Categories
نقطۂ نظر

میراثِ آدم جستجو ہے

محمد شمریز صدیقyouth-yell-inner1جب بھی تاریخ کا پہیہ گھماتے ہوئے ماضی کے جھروکوں میں اُن ممالک کی ترقی کا راز دیکھتا ہوں جن ممالک نے کار ہائے نمایاں سر انجام دیتے ہوئے اقوام عالم میں اپنا لوہا منوایا تو ان تمام ممالک میں انقلاب کا ایک ہی راز نظر آیا اور وہ ہے’’تعلیم‘‘۔تعلیم انسان کو انسانیت کے اصولوں سے باور بھی کراتی ہے اور تہاذیب کی ترقی کا زینہ بھی ہے ۔ رابطوں کے اس جال میں جڑی دنیا میں تحقیق اور جستجو ہی کی بدولت یہ دنیا آج خلاء کے بے انت پھیلاو کو سمیٹنے کو زمین کی حدوں کو پھلانگ چکی ہے۔
یونان کےفلاطون اور اسطاطالیس کی روایت کا بار اٹھانے والے کندی، فارابی اور بوعلی سینا ہوں یا تاریک دور کے یورپ میں زمین کو گول ثابت کرنے والے اورارتقائے انسانی کا سراغ دینے والے ہوں سبھی نے جستجو اور تحقیق کا بوجھ اٹھایا ہے اور انسانیت کی مشترکہ میراث میں دیومالا اور اوہام کی جگہ قابل مشاہدہ حقائق اور قابل تصدیق نظریات کا اضافہ کیا۔ جستجو کسی کے گھر کی باندی اور تحقیق کسی کے حرم کی لونڈی نہیں ۔علم وہ لیلیٰ ہے جو صرف مجنوں کا انتظار کرتی ہے جو برہنہ پا خاک بر سر،دریدہ دامن گلی گلی قریہ قریہ۔۔۔۔لیلیٰ لیلیٰ پکارتا ہے۔ علم اندھا بھکاری نہیں کہ دیومالا یا اوہام کے سکوں سے بہل جائے۔یہ حیرت اور تجسس کے بطن سے پھوٹتا ہے اور روشنیوں میں پروان چڑھتا ہے، لا پرواہوں سے روٹھ جاتا ہے اور طلب گاروں کے پیچھے پھرتا ہے۔یہ سوال چیخ چیخ کر پکارتا ہے کہ اگر تم دنیا کا مقابلہ کرنا چاہتے ہو تو پھر اہل دنیا کی طرح سوچنا ہو گا اگر تم نے ایسا نہ کیا اگر تم نے ایسا نہ سوچا تو پھر ہم پیچھے رہ جائیں گے اور دنیا آگے نکل جائے گی’’کیونکہ تانگے جہازوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے‘‘۔ہم، ہمارا اور تم، تمہار کی تقسیم اور تعصب علم اور حکمت کے ہاں نہیں ہوتے۔ یہ کسی جائیداد یا ملکیت کا سوال نہیں ، سرحدوں اور علاقوں کی تحویل کا مسئلہ نہیں انسان ہونے کا وہ بنیادی فریضہ ہے جو سبھی انسانوں پر لازم ہے ۔ کوئی اگر شناخت کے مخمصے میں الجھ کر علم کی تقسیم کرنے پر تلا ہے اور اپنے شاندار ماضی کے فریب میں مبتلا عہد حاضر کے انسان کی معراج کا انکاری ہے تو وہ اپنے انسان ہونے اور اپنے جیسے انسانوں کے انسان ہونے کا انکاری ہے۔
اکیسویں صدی کے اس مقابلے کے دور میں جہاں دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے ہم آج بھی ’’غاروں،نعروں اور تلواروں کے دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ہم جھولی پھیلا کر معجزوں اور کرشموں کا انتظار کر رہے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ قدرت عقل سلیم کی شکل میں اپنا سب سے بڑا معجزہ ’’انسان‘دنیا میں اتار چکی ہے جس کسی نے خرد اور جستجو کی آنکھ سے دنیا کو دیکھا اس کائنات کے عجائبات اس پر کھلتے چلے گئے اور گلزارِ ہست و بود کے سبھی اسرار وا ہوتے چلے گئے۔ انسانی تاریخ کے میزانیے میں کوئی کسی کے مقابل نہیں کھڑا کوئی کسی کا حریف نہیں ہے کیوں کہ علم کسی عقیدے، نسل رنگ اور ذات کا پابند نہیں کیوں کہ یہ نسل ِ انسانی کی مشترکہ میراث ہے جو سبھی آدم زادوں کی معراج ہے۔وہ معراج جہاں انسان زندگی کی تخلیق اور فنا کے ممنوعہ پھل کو اگانے اور کاٹنے کے بھی قابل ہوچکا ہے۔


انتباہ: مجلس ادارت کا میگزین میں شامل قلمی معاونین کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ مشمولات کی اسناد اور حوالوں میں کمی یا بیشی کا ادارہ ذمہ دار نہ ہو گا۔
یوتھ یلزایک نیا رنگا رنگ سلسلہ ہے، جس میں نوجوان قلمکار بلا جھجک اپنے ھر طرح کے خیالات کا دوٹوک اظہار کر سکتے ہیں۔۔ آپ کا اسلوب سنجیدہ ہے یا چٹخارے دار۔۔ آپ سماج پر تنقید کا جذبہ لیے ہوئے ہیں یا خود پر ہنسنے کا حوصلہ۔۔۔۔ “لالٹین” آپ کی ہر تحریر کو خوشآمدید کہتا ہے۔

Categories
عکس و صدا

عزیزچنگیزی کی فوٹو گرافی

azizchangezi

عزیزچنگیزی

 

 


[nggallery id=9]

Categories
نقطۂ نظر

عورت اور ہمارا معاشرہ۔۔۔

youth-yell-inner

حفیظ درویش
عورت بھی کتنی بد قسمت واقع ہوئی ہے۔ اور اس بد قسمتی میں کافی عمل دخل اس کی خاموشی کو حاصل ہے۔ کیونکہ یہ بہت کم کسی ناانصافی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتی ہے۔ معاشرہ بھی ایسی عورت کو سراہتا ہے جو خاموشی اور صبر کے ساتھ ظلم کو سہہ جاتی ہے۔ مرضی کے خلاف شادی ، جائیداد میں حصے یا تعلیم جیسی بنیادی ضرورت سے محرومی ہو۔اس پر عورت کی جانب سے کوئی خاص مزاحمت دیکھنے میں نہیں آتی۔اس کی جو وجہ سمجھ آتی ہے وہ یہ کہ پچھلے کئی ہزار سال سے عورت کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ ناقص العقل ہے۔اس کو دنیاوی معاملات کا کوئی ادراک نہیں۔۔ مرد عقل ِکُل ہے اور وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ایک عورت کےلیے کیا صیح اور کیا غلط ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اس مستقل تلقین اور تضحیک نے عورت کی خود اعتمادی کی دھجیاں بکھیردی ہیں ۔۔ وہ خود کو مرد کا محتاج اور عقلی طور پر اُس سے خود کوکم ترسمجھنے لگ گئی ہے مرد نے صرف یہاں پر ہی بس نہیں کی۔بلکہ مذہب، غیرت، عزت اور ناموس کے نام پر اس کو اپنی باندی بنا لیا ۔ اس کےساتھ جانوروں جیسا سلوک کرنے لگا ۔ جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔۔ جہاں کہیں عورت نے کوئی چون و چرا کرنے کی کوشش کی وہاں مرد نے اس کو دھونس اور طاقت سےدبایا۔۔یہ کتنی حیرت کی با ت ہےکہ دنیا کی کل آبادی کا اکیاون فیصد ہونے کے باوجود عورت یرغمال ہے۔۔ اکثریت میں ہونے کےباوجود اقلیت میں ہے۔۔مرد نے خود کوعورت کا پیدائشی حکمران سمجھ لیاہے۔۔ اور وہ آخری دم تک اس پر مسلط رہتاہے۔۔ اس کااستحصال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ مرد نے عورت کے بچے پیدا کرنے کے عمل کو نظر انداز کردیا ہے۔۔ وہ اسے بس ایک سیکس ٹوائے سمجھتا ہے۔۔ اوراس کے ساتھ ساتھ وہ یہ ایمان بھی رکھتا ہے کہ عورت شہوت کی ماری ہوئی ہے اور جیسے ہی اسے کوئی موقع ملے گا ۔۔وہ دیگر مردوں کی گود میں بیٹھ جائے گی۔۔ یہ ایک انتہائی شرمناک رویہ ہے کہ مرد اپنی بہن ، بیوی اور بیٹی کو ہر وقت شک کی نگاہ سے دیکھتاہے اور اس کو پردے میں رکھنے کےلیے ہر ممکن جتن کرتاہے۔۔ کیونکہ اس کو لگتا ہے کہ یہ گھر سے باہر دوسرے مرد کی بانہوں میں سمانے کےلیے جاتی ہے۔۔ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ سفر کے دوران، بازاروں اور دفاتر میں خواتین فون پر اپنے مردوں کو وضاحتیں دے رہی ہوتی ہیں کہ وہ اس وقت کہا ں ہیں۔۔ حالانکہ جب مرد گھر سے باہر نکلتاہے تو اس کےفون پر اس کے گھر کی خواتین کی کالز کا تانتا نہیں بندھتا۔۔۔۔ ایک مرد کو ہر وقت اپنی بہن ، بیوی اور بیٹی کے حوالے سے دھڑکا لگارہتاہے کہ وہ باہر گئی ہے اوروہ اس کی عزت، غیرت اور ناموس کو پامال کردے گی۔

