Categories
شاعری

طنز کا موسم اور دوسری نظمیں (نظم گو: آنیے رِیس، مترجم: ادریس بابر)

نارویجن شاعرہ آنیے رِیس 1927میں پیدا ہُوئیں۔اپنی نسل کے دیگر ممتاز شعرا کے بر عکس آنیے نے اپنے اشاعتی سفر کا آغازقدرے تاخیر کے ساتھ 1975 میں کیا۔ ‘ساتُرا‘، اُن کی پہلی کتاب تھی۔ چار برس بعد، دوسرا شعری مجمو عہ ‘ بلند اشجار کے مابین‘ شائع ہُوا۔ اِس اِنعام یافتہ کتاب نے اُنہیں لکھنے والوں کی صف میں نمایاں جگہ دِلوادی۔ مترجم سے اُن کا غائبانہ تعارف اتّفاق سے اُن کی اِنہی اوّلین کاوشوں کے وسیلے سے ہُوا۔ پیش کیے گئے تراجم شاعرہ کے نقشِ اوّل سے ماخوذ ہیں۔

چوتھائی صدی سے زیادہ عرصہ میں آنیے رِیس کی نظموں کی چھ مزید جلدیں شائع ہُوئیں۔ ہر عمر کے بچّوں کے لئے لکھی گئی آٹھ کہانی کتابیں اِس کے علاوہ ہیں۔ آنیے کی تحریریں اِس دوران متعدّد انتخابوں، درسی اور معاون نصابوں میں شامل کی جاتی رہیں۔اچھّی طرح یاد ہے جبان کے تاحال آخری مطبوعہ دیوان، ‘آسماں فولاد کا‘ پر اُنہیں ایک بڑا ادبی اعزاز پیش کیا گیاتھا۔

[divider]طنز کا موسم[/divider]

سیل ِآب، زلزلہ
زمین کی جڑیں ہلا چکا
آسماں کو خاک میں ملا چکا
بستیاں، اور اُن کی باہمی حدیں مِٹا چکا
پہاڑ ڈھا چکا

پانی چل کھڑے
نئی ڈھلانوں، وادیوں کی سمت
جزیرے، با دلِ نخواستہ بہے
نئے سمندروں کی سمت

یہ سب ہُوا، یہی ہُوا
تو لازمی ہُوا
کوئی ہنسے
ہنسے کوئی بہت

نئے پرانے والوں پر
آزمودہ نقشوں کو آزمانے والوں پر
ریت میں کشتیاں چلانے والوں پر
پتھروں میں غوطے کھانے والوں پر
پانیوں میں سیڑھیاں لگانے والوں پر

ہنسے کوئی بہت شدید
سب یہ جان مان لیں

نئے بنانے ہوں گے
رکھنا ہوں گے اپنے پاس سب
نقشے، زاویے، ستارے، کمپاس سب

[divider]شعریات[/divider]

محاورے کے بطن میں
قید میں پڑا ہے لفظ
تہ بہ تہ بہ تہ
جیسے بے طرح اسیر ہو کنویں کی تہ میں
بیچ صندوق اک
ایک زخمی دل سکون پا رہا

ہمیں یہ صندوق کھینچ لانا ہو گا
محاورے کی قید سے
چُھڑانا ہو گا
لفظ کو،
خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہو،
لڑکھڑائے بھاگ کر دکھائے
اِسے یہ سب سِکھانا ہو گا
لفظ پھر بنانا ہو گا

[divider]بِنتی[/divider]

سمے کی کھڈّی پر کَتا
رخنوں، درزوں سے اَٹا
یہ قالین،
اِس کی ایک سطح پر
ابھی گُلاب کھِل رہے ہیں

ابھی کنارے سے لگی ہے
ناؤ تمہاری

دریچے کی سنو بھری سِل پر
ہاتھ رکھے دل پر
میں زرا جھُکوں
تو دیکھ لوں

تمہارے بال، سمندری ہوا
میں لہریے بناتے بال
چمکتے سرخ ہیں
جڑوں کے پاس

[divider]شکریہ[/divider]

