Categories
شاعری

آخری سیلفی (زوہیب یاسر)

بچھڑنے سے پہلے کی آخری سیلفی میں سارا درد اور کرب
چہرے سے چھلکتا ہے،
وصل اور ہجر کی درمیانی کیفیت کو شاید نزع کہتے ہیں،
تم نے اقرار کرنے میں اعترافِ جرم جیسی دیر کر دی،
گویا پیلے بلب کے سامنے بیٹھا، ناکردہ گناہوں کا مجرم،
آنکھوں کو تھکا دینے والی روشنی کی تاب نہ لا کر اعتراف کرتا ہے
کہ اس کرب ناک ‘حال’ سے مستقبل کا تختہ بہتر ہے،
میری مستقل مزاجی اور چپ شاید وہی پیلا بلب ثابت ہوئی،
میں مگر اس بڑی سی میز کے پار نہیں تھا،
مشرقی محبت کا یہی رونا ہے،
یہاں کواڑ کھلتے اگر نہیں تو بند بھی نہیں ہوتے
کلوئی (Chloe) اور ڈیفنس (Daphnis) کی محبت اور مشرقی تعلق میں کوئی مماثلت نہیں،
مگر میرے پاس وہ آخری سیلفی Leonardo Da Vinci کے آخری عصرانے (The Last Supper) کی طرح محفوظ رہے گی۔۔۔
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

میں پرانی ہو چکی ہوں (عظمیٰ طور)

کسی پرانی کتاب میں بسی باس کی مانند
میں پرانی ہو چکی ہوں
کسی پوسیدہ تحریر کی مانند
کہ جس تحریر کے مٹے مٹے حروف
اپنے معنی کھو چکے ہیں
میں پرانی ہو چکی ہوں
اس ہینگر میں ٹنگی سفید قمیض کی مانند
کہ جس کے کالر پر وقت کی گرد جم چکی ہے
میں پرانی ہو چکی ہوں
اس مکان کی مانند
کہ جس کے مکیں اس کی بوسیدہ دیواروں
ٹوٹی ٹپکتی چھتوں
سے بیزار نکلے تھے
اور مڑ کر دیکھنے والوں نے
دروازے کے شکستہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہوئے نہ لوٹنے کی قسم کھائی تھی
میں اس مکاں کی دیواروں سے اکھڑے روغن
گھسی ہوئی کھڑکیوں سے جھانکتی
بوسیدگی کی علامت ہوں
میں اتنی پرانی ہوں کہ جتنی پرانی گھڑی سامنے دیوار پہ ٹنگی نجانے کب سے
ایک ہی وقت پہ اٹکی ہے
جیسے ضد پکڑے کھڑی ہے
آؤ مجھے واپس بلاؤ
میرے سیل تھک چکے ہیں
میں چلنا چاہتی تھی مگر
میرے اندر اب سکت باقی نہیں ہے
میں اتنی ہی پرانی تھی تو مجھے
کیوں نئی دنیا بخشی تھی
جہاں نئے پن سے مانوس ہونے کے لیے مجھے پرانا پن دان کرنا پڑ رہا تھا
مجھے کیوں نیا نہ بنایا گیا
کہ میں بھی سمجھ پاتی نئے پن کے تقاضوں کو __

Categories
شاعری

دل پہ بوجھ ڈالتی نظم (ثاقب ندیم)

میں تمہارے خوابوں کو بھٹکنے سے نہیں روکتا
کیونکہ اِن کی سکونت کے لئے جو آنکھیں بنی ہیں
وہ صرف میرے پاس ہیں
میں اپنے خوابوں کی ریز گاری
تمہاری جیبوں میں نہیں ڈالتا
کہ تمہیں اِن کے بوجھ سے گھبراہٹ ہوتی ہے
میں تمہارے درد کی صراحی سے روزانہ
چِلوُ بھر درد پی جاتا ہوں
آخر ایک روز صراحی خالی پا کے
تمہیں درد کا ذائقہ بھول جائے گا
میں اپنے خیالوں کو
سبزی مائل رکھتا ہوں
کہ وہاں تمہیں موسم کی شِدت
اور حِدت کا احساس نہ ہو
میں محبت کے گیت
اونچے سُروں میں نہیں گاتا
میں محبت کے دھویں سے مرغولے نہیں بناتا
سینے میں کہیں پھیلائے رکھتا ہوں
صرف اپنے لئے
Image: Duy Huynh

Categories
شاعری

خدا کا حصہ! اور دیگر نظمیں (ایچ-بی-بلوچ)

خدا کا حصہ!

وسیع تر
کائناتوں کے قیام کے بعد
ہم اپنے خول میں بے مصرف ہو گئے

پکار اٹھی۔۔۔۔
کوئی ہے جو
ہمیں اپنے چھوٹے چھوٹے گھروں سے نکالے!!

دعا قبول ہوئی
ہم ایک نئی سرزمین پر اترے
جو بہت حسین تھی
پھر ہمیں ایک خدا
اور شیطان کی ضرورت محسوس ہوئی!

ہمارے قدموں کے درمیان
جہاں پر پودے پانی پی کر خوش ہوتے تھے
اور پھر آہستہ آہستہ
انہوں نے لوگوں کا خون پینا شروع کر دیا

یہ تب ہوا
جب ہم
زمین کے حصے کا پانی
خدا کا حصہ سمجھ کر پی گئے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک موت کی وضاحت
دور بہت دور
حدِ نگاہ تک
جہاں زمین اور آسمان باہم ملتے ہیں

وہاں کہیں باہم ربط کو
میں نے وصالِ عشق کی علامت بنایا ہوا ہے
اب زمانہ چاہے بھی تو
اپنی نظر سے
اس منظر کو الگ نہیں کر سکتا

لوگ اپنی ناکامی پر کہہ سکتے ہیں کہ
میں مر چکا ہوں
اس طرح جیسے
دور بہت دور
حدِ نگاہ تک
زمین نے آدھے آسمان کو نگلا ہوا ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے مجھے ایک جنگ کے بعد جیتا!
میں جو دیکھ سکتا ہوں
وہ دیکھتا ہوں
جو میں سن سکتا ہوں
سنتا ہوں
جہاں تک میں سوچ سکتا ہوں
سوچتا ہوں

تم نے مجھے اپنے مقابل دیکھنا چاہا
جب میں میدان میں تھا
تم نے مجھے ایک جنگ کے بعد جیتا!
لیکن
میری ہار کا یقین میرے اداس ہونے تک ہے

تم پہاڑوں کے دامن میں
مجھے تھوہر بنا دیتے ہو
میں تمہاری آنکھوں سے کانٹے بن کر نکلتا ہوں

جب تم مجھے بادل سمجھنے لگتے ہو
تو میں برس پڑتا ہوں
جب تم مجھے اپنے مطلب سے لکھنا چاہتے ہو
تو میں ناقابلِ تحریر سوچ بن جاتا ہوں

اپنی مرضی سے
مجھے زندہ رکھنے کے لیے
جلانے سے پہلے جان لو

بے جان اشیا جیسے آگ اور موم
اپنی ضرورتوں کا ادراک رکھ نہیں پاتیں
اس لیے وہ اپنی صفات میں
ہمیشہ سے آزاد ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کی ردی میں؎
دنیا کی ردی میں
اتنے پتھر جمع ہو گئے ہیں
جن سے لاتعداد گھر بن جائیں

جن سے سیڑھیاں بنائی جا سکتی ہیں
جو ہمارے دل تک پہنچ جائیں
اور آنکھوں سے راستے بن کر نکلیں

یہاں اتنے لوگ جمع ہو گئے ہیں
جن کو پگھلا کر ٹینک بنائے جاتے ہیں
جن کو گرما کر جنگ بنائی جاتی ہے

جن کو چن کر دیواریں اٹھائی جاتی ہیں
جو ہمارے خوابوں کو
ہماری خوشیوں سے الگ کر دیتی ہیں
ہمیں بیساکھیوں میں زندہ کر دیا جاتا ہے
اور قدموں میں مار دیا جاتا ہے

یہاں پر اتنے
رنگ بہ رنگی پرندے جمع ہوگئے ہیں
جن کو وہ ملکوں کے نام سے بناتے ہیں
اور گولیوں سے اڑا دیتے ہیں.!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت
محبت
اور عشق کے احاطے میں
آنے سے احتیاط کرو
یہاں پر سنگلاخ چٹانیں ہیں
جو کبھی کبھی
بھیڑیے کا روپ دھار لیتی ہیں

اس خطرناک ارادے سے پہلے
کبھی واپس بھی چلے جایا کرو
اس سناٹے میں
جو سکون بخش پناہوں کی صورت لے لیتا ہے

اگر تمہیں آنا ہے
تو اس دیوار کو پکڑ کر چلو
جو کبھی واپس نہیں جاتی

لیکن اگر تمہیں
خود کو مجھ سے الگ رکھنا ہے
تو ہمیں خاموشی سے
ایک تصویر بنانی ہوگی
جو کیلوں کے بغیر ہتھوڑے برداشت کر سکے!
Image: Daehyun Kim

Categories
شاعری

تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا (سرمد صہبائی)

تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا
تیری چھتوں پر بھی تو پھیکی زرد دوپہریں اُتری ہوں گی
تیرے اندر بھی تو خواہشیں اپنے تیز نوکیلے ناخن کھبوتی ہوں گی
تو نے بھی تو رُوئیں رُوئیں میں موت کو چلتے دیکھا ہو گا
آہستہ آہستہ جیتے خون کو مرتے دیکھا ہو گا
گُھٹی ہوئی گلیوں میں تو نے
تنہائی کو ہچکیاں لیتے سُنا تو ہو گا
تیری پتھرائی آنکھوں نے
اک وہ خواب بھی دیکھا ہو گا
جس کے خوف سے تیرا دل بھی زور زور سے دھڑکا ہو گا
ناآشنائی کے شہروں میں
اپنے بدن کی تنہائی سے لپٹ لپٹ کر رویا ہو گا
جھوٹے دلاسوں کی چادر کو تُو بھی اوڑھ کے سویا ہو گا
میں نے تجھے پہچان لیا ہے
تُو نے بھی تو مجھے کہیں پر
اس سے پہلے دیکھا ہو گا
Image: Cheenu Pillai

Categories
شاعری

ایک منتظر نظم (ثاقب ندیم)

بھوگ رہا ہوں
سرد رُتوں کی سائیں سائیں
روح کے پیڑ سے گِرنے والی زرد اداسی
آوازوں کا رستہ دیکھتے کانوں سے بس
مُٹھی بھر ہمدردی
بھوگ رہا ہوں
بِستر کی شِکنوں کو دیکھنا، دیکھتے جانا
کمپیوٹر سکرین پہ تجھ کو
ڈھونڈتی آنکھوں کی ویرانی
کھِڑکی کے کونے پہ بیٹھی
ایک عدد حیرانی
شکلیں بدل بدل کے آتے غم کے گھاؤ
کِس کے ہمراہ اکلاپے کی شام مناؤں
ایک پرانی یاد کی تلچھٹ باقی رہ گئی
باقی رہ گئے تم
وہ بھی یہاں کہاں ہو؟
باقی رہ گیا میں
میں بھی کہیں نہیں ہوں
بھوگ رہا ہوں
کب سے اپنے نہ ہونے کو
مٹی ہوتے دیکھ رہا ہوں
میں سونے کو
Images: cristine cambrea

Categories
شاعری

پیشہ ور (ساحر شفیق)

جدائی کا کیلنڈر چھپ چکا ہے
جسے ہم دونوں نے مل کے ڈیزائن کیا تھا

ہم اُس دن پہلی بار ملے تھے
جب پاگل خانے کی چھت پہ پتھر مار کر وقت کو شہید کر دیا گیا تھا
ہم اُس وقت بھی معصوم نہیں تھے
کیونکہ ہم چومنے کے معنی جانتے تھے

ہم نے اپنی پچھلی محبتوں کو جانور ذبح کرنے والی چھری سے کاٹ کر الگ کر دیا تھا
محبت کوئی پیشہ نہیں
یہاں پچھلا تجربہ کسی کام نہیں آ سکتا تھا
ہمیں ایک دوسرے کو رسمی انداز میں الوداع نہیں کہنا چاہیے
اگر تم چاہو تو مجھے کہیں سے بھی چوم سکتی ہو
ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر ہمیں دریامیں چھلانگ لگا دینی چاہیے
کیونکہ بیزاری کے اندھے کبوتر نے توقعات کی تتلیوں کو چُگ لیا ہے
اور
دیوار پہ لکھی ہوئی نیند کی آنکھوں میں
بے گانگی کی چمگاڈر بچہ جَن رہی ہے
ہم فاصلے کی طرح بڑھ رہے ہیں

