Categories
نان فکشن

طالب حسین ۔۔۔ جھنگ کی درد بھری آواز (زکی نقوی)

مرزاؔ، صاحباںؔ کی محبت کے گُل ولالہ کھیوہ، ضلع جھنگ کی جس مٹی میں اُگے تھے، اسی کے پہلُو میں ایک گاؤں خانوانہ کے نام سے بھی آباد تھا جس کی قسمت میں محبتوں کے گیت گانے والی ایک لازوال آواز کو جنم دینا لکھا تھا۔۔۔ یہ دھرتی مہر و محبت کی لڑی میں ہر رنگ کے موتی پروتی چلی آئی ہے۔۔۔

خانوانہ کی مٹی سے طالب حسین نے جنم لیا اور اپنی آواز اور محبتوں کی زمزمہ پردازی سے ساری روہی، بار اور پوٹھوہار میں لوک موسیقی کے دلدادگان کا ہردلعزیز بنا اور ان کے سوا بھی جس جس نے جھنگ اور جھنگ کی بولی سے دل لگایا، وہ طالب حسین کا طالب ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔۔۔

کلاسیکی موسیقی میں اُستاد سلامت علی خاں اور استاد نذر حسین سے تحصیلِ فن کے بعد 70 کی دہائی میں لوک موسیقی کے میدان میں قدم رکھنے اور پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان پر 80 کی دہائی میں ’’اساں ماڑے سرکار تُساں چنگے او‘‘ گا کر پاکستان بھر میں شہرت حاصل کرنے والے طالب حسین دردؔ کو لوک موسیقی میں یہ اعزاز حاصل ہے کہ لوک گیت کی صنف ’’جوگ‘‘ کو اپنے بامِ عروج تک پہنچا کر اس میں وہ کمال حاصل کیا کہ پھر طالب کے ہوتے ہوئے اور اُن کے بعد بھی کوئی ان کی ہمسری نہ کر سکا!

’’جوگ‘‘ کے فنکار ان سے قبل بھی تھے اور ان کے کمالِ فن کا بھی شہرہ تھا لیکن طالب حسین دردؔ نے ’’جوگ‘‘ میں وہ میعار قائم کر لیا کہ ان کی زندگی میں ہی واضح ہو گیا تھا کہ طالب جوگ کے فن میں حرفِ آخر ہو کر اس دُنیا سے جائے گا اور پھر یہ فن شاید کسی سے سنبھالا نہ جائے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ طالب کے شاگردوں اور ان کے فن کے وارث، اُن کے بیٹے عمران طالب سے بھی جوگ کا وہ میعار مسخر نہیں ہو سکا جو طالب نے قائم کر دیا تھا۔ یہ اعزاز کم ہی اساتذہ کو ملتا ہے۔ دراصل یہ فن جس قدر ریاضت کا متقاضی تھا، اس کا متحمل شاید متاخرین میں سے کوئی نہ ہو سکتا تھا۔ ریاضت طلب فنون کی اب شائقین میں بھی کہاں طلب اور قدر شناسی ہے؟؟ اگرچہ اس رو میں طالب نے شائقین کی عامیانہ پسند کا بھی خیال رکھا اور شادی بیاہ کے موقعے پر خلافِ مزاج بھی کافی کچھ گایا لیکن یہ گانے اُن کی حقیقی پہچان نہیں ہیں۔۔عارفانہ کلام، کافیا ں اور ’’ہِمڑیاں‘‘ گاتے ہوئے طالب اپنی حقیقی شکل میں نظر آتے ہیں، اور پھر ان کے قدر شناس بھی انہیں ڈُوب کر سنتے ہیں۔ طالب حُسین کی فنی شخصیت کے یہ دو پہلو باہم متضاد ہیں کہ ایک طرف تو وہ جوگ گاتے ہوئے سامعین میں کسی کا بولنا بھی پسند نہ کرتے تھے اور ایک یہ کہ شادی بیاہ کے موقعوں پر گیت گاتے ہوئے مَلکوں اور اعوانوں کی رائفلیں سر ہونے کی آوازیں بھی برداشت کر جاتے تھے۔۔۔

جھنگ کی خالص زبان اور خالص لب ولہجے میں جھنگوچی قدروں کا دُکھ طالب حسین دردؔ کے گیتوں کی پہچان تھا۔ دردؔ کے گیتوں میں رسمِ وفا ختم ہو جانے، نامِ دوستی دُنیا سے اُٹھ جانے، غریب پروری کی جگہ امارت پرستی کے ہر سُو پنجے گاڑنے، بے لوث محبت کے بجائے خود غرضی اور مطلب پرستی کے فرمانِ امروز بن جانے، ذلیل اور فرومایہ لوگوں کے ہاتھوں میں اختیار آجانے اور شرفأ کے زوال کا نوحہ سُنائی دیتا ہے۔ اور یہی طالب حسین دردؔ کے گیتوں کا خاص اُسلوب رہا۔اور ان کی اپنی زندگی بھی ان اقدار کی پاسداری کا نمونہ رہی۔

جہاں سرائیکی وسیب کے مشہور اور لافانی گائیک منصور علی ملنگیؔ مرحوم نے اپنی ذاتی دلچسپی اور کسی قدر ایک ابھرتے فیشن کی تقلید میں جھنگ کی خالص بولی میں اُردو کے ’’قابلِ تحلیل‘‘ الفاظ کو شامل کیا اور جہاں اللہ دتہ لُونے والا نے مادری زبان سے دور بھاگنے والی جھنگ کی نئی پَود میں مقبولیت حاصل کرنے کیلئے جھنگوچی گیت لاہوری لائلپوری پنجابی کے لہجے میں گائے، وہاں طالب حُسین دردؔ نے جھنگوچی زبان پر کوئی سمجھوتہ کیا نہ اپنے خالص لب و لہجے پر۔ جہاں منصور علی ملنگیؔ مرحوم نے گیت پر غزل کا واضح رنگ چڑھایا (اور یہ رنگ ان پر جچتا بھی خوب رہا)اور اللہ دتہ لُونے والا نے تو قبولِ عام کیلئے نہائیت عامیانہ رنگ بھی قبول کیا، وہاں طالب حُسین دردؔ نے فقط میعاری شعر، سرائیکی، جھنگوچی کے رنگ میں ہی گایا۔ دوہڑا جو کہ سرائیکی زبان میں چہار مصرع کی مشہور ترین صنف ہے، طالب حُسین دردؔ کی خاص مہارت تھا لیکن دردؔ نے کسی عامیانہ سے دوہڑے یا کسی غیر سنجیدہ شاعر کے کلام کو درخورِ اعتنا نہ سمجھا۔ نُور سمند سرگانہ، غلام محمد دردؔ، مشتاقؔ، ظِل شاہ، ابرارؔ، تاجؔ، رب نواز ہاشمیؔ، مہر ریاض بھڑانہ سیال، عاقبؔ ستیانوی، حیات ؔ بھٹی، قاسمؔ شاہ، اور رأ سائیں جیسے اساتذۂ فن کے دوہڑے طالب حُسین دردؔ کی اولین ترجیح ہوتے تھے۔ علاوہ ازیں کئی چھوٹے شاعروں کے اچھے دوہڑے بھی طالب حُسین دردؔ نے کبھی فرمائش پر، کبھی بنامِ دوستی گائے لیکن زبان اور موضوع کا ایک میعار قائم رکھا جس کی سزا بھی طالب حسین دردؔ نے بھگتی۔ ماں بولی کے حوالے سےاحساس کمتری کا شکار جھنگ کی ایک پوری پود اور طبقے نے طالب کو پہچاننے اور سمجھنے سے انکار کر دیا اور اسے دردؔ کے بجائے ’’سردرد‘‘ تک کہا کیونکہ طالب کی خالص زبان اور لب و لہجہ اس پود کیلئے باعثِ ننگ و عار تھا۔

