Categories
شاعری

دو عشرے (رحمان راجہ)

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[divider]عشرہ//تم سے دور تمہارے پاس(oho)[/divider]

انسان خوش رہتا ہے، اپنے پسندیدہ لوگوں میں
اور اداس بنتا ہے، ان کے سامنے
جو بجھ جائیں، پریشان چہرہ دیکھ کر

تمھارا( بندو خان، حویلی) سے کھانا پینا
میری رائے بدلتا ہے ان سب ریستورانوں کے بارے
جن کے چھریوں/کانٹوں کو تمھارے ہونٹ میسر آئے

جب تک تم اس شہر میں سانس لیتی اور گھومتی ہو
میں کسی اوبر,کریم کے منہ پر پانچ سے کم ستارے نہیں بناتا
اور ہر اس کال کو ایکسیلنٹ ریٹ کرتا ہوں
جو صرف مل کر کٹ جائے

[divider]عشرہ/ نشان[/divider]

وہ میرے بازوؤں پر کوئی نشان نہیں چاہتی
چہروں پر بلیڈوں کی تحریریں
صاف پڑھی جا سکتی ہیں

دوسرے جانوروں کو نوچ کھسوٹ کر
انسان داغ یاد رکھنا بھول جاتا ہے

میرے سینے پہ ناخنوں/ دانتوں کے نشان
اسی کے ہاتھوں/جبڑوں سے عبارت ہیں

میں اسے یقین نہیں دلا سکتا
اب جب وہ میرے بازوؤں میں ہے
اور کچھ اور نہیں چاہتی

Categories
شاعری

خواب اور دیگر عشرے (رحمان راجہ)

ع//خواب

کھلی آنکھوں سے دیکھے جانے والے خواب
اپنے پورا ہونے کے امکانات
ساتھ لیے پھرتے ہیں
تمھارے خواب دیکھنے کے لیے
میں رات کا انتظار نہیں کرتا
نرم بستر آنسووں کو خوابوں سمیت جذب کر لیتے ہیں
تمھارے خواب تنہائی یا ہجوم
کہیں بھی دیکھے جا سکتے ہیں
میں تمھارا خواب کینٹن میں
تمھارے سامنے رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھ کر دیکھتا ہوں

عشرہ//پوائنٹ آف ویو

میں چیزوں کو الگ زاویے سے دیکھتا ہوں
سنہرے بالوں تلے چھپی گندمی گردن
مجھے اپنی طرف مائل نہیں کر پاتی
ریسنگ ٹریک سے اٹھتا دھواں
مرا دھیان بٹانے میں
سب گاڑیوں کی رفتار پر سبقت لے جاتا ہے
تمھاری آنکھیں بھی خوبصورت ہیں لیکن
میں اپنی نظریں
تمھاری ایڑھیوں کی
گہری ہوتی ہوئی دراڑوں سے ہٹا نہیں پاتا

ع//انتظار ختم ہو جاتا ہے(ابرار کے لئے)

یہ دن بھی کونے میں رکھی ہوئی کرسی کے ساتھ گزر جائےگا
لیب میں اے سی گرمی دور کرنے کی غرض سے لگائے جاتے ہیں
پنکھوں کے بر عکس یہ انسانوں کو اپنی باتیں سنانے میں ناکام ہیں

کواڑوں کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز آنکھوں کو متوجہ کرتی ہے
ٹیبل پہ رکھی کتاب پر رینگتا ماؤس دائیں، بائیں ہو کر اک جگہ ٹھہر جاتا ہے
سکرین کئی رنگ اور شکلیں بدلنے کے بعد ان کے ایک مجموعے پر ساکن ہو جاتی ہے
آنکھیں کی بورڈ پر مختلف ایلفابیٹس کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے دھندلا جاتی ہیں
ہوم بٹن ایک دفعہ پھر بے گھری کا احساس دلانے میں کامیاب رہتا ہے
چیزوں / لوگوں کو اگر مطلوبہ وقت نہ دیا جائے تو وہ غائب ہو جاتے ہیں

آخری دفعہ دروازہ کھلتا ہے اور ایک آشنا چہرہ پر نظر پڑتے ہی سکرین آنکھیں بند کر کے سلیپ موڈ میں چلی جاتی ہے

ع // رنگوں سے کھیلتے بچے

تا دیر یاد رکھے جانا چاہتے ہیں
وہ اپنے ہاتھ کینوس پر چھاپ دیتے ہیں

بے نام نشان مکمل تصویر نہیں بناتے

معلوم نا معلوم ہاتھ چھین لیتے ہیں تصویر
شامل کر دیتے ہیں مرضی کے رنگ

نفرت کا سیاہ چھپا لیتا ہے انتظار کے پیلے کو
عناد کا سبز دبا لیتا ہے اطمینان کے نیلے کو

بلکل با خبر رہتے ہوئے معصوم بچے
مکمل نامکمل تصویر
اپنے نام سے چھاپ دیتے ہیں

Categories
شاعری

دی جاب لیس پیپل اور دیگر عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
عشرہ// گوندھ دو

گزشتہ و آئندہ سات سات نسلوں میں
ماضی، مستقبل، حال کی کچی پکی فصلوں میں
ہماری ٹہنیاں اپنی مرضی کے عین مطابق موڑ دی گئی ہیں
کسی کی شاخ سے کاٹی تو کہیں پر جوڑ دی گئی ہیں
کوئی ڈاکٹر ،کوئی انجینئر بنتا رہا ہے
میں ان لوگوں سے بس اک بات کرنا چاہتا ہوں
تمہارے خواب ہم پورے کریں کہ اپنے کریں
سبھی کی مانتے ہوے ہم خود کو بھول ہی بیٹھے ہیں
چھری تلے دھری ہے یہ گردن ، جونہی ہم آنکھیں موند دیں گے
مندرجہ بالا چاہنے والے فورن ہمیں بھی گوندھ دیں گے

عشرہ//دی جاب لیس پیپل
رات جاگیں گے دن میں سوئیں گے
کام کچھ ہے ہی نہیں کرنے کو
کهانا آتا ہے مل کے کهاتے ہیں
سگریٹیں پی کے اپنی ٹینشن کو
باری باری دهواں بناتے ہیں
اس قدر زندگی یہ پیاری ہے
بری شے بس بےروزگاری ہے
جن کو ملتی ہے نوکری اچهی
وہ کبوتر تو جال میں خوش ہیں
باقی سب اپنے حال میں خوش ہیں

عشرہ//وہ مجھ سے نہیں چھپ سکتی

وہ مجھ سے نہیں چھپ سکتی جیسے
بہت سے پھولوں میں گلاب کی مہک
ڈسک ڈرائیو سی میں رکھے گئے ہایڈ فولڈرز
گھر سے چار کلومیٹر دور کھوکھے پر پی جانے والی سگریٹ کی خوشبو، میٹھے پان سے

ایکوافینا کی بوتل میں انڈیلی ہوئی ووڈکا۔۔۔۔۔ نہیں چھپ سکتی
کوٹ سے لٹکتے لمبے سنہرے بال، بیوی سے

الماری کے نچلے دراز میں رکھے ہوئے کچھ نیلے نوٹ
لڑکی کے گورے بدن سے باہر جھانکتی سبز رگیں
وہ مجھ سے نہیں چھپ سکتی جیسے
ہلکے پیلے رنگ کی قمیض کے زیرِ سایہ لال سینہ بند
Image: George Condo