس نے کسی کام کو انجام دینے کے لئے بنائی تھیں اور ان دواؤں نے بھی کچھ کام نہ کیا جو معاون ثابت ہو سکتی تھیں ،پھر بھی یہ کمالِ بیماری ہے کہ اس نے آخر کام کو انجام دے ہی دیا۔دیکھا میں ایک طرح کی مسرت ہے کہ’لیکن دیکھا تم نے آخر کام تمام ہو ہی گیا‘۔ اس کے بر عکس دوسرے شعر میں میرؔ صاحب نے دواؤں سے جو کام لیا ہے اس نے شعر کی صورت بالکل مختلف بنا دی ہے۔ یہاں تو شاعر یہ اعتراف کر رہا ہے کہ ابتدا میں تو دوائیں اثر کر رہی تھیں بلکہ فائدہ بھی پہنچا رہی تھیں، لیکن اچانک انھیں دواؤں نے نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔ بقول فاروقی صاحب یہ ایک طبی مشاہدہ ہے کہ جو دوائیں شروعات میں فائدہ پہنچاتی ہیں، کبھی کبھی انھیں سے آگے چل کر نقصان بھی ہو جاتا ہے۔ بہر کیف جہاں تک شعر کے خارجی اثرات کا تعلق ہے۔ یہ شعر میر ؔ کے دوسرے شعر (الٹی ہو گئیں ۔۔) سے کمزور ہے، کیوں کہ اس شعر میں میرؔ نے بیماری کو علاج سے تعبیر کیا ہے۔ جس سے شعر کا حسن بڑھ گیا ہے۔

 

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
ہم:ما،آپ :ہم۔ جمع متکلم۔ تہمت:بہتان، جھوٹ لگانا،الزام۔ عبث:بے فائدہ۔
تشریح کے نام پر تین جملے ،
‘چاہتے ہیں سو آپ کرے ہیں ‘کہہ کر دلیل فراہم کر دی ہے۔
‘دلیل ‘جبر کی ہے یا قدر کی ؟
‘ہم کو عبث بد نام کیا ‘میں ایک درویشانہ بلکہ قلندرانہ شوخی بھی ہے۔ وہ شوخی کیا ہے؟
‘جاہتے ہیں سو آپ کرے ہیں’

 

قرآن کی ایک آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں خدا نے اپنے بارے میں کہا ہے کہ وہ ’فعال لمایرید‘ ہے۔ ’چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں‘ سے اگر فاروقی صاحب ’فعال لمایرید‘ تک پہنچتے ہیں تو اس سے اس بات علم ہوتا ہے کہ انہوں شعر کو جبریہ تناظر میں دیکھا ہے۔
قرآن کی ایک آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں خدا نے اپنے بارے میں کہا ہے کہ وہ ’فعال لمایرید‘ ہے۔ یعنی وہ جو چاہتا ہے کر ڈالتا ہے۔ ’چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں‘ سے اگر فاروقی صاحب ’فعال لمایرید‘ تک پہنچتے ہیں تو اس سے اس بات علم ہوتا ہے کہ انہوں شعر کو جبریہ تناظر میں دیکھا ہے۔ جو شعر کا سیدھا سیدھا معنی ہے اور جسے سمجھنے میں کسی طرح کی محنت کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن یہ شعر کا ایک رخ ہے جسے فاروقی صاحب نے پوری طرح واضح بھی نہیں کیا ہے۔ درد ؔ کا جو شعر انہوں نے پیش کیا ہے اور اس پر جس طرح اظہار خیال کیا ہے۔ اس پر یہاں کچھ کہنا درست نہیں۔ لہٰذا اتنا کہہ کر آگے بڑھتے ہیں کہ درد کا شعر میرؔ کے شعر سے بہت قریب ہے، لیکن دو وجوہات کی بنا پر میر ؔ، دردؔ پر سبقت لے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ درد ؔ ’ہم‘صیغہ جمع متکلم سے وہ کھیل نہیں کر پائے جو میر ؔ صاحب نے کیا اور دوسری بات یہ کہ دردؔ ’مجبور اور مختار‘ کہنے پر مجبور ہو گئے ،جبکہ میر ؔ نے مجبور سے مختار ی کے معنی نکال لئے۔

