Categories
نان فکشن

نثری نظم کا فن (اویس سجاد)

نوٹ: یہ مضمون راجوری (ہندوستان) سے شایع ہونے والے رسالے “تفہیم” کے تازہ شمارے (جون ۲۰۲١) میں بھی شامل ہے۔

شاعری کا تعلق تخیل، حسیات، جذبات اور کیفیات سے جڑا ہوا ہے۔ یہ ہمارے شعوری اور لاشعوری خیالات کو مہمیز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسے وحدت یا کلیت میں ڈھلنا پڑتا ہے۔ یہ عمل شاعری کی ہئیتی ضرورت کو مکمل کرتا ہے اور اس سے وہ آہنگ بھی جنم لیتا ہے جو سامع یا قاری پر اثر انداز ہو۔ نفیس اور پُراثر شاعری زمانی یا مکانی قیود کی پابند نہیں ہوتی بلکہ بڑا شاعر اسے آفاقیت کا درجہ دیتا ہے۔ رامائن، مہابھارت، اوڈیسی یا ایلیڈ جیسے شاہکار اگر آج بھی ہمیں لطف پہنچاتے ہیں تو ان باریکیوں کو تلاش کرنا چاہیے جس کی وجہ سے یہ فن پارے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

شاعر کو اختصاص حاصل ہے کہ وہ تخیل اور اسلوب سے نئے جذبات اختراع کرتا ہے۔ ایسا نہیں کہ شاعری جذبات و احساسات کے دائرے میں مقید رہتی ہے بلکہ وہ تو انسان کے باطن کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اچھی شاعری انسان کو مایوسی کی طرف دھکیلنے کی بجائے ؛اس سے چند قدم آگے چلتی ہے۔ شاعری قاری کو ایسے راستے پر چلنے پر مجبور کرتی ہے جو بالکل نیا اور منفرد ہوتا ہے؛ یہ ایسا ساز ہے جس کے پردوں میں جذبات کے نغمے خوابیدہ ہوتے ہیں۔ (1)

شاعری کو مختلف اصناف میں منقسم کیا جا سکتا ہے۔ یہ تمام اصناف اپنے اپنے عہد کی پیدوار ہیں۔ نظم شاعری کا اہم سانچہ ہے۔ اس میں مختلف موضوعات کو ہیئتی اور تکنیکی تجربات کے ساتھ پرویا جا سکتا ہے۔ ہیئت اور مواد کی سطح پر نظم میں بے شمار تجربات ہوئے۔ مواد کا تعلق چونکہ ہیئت اور تکنیک سے ہے ، اس لیے نظم کے فنی معیارات طے کرنا مشکل عمل ہے۔ پابند نظم سے نثری نظم تک کا سفر اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نظم میں لامختتم امکانات پوشیدہ ہیں۔ نظم میں انسان کی نفسیاتی الجھنوں اور تمام معاملات زندگی کی بہترین عکاسی ہوتی ہے۔ نظم کسی بھی فرد کے انفرادی جذبات کو آشکار کرتی ہے اور انسان خود کو نئے سرے سے تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ عمل شاعری کی دیگر اصناف کے مقابلے میں زیادہ ٹھوس، جامع اور وسعت یافتہ ہے(2)

بعض اوقات نئے عمل کو منکشف کرنے کے لیے نظم میں ایسے اساطیری یا تاریخی حوالے آ جاتے ہیں جو قاری سے گہرے شعور کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ راشد اور میرا جی کی نظموں کو سمجھنے کے لیے قدیم اساطیر کی جانب مراجعت کرنا پڑتی ہے۔ سپاٹ اور کیفیت سے خالی بیانیہ نظم کا لطف زائل کر سکتا ہے۔ نظم میں استعاروں اور علامتوں کے ذریعے جو تخلیقی فضا قائم ہوتی ہے وہ قاری کو سوچنے پر مجبور کر تی ہے۔ ہر نظم اپنے ساتھ خارجی تکنیک ضرور لے کر آتی ہے جو مواد (داخلی تکنیک) سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ اس متعلق ناصر عباس نیئر نے اپنی کتاب ’’نظم کیسے پڑھیں؟‘‘ میں سیر حاصل بحث کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ شاعر کے لیے ہیئت کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ وہ اس بات سے آگاہ ہوتا ہے کہ کون سی ہیئت اس کے مواد کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں شاعر ’کیا‘ کے بارے میں لاعلم ہو سکتا ہے مگر ’کیسے‘ کے سلسلے میں نہیں۔ (3)

نثری نظم میں یہ معاملہ مختلف ہے۔ یہاں تو تخلیق کار اسی وجہ سے نثری نظم کا انتخاب کرتا ہے، کیونکہ اس کے لیے نظم کی باقی ہیئتیں رکاوٹ بنتی محسوس ہوتی ہیں۔ نثری نظم خلق کرنے والے کے سامنے ہیئت کی بجائے مواد (اظہار) اہم ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ اس ہیئت کا انتخاب کرتا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ مواد اور ہیئت کی اہمیت اپنی اپنی جگہ پر قائم ہے۔

نظم کی روایت پر ایک مختصر سی نگاہ دوڑائیں تو پابند نظم قصیدہ، مثنوی یا رباعی کا ارتقاء معلوم ہوتی ہے۔ نظیر اکبر آبادی نے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جو عام آدمی کی محرومیوں اور خواہشوں کو سامنے لاتے ہیں۔ نظم نے ہر عہد میں انسان کی نئی قدروں کو منکشف کرنے پر زور دیا ہے۔ اسی لیے ان کی نظموں میں وہ تمام اقدار دکھائی دیتی ہیں جن کو بعد میں ترقی پسند ادیبوں نے موضوع بنایا۔ نظیر کی نظمیں زندگی کے مختلف رنگوں سے ہم آہنگ ہیں۔ ’’الٰہی نامہ، بنجارہ نامہ‘‘ اور ’’برسات کی بہاریں‘‘ چند ایسی نظمیں ہیں، جو عام آدمی کے خدشات کو ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے سماجی روّیوں، مذہبی اعتقادات کو نظموں میں خوبصورتی سے پرویا۔ ان کی نظموں میں ایک خاص رنگ دکھائی دیتا ہے جو لوک گیتوں کے قریب تر ہے۔

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد جب سماج کے روایتی بیانیے ٹوٹے تو اس کے ساتھ منطقی روّیوں نے جنم لیا۔ لوگوں نے استدلالی انداز میں سوچنا شروع کیا۔ یہ وہی دور تھا جب ہندوستانی سماج نئے حالات اور مغربی اثرات سے متاثر ہو رہا تھا۔ جدید نظم کا آغاز ہوا تو اس میں ہیئت اور تکنیک کے تجربات بھی ہوئے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد جدید نظم نگاری نے اپنی جڑوں کو مضبوط کیا ۔ سماجی، سیاسی اور تہذیبی تغیرات کی وجہ سے سر سید، آزاد اور حالی نے اصلاحی کوششیں کیں۔ جدید نظم کو پروان چڑھانے میں ان تینوں کا حصہ شامل تھا۔ ۱۸۸۷ء کے پاس حالی کے ایک شاگرد پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی نے تجربہ کیا جو انگریزی شاعری کی مخصوص ہیئت ’’اسٹنزا‘‘ فارم کے قریب تر تھا۔ آزاد اور حالی نے جدید نظم کا جو تصور پیش کیا تھا، اس نے نہ صرف انیسویں صدی کے شعراء کو متاثر کیا بلکہ اس کے اثرات بیسویں صدی کے شعراء بھی پر بھی مرتب ہوئے۔ یہاں سے نظم نگاروں کی ایک نئی پود نے جنم لیا جن کے موضوعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نظم وہ صنف ہے جس نے خود کوبدلتے سماج کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پابند، معریٰ اور آزاد نظم کے بعد نثری نظم کیوں وجود میں آئی؟ ایسا کیا ہوا کہ پابند اور معریٰ نظم طاقِ نسیاں کی نذر ہو گئیں، حالانکہ ہیئتی اعتبار سے پابند اور معریٰ نظم یہ صلاحیت رکھتی تھی کہ اسے شعری روایت میں بلند درجے پر فائز کیا جائے۔ لیکن ہمارے سامنے جدید زندگی نے جو صورتحال پیدا کی اس کا بوجھ تو پابند نظم بھی نہیں سہار سکتی تھی۔ نظیر اکبر آبادی کی روایت کو حبیب جالب، ساقی فاروقی اور فیض احمد فیض وغیرہ نے زندہ رکھنے کی سعی کی مگر یہ ہیئت پنپ نہ سکی۔ انہوں نے لسانی تجربات بھی کیے مگر زیادہ سفر نہ کر سکے۔ جدید نظم کی جو بنیاد آزاد اور حالی نے رکھی تھی وہ شرر، طباطبائی اور اقبال سے ہوتی ہوئی مجید امجد تک ٹھہری۔ جدید نظم میں شعراء کی بڑی تعداد تجربات کر رہی تھی۔ ۱۹۶۰ء کے قریب ’’لسانی تشکیلات‘‘ کی تحریک نے اردو ادب کے دروازے پر دستک دی جو جدیدیت کی پیداوار تھی۔ اس تحریک میں افتخار جالب اور شمس الرحمن فاروقی نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ’شعریت‘ کو موضوع یا تجربہ کی بنیاد پر نہیں ماپا جا سکتا بلکہ ’فارم‘ کے ذریعے جو لفظوں کی عمارت وجود میں آتی ہے وہی شاعری ہے۔ یہ عمل لاشعوری نہیں ہوتا بلکہ شاعر ارادی طور پر تمام فیصلے کرتا ہے۔

اسی دوران ’’نثری نظم‘‘ کا وجود بھی عمل میں آیا۔ اس نے ہیئت وزن اور بحر کے تمام معاملات کو ازکارِ رفتہ قرار دیا۔ نثری نظم لکھنے والوں کا ماننا تھا کہ آہنگ ہی وہ بنیادی شرط ہے جس سے ’’شعریت‘‘ کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ اردو ادب کے لیے نیا مگر مغرب کے لیے پرانا تجربہ تھا۔ اردو میں آزاد نظم کی طرح نثری نظم لکھنے والوں نے کوئی تحریک نہیں چلائی۔ بلکہ کئی تخلیق کاروں نے اس تجربے کو کشادہ دل کے ساتھ تسلیم کیا۔ فرانسیسی شاعر ’’بودلیئر‘‘ نے سب سے پہلے نثری نظم کی اصطلاح استعمال کی۔ بودلیئر سے کئی ہم عصر شاعر بھی متاثر ہوئے جن میں راں بو، ملارمے وغیرہ شامل ہیں۔

جب اردو میں نثری نظم لکھنے کا چلن عام ہوا تو جہاں اس ہیئت کا خیر مقدم کیا گیا وہیں مخالف روّیے بھی سامنے آئے۔ ان کے بقول یہ صنف چونکہ مروجہ اصنافِ شاعری کی طرح موزوں نہیں ہے، اس لیے یہ تجربہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ حالانکہ ناقدین اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ مغرب میں بڑے پیمانے پر اس صنف میں طبع آزمائی کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے ’’اوراق‘‘ میں اسے صنفِ شعر تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے اس صنف /ہیئت کو ’’اوراق‘‘ میں جگہ دی بھی تو اپنے پسندیدہ ناموں کے ساتھ، اسے نثم، نثرِ لطیف جیسے نام دینے کی کوشش کی مگر یہ جدو جہد کار آمد نہ ہو سکی۔ ان کا موقف تھا کہ شاعری تو خارجی اور عروضی آہنگ سے مملو ہے۔ چونکہ نثری نظم عروضی پیرائے پر پورا نہیں اترتی لہٰذا اسے شاعری کے دائرے سے خارج کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہونا چاہیے۔

ذوالفقار تابش نے بھی نثری نظم کو رد کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ نثر اور نظم دو مختلف اصناف ہیں۔ ان کا یکجا کرنا کسی نئے بیانیے کو جنم دینے کے مترادف ہے۔ نثری نظم کے نام پر جو کچھ تخلیق کیا جا رہا ہے وہ نظم سے زیادہ نثر کے قریب ہے۔ انہوں نے نثری نظم کو سہل نگاری کی گھٹیا مثال قرار دیا۔

فیض احمد فیض کا بھی یہی خیال تھا کہ نثری شاعری بحور اور اوزان کے پیمانے پر پورا نہیں اترتی، اسے شاعری قرار دینا کسی گناہ سے کم نہیں ۔ ان ناقدین کے مقابلے میں وہ لوگ بھی سامنے آئے جنہوں نے نثری نظم کو عصرِ حاضر کے لیے ضروری صنف قرار دیا۔ احمد اعجاز نے تو یہاں تک کہا کہ نئی اور جدید شاعری کے امکانات اسی ہیئت یا صنف میں پوشیدہ ہیں۔ اس کے علاوہ شہر یار، قمر جمیل، انیس ناگی، مبارک احمد، مخدوم منور، فہیم جوزی اور سعادت سعید وغیرہ وہ نام ہیں جنہوں نے نثری نظم کی بھرپور حمایت کی۔ اس تمام پس منظر کے بعد اب ان فنی پیمانوں کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں جو نثری نظم میں موجود ہو سکتے ہیں یا اس کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ صنف آج بھی رد و قبول کے مرحلے سے گزر رہی ہے، اس لیے فنی معیارات طے کرنا یا کچھ لکھنا قبل از وقت ہو گا۔ اس سب کے باوجود نثری نظم کے نام پر جو کچھ لکھا جا رہا ہے وہ اسے مضبوط بنانے کی بجائے شک و شبہات میں مبتلا کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں چند پیمانے وضع ہونے چاہییں جو اس صنف کے ارتقاء میں معاون ثابت ہو سکیں۔ اس ضمن میں نثری نظم کے ان شاعروں کا بھی ذکر کیا جائے گا جن کی نظمیں فنی معیارات طے کرتی ہوئی ماڈل (نمونہ) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن اس سے پہلے ان عناصر کا جائزہ لیتے ہیں جو نثری نظم میں شعریت پیدا کر سکتے ہیں۔

تخلیق میں شعریت اسی وقت پیدا ہو سکتی ہے جب فکر و احساس میں لطافت اور بیان کرنے کے انداز میں کوئی انوکھا پن ہو۔ اس حوالے سے ہیئت یا مواد کی جمالیاتی فضا بھی موثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اسے تخلیقی فکر یا جذبے کی ہم آہنگی کے بغیر پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں عناصر مل کر پُراثر فضا کو تشکیل دیتے ہیں جس کا تعلق ہماری حسیات یاتجربے سے ہے۔ جدید نظم کی لفظیات، استعارے اور تشبیہات شعریت کو جنم دیتے ہیں۔ جبکہ نثری نظم میں تمثیلی، تجریدی اور امیجری مناظر شعریت پیدا کرنے کے لیے موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ موضوع اور ہیئت میں ہم آمیزی مخصوص شعریت کو ابھارتی ہے۔ جب کوئی لفظ کسی مخصوص استعارے کا لباس پہنتا ہے تو اس میں موسیقی کی فضا پیدا ہوتی ہے جو دراصل شعریت ہی ہے۔ استعاروں کے ذریعے نئی دنیا خلق کی جا سکتی ہے۔ اساطیری کرداروں کی بازیافت ہوسکتی ہے۔ بہرحال شعریت پیدا کرنے کے لیے بنیادی اہمیت استعارے کو دی جا سکتی ہے اور اسی کے ذریعے نئے خیالات وجود میں آتے ہیں۔ نثری نظم میں چونکہ ’’لفظ‘‘ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، اس لیے لفظ کو نظر انداز کر کے ہم معنی کی جانب جست نہیں بھر سکتے۔ نثری نظم میں لفظ کے ذریعے جو شعریت جنم لیتی ہے وہ قاری کو اپنے حصار میں لے سکتی ہے۔

