Categories
نان فکشن

خطاطی اور تعمیرات: لفظ و معنی کا انفصال (اسد فاطمی)


غالب نے ایک بار کہا تھا کہ ہر مکان اپنے مکین سے شرف پاتا ہے۔ جبکہ ہر دونوں ایک دوسرے کی کیفیت کے عکاس ہوتے ہیں۔ اگرچہ آرائش کا سلیقہ کسی پرشکوہ نشیمن کا محتاج نہیں، تاہم تعمیراتی زیبائشوں کو دنیا کی ہر ثقافت میں، آبادیاتی شناخت کے ظاہری اظہار کے ساتھ ساتھ تحدیثِ نعمت کی ایک ادا سمجھا جاتا ہے۔ خط اور خطاطی ایسی زیبائشوں میں ایک نمایاں شناختی نشان و بیان ہے۔

صدیاں پہلے کے متوسط آدمی کے رہن سہن کے دھندلے سے سراغ اُس کے وقت میں لکھی گئی محلاتی تاریخ سے کہیں کہیں ملتے ہیں، اور اب تک مٹی میں مل چکے اس کے گھر کے چہرے مہرے کی ہلکی سی جھلک اُس کے زمانے میں بنی اُن پرشکوہ عمارتوں سے کہیں کہیں منعکس ہوتی ہے، جن میں سے کچھ کے نام و نشان ابھی باقی ہیں۔ یہاں میں اُس آدمی کی شناخت، دائیں سے بائیں ایک مشترک رسم الخط میں لکھی گئی ایک سانجھی روایت سے کروں گا، جس کے اَن گنت نام ہیں لیکن میرے نزدیک وہ روایت ایک اُلوہی مکاشفے سے کہیں زیادہ ایک تاریخی و جغرافیائی سچائی کی طرح ہے۔ کہ جب وہ شعوری روایت گنگ و جمن کے دوآبے میں پھل پھول رہی تھی تو فتح پور سیکری والے لال پتھر میں بنی جھلملیوں سے لے کر آگرے کے سنگِ مرمر والے خواب میں پلے امانت خاں کے طغروں تک، عمارتیں دن بہ دن اپنے روپ اور رُوکار کو سنوارنے میں لگی ہوئی تھیں۔ جن کے آگے تغلقوں اور لودھیوں کے عہد میں کھردرے سنگِ سماق سے بنائی گئی عمارتوں کے چہرے یوں لگنے لگے جیسے کسی نوواردانہ جلدبازی میں بنے ہوں۔ لیکن عربانِ صقلیہ سے چلے آرہے زیبائشی آویزوں کے ذوق و شوق کا تواتر عہد سلاطین سے اِس منزل تک کبھی بھی معطل نہیں رہا۔ اٹھارہویں صدی کے وسط میں باوجودِ زوال، صفدر جنگ اور بی‌بی کا مقبرہ بنا تو دلی میں اُن زیبائشوں کے چرچے گھر گھر پہنچے۔ اِس مقام تک، خطاطی کا فن ہر طرحدار عمارت کے حسن کا ایک لازمی جزو رہا۔

تنزل کی نوبت بجی تو یورپ سے آئے نیو-گاتھک اور نوکلاسیکی اسالیب، راجپوتی حویلیوں اور مغلئی محلات کے ساتھ ایک رومانویتی پیوند بنا کر اپنے سے عجائب کھڑے کرنے لگے۔ یہاں عمارتی نوشتوں کی بات کریں تو ایسا لگتا ہے کہ بلاغتی کتیبوں کا جو ذوق اہلِ یورپ کو بلادِ روم سے ملا تھا، یہاں تک پہنچتے پہنچتے اس کی معنویت اور اعتبار شاید ماند پڑ گیا تھا۔ راج بدلا تو روایتی بنگالی گھر اور متوسط وکٹوریائی گھر کے امتزاج سے بننے والا “بنگلہ” ہر شخص کے لیے سپنوں کے گھر کے لیے ایک مترادف لفظ بن گیا۔ لیکن اب گھروں کی شان و شوکت کا معیار رنگ برنگی آرائشوں سے زیادہ جدید سہولیات تھیں۔ نئے تعمیری مواد اور تکنیکیں آ رہی تھیں اور ان ڈھانچوں کی رگوں میں بجلی کی طاقت دوڑ رہی تھی۔
صنعتی انقلاب نت نئے نعروں کو جنم دے رہا تھا اور بیسویں صدی کے اوائل سے ہیئت کا قبلہ پوری طرح مقصدیت کی طرف موڑ کے آرائش کو زور و شور کے ساتھ مطعون کیا جانے لگا۔ شہروں میں گھر اور دفتر دودھیا سفید رنگ کی سپاٹ مسطح دیواریں تھیں، کہیں کسی پیشانی پر کسی پھول کی استرکاری، شاذ کسی کگر پر کسی بیل بوٹے کی منبّت۔ مقصدیت کے فرمان پر اگر کسی نوشتے کے دم مارنے کی گنجائش تھی تو بس اتنی کہ دو چار بالشت کی مستطیل پر کوئی خبری کتیبہ اٹکا سکتے ہو۔ جس کے لیے نہ آرائش کی کچھ خاص حاجت ہے نہ ذوق سلیم کی کوئی حجت۔ کوئی طے شدہ نام، تاریخ یا عدد ہو۔ کتیبہ ہو، آویزہ نہ ہو۔ کتابت ہو، خطاطی نہ ہو۔

1857ء کی شکست کا تاریخی ملبہ نوے سال بعد جس “ارض المیعاد” پر گرا تھا، اس کے مقامی باسیوں کا تاریخی تجربہ، گنگ و جمن میں پچھڑ کے آنے والوں سے زیادہ مختلف نہیں تھا۔ انہیں اُس صدی نے نوکلاسیکی اور جدیدی وضع کے جو در و دیوار دیے تھے، انہی میں پڑ رہے۔ 60ء اور 70ء کی دہائیوں میں جدیدیت کے سفید دودھیا مقصدیت پسند ڈبے پھیلنے، پچکنے اور رنگوں میں ڈھلنے لگے۔ لیکن تنوّع اور رنگارنگی کے اثبات میں ابھرا نیا مابعدی طرزِ تعمیر یہاں تک آیا بھی تو گلوبلائزیشن کے ڈبے میں بند ہو کر۔ کہنے کو عمارتیں اب آنے جانے والوں سے کھل کر کلام کر رہی تھیں، لیکن ہمارے یہاں یہ بھی زبانِ غیر کا کلام ہی رہا۔ عمارتیں ایک دوسرے سے جتنی مختلف نظر آتی تھیں، اتنی ہی یکساں بھی تھیں۔ شہری پسار میں نت نئے رہائشی منصوبوں والے متوسط گھروں سے لے کر کام کاج کے کثیر منزلہ دفاتر تک، اب روکاروں پر سیاہ، سرمئی، بھورے خالی کینوس ابھر رہے تھے۔ ان نئی گنجائشوں سے اتنا تو ہوا کہ دیسی کلاسیکی عناصر سے کوئی جھروکا، کوئی شہتیر کہیں بیچ میں سمایا ہوا نظر آ گیا، لیکن شناخت کے بحران میں لپٹی شاید بہت کم ثقافتیں ایسی ہوں گی جو دیسی کلاسیکیت کی طرف سیدھی رجعت کیے بغیر ان گنجائشوں سے کچھ فائدہ اٹھا سکی ہوں۔ یہ طرز تعمیر، خطاطی سمیت بظاہر ایسی کسی زیبائش سے مانع نہیں ہے جو ایک خطے کو کسی خاص مشترک توارث سے متعلق کسی لڑی میں پرو سکتی ہو۔

لیکن اس گنجائش کے ہوتے ہوئے، عمیق تر فنی اظہار کے بلاغتی کتیبوں کی بات کریں تو زیبائشی غرض سے عمل میں لائے گئے کلاسیکی خطاطی کے بچ رہے اسالیب کے لیے خدا کے گھر کے سوا کوئی جائے امان بہت کم نظر آتی ہے۔ دنیاوی استعمال کی عمارت پر لکھنے کو کچھ رہا بھی تو نہیں۔ وحی و الہام یا مقدس اسماء سے سجاوٹ کریں تو حدّ محال تک مشکل بنا دیے گئے تقدیس کے امر و نواہی کا بوجھ کس گناہ‌گار کے کاندھے اٹھائیں۔ یا پھر کلاسیکی شاعری کو چنیں، جو گائیکی کی بندشوں سے لے کر تعمیراتی گنجائشوں تک، دوسرے فنون کے ساتھ سما جانے کے لیے، صنائع اور اوزان میں تشاکل و تناسب کے ہر ریاضیاتی میزان پر تو پوری اترتی ہے، لیکن مصیبت یہ ہے کہ اس کے نفسِ مضمون میں سوائے حسرتِ تعمیر کے، باقی بیشتر مضامین ان مقاصد کے لیے فارغ از کار، کم متعلق اور قصۂ پارینہ سے لگتے ہیں۔ نئے زمانے کی سٹپٹاہٹ سے پھوٹنے والی جدید اصنافِ نظم کو اٹھائیں تو ایک مصرع ڈیڑھ اینٹ کے ماپ پہ لکھا جائے اور اگلا مصرع سمانے کے لیے پورے تعمیری منصوبے میں ہی چند کنال توسیع کرنی پڑے۔ ایسے میں کوئی سلام و پیام، کوئی نعرہ، کوئی واحد تحریری اصول، عہدِ رواں کی خانگی و عملی گتھیوں کو خط کشیدہ کرنے میں کافی نہیں لگتا۔ متوسط آدمی جس کے گھر اور کارگاہ کو عہدِ جدید نے اُن سہولیات سے آراستہ کر دیا ہے جو ماضی میں بادشاہوں کو بھی میسر نہ تھیں، لیکن وہ اپنی زیرِ بحث اجتماعی شناخت میں رہ کر، ایسی کسی جدید آسائش کی اختراع کے عمل میں اپنی کوئی نمایاں عملی شمولیت نئی دنیا کے آگے نہیں جتا سکتا۔

بیدل دہلوی:
سطرے نہ نوشتم کہ نہ کردم عَرَق از شرم
مکتوبِ من از خجلتِ پیغام سفید است

عام آرائشی مقاصد کے لیے بنے بلاغتی آویزوں میں “ما کَتَب” کا ایک اشکال یہ بھی ہے کہ سوچے سمجھے لسانی معنوں کا حامل مفہوم ابھارنے کا عمل دیگر سبھی مفاہیم کے لیے منہائیت کا امکان پیدا کرتا ہے۔ مثلاً صرف خدا کے فضل کا ذکر کیا تو گویا خدا کے قہر سے اغماض برتا، گل و گلزار کی توصیف لکھی تو ایک طرح سے خارِ خزاں سے نظر چرائی۔

پھر یوں بھی ہے کہ مستعمل رسم الخط نے ہمیشہ، اپنے دوائر، نقاط اور نزول و صعود کی مانوس جمالیات کے ساتھ ہمارے جغرافیائی حیطے میں بیسیوں مختلف لسانی اکائیوں کے لیے تاریخی و شعوری وحدت کا کام دیا ہے۔ تو منظرِ عام کی کسی خطی آرائش کو کسی ایک زبان میں مقید کیا ہی کیوں جائے۔ نیز یہ ایک جملۂ معترضہ سہی، لیکن میرا ماننا ہے کہ غلبے کی جدلیات میں خواندگی کا عمل اکثر و بیشتر، فطری اور بےساختہ کی سرکوبی کر کے اسے متمدن اور مصنوع میں ڈھالنے کا آلہ بنتا رہا ہے، جو کہ بجائے خود بہیمانہ ہے۔

عمارات کی زیبائشی خطاطی میں خواندگی کی ضرورت عنقا ہونے میں بیشتر شرق نگار مصوروں کی مشرقی عمارات کی تصویر کشی ایک مثال ہے۔ انیسویں صدی میں ایڈون لارڈ ویکس کی بنائی مشہور پینٹنگ “جمعہ مسجد – لاہور، انڈیا” کی مثال لیں جس میں مسجد وزیر خاں لاہور کے داخلی راستے کی رُوکار دکھائی گئی ہے۔ پیش‌تاق کے اوپر پیشانی پر کلمۂ طیبہ پر مشتمل عبارت ہے جسے ہو بہو نقل کیا گیا ہے۔ جبکہ دائیں طرف چوکھٹے پر جہاں تعمیر کی سرپرستی کرنے والوں اور تاریخِ تعمیر سے متعلق معلومات ہیں، وہاں متن کو نقل کرنے کی بجائے ایک ناخواندہ سے تجاہل کے ساتھ نستعلیق نما لکیریں سی کھینچ دی گئی ہیں۔ اسی رو میں نیچے دائیں طاقچے کی رباعی سے بھی یونہی صرفِ نظر کر دیا گیا ہے۔ جبکہ مصور کو اس امر کا بخوبی احساس تھا کہ وہاں خواندگی کے عنقا ہونے سے عمارت کے مجموعی حسن کے انعکاس میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ اس کی ایک وجہ تو مصور اور فن‌پارے کے ممکنہ ہم‌وطن خریدار کا ایک خارجیانہ سا ان‌پڑھا پن بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک گمان یہ بھی ہے کہ پیشانی کی عبارت، جو کہ ایک بلاغتی کتیبہ ہے، اور عمارت کی اعلیٰ تر غایت و رتبہ سے متعلق ہے، اور افراد و حالات سے ماورا ہے۔ ہو سکتا ہے، جبھی اسے تصویر میں رکھ لیا گیا ہو، جبکہ دائیں کا چھوٹا چوکھٹا ایک خبری کتیبہ ہے اور اس میں دیے گئے افراد و حالات سے مصور کے وطن میں ایک متوقع خریدار کو شاید کوئی دلچسپی نہ ہو۔

لیکن یہاں موضوع کسی مذہبی عمارت کی محض تصویر کشی نہیں، بلکہ دنیاوی مقاصد کی ایک حقیقی عمارت ہے، جس کی وجہ سے ہمارا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ خبری کتیبوں کے خانے میں ماکَتَب اور اس کی خواندگی سے کوئی اغماض نہیں۔ لیکن آرائشی خطاطی کی گنجائشوں میں ایک ایسے حال اور مستقبل کی کیفیت کے متعلق ایک لاادری بیان دینا یہاں مقصود ہے، جو معلوم اور متعین نہیں ہے۔

خط اور زبان کا ربطِ باہم برقِ راعد کی کڑک اور چمک کا سا ہے۔ جو آسمان پر بیک وقت صادر ہوتے ہیں لیکن مشاہدے کی منزل تک دونوں اپنی اپنی رفتاروں سے پہنچتے ہیں۔ زبان و خط کا صدور بھی ایک ہی تقاضے یعنی اظہار اور ابلاغ کی حاجت سے ہوا ہے، لیکن ارتقاء کی پگڈنڈی پر دونوں اپنی اپنی رفتاروں سے چلتے ہیں۔ قدیم اور متوسط تاریخ میں رسمی زبان اور خط ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ساتھ چلتے رہے ہیں، اور بامعنی الفاظ کی اقلیم سے پرے خط آرائی کا خالص اور مجرد اظہار پرانے وقتوں میں نہیں ملتا۔ تاہم انیسویں صدی میں ‘سیاہ مشق’ کا چلن نکلنے سے خطاطی میں خواندنی زبان کے پچھڑ جانے کی پہلی نمایاں جھلک ملتی ہے۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں یورپی نوآبادیات کے مکمل خاتمے کے ساتھ شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کی نوآزاد شدہ اقوام کے ہاتھ اپنی تاریخ کا قلمدان واپس آیا، لیکن اپنی کہانی خود لکھنے میں ایک ایسا تحیر شامل حال تھا کہ لکھنا تو جانتے ہیں، لیکن یہ نہیں جانتے کہ کیا لکھا جائے۔ عرب دنیا میں حروفیہ تحریک سے وابستہ فنکاروں نے قومی جمالیاتی عناصر کی عکاسی پر زور دیا اور عربی رسم الخط کی بصری ردِتشکیل سے نیا آرٹ تخلیق کیا۔ بغداد سے ‘بُعد الواحد’ کے فنکاروں نے اپنے بیشتر آرٹ میں رسمی زبان کی جہت سے کُوچ کر کے لکھت کی بصری جہت سے باطنی کیفیات کے اظہار کا طریق اپنایا۔ ایسا ہی رجحان مکتبِ خرطوم کے ہاں بھی ملتا ہے۔ ایران میں سقاخانہ تحریک کے آغاز سے تجریدی خطاطی، جدید ایرانی آرٹ کی نمائندہ ترین شکلوں میں سامنے آئی جس کی بدولت خطاطی اور نقاشی کے امتزاجی تجربات نے ‘خطاشی’ کی روایت کو جنم دیا۔ آج تجریدی خطاطی ہمیں نقاشی سے لے کر مجسمہ سازی تک کئی ذرائعِ اظہار میں جلوہ نما نظر آتی ہے۔ ان نمونوں نے ملبوسات، زیورات اور ظروف سمیت بیشتر اشیائے زندگی کی تزئین میں اپنا اثر ثبت کیا ہے۔ تاہم عمارات کی حد تک اس کی نئی ہیئتیں، کیلی‌گرافٹی کی شکل میں ابھی تک آوارۂ کوچہ و خیابان ہیں، اور جدید عمارات کے ایک مجسم اور پیوستہ حصے کے طور پر تجریدی خطاطی کا عام آرائشی استعمال میں دخیل ہونا ابھی باقی ہے۔

تجریدی خطاطی کی تعریف کو میں صرف کلاسیکی خطاطی کے ہندسی نظاموں سے انحراف میں ہی نہیں بلکہ خواندنی الفاظ لکھنے کی تراکیب سے بھی کوچ میں پاتا ہوں۔ ایسی خطاطی کا ہر نمونہ، فی نفسہٖ، لفظوں میں نہ سما سکنے والی کیفیات اور احساسات کے ایک دقیق اور پُرپیچ اِیڈیوگرام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اس طرزِ اظہار کے باطن میں فنکارانہ اظہارِ ذات کے متعلق ایک ویسا ہی لاادری لب و لہجہ ہمیں ملتا ہے، جو جدیدیت کے عروج سے ہماری زندگیوں میں آنا شروع ہوا تھا۔ سو مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ کلاسیکی خطاطی والے سخت گیر قواعد سے آزاد ہونے کی بدولت تجریدی خطاطی وہ کشادہ ترین دریچہ ہے، جس کے ذریعے معاصر طرزِ تعمیر میں اپنے خط اور اس کے ساتھ وابستہ اجتماعی حافظے کو ایک جدید، طرحدار اور پُر امکان گھر فراہم کیا جا سکتا ہے۔

Categories
شاعری

سدِ راہ (اسد فاطمی)

دفعہ نمبر 55: “(1) پولیس سٹیشن کا کوئی افسر مجاز ہے کہ اسی طرح گرفتار کرے یا کرائے۔۔۔
۔۔۔(ب) ایسے ہر شخص کو جو ویسے سٹیشن کی حدود کے اندر بظاہر کوئی ذریعۂ معاش نہ رکھتا ہو، یا تسلی بخش وجہ نہ بتا سکتا ہو۔”
دفعہ نمبر 109: “جب کسی [مجسٹریٹ درجہ اوّل] کو یہ اطلاع ملے:۔۔۔
۔۔۔(ب) کہ ویسی حدود کے اندر ایک ایسا شخص ہے جو بظاہر کوئی ذریعۂ معاش نہیں رکھتا یا جو اپنی بابت کوئی معقول وجہ نہیں بتا سکتا۔
تو ایسا مجسٹریٹ مجاز ہوگا کہ بعد ازیں محکوم کردہ طریقہ سے ایسے شخص کو یہ وجہ بیان کرنے کا حکم دے کہ کیوں نہ اسے مچلکہ مع ضامنان برائے نیک چلنی ایسی مدت کیلئے جو ایک سال سے زائد نہ ہو اور جس کو مجسٹریٹ مقرر کرنا مناسب سمجھے، تحریر کرنے کا حکم نہ دیا جائے۔”
(مجموعۂ ضابطۂ فوجداری، 1898)

 

یہ بات اب سب کو کیا بتائیں، کہاں سے یہ عادتیں پڑی تھیں
وہ کیا پراگندہ نقشِ پا تھے، کہ جن سے بس جوتیوں کے تلووں کی ٹھن گئی تھی۔۔۔
گرے پڑے کاغذوں پہ حرفِ سلام پڑھنا، وہیں پہ رک کر جواب دینا
جو بوئے گل راہ میں ملی تو حیات کی ساری تلخ سانسوں کا انگلیوں پر حساب دینا
رخِ نظارہ نے آنکھ جھپکن کی آن بھر دادِ چشم مانگی،
تو تکتی آنکھوں کو طولِ قوسِ مسافتِ آفتاب دینا
جو رک کے چلیے تو ہر ڈگر سے
ہزار راہوں کے ان گنت شاخدار جالے نظر میں آنے
اور ایسے شاخے کہ جن کا ہر موڑ منتظر اور آشنا ہو
ہر ایک کوچے کی آخری حد پہ اور اک در کھلا ہوا ہو،
ہر ایک در پر درُونِ در کی کتھاؤں کا اک معلقہ سا لٹک رہا ہو،
ہر اک کتھا میں کہیں کہیں پہ رعایتِ حاشیہ سے، قوسین سے برابر
کچھ اور بغلی حکایتوں کا لطیف سا رنگدار گُچھا نکل رہا ہو،
ہر ایک گچھا فلک فلک بارشوں کے پانی سے رس بھرا ہو۔۔
مگر نجانے فلک پھرا یا زمین پلٹی،
وہ جھوم کر، لڑکھڑا کے چلنے کے عادیوں کو جو ہوش آیا
تو دیکھتے ہیں کہ آگے بس اپنے ناک کی سِیدھ بچ گئی ہے
یہ راستہ نقدِ جاں کی شہ خرچیوں کی دادِ مآل و عرضِ حساب کا ہے
(مگر عبث کی اجاڑ کھیتی سے پھول پھل کا خراج کیا ہو؟
زیان کے کنکروں کے غوّاص سے گواہر کا باج کیا ہو؟)
یہ ناک کی سیدھ، جس میں کوئی خم و تغیّر،
کوئی دوراہا، نہ دایاں بایاں،
خطِ معیّن سے ہٹ کے کچھ لغزش و تجاوز کی جا نہیں ہے،
نہ درمیاں میں ذرا ٹھہرنے کو کوئی سایہ، کوئی شجر، اور کوئی مہماں سرا نہیں ہے،
نہ حاجتِ مشعلِ مسافت ہے، مرغِ قبلہ نما نہیں ہے،
وہاں پہ بینائی یا عصا کا کسی کو کچھ احتیاج کیا ہو
جہاں پہ نادیدہ راستوں سے گریز ہی سب کا رہنما ہو،
طنینِ خونِ رگِ تحیّر کی موج اب نرم و سادہ تر ہے
قدم اٹھانے کی ساری توفیق جو کبھی سیر تھی، سفر ہے!
رمِ رہِ مستقیم والوں کے جان و تن کی تھکن نہ پوچھو
کہ جب چلے تھے تو جیبِ خواب و خیال پُر تھی
جو لوحِ ظاہر تک آ نہ پائے،
وہ خودنما نقش مٹ رہے ہیں
جو قصۂ بیدلی کا مافی‌الضمیر بنتی
وہ ان کہی بات بے تکی ہے
وہ جس سے ہمسائگی دریچوں کو نیم شب غلغلوں کا کوئی سراغ ملتا
وہ باؤلی چیخ گُھٹ رہی ہے
ہر ایک ٹھوکر پہ سیکھتا، ولولوں کا حیواں سدھر رہا ہے
وقائع لکھنے کا جو قلمرو ہے، اُس کا اعلان ہے کہ اب سے یہاں کوئی واقعہ نہ ہو گا
نپی تلی سرگموں کی جاگیر میں یہ طے ہے، یہاں کوئی کج نوا نہ ہو گا
اور اِس بیاباں میں شاہ زادہ بھٹک گیا تو
یہاں کہانی کے آٹھوں بابوں سے ایک بھی در کھلا نہ ہو گا
وہ چند پرزے جو زر خریدوں کی جاں خلاصی پہ کچھ سبیل و دلیل بنتے
پس ان کو شعلوں میں جھونکتے اور شل ہوئے ہاتھ تاپتے ہیں،
تو ٹھیک ہے، خوب گپ رہی، اب محلِّ طولِ سخن نہیں ہے
یہ دست و بازو ہیں، یہ گلو ہے، رسن کو کھینچو، صلیب اٹھاؤ
کہ صحن و تالار و بام کے بوالعجب نظاروں کو رک کے تکنے کو ٹالتے ہیں،
جہاں سے آگے نکل گئے، اُس ڈگر کو دل سے نکالتے ہیں،
کہا ہے بابا، محلِّ طولِ سخن نہیں ہے،
حکایتِ گمرہی کی بیٹھک کو پھر کسی دن پہ ڈالتے ہیں

Categories
نان فکشن

یا رب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے (اسد فاطمی)

اسلام آباد، ایف سکس سپر مارکیٹ میں ایک نو تعمیر شدہ ہوٹل کی فرشی منزل کے ایک کونے میں میرا خطاطی کا جو جداریہ 31 جنوری کو مکمل ہوا، ابھی بعد میں خبر لینے پر پتہ چلا ہے کہ اس پر سفیدی پھیری جا چکی ہے۔ تکمیل کے بعد سے میں عمارت کے مختاروں کے حق میں اس عمل پارے کی بابت بازپرس کے حق سے دستبردار ہو گیا تھا، سو اس کے مٹائے جانے کی کوئی حتمی وجہ معلوم نہیں کر پایا۔ یہاں وہاں سے پوچھنے پر کہیں یہ بتایا گیا کہ چھت کی سفیدی کرتے ہوئے اسے ناقابل مرمت نقصان پہنچا تھا۔ کہیں یہ سنا کہ کچھ آ کر دیکھنے والوں نے اسے ناپسند کیا، سو اسے مٹا دیا گیا۔ ہو سکتا ہے کہ دونوں وجوہ بیک وقت درست ہوں، اگر اول الذکر درست ہے تو مجھے مرمت یا بازکاری کے لیے نہیں بلایا گیا، اور اگر ثانی الذکر درست ہے تو اس کے نقائص پر کوئی ناقدانہ رائے مجھ تک نہیں پہنچی، اور تب سے میں خود سے ہی اس پر طرح طرح کے قیاس کیے جاتا ہوں۔

شاید ہرے رنگ کی افقی خطاطی پُرمبالغہ، بوجھل، سہل پسندانہ اور بے کیف تھی، اگر یہ نسبتاً مفصل، مرصّع اور عمودی پھیلاؤ میں کم ہوتی، اور چائے خانوں میں رائج تیکھے اور بھڑکیلے رنگ ہوتے، پس منظر ذرا روشن رنگ کا ہوتا۔۔۔ شاید میں زرق برق تشہیری بلند آہنگی کی حامل کاروباری معروضیت کے ساتھ خود کو ڈھالنے میں ناکام رہا، میں ان معروضی اسالیب کے اور نگارخانوں میں لٹکے موضوعی اظہار کے چوکھٹوں کی دو انتہاؤں کے بیچ لٹکتا پھرتا، حسبِ عادت اپنی موضوعیت کی جانب جھک کر ڈھیر ہو گیا۔ میری داخلیت، ابھی تک ان پرانے پیلائے ہوئے اوراق کے سحر کی اسیر تھی، جن پر میں ایک عرصہ اپنے زوال زدہ حال اور ایک آسودہ تر ماضی کے درمیان جھولتے ہوئے گرتا پڑتا رہا ہوں۔ شاید میرے آس پاس کام کرنے، اور اپنے اور میرے ہنر پر مجھ سے بات کرنے والے لوگ معمولی مہارتوں کے رنگ ساز اور راج مستری تھے، سو میرے عمل پر اگلی تہہ لگانا انہی کا حصہ ٹھہرا۔ یا پھر یہ تمام تر سرگرمی، شاید اس عمارت، عمارت کے مختاروں اور میرے درمیان ایک استہزائے باہمی کے تماشے کے سوا کچھ نہیں تھی۔

کام کے دوران موقع پر جاری باقی کاموں کی پیش رفتیں اور ممکنہ آرائش کے قرائن یہ بتا رہے تھے کہ اس جداریے کے گرد و پیش میں درونی تزئین کا کام میری طفلانہ توقعات کے مطابق ہوتا چلا جائے گا۔ چونکہ اس گوشے کے مختاروں کو، یہاں چلنے والی چائے کی پیالی میں تصوف کا ذائقہ شامل کرنا مقصود تھا، توقع یہ تھی کہ سقفہ و فرش، نشستیں، سبزۂ خانہ، سامانِ آرائش، سب کچھ اپنی آرائشی خشتِ اول، یعنی میرے جداریے کے ساتھ بصری آہنگ میں سجتے جائیں گے اور بارے آسودہ سے ماحول میں، کسی گدڑی نشین کی مٹیالی کٹیا، یا کہیے، حافظِ شیراز کے کُلبۂ احزاں کی سی نقالی کرتا ہوا، ایک غریب و سادہ و رنگین سا گوشہ ابھر آئے گا۔ جہاں مالک اپنی چائے بیچ سکیں گے، اور میں بالواسطہ طور پہ اپنا تجریدِ خط کا منجن۔ سو میں بصد اطمینان عمل پارے کی تکمیل کے بعد اسے اگلے ناگزیر مرحلے کے لیے چھوڑ کر واپس چلا آیا۔ لیکن یہ جداریہ ایک زیرِ تشکیل خالی عمارت میں کھڑا، کسی بصری سیاق و سباق سے محروم، کسی درونی تزئین کار کی پہلی نظر کا منتظر، راہگیروں کی جزو بین نظروں اور تنقیص کے رحم و کرم پر رہا۔ جس کا سنا سنایا حال مجھ تک پہنچنے سے کافی پہلے اس عمل پارے کو مٹایا جا چکا تھا۔