یہی وجہ تھی کی جب2010 کے صدارتی اعزازات اور تمغوں کی فہرت جاری ہوئی تو لوک فنکاروں میں جھنگ اور اس کے جوار کی نمائیندگی فقط ایک نام کررہا تھا؛ اللہ دتہ لُونے والا!! اور اللہ دِتہ لُونے والا (اور اُس کا بیٹا ندیمؔ) اس دھرتی کی زبان اور لب و لہجے سے نابلد نہیں بھی تو دانستہ منکر ہے۔ طالب حُسین دردؔ کے ہوتے ہوئے صدارتی تمغۂ حُسنِ کارکردگی ایک ایسے ’’جیونئیر‘‘ فنکار کو ملنا جو اس وسیب کے کلچر اور زبان کی نمائیندگی ہرگز نہیں کرتا، ایک ایسی غلط بخشی تھی جس میں اللہ دتہ لونے والا کا ہرگز قصور نہیں بلکہ اس کا ذمہ دار راقم الحروف اُن لوگوں کو سمجھتا ہے جو اس کلچر سے تعلق رکھنے والے اور اس زبان کے بولنے والے ہیں، بالخصوص جھنگ کے وہ اہلِ اختیار جو بیوروکریسی میں بڑی تعداد میں بیٹھے ہیں اور جھنگ کی زبان، کلچر اور تشخص کے بارے میں ہر سطح پر موجود غلط فہمیوں کو درست کرنے اور اعلیٰ حُکام کے سامنے واضح کرنے کے ذمہ دار بھی ہیں۔ جھنگوچی کلچر اور زبان صرف ایک ضلعے کی چار تحصیلوں تک محدود نہیں ہے، اس کی جڑیں پورے پنجاب میں پھیلی ہیں۔ جھنگ، چنیوٹ، مظفر گڑھ، خانیوال، اوکاڑہ، لیہ، ڈیرہ جات، منڈی بہاوالدین، حافظ آباد، سرگودھا، چکوال، تلہ گنگ، میانوالی اور خوشاب کے علاقوں میں طالب حسین دردؔ کے مداحوں کا تو شمار ہی ممکن نہیں بلکہ یہ لوگ جہاں جہاں وطنِ عزیز کے طول و عرض میں اور ملک سے باہر تلاشِ رزق میں جاتے ہیں، طالب حُسین دردؔ کو پنجابی بولنے اور سمجھنے والی دُنیا میں متعارف بھی کرواتے ہیں جس وجہ سے ان کے مداحوں کا حلقہ بہت وسیع ہے جنہیں طالب حسین کی وفات کا بجا طور پر صدمہ ہے۔

لوک موسیقی میں طالب حسین دردؔ نے کئی شاگرد چھوڑے جن میں اللہ دتہ پنچھیؔ، اللہ دتہ لِٹی، ظہور لوہار اور اشرف لِٹی جیسے کئی مقامی لوک گائیک ہیں۔ مگر ’’جوگ دا شہنشاہ‘‘ کا جو تاج اہلِ جھنگ نے طالب حسین دردؔ کے سر پر رکھا، وہ کسی اور کے حصے میں آسکا ہے، نہ آسکے گا۔
یہاں غفار میوزک سنٹر لاری اڈا خوشاب، رحمت گراموفون ایجنسی، پاک گراموفون ایجنسی لائیلپور، بھٹی میوزک سنٹر جھنگ اور زُلفی میوزک سنٹر لاری اڈا کوٹ شاکر کا تذکرہ بھی ضروری ہے جنہوں نے طالب حُسین دردؔ کے گیتوں کو ان کے مداحوں تک پہنچانے میں بے مثال اور انتھک کردار ادا کیا۔ اس انڈسٹری کے عروج و زوال پر ایک الگ موضوع درکار ہے۔۔۔

جھنگ کے جو باسی تلاشِ رزق میں دیس پردیس کے سفروں میں اپنی عمریں گزار دیتے ہیں، ہمیشہ طالب حسین کے گیتوں میں اپنی ماں بولی اور مٹی کی خوش بُو محسوس کر کر کے خود کو اپنی دھرتی کے قریب تر ہونے کا احساس دلاتے رہتے ہیں اور وہ اسی سہارے تلاشِ رزق کی جلاوطنیاں کاٹتے رہے ہیں اور وہ طالب کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ لیکن جھنگ کا وہ باحیثیت طبقہ جو اقتدار کے ایوانوں سے لے کر بڑے شہروں کے دفتروں کی بڑی کرسیوں اور بنگلوں کا باسی ہو کر اپنی آئیندہ نسل کو اس حقیقت سے بھی بے خبر رکھنا چاہتا ہے کہ وہ ’’جانگلی‘‘ تھے، وہ مٹھی بھر مگر با حیثیت طبقہ جو جھنگ والی پہچان مٹانے کیلئے ماں بولی کا منکر ہو رہا ہے، طالب حُسین کی آواز اور اس کے گیتوں میں چھپے شہر آشوب کو سمجھ جاتا تو اس زبان اور کلچر کا بھلا ہو جاتا؛ اس عظیم گائیک کو حکومتی سطح پر پذیرائی ملتی تو جھنگ کی زبان اور لوک موسیقی اس زوال سے بچ جاتی جو اب نوشتہ دیوار نظر آرہی ہے۔۔۔

Categories
نان فکشن

شادمانی کے آزاد امیدوار: کھلونے کیوں توڑے جائیں؟

گزشتہ ایک عشرے کی دستوری اصلاحات اور سیاسی گہماگہمیاں انفرادی آزادیوں کی تنزیل کی خواہش پر بندھے مرکزیت پسند سیلابی بند میں سوراخ پر سوراخ کرتی چلی جا رہی ہیں۔ اجتماعی سرگرمیوں کی یہ لہر اوپری سطحوں سے نیچے تک، مراکز سے مضافات تک اور ایک نسل سے دوسری نسل تک مسلسل پھیلتی نظر آ رہی ہے۔

 

