Categories
غیر درجہ بندی

یاد آتا رہا

یہ محبوب کی یاد میں کہی گئی ایک مسلسل غزل ہے. اس میں تھوڑی ڈھکی چھپی عریانی بھی ہے، غزل کی اصل روایت سے جو کٹی ہوئی نہیں، یہاں اصل سے مراد لکھنوی دہلوی نہیں بلکہ اوور آل عربی، عجمی اور ہندی ہے، ہندی جس میں سندھ پنجاب خیبر بھی ویسے ہی شامل ہیں جیسے یو پی اور دکن اور اور بنگال سب!

لیکن ، اور اس لیکن ہر زرا ڈرتا ہوا سا زور بھی ہے، گزشتہ صدی کی متشدد منافقت نے تاریخ اور جغرافیہ کو ری رائٹ کرتے کرتے خود ثقافت اور تمدن کو بھی ری رائٹ کرنا شروع کر رکھا ہے۔ تو ایسے میں دیگر سب طبقوں کی طرح شعرا کے ہاں بھی ایسے جعلی صوفی اور سوڈو مذہبی اور فیک فلسفی مقبول مشہور ہو رہے اور کیے جا رہے ہیں جو خود جین زی کو جین ایکس بنا رہے ہیں اور جین وائے والے داد کے ڈونگرے برسا رہے ہیں ، حالانکہ برسانے ڈونگے اور چمٹے چاہئیے تھے۔

یہ شاعری جو میں یعنی کوئی بھی شاعر تو تب سے کر رہا ہے جب سے دل اور دنیا بنے ہیں زبان اور بیان کے سانچے پہلے خواب و خیال میں ڈھلے اور ہھر لوح و قلم پر اترے ہیں۔۔ پھر بھی یہ ہر گز کوئی ٹیبو توڑتی شدید تحریر یا انقلاب برپا فرماتی حدید تقریر نہیں۔ نہ اس غزل کو کسی ما بعدی ما قبلی قسم کا لقوہ لاحق ہے نہ ہی کوئی اشراف یائی امپورٹ ایکسپورٹ شدہ چدہ نالج کا فالج۔ یہ تو گویا گئے زمانوں کی نئے زمانوں والی بات ہے۔ اصل میں اس غریب کو کوئی دعویٰ سرے سے ہے ہی نہیں ، بس یہ خود ہے اور کافی ہے اور شافی ہے۔
ادریس بابر
…………….
بارش کے ہر قطرے میں یاد آتا رہا
آج وہ لمحے لمحے میں یاد آتا رہا

وہ جو میرا دل تھا، میری دنیا تھا
آج تو ذرے ذرے میں یاد آتا رہا

میں ٹھیرا تو میری منزل ٹھیرا وہ
چلنے لگا تو رستے میں یاد آتا رہا

اُس کی آنکھیں ایسا ایک کھُلا چیلینج تھیں
زیست کے بند کٹہرے میں یاد آتا رہا

انگلیاں اُس کے بالوں کو مِس کرتی رہیں
اُس کا کِس ہر قصے میں یاد آتا رہا

اُس کا ڈرتے ڈرتے پہلا سگرٹ پینا
ہر کش میں ہر سُوٹے میں یاد آتا رہا

اُس کا چائے بنا کر دینا، آپ نہ پینا
کبھی کبھی تو غصے سے یاد آتا رہا

گیسو شام اترنے پر اکساتے رہے
چہرا دھوپ نکلنے پہ یاد آتا رہا

پہلے پہل دو چار ہتھیلیوں کا ہونا
سُوپ کے گرم پیالے سے یاد آتا رہا

بیسیوں انگلیوں کا آپس میں رچ بس جانا
گلیوں بھرے محلے سے یاد آتا رہا

جیسے اُس کے لب وَا ، اَن وا ہوتے تھے
کلی گلاب کی کھلنے سے یاد آتا ریا

اُس کی کچی زبان کا کھٹا میٹھا لمس
سُندر خانی خوشے سے یاد آتا رہا

کیسے اُس نے شرٹ اتار کے پھینکی، کیسے!
سینہ ملا تھا سینے سے، یاد آتا رہا

بیلٹ اُس نے کھولی یا مل کے توڑی تھی
آج بھی ایک اچنبھے سے یاد آتا رہا

اُس نے کونسے رنگ کا انڈر وئیر پہنا تھا
آج دھنک کے جھونکے سے یاد آتا رہا

اُس کے شانے اُس کی ران اور کان کا لمس
آم اور سیب اور کیلے سے یاد آتا رہا

اُس کا چیخ کو میرے گال کی ڈھال پہ روکنا
مزے سے اور پچھتاوے سے یاد آتا رہا

لطف کے مارے دانت جہاں تہاں گاڑے تھے
صبح کو دفتر جاتے ہوئے یاد آتا رہا

سارے اُس نے خزانوں کے منہ کھول دیے تھے
پھر کیا ہوا، دھڑلے سے یاد آتا رہا

وہ انعام کا مظہر، یقین کا جانِ جاناں
تاریخ ادب کی پڑھتے ہوئے یاد آتا رہا

میر کی جرات کہاں جہاں ہم چومے چاٹے
ہونٹ نہیں تھے شعلے تھے یاد آتا رہا

کتنا حسین تھا، بالکل الف لیلہ کا سین تھا
ہر ناول افسانے میں یاد آتا رہا

جس پہ ساتھ ہم ہاتھوں ہاتھ نہائے تھے
وہ چوکا ہر چھکے پہ یاد آتا رہا

پیڈل بوٹ میں پاؤں مار رہے تھے دونوں
اس دوران پسینے سے یاد آتا رہا

یہ بھی نہیں کہ ہر ہر منٹ ہر ہر سیکنڈ میں
ہر دن ہفتے مہینے میں یاد آتا رہا

میں نے اُسے بھلانے کی کتنی کوشش کی
وہ چالاک جو دھوکے سے یاد آتا رہا

اُس کے ساتھ سدا خوش رہ سکتا تھا میں
لیکن ۔۔ وقت گزرنے پہ یاد آتا رہا

میں نے کیسے عمر گنوا دی اُس کے بغیر
ہائے! ہائے ہائے سے یاد آتا رہا

آخر وہ کیا چیز تھی، وہ کیا چیز تھا بابر
ہر لڑکی ہر لڑکے میں یاد آتا رہا

بابر اُس سولہ سالہ کا پہلا بوسہ
زیست کے آخری لمحے میں یاد آتا رہا

بابر کیا وہ مجھ سے علاحدہ کوئی شخص تھا
رات مجھے جو نشے میں یاد آتا رہا

Categories
شاعری

حالتِ حال

1

چیخ جو اچانک گلا گھونٹنے لگی ہے
کس کس کو ای میل کروں
بھنور جو دل کو چکر دے رہا ہے
کیا اس کے ساتھ سیلفی لوں

روح کی پاتال سے ذہن کے آکاش پر تابڑ
توڑ سوال کی بارش بلی کتا کھیل رہی ہے

کیا بچ نکلوں گا میں
ہاں نہیں ہاں نہیں ہاں نہیں ہاں
بچ کے کیا کروں گا میں
آف آن آف آن آف آن آف

2

کیا یہ ایک اور اٹیک ہے
ہر دوائی کا پیکٹ نکالتا ہوں
وہم ہے ابھی دور جائے گا
یہ کس چیز کی دوا تھی بھلا
واقعی ہو کے رہے گا کیا
نہیں یہ نہیں وہ دوسری گولی
کھا نہ لوں یہ بھی وہ بھی
کیا پتا یہی کام دے جائے
جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو
پانی ہاں پانی پینا چاہئیے پانی پانی پانی

3

خیر خیر خیر ایسی بھی کیا بات ہو گئی بھلا، کیا قیامت آ گئی
ابھی سب سالا گڑبڑ گھٹالا روزمرہ محاورہ ٹھیک ہوا چاہتا ہے

مجھے لگتا ہے میں ٹھیک ہو رہا یوں
مجھے لگتا ہے میں ٹھیک نہیں ہو رہا

وٹامن سی کی آدھی ٹیبلیٹ
عرقِ گلاب ، انار دانہ
سبز الائچی کا ایک دانہ
کسی کو بلاؤں آواز دوں آواز
آواز کہاں گئی، ہیلو! ہیلو آواز!
ہیلو! ہیلو! یہ اندھیرا۔۔۔

4

مجھے کچھ نہ بتانا انہوں نے طے کیا تھا
کیسے میں نے گریبان پکڑے، گالیاں دیں
کیسے میں نے ہاتھ جوڑے، تقریریں جھاڑیں
یہ کوئی بیماری نہیں، یار، سرے سے نہیں
میں کہہ رہا ہوں نا، میں نے ایک بار پھر کہا
یہ تو بس ۔۔ ایک غیر معمولی کیفیت ہے! بس!!

اس بارے میں لکھتے ہوئے کیا لگتا چاہئے
جیسے عصابی دورہ ابھی جاری ہے
جیسے ٹرین ابھی اسپیڈ پکڑ رہی ہے
اور میں اس کے دروازے سے لٹک رہا ہوں

5

کیا فائدہ ہو گا
کسی بھی چیز کا
کسی بھی شخص کا

کوئی تو ہو
کوئی نہ ہو
کہیں چلا جاؤں
نہیں جا سکوں گا
کہیں جانا چاہئے
نہیں جانا چاہئے

6

بر آمدے میں ہمسائے باتیں کر رہے ہیں
کیا اب انہیں بھی ڈسٹرب کرو گے
شرم تو نہیں آتی خامخا تنگ کرتے
ایسی کلیشے صورتِ حال توبہ توبہ
زور لگا کربھی تم سے بولا تو جا نہیں رہا
کیا کہو گے کیا بتاؤ گے کیا سمجھاؤ گے
ان بچاروں کو کلیشے کا مطلب تک نہیں آتا

گلی کے لوگ چل پھر ہنس بول لڑ جھگڑ رہے ہیں
اور لٹکے ہوئے ہو، زندگی اور موت کے در
میان آف آن آف آن آف آن

7

وہ پوچھتے ہیں تم ٹھیک تو ہو کیا ہوا کیا ہوا کیا مسئلہ ہے

کچھ بولوتو ہمیں بتاؤ یہ پانی پیو کسی نے کچھ کہا کیا ہوا کیا ہوا

جی میں تو آئی اک اک کو بڑھ کر جی سے لگاتا اور بتاتا

خاک بتاؤں سات زبانیں آتی ہوں گی ایک بھی شبد الچ نہیں پاتا

آف آن آف آن کیا قیامت کو سٹینڈ بائی پہ لگا کر چپ رہا جاتا ہے

میں فرداً فرداً مسکراتا ہوں سر اظہار کی ہر مغموم طرز پہ ہلاتا ہوں

کچھ کہہ سکتا تو ایک ہی وقت میں سب کہہ دیتا جو کہا جاتا ہے

لیکن میں کچھ بھی نہیں کہتا، اور پھر میں کچھ بھی نہیں سنتا

ایک ب لفظ ب معنی مسکراہٹ میرے لئے وقت کی آخری جگہ ہے

یہ اس منچ کا پنچم سر تھا، یہ اس نظم کا / key مصرع ہے

8

یہی ہونا رھا
ہر وقت ہر چیز ہر جگہ ہر شخص ہر مسئلے پر حل ہر سوال ہر جواب پر لڑکے ہر لڑکی ہر شاعر ہر ادیب ہر حقیقت ہر افسانے ہر ڈرامے ہر ناول ہر نظم ہر غزل ہر عشرے ہر انشائیے ہر مضمون ہر مقالے ہر دوست ہر اجنبی ہر ظالم ہر مظلوم ہر فرد پر سماج ہر لیڈر ہر عوام ہر پھول ہر ستارے ہر تشبیہ ہر استعارے ہر دریا ہر کنارے پر بندے ہر خدا ہر کتاب ہر فلم ہر گانے ہر پوسٹ ہر کمنٹ ہر خبر ہر ٹویٹ ہر کارٹون ہر لطیفے ہر چوری ہر ڈاکے ہر قتل ہر اغوا ہر امن ہر جنگ ہر جرم ہر سزا ہر مرض ہر دوا ہر کمرے ہر ہوٹل ہر مکان ہر گھر ہر دل ہر سر ہر پھر ہرگر ہرفر ہردر ہرڈر ہرپر ہرہر ہر ہر ہر
کیوں سوچتا ہوں
سب کے بارے میں
کیوں سوچتا یوں
کسی کے بارے میں
کیوں سوچتا ہوں
اپنے بارے میں
کیوں ہوں
کیوں

9

آنکھ سے اوجھل پہاڑ
میرے اوپر آن گرا ہے
باہر سے نہیں اندر سے
میں کھڑا بیٹھا لیٹا زندہ مردہ تھا ہوں
ختم ہوتی دنیا کے درمیان
میں واحد جمع حاضر غائب متکلم ہوں
بنیادی رنگوں میں تحلیل ہوتے منظروں کے بیچ
میں ایک ساکن گردش ایک موجود معدوم ہوں
گم ہوتے حافظے کے ساتھ
میں اجازت چاہتا ہوں

10

یا پھر ایک آخری کوشش کرتا ہوں
خود سے جیت گیا
تو کیا ہار جاؤں گا

آواز ساتھ چھوڑ گئی
بینائی ہاتھ سے جا رہی ہے

ایک آخری کوشش ایک آخری خواہش
میرے سختی سے بھنچے ہوئے ہونٹ
کسی طرح مسکان کا روپ دھار سکیں

جسم سے نکلتی جان کی قسم
میں نے صرف محبت کی تھی

Categories
شاعری

ریسکیو آپریشن اور دیگر نظمیں

ریسکیو آپریشن

ماں سے ڈانٹ پڑی کہ ٹھیک سے دانہ دنکو ، اس پر ان کو، اوپر ڈیڈی اور نیچے ہوسٹل وارڈن باگڑ بلے کی آنکھوں کے مشترکہ تاروں کو، شوخی سوجھی

پاس ہی کوریڈور میں اک روشن دروازہ کھلا پڑا تھا ، پٹ سے ٹکرائے، پر مڑے نہیں، دونوں بھائی کمرے میں در آئے

پھر کیا تھا، اٹھکیلیاں کرتے کرتے چھوٹے میاں کے شہپر پنکھے سے جا ٹکرائے اور میں نے سر تھام لیا

عامر نے زخمی کو میدانِ امن سے جمع کیا اور اپنے طائر ڈاکٹر محراب حسین سے مل کر اجنبی در انداز کی جان بچا لینے کا طمع کیا

ان دو ٹین ایجر سرد و گرم چشیدہ زمانے بھر کے سنجیدہ نرسوں نے مسکرا مسکرا کر ٹنکچر آیوڈین لگا کر غازی کو اس کی رجمنٹ تک واپس پہنچایا

تھوڑی دیر میں ڈارون کی بچی وہ فیملی اپنے زخمی ممبر کو چک کے باہر پھینک چکی تھی، مصطفی کمال مہارت سے اسے ترکی بہ ترکی سمیٹ ہی لایا

لکی کبوتر! شکر کر ہم نے نہیں پھینکا تھا ہمدردی سے پُر فکشن اور محبت میں گم شاعری کی بکس کا خالی ڈبہ!

جس کی دیواروں میں چاروں طرف تیری معصوم آنکھوں سے ملتے جلتے گول مٹول دریچے کھلے پڑے ہیں

لکی کبوتر! میرے سینے میرے یثرب میرے مدینے میں بھی تیرے پنجرے جیسا اندھیرا ہے

اور اک گھائل پنچھی تیری مثال سے حوصلہ پا کر دھڑکن دھڑکن صبح کی جانب بھاگ رہا ہے

“یہ چار چھے پل”

یہ چار چھے لفظ، اور سورج
ساتھ لے آئیں گے نظم، اور آگ
یہ دو تین لائنیں، اور ہوا
ساتھ لے آئیں گی نظم، اور پانی

شاعر کے پاس ہے
غزل کا پیمانہ ، جتنا بھر جائے
عشرے کا گھڑا، جتنا خالی رہ جائے

شاعر جو سب رنگوں کی مٹی
کا بنا ہے
شاعر جسے ستر ماؤں نے مل کے جنا ہے

شاعر کی مرضی

(منظر اعجاز منظر کی ایک نظم کے عنوان کے سحر میں)

عشرہ // جنگی قیدی

ابو ابو جنگی قیدی کیا ہوتے ہیں

بیٹا جنگ میں قید کئے جانے والوں کو
جنگی قیدی کہتے ہیں
میں کہتا ہوں

ایک دن ہم بھی
دشمن کی فوجوں سے
لڑائی ہار گئے تھے

تب سے اب تک ہم بھی جنگی قیدی ہیں

پچیس کروڑ جنگی قیدی!
جن پہ جنیوا کنوینشن لاگو نہیں ہوتا

اتواریہ // ہولو کاسٹ اور چھٹی کمانڈمنٹ

1.
ہولو کاسٹ! ایسا کچھ نہیں ہوا
وہ محض ایک ڈراؤنا خواب تھا

اگر ایسا کچھ ہوا ہوتا
کل کے مصنوعی مظلوم
آج کے حقیقی ظالم نہ ہوتے

کل کے حقیقی ظالم
فرضی احساسِ گناہ کے مارے
آج کے حقیقی ظالم کو جپھیاں نہ ڈالتے

مگر ہولو کاسٹ؟ ایسا کچھ نہیں ہو رہا
یہ محض ایک ڈراؤنا خواب ہے

2.
سنا ہے پتھروں پر کندہ تھے
دس کے دس احکاماتِ ربانی

“اور تم قتل نہیں کرو گے!”
چھٹی کمانڈمنٹ
پتھر کی بجائے
موم کی لکیر نکلی

سانپ لکیر پیٹتے رہے
موم کی لکیر
خون کا دریا بن گئی
کیا سانپ خون میں تیر لیں گے؟

3.
ہولو کاسٹ! اگر ایسا کچھا ہوا ہوتا
تو اس پر سوال اٹھانا جرم نہ ہوتا
وہ جن کا یہ سب کیا دھرا تھا
ان انسان دوست ریاستوں میں
تم قرآن وغیرہ جلا سکتے ہو
تم خاکے وغیرہ چھاپ سکتے ہو
ہولو کاسٹ پر انگلی نہیں! یہ ہماری ریڈ لائن ہے! ورنہ۔۔
اس نے انگلی اٹھائی اس نے بازو پھیلایا اس نے مکا لہرایا
۔۔جانوروں کے انسانی حقوق پر جان دینے والے جان لے سکتے ہیں
گدھ نے ادھوری لاش کے سینے پر پنجوں سے V کا سائن بنایا

4.

لڑائی تو عہد نامہء قدیم
اور جدید کے درمیان تھی
بیچ میں قرآن کیسے آ گیا

اے عیسی کی بھیڑو
اے موسیٰ کے بچھڑو

تم جس کا انکار کرتے آئے ہو
تمہارے نبیوں کو اس کے ساتھ ماننے والے ، ہم
کب تک تمہارے سیاہ اعمال نامے سرخ لہو سے دھوتے رہیں
کب تک تمہارے ایک دوسرے پر واجب قصاص چکاتے رہیں
کب تک تمہارے ٹریڈ ڈیفیسٹ اپنی جانوں سے بھرتے رہیں

5.
ازلی گناہ پر
جھوٹ موٹ لرزاں
عیسیٰ کی بھیڑیں

چھٹی کمانڈمنٹ
کے پرخچے اڑاتے
موسٰی کے بھیڑیے

سچ سچ بتا
تُو کس کی طرف
سے کھیل رہا تھا
اے محمد (ص) کے خدا

6.
وہ جن کے مرد غلام عورتیں لونڈیاں بنا لی جاتیں
وہ جن کی نرینہ اولادیں موت کے گھاٹ اتار دی جاتیں
وہ مظلوم جو بچ کے بھاگ نکلے
وہ جن کا ظالموں نےبپیچھا کیا
وہ جن کو دریا نے رستہ دیا ۔۔۔۔ وہ کون تھے؟

بنی اسرائیل کو بنی فرعون سے الگ کرنے میں
کیا دریا نے غلطی کی؟

کیا عصا نے غلطی کی؟

کیا خدا نے غلطی کی؟

یا صرف ہم نے جو آلِ ابراہیم پرپنجگانہ درود بھیجتے رہے!

7.
یوروپا جانے
جس نے تمہیں قتل کیا
یا نہیں کیا

یوروپا جانے
جس نے تمہیں بے دخل کیا
یا نہیں کیا

امیریکا جانے جس نے تمہیں روپیا دیا
اور تم نے ہمیں بے دخل کیا
امیریکا جانے جس نے تمہیں اسلحہ دیا
اور تم نے ہمیں قتل کیا

8.
یہ کہ تم مسلط کر دیے گئے
ہماری دھرتی پر ہمارے آکاش پر
یہ کہ تم نے نکال باہر کیا ہمیں
ہمارے آبائی گھروں سے

یہ کہ تم نے جلا کے راکھ کر دیے
ہمارے باغ ہمارے کھیت کھلیان
یہ کہ تم نے اڑا کے خاک کر دیے
ہمارے سکول ہسپتال مکان دکان

ہم تمہارے احسانات کا بدلہ کیسے چکا سکتے ہیں
جے ہو تمہاری اے بنی اس را ایل اے بنی فر عو ن

9.
یہ کہ تم نے بارود بھری مترنم لوریاں دیں
خود کش معذوروں کو، دہشت گرد شیر خواروں کو
یہ کہ تم نے طاقتور بموں کے انجیکشن لگائے
بوڑھوں اور بچوں اور زخمیوں اور بیماروں کو
یہ کہ تم نے ریپ کیا گھروں کے ملبے پر حاملہ عورتوں کو
یہ کہ تم نے چن چن کر مارا ، ایک ایک کر کے سب کو
یہ کہ تم نے بالوں سے پکڑ کر گلیوں میں گھسیٹا
اور گالی نکال کے گولی مار دی ۔۔ کسی کو بھی!

یہ تو کچھ بھی نہیں
یہ تو کچھ بھی نہیں

10۔
اس کی گڑیا کے بال
گریپ فروٹ رنگے تھے
اسریٰ کے اپنے گالوں کی طرح

چھوٹے بھیا سے یکسر مختلف
وہ تو پکے ہوے انار سا رس رہا ہے

آڑو، خوبانی، آم، پستہ، اخروٹ، بادام
فرش پر اسریٰ کے ہمجولی کھِلرے پڑے ییں

انہیں چاہئیے خوب اچھی طرح پیک کریں
اسریٰ لوگوں کو آئس کریم فریزر میں رکھنے سے پہلے
سٹرابری جوس کہیں رستے میں نہ بہنے لگے

ع // کامی اور اس کے ہمسائے

سکول رجسٹر میں اس کا نام کامران بعد میں درج ہوتا

ہم، جولی لوگ، اسے پہلے ہی کامی کہہ کر بلانے لگے

لیڈی برڈ کی جنس کا انکشاف طبی معائنے کے دوران ہوا

جب یہ پتا چلا کہ اس کے کاغذ اور بائیں پیر کے پور پورے نہیں

سلطنتِ انسان دادِ کمرہ میں کامران عرف کامی کو تب سے حاصل ہے

ایک غیر قانونی ریفیوجی کا منفرد، متاثر کن اور مشکوک اسٹیٹس

ہفتہ بھر بند پنجرے میں رکھ کر اسے چھوڑ دیا گیا

کھلے پنجرے میں، اس کا استقبال ایک عجیب الخلقت جانور نے کیا

آج کل نئے سرے سے پر پھڑپھڑانا سیکھ رہا ہے، سیکھ رہی ہے

وہ مجھ سے

میں اس سے

Categories
تبصرہ

عشرے: ادریس بابر کی نئی صنفِ سخن اور شعری مجموعہ (اسد فاطمی)

ادریس بابر کا شعری مجموعہ ‘عشرے’ چھپ کر آ گیا ہے اور یہ اس کی اختراع کردہ نئی صنفِ شعر عشرہ پر لے دے کا وقت ہے۔ دس مصرعوں کی اس مرکب صنفِ شاعری پر اب تک کافی کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے اور نئے لکھنے والوں میں اسے موزوں پذیرائی مل رہی ہے۔ کتاب کے آغازیے میں شاعر نے بہ تکرار یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نئی صنفِ سخن کا رخ واضح طور پر جدید سے مابعدِ جدید کی طرف ہے۔ اس دعوے پر پورا اترنے کے لیے یہ کن خواص کی حامل ہو، اس کا احاطہ بہت آسان نہیں، البتہ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مابعد جدید دور جدید اور قدیم ہیئتوں کے پگھلنے اور ڈھلنے کا، اور متن و معانی میں کھل کھیلنے کا دور ہے۔ ادریس بابر کے عشروں کا مجموعہ ہمارے سامنے ہے اور اس کے سبھی عشرے ہیئتی ترکیب میں ایک دوسرے سے منفرد ہیں۔

“مرزا باطن دار بیگ” ایک نثری افسانچہ ہے، “ایک دلکش چڑیل کا نوحہ”، اور “مرحوم کی یاد میں” بادی‌النظر میں نثری شخصی خاکے ہیں، “ماب کشی”، اور “شاعری کے عالمی دن پر” اخباروں میں چھپنے والی نامہ بنام مدیر جیسی نثری تحریریں ہیں جو ایسا لگتا ہے چونکہ اتفاق سے دس سطور پر مشتمل ہیں سو یہ تحریریں مذکورہ شعری ہیئت کی کشادگی سے رعایت پا کر عشروں کی کتاب میں آ گئی ہیں۔ معصوم، نالی ووڈ، بُھلیکھا، مسٹر وی ۲، نظم عیلان کردی پہ لکھنے چلے ہو، ایک محبت کے اطراف میں ١، ٢، ٹکٹ، نیا سال، عالم بی‌بی کے بچوں کی دعا، نولکھا، خان رمضان خانصاحب، لاسٹ ٹمپٹیشن آف کرائسٹ، اور موبائل ایک طرح سے پانچ بَیتوں کی مثنویاں ہیں، لیکن ان میں سے کچھ کچھ کہیں کہیں بحور کے توازن میں آزاد نظم سے جا ملتی ہیں۔ جہاں یہ انحراف ہے وہاں یہ مثنویاں تو نہیں رہیں لیکن عشرے کی لچکدار ہیئت نے انہیں سنبھال لیا ہے۔ لاہور میں، دیکھتا ہوں، اور پیرس پارس غزل یا قصیدہ کی سی ہیئت میں ہیں۔ “قوالی کے لیے کچھ ہے؟” یوں لگتا ہے، تین مصرعوں کے تین بند والی مانوس سی ہیئت کی ایک غنائیہ نظم تھی جسے عشرے کے ہیئتی جبر کے تحت ایک اضافی مصرع شامل کر کے عشروں کی کتاب میں شمولیت کے میرٹ پر لایا گیا ہے۔ اگر یہ نظم میری ہوتی تو یقیناً ٩ مصرعوں کی ہوتی۔

ادریس بابر کا عشرہ بالعموم انہی آمیختہ و ریختہ بندشوں کا ایک محلول ہے۔ کہیں کوئی عشرہ مثنوی طرز کے دو بیت باندھنے کے بعد ایک مسدس بند سے مصرعوں کی گنتی پوری کر جاتا ہے، تو کہیں ایک اور عشرہ غزلیہ قطعہ جیسے دو تین شعر دے کر اچانک آزاد نظم بن جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ نئی صنفِ شعر، پرانی اصنافِ سخن کے نمکدان کے خانوں سے حسبِ ذائقہ ایک دو چٹکیاں لیتی ہے اور اسے دس مصرعوں کے ایک برابر برابر ساشے میں پیک کر دیتی ہے۔

زبان کی سطح پر بھی ادریس بابر نے بیباکانہ تصرفات سے کام لیا ہے۔ روزمرہ بول چال کی تہہ سے تاثرات اور لسانی آمیزشوں کا بہت سا جھاڑ جھنکار جسے ابتک شاعری نے نہیں سمیٹا تھا، وہ آپ کو اس کی شاعری میں ملے گا۔ وہ رائج لفظوں کو بگاڑتا ہے، نئے لفظ بناتا ہے۔ کسی لفظ کو وہ کسی صوتی پڑوس کے لفظ کے نیچے قافیے میں رکھ کے روند دیتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے بول چال کی عامیانہ ترین سطحیں اس کے لیے صحتِ لفظی کی سند ہیں۔ وہ پورے زور سے لسانی معیار و مسلّمات کے قاموسی مراکز کے کھونٹے سے رسی توڑ آیا ہے۔ جہاں عشرہ بحر میں ہے وہاں وہ لفظ کو صحیح املا کے ساتھ لکھ کے اسے بحر میں گفتاری تلفظ کے تحت رکھ دیتا ہے۔ تحت اللفظ میں پڑھنے سے آپ کو پتہ چلے گا کہ یہاں جماعتوں کو جماتوں، سائنس کو سَینس، غلَطی کو غلْطی، رہے کو رے اور چاہیے کو چائیے پڑھنا ہے۔ کہیں عشرہ نثری آہنگ میں ہے تو وہ املا کو ہی “خامخا” مبتذل کر دیتا ہے۔ اس بگاڑنے بنانے میں وہ جگہ جگہ قاری کو چِڑاتا ہے، خود چڑتا ہے۔ یوں ادریس بابر شعری ہیئتوں کی طرح لسانی ہیئات کو بھی اسی جذبے سے توڑتا پھوڑتا ہے اور اس تخریب کی اینٹ مٹی کے ذریعے تعمیرِ نو کا امکان ڈھونڈتا ہے۔

عشرہ کی صنف کے متعدد مابعد جدیدی اوصاف واضح اور ناقابلِ تردید ہیں۔ البتہ کسی نظم‌پارے کو عشرہ بنانے کی بنیادی شرط اس میں مصرعوں کی طے شدہ تعداد ہے۔ عہدِ حاضر میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے جہاں کاغذ کے استعمال کا ایک متبادل پیش کیا ہے، وہیں مواد کی گنجائش کا بھی ایک مختلف تصور سامنے آیا ہے۔ عشرہ میں مصرعوں کی طے شدہ تعداد کی بنیادی شرط کے لیے اب تک پیش کیا گیا سب سے نمایاں جواز اسی تصور سے متاثر ہے۔ وقت اور جگہ بچانے کا یہ استدلال البتہ جدیدیت ہی کے مقصدیت اور ہیئت پسندانہ رجحانوں کی بازگشت ہے، اور مابعد جدید ادب کی ہیئت شکن روح سے بہت کم میل کھاتا ہے۔
کسی بھی نئی صنفِ شعر کا متعارف ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماقبل تاریخی رزمیوں سے قصیدہ نکلا اور صدیاں پہلے قصیدے سے غزل کی صنف پھوٹی۔ رباعی چلی گئی، خیام رہ گیا۔ مثنوی پیچھے رہ گئی اور مولانا روم آگے نکل گئے۔ ایک نئی صنفِ شعر کے طور پر عشرے کے مستقبل کا فیصلہ بھی وقت نے ہی کرنا ہے۔ تاہم ادریس بابر کے ان عشروں کو شعری مواد کی سطح پر دیکھا جائے تو بھی وہ اپنے منصب کے ایک عصری امتحان میں اعتماد سے کھڑا نظر آتا ہے۔

ہم ترقی‌پذیروں کی شعوری تاریخ کیا اور اس کی منازل کیا۔ ایک نازک اور ناپختہ سا جمہوری بندوبست، طاقت کے روایتی رشتوں سے اُبھرے اربابِ حلِ عقد، علمی و تخلیقی طور پر دیوالیہ اہلِ علم و ہنر، اظہار و بیان پر خود ساختہ قدغنیں، رجعتی و جدتی نعروں کا شور، جدید ٹیکنالوجی کے آئینوں میں جھلکتے قدیم بوسیدہ عکس؛ یہ اُس پردے کی محض وہ چند ایک پرتیں ہیں جن کے پیش منظر میں ہمارے معاشرے کے مابعد جدیدی تجربہ کے خدوخال ابھرتے ہیں۔ بڑے سے بڑے انسانی المیے کو ان سنا کرنے کے لیے دردمندانہ لفاظی کی مدافعتی گولیاں بازار سے بارعایت دستیاب ہیں۔ عاشقِ زار کے پاس محبوب کا رابطہ نمبر تو ہے لیکن کہنے کو کچھ نہیں۔ سنسان کنٹین پر بیٹھے اخبار کے لہولہان فرنٹ‌پیج سے میز پر گری چائے صاف کرنا سیاسی طور پر اِن‌کوریکٹ ہو سکتا ہے۔ ان حالات میں ادریس بابر کے عشروں کے شعری مواد میں عصری زندگی کے تلخ و ترش کی بیشتر جزویات اپنے تمامتر معنوی انتشار کے ساتھ آپ کو سطح پر نمودار ہوتی ہوئی محسوس ہوں گی۔

ان عشروں میں آپ کو جگہ جگہ متوسط طبقہ کی زندگی اور کرداروں کی ہیئت کذائی کی جھلکیاں نظر آئیں گی۔ زندگی کے نشیب و فراز میں جیتا مرتا محنت کش بھی کہیں نظر آئے گا۔ آپ کو حالیہ سالوں کے ایسے کئی انسانی المیے یاد دلائے جائیں گے جو میڈیا اور سوشل میڈیا پر وقتی رجحان بن کر دو چار دن آپ کا سکون برباد کر کے آئے گئے ہو گئے۔ یا وہ سانحے جن پر کسی مصلحت کے تحت عوامی سطح پر بات ہی نہیں کی گئی۔یا پھر حکمرانوں اور افسرشاہی کے مانوس رویوں سے مستعار کوئی تاثر۔ان عشروں میں آپ کو ہاسٹلوں، کنٹینوں، دفتروں، درخواستوں، ڈگریوں، نظریوں، آدرشوں، ارمانوں، رشتوں، الجھنوں میں گھرا ہوا نوجوان ملے گا۔ شہروں، محلوں، گلیوں میں رواں دواں سماجی، اقتصادی، فلمی، جذباتی، مکالماتی، نامیاتی زندگی کے لمحوں، دنوں اور راتوں سے بھی بقدر ضرورت کچھ ملے گا۔ جذبوں، جسموں، بستروں، پیغاموں، ان‌باکسوں میں رکھی ہوئی محبتیں اپنی جھلک دکھائیں گی، یا پھر ان سب مناظر سے ابھرا کوئی مرکّب سا احساس کہیں جلوہ گر ہو گا۔ کسی عشرے میں وہ آپ سے وہ باتیں کہے گا جو ہم بلاوجہ، بلاضرورت کہتے سنتے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

دنیائے شعر میں جبکہ گاہے یوں لگتا ہے کہ سب کچھ پہلے سے کہا اور لکھا جا چکا ہے، اور گاہے یوں کہ کچھ بھی نہیں کہا جا سکا۔ اس عالم میں ہمارے وقت کی ایک نمایاں سرگوشی یہ ہے کہ جدیدیت کے بعد آخر کیا ہو سکتا ہے۔ ادریس بابر ایسے حیران و پریشان مسافروں کی لاری میں آ کر زبانِ حال سے آوازہ لگا رہا ہے:

اخبار کی دس ڈسٹربنگ سرخیوں کا خلاصہ – دس مصرعے!
ڈھابے سے بازار کی جانب شاعر کا رینڈم کلِک – دس مصرعے!
تھر میں مور کا آخری ٹُھمکا – دس مصرعے!
مہربان! دس مصرعے! – قدردان! دس مصرعے!
پوری کتاب کی قیمت ہزار روپے ہے،
نمونہ چیک کرنے کے کوئی پیسے نہیں۔۔۔

Categories
شاعری

محمود درویش کی نظمیں (تخلیقی ترجمہ: ادریس بابر)

ادارتی نوٹ: ادریس بابر نے عشرے کی صنف کے امکانات کو مزید وسعت دیتے ہوئے محمود درویش کی نظموں کا تخلیقی ترجمہ انہیں عشرے کے قالب میں ڈھال کر کیا ہے۔ اس تجربے کے مستقبل کا فیصلہ اب آپ قارئین کے ہاتھ میں ہے۔

آخر کب ملیں گے ہم
تم کہتی ہو
میں کہتا ہوں
جب ختم ہو گی
جنگ!
جنگ!
کب ختم ہو گی
تم کہتی ہو
میں کہتا ہوں
جب ہم ملیں گے

صبر کرو
کہا جاتا ہے
کتنا صبر کریں
ہم پوچھتے ہیں
صبر کرو
کہا جاتا ہے
کب تک صبر کریں
ہم پوچھتے ہیں
قیامت تک
کہا جاتا ہے

کیوں خواب دکھاتے ہو
ایک ایسے کل کے
جس میں تم شامل نہ ہو گے

میں نہ سہی تم تو ہو گے نا
یہی تو خواب کا بہترین حصہ ہے

تم اس سرنگ میں
ٹھیک میرے پیچھے چل رہے ہو گے نا

میں اس سرنگ میں
تمہارے ساتھ چل رہا ہوں گا
اور تمہارے بغیر بھی!

رات
یہ رات
ہر رات
ایک گرگ-گرسنہ ہے کہ نہیں، ماں!
ہمیشہ تعاقب کیا جاتا ہے ہمارا
ہم جو پہلے ہی وطن سے دور ہیں
ایسا کیا انیائے کیا ہے ہم نے، ماں؟
کہ ہمیں کم سے کم دو بار مرنا پڑے
ایک بار جیتے جی
ایک بار مرتے دم

جامعات کی اسناد
مجموعہ ہائے کلام
درجنوں مقالے
سینکڑوں حوالے
سب! تمام ایک طرف
دوسری طرف میں
عام قرات میں سہو کا مرتکب
کوئی نہ کوئی لکھ بھیجتا ہے
سویرے مییسج میں : گڈ مارننگ
اور میں ادبدا کے پڑھتا ہوں:
آئی لو یو!

Categories
نان فکشن

حسنین جمال کے نام ایک خط (اپنی شاعری کے حوالے سے)

بھائی حسنین!

آپ نے کئی بار غزلوں کا مطالبہ کیا اور میں ہربار شرمندہ ہوا کہ کیا بھیجوں؟ ایسا نہیں ہے کہ پرانے شعری مجموعے کے بعد میں نے کوئی غزل نہیں لکھی۔ ضرور لکھی ہے، مگر غزل کے تعلق سے میرا نظریہ اور یاروں نے اسے جتناسرچڑھا رکھا ہے،اس حوالے سے میری رائے تھوڑی سی اس عرصے میں بدلی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے، میں نے ایک مضمون غزل کے تعلق سے لکھا تھا، جو اردو اور ہندی دونوں جگہ شائع ہوا اور مجھے دونوں جگہ غزل کے عاشقوں سے صلواتیں بھی سننی پڑیں۔ خیر، یہ تو کوئی بڑی بات نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ غزل اور اس کی تہذیب پر میں جب نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے اردو دنیا کے لوگوں کی کم ہمتی اور محنت سے بھاگنے کی اصل وجوہات میں غزل بھی ایک مضبوط ستون کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ میں نہیں کہتا اور نہ چاہتا ہوں کہ اردو شاعر غزل گوئی سے مایوس ہوکر اسی شعریات کے ساتھ کسی دوسری صنف کا رخ کرے۔ میں جو چاہتا تھا وہ یہ تھا کہ غزل میں تجربے ہوں اور اس میں کوئی نئی راہ پیدا کی جائے۔ مگر میرے خیال سے یاروں کا کہنا ٹھیک ہی ہے کہ غزل کا مزاج تبدیل نہیں ہوسکتا۔ اس کی وجہ بھی بتاتا ہوں، پہلے دو ایک باتیں لکھ لوں۔ غزل عیش پسندوں کی یا یہ کہہ لیجیے کہ ایلیٹ کلاس میں پروان چڑھنے والی ایک صنف ہے۔ اس کا عام سماج سے، عام لوگوں سے، ان کے عام مسائل سے ، ہماری دنیاؤں میں موجود طبقاتی کشمکش سے دور تک کا واسطہ نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اگر آپ ڈھونڈنے چلیں تو آپ کو ان موضوعات پر اشعار نہیں ملیں گے، ضرور مل جائیں گے مگر جب کسی ادبی صنف کے مجموعی مزاج کے حوالے سے بات ہورہی ہو تو اس میں تخلیق ہونے والے بیشتر حصے کو سامنے رکھ کر بات کی جاتی ہے۔ پہلے میں مشاعرے سے چڑتا تھا، مجھے لگتا تھا کہ مشاعرہ باز کوئی بہت اوچھا کام کررہے ہیں، مگر یقین جانیے جب میں نے اردو کے بہترین ’غزل گو‘ حضرات کے دقیانوسی پن اور خود کو دوہرانے کے عمل کو سمجھ لیا تو مجھے مشاعرے سے بھی کوئی خاص شکایت نہیں رہی۔ مشاعرہ بہرحال ایک عوامی چیز ہے۔ کہنے دیجیے کہ سادہ الفاظ میں سطحی مضامین کو ارذل قرار دینا اور اعلیٰ یا اشرافیہ طبقے کی زبان میں انہی سطحی مضامین کو کوئی اعلیٰ قسم کا ادب سمجھنا میرے نزدیک ایک قسم کا برہمن واد ہے۔ یہ وہی رویہ ہے جس نے ہمارے یہاں نظیر اکبر آبادی کو ایک عرصے تک زبان دانوں کی دنیا میں مطعون و ملعون رکھا اور کچھ آگے بڑھ کر کہوں تو رحیم،تلسی داس، کبیر، جائسی ، میرابائی ،بلہے شاہ، عبدالطیف بھٹائی، لالیشوری، حبا خاتون وغیرہ کو کبھی اردو شاعری کی روایت کا حصہ نہیں مانا۔صرف یہ ہی نہیں ، امیر خسرو کی شاعرانہ عظمت پر ان کی فارسی شاعری کے بل پر زور دیا گیا اور یہ کوشش کی گئی کہ جہاں تک ممکن ہو عوامی زبان میں ان کی شاعری سے یہ کہہ کر پلا جھاڑا جائے کہ یہ ان کا کلام ہے ہی نہیں۔ ہم روایتی ادب میں بھی اس قسم کے محلاتی ادب سے وابستہ رہے جس کا عوام سے واسطہ نہ ہو، ہمیں وہ شاعری بھاتی رہی جس نے لال قلعے یا اردوئے معلیٰ میں جنم لیا ہو اور ہم دھیرے دھیرے ان خزانوں کو دھبوں کی طرح اپنے دامن سے صاف کرتے چلے آئے جس میں دکنی، برج، اودھی، سندھی، پنجابی یاکشمیری بھاشائوں کے عناصر موجود تھے۔ اپنی بات کے ثبوت کے لیے قائم کا ایک پرانا شعر نقل کرتا ہوں۔
قائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہ
ایک بات لچر سی بہ زبان دکنی تھی

یہ جو لچر سی بات ہے، یہ کیا ہے۔ یہ مٹی سے جڑی بات ہے۔ریختہ کے جتنے مطلب لغت میں دیے گئے ہیں ، ان میں سے ایک مطلب گری پڑی شے بھی ہے۔ چنانچہ عوام سے دوری کا یہ سلسلہ ہمیں اردو کے ابتدائی نام اور ڈھنگ سے ہی پتہ چلتا ہے۔ ہم الزام دیتے ہیں انگریز کو کہ اس نے ہندو اور مسلمانوں کے بیچ پھوٹ ڈلوانے کے لیے اردو نام کی ایک زبان ایجاد کی اور اس کے ابتدائی ناموں میں سے ایک ہندی کو ہندؤں کے مختص کردیا۔ مگر ہم غور نہیں کرتے کہ انگریز ہمارے مزاج کی کمزوریوں سے فائدہ بھی اٹھارہا تھا۔ ہم پہلے سے ہی ہر اس زبان یا بھاشا کی مخالفت پر کمر بستہ تھے، جو عوام یا خاص طور پر نچلے طبقے سے وابستہ رہی ہو۔ اسی طرح دیکھیے تو انگریز نے نظم کی ’تحریک ‘بھی اسی اشرافیہ کے ذریعے شروع کروائی جو مضامین کو پاک بنانے یا اس کے بپتسمہ کے فرض کو انجام دے سکے۔ آب حیات میں اردو شعرا کے تعصب سے پر جو واقعات نظر آتے ہیں ان میں ایک کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہوں گا، میر نے لکھنو جاتے وقت زبان غیر سے اپنی زبان بگڑنے کے ڈر سے برابر بیٹھے مسافر سے بات تک نہ کی۔ یہی تصور آج اردو میں ایک ’بہتر غزل گو اور عام آدمی‘ کے بیچ حد فاصل قائم کرتا ہے۔

شاعری صرف ادبی مضامین یا بحور و قوافی کے گیان کو پڑھ کر نہیں سیکھی جاسکتی اور اس کا تعلق کسی مخصوص طبقے یا زبان سے بھی کیسے ہوسکتا ہے؟ شاعری کو تو بسیط ہونا چاہیے، اس میں سبھی طرح کے رنگ، سبھی طرح کے لفظ اور سبھی طرح کی دنیائیں آباد ہونی چاہیے۔ مگر نزدیک سے دیکھیے تو شاعری کا یہ حلیہ ایک یوٹوپیائی دنیا میں ہی ممکن ہے۔ ہم اس بات کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ جن لوگوں نے اردو شاعری میں زبان و بیان ، علامت و استعارے کی خوبیاں بیان کیں، اس کے قواعد بنائے اور اس کی شعریات کو ترتیب دیا۔ وہ سخت قسم کے متعصب لوگ تھے۔ زیادہ دور نہ جاکر شبلی نعمانی کی مثال دے سکتا ہوں جو بقول خورشیدالاسلام اپنے مدرسے میں نچلے طبقے کے بچوں کو پیچھے کی جانب اور زمین پر بٹھایا کرتے تھے۔ سرسید اور حالی کی متعصبانہ سوچ جاننی بھی اتنی مشکل نہیں کہ ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے شعری سرمایے کا سب سے بڑا گوہر غالب بھی ’وبائے عام ‘میں مرنے سے کیوں خائف تھا اور کتنا بڑا نسل پرست تھا، اس کے لیے کسی عمیق مطالعے کی ضرورت نہیں۔ نچلے طبقے کی شاعری سے ہمارے شعرا کا تعصب ویسا ہی تھا جیسا شیکسپئر اور گستاؤ فلوبیر کا یہودیوں کے تعلق سے تھا۔

غزل کے تعلق سے میں اس لیے بھی محتاط ہوگیا کہ اس نے ہمارا مزاج کئی طرح سے بدلا ہے۔ اول تو اس نے ہمیں چاہے کتنی ہی نکتہ آفرینی سکھائی ہو، کیسی ہی علامت نگاری، تشبیہ سازی کے فن سے نوازا ہو مگر غزل نے ہمیں ایک لطیفہ گو بنادیا ہے۔ ہم لوٹ گھوم کر انہی مضامین کو الٹتے پلٹتے رہتے ہیں اور خوش ہوتے رہتے ہیں کہ ہم کوئی بڑا کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔ باہر کی دنیا بھی غزل کو پسند کرتی ہے اس میں کوئی شک نہیں، مگر جب آپ غور کریں گے تو غزل کے ’کھاتے پیتے‘ شائق آپ کو صاف دکھائی دے جائیں گے۔ ان میں زیادہ تعدادا علی ٰ اور متوسط طبقے کے ان افراد کی ہوگی ، جن کی زندگیاں ایک مستقل نوکری یا مستقل آمدنی یا باپ داد کی جائداد پر ٹکی ہوئی ہیں اور جنہیں عالم ہونے کے لیے صرف غزل کے شعروں کی پرکھ کا سہارا لینا کافی ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس صنف نے ہمیں خوشامد پسند بنادیا ہے۔ غزل میں محبوبہ کی چاپلوسی کو اچھی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہےبلکہ اسے غزل کا مزاج ہی بناکر رکھ دیا گیا ہے۔ اس لیے اس تہذیب میں پیدا ہونے والی آپسی تعریفیں بھی ایسی صفات سے بھری پڑی ہیں، جن میں کسی ادیب کی تعریف کرنی ہو تو اسے بغیر کانپے ، بنا ڈرے سب سے بڑا ادیب کہہ دیا جائے، دنیا کا عظیم عالم، اعلی ٰ ترین دانشور اور اس قسم کے خطابات کا آپس میں پھیر بدل کرکے اپنی انا کو تسکین دے لی جائے۔ اس سنسکرتی کا پربھاؤ اتنا گہرا ہے کہ جو آدمی غزل لکھ بھی نہیں رہا وہ بھی اسی سے جنم لینے والے خطابات و القاب اور اسی زمین سے پھوٹنے والی تعریف و توصیف پر اکتفا کرتا ہے۔ یعنی جب وہ خود کسی کی تعریف کرے گا تو بھرپور مبالغے سے کام لے گا اور اگر کوئی دوسرا اس کی تعریف کرے گا تب بھی وہ ’ادیب‘ یہی چاہے گا کہ اس کی تعریف بھی اسی چاپلوسانہ انداز میں کی جائے۔

بلکہ اردو میں کئی بار اس سے بھی بڑھ کر ہمارے ادیب (خواہ پرانے ہوں یا نئے) اپنی بھرپور تعریف کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ خودستائی ایک فن ہے۔ ایسا فن،جس کے لیے اعلیٰ درجے کی لاعلمی اور معصومیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی ادیب کا اپنے یا کسی دوسرے شخص کے لیے یہ کہنا کہ وہ انتہائی درجے کا ادب تخلیق کرچکا ہے یا اس کے مقابلے کا کوئی اور تو دور کی بات ہے، اس کا پاسنگ بھی ڈھونڈے سے نہ ملے گا، تبھی ممکن ہے جب تعریف کرنے والے کی نظر کوتاہ ہو یا پھربرسوں سے اس کی زبان کو ایک خاص قسم کے درباری مزاج میں ڈھالا گیا ہو۔ اور اردو کے معاملے میں موخرالذکر بات مجھے زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔

میری غزل سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ میں اردو غزل کہنے والے ہم عصروں میں ادریس بابر ، ذوالفقار عادل وغیرہ کو بہت پسند کرتا ہوں۔ یہ دونوں ہی(خاص طور پر ادریس بابر)غزل کی زبان کو اس طرح پیمپر نہیں کرتے، جیسا کہ ہمارے ادیبوں کا وتیرہ رہا ہے۔ حال ہی میں، میں نے دیکھا کہ ادریس نے ایک غزل وائرل ہوجانے والی ایک ویڈیو کے حوالے سے لکھی، انہوں نے کورونا وائرس کو بھی موضوع بنایا۔ کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ یہ تو موضوعاتی ادب ہوگیا اور موضوعاتی ادب زندہ نہیں رہتا۔ مگر یہ باتیں بھی اسی مزاج کی پروردہ ہیں جس نے غزل کو موضوع سے آزاد ، ہر شعر میں ایک علیحدہ بات، کبھی ہنسی ٹھٹھول تو کبھی پینٹ گیلی کردینے والے موضوعات تک سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ یہ کوئی مذاق نہیں ، ایک سچی بات ہے کہ غزل کے حوالے سے میری ایک دوست نے کہا کہ اس صنف کے شاعرکاموڈ جس تیزی سے سوئنگ ہوتا ہے، اتنا تو کبھی میرا پیریڈز کے دوران بھی نہیں ہوا۔ بہرحال ادریس کو پسند کرنے کی وجہ کلیشے مضامین سے ان کی بغاوت بلکہ ایک قسم کی نفرت ہے۔ زبان کو بھی اسی مٹی سے لے رہے ہیں جہاں وہ جیتے ہیں، ان کے یہاں تصنع اور ریاکاری نہیں ہے اور وہ استاد بننے کے زعم سے باہر آکر ایک ایسی کوشش کررہے ہیں، جس میں غزل کی باگیں موڑ کر اسے محل سے اتار کر سڑک پر لایا جاسکے۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ ان کی شاعری پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ بہت سے لوگ انہیں ایک بگڑیل اور ٹھٹھول گو قسم کا شاعر سمجھتے ہیں۔ خود ادریس کے یہاں عشرے کی جس صنف نے جنم لیا ہے، وہ غزل کے معاملے میں ان کی بے اطمینانی اور غیر سکون بخش طبیعت کا پتہ دیتی ہے۔ پھر بھی میرا ماننا ہے کہ اگلی پانچ دہائیوں میں اگر ادریس بابر جیسےتین چار شاعر بھی اردو غزل نے پیدا کردیے تو یہ تعجب کی بات ہوگی، سچ مانیے تو میرے نزدیک یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ غزل نے اپنی راہ، عوامی لیگ سے الگ بنائی ہے اور وہ اسی ڈھرے پر آگے بھی چلتی رہے گی، اسی طرح مقبول رہے گی اور اسی طرح پڑھی سنی جائے گی۔

چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی صنف میں بڑی یا اچھی چھوڑ دیجیے، بہت حد تک شاعری ہی ممکن نہیں ہے۔ میں غزل لکھتا ہوں، ضرور لکھتا ہوں۔ مگر یہ بھی جانتا ہوں کہ صرف غزل ہی نہیں، غزل گو شاعر کی نظم بھی اردو والوں کے یہاں کوئی اہم کارنامہ نہیں ہوسکتی۔ میرے خیال میں ٹھیک ٹھاک نظمیں لکھنا اردو کے ان ہی شاعروں کے لیے ممکن ہوگا جو پہلے سے غزل نہ کہتے ہوں یا غزل کے مزاج کو سمجھ کر اسے بہت پہلے ہی چھوڑ چکے ہوں یا انہوں نے غزل لکھتے ہوئے بھی اس کے مقابلے اپنی نظم کو ہمیشہ زیادہ اہمیت دی ہو۔اسی لیے میں اردو شاعری سے تقریباً کنارہ کش ہوکر فکشن کی دنیا کی طرف توجہ کرتا ہوں کہ وہاں مجھے زیادہ روشنی اور امکانات نظر آتے ہیں۔ الٹا لٹک کر کرتب دکھانے والوں کی دنیا میں رہتے رہتے جس طرح ہم اپنے پیروں پر چلتے ہوئے کسی شخص کو دیکھ کر چونک پڑتے ہیں، اسی طرح فکشن کی دنیا نے مجھ پر حیرت کے کئی دروازے کھولے ہیں۔ اس لیے جہاں تک ممکن ہو میں خود کو غزل کے مطالعے سے بچاتا ہوں، مشاعروں یا نشستوں میں سال میں دو یا تین بار سے زیادہ شرکت نہیں کرتا۔میں چاہتا ہوں کہ دنیا کی دوسری زبانوں کا ادب بھی پڑھ سکوں، جان سکوں۔خاص طور پر ایسی زبانیں، جن کے یہاں ردیف و قافیے کی پابندی ، بحر کی قید کے مقابلے میں سیدھے سبھاؤ لکھا گیا ادب پڑھنے کو مل سکے۔ اب تو خیر اردو غزل کی شہرت ہندی، پنجابی، مراٹھی اور دوسری زبانوں تک بھی پہنچ گئی ہے اور ان کے یہاں باقاعدہ مشاعرے بھی ہوتے ہیں، شاعروں کے دواوین بھی چھپتے ہیں۔ اس کھیل میں دلچسپ یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ زبانیں غزل کے مزاج کو تبدیل کرتی ہیں یا غزل ان کے تخلیقی ادب کے مزاج پر کوئی گہرا نقش چھوڑ جاتی ہے۔ مگر یہ بات اب سے قریب پچاس، ساٹھ سال بعد ہی بتائی جاسکے گی۔

اس لیے جب کوئی دوست مجھ سے غزلیں مانگتا ہے تو میں اکثر کنی کاٹتا ہوں۔ مگر دوست تو دوست ہیں! ان کی وجہ سے کبھی کبھار شعر بھی سنانے پڑجاتے ہیں اور غزل کا مجموعہ بھی انہی کی بدولت شائع ہوجاتا ہے، اور اس پر کچھ گفتگو بھی ہوجاتی ہے، مگر سچ پوچھیے تو اس میدان سے میری دلچسپی اب قریب قریب ختم ہی ہوچکی ہے۔ ہاں اردو میں لکھی ہوئی ایسی کوئی چیز مجھے ضرور اپنی طرف متوجہ کرتی ہے جو غزل کے اثر سے باہر ہو، پھر چاہے وہ فکشن ہو، نان فکشن ہو یا کوئی نظم۔

Categories
شاعری

طنز کا موسم اور دوسری نظمیں (نظم گو: آنیے رِیس، مترجم: ادریس بابر)

نارویجن شاعرہ آنیے رِیس 1927میں پیدا ہُوئیں۔اپنی نسل کے دیگر ممتاز شعرا کے بر عکس آنیے نے اپنے اشاعتی سفر کا آغازقدرے تاخیر کے ساتھ 1975 میں کیا۔ ‘ساتُرا‘، اُن کی پہلی کتاب تھی۔ چار برس بعد، دوسرا شعری مجمو عہ ‘ بلند اشجار کے مابین‘ شائع ہُوا۔ اِس اِنعام یافتہ کتاب نے اُنہیں لکھنے والوں کی صف میں نمایاں جگہ دِلوادی۔ مترجم سے اُن کا غائبانہ تعارف اتّفاق سے اُن کی اِنہی اوّلین کاوشوں کے وسیلے سے ہُوا۔ پیش کیے گئے تراجم شاعرہ کے نقشِ اوّل سے ماخوذ ہیں۔

چوتھائی صدی سے زیادہ عرصہ میں آنیے رِیس کی نظموں کی چھ مزید جلدیں شائع ہُوئیں۔ ہر عمر کے بچّوں کے لئے لکھی گئی آٹھ کہانی کتابیں اِس کے علاوہ ہیں۔ آنیے کی تحریریں اِس دوران متعدّد انتخابوں، درسی اور معاون نصابوں میں شامل کی جاتی رہیں۔اچھّی طرح یاد ہے جبان کے تاحال آخری مطبوعہ دیوان، ‘آسماں فولاد کا‘ پر اُنہیں ایک بڑا ادبی اعزاز پیش کیا گیاتھا۔

[divider]طنز کا موسم[/divider]

سیل ِآب، زلزلہ
زمین کی جڑیں ہلا چکا
آسماں کو خاک میں ملا چکا
بستیاں، اور اُن کی باہمی حدیں مِٹا چکا
پہاڑ ڈھا چکا

پانی چل کھڑے
نئی ڈھلانوں، وادیوں کی سمت
جزیرے، با دلِ نخواستہ بہے
نئے سمندروں کی سمت

یہ سب ہُوا، یہی ہُوا
تو لازمی ہُوا
کوئی ہنسے
ہنسے کوئی بہت

نئے پرانے والوں پر
آزمودہ نقشوں کو آزمانے والوں پر
ریت میں کشتیاں چلانے والوں پر
پتھروں میں غوطے کھانے والوں پر
پانیوں میں سیڑھیاں لگانے والوں پر

ہنسے کوئی بہت شدید
سب یہ جان مان لیں

نئے بنانے ہوں گے
رکھنا ہوں گے اپنے پاس سب
نقشے، زاویے، ستارے، کمپاس سب

[divider]شعریات[/divider]

محاورے کے بطن میں
قید میں پڑا ہے لفظ
تہ بہ تہ بہ تہ
جیسے بے طرح اسیر ہو کنویں کی تہ میں
بیچ صندوق اک
ایک زخمی دل سکون پا رہا

ہمیں یہ صندوق کھینچ لانا ہو گا
محاورے کی قید سے
چُھڑانا ہو گا
لفظ کو،
خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہو،
لڑکھڑائے بھاگ کر دکھائے
اِسے یہ سب سِکھانا ہو گا
لفظ پھر بنانا ہو گا

[divider]بِنتی[/divider]

سمے کی کھڈّی پر کَتا
رخنوں، درزوں سے اَٹا
یہ قالین،
اِس کی ایک سطح پر
ابھی گُلاب کھِل رہے ہیں

ابھی کنارے سے لگی ہے
ناؤ تمہاری

دریچے کی سنو بھری سِل پر
ہاتھ رکھے دل پر
میں زرا جھُکوں
تو دیکھ لوں

تمہارے بال، سمندری ہوا
میں لہریے بناتے بال
چمکتے سرخ ہیں
جڑوں کے پاس

[divider]شکریہ[/divider]

کبھی نہیں پہنچنے کا
سفید گھوڑے پر سوار
شہسوار

مگر پہنچ رہی تو ہے، صدا تمہاری
روح کو اُٹھا رہی
بدن کی سطح سے ورا
میرے سنگ تنگ دل وجود کو
بدل رہی، کھِلا رہی

جواب میں یہ
نرم گرم ریشمی، سکوں دہ، اضطراب بخش
لفظ، بھیج دوں؟

کہیں بھٹک نہ جائیں
بادلوں کو احتیاطاً اِن کے ساتھ کر دیا ہے
عنایتوں کا شکریہ ادا کریں گے

[divider]شجرہ عصب[/divider]

بابا جانی
خیر سے وزیرِ مملکت
بھائی جان
سلامت باشد، طبیبِ اعلے
خاوند صاحب
نامدار اُستادِ الاساتذہ
بیٹا جی
آنکھوں کے تارے فرم کے مالک

رُک کر اُس نے کچھ یاد کیا۔۔

اور وہ،
ہمجولی کے بھائی کا دوست
وہ تو سیدھا فوج میں جنرل!