جب تک اس حذف شدگی کی خبر مجھ تک پہنچی، تب تک تلافی یا مرمت کا وقت گزر چکا تھا۔ جا کے دیکھا تو، جہاں میرے علم کے مطابق چائے کافی کا ایک ذرا پُرواقعہ سا نوشابہ ہونا تھا، وہاں اب ایک مہمان سرائے کی خاموش سی انتظاریہ نشستن گاہ سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ جہاں میرا جداریہ تھا، اس سطح پر گھمبیر حد تک سنجیدہ رنگوں کی حداقلیت پسند سادہ مستطیلیں مجھے نظافت اور تادیب قائم کرنے، اور اپنے کام سے کام رکھنے کی تلقین کر رہی تھیں۔ سو میں اس چھت کے نیچے چند ثانیوں سے زیادہ نہیں ٹھہر سکا۔ با آں ہمہ خرابی، یہ دیوار اب مکان اور حوادث کے ربطِ باہم کے بارے میں میرے پریشاں تفکرات سے وابستہ میرے کئی ایک توہمات کا مدفن ہے۔

ان واہموں کا ایک مختصر سا بیان بھی شاید دلچسپی سے کچھ خالی نہ ہو۔ عالمِ حیوانات میں، ذی عقل انسانوں کے برعکس، زندگی کے سبھی افعال مبنی بر تفکر ہونے کی بجائے رنگوں، ساختوں، اشکال، ہدایات اور مظاہر پر ایک جبلّی ردعمل میں بجا لائے جاتے ہیں۔ میرے نزدیک ایک مخبوط، مطیع، صارف یا مذہبی شعور، اپنی نوع میں، انسانی عقل کی کم تر اور ظاہر پرستانہ سطح کا اور حیوانی جبلتوں کا ایک مرکب ہوتا ہے۔ زندگی اپنی کلیّت میں تمدنی فراساخت کی وریدوں کے اندر خون کی طرح دوڑتی ہے اور عام انسان بطور فرد اس میں ریل کے ایک بے جان چھکڑے کی طرح بے ارادہ سا گھومتا پھرتا ہے۔ فطرت سے قریب دیہی زندگی کے برعکس، تمدنی زندگی میں اس چھکڑے کے نیچے کی پٹڑیاں فطری قوتوں کے ساتھ ساتھ معماروں، فلسفیوں، ہنرمندوں، بازارگانوں، منتظموں، قانون سازوں، پیشواؤں، رجحان سازوں، اہلِ حرفت اور اہلِ نظر وغیرہم کے دستِ مشیّت کی بچھائی ہوئی ہوتی ہیں۔ ایک بڑی مسجد یا کلیسا کے اندر کے مجسمے، ہندسی قرینے، سقف نگاریاں، چراغ، قندیلیں اور آیات، ایک گناہ گار یا حاجت مند شعور پر، یا ایک بڑے بازار کے تشہیری عشوے ایک صارف شعور پر اپنے حصے کا مؤثر حکم ثبت کیے بغیر نہیں رہتے۔ اس طرح عقل کی ایک دقیق تر سطح کسی بھی مخصوص ڈھانچے کے اندر رونما ہونے والے بیشتر حوادثِ زندگی کی ایک دھندلی سی پیش بینی کر سکتی ہے۔ تاہم ایسی کسی پیش بینی کی دھندلاہٹ، انفرادی انسانی ارادے کے لیے آزادی کی گنجائش کے ساتھ راست متناسب ہو گی۔ ایک مخبوط یا مہین تر انسانی عقل، جو اپنے خارجی حقائق سے نسبتاً کٹی ہوئی، اور خود اپنے باطن کی موضوعیت میں مستغرق ہوتی ہے، اس میں حوادث کی یہ پیش بینی، جادو یا معجزے پر اعتقاد اور انتظارِ کرامت کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں میرے ان اوہام کی رمز چھپی ہے۔ نیز یہ کہ کسی مکانی ساخت کے اطراف میں رواں زندگی میں انسانی ارادے کے وفور کا درجہ جان کر ہم ڈھیلا سا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کسی مکانی موضوع میں حوادث کی کسی مخصوص سطح پر کوئی مثالی کرشمہ رونما ہو گا یا کوئی ان چاہا حادثہ۔ میرے جداریے کے تباہ ہونے کا واقعہ، میرے لیے وہاں اطراف کی زندگی میں رواں انسانی ارادے کے درجۂ وفور کے بہت سے پیمانوں میں سے ایک ہے۔

(مکان و حوادث کے ربط میں، آزاد ارادے اور اس پیش بینی کی دھندلاہٹ کے بیچ تناسب کی وضاحت کے لیے مکانِ فلک میں اجرامِ فلک کی مجبورِ محض حرکت کی مثال دی جا سکتی ہے، لیکن یہاں میں ایک پریڈ کے اکھاڑے کی مثال دوں گا، جہاں اجتماعی نظم و ضبط نہایت بلند سطح پر اور آزاد انفرادی ارادہ ایک بہت پست سطح پر ہوتا ہے۔ ہم یہ واضح پیش بینی کر سکتے ہیں کہ فلاں دن صبح نو بجے وہاں کیا منظر ہو گا۔ اور انتہائی سخت نظم و ضبط کی صورت میں یہ تک بتا سکتے ہیں کے سوا نو بجے، مرکزی چبوترے کے آگے سے کون سی پلٹن کے کون کون سے جوان مارچ کرتے گزر رہے ہوں گے۔ لیکن اس کے برعکس یہاں میری رہائش کے عقب میں سبز ٹیلہ، جو کسی محسوس و مرئی نظم و ضبط سے پرے ایک کھلی اور آزاد تر جگہ ہے۔ کوئی نہیں بتا سکتا کہ کل طلوع کے وقت اس فراز پر کوئی جنگلی گراز گھومتا ہو گا، کوئی چرواہا پھرتا ہو گا، کوئی عشقباز جوڑا راز و نیاز کرتا ہو گا، یا پھر وہ ٹیلہ سنسان پڑا ہو گا۔)

میں اپنا میورل مکمل کرنے کے بعد اس پر پہرا نہیں دے سکتا تھا۔ ایک نوواردِ بازار کی حیثیت سے میں مجبور تھا کہ اسے منڈی کی قوتوں کے نامعلوم عناصر میں موجود آزاد انسانی ارادے کے رحم و کرم پر چھوڑ آؤں۔ اس مرحلے پر جؤا اس بات پر تھا کہ، آیا وہاں قرب و جوار کی تعمیری سرگرمی میں میں درونی تزئین اور بصری خیالیوں پر کام کرنے والا کوئی ایسا ہاتھ کارفرما ہے، جو اس عملپارے پر عمل کی اگلی ہم آہنگ تہہ دے کر خالی عمارت میں میرے پہلے آنے کی داد دے سکے گا، یا کہ ادھر جاری سرگرمیوں کی رو میں تنقیص یا نظر اندازی اور تخریب کے سہل تر کاموں کا عنصر غالب رہے گا۔ سو کوئی مثالی معجزہ نہیں ہوا، اور وہ دیوار میری کچھ عملی بے توفیقی کے ساتھ ساتھ، میری تخلیقی تنہائی کی دیوارِ گریہ بھی بن گئی۔

یہ شہر میں بازارگانی نوعیت کا میرا پہلا کام تھا، لیکن میں اپنی فکری و نظری ترجیحات سے بھی منقطع نہیں رہا۔ شہر کے مصروف تجارتی مرکز کی بیوپاری سی فضا میں، جدھر بھی بن پڑی، میں نے خط کی تجرید کی وکالت کی اور مجازاً میں عرب و عجم کے ان آزادہ رو فنکاروں کے ساتھ کھڑا رہا جو خط کے جمالی پہلؤوں کو لسانی معنوں پر مقدم رکھتے اور فن خطاطی کے اثر اور طلسم کو لفظ، متن اور متنیت کے جبر کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیتے۔ میں خطاطی کو بطور ہنرِ عالیہ، کتابتِ محض اور ترسیلِ متن کے منصب سے بلند تر سمجھتا ہوں۔ اور مجھے اپنے موقف کے مظاہرے کا ایک مہین سا موقع بہرحال ملا۔

اس یادداشت کے لکھنے میں بازار میں بیٹھے کسی بیوپاری فرد یا گروہ کے ساتھ معاندانہ فضا پیدا کرنا میرا مقصود نہیں ہے، بلکہ اس کا محرک ان چار دوستوں کے حضور کسی ممکنہ جواب دہی کا احساس ہے، جو میری ناکام مہمات کی رام کتھائیں بھی قدم بھر رک کر سن لیا کرتے ہیں۔ جہاں میں کچھ گرمئ بازار کی امیدیں لے کر گیا تھا، وہاں بے مراعتی اور بے بضاعتی کی اس عمومی ہوا کا سامنا ہونے پر کچھ دیر آزردۂ خاطر سی شکل بنا بیٹھنے کو، بہرحال میں برخود بجا سمجھتا ہوں۔

سو اے مخدومۃ البلاد! اب تیری کوکھ میں (مزید) ایسے کئی بچے پیدا ہوں گے، جو ایک مرئی جزو کو ایک ممکن و مثالی کُل میں دیکھنے سے معذور ہوں گے۔ان کے حواس ان کند، پھیکے اور بے کیف تاثروں سے اور بھی غیر ہوتے جائیں گے جو انہیں انہی کے اِدبار کا کوئی موہوم سا نشان دیتے ہوں۔ مجھے اپنی تباہ حالی کی قسم ہے، پڑھی سنی عبارتوں کی حاکمیت سے آزادی، اور عارضِ خط کی خالص لطافتوں پہ سر کھپانا، مثالی طور پر، سب سے پہلے خلقت کے اسی حصے کے سر کا بوجھ ہے، جہاں کے باسی پیٹ بھر کھانے کے بعد باہر نکل کر چائے کے ایک طرحدار کپ کے ذائقے سے آشنا ہیں۔ اور اب بھی مجھے اپنی جیب دریدہ قمیص کی قسم ہے، کہ میں قلم نہیں ڈالوں گا۔

Categories
فکشن

ایک شہر کلیساؤں کا (تحریر: ڈونلڈ بارتھلم، ترجمہ: اسد فاطمی)

“جی ہاں،” مسٹر فلپس نے کہا “ہمارا شہر کلیساؤں کا شہر ہے، خوب۔”

سسلیا اس کے اشارہ کرتے ہاتھ کی جانب کچھ جھکی، وہ معمارانہ اسالیب کے ایک تنوع کے بیچ کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑے تھے۔ بیتھل کے بیت الاصطباغ کے ساتھ ہی مسیح اقدس کی آزاد بپتسمہ گاہ تھی، اور اس کے آگے سینٹ پال کا راہب خانہ، اس سے آگے گریس انجیلی کانوینانت واقع تھا۔ اس کے بعد فرسٹ کرسچن سائنس، کلیسائے خداوندی، آل سولز، خاتونِ فتح و ظفر، سوسائٹی آف فرینڈز، اسمبلی آف گاڈ اور پیغمبرانِ اقدس کا گرجاگھر آتے تھے۔ اس سے آگے آنے والی “معاصر” طراحیوں کی وسیع تخیلاتی پرواز نے روایتی عمارتوں کے بلدار مناروں اور لاٹھوں کے آگے بند باندھ رکھا تھا۔

“یہاں ہر کوئی کلیسائی معاملات میں نہایت دلچسپی رکھتا ہے۔” فلپ صاحب نے کہا۔

کیا میں اس کے ساتھ ڈھل پاؤں گی؟ سسلیا نے استفسار کیا۔ وہ کاریں کرایہ پر اٹھانے کے کام کا ایک شاخیہ دفتر کھولنے کے لیے پریسٹر میں آئی تھی۔

“میں کچھ خاص مذہبی نہیں ہوں،” اس نے فلپ صاحب سے کہا جس کا تعلق رہائشی اراضی کے دھندے سے تھا۔

“ابھی تو نہیں،” اس نے جواب دیا۔ “ابھی نہیں۔ لیکن ادھر ہمارے یہاں بڑے عمدہ نوجوان لوگ موجود ہیں۔ آپ کچھ وقت میں اس برادری میں رچ بس جائیں گی۔ فوری مسئلہ یہ ہے، آپ کہاں رہنے والی ہیں؟ زیادہ تر لوگ۔۔۔” اس نے کہا “اپنی مرضی کے کلیسا میں رہتے ہیں۔ ہمارے یہاں سبھی کلیساؤں میں بہت سے اضافی کمرے ہیں۔ میرے پاس آپ کو دکھانے کے لیے کچھ بلفری اپارتمان ہیں۔ آپ کے ذہن میں قیمتوں کی حد کیا ہے؟”

وہ ایک کونے کی طرف مڑے جہاں ان کے سامنے کچھ مزید گرجاگھر تھے۔ وہ حضرتِ لوقا کے کلیسا، کلیسائے تجلّی، آل سینٹس یوکرینی راسخین، حضرتِ اقلیمس کی فونٹین بپتسمہ گاہ، یونین جماعت خانہ، سینٹ انارغری، معبد امانویل، کرائسٹ ریفارمڈ کے کلیسائے اول کے سامنے سے گزرتے گئے۔ سبھی گرجاگھروں کے منہ چوپٹ کھلے تھے۔ اندر سے مدھم روشنیاں نظر آ رہی تھیں۔

“میں ایک سو دس تک کی متحمل ہو سکتی ہوں،” سسلیا نے کہا۔ “کیا آپ کے ہاں کوئی ایسی عمارتیں بھی ہیں جو گرجا گھر نہ ہوں؟”

“کوئی نہیں” فلپ صاحب نے کہا۔ “البتہ ایسا ضرور ہے کہ ہمارے کئی عمدہ ترین کلیسائی ڈھانچے کسی دیگر مقصد کے لیے دوہرے فرائض پیش کرتے ہیں۔” اس نے ایک دیدہ زیب جارجئین چھجے کی طرف اشارہ کیا۔ “اسے دیکھیے” اس نے کہا “یہ یونائیٹڈ منہاجیوں اور تعلیمی بورڈ کی رہائش گاہ ہے۔ اس سے آگے جو ہے، انطاکی پنتی‌خوستیہ ہے، اس میں حجامت کی دکان ہے۔”

اس نے ٹھیک کہا تھا۔ ایک سرخ و سفید پٹیوں والا حجامت کا کھمبا واضح طور پر انطاکی پنتی‌خوستیہ کے سامنے ایستادہ تھا۔

“کیا یہاں کافی لوگ کار کرائے پر لیتے ہیں؟” سسلیا نے پوچھا۔ “یا پھر، کیا ان کے پاس انہیں کرائے پہ لینے کے لیے کوئی مناسب جگہ ہے؟”

“او، مجھے کچھ معلوم نہیں۔” فلپ صاحب نے کہا۔ “کار کرائے پر لینے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو کہیں جانا ہو۔ بیشتر لوگ یہاں کافی پرسکون و مطمئن ہیں۔ ہمارے ہاں کافی سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اگر میں پریسٹر میں کام کی شروعات کروں تو میں کاریں کرائے پر دینے کا دھندا چنوں گا۔ لیکن آپ کے لیے ٹھیک رہے گا۔” اس نے ایک چھوٹی سی، ازحد جدید عمارت دکھائی، جس کا رخ سخت کھردری اینٹوں، اسٹیل اور شیشے کا بنا تھا۔”یہ سینٹ برنابس ہے۔ کافی اچھے لوگ رہتے ہیں یہاں۔ سپاگٹی کا شاندار کھانا۔”

سسلیا کھڑکی سے متعدد لوگوں کے سر دیکھ سکتی تھی۔ لیکن جب انہیں لگا کہ وہ انہیں تاڑ رہی ہے، وہ سر غائب ہو گئے۔

“کیا آپ کو لگتا ہے کہ بہت سے کلیساؤں کا ایک جگہ اکٹھے واقع ہونا کوئی خوشگوار بات ہے؟” اس نے اپنے بدرقے سے پوچھا۔ “اس میں توازن تو نہیں لگتا، اگر آپ میری بات سمجھ پائیں۔”

“ہم اپنے کلیساؤں کی وجہ سے مشہور ہیں،” فلپ صاحب نے جواب دیا۔ “وہ بالکل بے ضرر ہیں۔ لیجیے ہم پہنچ گئے۔”

اس نے ایک دروازہ کھولا اور وہ گرد آلود سیڑھیوں کی منازل چڑھنے لگے۔ سیڑھیوں کے آخر پر وہ ایک معقول طور پر کشادہ، چوکور، چاروں طرف کھڑکی والے ایک کمرے تک پہنچ آئے۔ اس میں ایک پلنگ، ایک میز، دو کرسیاں، چراغ، اور ایک کمبل تھے۔ چار بہت ہی بڑی گھنٹیاں کمرے کے عین کے وسط میں لٹک رہی تھیں۔

“کیا ہی نظّارہ ہے!” فلپ صاحب پکار اٹھے۔ “ادھر آئیے اور دیکھیے۔” “کیا واقعی گھنٹیاں بجائی جاتی ہیں؟” سسلیا نے پوچھا۔

“دن میں تین بار،” فلپ صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “صبح، دوپہر، اور رات۔ اور ظاہر ہے، جب انہیں بجایا جاتا ہے، آپ کو ذرا تیزی سے راستہ چھوڑ دینا ہوتا ہے۔ ان معصوموں میں سے کوئی ایک آپ کے سر میں جا لگے گا اور یہی کچھ بتایا گیا ہے۔”

“خدائے واحد،” سسلیا نے نہ چاہتے ہوئے کہا۔ پھر اس نے کہا، “ان بلفری اپارتمانوں میں کوئی نہیں رہتا۔ اسی لیے یہ خالی پڑے ہیں۔”

“کیا آپ کو ایسا لگتا ہے؟” فلپ صاحب نے کہا۔

“آپ انہیں صرف شہر میں نئے لوگوں کے ہاتھ کرائے پر اٹھا سکتے ہیں،” اس نے الزام دھرتے ہوئے پوچھا۔

“میں ایسا نہیں کروں گا” فلپ صاحب نے کہا۔ “یہ مسیحی مؤاخات کی روح کے خلاف جائے گا۔”

“یہ شہر کچھ اچھا بھی نہیں ہے، آپ کو پتہ ہے؟”

“ایسا ہو سکتا ہے، لیکن کہنے کو آپ کے لیے ایسا نہیں ہے، ہیں ناں؟ میرا مطلب ہے کہ، آپ یہاں نئی ہیں۔ آپ کو کچھ دیر، احتیاط سے چلنا چاہیے۔ اگر آپ ایک اوپری اپارتمان نہیں چاہتیں، میرے پاس مرکزی پریسبٹرین میں ایک زیریں منزل ہے۔ آپ کو وہاں کسی سے بانٹ کے رہنا پڑے گا۔ وہاں آج کل دو عورتیں رہتی ہیں۔”

“میں کسی سے بانٹ کے نہیں رہنا چاہتی،” سسلیا نے کہا۔ “مجھے اپنی جگہ چاہیے۔”

“کیوں؟” رہائشی اراضی والے بندے نے تجسس کے ساتھ پوچھا۔ “اس کی کیا وجہ ہے؟”

“وجہ؟” سسلیا نے پوچھا۔ “اس کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔ مجھے بس ایسا چاہیے۔”

“ایسا یہاں عام معمول میں نہیں ہوتا۔ یہاں زیادہ تر لوگ دوسرے لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ شوہر اور بیویاں۔ بیٹے اپنی ماؤں کے ساتھ۔ لوگوں کے ہم کمرہ ساتھی ہیں۔ یہی معمول کا قرینہ ہے۔”

“جو بھی ہو، مجھے اپنی جگہ چاہیے۔”

“یہ بالکل خلافِ معمول ہے۔”

“کیا آپ کے پاس ایسی کوئی جگہیں ہیں؟ میرا مطلب، گھڑیال والی لاٹھ کے علاوہ؟”

“میرے خیال سے کچھ تو ہیں،” فلپ صاحب نے واضح تذبذب کے ساتھ کہا۔ “میں آپ کو کوئی ایک یا دو دکھا سکتا ہوں، شاید۔”

وہ ایک لمحہ کے لیے رک گیا۔

“ایسا فقط اس لیے ہے کہ ہمارے پاس مختلف قیمتیں ہیں، شاید، کچھ آس پاس کی آبادیوں میں،” اس نے وضاحت کی۔ “ہم نے بہت کچھ لکھ رکھا ہے۔ ایک وقت میں سی‌بی‌ایس کی شام کی خبروں میں چار منٹ ہمارے پاس ہوتے تھے۔ تین چار سال پہلے۔ کلیساؤں کا شہر، اس کا نام تھا۔”

“جی ہاں، میرے لیے اپنی الگ جگہ ضروری ہے،” سسلیا نے کہا، “اگر مجھے یہاں زندہ رہنا ہے۔”

“یہ ایک طرح سے بڑا پر تفنن رویہ ہے،” فلپ صاحب نے کہا، “آپ کا تعلق لوگوں کی کس قبیل سے ہے؟”

سسلیا خاموش رہی۔ سچ تو یہ تھا، وہ کسی قبیل سے نہیں تھی۔

“میں نے کہا، آپ لوگوں کی کس قبیل سے ہیں؟” فلپ صاحب نے دوہرایا۔

“میں اپنے خوابوں کو ارادے کا رنگ دے سکتی ہوں،” سسلیا نے کہا۔ “میں جو چاہوں، خواب دیکھ سکتی ہوں۔ اگر میں چاہوں کہ میں پیرس، یا کسی دوسرے شہر میں اچھا وقت گزاروں، میں بس یہ کرتی ہوں کہ گہری نیند سو جاؤں اور اس خواب کو بُننے لگوں۔ میں جو چاہوں خواب دیکھ سکتی ہوں۔”

“تو پھر، آپ زیادہ تر کیا خواب دیکھتی ہیں؟” فلپ صاحب نے اس کی طرف قریب سے دیکھتے ہوئے کہا۔

“زیادہ تر جنسی چیزیں،” وہ بولی۔ وہ اس سے خوفزدہ نہیں تھی۔

“پریسٹر اس قسم کا شہر نہیں ہے،” فلپ صاحب نے دور کہیں دیکھتے ہوئے کہا۔

وہ سیڑھیوں سے واپس نیچے اتر گئے۔

گلی کے دونوں اطراف پر، کلیساؤں کے دروازے کھل رہے تھے۔ لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں باہر آ کر وہاں کھڑی ہو گئیں، گرجاگھروں کے سامنے، اور سسلیا اور فلپ صاحب کو تاکنے لگیں۔

ایک نوجوان آگے آیا اور پکارنے لگا، “اس شہر میں ہر شخص کے پاس اپنی کار ہے! اس شہر میں ایسا کوئی نہیں ہے جس کے پاس اپنی کار نہ ہو!”

“کیا یہ سچ ہے؟” سسلیا نے فلپ صاحب سے پوچھا۔

“جی ہاں،” اس نے کہا۔ “یہ درست ہے۔ یہاں کوئی کار کرائے پر نہیں لے گا۔ اگلے سو سالوں تک بھی نہیں۔”

“پھر تو میں یہاں نہیں ٹھہروں گی،” وہ بولی۔ “میں کہیں اور چلی جاتی ہوں۔”

“آپ کو رہ جانا چاہیے،” وہ بولا۔ “یہاں آپ کے لیے پہلے ہی ایک کار کرائے پہ دینے والا دفتر موجود ہے۔ ماؤنٹ موریا بپتسمہ گاہ میں، لابی والی منزل پر۔ وہاں ایک کاؤنٹر اور ایک ٹیلیفون ہے اور کار کی چابیوں کا ایک آویختہ ہے۔ اور ایک کیلنڈر ہے۔”

“میں نہیں رہوں گی،” وہ بولی۔ “اگر یہاں رہنے کے لیے کام دھندے کی کوئی معقول وجہ نہ ہو۔”

“ہمیں آپ کی ضرورت ہے،” فلپ صاحب نے کہا۔ “ہم کام کے باقاعدہ اوقات میں، کار کرائے پر دینے والی ایجنسی کے کاؤنٹر کے پیچھے آپ کو کھڑے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے شہر مکمل سا ہو جائے گا۔”

“میں ایسا نہیں کرنے والی۔” وہ بولی “میں تو نہیں۔”

“آپ کو ایسا کرنا چاہیے۔ یہ ضروری ہے۔”

“میں ان چیزوں کا خواب دیکھوں گی،” وہ بولی۔ “جو آپ کو پسند نہیں آئیں گی۔”

“ہم نامطمئن ہیں،” فلپ صاحب نے کہا۔ “بہت گھمبیر حد تک غیر مطمئن۔ کچھ ایسا ہے جو ٹھیک نہیں ہے۔”
“میں ایک راز کا خواب دیکھوں گی،” اس نے کہا۔ “جو آپ کو اس سے خوش نہیں ہوں گے۔”

“ہم دوسرے شہروں کی طرح ہی ہیں، ماسوائے اس کے کہ ہم کامل ہیں،” وہ بولا۔ “صرف کاملیت ہی ہمارے عدم اطمینان کو جواب دہ بناتی ہے۔ ہمیں کاریں کرائے پر اٹھانے والی ایک لڑکی درکار ہے۔ اس کاؤنٹر کے پیچھے کسی نہ کسی کو کھڑا ہونا چاہیے۔”

“میں اس زندگی کا خواب دیکھوں گی جس سے آپ سب سے زیادہ ڈرتے ہیں،” سسلیا نے اسے دھمکایا۔ “آپ اب ہماری ہیں،” وہ اس کا بازو پکڑتے ہوئے بولا۔ “ہماری کار کرائے پر اٹھانے والی لڑکی۔ خوش مزاجی سے کام لیں۔ یہاں آپ کو کچھ نہیں کرنا پڑے گا۔”

“دیکھیے اور انتظار کریں،” سسلیا بولی۔

Categories
نقطۂ نظر

عالمی وبا ایک گزرگاہ ہے – اروندھتی رائے

ارون دھتی رائے کا یہ مضمون 3 اپریل 2020 کو فنانشل ٹائمز میں شائع ہوا تھا، جسے لالٹین کے لیے اسد فاطمی نے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج کل کون ہو گا جو ‘وائرل ہونے’ کی اصطلاح کو سن کر کانپ نہ اٹھے؟ کون ہو گا جو کسی بھی چیز پر – دروازے کی کنڈی ہو، گتے کا ڈبہ ہو، سبزیوں کا تھیلا ہو – نظر ڈالتے ہوئے، اس خیال کو ذہن میں نہ رکھتا ہو کہ اس پر وہ ان دیکھی، غیر مردہ، غیر زندہ پُھٹکیاں ان چوسنے والی تھوتھنیوں کے ساتھ آپ کے پھیپھڑوں سے چمٹ جانے کو تیار بیٹھی ہیں۔

کون ہو گا جو حقیقی خوف کے احساس کے بغیر بس پر کود کر چڑھتے ہوئے اجنبی یا اسکول جاتے ہوئے اپنے بچوں کو چومنے کا سوچ سکے؟ کون ہے جو چھوٹی چھوٹی عیاشیوں کا سوچتے ہوئے اس کے خطرات کا حساب نہ لگاتا ہو؟ ہم میں سے کون ہے جو ایک عطائی ماہر وبا، وائرولوجسٹ، ماہر شماریات یا پیغمبر نہ بنا پھرتا ہو؟ کون سا سائنسدان یا ڈاکٹر ہے جو چھپ چھپ کے کسی معجزے کی دعائیں نہ کر رہا ہو؟ کون سا پیر پروہت ہے جو – دل ہی دل میں سہی – سائنس کے آگے سر نہ جھکائے ہوئے ہو؟

اور جب کہ وائرس پھل پھول رہا ہے، کون ہے جو شہروں کے اندر چہچہاتے پرندوں کی خوش الحانی اور ٹریفک کی کراسنگ پر ناچتے موروں اور آسمان کی خاموشی پر دنگ نہ رہ گیا ہو؟

اس ہفتہ دنیا بھر میں کیسز کی تعداد دس لاکھ سے اوپر نکل گئی۔ 50,000 سے زیادہ لوگ ہیں جو اب تک جان گنوا چکے ہیں۔ تخمینے بتاتے ہیں کہ یہ تعداد لاکھوں تک جا سکتی ہے، یا شاید اس سے بھی زیادہ۔ وائرس نے تجارت اور بین‌الاقوامی سرمائے کے راستوں پر کھل کے سفر کیا ہے، اور جو بھیانک بیماری یہ لایا ہے اس نے انسانوں کو اپنے ملکوں، شہروں اور اپنے گھروں میں قید سا کر دیا ہے۔

لیکن سرمائے کے بہاؤ کے برعکس، یہ وائرس نشوونما مانگتا ہے، منافع نہیں، اور اسے ملی بھی، اس لیے، ان جانے میں، کچھ حد تک اس نے بہاؤ کی سمت کو الٹے رخ پھیر دیا ہے۔ یہ امیگریشن ضوابط، بایومیٹرکس، ڈیجیٹل نگرانی اور ہر طرح کی ڈیٹا تحلیلوں پر خندہ زن ہے اور – اب تک – اس نے دنیا کی امیر ترین اور طاقتور ترین اقوام پر سب سے زوردار وار کیا ہے، جس سے سرمایہ داری نظام کا پورا انجن ایک دھچکے سے رک گیا ہے۔ شاید عارضی طور پر، لیکن کم از کم اتنے وقت کے لیے کہ ہم اس کے پرزوں کا جائزہ لے سکیں، اور اپنی جانچ کر کے یہ فیصلہ کر سکیں کہ آیا ہم اسے ٹھیک کرنے کے قابل ہیں، یا ہمیں کوئی بہتر انجن ڈھونڈنا ہو گا۔

منڈارین چینی جو اس عالمی‌وبا سے نمٹ رہے ہیں بڑے شوق سے جنگ کی باتیں کرتے ہیں۔ وہ ایک استعارے کے طور پر جنگ کا نام نہیں لیتے بلکہ ان کا مطلب سچ میں یہی ہے۔ لیکن اگر حقیقت میں جنگ ہی ہوتی، تو کون ہوتا جو امریکہ سے بڑھ کر اس کے لیے تیار ہوتا؟ اگر ہراول دستے کو ماسکوں اور دستانوں کی بجائے، بندوقیں، سمارٹ بم، خندق شکن، آبدوزیں، لڑاکا طیارے اور جوہری بم درکار ہوتے، تو کیا کوئی قلت پڑتی؟

رات کے بعد رات گزرتی ہے، آدھی دنیا پار، ہم میں سے کچھ، ایک ناقابل بیان اشتیاق کے ساتھ نیویارک کے گورنر کی صحافتی بریفنگز سنتے ہیں۔ ہم شماریات پر نظر رکھتے ہیں، اور امریکہ میں کھچاکھچ بھرے ہسپتالوں میں معمولی اجرت پر غیرمعمولی محنت کے ساتھ پلاسٹک کے تھیلوں اور پرانی برساتیوں سے ماسک بنا کے مریض تک مدد پہنچانے والی نرسوں کی کہانیاں سنتے ہیں۔ ان ریاستوں کے بارے سنتے ہیں جو وینٹی‌لیٹروں کے لیے ایک دوسرے کے مقابلے میں بولیاں لگاتے پھرتے ہیں، اور ڈاکٹر کے مخمصے کے بارے میں کہ کس مریض کو یہ ملنا چاہیے اور کسے مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ اور ہم اپنے آپ میں سوچتے ہیں، “خدایا! یہ امریکہ ہے!”