 

ہم سب جانتے ہیں کہ جبریہ اور قدریہ حقیقتاً دو فرقے ہیں، جو اپنی اپنی نوعیت سے ہم کو یا خود کو مجبور محض یا مختار کل مانتے ہیں، اسی طرح جبر اور قدر تصوف کی دو اصطلاحیں بھی ہیں۔ اگر جبریہ ایمان لاو تو قدر ہاتھ سے جاتا ہے اور اگر قدریہ ایمان ہو تو جبر گیا حالاں کہ صوفیہ متقدّمین ،متاخرین اکابر علما، فقہا کے یہاں اس کا امتزاج نظر آتا ہے۔ میر کے شعر کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہوں نے شعر میں اس امتزاج ملحوظ نہیں رکھا۔
فاروقی صاحب کے کلمات کی روشنی میں جبر تک ہماری رسائی با آسانی ہوتی ہے۔ اب قدر ملاحظہ کیجئے۔

 

دراصل میر ؔ صاحب نے شعر ’ہم‘ کی بنیاد پر کھڑا کیا ہے ۔ کہ ’ہم ‘ یعنی صیغہ جمع متکلم اس شعر میں دو صورتوں میں استعمال ہوا ہے ایک ’جمع متکلم‘ایک ’واحد متکلم‘ ’ما بہ صورتِ من‘ پہلا مصرع استفہامیہ ہے۔

 

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی؟

 

اور اس میں’ ہم‘صیغہ جمع متکلم طنزیہ انداز میں استعمال کیاگیا ہے۔ گویہ کوئی ہماری بات کو دہرا ررہا ہے کہ آپ کو اس بات کا زعم ہے کہ آپ پر یہ تہمت ہے ،الزام ہے ،بہتان ہے یا جھوٹ لگایا گیا ہے (جھوٹ لگانا اور ناحق کی مناسبت بھی خوب ہے) کہ آپ اپنے عمل میں مختار نہیں؟ اس استہفام میں یہ خیال مضمر ہے کہ آپ اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہیں۔ ہم نہیں، اس مصرع میں سوالیہ نشان کی گنجائش نکالنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں پھر بھی یہ ہماری شعری روایت ہے کہ ہم شعر کے پہلے مصرع کو دو مرتبہ ادا کرتے ہیں ،لہذا شعر کی صورت کچھ یوں بنتی ہے،

 

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختوری کی (متکلم )
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختوری کی؟ (متکلم ثانی :طنز)
چانتے ہیں سو آپ کرے ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

 

تہمت کا استعمال بھی بہت خوب ہے کہ کیا پتہ اس میں آپ کا کیا فائدہ چھپا ہے۔ کوئی ایسا فائدہ ہو سکتا ہے جو بظاہر نظر نہ آتا ہو، لیکن اسی الزام، تہمت یا بہتان سے آپ کو اپنی عمل کی مختاری کا حق ملتا ہو
دوسرے مصرع میں اور واضح انداز میں یہ نظر آرہا ہے کہ جو چاہتے ہیں وہ خود کرتے ہیں ہم کو بیکار، بے فائدہ بد نام کیا ہوا ہے۔ تہمت کا استعمال بھی بہت خوب ہے کہ کیا پتہ اس میں آپ کا کیا فائدہ چھپا ہے۔ کوئی ایسا فائدہ ہو سکتا ہے جو بظاہر نظر نہ آتا ہو ،لیکن اسی الزام، تہمت یا بہتان سے آپ کو اپنی عمل کی مختاری کا حق ملتا ہو۔

