Categories
نان فکشن

جو کچھ بیاں کیا گیا – تالیف حیدر

میں ادب کا طالب علم ہوں، لیکن کبھی اس بات پہ افسوس نہیں کرتا، ادب اور غیر ادب اس کی تقسیم ہی مجھے کبھی سمجھ میں نہیں آئی۔ ایک موٹی تقسیم سے اگر ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں کہ کسے ادب کہا جائے اور کسے نہیں تو آسانی کے لیے یہ ٹھیک ہی ہے۔ مگر میں خود کو کبھی ادب کی سرحدوں میں قید نہیں رہنے دیتا یا یوں کہیے کہ میں رہ ہی نہیں سکتا۔ میرے لیے تاریخ، مذہب اور زندگی سے متعلق ہر علم اہم ہے۔ روز کی شام کی چائے یا رات کے کھانے کے بعد کی چہل قدمی کے دوران میں مختلف مضامین پہ غور کرتا ہوں، اپنے ناقص مطالعے کی روشنی میں اس الجھی ہوئی کائنات کی گتھیوں کو سلجھانے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ آپ اس کے متعلق کیا تصور کرتے ہیں مگر میرے لیے یہ کائنات جو تقریباً میرے آس پاس بستی ہے، جسے میں دیکھ، چھو اور محسوس کر پاتا ہوں، ہزاروں، لاکھوں قسم کی حیرانیوں کا بند ڈبہ ہے، میں اس ڈبے کو کھول کر اسے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کسی ایک واقعے کو کسی ایک بات کو۔ میں جانتا ہوں کہ ابدی یا ازلی حقیقت کچھ نہیں، نتائج کی تلاش بھی بے سود ہے، لیکن اس کے باوجود میں کسی کھوج میں ہوں۔ ایسی تسکین کی جو مجھے یہ محسوس کرائے کہ میں نے اپنے حصے کی کائنات کو جاننے کی کوشش کی۔

میں نے سوال قائم کیے، اسے سمجھنے کے لیے کتابوں اور اپنے آس پاس موجود عالموں کے خیالات کو کھنگالا اور جو بھی جانا سمجھا اس سے علم کے وجود کی ا ہمیت کو اثبات عطا کیا۔ میں غور کرتا ہوں۔ وقت پہ، اشیا کی ماہئیت پہ، قدیم واقعات کی رونمائی کے اثبات پہ، انسانی رویوں پہ اور فکر کی آخری چھور پہ کھڑی سچائی پہ۔ کئی مرتبہ اس غور کا نتیجہ کچھ بھی نہیں ہوتا، مگر کئی بار انہیں میں سے مجھے نئے خیالات ملتے ہیں، ایسے جن سے میں خوش ہوتا ہوں،پر سکون ہوتا ہوں۔ اپنے فکر ی بہاو میں ایک قدم آگے بڑھنے پہ خود کو مبارک باد دیتا ہوں۔

ادب کے وجود پہ میرا غور اکثر چوطرفہ ہوتا ہے۔ یعنی میں ادب کی ماہئیت پہ غور کرتے ہوئے کائنات کے راستے پہ نکل جاتا ہوں اور کبھی اشیائے کائنات پہ غور کرتے ہوئے اس میں ادب کی جھلک دیکھنے لگتا ہوں۔ آپ کو یہ سب عجیب لگے گا، مگر میں اس فکری نہج پہ بہت سی چیزوں کے جواز پا لیتا ہوں۔ مثلاً کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہم کسی بھی قسم کے بیان کو کیوں اتنی اہمیت دیتے ہیں؟ کوئی شاعر، کوئی مورخ، کوئی ادیب یا افسانہ نگار بس ایک بات ہی تو کہتا ہے۔ جسے ہم کبھی سمجھتے ہیں اور کبھی نہیں بھی سمجھتے۔ تو کیا یہ اتنی اہم چیز ہے کہ اسے سر آنکھوں پہ رکھا جائے۔ اسے اہمیت دینے والے لوگ اہمیت دیتے ہیں، لیکن جو نہیں دیتے وہ کیوں نہیں دیتے؟ یا آپ اس طرح سے سوچنے کے قائل ہیں کہ کتابیں آخر کیا کرتی ہیں یا کسی بھی طرح کا علم جس پہ انسانیت ناز کرتی ہے اس کی اہمیت ہی کیا ہے؟ میں نے اس پہ غور کیا ہے۔ گھنٹوں، دنوں اور مہینوں۔

انسان کچھ لکھتا ہے۔ کچھ کہنا چاہتا ہے اور اپنے حصے کا جو کچھ اسے محسوس ہو تا ہے وہ کہتا بھی ہے۔ پھر وہ ایک وقت کے بعد خاموش ہو جاتا ہے اور اس دنیا سے رخصت بھی۔ اس کا کہا، لکھا، باقی رہتا ہے اور وہ نہیں ہوتا۔ ہم اسے پڑھتے، سنتے اور جانتے ہیں، اسے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کہ خیالات کتنے مختلف ہیں۔ ان کے تجربات جسے انہوں نے زندگی سے جو کچھ اچھا برا سیکھا، جو جانا یا جو دیکھا اس شکل میں بیان کیا۔ اس سے ہم آشنا ہوتے ہیں۔ اس نظر سے چیزوں کے دیکھتے ہیں جو نظریں ہمارے پاس نہیں ہیں، اس سے کبھی اکتاتے ہیں اور کبھی محظوظ ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ کرتے وقت ہم کتابوں اور لکھی ہوئی عبارتوں، سوچی ہوئی باتوں کی دنیا میں ہوتے ہیں۔ یہ جان کہ آپ کو کیسا لگے گا کہ وہ کائنات جسے کسی بھی ایک شخص نے نہایت فرصت سے تعمیر کیا ہے، جسے اس نے اپنے رنگوں سے بنایا ہے وہ بالکل آپ جیسی ہے۔ ہم اپنی جیسی کائنات کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یقیناً یہ کوئی خوشی کی بات نہیں۔ لیکن ہمیں لوگوں کے خیالات میں ایسی رنگین کائنات نظر آتی ہے، لیکن یہ اس وقت اور دلچسپ ہو جاتا ہے جب ہم اسی کائنات میں مزید مختلف رنگوں سے سجی ہوئی دنیا دیکھتے ہیں۔اس کی حیرانیوں میں کھو جا تے ہیں اور ایک نئے احساس سے دو چار ہوتے ہیں۔ میں اس احساس کو ایک نعمت سمجھتا ہوں، جو مجھے کسی بھی وجہ سے ایک نئے پن کا تازگی بخشتا ہے۔ ضروری نہیں کے آپ بھی اسی طرح سوچیں، لیکن میں نے محسوس کیا ہے کہ تصویروں، کتابوں اور نغموں سے میں ایسی بے شمار نئی تازگیوں سے دوچار ہوتا رہا ہوں۔

آج ہی شام کی بات لے لیجیےکہ آج میں نے کائنات کو سمجھنے دیکھنے اور جاننے کا ایک نیا رخ پایا۔ میں جو کل تک نہیں جانتا تھا، یا جن باتوں سے جان کر بھی انجان تھا، وہ آج کے غور و فکر سے مجھ پہ روشن ہوئیں۔ایک سادہ سی شام میں، جہاں میں اپنے روز کے دو دوستوں کے ساتھ چائے پینے گیا۔ پھر ٹہلتا ہوا ایک سنسان پتھریلے راستے پہ ایک چٹان پہ بیٹھ گیا۔ ڈوبتے سورج کو دیکھتا رہا، دوستوں کو اپنے لمحہ موجود ہ میں امنڈنے والے جذباتوں اور سوالوں سے پریشان کرتا رہا اور ایک خیال کی گہرائی میں کھو گیا کہ اشیا کی ماہئیت کا راز کس طرح وا ہو سکتا ہے۔ ادب اس معاملے میں کوئی مدد نہیں کرسکتا تھا تو فزکس کی راہ سے اسے جاننے کی کوشش کی۔ جہاں تک اپنی معلومات نے ساتھ دیا وہاں تک خود غور کیا اور پھر اپنے ماموں جو فزکس کے پرو فیسر ہیں انہیں فون ملا دیا۔ آدھے گھنٹے تک اس موضوع پہ ان سے لیکچر سنا اور اس کے بعد اس چٹان سے اٹھ کر دوبارہ اپنے کمرے پہ آ گیا۔ یہ سب بہت عام سا معمول تھا، مگر اس معمول کے دوران مجھ میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ میں نے اشیا کی ماہئیت پہ غور کرتے ہوئے، چیزوں کو جاننے اور اس پہ نظر یں مرکوز کرتے ہوئے جس خیال کو اپنے وجود میں پاوں پھیلاتا ہوا محسوس کیا وہ اس معمول میں ایک نئی بات تھی۔ کیا ہو اگر ہم یہ سمجھیں کہ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اشیا کی ماہئیت پہ غور کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

