Categories
تبصرہ

ماہِ میر؛ مسخ شدہ تاریخ کا پلندہ

چند روز قبل ہمارے دوست زبیر فیصل عباسی صاحب ہمیں سینٹورس کے ایک مہنگے سینما میں لے گئے جہاں ہم نے ماہِ میر جیسی سستی فلم دیکھی۔ ہمیں تو پہلے ہی یقین تھا کہ ایک متشاعر میر جیسے نابغہ اور عظیم شاعر کو کیا خاک فلمائے گا کیونکہ اس سے پہلے ہم اِسی صاحب کے ڈائریکٹ کیے ہوئے منٹو کے ایک افسانے سوگندی کو دیکھ چکے تھے، جس میں حضرت صاحب نے افسانے کے آخر ی حصے میں جا کر اپنا لُچ تلا تھا، یعنی منٹو کا افسانہ کچھ تھا، لیکن اِنہوں نے ڈرامہ بناتے وقت بچارے منٹو کی اچھی خاصی تصیح کر دی تھی۔ خیر بر سرِ مطلب زبیر صاحب سے ہمارے دوستانہ مراسم ایسے تھے کہ اُن کے اصرار کو رد نہ کر سکے اور فلم دیکھنے نکل گئے۔

 

فلم کا پہلا حصہ اس قدر غیر متعلق ہے کہ اُکتاہٹ اور بوریت کا احساس شدید ہو جاتا ہے
فلم شروع ہوئی، پانچ منٹ گزرے، دس گرزے، پندرہ، آدھ گھنٹا ہو گیا، ہمیں میر کی کہیں خبر نہیں مل رہی، ایک لونڈا ہے جو جدید شاعر بنا ہے اور کراچی کی کھولیوں میں اور قہوے خانوں میں اور اخبار کے دفتروں میں گھوم پھر رہا ہے، اور بے سُری اور بے تُکی نظمیں پڑھ رہا ہے، جس کی زبان، لغت، ادائیگی غرض ہر شے غلط تھی اور یہ نظمیں یہ نظمیں سرمد صہبائی کی ہی تھیں۔ تب کھُلا کہ یہ فلم میر پر نہیں تھی، فلم کا سکرپٹ لکھنے والے نے خود اپنے آپ پر بنائی ہے جس میں اپنی چند نظمیں اورایک غزل فلم کے ہیرو فہد مصطفیٰ سے پڑھوائیں۔ ان نظموں اور غزلوں کا معیار اس قدر پست ہے کہ ناظر کو شاعری سے ہی نفرت ہو جائے۔ فلم کا پہلا حصہ اس قدر غیر متعلق ہے کہ اُکتاہٹ اور بوریت کا احساس شدید ہو جاتا ہے اور کم و بیش ایک گھنٹے بعد جب میر کا کردار منظر نامے میں داخل ہوتا ہے، تو بوریت کے ساتھ غصے کا بے پناہ غلبہ خود اپنی ہی آنکھیں نوچ لینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ گاہے گاہے میر کے شعر جس طریقے سے پڑھوائے گئے، اُن کا تلفظ، صوتی تاثر اور ادائیگی اس قدر تیسرے درجے کی ہے کہ خدا پناہ، میر صاحب اگر خود دیکھ لیں تو کہیں منہ چھپا کے پیٹتے ہوئے جنگلوں میں نکل جائیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اداکار تو ایک طرف خود پروڈیوسر کو بھی میر صاحب کے اشعارکا شعور نہیں۔ ایک جگہ تو ‘میر’ نے خود اپنا ہی شعر غلط پڑھا بعض مقامات پر تو قرات کا تلفظ اتنا بُرا تھا کہ یقین نہیں آیا کہ ایک شاعر اس فلم کی تیاری میں شامل رہا ہے۔ اس فلم میں میر صاحب تو ایک طرف، اُن کے زیرِ ناف تک کا حق ادا نہ ہو سکا۔

 

فلم میں موجود دیگر تکنیکی خامیوں کا بیان تو کارِ فضول ہے کہ وہ بالکل ہی گلی محلوں کے تھیڑ سے بھی گیا گزرا تھا۔ اصل تشویش تاریخی کرداروں کے مسخ ہونے پر تھی:

 

1۔ تاریخی واقعات کی عکاسی میں میر صاحب کے زمانے کی تہذیب، رکھ رکھاو اور وضع قطع کی نمائندگی کی بجائے لاہوری گجروں کا رنگ ڈھنگ نمایاں تھا۔