نثری نظم مروجہ نظام سے انحراف کرتی ہے۔ اس کی سطروں میں داخلی آہنگ پایا جاتا ہے جو پڑھنے والے یعنی خارجی آہنگ سے متشکل ہوتا ہے۔ نثری نظم امیجز (Images) پر اپنی بنیاد استوار کرتی ہے۔ اس میں واقعیت کی بجائے تجریدیت کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ لیکن آج کی نثری نظم بیانیہ اسلوب بھی اختیار کرتی نظر آتی ہے اور اس کی مختلف شکلیں ظہور پذیر ہو چکی ہیں۔ نثری نظم کا تعلق چونکہ ہمارے لاشعور سے ہے اس لیے مختلف شہروں میں جو نظمیں لکھی گئیں وہ مختلف فنی معیارات طے کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ جب کراچی کے حالات کشیدہ ہوئے، ٹارگٹ کلنگ ہونے لگی، تشدد کی فضا چھانے لگی اور بوری بند لاشوں کا ملنا معمول بن گیا تو اس صورت میں نثری نظم بیانیہ اسلوب، براہ راست یا واقعیت کے قریب نظر آئی۔ افضال احمد سید، ثروت حسین، ذی شان ساحل، سعید الدین، تنویر انجم اور کاشف رضا کی نظموں میں ایسی فضا محسوس کی جا سکتی ہے۔

افضال احمد کی نظم سے چند سطریں دیکھئے جو ’’مٹی کی کان‘‘ میں شامل ہے:
’’میرا پسندیدہ کھلونا
چوہے دان رہا ہو گا
میری دوپہریں وباؤں کی بستیوں میں آہ و بکا سننے میں گزری ہوں گی
شام کو جب منحوس پرندے شور مچانے لگتے
میں گھر آ جاتا
اور اپنے پاؤں سے زمین کریدنے لگتا
کوئی خزانہ ہمارے گھر کے نیچے دفن ہے
مگر میرا باپ مجھے لہو لہان کر دیتا ہے‘‘ (4)

ان سطروں میں کوئی تجریدیت یا بھاری بھر کم لفظ نہیں ملتا بلکہ یہ کسی واقعے کی جانب اشارہ ہے۔ لاشوں کی بات ہے، قید کا ذکر ہے اور آہ و بکا سننے کے عمل کو بیان کیا گیا ہے۔ جب انسان سماج کے مکروہ چہرے سے خوفناک ہو جاتا ہے تو وہ نیا جہان بسانا چاہتا ہے۔ یہ موت کی خواہش بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی قبر تیار کر رہا ہے۔

کاشف رضا کی شاعری کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی نظموں میں لاپتہ افراد کا دکھ اور قتل کیے جانے والے معصوم لوگوں کی ہُوک سنائی دیتی ہے۔ اگر ان کی نظموں کے عنوان بھی دیکھے جائیں تو وہ بھی کسی مجموعی واقعے کو ہی جنم دے رہے ہیں۔ ’’ممنوعہ موسموں کی کتاب‘‘ سے ایک نظم ’’کراچی ڈیتھ سروس‘‘ کی چند سطریں دیکھئے:
’’ زندگی سے موت تک
اک کڑی مسافت ہے
ہم اسے سہولت سے طے کراتے ہیں
اور آپ سے تیس روپے فی گولی
قیمت بھی نہیں لیتے

آپ کے لیے ہم
پٹ سن کی گانٹھوں سے
کفن تیار کرتے ہیں
جس کی خوشبو نیند آور ہوتی ہے

ہمارے رضا کار
آپ کی لاش اٹھاتے ہیں
اور ہماری ایمبولینس
آپ کے لیے ٹریفک کو چیرتی ہوئی نکلتی ہے‘‘ (5)

ان سطروں میں وہ دکھ واضح ہے جو پچھلی کئی دہائیوں سے کراچی کے عام لوگوں میں سرایت کر چکا ہے۔ ان کے کان صبح و شام کا فاصلہ اذانوں کی بجائے گولیوں کی آواز سے ماپتے ہیں۔ ’’کراچی ڈیتھ سروس‘‘ دراصل کسی ایک فرد یا سماج کے لیے کہی جانے والی نظم نہیں ہے، بلکہ اس میں مجموعی فضا کا ذکر ہے۔

اسلام آباد کے منفرد اور نفیس شاعر نصیر احمد ناصر کی نظمیں فطرت (نیچر) کے زیادہ قریب ہیں۔ وہاں کے موسموں کا ذکر ملتا ہے اور خوبصورتی کی عکاسی ہوتی ہے۔ ان کی نظم ’’میں پرندوں کی طرح طلوع ہونا چاہتا ہوں‘‘ ملاحظہ ہو:
’’ میں جانتا ہوں
میرا سفر ختم ہونے والاہے
نیند آنکھوں میں پڑاؤڈال چکی ہے
اور اندھیرے کی ساکن آواز
کہیں بہت قریب سے سنائی دے رہی ہے
لیکن میں سونا نہیں چاہتا
نظم، کچھ دیر اور میرے ساتھ رہو
مجھ سے باتیں کرو
مجھے تنہا مت چھوڑو
میں اس رات کی صبح دیکھنا،
اور پرندوں کی طرح
تمہارے ساتھ طلوع ہونا چاہتا ہوں‘‘ (6)

اس نظم میں استعاراتی زبان اختیار کی گئی ہے۔ یہ نظم فطرت سے مکالمہ کرنا چاہتی ہے۔ اس میں جمالیاتی فضا بھی واضح ہے۔ ۲۰۰۰ء کے بعد جو نثری نظم کے شعراء سامنے آتے ہیں، ان کے ہاں نئی بوطیقا ملتی ہے۔ جس میں زندگی کی لایعنیت، فرد کی تنہائی اور کم مائیگی کا اظہار ملتا ہے۔ ایسے شعراء میں ساحر شفیق، زاہد امروز اور قاسم یعقوب کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ ساحر شفیق کا تعلق ملتان سے ہے۔ ان کی نظموں کا مجموعہ ’’خودکشی کا دعوت نامہ‘‘ ۲۰۱۰ء میں طبع ہوا۔ ساحر کی نظموں میں ایک ایسا فرد نظر آتا ہے جو ہر چیز سے بیزار ہو چکا ہے۔ وہ کسی نئے جہان کی طرف نکل جانا چاہتا ہے۔ ان کی نظم سے یہ سطریں دیکھئے:
’’ میرے پاس ایک گیت تھا/ جسے میرے ملازم نے چُرا کر کباڑی کو بیچ دیا
میرے پاس ایک بات تھی/جو مجھ سے کہیں گِر گئی
میرے پاس ایک دن تھا/ جسے میں ایک سفر میں گنوا آیا
میرے پاس ایک دعا تھی /جو چڑیا کی طرح اُڑ گئی
میرے پاس ایک تعویز تھا / جسے میں نے بہت سالوں بعد کھولا تو اس میں گالیاں لکھی ہوئی تھیں
میرے پاس ایک حیرت تھی/جو ہمسائے کے کُتے کے کاٹنے سے مر گئی
میرے پاس ایک پری تھی/جو خود دیو کے ساتھ بھاگ گئی
میرے پاس وقت تھا/ جو ناراض ہو کر چلا گیا
میرے پاس ایک شام تھی/ جو چائے کے ساتھ پی گئی
___ اور ___
میرے پاس میں خود تھا/ جسے میں نے قتل کر دیا‘‘ (7)

اس نظم میں نثری نظم کی نئی جہت دریافت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسا بیانیہ نظم میں بہت کم ملتا ہے۔ ان لائنوں کی ترتیب نثری نظم کی نئی تکنیک بھی متعارف کروا رہی ہے۔ ساحر کی نظمیں، جون ایلیاء کی شاعری کی طرح کسی نوجوان کو کھانے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ نظموں میں یہ اسلوب اب دقیق ہو چکا ہے۔ جو نوآموز خود کو اس رنگ میں رنگنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں وہ صرف نقالی کر رہے ہیں۔

زاہد امروز کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ ان کی نظموں کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ زاہد امروز کی نظمیں تہہ دار ہیں مگر مشکل نہیں۔ بظاہر تو ان میں زندگی کا عامیانہ رنگ دکھائی دیتا ہے مگر بین السطور میں انسان کو زندگی کی گھمبیرتا سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ ان کی نظم ’’ میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں‘‘ بھی ایسی کیفیت کو آشکار کرتی ہے۔
’’میں تیرے ساتھ لپٹ کر
تیرے جُوڑے میں مہکے مہکے پھول سجانا چاہتا ہوں
لیکن تُو چہرے پر غلاظت مَل لیتی ہے
تُو اپنی عیار ہنسی سے
شفاف دلوں کی ننھی خوشیاں ڈس لیتی ہے
چم چم کرتی بھربھرائی دنیا!
تیری سنگت بڑی ہی ظالم دشمن ہے
میں تجھ کو گلے لگا لوں لیکن
تیری قبا میں پوشیدہ ہے
سب چوری کا مال
تیری جھلمل سطح کے نیچے
پھیلا ہے مایا کا جال

اگر ترے سینے پر گولائیاں
گوتم کے سَر جیسی ہوں
میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں ‘‘ (8)

زاہد امروز کی نظموں میں فنی حوالے سے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ انہوں نے شعریت پیدا کرنے کے لیے ایک مختلف استعاراتی نظام وضع کیا ہے۔ عصرِ حاضر میں نثری کے متعلق یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ اسے نثر کے زیادہ قریب ہونا چاہیے تا کہ اس صنف کے تخلیقی جواز کو وسعت مل سکے۔ اس مختصر جائزے سے سمجھانے کی سعی کی گئی ہے کہ نثری نظم کسی ایک موضوع تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ عمرانی شعور سے مکمل ہم آہنگ ہے اور مستقبل کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے۔ دراصل یہ موضوعات ہی نثری نظم کے فنی پیمانے بھی طے کرتے ہیں۔

نثری نظم کا موضوع اپنا اسلوب خود وضع کرتا ہے۔ ساحر کی نظمیں نیا اسلوب اختراع کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ جب کوئی اسلوب چرانے کی کوشش کی جاتی ہے تو موضوع کی پیشکش میں فاصلہ حائل رہتا ہے جو کمزوری بھی ہے نثری نظم زیادہ تر صیغہ واحد متکلم میں لکھی جاتی ہے۔ ایسی نظموں میں خود کلامیہ تکنیک سے معاملہ کیا جاتا ہے۔ انجم سلیمی کی بیشتر نظموں میں یہ کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ ان کی نظم ’’اذیت کا شجر ہوں‘‘ دیکھئے:
’’ مجھ پر بے موسم کا بُور آتا ہے
بہت بے صبرے ہو
ہنسی کو پکنے تو دو
میری خوشیاں ابھی بالغ نہیں ہوئیں
اور دکھ کن اکھیوں سے مجھے دیکھتے ہیں
یہ کوئی بددعا نہیں کہ تم پر میرا صبر پڑے
یہ تو ایک ذائقہ ہے جسے تم نے کبھی چکھ کر نہیں دیکھا
چھوٹے چھوٹے دکھوں نے مجھے چھوٹا کر دیا ہے
عجیب دکھ ہے
خود کو جی بھر کے برباد نہیں کر سکا
ایک بڑے سانحے کے انتظار میں
رائیگاں جا رہا رہوں !‘‘ (9)

نثری نظم میں ایک نیا رویہ یہ بھی سامنے آیا کہ خود کوکسی کردار کا روپ دے کر ایک علامتی وجود خلق کیا جائے۔ ایسی نظمیں تنویر انجم کے ہاں ملتی ہیں۔ مثلاً ان کی نظم ’’میں اور نیلوفر‘‘ اس کی بہترین مثال ہے۔
’’ دنیا میں کوئی نیلوفر کا مقابل ہے اور نہ متبادل
ایسا ہو سکتا ہے
میں اس کا پیچھا کرتے دور نکل جاؤں
میں اس کا پیچھا کرتے مٹی میں دھنس جائوں
میں اس کا پیچھا کرتے عالمِ انبساط میں مر جاؤں‘‘(10)

ناقدین کا یہ اعتراض بھی سامنے آتا ہے کہ نثری نظم کے نام پر جو کچھ تخلیق کیا جا رہا ہے وہ اس سے پہلے آزاد، نیاز فتح پوری یا یلدرم اپنی شاعرانہ نثر میں پیش کر چکے تھے۔ یہ اعتراض بہت سطحی سا ہے۔ نثری نظم اور ایسے شاعرانہ ٹکڑوں میں بہت تفاوت ہے۔ شاعرانہ نثر قطعیت اور جامعیت پر مبنی ہوتی ہے۔ ایسا اظہار خود میں نامکمل ہوتا ہے۔ شاعرانہ نثر شروع سے لے کر آخر تک مبہم اور معنویت سے خالی ہوتی ہے۔ جبکہ نثری نظم کا معاملہ مختلف ہے۔ اس میں تو شاعر کے ذہن میں پوری کہانی چل رہی ہوتی ہے۔ وہ اس کے کردار بھی ڈھونڈ لیتا ہے۔ یوں وہ اول تا آخر ایک کلی تجربے کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ پھر اس میں برتے جانے والے استعارے، علامتیں اور امیجز(Images) اسے آرٹ کے قریب تر کر دیتے ہیں جو اپنا تخلیقی جواز فراہم کرتے ہیں۔ نثری نظم پیرگراف میں بھی لکھی جاتی رہی ہے۔ یہ بھی اس کا فن اور تکنیک ہے۔ بودلیئر نے جب نثری نظم لکھنے کا آغاز کیا تو اسے پیراگراف میں لکھا۔ ہمارے ہاں بھی چند نظم نگاروں نے اس میں تجربہ کیا۔ ثروت حسین کی یہ نظم دیکھئے:
’’ پرندوں اور بادلوں سے خالی آسمان کے نیچے کسی دور دراز اسٹیشن کے برآمدے میں ریت بھری بالٹیاں اور ایک بھاری زنجیر ۔۔۔ جنگلے کو تھام کر پھیلتی ہوئی بیلیں، رُکی ہوئی مال گاڑی کے پہیے اور پتھروں کی ابدی خاموشی میں قریب آتی ہوئی یاد، کبھی کبھی چمکنے والی بجلی کی چکا چوند میں آبائی مکان کی جھلک، جہاں کیاریوں کے پاس ایک بیلچہ بارشوں میں بھیگ رہا ہے۔۔۔۔
کوئی ہمارا نام لے کر پکارتا ہے، کیا وہ لڑکی اب بھی کسی کھڑکی پر کہنیاں ٹکائے ہمیں اداسیوں کے سرسراتے جھنڈ سے گزرتے دیکھ سکتی ہے ۔۔۔ یہاں تک کہ شام ہو جاتی ہے۔‘‘ (11)

یہ نظم پیراگراف میں ہونے کے باوجود کسی قطیعت یا جامعیت کا اعلان نہیں کر رہی، نہ ہی اس نظم کی سطروں کے مفاہیم کو کسی دائرے میں مقید کیا جا سکتا ہے۔ نثری نظم کا یہ فن اسے باقی اصناف سے ممیز کرتا ہے۔

