Categories
شاعری

ایک خسارے کا احوال (اسد فاطمی)

وہ جس گھڑی مجھ پہ کھل گیا تھا؛
قمار خانے کی میز پر میرے نام کے سبوچے میں خاک ہے!
زبانِ تشنہ کہ پُرسکوں تھی، سپاٹ چہرہ،
نہ ہاتھ میں کپکپی تھی، آنکھوں میں اضطرابِ شکست کا شائبہ نہیں تھا،
کہ جیسے دہقان پکی فصلوں کو مینہہ برسنے کے بعد دیکھے
کہ جیسے وہ فرش و عرش کے ٹاکرے کا سارا مآل پہلے سے جانتا ہو
میں پر سکوں تھا،
مگر اچانک گمان گزرا کہ یہ اندھیرے اُطاقچے کا فسوں ہے شاید
یونہی کسی بے یقین لمحے میں پھر سبوچہ اٹھا کے کچھ روشنی میں لایا،
یونہی کوئی چند مرتبہ کھنکھنا کے پلٹا، الٹ کے دیکھا
قمار میں ہارنے سے پہلے کی ساری چالوں کا پھیر جانچا
وہ کوئی ایسا طلسم سوچا جو پل میں مٹی کو مَے بنا دے،
نجانے کتنی اداس نظموں کے وِرد پھونکے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
وہ شب، وہ بوجھل پنا، کہ میں سب بھلا کے کونے میں ایک جھینگر کی سن رہا تھا،
وہ دن، وہ تاریخ، عیدِ نوروز میں کوئی دن ہی رہ گئے تھے،
کہ گلفروشوں کی سب دکانوں پہ بخششِ مفت کی صدا تھی،
شبِ زمستاں میں لکّھے ہر اک پیام پر سب کو خیریت کے جواب پہنچے،
نسیمِ بوئے بہار کے ہاں سے سب پہ فرمانِ جشن عاید تھا؛
کہ جو کوئی رہگزر سے گزرے گا، سر بسر جھوم کر چلے گا
مگر میں بازیچۂ بہاراں کے درسِ اول میں رہ گیا تھا
تو کس حوالے سے دورِ رفتہ کے میکشوں سے کلام کرتا؟!؟
میں باوضو ہو کے روضۂ فصلِ گل کو پہلا سلام کرتا
کہ تب تلک مجھ پہ کھل چکا تھا
قمار خانے کی میز پر میرے نام کے سبوچے میں خاک ہے۔۔۔

Categories
شاعری

جنم سے چتا تک

’’میں نے پہلی بار یہ منظر تبھی دیکھا تھا جب
جب رتھ بان نے مجھ کو بتایا تھا کہ مُردہ جسم کے
انتم چرَن کی یاترا میں
اُس کو اگنی کے حوالے کر دیا جاتا ہے ۔۔۔
تب اک بار پھر
اس جسم کے تینوں عناصر، مٹّی، پانی اور ہوا
چوتھے سے، یعنی آگ سے مل کر
حقیقی اور ازلی جزو میں تقسیم ہو جاتے ہیں ۔۔۔
۔۔۔ میں انجان تھا اس بات سے تب!‘‘

بات کا آغاز کرنے کے لیے آنند نے تو
بر سبیلِ تذکرہ اتنا ہی پوچھا تھا ’’۔۔۔تتھاگت
یہ بتائیں
راکھ ہی کیا سارے جیووں، جنتووں کی
آخری منزل ہے ۔۔۔؟‘‘

’’۔۔۔بے شک!‘‘ بُدھّ بولے تھے، ’’مگر سوچو تو آنند
جسم کے یہ مرحلے ۔۔۔
پہلے تو بچپن
پھر لڑکپن
پھر جوانی
پھر بڑھاپا
اور پھر ان سب کا حاصل ۔۔۔موت!
اس کے بعد اگنی
بھسم ہو جانا چتا کی راکھ میں!
ترتیب سیدھی ہے
اگر کروٹ بدل کر
یہ الٹ جائے تو پھر
کیسا لگے گا تم کو بھکشو؟‘‘

’’میں نہیں سمجھا، تتھا گت!‘‘
سیدھی سادی بات ہی تو ہے، سُنو آنند، لیکن غور سے
ترتیب کے اُلٹے مساوی رُخ کو اب دیکھو ذرا
۔۔۔ہم آگ میں پہلے جلیں
پھر اپنے مردہ جسم میں داخل ہوں۔۔۔
پھر ارتھی سے واپس
جانکنی کی سب اذیت جھیل کر لوٹیں ۔۔۔
۔۔۔ جہاں ’’سر کانپتے، پگ ڈگمگاتے‘‘ وہ بُڑھاپا ہے، جسے
برداشت کرنا موت سے بد تر ہے ۔۔۔
پھر الہڑ جوانی، پھر لڑکپن
لوٹ کر چلتے ہوئے آغوش ماں کی
شیر خواری کے دنوں تک
اور پھر تولید کا آزار ۔۔۔
کیسا سلسلہ ہے یہ؟ بتاو!‘‘

اپنے سر کو نیوڑھائے
گو مگو کی کیفیت میں
گم رہا آنند کافی دیر تک،
پھر سر اٹھایا
اور کچھ کہنے کو لب کھولے مگر تب تک تتھا گت
لمبے لمبے ڈگ اُٹھاتے جا چکے تھے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتم چرن: آخری قدم