 

سرزد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی
کوسوں اس کی اور گئے پر سجدہ ہر ہر گام کیا
فاروقی صاحب اس شعر اور سودا کے شعر کا موازنہ کر تے رہے انہیں اس بات کی فرصت ہی نہ ملی کہ شعر پر غور کرتے ،تاکہ اس کے اصل معنی تک رسائی ہو سکے۔

 

بہر کیف اس شعر کا پورا نظام لفظ ’اس‘ پر قائم ہے ۔
اس (مظلوب)
اس (غیر مطلوب)
اسی طرض سجدہ کی بھی دو صورتیں ہیں
پہلی : سجدۂ ایمانی
دوسری سجدۂ کفر
دونوں طرح سے شعر کو سمجھا جا سکتا ہے۔

 

‘اس کی اور’ سے پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کس کی اور؟ اس طرح سجدہ ہر ہر گام کیا سے ایک معنی یہ بھی نکلتے ہیں کہ ہم اس کی اور جا رہے تھے اور کوسوں گئے بھی مگر ہم نے تجھ کو فراموش نہیں کیا ۔ ہر ہر قدم پر تیری یاد ساتھ رہی لہذا ہم تیری اور بھی آرہے تھے۔ یہ ایک متضاد کیفیت ہے کہ بیک وقت دو نوں سمت یا دونوں اور ہمارا سفر جاری تھا۔ اسی بنا پر پہلے مصرع میں بھی متضاد کیفیت برقرار رہتی ہے کہ ہم ایک طرح کے عالم وحشت میں تھے ۔ اس لئے اپنے کسی عمل کے ذمہ دار نہیں تھے ۔ پھر بھی ہم سے یہ بے ادبی کم ہی سرزد ہوئی کہ ہم تجھے بھول جاتے ۔ اب یہاں بھی بے ادبی کس کی شان میں ہوئی ظاہر نہیں ہوتا۔ اس کی شان جس کی اور جا رہے ہیں یا اس کی شان میں جسے سجدہ کر رہے ہیں۔

 

ایسے آہو رم خودہ کی وحشت کھونی مشکل تھی
سحر کیا اعجاز کیا جن لوگوں نے تجھ کو رام کیا
اعجاز رام
معجزہ مطیع،تابیدار
آہو رم خودرہ وحشت

 

فاروقی صاحب نے ’کافر اورمومن‘ کا جواز سحر اور اعجاز سے پیش کیا ہے، جبکہ یہ تصور بعید از قیاس ہے کہ میر ؔ صاحب نے اس بنیاد پر شعر میں سحر اور اعجاز باندھا ہو
فاروقی صاحب نے ’کافر اورمومن‘ کا جواز سحر اور اعجاز سے پیش کیا ہے، جبکہ یہ تصور بعید از قیاس ہے کہ میر ؔ صاحب نے اس بنیاد پر شعر میں سحر اور اعجاز باندھا ہو ’جادو کرنا کفر ہے ‘یا’ معجزہ صرف نبی سے سرزد ہو سکتا ہے‘ اتنی سطحی باتیں ہیں جو روایتی مولویوں کے علاوہ کسی اور کے ذہن میں نہیں آ سکتیں۔اس پر یہ خیال کرنا کہ میرؔ صاحب نے ایسا خیال باندھا ہوگا یہ میر ؔ کو ہر گز زیب نہیں دیتا، یہ غیر شاعرانہ تشریح ہے۔

 