فنی اعتبار سے نثری نظم کو یہ اختصاص بھی حاصل ہے کہ اس ہیئت /صنف کے موضوعات خود کو عالمی شخصیت، کسی بحران یا جنگ سے بھی جوڑتے ہیں۔ نثری نظم اپنا رشتہ بین الاقوامیت کے ساتھ مضبوط کرتی ہے۔ وہ علاقائی سرحدوں کو توڑتے ہوئے ہر موضوع کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نازی حکمران نے جب پولینڈ کو تباہ کر دیا تو بعد میں ہمارے ہاں کئی باشعور شاعروں نے اس درد کو محسوس کیا اور کافی عرصہ گزر جانے کے بعد بھی انہیں نظموں کا موضوع بنایا۔ کاشف رضا نے چارلی چپلن کے لیے نظم لکھی جو پڑھنے کے قابل ہے:
’’ چارلی چپلن نے کہا
اُسے بارش میں چلنا پسند ہے
کیونکہ تب کوئی اس کے
آنسو نہیں دیکھ پاتا

اس نے چار شادیاں کیں
اور بارہ معاشقے
عورتیں اس پر فدا تھیں
وہ انہیں کسی بھی وقت
جوائے رائڈ دے سکتا تھا‘‘ (12)

نثری نظم میں تکنیکی اور فنی لحاظ سے بے شمار امکانات پوشیدہ ہیں جنہیں تلاش کیا جانا چاہیے۔ نثری نظم میں مکالماتی انداز بھی اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ مکالمہ کسی فرد یا سماج سے ہو سکتا ہے۔ نثری نظم کی یہ تکنیک نئے فنی پیمانے وجود میں لاتی ہے۔ ثروت حسین کی نظم ’’ایک پل بنایا جا رہا ہے‘‘ سے چند سطریں ملاحظہ ہوں:
’’ میں ان سے پوچھتا ہوں:
پُل کیسے بنایا جاتا ہے؟
پُل بنانے والے کہتے ہیں:
تم نے کبھی محبت کی
میں کہتا ہوں:محبت کیا چیز ہے؟
وہ اپنے اوزار رکھتے ہوئے کہتے ہیں:
محبت کا مطلب جاننا چاہتے ہو
تو پہلے دریا سے ملو ___ ‘‘ (13)

نثری نظم کا فن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس ہیئت /صنف کے لیے مروجہ اوزان یا بحور کی جو قربانی دی جاتی ہے وہ کسی صورت رائیگاں نہیں جا سکتی۔ یہاں تو شاعر کا کڑا امتحان ہوتا ہے کہ اس نے کسی خارجی مدد کے بغیر داخلی آہنگ کو تشکیل دینا ہوتا ہے جو دراصل شعریت کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے۔ نثری نظم لکھنے کا عمل سرکس کے اس جوکر جیسا ہے جو باریک رسی پر چل کر اپنا فاصلہ طے کرتا ہے ۔ اس میں جہاں کہیں جھول آ گیا نظم اپنے فن کو مشکوک کرے گی اور شاعر منہ کے بل گرے گا۔

مندرجہ بالا بحث سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ صنف فنی جہات میں متنوع پہلو رکھتی ہے۔ اسے لکھنے کے اتنے ہی طریقے ہیں جتنے اس دنیا میں موجود نثری نظم نگار ۔ نثری نظم اپنے ساتھ تخریب اور تعمیر کا سامان خود لے کر وارد ہوتی ہے۔ اس کو چند پیمانوں پر ماپنا ناانصافی ہو گی۔ اس حوالے سے نئے لکھنے والوں کی تربیت ضروری ہے تا کہ وہ اس غلط فہمی سے پاک رہیں کہ جو کچھ انہوں نے تخلیق کیا ہے وہ نثری نظم کے زمرے میں شمار ہو گا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر آزاد نظم سے بحر حذف کر دی جائے تو وہ نثری نظم کہلائے گی۔ ایسا ہرگز نہیں نثری نظم تو لکھنے والے سے گہرے شعور اور مکمل کمٹمنٹ کا مطالبہ کرتی ہے۔ نثری نظم لکھنے والے کے ذہن میں چند فنی پیمانے ضرور ہونے چاہییں تا کہ وہ ان کی پابندی کرتے ہوئے کوئی لایعنی یا بے معنوی نظم خلق کرنے سے گریز کرے۔

حوالہ جات

۱۔ محمد ہادی حسین، شاعری اور تخیل، مجلس ترقیء ادب، لاہور ، ۲۰۱۵ء، ص ۲۱
۲۔ سعادت سعید، اردو نظم میں جدیدیت کی تحریک، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۷ء، ص ۶۲
۳۔ ناصر عباس نیئر، ڈاکٹر، نظم کیسے پڑھیں، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۸ء، ص ۱۵۶
۴۔ افضال احمد سید، مٹی کی کان، آج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۰۹ء، ص ۲۰
۵۔ کاشف رضا، سید، ممنوعہ موسموں کی کتاب، شہر زاد، کراچی، ۲۰۱۲ء، ص ۳۰
۶۔ نصیر احمد ناصر، سرمئی نیند کی بازگشت، بک کارنر، جہلم، ۲۰۱۷ء، ص ۱۳
۷۔ ساحر شفیق، خود کشی کا دعوت نامہ، دستک پبلی کیشنز، ملتان، ۲۰۱۰ء، ص ۷۸
۸۔ زاہد امروز، کائناتی گردش میں عریاں شام، سانجھ، لاہور، ۲۰۱۳ء، ص ۳۱
۹۔ انجم سلیمی، ایک قدیم خیال کی نگرانی میں، دست خط مطبوعات، فیصل آباد، ۲۰۱۷ء، ص ۸۳
۱۰۔ تنویر انجم، نئی زبان کے حروف، آ ج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۲۰ء، ص ۱۱۳
۱۱۔ ثروت حسین، کلیات، آج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۱۵ء، ص ۳۵
۱۲۔ کاشف رضا سید، ممنوع موسموں کی کتاب، شہرزاد، کراچی، ۲۰۱۲ء، ص ۷۳
۱۳۔ ثروت حسین، کلیات، آج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۱۵ء، ص ۷۲

Categories
نان فکشن

لفظی ترجمہ اور صابن کا جھاگ (سید کاشف رضا)

(یہ مضمون بہاء الدین ذکریا یونی ورسٹی ملتان کی تراجم سے متعلق کانفرنس میں پڑھا گیا جو چھبیس اور ستائیس مئی دو ہزار اکیس کو آن لائن منعقد ہوئی)

تراجم کے سلسلے میں دو تین فقرے ہمارے ہاں بہت استعمال کیے جاتے ہیں:
ترجمہ رواں دواں ہے
ترجمہ، ترجمہ محسوس ہی نہیں ہوتا
ترجمہ اصل سے بڑھ گیا ہے

ادب تسلیم شدہ تصورات کو باربار پھرول کر دیکھنے کا بھی تو نام ہے۔ تو کیوں نہ مذکورہ بالا تین تصورات کو بھی ذرا چھان پھٹک کر دیکھ لیا جائے۔

یہ تین فقرے عام طور پر اس ترجمے کے حق میں استعمال کیے جاتے ہیں جسے تخلیقی ترجمہ کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک اور ترجمہ ہوتا ہے جسے لفظی ترجمہ کہا جاتا ہے۔ ان دونوں قسم کے تراجم کے موازنے کے لیے بہ طور نمونہ کسی ایسی تخلیق کا جائزہ لینا ہو گا جس کے ایک سے زائد تراجم ہو چکے ہوں جن میں ہم لفظی اور تخلیقی دونوں قسم کے تراجم کے لیے مثالیں تلاش کر سکیں۔

سن نوے کی دہائی میں دو برسوں، سن چھیانوے اور سن ستانوے میں، غیر ملکی افسانوں کے تراجم پر مشتمل دو مجموعے ایسے سامنے آئے جنھیں ہمارے فکشن نگاروں کی نئی پود اور عام قارئین نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ کراچی میں سندھی زبان سے وابستہ ادیبوں سے بھی میری بات ہوتی رہتی ہے اور وہ بھی ان دو مجموعوں کے اثرات کے قائل ہیں۔ ان میں سے ایک صغیر ملال کے تراجم پر مشتمل مجموعہ “بیسویں صدی کے شاہ کار افسانے” ہے جو مترجم کی وفات کے بعد انیس سو چھیانوے میں شائع ہوا اور دوسرا مجموعہ آصف فرخی کے لاطینی امریکا کے افسانوں کے تراجم پر مشتمل ہے جو “موت اور قطب نُما” کے نام سے انیس سو ستانوے میں شائع ہوا۔

ایک افسانہ ایسا ہے جس کا ترجمہ صغیر ملال اور آصف فرخی دونوں نے کیا ہے اور ہم بہ طور نمونہ اسی افسانے کو لیتے ہیں۔ یہ افسانہ کولومبیا کے فکشن نگار ایرناندو تیژیس نے انیس سو پچاس میں لکھا جس کا انگریزی میں ترجمہ “لیدر اینڈ نتھنگ ایلس” اور “جسٹ لیدر، دیٹس آل” کے نام سے ہوا۔ یہ افسانہ اتنا مشہور و معروف ہے کہ افسانوں کے کئی عالمی انتخابات میں شامل ہو چکا ہے اور اس کے ایک سے زائد انگریزی تراجم ہو چکے ہیں۔ یہ ایک حجام کی کہانی ہے جس کی دکان پر اس کا ایک ایسا حریف اپنی شیو بنوانے چلا آتا ہے جس سے حجام نفرت کرتا ہے کیوں کہ وہ ان باغیوں کے قتل میں ملوث ہے جن کے لیے حجام ہم دردی رکھتا ہے۔ کیا حجام اس کی شیو کے دوران اُسترا چلاتے ہوئے اس کی شہ رگ کاٹ دے گا؟ افسانے میں تناو اسی سوال سے جنم لیتا ہے۔

صغیر ملال اور آصف فرخی دونوں نے یہ تراجم انگریزی سے کیے۔ موازنے کے دوران پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ صغیر ملال اور آصف فرخی کے تراجم کی درُستی کا جائزہ لینے کے لیے انگریزی کا کون سا ترجمہ استعمال کیا جائے؟

آصف فرخی کے ترجمے میں ایک جگہ لکھا ہے کہ “اس کا نام ٹورس تھا۔ کپتان ٹورس۔ کہتے ہیں خاصا ذہین آدمی تھا، ورنہ کس کے دماغ میں یہ بات آ سکتی تھی کہ باغیوں کو ننگا کر کے پھانسی دے اور ان کے جسموں پر نشانہ بازی کی مشق کروائے۔” صغیر ملال کے ترجمے میں یہ سب باتیں آگے پیچھے ہیں مگر کپتان کی ذہانت والی بات موجود ہی نہیں۔ کیا آصف فرخی صاحب نے یہ حصہ اپنی طرف سے ایزاد کر دیا یا یہ اصل افسانے میں موجود تھا اور صغیر ملال ترجمہ کرتے ہوئے اسے چھوڑ گئے۔ اب میں نے ایرناندو تیژیس کا اصل افسانہ تلاش کیا جو ہسپانوی زبان میں ہے۔ اصل ہسپانوی افسانے میں یہ حصہ مل گیا جہاں ایرناندو تیژیس نے “باغیوں کو ننگا کر کے پھانسی دینے” کا ذکر کیا ہے۔ اس حصے کی شناخت “کپتان ٹورس” کے الفاظ کے بعد والے فقرے میں لفظ “ڈیسنوڈوز” سے ہوئی جو اردو لفظ “ننگا” کی جمع ہے اور جو ہسپانوی میں صیغہ ء تذکیر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

“لیدر اینڈ نتھنگ ایلس” کے نام سے ایک ترجمہ انٹرنیٹ پر موجود ہے جو لاطینی امریکی ریاستوں کی تنظیم کے دو ماہی جریدے “امیریکاس” میں شائع ہوا تھا۔ اس ترجمے میں مذکورہ بالا حصہ موجود نہیں۔ تاہم ڈونلڈ ژیٹس کے انگریزی ترجمے میں یہ حصہ موجود ہے۔ زیر نظر مقالے میں صغیر ملال اور آصف فرخی کے تراجم کی درُستی جانچنے کے لیے یہی یعنی ڈونلڈ ژیٹس کا ترجمہ استعمال کیا گیا ہے تاہم مخصوص الفاظ کی اصل دیکھنے کے لیے اصل ہسپانوی متن سے بھی رجوع کیا گیا ہے۔

میں پہلے ہی ذکر کر چکا ہوں کہ پاکستانی قارئین میں صغیر ملال اور آصف فرخی کے یہ دونوں مجموعے بہت مقبول رہے ہیں۔ آصف فرخی نے اور بھی بہت سے تراجم کیے جن میں ان کا یہ مجموعہ کچھ اوجھل سا ہو گیا مگر صغیر ملال کے تراجم کی یہی ایک کتاب تھی سو نمایاں تر رہی۔ اردو میں صغیر ملال کی اس کتاب کا مطالعہ بہت خوش گوار ہے۔ اس میں شامل متعدد افسانے مجھے بہت پسند رہے ہیں جن میں ٹالسٹائی کا “پیالہ”، خورخے لوئیس بورخِس اور فرانز کافکا کے افسانے اور ریمنڈ کارور کا افسانہ”زندگی” اور ایرناندو تیژیس کا یہ افسانہ بھی شامل ہے جس کا ترجمہ انھوں نے “جھاگ” کے عنوان سے کیا۔ افسانے کا آغاز تیژیس نے چار چھوٹے چھوٹے جملوں سے کیا ہے۔ میرے پیش نظر دونوں انگریزی تراجم میں یہ چار جملے چار ہی جملوں میں ترجمہ کیے گئے ہیں۔ آصف فرخی نے بھی ان چار جملوں کا ترجمہ چار ہی جملوں میں کیا۔ صغیر ملال افسانے کے ابتدائی حصے کا ترجمہ صغیر ملال یوں کرتے ہیں:
“میں چمڑے کی پٹی پر اُسترا تیز کرنے میں مصروف تھا کہ وہ خاموشی سے دکان میں داخل ہوا اور آئینے کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اپنے گاہک کا چہرہ پہچانتے ہی مجھ پر لرزہ طاری ہو گیا۔ مگر وہ میری حالت سے بے خبر رہا۔” صغیر ملال خود افسانہ نگار تھے اور شاید ان کا خیال ہو کہ ایک طاقت ور جملہ افسانے کی اُٹھان میں مدد دیتا ہے۔ ان کا پہلا جملہ تو خوب صورت ہے اور شاید کوئی اور موازنہ نگار یہ بھی کہے کہ یہ ترجمہ “اصل سے بڑھ گیا ہے”، مگر اس جملے کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ اصل تخلیق میں موجود نہیں۔ دوسری جانب آصف فرخی نے افسانے کے اسی آغاز کا ترجمہ یوں کیا ہے:
“وہ اندر آتے ہوئے کچھ نہیں بولا۔ میں اپنا تیز ترین اُسترا چمڑے کی پیٹی پر رگڑ رہا تھا۔ اسے پہچان کر میں کانپ گیا۔ مگر اس کی نظر میں یہ بات نہیں آئی۔”

