Categories
فکشن

آخری غروب آفتاب (نجم الدین احمد)

“ڈاکٹر،… میں… اپنی زندگی کا… آخری… غروبِ آفتاب… دیکھنا… چاہتا ہُوں۔”

ڈاکٹر کو یاد آیا کہ اِس سے قبل بھی کچھ مریض اپنی خواہشات کا اظہار کر چکے ہیں، لیکن وہ ایسی نہیں تھیں کہ اُنھیں پُورا کیا جا سکتا۔ اکثر مریض باہر طویل چہل قدمی اور بعض صرف تھوڑی دیر کے لیے ٹہلنا چاہتے، جو کسی طور ممکن نہیں تھا۔ لیکن ایک عمررسیدہ مریض کی ایسی خواہش بھی تھی جسے اُنہوں نے پُورا کرنے کے لیے اپنی بھرپُور کوشش کی لیکن اُن کی تمام تر سعی رائیگاں گئی۔ وہ اپنے بیٹی اور بیٹے سے ملنے کا متمنّی تھا۔ اُنہوں نے اجازت کے باقاعدہ حصول کے بعد لڑکی اور لڑکے کی حفاظت کے لیے تمام انتظامات کیے، لیکن اُنہوں نے، ہسپتال انتظامیہ کی بار بار یقین دہانیوں کے باوجود، اپنے باپ سے ملنے سے صاف انکار کر دیا کیوں کہ وہ کوئی خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ لیکن کھانستے اور اُکھڑی ہُوئی سانسوں والے اِس مریض کی ٹکڑوں میں اظہار کی گئی یہ خواہش— اور مسلمہ طور پر آخری خواہش— اِتنی بڑی، پیچیدہ اور ناممکن نہیں جسے پُورا نہ کیا جا سکے، ڈاکٹر نے سوچا۔

اُس نے ہونٹ سُکیڑتے ہُوئے وینٹی لیٹر کے شیشے میں مقید مریض کے کھلے مُنھ کو دیکھا۔ وہ خُود بھی سرتاپا ڈھنپا ہُوا تھا— خلابازوں جیسا نیلی پٹّیوں والا سفید لباس، ہاتھوں پر سفید دستانے، سر پر کنٹوپ جس کے سامنے والا حِصّہ کھلا مگر آنکھوں پر شفاف شیشے کے گوگلز اور ناک مُنھ پر اَین۔۹۵ ماسک۔ اُس کی نگاہوں نے مریض کے مُنھ سے آنکھوں تک کا سفر کیا، جن میں رچی موت کی پیش آگاہی کی سپیدی میں شدّید یاس اور حسرت پھیلی ہُوئی تھی۔ ڈاکٹر نے سر جھٹک کر نظریں چُراتے ہُوئے بستر کے ساتھ پڑی درازوں والی آہنی تپائی سے مریض کی کیس ہسٹری کی فائل نسخے میں ردّوبدل کی غرض سے اُٹھا لی۔

مریض کا نام آفتاب احمد تھا،جو ایک پاکستانی طالب علم تھا اور وُوہان یُونیورسٹی کی شاخ چائینیز اکیڈمی آف انجینئرنگ میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے چین میں آیا تھا۔ وہ اپنے آخری تعلیمی سال میں تھا اور جُون ۲۰۲۰ء میں امتحانات سے فراغت کے بعد اُس کی اپنے وطن پاکستان واپسی متوقع تھی کہ یکایک دسمبر ۲۰۱۹ء میں وُوہان میں کورونا وائرس کی وبا پُھوٹ پڑی— جس نے آناًفاناً عالمی وبا کی صُورت اختیار کر کے پُوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور جس کا شکار ہو کر وہ بھی دُوسروں کے ساتھ دو منزلہ ہؤشین شان (Huoshenshan) ہسپتال میں پہنچ گیا۔ کچھ دِن قرنطینہ اور آئیسولیشن میں گزارنے کے بعد اب وہ ہسپتال کے تیس آئی سی یُوز میں سے ایک میںتھا جہاں ڈاکٹر لیو (Liu) کے ساتھ ساتھ دِیگر ڈاکٹر اور طبّی عملہ مریضوں کے علاج میں دِن رات ایک کیے ہُوئے تھا لیکن اُس نے اُن دونوں نرسوں کے ہم رَاہ ڈاکٹر لیو کو متواتر اپنا خاص معالج پایا تھا۔ پس، اُس نے اُن ہی کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر لیو نے فائل کی ورق گردانی کے بعد کچھ نئی ادویات تجویز کیں اور ایک دوا کو نشان زد کرتے ہُوئے ہٹ کر ایک دُوسرے سے مقررہ فاصلہ رکھ کر کھڑی ہُوئی دو نرسوں میں سے ایک سے مخاطب ہو کر بولا۔ “سسٹر چَینگ یِنگ (Changying)، یہ انجکشن مریض کو ابھی دے دیں۔ باقی ادویات معمول کے مطابق جاری رکھنا ہیں۔”

اُس نے روانگی سے قبل مریض کی طرف کن اَکھیوں سے دیکھا، جسے مریض نے فوراً تاڑ لیا کیوں کہ وہ پہلے ہی ڈاکٹر کی طرف ملتمس اور آس بھری نگاہیں جمائے ہُوئے تھا۔

“ڈاکٹر، پلیز۔ یہ… میری آخری… خواہش… ہے۔” وہ گڑگڑایا۔ “دُنیا بھر میں… کہیں بھی… مرتے ہُوئے… شخص کی… آخری… خواہش… کبھی ردّ… نہیں کی… جاتی۔”

ڈاکٹر مُڑا اَور گہری نگاہوں سے اُسے تکنے لگا۔ پھر اُس کی آنکھیں یُوں پُرخیال ہو گئیں جیسے وہ اُس کی استدعا پر غوروخوض کر رہا ہو۔ وہ تھوڑی دیر تک اُسی حالت میں کھڑا اُسے تکتا رہا لیکن اُس کی آنکھیں غمازی تھیں کہ وہ اُسے دیکھنے کے بجائے کسی گہری سوچ بچار میں کھویا ہُوا ہے۔

“ڈاکٹر،… خُدا کے… لیے!”مریض نے دوبارہ سماجت کی۔

“ہم م م م…!” ڈاکٹر چونکتے ہُوئے اپنی غائب دماغی کی کیفیت سے نکلا۔

“ڈاکٹر…؟”

ڈاکٹر لیو نے ہاتھ اُٹھا کر اُسے کچھ اَور کہنے سے منع کیا اور پھر بولا۔ “مجھے تمھاری خواہش کا احترام ہے لیکن میں اپنے طور پر اِسے پُورا نہیں کر سکتا۔ اِس کے لیے مجھے اپنے اعلیٰ حکام سے باقاعدہ اجازت لینا ہو گی۔” اُس نے سوچنے کے لیے ذرا سا تؤقف کیا تو مریض متواتر ٹکٹکی باندھے اشتیاق سے اُس کے مزید بولنے کا منتظر رہا۔ تاہم اُس کی آنکھوں میں نااُمیدی کے سائے گہرے ہو گئے تھے کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ ہؤشین شان ہسپتال ۴۰۰ افراد کے طبّی عملے کے ساتھ پیپلز لبریشن آرمی اپنے سخت نظم و نسق کے ساتھ چلا رہی ہے۔ نرس نے، جو اِس دوران میں انجکشن تیار کر چکی تھی، انگوٹھے کی داب سے چھوٹا سا پہیہ گھما کر ڈِرپ بند کر کے سُوئی اُس کی ہتھیلی کے پشت پر لگے برونولا میں داخل کی تو مریض کا دھیان ڈاکٹر کی طرف سے لمحہ بھر کے لیے بٹا۔

نرس کے سُوئی نکالنے کے بعد ڈاکٹر نے ایک گہری سانس لیتے ہُوئے اپنی بات کا سلسلہ جوڑا۔ “میں معاملے کو اُن کے علم میں لاؤں گا۔ مجھے قوّی توقع ہے کہ تمہاری خواہش ردّ نہیں کی جائے گی۔”

یہ سنتے ہی مریض کی بجھی ہُوئی آنکھوں میں آس کی ہلکی سی دمک موجزن ہو گئی اور نراس دَم توڑتی دِکھائی دینے لگی۔ اُس کے چہرے پر اظہارِ تشکر کے جذبات کی لالی کے اثرات نمایاں تھے۔

“شکریہ… ڈاکٹر،… بے حد… شکریہ۔” مسرت کی شدّت سے اُس کی رُندھی ہُوئی آواز حسبِ سابق اٹکتی ہُوئی نکلی۔

ڈاکٹر نے اُس کی ڈبڈبائی ہُوئی آنکھوں کی طرف آخری نگاہ ڈالی اور دروازے کا رُخ کیا۔ پھر وہ رُکا اور ماسک کے نیچے سے مُڑ کر پھیکی مُسکراہٹ کے ساتھ لیکن حوصلہ افزا لہجے میں بولا۔ “میں تمہیں یقین دِلاتا ہُوں کہ یہ تمہاری آخری خواہش نہیں ہے۔”

لیکن اُس کے لہجے میں یقین کا فقدان تھا کیوں کہ مریض کی حالت خاصی تشویش ناک تھی۔ البتّہ، ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے وہ اپنی فرض بخوبی نبھا رہا تھا کہ آخری دَم تک آس نہ ٹُوٹنے دے۔

اُسی شام جب ڈاکٹر اپنے معمول کے دورے پر معائنے کے لیے آیا تو وہ ڈاکٹر سے مستفسار ہُوا۔ “ڈاکٹر،… آج سُورج… ڈوب گیا۔ کیا میں کل… سہ پہر کا سُورج… دیکھنے کی اُمید رکھوں؟”

“ہاں، ضرور۔ کیوں نہیں۔ مجھے اُمید ہے کہ میں کل تک منظوری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا اور تم کل ڈُوبتا ہُوا سُورج ضرور دیکھو گے۔”
“شکریہ… ڈاکٹر۔” مریض نے اِس بار بے حد مطمئن لہجے میں اُس کا شکریہ ادا کیا اور آنکھیں موند لیں، جن میں ٹھیرے آنسو پلکوں کے دباؤ سے گالوں پر پھسل آئے۔

چُوں کہ ڈِرپ ختم ہونے میں ابھی وقت تھا اور مریض کو مزید کوئی دوا بھی نہیں دی جانا تھا، پس دونوں نرسیں بھی ڈاکٹر لیو کے پیچھے پیچھے روانہ ہو گئیں۔
چند مِنّٹ کے بعد، اُس نے اپنے بستر کے پاس قدموں کی مدہم آواز سُن کرآنکھیں کھولیں تو اُن دونوں نرسوں میں سے ایک—جس کا نام شیاؤہُوئی (Shiaohui) تھا— ساتھ والی آہنی تپائی سے اُس کی کیس ہسٹری والی فائل اُٹھا رہی تھی۔ وہ اُسے آنکھیں کھولتے دیکھ کر ماسک کے اندر مُسکرائی تو اُس کے گال چڑھ گئے اور آنکھوں کے کونوں پر گِرد کوّے کے پنجے بن گئے۔ اُس نے رَسانیت سے دریافت کیا۔ “کیا تمہیں غروبِ آفتاب دیکھنا بہت زیادہ پسند ہے؟”

“ہاں۔” وہ مدہم آواز میں گویا ہُوا۔ “مجھ سے کبھی— سوائے اِن چند ایّام کے— یہ منظر نہیں چُھوٹا۔ پتا نہیں کیوں، ڈُوبتا ہُوا سُورج، اُس کی سنہری سے لال پڑتی کِرنیں اور اُن کِرنوں میں اپنا رنگ اور رُوپ بدلتی اشیاء— درخت، پودے، پُھول، پہاڑ، زمین، حتّٰی کہ خُود سُورج تک— مجھ پر سحر طاری کرتی ہیں اور مجھ میں اگلے روز کے غروبِ آفتاب کا انتظار کرنے کی توانائی کو جنم دیتی ہیں۔” اُس نے پُرخیال انداز میں ٹھیر ٹھیر کر بولتے ہُوئے اپنی بات مکمل کی تاکہ کھانسی چھڑے نہ ہی سانسوں کی مالا ٹُوٹے اور بات کا تواتر قائم رہے۔
اُس نے اثبات میں سر ہِلایا اور مُسکراتی ہُوئی چلی گئی۔