یہ کتنی حیرت کی با ت ہےکہ دنیا کی کل آبادی کا اکیاون فیصد ہونے کے باوجود عورت یرغمال ہے۔۔ اکثریت میں ہونے کےباوجود اقلیت میں ہے۔۔مرد نے خود کوعورت کا پیدائشی حکمران سمجھ لیاہے۔۔

جب کبھی ان خواتین یا لڑکیوں سے پوچھتاجاتا ہے کہ کیا یہ رویہ شرمناک نہیں تو وہ جواب دیتی ہیں کہ ہمارے گھر والے ہم سے بہت پیار کرتے ہیں اس لیے ہماری خیر خبر رکھتے ہیں۔ جب سوال اُٹھایا جاتا ہے کہ آپ جب پسند کی شادی کرنا چاہتی ہیں ، کالج یا یونیورسٹی کی تعلیم کے لیے جانا چاہتی ہیں یا جائیداد میں حصہ مانگتی ہیں تو اُس وقت آپ کے گھر والوں کا پیار گالیوں، لاتوں اور گھونسوں کی شکل کیوں اختیار کر جاتا ہے تو تب ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں مل پاتا۔اس معاشرے میں خواتین کا استحصال مختلف تصورات کے ذریعے کیا جارہا ہے۔
یونیورسٹی میں ہماری ایک کلاس فیلو تھی۔ اس کا بھائی خواتین کی فلاح و بہبود کےلیے ایک این جی او چلا رہا تھا۔ جس کا مقصد خواتین کو ان کےحقوق سے آگہی دیناتھا۔ اس کے علاوہ موصوف نے اپنی پسند کی منگنی کر رکھی تھی۔ جبکہ اپنی بہن کے حوالے سے اس کا رویہ انتہائی شرم ناک اور تذلیل آمیز تھا۔ ہماری کلاس فیلو اگر یونیورسٹی سے جاتے ہوئے لیٹ ہوجاتی تو اس کو کافی باتیں سننا پڑتیں۔ دو تین بار گھر دیرسے جانے اور بھائی کے سامنے بات کرنے پر مار بھی پڑی ۔اُن کے بھائی صاحب کے پاس مارنے کےلیے دلیل یہ تھی کہ میں تمہار ا بڑا بھائی ہوں اور تمہارا برا بھلا بہتر طورپر جانتا ہوں۔ یاد رہے کہ موصوف لندن میں دو سال کا عرصہ بھی گذار چکے تھے۔ ہمارے معاشرے میں عورتوں کی اکثریت کو گھروں میں موجود فون اٹھانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اگر فون بج رہا ہے تو عورت کسی مرد کو آواز دے گی۔ چاہے وہ گھر کے کسی کونے میں ہو وہی آکر فون اٹھائے گا۔ اس کے علاوہ عورت کو دروازے پر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ گھر پر کوئی مرد نہیں ہے تو کسی چھوٹے بچے کو دروازے پر بھیجا جاتاہے کہ وہ دیکھ کر آئے کہ باہر کون ہے۔اگر بد قسمتی سے کوئی لڑکی گھر کےدروازے کے پاس پائی جائے اور ایسے میں باپ یا بھائی گھر آجائے تو پھر اس کی خیر نہیں ہوتی۔ عورت اکیلی بازار نہیں جاسکتی۔ ٹیوشن پر جانا ہےتو بھائی یا باپ چھوڑ کر آئے گا۔ اگر بڑا بھائی نہیں تو ساتھ میں چار پانچ سال کا چھوٹا سابھائی جاتا ہوا نظر آئے گا۔ اس کے علاوہ دو چار سال چھوٹا بھائی اپنی بہن پر حاوی ہوتا ہے۔ وہ بھی اپنی دھونس جمانے سے باز نہیں آتا۔اگر ایسے میں کوئی لڑکی اکڑ جائے تو وہ نہ صر ف چٹیا کھینچ دیتا ہے بلکہ شام کو باپ کو بھی بتا دیتا ہے کہ یہ میرے ساتھ بحث کرتی ہے۔ باپ بھی اس معاملےمیں چپ کرجاتا ہے ۔ کیونکہ وہ خود چاہتاہے کہ بیٹے کا پلڑا بھاری رہے اور اس کی بیٹی سرکشی نہ کرسکے۔ بیٹے اور بیٹی میں تفریق کا سلسلہ یہیں پر ختم نہیں ہوجاتا۔اگر بیٹا پسند کی شادی کرتاہے تو یہ اس کا پیدائشی حق ہے۔ اگر بیٹی کرے تو خاندان کی عزت خاک میں مل جاتی ہے، باپ کی ناک کٹ جاتی ہے ، بھائی کا سر شرم سے جھک جاتاہے۔اگر بیٹا کسی سے پیار کرتے ہوئے پایاجائے تو ماں باپ صدقے واری۔ بیٹی کا پتہ چلے تو چھریاں اور ڈنڈے چل جاتے ہیں۔بیٹا کسی ہوٹل سے ڈیٹ کرتے ہوا مل جائے تو ہلکی پھلکی سرزنش۔ لڑکی پکڑی جائے تو بات قتل تک پہنچ جاتی ہے۔بیٹا دوستوں کی پارٹی میں جائے تو رات کو دیر سے آنے پر کوئی پوچھ گچھ نہیں۔ لڑکی نے جانا ہوتو شام سات بجے سے پہلے واپس آنے کی تاکید سوبار کی جاتی ہے۔اگر تھوڑی لیٹ ہوجائے تو موبائل لگاتار بجنے لگتاہے یا پھر باپ یا بھائی گاڑی لے کر پہنچ جاتاہے۔بیٹے کو یونیورسٹی بھیجا جاتا ہے تو کوئی نصیحت نہیں۔ بیٹی کو بھیجا جائے تو ماں پاوَں میں دوپٹے رکھتی ہے کہ ہماری عزت تمہارے ہاتھ میں ہے۔ باپ الگ سے بلا کر سمجھا کر رہا ہوتاہے کہ بیٹا اپنی پگڑی تمہارے حوالے کر رہاہوں اب اسکی حفاظت کرنا تمہار ا کام ہے۔ بھائی جو چند لمحے پہلے باہر بازار میں کسی کی ماں بہن کو چھیڑ کر آرہا ہوتا ہے، گلوگیر لہجے میں کہتاہے بہن ہمارا سر نہ جھکا دینا۔
یہ منتیں ، ترلے اور واسطے اس وقت بھی دیے جاتے ہیں جب بیچاری عورت جاب کےلیے نکلتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کے ساتھ روا رکھے گئے اس تیسرے درجے کے رویے کو دو طریقوں سے ختم کیا جاسکتاہے۔ سب سے پہلے تو انفرادی سطح پر ہمیں اس کو انسان سمجھنا ہوگا۔ عورت کی اور مرد کی فطری ضرورتوں کو ایک سا خیا ل کرنا ہوگا۔ عورت کے حوالے سے جو تعصب اور بُغض مذہب، خاندان اور ہمارے معاشرے نے ہمارے ذہنوں میں انڈیلا ہے اس سے جان چھڑانی ہوگی۔انسان کے اندر خود کو اور اپنے خیالا ت کو بدلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ بس منطقی اور انسانی بنیادوں پر ہمیں اپنی سوچ پروان چڑھانےکی ضرورت ہے۔تبدیلی کی مخالفت کی بجائے اُسے کُھلے دل سے خوش آمدید کہنے کی روش اپنانا ہوگی۔ عورت کو اپنے شانہ بشانہ لانے میں اس کی مدد کرنا ہوگی۔ ہم نے اس کا بے تحاشا استحصال کیا ہے اور ہمیں ہی اس کا مداوا کرناہے۔ دوسری طرف حکومت ان کو مضبوط کرنے کےلیے قوانین پاس کرے۔ حکومت کا کردار اس حوالے اہم ہے کیونکہ اس کے پاس کام کرنے کی صلاحیت اور وسائل دونوں موجود ہوتے ہیں۔قوانین کو ہر کسی پر بلا تفریق نافذ کیا جائے اور جو نہ مانے اس سے زبر دستی منوایا جائے۔خواتین کو پارلیمان میں زیادہ سے زیادہ اور موثر نمائندگی دی جائے تاکہ وہ خواتین کےلیے قانون سازی کرسکیں۔ مذہب کو ریاست سے الگ رکھا جائےا ور امتیازی اور غیر منطقی مذہبی قوانین مثلاً مرد کے مقابلے میں آدھی گواہی، جائیداد میں آدھا حصہ، ریپ کی صور ت میں چار مسلمان گواہوں کی شرط وغیرہ۔ان کو فوراً ختم کیا جائے تا کہ عورت کو بطور انسان اس کی شناخت دوبارہ لوٹائی جاسکے۔