 

فلم میں انشا کو میر صاحب سے کم از کم چالیس سال بڑا دکھایا گیا ہے مگر حقیقت اس کے اُلٹ ہے، یعنی انشا اللہ خاں میر صاحب سے کم از کم چالیس سال چھوٹے تھے
پوری فلم میں میر صاحب کو 20 یا 22 سال کا لونڈا دکھایا گیا ہے، جس کا نہ اردو کا تلفظ ٹھیک، نہ لباس، نہ وضع قطع۔ ممکن ہے سوانحی فلم نہ ہونے کے سبب فہد مصطفیٰ خود کو اور اپنی محبوبہ کو میر صاحب اور مہتاب بیگم کی جگہ تصو ر کر رہے ہوں لیکن اس کے باوجود ایمان علی اور فہد مصطفیٰ کی اداکاری کسی بھی طرح اس زمانے کی نشست و برخاست سے مطابقت نہیں رکھتی۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ میر تقی میر ماہتاب بیگم نامی ایک طوائف پر عاشق ہے جسے عشق کا سلیقہ تک نہیں۔ غضب یہ کہ اُسی طوائف کا عاشق نواب آصف الدولہ کو بھی دکھایا گیا ہے اور غضب پر غضب یہ کہ نواب صاحب طوائف کا رشتہ لینے اُس کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ نواب صاحب کی شکل کسی لاہوری غنڈے سے کم نہیں۔ فلم میں اُسی طوائف کے سبب نواب آصف الدولہ کو میر صاحب کا رقیب اور دشمن ظاہر کیا گیا جبکہ میر کی زندگی میں کسی طوائف کا وجود نہیں تھا۔ نواب صاحب تو آخر دم تک میر صاحب کے مربی اور دوست رہے اور تمام تاریخی کتب اُنہیں فرشتہ سیرت انسان ثابت کرتی ہیں جس نے مرتے دم تک میر صاحب کا وظیفہ جاری رکھا۔ نواب صاحب کا طوائف کے گھر اُس کا رشتہ لینے چلے جانا تو ایسا عجوبہ ہے کہ جسے غلطی بھی نہیں کہا جا سکتا، یہ ایک صریح حماقت ہے۔ نوابان لکھنو سے یہ کثافت منسوب کرنے کا کوئی جواز ممکن نہیں۔

 

2۔ فلم میں انشا کو میر صاحب سے کم از کم چالیس سال بڑا دکھایا گیا ہے مگر حقیقت اس کے اُلٹ ہے، یعنی انشا اللہ خاں میر صاحب سے کم از کم چالیس سال چھوٹے تھے۔ جب میر صاحب دہلی سے لکھنئو آئے تو اڑسٹھ برس کے تھے جبکہ انشا اُس وقت لکھنئو میں تھے ہی نہیں، وہ دہلی میں تھے اور بیس برس کے تھے۔ سید انشا تو سعادت علی خاں کے دور مٰیں لکھنئو آیا اور اُسی کا مصاحب تھا اور اُس وقت تیس برس کا تھا جب میر صاحب سے ملاقات ہوئی۔

 

3۔ فلم میں میر کو لکھنئو میں بیس برس کی عمر کا دکھایا گیا ہےجو کہ سرا سر غلط ہے۔ اور جو میر صاحب کے منہ سے مثنوی کہلوائی جاتی ہے وہ بھی کہیں ستر برس کی عمر میں میر صاحب نے کہی تھی، جب کہ فلم میں اُن کی زبان سے بیس برس کی عمر میں سُنوائی گئی اور وہ بھی انشا کے سامنے، جو تاریخی اعتبار سے غلط ہے۔

 

4۔ انشا کی جانب سے میر کو خلعت پیش کیے جانے کا واقعہ سعادت علی خاں کے دور کا ہے جبکہ فلم میں اسے آصف الدولہ کے ساتھ نتھی کیا گیا ہے۔ جہاں انشا موجود ہی نہیں تھے۔ تب وہ ایک لڑکا تھا جو دہلی میں مقیم تھا۔
5۔ نواب صاحب کے دربار کا نقشہ کسی غنڈے کی حویلی سے زیادہ کا نہیں لگتا، اس میں نہ لکھنوی رنگ ہے نا نوابی شان۔ ممکن ہے بجٹ کی کمی اس مفلسانہ عکسبندی کی وجہ بنی ہو۔

 