بعض اوقات— کم از کم ایک مرتبہ لازماً— زندگی میں نگاہوں کا پالا کسی ایسے مسحور کُن اور تحیّرزا منظر سے یا کسی ایسی مغلوب کر ڈالنے والی ہستی سے ضرور پڑتا ہے، جس کے طلسم اور حیرانی سے تم زندگی بھر نہیں نکل پاتے اور نہ نکلنا چاہتے ہو بَل کہ اُس سے عشق ہی زندگی بن جاتا ہے۔ بعد میں جب کبھی اُس کی یاد آتی ہے تو— اور یہ یاد اکثر آتی ہے— جیسے سارا منظر اپنی مکمل جزئیات سمیت ایک بار پھر نظروں کے سامنے زندہ ہو جاتا ہے، وہ شخصیت مجسم ہو کر آنکھوں میں آبستی ہے۔ سو، یہی آفتاب احمد کے ساتھ ہُوا تھا۔ اُس کی عمر بمشکل سات آٹھ برس رہی ہو گی کہ جب اُس نے پہلی مرتبہ غروبِ آفتاب کا نظارہ کیا تھا۔ وہ مارچ کے وسط کے خُوش گوار موسم میں گاؤں کے دُوسرے بچّوں کے ہم رَاہ آبادی سے باہر کپاس کی پچھیتی فصل کی چُنائی اور ڈنٹھلوں کے اُکھاڑ لیے جانے کے بعد خالی چھوڑ دینے والے ایک قطعۂِ اراضی میں کھیل میں مگن تھا کہ یکایک اُس کی نظر مغرب میں ڈُوبنے سے پہلے کے سُورج پر پڑی اور وہ سُورج کا دمکتا ہُوا سنہرا پن دیکھ کر جہاں کا تہاں مبہوت کھڑا رہ گیا۔ اُس نے گیند وہیں چھوڑی اور تنویم زدہ ہو کر سُورج کو تکنے لگا، اُسے اپنے ہم جولیوں کی چِلّاچِلّا کر اُسے پُکارنے کی آوازیں سُنائی دے رہی تھیں نہ ہی مخالف کھلاڑیوں کا اُودھم۔ وہ اُسی حیرت زدگی اور محویت کے عالم میں سُورج کی طرف بڑھا گویا وہ اُس نظارے کے طلسمی جال میں پھنس کر دُنیاومافیہا سے یکسر بے خبر ہو چکا ہو اور اُس کی طرف یُوں کھنچا چلا جا رہا تھا جیسے اُس تک پہنچ کر اُسے اپنی ہتھیلی پر رکھ لے گا۔ چلتے چلتے جب اُس نے آگے آجانے والے کھیت کی منڈیر سے ٹھوکر کھائی تو وہ چونکا۔ اُس نے پہلے خفگی سے نیچے دیکھا کہ سدِّراہ کیا شے بنی ہے، اور پھر آس پاس نظریں دوڑائیں۔ ہر سُو، سنہرا پن چھایا ہُوا تھا جیسے ہر چیز پر کسی نے جادو کی چھڑی گھما کر سونے کا سفوف چھڑک دیا ہو۔ گندم کے پودوں کی خیرگی بڑھ گئی تھی اور وہ کاملاً سونے سے تراشے ہُوئے لگ رہے تھے۔ زمین اور کھیتوں کی منڈیروں کے کنارے ایستادہ درختوں کے پتّوں پر اَٹی دُھول میں سونے کے ذرّات ستاروں کے مانند چمک رہے تھے۔ ہر شے کا اپنا اصل رنگ کہیں بہت نیچے چھپ گیا تھا۔ پھر جب دِھیرے دِھیرے سُورج کچھ نیچے اُترا تو اُس کی سنہری دُھوپ میں نارنجی رنگ کی آمیزش نے ماحول کو ایک اَور مسحور کُن نیا رنگ دے دیا۔ اور پھر جب کچھ ہی دیر میں سُورج جب کچھ اَور نیچے ہُوا تو اُس کا چہرہ گویا طبیعت کے خلاف بات پر طیش میں آجانے والے کی طرح لال پڑنے لگا جیسے وہ اپنی فنا سامنے دیکھ کر جلال میں آگیا ہو۔ اُس لالگی کو اُس نے اپنی سنگتری مائل سنہری کِرنوں میں شامل کر کے دھرتی پر پھینکا تو آسمان اور فضاء کے ساتھ ساتھ زمین کی ہر شے میں بھی لال جھلک دِکھائی دینے لگی۔ اور جب سنہرے، نارنجی اور ہلکی جھلک والے دُوسرے رنگوں پر رِفتہ رِفتہ سُرخی نے غالب آکر اُنھیں ماند کیا تو گویا کائنات پر لالی کی تَہ یُوں گہری ہو گئی جیسے کسی حسینہ نے اپنے ہونٹوں پر لال رنگ کی سُرخی کی تازہ تازہ تَہ جمائی ہو۔ اور پھر آہستہ آہستہ تاریکی کی پرت نے تمام منظر پر چھا کر حسن کے زوال پذیر ہونے پر مہر ثبت کرتے ہُوئے تکمیل کر دی۔ قلیل وقت کے ایک ہی منظر کے بہ یک وقت مختلف رنگوں کے امتزاج سے لمحہ بہ لمحہ بدلتے اَن گِنت طلسماتی رُوپ— جنھیں وہ الفاظ میں بیان کرنے سے قطعی قاصر تھا لیکن اُس کی رُوح اُنھیں اپنی گہرائی میں محسوس کرتی تھی— اور بظاہر اُس ایک منظر نے اُس پر ایسا سحر طاری کیا جس سے وہ کبھی نہیں نکل پایا۔

جب تک آفتاب احمد گاؤں میں رہا— اپنی نوجوانی تک— وہ اُس منظر کو ہر روز اپنی آنکھوں کے راستے اپنی رُوح میں سمانے کے لیے بستی باہر آبیٹھتا اور جھٹپٹا چھانے تک اپنے اطراف و اکناف سے کاملاً بے خبر رہ کر بیٹھا رہتا۔ جس روز اِکادُکا بادلوں کی ٹکڑیاں ایک دُوسرے سے فاصلے پر ہوتیں تو اُن سے چھنتی ہُوئی سُورج کی سنہری، زرد، سُرخ کرنیں ایک نیا طلسم جنم دیتیں۔ البتّہ کبھی کبھار گھِر آنے والے بادل— اکثر ساون بھادوں کے بادل— آفتاب احمد کو اپنے من پسند منظر کے چھِن جانے پر مایُوسی اور افسردگی سے دوچار کر دیتے۔ تاہم منظر اُس سے کبھی نہیں چُھوٹا کہ وہ بادلوں سے بھرے آسمان والے ایسے دِن میں بھی نظارے کے لیے نکلتا البتّہ منظر خُود اُسے چھوڑ جاتا، جس کا اُسے بے حد قلق ہوتا۔ وہ دو دفعہ سیاحت کی غرض سے شمالی علاقہ جات میں گیا— پہلی مرتبہ کالج کے ساتھی طلباء کے ساتھ اور دُوسری بار اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ— لیکن وہاں غروبِ آفتاب کے منظر کی عدم موجودگی نے اُسے ایک بے طرح کی مایُوسی بخشی۔ میدانی علاقوں کی نسبت وہاں سُورج پہاڑ کے پیچھے یکلخت ہی غائب ہو جاتا اور تاریکی اُترنے لگتی جب کہ ابھی دِن کھڑا ہوتا۔ وہ پہاڑ کی چوٹی کے عقب میں آہستہ آہستہ غائب ہوتی روشنی سے دِل بہلانے کی سعی کرتا لیکن تشفی نہ ہوتی بَل کہ بے کلی فزوں ہو جاتی۔ وُوہان آنے سے قبل ہی اُس نے غروبِ آفتاب کے نظارے کی منصوبہ بندی کر لی تھی کہ وہ بھی چینیوں کے مانند ایک بائیسیکل رکھے گا اور رَوزانہ سہ پہر کو اُس پر سوار ہو کر آبادی سے باہر نکل جایا کرے گا۔ لیکن اُسے اِس کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ کئی منزلہ ہاسٹل کی آخری منزل نے اُس کا مسئلہ حل کر دیا۔ اگر یہ نہ ہوتا تو اُسے زیادہ پاپڑ بیلنا پڑتے کیوں کہ وسطی چین کے صوبہ ہُوبے (Hubei) کا دارلخلافہ وُوہان، جو دریائے یانگسے (Yangtze) اور دریائے ہان (Han) کی وجہ سے منقسم تھا، قریب قریب واقع تین شہروں کے— وُوچانگ (Wuchang)، ہان کو (Hankou) اور ہان یانگ (Hanyang)، جن کے ناموں کے اِبتدائی حروف لے کر اِن شہروں کو مشترکہ نام وُوہان دیا گیا تھا— آپس میں جُڑ جانے کی وجہ سے ایک نہایت گنجان آباد اور مِیلوں پر پھیلا ہُوا ایک ایسا شہر تھا جس کی عمارتیں فلک بوس تھیں اور پہاڑوں ہی کی طرح غروب ہونے سے بہت پہلے سُورج کو اپنی اَوٹ میں لے لیتی تھیں۔ البتّہ جلد ہی آفتاب احمد کو ایک ایسا مقام مل گیا جہاں سے وہ ڈُوبتے سُورج کا بھرپُور نظارہ کر سکتا تھا— وُوہان کی تمام جھیلوں میں سب سے خُوب صُورت اور قابلِ دِید مناظر والی ’شرقی جھیل ‘کا کنارہ، جس کے پانی میں کِرنوں کا عکس جھیل کے آرپار لحظہ بہ لحظہ بدلتے اور مختلف رنگوں کے امتزاج والا ایک ایسا راستہ تشکیل دیتا تھا جو بالآخر دِھیرے دِھیرے سُرخ پڑ جاتا تھا۔ ہَوا سے بننے والی لہریں اُس بے مثل راستے میں ایسا تموّج پیدا کرتیں کہ یُوں لگتا جیسے وہ سنہری، نارنجی اور سُرخ سنگریزوں سے بنی ہُوئی فن کارانہ مہارت کی عکاس ایک عمدہ روش ہو— ایک اَور بے حد مسحور کُن منظر، جس سے شاید وہ پاکستان میں رہتے ہُوئے محروم رہتا تاآنکہ کسی جھیل یا تالاب کے کنارے اُس کا اتفاقاً واسطہ نہ پڑ جاتا۔

آفتاب احمد کی تمام رات غروبِ آفتاب کے تصوّر سے ہوتی ہُوئی خوابوں کو دیکھتے ہُوئے تمام ہُوئی اور اُسے پتا بھی نہیں چلا کہ کس نرس نے کب آکر اُس کی ڈِرپ بند کی یا معمول کے انجکشن دیے؟ کب اُس کی کیس ہسٹری والی فائل لا کر واپس رکھی گئی؟ اُسے تو یہ خبر بھی نہیں تھی کہ حسبِ معمول رات کے نو بجے اُس کا پیمپر تبدیل گیا تھا یا نہیں؟ البتّہ اب اُس نے اپنا پائجامہ نیچے سرکتا محسوس کیا تو آنکھیں کھول کر صفائی والے عملے کو ایک ریڑھی پر نئے پیمپروں کے ڈھیر، بھیگے ہُوئے ٹشو پیپروں (wipes)، ڈیٹول، سینی ٹائزر اور دُوسری پر اُتارے ہُوئے غلیظ پیمپر ڈالنے کے لیے ڈھکن والی پلاسٹک کی جسیم ٹوکری وغیرہم کے ساتھ دیکھا تو بے اختیار بول اُٹھا۔ “میں صاف ہُوں۔” لیکن اُنہوں نے سنی اَن سنی کرتے ہُوئے اپنی معمول کی کاررَوائی جاری رکھی اور ایک کارکن اپنا کام ختم کرنے کے بعد اُس کا پائجامہ واپس اُوپر چڑھاتے ہُوئے بولا۔ “خارش سے بچاؤ کے لیے یہ ضروری ہے۔ لیکن اب تمہارا پیمپر دوبارہ رات کے نو بجے ہی بدلا جائے گا۔”

اُس نے اثبات میں سر ہِلا دیا۔

ڈاکٹر اپنے مقررہ وقت پر دونوں نرسوں کے ساتھ آیا اور اُس نے بتایا کہ اُس کی خواہش سے اعلیٰ حکام کو تحریری طور پر مطلع کر کے اُن سے انسانی ہم دردی اور مریض کی بہتری کو سبب بنا کر منظوری عطا کرنے کی استدعا کی گئی ہے؛ اُس نے اُس کے معالج کی حیثیت سے ذاتی طور پر اُنہیں ٹیلی فون پر قائل کرنے کی کوشش بھی کی ہے اور توقع ظاہر کی کہ بہت جلد مثبت ردِّعمل ملے گا۔ ڈاکٹر کے لہجے میں وثوق نے آفتاب احمد کو اطمینان بھرا حوصلہ اور ہمّت بخشی۔ اُسے ڈاکٹر لیو ایک ہم درد اور شفیق انسان لگا، جو اُس کی ایک خواہش پُوری کرنے کے لیے بے حد تگ ودَو کر رہا تھا۔ اُس کا اندر ڈاکٹر کے لیے شدّید احساسِ تشکر کے جذبات سے بھر گیا اور اُس کی آنکھیں اُمڈ آئیں۔ ڈاکٹر نے اُسے تسلّی دینے کے لیے اُس کا کندھا تھپتھپایا اور ایک بار پھر یقین دِلایا کہ وہ بہت جلد غروبِ آفتاب کا نظارہ کر رہا ہو گا۔

اگرچہ اُس روز اجازت نامہ موصول نہیں ہُوا تاہم ڈاکٹر نے اپنے رات کے دورے کے دوران میں اُسے تیقّن بھرے لہجے میں تشفی دی۔ “بے فکر رہو۔ مجھے یقین ہے کہ کل ہم دونوں مل کر غروبِ آفتاب کا نظارہ کریں گے۔”

“ڈاکٹر، کیا کل دوپہر تک اجازت مل جائے گی؟” اُس کے لہجے میں تشکیک تھی۔

“ہاں، کیوں نہیں۔ شاید آج رات ہی یا کل صبح تک۔ مجھے اِس کا یقین ہے کیوں کہ مجھے یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ تم ایک کام کیوں نہیں کرتے؟”

آفتاب احمد نے استفسار بھری نگاہوں سے ڈاکٹر کو دیکھا۔

“تمہاری اِس خواہش کے اظہار سے لگتا ہے کہ تمہیں اِتنا پسند ہے کہ تم نے اکثر اِس کا نظارہ کیا ہے۔ پس، تم اپنی بیماری کو بُھول جاؤ اور جب تک ہم واقعی اِس منظر کو نہیں دیکھتے، اِس دوران میں تم ماضی کے مناظر سے تصوّر کشید کرو کہ وہ نظارہ کیسا دِل فریب ہو گا۔”