کہہ کر اُس نے ٹھنڈی سانس بھری۔

[divider]مان[/divider]

بات مان جا!
خود فریفتہ
ہو لے! دیکھ، آ
گھُس بیٹھ آنکھوں میں

اِن کو خود تلک
راستہ دِکھا
چیز، تُو جو ہے
سب پہ دے جتا

آبلہ، انا
اب، نہیں تو، کچھ
پھُوٹے گا ضرور

اک دراڑ سی
پڑکے رہے گی
زرہ بکتروں میں

[divider]ملاقات[/divider]

دھیان میں تو لا!
اک بدن زرا
تیرا ذاتی جسم
روح جس میں جھانک لے تو
ہو کے مست
کہہ اٹھے

بہت خوشی ہوئی!
(بہت بہت بہت
بہت خوشی ہوئی)
آپ سے تومل کے
لطف
آ گیا، جناب!

Categories
شاعری

یولا کا خواب اور دوسری نظمیں (شاعر: احمد شافعی، ترجمہ: ادریس بابر)

مصر سے تعلق رکھنے والے شاعر، ادیب اور مترجم احمد شافعی عربی ادب کی منفرد ترین نئی آوازوں میں سے ہیں۔ گذشتہ دو دہائیوں پر پھیلا ہوا ان کا متنوع کام ان کی خلاقی کا ثبوت ہے۔ جہاں ان کی آزادہ روی نے ان کے مداحوں کے دلوں میں گھر کیا وہیں ان کی روشنئ طبع خود ان کے لئے بلا بھی ثابت ہوتی رہی۔ احمد شافعی مسقط میں مقیم ہیں۔ آج آپ لالٹین پراس باکمال شاعر کی نظمیں آپ پڑھنے جا رہے ہیں۔ ان نظموں کوعربی سے انگریزی قالب میں مونا کریم، احمد رخا اور رابن موجر نے ڈھالا جبکہ انہیں اردو روپ ادریس بابر نے دیا۔

[divider]1[/divider]

شاعری وہاں نہیں ملی مجھے
جہاں میں اسے چھوڑ کے گیا تھا

بادل میری کھڑکی میں
نظم میری لکھنے کی میز پر
ذرا حیران نہیں ہوا میں

کمرے کا کمرہ
بے چینی سے منتظر تھا میرا
نشے میں چور
پلکیں اٹھائیں اس نے
مخمور بانہیں کھول دیں
ذرا تصور تو کرو
وہ کہنے لگا
از برائے خدا
تصور تو کرو مجھے

[divider]2[/divider]

ایک چھوٹے سے شہر کے پاس ہے
ایک بہت بڑا سمندر
اس پر سایہ فگن ہے
ایک شاندار قلعہ
گلیاں ہیں اور چوک ہیں
راستے ہیں اور موڑ ہیں
طرح طرح کے اچنبھوں
ان گنت اتفاقی ملاقاتوں کے امکانات لیے

چھوٹا سا شہر
جو ہم بنا پائے
ایک دوسرے سے واقفیت کے کارن

اسی دوران
کہیں کے کہیں تیرتے چلے گئے
ہمارے باپ
رنگ برنگی چھتریوں کو
ہماری ماوں کی نشانیاں ٹھہرا کر

[divider]3[/divider]

ہر نظم
جو میں پڑھتا
ایک ہیرا نکلتی
لوٹ مار کے نتیجے میں
جسے دنیا سے چھین لیا گیا ہو
ہر نظم
جو میں لکھتا
اس کے مقابلے میں
نظر آتی
ایک معذرت نامہ

[divider]4[/divider]

وہی فیصلہ کن گھڑی تھی
جب میں بہت بھاری پڑ رہا تھا
اپنے حریف کے مقابلے میں
اس نے راہ فرار اختیار کی
میں بھی پیچھے ہٹتا گیا
اسے سوچنے سمجھنے کا موقع دیے بغیر
کہ میں جو حاوی تھا
کیوں پیچھے ہٹا
جب وہ پرے بہت پرے ہٹ چکا
تو میں اسے نہایت غیر اہم دکھائی دینے لگا
اتنا کہ اسے خود پر پیار آنے لگا
کہ آخر اس نے کچل کے کیوں نہ رکھ دیا
مجھ ایسی حقیر شے کو
اپنے جوتوں تلے

[divider]یولا کا خواب[/divider]

قلم پر پوری قدرت نہ رکھتی تھیں
ابھی اس کی پانچ سالہ انگلیاں
جب یولا نے کاغذ پر نقش کیا
ایک ٹوٹا ہوا دل
نارنجی رنگ میں
اور کہنے لگی
میں نے تمہیں خواب میں دیکھا تھا
تم اشارہ کررہے تھے
ایسی ہی بلکہ اس سے بڑی چیز کی طرف
جبکہ تم ایک صحرا میں تھے
اور تم کہہ رہے تھے
یولا! میں ہی تو ہوں
وہ جس نے یہ گھر بنایا
تمہارے لیے
وہ گھر بہت دور تھا
اور مزید دور ہو جاتا
وہاں سے جہاں کا رخ ہم کر رہے تھے

Categories
شاعری

ناموجودگی کی آزادی سے آزادی کی ناموجودگی تک (شاعر: داراعبداللہ، ترجمہ: ادریس بابر)

دارا عبداللہ کی ان عربی نظموں کا ترجمہ انگریزی میں مونا کریم اور اردو میں ادریس بابر نے کیا۔ شاعر کے کلام میں فارم کے اعتبار سے روا رکھے گئے تجربات کے بارے میں خدشہ تھا کہ انہیں ہو بہو برقرار رکھنے سے خود شعریت سرے سے زائل ہو جائے گی. دیکھئے، کہ بعض ایسی نظموں کے لیے عشروں کی صورت کیسی موزوں رہی ہے۔

[divider]جلاد کا ڈر[/divider]

جلاد کو لاحق ہے
شدید ترین درجے کا
اعصابی تناو کا مرض
اور یہ سبب بھی نہیں

اس سے سرزد ہونے والی
کوئی بھی غلطی
وہ کتنی ہی حقیر کیوں نہ ہو
کسی صورت نہیں مٹائی جا سکتی
جب تک وہ ارتکاب نہ کرے
اس سے بھی بڑی غلطی کا

اور یونہی چلتا رہتا ہے
دار و رسن کا یہ سلسلہ

[divider]لفظوں کا دھواں[/divider]

شیشے کا ایک بڑا جار
کاغذ کی کترنوں سے لبالب

ایک مٹھی بھر پرچیاں نکالو
ترتیب دو، ان پہ لکھے لفظ
سنائیں گے تمہیں کہانی تمہاری

یاد کرو، یہ وہی تو لفظ ہیں
جو تم عام طور سے دہراتے پھرتے ہو

جار کو آگ لگانے کی غلطی نہ کرنا
دم گھٹ کے مر جائیں گے
لوگ، اپنے لفظوں کے ہاتھوں

[divider]ہجرت[/divider]

آزادی!
اپنی آزادی کو استعمال کرنے کی آزادی
تمہارے بر خلاف!

اُن کی آزادی
ایک قید ہے
تمہارے لیے

آزادی
چلو بطور ایک لفظ سہی
سب سے بڑا کرب ہے
کسی ایسے شخص کے لیے
جو فرار ہونے میں کامیاب رہا
جبر کے شکنجے سے
آزادی کی تلاش میں
آزادی کی سرزمین تک!

[divider]کوڑا کرکٹ کی یاد[/divider]

عام سی بات ہے
چیزوں کی ری سائیکلنگ
ہمارے یہاں جرمنی میں

جیسے یہی، تمہارے کھانے پینے کا چمچ
ممکن ہے اس سے پہلے کہیں رہ چکا ہو
کسی شامی جنگجو کی بندوق کی نالی
یا کسی بانکے کے کانوں کی بالی
یا کسی گھوڑے کے سموں کی جالی
وہ بھی ڈنمارک میں

سوچو تمہارے بعد تمہارا کیا بنے گا

[divider]میرے ذہن میں پھنسے ہوئے فقرے[/divider]

(الخطیب جیل میں قید تنہائی کے دوران لکھی گئی)

تیس دن تک الجزیرہ کے پیج کو لایک پہ لایک کرتے جانا

آج میرے خاندان کو بتایا گیا کہ میں زندہ ہوں. جب میں نے انہیں سنتری کے موبایل سے کال کی تو ابا نے رو رو کے برا حال کر لیا. انہوں نے بتایا کہ میرے جنازے کی تیاریاں مکمل تھیں۔ انہیں میری شہادت کا پورا یقین تھا. یہاں اندر میں زندہ ہوں، وہاں باہر مردہ۔

جلاد، موت کا باپ، 17-7-2011

خاموشی کو احتیاط سے سنو، ابو خالد الساعور!

پھولوں کو کچلنے سے بہار کی آمد تو ٹلنے سے رہی، ابو خالد الساعور!

میں یہاں سے گزرا تھا

اگر تم دیوار پر لکھنا چاہو تو دائیں کونے رکھے ڈبے میں ایک کیل موجود ہے۔ جب تم لکھنا بند کرو اسے اس کی جگہ پر لوٹا دو.

