Categories
تبصرہ

فلم “ماہِ میر” کیسی ہے؟

سرمد صہبائی اور انجم شہزاد کی فلم “ماہِ میر” ادب کے طالب علموں کو کم از کم ایک بار ضرور دیکھنی چاہیے۔ اپنی تمامتر خامیوں کے باوجود “ماہِ میر” حالیہ دنوں میں‌ ریلیز ہونے والی تمام پاکستانی فلموں سے اچھی ہے۔
سرمد صہبائی نے بطور شاعر، بطور دانشور اور بطور انسان کبھی بھی متاثر نہیں کیا۔ بطور شاعر اُن کی بے رس کتابیں “پل بھر کا بہشت” اور “نیلی کے سو رَنگ” پڑھ کر ہم خوب بے مزہ ہوئے۔ اقبال جیسے شاعر کی جس شاعری کو وہ سیریبرل پوئٹری کہہ کر رد کرتے رہے، موصوف کی اپنی شاعری اُسی سیریبرل ایکٹیویٹی کا ثمر ہے۔ اگرچہ ہمیں اس اصطلاح کے کھوکھلے ہونےمیں رتی برابر شُبہ نہیں، مگر اتنا ضرور کہیں گے کہ جس خامی کی بُنیاد پر آپ شاعرِ مشرق کو اور اُن کی شاعری کو نجی محفلوں میں گالیاں دیتے ہوں، وہ خامی آپ کی اپنی تخلیقات میں ٹھاٹھیں مار رہی ہو تو آپ کو اپنی تخلیقی سرگرمیوں سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔ بطور دانشور بھی اُنہیں ایک خاص حد تک پڑھا لکھا پایا۔ اُن کو مابعد جدیدیت نے ایسا اسیر کیا کہ خدا کی پناہ۔ اردو شاعری میں اُن کو میر کی جمالیات سے آگے کچھ سُجھائی نہیں دیتا۔ اگرچہ ان کی اس بات سے اختلاف نہیں کہ میر احساس کا شاعر ہے۔

 

البتہ؛ سرمد صہبائی نے بطور فلم “ماہِ میر” کے تخلیق کار اور اسکرین پلے رائٹر ہمیں کسی حد تک متاثر کیا ہے۔

 

سرمد صہبائی اور انجم شہزاد کی فلم “ماہِ میر” ادب کے طالب علموں کو کم از کم ایک بار ضرور دیکھنی چاہیے۔ اپنی تمامتر خامیوں کے باوجود “ماہِ میر” حالیہ دنوں میں‌ ریلیز ہونے والی تمام پاکستانی فلموں سے اچھی ہے۔

 

خدائے سُخن میر تقی میر کی وحشت کو پردہِ سیمیں پر دکھانا اور اس انداز سے دکھانا کہ فلم میڈیم کے تقاضے بھی پورے ہوں، ایک مشکل کام تھا، جسے سرمد صہبائی نے کر دکھایا۔ “ماہِ میر” کی کہانی میں اگرچہ تجسس کا پہلو زیادہ حاوی نہیں، پھر بھی اس میں دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ اور اس کا سبب ہمارے پروٹیگونسٹ “فہد مصطفٰے” ہیں جن کی شاندار اداکاری نے منظر صہبائی جیسے منجھے ہوئے اداکار کو بھی پس منظر میں دھکیل دیا۔ سینما اسکرین پر بھی منظر صہبائی کے اندر سے تھئیٹر نہیں نکلتا۔ یعنی، وہ خود کو اس میڈیم کے مطابق مکمل طور پر ڈھالنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ایسا ہم نے شعیب منصور کی فلم “بول” میں بھی دیکھا اور ایک تیسرے درجے کی فلم “زندہ بھاگ” میں بھی۔ علاوہ ازیں، منظر صہبائی کی آواز میں جو اشعار فلم “ماہِ میر” میں‌ شامل کیے گئے ہیں، جو تعداد میں کافی زیادہ ہیں، کانوں کو بھلے معلوم نہیں ہوتے۔ جو ملائمت میر کے الفاظ میں ہے، اسے منظر کی آواز کی سختی اور کھردرا پن تباہ کر دیتا ہے۔

 

ڈائریکشن:

 

فلم میں چاند کو شعلے کی روشنی کا استعارہ اور میر تقی میر کی وحشت کو پروانے کے طواف اور شعلے میں فنا ہونے کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔
“ماہِ میر” کو انجم شہزاد نے ڈائریکٹ کیا۔ بعض جگہ حیران کُن اور بعض جگہ مایوس کن۔ حیران کُن وہاں جہاں مینیکوئین انسانی روپ میں ڈھل کر شاعر احمد جمال یعنی فہد مصطفٰے سے بات کرتے ہیں۔ اس سین میں علامت کا استعمال اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ اس طرح ایک جگہ، ایک پروانہ جلتی ہوئی شمع کے شعلے میں گر کر بھسم ہو جاتا ہے اور لِیڈ رول یعنی فہد اس پروانے کو شاعرانہ حیرت کے ساتھ جل مرتا دیکھتا رہتا ہے۔ سادہ ترین الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ ایک سین پوری فلم کی جان ہے۔ کہانی میں شعلے کو تخلیق اور پروانے کو تخلیق کار کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ فلم میں چاند کو شعلے کی روشنی کا استعارہ اور میر تقی میر کی وحشت کو پروانے کے طواف اور شعلے میں فنا ہونے کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔ اس ایک سین کے اثر سے نکلنے میں ناظر کو باقاعدہ تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔

 

جب احمد جمال کی کتاب شائع ہوتی ہے اور پبلشر اسے پہلی کاپی دینے آتا ہے، تو اس کی بائنڈنگ ایم فل کے کسی تھیسس کی سی ہے۔ اس پر ذہانت سے کام کیا جا سکتا تھا اور جیسے نیناں کی کتابیں واقعی کتابیں ہی محسوس ہوتی تھیں، اس پر بھی کام کیا جا سکتا تھا۔

 

سیٹ:

 

فلم کے سیٹ عجیب و غریب تھے۔ نواب کا محل جہاں سودا و میر کو آتا جاتا دکھایا گیا، کسی غریب کا برآمدہ دکھائی دیتا تھا۔ آرٹ ڈائریکشن بھی غیر متاثر کُن تھی۔ بھلا سنجے لیلا بھنسالی سے ہی کچھ سیکھ لیا ہوتا اس ضمن میں۔

 

کیمرہ کاری:

 

شاٹ ٹیکنگ بھی کافی جگہوں پر نان پروفیشنل تھی جس کی کوئی کانوٹیشن نہیں بن پائی۔ تاہم کاپٹر شاٹس بعض جگہ عمدہ تھے، اور بعض جگہ غیر ضروری۔
شاٹ ٹیکنگ بھی کافی جگہوں پر نان پروفیشنل تھی جس کی کوئی کانوٹیشن نہیں بن پائی۔ تاہم کاپٹر شاٹس بعض جگہ عمدہ تھے، اور بعض جگہ غیر ضروری بھی۔ فریمز میں غیر مطلوبہ چیزوں کی موجودگی ناظرین کی توجہ فریم کے مرکزی خیال سے ہٹا دیتی تھی۔ یعنی فریم کی کمپوزیشن اچھی نہیں رہی۔ اگرچہ، چاند کو بہت اچھے طریقے سے زُوم بھی کیا گیا اور فور گراؤنڈ کے ساتھ چاند کے کمپلیکس شاٹس بھی لیے گئے۔

 

کوریوگرافی:

 

ڈانسز کو گویا بے دلی سے شُوٹ کیا۔ ایمان علی نے خود تو رقص کیا ہی نہیں۔ ایک رقاصہ کو دو بار موقع دیا گیا۔ جس نے بہتر ڈانس کیا مگر اسے عمدہ طریقے سے شُوٹ نہیں کیا گیا۔ رہی سہی کسر beatsپر ایڈیٹنگ کَٹس نہ لگا کر پوری کر دی گئی۔ ایمان علی سے لپ سنکرونائزیشن اچھی نہیں کروائی گئی۔ بہت مکینکل لگیں۔ گویا، کوئی روبوٹ بیگ گراؤنڈ آواز سے آواز ملانے کی کوشش کر رہا ہو۔ کاسٹیوم بھی غیر متاثر کُن تھے۔

 

مکالمے:

 

سرمد کھوسٹ کی فلم “منٹو” کے مکالمے کمزور تھے۔ یہ ایک ایسی کمزوری تھی جسے اس لیے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا کہ یہ ایک ادیب کی بائیوپک تھی۔ ادیب کی زندگی پر بنائی گئی فلم کے مکالمے کمزور ہوں، یہ مناسب نہیں۔ تاہم سرمد صہبائی نے اس بات کا خاص خیال رکھا یعنی فلم “ماہِ میر” اگر خدائے سخن پر بنائی جا رہی ہے تو مکالمے بھی جاندار لکھے جائیں۔ اور اس کوشش میں سرمد صہبائی کافی حد تک کامیاب رہے۔

 

اداکاری:

 

ہمارے خیال میں بہترین اداکاری کا ایوارڈ فہد کو جاتا ہے۔ منظرصہبائی پس منظر میں چلے گئے۔ ہما نواب تھوڑی سی دیر کے لیے نمودار ہوئیں اور ملی جُلی یعنی اچھی ایکٹنگ اور اوور ایکٹنگ کر کے غائب ہو گئیں۔ ایمان علی بھی زیادہ متاثر کُن نہیں رہیں۔ اُن کے حسن کو سرمد صہبائی اور انجم شہزاد نے بہتیرا بڑھا چڑھا کر دکھانے اور سُنانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ علی خان نے نواب کے روپ میں بہتر اداکاری کی۔

 

صنم سعید نے شاعرہ نیناں کے کردار کے ساتھ انصاف کیا۔ تاہم، ناصر خان کی “بچانا” میں سادگی اور دو کاسٹیومز کے باوجود حقیقت سے زیادہ حسین لگیں، “ماہِ میر” کے میک اپ آرٹسٹ نے صنم کو حقیقت سے کم حسین دکھایا۔ یاد رہے، کم حسین دکھائی دینا اس رول کی ڈیمانڈ نہیں تھی۔ ہمیں اس معاملے میں صنم کے ساتھ ہمدردی ہے۔

 

ساؤنڈ:

 

فلم کا ساؤنڈ اچھا تھا۔ اچھے بیک گراؤنڈ میوزک کی وجہ سے ہی تو یہ ڈرامہ یانرا کی فلم، سینمیٹک پِیس بن سکی۔ ورنہ فریمز کی کمپوزیشن کی تناظر میں اگر بات کی جائے تو “ماہِ میر” ایک ٹی وی ڈرامہ بن کر رہ جاتی۔

 

جہاں تک تعلق ہے آٹو میٹک ڈائیلاگ ریپلیسمنٹ کا، ڈبنگ کا، تو ہمارے خیال میں اسے خامیوں سے بالکل پاک ہونا چاہئے۔ پاکستانی فلمیں اس شعبے میں کمزور رہی ہیں۔ فاروق مینگل کی تازہ اور اب تک واحد فلم “ہجرت” اس کی بدترین مثال ہے۔ “ماہِ میر” میں بھی یہ خامی نظر آئی۔ ڈبنگ کی خامی۔ اگرچہ بعض جگہ فولی ساؤنڈ حیران کُن حد تک اچھی تھی، مثال کے طور پر نوجوان شاعر احمد جمال یعنی فہد کے گھر کی ٹپکتی چھت سے قطرے گرنے کی آواز۔ اور سگریٹ کے کاغذ سلگنے کی آواز۔

 

لائٹ:

 

فلم کی لائٹ عمدہ تھی، مگر میک اپ کو واضح دکھا رہی تھی۔ اس کا مطلب ہوا کہ یا تو میک اپ کے میدان میں‌ زیادہ جان ماری جاتی اور اسے عمدگی سے کیا جاتا، یا پھر اس کمی کو لائٹ کی مدد سے دُور کیا جاتا۔
بعض جگہ کٹرز اور کُوکیز کا استعمال البتہ بہت اچھا تھا۔ بالخصوص، کھڑکی سے اور گلی میں چاند کی چھن چھن کر آتی ہوئی روشنی۔۔۔
کلر سمبلزم بھی بعض جگہ اپنے جوبن پر نظر آیا۔

 

آخری سوال:

 

سرمد صہبائی نے اس شاعری اور شاعر بیزار معاشرے میں ایک شاعر پر فلم بنائی ہے یہ عمل بلاشبہ فنکارانہ بہادری ہے۔ اور سرمد صہبائی کو اس فنکارانہ بہادری کا صلہ ضرور ملے گا۔
کیا یہ مین اسٹریم سینما کی فلم تھی؟ اگر نہیں تو کیا یہ فلم فلاپ ہو جائے گی؟
جی ہاں، اسے مین اسٹریم سینما کے لیے ہی بنایا گیا تھا۔ اس کا پروڈکشن ڈیزائین اور ساؤنڈ ڈیزائین، دونوں اس بات کے گواہ ہیں۔ مگر، افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اسے مین اسٹریم سینما کا فلم بین دیکھنے نہیں آئے گا۔ اسے پیرالل تھیٹر کا ناظر ہی دیکھنے آئے گا جس کا پاکستانی معاشرے میں وُجود ہی نہیں۔ لہٰذا، سہولت سے کہا جا سکتا ہے کہ جی ہاں، یہ فلم فلاپ ہو جائے گی۔ حالانکہ اسے فلاپ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ اوسط درجے کے ادبی و تنقیدی مباحث کا نقطہِ آغاز بھی بن سکتی ہے۔ مثلا” شاعری کیا ہے؟ وحشت کا تخلیق بالخصوص شاعری کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ مابعد جدید شاعر کو گھیر گھار کر کلاسک کی طرف لانا اُس کی تخلیقی صلاحیت کو جلا بخشے گا یا تباہ کر دے گا؟ کیا مونا لیزا کی مسکراہٹ کو واقعی ڈی کنسٹرکٹ نہیں کیا جا سکتا؟ کیا ڈی کنسٹرکشن کو “ماہِ میر” میں درست طور پر پیش کیا گیا ہے؟

