Categories
شاعری

ڈھشما اور دیگر گیت (ترجمہ: ادریس بابر)

لالٹین پر عالمی ادب کے منتخب تراجم پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بار کیا عالمی حالات کیا مقامی واقعات سب کی سنجیدہ بلکہ رنجیدہ صورت دیکھتے ہوئے ان سے بالکل مختلف نوعیت کی شاعری کا انتخاب کیا گیا ہے

پیش خدمت ہیں بچوں یعنی اصلی تے نکے بچوں کے ہاں مقبول مغربی گیتوں کے ترجمے۔ ان گیتوں میں سے کچھ سکینڈے نیوین ہیں کچھ جرمن اور کچھ کا اصل پتا نا معلوم ہے۔

بیشتر ان میں سے یورپ بھر کی زبانوں میں زمانوں سے گائے جاتے ہیں بلکی مقای کلچروں کے ڈھنگ میں رنگ چکے ہیں۔ بعض اپنی خواب آور تکراری تکنیک کے کارن لوریوں کے قریب جا پہنچتے ہیں تاہم اکا دکا اس خوف کو بھی جا چھوتے ہیں جو فطری اور خصوصی طور پر بچپن کا حصہ ہوتا ہے۔ زندگی کا خوف۔ موت کا خوف۔

 

[divider]ننھا مانجھی[/divider]

خیر ہو تیری
ننھے مانجھی
ننھے مانجھی
تیری خیر!

کتنی مچھلیاں چاہتا ہے تُو؟
ایک امی اور ایک ابو؟
کتنی مچھلیاں چاہتا ہے تُو؟

اک چھوٹے بھائی کے لیے
اک مُنّی باجی کے لیے

خیر ہو تیری
ننھے مانجھی
بھول نہ جانا
ننھے مانجھی
اپنے لیے بھی
اک مچھلی

 

[divider]سویا ہوا ریچھ[/divider]

ریچھ سو رہا ہے
ریچھ سو رہا ہے
اپنے غار کے بیچ

وہ برا نہیں ہے
وہ برا نہیں ہے

لیکن پھر بھی
لیکن پھر بھی
آدمی کو چاہیے
آدمی کو چاہیے
اپنا دھیان رکھے
سب سے پیاری
اپنی جان رکھے

[divider] کھانے کی میز پہ[/divider]

 

لڑکے بھی اور لڑکیاں بھی
میز پہ بیٹھے کھانے کی
گڑگڑ جاری پیٹ میں
خالی ہے لیکن پیالی
کچھ بھی نہیں پلیٹ میں
لڑکے لڑکیاں سارے جی
بھوکے بھی اور پیاسے بھی
پر کوئی شرابہ شور نہیں
کسی پہ کسی کا زور نہیں
لڑکے لڑکیاں دونون ہی
کاٹ رہے ہیں انتظاری
چیجی ملے گی باری باری
لڑکے لڑکیاں ۔۔ جی جی جی

 

[divider]مکڑی مکڑی[/divider]

 

مکڑی مکڑی جلدی سے آ
آ یہ تماشا دیکھ زرا
کھانا کھا رہی ہے ننھی فریحہ
سب گرا رہی ہے ننھی فریحہ

مکڑی مکڑی جلدی سے آ
آ یہ تماشا دیکھ زرا
مکڑی مکڑی تو ہی بتا
کیا نہیں تیرا جی چاہتا
سارا کھانا تو ہی جائے کھا
بھوکی رہ جائے ننھی فریحہ

 

[divider]ڈھش ڈھش ڈھشما[/divider]

ڈھش ڈھش ڈھشما
گھڑی نے بجایا
گیارہ کا گھنٹہ
بادشہ سلامت
چھت پہ کھڑے ہیں
بادشہ سلامت
سب دیکھتے ہیں
کھیت کھلیان سب
ساحل اور چٹان سب
بادشہ سلامت
سر پہ پڑے ہیں
تا بہ قیامت
توبہ! قیامت!
بادشہ سلامت
غصے میں پڑے ہیں
بول سپاہی
زرا خطرہ ہے
تول سپاہی
بڑا خطرہ پے
ڈھش ڈھش ڈھشما
مارا ہی نہ جاے
ڈھول سپاہی
لیٹ جو آیا
اس کی منتظر ہے
کالی کڑاہی!

[divider] بھیڑ[/divider]

پیاری بھیڑ
پیاری ںھیڑ
کیا تیرے پاس ہے پشم
یا ابھی نہیں

بالکل! کیوں نہیں!
ہاں پیارے بچے
بھرا ہے میرا جسم
اس سے بن جائیں گے
بابا کے لیے
اتوار کے کپڑے
ماما کے لیے
تہوار کے کپڑے
اور یہی نہیں
اونی جرابوں کے
پورے دو جوڑے
تیرے لاڈلے
بھیا کے لیے

Categories
شاعری

پیٹرول میں لہو کی لکیر (شاعر: اشرف فیاض، ترجمہ: ادریس بابر)

اشرف فیاض یکم جنوری 2014 سے سعودی عرب میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ پانچ سات برس پہلے تک، دوستوں اورملاقاتیوں کے توسط سے ان کا احوال اور کلام سلاخوں سے باہر پہنچتا رہا۔ اس طرح ان کی عربی نظموں کا مجموعہ بیروت سے چھپ پایا۔ لکھاریوں کی عالمی تنظیم پین انٹرنیشنل اشرف فیاض کو اعزاز سے نواز چکی ہے۔ ان کی منتخب نظموں کا ترجمہ انگریزی میں مونا کریم اور اردو میں ادریس بابر نے کیا ہے۔

گھومنے پھرنے کا حق
اسے بہرطور حاصل نہیں
نہ جھومنے کا
نہ لہرانے
رونے کا نہ گانے کا
کوئی حق نہیں اسے
کھڑکیاں کھولنے کا
ہوا لگوانے کا
تجدید کروانے کا
اپنے آنسوؤں کی
اپنی رائگانی کی

کتنی جلدی بھول جاتے ہو تم
کہ تم ہو کیا چیز
محض روٹی کا ایک ٹکڑ
اور کچھ نہیں!

بے ضرر مائع ہے
پیٹرول کا کوئی نقصان نہیں
یہ اپنے پیچھے کوئی نہیں چھوڑتا
سوائے ایک لکیر کے
جسے خط ِغربت کہتے ہیں

دیکھنا اس دن
مزید چہرے
بجھے ہوئے
دریافت ہوا
جس دن
ایک اور کنواں تیل کا

تب بخشی جائے گی
تمہیں
حیاتِ نو
مزید تیل
کھینچ تان کے نکال سکو
اپنے جی جان لگا کے
دوسروں کے لیے
تم سے یہ پکا ہے وعدہ تیل کا۔۔۔
خس کم
۔۔۔ جہاں پاک

کہا گیا
بس یہیں قیام کرو
البتہ تم میں سے بعض مخالف ہیں
ہر شے کے

سو، جانے دو
رہنمائی کے لیے
دیکھو اپنے آپ کو
دریا کی تہہ سے

تھوڑا ترس کھائیں
تم میں سے جو اوپر ہیں
ان پر جو کچلے گئے

آدمی جسے ہلا دیا گیا
اپنے مقام سے
وہ بیچارہ
بہتے لہو کی طرح ہے
جو بے قیمت رہا
تیل کی اس منڈی میں

معذرت چاہتا ہوں
معاف کر دو مجھے
نہیں بہا سکتا میں
اشکوں کے دریا
تمہارے لیے

نہیں بڑبڑا سکتا میں
تمہارا نام
یاد آوری کے طور پر

کسی نہ کسی طرح
موڑ لیا ہے
میں نے اپنا چہرہ
تمہاری بانہوں کی دبازت
ان کی تمازت کی طرف

پہلی اور آخری
تمہی محبت ہو میری
اور میں تمہاری

نہیں کلام کرنے کا
تمہارا گونگا لہو
جب تک تم مباہات کے بہانے تلاش کرتے رہو
موت کے بیچ

جب تک تم جاری کرتے رہو
خفیہ اعلانات
اپنی روح کو گروی رکھنے کے بارے میں
ان لوگوں کے ہاتھ
جنہیں اس کی پہچان ہے نہ قدر

ابھی وقت لگے گا
روح کو ہمیشہ کے لیے کھونے میں
اس سے کہیں زیادہ
جتنی دیر لگے گی
تمہیں آنکھوں کو تسلی دینے میں
جو تیل کے آنسو بہاتی مریں

Categories
شاعری

ہم سکول جانے سے ڈرتے نہیں اور دیگر عشرے (ادریس بابر)

ع / ہم اسکول جانے سے ڈرتے نہیں

در اصل عربی تلواروں کے گهیرے میں
بہت اونچی شلواروں کے گهیرے میں
ہمارے بہت دوست مارے گئے
ہماری جوانمرد استانیاں
اور استاد جو ہم پہ وارے گئے
انہیں ۔۔۔۔ جنگ یہ ہارنے کیسے دیں؟
درندوں کو منه مارنے کیسے دیں؟
پهر اسکول جانے سے تو وہ ڈریں
جو اسکول کا کام کرتے نہیں
ہم اسکول جانے سے ڈرتے نہیں


ع / سمجهدار عشرہ

وہی ٹی ہاوس کی میز ۔۔۔ ہاف وہی چاے کا سیٹ
زیرہ بسکٹ ۔۔۔ بهلی گپ شپ ۔۔۔ سبهی بازار کے بهاو
وہی ناقدری کا رونا ۔۔۔ کسی اک بیرے پہ تاو
وہی ۔۔۔ سو کالڈ ۔۔۔ زمانے کے ستم ۔۔۔ کیا لکهیں
کیا گنیں ۔۔۔ کس بت طناز کے بخشے ہوئے گهاو
دیکهے اندیکهے خداوں کے کرم کیا لکهیں
نہ سمجهنے کی کوئی شے نہ کسی شے کی سمجهه
کیا کلیشے کو سمجهه آئے کلیشے کی سمجهه
لوگ مر جاتے ہیں ۔۔۔ جی اٹهتے ہیں ۔۔۔ مر جاتے ہیں
اور ہم سوچتے رہتے ہیں کہ ۔۔۔ ہم ۔۔۔ کیا ۔۔۔ لکهیں؟


ع / بهائی بهائی

بهائی تهوڑا وقت ملے گا؟
دین کی محنت ۔۔۔ دین کی کوشش ۔۔۔
آج نماز مغرب کے بعد۔۔۔۔

۔۔۔۔میری نماز جنازہ ہو گی
میرا نام ۔۔۔ محمد عبد اللہ ۔۔۔
سولہ کا لگتا، تها گیارہ کا ۔۔۔

۔۔۔۔پهر وہ مجهے ٹائلٹ میں لے گئے ۔۔۔
جسم بهی ہارا جان بهی ہار دی
فارغ ہو کر ۔۔۔ پاک اصحاب نے
کلمہ پڑهایا ۔۔۔ گولی مار دی


عشرہ / خالی کا سا

“صنم” کا ہال ہےتاریک ۔۔۔ میرے دل کی طرح
بِلَوری پردے پہ جاری ہے سیمیا کا عمل
چلی جو فلم تو لوگوں کی سانس تهم گئی ہے
قریب ہوتے ہوئے ہیرو/ہیروئن سے دور
ہم ۔۔۔ ایک کونے میں ۔۔۔ جس پر نگاہ کم گئی ہے
کہاں گئی وہ محبت ۔۔۔ وہ کیمیا کا عمل
یہ سوچتے ہیں کہ ۔۔۔ اتنے میں ۔۔۔ اِنگرِی/بَوگارٹ
بچهڑ گئے ہیں ۔۔۔ ہمیشہ اکٹهے ۔۔۔ رہنے کو
سلگ اٹهے ہیں میرے ہونٹ بهی سگار کے ساتھ
اور اُس کے گال پہ آئس کریم جم گئی ہے


عش / یوتها ناسیا

درد کا زرد سمندر
زخمی پروں کی زد پر
سمے بهر سرمئی وادی
جگہ کی جگہ خلا تها
ضبط کی آخری حد پر
اک بے دین مسیحا
اس کی نجات سے ڈر گیا
صبر کا پهل کڑوا تها
وہ آرام سے مر گیا
اپنے کام سے مر گیا

Categories
شاعری

عشرہ // ہم اُسے روشنی سمجھتے ہیں

مذہبی، موت کہہ کے خوش لیں
ہم ، اِسے زندگی سمجھتے ہیں!

وہیل چئیر پر گزاری نصف صدی اُسی سائنس کا کارنامہ ہے
جس کا ہاکنگ کے بے پنہ راکنگ سر پہ انسان دوست عمامہ ہے
ملکی وے سے کہیں پرے کوئی کاینات اس کے انتظار میں ہے

ایسے سورج نہیں مرا کرتے
وہ ادھر ڈوبا اور ادھر نکلا
وقت کے لوُپ ھول پُر کر کے
وہ، ستاروں کی سیر پر نکلا
جو اُسے روشنی سمجھتے ہیں

Categories
شاعری

عشرہ//ایک بہادر عورت کی موت

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ہمیں زبانی یاد رہتا ہے شجرۂ نسب
اپنے محبوب، اور نا محبوب سیاستدانوں کا

مکمل ٹریک ریکارڈ ہو گا ہمارے پاس
فرسٹ سیکنڈ تھرڈ کلاس، ہر کرکٹر کا

ہمیں کیا پتا، کس رنگ کے پھول پسند تھے اُسے
یا، کونسی مُرکی اُس کے کانوں میں آویزاں تھی
آخری بار، اپنی کار میں بنی گالہ سے نکلتے ہُوے

ہم نے کبھی اُس کا ساتھ دینے کی غلطی نہیں کی
ہم نے تو کبھی اُس کو گالی تک نہیں دی
عاصمہ جہانگیر کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں

Categories
شاعری

عشرہ // ایک اور دھرنا

تم جو پشتون دُھسے میں ہو
تم جو پنجابی کھُسے میں ہو
تم جو مہرانی اجرک میں ہو
تم جو بلوچی لاچے میں ہو
تم جو کشمیری کرتے میں ہو
تم جو اردو پجامے میں ہو
تم جو سرائیکی پرنے میں ہو
سب جو موجود دھرنے میں ہو
کل. کوئی. اور. مر. جاے. گا.
آج کیوں اتنے غصے میں ہو!

Categories
شاعری

عشرہ // ہمیں دفن کر دو

بات مانو۔ ہمارا یہ اک آخری کام کر دوہمیں دفن کر دو چُپکے سے،

بین کرتی ہوئی عورتو اور مردو۔ ہمیں دفن کر دو فرق پھرمرنے اور جِینے میں؟

ظلم کی رات کےمشتعل سینے میں خالی قبریں نہیں۔

سینے کے گھاؤ ہیں، گھاؤ بھر دو۔ہمیں دفن کر دو

اُجلےکپڑے، سنہری حروف اورہرے پات، خاکِ شفا۔۔کم پڑیں گے

سب سے اُوپر ہماری ہلاکت کا الزام دھَر دو۔ ہمیں دفن کر دو

کتنی تیزی سے چینل بدلتے ہوئے لوگ تابوت والوں سے اُکتا چُکے ہیں

ریڈیو، ٹی وی، اخبار کو ایک تازہ خبر دو۔ ہمیں دفن کر دو

خوں بہا چاہتے ہو؟ فضا اَمن کی ،دور انصاف کا چاہتے ہو؟

اتنے خوش بخت! کیاتم خدا ہو؟ ارے خواب گَردو! ہمیں دفن کر دو!

 

Categories
شاعری

عشرہ // کھنہ ایسٹ @ سیرینا ویسٹ: ایک ادبی ایف آئی آر (عرف ہوئے تم دوست۔۔۔)

blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ایک دن آٹا گوندھنا، دوسرے دن روٹی پکانا، تیسرے دن ہنڈیا چڑھانا
یوں سب روزمرہ کام کاج اُس نے فورن اپنے ذمے لے لیے

نصف لفافی سوکھے دودھ کے بدلے جو مجھے کبھی درکار نہ تھا
اُس نے اُڑایی مرغوب مشروب کی لبا لب صراحی، محبوب کافی کا سراسر جار

مجال ہے جو اُس کے ہوتے صبوحی چاے کا پیالہ مجھے کبھی ہزار سے زیادہ کا نہیں پڑا ہو
یا وہ کسی شام بھُولا ہو سر درد، فشار خون کی گولیاں، انہی کے سمیت، میرے متھّے مارنا

اگلے پُورے ہفتے میرے فون نہ اٹھانے پر وہ اتنا پریشان ہوا
کسی مشترکہ دوست سے رابطے کا اُسے خیال تک نہ آیا

اب میری پَیِنک کی کوئی حد نہیں رہتی، جب ہر گنتی پر
ھینڈ بیگ میں پسماندہ رقم میری کمزور یادداشت سے لگّا کھاتی نظر آتی ہے

Categories
شاعری

عشرہ // اُس پار اِس پار

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

مرد مارے گئے
پھر کیا ہوا
عورتیں ماری گئیں
وہ تو ماری جاتی ہیں
بچے مارے گئے
یہ تو ہونا تھا
لوگ مارے گئے
تمہیں کیا
میں سچ کہہ رہا ہوں
ہمیں کیا

Categories
شاعری

عشرہ // ایسی ویسی عید

ایسی ویسی عید

سو سے زیادہ پارا چنار مارے گئے
اتنی دور کہاں جاتا میں خالی مرنے

کویٹہ، کراچی میں حسبِ معمول دو چار مارے گئے
اور میں دونو جگہ نہیں تھا، اپنا شکر ادا کرتا ہوں

احمد پور میں (یہ نئی بات ہے!) بے شمار مارے گئے
بال بال بچا میں (یہ پرانی بات ہے)