مقامی حکومتوں کے انتخابات مقامی انتخابی ثقافتوں میں روایتوں کو محفوظ بناتے اور نئے رجحانات کا اضافہ کرتے ہوئے اپنے آخری مراحل میں ہیں۔ ضلع جھنگ کے حلقہ 89 میں 5 دسمبر کو ہوئے تیسرے مرحلے کے لوکل باڈیز انتخابات سے بالغ ووٹروں کی روزمرہ زندگیوں میں سرگرمی آئی ہی تھی، لیکن اس سے یہاں کہ وہ باسی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے جن کی عمریں اس عمل میں شمولیت کے لیے ابھی کم ہیں۔ پاکستان کے مضافات میں جہاں ایسے علاقے بھی موجود ہیں جہاں بڑوں کی دیکھا دیکھی دھول اڑاتے بچوں کو ‘خودکش بمبار’ کا کھیل کھیلتے ہوئے دیکھا جاتا رہا ہے، وہیں گھروں اور عوامی مقامات پر انتخابی عمل سے متعلق ہو رہی گپ شپ اور عوامی تبصروں سے متاثر ہو کر دیہاتی بچوں کا ‘الیکشن الیکشن’ کا کھیل رچانا نسبتاً حوصلہ افزا بات ہے۔ جمعہ 8 جنوری کو حلقہ 89 کی بستی عباس پور میں نہ ہو سکنے والے بچوں کے الیکشن ایک اعتبار سے ‘بڑوں کے انتخابات’ کی بچگانہ نقالی تو تھی ہی، لیکن ہمسایہ بستی خان پور میں کچھ دن پہلے ہوئے جیونیر الیکشن اور برسوں قبل قریبی گاؤں موضع ساہجھر میں ہو چکے ایسے ہی ننھے انتخابات سے ملنے والی یادگار تفریح کا اعادہ کرنے کی ایک کوشش بھی تھی۔

 

پاکستان کے مضافات میں جہاں ایسے علاقے بھی موجود ہیں جہاں بڑوں کی دیکھا دیکھی دھول اڑاتے بچوں کو ‘خودکش بمبار’ کا کھیل کھیلتے ہوئے دیکھا جاتا رہا ہے، وہیں گھروں اور عوامی مقامات پر انتخابی عمل سے متعلق ہو رہی گپ شپ اور عوامی تبصروں سے متاثر ہو کر دیہاتی بچوں کا ‘الیکشن الیکشن’ کا کھیل رچانا نسبتاً حوصلہ افزا بات ہے۔
انتخابی نشان بلّے کا بڑا امیدوار 17 سالہ دلشاد کھیتی باڑی میں اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتا ہے، جبکہ چھوٹا امیدوار 15 سالہ حیدر نویں جماعت سے اسکول چھوڑنے کے بعد الیکٹریشن کاریگر کے ہاں شاگرد ہے۔ ان دونوں کے گھر بستی کی مرکزی آبادی میں ہیں اور یہ بستی کے پہلے پہلے آبادکاروں کی تیسری نسل ہیں۔ انتخابی نشان بالٹی کا بڑا امیدوار 13 سالہ اللہ دتہ کا والد سنیاس اور سپیرے کا کام کرتا ہے۔ اللہ دتہ خود دن میں گدھا گاڑی چلاتا ہے اور رات کو گلی میں گرم انڈے فروخت کرتا ہے۔ گاؤں کے ایک کونے پر ایک کچا جھونپڑا اس کا گھر ہے۔ بالٹی کے نشان پر چھوٹے امیدوار 8 سالہ شوکت کا خاندان ‘گائیں والے’ کہلاتا ہے۔ یہ خانہ بدوش قبیلہ ڈیڑھ عشرے قبل بدوی زندگی تیاگ کر گاؤں کے ایک کونے پر آباد ہوا تھا۔ دریائے جہلم کے مزاج میں انہی ڈیڑھ عشروں کی انقلابی تبدیلیوں کی وجہ سے جہاں قریب کی بہت سی زرعی زمینیں بے کار ہوئی ہیں، وہیں بہت سی نئی چراگاہوں نے ان کی جگہ لے لی ہے۔ اس وجہ سے یہ قبیلہ اب مستقل گھروں میں رہتے ہوئے اپنے آبائی پیشے گلہ بانی کو جاری رکھنے کے قابل ہو گیا ہے۔ اس آزاد منش قبیلے نے ابھی تک ٹھیٹ صحرائی لہجے اور خانہ بدوش ثقافتی عناصر کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں محفوظ رکھا ہوا ہے۔ شوکت اکثر اوقات گائیں چراتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ چراگاہ میں گھومتا پھرتا نظر آتا ہے اور اپنا جیب خرچ اللہ دتہ کی ہمراہی میں ابلے انڈے بیچنے کے جزوقتی کام سے نکالتا ہے۔

 

ایک مثبت اجتماعی عمل میں فرد کا آزاد ارادہ کلیدی کردار کا حامل ہوتا ہے۔ ان بچوں کو حالات کے جبر نے اپنی زندگیوں میں متوسط طبقے کے بچوں کی نسبت زیادہ خودمختار بنا دیا ہے اور اپنی روزمرہ زندگی کے معاملات طے کرنے میں انہیں اپنے بڑوں کا احتیاج بہت کم رہتا ہے۔ جمہوریت کا درس انہوں نے اسکول کے گھٹن زدہ بستوں سے نہیں نکالا بلکہ اپنی پچھلی نسل کی عمرانی زندگیوں اور اپنے ماحول کے آزادانہ مشاہدے سے اخذ کیا ہے۔ یہ امر علاقے میں انفرادی آزادیوں کے حصول کی کسی بھی ممکنہ مثال کے خانہ زاد ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ مقامی طور پر بڑی جاگیردار طاقتوں اور پنچایتی اداروں کے زوال، مابعد اٹھارہویں ترمیم کے منظرنامے اور تشویشناک ماحولیاتی تبدیلیوں کے زرعی معاشرت پر اثرات نے یہاں کے یونین کونسل ہال کی سرگرمیوں کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ اپنی مدد آپ کے تحت چھوٹے سیلابی بندوں کی تعمیر اور زرعی زمینوں کی تباہی سے نمٹنے کے لیے ایک عرصے بعد چھوٹے کاشتکار اور متوسط و غریب طبقے کے لوگ اتنی سرگرمی کے ساتھ مسائل پر اتفاق رائے کی کوششوں میں سرگرم نظر آ رہے ہیں۔ جہاں کسی وڈیرے کے حکم کی بجائے موقف کی گنتی غلط یا درست فیصلے کر رہی ہے۔

 

یہ بچے جنہیں قبل از وقت زندگیوں کے جبر نے گھیر لیا ہے، مزاجِ خلق، ہواؤں اور دریاؤں کے چال چلن، ٹوٹتے بنتے خاندانوں کے مفادات، گلیوں اور کھلیانوں کے طول و عرض اور دکانوں پر آٹے دال کے بھاؤ سے واقفیت انہیں اجنبی زبان کی نصابی کتابوں سے نہیں ملی، بلکہ زندگی کا عملی شعور انہوں نے ماؤں کی بولیوں، باپوں کے تلخ و ترش اور گھر سے باہر زندگی کے بنجارپنے سے حاصل کیا ہے۔ کھیل کھیل میں انتخابی عمل سے شناسائی شاید ان بچوں کے لیے اس لیے بھی مفید ہوتی کہ یہی مستقبل کے بالغ شہری ہیں اور گاؤں کو اگلے عشروں میں درپیش مسائل پر عملی بحث کے لیے موزوں آوازیں کسی اور دنیا سے نہیں آئیں گی۔