فلم میں میر کی وحشت کا تذکرہ تو بہت ہے مگر اسے احمد جمال اور پروفیسر کلیم کی جنسی کج رویوں، ناکام معاشقوں اور شراب نوشی کے تناظر میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ حقیقت سے بے حد دور ہے۔
6۔ میر صاحب کا مجرا سننا اور مجرے کے دوران شراب پینا تو سبحان اللہ۔ میر نے کبھی شراب کو چھوا تک نہیں تھا ۔ البتہ یہ دونوں فعل اسکرپٹ رائٹر نے اپنے اوپر ضرور منطبق کیئے ہیں۔

 

7۔ میر صاحب کا بچپن آگرہ میں، لڑکپن، جوانی اور ادھیڑ عمری دہلی میں اور بڑھاپا لکھنئو میں گزرا مگر فلم میں ان ادوار کا کوئی تذکرہ کہیں موجود نہیں۔ اگر کچھ لڑکپن یا جوانی اناڑی پنے اور بھونڈے انداز میں دکھائی بھی گئی تو فلم یہ بتانے میں ناکام رہتی ہے کہ یہ واقعات کس علاقے میں رونما ہو رہے ہیں۔

 

8۔ فلم میں میر کی وحشت کا تذکرہ تو بہت ہے مگر اسے احمد جمال اور پروفیسر کلیم کی جنسی کج رویوں، ناکام معاشقوں اور شراب نوشی کے تناظر میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ حقیقت سے بے حد دور ہے۔

 

یہ فلم میر تقی میر سے ایک (جدید) شاعر کا ذاتی تعارف تو ہو سکتا ہے مگر اسے میر کے کلام یا حالات زندگی پر نمائندہ کام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بادی النظر میں پرو ڈیوسر اس فلم کے ذریعے خود کو اور اپنی شاعری کو متعارف کرانا چاہتے ہیں جس کی ایک مثال آخر میں اپنی کتاب ماہِ عریاں کی برملا تشہیر ہے۔ خدائے سخن کی یہ غیر معیاری نمائندگی ماہِ میر کا سب سے بدصورت پہلو ہے اور اس فلم کو ناپسند کرنے کی سب سے بڑی وجہ بھی۔
Categories
تبصرہ

فلم “ماہِ میر” کیسی ہے؟

سرمد صہبائی اور انجم شہزاد کی فلم “ماہِ میر” ادب کے طالب علموں کو کم از کم ایک بار ضرور دیکھنی چاہیے۔ اپنی تمامتر خامیوں کے باوجود “ماہِ میر” حالیہ دنوں میں‌ ریلیز ہونے والی تمام پاکستانی فلموں سے اچھی ہے۔
سرمد صہبائی نے بطور شاعر، بطور دانشور اور بطور انسان کبھی بھی متاثر نہیں کیا۔ بطور شاعر اُن کی بے رس کتابیں “پل بھر کا بہشت” اور “نیلی کے سو رَنگ” پڑھ کر ہم خوب بے مزہ ہوئے۔ اقبال جیسے شاعر کی جس شاعری کو وہ سیریبرل پوئٹری کہہ کر رد کرتے رہے، موصوف کی اپنی شاعری اُسی سیریبرل ایکٹیویٹی کا ثمر ہے۔ اگرچہ ہمیں اس اصطلاح کے کھوکھلے ہونےمیں رتی برابر شُبہ نہیں، مگر اتنا ضرور کہیں گے کہ جس خامی کی بُنیاد پر آپ شاعرِ مشرق کو اور اُن کی شاعری کو نجی محفلوں میں گالیاں دیتے ہوں، وہ خامی آپ کی اپنی تخلیقات میں ٹھاٹھیں مار رہی ہو تو آپ کو اپنی تخلیقی سرگرمیوں سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔ بطور دانشور بھی اُنہیں ایک خاص حد تک پڑھا لکھا پایا۔ اُن کو مابعد جدیدیت نے ایسا اسیر کیا کہ خدا کی پناہ۔ اردو شاعری میں اُن کو میر کی جمالیات سے آگے کچھ سُجھائی نہیں دیتا۔ اگرچہ ان کی اس بات سے اختلاف نہیں کہ میر احساس کا شاعر ہے۔

 

البتہ؛ سرمد صہبائی نے بطور فلم “ماہِ میر” کے تخلیق کار اور اسکرین پلے رائٹر ہمیں کسی حد تک متاثر کیا ہے۔

 

