Categories
شاعری

عشرہ // ایک اور دھرنا

تم جو پشتون دُھسے میں ہو
تم جو پنجابی کھُسے میں ہو
تم جو مہرانی اجرک میں ہو
تم جو بلوچی لاچے میں ہو
تم جو کشمیری کرتے میں ہو
تم جو اردو پجامے میں ہو
تم جو سرائیکی پرنے میں ہو
سب جو موجود دھرنے میں ہو
کل. کوئی. اور. مر. جاے. گا.
آج کیوں اتنے غصے میں ہو!

Categories
شاعری

رضوان فاخر کے عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ع// سرخ رنگ پر پابندی تھی

بستر پر بہنے والا خون بچا لیا گیا
گلیوں میں خون بہا کے

سرخ پھولوں نے تو کسی کا قتل نہیں کیا
بوسوں سے تو کسی کی جان نہیں گئی
پھر بھی ہم تم دونوں Banned تھے
عام تو بارود تھا، سو اڑادیے گئے

سرخ رنگ فحش ہے اور فحاشی حرام ہے
دھماکے سے بدن کی دیواروں کے پیچھے قید
فحش سرخ رنگ عریاں کیا گیا
بستر پہ بہنے والا خون بچا لیا گیا

ع/ / An Image

دیواروں کے اندر لہکے کھیت سرابوں کے
خشکابوں کے مہکے دل
خوشبوں سے گلابوں کے
مدھم ہوگئے ساز
ویرانوں کے لب پر چہکی
پانی کی آواز
چھلک اٹھے اس من موہنی کے
دودھ بھرے چھاگل
کھڑی سے سر پٹخا ہوا نے
دیپ ہوئے پاگل

Categories
شاعری

عشرہ // ہمیں دفن کر دو

بات مانو۔ ہمارا یہ اک آخری کام کر دوہمیں دفن کر دو چُپکے سے،

بین کرتی ہوئی عورتو اور مردو۔ ہمیں دفن کر دو فرق پھرمرنے اور جِینے میں؟

ظلم کی رات کےمشتعل سینے میں خالی قبریں نہیں۔

سینے کے گھاؤ ہیں، گھاؤ بھر دو۔ہمیں دفن کر دو

اُجلےکپڑے، سنہری حروف اورہرے پات، خاکِ شفا۔۔کم پڑیں گے

سب سے اُوپر ہماری ہلاکت کا الزام دھَر دو۔ ہمیں دفن کر دو

کتنی تیزی سے چینل بدلتے ہوئے لوگ تابوت والوں سے اُکتا چُکے ہیں

ریڈیو، ٹی وی، اخبار کو ایک تازہ خبر دو۔ ہمیں دفن کر دو

خوں بہا چاہتے ہو؟ فضا اَمن کی ،دور انصاف کا چاہتے ہو؟

اتنے خوش بخت! کیاتم خدا ہو؟ ارے خواب گَردو! ہمیں دفن کر دو!

 

Categories
شاعری

اوڈ ٹو سموسہ اور دیگر عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
Ode to Samosas

پیزا ہٹ اور ڈومینوز کی بحث میں
سموسے والے نظر انداز کیے گئے
جن کے مطابق پیزا بس پیزا ہوتا ہے

جوائس، ٹالسٹائی اور پراؤسٹ میں
نوبیل نہ ملنے کے علاوہ کیا مشترک ہے؟
تینوں نے سموسے نہیں کھائے ہوں گے

فروٹ بائکاٹ پہ منقسم لوگ بھول گئے
سموسہ مہنگا ہونے پر سو موٹو لیا جا سکتا ہے

تب تک ہم لوگ بفے نہیں جائیں گے
جب تک مینیو میں سموسے شامل نہیں کیے جائیں گے

گوڈو کے آ جانے کے بعد

گودو کے آنے کے بعد

ہومر اپنی کہانیوں میں جگہ دے گا
جب آحاب ہمیں اپنی کشتی سے دھکا دے گا

ہم پرانی لائبریریوں میں کھنگالے جائیں گے
جب لڑکے کچھ خط چھپانے آئیں گے

لیکن کیا کوئی ڈرامہ فلموں کا پرستار رہے گا؟

ہم ری ٹویٹ نہیں ہو پائیں گے
ریویوؤر کہتا ہے ہم کلاسک بن جائیں گے

کسی کم قیمت موبائل کی طرح، ہمیں گم جانے کا ڈر نہیں ہے
وارڈ نمبر چھ” کسی بھی عظیم ناول سے کم نہیں ہے