میرے ماموں جنہوں نے مجھے یہ بتایا کہ ہم ایک بنیادی حقیقت سے اشیا کو سمجھتے ہیں جو خود ہماری طے کی ہوئی ہے۔ جس کی موجودگی ایک آفاقی اصول کے تحت سچ ثابت کی جا سکتی ہے، جسے آلوں سے ناپا اور جانچا جا سکتا ہے۔ ایک ٹھوس حقیقت جو ہمیں اصل سے دور کر کے ایک اصل عطا کرتی ہے۔ میں نے سمجھا کہ یہ کوئی دہری اصل نہیں، دراصل فزکس ہمیں کائنات کے جن اصولوں سے آگاہ کرتی ہے اس میں جس تحرک کا عمل دخل ہے وہ ادب کے قاعدوں سے بہت مختلف ہیں۔ یہ بات اسی سےواضح ہو جاتی ہے کہ میں خود یہ محسوس کر پا رہا ہوں کہ خیال کی حقیقت زاویوں کی موجودگی سے تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ میں نے فزکس بھر پور نہیں پڑھی، بس اس کے چند قاعدوں کو سمجھا ہے، لیکن ادب کی دنیا میں داخل ہوتے ہی یہ قاعدے بہت عجیب و غریب انداز میں دلچسپ محسوس ہونے لگتے ہیں، انہیں دلچسپ قاعدوں کی بنیاد پہ لگتا ہے کہ کسی بھی فعل کو بیان کرنا اتنا بھی غیر اہم نہیں جتنا وہ ادب کی حد میں رہتے رہتے معلوم ہونے لگتا ہے۔ یہ بحث اس بات کی نہیں کہ آپ کچھ کامیابی سے بیان کر پا رہے ہیں یا نہیں، بلکہ اس بات کی ہے کہ بیان کی اہمیت انسانی زندگی میں کتنی زیادہ ہے۔ میں نے فزکس کے قاعدوں سے یہ ادراک حاصل کیا کہ اشیا میں مجموعی طور پر ایک لہر پائی جاتی ہے، یعنی ایک نوع کی مجموعی تحریک ہے جو کائنات کو وجود میں لا رہی ہے اور اسے مزید بڑھاتی چلی جا رہی ہے۔ اس تھیوری پہ لاکھ مباحث سہی لیکن ذرا اسے اس نظر سے دیکھنے کی کوشش کیجیے کہ اشیا کی مجموعی حالت جب تقسیم ہو کر مختلف خانوں میں بٹ جاتی ہے اور زندگی اسی کے در میان اپنے پاوں پھیلانا شروع کرتی ہے تو لہر کے اندرکتنی مختلف نوعیتوں کی لہریں وجود میں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ مثلاً کائنات کے وجود میں آنے کا سبب خواہ کچھ بھی ہو، انسان، حیوان، نباتات اور جمادات خواہ کسی وجہ سے صفحہ ہستی پہ ابھرے ہوں، لیکن اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا کے وہ ایک مجموعی حالت میں ہوتے ہوئے، ایک انفرادی کائنات کو مرتب کرنے کے مجاز ہیں۔ زندگی کی تحریک کائنات کے پھیلاو کی تحریک سے جدا صحیح لیکن اس کا ہونا ایک سچ ہے، مثلاً اگر کائنات کے پھیلاو سے کوئی مادہ ایسا وجود میں آیا ہے جس میں زندگی مفقود ہے تو وہ اس تقسیم کو اجاگر کرتی ہے کہ زندگی کا موجود ہونا کسی انعام سے کم نہیں۔ اس پہ مزید یہ کہ زندگی کا وجود ہمیں ایک ایسی تحریک بخشے جس میں ہم دیکھنے، محسوس کرنے اور اس کے بعد بیان کرنے پہ بھی قادر ہوں تو یہ اس سے بھی بڑا انعام ہے۔

آپ تصور کیجیے کہ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ اس بہتی ہوئی کائنات میں آپ ایک مٹی کا ڈھیلا، درخت کا تنا، شیر کا پنجہ یاچیزوں کا سایا بن کے بھی وجود میں آ سکتے تھے۔ کچھ ایسا بھی بن سکتے تھے جس سے آپ کے ہونے کا احساس انفرادی تو ہو، لیکن یہ اثبات کبھی مجموعی نہ ہو پائے، خواہ وہ کتنے ہی تنگ دائرے میں ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کسی کے پاوں کی دھول بھی ہو سکتے تھے یا پانی کی ایک گدلی بوند بھی۔ مگر یہ خیال کتنا تقویت بخش ہے کہ ہم اور آپ ایک انسان ہیں۔ وہ جو نہ صرف دیکھ، چھو اور محسوس کر سکتا ہے بلکہ بول بھی سکتا ہے۔ اب اس انعام کے حوالے سے انسانی وجود میں آنے والی آوازوں کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ہمیں کتنی مختلف کائنات نظر آتی ہے، جس میں ہم ایک ایسے متحرک وجود کے ساتھ پائے جاتے ہیں جہاں ہم کسی ایک زاویے سے نہیں بلکہ اپنے اطراف کو مختلف زاویوں سے دیکھ سکتے ہیں اور وہ بھی کائنات کی ہر شے کے انفراد کے ساتھ۔ سب کچھ آپ کے آس پاس ہے، مگر وہ سب آپ کے ہونے سے جڑا ہوا ہے۔ آپ اگر شمال سے جنوب کی طرف دیکھیں تو ایک دنیا دکھے اور جنوب سے شمال کی جانب دیکھیں تو دوسری۔ کائنات کا ایسا اثبات کسی فسوں سے کم نہیں اور پھر آپ اسے بیان میں لاتے ہیں تو اس کی اہمیت وقت کے بہتے ہوئے دھارے میں آکر مزید معنی خیز ہو جاتی ہے۔ میں ان تمام باتوں کو ادب کی ناگزیر حالت کے ذیل میں رکھتا ہوں۔ جس سے مجھے اس کے مطالعے یا علم کے وجود میں آتے چلے جانے کا جواز ملتا ہے۔ آپ اس سے مختلف انداز میں سوچ سکتے ہیں۔ اس سے کائنات میں کوئی تبدیلی تو نہیں آتی، بس ہم پہ کچھ باتیں اجاگر ہو جاتی ہیں کہ کچھ بھی کہنا جو آپ محسوس کر رہے ہیں وہ کتنا ضروری ہے اور علم کا بڑھتے چلے جانا بھی کس قدر ضروری ہے، اس احساس کے باوجود کے آپ کبھی کسی انتہائی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔
Image: Duy Huynh

Categories
نان فکشن

مُلا کی محراب: مری ہیچ مایہ معیشت کے اظہارِ فن کا سہارا (اسد فاطمی)

نصیرالدین صاحب سے میری ملاقاتیں تب سے ہیں جب میں لاہور میں کام کاج کرتا تھا، تنخواہ پاتا تھا اور صاف ستھرے کپڑے پہنتا تھا۔ میں نے جبھی ان سے ذکر کیا تھا کہ ہائی اسکول کے دنوں میں گرمیوں کی چھٹیاں میں گاؤں کے خوشنویس اور پینٹر کی دکان پر گزارتا تھا، وہ جلد ساز بھی تھا۔ اس شاگردی کی بدولت میں نے اپنے آبائی گھر پر موجود بیشتر کتب خود جلد کی ہیں۔ افسوس کہ میں نے سب سے خستہ کتابوں سے آغاز کیا اور میرے نوآموز ہاتھوں نے باپ دادا کی چند بہت نادر کتب پر تباہ کن شگاف اندازیاں کر ڈالیں۔
2017ء میں ٹائپوگرافی کے ایک بڑے منصوبے کا تحفہ لے کر گاؤں سے لاہور میں ایک دوست کے اسٹوڈیو پہنچا۔ وہ چند روز میرا پیٹ پالنے کے بعد اس شاہانہ مہم کی سرپرستی سے دست کش ہو گیا۔ پہلے فاقے ہوئے، پھر در بدری، لیکن میں نے رسم خط کا مطالعہ جیسے تیسے جاری رکھا۔ کچھ ہفتوں میں تن پہ پہن رکھا جوڑا اور پیروں کی جوتی ہی وہ املاک تھیں جن کی فکر میرے اور میری آوارگی کے بیچ حائل رہ گئی تھی۔ ایک دن دربار داتا صاحب لنگر کی قطار پر کھڑے خیال آیا کہ نصیرالدین صاحب کی دوکان بھی تو یہیں دربار سے ملحق بازارِ کتب میں ہے، یہ خیال آیا اور میں سر پڑے جاڑوں میں ٹھٹھر کے مر جانے سے بچ گیا۔

نصیرالدین صاحب جنہیں ان کے قبیلے میں مولَوی صَیب یا مُلا صَیب کے لقب سے پکارا جاتا ہے، لورالائی کے پشتون ہیں، کوئٹہ اور لورالائی کے مدارس میں پڑھے، کتابوں سے رومان پالا، کوئٹہ، پشاور، سکھر، شکارپور اور مشہد و تہران تک کتب فروشی کا دھندا کیا۔ گاہے اپنی دوکان سجا کر، گاہے گٹھڑی شانے پہ ڈالے گاؤں گاؤں، مکتب مکتب پھیری لگائی۔ پینتیس چالیس برس سے لاہور میں ہیں۔ یہاں ان کی دوکان عرب و عجم کی نادر ترین کتابوں اور قلمی مخطوطوں کا مخزن ہے۔ دکان کے پیچھے ایک بڑا گودام ہے، گودام کے اوپر ایک گودام ہے، کتابوں کے پُشتوں کے بیچ ایک سرنگ نما تنگ رستہ نیچے گلی کی طرف کھلنے والی ایک محرابی کھڑکی تک آتا ہے جہاں مخطوطات کی مرمت والی میز ہے اور دوسرے کونے میں اتنی جگہ خالی ہے کہ ایک آدھ بے گھر یہاں ایک پورا موسم سرما رات کی نیند کر سکتا ہے۔

میری فارسی دانی اور خوشنویسی کی صلاحیت پر پہلے سے ہی ملا صاحب نے اعتبار کیا ہوا تھا سو مجھے مخطوطے مرمت کرنے کی اجازت پانے کے لیے ان کے آگے کوئی امتحان دینے کی حاجت نہیں ہوئی۔

میں اس محرابی کھڑکی کے نیچے ایک کونے میں بچھانے کے لیے ایک کمبل کہیں سے لے آیا، دوسرے کونے میں کام والی میز تھی۔ سامنے جلد سازی کے گتے، چمڑے، چِیڑ موسلی، زنبور اور شکنجے پڑے ہیں، ایک طرف کچھ سامانِ کتابت اور قلمی نسخوں کا ایک پشتہ دھرا ہے۔ بوسیدہ اور دریدہ ٹکڑوں سے غائب متن کو متبادل مآخذوں سے ڈھونڈنا، اصل کے خط کے مطابق وہ ٹکڑا پھر سے لکھنا، اور ٹکڑے کو متعلقہ ورق سے جوڑنا، ایک بیحد دقیق کام تھا اور ملا صاحب نے مجھ سے کام کی سنجیدہ بازپرس کبھی نہ کی۔ میرا فن ابھی ناقص تھا، میں سستے بازاری قلم اور رنگوں سے کوئی تصویر یا متن مرمت کر کے ندامت آمیز سے انداز میں مُلا کی طرف بڑھاتا کہ سوا تین صدیاں پرانے نسخے کا ساڑھے ستیاناس ہو گیا، لیکن ملا صاحب ہلکا سا چیں بجبیں ہو کر ساتھ ہی ایک تسلی آمیز ہنسی کے ساتھ کہتے؛ بالکل پَسکِلاس ہو گیا ہے، بالکل ٹھیک ہے۔
میرے کام سے ابھی دوکان کو کچھ خاص منفعت نہیں ملی تھی سو میں نے مُلا سے کبھی اجرت کا مطالبہ نہیں کیا۔ دربار مارکیٹ سے آگے ایک گلی چھوڑ کر پُلاؤ کی دیگیں بٹتی ہیں، سگریٹ کا برانڈ میرا اور مُلا کا ایک ہی ہے، سو وہ میں مُلا کی جیب سے خود نکال لیتا تھا۔ دھندے کا حال یہ ہے کہ مُلا کو دوکان سے زیادہ دیوان سجانے میں دلچسپی ہے۔ دن بھر دوکان میں مدارس کے طلبہ اور برادری کے قبائلی آئے رہتے ہیں، قہوہ چلتا ہے اور مُلا کے قہقہے اوپری منزل تک سنائی دیتے ہیں۔ قہوہ بنانے اور چائے لانے کا کام مُلا کے بیٹے کا تھا، میں آیا تو یہ ذمہ میں نے لیا اور اس نوجوان کو اسکول اور کھیل کود کے لیے کچھ فراغ مل گیا۔ چائے قہوہ سنبھالنے کے بعد اکثر شام پڑے ملا صاحب ایک آدھ لال نوٹ میری جیب میں بھی اڑسنے لگے۔