اصل افسانے میں بات یوں شروع ہوتی ہے کہ کپتان ٹورس حجام کی دکان میں داخل ہوتا ہے، حجام اسے پہچان کر خوف زدہ ہو جاتا ہے، کپتان اپنی کمر سے بندھی اسلحے کی پیٹی اتار کر ایک کھونٹی پر لٹکاتا ہے اور اس کے بعد کرسی پر بیٹھتا ہے۔ صغیر ملال نے چوں کہ کپتان ٹورس کو آتے ہی کرسی پر بٹھا دیا ہے اس لیے جب کپتان ٹورس کی جانب سے اپنی پیٹی کھونٹی پر لٹکانے کا ذکر آتا ہے تو صغیر ملال کو اسے ایک مرتبہ پھر کرسی سے اٹھا کر کھونٹی کے پاس لے جانا پڑتا ہے۔ یوں افسانے کا خوب صورت آغاز کرنے کے چکر میں انھوں نے ان جانے میں کپتان ٹورس کو کچھ مخبوط الحواس دکھا دیا ہے جو حجام کی کرسی پر پہلے بیٹھتا ہے، پھر اٹھتا ہے، اپنی اسلحے کی پیٹی کھونٹی پر لٹکاتا ہے اور پھرکرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔ جب کہ افسانے میں درحقیقت کپتان ٹورس مکمل طور پر پُرسکون ہے اور اگر کوئی پریشان ہے تو وہ حجام ہے۔

گفتگو کی ابتداء کپتان ٹورس خود کرتا ہے اور حجام سے کہتا ہے کہ اس کی شیو بنا دے۔ اس کے بعد ایک اور جملہ اقتباسی کاما کے درمیان ہے۔ یہ جملہ کس نے بولا، دونوں انگریزی تراجم میں درج نہیں۔ اس جملے کا ترجمہ صغیر ملال نے یوں کیا:
“مرکزی قیادت کے دوسرے افسروں کے چہروں پر بھی یوں ہی داڑھیاں اُگ آئی ہوں گی”، میں نے کچھ کہنے کی خاطر کہا۔ جب کہ آصف فرخی نے یہ جملہ کپتان ٹورس کے منھ سے بلواتے ہوئے یوں ترجمہ کیا ہے:
“ٹولی کے دوسرے لڑکوں کی بھی اتنی ہی داڑھیاں ہوں گی”، وہ بولا

تیژیس نے یہاں لفظ “موچاچوس” استعمال کیا ہے جو ہسپانوی میں “لڑکے” یعنی موچاچو کی جمع ہے۔ انگریزی تراجم میں بھی اس کا ترجمہ “بوائز”ہی کیا گیا ہے۔ صغیر ملال نے ان لڑکوں کو “مرکزی قیادت کے افسر” بنا دیا۔ دوسرے یہ کہ اس افسانے کا قرینہ یہ بتاتا ہے کہ حجام خود بات کرنے سے حتی الامکان گریز کر رہا ہے اور بعد میں بھی بہت کم بولتا ہے۔ وہ ایسا جملہ کیوں کہے گا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ وہ کپتان ٹورس کی مہمات کی خبریں رکھتا ہے۔ یہ جملہ کپتان ٹورس ہی بول سکتا تھا، وہی اپنے دستے کے سپاہیوں کو “لڑکے” کہنے کی بے تکلفی کر سکتا تھا اور اگلا جملہ اسی جملے کی توسیع میں اسی کے منھ سے ادا ہوتا ہے۔

اسی طرح ایک موقع پر حجام سڑک کے پار “گروسری” کی دکان کا ذکر کرتا ہے جس کا ترجمہ کرتے ہوئے صغیر ملال نے صرف “ایک دکان” کے الفاظ استعمال کیے ہیں جب کہ آصف فرخی نے ترجمے میں “سبزی کی دکان” کا ذکر کیا ہے۔

صغیر ملال نے مختصر سے اس افسانے کا ترجمہ سوا آٹھ صفحات میں کیا جس کے پہلے تین صفحات میں تئیس مقامات ایسے ہیں جہاں صغیر ملال نے ترجمے میں اپنی طرف سے کم یا زیادہ اضافہ کر دیا۔ اگلے صفحات سے ایسے اضافے تلاش کرنے کی مجھ میں تاب نہیں رہی۔ انگریزی لفظ “کیپیٹل” کا ترجمہ “دارالخلافہ” کرنے جیسے غلطیاں اس پر مستزاد ہیں۔ آصف فرخی کو اس افسانے کا ترجمہ کرنے پر صرف سوا چھ صفحات صرف کرنا پڑے جس میں کوئی ایک فقرہ بھی اضافی نہیں۔ بعض مقامات پر انھوں نے ایسا خوب صورت ترجمہ کیا ہے کہ ان کا ترجمہ لفظی ہونے کے باوجود تخلیقی بھی قرار دیا جا سکتا ہے، مثلاً یہ فقرہ دیکھیے:
There, for sure, the razor had to be handled masterfully, since the hair, although softer, grew into little swirls.
اس کا ترجمہ آصف فرخی نے یوں کیا ہے:
“وہاں یقینی طور پر مہارت سے اُسترا چلانے کی ضرورت تھی کیوں کہ وہاں کے بال نرم تو تھے مگر اُن میں گھونگھر پڑ گیا تھا۔”

ایک مقام پر البتہ آصف فرخی صاحب سے ایک فقرہ چھوٹ گیا جہاں حجام کپتان ٹورس کی شہ رگ پر پہنچتا ہے۔ ترجمہ کرتے ہوئے کسی فقرے کا چھوٹ جاتا عام بات ہے اور اگر کوئی مدیر ترجمے پر نظرثانی کر رہا ہو تو وہ اس کی نشان دہی کر دیتا ہے۔ تاہم پاکستان میں مترجم کا ڈرافٹ ہی فائنل ڈرافٹ سمجھا جاتا ہے۔

بہ ہر حال دو تین نمونے ہی اس بات کے ثبوت میں کافی رہنے چاہئیں کہ صغیر ملال افسانے کا ترجمہ کرتے ہوئے اصل متن سے بار بار ہٹ گئے۔ شاید انھوں نے ایسا اس لیے کیا کیوں کہ وہ عام طور پر ڈائجسٹ کے لیے ترجمہ کرتے تھے۔ ان کا ترجمہ شدہ افسانہ چاہے قرات میں کتنا ہی پرلطف ہو مگر اصل متن کی کماحقہ نمایندگی نہیں کرتا۔ اب اس ترجمے کے بارے میں کوئی قاری وہ تینوں فقرے استعمال کر سکتا ہے جن کی نشان دہی میں نے شروع میں کی کہ “یہ ترجمہ رواں دواں ہے”، “یہ ترجمہ، ترجمہ محسوس ہی نہیں ہوتا” اور “یہ ترجمہ اصل سے بڑھ گیا”۔

لیکن کیا مترجم کو اس مداخلت کا حق ہونا بھی چاہیے؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ کوئی تخلیق جیسی ہے اسے ویسا ہی پیش کر دیا جائے اور تخلیق کار کی تصحیح کرنے اور اس کی تخلیق کو “اصل سے بڑھا دینے” کی کوشش نہ کی جائے؟ کیوں کہ ایسی صورت میں ہم اصل تخلیق کار کو نہیں بل کہ اس کی ترجمانی کا مطالعہ کر رہے ہوتے ہیں۔

ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ اصل متن سے موازنہ کیے بغیر کیا ایسے مدحیہ فقرے استعمال کیے بھی جا سکتے ہیں، جن کا میں نے مضمون کے شروع میں ذکر کیا؟

میرے لیے تو ادبی ترجمے کا اولین امتحان ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اردو میں کچھ اوپرا اوپرا محسوس ہو۔ اس کے الفاظ، جملوں اور اسلوب میں کوئی نیا پن محسوس ہو۔ اگر برطانیہ کا پیٹر اور کولومبیا کا کارلوس بھی ارے صاحب، ارے حضرت جیسے الفاظ استعمال کر رہا ہے تو میں ترجمے کی صحت پر شک ضرور کرتا ہوں۔

کیا اردو کے دیگر تراجم میں بھی اصل متن کو سامنے رکھ کر ترجمے کے بجائے اپنے طور پر ترجمانی کی کوشش موجود ہے؟ اگر ایسا ہے تو وہ ترجمہ بہ طور تخلیق کتنا ہی اچھا ہو، اسے اصل تخلیق کا ترجمہ قرار نہیں دیا جائے گا۔ اس کے بجائے لفظی ترجمے میں کم از کم ہمیں اتنا تو اعتبار ہوتا ہے کہ ہم اصل متن ہی کا ترجمہ پڑھ رہے ہیں جس میں مترجم صرف ترجمہ کر رہا ہے اور اس نے ازخود ہی شریک مصنف کا کردار نہیں سنبھال لیا۔

بہتر ہوگا کہ ہم صابن خریدنے جائیں تو ہمیں صابن ہی ملے، صابن کا جھاگ نہیں۔

Categories
شاعری

مجھے ایک کشتی بنانے کی اجازت دو (سید کاشف رضا)

اگر تم میری دھرتی کو
اپنے گھوڑوں کی چراگاہ
اپنے کتوں کی شکارگاہ بنانا چاہتے ہو
تو مجھے بھی ایک کشتی بنانے کی اجازت دو
جس میں میں لاد کر لے جا سکوں
اپنا کنبہ
خوابوں کی گٹھریاں
اور ایک عورت
جو میرے ساتھ چلنا پسند کرتی تھی
مجھے نکال کر لے جانے دو
گلیاں جن کی
دھول میرے پیروں نے چاٹی
شہر جن کی
خاک میری آنکھوں نے پھانکی
لوگ جو تم سے
اجازت لے کر پیدا نہیں ہوئے
لوگ جو تم کو
اطلاع دیے بغیر مر گئے
مجھے نکال کر لے جانے دو
ٹوٹے ہوئے چولھے
بکھری ہوئی تختیاں
بچے جن کی
قمیصوں میں بٹن نہیں ہوتے
مجھے نکال کر لے جانے دو
میری ماں کی قبر
جسے میں تمہارے گھوڑوں
تمہارے کتوں کے لیے نہیں چھوڑ سکتا

Categories
شاعری

ایک عشق کی نسلی تاریخ

میں اس کی سانسیں سونگھتا ہوا
دریاؤں اور میدانوں میں داخل ہوا تھا
اور وہ مجھے زرخیز زمین کی طرح ملی تھی
میں تاریک راتوں میں جنما ہوا مہتاب تھا
اور وہ شریانوں سے خون اچھال دینے والی تمازت تھی
میں ریت کی کشادہ دامنی تھا
اور اس کی پشت سرما کے سورج کی طرح تھی
میں ایڑ لگائے ہوئے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر کودنے والے کا بیٹا تھا
اور اس کی آنکھوں میں
جاٹوں کی خوں ریز صدیاں چنوتی دیتی تھیں
وہ گناہ کی طرح نمکین تھی
اور وہ ذائقہ تھی جو چکھے بغیر زبان پر پھر جاتا تھا
اور میں اس کی گدی میں دانت گاڑ دینے کی حسرت میں تھا
وہ دھرتی پر پھیلا ہوا سرسوں کا کھیت تھی
اور اس کے ہاتھ گندم کاٹنے والی ماں نے بنائے تھے
اور اس کی ناف کے گرد بھر پرا سکم تھا
اور اس کی گھنڈی میں ایسی جان تھی
کہ اس کا باپ موریا عہد میں پتھر چمکانے کا کاری گر معلوم ہوتا تھا
اور اس کے جسم میں توے پر سرخ کی گئی روٹی کی خوشبو تھی
اور میں آنتوں سے اگی ہوئی آرزو تھا
اور میں تلواروں کی موسیقی پر پڑھا ہوا رجز تھا
اور میں تیر کھائے ہوئے گھوڑے سے گری ہار تھا
اور وہ ایسی جیت تھی
جس کی یاد میں
زمین پر کوئی لاٹھ گاڑی جا سکتی تھی

Categories
تبصرہ

ماہِ میر آخر کون سے میر تقی میر پر بنائی گئی؟

ماہِ میر فلم میں اردو کے عظیم شاعر میر تقی میر کی زندگی کو دورِ حاضر کے ایک شاعر جمال کی زندگی سے ملا کر دکھایا گیا ہے۔ یوں یہ فلم تمام کی تمام میر تقی میر کی زندگی پر تو نہیں، لیکن اس میں میر تقی میر کی زندگی کی جھلکیاں بھی دکھائی گئی ہیں۔ میر کے بعض قصے تو محمد حسین آزاد کی کتاب ’آبِ حیات‘ کی وجہ سے ادبی حلقوں میں زباں زدِ خواص و عوام ہیں، جو اس فلم میں بھی سموئے گئے ہیں، مثلاً میر کی جانب سے یہ کہنا کہ فی زمانہ صرف دو شاعر ہیں، ایک وہ خود اور دوسرے میرزا سودا۔ میر درد آدھے شاعر ہیں اور میر سوز کو بھی شامل کر لیجیے تو یہ پونے تین ہو گئے۔ پھر وہ قصہ کہ نواب صاحب ان کے شعر سنتے ہوئے مچھلیوں سے کھیلنے میں مگن ہیں۔ مگر کچھ واقعات ایسے شامل کیے گئے ہیں جن کا میر تقی میر کی زندگی سے واسطہ نہیں۔ مثلاً میر تقی میر کو عالمِ نوجوانی میں لکھنو کے نواب آصف الدّولہ کے دربار سے وابستہ دکھایا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میر صاحب جب لکھنو گئے تو ان کی عمر ساٹھ سال ہو چکی تھی۔ میر کی جس محبوبہ کو نواب آصف الدولہ کے دربار سے وابستہ بتایا گیا ہے ان کا کوئی وجود نہیں تھا۔ میر اپنی زندگی میں ایک سے زیادہ خواتین سے محبت کے رشتے میں منسلک ہوئے۔ ان میں سے وہ خاتون جن کا نام ’مہتاب‘ بتایا جاتا ہے ان کے بارے میں میر کے سوانح پر کام کرنے والوں کا کہنا یہ ہے کہ اس کا تعلق میر اور ان کے ماموں سراج الدین علی خان آرزو کے گھرانے سے تھا اور میر کے اپنے ماموں سے اختلافات کا ایک سبب وہی بنی تھیں۔ یہ بھی ثابت نہیں کہ ان کا نام ’مہتاب بیگم ‘ ہی تھا۔ میر نے اپنی مثنوی ’خواب و خیال ‘ میں اس ابتدائی محبت کا ذکر کرتے ہوئے ابتداء یوں کی ہے کہ انھیں عالمِ جنون میں اپنی محبوبہ کی شکل مہتاب میں نظر آتی تھی اس لیے بعض محققین نے ان کی محبوبہ کا نام ’مہتاب بیگم‘ بتایا ہے۔ چلیے اتنا تو ٹھیک ہے لیکن جب مہتاب بیگم نواب آصف الدولہ کے دربار سے وابستہ نہیں تھیں تو نواب صاحب ان کو پروپوز بھی نہیں کر سکتے تھے جیسا کہ اس فلم میں دکھایا گیا ہے۔ جب میر کی نواب آصف الدولہ سے ملاقات ہوئی تو وہ جوان نہیں بل کہ بزرگ تھے اور میر کی زندگی میں ہی ان کی وفات بھی ہو گئی، مگر فلم میں نواب آصف الدولہ کو جوان دکھایا گیا ہے۔

ہاں میر کی زندگی میں آنے والی ایک اور خاتون کا ذکر شمس الرحمان فاروقی نے اپنے ایک افسانے میں کیا ہے۔ ’نورالسعادۃ‘ نامی اس خاتون کا تعلق ناچنے گانے والوں سے ہے۔ امکانی طور پر یہ سارا قصہ فاروقی صاحب کے فکشن نگار ذہن کا کرشمہ ہے۔ سرمد صہبائی نے اگر اس افسانے سے استفادہ کیا بھی ہے تو اسے تسلیم کرنے سے گریز کیا ہے۔ اگر وہ اس کہانی سے استفادہ کرنا ہی چاہتے تھے تو پوری طرح کرتے، اس طرح کہانی میں وہ جھول پیدا نہ ہوتے جو فلم میں بہت واضح طور پر نظر آتے ہیں۔