کبھی نہیں پہنچنے کا
سفید گھوڑے پر سوار
شہسوار

مگر پہنچ رہی تو ہے، صدا تمہاری
روح کو اُٹھا رہی
بدن کی سطح سے ورا
میرے سنگ تنگ دل وجود کو
بدل رہی، کھِلا رہی

جواب میں یہ
نرم گرم ریشمی، سکوں دہ، اضطراب بخش
لفظ، بھیج دوں؟

کہیں بھٹک نہ جائیں
بادلوں کو احتیاطاً اِن کے ساتھ کر دیا ہے
عنایتوں کا شکریہ ادا کریں گے

[divider]شجرہ عصب[/divider]

بابا جانی
خیر سے وزیرِ مملکت
بھائی جان
سلامت باشد، طبیبِ اعلے
خاوند صاحب
نامدار اُستادِ الاساتذہ
بیٹا جی
آنکھوں کے تارے فرم کے مالک

رُک کر اُس نے کچھ یاد کیا۔۔

اور وہ،
ہمجولی کے بھائی کا دوست
وہ تو سیدھا فوج میں جنرل!

کہہ کر اُس نے ٹھنڈی سانس بھری۔

[divider]مان[/divider]

بات مان جا!
خود فریفتہ
ہو لے! دیکھ، آ
گھُس بیٹھ آنکھوں میں

اِن کو خود تلک
راستہ دِکھا
چیز، تُو جو ہے
سب پہ دے جتا

آبلہ، انا
اب، نہیں تو، کچھ
پھُوٹے گا ضرور

اک دراڑ سی
پڑکے رہے گی
زرہ بکتروں میں

[divider]ملاقات[/divider]

دھیان میں تو لا!
اک بدن زرا
تیرا ذاتی جسم
روح جس میں جھانک لے تو
ہو کے مست
کہہ اٹھے

بہت خوشی ہوئی!
(بہت بہت بہت
بہت خوشی ہوئی)
آپ سے تومل کے
لطف
آ گیا، جناب!

Categories
شاعری

یولا کا خواب اور دوسری نظمیں (شاعر: احمد شافعی، ترجمہ: ادریس بابر)

مصر سے تعلق رکھنے والے شاعر، ادیب اور مترجم احمد شافعی عربی ادب کی منفرد ترین نئی آوازوں میں سے ہیں۔ گذشتہ دو دہائیوں پر پھیلا ہوا ان کا متنوع کام ان کی خلاقی کا ثبوت ہے۔ جہاں ان کی آزادہ روی نے ان کے مداحوں کے دلوں میں گھر کیا وہیں ان کی روشنئ طبع خود ان کے لئے بلا بھی ثابت ہوتی رہی۔ احمد شافعی مسقط میں مقیم ہیں۔ آج آپ لالٹین پراس باکمال شاعر کی نظمیں آپ پڑھنے جا رہے ہیں۔ ان نظموں کوعربی سے انگریزی قالب میں مونا کریم، احمد رخا اور رابن موجر نے ڈھالا جبکہ انہیں اردو روپ ادریس بابر نے دیا۔

[divider]1[/divider]

شاعری وہاں نہیں ملی مجھے
جہاں میں اسے چھوڑ کے گیا تھا

بادل میری کھڑکی میں
نظم میری لکھنے کی میز پر
ذرا حیران نہیں ہوا میں

کمرے کا کمرہ
بے چینی سے منتظر تھا میرا
نشے میں چور
پلکیں اٹھائیں اس نے
مخمور بانہیں کھول دیں
ذرا تصور تو کرو
وہ کہنے لگا
از برائے خدا
تصور تو کرو مجھے

[divider]2[/divider]

ایک چھوٹے سے شہر کے پاس ہے
ایک بہت بڑا سمندر
اس پر سایہ فگن ہے
ایک شاندار قلعہ
گلیاں ہیں اور چوک ہیں
راستے ہیں اور موڑ ہیں
طرح طرح کے اچنبھوں
ان گنت اتفاقی ملاقاتوں کے امکانات لیے