تب تک حافظ چائے والا مجھے پہچاننے لگا تھا، دوسری دکانوں پہ کام کرنے والے کمسن گلی سے گزرتے ہوئے میری طرف ہنس کے گیند اچھالنے لگ گئے تھے اور میں ایک بار پھر اوپر کام کی میز کی نسبت گلی اور دیوان کی سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی لینے لگا۔ ملا صاحب نے کہا کہ یہ میرے رشتے دار افغانستان سے آئے ہیں، ولایت جوزجان میں کھیتی باڑی ہے، اردو پنجابی سے ناآشنا ہیں، تم دری جانتے ہو، بڑے میاں کو اسپتال لے جاؤ، جوان کو شہر گھماؤ۔ ایسے موقعوں پر رات دس بجے سے پہلے دکان پر لوٹنا بیوقوفی ہے، آوارگی کی آوارگی اور کام سے بھی غیر حاضر نہیں۔ پیچھے مُلا کی بیٹھک بھی چل رہی ہے۔ فقہی بحثوں میں انہیں ایک دو بار “پقہِ شاپعی” سے استناد کرتے دیکھا گیا ہے، لیکن عام طور پر وہ رندِ ہر مشرب اور مردِ آزادہ روح ہیں۔ قبائلیوں کی گپیں، کتاب چوروں اور نوادر کے چور بازاروں کے قصے، مسجد و منبر کے شگوفے، اپنی جوانی کی مہم جوئیاں۔۔۔ ملا کی بیٹھک میں کوئی ایک آدھ موضوع نہیں چلتا۔

یہاں کام کے دنوں میں قلاشی کے باوجود کئی نایاب عشرتیں ایک جگہ میسر تھیں۔ نیچے میلہ رام کی گلی میں شہرِ لاہور سے مخصوص ایک متین سی رونق تھی، گودام کی بلدار سیڑھی چڑھ کے محرابی کھڑکی تک آتے آتے کابل و شیراز کی مہک دماغ تک آ جاتی۔ یہاں اوپر سب کام بِن کہے، اپنی مرضی کا تھا۔ کئی دن تو جھاڑ پھونک کرتا رہا، مخطوطوں کے پشتے از سرِ نو مرتب کیے، خالی کاغذ، لین دین کی یادداشتیں، طالبان عہد کے جنگجو کمانڈروں کے پراپیگنڈا اسٹیکر اور ب بندوق پ پستول کے قاعدے، انقلابِ ثور اور انقلابِ خمینی کے زمزمے اور پمفلٹ، حافظ و سعدی کی شاعری کے مصور پرنٹ، قمری و شمسی کیلنڈروں کے ٹکڑے، سیلف ہیلپ کتابچے، ادعیہ پنجسورے، چرمی گردپوش، سوئیاں دھاگے، کیل کانٹے، وزٹنگ کارڈ، کاروباری رقعے سب الگ الگ خانوں میں رکھے۔ اپنے کمبل سے ملحق الماری میں اپنے ذوق اور کام کی کتب اپنے ہاتھ کی دوری پر سجائیں۔ جھاڑو، پوچی، قرنوں کی دھول۔۔۔ نیچے دکان میں قرون وسطیٰ کے پیتل کے کُرّوں اور اصطرلابوں سے کھیلتے ہوئے گمان گزرتا کہ میں خود بھی انہی نوادر میں سے ایک ہوں۔ کبھی شام کو دربار کی دیوار سے لگ کے قوالی سن لی، کبھی راوی ٹاپ کر کامران کی بارہ دری والے کنارے بیٹھ کے رات گئے تک بلند آواز میں بے سُرے راگ الاپتا۔ رات کو بے سروسامان سی میز پہ شرحِ کریما کا مرمت ناپذیر مجروح نسخہ سامنے رکھ کے شیخ ابنِ مقلہ کے بریدہ ہاتھوں کو یاد کر کے نکوٹین آلود آہیں بھرتا۔

اگلے سال کی پہلی صبح آنکھ کھلی تو خود کو اسلام آباد کی سڑکوں پر بے دست و پا حالت میں مجہول سے خلاؤں کی طرف تاکتا ہوا پایا۔ شرحِ کریما کا نسخہ مرمت نہیں ہو سکا۔ نئے شہر میں پرانے دوستوں کو ڈھونڈیے۔ نہانے کو گرم پانی کی فکر کیجیے، ماں باپ نے اپنے حصے کا رو پیٹ لیا، اگر خان و خویش میں کوئی اور پوچھے کہ سال بھر کہاں گم رہے تو کیا کہیے۔

اگر جنون کو ایک عارضہ مان لیا جائے تو میں کہوں گا کہ یہ متعدی مرض ہے۔ ایک سرسری راہگیر اس چھوت کے اثر سے محفوظ ہے کہ اس کے لیے آوارہ پاگل محض متاعِ عبرت ہیں۔ دن دیہاڑے کربلا گامے شاہ کے صدر دروازے کے آگے ہگتی ہوئی بُڑھیا، کچہری روڈ کے فٹ پاتھ پر ننگ دھڑنگ لیٹ کے اَگواڑے کو دھوپ لگواتا ادھیڑ عمر شخص، کَسی ہوئی لال پتلون پہنے شور مچانے اور دیواروں پہ فلائنگ کِکیں مارتے رہنے والا ٹوٹل کریزی لڑکا، جنہیں ان کی بوالعجبی کے باوجود کوئی راہگیر پلٹ کر نہیں دیکھتا، ان کے پاس جا کر ان سے بات کریں تو ان میں بیشتر موسم کی خنکی یا ٹریفک حادثوں کی ہولناکی وغیرہ جیسے کسی موضوع پر کسی بھی دوسرے شخص کی سی ہوشمندی سے بات کر سکتے ہیں۔ وہ ایک بے مہر اور غیر روادار سماج میں ایک ناقابل اعتبار سی سماجی قبولیت کو قربان کر کے اس کے عوض اپنی انفرادیت کے اظہار کا بسیط اجازہ حاصل کر چکنے والے چالاک ترین لوگ ہیں۔

میرے ایک متوسط زندگی کے خط سے نیچے چلے جانے کی ایک سادہ تر وجہ بے سروسامانی کا جبر ضرور تھی، لیکن ایک محرک ایک بزعم خود تخلیق کار کا خالی پن بھی تھا۔ میں ساز و سامان کی دیکھ بھال کرتے رہنے والی بودوباش کے آگے جتنا مزاحم ہوتا گیا، لاشعور میں رواں ایک ماجرائے خام کے آگے میری مزاحمت، خود سپردگی میں بدلتی چلی گئی۔ ان ایام میں حرف، رنگ، صوت، ساخت، روشنی، جنبش، ادا اور علامت کے وہ پارے میرے افعال اور حسیات کے ہمسفر تھے، جنہیں روزمرہ بامعنی ابلاغ کے لیے ہم کسی ذخیرے میں شمار نہیں کرتے۔ میں شہر کے در و دیوار، کوچہ و بازار اور ان میں متحرک زندگی سے مہینوں تک مسلسل خاموش مکالمے میں رہا۔ یہ مکمل خبط تھا، لیکن اس تسلسل میں گاہے کچھ ایسی پرماجرا واردات ضرور آ جاتی جس کی یاد مجھے اب بھی بضد رکھتی ہے کہ اس کی ممکنہ تاویل، ہوش و خرد کی سکہ بند دنیا میں مجھ پر سے دیوانگی کی تہمت کو دھو سکتی ہے۔ میں نے گذرگاہوں اور عمارتوں کی زبان سمجھنے کی سعی کی۔ میں نے صبح فٹ پاتھوں سے جاگ کر، اونچے گھڑیال کے اشارے پر رٹے رٹائے رستوں پہ خیراتی لنگروں تک پہنچتے انسانوں، راوی کے پل اور نہر والی سڑک پہ صدقے کا تیار شدہ گوشت اٹھانے کے لیے شہر بھر کے آسمان پر سیاروی دائروں میں اڑتی چیلوں، اور اپنے اپنے مدار کے گرد گھومنے والے آوارہ کتوں اور بلیوں کی الگ الگ گردشوں کے بیچ کے موہوم سے باہمی آہنگ کو ایک سنجیدہ مشاہدے کا موضوع سمجھا۔ اور میں نے زندگانِ شہر پر اعتماد کیا کہ میں اپنی دقیق اور نازک و شکستنی فنی مشقتیں عام رسائی کے کسی کونے کھدرے میں سجا دوں گا تو دستِ تخریب سے پہلے چشمِ بینا اس تک پہنچے گی۔

پنجاب پبلک لائبریری میں گزارے دنوں اور جیل روڈ، ٹکسالی اور یادگار چوک کے قرب و جوار میں گزاری گئی راتوں کے دوران کاغذوں کے کچھ ٹکڑے جو میں یہاں وہاں دابتا رہا تھا، ان میں سے جو کچھ سمیٹ سکا، مُلا کی محراب تک لے آیا۔ سال بھر بعد اب آ کر بچے کھچے پرزے وہاں سے سمیٹنے کی نوبت ہوئی ہے اور محراب پر یہ نشان چھوڑے جاتا ہوں۔ عمومی سماجی توقعات اور متوسط حضری معیار زندگی کے آگے سرِ تسلیم کو مقدور بھر خم کر چکنے کے بعد بھی، اپنے ظاہر کو تباہ و برباد کر لینے کے دنوں کی یاد کبھی کبھار پلٹ کے دیکھتے رہنے پر اکساتی ہے۔ ایسی کسی بھی ممکنہ بازدید کے لیے مُلا کی محراب میرے تئیں ایک حوالے کا نقطہ ہے۔