فلم میں معروف شاعر انشاء اللہ خاں انشاء میر سے ملنے آتے ہیں تو میر انھیں اپنی مثنوی کے کچھ اشعار سناتے ہیں۔ ان اشعار میں کتوں کا ذکر ہے۔ اب جانے یہ ڈائریکٹر کی کارستانی ہے یا مصنف کی، کہ میر صاحب کتوں سے متعلق یہ اشعار سناتے ہوئے چہرے پر ایسے تاثرات پیدا کرتے ہیں اور لہجے کے اتار چڑھاو میں ایسا طنز پیدا کرتے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سید انشاء کو بھی کتوں میں شامل کر رہے ہیں۔ میر کو سید انشاء سے جس انداز سے بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے وہ بھی نہ میر کے شایانِ شان ہے نہ سید انشاء کے۔ سید انشاء اللہ خاں انشاء اپنے عہد کے صرف معروف شاعر ہی نہیں تھے بلکہ بہت بڑے عالم بھی تھے۔ کئی زبانیں جانتے تھے۔ اردو قواعد پر ابتدائی کام انھوں نے کیا اور ایک مرتبہ جب بات چھڑی کہ اردو میں فارسی عربی الفاظ کی بھرمار ہے تو ’رانی کیتکی کی کہانی‘ کے نام سے ایک داستان لکھی جس میں ایک بھی لفظ عربی یا فارسی کا نہیں تھا۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ میر تقی میر جیسا شاعر انشاء اللہ خاں انشاء کے مقام سے آگاہ نہ ہو، چہ جائے کہ انھیں سید انشاء سے بدتمیزی کرتے بلکہ انھیں کتے سے تشبیہ دیتے ہوئے دکھایا جائے۔ اگر مصنف یا ڈائریکٹر کو یہ دکھانا ہی تھا کہ میر اپنے دور کے شاعروںسے بے دماغی برتتے ہیں تو انھیں چاہیے تھا کہ میر کے ملاقاتی شاعر کا نام کچھ اور رکھ لیتے، انشاء اللہ خاں انشاء نہ رکھتے۔

یہ ذکر تو ہوا فلم کی واقعاتی اغلاط کا۔ فلم میں دو ٹریک ہیں اور دوسرے ٹریک کی کہانی ایک جدید شاعر جمال کے گرد گھومتی ہے جس کی زندگی میر کی زندگی سے مشابہ دکھائی گئی ہے۔ مگر اس ٹریک کی کہانی میں جھول بہت ہیں۔ فلم میں دورِ جدید کے جس شاعر کو دکھایا گیا ہے اس کی زندگی اتفاقات سے بھرپور ہے۔ کہانی میں کئی ایسے خلا ہیں جو کہانی پر بحث کر کے بہ آسانی دور کیے جا سکتے تھے، مگر لگتا ہے کہ ڈائریکٹر نے کہانی کو کسی الوہی تحفے کی طرح قبول کیا ہوا تھا۔ ایسے خلا یا فلاز عموماً ان کہانی کاروں کی کہانی میں نظر آتے ہیں جنھوں نے کبھی کوئی جاسوسی کہانی نہ پڑھی ہو اور صرف خوابوں ہی کی دنیا میں زندگی گزار دی ہو۔ آئیے کہانی کے ان گیپس کا کچھ ذکر کرتے ہیں۔

نوجوان شاعر جمال کو بس میں سفر کے دوران ایک لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے۔ اس لڑکی کا کردار ایمان علی نے ادا کیا ہے۔ لڑکی کے بس سے اترتے ہی جمال اس کا پیچھا کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ نظر سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ پھر حسنِ اتفاق سے وہی لڑکی حلقہ ء اربابِ ذوق کے اس اجلاس میں نظر آتی ہے جس میں جمال اپنا ایک تنقیدی مقالہ پیش کرتا ہے۔ لڑکی جمال کے مقالے سے متاثر ہوتی ہے اور جمال کا موبائل نمبر نوٹ کر کے حلقے کے اجلاس کے دوران ہی وہاں سے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ جمال، جس کی تحریر پر حلقے میں بحث جاری ہے، وہ بھی اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور لڑکی کا پیچھا کرتا ہے۔ کراچی یا لاہور میں حلقہ ء اربابِ ذوق کے اجلاس سے کوئی اور صاحب تو اٹھ کر جا سکتے ہیں مگر خود مصنف کا اٹھ کر جانا ایسا غیر معمولی واقعہ ہوتا ہے کہ اسے واک آئوٹ ہی کہا جائے گا۔ ایسے واقعے کے بعد کوئی اسے منانے نہ آئے، یہ بہت عجیب بات ہے۔ دوسرے یہ کہ جو لڑکی اکیلی حلقہ ء اربابِ ذوق کے اجلاس میں شرکت کے لیے آ سکتی ہے وہ جمال کو اپنا نام بھی تو بتا سکتی ہے۔ اپنے مسائل سے بھی تو آگاہ کر سکتی ہے۔ لڑکی اجلاس سے باہر نکلتی ہے تو جمال کو ایس ایم ایس پر میر کا شعر بھیجتی ہے:

دل سے مرے لگا نہ تیرا دل، ہزار حیف
یہ شیشہ ایک عمر سے مشتاقِ سنگ تھا

جمال پتا پوچھتا ہے تو بتاتی ہے کہ :ع۔ تم جہاں کے ہو، واں کے ہم بھی ہیں۔ اس پر جمال کا دوست سراج سمجھ جاتا ہے کہ وہ جمال ہی کے محلے کی ہے مگر جمال فوری طور پر یہ پتا نہیں لگا پاتا کہ وہ اس کے محلے میں رہتی کہاں ہے۔ حلقے میں لڑکی کی آمد کے حسنِ اتفاق کے بعد ایسا سوئے اتفاق اس لیے لازم سمجھا گیا کہ جمال کو اس وحشت کا شکار کیا جا سکے جس سے مصنف سرمد صہبائی فلم میں ایک خاص کام لینا چاہتے ہیں۔ ویسے اسے بھی حسنِ اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے کہ ایک لڑکی حلقہ ء اربابِ ذوق میں کسی کی تحریر سن کر اس پر عاشق ہو جائے اور تحریر بھی وہ جو ایک تنقیدی تحریر ہے۔

فلم میں کچھ اور مناظر بھی ایسے ہیں جو حقیقت کے بجائے ماورائے حقیقت یا جادوئی حقیقت کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً نوجوان شاعر جمال کافی ہاوس میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا ہے جس پر ایک ادبی پروگرام آ رہا ہے اور اس پر ڈاکٹر کلیم گفتگو کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر کلیم کی گفتگو سنتے ہی پورے کافی ہائوس میں موجود لوگ اٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور پوری توجہ سے ڈاکٹر کلیم کی گفتگو سننے لگتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آج کل کے ٹی وی ناظرین کے سامنے اگر کوئی ملکہ ء حسن پردہ ء اسکرین پر دعوتِ گناہ بھی دے رہی ہو تب بھی وہ کم از کم ایسا اشتیاق تو ظاہر نہیں کریں گے۔ ناول کا مرکزی کردار جمال اس سین کے دوران موبائل فون سے پروگرام میں لائیو کال کرتا ہے تو اینکر گھبرا کر پروگرام کے خاتمے کا اعلان کر دیتا ہے۔ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ شاید جمال نے اینکر کی آف شور کمپنی کے بارے میں انکشاف کرنے کی کوشش کی ہو گی؟ جی نہیں جمال نے صرف ڈاکٹر کلیم کے موقف سے اختلاف ظاہر کیا تھا۔ فلم کے پروڈیوسر خرم شہزاد اتنا تو جانتے ہی ہوں گے کہ ایسی بدمزگی کے موقع پر کنٹرول روم میں بیٹھا عملہ کالر کی کال ڈراپ کر دیتا ہے، پروگرام کو وائنڈ اپ نہیں کیا جاتا۔
جمال ایک نوجوان شاعر ہے جسے کلاسیکی ادب سے دلچسپی نہیں۔ وہ نثری نظمیں کہتا ہے اور پاپولر ادب تخلیق کرنے والوں پر لعنت بھیجتا ہے۔ پاپولر ادب تخلیق کرنے والی ایک خاتون اس سے باربار ملتی ہے اور اس سے گزارش کرتی ہے کہ وہ اس کی نئی کتاب پر ایک کالم لکھ دے۔ جمال اس سے انکار کرتا ہے تو وہ لڑکی اخبار میں جمال کا کالم بند کرا دیتی ہے۔ اس لڑکی کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ تو بس لفظوں کو ادھر اُدھر کرتی ہے اور شاعری تو وہ ہے جو جمال کرتا ہے۔ حالانکہ عام طور پر پاپولر لکھاری خود کو بڑا لکھاری بھی سمجھتے ہیں اور جمال جیسے بزعمِ خود بقراطوں کو زیادہ گھاس بھی نہیں ڈالتے۔ ویسے اس لڑکی کا کردار جن خاتون نے ادا کیا ہے انھوں نے اوور ایکٹنگ کے کافی ریکارڈ توڑے ہیں۔

جمال ایک اینگری ینگ مین ہے اور خود کو ایک منفرد شاعر سمجھتا ہے جس کا ہر شاعر کو حق بھی حاصل ہے۔ لیکن اسے میر تقی میر کے ان اشعار میں سے بھی کچھ کی سمجھ نہیں آتی جو ’ایک لڑکی‘ اسے ایس ایم ایس پر لکھ لکھ کر بھیجتی ہے۔ لگتا یہی ہے کہ اس نے ابھی تک میر تقی میر جیسے شاعر کا ٹھیک سے مطالعہ بھی نہیں کیا۔ یہ ایک حیرت انگیز بات ہے۔ کالج یا یونی ورسٹی میں ممتاز ہونے کی کافی لوگوں کو خواہش ہوتی ہے۔ جمال کا کردار ان لڑکوں کا پروٹو ٹائپ نظر آتا ہے جو کالج یا یونی ورسٹی میں اپنے انٹیلیکچوئل پرسونا کی انفرادیت کی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں۔ جو ایک دو کتابیں پڑھ کر ہی اپنے علاوہ باقی سب کو خبطی اور جاہل بل کہ ’جھائل‘ سمجھنے لگتے ہیں، بل کہ سرِ عام اس کا اعلان بھی کرتے پھرتے ہیں۔ میں بھی ابھی چند برس پہلے کالج یونی ورسٹی میں پڑھتا تھا اور میری ملاقات ایسے نمونوں سے ہوتی تھی جنھوں نے یہ طے کیا تھا کہ ادب کی تخلیق تو خیر بعد میں بھی ہوتی رہے گی فی الوقت پہلی فرصت میںعظیم ہو لیا جائے۔ جمال ایسا ہی ’عظیم‘ شاعر ہے، جسے محبت تک اپنے ’عظیم شاعر‘ ہونے کے بعد ہوتی ہے۔

ڈاکٹر کلیم ایک جانب تو جدید شاعری کے مداح نہیں اور جمال ایک ٹی وی پروگرام میں لائیو کال کر کے ان کی بے عزتی بھی کر چکا ہے لیکن جب جمال بیمار ہوتا ہے تو وہ اس کی عیادت کو آتے ہیں اور اسے یہ بتاتے ہیں کہ وہ ایک بین الاقوامی انتھالوجی کے لیے اس کی نظموں کا ترجمہ کرنا چاہتے ہیں۔ ترجمے کی غرض سے نظمیں وہ بعد میں لیتے ہیں مگر جمال کے لیے پچاس ہزار روپے کا چیک پہلے ہی اپنے ساتھ لیتے آتے ہیں۔ یہ ایسا موقع ہے جب جمال کا کردار ادا کرنے والے فہد مصطفی ڈاکٹر کلیم کی باتیں غور سے سنتے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں ہمارا ’عظیم شاعر‘ پچاس ہزار روپے کا چیک ملتے ہی اپنے سینئر حریف کی عزت کرنے لگتا ہے۔ یہ بات اسے ڈاکٹر کلیم کی روانگی کے بعد معلوم ہوتی ہے کہ وہ ’ایک لڑکی‘ اس کے مکان کے قریب ہی ایک گھر پر رہتی ہے۔ لڑکی چھت پر کپڑے سکھانے کے لیے ڈال رہی ہے اور جمال اسے اوپر واقع اپنے مکان یا فلیٹ کی چھت سے دیکھتا رہ جاتا ہے۔

ایک ایسی کتاب جس میں قاری کو دلچسپی بھی پیدا ہو چکی ہو کتنے روز میں پڑھی جا سکتی ہے؟ میرا خیال ہے دو تین روز میں۔ چلیے ان دو تین روز کو بڑھا کر پندرہ روز کر لیتے ہیں۔ ان دو تین یا پندرہ سولہ روز کے بعد جمال ڈاکٹر کلیم سے آخری ملاقات کرتا ہے اور واپس اپنے مکان میںآتا ہے تو اسے وہ ’ایک لڑکی‘ دلہن بنی اپنے دولہا کے ساتھ گلی میں بارات کے ساتھ آتی دکھائی دیتی ہے۔

ڈاکٹر کلیم کے گھر جا کر جمال انھیں طعنہ دیتا ہے کہ انھوں نے میر کی جس ’وحشت‘ کا تذکرہ کرنے میں اپنی کتاب کے پچاس صفحات صرف کیے، انھوں نے خود ساری زندگی اس سے گریز کیا۔ ڈاکٹر کلیم نے ’وحشت‘ سے گریز یوں کیا تھا کہ اپنی محبوبہ کے ساتھ ہوائی جہاز کے ذریعے فرار کا منصوبہ پورا نہیں کیا تھا اور اپنے والد کی بات مان کر اپنے شہر میں ہی بیٹھے رہ گئے تھے۔ فلم میں جمال کا کردار دیکھ کر ہمیں یقین ہوتا ہے کہ جمال تو کم از کم اس ’وحشت‘ سے متصف ہوگا جو وہ ڈاکٹر کلیم میں مفقود دیکھ رہا ہے۔ مگر وہ بھی اپنی محبوبہ کو کسی اور کی دلہن بنے دیکھتا رہ جاتا ہے اور ’وحشت‘ کے عالم میں کچھ نہیں کر پاتا۔ حالانکہ اس سلسلے میں عملی قدم تو اسے محبوبہ کی شادی سے پہلے اٹھانا چاہیے تھا۔

فلم میں ادبی جملوں اور نظریات کی بھی بھرمار ہے۔ ایک نظریہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ ’روایت‘ اور ’کلاسیک‘ میں فرق ہوتا ہے۔ روایت ختم ہو جاتی ہے جب کہ کلاسیک ہمیشہ زندہ رہنے والی چیز ہوتی ہے۔ یہ جملہ ٹی ایس ایلیٹ نے نہیں سنا ورنہ کم از کم وہ تو پھڑک کر رہ جاتا۔ ایلیٹ نے ’روایت‘ کو کسی بھی شاعر یا ادیب کے لیے اہم ترین ماخذ قرار دیا تھا، مگر فلم ’ماہِ میر‘ کا مصنف ’روایت‘ کے انتہائی اہم لفظ کو شاید ’روایتی‘ کے لفظ سے خلط ملط کر گیا۔ ایک اور نظریہ میر کی ’وحشت‘ کا ہے۔ ڈاکٹر کلیم نے اپنی محبوبہ کے ساتھ فرار نہ ہو کر ’وحشت‘ سے گریز کیا اور ایک آرام دہ زندگی کو ترجیح دی۔ جمال ایسی آرام دہ زندگی کے امکانات کو تج کر بیٹھا ہے اور سماجی باغی کی زندگی بسر کر رہا ہے۔

