Categories
شاعری

عشرہ // ڈھوک مری میں ویلینٹائن ڈے

رات کے عین ساڑھے تین سے صبح کے ٹھیک ساڑھے چار تک
تقریبن انہی ٹرکوں نے تقریبن انہی تَھڑوں پر تقریبن وہی مال اتارا

پانچ چھے بجے صفائی کرنے والے بھی آتے
اگر یہ علاقہ شہر کا ڈسِٹَنٹ کزن نہ ہوتا

سات بجے دوکانیں کھُلنے لگیں
آٹھ بجے تک دفاتر اور تعلیمی ادارے
گلیوں میں سڑکوں پر رَش بڑھا
نو، دس بجے پھر مطع صاف تھا

شام، یہی سب، ترتیب الٹ کر، دہرایا گیا
ڈھوک مری میں ویلینٹاین ڈے منایا گیا

Categories
اداریہ

اظہار محبت پر پابندیاں ناقابل قبول ہیں۔ اداریہ

14 فروری دنیا بھر میں اظہار محبت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے، اس روز ہر عمر کے افراد اپنے محبوب افراد کو تہنیتی پیغامات بھجواتے ہیں اور محبت کے اظہار کے مختلف انداز اپناتے ہیں۔ تاہم پاکستان جیسے قدامت پسند، مذہبی اور مردانہ برتری کے قائل معاشروں میں اظہار محبت کو غیرت، حیاء اور پاکیزگی کے منافی خیال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں رواں برس بھی ٹی وی چینلوں پر ویلنٹائن ڈے کی تشہیر پر پابندی عائد رہی، یہ پابندی گزشتہ برس اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک حکمنامے کے تحے پیمرا نے عائد کی ہے جس کے تحت کوئی بھی چینل ویلنٹائن ڈے کی تقریبات اور اس دن کی سرگرمیوں کی کوریج اور تشہیر نہیں کر سکتا۔ اس حکمنامے کے علاوہ مذہبی تنظیمیں تدریسی اداروں اور عوامی مقامات پر اظہار محبت کی راہیں مسدود کرنے کے لئے کھلے عام لوگوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کو درست سمجھتی ہیں۔

ویلنٹائن ڈے کے خلاف اس بڑے پیمانے پر مذہب، ثقافت اور اخلاقیات کے نام پر رسمی اور غیر رسمی پابندیاں انفرادی آزادی اور ذاتی خودمختاری کے حق کے منافی ہیں۔ ان پابندیوں کا بنیادی محور ویلنٹائن ڈے یا اس دن کی سرگرمیاں نہیں بلکہ فرد کو اپنی زاتی زندگی کے فیصلےکرنے کی خود مختاری اور آزادی دینے میں ہچکچاہٹ ہے۔ یہ ہچکچاہٹ ان قدیم پدرسری معاشرتی اصولوں کی پیداوار ہے جنہوں نے فرد پر اجتماع، اصول پر روایت اور قانون پر اخلاقیات کو تقدم بخشا ہے۔ ویلنٹائن ڈے پر پابندی دراصل ایک ایسی سوچ کی عمل شکل ہے جہاں فرد اپنی ذاتی زندگی کے فیصلوں کے لئے معاشرے، ثقافت اور مذہب کا محتاج ہے۔

ویلنٹائن ڈے اور اظہار محبت پر پابندیوں کا سب سے زیادہ شکار یقیناً نوجوان طبقہ ہوتا ہے جو اپنی رومانی اور جنسی تسکین کے لئے دیگر افراد میں دلچسپی کا اظہار کرنے سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ہمارا معاشرہ پہلے ہی ایک ایسی اخلاقی، ثقافتی اور مذہبی گھٹن کا شکار ہے جہاں دو یا زائد افراد کو باہم محبت کے آزادانہ مواقع میسر نہیں۔ یہ گھٹن ان افراد کے لئے بھی اتنی ہی حبس آلود ہے جو معاشرتی روایات اور مذہب کے مطابق رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں، جتنی کہ غیر شادی افراد کے لئے ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اظہار محبت پر پابندیوں کا سب سے زیادہ اثر ان طبقات پر ہوتا ہے جو سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر محروم اور پس ماندہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان، خواتین اور ہم جنس پرست افراد ان پابندیوں کی زد میں سب سے زیادہ آتے ہیں۔ان پابندیوں کا ایک تکلیف دہ اور تشویش ناک پہلو عوامی مقامات پر اظہار محبت پر پابندی کی صورت میں ظاہر ہوا ہے اور جو عفت، غیر ت اور پاکیزگی کے غلط تصورات کی پیداوار ہے۔ ان پابندیوں کا مطلب یہ ہے کہ فرد اپنی رومانی اور جنسی تسکین کے لئے خود فیصلے کرنے کا مجاز اور اہل نہیں۔

پاکستان میں مذہبی شدپسندی کی ایک خطرناک صورت یہ اخلاقی جبر بھی ہے جو عدالتی فیصلوں، انتظامی حکمناموں اور عمومی سماجی رویوں کی صورت میں پہلے سے زیادہ نقصان دہ شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مذہب ، ثقافت اور اخلاقیات کو انفرادی آزادی اور ذاتی خود مختاری پر فوقیت نہیں دی جا سکتی ۔ محبت کا شائستہ اظہار آزادی اظہار رائے اور ذاتی زندگی کے حق کا حصہ ہے جس کی اجازت نہ صرف آئین پاکستان دیتا ہے بلکہ انسانی حقوق کا عالمی چارٹر بھی ہر بالغ فرد کو اپنی مرضی، میلان اور خواہش کے مطابق دوسرے فریق کی رضامندی سے خاندان شروع کرنے کا حق فراہم کرتا ہے۔ ہر بالغ فرد کے لئے اظہار محبت کا حق تسلیم کرنا لازمی ہے اور اس حق پر اخلاقیات، ثقافت اور مذہب کے نام پر پابندیاں نہ صرف غلط ہیں بلکہ غیر آئینی بھی ہیں۔

