Categories
شاعری

بے حس سیلفی، بھوکا چور اور دیگر عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ع / جیل سے ویدا موحد کا تہران کی لڑکیوں کے نام خط

اے مرے شہر کی مظلوم لڑکیو ، سن لو!

تم اپنے سر پہ جو عزت کا تاج چاہتی ہو
وہ سر چھپانے سے حاصل تمہیں نہیں ہو گا

نہ اس گھٹن سے جسے نام تم تقدس دو
نہ اس حیا سے جو ہنسنے میں بھی رکاوٹ ہے

تمہیں وہ تاج ملے علم کی فضیلت سے
تمہیں وہ تاج ملے کھیل میں سیاست میں

اب اپنے حق کے لئے مل کے سب بنو آواز !

یہاں یہ عزت و پندار وہ سیاہی ہے
جسے مٹانا فقط اک دیے کا کام نہیں

ع/ محبت، آزاد پنچھی ہے

محبت نسل پرستی سے بغاوت ہمیں سکھاتی ہے

محبت نام و نسب قوم قبیلے سے الگ
اپنی بنیاد مساوات پہ اٹھاتی ہے

اس کی بنیاد میں مسلک کی لڑائی
نہ عقیدے کی گھٹن

یہ کسی ملک کی سرحد کو کہاں مانتی ہے

یہ تو آزاد پرندہ ہے جہاں بھی جائے

کوئی مندر ہو کہ مسجد کہ کلیسا کچھ ہو
یا کوئی دشت ہو محراب کہ صحرا کچھ کو

جہاں بھی پیار ملے گھونسلا بناتی ہے

ع/ بے حس سیلفی، بھوکا چور

اک نیا زخم میری لوح پر لگا اس وقت
میں سر جھکائے جو بازار سے گزار رہا تھا

کسی کی چیخ مرے کان میں سنائی دی

سہم کے رک سا گیا، دیکھنے لگا مڑ کر
ہجوم پیٹ رہا تھا کسی سبک سر کو

بس اس کا جرم یہ تھا بھوک سے بلکتے ہوئے

کسی دکان سے روٹی کوئی چرا لی تھی

اور اس سے بڑھ کے اذیت کی بات کیا ہو گی

تڑپ کے مرتے ہوئے بے قصور شخص کے ساتھ

کہ منہ پھولا کے سبھی سلفیاں بنا رہے تھے

Categories
شاعری

ایک معصوم سچ کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ اور دوسرے عشرے

ع/ ایک معصوم سچ کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ

شراب خانے کو ناجائز قرار دے کر
بند کرنے والے کانسٹیبل کے پاؤں میں
قیمتی جوتے تھے

وہ جو پچھلے جمعے ، دوران نماز جاتے رہے تھے
نشے میں دھت نمازی کے ہاتھ سے

انسپکٹر نے داڑھی پر ہاتھ پھیرا
خدا کا شکر ادا کیا
ماتحتوں کو شاباشی دی
بدمعاشی کی بیخ کنی کے لئے
اپنا مجاہدانہ کردار ادا کرنے پر

ع/ سخی سرکار کی سخاوت کی خیر

سخی سرکار کے دربار سے باہر جھانکو
پھول ہاتھوں میں لئے دھول اڑاتے بچے
لب پہ فریاد لئے ہاتھ میں کشکول لئے
ہر خطاکار کے دامن سے لپٹ جاتے ہیں
ان کی فریاد بھری آنکھ میں اشکوں لکیر
بین کرتی ہوئی ہر دل سے گزر جاتی ہے

سخی سرکار تیری عظمت و عرفان کی خیر

تو سخی ہے تو میری ایک گزارش سن لے
اپنی رحمت کی نظر ان کی طرف کر جن کو
تیرے پہلو میں بھی زلت کی سزا ملتی ہے

ع/ اک شمع ہے دلیل سحر

میرے غنیم ! شبِ ظلم کے پیامبر سن
تو ہم پہ ظلم کرے چاہے سر قلم کر دے
یہ روشنی کا سفر ختم یوں نہیں ہو گا

نیا سویرا ابھرتا ہے تیرگی کے بعد

جہاں بھی ظلم کا طوفان سر اٹھائے گا
وہاں سے قافلہ اٹھے گا سرفروشوں کا

وہاں جلائیں گے عشاق خون دل سے چراغ

اے سرکشی سے بھری ظلم کی ہوا سن لے

نئے چراغ اسی طاق پر جلیں گے یہاں،
جہاں قدیم چراغوں کو گل کیا گیا تھا