 

جمہوریت کا درس انہوں نے اسکول کے گھٹن زدہ بستوں سے نہیں نکالا بلکہ اپنی پچھلی نسل کی عمرانی زندگیوں اور اپنے ماحول کے آزادانہ مشاہدے سے اخذ کیا ہے۔
اجتماعی اعمال میں استصواب کو بنیاد بنانے کے لیے استدلال کے بنیادی معیارات میں فہم عامّہ کو ایک نمایاں سند سمجھا جاتا ہے۔ چھوٹی عمروں میں فہم عامہ اپنی خالص ترین شکلوں میں پائی جاتی ہے، جبکہ شعوری زندگی کے پختہ ہوتے ہوتے یہ عصبیتی شعور، سماجی و انفرادی رسوم و اقدار پر مبنی امور و نواہی اور دیوانگانہ مشروطیتوں کے ہاتھوں چھوٹے چھوٹے ناقابل مصالحت فکری نظاموں میں بٹ جاتی ہے۔ ان بچوں نے ان ننھے منے انتخابات کا جو مقصد بیان کیا ہے، وہ آبادیوں کی جمہوری تاسیس کے کلاسیکی مباحثوں کا نہایت اہم موضوع رہا ہے، یعنی شادمانی کا حصول۔

 

ایک سوال کے جواب میں ایک بچے نے بتایا؛ “ان الیکشنوں سے ہمارا اور کوئی مقصد نہیں تھا، ہم نے تو اسی بہانے تھوڑا ‘شغل میلہ’ کرنا تھا”۔ طے پایا تھا کہ جیتنے والی پارٹی حریفانہ نعرے بازی نہیں کرے گی، ہر دو طرف کے امیدوار ایک دوسرے کو گلے لگائیں گے۔ کچھ پیسے جمع کیے گئے تھے کہ شام کو دونوں پارٹیاں ڈھول دھمال کے ساتھ گاؤں کے قریب مدفون درویش پیر عبدالرحمان کی درگاہ پر چادر چڑھائیں گی اور پھر وہاں پلاؤ کی دیگ پکے گی اور کھائی جائے گی۔ گاؤں کے حجام جاوید کا وعدہ تھا کہ وہ چائے کا دیگچا دھرنے کو دو سیر دودھ عطیہ کرے گا، مظہر پاؤلی اپنی کیری ڈبہ گاڑی اور شاہد نائی اپنے رکشا کی مہار ایک دن کے لیے ان بچوں کو سونپے گا تاکہ وہ جس کسی قریبی تفریحی مقام پر جانا چاہیں، انہیں وہاں کی سیر کرائی جائے۔ اس نقل و حمل کے لیے تیل کے اخراجات یہاں کے پنسار فروش حکیم رمضان سستا نے اٹھانا تھے۔ گاؤں کے اکلوتے صحافت پیشہ فرد کی حیثیت سے میرا وعدہ اس الیکشن پر فیچر لکھنے کا تھا۔

 

بات تب بگڑی جب گاؤں کے ایک پولیس رضاکار نے بچوں کو متعلقہ تھانے سے الیکشن کی اجازت لینے کا کہا۔ دیے گئے وقت پر جبکہ “مقامی پریس” یعنی راقم السطور کاغذ قلم لیے گاؤں کے پرائمری اسکول میں پولنگ کے لیے امیدواروں اور ننھے ووٹروں کا انتظار کر رہا تھا، یہ چاروں امیدوار تھانے کے عملہ کے لغو سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ بچوں کے مطابق تھانہ کے عملہ کی زبان ناصرف دھمکی آمیز تھی بلکہ بچوں کے ساتھ برتاؤ کے لیے نہایت نازیبا تھی۔ ایک بچے نے ایک سپاہی کا ایک الوداعی جملہ نقل کیا؛ “تمہاری بُنڈڑیاں چھوٹی ہیں، اور ہمارے چھتر بڑے ہیں۔ بہتر ہے یہاں سے بھاگ جاؤ۔۔۔” ایس ایچ او نے الیکشن کی اجازت نہیں دی۔ لیکن صورتحال مزید افسوسناک تب بنی جب اللہ دتہ ولد ظفر ملنگ کو تھانے میں مٹی ڈھوتے ہوئے ایک مزدور کے ساتھ مشقت پر جوت دیا گیا۔

 

دیے گئے وقت پر جبکہ “مقامی پریس” یعنی راقم السطور کاغذ قلم لیے گاؤں کے پرائمری اسکول میں پولنگ کے لیے امیدواروں اور ننھے ووٹروں کا انتظار کر رہا تھا، یہ چاروں امیدوار تھانے کے عملہ کے لغو سوالات کا جواب دے رہے تھے۔
راقم الحروف کو جب اس قصے کا علم ہوا تب تک بچے الیکشن سبوتاژ ہونے کے بعد سہم کر اپنے گھروں کو پہنچ چکے تھے۔ بچوں کے گھر جا کر معاملہ کی تفصیل جاننے کے بعد میں نے پولیس اسٹیشن یعنی تھانہ کوٹ شاکر کا رخ کیا، جہاں دھوپ سینکتے ہوئے دو اہلکاروں نے بعد صد انتظار مجھے ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھنے اور اپنا مدعا بیان کرنے کی اجازت دے دی۔ ایک طولانی سلسلۂ کلام کے باوجود اس گفتگو میں کوئی ایسا مشترک نکتہ نہیں نکل سکا جسے کسی اصولی مکالمے کی بنیاد بنایا جا سکتا، سو یہ گفتگو ایک یکطرفہ بدکلامی کے مظاہرے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ تاہم بتایا گیا کہ ایس ایچ او تھانہ ہذا شام پانچ بجے ‘فیلڈ’ سے لوٹیں گے، اپنا مدعا انہیں بیان کیا جائے۔ تھانے کے دوسرے چکر پر ایس ایچ او صاحب نے، جو اپنے ملاقاتیوں سے دیگر معاملات پر گفتگو میں مشغول تھے، بالآخر کھڑے پیروں مجھے اپنا مدعا بیان کرنے کی اجازت دی۔ راقم الحروف نے تھانے کے اس اقدام کی قانونی بنیاد دریافت کرنا چاہی تو انہوں نے اپنی ذات کو اس کی قانونی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا؛ “یہ حکم میں نے دیا ہے، جاؤ، اپنے فیچر میں میرا نام ڈال دو۔۔” (ان صاحب کا نام آفتاب عالم ہے)۔ بعد کے تمام سوالات کے جواب میں انہوں نے مجھے تھانے سے نکل جانے کے حکم کا اعادہ کیا۔ راقم نے اس گاؤں کے باسی کی حیثیت سے ان انتخابات کی علامتی اہمیت سمجھانے کی کوشش کے ذریعے یہ امتناعی حکم واپس لینے کا مطالبہ کیا، لیکن جب تھانہ اہلکاروں کا ردعمل زبانی جارحیت سے اگلے قدم پر آنے لگا تو راقم نے وہاں سے نکل آنے کو بہتر جانا۔