یہ اچانک، حقیقی، عظیم الشان اور ہمارے آنکھوں دیکھتے اپنی تہوں کو کھولتا ہوا المیہ ہے۔ لیکن یہ کچھ نیا نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی ریل کا ملبہ ہے جو سالوں سے پٹڑی کے پاس ایک کروٹ پڑا تھا۔ “مریضوں کو نکال پھینکنے” کی ویڈیوز کسے یاد نہیں ہوں گی – بیمار لوگ، جنہوں نے ابھی اپنے اسپتال کے گاؤن پہنے ہوئے تھے، ننگے پچھواڑوں کے ساتھ، جنہیں توہّمات کی بنا پر گلی کی نکڑ پر نکال پھینکا گیا؟ حالات کے مارے امریکی شہریوں پر ہسپتال کے دروازے زیادہ تر بند ہی رہے۔ اس سے کچھ غرض نہیں کہ وہ کس قدر بیمار ہیں یا کتنی تکلیف اٹھا چکے ہیں۔

کم از کم اب تک تو نہیں – کیونکہ اب، وائرس کے زمانے میں، ایک غریب آدمی کی بیماری ایک مالدار معاشرے کی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اور پھر بھی، برنی سانڈرس کو، جس نے سب کے حفظان صحت کے لیے ایک بے دھڑک مہم چلائی، وائٹ ہاؤس میں حسب امید جگہ پانے سے کوسوں دور سمجھا جا رہا ہے، خود اس کی اپنی پارٹی میں بھی۔

اور میرے دیس کی تو کیا ہی بات ہے، میرا غریب-امیر ملک، بھارت، جو نہایت دائیں بازو کے ہندو قوم پرستوں کی حکمرانی میں، جاگیرداری اور مذہبی بنیادپرستی، ذات پات اور سرمایہ داری نظام کے درمیان لٹکا ہوا ہے؟

دسمبر میں، جبکہ چین، ووہان میں وائرس کے پھوٹ پڑنے سے نبرد آزما تھا، بھارت سرکار ابھی ابھی پارلیمان میں منظور ہونے والے مسلم مخالف بے شرمانہ امتیازی شہریتی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے لاکھوں شہریوں کے ابھار سے نمٹنے میں مصروف تھی۔

بھارت میں کووڈ-19 کا پہلا کیس 30 جنوری کو درج ہوا، جبکہ کچھ ہی دن پہلے ہماری یوم جمہوریہ پریڈ کے محترم مہمان خصوصی، امازون جنگل کو ہڑپ کرنے والے کووڈ کے منکر جائر بولسونارو دہلی سے روانہ ہوئے تھے۔ لیکن حکمران جماعت کے نظام الاوقات میں وائرس کو سمیٹنے کے لیے فروری کے اندر بہت سا کام ابھی کرنے کو پڑا تھا۔ مہینے کے آخری ہفتے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سرکاری دورہ شیڈول میں تھا۔ انہیں ریاست گجرات میں ایک کھیلوں کے اسٹیڈیم میں دس لاکھ حاضرین کے وعدے سے للچایا گیا تھا۔ اس سب کچھ میں پیسہ خرچ ہوا تھا، اور کافی سارا وقت بھی۔

پھر دہلی اسمبلی کے انتخابات آ گئے جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا ہارنا لکھا ہوا تھا تاوقتیکہ انہوں نے اپنی بازی کو اٹھاوا دیا، جس سے کچھ بات بنی، ایک گھناؤنی، بے مہار ہندو قوم پرست مہم چلائی گئی، جو کہ جسمانی تشدد اور “غداروں” کو گولی مارنے کی دھمکیوں سے معمور تھی۔

وہ بہرحال ہار گئے۔ پھر اس کے بعد دہلی کے مسلمانوں کو اس کی سزا بھگتنا تھی، جنہیں اس ہتک کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ پولیس کی سرپرستی میں، ہندو فوجداروں کے مسلح جتھوں نے شمال-مشرقی دہلی کے مزدور طبقہ نواحات پر ہلہ بول دیا۔ گھر، دکانیں، مساجد اور اسکول جلائے گئے۔ حملے کے لیے تیار بیٹھے مسلمانوں نے جوابی وار کیا۔ مسلمانوں اور کچھ ہندؤوں سمیت 50 سے زائد لوگ مارے گئے۔

ہزاروں لوگ ایک مقامی قبرستان میں پناہ گزین کیمپ میں منتقل ہو گئے۔ کٹی پھٹی لاشیں ابھی گندی، متعفن نالیوں میں پڑی تھیں جب سرکاری حکام نے کووڈ-19 کے بارے پہلا اجلاس منعقد کیا اور بیشتر بھارتیوں نے پہلی بار ہاتھوں کے سینی‌ٹائزر نامی چیز کے وجود کے بارے میں سننا شروع کیا۔

مارچ کا مہینہ بھی مصروف رہا۔ پہلے دو ہفتے وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں کانگریس حکومت کو ہٹا کر بی‌جے‌پی حکومت کو لانے کے لیے وقف کیے گئے۔ 11 مارچ کو عالمی ادارۂ صحت نے کووڈ-19 کو ایک عالمی وبا قرار دے دیا۔ دو دن بعد، 13 مارچ کو، وزارت صحت نے فرمایا کہ کورونا “صحت کی ایک ہنگامی صورتحال نہیں ہے”۔

بالآخر، 19 مارچ کو، بھارتی وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کیا۔ وہ گھر سے کچھ خاص کام کر کے نہیں آئے تھے۔ انہوں نے فرانس اور اٹلی سے لائحۂ عمل مستعار لیا۔ انہوں نے ہمیں “سماجی فاصلے” کی ضرورت کے بارے میں بتایا (جو ایسے معاشرے کے لیے سمجھنا مشکل نہیں تھا جو ذات پات میں اس قدر گُندھا ہوا ہے) اور 22 مارچ کو “عوامی کرفیو” کے دن کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس بابت تو کچھ نہیں بتایا کہ اس بحران میں ان کی حکومت کیا کرے گی، البتہ لوگوں سے تاکید کی کے اپنی بالکونیوں میں آ کر صحت کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے گھنٹیاں بجائیں اور اپنے برتن اور تھالیاں پیٹیں۔

انہوں نے اس بات کا تذکرہ نہیں کیا کہ، بھارت عین اس لمحے تک، حفاظتی سازوسامان اور سانس لینے کے آلات بھارتی صحت کارکنوں اور ہسپتالوں میں لانے کی بجائے باہر برآمد کر رہا تھا۔

کچھ اچھنبا نہیں کہ نریندر مودی کی اپیل کو بڑے جوش و خروش سے سنا گیا۔ برتن بجانے کے مارچ ہوئے، گروہی رقص اور جلوسوں کا اہتمام ہوا۔ سماجی فاصلے تو خیر کیا ہوتے۔ آگے آنے والے دنوں میں، لوگ مقدس گائے کے گوبر کے کنستروں میں کود پڑے، اور بی‌جے‌پی کے حامیوں نے گاؤ مُتر نوشی کی پارٹیوں کا انعقاد کیا۔ مسلمان بھی پیچھے نہیں رہے، کئی مسلم تنظیموں نے اعلان کیا کہ اوپر والا وائرس کو دور رکھے گا اور مومنوں کو بڑی تعداد میں مساجد میں اکٹھا ہونے کی تاکید کی۔

24 مارچ کو شام آٹھ بجے، مودی جی دوبارہ ٹی‌وی پر نمودار ہوئے اور اعلان کیا کہ، آدھی رات کے بعد سے، پورے بھارت میں لاک‌ڈاؤن ہو گا۔ بازار بند رہیں گے۔ تمام ذرائع آمد و رفت پر، عوامی ہوں یا نجی، مکمل پابندی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ فیصلہ صرف ایک وزیر اعظم کی حیثیت میں ہی نہیں، بلکہ ہمارے خاندان کے بڑے میاں کے طور پر کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ اور کون ہو گا جو اس فیصلے کا نتیجہ بھگتنے والی ریاستی حکومتوں سے مشورہ کیے بغیر یہ فیصلہ کر سکے کہ ایک ارب اڑتیس کروڑ کی قوم تیاری کے صفر وقت کے ساتھ چار گھنٹے کے نوٹس پر لاک ڈاؤن میں ڈال دی جائے؟ ان کا طریقۂ کار یقیناً یہ تاثر دیتا ہے کہ بھارت کا وزیر اعظم شہریوں کو ایسی مخالف قوت سمجھتا ہے جس سے گھات لگانی ضروری ہے، جسے چونکایا تو جائے، لیکن کبھی اس پر بھروسا نہ کیا جائے۔

ہم لاک ڈاؤن پر ڈال دیے گئے۔ کئی طبی پیشہ ور اور ماہرین وبائی‌امراض نے اس اقدام پر داد دی ہے۔ شاید تصوراتی اعتبار سے وہ حق بجانب ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی منصوبہ بندی اور تیاری کے تباہ کن فقدان کی حمایت نہیں کرے گا جس نے دنیا کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ سزا نما لاک ڈاؤن کو اس کے عین الٹ بنا کے رکھ دیا جو اس کی اصل اغراض ہونی چاہئیں تھیں۔

تماشوں کے شوقین شخص نے سب تماشوں کی ماں کو پیدا کر دکھایا۔

جب کہ ایک سہمی ہوئی دنیا محوِ تماشا تھی، بھارت نے اپنی تمامتر شرمناکی – اپنی سفاکانہ، ساختی، سماجی اور اقتصادی نابرابری، مصیبت زدگی کے لیے اپنی سنگدلانہ بے حسی – کے ساتھ خود سے پردہ اٹھایا۔

لاک‌ڈاؤن نے ایک ایسے کیمیاوی تجربے کا سا کام کیا جس سے اچانک چھپی ہوئی چیزیں چمک اٹھتی ہیں۔ جوں جوں دکانیں، ریستوران، کارخانے اور تعمیراتی صنعت بند ہوتی گئی، جوں جوں امیر اور متوسط طبقوں نے خود کو دروازہ بند کالونیوں میں محصور کر لیا، ہمارے قصبات اور میگاشہروں نے اپنے مزدور طبقات – اپنے تارک وطن مزدوروں – کو ایک ان‌چاہے فاضل مواد کی طرح نکال باہر کرنا شروع کر دیا۔

بہت سے مالکوں، مالک مکانوں کے دھتکارے ہوؤوں، کروڑوں افلاس کے ماروں، بھوکے، پیاسے لوگوں، بوڑھوں اور جوانوں، مردوں، عورتوں، بچوں، بیمار لوگوں، نابینا لوگوں، معذور لوگوں نے، جن کے پاس کہیں جانے کی کوئی راہ نہیں تھی، کوئی عوامی ٹرانسپورٹ نظر میں نہیں تھی، اپنے آبائی گاؤں کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا۔ وہ کئی دنوں تک بدایوں، آگرہ، اعظم‌گڑھ، علیگڑھ، لکھنؤ، گورکھپور کی طرف – سیکڑوں کلومیٹر دور تک چلتے رہے۔ کچھ تو راستے میں ہی مر گئے۔

وہ جانتے تھے کہ وہ ممکنہ طور پر فاقہ کشی کی رفتار گھٹانے کے لیے گھر جا رہے تھے۔ وہ شاید جانتے تھے کہ وہ خود بھی وائرس کے حامل ہو سکتے ہیں اور گھر پہنچ کر اپنے خاندانوں، اپنے والدین اور بزرگوں کو اس سے متاثر کر سکتے ہیں، لیکن انہیں اگر دلجوئی نہیں تو، اپنائیت، پناہ اور وقار کے شائبے کے ساتھ ساتھ خوراک کی ضرورت تو تھی۔

جب وہ چلے، تو کچھ کو پولیس کے ہاتھوں تشدد اور بے عزتی کا نشانہ بنایا گیا، جسے کرفیو کے سختی سے نفاذ کا ذمہ سونپا گیا تھا۔ جوانوں کو سڑک پر اوندھے جھکنے اور ڈڈو چال چلنے کا کہا گیا۔ بریلی کے شہر سے باہر، ایک گروہ کو ایک جگہ جمع کر کے ان پر کیمیکل سپرے کی بوچھاڑ ماری گئی۔

کچھ دن بعد، اس فکر کے تحت کہ انخلا کرنے والی آبادی دیہاتوں میں وائرس پھیلا دے گی، حکومت نے ریاستی سرحدوں کو پیدل لوگوں کے لیے بھی سیل کر دیا۔ کئی دنوں سے پیدل چلتے ہوئے لوگوں کو روک دیا گیا اور شہروں میں انہی کیمپوں میں واپس بھیج دیا گیا جہاں سے ابھی انہیں باہر ہانکا گیا تھا۔

بڑی عمر کے لوگوں میں اس سے 1947 کے تبادلۂ آبادی کی یادیں تازہ ہو گئیں، جب ہندوستان کا بٹوارہ ہوا اور پاکستان بنا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اب کے انخلا مذہب کی بجائے طبقاتی تقسیم کی بنیاد پر تھا۔ اس کے باوجود، یہ بھارت کے غریب ترین لوگ نہیں تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے پاس (کم از کم اب تک) شہر میں نوکری تھی اور واپس جانے کے لیے کوئی گھر تھا۔ بے روزگار، بے گھر اور لاچار جہاں تھے، کیا شہر کیا گاؤں، وہیں پڑے رہے، جہاں اس المیے کے رونما ہونے سے کافی پہلے گہرے اضطراب میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ان تمام اندوہناک دنوں میں، وزیر داخلہ امیت شاہ عوام کی نظروں سے اوجھل رہے۔

جب دہلی میں لوگ پیدل چلنا شروع ہوئے، میں نے دہلی اور اتر پردیش کے درمیان کی سرحد پر واقع غازی‌پور تک گاڑی لے جانے کے لیے اس رسالے کا پاس استعمال کیا جس کے لیے میں اکثر لکھتی ہوں۔

آگے کا منظر اناجیلی انداز کا تھا۔ یا شاید نہیں۔ ایسی تعداد انجیل بھی کیا جانتی ہو گی۔ سماجی فاصلے کے نفاذ کے لیے لاک‌ڈاؤن کا نتیجہ بالکل الٹ تھا – ایک ناقابل اندازہ پیمانے پر جسموں کی بھرائی۔ بھارت کے قصبوں اور شہروں کے اندر بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ مرکزی شاہراہیں تو خالی ہوں گی، لیکن غریبوں کو جھونپڑوں اور جھگیوں میں کھچا کھچ بھر کے بند کر دیا گیا ہے۔

پیدل چلتے لوگوں میں میں نے جس سے بھی بات کی سبھی وائرس کے بارے میں فکرمند تھے۔ لیکن یہ ان کی زندگیوں کو گھیرے ہوئے بے‌روزگاری، فاقہ کشی اور پولیس کے تشدد کی نسبت کم حقیقی، کم حاضر تھا۔ وہ سب لوگ جن سے میں نے اس دن بات کی، بشمول مسلمان درزیوں کے اس گروہ کے جو ابھی کچھ ہفتے پہلے مسلم کش حملوں سے زندہ بچے تھے، ایک شخص نے مجھے خاص طور پر پریشان کیا۔ وہ رامجیت نامی ایک ترکھان تھا، جس کا گورکھپور سے نیپال کی سرحد تک پیدل جانے کا ارادہ تھا۔

“شاید جب مودی‌جی نے ایسا کرنے کا فیصلہ کیا تھا، انہیں ہمارے بارے کسی نے نہیں بتایا۔ شاید وہ ہمارے بارے میں جانتے ہی نہیں”، اس نے کہا۔

“ہم” سے مراد اندازاً 46 کروڑ لوگ ہیں۔

بھارت کی ریاستی حکومتوں نے (جیسا کہ امریکہ میں ہوا) اس بحران میں کہیں زیادہ دل اور سمجھ بوجھ دکھائی ہے۔ ٹریڈ یونینیں، شہری اور دوسرے گروہ خوراک اور ہنگامی راشن تقسیم کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت مالی امداد کی پرزور اپیلوں کی شنوائی میں سست ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم کے قومی ریلیف فنڈ میں پہلے سے کوئی نقد رقم دستیاب نہیں ہے۔ اس کی بجائے، کچھ پراسرار سے نئے PM-CARES فنڈ میں خیرخواہوں کی طرف سے رقم انڈیلی جانے لگی ہے۔ پہلے سے ملفوفہ کھانے مودی کی تصویر کے ساتھ اب نظر آنے لگے ہیں۔

اور تو اور، وزیر اعظم نے اپنی یوگا نِدرا ویڈیوز کی سانجھ کی ہے، جس میں الگ تھلگ ہونے کی تکان سے نمٹنے کے لیے ایک جعلی، اینی‌میٹڈ مودی ایک خوابوں کے بدن کے ساتھ یوگا آسنوں کا مظاہرہ کرتا ہے۔

یہ نرگسیت کافی پریشان کن ہے۔ شاید ان میں سے ایک آسن، ایک عرضگزاری آسن بھی ہو جس میں مودی جی فرانسیسی وزیر اعظم سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں رافیل لڑاکا طیاروں کی اس پریشان کن ڈیل سے مکرنے کی اجازت دی جائے اور وہ 7 کروڑ 80 لاکھ یورو ان چند کروڑ بھوکے لوگوں کی امداد کے لیے اشد طور پر درکار ہنگامی اقدامات کے لیے استعمال کر لیے جائیں۔ یقیناً فرانسیسی اس بات کو سمجھ پائیں گے۔

لاک ڈاؤن کے دوسرے ہفتے میں داخل ہوتے ہی، رسد کی زنجیریں ٹوٹنے لگی ہیں، ادویات اور ضروری سامان کمیاب ہو رہا ہے۔

ہزاروں ٹرک ڈرائیور ہائی‌ویز پر، بہت تھوڑی خوراک اور پانی کے ساتھ مارے مارے پھر رہے ہیں۔ کٹائی کے لیے تیار، کھڑی فصلوں کو آہستہ آہستہ گُھن کھا رہا ہے۔ اقتصادی بحران سر چڑھ چکا ہے۔ سیاسی بحران جاری ہے۔ سَردھاری میڈیا نے کووڈ کہانی کو اپنی 24/7 زہریلی مسلم مخالف مہم میں رکھ لیا ہے۔ تبلیغی جماعت نامی ایک تنظیم، جس نے لاک‌ڈاؤن سے پہلے دہلی میں ایک اجتماع منعقد کیا تھا، اس کی “مہا پھیلاؤکار” بن کر سامنے آئی ہے۔ یہ مسلمانوں پر کلنک ملنے اور عفریت بنانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ مجموعی طور پر لہجہ ایسا رکھا جا رہا ہے کہ وائرس مسلمانوں نے ایجاد کیا ہے اور وہ جہاد کی ایک شکل کے طور پر جان بوجھ کر اس کو پھیلا رہے ہیں۔

کووڈ بحران ابھی اور آئے گا، یا نہیں۔ ہمیں نہیں جانتے۔ اگر، اور جب ایسا ہوتا ہے، ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس سے نمٹا جائے گا، مذہب، ذات اور طبقہ کے تمام تر روز افزوں تعصب کے ساتھ جو پوری طرح اپنی جگہ قائم ہے۔

آج (2 اپریل کو) بھارت میں تقریباً 2000 مصدقہ کیسز ہیں اور 58 اموات ہو چکی ہیں۔ یہ یقیناً غیر معتبر اعداد و شمار ہیں، جو افسوس ہے کہ بہت تھوڑے ٹیسٹوں پر مبنی ہیں۔ ماہرین کے مؤقف بے تحاشا مختلف ہیں۔ کچھ پیش بینیاں ہیں کہ ملین کے حساب سے کیس ہوں گے۔ دیگر کچھ سمجھتے ہیں کہ نقصان کہیں کم ہو گا۔ ہم اس بحران کے حقیقی محیط کو شاید کبھی نہ جان پائیں، یہاں تک کہ یہ ہمیں آ لے۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ عارضی ہسپتال ابھی شروع ہی نہیں ہوئے۔

بھارت کے عوامی ہسپتال اور کلینک – جو ہر سال اسہال، غذائیت کی کمی اور دیگر صحت کے مسائل سے مرنے والے تقریباً دس لاکھ بچوں، لاکھوں ٹی‌بی کے مریضوں (دنیا بھر کی چوتھائی) سے نمٹنے کے قابل بھی نہیں ہیں، خون کی کمی اور غذائیت کے مسائل کا شکار آبادی جو کہ ایسی کئی کئی معمولی امراض کی زد پر ہیں جو ان کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ایسے بحران سے نہیں نمٹ پائے گی جس سے امریکہ اور یورپ اس وقت نبرد آزما ہیں۔

تمام حفظان صحت کم و بیش ایک ٹھہراؤ پر جا چکا ہے کیونکہ ہسپتال وائرس سے متعلق خدمات سے پر لگ گئے ہیں۔ دہلی میں لیجنڈری آل انڈیا انسٹی‌ٹیوٹ برائے میڈیکل سائنسز بند ہو گیا ہے، سیکڑوں کینسر کے مریض، جنہیں کینسر مہاجرین بھی کہا جاتا ہے جو ہسپتال کے باہر سڑکوں پر رہتے ہیں، انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح دور ہانک دیا گیا ہے۔

لوگ گھروں پر بیمار پڑیں گے اور مر جائیں گے۔ کوئی ان کی کہانی نہیں جانے گا۔ ہو سکتا ہے وہ شماریات میں بھی نہ آئیں۔ ہم اس بات کی صرف امید ہی کر سکتے ہیں کہ وہ تحقیقات درست ہوں کہ وائرس کو ٹھنڈا موسم راس ہے (جبکہ دوسرے محققین کو اس پر شبہات ہیں)۔ لوگوں نے ایک جھلسا دینے والے، کربناک ہندوستانی موسم گرما کی ایسی غیر عقلی خواہش اس سے پہلے کبھی نہیں کی۔

ہم سب کو کیا ہو گیا ہے؟ جی ہاں، یہ ایک وائرس ہے۔ خود اپنی ایک سرزمین میں یہ کوئی اخلاقی عقیدہ نہیں رکھتا۔ لیکن یہ یقینی طور پر ایک وائرس سے کچھ بڑھ کر ہے۔ کچھ کا ماننا ہے کہ یہ ہمیں ہوش میں لانے کی کبریائی ادا ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ دنیا پر قبضہ کرنے کی چینی سازش ہے۔

یہ جو کچھ بھی ہے، کرونا وائرس نے دنیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے اور ایسے ساکت کیا ہے جیسے اور کوئی چیز نہ کر سکی تھی۔ ہمارے دماغ ابھی تک چکر میں ہیں، اور “معمولات” پر لوٹ آنے کے لیے بیتاب ہیں، اپنے مستقبل کو ماضی کے ساتھ ٹانکنے کی کوشش کرتے ہوئے اور بیچ کی دراڑ کو تسلیم کرنے سے انکاری۔ لیکن یہ دراڑ ہے تو سہی۔ اور اس بھیانک اداسی میں، یہ ہمیں اس قیامت خیز مشین پر دوبارہ غور کرنے کا موقع دیتی ہے جو ہم نے خود اپنے لیے بنا لی ہے۔ معمولات کی طرف واپس لوٹ جانے سے زیادہ بری کوئی چیز نہیں ہو گی۔

تاریخی طور پر، عالمی وباؤں نے انسانوں کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ ماضی سے تعلق توڑ کر دنیا کو نئے سرے سے تصور میں لائیں۔ یہ اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ یہ ایک گزرگاہ ہے، ایک دنیا اور اس سے اگلی دنیا کے درمیان ایک دریچہ۔

یہ ہم پر منحصر ہے کہ اس سے گزرتے ہوئے، ہم اپنے تعصبات، نفرت اور اپنے حرص کے ملبوس، اپنے ڈیٹا بینکوں اور مردہ خیالات، اپنے مردہ دریاؤں اور غبار آلود آسمانوں کو بھی ساتھ گھسیٹ لائیں۔ یا ہم اس سے ہلکے پھلکے گزریں، بہت تھوڑے بوجھ کے ساتھ، نئی دنیا کے لیے سوچنے پر تیار۔ اور اس کے لیے لڑنے کے لیے تیار۔

Categories
شاعری

ایک خسارے کا احوال (اسد فاطمی)

وہ جس گھڑی مجھ پہ کھل گیا تھا؛
قمار خانے کی میز پر میرے نام کے سبوچے میں خاک ہے!
زبانِ تشنہ کہ پُرسکوں تھی، سپاٹ چہرہ،
نہ ہاتھ میں کپکپی تھی، آنکھوں میں اضطرابِ شکست کا شائبہ نہیں تھا،
کہ جیسے دہقان پکی فصلوں کو مینہہ برسنے کے بعد دیکھے
کہ جیسے وہ فرش و عرش کے ٹاکرے کا سارا مآل پہلے سے جانتا ہو
میں پر سکوں تھا،
مگر اچانک گمان گزرا کہ یہ اندھیرے اُطاقچے کا فسوں ہے شاید
یونہی کسی بے یقین لمحے میں پھر سبوچہ اٹھا کے کچھ روشنی میں لایا،
یونہی کوئی چند مرتبہ کھنکھنا کے پلٹا، الٹ کے دیکھا
قمار میں ہارنے سے پہلے کی ساری چالوں کا پھیر جانچا
وہ کوئی ایسا طلسم سوچا جو پل میں مٹی کو مَے بنا دے،
نجانے کتنی اداس نظموں کے وِرد پھونکے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
وہ شب، وہ بوجھل پنا، کہ میں سب بھلا کے کونے میں ایک جھینگر کی سن رہا تھا،
وہ دن، وہ تاریخ، عیدِ نوروز میں کوئی دن ہی رہ گئے تھے،
کہ گلفروشوں کی سب دکانوں پہ بخششِ مفت کی صدا تھی،
شبِ زمستاں میں لکّھے ہر اک پیام پر سب کو خیریت کے جواب پہنچے،
نسیمِ بوئے بہار کے ہاں سے سب پہ فرمانِ جشن عاید تھا؛
کہ جو کوئی رہگزر سے گزرے گا، سر بسر جھوم کر چلے گا
مگر میں بازیچۂ بہاراں کے درسِ اول میں رہ گیا تھا
تو کس حوالے سے دورِ رفتہ کے میکشوں سے کلام کرتا؟!؟
میں باوضو ہو کے روضۂ فصلِ گل کو پہلا سلام کرتا
کہ تب تلک مجھ پہ کھل چکا تھا
قمار خانے کی میز پر میرے نام کے سبوچے میں خاک ہے۔۔۔

Categories
نان فکشن

مُلا کی محراب: مری ہیچ مایہ معیشت کے اظہارِ فن کا سہارا (اسد فاطمی)

نصیرالدین صاحب سے میری ملاقاتیں تب سے ہیں جب میں لاہور میں کام کاج کرتا تھا، تنخواہ پاتا تھا اور صاف ستھرے کپڑے پہنتا تھا۔ میں نے جبھی ان سے ذکر کیا تھا کہ ہائی اسکول کے دنوں میں گرمیوں کی چھٹیاں میں گاؤں کے خوشنویس اور پینٹر کی دکان پر گزارتا تھا، وہ جلد ساز بھی تھا۔ اس شاگردی کی بدولت میں نے اپنے آبائی گھر پر موجود بیشتر کتب خود جلد کی ہیں۔ افسوس کہ میں نے سب سے خستہ کتابوں سے آغاز کیا اور میرے نوآموز ہاتھوں نے باپ دادا کی چند بہت نادر کتب پر تباہ کن شگاف اندازیاں کر ڈالیں۔
2017ء میں ٹائپوگرافی کے ایک بڑے منصوبے کا تحفہ لے کر گاؤں سے لاہور میں ایک دوست کے اسٹوڈیو پہنچا۔ وہ چند روز میرا پیٹ پالنے کے بعد اس شاہانہ مہم کی سرپرستی سے دست کش ہو گیا۔ پہلے فاقے ہوئے، پھر در بدری، لیکن میں نے رسم خط کا مطالعہ جیسے تیسے جاری رکھا۔ کچھ ہفتوں میں تن پہ پہن رکھا جوڑا اور پیروں کی جوتی ہی وہ املاک تھیں جن کی فکر میرے اور میری آوارگی کے بیچ حائل رہ گئی تھی۔ ایک دن دربار داتا صاحب لنگر کی قطار پر کھڑے خیال آیا کہ نصیرالدین صاحب کی دوکان بھی تو یہیں دربار سے ملحق بازارِ کتب میں ہے، یہ خیال آیا اور میں سر پڑے جاڑوں میں ٹھٹھر کے مر جانے سے بچ گیا۔