ڈاکٹر کی تجویز معقول تھی، لیکن اجازت نامہ ملنے اور نہ ملنے کے اندیشے کی درمیانی کیفیت زیادہ غالب قوّت رکھتی تھی، جس کی وجہ سے رات یُوں بسر ہُوئی کہ جب بھی تصوّر قائم ہُوا خدشے کے ناگ نے اپنا پھن اُٹھا کر اُسے زمیں بوس کر دیا۔ البتّہ اِس کشمکش نے اُسے بیماری کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے دِلی اور مایوسی سے دُور کر دیا تھا۔

اگلے روز نرسیں اپنے معمول کے وقت پر دِن گیارہ بجے آئیں لیکن اُن کے ہم رَاہ کوئی ڈاکٹر نہیں تھا— ڈاکٹر لیو بھی نہیں۔ اُس نے بے صبری سے ڈاکٹر لیو کے بارے میں استفسار کیا تو سسٹر چَینگ یِنگ کی جانب سے پیشہ ورانہ لہجے میں جواب ملا۔ “اچانک ہی مریضوں کی ایک بڑی کھیپ آگئی ہے اور اُنھیں فوری توّجہ کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر لیو دِیگر ڈاکٹروں کے ہم رَاہ اُن کے علاج میں دُوسرے آئی سی یُوز میں مصروف ہیں۔ جُوں ہی فارغ ہَوں گے، آجائیں گے۔”

“— بس تھوڑی دیر میں،تمہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔” سسٹر شیاؤہُوئی نے تھرما گن اُس کی پیشانی کے سامنے تانتے ہُوئے اضافہ کیا۔

“میں بس اِتنا دریافت کرنا چاہتا ہُوں کہ میری درخواست پر اُنھوں نے کچھ کیا؟” وہ مستفسار ہُوا۔

دونوں نرسوں نے اپنے اپنے کام سے دھیان ہٹا کر ایک دُوسرے کی طرف دیکھا۔

“یہ تمہیں وہی بتا سکیں گے۔” سسٹر شیاؤہُوئی نے جواب دیا۔

اُن دونوں نے اپنا کام نپٹایا اور اُسے مضطرب چھوڑ کر نکل گئیں۔ وہ ایک ایک لمحہ شمار کرتے ہُوئے لگ بھگ دو گھنٹے تک انتظار کے کرب سے گزرتا رہا۔

جب ڈاکٹر لیو کی آمد ہُوئی تو اُس کے ساتھ صرف سسٹر چَینگ یِنگ تھی۔ اُس نے آتے ہی شگفتگی سے دریافت کیا۔ “ہیلو نوجوان، کیسے ہو؟”

“ڈاکٹر بہت مضطرب ہُوں۔” اُس نے دیانت داری سے جواب دیا۔

“ہَم۔” ڈاکٹر نے پُوچھا۔ “مضطرب کیوں ہو؟” اور اُس کا بلڈ پریشر، نبض، دِل کی دھڑکن، سینے میں کھڑکھڑاہٹ ماپنے لگا۔ اُس نے جواب دینے کے لیے مُنھ کھولا لیکن ڈاکٹر کو مصروف دیکھ کر دوبارہ سختی سے بند کر لیا البتّہ اُس آنکھیں مجسم سوال بنی ہُوئی تھیں۔

“سسٹر۔” ڈاکٹر نرس سے مخاطب ہُوا۔ “پہلے یہ سب آپ نے چیک کیا تھا؟”

“سسٹر شیاؤ ہُوئی نے، ڈاکٹر۔”

“اُنہیں بُلائیں۔”

“جی بہتر، ڈاکٹر۔” کہتے ہُوئے نرس چَینگ یِنگ چلی گئی۔

ڈاکٹر نے اُسے کروٹ لینے کے لیے کہا اور اُس کی پشت پر سٹیتھوسکوپ رکھ کر گہرے گہرے سانس لینے کی ہدایت کر کے پھیپھڑوں میں سانس کی رَوانی کا معائنہ کرنے کے بعد فائل میں اندراج کرنے لگا۔ اِسی اثنا میں دونوں نرسیں آگئیں۔

“سسٹر، ہم دونوں کی رِیڈنگز میں یہ فرق کیوں ہے؟” ڈاکٹر نے فائل شیاؤ ہُوئی کی طرف بڑھائی۔

“ڈاکٹر، اُس وقت یہی رِیڈنگز آرہی تھی۔” نرس نے جواب دیا۔

“ہُونہہ۔” ڈاکٹر ہنکارا بھر کر آفتاب سے مخاطب ہُوا۔ “تم غروبِ آفتاب دیکھنے کے اِتنے شائق کیوں ہو؟ کسی سے ملنا نہیں چاہتے؟” پھر یاد آنے پر بولا۔ “اوہ، تم تو پاکستانی ہو۔ ماں، باپ، بہن، بھائی یا کسی اَور سے سکائپ پر تمہاری بات کروا دیں تو کیسا رہے گا؟”

“ڈاکٹر، میں اُنہیں بہت یاد کرتا ہُوں۔ لیکن مجھے اِس حال میں دیکھ کر وہ بے حد دُکھی ہَوں گے۔ یہاں پھیلنے والی اِس وبا کی خبریں یقینا اُن تک پہنچ گئی ہَوں گی اور وہ میرے لیے خاصے پریشان ہَوں گے۔ میں اُنہیں مزید دُکھ میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا۔”

“تو اِس لیے تم صرف اِس منظر پر اکتفا کرنا چاہتے ہو؟”

“نہیں، ڈاکٹر۔ میرا نام آفتاب ہے— سُورج۔ شاید اِسی لیے میں بچپن سے ہی اِس منظر کے سحر کا اسیر ہُوں۔ میں نے سسٹر شیاؤ ہُوئی کو بھی بتایا ہے۔”

“آفتاب… سُورج… شیاؤ ہُوئی۔” ڈاکٹر نے پُرخیال انداز میں دُہرایا۔ “تمھیں شیاؤ ہُوئی کا معنی معلوم ہے؟”

“جی، ڈاکٹر۔” اُس نے جواب دیا۔ “صبح سویرے کی نرم دُھوپ۔” وہ چین میں پچھلے چار برسوں کے قیام کے دوران میں چینی زبان پر خاصا عبور حاصل کر چکا تھا۔

“اگر تم طلوعِ آفتاب دیکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے تو میں بِلاتاخیر، بِلاجھجک کہتا سسٹر شیاؤہُوئی کو دیکھ لو۔” ڈاکٹر لیو ہلکا سا قہقہہ لگاتے ہُوئے بولا تو دونوں نرسیں بھی ہنس پڑیں۔

“ڈاکٹر، طلوعِ آفتاب میں وہ نیرنگی نہیں جو غروبِ آفتاب میں ہے۔ آپ چاہیں تو خُود دونوں کا نظارہ کر کے دیکھ لیں۔”

“اَوہو، بہت خُوب۔ گویا تم نے دونوں کا نہایت ڈُوب کر نظارہ کیا ہے۔”

“جی، ڈاکٹر۔ طلوع بہت جلد ہو جاتا ہے، رنگوں کے ناپائیدار سحر کے ساتھ جب کہ غروبِ آفتاب میں…”

“ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔” ڈاکٹر نے قطع کلامی کی۔ “بہرحال، تمھارے لیے خُوش خبری ہے کہ حفاظتی نقطۂِ نظر کی کچھ شرائط کی پابندی کے ساتھ اُصولی طور پر تمھاری خواہش پُوری کرنے کے لیے منظوری ہو چکی ہے۔ ہمیں بس تحریری حکم نامے کا انتظار ہے۔ جیسے ہی ہمیں وہ موصول ہُوا، ہم تمہیں آج ہی نظارہ کروا دیں گے۔ ٹھیک ہے؟”

“جی، ڈاکٹر۔ بے حد شکریہ۔”

جواباً ڈاکٹر مُسکرایا اور رُخصت ہو گیا۔ اور وہ دِل ہی دِل میں اجازت نامہ جلد ملنے کی دُعائیں کرتے ہُوئے شدّت سے انتظار کرنے لگا۔

شام پڑ گئی تھی۔ اِس دوران میں وقفے وقفے سے طبّی عملے کا معمول کے مطابق آنا جانا لگا رہا، لیکن ڈاکٹر لیو اور وہ دونوں خاص نرسیں غائب تھیں۔ شاید ڈاکٹر کثیر تعداد میں نئے آنے والے مریضوں کے فوری علاج معالجے میں اُلجھا ہُوا ہو لیکن نرسیں؟ نرسیں بھی تو خاص معاون ہوتی ہیں جن کے بغیر ڈاکٹر ادھورے ہوتے ہیں۔ لیکن اُن میں سے کوئی ایک تو آکر اُسے اجازت نامہ ملنے کی نوید سنا سکتا تھا۔ شاید ابھی اجازت نامہ موصول ہی نہ ہُوا ہو؟ یا شاید ہو گیا ہو؟ لیکن باقی انتظامات نہ ہو سکے ہَوں؟ یا کسی غیر متعلّقہ فرد کے ہاتھوں میں پہنچ گیا ہو، جسے اُس کی اہمیت کا اندازہ نہ ہو اور اُس نے اُسے عملے کی ہنگامی مصروفیات کے پیشِ نظر معاملے کو بعد پر ٹالتے ہُوئے اِدھر اُدھر رکھ دیا ہو؟ یا فوری توّجہ کے متقاضی مریضوں کی بڑی تعداد کی اچانک آمد کی وجہ سے دانستہ معاملہ کل پر ٹال دیا گیا ہو؟ اور یہ قیاس اُسے زیادہ غالب لگا، تاہم کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ وہ اُس تمام وقت میں ایسی ادھیڑبن میں اپنے اندر اضطراب کی بڑی بڑی لہریں اُٹھتی محسوس کر تا رہا۔ وہ ڈاکٹر کے وعدے کو یاد کر کے اپنی بے قراری کو تھپکیاں دے کر سلانے کی سعی کرتا رہا۔

جس وقت سسٹر چَینگ یِنگ اپنے ہاتھ میں ایک فائل لیے آئی تو آفتاب احمد کے قیاس کے مطابق سُورج ڈُوب چکا تھا یا ڈُوب رہا ہو گا۔ اُس نے فائل میں رکھا ہُوا کاغذ اُس کے سامنے کیا جو اُسے ہسپتال کے سامنے والے حِصّے کے علاوہ موزونیت کو مدِّنظر رکھتے ہُوئے دونوں ا طراف یا عقبی سمت میں سے کسی ایک مقام سے غروبِ آفتاب کا نظارہ کرانے کا اجازت نامہ تھا، جس میں معیاری طریقہ کار (SOPs) درج کر کے اُن پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اُس نے بتایا کہ یکایک مریضوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ اجازت نامے کی تیاری میں تاخیر کا باعث بنا کیوں کہ اِس سے اُوپر تک ہلچل مچ گئی ہے اور ڈاکٹر لیو سمیت تمام ڈاکٹر اِس ہنگامی صُورتِ حال سے نپٹ رہے ہیں؛ ہسپتال ہی کے ایک حِصّے میں سستانے کے لیے جانے والے ڈاکٹروں اور دُوسرے طبّی عملے کو بھی بُلا لیا گیا ہے؛ تاہم اب حالات خاصے قابو میں ہیں اور وہ اگلے روز ہی اپنے مطلوبہ منظر کا نظارہ کر سکے گا کیوں کہ احتیاطی تدابیر کا بھی انتظام کرنا ہے۔ اِس تمام تفصیل کو بیان کرنے کے بعد اُس نے اجازت نامے کو آفتاب احمد کی کیس ہسٹری کے کاغذگیر کے آخری مومی لفافے میں رکھا اور رَوانہ ہو گئی۔

باقاعدہ اجازت ملنے کی خبر نے اُسے نچنت کر دیا۔ اُس کے اندر اضطراب کا موجزن جواربھاٹا بڑی حد تک پُرسکون ہو گیا۔ اُسے اب ڈاکٹر لیو کی آمد کا انتظار تھا تاکہ وہ اُس کی کاوشوں کا شکریہ ادا کر سکے، لیکن اُس شب ڈاکٹر لیو کے بجائے دِیگر دو نوجوان ڈاکٹروں کی جماعت نے اُس کا اور اُس جیسے دُوسرے مستقل کیفیت کے حامل مریضوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ فائل پر اپنے مشاہدات کا اندراج کیا اور شریکِ کار نرسوں کو کچھ ضروری ہدایات دیں۔ اُن نرسوں میں سسٹرز چانگ یِنگ اور شیاؤہُوئی شامل نہیں تھیں۔