 

پولیس اہلکار، اللہ دتہ سے مشقت کروانے کے عمل کی تردید کرتے ہیں، جبکہ متاثرہ بچے اس کو تھانے والوں کی صریح غلط بیانی قرار دیتے ہیں۔ اللہ دتہ نہ بتایا کہ پولیس والوں نے اسے قریب کے ایک گھر سے کسّی لانے کا کہا اور پھر چھت سے مٹی اتار کر تھانے کے صحن میں ڈھوتے ایک مزدور کے ساتھ کام کروانے کا کہا گیا۔ کام ختم ہونے کے بعد اسے وہاں سے رخصت ملی۔ پولیس اہلکار باقاعدہ انتخابات میں ہونے والے معمول کے متشدد تصادم کے واقعات کی بنیاد پر یہ قیاسِ محض کرتے ہیں کہ ان طفلانہ انتخابات میں ہونے والے کسی ممکنہ جھگڑے کی بنیاد پر یہ حکم جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ بچوں کا کہنا ہے کہ وہ پرامن ہیں اور دوستانہ فضا میں تفریح کے لیے منعقد نہ ہو سکنے والے ان انتخابات کا طاقت کی روایتی کشمکش سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

 

دلشاد بلوچ اور ملک حیدر علی کے انتخابی پوسٹر
دلشاد بلوچ اور ملک حیدر علی کے انتخابی پوسٹر
ہر دو طرف کے امیدواروں نے ایک ہفتہ پہلے سے اپنی مہم شروع کر رکھی تھی۔ حیدر اور دلشاد 1500 روپے کی لاگت سے، اپنے اشتہار شہر سے چھپوا کر لائے تھے۔ اللہ دتہ اور شوکت نے چھ روپے فی اشتہار کے حساب سے 100 اشتہار چھپوا کر گاؤں میں لگوائے۔ ان انتخابات کا بزرگانہ سرپرست گاؤں کے جنرل کونسلر کو ظاہر کیا گیا تھا۔ لیکن الیکشن کے سبوتاژ ہونے کے بعد جب ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ‘بچوں کے کھیل’ کی خاطر تھانے والوں سے سر نہ ٹکرانے کی نصیحت کرتے ہوئے روایتی سیاستدانوں کی آمرانہ رویوں کے ساتھ مصالحت کی قومی روایت کو قائم رکھا۔
ایک دن کا یہ بظاہر معمولی واقعہ پاکستانی عوام کے سات عشروں پر محیط اجتماعی حافظے میں محفوظ ان گنت اداسیوں کی یاد دلاتا ہے۔ اور مسرّت کے متلاشی مضافات کے دلوں کی تلخیاں اس سے بھی سوا ہیں۔

 

ان مضافات میں روزمرہ کی زندگیوں میں موسموں کے پھیر اور فطرت کے بے رحم اور ننگے قوانین آدمی کو طاقت کے آگے سرِ تسلیم خم رکھنے کا مایوس کن درس دیتے ہیں، اور یہاں قطرہ قطرہ سے بنے دریاؤں کی وسیع میدانوں کو تاراج کرتی ہوئی لہریں منظم اجزا کا ایک مرکب طاقت بننے کا نظارہ بھی دکھاتی ہیں۔ یوں یہ چھوٹی آبادیاں فرد اور اجتماع کے فطرت کے ساتھ دوطرفہ تعامل کے خوردبینی مطالعے کے لیے ایک شاداب مرغزار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ میرے لیے آج کا سبق رائنہولڈ نائبوہر کا یہ حکیمانہ قول ہے؛ “آدمی کا انصاف کی جانب میلان جمہوریت کو ممکن بناتا ہے، اور آدمی کی ناانصافی کی صلاحیت جمہوریت کو ضروری بنا دیتی ہے”۔ اسے جمہوریت کہیے، انصاف کہیے، یا شادکامی و مسرت۔ بستی عباس پور کے یہ بچے اس کے نام سے سروکار کے بغیر ایسی ہی ایک چیز کے منتظر اور متلاشی ہیں۔ کچے اور پکے مؤقفوں کی یکساں گنتی کو کوئی لاکھ بچوں کا کھیل قرار دے، لیکن کھلونے کیوں توڑے جائیں؟
Categories
فکشن