نصیرالدین صاحب جنہیں ان کے قبیلے میں مولَوی صَیب یا مُلا صَیب کے لقب سے پکارا جاتا ہے، لورالائی کے پشتون ہیں، کوئٹہ اور لورالائی کے مدارس میں پڑھے، کتابوں سے رومان پالا، کوئٹہ، پشاور، سکھر، شکارپور اور مشہد و تہران تک کتب فروشی کا دھندا کیا۔ گاہے اپنی دوکان سجا کر، گاہے گٹھڑی شانے پہ ڈالے گاؤں گاؤں، مکتب مکتب پھیری لگائی۔ پینتیس چالیس برس سے لاہور میں ہیں۔ یہاں ان کی دوکان عرب و عجم کی نادر ترین کتابوں اور قلمی مخطوطوں کا مخزن ہے۔ دکان کے پیچھے ایک بڑا گودام ہے، گودام کے اوپر ایک گودام ہے، کتابوں کے پُشتوں کے بیچ ایک سرنگ نما تنگ رستہ نیچے گلی کی طرف کھلنے والی ایک محرابی کھڑکی تک آتا ہے جہاں مخطوطات کی مرمت والی میز ہے اور دوسرے کونے میں اتنی جگہ خالی ہے کہ ایک آدھ بے گھر یہاں ایک پورا موسم سرما رات کی نیند کر سکتا ہے۔

میری فارسی دانی اور خوشنویسی کی صلاحیت پر پہلے سے ہی ملا صاحب نے اعتبار کیا ہوا تھا سو مجھے مخطوطے مرمت کرنے کی اجازت پانے کے لیے ان کے آگے کوئی امتحان دینے کی حاجت نہیں ہوئی۔

میں اس محرابی کھڑکی کے نیچے ایک کونے میں بچھانے کے لیے ایک کمبل کہیں سے لے آیا، دوسرے کونے میں کام والی میز تھی۔ سامنے جلد سازی کے گتے، چمڑے، چِیڑ موسلی، زنبور اور شکنجے پڑے ہیں، ایک طرف کچھ سامانِ کتابت اور قلمی نسخوں کا ایک پشتہ دھرا ہے۔ بوسیدہ اور دریدہ ٹکڑوں سے غائب متن کو متبادل مآخذوں سے ڈھونڈنا، اصل کے خط کے مطابق وہ ٹکڑا پھر سے لکھنا، اور ٹکڑے کو متعلقہ ورق سے جوڑنا، ایک بیحد دقیق کام تھا اور ملا صاحب نے مجھ سے کام کی سنجیدہ بازپرس کبھی نہ کی۔ میرا فن ابھی ناقص تھا، میں سستے بازاری قلم اور رنگوں سے کوئی تصویر یا متن مرمت کر کے ندامت آمیز سے انداز میں مُلا کی طرف بڑھاتا کہ سوا تین صدیاں پرانے نسخے کا ساڑھے ستیاناس ہو گیا، لیکن ملا صاحب ہلکا سا چیں بجبیں ہو کر ساتھ ہی ایک تسلی آمیز ہنسی کے ساتھ کہتے؛ بالکل پَسکِلاس ہو گیا ہے، بالکل ٹھیک ہے۔
میرے کام سے ابھی دوکان کو کچھ خاص منفعت نہیں ملی تھی سو میں نے مُلا سے کبھی اجرت کا مطالبہ نہیں کیا۔ دربار مارکیٹ سے آگے ایک گلی چھوڑ کر پُلاؤ کی دیگیں بٹتی ہیں، سگریٹ کا برانڈ میرا اور مُلا کا ایک ہی ہے، سو وہ میں مُلا کی جیب سے خود نکال لیتا تھا۔ دھندے کا حال یہ ہے کہ مُلا کو دوکان سے زیادہ دیوان سجانے میں دلچسپی ہے۔ دن بھر دوکان میں مدارس کے طلبہ اور برادری کے قبائلی آئے رہتے ہیں، قہوہ چلتا ہے اور مُلا کے قہقہے اوپری منزل تک سنائی دیتے ہیں۔ قہوہ بنانے اور چائے لانے کا کام مُلا کے بیٹے کا تھا، میں آیا تو یہ ذمہ میں نے لیا اور اس نوجوان کو اسکول اور کھیل کود کے لیے کچھ فراغ مل گیا۔ چائے قہوہ سنبھالنے کے بعد اکثر شام پڑے ملا صاحب ایک آدھ لال نوٹ میری جیب میں بھی اڑسنے لگے۔

تب تک حافظ چائے والا مجھے پہچاننے لگا تھا، دوسری دکانوں پہ کام کرنے والے کمسن گلی سے گزرتے ہوئے میری طرف ہنس کے گیند اچھالنے لگ گئے تھے اور میں ایک بار پھر اوپر کام کی میز کی نسبت گلی اور دیوان کی سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی لینے لگا۔ ملا صاحب نے کہا کہ یہ میرے رشتے دار افغانستان سے آئے ہیں، ولایت جوزجان میں کھیتی باڑی ہے، اردو پنجابی سے ناآشنا ہیں، تم دری جانتے ہو، بڑے میاں کو اسپتال لے جاؤ، جوان کو شہر گھماؤ۔ ایسے موقعوں پر رات دس بجے سے پہلے دکان پر لوٹنا بیوقوفی ہے، آوارگی کی آوارگی اور کام سے بھی غیر حاضر نہیں۔ پیچھے مُلا کی بیٹھک بھی چل رہی ہے۔ فقہی بحثوں میں انہیں ایک دو بار “پقہِ شاپعی” سے استناد کرتے دیکھا گیا ہے، لیکن عام طور پر وہ رندِ ہر مشرب اور مردِ آزادہ روح ہیں۔ قبائلیوں کی گپیں، کتاب چوروں اور نوادر کے چور بازاروں کے قصے، مسجد و منبر کے شگوفے، اپنی جوانی کی مہم جوئیاں۔۔۔ ملا کی بیٹھک میں کوئی ایک آدھ موضوع نہیں چلتا۔

یہاں کام کے دنوں میں قلاشی کے باوجود کئی نایاب عشرتیں ایک جگہ میسر تھیں۔ نیچے میلہ رام کی گلی میں شہرِ لاہور سے مخصوص ایک متین سی رونق تھی، گودام کی بلدار سیڑھی چڑھ کے محرابی کھڑکی تک آتے آتے کابل و شیراز کی مہک دماغ تک آ جاتی۔ یہاں اوپر سب کام بِن کہے، اپنی مرضی کا تھا۔ کئی دن تو جھاڑ پھونک کرتا رہا، مخطوطوں کے پشتے از سرِ نو مرتب کیے، خالی کاغذ، لین دین کی یادداشتیں، طالبان عہد کے جنگجو کمانڈروں کے پراپیگنڈا اسٹیکر اور ب بندوق پ پستول کے قاعدے، انقلابِ ثور اور انقلابِ خمینی کے زمزمے اور پمفلٹ، حافظ و سعدی کی شاعری کے مصور پرنٹ، قمری و شمسی کیلنڈروں کے ٹکڑے، سیلف ہیلپ کتابچے، ادعیہ پنجسورے، چرمی گردپوش، سوئیاں دھاگے، کیل کانٹے، وزٹنگ کارڈ، کاروباری رقعے سب الگ الگ خانوں میں رکھے۔ اپنے کمبل سے ملحق الماری میں اپنے ذوق اور کام کی کتب اپنے ہاتھ کی دوری پر سجائیں۔ جھاڑو، پوچی، قرنوں کی دھول۔۔۔ نیچے دکان میں قرون وسطیٰ کے پیتل کے کُرّوں اور اصطرلابوں سے کھیلتے ہوئے گمان گزرتا کہ میں خود بھی انہی نوادر میں سے ایک ہوں۔ کبھی شام کو دربار کی دیوار سے لگ کے قوالی سن لی، کبھی راوی ٹاپ کر کامران کی بارہ دری والے کنارے بیٹھ کے رات گئے تک بلند آواز میں بے سُرے راگ الاپتا۔ رات کو بے سروسامان سی میز پہ شرحِ کریما کا مرمت ناپذیر مجروح نسخہ سامنے رکھ کے شیخ ابنِ مقلہ کے بریدہ ہاتھوں کو یاد کر کے نکوٹین آلود آہیں بھرتا۔

اگلے سال کی پہلی صبح آنکھ کھلی تو خود کو اسلام آباد کی سڑکوں پر بے دست و پا حالت میں مجہول سے خلاؤں کی طرف تاکتا ہوا پایا۔ شرحِ کریما کا نسخہ مرمت نہیں ہو سکا۔ نئے شہر میں پرانے دوستوں کو ڈھونڈیے۔ نہانے کو گرم پانی کی فکر کیجیے، ماں باپ نے اپنے حصے کا رو پیٹ لیا، اگر خان و خویش میں کوئی اور پوچھے کہ سال بھر کہاں گم رہے تو کیا کہیے۔

اگر جنون کو ایک عارضہ مان لیا جائے تو میں کہوں گا کہ یہ متعدی مرض ہے۔ ایک سرسری راہگیر اس چھوت کے اثر سے محفوظ ہے کہ اس کے لیے آوارہ پاگل محض متاعِ عبرت ہیں۔ دن دیہاڑے کربلا گامے شاہ کے صدر دروازے کے آگے ہگتی ہوئی بُڑھیا، کچہری روڈ کے فٹ پاتھ پر ننگ دھڑنگ لیٹ کے اَگواڑے کو دھوپ لگواتا ادھیڑ عمر شخص، کَسی ہوئی لال پتلون پہنے شور مچانے اور دیواروں پہ فلائنگ کِکیں مارتے رہنے والا ٹوٹل کریزی لڑکا، جنہیں ان کی بوالعجبی کے باوجود کوئی راہگیر پلٹ کر نہیں دیکھتا، ان کے پاس جا کر ان سے بات کریں تو ان میں بیشتر موسم کی خنکی یا ٹریفک حادثوں کی ہولناکی وغیرہ جیسے کسی موضوع پر کسی بھی دوسرے شخص کی سی ہوشمندی سے بات کر سکتے ہیں۔ وہ ایک بے مہر اور غیر روادار سماج میں ایک ناقابل اعتبار سی سماجی قبولیت کو قربان کر کے اس کے عوض اپنی انفرادیت کے اظہار کا بسیط اجازہ حاصل کر چکنے والے چالاک ترین لوگ ہیں۔

میرے ایک متوسط زندگی کے خط سے نیچے چلے جانے کی ایک سادہ تر وجہ بے سروسامانی کا جبر ضرور تھی، لیکن ایک محرک ایک بزعم خود تخلیق کار کا خالی پن بھی تھا۔ میں ساز و سامان کی دیکھ بھال کرتے رہنے والی بودوباش کے آگے جتنا مزاحم ہوتا گیا، لاشعور میں رواں ایک ماجرائے خام کے آگے میری مزاحمت، خود سپردگی میں بدلتی چلی گئی۔ ان ایام میں حرف، رنگ، صوت، ساخت، روشنی، جنبش، ادا اور علامت کے وہ پارے میرے افعال اور حسیات کے ہمسفر تھے، جنہیں روزمرہ بامعنی ابلاغ کے لیے ہم کسی ذخیرے میں شمار نہیں کرتے۔ میں شہر کے در و دیوار، کوچہ و بازار اور ان میں متحرک زندگی سے مہینوں تک مسلسل خاموش مکالمے میں رہا۔ یہ مکمل خبط تھا، لیکن اس تسلسل میں گاہے کچھ ایسی پرماجرا واردات ضرور آ جاتی جس کی یاد مجھے اب بھی بضد رکھتی ہے کہ اس کی ممکنہ تاویل، ہوش و خرد کی سکہ بند دنیا میں مجھ پر سے دیوانگی کی تہمت کو دھو سکتی ہے۔ میں نے گذرگاہوں اور عمارتوں کی زبان سمجھنے کی سعی کی۔ میں نے صبح فٹ پاتھوں سے جاگ کر، اونچے گھڑیال کے اشارے پر رٹے رٹائے رستوں پہ خیراتی لنگروں تک پہنچتے انسانوں، راوی کے پل اور نہر والی سڑک پہ صدقے کا تیار شدہ گوشت اٹھانے کے لیے شہر بھر کے آسمان پر سیاروی دائروں میں اڑتی چیلوں، اور اپنے اپنے مدار کے گرد گھومنے والے آوارہ کتوں اور بلیوں کی الگ الگ گردشوں کے بیچ کے موہوم سے باہمی آہنگ کو ایک سنجیدہ مشاہدے کا موضوع سمجھا۔ اور میں نے زندگانِ شہر پر اعتماد کیا کہ میں اپنی دقیق اور نازک و شکستنی فنی مشقتیں عام رسائی کے کسی کونے کھدرے میں سجا دوں گا تو دستِ تخریب سے پہلے چشمِ بینا اس تک پہنچے گی۔

پنجاب پبلک لائبریری میں گزارے دنوں اور جیل روڈ، ٹکسالی اور یادگار چوک کے قرب و جوار میں گزاری گئی راتوں کے دوران کاغذوں کے کچھ ٹکڑے جو میں یہاں وہاں دابتا رہا تھا، ان میں سے جو کچھ سمیٹ سکا، مُلا کی محراب تک لے آیا۔ سال بھر بعد اب آ کر بچے کھچے پرزے وہاں سے سمیٹنے کی نوبت ہوئی ہے اور محراب پر یہ نشان چھوڑے جاتا ہوں۔ عمومی سماجی توقعات اور متوسط حضری معیار زندگی کے آگے سرِ تسلیم کو مقدور بھر خم کر چکنے کے بعد بھی، اپنے ظاہر کو تباہ و برباد کر لینے کے دنوں کی یاد کبھی کبھار پلٹ کے دیکھتے رہنے پر اکساتی ہے۔ ایسی کسی بھی ممکنہ بازدید کے لیے مُلا کی محراب میرے تئیں ایک حوالے کا نقطہ ہے۔


محراب کا شعر:
فَوَقَف٘تُ أسئلُهَا وَ کَی٘فَ سَوالُنا
صُمّاً خَوَالِدَ ما یَبِی٘نُ کَلامُهَا
«لبید بن ربیعہ»
سبع المعلقات کا چوتھا قصیدہ۔ لبید کئی مدتوں کے بعد منیٰ کی بستی سے گزرتا ہے، اور غول اور رجام کے علاقے، جہاں کبھی اس کی محبوبہ آباد تھی، اب ویرانوں میں بدل چکے ہیں؛
“میں وہاں ٹھہر گیا کہ کچھ پتہ پوچھوں۔ پر ان ٹھوس اینٹ پتھروں سے کیا پوچھنا، جن کی بات کچھ پلے نہیں پڑتی۔”
Image: Asad Fatemi

Categories
شاعری

تمام شِٹ ہے (ایک تاریخی وعظ سے پہلے مائیکروفون ٹیسٹنگ)

مرے عزیزو،
یہ میرے شعروں پہ میرے آگے اچھل رہے سارے نامرادو
ادھر حسینوں کی صف میں جا کر مرے لطیفے سنانے والے حرامزادو
میں دھیرے دھیرے تمہاری سوشل پلیسیاں سب سمجھ رہا ہوں
سنو کہ میں نے بھی سالناموں کے کچھ اڈیٹر پٹا لیے ہیں
کلاسکی شعر کے گھرانوں کے چند بابوں میں چار نمبر بنا لیے ہیں
سخن کی اور فلسفے کی بحثوں میں روزمرّہ کمنٹ بازی بھی چل رہی ہے
مگر مصیبت یہ بن پڑی ہے کہ طبع موزوں
کئی مہینوں سے ایک رعنا خیال کے انتظار میں ہے
گزشتہ دو سال میں جو لکھا، سنا چکا ہوں
جو داد میں دوستوں سے تھوڑی سی چرس پائی، اڑا چکا ہوں
بغرض بیداد حزب مکتب کے ناقدوں نے یہی بتایا،
تمام شِٹ ہے
کہیں سے کترا کہیں سے چھاپا
لکھا لکھایا، سنا سنایا
جو شعر کیسے میں رہ گئے ہیں
جو مال کمرے میں چھوڑ آیا، تمام شِٹ ہے
کبھی پرانے ورق کھنگالوں تو دیکھتا ہوں
جنوں میں لیلی کی اور پھینکے سبھی اشارے،
اٹھنّیوں کے حساب سے جو گلی کے بچوں میں بیچتا تھا، سبھی غبارے
گھٹن میں حاکم کے منہ پہ داغے بلند نعرے، تمام شِٹ ہے
لڑکپنے میں کرانتی کا چڑھا تھا سر پہ جو بھوت شِٹ ہے
قفس میں قیدی کی پائے کوبی، یہ مدعی کا سکوت شِٹ ہے
یہ منبر منصفی ہے بُل شِٹ
بیان شٹ ہے، ثبوت شٹ ہے

یہ مجھ سے اگلے جو ہیں سپیکر، جنابِ گوتم یہی کہیں گے؛
کلام شِٹ ہے
سو میں بھی اس شٹ کدے میں تھوڑا سا بھنبھنا لوں تو کون سا پُل اکھاڑ لوں گا
نشہ ملے تو گریز پا عمر پاس آ آ کے ٹوکتی ہے
کہ چوتھے لانچر پہ ہاتھ روکو اور اٹھ کے چہرے پہ ٹھنڈے پانی کے ہاتھ مارو
اطاقِ فرصت میں اب کبھی وہ کبیر و میرا کی پاک روحیں نہیں بھٹکتیں
یہ میری بے سمت کوچہ گردی بھی قیس و رانجھا کے پائے آوارگی کی وارث نہیں رہی ہے
چلا ہوا ہوں کہ ہر طرف یونہی چل سو چل ہے
خبر نہیں ہے شمال کیا ہے جنوب کیا ہے
جو پوچھتے ہو
کہ راہ چلتے میں ایک کھمبے سے کیوں گلے مل کے رو پڑا ہوں
تو سین یہ ہے
کہ ملنے والے تو یونہی بھگدڑ میں ایک فٹ پاتھ پر ملے تھے
اس ایک بھگدڑ کے بیچ دو مضطرب سے دل تھے
اور ان کے پیچھے تکلف و مصلحت کے کتے لگے ہوئے تھے
وہ وقت اور وہ مقام شِٹ ہے
ملن کی ساعت کیا گیا سب حفاظتی انتظام شِٹ ہے
پچھڑتے پیروں جو کر سکے تھے کلام و عرض سلام شِٹ ہے
بچھڑ کے وہ پہلی بڑبڑاہٹ کے بعد کا فیس پام شِٹ ہے
مرے عزیزو، تمام شِٹ ہے
Image: pawel kuczynski

Categories
فکشن

ابابیل کی مہم

ریگ مال سلسلے کی بقیہ کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

علماء کی یہ مجلس ثقلی مابعدالطبعیات پر اب تک حاصل کیا گیا تمام علمی ورثہ کھنگال چکی ہے اور چند ہزار جدول، نقشے اور خاکے منتخب کیے جا چکے ہیں تاکہ اس نئے مسئلے کا کوئی حل ڈھونڈا جا سکے۔ حاضرینِ مجلس کے غیر معمولی اضطراب کی وجہ یہ ہے کہ اس بار معاملہ کرۂ ارض پر باقی رہ گئی انسانی تہذیب کے تاریخی شہر مکہ کو بچانے کا ہے۔

 

قیمتی دھاتوں اور معدنیات کی کان کنی کے سبب خوشحالی کی بلندیوں کو چھوتی ہوئی یہ قوم، ہماری کہکشاں صراط اللبن کی ایک بسیط شہابی پٹی پر معلق نخلستان بنا کر ان میں آباد ہے۔ ان کی روز افزوں معیشت کی دوسری بڑی وجہ ابتدائی زمینی ماحول میں کاشت کی جانے والی کھجوروں کی وہ فصل ہے جو اپنی نباتی جینیات کے لحاظ سے اپنے ارفع ترین ارتقائی مقام پر ہے، اور پوری کہکشاں میں مہنگی ترین نامیاتی خوراک کے طور پر مشہور ہے۔ شہابی پٹی کے کسی بھی مقام سے محض ایک جیبی دوربین کے ذریعے زمین پر مکہ کے قریب خالص زمینی پتھروں سے بنا کھجور کے پیڑ کا پراچین مجسمہ دیکھا جا سکتا ہے۔ شہر کے محکمۂ آثار قدیمہ کے مطابق قدیم زمانوں کے ایک خواب پرور شہزادے نے اپنے عہد کے سخت جان ترین ہاتھوں سے منتخب کنکر چنوا کر یہ نخل بنوایا تھا۔ مادرِ ارض کے شمس اوّل سے روٹھنے سے متعلق اساطیر میں ہے کہ کھجور کے اس مجسمے کی شاخوں سے نمکین پانی رستا تھا اور اس نخل کے آنسوؤں سے زمین کی زیادہ تر سطح پر پانی کی تہہ موجزن رہتی تھی۔ لیکن نئی بادشاہت کے تین ہزار سالہ جشنِ فرخندہ کے موقع پر اس مجسمے نے رونا بند کر دیا جس سے دھرتی ماں کے چہرے سے نیلا غلاف چھٹ گیا اور اس کی صاف گندمی رنگت تمتما اٹھی۔ چند مقامی فرقے اس مجسمے کو مقدس قرار دیتے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ زمین کی کلی صحرا پذیری کے عہد سے پہلے کا ایک مصنوعی جزیرہ ہے۔ کرّۂ زمین، شہابی پٹی اور اس کے پڑوسی ستارے الشّمس دوم کے درمیان پٹی سے قریب ایک گرم تر مقام پر واقع ہے، جسے یہاں کی مذہبی روایت کی بزرگداشت میں مدار شمس سے آزاد کر کے اپنے اضافیتی مکان پر ساکن و جامد رکھا گیا ہے۔ پُرپیچ زمانی افق پر پھیلی ہوئی اس شہابی پٹی کے پیداواری اوقات و ادوار کی پیمائش کے لیے یہاں کے لوگ زمین کے گرد گھومتے ہوئے اس کے اکلوتے چاند کو ایک مشترک گھڑیال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

 

حال ہی میں مکہ کی قدیم رصدگاہ نے معلوم کیا ہے کہ زمین کی کمیت سے پانچ گنا بڑا ایک حجری جسم اس حیران کن رفتار سے زمین کا تعاقب کر رہا ہے جیسے کسی توپ کا مہیب گولہ اپنے ہدف کی طرف آتا ہو۔ رصدگاہ کے حساب کے مطابق ممکنہ تصادم کی شصت عین اس سیاہ شہابی چٹان پر ہے جو آغاز حیات کے بعد نوع انسان کا دریافت کیا ہوا اولین شہابی پتھر ہے، اور اسے چاندی کی ایک انگوٹھی میں نگینے کی طرح جڑ کر بیت الحرام نامی ایک حجری صندوق پر آویزاں کیا گیا ہے۔ مکہ کے قدیم حجری معبد کے گرد کائنات کی سنگلاخ ترین سیاہ دھاتوں سے اسی وضع کی تین سو مکعب میل بڑی فصیل بنائی گئی ہے، جس نے گزشتہ چھ قمری صدیوں میں ہونے والی شہابی بارشوں اور صنعتی دھول کی بوچھاڑوں میں بیت الحرام کی ڈھال کا کام دیا ہے۔ اس عظیم الجثہ گولے کی کعبہ کے مقدس شہابیے کی جانب کشش کی حتمی وجہ ابھی معلوم نہیں ہو سکی لیکن عامۃ الناس کی ایک بڑی جمعیت کا خیال ہے کہ منطقۂ حوت کی جانب سرخ و فیروزی سیاروں والے بگولے پر آباد لوگ، جو کہ ثقلی حرکیات پر مبنی ناقابل یقین آلات بنانے میں مہارت رکھتے ہیں، یہ خطرہ ان کی ثقلجوہری غلیلوں کے تجربات نے پیدا کیا ہے۔

 

شہابی پٹی کے مختلف گنجان آباد مقامات سے، مختلف تابکاریوں پر نہایت طاقتور لہروں کے حامل پرجوش گیت خلائے بسیط میں نشر کیے جا رہے ہیں کہ یہ لوگ مادرِ ارض کو بچانے کے لیے سبع سماوات کی تمام ذہین مخلوقات کو تہس نہس کر دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ پرآسائش خلائی اونٹوں کی شہر مکہ کی طرف آمد و رفت اور ان میں بیٹھے یاتریوں کی بے چینی میں ہر لمحہ اضافہ ہو رہا ہے۔

 

قریبی سیاروی جھرمٹ بادنجان کے کاریگر جو ربابِ ہستی پر طولِ موجِ ثقلی کے تار کسنے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں، مکہ کے حالیہ قوانین کے احترام میں پراسرار شہابیے کا جائزہ لینے نہیں آ رہے، لیکن وہ اپنے مواصلاتی اڈوں سے مکہ کی رصدگاہ کے ساتھ رابطہ اور معلومات کا تبادلہ جاری رکھیں گے۔ شہر مکہ کے صدر دروازے پر آویزاں کرومیم دھات کی ایک سِل پر یہ تنبیہہ کندہ کی گئی ہے کہ ایسے لوگ شہر میں داخل نہیں ہو سکتے جو یہاں رائج چند اٹل مابعدالطبعی اصولوں کے بارے میں کسی طرح کی تشکیک رکھتے ہوں۔

 

شہابی کان کنی سے وابستہ قبائل کی یونین نے اپنے خام دھاتی ذخائر کا خطیر حصہ ‘ابابیل’ کی تیاری کے لیے فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دیوپیکر روبالہ کی ہر ایک ذیلی جرّ ثقیل کا متعدد بار تجربہ کیا جا چکا ہے۔ تاہم ملکوتی تعقّل کے آلات پر لاگو کیے گئے جفری نحویات کے چند نو دریافت شدہ قواعد کی ممکنہ کارکردگی پر متعدد مہندس حلقوں کو تحفظات ہیں۔ لیکن ابابیل کی روانگی کی تاریخ قریب ہونے کی وجہ سے ان نکات میں سے صرف بنیادی فعالیتوں کے نتائج پر نظرثانی کی جا سکی ہے۔ رمضان کی ستائیسویں تاریخ کو صفر ساعت پر یہ روبالہ خلائے عرب کی مرکزی طیران گاہ سے خلائے بسیط کی جانب اپنے سفر کا آغاز کرے گا۔ یہ روبالہ اپنے خودکار تعقل کے تحت اس حجری جسم کے متعلق اکٹھی کی ہوئی معلومات کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کی سمت تبدیل کر دے گا، لیکن ایسا نہ کر پانے کی صورت میں وہ خود کو اس حجری جسم سے ٹکرا کر، اسے اور اپنے آپ کو پاش پاش کر دے گا۔

 

مکہ کی انتظامیہ کا اندازہ ہے کہ اس مہم کے بعد ذوالحجہ کی دسویں کو شہر میں طواف کو آنے والے زائرین کا دائرہ قمری مدار سے باہر تک بڑھ آئے گا اور کھربوں انسانوں کی آواز میں وہ قدیمی نغمہ ایک بار پھر نشر کیا جائے گا: “لپّیگ اللہمَّ لپّیگ”۔
Categories
نان فکشن

شادمانی کے آزاد امیدوار: کھلونے کیوں توڑے جائیں؟

گزشتہ ایک عشرے کی دستوری اصلاحات اور سیاسی گہماگہمیاں انفرادی آزادیوں کی تنزیل کی خواہش پر بندھے مرکزیت پسند سیلابی بند میں سوراخ پر سوراخ کرتی چلی جا رہی ہیں۔ اجتماعی سرگرمیوں کی یہ لہر اوپری سطحوں سے نیچے تک، مراکز سے مضافات تک اور ایک نسل سے دوسری نسل تک مسلسل پھیلتی نظر آ رہی ہے۔

 

مقامی حکومتوں کے انتخابات مقامی انتخابی ثقافتوں میں روایتوں کو محفوظ بناتے اور نئے رجحانات کا اضافہ کرتے ہوئے اپنے آخری مراحل میں ہیں۔ ضلع جھنگ کے حلقہ 89 میں 5 دسمبر کو ہوئے تیسرے مرحلے کے لوکل باڈیز انتخابات سے بالغ ووٹروں کی روزمرہ زندگیوں میں سرگرمی آئی ہی تھی، لیکن اس سے یہاں کہ وہ باسی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے جن کی عمریں اس عمل میں شمولیت کے لیے ابھی کم ہیں۔ پاکستان کے مضافات میں جہاں ایسے علاقے بھی موجود ہیں جہاں بڑوں کی دیکھا دیکھی دھول اڑاتے بچوں کو ‘خودکش بمبار’ کا کھیل کھیلتے ہوئے دیکھا جاتا رہا ہے، وہیں گھروں اور عوامی مقامات پر انتخابی عمل سے متعلق ہو رہی گپ شپ اور عوامی تبصروں سے متاثر ہو کر دیہاتی بچوں کا ‘الیکشن الیکشن’ کا کھیل رچانا نسبتاً حوصلہ افزا بات ہے۔ جمعہ 8 جنوری کو حلقہ 89 کی بستی عباس پور میں نہ ہو سکنے والے بچوں کے الیکشن ایک اعتبار سے ‘بڑوں کے انتخابات’ کی بچگانہ نقالی تو تھی ہی، لیکن ہمسایہ بستی خان پور میں کچھ دن پہلے ہوئے جیونیر الیکشن اور برسوں قبل قریبی گاؤں موضع ساہجھر میں ہو چکے ایسے ہی ننھے انتخابات سے ملنے والی یادگار تفریح کا اعادہ کرنے کی ایک کوشش بھی تھی۔

 

پاکستان کے مضافات میں جہاں ایسے علاقے بھی موجود ہیں جہاں بڑوں کی دیکھا دیکھی دھول اڑاتے بچوں کو ‘خودکش بمبار’ کا کھیل کھیلتے ہوئے دیکھا جاتا رہا ہے، وہیں گھروں اور عوامی مقامات پر انتخابی عمل سے متعلق ہو رہی گپ شپ اور عوامی تبصروں سے متاثر ہو کر دیہاتی بچوں کا ‘الیکشن الیکشن’ کا کھیل رچانا نسبتاً حوصلہ افزا بات ہے۔
انتخابی نشان بلّے کا بڑا امیدوار 17 سالہ دلشاد کھیتی باڑی میں اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتا ہے، جبکہ چھوٹا امیدوار 15 سالہ حیدر نویں جماعت سے اسکول چھوڑنے کے بعد الیکٹریشن کاریگر کے ہاں شاگرد ہے۔ ان دونوں کے گھر بستی کی مرکزی آبادی میں ہیں اور یہ بستی کے پہلے پہلے آبادکاروں کی تیسری نسل ہیں۔ انتخابی نشان بالٹی کا بڑا امیدوار 13 سالہ اللہ دتہ کا والد سنیاس اور سپیرے کا کام کرتا ہے۔ اللہ دتہ خود دن میں گدھا گاڑی چلاتا ہے اور رات کو گلی میں گرم انڈے فروخت کرتا ہے۔ گاؤں کے ایک کونے پر ایک کچا جھونپڑا اس کا گھر ہے۔ بالٹی کے نشان پر چھوٹے امیدوار 8 سالہ شوکت کا خاندان ‘گائیں والے’ کہلاتا ہے۔ یہ خانہ بدوش قبیلہ ڈیڑھ عشرے قبل بدوی زندگی تیاگ کر گاؤں کے ایک کونے پر آباد ہوا تھا۔ دریائے جہلم کے مزاج میں انہی ڈیڑھ عشروں کی انقلابی تبدیلیوں کی وجہ سے جہاں قریب کی بہت سی زرعی زمینیں بے کار ہوئی ہیں، وہیں بہت سی نئی چراگاہوں نے ان کی جگہ لے لی ہے۔ اس وجہ سے یہ قبیلہ اب مستقل گھروں میں رہتے ہوئے اپنے آبائی پیشے گلہ بانی کو جاری رکھنے کے قابل ہو گیا ہے۔ اس آزاد منش قبیلے نے ابھی تک ٹھیٹ صحرائی لہجے اور خانہ بدوش ثقافتی عناصر کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں محفوظ رکھا ہوا ہے۔ شوکت اکثر اوقات گائیں چراتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ چراگاہ میں گھومتا پھرتا نظر آتا ہے اور اپنا جیب خرچ اللہ دتہ کی ہمراہی میں ابلے انڈے بیچنے کے جزوقتی کام سے نکالتا ہے۔

 

ایک مثبت اجتماعی عمل میں فرد کا آزاد ارادہ کلیدی کردار کا حامل ہوتا ہے۔ ان بچوں کو حالات کے جبر نے اپنی زندگیوں میں متوسط طبقے کے بچوں کی نسبت زیادہ خودمختار بنا دیا ہے اور اپنی روزمرہ زندگی کے معاملات طے کرنے میں انہیں اپنے بڑوں کا احتیاج بہت کم رہتا ہے۔ جمہوریت کا درس انہوں نے اسکول کے گھٹن زدہ بستوں سے نہیں نکالا بلکہ اپنی پچھلی نسل کی عمرانی زندگیوں اور اپنے ماحول کے آزادانہ مشاہدے سے اخذ کیا ہے۔ یہ امر علاقے میں انفرادی آزادیوں کے حصول کی کسی بھی ممکنہ مثال کے خانہ زاد ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ مقامی طور پر بڑی جاگیردار طاقتوں اور پنچایتی اداروں کے زوال، مابعد اٹھارہویں ترمیم کے منظرنامے اور تشویشناک ماحولیاتی تبدیلیوں کے زرعی معاشرت پر اثرات نے یہاں کے یونین کونسل ہال کی سرگرمیوں کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ اپنی مدد آپ کے تحت چھوٹے سیلابی بندوں کی تعمیر اور زرعی زمینوں کی تباہی سے نمٹنے کے لیے ایک عرصے بعد چھوٹے کاشتکار اور متوسط و غریب طبقے کے لوگ اتنی سرگرمی کے ساتھ مسائل پر اتفاق رائے کی کوششوں میں سرگرم نظر آ رہے ہیں۔ جہاں کسی وڈیرے کے حکم کی بجائے موقف کی گنتی غلط یا درست فیصلے کر رہی ہے۔

 

یہ بچے جنہیں قبل از وقت زندگیوں کے جبر نے گھیر لیا ہے، مزاجِ خلق، ہواؤں اور دریاؤں کے چال چلن، ٹوٹتے بنتے خاندانوں کے مفادات، گلیوں اور کھلیانوں کے طول و عرض اور دکانوں پر آٹے دال کے بھاؤ سے واقفیت انہیں اجنبی زبان کی نصابی کتابوں سے نہیں ملی، بلکہ زندگی کا عملی شعور انہوں نے ماؤں کی بولیوں، باپوں کے تلخ و ترش اور گھر سے باہر زندگی کے بنجارپنے سے حاصل کیا ہے۔ کھیل کھیل میں انتخابی عمل سے شناسائی شاید ان بچوں کے لیے اس لیے بھی مفید ہوتی کہ یہی مستقبل کے بالغ شہری ہیں اور گاؤں کو اگلے عشروں میں درپیش مسائل پر عملی بحث کے لیے موزوں آوازیں کسی اور دنیا سے نہیں آئیں گی۔

 

جمہوریت کا درس انہوں نے اسکول کے گھٹن زدہ بستوں سے نہیں نکالا بلکہ اپنی پچھلی نسل کی عمرانی زندگیوں اور اپنے ماحول کے آزادانہ مشاہدے سے اخذ کیا ہے۔
اجتماعی اعمال میں استصواب کو بنیاد بنانے کے لیے استدلال کے بنیادی معیارات میں فہم عامّہ کو ایک نمایاں سند سمجھا جاتا ہے۔ چھوٹی عمروں میں فہم عامہ اپنی خالص ترین شکلوں میں پائی جاتی ہے، جبکہ شعوری زندگی کے پختہ ہوتے ہوتے یہ عصبیتی شعور، سماجی و انفرادی رسوم و اقدار پر مبنی امور و نواہی اور دیوانگانہ مشروطیتوں کے ہاتھوں چھوٹے چھوٹے ناقابل مصالحت فکری نظاموں میں بٹ جاتی ہے۔ ان بچوں نے ان ننھے منے انتخابات کا جو مقصد بیان کیا ہے، وہ آبادیوں کی جمہوری تاسیس کے کلاسیکی مباحثوں کا نہایت اہم موضوع رہا ہے، یعنی شادمانی کا حصول۔

 

ایک سوال کے جواب میں ایک بچے نے بتایا؛ “ان الیکشنوں سے ہمارا اور کوئی مقصد نہیں تھا، ہم نے تو اسی بہانے تھوڑا ‘شغل میلہ’ کرنا تھا”۔ طے پایا تھا کہ جیتنے والی پارٹی حریفانہ نعرے بازی نہیں کرے گی، ہر دو طرف کے امیدوار ایک دوسرے کو گلے لگائیں گے۔ کچھ پیسے جمع کیے گئے تھے کہ شام کو دونوں پارٹیاں ڈھول دھمال کے ساتھ گاؤں کے قریب مدفون درویش پیر عبدالرحمان کی درگاہ پر چادر چڑھائیں گی اور پھر وہاں پلاؤ کی دیگ پکے گی اور کھائی جائے گی۔ گاؤں کے حجام جاوید کا وعدہ تھا کہ وہ چائے کا دیگچا دھرنے کو دو سیر دودھ عطیہ کرے گا، مظہر پاؤلی اپنی کیری ڈبہ گاڑی اور شاہد نائی اپنے رکشا کی مہار ایک دن کے لیے ان بچوں کو سونپے گا تاکہ وہ جس کسی قریبی تفریحی مقام پر جانا چاہیں، انہیں وہاں کی سیر کرائی جائے۔ اس نقل و حمل کے لیے تیل کے اخراجات یہاں کے پنسار فروش حکیم رمضان سستا نے اٹھانا تھے۔ گاؤں کے اکلوتے صحافت پیشہ فرد کی حیثیت سے میرا وعدہ اس الیکشن پر فیچر لکھنے کا تھا۔

 

بات تب بگڑی جب گاؤں کے ایک پولیس رضاکار نے بچوں کو متعلقہ تھانے سے الیکشن کی اجازت لینے کا کہا۔ دیے گئے وقت پر جبکہ “مقامی پریس” یعنی راقم السطور کاغذ قلم لیے گاؤں کے پرائمری اسکول میں پولنگ کے لیے امیدواروں اور ننھے ووٹروں کا انتظار کر رہا تھا، یہ چاروں امیدوار تھانے کے عملہ کے لغو سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ بچوں کے مطابق تھانہ کے عملہ کی زبان ناصرف دھمکی آمیز تھی بلکہ بچوں کے ساتھ برتاؤ کے لیے نہایت نازیبا تھی۔ ایک بچے نے ایک سپاہی کا ایک الوداعی جملہ نقل کیا؛ “تمہاری بُنڈڑیاں چھوٹی ہیں، اور ہمارے چھتر بڑے ہیں۔ بہتر ہے یہاں سے بھاگ جاؤ۔۔۔” ایس ایچ او نے الیکشن کی اجازت نہیں دی۔ لیکن صورتحال مزید افسوسناک تب بنی جب اللہ دتہ ولد ظفر ملنگ کو تھانے میں مٹی ڈھوتے ہوئے ایک مزدور کے ساتھ مشقت پر جوت دیا گیا۔

 

دیے گئے وقت پر جبکہ “مقامی پریس” یعنی راقم السطور کاغذ قلم لیے گاؤں کے پرائمری اسکول میں پولنگ کے لیے امیدواروں اور ننھے ووٹروں کا انتظار کر رہا تھا، یہ چاروں امیدوار تھانے کے عملہ کے لغو سوالات کا جواب دے رہے تھے۔
راقم الحروف کو جب اس قصے کا علم ہوا تب تک بچے الیکشن سبوتاژ ہونے کے بعد سہم کر اپنے گھروں کو پہنچ چکے تھے۔ بچوں کے گھر جا کر معاملہ کی تفصیل جاننے کے بعد میں نے پولیس اسٹیشن یعنی تھانہ کوٹ شاکر کا رخ کیا، جہاں دھوپ سینکتے ہوئے دو اہلکاروں نے بعد صد انتظار مجھے ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھنے اور اپنا مدعا بیان کرنے کی اجازت دے دی۔ ایک طولانی سلسلۂ کلام کے باوجود اس گفتگو میں کوئی ایسا مشترک نکتہ نہیں نکل سکا جسے کسی اصولی مکالمے کی بنیاد بنایا جا سکتا، سو یہ گفتگو ایک یکطرفہ بدکلامی کے مظاہرے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ تاہم بتایا گیا کہ ایس ایچ او تھانہ ہذا شام پانچ بجے ‘فیلڈ’ سے لوٹیں گے، اپنا مدعا انہیں بیان کیا جائے۔ تھانے کے دوسرے چکر پر ایس ایچ او صاحب نے، جو اپنے ملاقاتیوں سے دیگر معاملات پر گفتگو میں مشغول تھے، بالآخر کھڑے پیروں مجھے اپنا مدعا بیان کرنے کی اجازت دی۔ راقم الحروف نے تھانے کے اس اقدام کی قانونی بنیاد دریافت کرنا چاہی تو انہوں نے اپنی ذات کو اس کی قانونی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا؛ “یہ حکم میں نے دیا ہے، جاؤ، اپنے فیچر میں میرا نام ڈال دو۔۔” (ان صاحب کا نام آفتاب عالم ہے)۔ بعد کے تمام سوالات کے جواب میں انہوں نے مجھے تھانے سے نکل جانے کے حکم کا اعادہ کیا۔ راقم نے اس گاؤں کے باسی کی حیثیت سے ان انتخابات کی علامتی اہمیت سمجھانے کی کوشش کے ذریعے یہ امتناعی حکم واپس لینے کا مطالبہ کیا، لیکن جب تھانہ اہلکاروں کا ردعمل زبانی جارحیت سے اگلے قدم پر آنے لگا تو راقم نے وہاں سے نکل آنے کو بہتر جانا۔

 

پولیس اہلکار، اللہ دتہ سے مشقت کروانے کے عمل کی تردید کرتے ہیں، جبکہ متاثرہ بچے اس کو تھانے والوں کی صریح غلط بیانی قرار دیتے ہیں۔ اللہ دتہ نہ بتایا کہ پولیس والوں نے اسے قریب کے ایک گھر سے کسّی لانے کا کہا اور پھر چھت سے مٹی اتار کر تھانے کے صحن میں ڈھوتے ایک مزدور کے ساتھ کام کروانے کا کہا گیا۔ کام ختم ہونے کے بعد اسے وہاں سے رخصت ملی۔ پولیس اہلکار باقاعدہ انتخابات میں ہونے والے معمول کے متشدد تصادم کے واقعات کی بنیاد پر یہ قیاسِ محض کرتے ہیں کہ ان طفلانہ انتخابات میں ہونے والے کسی ممکنہ جھگڑے کی بنیاد پر یہ حکم جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ بچوں کا کہنا ہے کہ وہ پرامن ہیں اور دوستانہ فضا میں تفریح کے لیے منعقد نہ ہو سکنے والے ان انتخابات کا طاقت کی روایتی کشمکش سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

 

دلشاد بلوچ اور ملک حیدر علی کے انتخابی پوسٹر
دلشاد بلوچ اور ملک حیدر علی کے انتخابی پوسٹر
ہر دو طرف کے امیدواروں نے ایک ہفتہ پہلے سے اپنی مہم شروع کر رکھی تھی۔ حیدر اور دلشاد 1500 روپے کی لاگت سے، اپنے اشتہار شہر سے چھپوا کر لائے تھے۔ اللہ دتہ اور شوکت نے چھ روپے فی اشتہار کے حساب سے 100 اشتہار چھپوا کر گاؤں میں لگوائے۔ ان انتخابات کا بزرگانہ سرپرست گاؤں کے جنرل کونسلر کو ظاہر کیا گیا تھا۔ لیکن الیکشن کے سبوتاژ ہونے کے بعد جب ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ‘بچوں کے کھیل’ کی خاطر تھانے والوں سے سر نہ ٹکرانے کی نصیحت کرتے ہوئے روایتی سیاستدانوں کی آمرانہ رویوں کے ساتھ مصالحت کی قومی روایت کو قائم رکھا۔
ایک دن کا یہ بظاہر معمولی واقعہ پاکستانی عوام کے سات عشروں پر محیط اجتماعی حافظے میں محفوظ ان گنت اداسیوں کی یاد دلاتا ہے۔ اور مسرّت کے متلاشی مضافات کے دلوں کی تلخیاں اس سے بھی سوا ہیں۔

 

ان مضافات میں روزمرہ کی زندگیوں میں موسموں کے پھیر اور فطرت کے بے رحم اور ننگے قوانین آدمی کو طاقت کے آگے سرِ تسلیم خم رکھنے کا مایوس کن درس دیتے ہیں، اور یہاں قطرہ قطرہ سے بنے دریاؤں کی وسیع میدانوں کو تاراج کرتی ہوئی لہریں منظم اجزا کا ایک مرکب طاقت بننے کا نظارہ بھی دکھاتی ہیں۔ یوں یہ چھوٹی آبادیاں فرد اور اجتماع کے فطرت کے ساتھ دوطرفہ تعامل کے خوردبینی مطالعے کے لیے ایک شاداب مرغزار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ میرے لیے آج کا سبق رائنہولڈ نائبوہر کا یہ حکیمانہ قول ہے؛ “آدمی کا انصاف کی جانب میلان جمہوریت کو ممکن بناتا ہے، اور آدمی کی ناانصافی کی صلاحیت جمہوریت کو ضروری بنا دیتی ہے”۔ اسے جمہوریت کہیے، انصاف کہیے، یا شادکامی و مسرت۔ بستی عباس پور کے یہ بچے اس کے نام سے سروکار کے بغیر ایسی ہی ایک چیز کے منتظر اور متلاشی ہیں۔ کچے اور پکے مؤقفوں کی یکساں گنتی کو کوئی لاکھ بچوں کا کھیل قرار دے، لیکن کھلونے کیوں توڑے جائیں؟
Categories
فکشن

کیران کا میلہ

ریگ مال سلسلے کی بقیہ کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

جن دنوں میں وہاں گیا تھا، شہری آبادی سے کوئی پکی سڑک بستی کیران کی طرف نہیں جاتی تھی۔ ریل گاڑی صوبے کے آخری کونے پر واقع ایک کم آباد ضلعے کے چھوٹے سے اسٹیشن پر اتار کر مشرق کو مڑ جاتی ہے۔ اسٹیشن کے پاس ایک پرانا قبرستان ہے۔ ایک کچی پگڈنڈی جنوب کی سمت قبرستان کو بیچ میں سے کاٹتی ہے، اسی سمت میں اونٹ کے کجاوے پر کوئی سولہ پہر کا سفر ہو گا۔ مقامی لوگ اساڑھ کی پہلی جمعرات کو ٹولیاں بنا کر پیدل کیران پہنچتے ہیں۔

 

ڈاچی بان نے مجھے بتایا کہ یہاں کی ریت پوہ ماگھ میں سوجی کی سی سفید نظر آتی ہے، جیٹھ کے آتے ہی ریت سنولانے لگتی ہے اور میلے کے دنوں میں پورا صحرا دیسی انڈے کے رنگ کا دکھنے لگتا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ پورے چاند کی راتوں میں صحرا کا سفر کرتے ہوئے خود کو دودھ کے سمندر میں جہاز تیراتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اندھیری راتوں میں اکثر اوقات مر چکے مقامی راکھشوں کی ارواح خبیثہ ٹیلوں پر نکل آتی ہیں اور بھیانک آوازے نکالتی ہیں، ساربان نے بتایا کہ وہ خود بھی انہی راکھشوں کی نسل سے تھا۔ گداز ٹیلوں پر چلتے ہوئے پگڈنڈی کے اطراف میں لومڑیوں کا مَل اور سنگچور سانپوں کی لکیریں بھی نظر میں آتی ہیں۔ ساربان کا کہنا تھا کہ حضرت شاہ کیران سے پہلے کے وقتوں میں، کری کی ویران جھنگیوں میں پیل کفتر رہا کرتے تھے۔ پیل کفتروں کا رنگ سفید تھا، دو ہاتھ برابر پر، اور گدھ جیسی گنجی گردن تھی۔ اس عجیب جانور کی بالشت بھر لمبی چونچ تھی، جس میں اوپر تلے آریاں بنی ہوتی تھیں، وہ صحرا میں مر چکے جانوروں کے خشک ڈھنچروں پر بیٹھتے اور ان کی ہڈیاں کھاتے تھے۔ ان کے غول راتوں کو کری کے جھنڈ میں اکٹھے ہوتے اور ان ویرانوں سے رات بھر زور سے رونے اور دیوانہ وار ہنسنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ صحرا میں سفر کرتے ہوئے اگر کسی بیاہتا کا اس سے سامنا ہوتا تو اس کی کوکھ بنجر ہو جاتی اور جو جوان ایک بار ان کے ویرانے سے ہو آتا، اس کے چہرے کا ماس لٹک آتا، ڈاڑھی سفید ہو جاتی اور وہ ہفتوں میں بوڑھا ہو جاتا تھا۔ جو شخص پیل کفتروں سے جنگ کا منصوبہ بناتا تھا، دنوں میں ہی اس میں دیوانگی کے آثار نمودار ہونے لگتے اور وہ صحرا کی ریت پھانکتا ہوا مر جاتا۔ کسی ریگستانی باشندے کو پیل کفتروں کی نحوست پر کوئی شبہ نہیں تھا، لیکن کوئی بھی ان کے ویرانے میں جا کر ان کے بندوبست میں دخل دینے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔

 

ساربان نے بتایا کہ صدیاں پہلے ملک عرب میں وہاں کے ایک خدا رسیدہ بزرگ کو ایک عجیب و غریب مرض لاحق ہوا۔ شیخ کی ڈاڑھی کے بال جھڑ گئے اور قوت مردانہ جاتی رہی۔ خدا نے انہیں بے پناہ مال و حشم سے نوازا تھا، لیکن انہیں اپنے ترکہ کے وارثِ صلبی کا ابھی انتظار تھا۔ حکماء نے انہیں بتایا کہ پیل کفتر کا جگر، ان کے مرض کا علاج ہے۔ شیخ نے پیل کفتر کا غول شکار کرنے کی ٹھانی۔ وہ تیر اندازوں، عقاب و شہباز بردار دستوں اور پیل کفتر کی نحوست کا توڑ کرنے کے لیے عاملوں ساحروں کی الگ الگ فوج کو ساتھ لیے، طویل مسافت کے بعد کیران کے قریب ایک ٹیلے پر خیمہ زن ہوئے۔ پیل کفتر اڑ اڑ کر آتے اور ہڈی کے بنے طلسماتی منکے شیخ کے دستوں کی طرف پھینکتے۔ منکا گرتے ہی شیخ کے شہباز و شاہین پھڑپھڑانے اور اپنے پروں کو نوچنے لگتے۔ ادھر شیخ کے ساحر و عامل اپنے سفالی کٹوروں سے پانی چھڑک کر منکے کا طلسم توڑ دیتے اور ادھر پیل کفتروں کے سینوں کی شست باندھے تیر انداز سوفاروں سے انگلی چھوڑ دیتے۔ چالیس دن اور چالیس راتیں بستی کیران کے لوگ اپنے گھروں میں دبک کر اس جنگ کا شور و غوغا سنتے رہے۔ چالیسویں دن بستی کے لوگ گھروں سے نکلے تو پورے ریگستان میں کوئی پیل کفتر باقی نہیں تھا۔ اس عجیب نسل کے سبھی پکھشی مارے گئے تھے، ان کا گوشت عقابوں کو کھلایا گیا اور ان کے جگر بھون کر شیخ کے خوان پر سجائے گئے۔ شیخ نے اپنی تجوریوں اور غلے کے ذخیرے بستی والوں کے لیے کھول دیے، دور ویرانے میں جہاں پیل کفتروں کا بسیرا تھا، سبھی بدشگون کریوں کو جلا دیا گیا۔ گھروں کے دروازوں پر سبز شاخوں کے دستے آویزاں کیے گئے اور بستی میں رات بھر جشن منایا گیا۔ پیل کفتر کے جگر کی تاثیر سے شیخ کا شباب لوٹ آیا اور بستی والوں نے اپنی کنواری لڑکیاں شیخ کے حرم کے لیے نذر کیں۔ بستی کی وہ سب عورتیں جن کی کوکھ پیل کفتر کے نحس سائے نے بنجر کر دی تھی، انہیں شیخ کے خیمے میں پیش کیا گیا اور ان سب کی کوکھ بارآور ہوئی۔

 

ٹبہ شاہ کیران کا منارہ صحرا میں چلتے ہوئے کافی دور سے نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ اساڑھ کی دوپہروں میں سراب کے پار یہ منارہ دور سے پرچم کی طرح پھڑپھڑاتا ہوا نظر آتا ہے۔ جوں جوں اس کے قریب آتے ہیں، پیلائے ہوئے مرمر کا یہ منارہ واضح اور جامد ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اس کے آس پاس ٹیلے پر زائروں کی ٹولیاں، بساطیوں کے خیمے اور اونٹوں گھوڑوں کی چہل پہل، یہاں کسی لوک اجتماع کا پتہ دینے لگتے ہیں۔ مقبرے کے صدر دروازے کی جانب جانے والے راستے کے دونوں طرف بازار سجا ہوا ہے۔ حلوائی، منکے فروش، سپیرے، مداری، کوزہ فروش، جواری اور فال والے اپنی اپنی بساطیں بچھائے زائروں کو لبھاتے اور بلاتے ہیں۔ صدر دروازے کی لکڑی سیاہ پڑ گئی ہے، جس کے تختوں پر قطار میں بڑے ٹوپ کی میخیں گڑی ہیں۔ صدر دروازہ اتنا بڑا ہے کہ اس میں سے ایک سوار، بنا جھکے گزر سکتا ہے۔ لیکن یہ دروازہ صرف میلے کے دنوں میں کھولا جاتا ہے، عام دنوں کے لیے دروازے کے اندر ایک ذیلی دروازہ ہے، جس سے بمشکل جھک کر گزرا جا سکتا ہے۔ دروازے میں داخل ہوتے ہی پکی اینٹوں کا وسیع صحن ہے، جس میں زائر ٹہل رہے ہیں، کچھ دیوار کے سائے میں سو رہے ہیں، کچھ چٹائی بچھا کر عبادت میں مصروف ہیں۔ صحن کے وسط میں ایک کنواں ہے جو صدیوں سے خشک ہے۔ مقبرے کی مرکزی عمارت بھی لال کیری اینٹوں سے بنی ہے۔ صحن میں ٹھیک سے جھاڑو کیا گیا ہے لیکن ریگستانی ہواؤں نے پوری عمارت پر گرد کا تازہ لبادہ چڑھا دیا ہے۔ دیواروں کی سنگھا شاہی طرز کی اینٹیں بنیادوں سے گل کر لال مٹی گرا رہی ہیں، اوپر اینٹوں کی درزوں میں اڑسی اگر بتیوں نے ساری فضا کو روحانیت سے معمور کیا ہوا ہے۔ عمارت کا اگلا حصہ ایک محراب دار برآمدہ ہے جہاں پکے رنگ کی ایک عورت ڈھولکی پر مقامی بولی میں مناجات پڑھ رہی ہے؛

 

تیرا ڈیوا چڑھے ہر سال وو
دے عمراں والڑا بال وو
سائیں شاہ کیراں لجپال وو

 

برآمدے سے گزر کر مقبرے کے اندر داخل ہوں تو گلاب کی خوشبو اچانک دماغ تک آتی ہے، لیکن کہیں گلاب کی کوئی پتی نظر نہیں آتی۔ شاید یہاں عرق گلاب چھڑکا گیا ہے۔ مقبرے کی مرکزی عمارت میں قبر سے مشابہہ کوئی چیز نہیں ہے۔ گنبد کے عین نیچے ساگوان کے ایک نفیس جنگلے کے درمیان سبز و سرخ چادروں میں لپٹا چکنی مٹی اور پھونس کے گارے سے بنا انسانی لِنگ کا ایک مجسمہ ایستادہ ہے۔ اس ریگزار میں چکنی مٹی کا وجود بھی مرمر کی طرح ہی بیش قیمت ہے، لنگ کی لیپائی تازہ ہے، اس کی اونچائی کوئی سوا گز ہو گی، جس کا کوئی چوتھائی حصہ خشک میووں، گڑ مشری کی ڈلیوں، بتاشوں اور تمباکو کے سوٹوں میں گھرا ہوا ہے۔ ساتھ نقد چڑھاووں کے لیے ایک چوبی گلہ دھرا ہے۔ دیواروں پر روشندان ہیں جن میں نہایت قرینے سے چھوٹے چھوٹے ہشت پہلو روزن بنائے گئے ہیں۔ اوپر چھت کے وسط میں بہت بڑے پیالے جیسا گنبد ہے، چھت سے پیتل کے بڑے بڑے تین ناقوس لٹکے ہیں۔ میرے پیچھے کھڑی ایک مقامی عورت فرفر ہونٹ مٹکاتی زیر لب کچھ پڑھ رہی ہے۔

 

عورت نے لنگ کے پیچھے ایستادہ ایک بڑے مرمریں کتبے کے پہلو میں پڑی چادر کو سرکا کر ہاون دستے جیسی ایک چوبی چیز نکالی جس کا ایک پہلو پٹ سن کے دھاگے کے ساتھ کتبے کے پہلو میں کہیں بندھا ہوا تھا۔ میں نے کن انکھی سے عورت کے ہاتھ میں اس چیز کو دیکھا۔ یہ کسی بڑھئی کی خراد پر گھڑی گئی انسانی لنگ کی ایک اور شبیہہ تھی، جس پر کھاٹ کے پایوں والے رنگ سے سرخ، زرد اور سیاہ رنگ کی خوشنما دھاریاں بنی تھیں۔ اس عورت نے چڑھاووں کے گلے پر اپنا ایک پیر جمایا اور بلا جھجک دائیں ہاتھ میں تھامے ہوئے اس چوبی لنگ کو اپنے لہنگے میں چھپا لیا۔ وہ دوسرے ہاتھ سے اوپر لٹکا پیتل کا ناقوس بجائے جا رہی تھی، جبکہ اپنے لہنگے میں چھپائے ہاتھ کو ناقوس بجاتے ہاتھ سے کہیں رواں آہنگ کے ساتھ حرکت دیے جا رہی تھی اور زیر لب کچھ پڑھے جا رہی تھی۔ میرا دھیان اس مرمریں کتبے کی طرف گیا، جس کے پہلو کے ساتھ ایسے کوئی درجن بھر چوبی لنگ باندھے گئے تھے۔ نفیس دہلوی نستعلیق میں لکھا ہوا یہ کتبہ کافی پرانا لگ رہا تھا؛