Categories
شاعری

سب ترے نام کا آخری حصہ ہیں

یاد ہے تم کو
پھول تھا دیا تم نے
بالکل اپنے دل جیسا
اُس گلاب کی ساری پتیاں
مہکا سا کچھ بہکا سا اب شعر کہنے لگتی ہیں
کبھی نظمیں جنتی رہتی ہیں
وہ گلاب خود بھی اب غزل کا سنیاسی ہے
میں نے اسکی ٹہنی بھی ساتھ سنبھال کے رکھی ہے
کانٹے بھی آئے تھے ساتھ کچھ
سب بچا رکھےہیں
کبھی ترچھا سا کانٹا چبھ جائے تو
رنگ اِدھر اُدھر بکھرنے لگتے ہیں
کاغذوں کی سانسیں چلنے لگتی ہیں
اک کہانی خود کو لکھنے لگتی ہے
سچ کہا
یہ افسانے شاعری کتابوں کے سلسلے
یہ تیرے میرے ملن کی کتھا
پھول کا تخیل سے طلسمی سا ناطہ ہیں
سب ترے نام کا آخری حصہ ہیں
Image: Paula Belle Flores

Categories
نقطۂ نظر

وزارت محبت قائم کیجیے

کلثوم اور فرزانہ محبت کی شادی کرنے پر پر عدالت کے احاطے میں قتل ہوئیں تو سمیعہ ماں باپ کے ہاتھوں، کائنات چچا کے ہاتھوں تو مشال بھائی کے ہاتھوں تو کہیں کامران لاڑک کو زہر پلا دیا گیا تو کہیں جوڑے کو قتل کرکے گھر میں ہی دبا دیا گیا۔ محبت کے ہاتھوں قتل وغارت، اجڑنے، تباہ برباد ہونے کی کہانیاں زبان زد عام ہیں ۔ بہت ساری صورتوں میں لڑکی مار دی جاتی ہے تو کہیں جوڑے کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، اور کہیں لڑکے حسد رقابت کی بھینٹ چڑھ کر قتل ہوجاتے ہیں۔ کہیں محبت کرنے والوں کا پورا گھرانہ ہی عتاب کا شکار ہوجاتا ہے۔

محبت کے نام پر دھوکے کی صورت میں حوا کی بیٹیاں دھوکے کا شکار ہوکر دربدر ہوتی ہیں، کہیں اپنی عصمت اور خاندان کی ناموس گنوا بیٹھتی ہیں اور کہیں جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں کھلونا بن کر روز روز لٹتی ہیں اور اپنے نصیبوں کو روتی ہیں کہ کیوں محبت کی تھی ، کیوں دل لگایا تھا۔ کہیں مرد محبت میں ناکامی پر خودکشی کر لیتا ہے تو کبھی کم عمر اسامہ ہاتھ کی نسیں کاٹ لیتا ہے تو کہیں محبت میں ناکام والدین کی مرضی پر راضی ہوکر زندگی کے خلا میں ساری عمر بس بھٹکتا راستہ تلاش کرتا رہ جاتا ہے۔ اکثر وجود اپنے اندر ہی اندر ایک قبر بنائے تاعمر اس قبر کے مجاور بنے اپنے نام لگی عورت کو عمر بھر کی پیاس دیے زندگی گزار دیتے ہیں۔ کہیں محبت کے متوالے ہوش گنوا بیٹھتے اور پاگل خانوں میں دیواروں پر اس کا نام لکھتے اسے آوازیں دیتے ہیں تو کہیں کچھ لوگ نشے میں غم بھلانے کی سعی کیے مزاروں کوڑے دانوں پر گم صم نظر آتے ہیں۔

لیکن! کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ اتنی برباد داستانوں کو سن کر محبت سے رُک جائیں۔ نہ دل لگائیں نہ روگ لگائیں، نہ خود کو تڑپائیں، نہ راتوں کو رلائیں۔ کیوں انجام جانتے بوجھتے بھی دو دل اس آگ میں کود پڑتے ہیں۔ کیوں اپنے دل ایسی آگ لگ جاتی ہے جو کسی ایک چہرے کسی مسکراہٹ یا کسی مخصوص لمس سے ہی سرد ہوپائے۔ فطرت! جی ہاں یہی فطرت ہے۔ خدائی تحفہ ہے جو انسان پر ودیعت کیا گیا ہے۔ جو لاکھ پہرے بٹھانے سختیاں کرنے، روکنے ٹوکنے، ستانے، تڑپانے پر بھی نہیں رُکتی۔ کوئی دل ایسا نہیں جس کے دل میں کبھی عمر کے کسی بھی حصے میں کسی کے لیے بھی نرم گوشہ نہ آیا ہو، کسی کو دیکھ کر دل نہ مسکرایا ہو ۔