ہمراہی

میں جس بس میں بیٹھا ہوں ، مقامی لوگ اسے بھٹی ٹائم کہتے ہیں۔ شائد اس کی وجہ یہ ہے کہ آج سے کچھ بیس پچیس سال قبل جب اس طرح کی پہلی ہینو بس “ہمراہی” اس سڑک پہ چلی تھی تو اُس کے مالک کا نام امیر بھٹی تھا۔ یہ بس تو کسی بلوچ کی ہے لیکن کہلاتی ہے “بھٹی ٹائم” ہی۔ خیر، نام میں کیا رکھا ہے۔ ضلع کے صدر مقام سے میرے گاوں کی طرف جانے والی یہ بس ۷۵ کلو میٹر کا فاصلہ تین گھنٹے میں طے کرتی ہے۔اگر سیٹ مل جائے تو ان تین گھنٹوں میں میری کوشش ہوتی ہے کہ مطالعہ ہی کر لیا جائے لیکن آج مجھے جگہ نہیں ملی تھی لہٰذا دروازے کے ساتھ،چھت سے فرش کے درمیان نصب آہنی ڈنڈے سے لگ کے کھڑا چہرے پڑھ رہا ہوں۔
میں یہ جاننے کیلئے بھی چہرے پڑھتا ہوں کہ جب میں آخری بار گاؤں گیا تھا ،تب سے اب تک لوگوں کی زندگیوں میں آنے والا تغیر کس طرح اُن کے چہروں سے عیاں ہوتا ہے؟ مثلاً سجاد نام کا وہ ترکھان جو کہ روز بروز سرمایہ اکٹھا ہو جانے کے باعث علاقے میں معزز تر ہوتا جارہا ہے، آخری بار بس میں نظر آیا تھا تو اُس کا رنگ پہلے سے زیادہ گورا ہوچکا تھا، چہرے کے تاثرات میں شائستگی آگئی تھی اور چہرے کا حجم تو اتنا بڑھ گیا تھا کہ اُسکی دو ٹھوڑیاں اور چار رُخسار ہو گئے تھے۔ اب سُنا ہے اُس نے اپنی گاڑی لے لی ہے۔ آج آخری سیٹ پر کھڑکی کی جانب گم سم بیٹھاشمشیر علیخاں اب پھر ضلع کچہری سے سلیم سیال کے قتل والے مقدمے کی پیشی بھگت کر آرہا ہے۔ جوں جوں قتل کے مقدمے میں اس کی زمین بکتی جارہی ہے، اس کی مشہورِ زمانہ مردانہ وجاہت ڈھلتی جارہی ہے۔پچھلی بار اس کی مونچھ کا خم گرا ہوا پایا تھا، آج بس میں سوار ہوتے ہی میں دیکھ کر چونک گیا کہ اب سردار صاحب کی مونچھ لمبائی بھی گھٹ کر ایک عام آدمی کی سی رہ گئی ہے اور شیو اتنی بڑھی ہوئی کہ سفید ڈاڑھی دور سے نظر آرہی ہے۔
لیکن میری زیادہ توجہ پہلے بھی نوجوانوں کی طرف ہوتی ہے اور آج بھی اُنہی کو کھڑا دیکھ رہا ہوں۔ایک کُھد بُد سی جو اکثر گاوں جانے والی بس میں سفر کے دوران ہی میرے دماغ میں ہوتی تھی، آج ایک مفروضے کی صورت میرے شعور کی سطح پہ اُبھری ہے تو اب میں اسے عملی طور پر پرکھ رہا ہوں۔ بات یہ ہے کہ اس پسماندہ دیہات سے شہروں کو سدھار جانے والے تعلیم یافتہ لڑکے اس سفر میں ایک دوسرے کیلئے اجنبی کیوں ہو جاتے ہیں؟ میرے علاقے کے دیہات میں کیا ہے کہ ہم سب لڑکے چھورے اور نوجوان ہی اس سفر میں ایک دوسرے سے نظریں چُرا کر اپنی اپنی نشستوں یا کھڑے ہونے کے گوشوں میں دبکے ہوتے ہیں۔ صحرائے تھل کی جُھلسا دینے والی گرمی اور کھڑکیوں سے اندر آتے گرم ریت کے تھپیڑوں کے باوجود سارے دیہاتی چہک چہک کر بلند آوازوں میں ایک دوسرے سے گپیں ہانکے جارہے ہیں اور بس چیونٹی کی طرح رینگتی جارہی ہے۔اُن تھل باسیوں میں سے کسی کو گھر پہنچنے کی اتنی جلدی نہیں ہے جتنی ہم شہر سے لوٹنے والے تعلیم یافتہ لڑکوں کو۔ ساتھ بیٹھے لوگ ہم سے کم ہی باتیں کرتے ہیں ، شاید وہ ہم سے مرعوب ہیں یا پھر ہم سے بے نیاز۔
ایسے میں مجھے ہمت نہیں پڑ رہی کہ میں کھڑکی کے ساتھ والی سامنے کی نشست پہ بیٹھے وحید علی سے نظریں ہی چار کر لوں جو کہ لاہور شہر میں نوکری کرتا ہے اور میری طرح اب وہیں سے آرہا ہے۔وہ مُجھ سے بھی سو ا بوکھلاہٹ سے مجھے نظر انداز کررہا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں ہماری کوئی مخالفت نہیں رہی۔اب ہم نظریں کیوں چُرا رہے ہیں؟اس کی یہی وجہ ہے کہ وہ شہر کے ایک معمولی اخبار میں کام کرتا ہے، کیا کام کرتا ہے، مجھے نہیں معلوم۔اور وہ شاید اسی لئے مجھ سے ملنے سے کتراتا ہے کہ میں شہر کے ہر بڑے چھوٹے اخبار اور اس کے صحافیوں کی “اوقات”سے واقف ہوں۔ ادھر میں خود بھی شاید اس لئے اس سے کترا رہا ہوں کہ شہر میں مَیں جس سماجی “تحریک ” سے وابستہ ہوں، اُس کی اصلیت صحافیوں سے بہتر کون جانتا ہوگا۔ ہم دونوں کو یاد ہے کہ ایم۔اے کے امتحان پاس کرنے کے بعد بابا علی خاں کے ڈیرے پر بیٹھ کر ہم اہلِ دیہہ کے سامنے کیا کیا بڑیں ہانکتے تھے۔
آگے کی سیٹ پہ بیٹھا خالد ہمارے گاؤں کے پرائمری اسکول سے پڑھنے والوں میں واحد ایم۔ایس ۔سی پاس لڑکا ہے۔وہ ایک انتہائی غریب جولاہے کا بیٹا ہے جسے کوئی سیدھے نام سے نہیں پکارتا۔ہم دونوں تین سال سے ایک ہی شہر میں نوکری کر رہے ہیں لیکن ہم کبھی ملے نہیں ۔وہ مجھے ناپسند کرتا ہے کیونکہ نمبرداروں کا لڑکا ہونے کی وجہ سے لڑکپن میں مَیں اُسے حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔ایک اتفاقی ملاقات میں اُس نے بتایا تھا کہ اب وہ کسی سرکاری ادارے میں ایڈہاک پہ افسری کررہا ہے۔ لیکن اب وہ مجھے ملنا نہیں چاہ رہا۔ میں اُسے اس لئے نہیں ملتا کہ وہ نمبرداری کا بھرم اب ایسا کُھلا ہے کہ اب مجھے اُس کا سامنا کرنے کی بھی ہمت نہیں ہے ۔خُدا کا شُکر ہے کہ شہر کی سڑکوں کی خاک پھانکتے ہوئے کبھی ہمارا آمنا سامنا نہیں ہوا۔وہ ڈرائیور سے پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہے اور کانوں میں آئی پوڈ کا ہیڈفون لگا کر نجانے کیا سُن رہا ہے۔ اُس نے کئی بار پیچھے مُڑ کر دیکھا ہے تو ہماری آنکھیں چار ہوئی ہیں لیکن ہم دونوں بہت غیر محسوس انداز میں ایک دوسرے کو نظر انداز کر گئے۔
