Categories
شاعری

طاہر اسلم گورا کے عشرے


عشرہ: جنگی ترانے مت لگاؤ
ایک دوسرے کے خلاف
جنگی ترانے مت گاؤ
جنگی ترانے گانے بند کر دینے چاہیئں
ایک دن یہ سارے دشمن مر جائیں گے
تمہارے اور ہمارے ہیرو بھی
تمہیں اور ہمیں اُکسانے والے بھی
جنگی ترانے روکنے کی پہل کرنے کی جرات تو کیجئے
سرحدوں پر سپاہی کھڑے کھڑے بوڑھے ہو گئے ہیں
میرے جنرل صاحب کو اپنے جنگی کاروبار کو روکنا ہے
اور آپ کے پردھان منتری کو امن کا اشیر باد دینا ہے

عشرہ: دس سطروں میں بیان
ہم دس سطروں میں اپنا بیان قلمبند کروا سکتے ہیں
وہ اگر ہمیں پکڑنا چاہیں گے تو پکڑ لیں گے
ہم اگر بھاگنا بھی چاہیں تو بھاگ نہیں سکیں گے
ویسے ہم بھاگنا چاہتے بھی نہیں
انہوں نے غداری اور کفر کے فتووں کا ایسا بازار گرم کر رکھا ہے
شہر کا شہر ایک دوسرے کو کافر اور غدار کہتا نہیں تھکتا
ہر کوئی اپنے مخالف کو گولی مارنے سے پہلے کفر اور غداری کی کالک مَلنا چاہتا ہے
ہم اپنے بیان میں ان حقارت آمیز لفظوں کو ڈکشنری سے نکالنے کا مطالبہ کرتے ہیں
ہمارا یہ بیان دس سطروں سے پہلے ختم ہو رہا ہے
کیونکہ لوگوں کا ایک ہجوم ہمیں مارنے کو آرہا ہے

Categories
شاعری

فیصلہ کچھ نہ اُگلو

فیصلہ کچھ نہ اُگلو
۔۔۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا
اُسے تم نے دیکھا نہیں
فقط یوں ہوا ہے
ہر اک کان کے حلق میں
اُس کی آواز کے شبنمی گھونٹ
اُنڈیلے گئے ہیں
آنکھ کی پُتلیوں میں تو سناٹوں کی فصل ہی
اُگ رہی ہے
کان اور آنکھ کا یہ طلسمی تضاد
ٹوٹنے ہی کو ہے
تب تلک
ذہن کے دانت سے
فکر کے دانے
یونہی چباتے رہو
فیصلہ کچھ نہ اُگلو

Image: Safwan Dahoul

Categories
شاعری

ایک دلاسہ جو ہم پر تهوکا گیا

ایک دلاسہ جو ہم پر تهوکا گیا
دکھ سایوں کی طرح ہمارا پیچھا کرتے ہیں
ہمارا قتل ہماری پیدائش کے دن ہمارے چہرے پر لکھ دیا جاتا ہے
ہم اپنے بے نشان چہرے اوڑھے ان قاتلوں کا انتظار کر رہے ہیں
جنہیں جانتے بوجھتے نامعلوم لکھا جائے گا
بندوقیں ہم پر قہقہے لگاتی ہیں
لیکن تکلیف تسلی کے ان لفظوں سے ہوتی ہے
جو بارود تھوک دینے والی گولی کے خول کی طرح
ہر قتل کے بعد زمین پر لڑھکتے ہیں
اس انتظار میں کہ انہیں دوبارہ استعمال کے لیے اکھٹا کر لیا جائے۔۔۔۔
Categories
شاعری

گونگے لفظ چبانے والو

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

گونگے لفظ چبانے والو

[/vc_column_text][vc_column_text]

گونگے لفظ چبانے والو
اندھے حکم سنانے والو
سلوٹ سلوٹ لہجوں پر
قانون کا پالش کیا ہتھوڑا
ٹھک ٹھک ٹھک برسانے والو
لفظ چبائے جا سکتے ہیں
حکم سنائے جا سکتے ہیں
چند زبانیں ظل الہی کے بارے میں
اپنی اپنی ماں بولی میں
نازیبا باتیں کرتی ہیں
ان پر تالے ڈل سکتے ہیں
لب سلوائے جا سکتے ہیں
جن جبڑوں میں اپنی زبانیں روکنے کی طاقت بھی نہیں ہے
ان کو توڑا جا سکتا ہے
ان کے لیے کسی آہن گر سے خاص شکنجے بھی بنوائے جا سکتے ہیں
لیکن پستولوں کو طمنچہ کہہ دینے سے
بولی کو گولی نہیں لگتی
اور آئین کے تختہ سیاہ پر لکھ دینے سے
کوئی زباں نافذ نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]