اگر آنے والے وقتوں میں بھی تاریخ لکھنے کا چلن رہا
تو ہمارے بارے میں لکھا جائے گا
کہ ہم نے ایک دوسرے کو کُتے کی طرح سونگھ کر چھوڑ دیا تھا

Categories
شاعری

اِک نظم (عظمیٰ طور)

اِک نظم
ابھی ابھی
الماری کے اک کونے سے ملی ہے
دبک کر بیٹھی
پچھلے برس کی کھوئی یہ نظم
کب سے میں ڈھونڈ رہی تھی
اس نظم میں مَیں بھی تھی تم بھی تھے
ہم دونوں کی باتیں تھیں
دروازے پہ ٹھہری اک دستک تھی
گہرے نیلے رنگ کے پردے تھے
اِک اکلوتی پینٹنگ تھی
جس میں مَیں نے
تمھارے کہنے پر
نیلے رنگ سے اسٹروک لگائے تھے
میری جھولتی کرسی کے سائے میں رکھی کتابیں تھیں
جن کو پڑھ کر ہم
گھر والوں پر رعب جمایا کرتے تھے
مشکل مشکل باتیں کر کے ہم منہ ہی منہ میں ہنستے تھے
گھر والے سب عاجز آ کر
ہم کو تنہا چھوڑ دیتے تھے
میز پہ رکھے دو مگ بھی تھے
جن میں ہم آدھی چائے چھوڑ کے
بھول گئے تھے
ایک قلم تھا ڈھیروں کاغذ تھے
اس نظم کے سطروں میں کیسی میٹھی باتیں ہیں
لیکن اب اس نظم کے پیلے کاغذ پر
وقت نے سلوٹیں ڈالی ہیں
دیکھنے سے یوں لگتا ہے
نظم بہت پرانی ہے
پرانی چیزیں کہاں کسی کو بھاتی ہیں
مَیں نے پھر سے وقت سے نظر چرا کر
اُس نظم کو واپس
رکھ چھوڑا ہے _
Image: Jean Carolus

Categories
شاعری

سمندر پہ کی گئی محبت (ساحر شفیق)

میں نے پہلی بار اُسے
ریت میں دھنسے ہوئے تباہ شُدہ جہاز کے عرشے پر دیکھا تھا
جب وہ ہنستے ہوئے تصویر بنوا رہی تھی

اس کی آنکھیں بادلوں میں گھرے ہوئے سورج جیسی تھیں
یقینا بچپن میں اُسے نیند میں چلنے کی عادت رہی ہوگی

سمندر___ جو رشتے میں ہم دونوں کا کچھ نہیں لگتا تھا
پھر بھی ہمارے درمیان تھا

محبت ٹھنڈے پانی کی بوتل نہیں ہوتی
جسے میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اُسے پیش کر سکتا

اگر میں نے سمندر کے بارے میں کوئی کتاب پڑھی ہوئی ہوتی
___ یا___
میں اس تباہ شدہ جہاز کا کپتان رہا ہوتا تو
اُس سے کچھ دیر گفتگو کر سکتا تھا

اگر میرے پاس کچھ پھول ہوتے تو میں اُسے دکھا کر سمندر میں بہا دیتا
پیغام دینے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے
ریل کے سفر میں بننے والا تعلق
___ اور___
سمندر پہ کی گئی محبت ہمیشہ دُکھ دیتی ہے

آج برسوں بعد___
خودکشی کے لیے کسی مناسب مقام کی تلاش میں پھرتا ہوا
میں سوچ رہا ہوں
اگر اُس شام کوئی لہر مجھے بہا کر لے جاتی
تو___میں اُسے کچھ گھنٹے یاد رہ سکتا تھا
Image: Huebucket

Categories
شاعری

میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے (فرح دیبا اکرم)

میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے
جب اس کا دم گھٹنے لگے تو
کھڑکی پہ پردہ ڈال کر
مدھم روشنی کو
اندھیرے کی چاندنی سے ڈراتی ہے

ایک آخری کام رہ گیا ہے
تیری امانت، تیرے سپرد کرنی ہے
اپنے جنوں کے بےمعنی اضطراب کو
تمھارے دروازے کے ڈور میٹ پہ رکھ کر
زمانے کی زنجیر کھینچنی ہے

میں وحشت کا استعارہ ہوں
زندگی میری آہٹ سے ڈر جاتی ہے
موت آواز کے سنّاٹے میں ہڑبھڑا اُٹھتی ہے
جانتے ہو، میں جہاں ہوں۔۔۔وہاں آسماں کا سایہ نہیں
بس اُس کی اک آہ نے
میرے خواب کی تعبیر اُلٹ دی۔۔۔
Image: Krisztian Tejfel

Categories
شاعری

ضامن عباس کے عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ع / چاۓکیسی لگی

نہیں
میں تو بس
کہہ رہی تھی کہ وہ
‘کیا ہوا’
کچھ نہیں
‘کچھ کہو بھی سہی ‘
اک سہیلی یہ کہتی ہے
آپ اُس سے بھی
خیر ! چھوڑیں اسے
چاۓ کیسی لگی ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ع / ہیجان

میں یہیں ہوں
کہیں بھی نہیں جا رہا
اچھا چپ تو کرو
اک تو چھٹی بھی ختم
اور اوپر سے تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار ۔۔۔۔۔۔۔۔ حد ہو گئی
ٹھیک ہے، بھائی! روتی رہو!
میری بکواس تو ماننی ہی نہیں
تم بس اپنی کرو

اچھا چلتا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ع/ گُمان

بس ایک چھوٹی سی بحث پر ہی چلے گئے ہو؟
کنارا کر کے
بہت سے دعوے کیے تھے تم نے
کبھی جتایا نہیں مگر میں یہ جانتا تھا
تمام دعوے ہیں وقتی جذبوں کے زیرِ سایہ
تمہیں محبت نہیں ہے مجھ سے، فقط گماں ہے
میں مانتا ہوں کہ پیار آتا تھا مجھ پہ تم کو
سو پیار آنے کو پیار ہونا سمجھ رہے تھے
مگر جو آتا ہے اُس کا جانا بھی طے ہی سمجھو
بس ایک چھوٹی سی بحث پر ہی چلے گئے ہو!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ع // مردانہ انا

آنکھوں کے پار نمی موجود ہے
کانوں کو تنہائی میسر ہے
کھل کے رونا چاہتا ہوں
کسی فلم کے جذباتی سین دیکھ کر
پھر یہ دیوار کہتی ہے
اپنے ساتھ دھوکہ کر رہے ہو
کیسی طاقتور بے بسی ہے
مجھے اس سے فرار چاہیے
ورنہ دماغ کی نسیں پھٹ جائیں گی
احساس۔مردانگی کے مارے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ع // مجھے لگتا تھا وہ یاد آتے ہیں

شانوں پر خواہشات کی عدم تکمیل کا بوجھ لیے
میں جسے، بچھڑنے کا غم قرار دیتا تھا

پھر مجھے کسی اور سے لگاؤ ہو گیا
ایک دن وہ بھی کسی بات پر مجھے چھوڑ گیا
اب کے میں پر سکون رہا

اب جو لوگ میرے قریب ہیں
وہ کسی بھی وقت چھوڑ کر چلے جائیں گے

اور میں، ابھی سے، ان کے وجود کے بغیر
اپنی دنیا کو مکمل محسوس کرتے ہوۓ

ایک نامکمل مگر نارمل زندگی گزار رہا ہوں
Image: Rene Magritte

Categories
شاعری

hypocrisy (وجیہہ وارثی)

تمہارے بوسیدہ بوسوں سے باس آنے لگی
تمہارے آنے کی آس نصف صدی پہلے دم توڑ چکی
یادیں رفتہ رفتہ دیوار سے چونے کی طرح چٹخ چٹخ کے گرنے لگی ہیں
تاریخ لاکھوں صفحے پلٹ چکی
وقت مداری کی طرح تماشے دکھا چکا
نصف صدی کا عرصہ
انسان کے زندہ رہنے کے لیے بہت تھوڑا ہے
مر جانے کے لیے بہت زیادہ
میں تمہارے بغیر زندہ تھا یا نہیں
اس سوال کا جواب میرے بچے دے سکتے ہیں
سب سے چھوٹا بچہ مجھے مرا ہوا ہی سمجھتا ہے
میری شریک حیات
جسے دنیا کی معزز ترین عورت ہونے کا شرف حاصل ہے
خود کو خاتون اول و آخر سمجھتی ہے
(بیوی کی خوش فہمی ہی اس کی خوش بختی ہوتی ہے)
آرام کے لیے بے آرام پالتی ہے
بچوں کو بڑھاپے کا سہارا بنانے کے لیے راتوں کو جاگتی ہے
بائی پاس کے دوران اپنے عقیدے کے مطابق
مسلسل میری زندگی کی دعائیں مانگتی رہی
کامیاب آپریشن کے باوجود تم دل کے کسی والول کے ساتھ
پھانس کی طرح پھنسی ہوئی ہو
Image: Kristina Falcomer

Categories
شاعری

اے میری، سردیوں کی دھوپ سی، شیریں محبت!

اے میری، سردیوں کی دھوپ سی، شیریں محبت!
اے مجھ پر
سخت جاڑے کے دنوں میں مسرتیں لے کر
اترنے والی جامنی محبت!
تم مشرق و مغرب کی دِشاؤں میں چلنے والی
پروئی سے ہو
جسکے چھوتے ہی، میری پلکوں میں اٹکے
اڑی رنگت کے تمام زرد پتے، جڑ گئے تھے
میری سوچوں سے لپٹی
تمام سوکھی بیلیں، اتر گئی تھیں
اور میری زلفوں میں بکھرے، موتیا کے گجرے
تمہاری تاثیر سے ایک بار پھر مہک اٹھے تھے
جس مہک کے تعاقب میں
تم نے میلوں کا سفر بار بار کیا ہے
کئی آگ کے دریا اور نیلی ندیوں کو پار کیا ہے
ہرے موسموں کی بھری جھولیوں سے
ایک جامنی پھول میرے نام کیا ہے
جس کی ایک ایک پتی پہ
عرقِ محبت کو چھڑکا ہے میں نے
اے مجھ پر
سخت جاڑے کے دنوں میں مسرتیں لے کر
اترنے والی جامنی محبت!
میرے ناخنوں پہ سدا تیرے رنگ کی بہاریں رہیں گی!
Image: Christian Schloe

Categories
شاعری

محبت کا سن یاس

وہ مجھے اپنی تصویریں بھیجتی ہے
اور مجھ سے میری نظموں کی توقع رکھتی ہے
میں نے لفظوں کا پھوک
اخباروں سے چن کر
لیکچروں کے بیچ ٹھونگتے رہنے کے لیے
اپنی جیبوں میں بھر رکھا ہے
ان لفظوں سے نظمیں نہیں لکھی جا سکتیں

اخبار جن چٹپٹے لفظوں سے بھرے ہوتے ہیں
وہ چائے کے ساتھ اچھے لگتے ہیں
نظم صرف سگریٹ کے ساتھ لکھی جا سکتی ہے
تصویر صرف کسیلے پانی کے ساتھ بنائی جا سکتی ہے
میں اپنی لائف انشورنس کا پریمیم کم کرنے کے لیے
سگریٹ چھوڑ چکا ہوں
کسیلے پانی پر خدا کا پہرہ ہے
اور اخبار میں لکھے لفظ صرف ری سائیکلنگ کے لیے بھیجے جانے کے قابل ہیں

لفظ صحیفوں میں ڈھونڈے جا سکتے ہیں
لیکن صحیفوں میں لکھے لفظ کثرت استعمال سے بے معنی ہو چکے ہیں
میں نے ان میں لکھی دعائیں رٹ ڈالیں
لیکن خدا کے کانوں میں ریشہ اتر آیا تھا
میں نے لفظوں کی تلاش میں ڈکشنریاں کھود ڈالیں
لیکن لفظ دب کر مر چکے تھے
میں نے ان مرے ہوئے لفظوں کو جوڑ کر گالیاں بنائی
لیکن کسی کو غصہ نہیں آیا
جن لفظوں پر کسی کو غصہ نہیں آتا
ان پر پیار آنے کی توقع بے سود ہے

ہم جیسے مردوں کو پیار کرنے کے لیے عورتیں درکار ہیں
اور غصہ کرنے کے لیے بھی
ہمیں نظمیں لکھنے کو عورتیں چاہئیں
اور گالیاں دینے کو بھی
ہم بچے پیدا کرنے کے لیے ان کے محتاج ہیں
اور لفظ جننے کے لیے بھی
خدا جانے تمہاری تصویر محبت کرنے کے لیے بوڑھی ہو چکی ہے
یا میں نظمیں جننے کے لیے نامرد۔۔۔
Image: Pawel kuczynski