میرے ساتھ کی سیٹ پر جو لڑکا بیٹھا ہے یہ اس وقت نوجوانوں میں سب سے خوش پوش ہے ۔ اس نے تو نکٹائی بھی لگا رکھی ہے۔شاید قیصر حُسین نام ہے اس کا یا پھر قیصر علی۔ ایف ۔اے میں میرا شاگرد تھا۔ بی ۔اے کے فائنل امتحانوں میں فیل ہو کر لاہور چلا گیا تھا۔لاہور میں ہماری پہلی مُلاقات بہت ناگوار رہی تھی۔ پولیس میں بھرتیاں ہو رہی تھیں، میں ان دنوں ایک نوکری سے نکال دیئے جانے کے بعد لاہور میں تلاشِ معاش کیلئے مارا مارا پھر رہا تھا، سو بھرتی کی قطار میں جا لگا۔جب میل کی دوڑ ہونے لگی تو قیصر سے میرا آمنا سامنا ہوا۔ “ارے تُم؟؟”اُس نے مُجھے دیکھتے ہی بے تکلفی سے میرے پہلو میں اُنگلی چبھو کر کہا۔کلاس روم کے سامنے کھڑا ہو کر انگریزی میں اونچے اونچے آدرشوں کے بھاشن دینے والا اُستاد آج اپنی ایم۔اے ، بی۔ایڈ اور پتہ نہیں کس طرح کی ڈگریاں اور سرٹیفکیٹ بغل میں دابے اُسے اپنے ہمراہ دوڑتا ملا تو سارے تکلفات، احترامات اور بڑے چھوٹے کے امتیازات ختم ہو گئے۔ مجھے یوں لگا کہ میں ننگ دھڑنگ اپنے تمام شاگردوں کے سامنے ایک کھلے میدان میں بھاگا جارہا ہوں۔ہم دونوں قہقہے لگا کر ہنس دیئے تھے لیکن اس کے بعد میں کبھی چیئرنگ کراس کی طرف نہیں گیا جہاں بقول اُس کے ، اس این ۔جی ۔او کا دفتر تھا جس میں وہ کام کرتا تھا۔میرا یہ حجاب تب ختم ہوا جب میں نے اُسے بندُو خاں ریسٹورینٹ میں ویٹر طور پر کھانا لگاتے دیکھا۔اب ہم دونوں ایک دوسرے سے کتراتے ہیں۔
مہربان علی خاں صاحب کا اور میرا تعلق بھی کچھ ایسا ہی ہے جیسا میرا اور قیصر کا۔ خاں صاحب ہمیں ہائی اسکول میں ٹیچر انٹرنی کے طور پر انگریزی اور حیاتیات پڑھاتے تھے۔ خوش رُو، نوجوان اُستاد تھے اور انگریزی میں پورے علاقے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔سول سروس کے امتحانات کی تیاری اور تدریس ساتھ ساتھ چلا رہے تھے۔ آج بھی ہم سے زیادہ جوان آدمی دکھائی دیتے ہیں۔سادہ لیکن باوقار فیشن کی پتلون قمیص پہنے اپنی برقع نوعمر بیوی کے ہمراہ درمیان کی سیٹوں میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہیں۔آج میں نے پہلی بار انہیں بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ دیکھا ہے۔ ابھی سوار ہونے سے پہلے ہماری مختصر سی ملاقات ہوئی ہے۔سیاسی شعور والے اور بااصول آدمی تھے لیکن شادی کے فوراً بعد ،خلافِ مزاج ایک فوجی اسکول میں انگریزی کے سویلین اُستاد ہو گئے اور اس وقت اپنے قبیلے کے سب سے غریب آدمی ہیں۔میں ہمیشہ انہیں پسند کرتا تھا لیکن آج پہلی بار مجھے ان سے نفرت، یا بے زاری سی محسوس ہوئی جب اُنہوں نے مُجھ سے پوچھا “آج کل کس بیس پر سروس ہے؟”میں اُن کا سوال نہ سمجھ سکا، میں نے معذرت کی تو اُنہوں نے بتایا کہ انہیں میری ہمسائی نے بتا رکھا تھا کہ میں پائلٹ ہو گیا ہوں اور وہ یہ جان کر بہت خوش تھے کیونکہ انہیں اس امر کا یقین میری طالب علمی سے ہی ہو گیا تھا۔وہ مجھ سے ذیادہ بات کرسکے ناں ہی میں اُنکی غلط فہمی دور کر پایا۔اب مُجھے کچھ کچھ تو اچھا لگ رہا تھا کہ اُستادِ محترم کتنی حسین خوش فہمی میں ہیں اور اب یہ سوچ رہا ہوں کہ وہ مجھے کبھی نہ ملیں اور میں اُن سے کبھی بات نہ کروں۔
اظہر، عرف زکوٹا، گاڑی کا کنڈکٹر ، جو کہ کالج کےوقتوں میں مجھ سے کرایہ نہیں لیتا تھا کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ میں جلد ہی تعلیم مکمل کرکے یہاں کا اے۔ایس ۔پی تعینات ہونے والا ہوں۔جان پہچان والے جوانوں میں وہ واحد شخص ہے جو اب بھی مجھے اسی احترام اور والہانہ پن سے ملتا ہے جو پہلے اس کے لہجوں میں تھا۔شائد اس نے مجھ سے اور میں نے اس سے کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا۔اُس نے ابھی میرے کان میں آکر سرگوشی کی تو میری توجہ شمشیر علیخاں کے دائیں جانب کسی بڑھیا کے ساتھ بیٹھی برقع پوش آہو چشم خاتون کی طرف گئی۔ لُبنیٰ خانم بچپن میں چند روز میری ہم جماعت رہی تھی۔کئی سال پہلے سُنا تھا کہ کراچی گئی تھی اور بہت اچھی تعلیم حاصل کر لی اُس نے۔ سال بھر پہلے پتہ چلا کہ بیاہی گئی ہے۔بعد کی زندگی پر شائداس کی پرہ نشینی نے پردہ ڈال دیا ہے، مُجھے کچھ خبر نہیں۔ مجھے خیال آیا کہ ہم سب لوگ اس کی طرح برقع کیوں نہیں پہن لیتے تاکہ ہم اپنے اپنے جھوٹ کے ساتھ، غلط فہمیوں کے ساتھ، اپنی ناکامیوں اور اپنی ناآسودہ خواہشات کے ساتھ باقی دُنیا کی نظروں سے بالعموم اور اپنے جیسوں کی نظروں سے بالخصوص روپوش ہو جائیں۔ہم دیہاتوں اور قصبوں سے پڑھ لکھ کر جب شہروں کو سدھارتے ہیں تو شائد ہم اپنے آپ کو اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو یہ اُمّید یا جھانسہ دے کر چلتے ہیں کہ ہم شہر جاکر بہت باعزت مقام پانے والے ہیں۔اس کے بعد ہم اس رخشِ خیال کی دُنیا میں خود کو مقید کرلیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی دوسرا بھی قریب آ کر اس کا دروازہ نہ کھولے۔کیا معلوم وہ ہماری زخمی انا تک، کسی جھوٹ تک، کسی ناآسودہ خواہش تک اور کسی کچے گھڑے جیسے بھرم تک پہنچ جائے۔ہم اس رخشِ خیال کے پیچھے بھاگ بھاگ کر اپنی شخصیتوں کو کتنا مسخ کرلیتے ہیں۔۔۔
لیجے، اسی اُدھیڑ بُن میں ہماری منزلِ مقصود بھی آگئی۔تین گھنٹے کے سفر میں ہم سفروں سے گہری شناسائیاں بنا لینے والے دیہاتی، تھل باسی ایک دوسرے سے گرمجوشی سے مصافحے، سلام اور الوداعی کلمات کہہ کر بس سے اُترنے کو تیار ہیں۔ جبکہ وحید، خالد، قیصر، مہربان خاں صاحب ، مَیں اور چند اور خوش پوش جوان بھی، جو میرے گاؤں کے ہی ہیں اور میں ان کے نام نہیں جانتا –وہ بھی شائد یہی چاہتے ہیں- اپنے اپنے ڈبّوں میں بند کسی سے سلام سلیک کیے بغیر گاڑی سے اُترنے والے ہیں۔وہ انہی
ڈبّوں میں مقید “ویک اینڈ” گاوں میں گزار کر اسی بس میں سوار واپس شہر روانہ ہو جائیں گے۔
ہم ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں اور ہماری منزل بھی یقیناً ایک ہی ہے لیکن ہمارے راستے الگ الگ ہیں ۔۔۔ ہماری اپنی اپنی بھول بھلیّاں ہیں۔۔۔
Categories
اداریہ

