Categories
شاعری

ہاں میری محبوبہ

سرمد صہبائی: لفظ سے لفظ بنانے والے
کوئی بھی غم ہو
لفظ کی گولی رنگ بدلتے لمحوں کی گنگا میں گھول کے پی جاتے ہیں

تو نہ تو کوئی بھید ہے
اور نہ ہی بھید بھری تھیلی کا چھٹا ہوا کوئی عین محبوبہ
ہاں میری محبوبہ
تیرا نام پتہ اور شجرہ نسب تو جانتے ہیں ہم
اندر باہر
ظاہر باطن
دونوں سمت ہی آنے جانے والے ہیں ہم
تیرے گھر کے بھیدی ہیں او بھیدن باری
کبھی حقیقی کبھی مجازی
طرح طرح سے تیرے عام سے جسم کی لذت لے لیتے ہیں
اپنا تو کچھ بھی نہیں جاتا
لفظ سے لفظ بنانے والے
کوئی بھی غم ہو
لفظ کی گولی رنگ بدلتے لمحوں کی گنگا میں گھول کے پی جاتے ہیں
سارے گناہ سیاسی
اخلاقی روحانی
اپنے ساتھ لپٹ کر خواب کی گہری بے ہوشی میں
سو جاتے ہیں
دوسرے دن تو نیا سوانگ رچا لیتی ہے
ہم بھی اپنے اپنے نسخے بدل بدل کے جی لیتے ہیں

Image: Gino Rubert

By سرمد صہبائی

سرمد صہبائی پاکستان کے معروف شاعر، ڈرامہ نگار اور ہدایت کار ہیں۔ آپ کی نظم اپنے جدید محاورے اور تازہ فضا کے باعث جانی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنا پہلا ٹیلی ڈرامہ 1968 میں پاکستان ٹیلی وژن میں ملازمت اختیار کرنے کے بعد لکھا۔ آپ کی شاعری کے تین مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ فلم "ماہ میر" کے لیے لکھا گیا آپ کا سکرپٹ ناقدین اور ناظرین سے داد وصول کر چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *