ڈھشما اور دیگر گیت (ترجمہ: ادریس بابر)

پیاری بھیڑ
پیاری ںھیڑ
کیا تیرے پاس ہے پشم
یا ابھی نہیں
پیٹرول میں لہو کی لکیر (شاعر: اشرف فیاض، ترجمہ: ادریس بابر)

ابھی وقت لگے گا
روح کو ہمیشہ کے لیے کھونے میں
ہم سکول جانے سے ڈرتے نہیں اور دیگر عشرے (ادریس بابر)

ع / ہم اسکول جانے سے ڈرتے نہیں در اصل عربی تلواروں کے گهیرے میں بہت اونچی شلواروں کے گهیرے میں ہمارے بہت دوست مارے گئے ہماری جوانمرد استانیاں اور استاد جو ہم پہ وارے گئے انہیں ۔۔۔۔ جنگ یہ ہارنے کیسے دیں؟ درندوں کو منه مارنے کیسے دیں؟ پهر اسکول جانے سے تو وہ […]
عشرہ // ہم اُسے روشنی سمجھتے ہیں

ادریس بابر: وقت کے لوُپ ھول پُر کر کے
وہ، ستاروں کی سیر پر نکلا
جو اُسے روشنی سمجھتے ہیں
عشرہ//ایک بہادر عورت کی موت

ادریس بابر:ہم نے کبھی اُس کا ساتھ دینے کی غلطی نہیں کی
ہم نے تو کبھی اُس کو گالی تک نہیں دی
عاصمہ جہانگیر کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں
عشرہ // ایک اور دھرنا

ادریس بابر: کل. کوئی. اور. مر. جاے. گا.
آج کیوں اتنے غصے میں ہو!
عشرہ // ہمیں دفن کر دو

ادریس بابر: خوں بہا چاہتے ہو؟ فضا اَمن کی ،دور انصاف کا چاہتے ہو؟
اتنے خوش بخت! کیاتم خدا ہو؟ ارے خواب گَردو! ہمیں دفن کر دو!
عشرہ // کھنہ ایسٹ @ سیرینا ویسٹ: ایک ادبی ایف آئی آر (عرف ہوئے تم دوست۔۔۔)

ادریس بابر: اب میری پَیِنک کی کوئی حد نہیں رہتی، جب ہر گنتی پر
ھینڈ بیگ میں پسماندہ رقم میری کمزور یادداشت سے لگّا کھاتی نظر آتی ہے
عشرہ // اُس پار اِس پار

ادریس بابر: لوگ مارے گئے
تمہیں کیا
میں سچ کہہ رہا ہوں
ہمیں کیا
عشرہ // ایسی ویسی عید

ادریس بابر: بچ نکلا میں! بچ نکلا میں!! بچ نکلا میں!!!
مجھے نہیں تو کس کو عید مبارک ہو گی؟
عشرہ // ۔۔۔۔ بھٹو نکلے گا

ادریس بابر: ستر سال میں اک بھٹو آزاد ہوا ہے
لندن پیرس برلن جا کر
ڈسکو صوفی فلمیں چھوڑ کے
نیویارک میں پوز بنا کر
عشرہ // ہر کسی کو مار دو

جو تمہیں نہیں پسند، کل کیا آج ہی مرے!
تم سے جتنا ہو سکے، زندگی کو مار دو — ہر کسی کو مار دو
عشرہ // میں نے ایک کتاب لکھی

اور منسوخ ہیں اگلے پچھلے
عشرہ // عشرے کا آٹو گراف

نادیدہ کے دستخط صاف نظر آتے ہیں
عشرہ // مارو ہر انسان کو مار دو

مارو اے قابیل قبیلو ڈٹ کر مارو بیشک ماں جائے کو