چھوٹا سا شہر
جو ہم بنا پائے
ایک دوسرے سے واقفیت کے کارن

اسی دوران
کہیں کے کہیں تیرتے چلے گئے
ہمارے باپ
رنگ برنگی چھتریوں کو
ہماری ماوں کی نشانیاں ٹھہرا کر

[divider]3[/divider]

ہر نظم
جو میں پڑھتا
ایک ہیرا نکلتی
لوٹ مار کے نتیجے میں
جسے دنیا سے چھین لیا گیا ہو
ہر نظم
جو میں لکھتا
اس کے مقابلے میں
نظر آتی
ایک معذرت نامہ

[divider]4[/divider]

وہی فیصلہ کن گھڑی تھی
جب میں بہت بھاری پڑ رہا تھا
اپنے حریف کے مقابلے میں
اس نے راہ فرار اختیار کی
میں بھی پیچھے ہٹتا گیا
اسے سوچنے سمجھنے کا موقع دیے بغیر
کہ میں جو حاوی تھا
کیوں پیچھے ہٹا
جب وہ پرے بہت پرے ہٹ چکا
تو میں اسے نہایت غیر اہم دکھائی دینے لگا
اتنا کہ اسے خود پر پیار آنے لگا
کہ آخر اس نے کچل کے کیوں نہ رکھ دیا
مجھ ایسی حقیر شے کو
اپنے جوتوں تلے

[divider]یولا کا خواب[/divider]

قلم پر پوری قدرت نہ رکھتی تھیں
ابھی اس کی پانچ سالہ انگلیاں
جب یولا نے کاغذ پر نقش کیا
ایک ٹوٹا ہوا دل
نارنجی رنگ میں
اور کہنے لگی
میں نے تمہیں خواب میں دیکھا تھا
تم اشارہ کررہے تھے
ایسی ہی بلکہ اس سے بڑی چیز کی طرف
جبکہ تم ایک صحرا میں تھے
اور تم کہہ رہے تھے
یولا! میں ہی تو ہوں
وہ جس نے یہ گھر بنایا
تمہارے لیے
وہ گھر بہت دور تھا
اور مزید دور ہو جاتا
وہاں سے جہاں کا رخ ہم کر رہے تھے

Categories
شاعری

ناموجودگی کی آزادی سے آزادی کی ناموجودگی تک (شاعر: داراعبداللہ، ترجمہ: ادریس بابر)

دارا عبداللہ کی ان عربی نظموں کا ترجمہ انگریزی میں مونا کریم اور اردو میں ادریس بابر نے کیا۔ شاعر کے کلام میں فارم کے اعتبار سے روا رکھے گئے تجربات کے بارے میں خدشہ تھا کہ انہیں ہو بہو برقرار رکھنے سے خود شعریت سرے سے زائل ہو جائے گی. دیکھئے، کہ بعض ایسی نظموں کے لیے عشروں کی صورت کیسی موزوں رہی ہے۔

[divider]جلاد کا ڈر[/divider]

جلاد کو لاحق ہے
شدید ترین درجے کا
اعصابی تناو کا مرض
اور یہ سبب بھی نہیں

اس سے سرزد ہونے والی
کوئی بھی غلطی
وہ کتنی ہی حقیر کیوں نہ ہو
کسی صورت نہیں مٹائی جا سکتی
جب تک وہ ارتکاب نہ کرے
اس سے بھی بڑی غلطی کا

اور یونہی چلتا رہتا ہے
دار و رسن کا یہ سلسلہ

[divider]لفظوں کا دھواں[/divider]

شیشے کا ایک بڑا جار
کاغذ کی کترنوں سے لبالب

ایک مٹھی بھر پرچیاں نکالو
ترتیب دو، ان پہ لکھے لفظ
سنائیں گے تمہیں کہانی تمہاری

یاد کرو، یہ وہی تو لفظ ہیں
جو تم عام طور سے دہراتے پھرتے ہو

جار کو آگ لگانے کی غلطی نہ کرنا
دم گھٹ کے مر جائیں گے
لوگ، اپنے لفظوں کے ہاتھوں

[divider]ہجرت[/divider]

آزادی!
اپنی آزادی کو استعمال کرنے کی آزادی
تمہارے بر خلاف!