حفیظ درویش ایم اے ابلاغیات سے فارغ التحصیل ہیں اور کیپیٹل ٹی وی میں بطور اسسٹنٹ پروڈیوسر کام کر رہے ہیں۔ کالم اور افسانہ نگاری ان کے مشاغل ہیں۔

Categories
نقطۂ نظر

انصاف

youth-yell-inner
احمد فرہادمیں حکیم اللہ محسود ہوں کیا تم نہیں جانتے؟ جانتا ہوں۔ میں تحریک طالبان کا امیر ہوں کیا تم نہیں جانتے؟۔ جی میں جانتا ہوں۔ تو پھر میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ یہ دھماکہ ہم نے کیا ہے۔ ہاں یہ دھماکہ ہم نے کیا ہے۔ یہ تیس فوجی،سات بچے،دو عورتیں اور پانچ مرد ہم نے اڑائے ہیں۔ پچھلے دنوں پچاس فوجیوں کی گردنیں ہم نے کاٹی تھیں۔۔ ہم مزید لوگ اڑائیں گے ۔۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ جب تک پاکستان کے چپے چپے پر اسلام نافذ نہیں ہو جاتا۔ بتاؤ اب مانتے ہو کہ نہیں؟۔نہیں نہیں ایسا نہ کہیں۔ میں نہیں مان سکتا امیر میں نہیں مان سکتا۔

خبیث شخص کیا کچھ دیر پہلے میں نے تمہارے سامنے ایک ایف سی اہلکار کی گردن نہیں کاٹی ؟

نہیں نہیں یہ کام آپ نے نہیں کیا۔ نہیں نہیں میری آنکھوں نے کچھ نہیں دیکھا۔ نہیں نہیں میری آنکھیں دھوکہ کھا رہی تھیں۔ یہ ظلم آپ کر ہی نہیں سکتے۔

تمہارا دماغ خراب ہے کیا؟۔

نہیں میرا دماغ ٹھیک ہے ا میر۔

تو پھر مانتے کیوں نہیں۔

مانتا تو ہوں۔ کیا مانتے ہو؟۔

کہ یہ دھماکہ آپ نے نہیں کیا۔

خر زاد کیا عجیب شخص ہو تم؟لعنت ہو تم پر۔

نہیں امیر میں نہیں مان سکتا۔ میں کچھ بھی نہیں مان سکتا۔ اور وہ چند ماہ پہلے کی ویڈیو جس میں آپ ایک فوجی کا گلہ کاٹ رہے تھے وہ بھی جعلی تھی۔ اور یہ بھی مانتا ہوں کہ آپ نے آج تک مکھی بھی نہیں ماری۔

پاگل شخص اب تمہیں اور کیا ثبوت دیں۔

ثبوت نہیں رہائی چاہیے۔

رہائی نہیں تمہیں اب زندگی سے ملے گی۔

تم نے ہمارا نام خراب کیا ہے۔

حضور خدارا ایسا مت کہیے۔یا امیر آپ ایسا کچھ نہیں کر سکتے۔میں تو آپکا حامی ہوں ۔

لعنت ہو تم پر۔۔ تم زندیق ہو۔تمہیں مجاہدین کی طاقت پر شک ہے۔تم واجب القتل ہو۔تم حامی نہیں ہمارے۔تم بزدل ہو۔۔ ہم بہادر ہیں۔ہم مار کر بتاتے ہیں۔

نہیں امیر کچھ بھی ہو جائے میں کبھی نہیں مانوں گا کہ یہ آپ نے کیا ہے۔ یہ امریکہ نے کرایا ہے۔ یہ بھارت نے کرایا ہے۔ اگر کسی نے نہیں تو یہ ظلم ہماری فوج نے خود کیا ہے۔ ہم نے کیا ہے۔ ہماری ایجنسیوں نے کیا ہے۔ میں نے کیا ہے ۔ مگر آپ نے ہر گز نہیں کیا۔

کیا تم نے خود کش حملہ آور کی جاتے ہوے ویڈیو نہیں دیکھی۔ جی دیکھی تھی ۔ کیا اس لڑکے نے حملے کی پوری منصوبہ بندی نہیں بتائی؟۔

جی بتائی تھی۔

کیا اس نے نہیں بتایا کہ وہ کون ہے اور اسے کون بھیج رہا ہے؟۔

جی بتایا تھا۔

کیا خود کش حملہ آور اور ویڈیو والا لڑکا ایک ہی نہیں تھے؟۔

جی جی دونوں ایک ہی تھے۔

کیا ویڈیو میں اس کے ساتھ میں موجود نہیں تھا ؟۔

جی جی آپ بھی تھے میرے امیر۔

تو پھر تم نے بار بار میڈیا میں بیان کیوں دیا کہ یہ ہم نے نہیں کیا؟۔ تم جھوٹے ہو۔جھوٹے کو خدا پسند نہیں کرتا۔

نہیں امیر ایسا مت کہیے۔میں اب بھی کہتا ہوں کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔آپ تو جہاد کر رہے ہیں۔آپ نے آج تک پتا بھی نہیں توڑا ۔

اڑا دو اس کے بیٹے کو۔

نہیں امیر رحم۔

تڑاخ۔۔۔تڑاخ۔۔تڑاخ ۔

ہائے امیر یہ کیا ظلم ہو گیا۔۔یہ کیا آفت ٹوٹ پڑی مجھ پر

اب بتا تیرے بیٹے کو کس نے مارا؟

نہیں امیر میں نے نہیں دیکھا۔۔مجھ سے قسم لے لیجیے میں نے نہیں دیکھا

لعنتی آدمی تو کس مٹی کا بنا ہے۔ خبیث انسان تو نے ہمیشہ ہماری محنت کا صلہ امریکہ بھارت اور اسرائیل کے کھاتے میں ڈالا ہے ۔تو نے ہمارے مجاہدین کی قربانیوں کا انکار کیا ہے۔ تونے میڈیا پر لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔لگتا ہے توامریکہ کے لیے کام کرتا ہے۔ اسی لیے ہم تمہیں اور تمہارے بیٹے کو اغواء کر کے لائے ہیں۔اب تمہاری باری ہے۔

نہیں نہیں آپ ایسا نہیں کر سکتے ۔ ہم بہادر ہیں ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

تڑاخ۔۔۔تڑاخ۔۔۔تڑاخ۔۔۔

احمد فرہاد پیشہ کے اعتبار سے صحافی اورکیپیٹل ٹی وی میں سینئر ایسوسی ایٹ پروڈیوسر ہیں۔ صحافت کے علاوہ نغمہ نگاری، ڈرامہ نویسی اور شاعری میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ مختلف موضوعات پر ان چار کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ ان تصانیف کی متعدد اداروں نے اعزازات اور انعامات کی شکل میں پذیرائی کی ہے۔

Categories
نقطۂ نظر

Why Quaid-e-Azam Residency?

Rafiullah Kakar
Why-Quaid-e-Azam-Residencyinner

“Quaid we are embarrassed, those terrorists are alive,” young protesters in Lahore chanted at a protest demonstration against recent arson attack on Quaid-e-Azam Residency in Ziarat.  The slogan reflects the nationwide shock over the Ziarat incident, which was followed by two terrorist attacks in Quetta the same day. Confused about the dynamics of ethnic and sectarian violence in Balochistan, many are asking why, after all, a harmless national heritage site was targeted.

Quaid-e-Azam Residency has perhaps been the most popular tourist destination in the restive province. For many Baloch, however, the monument was a symbol of the arbitrary and unfair treatment to which they have been subjected since Pakistan‘s inception.  For the insurgents, it was perhaps a relatively convenient target to hurt the military establishment against whom their anger is primarily aimed. Most importantly, the attack signified Baloch criticism of Jinnah’s role in what they consider forced accession of Kalat state to Pakistan. Because of the conflicting historical accounts on the subject, this claim merits special scrutiny.

Quaid-e-Azam Mohammad Ali Jinnah knew Balochistan better than any other national leader of India. Throughout the constitutional struggle in the 1920s and 1930s, Jinnah pleaded for reforms in Balochistan. He had friendly relations with the Khan of Kalat, who provided significant financial help for the freedom struggle. When in the 1940s the Khan of Kalat accelerated his efforts for an independent Baloch state, Jinnah, as his legal adviser, presented a memorandum to the British to explain the unique constitutional position of Kalat. It was based on the argument that unlike other Indian princely states, Kalat was never a part of India. It was an independent state whose relations with the British government were governed by the treaty of 1876 that recognized the sovereignty of Kalat, argued the Khan. Jinnah supported Khan’s stance and Jawaharlal Nehru opposed it. Having had the option of retaining independence as per the 3rd June plan, Kalat state opted for independence – a status that was recognized in a communiqué signed by Jinnah, Liaqat Ali Khan, Lord Mountbatten and the Khan of Kalat on 11th August, 1947 . Subsequently, Kalat’s bicameral legislature passed a resolution in favour of independence, with Ghaus Bakhsh Bizenjo, the leader of the popular Kalat State National Party (KSNP) in the Darul Awam (House of Commons), emerging as the most ardent advocate of Baloch nationalism and Kalat’s independence.

But in the days that followed, the Quaid – who had earlier accepted Kalat as an independent non-Indian state – kept on advising the Khan to merge Kalat with Pakistan. According to Malik Saeed Dehwar in ‘Contemporary History of Balochistan’, Khan’s response was initially positive but later became “evasive” as he sought time for taking his people into confidence. While Pakistan wanted an unconditional accession of the Kalat state, the Khan and Baloch nationalists represented by the KSNP desired a treaty-based relationship with special cooperation in the areas of foreign affairs, defence, and communication. After having realised Khan’s reluctance to accede, the Pakistani state – exploiting the internal disunity of Baloch sardars and rulers – obtained the separate merger of the principalities of Kharan, Makran, and Lasbela, which until then were claimed as “vassal states” by Kalat. This move annoyed the Baloch nationalists and left the Khan with little choice. He regarded it as the “political castration” of Baloch people. This development coupled with what the Khan called the “mischievous and misleading but suggestive” announcement on All-India Radio on March 27, 1948 about his intentions to accede to India led the Khan to announce “unconditional” accession of Kalat to Pakistan. The Baloch nationalist viewed it as a “forced merger” and criticized the Khan for burying “all the glory and vanity of his line”. The Khan’s younger brother, Prince Abdul Karim Khan, launched what was to become the first of the many insurgencies against Pakistan, allegedly with the Khan’s tacit blessing.

Nevertheless, there are several instances that prove that the Quaid respected the sensitivities of the Baloch people. The leaders that followed him, Khan says in his autobiography, “lacked the requisite experience of handling sensitive matters like the ethnological, historical, and traditional background of Baloch people”. They tried to handle the situation arbitrarily and failed to fulfil the promises the Quaid had made to the people of Balochistan.

Baloch grievances could have been placated in the post-colonial Pakistan, had it not been for the centralized and interventionist policies of the successive governments in the centre. Having inherited a state comprising of multiple ethnic groups bound together loosely by the force of a common religion, Pakistan’s civil-military establishment – which was aware of the vulnerability of this setup – regarded ethnic or any form of identity assertion other than Islam as anathema (especially in case of Baloch insurgency, given its predominantly secular and leftist character) and declared it detrimental to national security and integrity. Using a top-down approach, the state enforced an exclusively-defined religious nationalism to counter various ethno-nationalist, secular and democratic challenges to its authoritarianism. This approach stifled the religious and ethnic minorities. It was especially true in case of Pashtun and Baloch nationalists who, on account of their secular approach, were never enchanted with the Muslim League’s slogan of “Deen in danger” and were, therefore, allied with the Congress.

Blast-Quaid-e-Azam-Residency

The recent attack is a shocking reminder of the increasing disillusionment among the Baloch against Pakistan. ‘Patriotic’ Pakistanis must feel embarrassed not because Quaid’s residency was demolished but because all post-Jinnah Pakistani leaders failed to fulfil the lofty promises made by the Quaid to the people of Balochistan. The sad attack must evoke thoughtful revisiting of our policies rather than humiliation. We need to ponder over the question as to why Quaid’s residency was attacked in a province where he used to be accorded gracious welcome and was once even weighed in gold and silver.

The current nationalists-led Balochistan government faces a double-edged sword in the form of Baloch separatists and the religious and sectarian extremists. While the later are bent upon destroying Jinnah’s Pakistan, the former are relatively easier to negotiate with. While the fact that Pashtun and Baloch nationalists have formed government in Balochistan augurs well for the long-term stability and progress of the province, though Baloch separatists and the disappointed Balochistan National Party (Mengal) pose a serious challenge to the representative character of the government. Bringing the angry Baloch nationalist leadership in the mainstream is a test for the new government.

 

(The writer is an Oxford Rhodes Scholar for 2013. A graduate of G. C. University, he hails from Quetta, Balochistan)

Categories
نقطۂ نظر

The IDPs of FATA: Issues and Challenges

Rizwan Ismail

Within the last decade, around 350,000 people from Federally Administered Tribal Areas (FATA) have been internally displaced owing to militancy, military operations and threats from Taliban. This massive human disaster has not received enough attention from the state and the civil society. FATA Research Centre (FRC), the first ever non-partisan and non-political think-tank to improve understanding of FATA through research and analysis, recently organised a seminar in Islamabad titled ‘The IDPs of FATA: Issues and Challenges’. It encompassed a diverse pool of opinions from speakers like Jan Muhammad Achakzai (Official Spokesperson of Jamiat Ulema Islam-F), Ibrahim Shinwari (Political Analyst and Journalist), Gul Bat Khan Afridi (Head of IDP’s Shura, FATA), Syed Zaheer Ul Islam Shah (DG Provincial Disaster Management Authority), Senator Haji Muhammad Adeel (Awami National Party), and Ahmer Bilal Soofi (Minister for Law & Justice).

FATA Research Centre (FRC), the first ever non-partisan and non-political think-tank to improve understanding of FATA through research and analysis, recently organised a seminar in Islamabad titled ‘The IDPs of FATA: Issues and Challenges’.

Dr. Ashraf Ali, President FATA Research Centre, introduced that the major portion of Internally Displaced Persons (IDPs) comes from Kurram, Khyber, and Orakzai Agencies, and South Waziristan because of the on-going military operations against TTP. “They have left their homes to avoid the effects of armed conflicts, bomb blasts, shelling, drone attacks and various other kinds of terrorist attacks which have absolutely shattered peace of the region.” He stated. Worsening economic situation was also highlighted by Mr. Ibrahim Shinwari, a political analyst and journalist, as another major cause of displacement. He elaborated that while there were already fewer economic opportunities in FATA, other important avenues such as smuggling that supported a large number of people have been monopolized by the militants.

Ibrahim Shinwari, further speaking about the ground realities, stated that the official figures do not illustrate the situation clearly in terms of human loss and suffering. Nothing less than around 165,000 families are forced to flee their homes and stay outside in tents and temporary places in the areas like Hangu, Peshawar, Karachi, Fateh Nawab, Rawalpindi and Islamabad. Talking about the miserable conditions that IDPs are living in, he said, “People especially the females and children are suffering from great many psychological problems. Life has become so difficult that even a husband and wife are not able to talk or sit together because of the over-crowdedness.” He went further to highlight the consequences of such negligence by pointing out that the educated unemployed youth of the IDPs is at a serious risk of falling into the hands of militants just to get some money and other material benefits to feed and support their families.