آفتاب احمد نے وہ رات بھی گذشتہ دونوں راتوں ہی کے مانند غروبِ آفتاب کے مختلف مناظر کے تصوّرات اور خوابوں میں بسر کی۔ اِس کے ساتھ ساتھ وہ اگلے نظارے کے مناظر میں بھی کھویا رہا۔ کبھی اُسے صاف شفاف آسمان پر ڈھلتا ہُوا سُورج اپنی بوقلمونی بکھیرتا ہُوا دِکھائی دیا جس میں ہسپتال کے گِردونواح میں پھیلی وُوہان کی فلک بوس عمارتوں میں سے کسی کا وجود نہیں تھا۔ تو کبھی اُس نے اُسے جھیل کے پانی میں— جسے وہ اپنے تخیّل یا خواب میں یا دونوں کی وسطی کیفیت میں ہسپتال کے پہلو میں واقع جھیل زِہی یِن (Zhiyin) سمجھتا رہا تھا— اُترے اور پھر کچھ نیچا ہونے پر ترچھی کرنوں سے ہفت رنگ سنگریزوں راستہ تشکیل دیتے دیکھا۔ اِسی طرح کبھی وہ کسی میدانی علاقے میں نظارہ کر رہا تھا تو کبھی کسی پہاڑی علاقے میں تو کبھی کسی اَور جگہ۔ حد یہ کہ ایک بار تو اُس کا تخیّل اُسے صحرا میں لے گیا، غالباً جس کا سبب اُس کا تجسس تھا کہ صحرا میں غروبِ آفتاب کا منظر کیا بہار دِکھاتا ہو گا کیوں کہ اُس نے وہاں کا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یقینا ریت کے ذرّات ستارے بن کر دمکتے ہَوں گے! ہر منظر اپنی جگہ مکمل اور اِتنے طویل دورانیے کا تھا کہ اُسے صبح ہونے کا پتا تک نہیں چلا۔ اور اب وہ ڈاکٹر لیو کو سوالیہ نظروں سے لگاتار تکے جا رہا تھا، جس کی آنکھیں یُوں متورم اور لال تھیں جیسے اُس نے رات بھر پلک تک نہ جھپکی ہو اور اُس کی ڈھلمل بدنی حرکات اُس کے خاصا مضمحل ہونے کی غماز تھیں۔ ڈاکٹر نے پہلے اپنے فرائض نبھائے اور پھر اُس کی آنکھوں کے سوال کی طرف متوجہ ہُوا۔

“ہسپتال کی سطح پر ہونے والے انتظامات— مثلاً تمہیں باہر لے جانے سے پہلے اور واپس لانے کے بعد ہائیڈروکسی کلورو کوِین و دِیگر جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ، غیر متعلّقہ افراد سے خالی راہداری وغیرہ— زیادہ مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ آکسیجن کے سلنڈر کا ہے کیوں کہ ہسپتال میں تمام وینٹی لیٹر مستقلاً نصب شدہ ہونے کی وجہ سے ناقابلِ حرکت ہیں۔ ہم نے دُوسرے ہسپتالوں سے رابطہ کیا ہے۔ ایک ہسپتال میں چھوٹا سلنڈر دستیاب ہے، جسے وہ بھجوا رہے ہیں۔ اِس لیے، تم یقین رکھو کہ آج تم اپنے سب سے پسندیدہ منظر کے نظارے سے لطف اندوز ہونے جا رہے ہو۔” ڈاکٹر نے اپنی بات مکمل کی تو اُس نے آفتاب احمد کے چہرے پر گہرے سکون کے تأثرات کو پھیلتے دیکھا۔ وہ روانہ ہُوا، لیکن پھر مُڑا اَور بولا۔ “تب تک میں تھوڑی سی نیند لے کر اپنی تھکن اُتار لوں اور یہ دونوں سسٹرز بھی۔ پچھلے چھتیس گھنٹے سے ہمیں آرام کا ایک لمحہ بھی میسر نہیں آیا۔ لیکن تم بے فکر رہو، تمام معاملہ طے پا چکا ہے۔ ہمیں بروقت جگا دیا جائے گا۔”

“شکریہ، ڈاکٹر۔”

ڈاکٹر لیو مزید کچھ کہے بغیر دونوں نرسوں کے ہم رَاہ روانہ ہو گیا۔

من پسند شے یا شخصیت سے ملن کے لمحات جُوں جُوں شمار میں کم ہوتے جائیںانتظار کے لمحات کی کربناکی مسرت بھری سنسنی کے پہلو کے غالب آنے پر دب جاتی ہے، جس کا اپنا ہی ایک لطف اور سرخوشی ہوتی ہے۔ آفتاب احمد کے بھی کچھ ایسے ہی احساسات و جذبات تھے۔ لیکن جب انتظار کے لمحات طویل ہو کر آس ختم کرنے لگیں اور دِل بہلانے کو مناسب جواز نہ ملے تو تو نراس غالب آنے لگتی ہے۔ سامنے لگے دِیوارگیر گھڑیال پر شام کا دھندلکا پھیلنے کا وقت دیکھ کر اُس کی کیفیت میں تبدیلی کا اگلا دور شروع ہُوا جس میں نااُمیدی اور مایوسی کا عنصر غالب ہوتا جا رہا تھا، جسے مدہم کرنے کے لیے: سلنڈر نہیں پہنچا ہو گا، یا کسی نے ڈاکٹر لیو کو نیند سے نہیں اُٹھایا ہو گا، یا مزید ایسے مریض آگئے ہَوں گے جنھیں فوری توّجہ کی ترجیحی بنیادوں پر زیادہ ضرورت ہو گی، جیسی طفل تسلیاں بھی ناکام ٹھیر رہی تھیں۔ اگر اُس روز ڈاکٹر لیو اپنے معمول سے ہٹ کر جلد نہ آتا تو شاید آفتاب احمد کو اپنے آپ کو سہارنا مشکل ہو جاتا، جو اُس کے لیے ازحد نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔ غالباً ڈاکٹر کو اِس صُورتِ حال کا بخوبی اندازہ تھا۔

“مجھے افسوس ہے کہ ہم آج غروبِ آفتاب کا نظارہ نہیں کر سکے، شاید کل بھی نہ کر سکیں۔ اُمید ہے کہ پرسوں ممکن ہو گا۔” ڈاکٹر نے اُسے سوال کا موقع دیے بغیر چھوٹتے ہی کہا۔

“کیوں، ڈاکٹر؟ کیا مزید مریض آگئے ہیں؟”

“مزید مریض تو ہر روز آرہے ہیں۔ لیکن شاید قدرت ابھی تمہاری مزید آزمائش چاہتی ہے۔ شاید یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ تمہاری خواہش کی شدّت کتنی ہے۔” ڈاکٹر لحظہ بھر کے تؤقف کے بعد دوبارہ گویا ہُوا۔ “آسمان پر گہرے بادل چھائے ہیں اور پھوہار پڑ رہی ہے۔”

“واقعی؟ اِس موسم میں؟” اُس کے مُنھ سے بے اختیار نکلا۔ اُس کی حیرانی بجا تھی کیوں کہ اوّل تو وُوہان میں سال بھر میں بارش اور برف باری کا تناسب کم تھا اور ثانیاً اُس نے اپنے اب تک کے قیام کے دوران میں مارچ کے مہینے میں بارش پڑتی نہیں دیکھی تھی۔ ہمیشہ مطلع صاف اور خُوش گوار، اور سُورج خُوب روشن ہوتا تھا۔

“یہ دیکھو۔” ڈاکٹر نے سٹول کھینچ کر بیٹھتے ہُوئے اپنے سیلولر فون کی سکرین اُس کے سامنے کی، جہاں موسم کی پیش گوئی کرنے والی سائٹ سارے وُوہان میں گھنے بادلوں اور بارش کا پتا دے رہی تھی۔ اُس نے اپنے انگوٹھے کی سِرے سے چُھو کر سکرین کو حرکت دی اور بولا۔ “یہ موسم کل تک برقرار رہے گا۔ البتّہ پرسوں سُورج معمول کے مطابق اپنی رُونُمائی کرے گا۔”

ڈاکٹر نے اُس کا مُنھ اُترتے دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں جھانکا اور بولا۔ “دِل چھوٹا مت کرو۔ سلنڈر آچکا ہے۔ باقی انتظامات بھی مکمل ہیں۔ آج کا دِن کم و بیش گزر ہی چکا ہے۔ کل کا بھی گذر جائے گا۔ اِس وقت کو سہل طریقے سے کاٹنے کے لیے ہم ایک کام کرتے ہیں۔” ڈاکٹر نے رسان لہجے میں بات کرتے ہُوئے تجویز دی۔ “خُوش گوار یادیں اچھی چیز ہوتی ہیں۔ میرے پاس تمھارے لیے تھوڑا سا وقت ہے۔ اپنی کچھ یادیں میرے ساتھ بٹاؤ۔ تم نے یقینا آج تک بے شمار مرتبہ سُورج ڈوبتے دیکھا ہے، کیا نہیں دیکھا؟ کیا ہر روز، ہر موسم میں یکساں منظر ہوتا ہے؟ یا ہر بار ایک نیا اور مختلف؟”

آفتاب احمد کچھ دیر پُرخیال نگاہوں سے ڈاکٹر کو دیکھتا رہا، پھر بولا۔ “نہیں، ہر روز ایک اَور ہی سُورج ڈُوب رہا ہوتا ہے، جس کا نظارہ بھی اَور ہی ہوتا ہے۔ یقینا روزانہ ایک نیا سُورج طلوع اور غروب ہوتا ہے، اِس طرح روزانہ نظارہ بھی گذشتہ روز سے کچھ ہٹ کے، کچھ مختلف، کچھ نیا ہوتا ہے۔” اُس کی آنکھیں خوابیدہ ہو گئیں۔ “یہ سب محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن اِسے لفظوں میں بیان کرنا میرے لیے بہت دُشوار ہے۔ بس یُوں سمجھ لیں، آج کا سُورج پچھلے روز کے سُورج کی تقلید تو کرتا ہے لیکن مکمل نہیں، معمولی سے نئے پن کے ساتھ۔ آہستہ آہستہ موسم بدلنے کے ساتھ ساتھ یہ نیا پن بڑھتا جاتا ہے اور منظر بدلتے بدلتے یکسر بدل جاتا ہے۔ سرما میں وہ منظر نہیں رہتا جو گرما میں تھا، جو موسمِ بہار میں تھا وہ خزاں میں نہیں رہتا۔ اور جب دو موسم ہم آغوش ہو رہے ہَوں— جیسے ابھی سرما گیا ہے، بہار آئی ہے تو اِن دونوں کے عین درمیان بھی ایک موسم تھا— تو نظارہ کچھ اَور ہوتا ہے، چاروں باقاعدہ موسموں سے بے حد مختلف۔ یہ چاروں واضح موسم اور اِن کے نظارے بھی سال میں چار مرتبہ آتے ہیں، لیکن ہم نے اِن موسموں کو کوئی نام ہی نہیں دیا۔ نہیں دیا نا؟” ڈاکٹر نے جواب دے کر اُس کی محویت کو توڑنا مناسب نہیں سمجھا اور اُس نے اپنی بات جاری رکھی۔ “اِس کے علاوہ زمینی مناظر بھی غروبِ آفتاب کا نظارہ بدلتے ہیں، طلوعِ آفتاب کو بدلتے ہَوں گے۔ میدان، پہاڑ، ریگستان، جھیل یا دریا کنارے: ہر جگہ کا منظر دُوسرے مقام کے نظارے سے بالکل مختلف ہوتا ہے، ہر نظارے کا اپنا طلسم ہوتا ہے۔” وہ بولتے بولتے رُکا۔ بہت دِنوں کے بعد طویل بات کرنے کے باعث اُس کا سانس پُھولنے لگا تھا۔ اِس سے بھی بڑھ کر وہ کورونا وائرس سے متأثرہ ایسا مریض تھا، جس کی سانسیں قابُو سے باہر ہو چکی تھیں۔ اگر وہ وینٹی لیٹر پر نہ ہوتا تو شاید اُس کے پھیپھڑے اب تک جواب دے چکے ہوتے۔

ڈاکٹر لیو نے اپنا دستانہ پہنا ہاتھ آگے بڑھایا اور اُس کا کندھا نرمی سے تھپتھپا کر اُسے پُرسکون ہونے میں مدد دی۔ وہ اپنی سانسیں درست کرتا رہا اور ڈاکٹر بدستور اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھے صبرو تحمل سے چُپ چاپ منتظر رہا۔

“سردیوں کے موسم میں جب آسمان پر کُہر چھائی ہوتی ہے— دبیز پرت والی نہیں بَل کہ بُوندوں والا کُہرا— وہ بُوندیں یُوں دِکھائی دیتی ہیں جیسے آسمان پر سنہرے رنگ کے موتی ٹانک دیے گئے ہَوں۔ سُورج کے بہت قریب کی بُوندیں کبھی انگوروں کے بڑے بڑے خوشے دِکھائی دیتی ہیں تو کبھی منشور بن کر ساتوں رنگ منعکس کرتی ہیں۔ جب سُورج نیچے ہونے لگتا ہے تو اُن کا رنگ بھی بدلتا ہے، زرد اور سُرخ میں اور وہ لٹکے ہُوئے پکھراج اور لعل دِکھائی دینے لگتی ہیں۔ آہستہ آہستہ— سُورج کے زمین کی مزید اَوٹ میں آنے پر— اُن کے ایک طرف کا حِصّہ سیاہ پڑنے لگتا ہے اور پھر دِھیرے دِھیرے تمام بُوندیں چُھپ جاتی ہیں، بس اُن کے ایک رُخ کی کمان بہت تھوڑی دیر کے لیے یُوں زردی مائل سُرخ رہتی ہے جیسے پہلی کے بے شمار چھوٹے چھوٹے چاند طلوع ہو گئے ہَوں۔ واہ، کیا خُوب نظارہ ہوتا ہے! قطعی ناقابلِ بیان! پھر وہ چاند بھی سُورج کے ساتھ غروب ہو جاتے ہیں۔” وہ گہرے گہرے سانس بھرتے ہُوئے قلیل وقفے کے لیے چُپ ہُوا تو ڈاکٹر نے اُس کی خوابیدہ آنکھوں میں اُس منظر کا نظارہ کرنے کی کوشش کی۔ “اور برف باری کے بعد— جب ابھی ہَوا چلنے کے بعد برف مکمل طور پر شیشہ نہ بنی ہو بَل کہ کچھ کچھ دُھندلی ہو تو— یہی رنگ ایک مختلف بہار دِکھاتے ہیں۔ مدہم مدہم جھلمل میں کہیں کہیں دمکتے برف کے ذرّات یُوں لگتے ہیں جیسے زمین ستاروں سے سج گئی ہو۔ لیکن سخت اور چمک دار برف پر کِرنیں اِس قدر زیادہ تیکھی اور چبھنے والی ہوتی ہیں کہ انعکاس کی سیدھ سے نظارہ کرنے سے بینائی متأثر ہو سکتی ہے۔ میں ہلکی سی چمک پڑتے ہی یہ خطرہ بھانپ کر ایک طرف ہو گیا تھا۔”