شعر کے سیدھے سیدھے معنی یہ ہیں کہ شاعر معشوق کو آہو رم خوردہ کہہ رہا ہے۔ ساتھ ہی اپنی وحشت کا تذکرہ کر رہا ہے کہ میں اس آہو رم خوردہ کے عشق میں گرفتار ہوں، جسے میں رام نہ کر سکا یا جسے میں اپنا نہ بنا سکا اور وہ لوگ کیسے ساحر اور موجزہ کار ہوں گے جس کے حصے میں ایسا معشوق آیا۔ سحر اور اعجاز کا لفظ میرؔ نے اپنے رقیبوں کے لئے استعمال کیا ہے۔ جس سے میر صاحب کے منفرد انداز کا علم ہوتا ہے کہ جہاں اس عہد کی شاعری میں رقیب کو گالیاں دینے کا چلن تھا وہیں میر ؔ صاحب اس کی صلاحیتوں کا اعتراف کر رہے ہیں۔
Categories
تبصرہ

ماہِ میر؛ مسخ شدہ تاریخ کا پلندہ

چند روز قبل ہمارے دوست زبیر فیصل عباسی صاحب ہمیں سینٹورس کے ایک مہنگے سینما میں لے گئے جہاں ہم نے ماہِ میر جیسی سستی فلم دیکھی۔ ہمیں تو پہلے ہی یقین تھا کہ ایک متشاعر میر جیسے نابغہ اور عظیم شاعر کو کیا خاک فلمائے گا کیونکہ اس سے پہلے ہم اِسی صاحب کے ڈائریکٹ کیے ہوئے منٹو کے ایک افسانے سوگندی کو دیکھ چکے تھے، جس میں حضرت صاحب نے افسانے کے آخر ی حصے میں جا کر اپنا لُچ تلا تھا، یعنی منٹو کا افسانہ کچھ تھا، لیکن اِنہوں نے ڈرامہ بناتے وقت بچارے منٹو کی اچھی خاصی تصیح کر دی تھی۔ خیر بر سرِ مطلب زبیر صاحب سے ہمارے دوستانہ مراسم ایسے تھے کہ اُن کے اصرار کو رد نہ کر سکے اور فلم دیکھنے نکل گئے۔

 

فلم کا پہلا حصہ اس قدر غیر متعلق ہے کہ اُکتاہٹ اور بوریت کا احساس شدید ہو جاتا ہے
فلم شروع ہوئی، پانچ منٹ گزرے، دس گرزے، پندرہ، آدھ گھنٹا ہو گیا، ہمیں میر کی کہیں خبر نہیں مل رہی، ایک لونڈا ہے جو جدید شاعر بنا ہے اور کراچی کی کھولیوں میں اور قہوے خانوں میں اور اخبار کے دفتروں میں گھوم پھر رہا ہے، اور بے سُری اور بے تُکی نظمیں پڑھ رہا ہے، جس کی زبان، لغت، ادائیگی غرض ہر شے غلط تھی اور یہ نظمیں یہ نظمیں سرمد صہبائی کی ہی تھیں۔ تب کھُلا کہ یہ فلم میر پر نہیں تھی، فلم کا سکرپٹ لکھنے والے نے خود اپنے آپ پر بنائی ہے جس میں اپنی چند نظمیں اورایک غزل فلم کے ہیرو فہد مصطفیٰ سے پڑھوائیں۔ ان نظموں اور غزلوں کا معیار اس قدر پست ہے کہ ناظر کو شاعری سے ہی نفرت ہو جائے۔ فلم کا پہلا حصہ اس قدر غیر متعلق ہے کہ اُکتاہٹ اور بوریت کا احساس شدید ہو جاتا ہے اور کم و بیش ایک گھنٹے بعد جب میر کا کردار منظر نامے میں داخل ہوتا ہے، تو بوریت کے ساتھ غصے کا بے پناہ غلبہ خود اپنی ہی آنکھیں نوچ لینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ گاہے گاہے میر کے شعر جس طریقے سے پڑھوائے گئے، اُن کا تلفظ، صوتی تاثر اور ادائیگی اس قدر تیسرے درجے کی ہے کہ خدا پناہ، میر صاحب اگر خود دیکھ لیں تو کہیں منہ چھپا کے پیٹتے ہوئے جنگلوں میں نکل جائیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اداکار تو ایک طرف خود پروڈیوسر کو بھی میر صاحب کے اشعارکا شعور نہیں۔ ایک جگہ تو ‘میر’ نے خود اپنا ہی شعر غلط پڑھا بعض مقامات پر تو قرات کا تلفظ اتنا بُرا تھا کہ یقین نہیں آیا کہ ایک شاعر اس فلم کی تیاری میں شامل رہا ہے۔ اس فلم میں میر صاحب تو ایک طرف، اُن کے زیرِ ناف تک کا حق ادا نہ ہو سکا۔