Sharing his own experiences and those of his fellow IDPs, Gul Bat Khan Afridi, head of IDP’s Shura, spoke very critical of the insufficient efforts of state authorities to address their plight.  He said, “We the tribal people have always been sacrificing for the nation, for the country, and will continue to do so. But we get nothing in return. With virtually no education and health facilities, our youth has no future. We are worse off than the Afghan refugees. The food is always short, the registration system is cumbersome and slow, and there is no transportation and security. Last time there was a bomb blast in our camps killing 18 people, no one took the notice. And still the camps are totally open and vulnerable to any such attack.”

We the tribal people have always been sacrificing for the nation, for the country, and will continue to do so. But we get nothing in return. With virtually no education and health facilities, our youth has no future. We are worse off than the Afghan refugees.

Syed Zaheer-ul-Islam Shah, DG Provincial Disaster Management Authority, was defensive by focusing on nuances of the issue. He said, “The situation is quite complicated in terms of various actors involved; on one hand there are international stake holders interested in maintaining regional hegemony in the region, while on the other hand there are militants eager to impose their version of Islam by waging war against the west. Then there are internal rifts among militants too, various groups are in continuous tussle to gain control over the area. Selective support of these militants by the powerful actors further increases the complications.”

He contested the notion that the IDPs are in extremely wretched conditions by pointing out that they are getting free electricity, food, education and health facilities. “Apart from some camps, others like Jalozai, Toap Srai, and New Durrani are very safe. Even after some areas in FATA being declared clear by the army, people still want to live in these camps.” He briefed.

It needs to be seen, however, whether this is the better conditions at the camps or the uncertainty of situation back home that is forcing people not to go back. It could also be a combination of the both.

Rest of the speakers including Senator Haji Muhammad Adeel, Jan Muhammad Achakzai and Ahmer Bilal Soofi were more generic in approaching the issue. They spoke of long term policies and strategic problems.

Senator Haji Muhammad Adeel of Awami National Party traced the historical and contextual factors behind the militancy. He opined that FATA always used to be quite peaceful. This mess started in Zia’s era and reached its peak during Musharaf’s. Since militants took over, they have killed about 1000 tribal leaders and have held people hostage. He further added, “Without peace in FATA, peace in Pakistan will not be possible. We can forgive the blood of our 800 martyrs including that of Basheer Bilour and the son of Mian Iftikhar if militants are ready to give up their arms and have negotiations.”

(Click to enlarge)
(Click to enlarge)

On the other hand, Jan Muhammad Achakzai, the official spokesperson of JUIF, was keener at emphasizing failure of the government and suggesting a different course of action. He blamed government’s erroneous policy on terrorism as the primary cause for IDP crisis. He was of the opinion that all the military operations must stop followed by peaceful negotiations with the militants, only such as approach can tackle the IDP problem.

Ahmer Bilal Soofi’s conclusive talk spoke of a strategy to counter the root cause behind the whole problem of internal displacement, i.e. terrorism. He greatly emphasized on countering the extremist mind set by reforming religious educations and the clergy. “We have to teach our religious scholars and madrassa leadership the significance of international system as it has evolved since the end of Second World War. They must be made to understand international treaties and narcissist delusions medieval time should be rooted out. By understanding international system and the significance of peaceful coexistence, we can overcome the problem of terrorism hence of IDPs.” He concluded.

(Published in The Laaltain – May 2013)

Categories
خصوصی

قائدِاعظم یونیورسٹی میں طالبعلم کا پراسرار اغوا

campus-talks

رضوان اسماعیل
(قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد)قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کا شمار ملک کی بہترین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ کچھ دن قبل گلگت سے تعلق رکھنے والے مدثر شین نامی ایک طالبعلم یونیورسٹی ہاسٹل سے پر اسرار طریقے سے غائب ہوگئے۔مدثر یونیورسٹی کی طلبہ سیاست میں کافی نمایاں تھے اور ان کا تعلق قا ئدِ اعظم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی گلگت کونسل سے تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اتنے بڑے واقعےپر کوئی کارروائی نہیں کی۔ یہاں تک کہ طلبا کی ایک بڑی تعداد نےمظاہرے کیے اور اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس بھی کی۔ اس کےباوجودبھی اس وقعے کی ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی۔ پریس کانفرنس میں طلبہ نے جماعتِ اسلامی اور اس کی طلبا تنظیم پرمدثر کے اغوا کا الزام عائدکیا۔ اغوا کے 8 دن بعد مدثر زخمی حالت میں ہوسٹل کے پاس پائے گئے۔ ان کے جسم پر شدید تشدد کے نشانات بھی ہیں اور وہ بہت زیادہ سہمے ہوئے ہیں۔ اس واقعے کے بارے میں وہ کچھ بھی کہنے سے گریزاں ہیں۔
اس مجموعی صورتِ حال سے ایک بات سامنے آتی ہے کہ اس گھناونے واقعے کے پیچھے کوئی بڑی سازش کار فرما ہے جس کے محرکات سیاسی ہیں۔ تاہم یہ اپنی نوعیت کا انتہائی غیر معمولی واقعہ ہے اور ماضی قریب میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یونیورسٹی کے سیاسی ماحول کے سیاق و سباق میں یہ بات غور طلب ہے کہ حال ہی میں کُچھ عناصر یونیورسٹی کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جس میں ثقافتی سرگرمیوں کو روکنا اور مختلف طلبا تنظیموں کے عہدے داروں اور کارکُنوں کو ہراساں کرنا شامل ہے۔ گلگت کونسل اور دوسرے طلبہ گروہوں کا کہنا ہے کہ یہ تخریب پسند گروہ مذہبی تنظیموں بالخصوص جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم کا حصہ ہیں اور ان کا مقصد یونیورسٹی کے اندر گُٹھن، یکسانیت اور مُتشدد مذہبی رویوں کو ہوا دینا ہے۔
یونیرسٹی کی نمائندہ اور سرگرم طُلبا تنظیم قا ئدِ اعظم اسٹوڈنٹس فیڈریشن چھ علاقائی کونسلز بشمول پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی، گلگت اور پنجاب پہ مشتمل ہے ۔ گزشتہ کئی سالوں سے اس تنظیم نے طلبا کے بُنیادی مسائل کے حل سے لے کر غیر نصابی سرگرمیوں خصوصی طور پر یوتھ کلچرل پروگرامز (فن فیئرز) اور کلچرل ڈسپلے کے حوالے سے بہت اہم اقدار اور روایات کو فروغ دیاہے۔ جس میں طلبا نہ صرف مختلف ثقافتی سرگرمیوں جیسا کہ موسیقی، روایتی رقص اور طرزِلباس وغیرہ سے لُطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ اُن کے اندر باہمی رواداری اور برداشت جیسے جذبات بھی پروان چڑھتے ہیں۔
یونیورسٹی طلبا کا یہ ٹھوس مطالبہ ہے کہ مدثر کے اغوا کی مکمل تفتیش کر کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے اورقبل اس کے کہ ایسا کوئی واقعہ دوبارہ رونما ہو، کسی بھی تخریبی عنصر یا جماعت کو یونیورسٹی میں جڑ پکڑنے سے روکا جائے ۔

(Published in The Laaltain – May 2013)

Categories
اداریہ

Issue 9 – Laaltain

Categories
نقطۂ نظر

The Crippled ‘Malala Centre for Excellence in Gender Studies’

Ghulam Rabbani Lodhi
Haripur

campus-talks

The Malala Centre for Excellence in Gender Studies was started in 2011 at Government Postgraduate College, Haripur and a four years BS programme in the discipline of Gender Studies was launched immediately. This was the first such institution in Khyber Pakhtunkhawa which was named after the iconic Malala Yousafzai. The Centre got affiliation with Hazara University for academic degrees and around twenty five students are currently enrolled in the BS Programme.

Since its inception the Centre has been neglected by the government and the college administration. The Centre was started in a single class room without any permanent faculty. The faculty was hired on yearly basis. Although the Secretary of higher education KPK Farah Binmourya, initially took a personal interest in the successful functioning of the Centre but has not followed it up since then. It’s regrettable that the all-female staff of the Centre has not been paid salaries for more than six months due to petty bureaucratic hurdles despite many efforts by the principal of the college. It is feared that if timely intervention is not made for the release of salaries, the academic work at the Centre will be affected badly.