 

“حضرت شیخ حیی بن حیان، المعروف بہ حضرت شاہ کیران، متولد در ارض نجران بمطابق سال ٦٣٣ھجری، ثمّ متہاجر در ریگزار ہندوستان، در سال ٦٧٧ھجری۔ مؤلف تذکرۃ الکبار در بارۂ وی می نویسد؛ شیخ موصوف بہ عون خدائے متعال معمورۂ دنیا میں صاحب نعمت و مال اور معرفت حق میں صاحب کشف و کمال ہیں۔ عہد غلاماں میں وطن مالوف عرب سے ریگزار ہند میں سریر آرائے توطن ہوئے ہیں اور اس خرابے کو اپنا جوار مطلع انوار بنایا ہے۔ پرند توحش نشین و ادبار آفرین موسوم بہ پیل کفتر سے بعد از مبارزۂ خونین فتح مبین پائی ہے اور دہ نشینان کیران کو اس حیوان موذی کےمنقار بد آثار سے نجات دوام دلائی ہے۔ آپ کا فیضان مراد امکان بے بار ارحام مادر کے لیے مژدۂ اولاد نرینہ کا سامان ہے۔ جسد مبارک ان کا وطن مالوف میں مدفون ہے، جبکہ قضیب مبارک ان کا قریۂ کیران میں مرجع حوائج خاص و عام ہے۔”

 

مقبرے کے باہر مجھے کچھ الف ننگے سادھو نظر آئے، جن کے پہلو میں لنگ کی جگہ پرانے زخم تھے، اور اس جگہ پیتل کی گھنٹیاں لٹکی تھیں جن کے دھاگے ان کے کالے کچیلے کولہوں کے گرد حمائل تھے۔ وہ ونڑ کے ایک پیڑ کے نیچے بیٹھے سلفیوں میں بھر بھر کے گانجا پیے جا رہے تھے۔ میں ان کے پاس گیا تو ایک نوعمر لنگ کٹے سادھونے، جو ابھی بہ مشکل بالغ ہوا ہو گا، میرے لیے جگہ چھوڑ دی اور ایک بوڑھے سادھو نے میرے بیٹھتے ہی اپنی سلفی میری طرف بڑھا دی۔ باتیں شروع ہوئیں تو ایک سادھو نے مجھے بتایا کہ بہت پہلے رواج تھا کہ ہر اساڑھ کی پہلی کو گاؤں کی ایک نوجوان دوشیزہ کو برہنہ کر کے یہاں لایا جاتا اور کیران کے نورل قصاب کے آباء میں سے ایک قصاب اس دوشیزہ کے پستان قطع کر کے کنویں میں پھینک دیتا۔ اس کے بعد اس دوشیزہ کے سینے میں چاقو پیوست کر کے اسے نیم مردہ حالت میں کنویں میں پھینک جاتا دیا جاتا۔ کنویں کے پیچھے جو ٹوٹی اینٹوں کی شکل میں جو چبوترے کی سی باقیات نظر آتی ہیں، یہاں مجاوروں کا تخت سجتا تھا اور وہ بلندی سے لڑکی کو تڑپتا ہوا دیکھتے تھے اور اس کے ٹھنڈا ہوتے ہی میلے کا مارو بجا دیا جاتا۔ اس نے کہا کہ سالوں پہلے یہ رسم ختم کر دی گئی تھی، لیکن جب سے یہ رسم ختم ہوئی ہے، شہر میں کوڑھ کی وبا پھر سے سر اٹھانے لگی ہے۔ بوڑھے سادھو نے یہ بھی بتایا کہ حضرت شاہ کیران کی زندگی میں کوڑھ کی وبا عام ہوئی تو آپ نے گاؤں کی ایک بدمزاج لڑکی کو اپنے حریم میں پیش کیے جانے کا حکم دیا۔ اس بدبخت نے خیمے میں پیش کیے جانے کے بعد شیخ کا حکم نہ مانا اور شیخ نے اس کے پستان کاٹ کر یہاں کنویں میں ڈالے اور پھر اس کے جسم کو تڑپنے اور مرنے کے لیے اس میں پھینک دیا۔ اس لڑکی کے مرتے ہی گاؤں کے سبھی کوڑھی اچھے ہو گئے۔ لیکن وہاں سے اٹھتے ہی ایک اور سادھو نے میرے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے مجھے بتایا کہ اصل میں اس رات شیخ عالم استغراق میں تھے کہ اس عورت نے شیخ کی تلوار سے انہیں مار ڈالا اور ان کے ٹکڑے کر کے ایک پاگل اونٹ کو کھلا دیے۔ صبح کے وقت جب لوگ شیخ کی خلوت گاہ کی طرف آئے تو سامنے ریتلے صحن میں وہ پاگل اونٹ کھڑا تھا، اس نے جگالی کرتے ہوئے منہ سے شیخ کا لنگ ثابت حالت میں اگل دیا، جسے بعد میں اس جگہ دفنایا گیا۔ شیخ کے اس بیدردی سے مارے جانے کے بعد گاؤں میں کوڑھ پھیل گیا، لوگ اس لڑکی کو ڈھونڈ لائے اور اسے اس کنویں کے قریب بلی چڑھایا گیا۔ اس کے بعد جب بھی علاقے میں یہ وبا پھیلنے لگتی، اس رسم کو دوہرایا جاتا۔

 

میں مقبرے کے گرداگرد سجائے گئے عارضی بازاروں کے بیچ میں گزرتا ہوا بساطیوں اور ان کی دکانوں کو خالی نظروں سے دیکھتا جاتا تھا۔ ان میں سے کچھ بہت پرجوش انداز میں گاہکوں کو پکارے جاتے تھے، کچھ کے چہروں پر محض خاموشی اور انتظار تھا۔ میلے کی بھیڑ بھاڑ سے فاصلے پر کچھ خیمے تھے، جن میں تھکے ہارے جاتری سو رہے تھے، کچھ خیموں میں عورتیں آگ جلائے کچھ پکائے جاتی تھیں۔

 

میں سنگچور سانپ کی ایک لکیر پر چلتے چلتے بھیڑ بھاڑ سے کافی دور نکل آیا۔خبر نہیں کس وقت میں ایک اونچا ٹیلہ اترکر ایک ویرانے میں پہنچ گیا جہاں کہیں گنجے اور کہیں گھنے کری کے کانٹے دار پیڑ تھے۔ پاس ہی کسی پیڑ کی جڑ میں ایک صحرائی لومڑی زمین کھود کر نیچے نم مٹی باہر نکالے جاتی تھی۔ میرے سامنے کچھ فاصلے پر اونٹ کا ایک پرانا ڈھنچر پڑا تھا جو بالکل خشک تھا اور امتداد وقت نے اس کی ہڈیوں کو پیلا دیا تھا۔ میں اس ڈھنچر کے پاس آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ ویرانے میں ہوا چندے زور سے چلنے لگی اور مجھے ریت کے دھندلکے میں قہقہوں اور گریے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ میں ہواؤں کے تھمنے تک اپنے زانو میں سر دیے اس ڈھانچے کے پاس بیٹھا رہا۔ کچھ وقت میں ہوا تھم گئی اور ویرانے میں پھر سے خاموشی چھا گئی۔ مجھے اپنے پیچھے کسی پیڑ پر بڑے بڑے پروں کے پھڑپھڑانے کی آواز سنائی دی، لیکن میں نے مڑ کر دیکھنا مناسب نہیں سمجھا۔ میں اونٹ کی پسلی کی ایک ہڈی سے زمین پر بے سمت لکیریں کھینچے جا رہا تھا۔میں نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا، میری ڈاڑھی سفید ہو چکی تھی۔
Categories
شاعری

صدا کر چلے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

صدا کر چلے

[/vc_column_text][vc_column_text]

(چوک چوبرجی پر، زیر تعمیر اورنج لائن میٹرو کی سائٹ کے قریب ایک گرد آلود ناشتے سے پہلے۔۔۔)

 

تو اب یوں ہے کہ جینے سے اچٹتا جا رہا ہے جی
ہر اک امکانِ خوش وقتی سے رغبت اتفاقی ہے
جلیسِ منبرِ ہستی کا خطبہ سن چکا ہوں میں
بس اب اک زہر خندِ نیستی کی جائے باقی ہے

 

سنو اے ساکنانِ شہرِ ناپرسانِ بے حالاں
یہاں سے اپنے خوابوں کے جنازے ڈھو رہا ہوں میں
ارادوں اور آدرشوں کی بکھری کرچیاں چن کر
بس اک دو دن میں اپنے گھر روانہ ہو رہا ہوں میں

 

ابھی کچھ وقت میں اس کا صفایا ہو چکا ہو گا
یہ اک آلودگی جو راستوں کو کاٹ کھاتی ہے
یہ اک بے ڈھنگ سا جو نقشِ پا سڑکوں پہ دِکھتا ہے
یہ اک مجذوب سی آواز جو گلیوں سے آتی ہے

 

یہ آوارہ جسے مارا نئی سمتوں کے دھوکے نے
یہ بھک منگا جو ان جاڑوں میں ننگے پاؤں پھرتا ہے
یہ بدمستا کہ جو اپنے غرورِ ناتوانی میں
سنبھلتا ہے، قدم بھر ڈگمگا جاتا ہے، گرتا ہے

 

جو شورِ محض میں پل بھر کو توفیقِ شنیدن ہو
تو ہر سیدھی نصیحت سن کے الٹی بات کہتا ہے
مثالی منظروں کو آپ ہی میں نقش کر کے پھر
انہی امثال کے خودساختہ زنداں میں رہتا ہے

 

کسی نے بات کی، اس کی زباں بولی کہ ہکلائی
کسی نے حال پوچھا، آنکھ ہے، کمبخت بھر آئی
کسے معلوم اس مجلوق تنہائی سے کچھ پہلے
اسے کس طور حاصل تھا دماغِ بزم آرائی

 

سخن کے باب میں اک اعتمادِ تام تھا اس کو
یہ حرف و صوت کے قضیوں پہ کھل کر بات کرتا تھا
بزرگوں کے بہت سے برمحل اشعار پڑھ پڑھ کے
یہ شمعِ بزم کی لَو بن کے دن سے رات کرتا تھا

 

زمستاں اس کو نرم و گرم پہلو میں سلاتا تھا
اجازت لے کے بجتی تھیں بہارِیں نوبتیں اس سے
منڈیروں کے پرندے اس کی سیٹی سے شناسا تھے
گلی میں کھلکھلا کر بولتی تھیں عورتیں اس سے

 

خوشا وقتے کہ جانش بود جانِ حلقۂ خوباں
حضورِ دلربایاں شغلِ ساز و نغمہ ھا کردن
شبِ آدینہ با ابرِ سپیدِ مَے پریدنھا
زمانہا بر دریچہ انتظارِ آشنا کردن

 

اسے کیا کیا نموئے شوق کی دولت میسر تھی
فراغِ ذوقِ بیکاری، خمارِ شانِ رسوائی
شبستاں اس کو بیداری کی خلعت سے نوازے تھے
مگر پھر بھی انہی جادوئی راتوں سے نہ بن پائی

 

سنو اے ساکنانِ شہرِ ناپرسانِ بے حالاں
ہوا اب بند مجھ پر یہ درِ بازارِ محرابی
تمہارے شہر کی راتوں میں اب کم کم ہی ملتی ہے
وہ دلجوئی، وہ جاں بخشی، وہ بے فکری، وہ خوش خوابی

 

یہ چادر اور پھیلانے کو پاؤں بھی تمہارے ہیں
ہوس کی راہ میں کیوں سرخ قالینیں بچھاتے ہو
تم اپنی حسرتِ تعمیر کو پالو، مگر یہ کیا
مرے رومان کے پالے مقابر ڈھائے جاتے ہو

 

کسی موہوم سی آسائشِ فردا کے چکر میں
حکایاتِ غمِ دیروز کا نقشہ بدلنا کیوں
تمہیں کس نے کہا ہر سست رو کے ساتھ چلنے کا
سبک قدمی میں لیکن سبزۂ رَہ کو کچلنا کیوں

 

عدم کی شاہرہ پر راستے کیا، اور منزل کیا
تم اس پر جس قدر رفتار پاؤ، کچھ نہ پاؤ گے
جہانِ ارتقا کی بھول بھلیوں اور سرابوں میں
یہی کچھ دور تک دوڑو گے اور پھر ہانپ جاؤ گے

 

الم یہ ہے کہ قرنوں کے نشانِ وقت پیما بھی
اسی تاریخ کے ٹکڑوں پہ ہی اب پل نہیں سکتے
ستم یہ ہے کہ اطوارِ تمدن کی بساطِ نو
بچھی ہے یوں کہ اب اس پر پیادے چل نہیں سکتے

 

تمہارے شہر میں اک اجنبی راہگیر ہوں اب میں
یہاں پر مجھ کو اک ذاتی ضروری کام تھا، سو ہے
مرے رومان کی دنیا بھلے سنورے، بھلے اجڑے
تمہارا شہر اک دلکش کتابی نام تھا، سو ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
فکشن

مجنون

ریگ مال سلسلے کی بقیہ کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

وہ کنویں کے کنارے پر جھکا کافی دیر سے لمبے سانس لے رہا تھا۔ پیاس اور خستگی نے رسی کو اس کے ہاتھوں پر کچھ اور بھاری کردیا تھا۔

 

“شاید مشکیزہ بھر گیا ہے”، اس نے رسی کو کھینچنا شروع کیا۔ مشکیزہ اوپر لوٹتے ہوئے اپنے اصل وزن سے کچھ زیادہ بھاری تھا۔ وہ مشکیزے کو نکال کر اپنے چہرے کے آگے معلّق رکھتے ہوئے اسے گھورنے لگا۔ پیچھے راہ میں پڑنے والےسبھی کنوؤں کی طرح یہ کنواں بھی کب کا خشک ہو چکا تھا، مشکیزے پر نمی کا شائبہ نہیں تھا۔

 

“پھر یہ اس قدر بھاری کیوں لگا؟” اس نے مشکیزے کو ہاتھ سے پلٹا تو اس پر سے ایک بڑا سیاہ عقرب لوٹتا ہوا اس کے ہاتھ پر چڑھ آیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے ہاتھ جھٹکتا، عقرب کا دوپھلا نیش اس کی ہتھیلی کی پشت پر پیوست ہو چکا تھا۔ درد کی شدت سے اس کے منہ سے ایک چیخ نکل کر ٹیلوں میں گم ہو گئی۔ اس نے دوسرے ہاتھ سے اپنا بید تھاما اور چار قدم بھاگنے کے بعد منہ کے بل گر پڑا۔ وہ ریت پر پڑا تڑپنے اور بل کھانے لگا۔ جلتی ریت اس کا منہ بھر رہی تھی۔

 

“ہائے کیا مصائب کی کوئی کسوٹی یہ تقابل کر پائے گی کہ بنو عامر کے سبزہ پرور افلاج مجھ پر زیادہ نا مہربان رہے یا کہ نجد کا یہ بے گیاہ و آب ریگزار۔۔!!”

 

وہ رک رک کر کراہنے کے انداز میں خود کلامی کرنے لگا اور پھر خفقان کی ایک لہر کے ساتھ اس کے ہاتھ اور پیر خود بخود کھنچنے اور مڑنے لگے۔ اس کے پنجوں کے ناخن اس کی نیم عریاں چھاتی پر خون آلود سرخ لکیریں کھینچتے گئے۔ اس کی خرخراتی ہوئی آواز خاموش ہو گئی، جسم ساکت ہو گیا اور جنوب کی ہوا اس کے بدن کو ریت کی شفیق چادرسے ڈھکنے لگی۔

ــــــــــــــــــــــ

یکبارگی دشت میں ایک اور کربناک چیخ سنی گئی اور بادِ جنوب کے تھپیڑوں نے سکوت اختیار کیا۔ ابرِ سفید کو خبر دی گئی کہ قیسِ مجنوں نے صحرا میں بے ہوشی سے آنکھ کھول دی ہے، اور چلچلاتی دھوپ کو اس کی پیشانی سے ٹکرانے کا راستہ دے دیا گیا۔

 

اس نے آنکھیں ملیں اور چندھی ہوئی نظروں کے ساتھ سورج سے آنکھیں ملانے کی کوشش کی ، لیکن اس کی تابانی نے اسے آنکھیں موند لینے کا حکم دے دیا ۔ وہ دھوپ کی جانب پشت کرکے نحیف لیکن لمبے ڈگ بھرنے لگا۔

 

“بتا تو کون ہے، جس نے مجھےیوں بے دست و پاکر کے مکان و زمان کی ابدی منجدھار کے عین وسط میں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ اگر تو بدارادہ غنیم ہے تو میرے سامنے کیوں نہیں آتا، اور اگر تو آفات کے پروردہ دارالامارہ کا فرستادہ ہےتو میری فردِ جرم مجھے صاف پڑھ کر کیوں نہیں سناتا؟؟ تیرا ڈنگ باپوں سے بیٹوں کو جدا کر دینے والی طاعونی وباسے بڑھ کر زہریلا ہے اور تیرا فریب نخلستان کے جھوٹے سراب سے بڑھ کر مرگ آور ہے۔ کیا تو بدشگون غولِ بیابان ہے جو اس بسیط تنہائی میں میرے گرد اوہام کی فصیلیں چُنتا جاتا ہے؟ یا تو رقیب روسیاہ گلابِ ثقفی ہے جو لیلیٰ کے فردوس شمائل پہلو کی قربت کو مجھ سے چھین کر بھی قانع نہیں ہوتا؟ کیاتو میرے ان پریشان شعروں کی بازگشت ہے جو میں ریت پر لکھ کر اس خیال سے آگے چلتا گیا کہ تیز جھکڑ انہیں مٹا دیں گے، لیکن ہواوں نے خیانت کی اور دشت کے ہر گرگ وغزال کو میرے رازوں سے واقف کر دیا۔۔۔”

 

وہ کچھ اور تیز چلنے لگا اور قریب ٹیلے کے دامن میں بیٹھا ایک سوسمار دوڑ کر اپنے بل میں گھس گیا۔ وہ بدستور دوڑتے ہوئے اپنے گریبان کے چیتھڑوں کو نوچنے لگا۔

 

“مجھے بتا تو کون ہے جو رات ہوتے ہی کرب اور تنہائی کی دردناک ٹیسیں میرے سروچشم پر صادر کرنے لگتا ہے۔ جب کبھی پائے آوارگی مجھے شمال کی جانب چلنے پر مائل کرتا ہے تو تُوفلک پر جہازی ستارے کو جنوب کی طرف پھیر دیتا ہے۔ اور جب میں رُخِ لیلےٰ کی تازگی کو یاد کر کے اپنے عصا سے ریت پر کوئی قوس کھینچتا ہوں تو توُ دشت کی جھاڑیوں سے سبزگی کا شائبہ تک اڑا لیتا ہے۔ اگر توُ یہاں میرے سامنے آئےتو تجھے اس عصا کی نوک پر اپنے آگے چلاوں، تُو تشنگی اور یاس کے اس دوزخ میں اپنا آخری دن گزارے، تیرے جلتے ہوئے سانسوں سے خود تجھے ایسی بو آئے ، جیسے ذخیرہ کرنے کے لیے اُبالے جا رہے نمک لگے گوشت سے بھاپ اُٹھتی ہے۔ تیری آنکھوں سے چمک اُٹھا لی جائے اور تو اس تپتے صحرا میں خود اپنے کلیجے کا گوشت بھون کر کھائے۔ صحرا کی کالی آندھیاں تیرا پتہ پوچھتی پھریں اور وہ کنڈیاری جھاڑیوں کا ایک سیلِ بلاخیز تجھ پر چڑھا دیں، جن کے کانٹوں کی مسموم نوکیں تیری پُھولی ہوئی نسوں کا نشانہ لے کر طوفان کو تیری رگ رگ میں اُتار دیں۔ تو اپنے گزرے ہوئے اچھے دنوں کا ماتم کرتا ہوا یوں مرے کہ تیرے قبیلے کی مائیں قیامت تک اپنے بیٹوں کو اکیلے ویرانے میں جانے سے منع کردیں۔۔۔”

 

وہ چلتے چلتے رک گیا اور خاموش ہو کر اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ پورا ریگزار خاموش تھا۔ ہوا تھمی ہوئی تھی، لیکن کسی ممکن اور موہوم سے جھونکے کی سمت جاننے کو اس نے مٹھی بھر ریت اٹھائی اور ہاتھ بلند کر کے زمین پر گرانے لگا۔ ریت کسی عمود پیماکے دھاگے کی طرح سیدھے اپنے ثقلی محور پر پڑتی رہی۔ ہوا واقعی تھمی ہوئی تھی۔ وہ زمین اور آسمان کی طرف باری باری دیکھ کر کئی دقیقے تک ساکت کھڑا رہا اور پھر زمین بیٹھ گیا۔

 

“لیلےٰ! اگر تو اپنے حضری خیمے میں بیٹھی ناونوش میں مشغول ہے تو میری تشنہ سانسیں تیرے پیالے میں پڑی نبیذ کو جالیں گی اور اسے زہر بنا دیں گی، اور اگر تیرا محمل اِسی بادیہ میں کہیں تیرتا ہے تو میں تجھے ڈھونڈ نکالوں گا اور تجھے تیری عماری سے اتار لوں گا۔ دیکھ ، اس ریگزار نے مجھے اپنے بید کے عصا سے بڑھ کر خشک اور منحنی بنا دیا ہے، میں اب تیرے چشم و رخسار سے بڑھ کر تیرے سینہ و گردن پر پڑے پسینے کے ان قطروں کا مشتاق ہوں، کہ ان پر اپنی زبان رکھتے ہی میں “س” کی سی آواز سنوں گا، جیسے جلتی ہوئی لکڑی پر پانی کا قطرہ پڑنے سے آواز آتی ہے۔ اس قدر صاف اور واضح ، جیسے زبان اپنے جوفی مخرج سے ‘سین’ کا صوتیہ ادا کرتی ہے۔ آل ِ ہوازن میں میری دیوانگی اور میرے سر کا سودا تیرے عشق سے عبارت کیا جاتا ہے، اور کیو ں نہ ہو، اب میرے ہاں تیرا جمال ہی کسی نخلستانی نم کا سراغ پانے کا حتمی استعارہ ہے۔ میں نے اس بیابان کو اس کی قشری تہہ تک کھود ڈالا ہے کہ کہیں کسی نم کا کوئی سراغ ڈھونڈ پاؤں۔۔۔ لیکن میرے حصے میں صحرا کی شرمسار خاموشی کے سوا کچھ نہیں آتا۔۔۔”
وہ ایک بار پھر بولتے بولتے خاموش ہو گیا اور اپنے عصاکو ہاتھوں میں لے کر سامنے کی ریت پر گھونپ دیا ۔ پھر اسے باہر نکال اس کے سرے کو چکھنے اور سونگھنے لگا۔ وہ کچھ سوچنے کے بعد اپنی جگہ سے اٹھا اور سامنے ٹیلے کی ٹوپی پر جا کے کھڑا ہو گیا۔ اس نے خطبہ دینے کے انداز میں لاٹھی کو ریت پر ٹکا دیا اور اس پر دونوں ہاتھوں کا بوجھ ڈال کر اپنے جوانب سے مخاطب ہوا۔

 

“اس دشت کے چرند پرند اور سنگ و نبات میرے نام سے واقف ہیں۔ میں قیس بن الملوّح بن مزاحم العامری الہوازنی ہوں۔ اس جگہ کے شتروشغال میرے نقوش پا سے آشنا ہیں۔ میں اس مقام پر ایک نیا کنواں کھودنا چاہتا ہوں، اگر میرے یمین اور میرے یسار کو، یا دیروز اور فردا میں یہاں سے گزر رہے کسی قافلے کو اس مقام پر کوئی دعویٰ ہے تو میری صدا کا جواب دے اور مجھ سے ہمکلام ہو، تاوقتیکہ میں اپنے معمار ہاتھوں اور اپنی پریشانئ طبع کے سنگ و خشت کو معرضِ استعمال میں لاؤں۔۔۔”

 

کئی دقیقوں پر محیط توقف کے دوران تل ودمن پر سکوت چھایا رہا، افق پر کوئی ابر نمودار ہوا نہ کسی پرندِ نامہ بر کا نشان دیکھا گیا۔ اس مہین سے انتظار کے بعد اس نے اپنی عبایہ کو سنبھالا، آستین تہہ کیےاور پٹکا اپنی کمرسے باندھ کر دونوں ہاتھوں سے ریت کو سمیٹنا شروع کیا۔ وہ “فعلن فعلن فعلاتن” کی تال میں سمجھ میں نہ آنے والی کوئی بات بڑبڑا اور گنگنا رہا تھا، اور اسی آہنگ میں ریت کھود رہا تھا۔ شاید کہیں کسی جگہ وہ لیلےٰ کا نام دوہراتا، کبھی بگاڑتا تھا، اس دھن میں وہ کئی بالشت گہرا گڑھا کھود چکا تھا۔ اس گہرائی تک ریت میں کوئی نم محسوس نہیں ہوا، لیکن اسے اپنی انگلیوں پر کوئی سخت شے اٹکتی محسوس ہوئی۔ اس نے جھٹ سے اس جگہ کے اطراف سے ریت ہٹانا شروع کی۔ یہ ایک انسانی ڈھانچہ تھا۔ اس نے ہاتھوں سے اس استخوانچے کو جانچنا چاہا اور ساتھ ہی اسے اس میں حرکت ہوتی محسوس ہوئی، اس کے سفید پنجے نے قیس کی قبا کا دامن پکڑ لیا۔ اس نے جھٹ سے اٹھ کر اپنا دامن چھڑانا چاہا اور چلّانا شروع کر دیا؛

 

“بتا تو کون ہے؟؟ کون ہے تو؟؟”

 

“میں اس صحرا کے زمانہ گیر سکوت اور تنہائی کا پروردگار، قیس ہوں۔” اس ڈھانچے نے کلام شروع کیا۔

 

“تو محض ایک ناشدنی مُردار ہے، جسے میں نے ابھی ابھی ریگِ عدم سے باہر نکالا ہے۔ میرے عامری خدوخال اور میرے چہرے کی شکنوں کو غور سے دیکھ، قیسِ عامری، دنیا جسے مجنوں کے لقب سے جانتی ہے، وہ میں ہوں!!” قیس نے غصبناک ہو کر کہا۔

 

“تو کہاں کا مجنوں ہے! تیرے چہرے پر گوشت پوست ابھی باقی ہے، خرد کے پانچوں دروازے، تیرے حواس ابھی تک تجھ پر کھلے ہیں، حیات کے سبھی لذائذ کا ہر امکان ابھی بھی تیری راہ میں ہے، تو کہاں کا مجنوں ہے؟!” ڈھانچے نے چرچراتے ہوئے جبڑوں کو ہلاتے ہوئے کہا۔

 

“تف ہے تجھ پر کہ تُو نے اس کالبدِ خاکی کو تیاگنے کا نام ہی جنون سمجھ لیا ۔ میرے حواس اور میرا جسم بوسہ محبوب اور محافل ناونوش سے اتنا مانوس نہیں، جتنا کہ یہ مارومگس کے ڈنگ اور سنگ و خار کی چبھن کا خوگر ہے۔ میں نے اپنے تلووں کے آبلوں کی اپنی لاڈلی اولاد کی طرح پرورش کی ہے۔ جس دن میرا باپ میری دیوانگی کا علاج ڈھونڈنے مجھے کعبہ میں لے گیا تھا، اس نے مجھے وصلِ لیلےٰکی خواہش ترک کرنے اور بنو عامر کے جری سپوت لبید بن ربیعہ سی باوقار زندگی گزارنے کی نصیحت کی تھی۔ اس نے انگلی کے اشارے سے دیوارِ کعبہ پر آویزاں لبید کے معلّقے کے شعر میرے آگے پڑھنا شروع کیے؛

 

فَاق٘طَع٘ لُبَانَۃَ مَن٘ تَعَرَّضَ وَص٘لُہٗ
وَ لَخَیرَ وَاصِلِ خُلَّۃٍ صَرَّامُھَا

 

لیکن میں نے اپنی جواں سال رسوائی کے آگے لبیدِ عامری کے صد و بیست سالہ با منزلت زندگی نامے کو ہیچ جانا اور ربّ کعبہ سے اپنے سینے کے زخموں کی خیر مانگی۔ کیا تو بادیہ کے تیوروں میں ابرباراں کے چھینٹوں ، طوفانِ گردباد کے بگولوں اور سلگتے تابستانی ہیزم میں، ریت کے بدلتے ہوئے رنگوں کو نہیں دیکھتا؟ لبید نے ایک خواب آور آہستگی میں پلے ہوئے ، ایک صاف گو ریگستان میں آنکھ کھولی، اور دشت کے تربہ و ریحان سے اپنے مضامین کا کسب کیا۔ جبکہ خوف و عناد اور موت کا پروردہ ایک پر نزاع ریگزار میرے حصے میں آیا۔ میرے قبیلے نے خوف اور نزاع سے نشان منزل کا اکتساب کر کے خزانے کا ایک جھوٹا نقشہ بنایا اور اپنے اونٹوں کے گلے میں لٹکا لیا، جبکہ میں نے لیلےٰسے مفارقت کو ، شکستِ ذات کے اس ابدی حوالے کو اپنے سفر کا تعویذ بنا کر اپنے پیروں سے باندھا۔ میرے قبیلے میں جس طرح لبید یکتا تھا، اسی طرح میں بھی اپنے قبیلے میں فرد ہوں۔ تو کون ہوتا ہے میری خلوت میں دخل دینے والا!!”۔ قیس اس لہجے میں بول رہا تھا کہ اس کے جسم کا پانی اگر سوکھ نہ چکا ہوتا تو بات کرتے ہوئے اس کا منہ کف سے بھر گیا ہوتا۔

