Categories
شاعری

عشرہ / میں نے حکمِ الہی کی تعمیل کی

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں نے حکمِ الہی کی تعمیل کی

[/vc_column_text][vc_column_text]

صرف اتنا کیا میں نے بیٹے کے ساتھ
باندھے کَس کَس کے نوخیز پیر اور ہاتھ
سات سالہ گلے پر چھری پھیر دی
سجدہءِ شکر میں — آن جکڑا مجھے
“نورباوے” کے شہدوں نے پکڑا مجھے
کانسٹیبل نے مارا ۔ چھری چھین لی
کیس عدالت میں رلتا رہا پانچ سال
لاکھ بھونکا: تھی مرضی خدا کی یہی
ظلم دیکھو! مجھی کو سزا ہو گئی
جیل میں پیار کا نام — ‘جھوٹا نبی’

Image: Richard Solstjarna
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

عشرہ / موج دریا، آر آئی پی

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

عشرہ / موج دریا، آر آئی پی

[/vc_column_text][vc_column_text]

تعمیراتی / تخریباتی کام ہمیشہ
پٹواری بٹا، ٹھیکیدار کا جام — ہمیشہ
چوبرجی اج خطرے میں، اسلام ہمیشہ
ہنستا بستا رہے لاہور کا نام ہمیشہ

 

زندے ہیں اس شہر کے مردے، مردے زندے
سزا جزا سب اپنے کیے کی، یا نہ کیے کی
یہ وہ عوام الناس ہیں جن کو “ان کے” نمائندے،
“ان کی” عدالتیں، “ان کی” فوجیں مارتی ہیں

 

کوئی مارکیٹ نہیں مزار پہ جلتے دیے کی
سرمائے کی نہریں موجیں مارتی ہیں

Image: The Nation
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

عشرہ/ میں اور کراچی کے حالات کا رخ

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں اور کراچی کے حالات کا رخ

[/vc_column_text][vc_column_text]

چائے رس کھا کے گھر سے نکلا
بڑے بھائی کے بیان نے راتوں رات حالات کا رخ بدل دیا تھا

 

بوہنی ہونے تک دوسری بیڑی پی گیا تھا میں
تخت لہور سے دھاڑ سنائی دی اور پھر گیا حالات دا منہ ول قبلہ شریف

 

ایک تو سورج سر پر دوسرے دھندا ایک دم سے مندا
کپتان نے تیز سوئنگ سی پھینکی، بال بال بچا حالات کا جبڑا

 

لنچ بریک میں ڈبل چائے پی کڑک، ایمان سے مزا آ گیا
چھوٹے بھائی کی وضاحت نے حالات کا رخ پھر پھیر کے رکھ دیا

 

بمشکل آنکھ لگی، پڑوس میں ٹی وی پر جمے ہوئے تھے سب
حالات کا رخ موڑنے اپنی طرف، اپنی طرف سے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

عشرہ / اپنی جنگ احتیاط سے چنیں

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اپنی جنگ احتیاط سے چنیں!

[/vc_column_text][vc_column_text]

ناداری سے جنگ
یا رام کی رحیم سے جنگ

 

بیماری سے معرکہ
یا گورے کا کالے پر حملہ

 

استحصال سے لڑائی
یا امریکہ کی چین پر چڑھائی

 

ظلم و جبر سے جھگڑا
یا مرد و زن کا اِٹ کھڑکا

 

جہالت سے جھڑپیں
یا خیالی دوستوں کے ساتھ فرضی دشمنوں کے خلاف غزوات

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

عشرہ/ بنی کشمیر کے عذاب

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

عشرہ 1: بنی کشمیر کے عذاب

ملا مودی بولتا ہے تو منہ سے لفظ نہیں تیز دروغ آمیز چھرے نکلتے ہیں
جو سیدھے تاریخ کے چہرے پر پڑتے ہیں، جہاں صدیوں نئے گھاو گلتے ہیں

وادی کی سب نر اولادیں لالہ فرعون کے کام کی ہیں
ساری قراردادیں کاغذ کی، ساری صلحیں نام کی ہیں

باپ ہتھیلی پر وہ گولی سجائے بیٹھا ہے جس نے جوان بیٹے کی جان لی
گلاب کے جھنڈ میں لا کر ذبح کیا، شمر نے شبیر کی آخری خواہش مان لی

پہلے ہندو طالبان نے خوب جی بھر کے نہتوں کے خون کی ہولی کھیلی
وائوو! وقت پہ بی بی سی والوں کو دیکھ کے گن کی جگہ غلیل نے لے لی

کشمیریوں کے لیے انڈیا پاکستان دو عارضی، خطرناک جھوٹ ہیں
بھیڑیوں کے مذاکرات، بھیڑوں کی نسل کشی کی کھلی چھوٹ ہیں

عشرہ 2: کشمیر کے حق میں اکھل گاو رکھشک پریشد کی تجاویز

کشمیر کے حالات بہتر بنانے کے لیے بہتر ہو گا کہ کشمیریوں کو چن چن کے مار دیا جائے
ویسے انہیں جیل میں تھانے میں گھر میں عمر قید تو کیا ہی جا سکتا ہے
کشمیریوں کو مستقل بے ہوشی کے ٹیکے لگائے رکھنا بھی کوئی مسئلہ نہیں

ان سب قابلِ عمل منصوبوں پر ہماری مہان سرکار کا روکڑا البتہ کافی اٹھ جائے گا
تھوڑی سی بد نامی اور ہو رہے گی، کتا چینلوں کے آگے مزید اشتہار ڈالنے پڑیں گے

کیوں نہ کشمیریوں کو سرے سے مزے سے بیچ ڈالا جائے
امریکہ روس چین جاپان عرب ایران۔۔۔افغانستان، جو بھی بولی لگا دے

قیمتی زرِمبادلہ سے لانچ کریں گے ہم اکھنڈ بھارت ورش کا جدید ترین راکٹ — دا گڈ گائے ماتا
جو اسی نوے فیصد تک درست پیش گوئی کر سکے گا ہمارے شدھ کشمیر کے پوتر موسم کی
Categories
شاعری

عشرہ/ سو قومی نظریہ

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

سو قومی نظریہ

پہلے دو راونڈ تو خالی گئے
اس کے بعد گینڈوں اور ہاتھیوں نے زک پہنچانے کا کوئی موقع علی الترتیب سینگوں اور سونڈوں سے نہ جانے دیا

بھیڑیوں نے دور تک تعاقب کیا
پھر بھی اکثر لومڑیاں جل دے گئیں کچھ کھیت رہیں

سوروں اور شکاری کتوں کی لڑائی میں
آخر الذکر کا ہانپتا پلڑا بھاری رہا

چربیلے لذیذ گوشت پر خونخوار فاتحین کا دست و گریباں ہونا بنتا تھا
جو کہ اب ہماری تاریخ کا سنہری باب ہے

زخمی خرگوش کے اب تک بچے کھچے چھیچھڑوں اور ہڈیوں پر
آوارہ کتیوں، پلوں، بلیوں، بلوں کی شدید سر پھٹول لائیو جا رہی ہے

مومنِ اعظم

اپنے فیورٹ ایگ اینڈ بیکن ناشتے سے انصاف کرنے کے بعد
وہ یہ کہنا کبھی نہیں بھولا کہ پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ ہو گا

نوزائیدہ وطن کے بڑے بازو کو جوشِ خطابت سے جھنجھوڑتے ہوئے اسے خوب یاد آیا
کہ قومی زبان وہ چنے جو اکثر لوگوں کی طرح خود اسے بھی نہ آتی ہو

اس نے یہ ملک فوجیوں اور سیاستدانوں، وڈیروں اور صنعتکاروں کی مدد سے بنایا، صاف ظاہر ہے انہی کے لیے
جس میں پتا نہیں کہاں سے اور بہت سے غیر ضروری لوگ آ رہے یا پہلے سے رہتے ہوئے پائے گئے

اس کے اندر چھپا ہوا مردِ مومن، بیٹی کو کافر سے مرضی کی شادی کیسے کرنے دیتا، رحمت اللہ علیہ
جیسے خود ویسی ہی ایک کافرہ سے شادی اس کے مرد-حق ہونے کا ثبوت بنی، رحمت اللہ علیہ

شام ڈھلے جب وہ تھک جاتا تو دو چار جام کے بعد حسبِ ذائقہ
ریش دراز ملاوں، زباں دراز صحافیوں اور دست دراز سٹوڈنٹوں کے ساتھ نظریہء ضرورتِ پاکستان کھیلتا