Earlier Ms. Jameela Gillani, (Ex-MNA, ANP) had granted Rs. 337500 out of her developmental funds for the construction of the Centre. The said amount was shifted to other projects on the instructions of the Prime Minister without giving any satisfactory reason. The decision to divert funds was taken after initial formalities had been finalized by the officials and engineers of Tehsil Municipal Administration, Haripur. The staff and students of Government Postgraduate College, Haripur have expressed deep resentment over federal government’s decision to withdraw funds for the construction of Malala Centre in the college campus.

It is demanded by students and the staff that the Centre should be given due attention and funds for the construction of a separate building should be released without any delay. The Centre is a great initiative but could go to waste if not rescued.

 

(Publish in The Laaltain – May 2013)

Categories
خصوصی

‘Civilizing’ Mission: Black Abaya Made Compulsory at Islamia University Bahawalpur

campus-talks
Islamia University Bahawalpur, the only public sector university of Bahawalpur and one of the oldest and largest in Pakistan, has recently made wearing the black abaya compulsory for its female students of MBA department. According to an official notification at the end of March, uniform was made compulsory which included abaya or black gown with black dopatta for female students. According to sources, the head of the respective department took this decision in an instant move after seeing a female student in an inappropriate dress. While head of the department was displeased with the dress of a certain student, other eye witnesses do not think that the dress in question was unusual and inappropriate as such.

Students’ reaction to this administrative move is mixed. Some favor it as a step to promote piety and morality while others see it as an excessive and regressive move to curtail basic freedoms. In any case this step must raise questions about the powers and role of administration. Is administration allowed to enforce dress code on adult students? Given the whimsical nature of the act, will such a precedent not lead to blur the line between what is justified and what is not?
IUB-notification
(Published in The Laaltin – May 2013)

Categories
خصوصی

Social Media Trends

social-media-final-feb

(Published in The Laaltain – April 2013 Issue)

Categories
نقطۂ نظر

ہمارے سیاسی کارکن

وجاہت مسعود
کسی معاشرے کا قیمتی ترین سرمایہ اس کے اہل دانش، فنکار اور سیاسی کارکن ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی رہنماؤں کی کمی نہیں اور نہ انہیں تشہیر کی ضرورت ہے۔ سو آج ذکر سیاسی کارکنوں کا ہو گا کہ ایں شکستہ بہایاں متاع قافلہ اند۔

سیاسی جماعت اقتدار میں آنے کا امکان رکھتی ہو یا نہیں، روٹی کپڑے اور حقوق کے خواب بیچتی ہو یا مذہب کی ریڑھی لگاتی ہو، سیاسی کارکن کی بنیادی پہچان یہی ہے کہ اگر نظریاتی وابستگی رکھتا ہے تو عمر بھر کارکن ہی رہے گا۔

پاکستان میں کچھ سیاسی کارکن بڑی اور کامیاب سیاسی جماعتوں کا حصہ بنتے ہیں اور کچھ چھوٹی چھوٹی گمنام اور مستقل حزب اختلاف میں رہنے والی سیاسی جماعتوں کے کارکن ہوتے ہیں۔ تاہم یہ طے ہے کہ سیاسی جماعت اقتدار میں آنے کا امکان رکھتی ہو یا نہیں، روٹی کپڑے اور حقوق کے خواب بیچتی ہو یا مذہب کی ریڑھی لگاتی ہو، سیاسی کارکن کی بنیادی پہچان یہی ہے کہ اگر نظریاتی وابستگی رکھتا ہے تو عمر بھر کارکن ہی رہے گا۔ سیاسی جماعت دائیں بازو سے تعلق رکھتی ہو یا بائیں بازو سے، قیادت کے لئے اصول پسند کارکنوں کی بجائے ان بزرجمہروں کو ترجیح دیتی ہے جو موجودہ موٴقف کے عین برعکس موٴقف اختیار کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوں اور پھر نو دریافت نقطہٴ نظر کا زوردار فکری دفاع کرنے کا ملکہ بھی رکھتے ہوں۔ جماعت اسلامی کے نواز منہاس ہوں یا کمیونسٹ پارٹی کے میاں نظام، عبیداللہ سندھی کے مقلد مولانا عبدالعزیز ہوں یا سرخ پوش تحریک کے سفید پوش جانثار، صف نعلین سے آگے نہیں جا سکتے کیونکہ مجلس ِ رہبراں اہل ہوس سے کبھی خالی نہیں ہوتی۔
قیادت کے درجے کو پہنچنے کا بنیادی معیار اصولوں کی بجائے لیڈر کی ذات سے شیفتگی ہے۔ عاشق بٹالوی کہا کرتے تھے کہ پاکستان بنتے ہی انگریز کے جملہ پائیدان مسلم لیگی ہو گئے۔ کنونشن لیگ کے دفتر میں فون کی گھنٹی بجتی تو مرحوم حنیف رامے چونگا اٹھا کر فرماتے ”صدر ایوب زندہ باد۔ جی فرمائیے…“ حنیف رامے ہی پر کیا موقوف، ایوب خان خوشامدیوں کے جذبہٴ فراواں کے اعتبار سے خوش قسمت تھے۔ کالا باغ اور منعم خاں، قدرت اللہ شہاب اور الطاف گوہر، ذوالفقار بخاری اور حفیظ جالندھری۔ بھٹو صاحب کو قبول عام ملا تو ہر قصبے کا چھٹا ہوا بدقماش اور پولیس کا ریکارڈ یافتہ پیپلز پارٹی سے تعلق کا دعویدار قرار پایا بلکہ حقیقی کارکنوں سے دو جوتے آگے بڑھ کر چیئرمین ماؤ کے افکار کا دم بھرتا نظر آیا۔ ضیاء الحق نے چشم ِ ناز نیم وا کر کے مذہب کا ناقوس بجایا تو پارسائی، پرہیز گاری نیز حب ِ اسلام کا ایسا ایسا نمونہ برآمد ہوا کہ فیض صاحب پکار اٹھے :
دلداریٴ واعظ کو ہمیں باقی ہیں ورنہ
اس شہر میں ہر رند خرابات ولی ہے

بھٹو صاحب کو قبول عام ملا تو ہر قصبے کا چھٹا ہوا بدقماش اور پولیس کا ریکارڈ یافتہ پیپلز پارٹی سے تعلق کا دعویدار قرار پایا بلکہ حقیقی کارکنوں سے دو جوتے آگے بڑھ کر چیئرمین ماؤ کے افکار کا دم بھرتا نظر آیا

میاں نواز شریف کا عہد آتے آتے سیاست میں قبضہ گروپ بھی چلے آئے تھے۔ سو انہیں بھی کسی شہر میں ”ادنیٰ کارکنوں“ کی کمی نہیں رہی۔ سیاسی کارکن عام طور سے زندگی اور فکر میں اختلافی زاویہ رکھتے تھے۔ سیاسی حرکیات کے بارے میں ان کی بصیرت گہری اور واقعاتی علم تفصیلی ہوتا تھا۔ یہ کم عمری ہی میں کسی گھاگ سیاسی کارکن کے ہتھے چڑھ جاتے تھے۔ ان کی عمر تاثر پذیر اور رسمی تعلیم کم ہوتی تھی۔ گرگِ باراں دیدہ جذبے اور سلیقے سے چھانٹے ہوئے حقائق کا ایسا دوآتشہ پلاتا کہ ان کے آدرش زندگی بھر کے لئے پختہ اور معاشی امکانات تاریک ہوجاتے تھے۔ یہ قوم پرست، عقیدہ پرست یا طبقاتی سیاست کی چھاپ لے کر اٹھتے۔ ان کی لغت بدل جاتی۔ ان کے لباس میں سیاسی علامات چلی آتیں۔ کانگریس کے کارکن کھدر پہنتے تھے۔ سندھی قوم پرست پتلون اور شرٹ پر بھی اجرک اوڑھنا نہیں بھولتا تھا۔ کامریڈ سر پر ماؤ کیپ رکھتا اور کمرے میں چے گویرا کی تصویر ٹانگتا تھا۔ بھٹو صاحب کے جیالوں کی قمیض کے کف کسی نے بند نہیں دیکھے۔

میاں نواز شریف کا عہد آتے آتے سیاست میں قبضہ گروپ بھی چلے آئے تھے۔ سو انہیں بھی کسی شہر میں ”ادنیٰ کارکنوں“ کی کمی نہیں رہی۔ سیاسی کارکن عام طور سے زندگی اور فکر میں اختلافی زاویہ رکھتے تھے۔ سیاسی حرکیات کے بارے میں ان کی بصیرت گہری اور واقعاتی علم تفصیلی ہوتا تھا۔

بساط سیاست کے ان نوواردوں کی تعلیم یا تو نامکمل رہتی یا لشٹم پشٹم امتحان پاس کرتے۔ والدین ان سے نالاں اور احباب کو گویا ہنسی ٹھٹھول کا بہانہ ہاتھ آ جاتا۔ اخبار خریدنے کے پیسے نہ ہوتے تو یہ لوگ چائے خانوں میں بیٹھ کر دیر تک اخبار چاٹتے۔ ہر خبر پر خیال آرائی اور قیافہ پیمائی کرتے۔ ٹوٹی پھوٹی سواریوں میں سفر کر کے دور دراز کے جلسوں میں پہنچتے،بھوک پیاس سہتے۔ جلسے میں ان کی کامیابی کی معراج یہ ہوتی تھی کہ مہنگی گاڑی سے اترنے والے خوشبو میں بسے سیاسی رہنما نے انہیں نام لے کر پکارا۔ ان کے بستر پر تکیہ یا چارپائی میں ادوائن بھلے نہ ہو، ان کے پاس کتابوں کا ایک ذخیرہ ضرور ہوتا تھا جس میں ان کے ترجیحی نقطہٴ نظر کی کتابیں نمایاں مقام پاتیں۔ ایوب منیر کے حجرے میں مودودی صاحب کی ’تنقیحات ‘ اور عامر ریاض کے اوطاق میں ’ریاست اور انقلاب‘ نظر آتی۔ ادھوری تعلیم، روایت سے انحراف اور طاقتوروں کی مخالفت۔ ان کا روزگار مخدوش رہتا تھا۔ ان کی ازدواجی خوشی بچوں کے سیاسی نام رکھنے تک محدود ہوتی تھی۔ پنجابی اپنے بچوں کے نام پورس اور سچل رکھتا تھا، سندھی بچی کا نام ماروی ہو تو جان لیجیے کہ باپ رسول بخش پلیجو کا حلقہ بگوش تھا۔ پشتون قوم پرست بچوں کے نام خوشحال اور پلواشے رکھتے تھے۔ سیاسی کارکن جلسے اور جلوسوں کی جان ہوتے تھے۔ یہ پولیس کے ڈنڈے کھاتے، تھانوں میں تذلیل اٹھاتے اور جیلوں میں عقوبتیں جھیلتے تھے۔ ان کی قربانیوں کا حاصل اخبار کی ذیلی سرخی میں گرفتار کارکنوں کی تعداد ہوتی تھی، گاہے ڈیڑھ سو، گاہے دو ہزار۔ اخبار کی خبر میں باپ کا چہرہ نظر آتا اور نہ گھر پر بوڑھی ماں کی آنکھ میں جھلملاتے آنسو۔ للچائی ہوئی نظروں سے موسم کے پھل تکتے بچوں کا بھی ذکر نہیں ہوتا تھا ۔یہ لوگ کہیں مل بیٹھیں تو مختلف حکومتوں میں اپنی قید و بند کا ذکر یوں کرتے ہیں جیسے قصباتی عورتیں اپنی زچگیاں گنواتی ہیں ۔کہیں بھولے بھٹکے کوئی منصب ان کے ہاتھ آ جاتا تو کائیاں اور پیشہ ور رہنما انہیں اپنی کمزوری گردانتے تھے۔ انہیں معلوم ہوتا تھا کہ کارکن آدمی ہیں اور حجت کا نفسیاتی عارضہ لاحق ہے۔ کسی بھی ناانصافی پر تھیلا اٹھا کر گھر واپس چلے جائیں گے، حکومت کو خفت اٹھانا پڑے گی۔ سمجھدار رہنما موقع ملتے ہی کارکنوں سے جان چھڑا لیتے تھے۔ کبھی ”اصل حکومت“ چلانے کے لئے ان کے سر پر ایک سخت گیر افسر بٹھا دیا جاتا تھا جو پس پردہ حقیقی فیصلے کرتا تھا۔ پاکستانی تاریخ میں سیاسی کارکنوں سے شفقت کرنے والوں میں سہروردی مرحوم کا نام بہت اوپر آتا ہے۔ بھٹو صاحب بھی کارکنوں کے بارے میں گرم جوشی کی شہرت رکھتے تھے مگر بھٹو صاحب کا کچھ ٹھیک نہیں تھا۔ خوش ہوئے تو شیخ رشید کو گود میں بٹھا لیا، عبداللہ ملک کی ٹوپی اپنے سر پر رکھ لی۔ عتاب کی رو آئی تو سیاسی کارکن کو جراب کی طرح اتار پھینکا۔ بیسویں صدی ختم ہوتے ہوتے سیاسی کارکن نامی مخلوق بھی اس ملک سے اٹھ گئی۔ سیاست سے نظریاتی زاویہ غائب ہو گیا تو کارکنوں کو کون پوچھتا۔ اب سیاست میں دولت مند لیڈر ہوتے ہیں اور اپنی اپنی دف کے پیشہ ور گماشتے۔
اٹھ گیا ناوک فگن، مارے گا دل پہ تیر کون

(Published in The Laaltain – April 2013 Issue)

Categories
نقطۂ نظر

حکومت کون بنائے گا۔۔۔؟؟

اجمل جامی

اب جبکہ انتخابات میں چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں تو سوال وہی ون ملین ڈالرکا۔۔ یعنی “حکومت کون بنائے گا؟” بھانت بھانت کی بولیاں اور “رنگ برنگے” تبصرے انتخابی مہم میں خاصی جان ڈال رہے ہیں، ورنہ اب کے بار انتخابی مہم ماسوائے پنجاب خاصی ٹھنڈی رہی ہے۔ ۔ ایک”دانشور” بابا جی سالہا سال سے مسلسل آواز لگا رہے ہیں کہ “تحقیق، کامیابی کپتان کا مقدر ٹھہر چکی”۔۔۔ دوسرے “صاحب علم” “دیوار کی اوٹ ” سے “میں تو میاں جی کی دیوانی ” کا راگ الاپتے نہیں تھک رہے۔۔ہاں۔۔ “تیر ” کی مالا جپتے لکھاری کچھ محتاط ہیں۔۔لیکن وہ کہتے ہیں نہ چور چوری سے جائے۔۔سینہ زوری سے نہ جائے۔۔ تو حصہ بقدر جثہ اب بھی دیکھا پڑھا اور سنا جا سکتا ہے۔ ۔ چند ایک لکھاری تو ایسے ہیں کہ انہوں نے قوم کو کسی انجانے عذاب سے ڈرانے کا جیسے ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے۔۔ حالانکہ ان میں سے ایک تو خود تاحال کسی “منصفی” کی تلاش میں ہیں۔۔ اور دوسرے صاحب ہمیشہ تاریخ اور مذہب کے اوراق کا حوالہ دے کر ہر حادثے کو قوم کے لیے ایک عذاب سے تعبیر کرتے تھکتے نہیں۔ ۔۔ ایسے بھی ہیں جن کو جتنا “مصالحہ” دیا جائے اس سے کہیں زیادہ “اف اف۔۔سی سی” کرتے نظر آتے ہیں۔۔ البتہ نام نہاد تجزیہ کاروں کی ٹی وی سکرینوں پر چاندی ہو گئی ہے۔۔ بچپن میں جھانکیں تو نظر آتا ہے کہ عید کے روز ہر گاما ماجھا دہی بھلے ، آلو چھولے کی دکان سجا لیتا تھا۔۔ ایسے ہی الیکشن کے ہنگام ہر “صاحب ذوق” سینئر تجزیہ کار کا روپ دھارے “معزز اورمجرد ” ہونے کی خوب اداکاری کر رہا ہے۔۔ یعنی جس بے چارے نے کبھی انتخابی حلقوں کا دورہ ہی نہیں کیا۔۔جسے گلی محلے اور براردی کی سیاست کا رتی بھر بھی علم نہیں وہ پارٹیوں کی تقدیر کا تعین ایسے کر رہا ہے جیسے وہی “بابائے سیاست یا صحافت” واقع ہوا ہے۔۔ اور پھر ایسے خواتین و حضرات کی ادائیں۔۔اس قدر “جان لیوا” کہ اف۔۔۔!! “دیکھیں جی۔۔ میں سمجھتا ہوں،، میرے خیال میں۔۔ یہ بات میں پہلے بھی کئی پروگراموں میں کہہ چکا ہوں، اور میں نے تو پہلے ہی کہ دیا تھا یہ ٹکٹ فلا ں کو ملے گی” ۔۔ اور پھر یہ سلسلہ کسی “پاپولر” شاعر کے طرح مصرع پر چلتا ہی رہتا ہے حتی کہ اینکر شکریہ ادا کرنے پر مجبور نہ ہو جائے۔۔ بہر حال۔۔ اب جب ان کی دکان لگی ہے تو لگی رہنے دیں۔۔ فقط اتنا کہنا ہے کہ اب کے بار سنجیدہ، جامع ، حقیقت کے قریب تر اور منجھے ہوئے تبصروں تجزیوں کی قلت سی محسوس ہورہی ہے۔ ۔ گو کہ چند ایک استاد اس کمی کو پورا کرنے کی بھر پور کوشش ضرور کر رہے ہیں۔ ۔۔ غالبا اصل موضوع سے دوری کا احساس اب آپ کو بھی شدت سے ہو رہا ہوگا۔۔تو لیجیے جناب۔۔ون ملین ڈالر ک سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔

تو حضور معاملہ کچھ یوں ہے کہ دائیں بازو کی جماعتوں کا آپس میں الحاق یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے ان کا ووٹ بینک تقسیم ہو چکا ہے۔۔ ووٹرز کا ٹرن آوٹ اگر بڑھتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ یقینا کپتان خان کو ہی ہوگا۔۔

تو حضور معاملہ کچھ یوں ہے کہ دائیں بازو کی جماعتوں کا آپس میں الحاق یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے ان کا ووٹ بینک تقسیم ہو چکا ہے۔۔ ووٹرز کا ٹرن آوٹ اگر بڑھتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ یقیننا کپتان خان کو ہی ہوگا۔۔ کپتان انجرڈ ہیں لیکن اس حادثے کے اخلاقی سطح پر مرتب ہونے والے اثرات بھی انہی کے ہی حق میں جاتے ہیں۔۔ بلاشبہ میاں بردران نے بھی اخلاقی طور پر خان کے زخمی ہونے پر بڑے پن کا مظاہرہ کیا اور اپنی مہم کو کچھ عرصے کے لیے روکا ۔۔ بلکہ چھوٹے میاں صاحب تو عیادت کے لیے بھی گئے تھے۔۔ پاکستان کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں ووٹ محض براردری کی بنیاد پر ڈالا جاتا ہے۔۔ مثال کے طور پر چوہدریوں کے گجرات کو ہی لے لیجیے۔۔ جاٹ، گجر اور ارائیں برادری ہی کسی بھی امیدوار کی ہار جیت کا تعین کرتی رہی ہے۔ تو ایسے علاقوں میں یقینا روایتی سیاست ہی کامیابی کا گرین سگنل دے گی۔ ۔ رہی بات پی پی پی کے تو۔۔ اب کے بار پی پی کا ہدف کچھ اور ہے۔۔ اکثریت حاصل کر لینا یقیننا اس کا مقدر نہیں۔۔ لیکن “کنگ پارٹی” کی حیثیت اختیار کرلینے پر ۔۔پی پی کے گرو سیاستدان پہلے سے ہی نظریں جما چکے ہیں۔۔ متحدہ کے ووٹ بنک کےمتاثر ہونے کی تاویلیں پیش کی جا رہی تھیں۔۔ لیکن جس منظم انداز میں متحدہ کی قیادت دلی جمعی سے اپنے مخصوص حلقوں پر گرفت جمائے بیٹھی ہے اس سے نہیں لگتا کہ متحدہ کی پوزیشن میں کوئی کمی واقع ہوگی۔۔ ق لیگ محض “شخصی” بنیادوں پر چند ایک سیٹیں کھسکسا سکتی ہے۔۔ جوڑ وہی جس کا چرچہ ہے۔۔ ن یا جنون۔۔ اور اس جوڑ کا وینو وسطی پنجاب ہے ثابت ہوگا۔۔ اسی تناظر میں مختلف سیاسی جماعتوں کی متوقع پوزیشن کے بارے ناچیز پچھلی تحریروں میں تٖفصیلا ذکر کر چکا ہے۔۔ تو لہذا اب ذرا ہم بھی “نام نہاد” یا “سو کالڈ” تبصروں میں اپنا حصہ ڈالنا پسند کریں گے۔۔ حضرت۔۔ دکھائی یوں دیتا ہے کہ کوئی بھی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہ کرپائے گی۔۔ اور اس پر تقریبا سبھی اتفاق کرتے ہیں۔۔ ماسوائے۔۔ ان بابا جی کے جن کا ذکر میں نے سب سے پہلے کیا۔۔ پی پی کل ملا کہ پچاس یا ساٹھ کے ہندسے کے آس پاس منڈلاتی نظر آتی ہے۔۔ ن لیگ سو کے آس پاس۔۔۔ اور پی ٹی آئی جس کےبارے کہا جاتا تھا کہ “ایک سو بیس یا فقط بیس” اب اس مجموعے کے “آدھ ” میں کھڑی ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔۔ معاونین میں اے این پی، ق لیگ، مولانا، جماعت اسلامی، متحدہ، اور فاٹا کے آزاد امیدوار اپنا کردار ضرور نبھائیں گے۔۔ بلوچستان کا ووٹ عموما اسی جانب رخ کرتا ہے جہاں سے حکومت بننی ہو۔۔ ہاں “مٹکا گروپ” کو نظر انداز ہر گز نہ کیجیے گا۔۔ یہ آزاد امیدواروں پر مشتمل اڑتیس افراد کا گروپ ہے۔۔ جسکا انتخابی نشان “مٹکا” ہے۔۔ اور کسی بھی صورتحال میں “مٹکا” بجانے والوں کی پانچوں گھی میں ڈوبی دیکھ رہا ہوں۔ ۔۔ تو ” ایٹ دی اینڈ آف دی ڈے ” “کنگ پارٹی” یعنی پی پی کے ساتھ یا تو میاں صاحب کو دوبارہ شیر و شکر ہونا پڑے گا۔۔ یا پھر “انقلاب” میں کچھ ہلکی سی “آئینی” ترمیم کرتے ہوئے “جمہورت” کی خدمت کرنا پڑے گی۔۔ باقی۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔

ajmal-jami(اجمل جامی۔۔ دنیا نیوز کے لیے اینکر سپیشل کورسپونڈنٹ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔۔ ملکی سیاسی منظر نامے پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔)

Twitter – @ajmaljami

Categories
اداریہ

بنیادی شہریتی تعلیم

In the backdrop of the upcoming elections Khudi and Hanns Seidel Foundation has started an awareness program on civic education to promote participatory democracy and active citizenship among youth. This small handout aimed at imparting civic awareness among young voters so that they can make informed political choices and play a dynamic role during and after the elections.۔

Categories
اداریہ

Elections 2013: What is at stake?

Rab Nawaz

Several factors make the 2013 elections historic – the first ever transfer of power from one civilian government to another, an independent election commission, the massive popularity of new political powers such as Pakistan Tehreek-e-Insaaf, the youth factor, the crucial role of traditional and social media – to name a few. As the election campaign gains momentum however, several contextual dynamics at play seem to have undermined these positive factors.

“If the violence continues, the targeted parties would certainly not be competing on a level playing field. While gusto and political antagonism is part of the election campaigning process, a line must be drawn between enmity and opposition.”

In recent days certain political parties, including the Awami National Party (ANP), Pakistan Peoples Party (PPP), and Muttahida Qaumi Movement (MQM), who together constituted the previous government, have been targeted by a spree of terrorist attacks. Hundreds of political workers, leaders and some election candidates have been brutally killed. Apart from the tragic loss itself, these events are posing some serious questions on the credibility of the elections as a whole. If the violence continues, the targeted parties would certainly not be competing on a level playing field. While gusto and political antagonism is part of the election campaigning process, a line must be drawn between enmity and opposition. Whether for tactical reasons or for the alleged sympathy factor, the TTP (who have claimed responsibility for these attacks) are not targeting other parties.

Thus the forthcoming government will not only have to face questions of credibility but will also have to tackle the plague of militancy in Pakistan. The current silence of those who should be speaking up at this time will not only be a hindrance towards tackling Talibanization but will also be recorded in history as a dark stain for the present political leaders.

The essence of the democratic process lies in bridging ideological gaps and conflicts of interest instead of emboldening them. All the political parties, their supporters and concerned citizens must take this into account. While some issues are legitimately divisive, others must stand as unifying forces, and terrorism is one of them. In the longer run, the success of the upcoming elections and the incoming government would be taken as a success of the political process, not just of any one political leader or party.

(Published in The Laaltain – April 2013 Issue)