جمال ڈاکٹر کلیم کو طعنہ دیتا ہے تو انھیں دل میں درد اٹھتا ہے۔ فلم دیکھنے والا ہر شخص جان لیتا ہے کہ ڈاکٹر کلیم کو دل کا دورہ پڑا ہے، لیکن جمال کو یہ بات معلوم نہیں۔ وہ ڈاکٹر کلیم کے سونے کے کمرے سے ان کی دوا لاتا ہے، وہاں ان کی محبوبہ، یعنی ہما نواب کی تصویریں دیکھتا ہے، دوا لاتا ہے، ڈاکٹر کلیم کو دیتا ہے، دو تین مرتبہ ڈاکٹر کو بلانے کی پیش کش کرتا ہے اور پھر گھر سے چلتا بنتا ہے۔ ڈاکٹر کلیم کے کمرے میں ہما نواب کی تصویریں دیکھتے ہوئے بھی وہ زیادہ تیز روی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ ایک ایسے کردار کو اگر ’منفرد‘ کردار نہ کہا جائے تو یقینا اس سے زیادتی ہو گی۔

اگلے روز وہ کافی ہاوس میں جاتا ہے تو ٹی وی پر ڈاکٹر کلیم کے انتقال کی خبر چل رہی ہوتی ہے۔ ایک پبلشر، جو اس سے پہلے جمال کو شاعری کے بجائے کوئی ڈھنگ کی کتاب لکھنے کا مشورہ دے چکا ہے، جمال کے پاس آتا ہے اور اسے یہ خفیہ اطلاع بریکنگ نیوز کی صورت میں دیتا ہے کہ اس نے جمال کی کتاب نہ صرف چھاپنے کا فیصلہ کیا ہے بل کہ وہ کتاب چھاپ بھی دی ہے، بل کہ وہ کتاب اس کے ہاتھ میں بھی موجود ہے، بل کہ اس پر ڈاکٹر کلیم اپنا دیباچہ بھی لکھ مرے ہیں۔ جمال شاید اپنی وحشت میں یہ بات بھی فراموش کر بیٹھا تھا کہ اس نے اپنی کتاب ایک پبلشر کو دے رکھی تھی۔

جمال کی اس کتاب کا نام ہے ’ماہِ عریاں‘۔ یوں یہ بات فلم کے آخر میں جا کر کھلی کہ جمال کے پردہ ء زنگاری میں کون معشوق چھپا بیٹھا تھا۔ یہ سرمد صہبائی خود ہی تھے جن کے تازہ شعری مجموعے کا نام بھی ’ماہِ عریاں‘ ہے۔ یعنی سرمد صہبائی صاحب نے فلم کے نام سے یہ سارا کھیل اپنی شاعرانہ عظمت اور شعری نظریات کی درستی کو ثابت کرنے کے لیے رچایا تھا۔ ڈائریکٹر اور پروڈیوسر صاحب جانے انجانے میں اس کھیل کا حصہ بنے اور شاید انھیں اس کے لیے معاف کیا جا سکتا ہے کہ شاید انٹلیکچوئلز میں ان کی ملاقات صرف سرمد صہبائی صاحب سے ہی ہوئی تھی۔

کہانی میں اتنے زیادہ جھول ہونے کے بعد کیا یہ فلم دیکھنے کے قابل رہ جاتی ہے۔ میرا خیال ہے یہ جھول ایک اچھے ڈائریکٹر کو دور کر لینے چاہئیں تھے لیکن ڈائریکٹر نے شاید اس اسکرپٹ کو ایک تبرک کے طور پر قبول کیا تھا۔ اپنے ایک انٹرویو میں ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ وہ سرمد صہبائی سے ڈرتے تھے کیونکہ وہ تھوڑی سی بھی اونچ نیچ برداشت نہیں کرتے تھے۔سرمد صہبائی سے توقع ہے کہ انھوں نے اپنی فلم میں میر تقی میر کے اشعار درست پڑھوانے پر تو خاص طور پر اصرار کیا ہوگا۔ منظر صہبائی کی قرات تو بہت اچھی تھی، ایمان علی نے بھی شعروں کے وزن سے انصاف ہی کیا، مگر فہد مصطفی ایک دو مرتبہ شعر غلط پڑھ گئے۔

تب بھی میں یہ کہوں گا کہ یہ فلم دیکھنے کے قابل ہے۔ منظر صہبائی نے نہ صرف اشعار بلکہ نثر کی قرات بھی خوب کی ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایک نقاد اور انٹلیکچوئل کا کردار بھی خوب نبھایا ہے۔ ایمان علی میر تقی میر کی محبوبہ کے کردار میں خوب جچی ہیں۔ واقعی میر کی محبوبہ کو اتنا ہی خوب صورت ہونا چاہیے تھا۔ فلم کے ڈائریکٹر نے ایمان علی کی خوب صورتی نمایاں کرنے میں اپنے فن کی ساری قوتیں صرف کر دی ہیں۔ بس میں ایمان علی کے پیروں اور ہاتھوں کی جھلک واقعی دل فریب ہے۔ ایک جھول یہاں بھی موجود ہے کہ بس میں جاتی ہوئی ایمان علی کے پیروں میں سونے کی پازیب بھی موجود ہے۔ کم از کم کراچی میںتو بس میں سفر کرنے والی کوئی خاتون اس کا رسک نہیں لے سکتی۔ ایمان علی جہاں جہاں میر تقی میر کی محبوبہ کے روپ میں جلوہ گر ہوئی ہیں وہاں ان کی جلوہ آرائی اور بھی قابلِ دید ہے۔ ایک منظر میں وہ میر تقی میر کا ایک ہوس ناک شعر سنا کر میر صاحب کو آگاہ کرتی ہیں کہ اب وہ وصال کے لیے آمادہ ہیں۔ ایسے میں ان کی نوکرانی کباب میں ہڈی بن کر کمرے میں آ جاتی ہے۔ شاید یہ بتانا مطلوب ہے کہ ان دنوں ایسی قریبی ملاقاتوں کے لیے دروازوں کی اوٹ کا تکلف نہیں کیا جاتا تھا، یا پھر شاید فلم مغلِ اعظم کی یاد آ گئی ہو جس میں شہزادہ سلیم کو انارکلی کا حسین چہرہ مور کے پنکھ سے چھوتے ہوئے اس چھنال دل آرام نے دیکھ لیا تھا۔ وہ نوکرانی نواب صاحب کے تحائف کی خبر لائی ہے جسے مہتاب بیگم بہ سر و چشم قبول کر لیتی ہیں۔ اس پر میر صاحب ناراض ہو جاتے ہیںاور بتاتے ہیں کہ وہ خواب دیکھ سکتے ہیں اور یہ کر سکتے ہیں اور وہ کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر وہ مہتاب بیگم کو بانہوں سے پکڑ کر اس کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب لے آتے ہیں۔ اس موقع پر مہتاب بیگم کے چہرہ کسی سیڈکٹرس کے چہرے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کے ہونٹ، میر صاحب کے ہونٹوں کے بالکل نیچے، کھلے ہوئے ہیں اور اس کی آنکھیں بہت گمبھیر ہو چلی ہیں۔ اس موقع پر میر تقی میر کے بجائے فیض احمد فیض کا مصرعہ یاد آتا ہے کہ : ہائے اس شوخ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے ہونٹ۔ خیر میر تقی میر اس موقع پر مہتاب بیگم کو شعر پر شعر سنائے چلے جاتے ہیں، حالانکہ ایسا موقع تو نثر کا موقع ہوتا ہے اور اچھے اچھے شاعر اس موقع پر شاعری چھوڑ کر یہ کہتے ہیں کہ ’حالا نثرِ ما بشنو‘۔ لیکن اس موقع پر ڈائریکٹر کو یاد آ گیا کہ وہ یہ فلم پاکستان میں بنا رہے ہیں اور یوں لبوں کی تشنگی تشنہ ہی رہ جاتی ہے۔

فلم میں میر تقی میر کی دو غزلیں بہت اچھی طرح گائی اور فلمائی گئی ہیں۔ مہتاب بیگم، جنھیں مصنف نے نواب آصف الدولہ کے دربار کی رقاصہ بنایا ہے اور اس پر عدم تیقن کو ہمیں اس فلم کی خاطر معرضِ التواء میں رکھنا ہے، یہاں بھی بہت خوب صورت دکھائی دیتی ہیں۔ وہ میر تقی میر کے اشعار اپنے بھید بھائو کے ساتھ سناتی ہیں تو معانی کی کچھ نئی جہات سامنے آتی ہیں۔ ایک غزل میں میر کا یہ مصرعہ بھی آتا ہے کہ: ’’اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاک‘‘۔ ایمان علی کی دشمنِ ایماں پرفارمنس میں اس مصرعے کا ایک نیا مفہوم سامنے آتا ہے جو دیگر مفاہیم سے کہیں زیادہ دل فریب ہے۔ گانوں میں ایک اور خاتون رقص کرتی دکھائی دیتی ہیں اور یہ بات کہنے کے لیے کسی ماہرِ رقص کی ضرورت نہیں کہ ان کا رقص بالکل بھی خوش گوار نہیں۔

کہانی میں جتنے جھول ہیں ان کا خمیازا سب سے زیادہ فہد مصطفی کو بھگتنا پڑا۔ ایک سین میں وہ البتہ خوب جچے جس میں ان کا دوست سراج دبئی جانے سے پہلے ان سے آخری ملاقات کرتا ہے۔ البتہ جی یہ چاہتا تھا کہ میر تقی میر کے کردار میں ان کا لہجہ اس لہجے سے کچھ مختلف ہوتا جو انھوں نے جدید دور کے شاعر جمال کے کردار کے لیے اپنایا۔ جدید شاعر جمال کو اپنا شین قاف درست رکھنے کے لیے تصنع کی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی میر تقی میر کے کردار کو۔ فہد مصطفیٰ نے میر کے کردار سے کافی انصاف کیا مگر جب میر صاحب اپنے ہی شعر وزن سے خارج کر دیتے ہیں تو سوچیے میر کے مداحوں کے دل پر کیا گزرتی ہو گی۔ البتہ علی خان نے نواب صاحب کا چھوٹا سا کردار خوب نبھا لیا۔ سراج کے کردار میں پارس مسرور ٹھیک رہے۔ ہما نواب بھی ڈاکٹر کلیم کی سابق محبوبہ کے روپ میں ایک مختصر کردار میں ظاہر ہوئیں۔ ان کی ڈاکٹر کلیم سے اچانک ملاقات کو فلم کی تکنیکی زبان میں ’پلاٹ پوائنٹ‘ کہا جا سکتا ہے۔ یہ پلاٹ پوائنٹ فلم میں زبردست قسم کی ڈرامائیت پیدا کرنے کا موجب بن سکتا تھا مگر منظر صہبائی اس موقع پر فلم میں پہلی مرتبہ دبے دبے سے رہے۔ اپنی موت کے سین میں وہ انتہائی غیر موثر نظر آئے۔ جہاں جہاں اپنی آواز سے ایکٹ کرنا تھا وہاں وہ انتہائی کام یاب رہے لیکن فزیکل ایکٹنگ کرتے ہوئے وہ ویسے کام یاب نہ ہو سکے۔

ارے میں تو آپ کو یہ بتانے چلا تھا کہ فلم کی کہانی میں اتنے زیادہ جھول ہونے کے باوجود کیا یہ فلم دیکھنے کے قابل ہے اور بتا یہ گیا کہ اداکاروں کی اداکاری میں تھوڑے بہت مسائل موجود ہیں۔ لیکن شرط لگا کر یہ کہوں گا کہ ایمان علی کسی ڈرامے، کسی فلم میںاتنی خوب
صورت نظر نہیں آئیں جتنا انجم شہزاد نے انھیں اس فلم میں پیش کیا ہے۔ انھیں میر کی محبوبہ کے روپ میں دیکھنا ایک خوش گوار تجربہ ہے جس کے لیے فلم کا ٹکٹ خریدنا کوئی گھاٹے کا سودا نہیں۔ اردو کے عظیم شاعر پر ایک فلم بنائی گئی ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کرنی ہی چاہیے۔

کہانی میں جھول نہ ہوتے اور سرمد صہبائی اس فلم کو اپنی مخصوص افتادِ طبع یا ایڈیوسنکریسیز سے محفوظ رکھتے تو یہ ایک یادگار فلم بن سکتی تھی۔کیا خبر یہی وہ ’وحشت‘ ہو جسے وہ اس فلم کے ذریعے حق بجانب ثابت کرنا چاہتے ہوں۔ لیکن فلم کی صنف ان کی اس وحشت کا بوجھ برداشت نہ کر پائی۔ سو اب سرمد صہبائی کو میر کی زبان میں یہی کہنا چاہیے کہ ع: لائق اپنی وحشت کے اس عرصے کا میدان نہیں۔

Categories
شاعری

میں ایک آنسو اکٹھا کر رہا ہوں

میرا دکھ کنوؤں کی ترائیوں میں اُتر گیا ہے
میں اسے کھینچ کر نکال لوں گا
میری آنکھوں میں ایک آبشار کی دھند پھیل گئی ہے
میں اسے ایک آنسو میں جمع کر لوں گا

ہم نے ایک ہی گھونٹ سے پیاس بجھائی
جو تم نے حلق کے اندر سے چکھا
اور میرے ہونٹوں نے
تمہارے حلق کے باہر سے

تم ہماری طرف رخ کر کے کتاب دیکھتے
اور تختہ سیاہ کی طرف رخ کر کے
لکھتے
میں بھی ایک حسابی الجھن سلجھا رہا تھا
تمہارے زانو
تمہارے کولہوں سے فربہ کیوں ہیں
تمہیں ملی ہوئی نعمتوں کے تشکر میں
جھکی رہنے والی بریزئر
میرے استقبال کے لئے کھڑی ہو گئی تھی

مجھے تمہارے کولہوں کی معصومیت مار ڈالے گی
گردن سے نیچے
تمہاری ریڑھ کی ہڈی پر سانپ لپٹا ہوا تھا
کہاں چلا گیا

تمہاری آنکھوں میں میرے لئے
ایک خیر مقدمی راستہ بچھا تھا
جس پر میں اس جستجو میں چلتا جاتا
تمہاری آنکھیں اصل میں کہاں واقع ہیں

تمہاری پشت پر لپٹا سانپ
میرے سینے پر رینگ رہا ہے
کاش میں اسے
اپنی ٹانگوں کے درمیان گھونٹ سکتا
دانتوں نے میرے ہونٹ برباد کر دیئے
میں تمہارے رخساروں پر
ان کا تخم بونا چاہتا تھا

زندگی میں نے بھیک میں وصول کی
اب وہ میری گلک میں گل رہی ہے
آج میں اسے توڑ دوں گا
میرا دکھ کنوؤں کی ترائیوں میں اتر گیا تھا
آج میں اسے ایک آنسو میں اکٹھا کر دوں گا

تم اسے
اپنی زبان کی نوک پر اتار کر تھوک دینا
زمین پر
یا میرے منہ پر

Image: Salvador Dali

Categories
خصوصی

حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کے زیرِ اہتمام شامِ مطالعات

حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کا ہفتہ وار اجلاس بعنوان ’’شام مطالعات‘‘،مورخہ29اگست،2017،بروز منگل شام ساڑھے سات بجے ،کانفرنس روم، ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈایا اینڈ پبلیکیشنز،پاکستان سیکریٹریٹ میں منعقد کیا گیا۔اس اجلاس کی صدارت مانچسٹر، برطانیہ سے تشریف لائے سینیئر شاعر جناب باصر سلطان کاظمی صاحب نے کی۔اجلاس کا آغاز حلقے کے سیکریٹری نے گزشتہ اجلاس کی رپورٹ سنا کر کیا۔حاضرین کی تائید کے بعد صاحبِ صدر نے اس رپورٹ کی توثیق کی۔اس کے بعد ظہیر عباس نے شبیر نازش کے پہلے شعری مجموعے ’’ آنکھ میں ٹھہرے ہوئے لوگ‘‘پر اپنا تحریری مطالعہ پڑھ کر سنایا۔ظہیر عباس نے شعری مجموعے کے فنی محاسن اور خوبیوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ شبیر نازش کے اشعار کا موازنہ دیگر سینیئر شعرا کے اشعار سے بھی کیا۔

ذوالفقار عادل نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ شبیر نے اپنے پہلے مجموعے میں شامل غزلیات اور اشعار کا عمدہ انتخاب کیا۔اسی لیے ان کے مجموعے کا مطالعہ پرلطف رہا۔اس مجموعے میں شاعر کی اپنی شاعری کے ساتھ کمٹ منٹ بھرپور انداز میںنظر آتی ہے۔سید کاشف رضا نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ شبیر کی شاعری میں لسانی اختراع کے بجائے دوسری طرح کے تجربے ملتے ہیں۔ان کا ڈکشن سہل اور سادہ ہے۔مطالعے کو ایسے Exploitکیا جانا اچھا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ چراغ سے چراغ کیسے جلتا ہے۔اس کے بعد رفیع اللہ میاں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تقابلی اشعار سن کر لگتا ہے کہ شبیر ، میر وغالب کے ہم پلہ ہیں۔مجھے ان کی شاعری میں استعارہ سازی سے گریز اچھا نہیں لگا۔ رفاقت حیات نے شبیر نازش کی شاعری کے بارے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ شبیر کے مجموعے کے مطالعے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی غزلوں میں زیادہ تر اپنی ذاتی جذباتی اور محسوساتی واردات تک ہی محدود رہے۔ ان کے ہاں شعری نرگسیت اور تعلی زیادہ نظر آتی ہے۔ان کے پاس اچھے اشعار تو ہیں،مگر گہرے اور تہہ دار اشعار بہت کم ملتے ہیں، اس کی وجہ شاید ان کی مطالعے کی کمی ہے۔کاشف رضا نے اس بات پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اظہارِ ذات والے شعرا کے ہاں سادگی کی طرف رجحان ہوتا ہے۔شبیر اسی قبیل کے شاعر ہیں۔رفیع اللہ میاں نے کہاکہ شاعری بنیادی طور پر اظہارِ ذات ہی ہوتی ہے۔مجھے اس مجموعے میں دو شعر بہت اچھے لگے۔جن میں سے ایک یہ ہے ع؛ پر نہ کھولے اسی تردد میں

   کم نہ پڑ جائے کائنات مجھے

اس شعر کا مفہوم بظاہر منفی ہے مگر اس کا حسن بھی یہی ہے کہ آدمی اس شعر میںکھو جائے۔
شبیر نازش کے شعری مجموعے پر گفتگو کو سمیٹتے ہوئے صاحبِ صدر باسر سلطان کاظمی نے کہا کہ پہلے مجموعے کی اشاعت پر مبار ک باد بجا طور پر دی گئی۔وہ اس کا مستحق ہے۔شبیر نے آتش بازی یا نمائش کی شعوری کوشش نہیں کی۔بلکہ ان کے شعر اس کم روشنی کی طرح ہوتے ہیں، جو آہستہ آہستہ محسوس ہوتی ہے۔ٹی ایس ایلیٹ نے شاعری کے لیے اظہارِ ذات سے آگے کی بات کی ہے۔شاعری تو ذات سے فرار کا نام ہے۔

اس کے بعد رفاقت حیات نے مرزا اطہر بیگ کے پہلے ناول’’ غلام باغ‘‘ پر تحریری مطالعہ پیش کیا۔اس بار بھی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ذوالفقار عادل نے کہا کہ انہوں نے یہ ناول مکمل نہیں پڑھامگر جتنا بھی پڑھا۔ انہیں یہ اس عہد کا بڑا ناول محسوس ہوا۔اس میں کردار سازی خوب ہے۔زبان بہت اچھی ہے۔سید کاشف رضا نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ مرزا اطہر بیگ کے ناول بہت فاسٹ پیس ہوتے ہیں۔شاید یہ ان کی ڈرامہ نگاری کی ریاضت کا ثمر ہے کہ ان کے ناولوں میں کہانی بہت تیز چلتی ہے۔ان کے ناول پوسٹ کولونیل دور کے متعلق ہیں۔ اس حوالے سے ان کے ہاں مقامی اور بیرونی، دونوں نقطہ نطر ملتے ہیں۔ان کے سسپینس کا عنصر حاوی رہتا ہے۔ان کے ناولوں میں پاکستان جیتا جاگتا دکھائی دیتا ہے۔ایک ناول نگار کو ایک اچھا منصوبہ ساز ہونا چاہیے، اس معاملے میں مرزا اطہر بیگ بہت نمایاں ہیں۔رفاقت حیا ت اظہارں کیال کرتے ہوئے کہا کہ مرزا اطہر بیگ اپنے ناولوں میںکرداروں کی تشکیل مختلف طرح کے تصورات کی مدد سے کرتے ہیں۔اس لحاظ سے انہیں غلام باغ ایک میچور ناول محسوس ہوتا ہے۔صاحب صدر نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہارڈی کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اس کے ناولوں کا اسٹرکچر بہت پختہ ہوتا ہے۔کاشف رضا نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہارڈی کے ناولوں کا اسٹرکچر Guess کیا جاسکتا ہے۔ جب کہ ڈکنز کے ناولوں کا ڈیزائن گیس نہیں کیا جاسکتا۔ مرزا اطہر بیگ کے ہاں معاملہ بے حد مختلف ہے۔رفیع اللہ میاں نے کہا کہ انہیں مرزا صاحب کے ناولوں میں جو بات سب سے زیادہ کھلتی رہی ، وہ یہ ہے کہ انہوں نے ہر ناول میں ایک ہی کردار کو بار بار دہرایا ہے۔کاشف رضا نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی فکشن میں بھی ایسا دیکھا گیا ہے کہ عام طور پرناولوں کا ہیرو ادیب کی اپنی ذات ہوتی ہے۔یہ بات قابلِ اعتراض بات نہیں ہے۔رفاقت حیات نے کہا کہ غلام باغ کے اکثر کردار فلسفی اور دانشور محسوس ہوتے ہیں۔ وہ موقع بے موقع فلسفہ بگھارتے دکھائی دیتے ہیں۔ نرس مختیار بھی ایک ایسا ہی کردار ہے۔رفیع اللہ میاں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو ناول کا پہلا دور ’’آگ کا دریا‘‘ اور ’’اداس نسلیں‘‘ کے ساتھ ختم ہوگیا۔ غلام باغ اردو ناول کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔لاہور سے تشریف لائے مہمان جاوید آفتاب نے گفتگو مین سریک ہوتے ہوئے کہا کہ ایک شاعر کے لیے دیگر علوم سے آگاہی ناگزیر ہے۔وسیع علم کے بغیر شاعری میں گہرائی اور وسعت پیدا نہیں کی جاسکتی۔جب کہ فکشن میں ریسرچ کے بغیر کردارون پر گرفت کرنا آسان نہیں ہوتا۔مرزا اطہر بیگ صاحب ایک وسیع المطامعہ شخص ہیں ، مگر ان کے ناولوں میں تکرار نہیں ہونی چاہیے۔

آخر میں اجلاس کے صدر باصر سلطان کاظمی صاحب نے ناول پر گفتگو کو انتہائی پر مغز قرار دیا۔حاضرین کے اصرار پر باصر سلطان کاظمی صاحب نے اپنا کلام سنایا۔ع؛

ملتا نہیں ہے دشت نوردی میں اب وہ لطف
رہنے لگا ہے ذہن پہ گھر اس قدر سوار

اس کے ساتھ ہی صاحب ِ صدر نے اجلاس کے اختتام کا اعلان کیا۔

Categories
شاعری

ایک مجسمے کی زیارت

تم ایک مجسمہ
جو فنکار کی انگلیوں میں
پروان نہیں چڑھا
تم ایک مجسمہ
جس پر سنگِ مر مر
نرم پڑ گیا

میں ان انگلیوں کا دُکھ
جو تمہیں خلق کرنے کے
وجد سے نہیں گزرا
اور اس دل کا
جو کھل نہیں سکا
تمہاری پوروں کے ساتھ ساتھ
تم آتی جاتی سانسیں
میں
دکھ ان سانسوں کا
جو تم میں شامل نہیں ہوئیں
دکھ ان آنکھوں کا
کہ جب کھل رہی تھیں
تمہاری گواہ نہیں رہیں

تم ایک پھول
اپنی ذات میں کھلا ہوا
میں دکھ
تمہارے بدن سے ذات تک
نارسا راستوں کا
ان کے فاصلوں کا
میں دکھ اپنے چہرے کا
جس نے اپنی تمام شکنیں
تم پر نرم کر دیں
دل کے اس خلا کا
جو تمہیں دیکھ کر
آسمان جتنا ہو گیا

میں دکھ اپنے خواب کا
تم نے جس کی مزدوری نہیں دی
میں دکھ اپنے خواب کا
جو تمہارے بدن پر پورا ہو گیا

Categories
شاعری

اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی

اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی
تو اس کو خوبصورت پھول میں تبدیل کرنے کے لیے
کترا نہ جا سکتا
کبھی اس سے کوئی کاغذ کی کشتی جوڑ کر
گہرے سمندر کی طرف بھیجی نہ جا سکتی
سفر کے درمیاں آئی اک انجانی سرائے میں
ذرا سا دام کے بدلے
اسے ہارا نہ جا سکتا

اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی
تو اس کو مختلف ٹکڑوں کے اندر بانٹ کر
ہم اپنی مرضی کے نہ ان میں رنگ بھر سکتے
بڑی مقدار میں اس کو
نہ ہم ای میل کر سکتے
اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی
تو اس کے خوبصورت رنگ
آوارہ سی اک بارش میں دھو ڈالے نہ جا سکتے
اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی
تو اس کے فالتو ٹکڑے
منڈیروں پر پرندوں کے لیے پھینکے نہ جا سکتے

Categories
شاعری

اچانک مر جانے والے لوگ

اچانک مر جانے والے لوگ
موت ایک اہم کام ہے
اسے یکسو ہو کر کرنا چاہیئے
یا سارے کام نمٹا کر

کسی کاروباری سودے سے پہلے
انتخابی مہم کے دوران
اور نظم کے وسط میں
موت نہیں آنی چاہیئے

موت سے پہلے
ارادے پورے کر لینے چاہیئں
انہیں دریا میں پھینک دینا چاہیئے
یا انہیں وصیت میں لکھ دینا چاہیئے

ایسا کرنے والے
اداس ہو کر مرتے ہیں
اور ان کی موت
اتنی افسوس ناک نہیں ہوتی
جتنی ان کی
جو موت سے پہلے اپنے کام نہیں نمٹاتے
اور حیران ہو کر مرجاتے ہیں

Image: Gabriel Isak

Categories
شاعری

ہمارے لیے تو یہی ہے

ہمارے لیے تو یہی ہے
ہمارے لیے تو یہی ہے
تمہارا جلوس جب شاہراہ سے گزرے
تو تم اپنی انگلیوں کی تتلیاں ہماری جانب اڑاؤ
اپنی انگلیوں کو ہونٹوں سے چھوتے ہوئے
ہماری جانب ایک بوسے کی صورت اچھالو
جسے سمیٹنے کے لیے ہم ایک ساتھ لپکیں
ہمارے لیے تو یہی ہے
تمہارا لباس ہم پر مہربان ہو جائے
تم اپنی بگھی سے اترتے ہوئے
اپنے پائنچے انگلیوں سے سمیٹ لو
اور تمہارا سینڈل
تمہارے ٹخنے کی پہرے داری سے غافل ہو جائے
یا ہوا تمہارے بالوں کو لہرا دے
اور تم انہیں سمیٹنے کی کوشش میں
اپنا نصف بازو برہنہ کر ڈالو
یا آسمان پر کوئی پرندہ دیکھتے ہوئے
تمہارے ہونٹوں پر آنے والی مسکراہٹ
ہماری آنکھوں سے اتفاقی ملاقات کر لے
Categories
شاعری

تم مجھے پڑھ سکتے ہو

زبان
غیر اعلانیہ
قید بامشقت کاٹ رہی ہے
کانوں نے
سنا ان سنا
آنکھوں نے
دیکھا ان دیکھا
کرنے کی عادت ڈال لی ہے
دل نے
ایک تیز چاقو
اپنے اندر دبا رکھا ہے
یہ دن
نظمیں لکھ لکھ کر
کسی کو نہ سنانے کے ہیں

پھر بھی تم
مجھے پڑھ سکتے ہو
جو لکیریں میں کاغذ پر نہیں کھینچ سکتا
میرے جسم پر ابھر آتی ہیں
Categories
شاعری

اجتماعی مباشرت

اجتماعی مباشرت
تاریخ سے اجتماعی مباشرت
ہم نے کھیل سمجھ کر شروع کی
پھر شور بڑھتا گیا
اور ہمارا شوق دیکھ کر
ہماری بریدہ تاریخ
ہماری زوجیت میں دی گئی
اب اس کے بچے کتوں سے زیادہ ہیں

Image: Saya Behnam

Categories
شاعری

درخت

درخت
لفظ
روز اُگ آتے ہیں
جنہیں میں اپنے سینے سے کھرچ کھرچ کر
کاغذ پر جمع کر دیتا ہوں
تاکہ انہیں قطع کیا جا سکے

جو بھی میرے لفظ کاٹتا ہے
اس کے ہاتھوں پر
میرے لہو کی بوند سرکنے لگتی ہے
اسے میرے خون سے پہچان لیا جاتا ہے

میں ان لفظوں سے
کچھ اور بنانا چاہتا تھا
مثلاً ایک درخت
جسے میں ایک عورت کی کوکھ میں قائم کر سکتا
اور میرے لہو کی بوند
اس کے رخساروں میں نمایاں ہو سکتا

جو درخت کاٹ دیے جاتے ہیں
ان میں سے کسی کے تنے سے
خون ابلنے لگتا ہے

میرے سینے پر جتنے بال اُگے
کوئی عورت ان کی جڑیں سونگھ کر
میری محبت کی گواہی دے سکتی تھی

میرے سینے پر جتنے لفظ اُگے
ان سے میں کچھ اور بنانا چاہتا تھا
مثلاً ایک درخت
جسے کاٹ دیا جائے
تو اس سے میرا خون ابلنے لگے
Categories
نان فکشن