“ہُونہہ۔” ڈاکٹر نے ہنکارا بھرتے ہُوئے اُسے متوجّہ کرنے کے لیے اُس کا کندھا تھپتھپایا اور دِیوار گیر گھڑیال کی طرف دیکھا۔

“ڈاکٹر۔” وہ یُوںچونکتے ہُوئے بولا جیسے کسی اَور دُنیا سے ابھی ابھی پلٹا ہو۔ “جھیل کے پانی پر رنگ برنگے سنگریزوں کا لہراتا ہُوا راستہ اپنے اُوپر چلنے کی دعوت دیتا ہے۔ کبھی دیکھا ہے، ڈاکٹر؟”

“اُمید ہے کسی روز تمہارے ساتھ یہ تمام مناظر دیکھوں گا۔” ڈاکٹر گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اُٹھتے ہُوئے بولا۔ “تم نے صاف آسمان پر بدلتے رنگوں اور مناظر کے بارے میں کچھ بتایا ہی نہیں؟”

“اوہ ہاں، ڈاکٹر۔ آسمان پر رنگ…”

“معاف کرنا۔” ڈاکٹر نے قطع کلامی کی۔ “باقی کل سنوں گا۔ اب مجھے بہت سے دُوسرے مریضوں کا معائنہ کرنا ہے۔ شام کو ملاقات ہو گی۔”

لیکن اُس شام اور اگلے روز ڈاکٹر لیو کا دورہ، محض معائنے کی حد تک، بے حد سنجیدہ اور مختصر رہا۔ لگتا تھا جیسے وہ خاصا مصروف ہو۔ آفتاب احمد آگاہ تھا کہ کہ وہ دِن بھی بے موسمی بادوباراں کا ہے لیکن پھر بھی اُس نے بے چین ہو کر نرسوں سے دریافت کیا اور تصدیق ہونے پر اپنی بے کلی کو تھپک تھپک کر سلایا۔ اُس کا وہ دِن اور آنے والی تمام رات اگلے روز کے غروبِ آفتاب کے منظر کے مختلف تصوّرات اور خوابوں میں بیتی۔

اپنے معمول کے دورے پر ڈاکٹر لیو اور نرسوں نے اُسے خُوش خبری سنائی کہ وہ نظارے کے لیے تیار رہے۔ وہ نہ صرف پہلے ہی سے تیار بَل کہ اپنی خواہش کی تکمیل کا منتظر تھا۔

سہ پہر ہوتے ہی ڈاکٹر لیو دونوں نرسوں چَینگ یِنگ اور شیاؤہُوئی کے ہم راہ آیا۔ اُس نے کچھ وقت اُس کا دوبارہ معائنہ کرنے میں صرف کیا۔ آفتاب احمد بے قراری سے معائنے کے ختم ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ معائنہ مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر نے گذشتہ روز ہی کے مانند سٹول کھینچا اور بیٹھ کر بولا۔ “نوجوان، تم اِن مناظر کو اِتنا خُوب صُورتی سے بیان کرتے ہو، اِس موضوع پر کچھ لکھتے کیوں نہیں؟ کوئی مضمون؟ کوئی کہانی؟ کوئی کتاب؟”

“ڈاکٹر، کیا ہمیں کسی کا انتظار ہے؟” اُس نے اپنے اندر مچی کلبلی کو دباتے ہُوئے استفسار کیا۔

“ہاں۔” ڈاکٹر لیو نے گہری سانس لیتے ہُوئے جواب دیا۔ “ہمیں ایک اَور دِن انتظار کرنا پڑے گا۔”

اور اُس نے اپنا سیل فون نکال کر اُس کی سکرین کو شہادت کی اُنگلی کی پَور سے مَس کر کے اُس کے سامنے کر دیا۔ روشن پردے پر موسم کی پیش گوئی کرنے والی سائٹ گھنگور گھٹا دِکھا رہی تھی۔

“کچھ ہی دیر پہلے میں نے بیرونی انتظامات کے جائزے کے لیے ہسپتال سے باہر کا چکّر لگایا تو آسمان بالکل صاف تھا۔ اچانک شمال سے گھٹا اُٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے چھا گئی۔ خیر، آج رات تک بادل مکمل طور پر چھٹ جائیں گے اور کل سارا دِن مطلع صاف رہے گا۔ یہ بتاؤ، تمہیں میری تجویز کیسی لگی؟”

“کون سی تجویز؟” اُس نے غائب دماغی سے پُوچھا۔

“اِن مناظر کو قلم بند کرنے والی۔ تم سُورج کی کِرنوں کے ساتھ زمین و آسمان کے بدلتے رنگوں کو کھول کر لکھو۔ میرا خیال ہے، تم اپنا گہرا مشاہدہ عمدگی کے ساتھ بیان کرنے کی اہلیت رکھتے ہو۔”

“ڈاکٹر، آسمان کے رنگ…”

ابھی وہ اِتنا ہی کہہ پایا تھا کہ ایک نرس تِیر کی سی تیزی کے ساتھ آئی اور ڈاکٹر لیو سے مخاطب ہُوئی۔ “ڈاکٹر، آپ کی وہاں فوراً ضرورت ہے۔”

“معاف کرنا۔” ڈاکٹر ترنت اُٹھتے ہُوئے اُتنی ہی سریع آواز میں بولا۔ “میری تجویز پر غور کرو۔ کل ہم ضرور نظارہ کریں گے۔”

اگلے روز، معمول کے معائنے کے بعد، ڈاکٹر لیو کی دوبارہ آمد سہ پہر کو ہُوئی۔”یومِ تکمیل!” اُس نے آتے ہی قدرے اُونچی آواز میں نعرہ بلند کرنے کے اندز میں کہا۔ “تم خواہ مخواہ پریشان تھے۔”

اپنے ہم راہ آنے والے عملے کو کچھ ضروری ہدایات دینے کے بعد، ڈاکٹر اُس کا معائنہ کرنے لگا— تنفس کی رفتار، دِل کی دھڑکن، نبض، فشارِ خُون، انفراریڈ تھرما میٹر سے جسم کا درجۂِ حرارت۔ “پُرسکون رہو۔ ہیجان میں مبتلا ہونے سے گُریز کرو۔ تم پہلی مرتبہ یہ نظارہ کرنے نہیں جا رہے… نہ ہی آخری بار۔ بس، یہ سمجھو کہ تم اپنا ٹُوٹا ہُوا معمول دوبارہ بحال کرنے جا رہے ہو۔” پھر اُس کے مُنھ سے وینٹی لیٹر کا ماسک ہٹاتے ہُوئے کہا۔ “کچھ گہرے سانس لو۔ اِس سے تمھیں اپنی کیفیت پُرسکون رکھنے میں مدد ملے گی۔”

چند مِنّٹ تک اُس کی حالت کے متوازن ہونے کا انتظار کرتے ہُوئے وہ مختلف مشینوں پر نظریں دوڑاتا رہا۔ پھر بولا۔ “ایک بات اچھی طرح جان لو کہ تم نے اپنے آپ کو قائم نہ رکھا تو تمھیں دوبارہ کبھی یہ موقع نہیں ملے گا۔”

“جی، ڈاکٹر۔” آفتاب احمد نے یقین دہانی کروائی۔ “میں اپنے آپ پر مکمل قابُو رکھنے کی کوشش کروں گا۔”

“خُوب۔” اور پھر وہ دوبارہ عملے سے مخاطب ہُوا۔ “جلدی کرو۔ ماسک کا پائپ وینٹی لیٹر سے ہٹا کر سلنڈر کے ساتھ لگا کے سلنڈر کو پلنگ کے سرہانے ایک طرف رکھ دو۔”

راہداری میں پہیوں والے پلنگ کے برابر چلتے ہُوئے ڈاکٹر لیو بولا۔ “سُورج غروب ہونے میں لگ بھگ ایک گھنٹا باقی ہے۔ اِس تمام وقت میں تم اچھی طرح نظارہ کر لو گے۔”

آفتاب احمد نے خاموشی سے سر ہِلا دیا۔

“ارے، ہاں۔” وہ یکایک یُوں چونکتے ہُوئے بولا جیسے اُسے کچھ یاد آگیا ہو۔ “تم نے میری تجویز پر غور کیا؟”

“جی، ڈاکٹر۔ گذشتہ ساری رات میں اِسی ادھیڑبن میں رہا۔ اپنے دیکھے ہُوئے تمام مناظر یاد کر کے اُنھیں لکھنے کے لیے بہترین الفاظ سوچتا رہا۔”

“عمدہ۔ کیا لکھو گے؟ مضمون؟ مختصر کہانی؟ یا ناول؟ یا کوئی اَور کتاب؟”

“آپ کے خیال میں کیا مناسب رہے گا؟”

“میرے خیال میں… ہَم…” ڈاکٹر سوچنے لگا۔ “میرے خیال میں…”

اور یُوں ہسپتال سے باہر نکلنے تک ڈاکٹر نے اُسے باتوں میں اُلجھائے رکھا تاکہ وہ کسی ہیجانی کیفیت کا شکار نہ ہو۔

جب وہ اُسے لے کر ہسپتال کا بغلی دروازہ عبور کر کے باہر نکلے تو ایک فلک بوس عمارت کی داہنی جانب ڈھلتا ہُوا سُورج اپنی پُوری آب و تاب کے ساتھ عین سامنے موجود تھا۔ فلک بوس عمارت کے سُورج والی طرف زمین تک کوئی عمارت، کوئی رُکاوٹ نہ ہونے کے سبب اُفق تک نظر جاتی تھی۔ ڈاکٹر نے منظر دِکھانے کے لیے عمدہ مقام کا انتخاب کیا تھا۔ پہیوں والا پلنگ دھکیلنے والے دونوں افراد اُلٹے چلتے ہُوئے پیچھے ہٹ کر دروازے ہی پر ٹھیر جانے والے بقیہ عملے کے ساتھ جا ملے۔ آفتاب احمد نے تحیّر بھری مسرت سے سُورج کو دیکھا اور پھر ڈاکٹر لیو کی طرف آنکھیں گھمائیں۔

“ہاں۔” ڈاکٹر لیو، جو پہلے ہی ٹکٹکی لگائے اُسے دیکھ رہا تھا، تھوڑا سا نیچے جھکا۔ اُس نے اپنا ایک ہاتھ اُس کے کندھے پر رکھا اور دُوسرا سُورج کی طرف بڑھایا۔ “وہ دیکھو۔”

آفتاب احمد نے سر موڑ کر نگاہیں دوبارہ سُورج کی سمت سیدھی کیں۔ سُورج سے ذرا اُوپر گذشتہ دو روز کی گھٹاؤں کے پیچھے رہ جانے والے سفید بادلوں کی نچلے سنہرے کنارے والی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں تھیں۔ اُس کی نگاہوں نے سُورج کے اِردگِرد کا سفر کیا کیوں کہ ابھی اُس کی کِرنوں میں اِتنی خیرگی تھی جو آنکھوں کو چبھتی اور دیر تک دیکھتے رہنے پر نگاہوں میں سُورج کا چمک دار پرتو جنم دے کر وقتی طور پر نابینائی کا سبب بن سکتی تھیں جس سے وہ خاصی دیر تک منظر سے محروم ہو جاتا۔ فلک بوس عمارت کی سُورج والی سمت بے حد روشن لیکن سامنے والا حِصّہ نیم تاریک تھا۔ نگاہیں عمارت کے ساتھ ساتھ پھسلتی ہُوئی نیچے زمین کی طرف آئیں۔ وہ ہسپتال کے دروازے کے بیرون تک آنے والی سڑک پر بستر میں لیٹا تھا، جو سیدھی جا کر بڑی شاہراہ سے ملتی تھی۔ بڑی شاہراہ، جس پر شب و روز کثرت سے کاریں، بسیں اور دُوسری گاڑیاں دوڑتی دِکھائی دیتی تھیں، آج سنسان نظر آرہی تھی۔ اُس نے مستعجب ہو کر دِھیرے دِھیرے چاروں طرف نگاہیں دوڑائیں۔ پچھلے دو دِنوں کی بارش سے ماحول نکھرا نکھرا اَور درختوں کے گہرے سبز پتّے دُھل کر سہ پہر کی دُھوپ میں چمک رہے تھے، لیکن ہر جانب ہُو کا عالم تھا۔ چہار سُو سنّاٹے اور ویرانی کا راج تھا۔ حد یہ کہ کوئی پرندہ تک پر مارتا دِکھائی نہیں دیا، شاید وہ بھی خوف زدہ ہو کر انسانوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لیے لاک ڈاؤن ہو گئے تھے۔ آج ویسا سنّاٹا طاری تھا جس کا وہ ہمیشہ متمنّی رہا تھا تاکہ دُنیاومافیہا سے بے خبر ہو کر اپنے پسندیدہ منظر میں محو ہو سکے، لیکن آج وہی سنّاٹا اُس کے اندر تیزدھار نشتر کے مانند کچوکے لگا رہا تھا۔

جب سُورج مکمل طور پر غروب ہو گیا اور اُس کی بچی کھچی لالی پر بھی تاریکی غالب آنے لگی تو اُس نے ڈاکٹر لیو کے عملے کو پُکارنے کی آواز پر پلکیں جھپکیں۔

“زندگی سے محبت کے لیے اُمنگ بہت ضروری ہے، چاہے وہ کسی خاص منظر سے عشق ہی ہو۔” ڈاکٹر راہداری میں اُس سے مخاطب ہُوا۔ “اُس اُمنگ سے تم موت کو بھی شکست دے سکتے ہو، جیسا کہ تم نے کیا ہے۔”
اُس نے چونکتے ہُوئے نظریں اُٹھا کر ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔

“ہاں۔” ڈاکٹر نے توثیقی انداز میں اپنی پلکیں جھپکائیں۔ “ ہم تمہاری زندگی کی طرف سے مایوس ہو گئے تھے۔ لیکن پھر غروبِ آفتاب کا نظارہ کرنے کی اُمنگ نے تمھیں اپنی بیماری اور موت کی پیش آگاہی بُھلا دی۔ اِس چاہ میں تم کھانسنا اور ہونکنا بُھولتے چلے گئے، جس سے تمہارے پھیپھڑوں اور سانس کی نالی کے زخم مندمل ہونے لگے؛ دوائیں مؤثر ہو گئیں۔ پچھلے تین دِن میں تمھارے بدن کا درجہ حرارت گِرتے گِرتے آج بالکل نارمل ہو گیا۔ اِن دِنوں میں ہم نے کئی مرتبہ تمھارے وینٹی لیٹر کی آکسیجن پہلے مختصر اور پھر طویل وقفوں کے لیے بند کر کے تمھارے تنفس کی بحالی کی استعدادِ کار کو جانچا۔ اور آج تم بغیر وینٹی لیٹر کے سانس لے رہے ہو۔ اِسی لیے میں نے تمھیں باربار یقین دِلایا اور اب ایک بار پھر یقین دِلاتا ہُوں کہ یہ تمھارا آخری غروبِ آفتاب نہیں تھا۔”

ڈاکٹر لیو کی اِس تمام گفتگو کے دوران میں— جسے آفتاب احمد مُنھ کھولے ہکابکا ہو کر سُنتے ہُوئے سوچ رہا تھا کہ وہ جب سے اِس مرض کا شکار ہُوا تھا کھانس کھانس کر اُس کی اگلی پچھلی پسلیاں اور پھیپھڑے بُری طرح درد کرنے لگے تھے، یہاں تک کہ ہلکا سا کھانسنا بھی بے حد تکلیف دِہ ہوتا اور شدّید بخار سے اُسے خُود بھی اپنا جسم پُھنکتا ہُوا محسوس ہوتا۔ لیکن پچھلے چند روز کے دوران میں اُسے کھانسی نے کم تنگ کیا اور سانس لینے میں بھی کم دُشواری کا سامنا ہُوا۔ بدن کی حرارت بھی پہلے جیسی محسوس نہیں ہُوئی تھی۔ شاید اِس سب کا سبب اُس کے دھیان کا بیماری سے ہٹنا اور غروبِ آفتاب کے نظارے کی آس پر مرتکز ہونا تھا— اُس کا پلنگ اپنے مخصوص مقام پر پہنچ گیا۔ “آج کی شب تم آنے والے ایّام میں اپنے پسندیدہ منظر کو دیکھنے کے تصوّر، یا آج کے منظر کے بارے میں سوچتے ہُوئے، یا ماضی کے مناظر کی یادوں میں بسر کر سکتے ہو۔ کل تمھارا نمونہ ٹیسٹ کے لیے بھجوایا جائے گا۔ علامات کی بنیاد پر میں یقینی قیاس کر سکتا ہُوں کہ نتیجہ منفی آئے گا۔”

“ڈاکٹر، آج کا منظر بہت اُداس کر دینے والا تھا۔ زندگی سے عاری یا غالباً زندگی کی محبوسیت کے گہرے تأثر کا حامل۔ ڈُوبتے ہُوئے سُورج کے سامنے پرندہ تک نہیں اُڑ رہا تھا۔” آفتاب احمد کے لہجے میں افسردگی اور تأسف تھا۔

“مجھے توقع ہے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا— بہت جلد۔” ڈاکٹر نے اُس کے کندھے پر تسلّی بھری تھپکی دی۔ “مایُوس سوچوں سے اجتناب بہتر ہے۔”

“شکریہ، ڈاکٹر۔” اُس نے واپسی کے لیے جاتے ہُوئے ڈاکٹر کو مخاطب کیا۔ “آپ کا یہ احسان میں ہمیشہ یاد رکھوں گا۔”

ڈاکٹر سر ہِلاتے ہُوئے جواب دیے بغیر روانہ ہو گیا۔

ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آنے کی خُوش خبری اُسے نرس شیاؤہُوئی نے آکر چہکتے ہُوئے لہجے میں سنائی۔ “مبارک ہو۔ اگرچہ تمھیں شیاؤہُوئی— صبح سویرے کی نرم دُھوپ— پسند نہیں لیکن میں تمھیں زندگی کی صبحِ نو کی مبارک باد دیتی ہُوں۔ تمھیں فوراً آئیسولیشن وارڈ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔”

“کیا جانے سے پہلے میری ملاقات ڈاکٹر لیو سے ہو سکے گی؟”

“نہیں، وہ بہت مصروف ہیں۔”

آفتاب احمد کو آئیسولیشن وارڈ میں دو دِن رکھنے کے بعد قرنطینہ میں بھیج دیا گیا۔ جہاں سے چند روز کے بعد ایک بار پھر ٹیسٹ کے لیے اُس کا نمونہ لیا گیا۔ دُوسری مرتبہ بھی نتیجہ منفی آنے پر اُسے ہسپتال میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

“ڈاکٹر۔” اُس نے ہسپتال سے فارغ کرنے کی نوید سنانے والے قرنطینہ کے ڈاکٹر سے دریافت کیا۔ “میں ڈاکٹر لیو سے کہاں مل سکتا ہُوں؟”

چُوں کہ ہسپتال بھر کے تمام عملے میں اُس کے غروبِ آفتاب کے منظر دیکھنے کی خواہش کا چرچا رہا تھا اور بعد کے دِنوں میں اُس کے سامنے اِس کا متعدّد بار تذکرہ دِلچسپی بھرے انداز میں ہُوا تھا، اِس لیے عملے کے کسی رُکن کے لیے اُس کا ڈاکٹر لیو سے ملنے کی خواہش کا اظہار اچنبھے کی بات نہیں تھی۔

“تم اُن سے نہیں مل سکتے۔ COVID-19 کا نتیجہ مثبت آنے پر وہ پچھلے چند روز سے آئیسولیشن میں ہیں۔” ڈاکٹر نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔

جب ضروری کاغذات کی تکمیل کے بعد ایمبولینس اُسے لے کر ہسپتال سے نکلی تو اُس نے اُس بغلی سمت میں الوداعی نگاہ ڈالنے کی نیت سے کھڑکی کے شیشے میں سے جھانکا، جہاں سے اُس نے نظارہ کیا تھا، وہاں ہسپتال کے تمام عملے کو پیپلز لبریشن آرمی کا چاک و چوبند دستہ سلامی دے رہا تھا، جن میں یقینا ڈاکٹر لیو شامل نہیں تھا۔ اُس کے دُکھ میں اضافہ ہو گیا۔

Categories
شاعری

دو نظمیں (علی محمد فرشی)

آؤ تتلی کے گھر چلتے ہیں

چلیں !
تنہائی کے
اِس غار سے نکلیں
کوئی رستہ بنائیں
اِس گھنی، گاڑھی، سیاہی سے نکلنے کا
اندھیرے، اندھے، زہریلے دھوئیں میں
کاربن ہوتی ہوئی عمریں کہاں ہیرا بنائیں گی
کسی نیکلس، انگوٹھی اور جھمکے میں
چمک اٹھنا، کہاں دل کا مقدر ہے
ہمارے کوئلہ ہوتے دنوں کا غم، ہمالہ نے کہاں رونا ہے
کس تاریخ کا چہرہ بھگونا ہے
وبا موسم ہے، اک جیسا
سبھی کے واسطے یکساں کرونا ہے

مری جاں!
پھول کے چہرے پہ کھلتی مسکراہٹ
کم نہیں ہوتی
ذرا سی زندگی پا کر
کوئی تتلی نہیں روتی
اَمر ہونے کا سپنا کب کسی چڑیا نے دیکھا ہے
سبھی کی ایک ریکھا ہے
سہانی نیند میں جاگا ہوا ہے
خواب” ہونے کا”
سبب کیا ہے؟
نشیلے نین رونے کا
انیلی بارشیں نیلے سمند رکی کثافت پر
بہت آنسو بہاتی ہیں
مگر اس کو معطر کر نہیں سکتیں
کبھی خواہش کے اس کاسے کو
آنکھیں بھر نہیں سکتیں!

مرض الموت سے محفوظ

محبت سے کوئی جگہ خالی نہیں
سواے مٹی سے بھرے پیٹ کے
اور اُن آنکھوں کے
جو اندھیرے میں دیکھ لیتی ہیں
کالی دولت
جو ہماری نسلوں کی ہڈیاں بیچ کر جمع کی گئی
اور مرمریں میناروں والی مسجدوں میں
جو نفرتوں کی پناہ گاہیں بنادی گئیں
وہ گھر،جس کی بنیادوں میں چوہوں نے
بل بنا لیے
بندریا کے پاؤں جلنے لگے تو
اُس نے اپنا بچہ پاؤں تلے دبا لیا
جھیل خشک ہو گئی تو
موت مچھلیوں کی ضرورت بن گئی
کونج مردہ ساتھی سے پیوست ہو کر رہ گئی
حالانکہ اُس کے پر سلامت تھے
اور پیٹ بھرا ہوا
پروں میں لہو کی لہریں بے قابو تھیں
اور آسمان اُسے بار بار بلا رہا تھا
لیکن اُس نے مردہ خور کیڑوں کی
آواز پر کان رکھے
اورمٹی سے مٹی ہو جانے والی
محبت کے سینے پر سر رکھ کر
اپنی آنکھیں موند لیں

Categories
نقطۂ نظر

عالمی وبا ایک گزرگاہ ہے – اروندھتی رائے

ارون دھتی رائے کا یہ مضمون 3 اپریل 2020 کو فنانشل ٹائمز میں شائع ہوا تھا، جسے لالٹین کے لیے اسد فاطمی نے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج کل کون ہو گا جو ‘وائرل ہونے’ کی اصطلاح کو سن کر کانپ نہ اٹھے؟ کون ہو گا جو کسی بھی چیز پر – دروازے کی کنڈی ہو، گتے کا ڈبہ ہو، سبزیوں کا تھیلا ہو – نظر ڈالتے ہوئے، اس خیال کو ذہن میں نہ رکھتا ہو کہ اس پر وہ ان دیکھی، غیر مردہ، غیر زندہ پُھٹکیاں ان چوسنے والی تھوتھنیوں کے ساتھ آپ کے پھیپھڑوں سے چمٹ جانے کو تیار بیٹھی ہیں۔

کون ہو گا جو حقیقی خوف کے احساس کے بغیر بس پر کود کر چڑھتے ہوئے اجنبی یا اسکول جاتے ہوئے اپنے بچوں کو چومنے کا سوچ سکے؟ کون ہے جو چھوٹی چھوٹی عیاشیوں کا سوچتے ہوئے اس کے خطرات کا حساب نہ لگاتا ہو؟ ہم میں سے کون ہے جو ایک عطائی ماہر وبا، وائرولوجسٹ، ماہر شماریات یا پیغمبر نہ بنا پھرتا ہو؟ کون سا سائنسدان یا ڈاکٹر ہے جو چھپ چھپ کے کسی معجزے کی دعائیں نہ کر رہا ہو؟ کون سا پیر پروہت ہے جو – دل ہی دل میں سہی – سائنس کے آگے سر نہ جھکائے ہوئے ہو؟

اور جب کہ وائرس پھل پھول رہا ہے، کون ہے جو شہروں کے اندر چہچہاتے پرندوں کی خوش الحانی اور ٹریفک کی کراسنگ پر ناچتے موروں اور آسمان کی خاموشی پر دنگ نہ رہ گیا ہو؟

اس ہفتہ دنیا بھر میں کیسز کی تعداد دس لاکھ سے اوپر نکل گئی۔ 50,000 سے زیادہ لوگ ہیں جو اب تک جان گنوا چکے ہیں۔ تخمینے بتاتے ہیں کہ یہ تعداد لاکھوں تک جا سکتی ہے، یا شاید اس سے بھی زیادہ۔ وائرس نے تجارت اور بین‌الاقوامی سرمائے کے راستوں پر کھل کے سفر کیا ہے، اور جو بھیانک بیماری یہ لایا ہے اس نے انسانوں کو اپنے ملکوں، شہروں اور اپنے گھروں میں قید سا کر دیا ہے۔