سرمد صہبائی اور انجم شہزاد کی فلم “ماہِ میر” ادب کے طالب علموں کو کم از کم ایک بار ضرور دیکھنی چاہیے۔ اپنی تمامتر خامیوں کے باوجود “ماہِ میر” حالیہ دنوں میں‌ ریلیز ہونے والی تمام پاکستانی فلموں سے اچھی ہے۔

 

خدائے سُخن میر تقی میر کی وحشت کو پردہِ سیمیں پر دکھانا اور اس انداز سے دکھانا کہ فلم میڈیم کے تقاضے بھی پورے ہوں، ایک مشکل کام تھا، جسے سرمد صہبائی نے کر دکھایا۔ “ماہِ میر” کی کہانی میں اگرچہ تجسس کا پہلو زیادہ حاوی نہیں، پھر بھی اس میں دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ اور اس کا سبب ہمارے پروٹیگونسٹ “فہد مصطفٰے” ہیں جن کی شاندار اداکاری نے منظر صہبائی جیسے منجھے ہوئے اداکار کو بھی پس منظر میں دھکیل دیا۔ سینما اسکرین پر بھی منظر صہبائی کے اندر سے تھئیٹر نہیں نکلتا۔ یعنی، وہ خود کو اس میڈیم کے مطابق مکمل طور پر ڈھالنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ایسا ہم نے شعیب منصور کی فلم “بول” میں بھی دیکھا اور ایک تیسرے درجے کی فلم “زندہ بھاگ” میں بھی۔ علاوہ ازیں، منظر صہبائی کی آواز میں جو اشعار فلم “ماہِ میر” میں‌ شامل کیے گئے ہیں، جو تعداد میں کافی زیادہ ہیں، کانوں کو بھلے معلوم نہیں ہوتے۔ جو ملائمت میر کے الفاظ میں ہے، اسے منظر کی آواز کی سختی اور کھردرا پن تباہ کر دیتا ہے۔

 

ڈائریکشن:

 

فلم میں چاند کو شعلے کی روشنی کا استعارہ اور میر تقی میر کی وحشت کو پروانے کے طواف اور شعلے میں فنا ہونے کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔
“ماہِ میر” کو انجم شہزاد نے ڈائریکٹ کیا۔ بعض جگہ حیران کُن اور بعض جگہ مایوس کن۔ حیران کُن وہاں جہاں مینیکوئین انسانی روپ میں ڈھل کر شاعر احمد جمال یعنی فہد مصطفٰے سے بات کرتے ہیں۔ اس سین میں علامت کا استعمال اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ اس طرح ایک جگہ، ایک پروانہ جلتی ہوئی شمع کے شعلے میں گر کر بھسم ہو جاتا ہے اور لِیڈ رول یعنی فہد اس پروانے کو شاعرانہ حیرت کے ساتھ جل مرتا دیکھتا رہتا ہے۔ سادہ ترین الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ ایک سین پوری فلم کی جان ہے۔ کہانی میں شعلے کو تخلیق اور پروانے کو تخلیق کار کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ فلم میں چاند کو شعلے کی روشنی کا استعارہ اور میر تقی میر کی وحشت کو پروانے کے طواف اور شعلے میں فنا ہونے کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔ اس ایک سین کے اثر سے نکلنے میں ناظر کو باقاعدہ تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔

 

جب احمد جمال کی کتاب شائع ہوتی ہے اور پبلشر اسے پہلی کاپی دینے آتا ہے، تو اس کی بائنڈنگ ایم فل کے کسی تھیسس کی سی ہے۔ اس پر ذہانت سے کام کیا جا سکتا تھا اور جیسے نیناں کی کتابیں واقعی کتابیں ہی محسوس ہوتی تھیں، اس پر بھی کام کیا جا سکتا تھا۔

 

سیٹ:

 

فلم کے سیٹ عجیب و غریب تھے۔ نواب کا محل جہاں سودا و میر کو آتا جاتا دکھایا گیا، کسی غریب کا برآمدہ دکھائی دیتا تھا۔ آرٹ ڈائریکشن بھی غیر متاثر کُن تھی۔ بھلا سنجے لیلا بھنسالی سے ہی کچھ سیکھ لیا ہوتا اس ضمن میں۔

 

کیمرہ کاری:

 

