ہمارے لیے تو یہی ہے

سید کاشف رضا: ہمارے لیے تو یہی ہے
تمہارا جلوس جب شاہراہ سے گزرے
تو تم اپنی انگلیوں کی تتلیاں ہماری جانب اڑاؤ
تمہارا جلوس جب شاہراہ سے گزرے
تو تم اپنی انگلیوں کی تتلیاں ہماری جانب اڑاؤ
پل بھر کا بہشت

سرمد صہبائی: ہم دونوں آدم اور حوا
پَل کے بہشت میں رہتے ہیں
پَل کے بہشت میں رہتے ہیں
محبت اپنا زائچہ نکلوانا چاہتی ہے

عذرا عباس: تم جلدی سے میرا زائچہ نکالو
اور دیکھو
مجھے کب تک تمھارے ساتھ رہنا ہے
تم کب تک مجھے گھسیٹو گی
اور دیکھو
مجھے کب تک تمھارے ساتھ رہنا ہے
تم کب تک مجھے گھسیٹو گی
یہ جو محبت ہے
ہم نے بہت سوچا کہ کیونکر اس زندگی میں محبت کاتڑکہ لگایا جائے،مگر یہ محبت ہے کرنے کا کام، پر کرنا کیسے ہے یہ کون جانتا ہے؟