آخر اسے روکا بھی کیوں جائے؟ جب سب ہی جانتے ہیں کہ یہ عمر کا تقاضا ہے، فطرت کی پکار ہے۔ ہر ثقافت اور مذہب اس کی اجازت دیتا ہے تو آخر کیوں اسے رد کیا جائے۔ اس وقت تک بہت سی جانیں لی گئیں، لاتعداد گھرانوں میں دشمنی کی بنیاد پڑی تو بہت سے گھرانوں کو کئی نسلوں کو اس کا حساب چکانا پڑا۔ اب اور کتنا ذلیل ہوا جائے۔ ہم محبت سے کیوں خوف زدہ ہوتے ہیں؟ رسوائی کا ڈر؟ چلیں سب قبول کر لیں اسے رسوائی ختم ہوجائے گی۔ دھوکا کھانے کا خوف؟ چلیں باندھ دیں شادی کے بندھن میں۔ نہیں بندھتا کوئی شادی میں کلی کلی منڈلانے کا عادی ہے؟ دیجیے سزا، کیجیے قانون سازی، بنائیے کوئی منسٹری، بٹھائیے کوئی کمیٹی، ایک دفتر لے ڈالیے جو تحفظ دے محبت کے دیوانوں کو۔ حکومت اور ارباب اختیار کو امن و امان قائم کرنا ہے، عوام کی جان و مال، عزتیں اور آبرو محفوظ کرنا ہیں، فلاحی ریاست کے عزم کی تکمیل کرنا ہے، تو کیجیے، آگے آئیے۔ بہت ہوچکا۔ محبت کو نہیں اسے زبردستی روکنے کی صورت میں پیدا ہونے والے مسائل کوختم کیجیے۔ ذیل کی تجاویز پر عمل کرنا سود مند ثابت ہوسکتا ہے:

پہلے یہ ذہن نشین کرلیں مذہب محبت سے نہیں روکتا۔ اسلام دو محبت کرنے والوں کے بیچ نکاح کو سب سے بہترین مانتا ہے ( یعنی محبت کرنے کو ملامت نہیں کی گئی) ۔ اب سوچیں محبت کا قبولِ عام نہ ہونے کی وجہ سے چونکہ خون خرابا نقصِ امن ہوتا ہے اس لیے اس کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ لوگوں کے خدشات دور کیے جائیں۔ انھیں سمجھایا جائے کہ اس نفرت میں ہی سب برائی ہے۔ اس سلسلے میں تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ خاندان رابطہ مہم بھی سازگار رہے گی۔ مذہبی سرکردہ افراد کو بھی اس سلسلے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی دعوت دی جاسکتی ہے۔

حکومتی سطح پر اس مقصد کے لیے الگ سے منسٹری بنائی جائے جس کے دفاتر ہر چھوٹے بڑے شہر میں ہوں، خواہ اسے مقامی حکومتوں کے تعاون سے چلایا جائے۔ اس منسٹری کے تحت چلنے والے دفاتر محبت کرنے والے اور شادی کے خواہش مند جوڑوں کو رجسٹر کریں اور ان کی شادی کے سلسلے میں ان کے والدین اور اہل خاندان سے مشاورت کا سلسلہ شروع کرے۔ اگر کہیں اختلافات ہوں تو ریاست اپنی سرپرستی میں ان شادیوں کو کروائے۔ جبکہ متعلقین کو کسی بھی انتقامی کارروائی سے باز رکھنے کے لیے انتباہی نوٹس جاری کرے۔

اگر کوئی جوڑا محبت میں ہونے کے باوجود خود کو رجسٹر نہ کروائے تو ریاست ان میں سے دونوں یا کسی ایک کو شکایت موصول ہونے پر دفتر طلب کرے اور ان کی محبت کی صداقت کا ثبوت طلب کرے۔ دونوں کے یا دونوں میں سے کسی ایک کے دھوکے باز ہونے یا کسی مشکوک گروہ سے تعلق ہونے کی صورت میں پولیس کی مدد سے چھان بین کروائے اور مناسب سزا تجویز کرے تاکہ خواتین کے لٹنے اور برباد ہونے کے واقعات کا سدباب ہوسکے۔

اس ضمن میں سخت قوانین ہونے کی وجہ سے نظرباز، دھوکے باز اور کلی کلی منڈلانے والے بھنورے نیز راہ چلتی خواتین کو چھیڑنے یا ان کو سڑکوں پر خط اور پھول پکڑانے والے اور دل لگی کرنے والے بھی اپنی حد میں رہیں گے۔ اسی منسٹری کے متوازی ہراسانی کے واقعات کا سدباب بھی کیا جاسکتا ہے۔

حرفِ آخر! محبت کو نہ روکیے؛ ان عوامل کو روکیے جنھوں نے محبت کا حسن گہنا دیا ہے۔ محبت کا دن منائیے، کیونکہ یہ زندگی محبت کی مرہونِ منت ہے؛ ہر سانس محبت کا جشن ہے۔

Categories
نان فکشن

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

آج چودہ فروری ہے۔محبت کا مخصوص دن۔اچھی بات ہے، ہر شخص کی سالگرہ ہوتی ہے سو حضرت دل کی بھی ہونی چاہیے جو مختلف محبتوں سے آباد کبھی مایوس ہوکر گیلی چھتوں کی دیوار سے پاوں لٹکا کر بیٹھاکرتے ہیں تو کبھی سمندر کنارےسورج کی سنہری رسیوں پر یادوں کی بیلیں سکھاتے نظر آجاتے ہیں۔یہ دن تیسری صدی کے ایک صوفی ویلنٹائن سے وابستہ ہے، مگر معاف کیجیے گا، میں ان سے زیادہ واقف نہیں۔میں کرشن اور رادھا کی دھرتی سے تعلق رکھنے والا شخص ہوں۔چنانچہ محبت کی پری بھاشا میرے لیے ویسی ہے،جیسی میری مٹی نے مجھ پر آشکار کی ہے۔پہلے تو بات کرتے ہیں ان لوگوں کی جو سبھیتا یا تہذیب کی رکھوالی کرنے کا نام لے کر اس خاص روز لڑکوں اور لڑکیوں کو نہ تو لب سڑک ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلتے ہوئے دیکھنا پسند کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کشادہ ریستوراں کی چھوٹی سی میز پر آنکھوں سے آنکھیں چار کرنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں۔تو سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ مشرقی سماجوں اور تہذیبوں میں محبت سے اس قدر پریشانی کیوں ہے۔یہ جو پرمیشور یا خدا کی چھوٹی چھوٹی دبنگ ٹولیاں، ٹوپی یا تلک لگائے شہروں میں چیختی چلاتی گھومتی ہیں، اس سے یہ سوال تو لازمی طور پر پیدا ہونا چاہیے کہ محبت کی مخالفت کرنے والی کوئی بھی تہذیب کیا اس لائق نہیں کہ اسے نفرت کا پرچارک سمجھا جائے۔لیکن یہ بھی یہ سننا نہ چاہیں گے۔کیونکہ ان کے مذاہب ، جو کہ ان کی تہذیب کااصل مآخذ ہیں ، اس بات کی تشہیر کرتے نہیں تھکتے کہ خدا کے بندوں سےپیار کیجیے۔اب کوئی شخص پیار کو سمجھے تو کیسے سمجھے، جانے تو کیسے جانے۔۔۔کیونکہ آپ نے لوگوں کی سادہ سی تفہیم پر موٹے موٹے تالے یہ سوچ کر لگائے ہیں کہ اس سے تہذیب کا دامن داغدار ہوتا ہے۔یعنی اگر کوئی اکیس سال کا لڑکا، اٹھارہ سال کی لڑکی سے دوستی یا محبت کرنا چاہے تو یہ ایک تہذیبی خسارہ ہوگا۔اب جب ہم پوچھتے ہیں کیسے؟ تو اس کا جواب ایک ہے، وہ ہے بے حیائی اور بے شرمی کا فروغ۔بے حیائی ۔۔میں محبت کے اس مخصوص دن پر اس لفظ کی از سر نو تعریف لکھنا پسند کروں گا۔