شاٹ ٹیکنگ بھی کافی جگہوں پر نان پروفیشنل تھی جس کی کوئی کانوٹیشن نہیں بن پائی۔ تاہم کاپٹر شاٹس بعض جگہ عمدہ تھے، اور بعض جگہ غیر ضروری۔
شاٹ ٹیکنگ بھی کافی جگہوں پر نان پروفیشنل تھی جس کی کوئی کانوٹیشن نہیں بن پائی۔ تاہم کاپٹر شاٹس بعض جگہ عمدہ تھے، اور بعض جگہ غیر ضروری بھی۔ فریمز میں غیر مطلوبہ چیزوں کی موجودگی ناظرین کی توجہ فریم کے مرکزی خیال سے ہٹا دیتی تھی۔ یعنی فریم کی کمپوزیشن اچھی نہیں رہی۔ اگرچہ، چاند کو بہت اچھے طریقے سے زُوم بھی کیا گیا اور فور گراؤنڈ کے ساتھ چاند کے کمپلیکس شاٹس بھی لیے گئے۔

 

کوریوگرافی:

 

ڈانسز کو گویا بے دلی سے شُوٹ کیا۔ ایمان علی نے خود تو رقص کیا ہی نہیں۔ ایک رقاصہ کو دو بار موقع دیا گیا۔ جس نے بہتر ڈانس کیا مگر اسے عمدہ طریقے سے شُوٹ نہیں کیا گیا۔ رہی سہی کسر beatsپر ایڈیٹنگ کَٹس نہ لگا کر پوری کر دی گئی۔ ایمان علی سے لپ سنکرونائزیشن اچھی نہیں کروائی گئی۔ بہت مکینکل لگیں۔ گویا، کوئی روبوٹ بیگ گراؤنڈ آواز سے آواز ملانے کی کوشش کر رہا ہو۔ کاسٹیوم بھی غیر متاثر کُن تھے۔

 

مکالمے:

 

سرمد کھوسٹ کی فلم “منٹو” کے مکالمے کمزور تھے۔ یہ ایک ایسی کمزوری تھی جسے اس لیے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا کہ یہ ایک ادیب کی بائیوپک تھی۔ ادیب کی زندگی پر بنائی گئی فلم کے مکالمے کمزور ہوں، یہ مناسب نہیں۔ تاہم سرمد صہبائی نے اس بات کا خاص خیال رکھا یعنی فلم “ماہِ میر” اگر خدائے سخن پر بنائی جا رہی ہے تو مکالمے بھی جاندار لکھے جائیں۔ اور اس کوشش میں سرمد صہبائی کافی حد تک کامیاب رہے۔

 

اداکاری:

 

ہمارے خیال میں بہترین اداکاری کا ایوارڈ فہد کو جاتا ہے۔ منظرصہبائی پس منظر میں چلے گئے۔ ہما نواب تھوڑی سی دیر کے لیے نمودار ہوئیں اور ملی جُلی یعنی اچھی ایکٹنگ اور اوور ایکٹنگ کر کے غائب ہو گئیں۔ ایمان علی بھی زیادہ متاثر کُن نہیں رہیں۔ اُن کے حسن کو سرمد صہبائی اور انجم شہزاد نے بہتیرا بڑھا چڑھا کر دکھانے اور سُنانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ علی خان نے نواب کے روپ میں بہتر اداکاری کی۔

 

صنم سعید نے شاعرہ نیناں کے کردار کے ساتھ انصاف کیا۔ تاہم، ناصر خان کی “بچانا” میں سادگی اور دو کاسٹیومز کے باوجود حقیقت سے زیادہ حسین لگیں، “ماہِ میر” کے میک اپ آرٹسٹ نے صنم کو حقیقت سے کم حسین دکھایا۔ یاد رہے، کم حسین دکھائی دینا اس رول کی ڈیمانڈ نہیں تھی۔ ہمیں اس معاملے میں صنم کے ساتھ ہمدردی ہے۔

 

ساؤنڈ:

 

فلم کا ساؤنڈ اچھا تھا۔ اچھے بیک گراؤنڈ میوزک کی وجہ سے ہی تو یہ ڈرامہ یانرا کی فلم، سینمیٹک پِیس بن سکی۔ ورنہ فریمز کی کمپوزیشن کی تناظر میں اگر بات کی جائے تو “ماہِ میر” ایک ٹی وی ڈرامہ بن کر رہ جاتی۔

 