اُن کی آزادی
ایک قید ہے
تمہارے لیے

آزادی
چلو بطور ایک لفظ سہی
سب سے بڑا کرب ہے
کسی ایسے شخص کے لیے
جو فرار ہونے میں کامیاب رہا
جبر کے شکنجے سے
آزادی کی تلاش میں
آزادی کی سرزمین تک!

[divider]کوڑا کرکٹ کی یاد[/divider]

عام سی بات ہے
چیزوں کی ری سائیکلنگ
ہمارے یہاں جرمنی میں

جیسے یہی، تمہارے کھانے پینے کا چمچ
ممکن ہے اس سے پہلے کہیں رہ چکا ہو
کسی شامی جنگجو کی بندوق کی نالی
یا کسی بانکے کے کانوں کی بالی
یا کسی گھوڑے کے سموں کی جالی
وہ بھی ڈنمارک میں

سوچو تمہارے بعد تمہارا کیا بنے گا

[divider]میرے ذہن میں پھنسے ہوئے فقرے[/divider]

(الخطیب جیل میں قید تنہائی کے دوران لکھی گئی)

تیس دن تک الجزیرہ کے پیج کو لایک پہ لایک کرتے جانا

آج میرے خاندان کو بتایا گیا کہ میں زندہ ہوں. جب میں نے انہیں سنتری کے موبایل سے کال کی تو ابا نے رو رو کے برا حال کر لیا. انہوں نے بتایا کہ میرے جنازے کی تیاریاں مکمل تھیں۔ انہیں میری شہادت کا پورا یقین تھا. یہاں اندر میں زندہ ہوں، وہاں باہر مردہ۔

جلاد، موت کا باپ، 17-7-2011

خاموشی کو احتیاط سے سنو، ابو خالد الساعور!

پھولوں کو کچلنے سے بہار کی آمد تو ٹلنے سے رہی، ابو خالد الساعور!

میں یہاں سے گزرا تھا

اگر تم دیوار پر لکھنا چاہو تو دائیں کونے رکھے ڈبے میں ایک کیل موجود ہے۔ جب تم لکھنا بند کرو اسے اس کی جگہ پر لوٹا دو.

Categories
شاعری

عشرہ // ماں

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ماں
باورچی خانے میں کچناروں کی دھیمی خوشبو زندہ تھی

 

اک ہانڈی میں دال مسور کی مہر بہ لب تھی، تیری طرح لگی
اور دوجی میں کڑوے آنسو ابل رہے تھے … جانے کس کے

 

گھر کے موجودہ نوکر نے چاے آگے رکھ دی: سنا ہے آپ بہت مشہور ہیں؟
اس کے سوال میں اس کا جواب تھا

 

میں جو تیری عورت آنکھوں کا پہلا خواب تھا
کیوں نہیں پورا ہوا، پوری طرح؟
میرے سوال میں میرا جواب تھا

 

کلًم کلًا، دوہری ہجرت لئے پھرتا ہوں
تیرے صدقے سب سے محبت کئے پھرتا ہوں
Categories
شاعری

عشرہ // بلاعنوان

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
بلاعنوان
سڑک پر جلوس موت کی اوپن دھمکی ہے
بند گلی میں بدلے کے نعرے گونج رہے ہیں
دروازے کے پیر میں گولی ماری گئی ہے

 

گالیاں آنگن کی دیوار پھلانگ آئی ہیں
دھمکی کے پتھر سے آئینہ گھائل ہے
فتوے کے فائر سے فاختہ قائل ہے

 

ابراہیم اور عیسے، موسے اور محمد
آپس میں لڑتے ہوئے مل کر میری ت-لاش کو نکلے ہیں
آنکھوں کے نمکیں پانی سے پوریں تر کر کے
دیواروں پر لکھتا ہوں، لکھتا جاتا ہوں