بے حیا ہونے کا ایک مطلب ہے، بے لحاظ ہونا۔مطلب آپ جب کوئی غلط کام ببانگ دہل کرتے ہیں تو اسے آپ کی بے حیائی سمجھا جاتا ہے۔اب یہ غلط کام کون طے کرے گا؟ مطلب کسی شخص کا دوسرے کسی شخص سے متعارف ہونا اگر بے حیائی ہے، اسے پسند کرنا، اس کے ساتھ بیٹھنا، ہاتھ میں ہاتھ ڈالنا، آنکھوں سے آنکھیں چار کرنا اور محبت کے ایک خوبصورت تعلق کوا ستوار کرنا اگر بے حیائی ہے تو پھر ہمیں برسوں سے چلے آرہے اس لفظ کی تفہیم پر غور کرنا ہی پڑے گا۔اخباروں میں ہم اکثر خبریں پڑھتے ہیں کہ دن دہاڑے لوٹ مچ گئی، سڑک پر قتل کردیا گیا، سی سی ٹی وی کے ہوتے ہوئے لڑکیوں کو چھیڑا گیا، گالم گلوچ ہوئی ، یہاں تک کہ یہ تو معمولی ہی سی بات ہے کہ عام دنوں میں چھوٹی چھوٹی سڑکوں پر جس قسم کا ٹریفک لگ جایا کرتاہے، وہ لوگوں کی اتنی سی بے توجہی کے کارن ہوتا ہے کہ وہ خود جلدی اپنی منز ل پر پہنچنا چاہتے ہیں اور اس چکر میں دوسری گاڑیوں کے ساتھ الجھ پڑتے ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سڑک کافی دیر تک کے لیے ٹھس ہوجاتی ہے، وجہ یہ ہے کہ سارے لوگ انسانیت کا لحاظ نہیں کرتے، دوسروں کا خیال نہیں کرتے، درگزر سے کام نہیں لیتے اور تحمل اور محبت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ایک مسلسل طاری رہنے والے غصے اور چڑ کے نیتجے میں اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ بعض اوقات نتائج بڑے بھیانک اور عقل کے لیے ناقابل قبول ہوتے ہیں۔ابھی الہ آباد میں چند دنوں قبل ایک کالج کے لڑکے کا پیر ٹکرا جانے سے ہونے والا جھگڑا اتنا بڑھا کہ انجام یہ ہوا کہ دوسرے فریق نے اسے اتنا ماراکہ وہ کوما میں چلا گیا، ہمارے ہی محلے میں اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایسے ایسے جھگڑے پیدا ہوجاتے ہیں کہ لوگوں کو جیل ہوجایا کرتی ہے، جان و مال کا نقصان ہوتا ہے، محلے بھر میں چٹپٹی باتوں اور خوف و ہراس کا ماحول ایک ساتھ مختلف شاخوں کے ساتھ جنم لیتا ہے اور اس گرد کو بیٹھنے میں کئی کئی دن لگ جایا کرتے ہیں۔یہ سب کیوں ہوتا ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے،معمول کی زندگی پر نگاہ دوڑائیے تو معلوم ہوگا کہ دنیا جن دو کھرے جذبات پر قائم ہے، وہ صرف محبت یا نفرت ہیں، جہاں ایک کی کمی ہوگی، وہاں دوسرا دوڑ کر ہوا کی طرح ماحول کو بیلنس کرنے کے لیے اپنا دبائو بڑھا دے گا۔یہ ایک قدرتی نظام ہے کہ جہاں فرسٹریشن، ضد، جھنجھلاہٹ اور منافقت کے رویے موجود ہونگے، اس سماج میں اطمینان، درگزر اور شفقت کے رویے کم سے کم دکھائی دیں گے ۔ہم اکثر ٹیلی ویزن پر دیکھتے ہیں کہ اچھی خبروں کے ساتھ رپورٹر حضرات یہ کہتے ہوئے ضرور نظر آتے ہیں کہ ‘ابھی انسانیت مری نہیں ہے۔’ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔کیونکہ یہ جملہ ایک حیرت کی نمائندگی کرتا ہے ، خوشی سے بھرپور ایک مثبت حیرت جو ہمیں بتاتی ہے کہ ابھی ہم ایک ایسے سماج میں ہیں، جہاں نفرت کا تناسب محبت سے کئی گنا زیادہ ضرور ہے، مگر نفرت کے پھیلے ہوئے گھنے سمندروںمیں کہیں کہیں محبت کے چھوٹے چھوٹے جزیرے بھی دکھائی دے جاتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر ایسا ماحول بنا کیسے۔جواب بھی اسی فکر میں پوشیدہ ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ آخر بے حیا یا بدلحاظ کس قسم کے لوگوں کے ساتھ وابستہ اصطلاح ہونی چاہیے تھی اور کس کے ساتھ وابستہ ہے۔ایسے لوگ جنہیں محبت سے اس قدر ڈرایا گیا ہو کہ اگر وہ کہیں نظر آجائے تو اسے بے حیا سمجھ کر اس کا سر کچلنے پر وہ آمادہ ہوجائیں ، کس طرح ایک ایسا سماج گوارہ کرسکتے ہیں، جس میں محبت اور درگزر کی تعلیمات دی جاتی ہوں۔یاد رکھنا چاہیے کہ قدرت کے اس عجیب و غریب نظام میں ایک اور پہلو پوشیدہ ہے جو بہت دلچسپ ہے، حالانکہ دنیا کا ہر خطہ ان دونوں جذبات کے زیر اثر پروان چڑھنے والے رویوں سے معمور ہے ، مگر پھر بھی کوئی سماج اس وقت تو قائم رہ سکتا ہے، جب اس میں نفرت کا عنصر بالکل موجود نہ ہو، مگر محبت کے سائے کے بغیر ، یعنی مکمل نفرت کے ساتھ کسی سماج کا قائم رہ پانا بالکل غیر ممکن ہے، نفرت سے بھرا پرا سماج ایک ایسا بدہونق راکھشس ہے جو لاشوں کو ڈھوتے ڈھوتے ایک روز انہی کے اندر دھنس جائے اور اپنی تمام تر قابل فخر تہذیبوں اور مذاہب کے ساتھ کبھی زمین پر دوبارہ تازہ سانسیں لیتے ہوئے نہ ابھر سکے۔ہمیں زندگی کے نئے اور بالکل متضاد بیانیوں کو نہ صرف خود کو سننے کے لائق بنانا چاہیے بلکہ اپنے پرانے رسم و رواج اور ثقافتوں پر سخت سے سخت تنقید کو غور سے سننے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ضروری نہیں ہے کہ وہ لوگ جنہیں ہم روشن دماغ کہا کرتے ہیں، ہمیشہ ٹھیک بات ہی کہیں، مگر ان کی بات سننے اور انہیں سمجھنے سے تازہ ہوا کے راستے پیدا ہوسکیں گے اور ہم سیلن اور گھٹن زدہ سوسائٹی میں گل سڑ اور پچک کر مرجانے سے بچ سکیں گے اور اس کی ابتدا ہوتی ہے اس عملی قسم کی معمولی سی تبدیلی سے، جس میں بغیر کسی جبر کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلنے والے ایک نوجوان جوڑے کو دیکھنے کے لیے ہم اپنی آنکھوں کی تھوڑی سی تربیت کرسکیں۔