لیکن کیا کبھی گودو کا انتظار ختم ہو گا؟

شارٹ فلمز

فیوچر کو ڈاؤنلوڈنگ پہ لگا رکھا ہے
ماضی کی پروفائل ایڈٹ نہیں ہو سکتی
حال کا فولڈر ڈیلیٹ نہیں کیا جا سکتا

گودو کے انتظار میں بیٹھے، ولادیمیر اور ایسٹراگن
ڈان کہوٹے کو دیکھ کر ہنسنے لگ جاتے ہیں
بھاری بدن پہ ہلکے کپڑے: سچ ہے مزید بھاری ہو جاتے ہیں

جب بھی کوئی تعارف میں “میرا نام” کہتا ہے
بمطابق مارکسزم اس کے کیپٹلسٹ ہونے کا اندیشہ ہے

رائٹر بننے سے زیادہ اچھا شارٹ فلموں کا آئیڈیا ہے
ہم نے صرف چیخوف کی خاطر، روس کا ویزہ لگوا لیا ہے

این انٹروڈکشن ٹو پاکستانز پولیٹیکل کلچر

ہمارے دل ٹوٹنے کی خبر بینروں پہ چھپی
ہم نے کیا کھانا ہے : نوٹس بورڈ پہ لکھا گیا
ہماری بغاوت سوشل میڈیا کی محتاج تو نہ تھی
ہماری بیماریوں کے چرچے دیواروں پر ہوئے

دیواریں کون سے ہینڈز فری یوز کرتی ہیں ؟
پاگل پن ماپنے کا سائنسی پیمانہ کون سا ہے ؟
سرکاری دفاتر سے ای میل کا جواب کب آئے گا ؟

پاکستانی کی اسرائیل سے دوستی غیر آئینی تو نہیں ہے ؟

انٹرنیٹ کے ریٹ بڑھنے پر، ہڑتال کی کال دینے سے
کیا ہم زیادہ ڈیٹا استعمال نہیں کر ڈالیں گے؟

Categories
شاعری

کالی ووڈ عشرے

کالی ووڈ عشرہ 1

ھمیں افسوس ہے! تم مارے گئے، اور تمہارے ساتھی، پیارے
جس موقف کو ٹھیک سمجھتے ہوں گے، اُسی پر وارے گئے

دوسرے بھی اپنے موقف کو کم سے کم اتنا ہی ٹھیک سمجھتے تھے
نامعلوم اسباب سے جو احباب کی نصرت کو بر وقت نہیں پہنچی
دشمن خود کو اسی سوپر پاور کے زیادہ نزدیک سمجھتے تھے

جب، جو بھی ہو، سب اُس کی مرضی ہے تو…کیا وہ حقیقت میں فرضی ہے؟

ظالم اور مظلوم کا ایسے فیصلہ ہونا نئیں میرے دوست
یہ کوئی خالی ڈیڑھ ہزار برس کا رونا نئیں، میرے دوست!

اب جو تمہارے نام پہ چیختی پیٹی روتی بستی ہے
عام پڑھی لکھی جہالت نہیں، خالص نسل پرستی ہے

کالی ووڈ عشرہ 2
کالی ووڈ عشرہ 3

جو بطور نشانی باقی تھے، اِن بزرگوں کی کوششوں کے بغیر
سلطنت پھیلتی ہی جاتی تھی..اچھا تھا سوئے رہتے چونکے بغیر
لونڈیاں، لونڈے، روپیہ، پیسا۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر طرح کے تحایف آتے تھے
سب جو اپنے گھروں میں بیٹھے ہوے۔۔۔۔ اچھے خاصے وظیفے پاتے تھے

پھر یہ جانے جہاد تھا کیسا، کیسے معصوم لوگ تھے صاحب!
وہم تھے کیا سروں میں بیٹھے ہوے، اور لہو میں فساد تھا کیسا
سب نے روکا، مگر نکل ہی پڑے! کیسے مظلوم لوگ تھے صاحب!

مارنے والوں مرنے والوں نے ایک ہی تو خدا کا نام لیا
آج تک جن کے بارے میں سب نے سستے مبالغے سے کام لیا
ان کے با موت مارے جانے کا، ایک قاتل نے انتقام لیا

کالی وڈ عشرہ 4

زید، علی الصبح شہر میں داخل ہوا
شام ہونے سے پہلے پہلے
اسیّ ہزار جانثار سر کٹانے کو تیار

بکر منہ اندھیرے شہر میں داخل ہوا
رات پڑنے سے پہلے پہلے
اسیّ ہزار وفادار بمع تیر و تفنگ و تلوار

عمر پَو پھٹے شہر میں داخل ہوا….
وہی اپنے پرانے وفادار جانثار اسی ہزار بمع فرس و تلوار ہمہ وقت تیار

زید کو بکر نے لٹکا دیا، بکر کو عمر نے، عمر کو …

شہر کی آبادی بدستور آٹھ دس ہزار کے لگ بھگ رہی

کالی ووڈ عشرہ 9

اچھے سیانے تھے تم حجاز کی وظیفہ خور آزادی میں
کس پکنک پر کیمپ لگایا فرات کی با آب و گیہ وادی میں

فرزدق، اصلی فرضی روکنے والے ملے ہر ہر فرسنگ پہ
کم ہی کوئی ہوگا جس نے تمہیں اکسایا ہو ایسی جنگ پہ

با آسانی الگ کر سکتے ہیں اب ہم جھوٹ کو سچ سے
دین کی پوشیدہ نصرت کو، کرسی کے خفیہ لالچ سے

عربی سوا نیزے سے نیچے، عجمی طشت سے ہٹ کر
دھاڑیں مارتے پچھاڑیں کھاتے ہجوم ہیں
ریت کے ذروں میں شامل بیکار نجوم ہیں
میں رستے پر بھٹک پڑا ہوں قادسیہ کے دشت سے ہٹ کر

Categories
شاعری

عشرہ // سو قومی نظریہ (4) مومنِ اعظم

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اپنےہاٹ فیورٹ، ایگ اینڈ بیکن ناشتے سے انصاف کرنے، نیپکن سے کلین شیو مکھڑا پونچھنے کے فورن بعد
وہ یہ دُکھڑا رونا کبھی نہیں بھولا کہ پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ ہو گا

اس کے دورندر کہیں چھپا مردِ مومن، بیٹی کو کافر سے مرضی کی شادی کیسے کرنے دیتا، رحمت اللہ علیہ
جیسے خود ویسی ہی ایک کافرہ سے بزرورِ ایمان نکاح اس کے مردِ حق ہونے کا الہامی ثبوت ٹھہرا، رحمت اللہ علیہ

شام ڈھلے جب وہ تھک جاتا تو دو چار جام کے بعد حسب-ذائقہ
ریش دراز ملاوں زباں دراز صحافیوں دست دراز سٹوڈنٹوں کے ساتھ بلیرڈ کی میز پر نظریہء ضرورتِ پاکستان ضرور کھیلتا

نوزائیدہ وطن کے بڑے بازو کو نو-کلاسیکی انگلش لہجے میں گدگدی سے جھنجھوڑتے ہوئے اسے خوب یاد رہا
ملک کی قومی زبان وہ ہونی چاہئیے جو اکثر لوگوں کی طرح خود اسے بھی نہ آتی ہو

اس نے یہ ملک سیاستدانوں اور فوجیوں، وڈیروں اور صنعتکاروں کی مدد سے بنایا، صاف ظاہر ہے انہی کے لیے
پھر اچانک پتا نہیں کہاں سے اور بہت سے غیر ضروری لوگ آ رہے یا پہلے سے رہتے ہوئے پائے گئے!

Categories
شاعری

عشرہ // سو قومی نظریہ (2) دس نمبری آزادی

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

کس کے پلّے لیڈروں کی انگریزی پڑی تھی
گِنے چُنوں کو اپنی اپنی تیزی پڑی تھی
نوّے فیصد دیش جب ان کے لیے جاہل تھا
ووٹ کا حق پھر کتنے فیصد کو حاصل تھا؟
کیسے سمجھا جائے سب پر سب واضح تھا
نام نہاد آزادی کا مطلب واضح تھا
اب تک جو نالائقِ فہم ہے، تب واضح تھا
تاج کے بردوں، راج کے پروردوں کے علاوہ
کون سا بھاری مینڈیٹ، جس نے ووٹ دیا تھا
اِس تقسیم کے حق میں کس نے ووٹ دیا تھا

Categories
شاعری

عشرہ // سو قومی نظریہ(3) پنڈت کھنڈت

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اوپر سے جو بھی فرماو، پنڈت جی!
بھرے نہیں تقسیم کے گھاو، پنڈت جی!