 

“مہدی بن سعد عامری کی لڑکی محض ایک نام تھی، لیلےٰ، قیس عامری کے ابہام زدہ عرفانِ آدمیت اور اس کی حیوانی جبلتوں کے بیچ ایک حل نہ ہونے والے نزاع کا نام ہے، لیلےٰکا وجود محض قیس کے آغاز و انجام کے بیچ پھنسی ہوئی نجات اور باریابی کی ناآسودہ خواہشوں کا آسیب ہے۔ اور تیری یہ خلوت بھی ایک فریب ہی ہے، تیرا قبیلہ بھی تیرے ساتھ سفر میں ہے، اور تیری منزل ان سے الگ نہیں ہے۔ تاہم کوئی بھی وہ موت نہیں مرتا جو اس نے خود اپنے لیے نہ چُنی ہو۔ ‘ہونا’ تیرا جرم ہے اور’ہونی’ تیری سزا۔۔ اور یہ تُو ہےجو یوں آ کرمیری خلوت میں مخل ہوا ہے۔ میں قیس ہوں! قیس بن الملّوح بن مزاحم بن عدس بن ربیعہ بن جعدہ بن کعب بن ربیعہ بن عامر بن صعصہ بن معاویہ بن بکر۔۔۔” ڈھانچہ کچر پچر بولے جا رہا تھا۔

 

“میرے پیروں کے آبلوں کی توہین کر کے میرے ہی نام و نسب پر دعویٰ رکھتا ہے مُردار !!” قیس طیش میں آ کر اپنے عصاسے اس ڈھانچے کی کھوپڑی پر پل پڑا۔ لیکن اس کے جبڑے بدستور حرکت کرتے رہے؛

 

“بن ہوازن بن منصور بن عکرمہ بن خفصہ بن قیس بن عیلان۔۔۔” اس کے پُرزے ریت پر بکھر رہے تھے لیکن قیس اس پر لاٹھی برسائے جا رہا تھا۔

 

ڈھانچے کی آواز رفتہ رفتہ تھمتی گئی اور ساتھ ہی صحرا میں چاروں طرف سے کسی بے چہرہ انبوہ کا شور بلند ہونے لگا؛ ” مجنون ۔۔۔! مجنون۔۔۔۔! مجنون۔۔۔!”
Categories
فکشن

مٹری کی کہانی

mattri-ki-kahani-2

لوک کہانیاں کسی بھی تہذیب کی اپنی ثقافت، روزمرہ کے رہن سہن اور عام لوگوں کی خواہشوں، اندیشوں اور خیالوں کی ترجمان ہوتی ہیں۔ اب بھی بہت سے گھر کے بزرگ اپنے بچوں کو سونے سے پہلے اس طرح کی لوک کہانیاں سناتے ہیں اور کہانی نسل در نسل تعمیر ہوتی رہتی ہے۔ یہ کہانیاں بڑے ہونے کے بعد ناصرف ان بچوں کی اخلاقی زندگی پر اثرانداز ہوتی ہیں، بلکہ ان کی تخلیقی شخصیت کو بھی نکھارتی ہیں۔ ایرانی تہذیب بھی اپنے آپ میں شاعری، داستانوں اور قصوں کی تہذیب ہے۔ ایک ایرانی لوک کہانی “قصۂ نخودی” کا ترجمہ اسد فاطمی نے لالٹین کے اردو قارئین کے لیے کیا ہے۔

 

بہت پرانے وقتوں کی یہ بات ہے کہ ایک بہت شاداب سے گاؤں میں دو میاں بیوی رہتے تھے جن کا کوئی بچہ نہ تھا۔ وہ ہر وقت خدا سے یہی دعا کرتے رہتے کہ خدا انہیں اولاد دے۔
ایک دن کیا ہوا کہ وہ عورت شوربے کی پیالی ہاتھ میں لیے جا رہی تھی کہ پیالی میں سے مٹر کا ایک دانہ اچھلا اور تندور میں جا گرا۔ تندور میں گرتے ہی وہ مٹر کا دانہ ایک خوبصورت اور نٹ کھٹ سی بچی بن گیا۔
اسی اثنا میں اس کی ایک پڑوسن جو ہر وقت اس کا دماغ کھاتی رہتی تھی، اس نے دیوار سے سر اوپر کر کے کہا: “اری بہن! میری بیٹیاں جنگل میں پھل پھول چننے جانے لگی ہیں۔ اپنی بیٹی کو بھی ان کے ساتھ بھیج دو جنگل میں پھل پھول چننے”۔
اس عورت کا چونکہ کوئی بچہ نہ تھا، وہ سمجھی کہ وہ ہمسائی کا سر کھا رہی ہے۔ وہ اس بات پر بہت غمگین ہوئی اور ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے رونے لگی۔ مٹر نے رونے کی آواز سنی اور باتیں کرنے لگا، اس نے تندور کے اندر سے آواز سنی: “پیاری اماں! مجھے باہر نکالو اور ان لڑکیوں کے ساتھ جنگل بھیجو!”
عورت حیران اور پریشان سی ہو گئی اور سمجھی کہ وہ خواب دیکھ رہی ہے۔ اسی وقت اس کے کانوں پر آواز پڑی اور اسے اندازہ ہوا کہ آواز تندور سے ہی آ رہی ہے۔ وہ جلدی سے آگے بڑھی اور تندور کے اندر جھانکا اور ایک ننھی منی سی پیاری سی، بالکل ایک مٹر کے دانے جیسی چھوٹی سی بچی تندور میں پڑی ہے۔ وہ بہت خوش ہوئی اور اسے تندور سے باہر نکالا۔ اس نے اسے نہلایا دھلایا، اسے اچھے سے کپڑے پہنائے۔ اس کی بالوں میں مانگ کھینچی۔ اور اس کا نام رکھا مٹری۔ پھر اس نے پڑوسن کے بچوں کے ساتھ جنگل کی طرف بھیج دیا۔
مٹری پڑوسن کے بچوں کے ساتھ سورج ڈوبنے تک پھل پھول چنتی رہی۔ سورج پہاڑ کے پیچھے کہیں چھپ گیا اور سب بچوں نے کہا: “اب ہم گھر لوٹتے ہیں”۔
مٹری نے کہا: “ابھی بہت جلدی ہے۔ تھوڑی دیر اور چن لیں”۔
سب بچوں نے مٹری کی بات مان لی اور سبھی پھر سے جنگل میں پھل پھول چننے لگے۔ اندھیرے میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنے لگی، اور سبھی بچے اپنا کام ختم کر کے اپنے گھروں کی طرف چل دیے۔ اچانک ایک دیو اندھیرے سے نکل کر باہر آ گیا۔
دیو نے کہا: “بچو بچو، چاند سے بچو! یہ راستہ کہاں اور تم کہاں! یہاں سے آگے جاؤ گے کہاں؟”
مٹری نے کہا: “ہم یہاں سے گھر کی طرف جا رہے ہیں”۔
دیو نے کہا: “چاروں طرف چھایا ہے اندھیرا۔۔ یہاں سے آگے ہے بھیڑیے کا ڈیرا۔۔ وہ آ نکلا بچے، تو کیا بنے گا تیرا!!۔۔ اگر تم مانو، ایک مشورہ ہے میرا۔۔”
بچوں نے پوچھا: “کہیے، ہم کیا کریں اب؟”
دیو نے کہا: ” گھروں کو نکلنا صبح سویرے۔۔ آج کی رات رہو گھر میرے۔۔”
مٹری نے کہا: “ٹھیک ہے، ہمیں قبول ہے”۔
اور وہ سبھی دیو کے ساتھ اس کے گھر کی طرف چل پڑے۔ دیو نے انہیں سونے کے کپڑے پہنائے اور جونہی وہ سو گئے اس نے اپنے آپ سے کہا: “آہا! کیسا ان کو میں نے الو بنایا۔۔ بھیڑیے سے ڈرا کے گھر لے آیا۔۔ کچھ دن ان کو کھلاؤں گا، پلاؤں گا۔۔۔ ان کو خوب موٹا تازہ بناؤں گا۔۔ جب ٹھیک سے پل جائے گا ایک ایک بچہ۔۔ مزے سے ان کو چباؤں گا کچا۔۔”
تھوڑی دیر گزری تو دیو نے اونچے سے کہا: “کون کون سوتا ہے، کون کون جاگتا ہے؟”
مٹری نے جواب دیا: “میں جاگ رہی ہوں”۔
دیو نے پوچھا: “آدھی ہے رات ، سوتی ہے خدائی۔۔ پر تم کو نیند ابتک نہ آئی۔۔۔ کیوں بچے؟”
مٹری نے کہا: “مجھے اس طرح نیند نہیں آتی۔۔”
دیو نے کہا: “جھولا جھلاؤں کہ لوری سناؤں۔۔۔ بتاؤ بچی، تمہیں کیسے سلاؤں؟”
مٹری نے جواب دیا: “جب میں گھر میں ہوتی ہوں تو میری اماں سونے سے پہلے حلوا بناتی ہیں اور تلے ہوئے انڈے کے ساتھ مجھے کھلاتی ہیں۔
دیو گیا ، حلوہ اور تلا ہوا انڈہ بنا کر لایا اور لا کر مٹری کے آگے رکھ دیا۔ مٹری نے باقی سب لڑکیوں کو جگایا اور کہا: “اٹھو اور حلوہ اور تلا ہوا انڈہ کھاؤ”۔
سبھی لڑکیوں نے جی بھر کے حلوہ اور تلا ہوا انڈہ کھایا اور پھر جا کر سو گئیں۔
کچھ دیر گزری تو دیو نے اونچی آواز میں پوچھا: “کون کون سوتا ہے، کون کون جاگتا ہے؟”
مٹری نے جواب دیا: “سبھی سو رہے ہیں، صرف میں جاگ رہی ہوں”۔
دیو نے پوچھا: “تم کیوں جاگتی ہو؟”
مٹری نے کہا: “جب میں اپنے گھر میں ہوتی ہوں تو میری ماں ہمیشہ شام پڑنے کے بعد کوہ بلور کی طرف جاتی ہے اور چھلنی سے نُور نَدی کا پانی چھان کر لاتی ہے اور مجھے پلاتی ہے”۔
دیو ایک چھلنی ہاتھ میں لیے کوہ بلور اور نور ندی کی طرف چل دیا۔ وہ چلتا رہا، چلتا رہا، یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔مٹری اور باقی سبھی لڑکیاں نیند سے جاگیں اور انہوں نے دیو کے گھر سے جو چیز پسند آئی، اٹھا لی اور گھر کو چل دیں۔ وہ آدھے راستے تک پہنچی تھیں کہ مٹری کو یاد آیا کہ ایک بہت خوبصورت سونے کا چمچ دیو کے گھر پڑا رہ گیا ہے۔ وہ واپس پلٹ گئی کہ جا کر وہ چمچ اٹھا لے۔ جونہی وہ دیو کے گھر پہنچی، اس نے دیکھا کہ دیو گھر واپس آ گیا پہنچ آیا ہے۔ وہ اپنی جگہ لیٹ گئی اور سونے کا چمچ اٹھانے کے لیے رینگنے لگی۔ اس کوشش میں برتنوں کے ٹکرانے سے کھٹ کھٹ کی آواز پیدا ہوئی جو دیو نے سن لی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر مٹری کو پکڑ لیا۔ اس نے اسے پکڑ کر ایک بوری میں بند کر دیا اور بوری کے منہ کو باندھ دیا اور جنگل چلا گیا تاکہ مٹری کو پیٹنے کے لیے انار کی لکڑی سے ڈنڈا بنا لائے۔
مٹری نے جیسے تیسے، زور لگا کر بوری کی گرہ کھول لی اور باہر نکل آئی۔ اس نے دیو کے پالے ہوئے میمنے کو پکڑ کر بوری میں ڈال دیا اور گرہ دے کر ایک کونے میں چھپ کر کھڑی ہو گئی۔
دیو بغل میں چھڑی دبائے واپس آیا اور اس کے ساتھ زور زور سے اپنے میمنے کو پیٹنے لگا۔ میمنا مارے درد کے زور سے ممیاتا اور چلاتا، اور دیو اسے اور زور سے مارتا جاتا اور کہتا: “پہلے مجھے الو بناتی ہو!۔۔ پھر میرے گھر کی سبھی چیزیں اٹھا لے جاتی ہو۔۔۔ اب میمنے کی طرح ممیاتی ہو!”
جب میمنے نے ممیانا اور تڑپنا بند کر دیا تو دیو نے بوری کو کھولا۔ کیا دیکھتا ہے کہ اس کا لاڈلا میمنا اسی کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔ وہ غصے سے پاگل ہو گیا اور دائیں بائیں سونگھنے لگا۔ گھر کے ہر کونے کھدرے سے ڈھونڈنے کے بعد آخر اس نے مٹری کو ڈھونڈ لیا اور اسے پکڑ کر اونچی آواز میں چلایا: “میں تیری تکا بوٹی نہیں بناؤں گا۔۔ میں تمہیں زندہ ہی کھاؤں گا۔۔۔اور تیری شرارتوں سے جان چھڑاؤں گا۔۔”
مٹری نے کہا: “اگر تو مجھے زندہ کھائے گا تو میں تیرے اندر جا کر تیرا پیٹ پھاڑ ڈالوں گی اور باہر نکل آؤں گی”۔
دیو ڈر گیا اور سوچا کہ یہ سچ مچ میری انتڑیاں توڑ ڈالے گی اور میرا پیٹ پھاڑ دے گی۔ اس نے پوچھا: “تجھے ایسے نہ کھاؤں۔۔ تو پھر کیسے کھاؤں؟”
مٹری نے کہا: “پہلے روٹیاں پکاؤ۔ پھر میرے کباب بھوننا اور مجھے روٹی کے ساتھ مزے لے لے کر کھانا۔ تمہیں پتہ ہی ہے کہ روٹی اور کباب کیسے مزے کا کھانا ہے”۔
یہ بات سنتے ہیں دیو کے منہ میں پانی بھر آیا اور جھاگ بن کر اس کی باچھوں سے نکلنے لگا۔ اس کا دل گرما گرم کباب اور تازہ روٹی کے لیےبے چین ہو گیا۔ وہ تیزی سے تندور کی طرف گیا اور اس میں آگ جلائی۔ جونہی وہ روٹی پٹخنے کو تندور میں جھکا، مٹری اس کی بغل سے پیچھے کود گئی۔ اس نے دیو کو ایک زور دار دھکا دیا جس سے وہ جلتے ہوئے تندور کے اندر جا گرا۔ مٹری سونے کا چمچ اٹھا کر واپس اپنے گھر اپنے ماں باپ کے پاس جا پہنچی اور ان کے ساتھ ہنسی خوشی رہنے لگی۔

 

Categories
نان فکشن

شوق برہنہ پا چلتا تھا

سید اسد فاطمی

میں ابھی تک عمر کے اس حصے سے باہر نہیں آیا جب پیٹ میں آٹھ پہر بھوک کی جگہ خواہشیں بھڑکتی ہیں اور دسترخوانوں پر گرم کھاجوں کی بجائے خوابوں کی ہفت خواں سجا کر کھائی جاتی ہے۔ لیکن چار سال پہلے کی بات اور تھی، تب خواب پروری کے معاملے میں اپنی حس ذائقہ کچھ ذیادہ جوان تھی۔ چودہویں تک یہیں گاؤں کے مضافات میں پڑھے۔ انہی مضافات میں جہاں اس وقت پھر سے موجود ہوں۔ ٹیوب ویل کی ٹمک ٹوہ، بکریوں کے ممیانے اور مرغوں کی بانگ والی پس منظری موسیقی میں؛ زندہ باد و مردہ باد کے نعروں، طلبہ سیاست کے شور و غوغا اور ایک لاحاصل سفر کی یاد تازہ کرنا ایک خوفناک تجربے سے کم نہیں۔ خیر چودہویں تک یہیں پڑھے۔ ماضی مطلق اور ماضی جاری کی افیونی گردانوں سے بیزار ہوئے تو نصاب سے بغاوت کی۔ بزرگوں سے چھپ کر چترالی پڑھنا شروع کیا۔ ایک قتالہ سے عشق فرمایا، شاعری کی، مطالعے میں ہر اس کتاب سے ہمبستر ہوئے؛

ع: کہ جن کو پڑھ کے بیٹے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

اگلا پڑاؤ پنجاب یونیورسٹی میں ہوا، سن رکھا تھا کہ یہاں باغیچوں میں پودوں کی جگہ سوال اگتے ہیں اور نل پانی کی بجائے جوابوں کی پھواریاں برساتے ہیں۔ بیچ کی نہر میں اگیان بہتا ہے، راہداریوں میں مرمریں سلوں کی جگہ منطقی دلیلیں طالب علم کی راہ میں پلکیں بچھاتی ہیں۔ میں نے بھی داخلہ لیا اور ہاسٹل سے کمرۂ جماعت تک ریل کی پٹڑی بچھائی، طے کیا کہ اس سے اتروں تو موت آئے۔ آغاز میں حصول علم کی کچھ تکنیکیں ہی سیکھ پائے۔ استاد کے کلام لاتبدیل کو سن کر من و عن ملفوظات کیسے بنائیں، نوٹس نہ بننے کی صورت میں کس دکان سے رعایتی نرخوں پر خریدیے، پچاس صفحے کا ٹرم مقالہ پندرہ منٹ میں کیسے ترتیب دیا جائے، پرچے میں کامیابی کے لیے صرف پانچ تیربہدف سوالات، پھر بھی پرچہ برا ہو جانے کی صورت میں کامیاب ہونے کے متبادل نسخے، فضیلت اسناد اور مدحت استاد کے صحیفے اور سب سے بڑھ کر جامعہ میں رہتے ہوئے منفعت عقبی اور حصول بہشت کے مسنون و منقول اعمال و وظائف۔ ابلاغیات اپنا مضمون تھا، ہر چند کہ نہیں تھا۔ کیونکہ طبعیت کاروباری نہیں تھی، محض صحافیانہ تھی۔ کمرۂ جماعت سے نہیں بن سکی۔ استاد اجلے جوڑے پر بھڑکیلی ٹائی لگائے انگلستانی لہجے سے اپنی دھن میں غیر مانوس موضوعات پر جتا رہتا:

…After arranging your marketing strategy, the 7Ps formula is

…by this, you may earn more for your corporate, you are working for

آخری فقرے کی لایعنیت سے بدک کر خود بخود میری بائیں چھنگلی کھڑی ہو کر بیت الخلاء کی طرف اشارہ کر دیتی اور میں اس بہانے سے کمرۂ جماعت سے بھاگ آتا۔ چائے خانے پر آن بیٹھیے تو دائیں بائیں بیٹھے ہم جماعتوں کے تبصرے؛ ٹرم پیپر، سکالر شپ، کارپوریٹ سٹینڈرڈ، کاروں اور موبائلوں کے نئے ماڈل، سوسنی جوڑے والی ہم جماعت، تبلیغی مشن، شام تحدیث و تذکیر اور ملبوسات و ماکولات پر اجنبی تبصرے دماغ پر ہتھوڑے برسانے لگیں۔ بیچ پڑ کے موضوع بدلیے، آج اور سماج کی بات شروع کریں تو درجن بھر بید بردار موقع پر پہنچ کر آپ کو اس کفریہ فعل سے باز رکھنے کا اہتمام کر دیں۔ دوڑ بچ کر لائبریری میں پناہ لیں تو شرق و غرب کے عبقری اور صاحبان نظر اپنے عاقلانہ چھری چاقو سے لیس ہو کر دل و دماغ کی چمڑی ادھیڑ لیں۔ قریب بیٹھی کسی پری رو کو دکھڑا سنانے کی جسارت کریں تو غیور فوجدار دل کا حال سنانے اور تن کے زخم دکھانے کو کسی قریبی ہسپتال کی نرس تک پہنچا آئیں۔ یہ وہ فضا تھی جس کا تقریبا تیس برس سے میری یونیورسٹی کے ہر مجھ ایسے طالب علم کو سامنا تھا۔ میں سب سے پہلے جس نتیجے پر پہنچا وہ یہ تھا کہ اگر دماغی صحت عزیز ہے تو کمرۂ جماعت سے دور رہوں۔ دوسرا یہ کہ میں غلط جگہ پر پیدا ہوا، غلط عشروں میں جوان ہوا اور غلط ادارے میں داخل ہوا۔ اگر یہ سب کچھ صحیح تھا تو بلاشبہ میں غلط تھا۔

اپنی اسی غلط فکری کو لیے جامعہ کے چائے خانوں اور چوراہوں پر خون تھوکنا شروع کیا۔ اسی خود آزاری میں خود ایسے ایک دو بدحواس جوانوں سے آشنائی ہوئی، سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہاسٹلوں میں چھپ چھپا کے گرما گرم مباحثے ہونے لگے اور مغائرت کا کربناک احساس کم ہونے لگا۔

جامعہ میں ڈھائی عشروں سے فکر و فن مورد دشنام تھے۔ تعلیم کا مقصد رضائے الہی کے حصول کے علاوہ اگر کچھ تھا تو وہ جہل مطلق تھا، اجتماعی سرگرمی کا ارتکاب گردن زدنی تھا۔ فنون لطیفہ کا قلعہ لشکر غیرت کے ہاتھوں فتح ہو چکا تھا۔ اطلاقی سائنس کا نصاب خطبات مودودی اور بہشتی زیور تھا۔ تحقیق کا لفظ لغت میں تقلید سے بدل دیا گیا تھا۔ منطق کو مردود اور دلیل کو ذلیل کیا جا چکا تھا۔ اگر کہیں دو لوگ مل کر بیٹھتے تو ساتھ میں ایک تیسرا مقدس خبرگیر بھی ضرور آن بیٹھتا۔ غرض ہو کا عالم تھا۔ شاید نومبر 2007ء کی بات ہے۔ ایک نامور قومی کھلاڑی جو کھیل کے میدان میں ملک کی پیشانی روشن کر چکے تھے اور اب قومی سیاست کے رنگ میں بھی کودنے کا اعلان کر چکے تھے، ہماری یونیورسٹی آن دھمکے۔ برسوں سے کسی چہل پہل سے محروم ہزاروں طالب علموں کا ایک جم غفیر قومی کرکٹ ہیرو کو ایک نظر دیکھنے کو ایک جگہ امنڈ آیا۔ ایسا شاید بیس سالوں میں پہلی دفعہ ہوا تھا، طالب علم گھل مل رہے تھے۔ خوش گپیاں ہو رہی تھیں۔ فوجی حکومت پر تنقید اور جمہوریت کی باتیں ہو رہی تھیں۔ تبدیلی کے نام سے خوف کھانے والے جوان اب اس لفظ کے خوشنما پہلؤوں کو دیکھنے لگے۔ یونیورسٹی میں “روحانی پاکیزگی اور قلبی طہارت” کا دیرینہ محافظ گروہ اپنی مقدس آمریت کے ڈھائی عشروں میں یہاں کسی بھی آزادانہ یا “بلا اجازت” اجتماع سے چڑتا آیا تھا، خبر نہیں کیا ہوا کہ اس ہجوم میں ایک دم نعرۂ تکبیر بلند ہوا، لاٹھیاں چلنے لگیں۔ آئے ہوئے قومی کرکٹر اور نوزائیدہ سیاستدان کے منہ پر طمانچے برسنے لگے، سر پھوٹے، کیمرے ٹوٹے۔ نعرے ہوئے، چیخیں اٹھیں، قمیصیں پھٹیں، آنچل اڑے۔ عمران خان کو دبوچ کر شعبہ طبعیات کی تجربہ گاہ میں کسی خورد بین کے تختے پر لٹا کر تالا کس دیا گیا۔ ہل چل مچی اور کچھ دیر میں یرغمال مہمان کو ایک گاڑی میں ٹھونس کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

غصہ و غم میں نہائے طلبہ کا خیال تھا کہ انتہا ہو چکی ہے۔ ایک طویل مدت کے بعد ہر ذہنی سطح اور ہر سوچ کا طالب علم کلاس چھوڑ کر سڑک پر آگیا۔ ایک کہیں بڑا ہجوم، کم و بیش یونیورسٹی سے وابستہ ہر نوجوان چیختا چلاتا، احتجاجی بین کرتا ہوا، جمعیت کے خلاف اعلانیہ نفرت کا اظہار کرنے سامنے آ گیا۔ ادارے کا ایک طولانی جمود ٹوٹتا ہوا واضح نظر آنے لگا، نفرت و بیزاری کے جو نعرے ابتک بیت الخلاء کے اندرونی کواڑوں پر چھپ چھپا کر لکھے جاتے رہے تھے، سیاہ پوش طالب علم اب بر سرعام ان پر گلا پھاڑ رہے تھے۔ “گو جمعیت گو”، “جمعیت مردہ باد” کے آوازے منصورہ کے بڑے بڑے جنگ جؤوں کو پریشان کر رہے تھے۔ وہ پچھلے بیس پچیس سالوں میں ایسی اعلانیہ نفرت کے عادی نہیں رہے تھے۔ جمعیت کے بڑے بڑے ناظمین اور محتسبان جامعہ نے تنظیم کو ہنگامی استعفے پیش کرنے میں عافیت سمجھی۔ بڑے بڑے عمامے زمین پر آ رہے اور پنجاب یونیورسٹی میں قاضی کا راج محل زمین بوس ہوتا صاف نظر آنے لگا۔

یہ وہ وقت تھا کہ “تبدیلی”، جس لفظ نے عرصے سے مجھے اور ایسے کئی طالب علموں کو اپنے طلسم میں جکڑا ہوا تھا، لائبریریوں اور ہاسٹلوں کی پناہ گاہوں سے نکلے۔ میدان صاف تھا۔ ایک مربوط تحریک کے لیے ایک منظم تنظیمی ڈھانچے کی ضرورت تھی۔ مجھے خبر تب ہوئی جب ایک ہاسٹل میں درجن بھر آزاد خیال، سیکولر، سابقہ جمعیت وادی، جمعیت کے مضروبین، عمران خان کے پرستار، سرخے، سبزے اور سفیدیے اکٹھے ہو کر ایک مشترکہ حکمت عملی پر غور کر رہے تھے۔ دو تین دوستوں کے ساتھ وہاں پہنچا۔ ایک ڈھیلی ڈھالی لچکدار تنظیم کا اعلان ہوا۔ یونیورسٹی سٹوڈنٹس فیڈریشن محض جمعیت سے آزادی کے مشترک مقصد کے تحت چند ہی دنوں میں تین ہزار سے زائد جوانوں کو رکنیت دے چکی تھی۔ ان میں نرم و نازک نفیس پڑھول بچے بھی تھے اور بانکے سجیلے جیالے بھی۔ عمران خان کی پٹائی کے بعد ایک گرما گرم قومی موضوع کے ہاتھ آتے ہی ہمارے شرمیلے میڈیا نے بھی قدرے بے باکی سے جمعیت پر تنقید میں ہماری ہمنوائی کی۔ سفید پوش سول سوسائٹی پیٹھ تھپکنے آن پہونچی۔ اپنا کام تھا دو اور دوستوں کے ہمراہ گرما گرم پریس ریلیز بنا کر سرشام منہ ڈھانپے جا کر قومی اخباروں کو ارسال کرنا اور کل کا انتظار کرنا۔ خبریں چھپتے ہی جیالے جوان پھر سے اکٹھے ہو کر اپنا غصہ نکالتے، کیمرے کے آگے آ آ کر رونی شکلیں بناتے اور دھواں دھار بیان دیتے۔ ملک بھر کے اخبارات، رسائل، ٹی۔وی چینل کے ہاتھ ایک موضوع آگیا یہاں تفصیل کا محل نہیں غرض دھمالیں ہوئیں کہ جمعیت دوڑ دبک گئی۔

ایک منظم ادارے اور ایک ہجوم کے باہم ٹکراؤ میں فیصلہ عددی برتری پر نہیں ہوتا، فیصل اٹل ہے کہ ہجوم بکھر جائے گا اور تنظیم باقی رہے گی۔ یو۔ ایس۔ ایف، طلبہ کے جس غول کا ہم حصہ تھے، سوائے جمعیت سے آزادی جیسے مقامی اور موضوعی مقصد کے، کسی قسم کی واضح نظریاتی سمت، طرز فکر اور منشور سے لیس نہیں تھی۔ اجلے سفید کپڑے پر ایک نعرہ لکھے اسے علم بنائے ہوئے وہ میدان میں آئی تھی۔۔ “عدم تشدد”۔۔ جمعیت جیسی متشدد تنظیم کے ردعمل میں ظاہر ہونے والی اس طلبہ لہر کے لیے بظاہر عدم تشدد کا نعرہ نہایت جاذب نظر تھا، لیکن اس کے بین السطور میں یہ واضح اشارہ تھا کہ ہماری “تنظیم” ایک گھنے برگد پر بیٹھے چڑیوں کے غول سے مشابہہ ہے، جن کے ہم آواز چہچہے فضاء میں صرف ایک کارتوس چلنے کی گونج کے انتظار میں ہیں، گویا سبھی پر تولے شاخ سے فضاء میں اڑ دوڑنے کو تیار ہیں۔ فاختائیں دھماکے سے اڑ تو سکتی ہیں، گولی کا رخ، داغنے والے کی طرف واپس نہیں موڑ سکتیں۔

3 دسمبر کو معمول کی میٹنگ کے بعد سب اپنے اپنے کمروں کو ہو لیے۔ رات گئے مسلح جمعیت وادیوں کی گاڑی منصورہ سے نیو کیمپس روانہ ہوئی، ہاسٹل 11 سے باقاعدہ وضو کیا گیا اور نعرۂ تکبیر اور الجہاد کے نعرے داغتے ہوئے ہاسٹل 16 میں ایک مشتبہ کمرے پر دھاوا بول دیا۔ دھاڑ دھاڑ اور تڑ تڑ کی آوازیں آئیں، حملہ آور ہمارے دو احباب کو نیم مردہ چھوڑ کر وہ واپس اپنے مستقر کو روانہ ہوئے۔ اس کے بعد میڈیا اور ابتدائی طبی امداد والے حملہ آور ہوئے۔ ہسپتالوں میں مضروبوں کی عیادت کو گورنر، وزیر اعلی و دیگر سیاسی شخصیات نے دورے کیے، تصویریں چھپیں بالآخر اسد اور مظہر اپاہج ہو کر وہیل چیئر پر سوار اپنی کتابیں سمیٹے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