میں تو خود کو جھوٹ سمجھ کر خوش ہو لیتا
سچ نکلا میں سچ نکلا میں سچ نکلا میں

بچ نکلا میں! بچ نکلا میں!! بچ نکلا میں!!!
مجھے نہیں تو کس کو عید مبارک ہو گی؟

Categories
شاعری

عشرہ // ۔۔۔۔ بھٹو نکلے گا

blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

۔۔۔۔ بھٹو نکلے گا

ستر سال میں اک بھٹو آزاد ہوا ہے
لندن پیرس برلن جا کر
ڈسکو صوفی فلمیں چھوڑ کے
نیویارک میں پوز بنا کر

انارکلی میں واری جاتا ریشم جان کس بھاؤ چُکے گا
شہراہِ فیصل کی رانی کون سے دیس کا راجہ بنے گی
پنڈی صدر میں ٹھمکتا حسُسنا کتنا عظیم قرار دلے گا

وہ جن کے شجرے میں کوئی سادہ وزیر بھی ہو نہیں گزرا

ہر گھر سے پھر بھٹو کیسے نکلے گا، کب نکلے گا
کیا اُسے دھکے دے کے نکالا جاے گا، تب نکلے گا؟

Categories
شاعری

عشرہ // ہر کسی کو مار دو

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ہر کسی کو مار دو
کون سی شکایتیں ؟؟ کون سی ملامتیں ؟؟
یا اللہ ۔۔ یا رسول ۔۔ خوف کی علامتیں!
مسل دو ہر ایک پھول، ہر کلی کو مار دو — ہر کسی کو مار دو

 

الف ہے واجب القتل بے کے نیک خیال میں
جیم کیوں نہ ہو شریک دال کے قتال میں
اے کو بی کو مار دو سی کو ڈی کو مار دو — ہر کسی کو مار دو

 

کچھ کہے یا نہ کہے، کچھ کرے یا نہ کرے
جو تمہیں نہیں پسند، کل کیا آج ہی مرے!
تم سے جتنا ہو سکے، زندگی کو مار دو — ہر کسی کو مار دو

 

احتیاط ہی کرو، بس! سبھی کو مار دو — ہر کسی کو مار دو
Categories
شاعری

عشرہ // میں نے ایک کتاب لکھی

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
میں نے ایک کتاب لکھی
شعر، کشٹ، اور ظیفے ملا کر
فلسفے اور لطیفے ملا کر
اگلے پچھلے صحیفے ملا کر

 

خودی / بے خودی کے موڑ پر
شعور/ لاشعور کے چوک میں
زندگی / موت کے ناکے پہ

 

میں نے لکھا کہ تحقیق، بر حق ہے جو میں نے لکھا
اور منسوخ ہیں اگلے پچھلے۔۔۔

 

اور اگرکوئی ایسا کہے جیسا میں کہہ رہا ہوں
تو اسے قتل کر دینا ہو گا
Categories
شاعری

عشرہ // عشرے کا آٹو گراف

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
عشرے کا آٹو گراف
پہلی لائن ٹوٹی پھوٹی
دوسری سیدھی سادی ہے
تیسری ایک مثلث بننے جا رہی تھی
چوتھی بلکہ پانچویں بھی
آدھی نہیں (اور آدھی ہے)
چھٹی، بس اک چھوٹا سا نقطہ
ساتویں پورا دائرہ ہے
آٹھویں، نظم میں داخل ہونے کا دروازہ، یا کھڑکی ہے
آخری لائن پھر ڈاٹڈ .. ڈی کنسٹرکٹڈ کہہ لو
نادیدہ کے دستخط صاف نظر آتے ہیں
Categories
شاعری

عشرہ // مارو ہر انسان کو مار دو

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
مارو ہر انسان کو مار دو
بچاؤ بچاؤ بچاؤ بچاؤ
بچاؤ خدا کی خدائی بچاو بچاؤ نبی کی رسالت بچاو
بچاؤ صحابہ، خلافت بچاؤ بچاؤ امامت، ولایت بچاؤ

 

مارو محلے دار کو مارو، مارو مارو ہمساے کو
مارو اے قابیل قبیلو ڈٹ کر مارو بیشک ماں جائے کو
جو اپنا حق مانگ رہا ہو، ایسے ہر نادان کو مار دو
جو سب کے لئے اچھا چاہے فورن اس شیطان کو مار دو

 

مارو ہر انسان کو مار دو
اور پھر مل کر شور مچاو
بچاؤ بچاؤ بچاؤ بچاؤ

Image: Voice of America