جھنگ کے ہائی سکول میں توہین ِ مذہب کا تنازعہ، “تعلیمی اداروں میں مذہبی شدت پسندی تشویش ناک ہے” ماہرین

گورنمنٹ ہائی سکول چک ج-ب 219 فیصل آباد روڈ جھنگ میں دو مسالک کے درمیان مذہبی چارٹس کے آویزاں کئے جانے پر ہونے والا تنازعہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ سکول کے اساتذہ محمد ظفر خان بلوچ اور محمد نواز قادری کے درمیان مذہبی چارٹس کے متن اور اس کی تعبیر کے حوالے سے ہونے والا تنازعہ طلبہ اور دیگر اساتذہ تک پھیل جانے پر مقامی پولیس کو مداخلت کرنا پڑی جس سے تدریسی سرگرمیاں اور تعلیمی ماحول شدید متاثر ہوئے ہیں۔ تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب دونوں مسالک کے حامیوں نے سڑکوں پر احتجاج شروع کر دیا۔ پولیس نے صورتِ حال کی کشیدگی کم کرنے کے لئے 16ایم پی او کے تحت دونوں استادوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

jhang-high-school

جھنگ مذہبی شدت پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کے حوالے سے سنگین تاریخی پس منظر کا حامل ہے۔ شہریوں نے لالٹین سے بات کرتے ہوئے محرم کے دوران جذباتی فضا کے پیش نظر اس واقعے کو تشویش ناک قرار دیا۔ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس احتجاج کا دائرہ دیگر تعلیمی اداروں تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔
پاکستان بالخصوص پنجاب کے تعلیمی ادارے طویل عرصہ سے مذہبی شدت پسندی اور فرقہ وارانہ تنازعات کا شکار ہیں۔فرقہ وارانہ بنیادوں پر اساتذہ کاقتل، کیمپسز پر اجارہ داری کے لئے مخصوص طلبہ تنظیموں کی طرف سے مخالف فرقوں کو ہراساں کیا جانا اور اقلیتی فرقوں سے امتیازی سلوک عام بات ہے۔
ماہرینِ تعلیم نے سکولوں کی سطح پر پھیل جانے والی مذہبی منافرت کو بھی تشویش ناک قرار دیا۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق مذہبی اور فرقہ وارانہ تنازعات کا سب سے برا اثر بچوں پر پڑا ہے اور ایسے پر تشدد اور نفرین آمیز ماحول میں پروان چڑھنے والے بچے برداشت، جذباتی توازن اور ہم آہنگی جیسی صفات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ نفسیاتی امراض کے معالجین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں معاشرتی ماحول اور ذرائع ابلاغ بچوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرنے کا باعث ہیں۔ اساتذہ کو طلبہ مثالی کردار کا حامل سمجھتے ہیں اور ان جیسا طرز عمل اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اساتذہ کا غیر ذمہ دارانہ رویہ طلبہ کی شخصیت کی تشکیل پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
پاکستان بالخصوص پنجاب کے تعلیمی ادارے طویل عرصہ سے مذہبی شدت پسندی اور فرقہ وارانہ تنازعات کا شکار ہیں۔فرقہ وارانہ بنیادوں پر اساتذہ کاقتل، کیمپسز پر اجارہ داری کے لئے مخصوص طلبہ تنظیموں کی طرف سے مخالف فرقوں کو ہراساں کیا جانا اور اقلیتی فرقوں سے امتیازی سلوک عام بات ہے۔
Categories
اداریہ

جھنگ کے ہائی سکول میں توہین ِ مذہب کا تنازعہ، "تعلیمی اداروں میں مذہبی شدت پسندی تشویش ناک ہے" ماہرین

گورنمنٹ ہائی سکول چک ج-ب 219 فیصل آباد روڈ جھنگ میں دو مسالک کے درمیان مذہبی چارٹس کے آویزاں کئے جانے پر ہونے والا تنازعہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ سکول کے اساتذہ محمد ظفر خان بلوچ اور محمد نواز قادری کے درمیان مذہبی چارٹس کے متن اور اس کی تعبیر کے حوالے سے ہونے والا تنازعہ طلبہ اور دیگر اساتذہ تک پھیل جانے پر مقامی پولیس کو مداخلت کرنا پڑی جس سے تدریسی سرگرمیاں اور تعلیمی ماحول شدید متاثر ہوئے ہیں۔ تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب دونوں مسالک کے حامیوں نے سڑکوں پر احتجاج شروع کر دیا۔ پولیس نے صورتِ حال کی کشیدگی کم کرنے کے لئے 16ایم پی او کے تحت دونوں استادوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

jhang-high-school

جھنگ مذہبی شدت پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کے حوالے سے سنگین تاریخی پس منظر کا حامل ہے۔ شہریوں نے لالٹین سے بات کرتے ہوئے محرم کے دوران جذباتی فضا کے پیش نظر اس واقعے کو تشویش ناک قرار دیا۔ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس احتجاج کا دائرہ دیگر تعلیمی اداروں تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔
پاکستان بالخصوص پنجاب کے تعلیمی ادارے طویل عرصہ سے مذہبی شدت پسندی اور فرقہ وارانہ تنازعات کا شکار ہیں۔فرقہ وارانہ بنیادوں پر اساتذہ کاقتل، کیمپسز پر اجارہ داری کے لئے مخصوص طلبہ تنظیموں کی طرف سے مخالف فرقوں کو ہراساں کیا جانا اور اقلیتی فرقوں سے امتیازی سلوک عام بات ہے۔
ماہرینِ تعلیم نے سکولوں کی سطح پر پھیل جانے والی مذہبی منافرت کو بھی تشویش ناک قرار دیا۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق مذہبی اور فرقہ وارانہ تنازعات کا سب سے برا اثر بچوں پر پڑا ہے اور ایسے پر تشدد اور نفرین آمیز ماحول میں پروان چڑھنے والے بچے برداشت، جذباتی توازن اور ہم آہنگی جیسی صفات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ نفسیاتی امراض کے معالجین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں معاشرتی ماحول اور ذرائع ابلاغ بچوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرنے کا باعث ہیں۔ اساتذہ کو طلبہ مثالی کردار کا حامل سمجھتے ہیں اور ان جیسا طرز عمل اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اساتذہ کا غیر ذمہ دارانہ رویہ طلبہ کی شخصیت کی تشکیل پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
پاکستان بالخصوص پنجاب کے تعلیمی ادارے طویل عرصہ سے مذہبی شدت پسندی اور فرقہ وارانہ تنازعات کا شکار ہیں۔فرقہ وارانہ بنیادوں پر اساتذہ کاقتل، کیمپسز پر اجارہ داری کے لئے مخصوص طلبہ تنظیموں کی طرف سے مخالف فرقوں کو ہراساں کیا جانا اور اقلیتی فرقوں سے امتیازی سلوک عام بات ہے۔