کالے کرتوتوں پر جالے مکڑی کے ہیں
اجلے! سنہرے!! خواب!!! دکھاو، پنڈت جی!

اچکن کرتا ٹوپی سدا بے داغ رہیں
خون-ناحق سے دھلواو، پنڈت جی!

جنتا کیا، پروار ہی جب جمہوری نہیں
نعرے لگاو اور لگواو، پنڈت جی

سولہ سترہ اٹھارہ انیس بیس کے فرق سے
ہٹلر، چرچل، سٹالن، ماو، پنڈت جی

Categories
شاعری

عشرہ // خیر سے آؤ خیر سے جاؤ

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

رُوتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ
کم سے کم بھی کہیں تو نصف صدی
جسم کے کوڑھ کا علاج کیا

ایک دو فیصدی جذامی تھے
باقی سو فیصدی حرامی تھے
کوئی تو کہتا: دائرہ پھیلاؤ!

دست و پا سے دل و دماغ تک آؤ!
سب سمجھتے ہیں اپنی نیکی، بدی
خود کو بدلے، یہ وہ سماج نہیں
ذہن کے کوڑھ کا علاج نہیں

Categories
شاعری

عشرہ // کیپیٹلسٹ مینیفسٹو

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

دنیا دو کلاسوں میں تقسیم ہے

فیس بک پر مکڈونلڈ کے برگر کی تصویر لگانے والوں
مکڈونلڈ کے ساتھ روڈسائیڈ برگر کھانے اور مکڈونلڈ کا چیکڈ ان لگانے والوں میں

ٹویٹر پر ٹائم ضائع کرنے والے ناکام لوگوں
ٹویٹر پر زیادہ ٹائم ضائع کرنے والے زیادہ ناکام لوگوں میں

آٹھ گھنٹے تک کام کر کے پیسے کمانے والوں کو کیا علم
صرف ایک اسٹیٹس آپ کو سب سے مہنگی کتاب پڑھوا سکتا ہے
سینما لے جا سکتا ہے، ہرن مینار دکھا سکتا ہے

کون کہتا ہے تم غریب ہو، فقط اشیاء کی قیمتیں بڑھی ہیں

دنیا بھر کے رنگ بازو ایک ہو جاؤ

Categories
شاعری

عشرہ // اجرت

blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

بول مداری کھول پٹاری بین بجا کے بول
سات زمینیں سال مہینے دفن دفینے کھول

چار طرف سے لوگ ہیں آئے چھوڑ کے اپنا کام
کھیت اور فصلیں ڈھور اور ڈنگر اور سنہری شام

چال بشیرے لال جمورے سوہنے کا لے کر نام
کھیل دکھا دے جان لگا دے مانگ لے اپنا دام

دنیا کی یاری مال نہ گاڑی کچھ نئیں رہنا باقی
باقی رہے گا کام تمہارا خاک ہے جسد خاکی

بابو جی دل نہ توڑو۔۔ منہ موڑو ۔۔۔کچھ تو لگاو مول
ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی۔۔ لو یہ رہا کشکول

Categories
شاعری

عشرہ // کھنہ ایسٹ @ سیرینا ویسٹ: ایک ادبی ایف آئی آر (عرف ہوئے تم دوست۔۔۔)

blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ایک دن آٹا گوندھنا، دوسرے دن روٹی پکانا، تیسرے دن ہنڈیا چڑھانا
یوں سب روزمرہ کام کاج اُس نے فورن اپنے ذمے لے لیے

نصف لفافی سوکھے دودھ کے بدلے جو مجھے کبھی درکار نہ تھا
اُس نے اُڑایی مرغوب مشروب کی لبا لب صراحی، محبوب کافی کا سراسر جار

مجال ہے جو اُس کے ہوتے صبوحی چاے کا پیالہ مجھے کبھی ہزار سے زیادہ کا نہیں پڑا ہو
یا وہ کسی شام بھُولا ہو سر درد، فشار خون کی گولیاں، انہی کے سمیت، میرے متھّے مارنا

اگلے پُورے ہفتے میرے فون نہ اٹھانے پر وہ اتنا پریشان ہوا
کسی مشترکہ دوست سے رابطے کا اُسے خیال تک نہ آیا

اب میری پَیِنک کی کوئی حد نہیں رہتی، جب ہر گنتی پر
ھینڈ بیگ میں پسماندہ رقم میری کمزور یادداشت سے لگّا کھاتی نظر آتی ہے

Categories
شاعری

بھوک ہڑتال کی مکمل گائیڈ اور دیگر عشرے

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

بھوک ہڑتال کی مکمل گائیڈ

اگر گھر میں گوشت پکا ہے، تب بھی ہم کھانا نہیں کھائیں گے
آخر یہ اشارہ ہے کہ کل سبزی پکے گی
اگر گھر میں سبزی پکی ہے، تب بھی ہمارا کھانا نہ کھانا ہی بہتر ہے
کل کو بہر حال دال بن سکتی ہے
اور فرض کریں گھر ایک میس ہے، جس میں سموسے نہیں ہوتے
تب ہمارا کھانا نہ کھانا بغاوت سمجھا جائے
اور ہاسٹل اک گھر ہے، اور آج اتوار کا دن ہے
ہم اتوار کا ناشتہ انار کلی سے کرتے ہیں
پیزا، برگر، سینڈوچ کے کارڈ، صفائی والا لے جا چکا ہے
کیا آج کہیں بھوک ہڑتالی کیمپ لگا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لائف اِن سونگز

شاہدرہ سے گجومتہ جانے تک
میٹرو کتنا وقت لیتی ہے
نصرت کی تین چار قوالیاں، عطاء اللہ کے پانچ چھ گانوں جتنا
آپ کا دل آج ہی ٹوٹا ہے، آپ کو آج ہی پیار ہوا ہے
ارجیت کے بس دو، تین گانے آپ کو یہ بتلا دیں گے
اور جان لینن کا بس اک گیت
آپ کو انقلابی بنا سکتا ہے
آدھی رات کو اک ایف ایم چینل
تنہائی کا سچا ساتھی ہوتا ہے
زندگی بھی تو اک میش اپ، اک میڈلے ہے۔ کیا نہیں ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الیوگجیا نامی شہر

الیوگجیا” نامی شہر میں کچھ بھی تو نارمل نہیں”
گاڑیاں نہیں، ہڑتال نہیں، شور نہیں، فٹ پاتھ نہیں
ہکلے گاتے ہیں اور ہکلانا ختم کر لیتے ہیں
جس کی دیواروں پر نعرے نہیں گریفیتی نقش ہے
جس کے اخباروں میں کبھی کوئی خبر نہیں چھپتی
جہاں اچھی کہانی بیچ کر کچھ بھی خریدا جا سکتا ہے
جہاں سوالوں میں طنز شامل نہیں ہوتا
جہاں زہر بھی سموسہ نام رکھنے سے کھا لیا جاتا ہے
جہاں کے سب سے مشہور آرٹسٹ کا کمرہ روسی ادیبوں سے مزین ہے
جہاں بے گھر لوگوں نے نیند پر قابو پا لیا ہے

Categories
شاعری

عشرہ // اودا سوٹ اور بارش

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اودا سوٹ اور بارش

اس بہتے منظر میں جھانکو، ہے یہ غیر شفاف
لیکن اس پہ سبز و سفید چڑھا ہے ایک غلاف
بھینبھریاں سب پنکھ نکالے ناچ رہی ہیں گھر گھر کرتی
اور وہ اپنی بالکنی میں دیکھ رہی ہے شور سڑک کا
ماتھے پر بندیا ہے یا پھر روشنیوں کی رات
سرمئی شاخوں پر رقصیدہ موسم کی ہے برات
اودے سوٹ میں چمک رہے ہیں بازو چکنے صاف
اور ریلنگ سے ٹچ ہوتی ہے گرم گلابی ناف
گھنے ابر نے بنادیا ہے شہر کو کوہ قاف
ایسے میں اک بوسہ لے لوں تو شاید کردے معاف

Categories
شاعری

عشرہ // ایسی ویسی عید

ایسی ویسی عید

سو سے زیادہ پارا چنار مارے گئے
اتنی دور کہاں جاتا میں خالی مرنے

کویٹہ، کراچی میں حسبِ معمول دو چار مارے گئے
اور میں دونو جگہ نہیں تھا، اپنا شکر ادا کرتا ہوں

احمد پور میں (یہ نئی بات ہے!) بے شمار مارے گئے
بال بال بچا میں (یہ پرانی بات ہے)

میں تو خود کو جھوٹ سمجھ کر خوش ہو لیتا
سچ نکلا میں سچ نکلا میں سچ نکلا میں

بچ نکلا میں! بچ نکلا میں!! بچ نکلا میں!!!
مجھے نہیں تو کس کو عید مبارک ہو گی؟