جہاں تک تعلق ہے آٹو میٹک ڈائیلاگ ریپلیسمنٹ کا، ڈبنگ کا، تو ہمارے خیال میں اسے خامیوں سے بالکل پاک ہونا چاہئے۔ پاکستانی فلمیں اس شعبے میں کمزور رہی ہیں۔ فاروق مینگل کی تازہ اور اب تک واحد فلم “ہجرت” اس کی بدترین مثال ہے۔ “ماہِ میر” میں بھی یہ خامی نظر آئی۔ ڈبنگ کی خامی۔ اگرچہ بعض جگہ فولی ساؤنڈ حیران کُن حد تک اچھی تھی، مثال کے طور پر نوجوان شاعر احمد جمال یعنی فہد کے گھر کی ٹپکتی چھت سے قطرے گرنے کی آواز۔ اور سگریٹ کے کاغذ سلگنے کی آواز۔

 

لائٹ:

 

فلم کی لائٹ عمدہ تھی، مگر میک اپ کو واضح دکھا رہی تھی۔ اس کا مطلب ہوا کہ یا تو میک اپ کے میدان میں‌ زیادہ جان ماری جاتی اور اسے عمدگی سے کیا جاتا، یا پھر اس کمی کو لائٹ کی مدد سے دُور کیا جاتا۔
بعض جگہ کٹرز اور کُوکیز کا استعمال البتہ بہت اچھا تھا۔ بالخصوص، کھڑکی سے اور گلی میں چاند کی چھن چھن کر آتی ہوئی روشنی۔۔۔
کلر سمبلزم بھی بعض جگہ اپنے جوبن پر نظر آیا۔

 

آخری سوال:

 

سرمد صہبائی نے اس شاعری اور شاعر بیزار معاشرے میں ایک شاعر پر فلم بنائی ہے یہ عمل بلاشبہ فنکارانہ بہادری ہے۔ اور سرمد صہبائی کو اس فنکارانہ بہادری کا صلہ ضرور ملے گا۔
کیا یہ مین اسٹریم سینما کی فلم تھی؟ اگر نہیں تو کیا یہ فلم فلاپ ہو جائے گی؟
جی ہاں، اسے مین اسٹریم سینما کے لیے ہی بنایا گیا تھا۔ اس کا پروڈکشن ڈیزائین اور ساؤنڈ ڈیزائین، دونوں اس بات کے گواہ ہیں۔ مگر، افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اسے مین اسٹریم سینما کا فلم بین دیکھنے نہیں آئے گا۔ اسے پیرالل تھیٹر کا ناظر ہی دیکھنے آئے گا جس کا پاکستانی معاشرے میں وُجود ہی نہیں۔ لہٰذا، سہولت سے کہا جا سکتا ہے کہ جی ہاں، یہ فلم فلاپ ہو جائے گی۔ حالانکہ اسے فلاپ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ اوسط درجے کے ادبی و تنقیدی مباحث کا نقطہِ آغاز بھی بن سکتی ہے۔ مثلا” شاعری کیا ہے؟ وحشت کا تخلیق بالخصوص شاعری کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ مابعد جدید شاعر کو گھیر گھار کر کلاسک کی طرف لانا اُس کی تخلیقی صلاحیت کو جلا بخشے گا یا تباہ کر دے گا؟ کیا مونا لیزا کی مسکراہٹ کو واقعی ڈی کنسٹرکٹ نہیں کیا جا سکتا؟ کیا ڈی کنسٹرکشن کو “ماہِ میر” میں درست طور پر پیش کیا گیا ہے؟

 

حرفِ آخر:

 

“ماہِ میر” اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود ایک بہترین فلم ہے۔

 

سرمد صہبائی نے مین اسٹریم سینما میں پیرالل ایڈیٹنگ، فلیش بیک/موجود واقعات کی فلپ فلاپ فریکوئینسی ایڈیٹنگ، اور عوام کے لیے عسیرالفہم اشعار و اصطلاحات مین اسٹریم سینما کی فلم کے لیےاستعمال کر کے ایک خطرہ مول لیا ہے۔ سرمد صہبائی نے اس شاعری اور شاعر بیزار معاشرے میں ایک شاعر پر فلم بنائی ہے یہ عمل بلاشبہ فنکارانہ بہادری ہے۔ اور سرمد صہبائی کو اس فنکارانہ بہادری کا صلہ ضرور ملے گا۔

 

فلم ہٹ ہو یا فلاپ، سرمد صہبائی اور ٹیم کو “ماہِ میر”‌ کے حوالے سے تا دیر اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔

 

چلتے چلتے پاکستانیوں سے ایک چھوٹا سا سوال؛ یارو! منٹو پر فلم بناتے ہو، مِیر پر بناتے ہو؛ ہمارے قومی شاعر حضرتِ اقبال پر کیوں نہیں بناتے؟