محراب کا شعر:
فَوَقَف٘تُ أسئلُهَا وَ کَی٘فَ سَوالُنا
صُمّاً خَوَالِدَ ما یَبِی٘نُ کَلامُهَا
«لبید بن ربیعہ»
سبع المعلقات کا چوتھا قصیدہ۔ لبید کئی مدتوں کے بعد منیٰ کی بستی سے گزرتا ہے، اور غول اور رجام کے علاقے، جہاں کبھی اس کی محبوبہ آباد تھی، اب ویرانوں میں بدل چکے ہیں؛
“میں وہاں ٹھہر گیا کہ کچھ پتہ پوچھوں۔ پر ان ٹھوس اینٹ پتھروں سے کیا پوچھنا، جن کی بات کچھ پلے نہیں پڑتی۔”
Image: Asad Fatemi

Categories
نان فکشن

گھنٹی کا انشائیہ

یہ سمجھنا ذرا مشکل ہے، مگر مجھے اپنی زندگی میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ عزیز ہے تو وہ میرے موبائل فون کی گھنٹی ہے۔ حالاں کہ اس میں گھنٹی جیسا کچھ نہیں، کیوں کہ وہ تو عرصہ دراز پہلے ختم ہوچکی، اب کبھی کسی کسی پرانی ہندی یا انگریزی فلم میں سنائی دے جاتی ہے۔ میں نے اپنے موبائل پر کوئی خاص رنگ بھی سیٹ نہیں کی ہے، میں اسے ضروری نہیں سمجھتا ۔ مگر جب کبھی وہ بجتا ہے تو میرے بدن میں زندگی کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی موبائل کے اس پار کھڑا ہو کر مجھے یاد کر رہا ہے اور اس شدت سے یاد کر رہا ہے کہ اس کی خواہش ہے کہ میں اس سے ہم آہنگ ہو جاوں۔ ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے، مثلاً آج سے تقریبا دس برس پہلے جب میں نے ایک چھوٹا سا ٹاٹا انڈیکوم کا سیکینڈ ہینڈ موبائل خریدا تھا اس وقت بھی مجھے اپنے موبائل کی گھنٹی سے ایسا ہی عشق تھا۔ حالاں کہ اس وقت بہت کم لوگ مجھے فون کیا کرتے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ لوگوں کہ پاس موبائل فون ہی نہیں ہوا کرتے تھے ۔میں اس وقت کپڑے کی دکان چالنے والے اپنے ایک دوست کے ساتھ کام کرتا تھا ۔لہذامیں نے کسی نہ کسی طرح پیسے جوڑ جاڑ کر ایک سیکینڈ ہینڈ موبائل خرید لیا تھا۔پھر اس چھوٹے سے موبائل کی گھنٹیوں کی مختلف آوازوں کو سنا اور ایک بہت ہی بے ہنگم سی آواز کو سیٹ کر دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آواز بے ہنگم ہونے کے ساتھ ساتھ ذرا لاوڈ تھی۔جس سے میرےفون کے بجنے پر میرے اطراف کے لوگوں کو یہ معلوم ہو جاتا تھا کہ میرے پاس موبائل ہے اور مجھے فخر محسوس ہوتا تھا۔ وہ چھوٹا سا فون تھا ۔ مگر میں اسے گھنٹو ں دیکھتا تھا۔ کام کے دوران بھی جب میں کسی کپڑے کو لپیٹ رہا ہوتا اور کاروباری ڈسک پر بچھارہا ہوتا تو میری ایک آنکھ اس دیسک کے نیچے رکھے ہوئے موبائل پر لگی رہتی تھی، پھر جب اچانک اس کی لائٹ جلتی تو میں سمجھ جاتا کہ کسی کا فون آ رہا ہے اور میرے بدن میں خوشی کی ایک لہر دوڑ جاتی تھی۔اس کے باوجود میں اس وقت تک فون نہ اٹھاتا جب تک اس کی گھنٹی نہ بج جاتی۔ اس گھنٹی کے بجنے سے مجھے فون کے ہونے اور اپنے ہونے کا بھرپور احساس ہوتا تھا اور آج بھی ہوتا ہے۔ میں ہمیشہ اس بات پر حیران رہتا ہوں کہ لوگ اپنا فون سائلنٹ پہ کیسے رکھ لیتے ہیں ۔ان کی جیبوں میں پڑا ہوا ان کا فون خاموشی سے جلتا بجھتا رہتا ہے اور انہیں اس بات کی خبر ہی نہیں ہوتی۔ ایسے لوگوں کو میں بے حس تصور کرتا ہوں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں نے اپنا پہلا اسمارٹ فون حاصل کیا تھا ،جی ہا ں خریدا نہیں تھا بلکہ حاصل کیا تھا ، کیوں کہ جس وقت وہ مجھے ملا میں ایک اسمارٹ فون کی کمپنی میں نوکر تھا اور اس کمپنی نے مجھے اپنے موبائل کے فیچر سمجھنے کے لیے ایک عدد فون ہی دے دیا تھا۔ یہ بات بھی آج سے تقریبا آٹھ برس قبل کی ہے ، جب مجھے اس کمپنی کے ذمہ داران کی حماقت پر بہت ہنسی آئی تھی ۔ اس ہنسی میں ایک نوع کی خوشی بھی شامل تھی کہ میں ایک عدد اسمارٹ فون کا مالک بن گیا تھا۔ حالاں کہ میں اس موبائل کو لیے بنا بھی اس کے فیچر سمجھ سکتا تھا، مگر شائد اس بار قسمت ہی کچھ مہربان تھی۔ خیر اس اسمارٹ فون میں میں نے پہلی بار بے شمار گھنٹیوں کی آوازیں سنی تھیں۔اتنی گھنٹیوں کو ایک ساتھ دیکھا تو خوشی کے مارے میری آنکھ بھر آئی ۔ کون ہوگا جو اتنی گھنٹیا بنا لیتا ہوگا۔میں نے گھنٹوں اپنی ان گھنٹیوں کو سنا۔ ایک کے بعد ایک کئیوں کو سننے کے بعد ایک شاندار اور تیز آواز والی گھنٹی کو اپنے موبائل پر سیٹ کیا اور اگلے فون کا انتظار کرنے لگا۔ مجھے اپنے پہلے اسمارٹ فون کی گھنٹی سے پہلی مرتبہ اس بات کا ادراک حاصل ہوتھا کہ گھنٹیوں کی آواز میں بھی اسمارٹنس اور غیر اسمارٹنس پائی جاتی ہے، کیوں کہ جب پہلی مرتبہ میرے اسمارٹ فون پر کسی شخص کا کال آیا اور اس کی گھنٹی بجی تو میں نے اپنے ان تمام موبائل فونز کے بالمقابل جو اب تک میرے پاس رہ چکے تھے اس فون کی گھنٹی میں ایک نوع کی ملائمیت محسوس کی ۔ یہ گھنٹی تیز تھی مگر اس طرح میرے اور میرے اطراف میں پائے جانے والے لوگوں کے کانوں میں چبھتی نہیں تھی جس طرح میرے چھوٹے موبائل فونز کی گھنٹی چبھا کرتی تھیں۔ حالاں کہ مجھے اس چبھن سے ایک نوع کا عشق ہو چلا تھا ، لیکن میرے اطراف میں پائے جانے والے لوگ ہمیشہ اس گھنٹی کو ایک اوبی ہوئی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ میں ان کے اس انداز سے بھی محظوظ ہی ہوتا تھا، کیوں کہ اس سے مجھے ان کے پاس موبائل کے نہ موجود ہونے کا احساس ہوتا تھا۔ اپنی نئی گھنٹیوں سے میں ذرا دیر میں مانوس ہوا مگر جب میرا ان سے ایک رشتہ بن گیا تب مجھے ان دوسرے چھوٹے موبائل فونز کی گھنٹیاں غیر ثقافتی محسوس ہونے لگیں۔ جن پر کبھی میں فریفتہ تھا۔ اب میں ان سے الگ ہی رہنا پسند کرتا تھا اور ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ اسمارٹ فون کی گھنٹی پر میں نے کبھی کوئی گانا لگانا پسند نہیں کیا، کیوں کہ مجھے اس سے اپنے موبائل کی شناخت خطرے میں پڑتی محسوس ہوتی تھی۔ مجھے گانا صرف گانے والے مقامات اور اس سے مخصوص آلوں پر ہی درست معلوم ہوتاہے ۔ اپنی گھنٹیوں میں اس کو شامل کرنا میں گھنٹیوں کی توہین سمجھتا ہوں ۔

میرےپاس اب بھی ایک اسمارٹ فون ہے اور اس پر ایک نہایت ہی دل آویز گھنٹی لگی ہوئی ہے۔ جس کے بجنے سے ایک انجانی قوت میرے جسم میں تیر جاتی ہے۔ میں نے اپنی گھنٹیوں سے ایک ایسا تعلق بنایا ہے کہ جب کبھی میرا موبائل بجتا ہے تو میرے قدم خود بہ خود اس کی طرف اٹھتے چلے جاتے ہیں ۔ خواہ موبائل کتنا ہی دور اور نزدیک کیوں نہ ہو، میں کبھی اپنے بجتے ہوئے فون کی گھنٹی بند نہیں کرتا ، بلکہ فون اٹھا لینے کی صورت میں جب اس کی آواز اچانک رک جاتی ہے تو مجھے ایک طرح کی بے چینی محسوس ہوتی ہے یا یوں کہوں کہ اس سے میرا وہ سکون جاتا رہتا ہے جو گھنٹی کے شور سے پیدا ہوتا ہے۔ مجھے اپنے بجتے ہوئے فون کے قریب جانا بہت پسند ہے۔ اس لیے میں اسے زیادہ تر خود سے دور ہی رکھتا ہوں ۔ پھر جب فون بجتا ہے تو میں چونک کر اٹھتا ہوں ایک پر کیف عالم میں آہستہ آہستہ اس کی جانب بڑھتا ہوں ۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ باتھ روم سے نکلتے نکلتے یا کچن سے کمرے تک آتے آتے فون کی گھنٹی بجتے بجتے بند ہو جاتی ہے اور مجھ پر اضطراب تاری ہو جاتا ہے۔ ایسے عالم میں میں فون کرنے والے کی بے صبری کو لعن تعن کرتا ہوں کہ دوو چار گھنٹیوں میں ہی اس نے صبر کا دامن ہاتھ سے جانے دیا۔ ایسے لوگوں کو غصے کے عالم میں میں پلٹ کر فون نہیں کرتا۔ مگر ایک مختلف نوع کی جمالیات مجھے کسی بھی شخص کو فون کرنے پر اکساتی رہتی ہے اور وہ کوئی اور شئے نہیں، بلکہ موبائل کے اسپیکر سے چھن کے آنے والی وہ تھر تھراتی ہوئی گھنٹی کی آواز ہی ہے جو رک رک کر بجتی ہے۔ مجھے اس آواز میں قیامت کے گہرے آثار نظر آتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ کسی کو یہ بھی عجیب لگے لیکن جب جب میں اس تھر تھراتی ہوئی غیر مترنم گھنٹی کو سنتا ہوں تو یوں لگتا ہے کہ موت کا فرشتہ بہت آہستگی سے میری جانب بڑھ رہا ہے۔ وہ ہر دو قدم کے بعد رک جاتا ہے اور پھر میری طرف بڑھتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سامنے والے کے فون اٹھاتے ہی میرا یہ تصور ہوا ہوجاتا ہے۔ مجھے اپنے فون کی گھنٹی کے ساتھ ساتھ میسج اور ای –میل اور فیس بک یا واٹ سپ نوٹی فیکشن کی باریک اور گردن پر ہاتھ پھیرتی چھوٹی گھنٹیاں بھی بڑی بھلی معلوم ہوتی ہیں ۔ اکثر تو میں رات بھر میں کئی بار صرف ان گھنٹیوں کو سننے کے لیے اپنا انٹر نیٹ ڈاٹا بند نہیں کرتا یا وائی فائی آن رہنے دیتا ہوں۔ کئی کئی دنوں تک جب میرے موبائل پر کوئی فون نہیں کرتا تو میں انہیں چھوٹی موٹی گھنٹیوں کے سہارے اپنا کام چلاتا رہتا ہوں ۔ پھر جن دنو ں کئی فون آتے ہیں تو ان گھنٹیوں کو وقت دینے کے لیے اپنے فیس بک پر کچھ لکھ کر لگا دیتا ہوں تاکہ اس کی نوٹیفیکیشن سے میرا اور ان گھنٹیوں کا رشتہ ہموار رہے۔ میں ایک دن میں کئی کئی بار اپنے موبائل فون کو صرف انہیں گھنٹیوں کی وجہ سے اپنی جیب سے نکالتا ہوں ، ان کو بجتا ہوا سنتا ہوں اور پھر جیب میں رکھ دیتا ہوں اور ہمیشہ ان موبائل کمپنیوں کو دعا دیتا ہوں جنہوں نے فون کی موجودہ حالت کو متحرک بنانے کے لیے ان میں ان مختلف المزاج گھنٹیوں کو شامل کیا۔ مجھے وہ لوگ بہت ہی مردہ اور بے جان محسوس ہوتے ہیں جو ان گھنٹیوں سے بچنے کے لیے اپنا فون سائلنٹ پر رکھتے ہیں ، اللہ جانے انہیں کس طرح اس عمل سے گزرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ میں تو اپنا فون کسی بھی حال میں خاموش نہیں کرتا ، پھر خواہ وہ کوئی محفل مشاعرہ ہو، رقص ہو، سنیما ہو یا سیمینار، کیوں کہ مجھے اپنی یہ گھنٹیا دنیا کے کسی بھی ثقافتی عمل سے ہزار گنا زیادہ عزیز ہیں ۔

Categories
نان فکشن

میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں

ابھی بس ذہن میں ایک موہوم سا خاکہ ہے کہ مجھے کچھ لکھنا ہے۔ کیا؟ اس کا علم نہیں اور جہاں تک میں اپنے لکھنے کے مزاج سے واقف ہوں مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ابھی بہت دیر تک مجھ پر یہ واضح نہیں ہو پائے گا کہ میں آخر کیا لکھنا چاہتا ہوں ۔ یہ کون سی تحریک ہے جو مجھے اندر سے بار بار کچوکا لگاتی ہے کہ کچھ لکھو۔ ایسا ہر وقت تو نہیں مگر ہر اس وقت ہوتا ہے جب میں سنجیدگی سے کچھ پڑھنے بیٹھتا ہوں یا ان اوقات میں بھی جب میں تنہا ایک کونے میں پڑا اپنے پرانے احباب اور اطراف اور محبوباوں کے بارے میں سوچا کرتا ہوں۔ کچھ لکھنے کا عمل میرے لیے بہت زیادہ لطف اندوز ہوتا ہے ایسا کہ مجھے اس میں وصل کی سی لذت محسوس ہوتی ہے۔ جن لوگوں نے وصل کا مزا نہیں چکھا ہے وہ اس سوندھی خوشبو کے سونگھنے سے بھی اس لذت کے متعلق جان سکتے ہیں جو کچی مٹی پر پانی کے پڑنے سے اٹھتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کچھ زیادہ الجھی ہوئی تعبیر ہو لیکن مجھے اس وقت اس سے بہتر تعبیر یاد نہیں آتی۔ کچھ لکھنے سے مجھے ایک قسم کی تقویت ملتی ہے، خواہ وہ کچھ بھی ہو۔ اب اس کے معنی یہ نہیں کہ میں کسی دکان دار کا کھاتا لکھنے میں بھی تقویت ہی محسوس کروں گا۔ میری مراد کچھ ایسا لکھنے سے ہے جو میرے ماضی، میرے تعلیمی رشتے یا روحانی تجربے سے جڑا ہو ۔کسی پر تنقید یا تحقیق لکھنے میں بھی مجھے کچھ خاص لطف نہیں آتا۔ مگر میں یہ بھی ٹھیک ٹھیک نہیں بتا سکتا کہ کیا کیا لکھنا مجھے پسند ہے ۔ میرے ذہن میں ہزاروں چیزیں چلتی ہیں ، ہر وقت اور میں ان میں سے اپنے مضامین یا اپنے لکھنے کے موضوعات کو چنتا رہتا ہوں۔ بہت سے موضوعات میرے ذہن سے مہینوں چمٹے رہتے ہیں مگر میں ان پر نہیں لکھ پاتا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میں خود کو ان موضوعات کے قابل جان کر بھی ان پر لکھنے سے گریز کرتا رہتا ہوں یا پھر یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ لکھنے کے عین وقت وہ موضوعات خود مجھ سے کہیں دور چلے جاتے ہیں ۔جن موضوعات سے مجھے عشق ہے میں ان پر بھی نہیں لکھ پاتا۔ میں لکھنے کے لیے اکثر خود کو تیار رکھتا ہوں اور کچھ لکھنے کی خواہش میں ان موضوعات تک پہ لکھ جاتا ہوں جو میری دانست میں ابھی لکھے جانے کے لیے مزید وقت چاہتے تھے۔ مگر میں ان سے لکھنے کے دوران ایسے چمٹا رہتا ہوں جیسے میں ان کے ساتھ وصل کی حالت میں ہوں۔ لکھنا میرے لیے ایک طرح کی غذا ہے اور میں اس کو اپنے لیے ناگزیر تصور کرتا ہوں حالاں کہ مجھے اپنے اطراف میں کئی لوگ ایسے نظر آتے ہیں جو مجھ سے بہتر لکھتے ہیں یا مجھ سے بہتر لکھنے کے متعلق جانتے ہیں مگر لکھتے وقت میں اپنے ان تمام احباب سے نہ خائف ہوتا ہوں اور نہ ان سے کسی اثر کے قبول کرنے کا خواہش مند۔ میں اپنے ذہن پر لکھنے کے اوقات میں بس ایک روحانی اثر محسوس کرتا ہوں اور اس کے زیر اثر لکھتا چلا جاتا ہوں۔

ادھوری تحریر لکھنا میرا محبوب مشغلہ ہے میں جتنا لکھتا ہوں یا پھر یہ کہوں کہ جتنا لکھے کو ایک مکمل صورت عطا کرپاتا ہوں اس سے پچاس گنا زیادہ میں ایسی ادھوری تحریریں لکھتا ہوں جن میں نہ میرا کوئی واضح موقف ہوتا ہے اور نہ داخلی اظہار۔ ان تحریروں کو میں لکھ کر کاٹتا نہیں بلکہ ایک خالی بکس میں بند کر دیتا ہوں۔ یہ خالی بکس میری ہزاروں نا مکمل تحریروں سے بھرا ہوا ہے جو مجھے مکمل تحریروں کے بالمقابل زیادہ لطف عطا کرتی ہیں۔ لکھنے کی خواہش میں میں اکثر موضوعات کا تعین کیے بنا ہی لکھنے بیٹھ جاتا ہوں اور اکثر ایسی تحریریں بھی لکھ کر اٹھتا ہوں جو بلا سر ،پیر مکمل تحریر ہونے کا دعوی کرتی ہیں ۔ میں اپنے لکھنے سے کبھی بیزار نہیں ہوتا بلکہ اس کو میں اپنے لیے ایک قسم کا طلسم تصور کرتا ہوں جس کے کونوں میں میری روح کے ٹکڑے بکھرے ہوتے ہیں ۔ جب جب میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں تو میرے اندر سے ایک قسم کا اضمحلال جنم لیتا ہے ، ایسا کہ جس سے مجھے مسرت محسوس ہوتی ہے اور جب میں لکھنے کی شروعات کرتا ہوں تو دھیرے دھیرے میرا اضمحلال ایک قسم کی تازگی میں تبدیل ہونے لگتا ہے اور جب مجھے اپنے لکھنے کے عمل سے اکتاہٹ یا بیزاری محسوس ہونے لگتی ہے یا میں کسی تحریر کو مکمل کر لیتا ہوں تو میں لکھنا فوری طور پر بند کر دیتا ہوں ۔ لکھنا میری ذات کا اسم اعظم ہے جس سے میں اپنا ادراک حاصل کرتا ہوں ۔ مجھے جب تک لکھنے کے عمل سے عشق نہیں ہوا تھا میں پڑھنے کے متعلق اسی قسم کے سحر میں گرفتار تھا مگر جب سے لکھنے کی عادت نے میرے بدن میں پیر پھیلائے ہیں میں لکھنے کو پڑھنے کی اگلی منزل سے تعبیر کرنے لگا ہوں۔

میں ہزاروں موضوعات پر لکھنا چاہتا ہوں ایسے موضوعات جو میرے ذہن کی سرنگوں میں کلبلا رہے ہیں، جن میں لاکھوں طرح کی رنگ برنگی روشن لکیریں ہیں ،جس میں سورج کے مانند حرارت ہے اور خواب کے مانند سحر انگیزی ۔ ایسے موضوعات مجھے مستقل اپنی جانب بلاتے ہیں اور میرے ذریعے صفحہ قرطاس پر بکھرنے کو بے چین رہتے ہیں ۔ لکھنا میرے لیے الہام نہیں نہ یہ کوئی وحی کی طرح کا غائب نکتہ ہے ،بلکہ لکھنا مجھے اپنے حق میں زندگی سے معمور اور حقیقتوں سے آشنا نظر آتا ہے ۔ اس لیے میں لکھنے کے عمل کو ایک رنگین خواب کا عمل سمجھتا ہوں جس میں تعبیر کی ایسی گنجائشیں پائی جاتی ہیں جو ہماری زندگیوں کو راست طور پر متاثر کرتی ہیں ۔ لکھنے کے عمل سے گزرنے سے پہلے جب مجھ میں موضوعات کا وفور ہوتا ہے تو مجھے لکھنا اپنی محتاجی معلوم ہونے لگتا ہے ۔ ایسا کچھ کہ کوئی نوائے سروش ہے جو صریر خامہ کی جانب مجھے کھینچے لیے جا رہی ہے ۔ لکھتے وقت میں خود کو ایک انجان سی طاقت میں گھرا ہوا پاتا ہوں اس لیے بعض اوقات یوں لگتا ہے کہ میرا لکھا میرا اپنا نہیں بلکہ ایک غیرمرئی قوت کا اظہار ہے۔ مجھے لکھنے کے لیے زبان کا تصنع اور اظہار کی باریکیوں کا سراغ لگانا بھی ضروری معلوم نہیں ہوتا بلکہ سلیس اور سادہ طرز اور اسلوب جس میں اپنے باطن کا عکس اتر آئے زیادہ معنی خیز معلوم ہوتا ہے ۔ جب جب میں لکھنا چاہتا ہوں تب تب میں خود کو انسانوں کے دکھ درد اور خیالات اور نظریات سے قریب پاتا ہوں ،ایک ہیجانی کیفیت میں گرفتار جس میں تاریخ ، سیاسیات ، مذہب ، معاشرتی علوم اور سائنس کی مختلف جہات مجھے انسانی محررومیوں سے آگاہ کراتی ہیں، اس لمحے میں کسی بلا تکان بولنے والے مشاق مقرر کی مانند خود کے باطن میں داخل ہو کر چیخنے لگتا ہوں۔ خود کو الگ الگ موضوعات پر بولتے ہوئے انسان کے دکھوں کے درمیان پھنسا لیتا ہوں اور ان کی تکلیفوں سے گھر کر ان کا مداوا تلاش کرنے کا مشتاق بنا لیتا ہوں۔ لکھتے وقت میں خود میں ہٹلر اور مسولینی ، مارکس اور لینن، محمد اور موسی، کرشن اور ارجن، رام اور بدھ، کبیر اور خسرو، نانک اور جائسی، سارتر اور روسو، ملٹن اور ابوالمعالی ، حالی اور سر سید ،داغ اور امیر مینائی اور غالب، میر اور فیض سبھی کو یکجا پاتا ہوں۔ کسی کو کسی سے دور اور قریب ، ادنی اور اعلی سمجھے بنا میں ان سب کو اپنا دوست ، رقیب اور ہم منصب سمجھنے لگتا ہوں ۔ لکھنے کی خواہش مجھے اند ر سےایک اوتار بنا دیتی ہے یا یوں کہوں کہ ایک انسان جو خود میں سب سے بڑا اوتار ہے۔

میں جتنا کچھ خود سے بولتا ہوں یا خود کو جتنے بولے ہوئے کی گردش میں گھرا پاتا ہوں اس کا ایک فی صد بھی لکھ نہیں پاتا ۔ میں جانتا ہوں کہ میرے اندر کا وہ شور جو مجھے لکھنے پر مجبور کرتا ہے وہ میرے اندر کا ایک انوکھا طلسم ہے جو مجھے اظہار سے تحریر کی وادی تک لاتے لاتے ارسال سےبے بہرہ کر دیتا ہے ، میرے وجود کی گتھیوں سے کھیل کر مجھے کتاب کے اندھے صحرا میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے ، پھر بھی میں لکھتا ہوں کیوں کہ لکھنا میرا محبوب مشغلہ ہے اور میں اس عمل کے تئیں خود کی نکیل کو تھامے رکھتا ہوں ۔ میں لکھنے کو خود سے بہتر اور خود کو لکھنے کے برابر بنانے کے عمل میں سر گرداں رکھنا چاہتا ہوں کیوں کہ میں ایک ایسی بات لکھ دینا چاہتا ہوں جس کی تکرار میرے باطن میں کہیں دور تک اور دیر تک کھنکتی رہتی ہے ۔ اسی لیے میں لکھتا ہوں اور اسی لیے میں لکھتے رہنا چاہتا ہوں۔

میں اپنے لکھے سے کبھی پوری طرح مطمئن بھی نہیں ہوتا کیوں کہ مکمل اطمینان مجھے لکھنے سے دور کرتا ہے۔ ایک منز ل سے دوسری منزل کی جانب جانے سے روکتا ہے ۔ لکھنے کے عمل کو اسی لیے میں مینڈک کی چھلانگ سے تعبیر کرتا ہوں جس میں ابدی اچھال نہیں پایا جاتا ۔ میں جب جب کچھ لکھنے کی شروعات کرتا ہو تو مجھ میں ایسی ہی توانائی جمع ہوتی ہے جیسی ایک مینڈک میں اچھلنے سے پہلے پائی جاتی ہے اس توانائی کا انقطاع مجھے ایک تحریر سے دوسری تحریر کی جانب بڑھنے پر مہمیز کرتا ہے اور اسی سے میں اپنے موضوعات کے تنوع کا سراغ بھی لگا پاتا ہوں۔ ایسی ہزاروں باتیں جو میں لکھنے کے درمیان اور اس سے قبل یا بعد میں محسوس کرتا ہوں انہی باتوں سے مجھے اپنے لکھے پر خوش یا دکھی ہونے کا حوصلہ ملتا ہے ۔ جب میں اپنے کسی لکھے سے بہت زیادہ خوش یا بہت زیادہ دکھی ہوتا ہوں تو میں اس کو قلم زد کر دیتا ہوں کیوں کہ مجھے اس میں اعتدال کا پرتو نظر نہیں آتا ۔ حالاں کہ میں اس زار سے بھی اچھی طرح واقف ہوں کے کسی لکھے کو کبھی کاٹا نہیں جا سکتا ۔ میں لکھنے کی چال بازیوں کو لکھنے کا سب سے گہرا وار کرنے والا ہتھیار سمجھتا ہوں ۔ جو ایسا نوکیلا ہے کہ ایک بار وجود میں آ کر کبھی عدم کا سفر نہیں کرتا۔ دنیا میں جتنے لکھنے والے گزرے ہیں میں ان سے کچھ الگ نہیں لکھنا چاہتا اور نہ ہی مجھ میں کچھ نیا لکھنے کی خواہش ہے ،لکھنے کے حوالے سے میں صرف ایک امر کو سب سے زیادہ معنی خیز سمجھتا ہوں اور وہ امر خود لکھنے کا عمل ہے۔ مجھے لکھنے کی تاریک دنیائیں اپنی طرف بلاتی ہیں اور میں اس بیمار بوڑھے شخص کی طرح تیزی سے اس کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہوں جو موت کی جانب سفر کرتا ہے۔ لکھنے کے لیے مجھے نئی دنیاوں اور نئی کہانیوں کی یا نئی مثالوں کی بھی جستجو نہیں ہوتی میں تو بس ایک ایسی بات لکھنے کو ہی سب سے بہتر سمجھتا ہوں جو انسان کی عقلوں کے عین مطابق ہو۔ مجھے زندگی اور لکھنا ایک سکے کے دو رخ معلوم ہوتے ہیں کیوں کہ جب تک انسان لکھنے کے عمل سے واقف نہیں ہوتا وہ زندگی کے نہا خانہ وحشت سے بھی آشنا نہیں ہوپاتا۔ میں لکھنے کی سعی میں خود سے ہزاروں جھوٹ بولتا ہوں جن کو اپنی عیاریوں اور مکاریوں سے خود پر سچ بنا کر نازل کرتا ہوں اور اس سچایوں کی دیواروں سے لگ کو روتے ہوئے نوشتہ دیوار تحریر کرنے میں سر گرداں ہو جاتا ہوں ۔ میں تقدیر سے بہتر اور تعبیر سے گہرا فن پارہ لکھنے کی خواہش میں الجھا رہتا ہوں اور ایسے میں میں کچھ بھی لکھ جانے کو بے کار نہیں سمجھتا اور قاعدوں سے الگ رہ کر لکھنے کو ہر لکھے سے اعلی جانتا ہوں، لہذا !میں ایسا ہی کچھ لکھنا چاہتا ہوں ۔

Categories
نان فکشن

عجیب الخلقت

کسی کے متعلق کچھ لکھنے کے لیے ضروری نہیں کہ اسے پوری طرح جانا جائے، لکھنے کے لیے تو بس ذرا سی تحریک کی ضرورت ہوتی ہے اور قلم خود بہ خود چلنے لگتا ہے۔ میں کئی روز سے اپنے ایک دوست یا یوں کہیے کہ دوست نما شخص کو بغور دیکھ رہا ہوں،اس لیے نہیں کہ ان کو دیکھنے سے مجھے کسی طرح کی کوئی خوشی نصیب ہو رہی ہے، بلکہ اس لیے کہ ان کے عادات و اطوار مجھے کاغذ اور قلم کی طرف مستقل دھکیل رہے ہیں۔ میں حالاں کہ ان پر کچھ نہیں لکھنا چاہتا ہوں،کیوں کہ ابھی نئے نئے تعلقات ہیں اور اتنی زیادہ بے تکلفی بھی نہیں کہ ان سے کوئی بہت گہرا مذاق کا رشتہ استوار ہو گیا ہو۔ پھر بھی کیا کیا جائے کہ ان کی ذات کے عجیب و غریب حالات مجھے پریشان کئے دے رہے ہیں۔ میری اور ان کی ملاقات کو ابھی صرف چند روز ہی گزرے ہیں اور وہ بھی ایک حادثاتی نوعیت کی ملاقات ہے کہ جناب ایک نازنین کے ہاتھوں تازہ تازہ قتل ہو کر دوستوں کے ساتھ کے لیے پریشان ہیں اس لیے میرا کندھا کبھی کبھی مستعار لے لیتے ہیں۔ عشق کی تفصیل میں نہیں جاوں گا کہ بہت سے احباب و شناسا اس سے واقف ہیں، صرف ان کا ذکر خیر کچھ یوں کرنا مناسب ہے کہ موصوف بلا کےمزیدار انسان ہیں۔ حالاں کہ ہر وقت پریشان رہتے ہیں، نہ دن میں کھانے کا ہوش ہے،نہ رات کو سونے کا، کوئی ایسی اچھی عادتیں بھی نہیں کہ کسی کو انہیں دیکھ کر بہت کچھ سیکھنے کا حوصلہ ملے، اردو ادب کے طالب علم ہیں اور اس کا بھی مطالعہ فکشن کو چھوڑ کر چہار جانب مشکوک ہے۔