 

حرفِ آخر:

 

“ماہِ میر” اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود ایک بہترین فلم ہے۔

 

سرمد صہبائی نے مین اسٹریم سینما میں پیرالل ایڈیٹنگ، فلیش بیک/موجود واقعات کی فلپ فلاپ فریکوئینسی ایڈیٹنگ، اور عوام کے لیے عسیرالفہم اشعار و اصطلاحات مین اسٹریم سینما کی فلم کے لیےاستعمال کر کے ایک خطرہ مول لیا ہے۔ سرمد صہبائی نے اس شاعری اور شاعر بیزار معاشرے میں ایک شاعر پر فلم بنائی ہے یہ عمل بلاشبہ فنکارانہ بہادری ہے۔ اور سرمد صہبائی کو اس فنکارانہ بہادری کا صلہ ضرور ملے گا۔

 

فلم ہٹ ہو یا فلاپ، سرمد صہبائی اور ٹیم کو “ماہِ میر”‌ کے حوالے سے تا دیر اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔

 

چلتے چلتے پاکستانیوں سے ایک چھوٹا سا سوال؛ یارو! منٹو پر فلم بناتے ہو، مِیر پر بناتے ہو؛ ہمارے قومی شاعر حضرتِ اقبال پر کیوں نہیں بناتے؟
Categories
نقطۂ نظر

دروپدی کا سوئمبر

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

مزید ہندوستانی کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

دروپیدی کے سوئمبر کا دن مقررکیا گیا اور چاروں طرف اعلان کروادیا گیا۔ ان دنوں پانڈو اپنی ماں کنتی کے ساتھ بھیس بدل کر رہ رہے تھے۔ انہوں نے بھی دروپدی کے سوئمبر کا اعلان سنا، اور سوئمبر میں جانے کا ارادہ کیا۔
دروپدی، پانچال کے راجا دروپد کی بیٹی تھی۔ اس کے حسن اور خوبی کا شہرہ دور دور تک تھا۔ کئی راج کمار اس سے شادی کرنے کے آرزو مند تھے۔ لیکن راجا دروپد کو سوائےارجن کے کوئی نہیں جچتا تھا۔ انہوں نے دل ہی دل میں طے کرلیا تھا کہ دروپدی کی شادی ارجن سے ہوگی۔ لیکن جب انہوں نے وارناوت کے محل میں آگ لگنے اور اس میں پانڈوؤں کے جل مرنے کی خبر سنی تو انہیں بہت دکھ ہوا۔ ادھر دروپدی کی شادی کے لیے کئی راج کماروں کے پیغام آرہے تھے۔ مناسب بر(شوہر) چننا مشکل ہوگیا تھا۔ آخر راجا دروپد نے سوئمبر رچانے کا فیصلہ کیا۔
دروپیدی کے سوئمبر کا دن مقررکیا گیا اور چاروں طرف اعلان کروادیا گیا۔ ان دنوں پانڈو اپنی ماں کنتی کے ساتھ بھیس بدل کر رہ رہے تھے۔ انہوں نے بھی دروپدی کے سوئمبر کا اعلان سنا، اور سوئمبر میں جانے کا ارادہ کیا۔ پانچوں بھائی اپنی ماں کے ساتھ پانچال پہنچے۔

 

سوئمبر کی تیاریاں خوب زور شور سے جاری تھیں۔ دور دور کے راج کمار پانچال پہنچ رہے تھے۔ سوئمبر کے دن پانڈووں نے برہمنوں کا بھیس بدلا اور چپ چاپ سب سے پیچھے جا کر بیٹھ گئے۔ بڑے بڑے نامی سورما اور راجا، مہاراجا آئے ہوئے تھے۔ کورو بھی پہنچے ہوئے تھے۔ ہر شخص خود کو بہت خوب صورت اور بہادر سمجھ رہا تھا،اور اسی خیال میں تھا کہ دروپدی اسی کے گلے میں جے مالا ڈالے گی۔

 