خیر، یہ تو بات ہوئی مخالفت کرنے والوں کی۔اب موافقت والوں پر بھی کچھ بحث ہوجائے۔ویلنٹائن ڈے،ایک لائق ستائش نظریہ محبت کو ہماری جھولی میں ڈالتا ہے اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی اتنی تنگ نہیں ہوئی ہے کہ ہم محبت نہ کرسکیں۔مگر یہ ہرگز ضروری نہیں کہ محبت کا کوئی جامد یا روایتی تصور ذہنوں میں پیدا کرکے اسے خود پر طاری کرلیا جائے۔محبت ہم میں ہوتی ہے، یہ ہماری صفت ہے، ہمارا وصف ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ فلاں محبت ناکام ہوئی تو پھر ساری زندگی نہ ہوپائے گی یا پہلی محبت کی بات ہی کچھ اور ہوا کرتی ہےوغیرہ وغیرہ۔یہ ساری باتیں سر آنکھوں پر مگر سوچ کر دیکھا جائے تو ایسا نہیں ہے، انسان ناامیدی اور مایوسی کے دامن سے باہر نکل کر نئی دنیائیں آباد کرلینے کے ہنر کا دوسرا نام ہے۔ایک ایسا سماج جو محبت کے حاصل نہ کرپانے پر تیزاب پھینک دینے کی نہایت سفاک حرکت پر اتر آئے، محبت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔اپنے آس پاس موجود زندگیوں پر نگاہ ڈالیے، معلوم ہوگا کہ محبت کے نام پر ہم نے ضدی اور پاگل لوگوں کی بے وقوفانہ تربیت کی ہے، یہ لوگ اپنی محبوبائوں کی مرضی کا خیال نہیں کرتے، ان کے انکار کی عزت نہیں کرتے، ان کو بدکردار ثابت کرتے ہیں، ان کو لعن طعن کرتے ہیں، ان میں کیڑے نکالتے ہیں اور اتفاق سے اگر وہ انہیں حاصل ہوجائیں تو ساری زندگی بے عزت کرتے ہیں، انہیں ان کی صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک سے گزارتے ہیں، راتوں کو بیوی کا نام دے کر جبرا ان کے ساتھ سیکس کرتے ہیں اور اپنی ایک غیر سنجیدہ اور ناکام حسرت کو مستقل محبت کا نام دیتے چلے جاتے ہیں۔اس سے بہتر ہے کہ ایک ایسا سماج تشکیل دیا جائے جس میں ایک سے زیادہ محبت جرم نہ ہو، ساتوں جنم والے کسی رشتے کا تصور نہ ہو اور کسی کو حاصل کرلینے کے نظریے پر از سر نو غور کیا جائے اور لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ انسان، کبھی کسی دوسرے انسان کو مکمل طور پر حاصل نہیں کرسکتا اور ایسا سوچنا بھی کسی کی آزادی ، اس کی زندگی اور اس کی خواہشات پر قدغن لگانے جیسی بات ہے، حاصل غیر جاندار چیزیں کی جاسکتی ہیں، زندہ اور متحرک چیزوں کو حاصل نہیں کیاجاسکتا، بس ان کے ساتھ وقت گزارا جاسکتا ہے اور وہ بھی اس وقت تک، جب تک وہ چاہیں۔ہمیں محبت کے اس خاص دن پر اپنے احتساب کی سخت ضرورت ہے۔

لڑکے ہوں یا لڑکیاں، محبت میں ایک دوسرے کو اپنی پراپرٹی گرداننے لگتے ہیں، میں نے اپنے کئی دوستوں کو موبائل سے ہسٹری ڈیلیٹ کرتے دیکھا ہے، لڑکیوں کو چھپ چھپا کر بات کرتے دیکھا ہے،لڑکوں کو لڑکیوں پر اور لڑکیوں کو لڑکوں پر یہ حکم چلاتے دیکھا ہے کہ تم فلاں سے نہیں ملو گے، فلاں وقت کے بعد گھر سے باہر نہیں جائو گی، ایسے کپڑے پہنوگے یا ایسی جگہوں پر نہیں جائو گی۔یہ سب احکامات محبت کی تردید کرنے والے ہیں۔ہم اپنی Insecurityکو بعض دفعہ بڑی خوبصورتی سے ایسے جملوں میں ڈھالتے ہیں کہ ‘میں تو فلاں کا دھیان رکھتا/رکھتی ہوں ‘ یا ‘ وہ بے چارہ/بے چاری دنیا کو نہیں سمجھ پاتا/پاتی’۔یہ سب کھوکھلی باتیں ہیں۔اس میں غلطی ہماری بھی نہیں ہے، برسوں سے ہماری کہانیاں، ہمارے ڈرامے، ہمارے اساطیر ، ہمیں اس جذبے کے ایک ایسے رخ کا دیدار کراتے رہے ہیں، جس میں محبت کے نام پر جلن، اندیشوں اور جنگ تک کے تصورات وابستہ ہیں۔ہم نے کبھی کوشش ہی نہیں کی کہ ہم کوئی متبادل راستہ بھی تلاش کرتے اور دیکھتے کہ دنیا اس راستے پر چل کر کن منزلوں تک پہنچتی ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ محبت کرتے ہوئے کسی طرح کا اندیشہ نہ پالنے والے شخص کے لیے ہماری زبانوں میں کوئی لفظ ہی نہیں ہے اور اگر اس قسم کے کسی بے نیاز شخص کے لیے کوئی لفظ عربی وغیرہ میں ہے بھی تو دیوث جیسی گالی ہے، جسے اردو میں آپ بھڑوا یا دلال کہہ سکتے ہیں۔

ہم نے محبت کی مخالفت اورموافقت دونوں معاملات میں انتہاپسندی کی بھی حد کردی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ ایسا سماج بنایا جائے جو ہماری مرضی کے مطابق ہو اور جس میں ہمارے لیے مختلف قسم کی سہولتیں میسر آسکیں۔ہم ایک دوسرے کے لیے آفت جان بن کر ، ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے ،زرد بوسوں اور کالے پڑتے ہوئے رشتوں کو محبت کا نام دیتے ہیں اور آواز بھی بلند کرتے ہیں تو ایسی ہی محبت کا حق وصول کرنے کے لیے۔میرے خیال میں دونوں سطح پر غور و فکر کی ضرورت ہے اور ویلنٹائن ڈے محبت کے بارے میں سوچ سمجھ کر رائے قائم کرنے کی گھڑی ہے ،جو ہمیں ہماری تمام تر مصروفیت کے باوجود یہ سوچنے کا موقع دیتی ہے کہ محبت کا یہ خاص دن منانے کے لائق کیسے بنا جائے۔ورنہ تو ہماری سوسائٹی میں محبت کرنے والوں کی نہ کوئی کمی ہے، نہ کبھی ہوگی۔

Categories
نقطۂ نظر

پل بھر کے لیے کوئی ہمیں پیار کر لے، جھوٹا ہی سہی

بچپن میں کبھی یہ نغمہ سنا اور کان نہ دھرے پھر عمر کی بیتی ہر گھڑی کے ساتھ ساتھ یہ نغمہ سنائی دیتا رہا اور ہر عمر میں اس کا مفہوم بدلتا رہا۔ کبھی ہم اس نغمے کے خلاف بھی ہوئے کہ یہ کیا بات ہوئی جھوٹا پیار کیوں؟ جب ہم دل جیسی شے سونپنے کے خطاوار ہوں، اتنی سخاوت پر اتریں کہ اپنی کل کائنات دینے پر تل جائیں تو پھر وہ جھوٹا پیار کیوں ہو۔ لیکن خیر! وقت گزرتا چلا گیا اور ہم پیار کی پکار کو ترستے رہ گئے۔ زندگی میں بہت لوگ آئے، دل پر بھی دستک دی کہیں دل کے کواڑ چرمرائے، کہیں جھنجھنائے اور کہیں تو دونوں پاٹون پاٹ کھل بھی گئے لیکن جس نے آنا تھا ان مٹ نقوش کے ساتھ بس وہی نہ آیا۔ ہاں سونی راتوں، پھیلی بانہوں اور ویران آنکھوں نے اتنا فسانہ ضرور سنایا،

 

پل بھر کے لیے کوئی ہمیں پیار کر لے، جھوٹا ہی سہی

 