 

فلم میں موجود دیگر تکنیکی خامیوں کا بیان تو کارِ فضول ہے کہ وہ بالکل ہی گلی محلوں کے تھیڑ سے بھی گیا گزرا تھا۔ اصل تشویش تاریخی کرداروں کے مسخ ہونے پر تھی:

 

1۔ تاریخی واقعات کی عکاسی میں میر صاحب کے زمانے کی تہذیب، رکھ رکھاو اور وضع قطع کی نمائندگی کی بجائے لاہوری گجروں کا رنگ ڈھنگ نمایاں تھا۔

 

فلم میں انشا کو میر صاحب سے کم از کم چالیس سال بڑا دکھایا گیا ہے مگر حقیقت اس کے اُلٹ ہے، یعنی انشا اللہ خاں میر صاحب سے کم از کم چالیس سال چھوٹے تھے
پوری فلم میں میر صاحب کو 20 یا 22 سال کا لونڈا دکھایا گیا ہے، جس کا نہ اردو کا تلفظ ٹھیک، نہ لباس، نہ وضع قطع۔ ممکن ہے سوانحی فلم نہ ہونے کے سبب فہد مصطفیٰ خود کو اور اپنی محبوبہ کو میر صاحب اور مہتاب بیگم کی جگہ تصو ر کر رہے ہوں لیکن اس کے باوجود ایمان علی اور فہد مصطفیٰ کی اداکاری کسی بھی طرح اس زمانے کی نشست و برخاست سے مطابقت نہیں رکھتی۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ میر تقی میر ماہتاب بیگم نامی ایک طوائف پر عاشق ہے جسے عشق کا سلیقہ تک نہیں۔ غضب یہ کہ اُسی طوائف کا عاشق نواب آصف الدولہ کو بھی دکھایا گیا ہے اور غضب پر غضب یہ کہ نواب صاحب طوائف کا رشتہ لینے اُس کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ نواب صاحب کی شکل کسی لاہوری غنڈے سے کم نہیں۔ فلم میں اُسی طوائف کے سبب نواب آصف الدولہ کو میر صاحب کا رقیب اور دشمن ظاہر کیا گیا جبکہ میر کی زندگی میں کسی طوائف کا وجود نہیں تھا۔ نواب صاحب تو آخر دم تک میر صاحب کے مربی اور دوست رہے اور تمام تاریخی کتب اُنہیں فرشتہ سیرت انسان ثابت کرتی ہیں جس نے مرتے دم تک میر صاحب کا وظیفہ جاری رکھا۔ نواب صاحب کا طوائف کے گھر اُس کا رشتہ لینے چلے جانا تو ایسا عجوبہ ہے کہ جسے غلطی بھی نہیں کہا جا سکتا، یہ ایک صریح حماقت ہے۔ نوابان لکھنو سے یہ کثافت منسوب کرنے کا کوئی جواز ممکن نہیں۔

 