لیکن سرمائے کے بہاؤ کے برعکس، یہ وائرس نشوونما مانگتا ہے، منافع نہیں، اور اسے ملی بھی، اس لیے، ان جانے میں، کچھ حد تک اس نے بہاؤ کی سمت کو الٹے رخ پھیر دیا ہے۔ یہ امیگریشن ضوابط، بایومیٹرکس، ڈیجیٹل نگرانی اور ہر طرح کی ڈیٹا تحلیلوں پر خندہ زن ہے اور – اب تک – اس نے دنیا کی امیر ترین اور طاقتور ترین اقوام پر سب سے زوردار وار کیا ہے، جس سے سرمایہ داری نظام کا پورا انجن ایک دھچکے سے رک گیا ہے۔ شاید عارضی طور پر، لیکن کم از کم اتنے وقت کے لیے کہ ہم اس کے پرزوں کا جائزہ لے سکیں، اور اپنی جانچ کر کے یہ فیصلہ کر سکیں کہ آیا ہم اسے ٹھیک کرنے کے قابل ہیں، یا ہمیں کوئی بہتر انجن ڈھونڈنا ہو گا۔

منڈارین چینی جو اس عالمی‌وبا سے نمٹ رہے ہیں بڑے شوق سے جنگ کی باتیں کرتے ہیں۔ وہ ایک استعارے کے طور پر جنگ کا نام نہیں لیتے بلکہ ان کا مطلب سچ میں یہی ہے۔ لیکن اگر حقیقت میں جنگ ہی ہوتی، تو کون ہوتا جو امریکہ سے بڑھ کر اس کے لیے تیار ہوتا؟ اگر ہراول دستے کو ماسکوں اور دستانوں کی بجائے، بندوقیں، سمارٹ بم، خندق شکن، آبدوزیں، لڑاکا طیارے اور جوہری بم درکار ہوتے، تو کیا کوئی قلت پڑتی؟

رات کے بعد رات گزرتی ہے، آدھی دنیا پار، ہم میں سے کچھ، ایک ناقابل بیان اشتیاق کے ساتھ نیویارک کے گورنر کی صحافتی بریفنگز سنتے ہیں۔ ہم شماریات پر نظر رکھتے ہیں، اور امریکہ میں کھچاکھچ بھرے ہسپتالوں میں معمولی اجرت پر غیرمعمولی محنت کے ساتھ پلاسٹک کے تھیلوں اور پرانی برساتیوں سے ماسک بنا کے مریض تک مدد پہنچانے والی نرسوں کی کہانیاں سنتے ہیں۔ ان ریاستوں کے بارے سنتے ہیں جو وینٹی‌لیٹروں کے لیے ایک دوسرے کے مقابلے میں بولیاں لگاتے پھرتے ہیں، اور ڈاکٹر کے مخمصے کے بارے میں کہ کس مریض کو یہ ملنا چاہیے اور کسے مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ اور ہم اپنے آپ میں سوچتے ہیں، “خدایا! یہ امریکہ ہے!”

یہ اچانک، حقیقی، عظیم الشان اور ہمارے آنکھوں دیکھتے اپنی تہوں کو کھولتا ہوا المیہ ہے۔ لیکن یہ کچھ نیا نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی ریل کا ملبہ ہے جو سالوں سے پٹڑی کے پاس ایک کروٹ پڑا تھا۔ “مریضوں کو نکال پھینکنے” کی ویڈیوز کسے یاد نہیں ہوں گی – بیمار لوگ، جنہوں نے ابھی اپنے اسپتال کے گاؤن پہنے ہوئے تھے، ننگے پچھواڑوں کے ساتھ، جنہیں توہّمات کی بنا پر گلی کی نکڑ پر نکال پھینکا گیا؟ حالات کے مارے امریکی شہریوں پر ہسپتال کے دروازے زیادہ تر بند ہی رہے۔ اس سے کچھ غرض نہیں کہ وہ کس قدر بیمار ہیں یا کتنی تکلیف اٹھا چکے ہیں۔

کم از کم اب تک تو نہیں – کیونکہ اب، وائرس کے زمانے میں، ایک غریب آدمی کی بیماری ایک مالدار معاشرے کی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اور پھر بھی، برنی سانڈرس کو، جس نے سب کے حفظان صحت کے لیے ایک بے دھڑک مہم چلائی، وائٹ ہاؤس میں حسب امید جگہ پانے سے کوسوں دور سمجھا جا رہا ہے، خود اس کی اپنی پارٹی میں بھی۔

اور میرے دیس کی تو کیا ہی بات ہے، میرا غریب-امیر ملک، بھارت، جو نہایت دائیں بازو کے ہندو قوم پرستوں کی حکمرانی میں، جاگیرداری اور مذہبی بنیادپرستی، ذات پات اور سرمایہ داری نظام کے درمیان لٹکا ہوا ہے؟

دسمبر میں، جبکہ چین، ووہان میں وائرس کے پھوٹ پڑنے سے نبرد آزما تھا، بھارت سرکار ابھی ابھی پارلیمان میں منظور ہونے والے مسلم مخالف بے شرمانہ امتیازی شہریتی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے لاکھوں شہریوں کے ابھار سے نمٹنے میں مصروف تھی۔

بھارت میں کووڈ-19 کا پہلا کیس 30 جنوری کو درج ہوا، جبکہ کچھ ہی دن پہلے ہماری یوم جمہوریہ پریڈ کے محترم مہمان خصوصی، امازون جنگل کو ہڑپ کرنے والے کووڈ کے منکر جائر بولسونارو دہلی سے روانہ ہوئے تھے۔ لیکن حکمران جماعت کے نظام الاوقات میں وائرس کو سمیٹنے کے لیے فروری کے اندر بہت سا کام ابھی کرنے کو پڑا تھا۔ مہینے کے آخری ہفتے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سرکاری دورہ شیڈول میں تھا۔ انہیں ریاست گجرات میں ایک کھیلوں کے اسٹیڈیم میں دس لاکھ حاضرین کے وعدے سے للچایا گیا تھا۔ اس سب کچھ میں پیسہ خرچ ہوا تھا، اور کافی سارا وقت بھی۔

پھر دہلی اسمبلی کے انتخابات آ گئے جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا ہارنا لکھا ہوا تھا تاوقتیکہ انہوں نے اپنی بازی کو اٹھاوا دیا، جس سے کچھ بات بنی، ایک گھناؤنی، بے مہار ہندو قوم پرست مہم چلائی گئی، جو کہ جسمانی تشدد اور “غداروں” کو گولی مارنے کی دھمکیوں سے معمور تھی۔

وہ بہرحال ہار گئے۔ پھر اس کے بعد دہلی کے مسلمانوں کو اس کی سزا بھگتنا تھی، جنہیں اس ہتک کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ پولیس کی سرپرستی میں، ہندو فوجداروں کے مسلح جتھوں نے شمال-مشرقی دہلی کے مزدور طبقہ نواحات پر ہلہ بول دیا۔ گھر، دکانیں، مساجد اور اسکول جلائے گئے۔ حملے کے لیے تیار بیٹھے مسلمانوں نے جوابی وار کیا۔ مسلمانوں اور کچھ ہندؤوں سمیت 50 سے زائد لوگ مارے گئے۔

ہزاروں لوگ ایک مقامی قبرستان میں پناہ گزین کیمپ میں منتقل ہو گئے۔ کٹی پھٹی لاشیں ابھی گندی، متعفن نالیوں میں پڑی تھیں جب سرکاری حکام نے کووڈ-19 کے بارے پہلا اجلاس منعقد کیا اور بیشتر بھارتیوں نے پہلی بار ہاتھوں کے سینی‌ٹائزر نامی چیز کے وجود کے بارے میں سننا شروع کیا۔

مارچ کا مہینہ بھی مصروف رہا۔ پہلے دو ہفتے وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں کانگریس حکومت کو ہٹا کر بی‌جے‌پی حکومت کو لانے کے لیے وقف کیے گئے۔ 11 مارچ کو عالمی ادارۂ صحت نے کووڈ-19 کو ایک عالمی وبا قرار دے دیا۔ دو دن بعد، 13 مارچ کو، وزارت صحت نے فرمایا کہ کورونا “صحت کی ایک ہنگامی صورتحال نہیں ہے”۔

بالآخر، 19 مارچ کو، بھارتی وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کیا۔ وہ گھر سے کچھ خاص کام کر کے نہیں آئے تھے۔ انہوں نے فرانس اور اٹلی سے لائحۂ عمل مستعار لیا۔ انہوں نے ہمیں “سماجی فاصلے” کی ضرورت کے بارے میں بتایا (جو ایسے معاشرے کے لیے سمجھنا مشکل نہیں تھا جو ذات پات میں اس قدر گُندھا ہوا ہے) اور 22 مارچ کو “عوامی کرفیو” کے دن کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس بابت تو کچھ نہیں بتایا کہ اس بحران میں ان کی حکومت کیا کرے گی، البتہ لوگوں سے تاکید کی کے اپنی بالکونیوں میں آ کر صحت کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے گھنٹیاں بجائیں اور اپنے برتن اور تھالیاں پیٹیں۔

انہوں نے اس بات کا تذکرہ نہیں کیا کہ، بھارت عین اس لمحے تک، حفاظتی سازوسامان اور سانس لینے کے آلات بھارتی صحت کارکنوں اور ہسپتالوں میں لانے کی بجائے باہر برآمد کر رہا تھا۔

کچھ اچھنبا نہیں کہ نریندر مودی کی اپیل کو بڑے جوش و خروش سے سنا گیا۔ برتن بجانے کے مارچ ہوئے، گروہی رقص اور جلوسوں کا اہتمام ہوا۔ سماجی فاصلے تو خیر کیا ہوتے۔ آگے آنے والے دنوں میں، لوگ مقدس گائے کے گوبر کے کنستروں میں کود پڑے، اور بی‌جے‌پی کے حامیوں نے گاؤ مُتر نوشی کی پارٹیوں کا انعقاد کیا۔ مسلمان بھی پیچھے نہیں رہے، کئی مسلم تنظیموں نے اعلان کیا کہ اوپر والا وائرس کو دور رکھے گا اور مومنوں کو بڑی تعداد میں مساجد میں اکٹھا ہونے کی تاکید کی۔

24 مارچ کو شام آٹھ بجے، مودی جی دوبارہ ٹی‌وی پر نمودار ہوئے اور اعلان کیا کہ، آدھی رات کے بعد سے، پورے بھارت میں لاک‌ڈاؤن ہو گا۔ بازار بند رہیں گے۔ تمام ذرائع آمد و رفت پر، عوامی ہوں یا نجی، مکمل پابندی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ فیصلہ صرف ایک وزیر اعظم کی حیثیت میں ہی نہیں، بلکہ ہمارے خاندان کے بڑے میاں کے طور پر کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ اور کون ہو گا جو اس فیصلے کا نتیجہ بھگتنے والی ریاستی حکومتوں سے مشورہ کیے بغیر یہ فیصلہ کر سکے کہ ایک ارب اڑتیس کروڑ کی قوم تیاری کے صفر وقت کے ساتھ چار گھنٹے کے نوٹس پر لاک ڈاؤن میں ڈال دی جائے؟ ان کا طریقۂ کار یقیناً یہ تاثر دیتا ہے کہ بھارت کا وزیر اعظم شہریوں کو ایسی مخالف قوت سمجھتا ہے جس سے گھات لگانی ضروری ہے، جسے چونکایا تو جائے، لیکن کبھی اس پر بھروسا نہ کیا جائے۔

ہم لاک ڈاؤن پر ڈال دیے گئے۔ کئی طبی پیشہ ور اور ماہرین وبائی‌امراض نے اس اقدام پر داد دی ہے۔ شاید تصوراتی اعتبار سے وہ حق بجانب ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی منصوبہ بندی اور تیاری کے تباہ کن فقدان کی حمایت نہیں کرے گا جس نے دنیا کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ سزا نما لاک ڈاؤن کو اس کے عین الٹ بنا کے رکھ دیا جو اس کی اصل اغراض ہونی چاہئیں تھیں۔

تماشوں کے شوقین شخص نے سب تماشوں کی ماں کو پیدا کر دکھایا۔

جب کہ ایک سہمی ہوئی دنیا محوِ تماشا تھی، بھارت نے اپنی تمامتر شرمناکی – اپنی سفاکانہ، ساختی، سماجی اور اقتصادی نابرابری، مصیبت زدگی کے لیے اپنی سنگدلانہ بے حسی – کے ساتھ خود سے پردہ اٹھایا۔

لاک‌ڈاؤن نے ایک ایسے کیمیاوی تجربے کا سا کام کیا جس سے اچانک چھپی ہوئی چیزیں چمک اٹھتی ہیں۔ جوں جوں دکانیں، ریستوران، کارخانے اور تعمیراتی صنعت بند ہوتی گئی، جوں جوں امیر اور متوسط طبقوں نے خود کو دروازہ بند کالونیوں میں محصور کر لیا، ہمارے قصبات اور میگاشہروں نے اپنے مزدور طبقات – اپنے تارک وطن مزدوروں – کو ایک ان‌چاہے فاضل مواد کی طرح نکال باہر کرنا شروع کر دیا۔

بہت سے مالکوں، مالک مکانوں کے دھتکارے ہوؤوں، کروڑوں افلاس کے ماروں، بھوکے، پیاسے لوگوں، بوڑھوں اور جوانوں، مردوں، عورتوں، بچوں، بیمار لوگوں، نابینا لوگوں، معذور لوگوں نے، جن کے پاس کہیں جانے کی کوئی راہ نہیں تھی، کوئی عوامی ٹرانسپورٹ نظر میں نہیں تھی، اپنے آبائی گاؤں کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا۔ وہ کئی دنوں تک بدایوں، آگرہ، اعظم‌گڑھ، علیگڑھ، لکھنؤ، گورکھپور کی طرف – سیکڑوں کلومیٹر دور تک چلتے رہے۔ کچھ تو راستے میں ہی مر گئے۔

وہ جانتے تھے کہ وہ ممکنہ طور پر فاقہ کشی کی رفتار گھٹانے کے لیے گھر جا رہے تھے۔ وہ شاید جانتے تھے کہ وہ خود بھی وائرس کے حامل ہو سکتے ہیں اور گھر پہنچ کر اپنے خاندانوں، اپنے والدین اور بزرگوں کو اس سے متاثر کر سکتے ہیں، لیکن انہیں اگر دلجوئی نہیں تو، اپنائیت، پناہ اور وقار کے شائبے کے ساتھ ساتھ خوراک کی ضرورت تو تھی۔

جب وہ چلے، تو کچھ کو پولیس کے ہاتھوں تشدد اور بے عزتی کا نشانہ بنایا گیا، جسے کرفیو کے سختی سے نفاذ کا ذمہ سونپا گیا تھا۔ جوانوں کو سڑک پر اوندھے جھکنے اور ڈڈو چال چلنے کا کہا گیا۔ بریلی کے شہر سے باہر، ایک گروہ کو ایک جگہ جمع کر کے ان پر کیمیکل سپرے کی بوچھاڑ ماری گئی۔

کچھ دن بعد، اس فکر کے تحت کہ انخلا کرنے والی آبادی دیہاتوں میں وائرس پھیلا دے گی، حکومت نے ریاستی سرحدوں کو پیدل لوگوں کے لیے بھی سیل کر دیا۔ کئی دنوں سے پیدل چلتے ہوئے لوگوں کو روک دیا گیا اور شہروں میں انہی کیمپوں میں واپس بھیج دیا گیا جہاں سے ابھی انہیں باہر ہانکا گیا تھا۔

بڑی عمر کے لوگوں میں اس سے 1947 کے تبادلۂ آبادی کی یادیں تازہ ہو گئیں، جب ہندوستان کا بٹوارہ ہوا اور پاکستان بنا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اب کے انخلا مذہب کی بجائے طبقاتی تقسیم کی بنیاد پر تھا۔ اس کے باوجود، یہ بھارت کے غریب ترین لوگ نہیں تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے پاس (کم از کم اب تک) شہر میں نوکری تھی اور واپس جانے کے لیے کوئی گھر تھا۔ بے روزگار، بے گھر اور لاچار جہاں تھے، کیا شہر کیا گاؤں، وہیں پڑے رہے، جہاں اس المیے کے رونما ہونے سے کافی پہلے گہرے اضطراب میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ان تمام اندوہناک دنوں میں، وزیر داخلہ امیت شاہ عوام کی نظروں سے اوجھل رہے۔

جب دہلی میں لوگ پیدل چلنا شروع ہوئے، میں نے دہلی اور اتر پردیش کے درمیان کی سرحد پر واقع غازی‌پور تک گاڑی لے جانے کے لیے اس رسالے کا پاس استعمال کیا جس کے لیے میں اکثر لکھتی ہوں۔

آگے کا منظر اناجیلی انداز کا تھا۔ یا شاید نہیں۔ ایسی تعداد انجیل بھی کیا جانتی ہو گی۔ سماجی فاصلے کے نفاذ کے لیے لاک‌ڈاؤن کا نتیجہ بالکل الٹ تھا – ایک ناقابل اندازہ پیمانے پر جسموں کی بھرائی۔ بھارت کے قصبوں اور شہروں کے اندر بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ مرکزی شاہراہیں تو خالی ہوں گی، لیکن غریبوں کو جھونپڑوں اور جھگیوں میں کھچا کھچ بھر کے بند کر دیا گیا ہے۔

پیدل چلتے لوگوں میں میں نے جس سے بھی بات کی سبھی وائرس کے بارے میں فکرمند تھے۔ لیکن یہ ان کی زندگیوں کو گھیرے ہوئے بے‌روزگاری، فاقہ کشی اور پولیس کے تشدد کی نسبت کم حقیقی، کم حاضر تھا۔ وہ سب لوگ جن سے میں نے اس دن بات کی، بشمول مسلمان درزیوں کے اس گروہ کے جو ابھی کچھ ہفتے پہلے مسلم کش حملوں سے زندہ بچے تھے، ایک شخص نے مجھے خاص طور پر پریشان کیا۔ وہ رامجیت نامی ایک ترکھان تھا، جس کا گورکھپور سے نیپال کی سرحد تک پیدل جانے کا ارادہ تھا۔

“شاید جب مودی‌جی نے ایسا کرنے کا فیصلہ کیا تھا، انہیں ہمارے بارے کسی نے نہیں بتایا۔ شاید وہ ہمارے بارے میں جانتے ہی نہیں”، اس نے کہا۔

“ہم” سے مراد اندازاً 46 کروڑ لوگ ہیں۔

بھارت کی ریاستی حکومتوں نے (جیسا کہ امریکہ میں ہوا) اس بحران میں کہیں زیادہ دل اور سمجھ بوجھ دکھائی ہے۔ ٹریڈ یونینیں، شہری اور دوسرے گروہ خوراک اور ہنگامی راشن تقسیم کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت مالی امداد کی پرزور اپیلوں کی شنوائی میں سست ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم کے قومی ریلیف فنڈ میں پہلے سے کوئی نقد رقم دستیاب نہیں ہے۔ اس کی بجائے، کچھ پراسرار سے نئے PM-CARES فنڈ میں خیرخواہوں کی طرف سے رقم انڈیلی جانے لگی ہے۔ پہلے سے ملفوفہ کھانے مودی کی تصویر کے ساتھ اب نظر آنے لگے ہیں۔

اور تو اور، وزیر اعظم نے اپنی یوگا نِدرا ویڈیوز کی سانجھ کی ہے، جس میں الگ تھلگ ہونے کی تکان سے نمٹنے کے لیے ایک جعلی، اینی‌میٹڈ مودی ایک خوابوں کے بدن کے ساتھ یوگا آسنوں کا مظاہرہ کرتا ہے۔

یہ نرگسیت کافی پریشان کن ہے۔ شاید ان میں سے ایک آسن، ایک عرضگزاری آسن بھی ہو جس میں مودی جی فرانسیسی وزیر اعظم سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں رافیل لڑاکا طیاروں کی اس پریشان کن ڈیل سے مکرنے کی اجازت دی جائے اور وہ 7 کروڑ 80 لاکھ یورو ان چند کروڑ بھوکے لوگوں کی امداد کے لیے اشد طور پر درکار ہنگامی اقدامات کے لیے استعمال کر لیے جائیں۔ یقیناً فرانسیسی اس بات کو سمجھ پائیں گے۔

لاک ڈاؤن کے دوسرے ہفتے میں داخل ہوتے ہی، رسد کی زنجیریں ٹوٹنے لگی ہیں، ادویات اور ضروری سامان کمیاب ہو رہا ہے۔

ہزاروں ٹرک ڈرائیور ہائی‌ویز پر، بہت تھوڑی خوراک اور پانی کے ساتھ مارے مارے پھر رہے ہیں۔ کٹائی کے لیے تیار، کھڑی فصلوں کو آہستہ آہستہ گُھن کھا رہا ہے۔ اقتصادی بحران سر چڑھ چکا ہے۔ سیاسی بحران جاری ہے۔ سَردھاری میڈیا نے کووڈ کہانی کو اپنی 24/7 زہریلی مسلم مخالف مہم میں رکھ لیا ہے۔ تبلیغی جماعت نامی ایک تنظیم، جس نے لاک‌ڈاؤن سے پہلے دہلی میں ایک اجتماع منعقد کیا تھا، اس کی “مہا پھیلاؤکار” بن کر سامنے آئی ہے۔ یہ مسلمانوں پر کلنک ملنے اور عفریت بنانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ مجموعی طور پر لہجہ ایسا رکھا جا رہا ہے کہ وائرس مسلمانوں نے ایجاد کیا ہے اور وہ جہاد کی ایک شکل کے طور پر جان بوجھ کر اس کو پھیلا رہے ہیں۔

کووڈ بحران ابھی اور آئے گا، یا نہیں۔ ہمیں نہیں جانتے۔ اگر، اور جب ایسا ہوتا ہے، ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس سے نمٹا جائے گا، مذہب، ذات اور طبقہ کے تمام تر روز افزوں تعصب کے ساتھ جو پوری طرح اپنی جگہ قائم ہے۔

آج (2 اپریل کو) بھارت میں تقریباً 2000 مصدقہ کیسز ہیں اور 58 اموات ہو چکی ہیں۔ یہ یقیناً غیر معتبر اعداد و شمار ہیں، جو افسوس ہے کہ بہت تھوڑے ٹیسٹوں پر مبنی ہیں۔ ماہرین کے مؤقف بے تحاشا مختلف ہیں۔ کچھ پیش بینیاں ہیں کہ ملین کے حساب سے کیس ہوں گے۔ دیگر کچھ سمجھتے ہیں کہ نقصان کہیں کم ہو گا۔ ہم اس بحران کے حقیقی محیط کو شاید کبھی نہ جان پائیں، یہاں تک کہ یہ ہمیں آ لے۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ عارضی ہسپتال ابھی شروع ہی نہیں ہوئے۔

بھارت کے عوامی ہسپتال اور کلینک – جو ہر سال اسہال، غذائیت کی کمی اور دیگر صحت کے مسائل سے مرنے والے تقریباً دس لاکھ بچوں، لاکھوں ٹی‌بی کے مریضوں (دنیا بھر کی چوتھائی) سے نمٹنے کے قابل بھی نہیں ہیں، خون کی کمی اور غذائیت کے مسائل کا شکار آبادی جو کہ ایسی کئی کئی معمولی امراض کی زد پر ہیں جو ان کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ایسے بحران سے نہیں نمٹ پائے گی جس سے امریکہ اور یورپ اس وقت نبرد آزما ہیں۔

تمام حفظان صحت کم و بیش ایک ٹھہراؤ پر جا چکا ہے کیونکہ ہسپتال وائرس سے متعلق خدمات سے پر لگ گئے ہیں۔ دہلی میں لیجنڈری آل انڈیا انسٹی‌ٹیوٹ برائے میڈیکل سائنسز بند ہو گیا ہے، سیکڑوں کینسر کے مریض، جنہیں کینسر مہاجرین بھی کہا جاتا ہے جو ہسپتال کے باہر سڑکوں پر رہتے ہیں، انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح دور ہانک دیا گیا ہے۔

لوگ گھروں پر بیمار پڑیں گے اور مر جائیں گے۔ کوئی ان کی کہانی نہیں جانے گا۔ ہو سکتا ہے وہ شماریات میں بھی نہ آئیں۔ ہم اس بات کی صرف امید ہی کر سکتے ہیں کہ وہ تحقیقات درست ہوں کہ وائرس کو ٹھنڈا موسم راس ہے (جبکہ دوسرے محققین کو اس پر شبہات ہیں)۔ لوگوں نے ایک جھلسا دینے والے، کربناک ہندوستانی موسم گرما کی ایسی غیر عقلی خواہش اس سے پہلے کبھی نہیں کی۔

ہم سب کو کیا ہو گیا ہے؟ جی ہاں، یہ ایک وائرس ہے۔ خود اپنی ایک سرزمین میں یہ کوئی اخلاقی عقیدہ نہیں رکھتا۔ لیکن یہ یقینی طور پر ایک وائرس سے کچھ بڑھ کر ہے۔ کچھ کا ماننا ہے کہ یہ ہمیں ہوش میں لانے کی کبریائی ادا ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ دنیا پر قبضہ کرنے کی چینی سازش ہے۔

یہ جو کچھ بھی ہے، کرونا وائرس نے دنیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے اور ایسے ساکت کیا ہے جیسے اور کوئی چیز نہ کر سکی تھی۔ ہمارے دماغ ابھی تک چکر میں ہیں، اور “معمولات” پر لوٹ آنے کے لیے بیتاب ہیں، اپنے مستقبل کو ماضی کے ساتھ ٹانکنے کی کوشش کرتے ہوئے اور بیچ کی دراڑ کو تسلیم کرنے سے انکاری۔ لیکن یہ دراڑ ہے تو سہی۔ اور اس بھیانک اداسی میں، یہ ہمیں اس قیامت خیز مشین پر دوبارہ غور کرنے کا موقع دیتی ہے جو ہم نے خود اپنے لیے بنا لی ہے۔ معمولات کی طرف واپس لوٹ جانے سے زیادہ بری کوئی چیز نہیں ہو گی۔

تاریخی طور پر، عالمی وباؤں نے انسانوں کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ ماضی سے تعلق توڑ کر دنیا کو نئے سرے سے تصور میں لائیں۔ یہ اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ یہ ایک گزرگاہ ہے، ایک دنیا اور اس سے اگلی دنیا کے درمیان ایک دریچہ۔

یہ ہم پر منحصر ہے کہ اس سے گزرتے ہوئے، ہم اپنے تعصبات، نفرت اور اپنے حرص کے ملبوس، اپنے ڈیٹا بینکوں اور مردہ خیالات، اپنے مردہ دریاؤں اور غبار آلود آسمانوں کو بھی ساتھ گھسیٹ لائیں۔ یا ہم اس سے ہلکے پھلکے گزریں، بہت تھوڑے بوجھ کے ساتھ، نئی دنیا کے لیے سوچنے پر تیار۔ اور اس کے لیے لڑنے کے لیے تیار۔