تصنیف حیدر کے نام ایک خط

کیسے ہو دوست؟ مجھے معلوم ہے کہ دلی میں بیٹھے ہوئے تم موجودہ پاک بھارت کشیدگی پر اتنے ہی پریشان ہو گے جتنا کراچی میں بیٹھا ہوا میں ہوں۔ تمہاری شاعری اور نثر سے تمہاری جن ترجیحات کا علم ہوتا ہے ان میں عورت سرفہرست ہے اور میں بھی فطرت کے حسن و جمال کی جسمانی یا ذہنی قربت میں رہنا پسند کرتا ہوں۔ دفتر سے باقی بچا ہوا وقت اپنی لائبریری اور بستر کے کنارے میز پر رکھی کتابوں میں کٹتا ہے جہاں مختلف زمانوں، زبانوں اور ملکوں کے سیکڑوں ادیب طرح طرح کی سوغاتیں لیے ہر وقت موجود ہیں۔ ایک چھوٹی سی فیملی ہے جس میں ایک دل نواز بیوی کے ساتھ تین چھوٹے چھوٹے بچوں کو بڑا ہوتے دیکھنا بجائے خود ایک خوب صورت تجربہ ہے۔ ایسے میں سیاست کم از کم میرے لیے تو ایک ایسے مہمان کی حیثیت رکھتی ہے جو بن بلائے آن دھمکتا ہے اور جس کی نہ چاہتے ہوئے بھی سیوا کرنا پڑتی ہے۔

 

ہمیں متنازعہ ہونے کا خیال کیے بغیر اپنی رائے ظاہر کر دینی چاہیے، شرط یہ ہے کہ ہم نے یہ رائے ایسے طیش کے عالم میں نہ دی ہو جو ہندوستان یا پاکستان کے کسی نیوز چینل کو تازہ تازہ دیکھ کر پیدا ہو سکتا ہے۔
سیاسی کشیدگی کے ماحول میں سیاسی رائے ظاہر کرنا خطرناک کام ہے جس سے میں خود بھی بچنے کی بے پناہ کوشش کر رہا ہوں۔ اس کوشش میں مجھے دیگر ادیب دوستوں سے زیادہ قوت صرف کرنا پڑ رہی ہے کیونکہ ایک عامل صحافی بھی ہوں اور دفتر میں ارنب گوسوامی کا چینل میرے منہ کے آگے دھرا ہوتا ہے۔ مگر ہمیں متنازعہ ہونے کا خیال کیے بغیر اپنی رائے ظاہر کر دینی چاہیے، شرط یہ ہے کہ ہم نے یہ رائے ایسے طیش کے عالم میں نہ دی ہو جو ہندوستان یا پاکستان کے کسی نیوز چینل کو تازہ تازہ دیکھ کر پیدا ہو سکتا ہے۔

 

مجھے خوشی ہے کہ تم نے تازہ صورت حال کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور بے لاگ اظہار کیا ہے۔ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے میں تمہارے موقف کے ہر حصے سے اتفاق تو نہیں کر سکتا لیکن اتنا ضرور سمجھتا ہوں کہ تم نے یہ رائے بہت اخلاص سے دی ہے۔

 

میں نے خود کو یہ جو پاکستانی لکھا ہے تو یہ اپنائی ہوئی کسی حقیقت سے زیادہ ایک ایسی حقیقت ہے جس میں میں نے خود کو پیدائش کے بعد سے موجود پایا ہے۔ ہمارے سیاسی نقطہ ء نظر کو طے کرنے میں ہمارا سٹینڈ پوائنٹ بہت اہم کردار ادا کرتا ہے، یعنی یہ کہ ہم کسی سیاسی صورت حال کو کہاں پر کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہیں۔ بین الاقوامی ادب کا مطالعہ ہمارے سٹینڈ پوائنٹ کو نیوٹرل بناتا ہے۔ ہمیں ایک ایسا بین الاقوامی شہری بناتا ہے جسے ہر اس ملک، ہر اس شہر سے بھی محبت ہو جاتی ہے جس کے بارے میں اس کے کسی عزیز مصنف نے کچھ لکھا ہو۔ میرے آباو اجداد موجودہ ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والوں میں شامل نہیں تھے، پھر بھی میں دلی، لکھنو، امرتسر کو کبھی غیر نہیں سمجھ سکا۔ مجھے تو برلن اور پیرس کے گلی کوچے بھی اجنبی محسوس نہیں ہوئے۔ مجھے تو ایسا لگا جیسے میں وہاں پہلے بھی کئی کئی بار گھوم چکا ہوں۔ ہماری دنیا دن بدن سکڑ رہی ہے جسے گلوبل ولیج کہا جاتا ہے۔ کسی ایک ملک سے ایسی وفاداری کا تصور اب ختم ہونا چاہیے جو کسی دوسرے ملک سے نفرت کا درس دیتی ہو۔ حب وطن کے محدود تصور سے آگے نکل کر زمین نامی اس پورے گولے سے محبت کرنا ہو گی جو معلوم کائنات میں زندگی کا واحد منبع ہے۔ اور تم نے درست نشان دہی کی کہ ایٹمی ہتھیار اس زمین اور اس پر موجود زندگی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

 

میرے آباو اجداد موجودہ ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والوں میں شامل نہیں تھے، پھر بھی میں دلی، لکھنو، امرتسر کو کبھی غیر نہیں سمجھ سکا۔
دو ملکوں کے درمیان اگر کوئی تنازعہ ہے تو اس کا حل نکلنا چاہیے۔ یہ بات دو ایٹمی ملکوں کے تنازعے کے لیے جتنی ناگزیر ہے اتنی کسی اور دو ملکوں کے لیے نہیں ہو سکتی۔ پاکستان صحیح بنا یا غلط بنا، مگر تقسیم کے وقت یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ مسلمان اکثریت کے علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے۔ بھارت نے ہندو اکثریت اور مسلم حکمران والا حیدرآباد دکن بھی لے لیا اور مسلم اکثریت اور غیر مسلم حکمران والا کشمیر بھی۔ اگر میں ٹمبکٹو کے کسی شہری کو یہ بھی یہ مثال دوں تو وہ اسے بے اصولی قرار دے گا۔

 

میں ملکی نظم و نسق کے لیے سیکولرازم کو ایک اہم اصول سمجھتا ہوں اور جدید بھارت کے بانی جواہر لال نہرو مجھے گاندھی جی سے بہتر سیکولر رہ نما لگتے ہیں، لیکن بھارت میں توسیع پسندانہ نیشنل ازم کی بنیادیں بھی انہی نہرو نے رکھی تھیں جس کے جنون میں آج بھارت کا ایک بڑا حصہ مبتلا نظر آتا ہے۔ یہ نیشنل ازم حب وطن کا وہی محدود تصور ہے جس کی میں نے اوپر نشان دہی کی۔ چین ہانگ کانگ، مکاو اور تائیوان پر حق رکھتا تھا مگر اس نے ان پر چڑھائی نہیں کی۔ بھارت نے حیدرآباد دکن، جوناگڑھ اور کشمیر کے ساتھ ساتھ پرتگالی گوا پر بھی زور زبردستی سے قبضہ کیا۔ یہ توسیع پسندی کی ایک الم ناک داستان ہے جو نوآزاد بھارت کے تاب ناک ترین سرکاری افسر وی پی مینن نے اپنی کتاب میں فخریہ تحریر کی ہے۔

 

پاکستان نے بھی قلات کی ریاست کا الحاق غیر شائستہ طریقے سے ممکن بنایا، اور آزادی کے فوری بعد صوبہ ء سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کی کانگریسی حکومت کو ہٹا کر ایک غیر جمہوری اقدام کیا۔ البتہ پاکستان نے کسی غیر مسلم علاقے پر قبضہ نہیں کیا۔ آزادی کے وقت گوادر کا ساحل اومان کے پاس تھا۔ پاکستان چاہتا تو پولیس بھیج کر اس پر قبضہ کر سکتا تھا مگر اس کے لیے مذاکرات کیے گئے اور پھر اسے قیمتاً خریدا گیا۔

 

پاکستان اور بھارت حالیہ برسوں میں جس گہرے بحران کا شکار رہے ہیں اس کی جڑیں ان کی آزادی کے وقت کے رہ نماوں کی سوچ میِں پنہاں ہیں۔
پاکستان اور بھارت حالیہ برسوں میں جس گہرے بحران کا شکار رہے ہیں اس کی جڑیں ان کی آزادی کے وقت کے رہ نماوں کی سوچ میِں پنہاں ہیں۔ پاکستانی رہ نماوں نے مذہب کی بنیاد پر جس اتحاد کی دعوت دی وہ ایک ریاست کو چلانے کے لیے ناکافی ثابت ہوا۔ دوسری جانب مذہبی حلقوں نے اسی مذہب کا مسالہ تیز کرنے پر اصرار کیا۔ یوں مذہبی انتہاپسندی کی الم ناک صورت پیدا ہوئی۔ طالبان کے خلاف جنگ میں پچاس ہزار شہریوں کی قربانی اور خصوصاً آرمی پبلک اسکول واقعے کے بعد پاکستانی آبادی کے ایک کثیر طبقے میں یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ یہ مذہبی انتہاپسندی ہمارے لیے زہر قاتل ہے۔ دوسری جانب بھارت میں، ارون دھتی رائے اور دیگر قابل احترام مفکرین کی موجودگی کے باوجود، یہ احساس اس بڑے پیمانے پر نظر نہیں آتا کہ بھارتی نیشنل ازم بھارت کے اپنے اور خطے کے عوام کے لیے خطرناک ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب تک بھارتی عوام کی اکثریت کو اپنے اس نیشنل ازم میں فائدہ ہی فائدہ نظر آ رہا ہے۔ ایسی ہی فائدہ جرمنوں کو ہٹلر کے نیشنل ازم کے ابتدائی برسوں میں نظر آتا تھا۔ ایسا ہی فائدہ پاکستانی عوام کو اسی اور نوے کی دہائیوں میں اپنے ان مجاہدین میں نظر آتا تھا جو دور و نزدیک کے ملکوں میں ایکسپورٹ کیے جا رہے تھے۔

 

پاکستان اور بھارت کے دو ایٹمی ملکوں کے درمیان سب سے بڑا تنازعہ کشمیر ہے۔ ہندوستانی مسلمان قیام پاکستان کا بنیادی سبب تھے مگر تقسیم کے بعد صرف ان کا اسٹینڈ پوائنٹ بدل جانے سے کئی امور پر ان کا موقف پاکستانیوں سے مختلف ہو گیا۔ ایسے میں ہندوستانی مسلمانوں کی یہ خواہش سمجھ میں آتی ہے کہ کشمیر بھارت کے ساتھ ہی جڑا رہے تاکہ ایک تو ہندوستانی مسلمانوں کو تقویت ملے اور دوسرے یہ کہ کشمیر اگر الگ ہو گیا تو ہندوستانی مسلمانوں کو ایک دفعہ پاکستان بنانے کے بجائے دو دفعہ پاکستان بنانے کا طعنہ سہنا پڑے گا۔ مگر کوئی خطہ آپ کی تقویت کی خاطر اپنی امنگوں کو کیسے ترک کر دے؟ انگلستان کی بھی شدید خواہش ہے کہ اسکاٹ لینڈ سے اس کا اتحاد برقرار رہے مگر اسے برقرار رکھنے کے لیے وہ کوئی فوجی طریقہ اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ کیا ہماری قیادتیں کبھی اتنی میچور ہو سکیں گی۔

 

جغرافیے کی تاریخ پڑھیں تو کسی سرحدی لکیر کو تقدس حاصل نہیں اور نہ ہونا چاہیے۔ لکیروں کے بجائے انسانی جان کی تکریم و تقدیس زیادہ اہم ہونی چاہیے۔
کسی خطہ ء زمین اور اس کے باسیوں کی اپنی ہی خواہشات اور امنگیں ہوتی ہیں جنہیں رکھنا یا نہ رکھنا دھرتی واسیوں ہی کا حق ہے۔ جنوبی افریقا کی گوری رژیم کہتی تھی کہ ہم نے کالوں کی فی کس آمدنی میں اضافہ کیا ہے۔ مگر پھر بھی سیاہ فام لوگ اپنی دھرتی پر حکومت کا اختیار خود چاہتے تھے۔ فلسطینی اگر آج جدوجہد ترک کر کے اسرائیل سے قلبی طور پر جڑ جائیں تو ان کی نسلیں خوش حال ہو سکتی ہیں۔ مگر وہ نہیں مانتے۔ ان معاملات پر فرانز فینن کی کتاب بہت اہم ہے۔

 

جغرافیے کی تاریخ پڑھیں تو کسی سرحدی لکیر کو تقدس حاصل نہیں اور نہ ہونا چاہیے۔ لکیروں کے بجائے انسانی جان کی تکریم و تقدیس زیادہ اہم ہونی چاہیے۔ مگر بھارت جس کے اتنے بہت سارے رقبے میں سے برطانیہ نے ایک انچ بھی بطور نمونہ اپنے پاس رکھنے کی لالچ نہیں کی، تقسیم کے بعد وہی بھارت اس رقبے کا ایک انچ بھی چھوڑنے کو تیار نہیں۔ بھارتی ریاست کی بنیاد جس نیشنل ازم پر رکھی گئی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔ دنیا دوسری جنگ عظیم میں ایسے نیشنل ازم کو بھگت چکی ہے۔ بھارتی میڈیا میں پاکستان کے حوالے سے جو رعونت نظر آتی ہے وہ اسی نیشنل ازم کا کرشمہ ہے۔ یہ رعونت کوئی خوددار قوم برداشت نہیں کر سکتی، چاہے وہ کم زور ہی کیوں نہ ہو۔ خود پاکستان بھی افغانستان کے حوالے سے ایسی ہی رعونت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یوں سیاسی مسائل میں نفسیاتی مسائل بھی در آتے ہیں جس سے سیاسی مسائل حل کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

 

شائننگ انڈیا کے تصور کی پیدا کردہ دھند میں پاکستان ایک کم زور ملک دکھائی دیتا ہوگا لیکن یہ بیس کروڑ لوگوں کا ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے جسے فوجی شکست نہیں دی جا سکتی۔
شائننگ انڈیا کے تصور کی پیدا کردہ دھند میں پاکستان ایک کم زور ملک دکھائی دیتا ہوگا لیکن یہ بیس کروڑ لوگوں کا ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے جسے فوجی شکست نہیں دی جا سکتی۔ اور اگر بہ فرض محال ہماری سرحدیں بے وقعت کر دی گئیں تو ہر روز کہیں ممبئی تو کہیں پٹھان کوٹ ہو رہا ہو گا۔

 

یہ خط اپنے خیالات سے تمہیں قائل کرنے کے لیے نہیں، صرف ایک اور نقطہ ء نظر دکھانے کی کوشش ہے جو ایک مختلف اسٹینڈ پوائنٹ پر کھڑے ہونے کا نتیجہ ہے۔ اور یہ نقطہ ء نظر ایک ایسے شخص کا ہے جو پاکستانی ہونے کے باوجود خود کو بین الاقوامی شہری سمجھتا ہے، جو جغرافیائی حدود والی حب وطن کے بجائے اپنے دھرتی واسیوں سے کمٹمنٹ پر یقین رکھتا ہے اور جو ریاستی نظم و نسق کے لیے سیکولرازم کو نمایاں اصول سمجھتا ہے۔ امید یہی ہے کہ جنگ کے یہ بادل چھٹ جائیں گے۔ تیزی سے سکڑتی ہوئی دنیا نے ہمیں سوشل میڈیا کے طفیل ایک دوسرے کے قریب کیا ہے۔ ہم نے اپنے ملک سمیت دنیا بھر میں نئے دوست تلاش کیے ہیں جن سے اب ہم ہر روز بات کر سکتے ہیں۔ خواہش یہی ہے کہ ہماری آراء سے ہماری دوستیاں متاثر نہ ہوں۔ سیاسی صورت حال آنی جانی ہے۔ انشاء اللہ کل کا دن آج سے مختلف اور بہتر ہو گا۔

 

طالب دعا
سید کاشف رضا
یکم اکتوبر، دو ہزار سولہ، کراچی