2۔ فلم میں انشا کو میر صاحب سے کم از کم چالیس سال بڑا دکھایا گیا ہے مگر حقیقت اس کے اُلٹ ہے، یعنی انشا اللہ خاں میر صاحب سے کم از کم چالیس سال چھوٹے تھے۔ جب میر صاحب دہلی سے لکھنئو آئے تو اڑسٹھ برس کے تھے جبکہ انشا اُس وقت لکھنئو میں تھے ہی نہیں، وہ دہلی میں تھے اور بیس برس کے تھے۔ سید انشا تو سعادت علی خاں کے دور مٰیں لکھنئو آیا اور اُسی کا مصاحب تھا اور اُس وقت تیس برس کا تھا جب میر صاحب سے ملاقات ہوئی۔

 

3۔ فلم میں میر کو لکھنئو میں بیس برس کی عمر کا دکھایا گیا ہےجو کہ سرا سر غلط ہے۔ اور جو میر صاحب کے منہ سے مثنوی کہلوائی جاتی ہے وہ بھی کہیں ستر برس کی عمر میں میر صاحب نے کہی تھی، جب کہ فلم میں اُن کی زبان سے بیس برس کی عمر میں سُنوائی گئی اور وہ بھی انشا کے سامنے، جو تاریخی اعتبار سے غلط ہے۔

 

4۔ انشا کی جانب سے میر کو خلعت پیش کیے جانے کا واقعہ سعادت علی خاں کے دور کا ہے جبکہ فلم میں اسے آصف الدولہ کے ساتھ نتھی کیا گیا ہے۔ جہاں انشا موجود ہی نہیں تھے۔ تب وہ ایک لڑکا تھا جو دہلی میں مقیم تھا۔
5۔ نواب صاحب کے دربار کا نقشہ کسی غنڈے کی حویلی سے زیادہ کا نہیں لگتا، اس میں نہ لکھنوی رنگ ہے نا نوابی شان۔ ممکن ہے بجٹ کی کمی اس مفلسانہ عکسبندی کی وجہ بنی ہو۔

 

فلم میں میر کی وحشت کا تذکرہ تو بہت ہے مگر اسے احمد جمال اور پروفیسر کلیم کی جنسی کج رویوں، ناکام معاشقوں اور شراب نوشی کے تناظر میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ حقیقت سے بے حد دور ہے۔
6۔ میر صاحب کا مجرا سننا اور مجرے کے دوران شراب پینا تو سبحان اللہ۔ میر نے کبھی شراب کو چھوا تک نہیں تھا ۔ البتہ یہ دونوں فعل اسکرپٹ رائٹر نے اپنے اوپر ضرور منطبق کیئے ہیں۔

 

7۔ میر صاحب کا بچپن آگرہ میں، لڑکپن، جوانی اور ادھیڑ عمری دہلی میں اور بڑھاپا لکھنئو میں گزرا مگر فلم میں ان ادوار کا کوئی تذکرہ کہیں موجود نہیں۔ اگر کچھ لڑکپن یا جوانی اناڑی پنے اور بھونڈے انداز میں دکھائی بھی گئی تو فلم یہ بتانے میں ناکام رہتی ہے کہ یہ واقعات کس علاقے میں رونما ہو رہے ہیں۔

 

8۔ فلم میں میر کی وحشت کا تذکرہ تو بہت ہے مگر اسے احمد جمال اور پروفیسر کلیم کی جنسی کج رویوں، ناکام معاشقوں اور شراب نوشی کے تناظر میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ حقیقت سے بے حد دور ہے۔

 

یہ فلم میر تقی میر سے ایک (جدید) شاعر کا ذاتی تعارف تو ہو سکتا ہے مگر اسے میر کے کلام یا حالات زندگی پر نمائندہ کام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بادی النظر میں پرو ڈیوسر اس فلم کے ذریعے خود کو اور اپنی شاعری کو متعارف کرانا چاہتے ہیں جس کی ایک مثال آخر میں اپنی کتاب ماہِ عریاں کی برملا تشہیر ہے۔ خدائے سخن کی یہ غیر معیاری نمائندگی ماہِ میر کا سب سے بدصورت پہلو ہے اور اس فلم کو ناپسند کرنے کی سب سے بڑی وجہ بھی۔