پیار، زندگی کی سب سے بڑی کمی، اور اس کمی کا ازالہ جو اکثر جھوٹا ہی ہوتا ہے۔ میرے لیے جھوٹا ہی سہی پیار تو پیار ہی ہوتا ہے۔ جو جذبات میں اٹھتے ہر بھنور کو سمیٹ کر ایک سمت ہموار بہنے دیتا ہے۔ زندگی میں تحریک اور آگے بڑھنے کی لگن، تخلیق کار کی تخلیق کا منبع، اور ہر شاہکار کی پیدائش کے پیچھے جو بنیادی وجہ موجود ہو تی ہےوہ پیار ہی تو ہے۔ محبت کا احساس۔ جس نے یہ امرت جل نہ پیا اس نے دنیا میں بھلا اور کیا کیا۔
پیدائش کے بعد جس پہلے احساس سے آشنائی ہو وہ پیار ہی ہے، گھر سے نکلیں ماحول میں سانس لیں تو پیار ہی ہاتھ بڑھائے سنبھالنے کو موجود۔ عمر کی ہر پیش رفت پر، زندگی کی ہر کروٹ پر جہاں جہاں ٹھوکر لگے سہارا دینے کو دل جس کا تمنائی وہ اور کوئی نہیں صرف پیار ہے۔ جہاں خواہش ٹوٹے، ناکامی ملے، تکلیف بیماری، دکھ، بخار نزلہ کھانسی، بے روزگاری، لوڈشیڈنگ ہر جگہ ہر دکھ کا علاج صرف پیار۔ ہاتھ میں کانٹا چبھے اور محبوب کے لب اس زخم کو چوم لیں تو کیسی تکلیف کہاں کا درد۔

 

پیار، میں کروں تو مرد، کروں گا کس سے عموماً عورت سے۔ لیکن عورت کرے تو ممنوع۔ ہائے پھر میں کس سے پیار کروں جو جواب میں بھی پیار آئے۔ اب مجھے تو آزادی پیار کی اور عورت کو پابندی۔ جو ہر پابندی توڑ کر پیار کا جواب دیں تو ان کی تعداد چند ایک۔ یعنی ایک انار سو بیمار۔ ہائے اب بے چاری کس سے سچا پیار کرے، اسی لیے یارو، اکتفا کر لو!

 

پل بھر کے لیے کوئی ہمیں پیار کر لے، جھوٹا ہی سہی

 

اب پیار جو زندگی کی سب سے بڑی کمی اور جسے مل ہی نہ پائے وہ اور کیا کرے۔ حوروں کے چکر میں دن رات بتائے۔ روز لوگوں کی راہ میں روڑے اٹکائے، ان کو ستائے جلائے تڑپائے، ان پر قدغنیں لگائے۔ جو پیار نہیں کرپاتا، یا جسے کوئی لائق پیار نہیں سمجھ پاتا وہ ایک اور ہی فارمولے پر چل نکلتا ہے۔ ہاں اب سب کو روکنا ہے، اس کے خیال میں وہ جتنے محبت بھرے دلوں کو روک سکے گا اتنی ہی اس کے لیے جنت میں ریزرو حوروں کی تعداد بڑھتی جائے گی۔ تو جناب دن بھر انسانی حوروں کی چوکیداری اور ان پر (سرتاپا) نظر رکھنا، اور رات کو اپنے لیے جنت میں کمائی گئی حوروں کی گنتی۔ اکڑ بکڑ بمبے بو۔ اسی نوے پورے سو۔

 

ہائے اس ظالم سماج، دکھ دائیک بننے سے کہیں بہتر نہیں، مل کر نعرہ لگائیں۔۔۔

 