دو ایک دن اخبارات پر بات چلی۔ موضوع ٹھنڈا ہوا اور ہجوم تتر بتر ہو گیا۔ یو ایس ایف کا عدم متشدد بلبلہ پھٹ چکا تھا اور باقی ماندہ فدائین کو انگلی پر گنا جا سکتا تھا۔ اب دو یا تین سکرین پر بیان دینے والے قائدین باقی تھے، اور ادھر ہم دو یا تین چھپ کر پریس ریلیزیں نشر کرنے والے۔ میڈیا اور سول سوسائٹی اپنی اپنی بساط جھاڑ کر اپنے کام کاج کو لوٹ گئے تھے۔ طالب علم یکسوئی سے “ٹرم مقالات” کی تیاری میں جت گئے۔ چائے خانوں پر وہی کربناک موضوع واپس لوٹ آئے، مدحت استاد کے عوض نمبروں کے حصول کا مقابلہ پھر سے اپنے سابقہ جوبن پر آگیا، سماجیات اور سیاسیات کے باب ٹھپ ہوئے اور پھر واجبات غسل اور جزویات نحو پر مذاکرے ہونے لگے۔ غرض جمعیت کی حاکمیت اور اس کے پروردہ رویے یونیورسٹی میں پہلے سے غیض و حشم کے ساتھ لوٹ آئے۔

اگلے تین چار مہینے غم غلط کے مہینے تھے۔ سامان لپیٹ کر اکرام کے کمرے میں ہو لیے۔ ربنواز کی صحبت بھی میسر تھی۔ یہ عرصہ موسیقی اور ادق فلسفیانہ بحثوں کا تھا۔ تھک ہار کر گاؤں کا رخ کیا۔ ہفتہ بھر بعد اکرام کا پیغام ملا کہ لاہور پہنچو۔ شکست خوردگی اپنی فکری کوفت کا حل نہیں۔ ارادہ ہے کہ کیڈر پر مبنی بائیں بازو کی نظریاتی طلبہ جماعت کی ابتداء رکھی جائے۔ سنتے ہی بلا توقف لاہور کی راہ لی۔ نصف درجن کے قریب ہم خیال ساتھیوں سے نشست کی اور سامراجی نظام تعلیم کے خلاف مزاحمت اور طلبہ مزدور کسان مشترکہ جدوجہد کے نعروں کے گرد انقلابی طرز کی تنظیم کے قیام کا فیصلہ طے پا گیا۔ پاکستان اور خاص طور پر پنجاب یونیورسٹی میں ضیاء الحق عہد میں قائم کی جانے والی یک قطبی مذہبی طلبہ سیاست کے آنے سے قبل، جمہوری طلبہ سیاست کے دور میں ایک ملک گیر، لیکن پنجاب سے معدوم ہو چکا نام سوجھا جو اپنے منشور اور نظریوں میں بالکل ہم جیسا تھا اور اس کی جدوجہد ہمارے لیے سحر انگیز دیو مالا کی طرح تھی۔ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن پچاس کی دہائی میں ملک کے سیاسی اور سماجی افق پر طلوع ہوئی تھی اور فکری طور پر تراشیدہ لیکن جواں مرد طلبہ کے اس طوفان نے فوجی حکومتوں کی نجکاریوں، ظالمانہ تعلیمی پالیسیوں، جاہلانہ نصابوں اور طالب علم کی معاشی لوٹ مار کے عفریتوں کو کوڑے کرکٹ کی طرح بہا کر دریا برد کر دیا تھا۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائیاں عالمی سطح پر تبدیلی، ابھار اور امید کی دہائیاں تھیں۔ این۔ایس۔ایف کا قومی سطح پر اس میں ایک گراں قدر حصہ تھا۔ تیسرے مارشل لاء کے بعد اسّی اور نوّے کی دہائی ریاست کے ہاتھوں اس کی سفاکانہ سرکوبی اور کم و بیش معدومی کی دہائیاں تھیں۔ یہ دہائی عالمی سطح پر بھی احیائے استبداد اور مرگ امید کی دہائیاں ہیں۔

آغاز کار کے لیے ہاسٹل میں میرے کمرے کی صفائی کی گئی، کتابوں کو چندے ترتیب سے رکھا گیا۔ پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کے فرعونی تسلط کی فضاء میں دو عشرے بعد ایک فراموش کر دئیے گئے پرشکوہ رزمیے کو نئے سرے سے “نظم” کرنا ایک چیلنج تھا، تنظیم کا نام لیے بغیر سہ روزہ/ ہفتہ وار سٹڈی سرکل، مباحثوں اور میٹنگز کے ایک پوشیدہ سلسلے سے کام شروع ہوا۔ ارباب جمعیت کو سر شام باقاعدگی سے کمرے کے باہر بیسیوں جوتوں کی موجودگی پر اعتراض گزرا تو اس سٹڈی سرکل کو کیمپس سے باہر ایک ثقافتی تنظیم کے دفتر منتقل کر لیا گیا۔ ان علمی نشستوں میں شرکت کرنے والے طلبہ میں سے بیشتر نے باقاعدہ سے اس سوچ کو اپناتے ہوئے تنظیم میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی۔ یوں کچھ ہی دنوں میں شعبہ ارضیات، عمرانیات، سیاسیات، کلیۂ قانون، ادارۂ تعلیم و تحقیق اور ابلاغیات وغیرہ سے متعدد طلبہ نے نظریاتی پیوستگی کی بنیاد پر این۔ایس۔ایف کی ہمرکابی اختیار کی۔ اس مرحلے پر ذیلی ادارے تشکیل دیئے گئے، اداروں کو منظم تر بنایا گیا، کیڈر پر ارتکاز اور کارکنوں کی تربیت پر پوری توجہ دی گئی، کام کی توسیع کے ساتھ سیاسی افق پر سازگار وقت کا انتظار جاری رہا۔ کسی ایک خاص ادارے کے تناظر میں قائم ہونے کی بجائے قومی سطح پر بڑی تبدیلی کی علمبردار ہونے کی وجہ سے اس تنظیم کا دائرہ پنجاب یونیورسٹی تک محدود نہیں رہا بلکہ لاہور کے دیگر کئی بڑے اداروں میں پھیل گیا۔ اداروں اور افراد کے پاس مشخص ذمہ داریاں تھیں۔ بطور کارکن، تنظیم کی ویب سائٹ کی تعمیر اور میگزین کی ادارت میری ذمہ داریوں میں سے تھے۔ 2009ء کے اواخر میں کم و بیش چھ ماہ کے لگاتار کام کے بعد تنظیم، سیاسیات، فلسفہ، ادب اور تاریخ پر ایک بھرپور ویب سائٹ کا اجراء ہوا۔ مارچ 2010ء میں ماہنامہ “دی سٹوڈنٹ” کا پہلا شمارہ اردو زبان میں ماہ مارچ کی مناسبت سے “شہید بھگت سنگھ نمبر” کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس دوران این۔ایس۔ایف کا طلبہ کتب خانہ آئے روز سیکڑوں اہم فکری و علمی موضوعات پر نادر کتب سے مالا مال ہو رہا تھا۔ تنظیم بے سر و سامانی کے عالم سے نکل کر پہلے گارڈن ٹاؤن اور بعد میں اقبال ٹاؤن میں نہایت موزوں دفتر قائم کر چکی تھی۔ این۔ایس۔ایف لاہور کے کارکنان کے ملک گیر دوروں کی بدولت جنوبی پنجاب کے نو اضلاع، صوبہ سرحد کے دو اضلاع، شہر کوئٹہ، آزاد کشمیر کے دو اضلاع اور سندھ کے تین اضلاع میں تنظیم کے آزاد اور خودمختار یونٹ قائم کر چکی تھی۔ اس کے علاوہ کراچی اور راولپنڈی میں پہلے سے قائم این۔ایس۔ایف ڈھانچوں کے ساتھ ہمکارانہ روابط استوار کیے۔ اس سبک رفتار ترقی اور اپنی واضح انقلابی تناظر کی وجہ سے یہ تنظیم روایتی بائیں بازو کی جماعتوں، یہاں تک کہ سول سوسائٹی اور میڈیا میں آئے روز موضوع گفتگو رہی اور سب کی نظریں اس پر لگنے لگیں۔ اس روز افزوں نیک نامی کے بول ملکوں ملکوں نظریاتی حامیوں تک پہنچے تو یورپ و امریکہ میں موجود مایوس بیٹھے این۔ایس۔ایف کے وہ کارکن جو ضیاء کے تاریک دور میں جلاوطن ہوئے یا ترک وطن کیا اور اب کسی شرار امید کے انتظار میں تھے، نے ہر ممکن معاونت کے وعدے کیے اور فروری میں یورپ میں ان تمام سابق طلبہ کارکنوں نے ایک بیٹھک میں باہمی معاونت کا منظم طریقۂ کار بنانے کا فیصلہ کیا۔ طلبہ کا یہ مختصر سا گروہ مزدوروں کسانوں کی آواز بلند کرنے والے ہر جلوس، ہر جلسے کی ضرورت بن چکا تھا۔ اور بہت کچھ جو ہمارے سیاسی قد سے کہیں بڑھ کر تھا۔ لیکن یہ سب احوال ہماری تنظیم کے ثمرات کی ترتیب صعودی ہے۔ اسی کے متوازی، ایک خط نزولی چپ چاپ، لیکن بجلی کی سی تیزی سے کشش ثقل کے تابع نیچے سے نیچے گر رہا تھا۔

یہ جن دنوں کی باتیں ہیں، تب شاہراہوں پر دھرنوں، طلبہ طاقت کے اظہار اور جلسوں میں طلبہ و مزدور یکجہتی کے مظاہروں کے خواب آور مناظر مدہوش کر دینے والے تھے۔ یوں دکھائی دیتا تھا کہ عروس انقلاب سولہ سنگھار کیے دھرتی کی سیج سجائے ہمارے انتظار میں ہے، بس ابھی وقت آیا کہ جائیں اور اس کا لال گھونگھٹ اٹھائیں، “میری جان۔۔!!” کہہ کر لپٹ جائیں۔ باہر سبھی کامریڈ “انترناسیونال” کی دھن پر ڈھول تاشوں پر دمادم جھمر جھمانے لگیں۔ یہی خمار تھا کہ سولہ پہر کی بھوک لحظہ بھر نہیں لگتی تھی، تن پہ سوکھتا ہوا ماس، اپنا انقلابی سنگھار لگتا تھا، اور لڑکپنے کا پہلا عشق، اپنی گاؤں والی، اپنے جذبوں کی فہرست سے یکسر نفی ہو کر رہ جاتی تھی۔ آٹھوں پہر کرسی پر چپک قلم چلانے یا کی بورڈ دوڑانے کی مشق نے ہی “راحت وصل” کے معنی دھار لیے تھے۔ یہاں تک کہ سیاسی زندگی، طلبہ محاذ سے بڑھ کر جوانوں کی مسلح انقلابی جدوجہد کے عزائم کو پہنچ گئی۔ روایتی بائیں بازو حلقوں میں پہنچ کر یہ راز بھی خبر بلکہ لطیفہ بن گیا۔ بزرگانہ طنز نے اس مہم جوئی سے باز رکھ لیا کہ سرخ پھریرے کی نیو میں پہلے ہی بہت شہید ہیں، حالات ناسازگار ہیں اور مزید شہیدوں کی حاجت نہیں ہے۔

اب تنزل کی بات کرتے ہیں۔ مجھے اتنا یاد ہے کہ 2010ء جون تیئیسویں کو میں صرف ایک بٹوہ جیب میں لیے، بغیر کسی ارادۂ سفر کے لاہور کے ترقی پسند سیاسی افق سے غروب ہو کر اپنے گاؤں لوٹ آیا تھا۔ کوئی دن پہلے، جب ہماری تنظیم ڈھانچے کے اعتبار سے منظم ترین شکل میں تھی۔ ایک دم، چھناکے سے پرزے پرزے ہو گئی۔ پنجاب، پاکستان اور دنیا بھر کے ترقی پسند حلقوں نے ہم سے وابستہ امیدیں ختم کر لیں، اور نسبتا بدتر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے خود بھی۔۔۔

ایک فکری اور اخلاقی طور پر انحطاط یافتہ سماج میں ان انحطاط پذیر قدروں سے حتی الوسع غیر رہ کر اپنے مثالی فلسفیانہ اور اخلاقی اصولوں کا ایک جداگانہ و بیگانہ جزیرہ بسا کر اسی میں رہنا لیکن سماج سدھارتا کا بیڑا اٹھا لینا ایسا ہے جیسے ہوابازی کے کامل علم کے مان پر دریا میں ہوائی جہاز اڑانے کی کوشش کرنا۔ فکری اصولوں پر کی جانے والی سیاست میں جہاں سماج کی روایتی قبائلی اور جاگیردارانہ سوچ سے سمجھوتہ کیا، وہاں ہم میں دراڑیں پڑیں۔ جہاں اصولوں کی رسی تھام کر اس سے انکار کیا، ہم پاش پاش ہوئے۔ ان دونوں اضداد کے درمیان موزوں ترین فیصلے کے لیے دو سو سال کی بزرگی اور مصلحت اندیشی درکار ہے۔ اس معاشرے میں جہاں صدیوں سے سیاست کا منشور، اپنی مونچھ کے تاؤ کو سمجھا جاتا ہے، میں انقلابی سیاست کے مزاج، تنظیم کی تعریف اور فیصلوں کی عمومیت و مرکزیت کے توازن جیسے تصور سمجھانے کے لیے بقراط جتنا مغز چاہیے۔ ایسی قوم جو کسی کلہاڑا بردار ادارے کا کسی جمہوری ادارے سے اقتدار چھیننے پر مٹھائیاں تقسیم کرتی ہو، اس میں جمہوری فیصلوں کو قبول کرنے کا مادہ پیدا کرنے کے لیے صدیاں درکار ہیں۔

ہمیں شخصیات سے بحث نہیں۔ افراد بہرحال سیاست میں اہم ہوتے ہیں۔ لیکن جہاں اس بنیاد پر جدوجہد پر کمر باندھی جائے کہ بڑی لہر کے ابھار سے پہلے پختہ، بے لوث اور نظریاتی سازوسامان سے لیس کیڈر کو منظم اداروں کی بھٹی میں پکایا جائے۔ اذھان سے قبائلی طرز فکر اور طرز سیاست کو کھرچ کر روشن دماغ نظریاتی رنگ و روغن سے آراستہ کیا جائے اور قلب لشکر کی تیاری میں، افراد کی عددی کمی کے باوجود، شخصیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ کیونکہ اس گروہ کا ہر کارکن، ایک ہزار پیادوں پر بھاری ہوتا ہے۔ ہم عددی کمی کا شکار رہے، افراد کے سیاسی اعمال و شخصیت پر سمجھوتہ کیا اور کیڈر سازی سے کہیں ذیادہ گنتی میں اضافے پر توجہ دی۔ غاروں کے عہد میں رہنے والے اذہان کو اپنا مافی الضمیر سمجھانے کے لیے جس ذخیرۂ الفاظ کی ضرورت ہے اس کو سیکھنے کے لیے اپنی مدلل گرامر کے اوراق یکسر جلانا پڑتے ہیں۔ ایسا کر گزرنا، یا نہ کر پانا، دونوں خود اپنے ہی لیے نقصان آور ہیں۔ جس انحطاط یافتہ زمانے میں ہر سطح کے فرد کا ایک ایک دماغی خلیہ، آمرانہ ثقافت کا وضع کردہ ہو، میں تمام اعمال مدلل اصولوں سے ذیادہ پٹھوں اور کلائی کے زور پر سرانجام پاتے ہیں۔ ایسے میں تبدیلی کے علمبردار کے لیے مشکل ہوتا ہے کہ وہ کارکنانہ برداشت اور اصولوں پر اٹل کاربندی میں سے کس کا انتخاب کرے۔ ہم نے کارکنانہ برداشت کو منتخب کیا اور معدوم ہوئے۔ حالانکہ اس قدر متضاد اور مجنون سماج میں دونوں راستے مہلک ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انقلابی سیاسی کارکن ایسا ہو، جس میں ابن سینا جیسا علم و فضل اور حکمت و نظر ہو، ایک درویش کا سا مجاہدہ، بے ریائی اور دریا دلی ہو اور نوری نٹ جیسی مونچھ اور دست و بازو ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تینوں جوہر کبھی بھی کسی بھی شخصیت میں یکجا نہیں ہو سکتے۔ بخدا نہیں ہو سکتے۔

ایک اور بات بھی۔ شاید لینن نے کہا تھا کہ جب تنظیم میں کارکن آتے ہیں تو وسائل بھی ساتھ لاتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ گنگا بھی الٹی بہتی ہے۔ کسی بھی ارفع سے ارفع ترین مقصد کے لیے ابھرنے والی تحریک کا بھی لوگ تبھی رخ کرتے ہیں، اگر صاحبان تحریک کے کلہوٹ میں کچھ اناج موجود ہو۔ جب سیاسی کام کو کمر باندھی تو اپنے ماہانہ جیب خرچ سے کام شروع کیا۔ گھروں تک معاملے پہنچے تو جیب خرچ بھی بند ہو گئے۔ پھر نظریے کی سچائی پر دلیلیں دے دلا کر تنظیمی ساتھیوں کی جیبیں کترتے رہے۔ کل وقتی کارکن بھی جزوقتی نوکریاں کر کے سیاسی سرگرمی کو زندہ رکھے ہوئے تھے۔ سرگرمی اچھی رہی تو فرزندان قوم کا یہ سوال کہ بھئی تمہاری پیٹھ پر کس کا ہاتھ ہے؟؟، کہا ہمارے ساتھ تو خدا بھی نہیں۔ بے نوائے محض ہیں۔ صبح دم کلاسیں پڑھتے ہیں۔ دوپہروں میں سڑکوں پر احتجاجی دھمالیں کرتے ہیں، سہ پہر کو چوراہوں پر گلی ناٹک پرفارم کرتے ہیں۔ شام کو مل بیٹھتے ہیں اور راتوں کو پوسٹروں سے شہر کی دیواریں بھرتے ہیں۔

بری معیشت رویوں کو مسخ کر دیتی ہے اور شخصیتوں پر کائی جما دیتی ہے۔ کارکنوں سے جمع ہونے والی ایک ایک پائی درج ہوتی رہی، سرگرمی پر صرف ہونے والا ایک ایک دھیلا داخل گوشوارہ کیا جاتا۔ پھر بھی فاقوں سے اترے ہوئے چہرے ایک دوسرے پر نحیف انگلیاں اٹھاتے رہے۔ فلاں کرپٹ ہے کہ اس نے فلاں تنظیمی دورے میں بجائے پیدل چلنے کے رکشے کا استعمال کیا۔ فلاں بدعنوان ہے کہ کل شام اسے کنٹین پر کھانے کے ساتھ کولا پیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ آئندہ میٹنگ میں چارج شیٹ پیش ہو گی۔

سیاسی کام پھیلا تو بدیس بیٹھے ملک بدر سابقہ کارکنوں نے کام میں ازخود وسائل کی حد تک حصہ ڈالنے کا ارادہ کیا۔ اب تک عددی کمی کے باعث اٹل اصولوں پر سمجھوتہ کر کے بہت سی آزمودہ قبائلی ذہنیتوں کو تنظیم کا حصہ بنائے رکھا گیا تھا۔ کام کے پھیلاؤ اور چندے کی آہٹ پر وہی سیاسی طفیلیے اٹھ کر تمام جمہوری تنظیمی اداروں سے ماوراء تنظیم کے لاشریک خالق و مالک اور اولی الامر و سالار کے طور پر کارکنوں سے بیعت کا تقاضا کرنے لگے۔ اب ساتھیوں نے دوسرا راستہ چنا۔ افرادی قلت کے پیش نظر غیر تنظیمی سوچوں سے بار بار سمجھوتہ کرنے کی بجائے اصولی موقف کی راہ۔ دستاویزات اور حقائق کی زبان سے، اصول کی لاٹھی سے انہیں سمجھانے سدھارنے کی کوشش۔ یہ وہ فیصلہ کن موقع تھا جب تنظیم کے اندر سے ہی اس کی بساط الٹی گئی۔ این۔ایس۔ایف کے نام سے وابستہ نصف صدی پر محیط جمہوری اور اخلاقی روایت، جاگیردارانہ سیاسی کلچر کے پروردہ “شیروں” کی ایک ہی چنگھاڑ سے گھائل ہو گئی۔ ایسا مظاہرہ ملک کی روایتی چیمہ چٹھہ پارٹیوں میں یقینا روز ہوتا ہوگا لیکن ترقی پسند طلبہ تنظیموں کے کئی عشروں کے کام پر پانی پھیرنے کے لیے فیصلہ کن وقت پر داغے گئے ایک دو گھونسے ہی کافی ہوتے ہیں۔ ہم نے حد درجہ اخلاقی ریاضت سے تشکیل دی جانے والی جمہوری قدروں کا میت لیا، سوجے ہوئے چہروں کے ساتھ کئی دن اسے حیات آور دوائیں پلائیں۔ لیکن اس تھوڑی سی مدت میں ہم اپنا اور اپنی تنظیم کا سیاسی وقار اور اخلاقی امتیاز تقریبا کھو چکے تھے۔ ہم میں سے ذیادہ تر کی طالب علمی کا دور ختم ہوا چاہتا تھا اور اگلی پود کے لیے ہم ایک منظم ڈھانچہ تیار کر چکے تھے۔ اب سب کچھ غارت ہونے کے بعد ہم گزشتہ تین سال میں بنائی ہوئی عمارت بار دگر صفر سے کھڑی کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔ اسے ہماری کم حوصلگی ہی کہہ لیں، لیکن حالات یہی کہہ رہے تھے کہ اب کرنے کو کچھ نہیں بچا۔

میں سمجھتا ہوں کہ اپنی یہ تین سالہ سیاسی مشقت تقریبا بے ثمر ہی رہی۔ سیاسی کام کے سماجی اثرات کی تیزی یا سستی مقامی، ملکی اور بین الاقوامی حالات کے تابع ہوتی ہے۔ یونیورسٹی میں جمعیت واحد و لاشریک تھی اور تعلیمی معاملات میں “سب اچھا” کا نعرہ لگا رہی تھی، اور سب اس پر یقین بھی کر رہے تھے، (اگرچہ مخلوط تعلیم بہرحال انکے ہاں واحد بڑا تعلیمی مسئلہ رہا ہے)۔ قومی سیاسی حوالے سے یہ وقت فوجی حکومت کے اواخر اور نوزائیدہ جمہوریت کے اوائل کے دنوں پر محیط تھا۔ قومی سیاسی خبریں بظاہر نت نئی سنسنی لیکن درحقیقت بھیانک یکسانیت کا شکار تھیں۔ معاشرے کے فکری مزاج پر جان لیوا جاڑا چھایا ہوا تھا۔ بڑی تبدیلی کی امنگیں ٹھٹھر رہی تھیں۔ بایاں بازو پچیس سال سے مردود و مطعون تھا۔ اس لیے ہماری عمروں کی پڑھی لکھی نسل بھی ان اصطلاحوں اور رجحانات سے قطعی ناواقف تھی۔ جو ترقی پسند موجود تھے، ان کے سر سفید ہو چکے تھے اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد چائے خانوں اور ڈرائنگ رومز میں دانشورانہ مباحثے اور آل مودودی کے لطیفے سننا سنانا ان کی واحد سیاسی سرگرمی رہ گئی تھی۔ جو بچ رہے تھے وہ سول سوسائٹی سے نان و نمک وابستہ کیے ہوئے تھے۔ ترقی پسند روایت کا نسل بہ نسل منطقی تسلسل عنقا تھا۔ ہم میں سے کسی کا باپ دادا ترقی پسند نہیں تھا۔ ہم ایک خودرو پودے کی طرح تھے جو بائیں بازو کی آفت زدہ کیاری میں بوڑھی خشک گھاس کے درمیان لہلہا رہا تھا۔ پرانے ترقی پسند، قومی سیاست میں جن کی رائے کی قومی ذرائع ابلاغ میں اب کوئی وقعت نہیں بچی تھی، ان کے گرما گرم تبصرے اب صرف ترقی پسندوں ہی میں سرگرم رہنے والے گروہوں پر ہاتھ صاف کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ ہمارا قد ابھی اتنا بڑا نہیں ہو پایا تھا کہ دایاں بازو ہم پر سنگباری کی زحمت کرے۔ لیکن آغاز کار سے ہی ہمیں خود بائیں بازو ہی کے طنز کا سامنا رہا۔ ہر چند کہ کچھ مشفقانہ حوصلہ افزائیاں بھی شامل حال رہیں، لیکن بحیثیت مجموعی یہ دور بائیں بازو کی سرمائی نیند کا زمانہ تھا۔ ایسے دور میں ذیادہ سے ذیادہ سیاسی کام سے نہایت کم سماجی اثرات و ثمرات حاصل ہوتے ہیں۔

لاہور میں ترقی پسند طلبہ سیاست کو عشروں بعد صفر سے شروع کیا گیا تھا،  ساتھ کچھ نہیں تھا۔ لیکن طلبہ سیاست میں قدم قدم پر کئی جیالے آئے اور میری زندگی کے البم پر اپنی موہنی تصویریں چھوڑ گئے۔ اپنی ناکامران سیاسی زندگی پر تمام تر ماتمی خطبے کے ساتھ ساتھ مجھے یہ لکھتے ہوئے نہایت مسرت اور رشک کا احساس ہوتا ہے کہ اس سب کچھ کے بعد عدنان عطاء، سرمد، علی رضا کھوسہ اور کئی ایسے جوان، نے میرے اور کئی دلبرداشتہ دوستوں کے لاہور چھوڑ دینے کے بعد بکھرے ہوئے پرزوں کو پھر سے جوڑنا شروع کر دیا ہے۔ میرے آنے سے ماہانہ میگزین محض ایک دو ماہ معطل رہا اور پھر جاری ہو گیا۔ میرا حصہ ایک آدھ تحریر کی حد تک سہی لیکن ساتھ رہا۔ کئی دوست جو ہمارے بعد میں شریک سفر ہوئے تھے، ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔ اکرام جو لڑکپنے سے مزدور تحریکوں میں گلا پھاڑتا آیا تھا، یونیورسٹی میں میرا پہلا دوست تھا اور ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے مہمیز تھے۔ رب نواز کی پڑھی لکھی باتیں میرا دماغ روشن کرتی تھیں۔ قیصرہ، اپنا گھر بار اور تعلیمی کیرئیر سب تیاگ کر ہمارے ساتھ آن ملی تھی۔ اگرچہ یہ میری طرح پسپاء لشکری ہیں۔ قیصرہ اب شریک جدوجہد سے اکرام کی شریک حیات بن چکی ہے۔ میں ایک تیسرے درجے کا سرکاری ملازم ہوں۔ کہنے کو سال یا سوا سال پہلے کی باتیں ہیں، لیکن ان کا قصوں کا ذکر یوں ہوتا ہے جیسے کسی اولڈ ہاؤس میں کچھ ریٹائرڈ فوجی مل بیٹھیں اور مل کر لڑی کسی تین سالہ طولانی جنگ کی غوغا سامانیوں کو یاد کرتے ہوں۔۔۔ مجھ سے لاہور میں گزارے سالوں کے بارے میں اپنی گاؤں والی کے سیدھے سادے سوالوں کا اب تک کوئی جواب نہیں بن پایا ہے۔ بالی وڈ فلم “لیجنڈ آف بھگت سنگھ” کے بعد میں نے سیکڑوں فلمیں اور بھی دیکھ لی ہیں۔ انقلاب کا سپنا کتابوں سے ہو کر کتابوں میں لوٹ گیا ہے اور میں رات دن سرکاری وردی پہن کر اپنی منگنی کی انگوٹھی خریدنے کے لیے “مسلح جدوجہد” میں مصروف ہوں۔ سیاسی زندگی کی یادداشتوں کو جوشیلے لفظوں سے ایک دلکش اور ھیروئک رزمیے کی شکل بھی دی جا سکتی تھی لیکن پسپائی کے اس اعترافیے کے بغیر میرا یہ بیانیہ ہرگز مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔

سماج میں بڑی تبدیلی وقت نے لانا تھی۔ ہمارے حصے میں تجربوں، نظریوں، مشاہدوں، نتیجوں، لطیفوں، حسرتوں اور یادوں کی ایک دولت آئی، سو اس کی پوٹلی جیسی تیسی ہاتھ آئی، سمیٹ لی۔ ان سالوں میں زندگی کا میٹر پوری رفتار سے دوڑتا رہا، گاؤں میں میلوں ٹھیلوں کی رونقیں بھی بدستور رہیں، کہیں کہیں ڈیوڑھیوں پر اپنا موہوم سا انتظار بھی باقی رہا۔ گاؤں والی کا جمال سال بہ سال ڈھلتا رہا۔ ان ماہ و سال میں گاؤں کے احوال راویوں سے سنتے ہیں کیونکہ ایک عام عادمی فطرتا ناسٹیلجک ہوتا ہی ہے۔ اب تک دو عشق پالے ہیں سو جناب فیض کے بقول:

اس عشق نہ اس عشق پہ نادم ہے مگر دل

ہر داغ ہے اس دل میں بجز داغ ندامت۔۔

(Published in The Laaltain – Issue 5 & Issue 4 in two parts)