سو قومی نظریہ (2) ۔۔۔ دس نمبری آزادی

کس کے پلّے لیڈروں کی انگریزی پڑی تھی
گِنے چُنوں کو اپنی اپنی تیزی پڑی تھی
نوّے فیصد دیش جب ان کے لیے جاہل تھا
ووٹ کا حق پھر کتنے فیصد کو حاصل تھا؟
کیسے سمجھا جائے سب پر سب واضح تھا
نام نہاد آزادی کا مطلب واضح تھا
اب تک جو نالائقِ فہم ہے، تب واضح تھا
تاج کے بردوں، راج کے پروردوں کے علاوہ
کون سا بھاری مینڈیٹ، جس نے ووٹ دیا تھا
اِس تقسیم کے حق میں کس نے ووٹ دیا تھا
Categories
نان فکشن

عشرہ کیا ہے؟

عشرہ دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں
عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اور تو اور، یہ حمد و نعت کو بهی ویسا ہی مناسب ہے جیسا یہ سلام و منقبت کے لیے موزوں ہے۔ پھر یہ اتنی ہی آسانی یا دشواری سے پابند بھی ہو سکتا ہے، آزاد بھی اور تقریباً اسی طرح بلینک ورس بھی، نثری نظم بھی۔ یا ان میں سے کچھ یا سبھی کا کوئی آمیزہ۔ عشرہ وقت ضائع کرتا ہے نہ جگہ۔ ہاں کبھی کبھی بدل دیتا ہے ایک کو دوسرے میں۔

 

عشرہ دراصل پار سال اسلام آباد میں دھرنوں کے موسم کی دین ہے۔ جب اپنے ہاں کی حقیقی سیاسی سماجی صورتحال کا مضحک- المیہ شاعر کو رلاتا ہنساتا، مبتذل موضوعات پہ ذومعنی اظہار کے لیے برتی گئی یوروپین صنف لمرک کو ایک طرح سے دوہراتا ہوا، متعدد نو-دس-گیارہ سطری تحریروں کی طرف لے گیا جنہیں قبل اس کے کہ کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپانے کی بجائے ملا جلا کر ذاتی اتفاقِ رائے سے عشرے کا نام دے دیا گیا۔ یعنی 2014 کی مون سون میں اترنے والی طویل نظم “شاہراہ-بے دستور” کے فوری بعد جو یہ سلسلہ شروع ہوا تو پھر تھما نہیں۔

 

عشرے کی رج کے گج وج کے مخالفت ہوئی، ایک وقت ایسا تھا جب نئی ادبی برادری دو حصوں میں تقسیم کہی جا سکتی تھی: پرو عشرہ اور اینٹی عشرہ- بلکہ شاید ابھی تک ایسا ہی ہو۔ کبھی ایسے لتاڑا گیا کہ یہ کون سے موضوعات لے کر بیٹھ گئے، کہیں ویسے پچھاڑا گیا کہ ابے یہ کون سی زبان برت ریا اے بھیا! کبھی شاعرانہ غیرت کو جھنجھوڑا گیا کہ حسن کوزہ گر اپنے گھر کی غزل کے دیوار و در کی خبر لے! القصہ، شاعر کو ڈھکے چھپے لفظوں میں صاف صاف بتا دیا گیا کہ۔۔۔آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے!

 

کسی بھی طرح دیکھیں بھالیں۔اس نئی صنفِ سخن کا رخ واضح طور پہ ماڈرن سے پوسٹ ماڈرن کی طرف ہے۔
یوں تو اس کی ایجاد/دریافت کے بعد سے اب تک کوئی نصف درجن زبانوں میں عشرہ لکھا جا چکا ہے تاہم اس صنف کی اصل کامیابی ٹی ٹونٹی-ٹوئٹر جنریشن کے بہتر، نمائندہ تخلیقی اذہان کو اپنی جانب متوجہ کر سکنا ہے۔ ملک کے کئی بڑے تعلیمی اداروں نے اپنے سالانہ ادبی میلوں، مقابلوں میں عشرے کو باقاعدہ شامل کیا۔ نئی نسل کی بڑھتی دلچسپی سے جلنے والوں یعنی ادبی گورا-صابوں کا منہ کالا ہوا، ادب کا بہر حال بول بالا ہوا۔ اس نوعیت بٹا کیفیت کے (زیادہ تر کسی نہ کسی باونڈری سے چھیڑ چھاڑ کرتے مواد اس پر مستزاد) نان-کمرشل کام پر جیتے جاگتے ذہنوں کی ایسی شرکت، کامیابی کی ایسی مہر شاید فی زمانہ۔۔۔ کم کم ملے۔