منڈپ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ سب لوگوں کی نظریں اسی دروازے کی طرف تھیں جس سے دروپدی داخل ہونے والی تھی۔ سہیلیوں کے ساتھ دروپدی منڈپ میں آئی۔ اس کی خوب صورتی دیکھ کر لوگ دنگ رہ گئے۔ انہوں نے جیسا سنا تھا، دروپدی کو اس سے بھی بڑھ کر پایا۔ راجا دروپد تخت پر براجمان تھے۔ بیچوں بیچ ایک بہت اونچا بانس گڑا ہوا تھا۔ اس کے اوپر ایک چکر گھوم رہا تھا، جس میں ایک مچھلی لٹکی ہوئی تھی۔ نیچے پانی سے بھرا ہوا ایک بڑا برتن رکھا تھا۔ شرط یہ تھی، کہ جو شخص پانی میں مچھلی کا عکس دیکھتے ہوئے مچھلی کی بائیں آنکھ میں تیر مارے گا، دروپدی کی شادی اسی سے ہوگی۔

 

ارجن دروپدی کے سوئمبر میں تیر چلاتے ہوئے
ارجن دروپدی کے سوئمبر میں تیر چلاتے ہوئے
بڑی مشکل شرط تھی۔ باری باری راج کمار اٹھتے اور کمان پر تیر رکھ کر پانی میں دیکھتے ہوئے مچھلی کی آنکھ کو چھیدنے کی کوشش کرتے، لیکن کسی کا بھی تیر نشانے پر نہ بیٹھتا، یا تو دور سے نکل جاتا یا پاس سے۔ قسمت آزمائی کرنے کے لیے ہر شخص اٹھتا، لیکن مجبور ہو کر، اپنی جگہ بیٹھ جاتا۔ مچھلی چکر میں جوں کی توں گھوم رہی تھی۔ راجا دروپد نے جب یہ حالت دیکھی تو بہت دکھی ہوئے۔ وہ حیران تھے کہ بہادروں کی اس محفل میں کوئی بھی ایسا نہیں جو اس شرط کو پورا کرسکے۔ اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک خوبرو برہمن نوجوان چلا آرہا ہے۔ اس نے بغیر کچھ کہے کمان اٹھائی، پانی میں تاک کر نشانہ باندھا اور زن سے تیر چلا دیا۔ تیر بجلی کی طرح لپکا اور مچھلی کی آنکھ سے پار ہوگیا۔

 

دروپدی خوشی سے پھولی نہیں سمائی۔ فوراً آگے بڑھ کر اس نے نوجوان کے گلے میں جے مالا ڈال دی۔ سوئمبر میں آئے ہوئے راج کمار غصے سے لال پیلے ہونے لگے۔ انہوں نے اعتراض کیا: “دروپدی کی شادی کھتری راج کمار سے ہونی چاہیے، برہمن سے نہیں”۔

 

شرط یہ تھی، کہ جو شخص پانی میں مچھلی کا عکس دیکھتے ہوئے مچھلی کی بائیں آنکھ میں تیر مارے گا، دروپدی کی شادی اسی سے ہوگی۔
محفل میں کھلبلی مچ گئی۔ کچھ لوگوں نے لڑنے مرنے کے لیے اپنی تلواریں سونت لیں، لیکن بزرگوں نے بیچ بچائو کرادیا اور سمجھانے لگے۔ “اس میں ناانصافی کی کوئی بات نہیں۔ برہمن نوجوان نے سوئمبر کی شرط کو پورا کیا ہے، اس لیے وہی دروپدی سے شادی کرنے کا حق دار ہے۔”

 

چنانچہ دروپدی کی شادی اس برہمن نوجوان سے کردی گئی۔ پانچوں پانڈو دروپدی کے ساتھ گھر لوٹے جہاں ان کی ماں کنتی انتظار کررہی تھی۔ جب گھر پہنچے تو رات ہوچکی تھی۔ ارجن کو مذاق سوجھا۔ اس نے باہر ہی سے ماں کو بتایا: “ماں، ماں،دیکھو!آج میں کیسا عمدہ انعام جیتا ہے”۔

 

کنتی نے وہیں سے جواب دیا: “خوشی کی بات ہے بیٹا۔جو ملا ہے، اپنے بھائیوں کے ساتھ مل بانٹ لو”۔
پانڈووں نے یہ سنا تو حیران رہ گئے کہ ماں نے غلطی سے یہ کیا کہہ دیا؟ کنتی نے باہر آکر دروپدی کو دیکھا تو حیران رہ گئی۔ لیکن منہ سے نکلی ہوئی بات اور کمان سے نکلا ہوا تیر لوٹایا نہیں جاسکتا۔
کنتی نے پانچوں بیٹوں سے کہا: “جو بات زبان سے نکل گئ ہے پوری ہوگی۔ دروپدی تم پانچوں کی پتنی ہوگی اور اس کی رکھشا تم پانچوں پر فرض ہے”۔