یہ تو ان کے ظاہری کوائف ہیں، مگر جو لوگ ان کو ذرا دنوں سے جانتے ہیں وہ اس بات کی تائید کریں گے کہ کسی بھی صلاحیت کے نا ہونے کے باوجود انسان کس طرح دلچسپ ہو سکتا ہے۔ صلاحیتوں سے میری مراد تخلیقی صلاحیت نہیں ہے کیوں کہ آں جناب کے بقول وہ افسانہ نگار ہیں اور یہ بات خود میں بھی جانتا ہوں کہ ان کے چند ایک افسانے اردو کے مختلف ادبی جریدوں میں شائع ہو چکے ہیں،میرے نزدیک صلاحیت سے تو انسان کی پوری شخصیت مراد ہوتی ہے۔جس میں اس کے ہاو،بھاو سے لے کر اس کا سراپا، اٹھنا بیٹھنا، چلنا، پھرنا، ہنسنا، بولنا اور جملہ بشریاتی حرکات و سکنات کا شمار ہوتا ہے۔ آں جناب کو اس تناظر میں میں گزشتہ کئی روز سے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ عشق کا جو تذکرہ میں نے اوپر کیا اس کے حوالے سے اتنا کہنا تو جائز ہے کہ اس کم بخت جذبہ پر شوق میں بری ناکامی کے بات آدمی بے انتہا عجیب الخلقت ہو جاتا ہے اور اگر حضرت کے ساتھ ایسا کچھ ہوا ہے تو وہ اتنا غیر منطقی بھی نہیں کہ علامہ تو پہلے ہی سے اتنے عجیب الخلقت تھے کے نو عمر خواتین اور بچے انہیں کسی طور انسان کی اولاد ماننے کو ہی تیار نہ ہوتے تھے۔ ماں، باپ اگر مار کوٹ کر اپنے تجربات کی بنیاد پر انہیں یہ باور کرا دیں تو کرادیں کہ انسان ایسے بھی ہوا کرتے ہیں تو اور بات ہے۔مگر بچوں کو کسی طور یقین نہ آتا تھا۔ بزرگوں کا معاملہ اس امر میں ذرا مختلف تھا کہ وہ ایسے ہی کسی شخص کو انسان ماننے پر مصر رہتے ہیں جو بلا کا بے ضرر ہو۔

بہر کیف قبلہ سے پہلی ملاقات مجھے اچھی طرح یاد ہے، حضرت مجھ سے بڑے تکلفات سے ملے تھے، علیک سلیک کے بعد میں نے ان سے کافی دیر تک تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کیا، دیکھنے میں تو نہیں لگے تھے مگر انسان ذہین نکلے اور جلد بھانپ گئے، جلد مجھے اس بات کی اطلاع دے دی کہ میں آپ کے متعلق کافی کچھ جانتا ہوں، لہذا یہ پینترا مجھ پر نہ آزمائیں۔ اس ملاقات کے بعد مجھے لگا کہ انسان خواہ مسکین صورت اور نہ تراشیدہ صفات ہےمگر عقل رکھتا ہے۔ اگلی دو ایک ملاقاتوں میں انہوں نے مزید اپنے اسی امر کا ثبوت دیا۔ سحر اس وقت ٹوٹا جب حضر ت ایک نشست میں کسی بات پر ذرا کھل کھلا کر ہنسے۔ میں تو آج بھی اس ہنسی کو یاد کرتا ہوں تو رواں رواں لرز اٹھتا ہے کہ علامہ ہنسے کیا تھے خود کو ایک مصیبت میں گرفتار کر بیٹھے تھے۔ ہنسنے کی حالت چونکہ زمین پر کھڑے کھڑے طاری ہوئی تھی لہذا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب گرے اور تب گرے۔اس وقت تو میں بہت حیران ہوا کہ اللہ رحم یہ بھی کوئی ہنسی ہے، مگر مزید دو چار ملاقاتوں میں اس بات کا علم ہو گیا کہ حضرت خواہ ہنستے وقت خود پر سے مکمل اختیار کھو بیٹھیں، مگر گرنے کی سعی ہمیشہ ناکام ہی رہتی ہے، در اصل اس ارتعاش مسلسل میں کچھ ان کا بھی قصور نہیں کہ بدن میں سوائے رگوں کے بے ترتیب جال کے خدا نے کچھ رکھا ہی نہیں ہے،جس کے باعث اوپر کا بدن ہنستے وقت الجھی ہوئی ڈور کے گچھے کی طرح نیچے کی طرف گرنے لگتا ہے، چونکہ ٹانگوں کی جگہ دو عدستلی نما ہڈیاں موجود ہیں اس لیے حضرت زمین پہ بکھر نے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ ایک آدہ مرتبہ تو میں نے بڑھ کر سہارا بھی دینے کی کوشش کی مگر جب تک میں سہارا دوں دوں حضرت عالم خندہ شوری سے پھر اسی جذبی حالت پر لوٹ چکے ہوتے ہیں جس میں انہیں استقال ہے۔ وہ طبعیتاً ذرا کم گو واقع ہوئے ہیں،ایسا کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جن مستند ذرائع سے مجھے ان کے حوالے سے معلوم ہوا تھا اس کے پیش نظر یہ ہی رائے بنتی ہے، مگر میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ علامہ کم گو صرف مجمع عام اور مردوں کے بیچ ہی واقع ہوئے ہیں، جوان اور خوبصورت لڑکیوں کے درمیان تو ان کی چیچاہٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے کہ میں جب کبھی اکیلا ان کے ساتھ ہوتا ہوں تو اس بات پر یقین ہی نہیں کر پاتا کہ یہ وہ ہی شخص ہے کہ لڑکیوں کے ساتھ تو شعر شور انگیز معلوم ہوتا ہے اور اکیلے میں آتے ہی میر کے ان زخم خردہ بہتر نشتروں کی مانند نظر آنے لگتا ہے جن پر کبھی بہارکے آنے کا گمان ہی نہیں بنا۔بہت ہوا تو بات کا جواب ہوں، ہاں میں دے دیا اور پھر وہ ہی قبرستان سی خاموشی۔ بعض اوقات تو یوں لگتا ہے کہ منہ میں زبان ہی نہیں ہے، صرف ماتھے پر آنکھیں چپکی ہیں جن سے ہر سوال کا جواب حاصل کیا جا سکتا۔ ان کی ہئیت کا من جملہ بیان تو نا ممکن ہے اور اس عہد میں اس کی کچھ خاص ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی کہ تصویر اتروانے کا فن بہت ترقی کر گیا ہے۔ پھر بھی اگر ان کی ذات کو جملوں میں بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو کچھ یوں ہی بنتا ہے کہ ایک اکھڑی اکھڑی صورت، جس پر زمانے بھر کی مصیبتوں اور پریشانیوں کا بوجھ۔ اکہرا بدن اور اتنا اکہرا کہ اکہریت بھی اپنی معنیاتی ترسیل میں اس سے منکر ہو جائے کہ اس کو اکہرا نہیں کہا جا سکتا۔ذرا کچھ دودھ ملائی کھائے تب کہیں جا کر اکہرا ہو۔ الجھے الجھے بال اور اس پر غضب کی بے چارگی۔ سر میں ایک ایک ہاتھ تیل کھڑا کر کے بالوں کی دو طرفہ جڑوں کو اس میں گلے گلے تک ڈبو کر اس طرح دور سے آتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی چال پر آدھے سارس اور آدھے شتر مرغ کا گمان ہوتا ہے۔ پیچھے سے دیکھو تو بالائی بدن گردن سمیت نیچے کی دنیا سے بے خبر معلوم ہوتا ہے۔ ٹانگیں پتلی اور لمبی، کمر اردو غزل کے معشوق کی مانند، بازو اور سینہ کمزوری کے سبب کمان کی طرح آدھے گول اورکناروں پر سے آگے کی جانب نکلے ہوئے اور پاوں کے پنجے ایسے کہ مور بے مایہ بھی شرما جائے۔میں اکثر ان سے کہتا ہوں کہ قبلہ اس جہان فانی میں آپ اپنی شکل کے تنہا ہیں۔ اس پر وہ مسکرا کر شرما سے جاتے ہیں، کیا پتہ ان تک میرے حقیقی جذبہ اظہار کی ترسیل ہوتی ہے یا نہیں، لیکن میرے دو ایک دیگر احباب جوہم دونوں کے مشرکہ دوست ہیں ان کو اس جملے کی زیریں ساخت کا علم بخوبی ہو جاتا ہے۔ ویسے تو اللہ کی بنائی ہر صورت موہنی مورت ہے،لیکن خدا کی پناہ کہ وقنا ربنا عذاب النار بھی تو کوئی چیز ہے۔اگر ایسی خناس صفت اشیا اس دنیا میں نہ ہوتیں تو کسی کو اس کے قہار ہونے پر کیوں کر یقین آتا اور یہ کیا کوئی کم بڑی بات ہے کہ ایک انسان میں کئی ایک چرند، پرند ایک ساتھ جمع ہو جائیں، جس کا تصور بھی باندھنا پکاسو و مانی جیسےتخلیق کاروں کی قدرت صنعائی سےبعید ہو۔ اس میں بھی ایک طرح کا حسن ہی مضمر ے کہ ماتھا بن مانس کا، آنکھیں مرغی کی، گال چمگادڑ کے اور ناک طوطے کی، کانوں کی بناوٹ ہاتھی جیسی مگر اس سےکچھ چھوٹے اور بال اس ڈری ہوئی سیائی کے مانند جس نے عالم خوف میں اپنے کانٹے پھیلا دیے ہوں۔ چہرے کی ہئیت نہ دبی ہوئی نہ لمبی نا گول نہ کھڑی نہ مربع نہ مستطیل نہ مثلث نہ چاندہ نہ پرکار نہ ڈوائڈر ایک بالکل ہی نئی طرح کا زاویہ تھا،جسے فیثا غورث اگر دیکھ لیتے تو ان کی دریافت میں مزید اضافہ ہو جاتا۔

ان کی کچھ باتیں تو ایسی تھیں کہ اگر مجھے کوئی سوتے سے اٹھا کر پوچھ لیتا کہ یہ اوصاف کس میں پائے جاتے ہیں تو میں اسی عالم استغراق میں ان کا نام نامی پکار اٹھتا۔ مثلا ً کبھی اگر کوئی ایسی بات کہتے جس پر وہ آپ کا اتفاق چاہتے ہوں، یا داد وصول کرنے کے خواہاں ہوں یا پھر تصدیق ہی چاہ رہے ہوں تو جملہ مکمل کر کے اپنی ریڑھ کی ہڈی کو آخری حد تک گول کر کے آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں گے اور اپنی گردن اس طرح سے ہلکے ہلکے گھمائیں گے جیسے گویا ان کے سر پر کسی نے منوں وزنی پتھر رکھ دیا ہو۔اس پر مستزاد یہ کہ آنکھوں پر جوایک عددعینک نہایت موڑے گلاسوں کے ساتھ چڑھی ہوتی ہے وہ اس گردش بےہنگم کی وجہ سے کھسک کر ناک پر اتر آتی۔ اس وقت ایک عجیب مضحکہ انگیز صورت پیدا ہو جاتی ہے کہ آں جناب کی بات کی تصدیق کرو، داد دو یاصورت حال سے محظوظ ہوتے رہو۔ میں تو اس امر کو بھی اپنی ایک عزیز کے بتلانے پر ہی جان پایا کہ جس موقع پر حضرت اپنے مخصوص انداز میں آ پ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیں اور اپنی گردن کو اس جلالی مرغے کی مانند ہلائیں جو ابھی میدان جنگ میں اترا ہو تو سمجھ لیجیے کہ آپ سے اپنے جملے کی دا د چاہ رہے ہیں۔

میں ان کو بعض اوقات گھنٹوں گھورتا رہتا ہوں۔ جس کے رد عمل میں وہ بھی مجھے گھورنے لگتے ہیں۔ جب ذرا دیر ہو جاتی ہے تو میں ان کی نظروں کی تاب نہ لا کر خود اپنی آنکھیں ایک آدھا منٹ کے لیے ادھر ادھر ہٹا لیتا ہوں، مگر شوق نظر ہے کہ پھر جلد ہی اسی راہ پر لگا دیتا ہے۔ ایک روز کا واقعہ ہے کہ میں اسی عالم حیرانی میں انہیں تک رہا تھا جس میں اکثر تکا کرتا تھا کہ مجھ سے استفسار کر بیٹھے کہ کیا گھور رہے ہو۔ میں نے دبے ہوئے لہجے میں کہا کہ آپ میں گھورنے جیسا تو بہت کچھ ہے مگر فی الحال آپ کے افکار کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہا ہوں کہ آخر دنوں دنوں خاموش رہ کر آپ سوچتے کیا ہیں۔ کہنے لگے تمہیں کیا لگتا ہے۔ میں نے کہا کہ ایک اچھا افسانہ نگار اس کے علاوہ اور کیا سوچ سکتا ہے کہ تخلیق کے نئے پیرائے کیا ہو سکتے ہیں، نئے کردار کیوں کر وضع ہوں اور کہانی کے جدید سوتوں کا سراغ کیسے ہاتھ آئے۔ کہنے لگے غلط میں ہمہ وقت ان سب بیکار کی باتوں میں ڈوبنے کو فضول جانتا ہوں۔ اس پر میں نے پوچھا کہ پھر کیا سوچتے ہیں۔ کہنے لگے سوچ رہا ہوں بریلی جا کر کارچوبی کا کام سیکھ لوں تاکہ اگر کوئی کام نہ ملے تو اپنا اڈا لگا کر آرای کا کار خانہ ہی کھول لو۔ میں نے لاحول پڑھی کہ اس میں اتنا غور کرنے کا کیا ہے، حد ہے کہ اگر آری، زردوزی ہی کرنی تھی تو اردو سے ایم۔اے کیوں کیا۔ کہنے لگے پہلے تو یہ ہی لگتا تھا کہ اردو سے ایم۔اے کر کے نوکری مل جائے گی، مگر اب میں کچھ امید نہیں رکھتا، کیوں کہ اردو میں اب صلاحیت کو تسلیم کرنے والے اور سراہنے والے ختم ہوتے چلے جارہے ہیں۔میں نے کہا کہ ایسا بھی کوئی قحط نہیں ہے آپ اپنی پڑھائی جاری رکھئیے اور اللہ کی رحمت سے پر امید رہیے۔ابھی میں انہیں دلاسا ہی دے رہا تھا کہ اچانک زور سے چھینک دئیے او ر چھینک کے ساتھ منہ سے رال کی ایک لکیر بہہ کر ان کی داڑھی پر لٹکنے لگی۔ میں نے اپنا منہ دوسری جانب پھیر لیا اورچپ چاپ وہاں سے اٹھ گیا۔ شام کو دوبارہ ان کی طرف گیا تو دیکھا اسی عالم میں بیٹھے ہیں اور خلا میں گھورے جارہے ہیں۔ صبح کی رال داڑھی پر لٹکے لٹکے سوکھ چکی تھی اور اس درمیان میں ان کے بدن سے جتنا پسینا نکلا تھا اس سے کمرے کی فضا معطر ہو رہی تھی۔

نہانے کا انہیں ذرا شوق نہ تھا۔ میں نے آخری بار نہانے کی تاریخ معلوم کی تو پتہ چلا کہ اس کو گزرے ایک عرصہ ہو گیا ہے۔ بدن پر میل کی کئی پرتیں جمع ہو گئیں تھی جس کی وجہ سے صحت نکل آئی تھی۔ بدن پر جگہ جگہ جالے لگے تھے، اور ہاتھ پاوں کا یہ عالم تھا کہ

دیوار و در پہ بن گئیں شکلیں عجیب سی
کچھ راز تھے جو آپ اگلتے رہے مکاں

پسینہ روز اتنی مقدار میں لباس میں جذب ہوتا تھا کہ پیرہن کاغذی ہو چلا تھا۔ بد بو تو اب دور کی خبر ہو گئی تھی، عالم یہ ہو چلاتھا کہ کومہ کے مریض کو اگر ان کے حجرئے مبارک سے آٹھ میل دور لٹا دو تو وہ قے کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہو۔ مرگی کے مریض تو بس خبر سن کر ہی ٹھیک ہوجایا کرتے تھے۔ ان کے پسینے کی مہک اتنی کھٹی اور زہر آلودہ تھی کہ جہنم کا آخری درجہ یاد آجاتا تھا۔ میں نے ایک روز بالاصرار ان سے نہانے کا عزم لے لیا کہ محلے کے بچے طاعون کا شکار ہو رہے تھے اور علاقے کے قبرستان کی زمین مہنگی ہوتی چلی جا رہی تھی۔ وہ یہ خبر سن کر غسل خانے تک گئے اور یہ کہہ کر الٹے پاوں واپس آگئے کہ موسم سرمہ چل رہا ہے مئی تک رک جاو کہ ذرا دھوپ نکلے تو نہانہ ٹھیک لگے۔

کاہل بھی بہت اعلی درجے کے ہیں۔ جگر کے تعلق سے سنا ہے کہ دار الکہلا کے صدر تھے، اگر یہ صاحب جگر کے معاصر ہوتے تو مجھے یقین ہے کے جگر صاحب بخوشی اپنی نشست خالی کرنے میں لمحہ ضائع نہ کرتے۔ مجھے اس بات کا علم ان کے روز مرہ کے معمولات سے ہوا ہے۔ مثلا ً صبح صادق سے شام تک اورشام سے رات دیر تک ان کا معمول یہ کہ رات بھر جگ کے آرام کرتے ہیں اور صبح میں چھ بجے سونے لیٹتے ہیں، شام کو چار بجے نیند سے بیدار ہوتے ہیں اور دوسرے دن صبح تک بستر پہ پڑے پڑے اس بات کا شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ جب سے وہ حادثا ہوا ہے نیند تو جیسے آنکھوں سے اوجھل ہو گئی ہے۔ میں نے ایک روز مشورہ دیا کہ آپ شام کوحجرے سے باہر نکل آیا کریں اور دیر تک سیر و تفریح میں رہیں۔بدن خود اتنا تھک جائے گا کہ بستر پر پیٹھ لگاتے ہی نیند آ جائے گی۔ میری تجویز سے خوش ہوئے اور اگلے روز سے اس پر عمل کرنے کا وعدہ بھی کیا، مگر تین روز تک نہ چائے خانے پر نظر آئے نہ سیر کے میدان میں۔ میں نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ حجرے سے باہر نکلنے کی کوشش میں بخار نے آ گھیرا ہے، میں عیادت کو گیا تو کہنے لگے کہ یہ سب تمہارا قصور ہے نہ تم تبدیلی ہوا کا مشورہ دیتے اور نہ میں بیمار پڑتا۔ میں نے حیران ہو کر کہا کہ کیا کمرے سے باہر قدم رکھنے کو تبدیل ہوا کا عمل کہتے ہیں۔ اس پر مزید بپھر کے کہنے لگے ڈاکٹر تو یہ ہی کہتا ہے کہ پچھلے کئی روز سے اس کمرے میں بند رہنے سے باہر کی آب و ہوا آپ کے لیے اجنبی ہو چلی ہے۔ لہذا اگر اب کی باہر جانے کا ارادہ ہو تو پہلے چھتری اور گرم کپڑوں کا انتظام کر لیجیے گا، کیوں کہ اند ر پڑے پڑے آپ نے کمرے کا درجے حرارت اتنا گرا دیا ہے کہ باہر جاتے ہی ٹھنڈ لگنے کا خدشہ ہے۔

اس روز سے میں انہیں کسی بھی طرح کا کوئی مشورہ دینے سے پہلے سو مرتبہ غور کرتا ہوں۔ان کی شخصیت باغ و بہار کی ضد اور چہار درویش کا مرکب ہے۔میرے تعلقات ابھی ان سے نئے ہیں مگر میں کوشش کر رہا ہوں کہ ان کی حالت میں سدھار پیدا ہو۔ اگر مئی تک یہ رشتہ بنا رہا تو اس کے دور تک چلنے کے امکان ہیں۔