 

عالمانہ سے لے کر کالمانہ موضوعات تک غیر روایتی پہنچ اور برتاو کو لے لیں یا فکری اور لسانی تنوع کی بات کر لیں یا بے شک دانتوں میں انگلی ڈال کے چپکے پڑے رہیں، غرض کسی بھی طرح دیکھیں بھالیں۔اس نئی صنفِ سخن کا رخ واضح طور پہ ماڈرن سے پوسٹ ماڈرن کی طرف ہے۔ ایک خوش قسمت صنف (میرا لکی کبوتر!) جس کے تتبع نہیں تو تعاقب میں لگ بھگ نصف درجن اصناف پیدا ہو چکیں جو آخری اطلاعات آنے تک بقدرِحرف پھل پھول رہی ہیں. اس لحاظ سے تو عشرہ کم سے کم اردو ادب کی نئی پیڑھی، نئی صدی کی نمائندہ صنف قرار دیا جا سکتا ہے۔ اونج پائی ژان، تہاڈا کیہہ خیال اے؟

 

خالی جھولی

 

ہر گولی کام آئی
کام آئی ہر گولی
یہ کیسی شام آئی
سو گیا تھک کے سوالی
تھک کے سوالی سو گیا
پسٹل ہو گیا خالی
خون سے بھر گئی جھولی
پسٹل خالی ہو گیا
جھولی خون سے بھر گئی
اور قوالی مر گئی

 

ڈونلڈ ٹرمپ بنام صادق خان

 

جامہ تلاشی کے بعد
ہیٹ اور جوتے گیٹ سے باہر جمع کرانے ہوں گے
جامہ تلاشی سے پہلے

 

ننگے پاوں بخوبی چھپ جائیں گے
سفید براق کفن نما برقعے میں

 

سر پر فٹ آئے گی ڈھیلی ڈھالی کالی ٹوپی
آنکھوں کے عین مقابل سوراخ سے
صاف نظر آئے گا ان-ھنیرا

 

چاہے تھام کر چلے وہ تازہ بجھی ہوئی صلیب
جس پر دراصل اسے لٹکا ہوا ہونا چاہئیے تھا

 

ایدھی

 

ایک سادہ سے آدمی کے لیے
زندگی کتنی خوبصورت تھی
ایک مردہ سوسائٹی کے لیے
گورکن کی بڑی ضرورت تھی
اس کی آنکھوں سے دیکھنے والے
ایک دو تین چار۔۔۔ زیادہ ہیں
کم ہیں آپس میں بانٹنے کے لیے
غم، خوشی سے ہزار زیادہ ہیں!
زندگی، موت سے ڈرے تو نہیں
ایدھی صاحب کوئی مرے تو نہیں

 

ہمارے ہاں-نہیں-ہاں

 

رجعت پسند اپنا تعارف ترقی پسند کہہ کر کراتے ہیں
رہے ترقی پسند تو وہ لبرل کہلانے کو ترجیح دیتے ہیں
لبرلوں کو، سامنے کی بات، اپنے سیکولر کیریکٹر پر بیحد اصرار ہے
کچھ اتنی ہی آسانی سے سیکولر خود کو سوشلسٹ سمجھتے ہیں
ضروری نہیں منہ سے کہے، سوشلسٹ اپنے تئیں انارکسسٹ سے کم نہیں سمجھتا
وقت پڑے تو ایک سچے پکے انارکسی کو صوفیءِ با صفا بننے سے کون روک سکا ہے
سیدھے سادے صوفی کی ڈی لکس ایڈیشن پیر میں تبدیلی پر کوئی قدغن بھی نہیں
پیرانِ کرام تو سر تا پا ریڈی میڈ سیاستدان ہوتے ہی ہیں
ایسے سیاستداں اور بھی کم گزرتے ہیں جو قومی لیڈر نہ واقع ہوئے ہوں
بھلا وہ بھی کوئی لیڈر ہے جسے رجعت پر باقاعدہ بےقاعدہ اصرار نہ ہو

 

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