 

راجا دروپد سوئمبر سے خوش نہیں تھے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ وہ برہمن نوجوان کون ہے؟ کیا وہ سچ مچ برہمن ہے؟ لیکن اس میں راج کماروں جیسی آن بان کہاں سے آگئی؟ اگر وہ سچ مچ برہمن ہے، تو ایسی تیر اندازی کہاں سے سیکھی؟

 

کنتی نے پانچوں بیٹوں سے کہا: “جو بات زبان سے نکل گئ ہے پوری ہوگی۔ دروپدی تم پانچوں کی پتنی ہوگی اور اس کی رکھشا تم پانچوں پر فرض ہے”۔
شاید برہمن کے بھیس میں کھتری ہو۔ طرح طرح کے شبہات راجا دروپد کے دل میں اٹھ رہے تھے۔
آخر انہوں نے ایک خدمت گار کو برہمن کا پتہ لگانے کے لیے بھیجا۔ خدمت گار پوچھتا پوچھتا پانڈووں کے ٹھکانے پر پہنچا اور رازداری سے اس نے ساری باتوں کا پتہ چلالیا۔ لوٹ کر اس نے راجا دروپد کو بتایا کہ وہ پانچوں برہمن اصل میں پانچوں پانڈو ہیں، اور جس برہمن نوجوان نے سوئمبر جیتا ہے، اور جس سے دروپدی کی شادی ہوئی ہے، وہ ارجن ہے۔ راجا دروپد کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ وہ سمجھ گئے کہ پانڈووں کی موت کی خبر جھوٹی تھی۔کہنے لگے: “مجھے معلوم تھا، تیراندازی کا ایسا کمال ارجن کے سوا کسی میں نہیں”۔

 

راجا دروپد نے پانڈووں کو بلانے کے لیے آدمی بھیجے، لیکن ساتھ ہی ہدایت کردی کہ پانڈووں کو پتہ نہ چلے کہ راجا دروپد کو ان کے راز کا پتہ چل گیا ہے۔ جب سادھووں کے بھیس میں پانچوں پانڈو راجا کے محل میں پہنچے تو راجا نے آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا۔ پھر ان سے پوچھا کہ وہ سچ سچ بتائیں کہ وہ کون ہیں۔ یدھشٹر نے راجا دروپد کو سارا قصہ سنایا اور سب کا تعارف کرایا۔

 

رفتہ رفتہ یہ خبر ہستنا پور بھی پہنچی کہ پانڈو زندہ ہیں۔ لوگوں نے بہت خوشیاں منائیں۔ ودُر، بھیشم اور درونا آچاریہ کی رائے سے دھرت راشٹر نے پانڈووں کو گھر واپس بلانے کے لیے آدمی بھیجے۔

 

پانڈووں کے گھر لوٹنے پر کورووں اور پانڈووں میں سمجھوتا کرادیا گیا۔ راج کو دو حصوں میں بانٹا گیا۔ ایک حصۃ کورووں کو اور دوسرا پانڈووں کو دیا گیا۔ کورووں کی راجدھانی ہستنا پور قرار پائی اور پانڈووں کی اندر پرستھ، جو آج کی دہلی ہے۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
فکشن

لاکھ کا گھر

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

مزید ہندوستانی کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مہابھارت دنیا کی قدیم ترین کتابوں میں سے ہے۔ اس میں کورووں اور پانڈووں کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ پانڈو دراصل ہستنا پور کے راجا کا نام تھا۔ان کے پانچ بیٹے تھے۔ یدھشٹر، بھیم، ارجن، نَکُل اور سہدیو۔ یہ پانچوں بھائی بھی پانڈو کہلاتے تھے۔ ان کے چچا دھرت راشٹر کے سو بیٹے تھے جو کورو کہلاتے تھے۔ دھرت راشٹر پیدائش سے اندھے تھے۔ اگرچہ حکومت کے حق دار تو وہی تھے لیکن اندھے ہونے کی وجہ سے وہ راج پاٹ نہیں سنبھال سکتے تھے اس لیے ان کے چھوٹے بھائی پانڈو کو راجا بنایا گیا تھا۔

 

دھرت راشٹر پیدائش سے اندھے تھے۔ اگرچہ حکومت کے حق دار تو وہی تھے لیکن اندھے ہونے کی وجہ سے وہ راج پاٹ نہیں سنبھال سکتے تھے اس لیے ان کے چھوٹے بھائی پانڈو کو راجا بنایا گیا تھا۔
پانڈو اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتے تھے اور عایا بھی انہیں دل و جان سے چاہتی تھی، لیکن جلد ہہی ان کا انتقال ہوگیا۔ چونکہ اُن کے بیٹے یعنی پانچوں پانڈو بھائی ابھی چھوٹے تھے، اس لیے مجبوراً دھرت راشٹر کو راج پاٹ کی ذمہ داری سنبھالنی پڑی۔ دھرت راشٹر کے بیٹوں کو یہ خطرہ تھا کہ جیسے ہی پانڈو بھائی بڑے ہوجائیں گے، دھرت راشٹر راج پاٹ انہیں سونپ دیں گے۔ وہ چاہتے تھے کہ دھرت راشٹر کے بیٹے ہونے کے ناتے راج انہیں کو ملے۔ اس طرح شروع ہی سے کورو حسد کی آگ میں جلنے لگے، اور کسی نہ کسی طرح پانڈووں کو اپنے راستے سے ہٹانے کی ترکیبیں سوچنے لگے۔ ان کے دل میں نفرت کی آگ روز بروز بھڑکنے لگی۔

 

پانچوں پانڈو بھائی بہادر تھے اور خوب صورت بھی۔ سارے ملک میں ان کے کارناموں کا شہرہ تھا۔ اکثر کورووں سے ان کی جھڑپ ہوجاتی لیکن ہر بار پلہ پانڈووں ہی کا بھاری رہتا۔ کورووں میں دُریودھن سب سے بڑا تھا۔ گُرز چلانے میں اس کا جواب نہ تھا۔ اس کا مقابلہ اکثر بھیم سے ہوتا جو پانڈوووں میں سب سے بہادر تھا۔ لیکن دریودھن کو بھیم سے ہمیشہ مات کھانی پڑتی۔

 

جب ولی عہد مقرر کرنے کا وقت آیا تو دھرت راشٹر نے سب کے مشورے پانڈووں میں سب سے بڑے بھائی یدھشٹر کو راجا بنانے کا فیصلہ کیا۔ کورووں کو یہ ہرگز منظور نہ تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ راج کا حق انہیں کو دیا جائے۔ اس حق کو پانے کے لیے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار تھے۔ انہوں نے اپنے ماما شکنی سے مشورہ کیا۔ وہ بھی پانڈووں سے بہت جلتا تھا اور بڑا کینہ پرور تھا۔ سب مل کر دھرت راشٹر کے پاس گئے اور اس بات پراصرار کرنے لگے کہ دریوددھن کو ولی عہد بنایا جائے۔

 

جب ولی عہد مقرر کرنے کا وقت آیا تو دھرت راشٹر نے سب کے مشورے پانڈووں میں سب سے بڑے بھائی یدھشٹر کو راجا بنانے کا فیصلہ کیا۔ کورووں کو یہ ہرگز منظور نہ تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ راج کا حق انہیں کو دیا جائے۔
دُریودھن نے کہا: “پتاجی آپ راجا ہیں۔ راجا کو ولی عہد چُننے کا حق ہے۔ یہ صحیح ہے کہ رعایا یدھشٹر کو چاہتی ہے، لیکن کیا ضروری ہے کہ اس معاملے میں آپ رعایا سے رائے لیں۔ اگر یدھشٹر راجا بن گئے تو ہماری حالت ان کے ملازموں جیسی ہوگی۔ ایسی زندگی سے تو موت بہتر ہے۔”

 

دھرت راشٹر نے سوچ کر کہا: “جو کچھ تم کہتے ہو، ٹھیک ہے لیکن یدھشٹر بہت لائق اور نیک دل ہے۔ رعایا اس کو بہت چاہتی ہے۔ میں بے انصافی نہیں کرسکتا۔”

 

دُریودھن نے کہا: “آپ ناحق فکر کرتے ہیں۔ ہمارے سپہ سالار اور گُرو شکنی ہمارے ساتھ ہیں۔ آپ پانڈووں کو کچھ دنوں کے لیے کہیں باہر بھیج دیجیے۔ جب وہ یہاں نہیں ہوں گے تو ہم رعایا کو اپنا ہم نوا بنالیں گے۔”
اگرچہ دھرت راشٹر نہیں چاہتے تھے،لیکن بیٹوں کے اصرار پر آخر یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ پانڈو بھائیوں کو یہ کہہ کر وارنادت بھیج دیا جائے کہ وہاں کے لوگوں کی بہت خواہش ہے کہ وہ وہاں جائیں۔ پانڈووں کو جب فوری طور پر وارنادت چلے جانے کا حکم ملا تو انہیں کھٹک گیا کہ کچھ دال میں کالا ہے، لیکن دھرت راشٹر کے حکم کو ٹالا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ ادھر دریودھن کی چال یہ تھی کہ پانڈو پھر ہستنا پور لوٹ کر نہ آئیں، اور انہیں وہیں باہر ہی باہر مردادیا جائے۔

 

دریودھن کو ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے اپنے آدمی وارنادت بھیجے اور انہیں حکم دیا کہ وہاں پانڈووں کے لیے لاکھ کا ایک گھر بنائیں۔ اس کی دیواروں کو اس طرح رنگا جائے کہ کسی کو بھی شک نہ گزرے۔ پانڈووں کے آنے کے بعد موقع دیکھ کر محل میں آگ لگادی جائے گی۔ لاکھ کا محل پل بھر میں جل کر راکھ ہوجائے گا، اور پانڈو بھی اس کے ساتھ ہی بھسم ہوجائیں گے۔

 

پانڈووں کے آنے کے بعد موقع دیکھ کر محل میں آگ لگادی جائے گی۔ لاکھ کا محل پل بھر میں جل کر راکھ ہوجائے گا، اور پانڈو بھی اس کے ساتھ ہی بھسم ہوجائیں گے۔
چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے وارناوت میں لاکھ کا محل تیار کردیا گیا، پانڈو جب اپنی ماں کُنتی کے ساتھ وارناوت کے لیے روانہ ہوئے تو ان کے چچا وِدُر نے جو بڑے وِدوان اور دوراندیش تھے، پانڈووں کو خبردار کیا اور بتایا کہ اپنا خیال رکھیں کیونکہ کورو سازشوں میں مصروف ہیں۔

 

وارناوت میں لوگوں نے پانڈووں کا خوب سواگت کیا۔ انہیں لاکھ کے محل میں ٹھہرایا گیا۔ انہوں نے محل کی بہت تعریف کی، لیکن دل ہی دل میں سمجھ گئے کہ اس میں کچھ راز ہے۔ تھوڑے ہی دنوں میں وِدُر نے اپنے ایک خاص آدمی کو پانڈووں کی مدد کے لیے بھیجا۔ اس نے پانڈووں کو رائے دی کہ خطرے کے وقت محل سے باہر نکلنے کے لیے ایک سرنگ کھودنی چاہیے۔ چنانچہ راتوں رات ایک سرنگ کھودی گئی۔

 

پانچوں پانڈودن بھر شکار کھیلتے اور رات کو چوکنے رہتے۔ دریودھن کا دربان پروَچن موقع کی تاڑ میں رہتا۔ پانڈووں میں بھیم سب سے زیادہ طاقت ور اور ارجن سب سے زیادہ عقل مند تھا۔ پروَچن ان دونوں پر خاص طور سے نظر رکھتا۔ اس طرح لاکھ کے محل میں رہتے رہتے کئی مہینے گزر گئے، لیکن پَروچن کو محل میں آگ لگانے کا موقع نہ ملا۔ آخر پانڈووں نے فیصلہ کیا کہ محل چھوڑ دینے ہی میں بہتر ہی ہے۔ چنانچہ ایک رات موقع پاکر انہوں نے محل میں آگ لگادی، اور خود سرنگ کے راستے سے نکل گئے۔ پل بھر میں لاکھ کا محل جل کر راکھ ہوگیا، اور اس کے ساتھ پَروچن بھی جو گہری نیند سو رہا تھا، جل مرا۔

 

محل جل گیا تو لوگوں نے سمجھا کہ پانڈو اپنی کُنتی کے ساتھ جل کر راکھ ہوگئے ہیں۔ سب کو بہت دکھ ہوا۔ پانڈووں کے جل کر مرجانے کی خبر جب ہستنا پور پہنچی تو دھرت راشٹر بے ہوش ہوگئے۔ کورووں نے بھی جھوٹ موٹ کا دُکھ ظاہر کیا۔ اگرچہ دل ہی دل میں وہ بہت خوش تھے۔

 

لاکھ کے محل سے بچ کر پانڈو اپنی ماں کُنتی کے ساتھ سُرنگ سے ہوتے ہوئے ایک جنگل میں جا نکلے۔ وہاں جا کر انہوں نے بھیس بدل لیا اور فیصلہ کیا کہ جب تک ہستناپور واپسی نہیں ہوتی، بھیس بدل کر رہنے ہی میں بھلائی ہے۔

Image: M. F. Hussain

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