Categories
نان فکشن

رشتے کا ایک برس

موسم بیت جاتے ہیں، وقت ہوا ہو جاتا ہے اور انسان وقت کے ساتھ ساتھ اجنبی ہوتے چلے جاتے ہیں، حقیقتوں کے تبدیل ہونے اور حالات کے بدلنے کا یہ سلسلہ زندگی کی سخت زمینوں پر کبھی نہیں رکتا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں اچھا اور برا، آسان اور مشکل دن نہیں دیکھا۔ زندگی انہیں گورے، کالے سورجوں سے چڑھتی ،بڑھتی اپنے انجام کو پہنچتی ہے اور اک روز آتا ہے جب ہم سب زندگی کے ایک ایسے روشن مستقبل کی آغوش میں کہیں کھو جاتے ہیں جہا ں سے ہماری سانسوں کی حرارت کا سراغ تک نہیں ملتا۔ میں نے کئی بارشیں دیکھی ہیں، کئی راتوں کی الجھنوں کا سکون پیا ہے اور کتنے ہی ان دیکھے خوابوں کی ہوا کا جھونکا اپنے بدن کی مٹی سے لگتا ہوا محسوس کیا ہے۔ مگر میں نےکوئی پانی کی بوند ایسی نہیں دیکھی جس میں خاک کا عکس نہ ہو، کوئی کپاس کا ریشہ ایسا نہیں چھوا جس میں پتھر کی سلیں نہ ہوں اور کوئی راکھ کی آندھی ایسی نہیں دیکھی جس میں گلابوں کی خوشبووں کا مہکتا رنگ نہ ہو۔ اپنی زندگی میں بہت کچھ دیکھنے اور بہت کچھ نہ دیکھنے کے احساس میں میں دور تک گیا ہوں، انجان گلیوں کی خاک چھانتا، نمکین پسینوں کا دھواں تلاشتا اور نئے پتوں کی سرسراہٹ کا نغمہ سنتا، کوئی تھا جو وقت کی اس ریت پر، مجھے ہمیشہ ایک تازگی محسوس کرواتا رہا، میری آنکھوں سے اوجھل، میرے ماضی سے دور اور حال سے آگے۔ کس کو علم ہوتا ہے کہ اس کے خواب کی تعبیر زمین کے کس حصے کی مٹی تلے دفن اس کو پکار رہی ہے۔ وقت گزرتا ہے اور ہم زندگی کے نئے منظر کی نذر ہوتے چلےجاتے ہیں۔وقت کے گزرنے کا احساس بھی نہیں ہوپاتا کہ کب آنکھوں کے پیالوں نے اپنا چراغ خود بجھا دیا، کب بدن کی توانائی کو حالات کی دیمک نے چاٹ چاٹ کر کھوکھلا کر دیا اور کب ان سرمئی اور معصوم خواہشوں کو ہوس کے ناگوں نے نگل لیا جن سے زندگی میں ٹھنڈی ہواؤں کے لچکتے ہوئے تھپیڑوں نے اک رمق پیدا کر دی تھی۔ کئی دن کا خواب ایک دن میں چور ہوتا ہوا دیکھا تو لگا کہ غالبا اب زندگی دوبارہ موقع نہیں دے گی۔ کون اٹھنا چاہتا ہے اس ریت پر سے جس کے ٹیلوں پر بادلوں کا سایہ ہو اور جس کی آغوش میں پانی کی وہی میٹھی کلکاریاں ہوں جن سے جلتے ہوئے جسموں کا دھواں بجھ کر ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ میں نے بھی کوئی سوال نہیں کیا، بس خاموش نظروں سے اس پیالے کو دیکھا اور دیکھتا رہا کہ وقت کی ریت اسی پیالے میں اک روز میرے نورانی دھندلے خوابوں کو سجانے والی ہے۔ دونوں جانب ایک ہلکی سی خاموشی تھی ، جس کے زیر زمیں کئی آوازیں روز بیان کا پتا دیتی ہوئی اپنی زندگی کا اثبات کروانے میں لگی ہوئی تھی۔ میں نے وقت کو ایک سفید گھوڑے پر سوار کیا اور اس کی دم پر ایک آہنی تازیانہ لگا کر اسے ہوا کے سپرد کر دیا۔ اس کا بھی یہ ہی خیال تھا کہ اسی سے ہمیں تسکین مل سکتی ہے۔ پھر وہ سب ہوا جس کا ہم دونوں کو انتظار تھا۔ کچھ سورج میری چھاتی سے اگے، کچھ اس کی ناف کے اندھے غاروں میں مدغم ہوگئے۔ کبھی چاندنی کا دھواں ہماری رانوں کے دمیان کلبلایا تو کبھی ارتعاش اور محبت کے ہوس ناک تیر ہم دونوں کے کلیجوں میں اترتے چلے گئے۔ درمیان میں کنوئیں آئے، جھیلیں پڑیں اور ان جھیلوں سے اچھلتی، کودتی مچھلیوں نے ہمارے منہ چومے، کوئی نہنگ ہماری قدموں کو چھوتا ہوا گزر گیا اور کسی ویل نے ہماری سانسوں کا ریشم نوچ کھنسوٹ دیا۔ ہم سمندر کی گہرائی تک پہنچنے ہی والے تھے کہ آسمان کی تیسری منزل سے کسی نے ہاتھ دے کر ہمیں اوپر اٹھا لیا، کون جانتا تھا کہ رگ جاں کا تصور اسی نارنگی اور سرمئی آستینوں سے لپٹا ہوا ہے۔ کون کہہ سکتا تھا کہ نور کے سائبان تلے ایک خاموش بستی ہےجس میں ہم دونوں کو ایک روز دفن ہو جانا ہے۔ اس نے ذرا سا زور لگایا اور میری پلکوں کا پانی جھڑ کر اس کے شاخ شاخ بدن پر تیر گیا اور میں نے تھوڑی سی کوشش کی اور اس کے پہاڑوں میں سوراخ ہوگئے۔ وہ دن بھی آیا جب میں ہانپتی کانپنی زلفوں کو سہلاتا ہوا ، افشاں کے باریک روشن نکات کو چومتا ہوا گیلی مٹی پر اوندھے منہ سو گیا اور وہ رات بھی آئی جس میں برف کی چٹانوں نے میرے لہوکو مجھ میں جما دیا ۔کبھی کوئی راہ گیر میرا ہمسایہ بنا اور کبھی کوئی جانور میرے قدموں تلے روندا گیا۔ کسی نے پیاس کی شدت میں پانی کا ایک گھونٹ دیتے ہوئے اپنے احسان کی چھریاں میرے گلے پر رکھ دیں اور کبھی یوں بھی ہوا کہ ایک اجنبی خیال نے میرے لبوں پر مسکان دوڑا دی۔ کسی موسم کا میں خواہش مند نہیں، کسی فکر کے الجھاوے کا اسیر بھی نہیں ،لیکن ایک آنکھ نے مجھے ایسا باندھا اور ابرو نے مجھے ایسا کھینچا کہ میں زمین کی آخری پرت تک اترتا چلا گیا اور سویا تو صدیوں کے لیے سوتا ہی رہا کہ سکون کی نیند ابدی تھی اور جاگا تو آسمانوں کی سیر کر لی کہ وقت کا بھنور یہ ہی تھا۔ نہ کوئی لمس ، نہ کوئی چشمہ، نہ کوئی لٹ اور نہ کوئی صدائے دلبر ، ایک برس جس میں تیرتے ہوئے بادلوں کا احساس تھا، جھومتی ہوئی ندیوں کا سرور، کھیلتے ہوئے بچوں کی شرارت اور ناچتے ہوئے مور کی تشنگی،اس کا ہاتھ میری کلائی سے بندھا رہا اور میں اہراموں سے اونچا ہوا کی تاریکی میں معلق ہوتا چلا گیا۔اس کی پلکیوں کی چاندنی میرے کندھوں پر بکھری رہی اور میں رات کے کلیجے سے لگا نیند کی نازکی کو محسوس کرتا رہا۔ ایک دبیز سی لہر، ایک گدگداتی ہوئی موج ،میرے اندر کہیں سفر کرتی اور مجھے ان حقائق سے دور لے جاتی جن کی مشعلوں سے میں برسوں تپتا رہا، اپنی ہی انگلیوں سے اپنے اندرون کو نوچ نوچ کر پارہ پارہ کرتا رہا۔ سب کھو گیا، وقت ہوا ہوا، احساس بجھ گیے ،مگر وہ ایک برس جو ریت کی طرح آیاتھا وہ میری پیشانی کی خواب آور لکیروں میں کہیں جذب ہوگیااورمیرے ستاروں میں شامل ہو کر زندہ جاوید ہو گیا۔