پل بھر کے لیے کوئی ہمیں پیار کر لے، جھوٹا ہی سہی
Categories
نقطۂ نظر

ثقافتی گھٹن اورویلنٹائن ڈے

ویلنٹائن ڈے کا ذکر جب بھی آتا ہے تو اکثر لوگوں کو شرم و حیا یاد آجاتی ہے اور سب لوگ ایک ثقافتی جوش وجذبے سے یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے سے ہماری ثقافت کو خطرہ ہے ، تو ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ ہماری ثقافت ہے کیا جس کو صرف چند پریمی جوڑوں کی ملاقات سے خطرہ ہے۔ ذرا تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ چھپ کر ملنے سے ثقافت کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ چھپ کر ملنے سے ہماری حیا کے تقاضے پورے ہوجاتے ہیں اسی لیے تو ہیر رانجھا،سسی پنوں، سوہنی مہینوال کو سب لوگ احترام سے یاد کرتے ہیں کیونکہ وہ ویلنٹائن ڈے کے علاوہ چھپ چھپ کر ملتے تھے۔ہماری ثقافت کا یہی تو ایک درخشاں پہلو ہے کہ یہاں چھپا کر برائی کرنا اور اسے ہمیشہ چھپاتے رہنا عین سماج کی خدمت ہے ،لیکن اس برائی کو ختم کرنے کے لیے اس پر بات کرنا جرم ہے، اسی لیے ہمارے یہاں منٹو کو ایک حقیقت پسند ادیب کے بجائے فحش نگار جبکہ نسیم حجازی کے رومانوی اور نیم تاریخی ناولوں کو اسلام اور ادب کی خدمت تصور کیا جاتا ہے۔
ویلنٹائن ڈے محض ایک مغربی تہوار ہی نہیں بلکہ محبت کرنے اور اپنے جیون ساتھی کے انتخاب کے حق کی آزادی کو تسلیم کرنابھی ہے، لیکن اس دن کو فحاشی قرار دے کر نوجوانوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزارنے کا فیصلہ کرنا اور محبت کرنا جرم ہے۔
مجھے یہ بات ہمیشہ عجیب لگتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں عبادت گاہوں پر حملہ کرنا ثقافت پر حملہ نہیں سمجھا جاتا، کمسن بچوں کے ساتھ جنسی بد سلوکی پر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے،کم سنی کی شادی کو کوئی ظلم نہیں سمجھتا، اسی ملک میں عورتوں کے ساتھ سر بازاربدسلوکی پر کسی کو ثقافت یاد نہیں آتی، نفرتیں پھیلانے سے کسی کے ایمان پر حرف نہیں آتا ،ہاں حرف آتا ہے تو صرف اس بات پر کہ اگر کوئی جوڑا پارک میں ہاتھ پکڑ کر بیٹھ جائے۔ نوجوانوں کی ضرورتوں اور جذبات کے اظہار کے لیے ہماری ثقافت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے سوائے اس کے کہ صبر کرو۔ ویلنٹائن ڈے محض ایک مغربی تہوار ہی نہیں بلکہ محبت کرنے اور اپنے جیون ساتھی کے انتخاب کے حق کی آزادی کو تسلیم کرنابھی ہے، لیکن اس دن کو فحاشی قرار دے کر نوجوانوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزارنے کا فیصلہ کرنا اور محبت کرنا جرم ہے۔
ہماری ثقافتی گھٹن کے بارے میں معروف دانشور ارشد محمود نے خوب لکھا ہے کہ ہمارے ہاں میاں بیوی ایسے زندگی گزارتے ہیں جیسے بہن بھائی ہوں، کبھی (Affection) کا اظہار نہیں کرتے، اور جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو وہ حیران ہوتے ہیں کہ ماں باپ نے ہمیں پیدا کب کیا ہے، اور ہماری ثقافت میں تمام قدرتی عوامل جیسے زچگی اور پیدائش وغیرہ کے ذکر کو شرمناک سمجھا جاتا ہے بلکہ اگر خالق کائنات ہم سے ان معاملات میں مشورہ لیتا تو ہم کوئی حیا دار مشورہ دیتے ۔
حقیقت یہ ہے کہ ہماری تربیت ایسی ہوئی ہے کہ ہم زندہ رہنا اور خوش ہونا نہیں جانتے، ہمارے معاشرے میں ہر شخص کے چہرے پر بارہ ہی بجے ہوتے ہیں ہر وقت اسے معاشی اور ثقافتی گھٹن کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خوشی کے تمام ذرائع ہم نے آہستہ آہستہ ختم کردیے ہیں، اچھا اور معیاری ادب نہ لکھا جاتا ہے اور نہ پڑھا جاتا ہے،اس وقت سب سے زیادہ بکنے والا اردو ناول “جب زندگی شروع ہوگی” ہے جس میں صرف قیامت کا منظر ہے، کوئی معیاری فلم نہیں بن رہی اور سینما ختم ہوچکے ہیں۔ تھیٹر، موسیقی، رقص،اور مصوری وغیرہ دردناک موت کا شکار ہوئے ہیں،پارک ،تفریحی مقامات اور کھیل کے میدان ختم ہوگئے ہیں، نوجوانوں کا قومی کھیل صرف خواتین کو “تاڑنا “اور ہراساں کرنا رہ گیا ہے۔ نوجوان نسل کی ذہنی گھٹن کی ایک اہم وجہ میل جول اور اطہار کے خاطر خواہ مواقع نہ ہونا ہے۔ پاکستان کی اکثریت معیاری تفریح اور میل جول کے مواقع سے محروم ہے، بیٹھنے، کھیلنے اور گھومنے پھرنے کے مقامات مفقود اور عوام کی دسترس سے باہر ہیں۔
دنیا بھر میں لوگ تہوار جوش وخروش سے مناتے ہیں،ایسے موقعوں پر کھیل کھیلتے ہیں، کنسرٹ منعقد کرتے ، ناچتے گاتے ہیں، پکنک مناتے ہیں، ہمارے ہاں موجودہ تہواروں کو ہی ختم کرنے کی رسم جاری ہے، صرف بسنت تھی اب وہ بھی نہیں ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ ہم خوشی کے تہواروں پر بھی خوش نہیں ہو پاتے۔عید کے روز سب عید کے کپڑے پہنتے ہیں اور عید کی نماز کے بعد کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں، یعنی ہمارے نزدیک صرف کھانا اور نئے کپڑے پہننا ہی خوشی ہے۔
زندگی اور خوشی کے تمام ذرائع اپنی ثقافت سے نکالنے کے بعد اب ہم اس مقام پر موجود ہیں کہ ہمارا سماج بے مقصدیت اور خالی پن کا شکار ہوچکا ہے ، ہماری زندگی سے نفاست، شائستگی، لطافت، اور برداشت ختم ہوچکی ہے
زندگی اور خوشی کے تمام ذرائع اپنی ثقافت سے نکالنے کے بعد اب ہم اس مقام پر موجود ہیں کہ ہمارا سماج بے مقصدیت اور خالی پن کا شکار ہوچکا ہے ، ہماری زندگی سے نفاست، شائستگی، لطافت، اور برداشت ختم ہوچکی ہے ، یہی خالی پن ہمیں شدت پسندی کی طرف لے کر جارہا ہے، اب ہماری ثقافت کا صرف یہ رہ گئی ہے کہ کسی نہ کسی بات پر جلوس نکالیں،دھرنا دیں ، نجی اور ملکی املاک کا نقصان کریں، ساری رات مسجد کا لاؤڈ سپیکر آن کرکے فرقہ وارانہ تقریریں کریں، مسجد کے منبر پر بیٹھ کر مخالفیں کی مٹی پلیت کریں، کام کرنے والی خواتین کو ہراساں کریں یا ان کی کردار کشی کریں، سکول کے بچوں کو زبح کریں اور مذہب سے اس کو ثابت کریں، مسجدوں،اور مارکیٹوں پر حملہ کریں اور اسے بہادری کہیں، عورتوں کو اغواء کریں اور انھیں لونڈیاں بنا کر فخر کا اظہار کریں، اور ہماری تفریح یہ ہے کہ لوگوں کے زبح ہونے اور زندہ جلائے جانے کی ویڈیوز کو تفریح کے طور پر دیکھیں۔