Categories
شاعری

پیٹرول میں لہو کی لکیر (شاعر: اشرف فیاض، ترجمہ: ادریس بابر)

اشرف فیاض یکم جنوری 2014 سے سعودی عرب میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ پانچ سات برس پہلے تک، دوستوں اورملاقاتیوں کے توسط سے ان کا احوال اور کلام سلاخوں سے باہر پہنچتا رہا۔ اس طرح ان کی عربی نظموں کا مجموعہ بیروت سے چھپ پایا۔ لکھاریوں کی عالمی تنظیم پین انٹرنیشنل اشرف فیاض کو اعزاز سے نواز چکی ہے۔ ان کی منتخب نظموں کا ترجمہ انگریزی میں مونا کریم اور اردو میں ادریس بابر نے کیا ہے۔

گھومنے پھرنے کا حق
اسے بہرطور حاصل نہیں
نہ جھومنے کا
نہ لہرانے
رونے کا نہ گانے کا
کوئی حق نہیں اسے
کھڑکیاں کھولنے کا
ہوا لگوانے کا
تجدید کروانے کا
اپنے آنسوؤں کی
اپنی رائگانی کی

کتنی جلدی بھول جاتے ہو تم
کہ تم ہو کیا چیز
محض روٹی کا ایک ٹکڑ
اور کچھ نہیں!

بے ضرر مائع ہے
پیٹرول کا کوئی نقصان نہیں
یہ اپنے پیچھے کوئی نہیں چھوڑتا
سوائے ایک لکیر کے
جسے خط ِغربت کہتے ہیں

دیکھنا اس دن
مزید چہرے
بجھے ہوئے
دریافت ہوا
جس دن
ایک اور کنواں تیل کا

تب بخشی جائے گی
تمہیں
حیاتِ نو
مزید تیل
کھینچ تان کے نکال سکو
اپنے جی جان لگا کے
دوسروں کے لیے
تم سے یہ پکا ہے وعدہ تیل کا۔۔۔
خس کم
۔۔۔ جہاں پاک

کہا گیا
بس یہیں قیام کرو
البتہ تم میں سے بعض مخالف ہیں
ہر شے کے

سو، جانے دو
رہنمائی کے لیے
دیکھو اپنے آپ کو
دریا کی تہہ سے

تھوڑا ترس کھائیں
تم میں سے جو اوپر ہیں
ان پر جو کچلے گئے

آدمی جسے ہلا دیا گیا
اپنے مقام سے
وہ بیچارہ
بہتے لہو کی طرح ہے
جو بے قیمت رہا
تیل کی اس منڈی میں

معذرت چاہتا ہوں
معاف کر دو مجھے
نہیں بہا سکتا میں
اشکوں کے دریا
تمہارے لیے

نہیں بڑبڑا سکتا میں
تمہارا نام
یاد آوری کے طور پر

کسی نہ کسی طرح
موڑ لیا ہے
میں نے اپنا چہرہ
تمہاری بانہوں کی دبازت
ان کی تمازت کی طرف

پہلی اور آخری
تمہی محبت ہو میری
اور میں تمہاری

نہیں کلام کرنے کا
تمہارا گونگا لہو
جب تک تم مباہات کے بہانے تلاش کرتے رہو
موت کے بیچ

جب تک تم جاری کرتے رہو
خفیہ اعلانات
اپنی روح کو گروی رکھنے کے بارے میں
ان لوگوں کے ہاتھ
جنہیں اس کی پہچان ہے نہ قدر

ابھی وقت لگے گا
روح کو ہمیشہ کے لیے کھونے میں
اس سے کہیں زیادہ
جتنی دیر لگے گی
تمہیں آنکھوں کو تسلی دینے میں
جو تیل کے آنسو بہاتی مریں

Categories
شاعری

ہم سکول جانے سے ڈرتے نہیں اور دیگر عشرے (ادریس بابر)

ع / ہم اسکول جانے سے ڈرتے نہیں

در اصل عربی تلواروں کے گهیرے میں
بہت اونچی شلواروں کے گهیرے میں
ہمارے بہت دوست مارے گئے
ہماری جوانمرد استانیاں
اور استاد جو ہم پہ وارے گئے
انہیں ۔۔۔۔ جنگ یہ ہارنے کیسے دیں؟
درندوں کو منه مارنے کیسے دیں؟
پهر اسکول جانے سے تو وہ ڈریں
جو اسکول کا کام کرتے نہیں
ہم اسکول جانے سے ڈرتے نہیں


ع / سمجهدار عشرہ

وہی ٹی ہاوس کی میز ۔۔۔ ہاف وہی چاے کا سیٹ
زیرہ بسکٹ ۔۔۔ بهلی گپ شپ ۔۔۔ سبهی بازار کے بهاو
وہی ناقدری کا رونا ۔۔۔ کسی اک بیرے پہ تاو
وہی ۔۔۔ سو کالڈ ۔۔۔ زمانے کے ستم ۔۔۔ کیا لکهیں
کیا گنیں ۔۔۔ کس بت طناز کے بخشے ہوئے گهاو
دیکهے اندیکهے خداوں کے کرم کیا لکهیں
نہ سمجهنے کی کوئی شے نہ کسی شے کی سمجهه
کیا کلیشے کو سمجهه آئے کلیشے کی سمجهه
لوگ مر جاتے ہیں ۔۔۔ جی اٹهتے ہیں ۔۔۔ مر جاتے ہیں
اور ہم سوچتے رہتے ہیں کہ ۔۔۔ ہم ۔۔۔ کیا ۔۔۔ لکهیں؟


ع / بهائی بهائی

بهائی تهوڑا وقت ملے گا؟
دین کی محنت ۔۔۔ دین کی کوشش ۔۔۔
آج نماز مغرب کے بعد۔۔۔۔

۔۔۔۔میری نماز جنازہ ہو گی
میرا نام ۔۔۔ محمد عبد اللہ ۔۔۔
سولہ کا لگتا، تها گیارہ کا ۔۔۔

۔۔۔۔پهر وہ مجهے ٹائلٹ میں لے گئے ۔۔۔
جسم بهی ہارا جان بهی ہار دی
فارغ ہو کر ۔۔۔ پاک اصحاب نے
کلمہ پڑهایا ۔۔۔ گولی مار دی


عشرہ / خالی کا سا

“صنم” کا ہال ہےتاریک ۔۔۔ میرے دل کی طرح
بِلَوری پردے پہ جاری ہے سیمیا کا عمل
چلی جو فلم تو لوگوں کی سانس تهم گئی ہے
قریب ہوتے ہوئے ہیرو/ہیروئن سے دور
ہم ۔۔۔ ایک کونے میں ۔۔۔ جس پر نگاہ کم گئی ہے
کہاں گئی وہ محبت ۔۔۔ وہ کیمیا کا عمل
یہ سوچتے ہیں کہ ۔۔۔ اتنے میں ۔۔۔ اِنگرِی/بَوگارٹ
بچهڑ گئے ہیں ۔۔۔ ہمیشہ اکٹهے ۔۔۔ رہنے کو
سلگ اٹهے ہیں میرے ہونٹ بهی سگار کے ساتھ
اور اُس کے گال پہ آئس کریم جم گئی ہے


عش / یوتها ناسیا

درد کا زرد سمندر
زخمی پروں کی زد پر
سمے بهر سرمئی وادی
جگہ کی جگہ خلا تها
ضبط کی آخری حد پر
اک بے دین مسیحا
اس کی نجات سے ڈر گیا
صبر کا پهل کڑوا تها
وہ آرام سے مر گیا
اپنے کام سے مر گیا

Categories
شاعری

عشرہ // ہم اُسے روشنی سمجھتے ہیں

مذہبی، موت کہہ کے خوش لیں
ہم ، اِسے زندگی سمجھتے ہیں!

وہیل چئیر پر گزاری نصف صدی اُسی سائنس کا کارنامہ ہے
جس کا ہاکنگ کے بے پنہ راکنگ سر پہ انسان دوست عمامہ ہے
ملکی وے سے کہیں پرے کوئی کاینات اس کے انتظار میں ہے

ایسے سورج نہیں مرا کرتے
وہ ادھر ڈوبا اور ادھر نکلا
وقت کے لوُپ ھول پُر کر کے
وہ، ستاروں کی سیر پر نکلا
جو اُسے روشنی سمجھتے ہیں

Categories
شاعری

عشرہ// ایک دن عورت کا

آنکھ بھر، تُو جو یہ خوابوں کے ستارے لئے ہے
یاد رکھ! جیل یا گھر، جو بھی تیری منزل ہو
پاؤں کی جوتی سے بہتر نہ سمجھنے والے
کہتے ہیں پاؤں کی جنت بھی ہمارے لیے ہے

جہاں اک مرد سی آزادی تجھے حاصل ہو
یہ تو طے ہے کہ وہ دنیا ہے تباہی لایق
اِس پہ احسان جتاتے ہوے تھکتے بھی نہیں
ہم جو گنتے ہیں تجھے آدھی گواہی لایق

ہم تجھے اپنے برابر نہ سمجھنے والے
تیرے “ایّام” مناتے ہوئے تھکتے بھی نہیں
Image: Brett Cole

Categories
شاعری

عشرہ // ڈھوک مری میں ویلینٹائن ڈے

رات کے عین ساڑھے تین سے صبح کے ٹھیک ساڑھے چار تک
تقریبن انہی ٹرکوں نے تقریبن انہی تَھڑوں پر تقریبن وہی مال اتارا

پانچ چھے بجے صفائی کرنے والے بھی آتے
اگر یہ علاقہ شہر کا ڈسِٹَنٹ کزن نہ ہوتا

سات بجے دوکانیں کھُلنے لگیں
آٹھ بجے تک دفاتر اور تعلیمی ادارے
گلیوں میں سڑکوں پر رَش بڑھا
نو، دس بجے پھر مطع صاف تھا

شام، یہی سب، ترتیب الٹ کر، دہرایا گیا
ڈھوک مری میں ویلینٹاین ڈے منایا گیا

Categories
شاعری

عشرہ//ایک بہادر عورت کی موت

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ہمیں زبانی یاد رہتا ہے شجرۂ نسب
اپنے محبوب، اور نا محبوب سیاستدانوں کا

مکمل ٹریک ریکارڈ ہو گا ہمارے پاس
فرسٹ سیکنڈ تھرڈ کلاس، ہر کرکٹر کا

ہمیں کیا پتا، کس رنگ کے پھول پسند تھے اُسے
یا، کونسی مُرکی اُس کے کانوں میں آویزاں تھی
آخری بار، اپنی کار میں بنی گالہ سے نکلتے ہُوے

ہم نے کبھی اُس کا ساتھ دینے کی غلطی نہیں کی
ہم نے تو کبھی اُس کو گالی تک نہیں دی
عاصمہ جہانگیر کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں