Categories
نقطۂ نظر

عالمی وبا ایک گزرگاہ ہے – اروندھتی رائے

ارون دھتی رائے کا یہ مضمون 3 اپریل 2020 کو فنانشل ٹائمز میں شائع ہوا تھا، جسے لالٹین کے لیے اسد فاطمی نے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج کل کون ہو گا جو ‘وائرل ہونے’ کی اصطلاح کو سن کر کانپ نہ اٹھے؟ کون ہو گا جو کسی بھی چیز پر – دروازے کی کنڈی ہو، گتے کا ڈبہ ہو، سبزیوں کا تھیلا ہو – نظر ڈالتے ہوئے، اس خیال کو ذہن میں نہ رکھتا ہو کہ اس پر وہ ان دیکھی، غیر مردہ، غیر زندہ پُھٹکیاں ان چوسنے والی تھوتھنیوں کے ساتھ آپ کے پھیپھڑوں سے چمٹ جانے کو تیار بیٹھی ہیں۔

کون ہو گا جو حقیقی خوف کے احساس کے بغیر بس پر کود کر چڑھتے ہوئے اجنبی یا اسکول جاتے ہوئے اپنے بچوں کو چومنے کا سوچ سکے؟ کون ہے جو چھوٹی چھوٹی عیاشیوں کا سوچتے ہوئے اس کے خطرات کا حساب نہ لگاتا ہو؟ ہم میں سے کون ہے جو ایک عطائی ماہر وبا، وائرولوجسٹ، ماہر شماریات یا پیغمبر نہ بنا پھرتا ہو؟ کون سا سائنسدان یا ڈاکٹر ہے جو چھپ چھپ کے کسی معجزے کی دعائیں نہ کر رہا ہو؟ کون سا پیر پروہت ہے جو – دل ہی دل میں سہی – سائنس کے آگے سر نہ جھکائے ہوئے ہو؟

اور جب کہ وائرس پھل پھول رہا ہے، کون ہے جو شہروں کے اندر چہچہاتے پرندوں کی خوش الحانی اور ٹریفک کی کراسنگ پر ناچتے موروں اور آسمان کی خاموشی پر دنگ نہ رہ گیا ہو؟

اس ہفتہ دنیا بھر میں کیسز کی تعداد دس لاکھ سے اوپر نکل گئی۔ 50,000 سے زیادہ لوگ ہیں جو اب تک جان گنوا چکے ہیں۔ تخمینے بتاتے ہیں کہ یہ تعداد لاکھوں تک جا سکتی ہے، یا شاید اس سے بھی زیادہ۔ وائرس نے تجارت اور بین‌الاقوامی سرمائے کے راستوں پر کھل کے سفر کیا ہے، اور جو بھیانک بیماری یہ لایا ہے اس نے انسانوں کو اپنے ملکوں، شہروں اور اپنے گھروں میں قید سا کر دیا ہے۔

لیکن سرمائے کے بہاؤ کے برعکس، یہ وائرس نشوونما مانگتا ہے، منافع نہیں، اور اسے ملی بھی، اس لیے، ان جانے میں، کچھ حد تک اس نے بہاؤ کی سمت کو الٹے رخ پھیر دیا ہے۔ یہ امیگریشن ضوابط، بایومیٹرکس، ڈیجیٹل نگرانی اور ہر طرح کی ڈیٹا تحلیلوں پر خندہ زن ہے اور – اب تک – اس نے دنیا کی امیر ترین اور طاقتور ترین اقوام پر سب سے زوردار وار کیا ہے، جس سے سرمایہ داری نظام کا پورا انجن ایک دھچکے سے رک گیا ہے۔ شاید عارضی طور پر، لیکن کم از کم اتنے وقت کے لیے کہ ہم اس کے پرزوں کا جائزہ لے سکیں، اور اپنی جانچ کر کے یہ فیصلہ کر سکیں کہ آیا ہم اسے ٹھیک کرنے کے قابل ہیں، یا ہمیں کوئی بہتر انجن ڈھونڈنا ہو گا۔

منڈارین چینی جو اس عالمی‌وبا سے نمٹ رہے ہیں بڑے شوق سے جنگ کی باتیں کرتے ہیں۔ وہ ایک استعارے کے طور پر جنگ کا نام نہیں لیتے بلکہ ان کا مطلب سچ میں یہی ہے۔ لیکن اگر حقیقت میں جنگ ہی ہوتی، تو کون ہوتا جو امریکہ سے بڑھ کر اس کے لیے تیار ہوتا؟ اگر ہراول دستے کو ماسکوں اور دستانوں کی بجائے، بندوقیں، سمارٹ بم، خندق شکن، آبدوزیں، لڑاکا طیارے اور جوہری بم درکار ہوتے، تو کیا کوئی قلت پڑتی؟

رات کے بعد رات گزرتی ہے، آدھی دنیا پار، ہم میں سے کچھ، ایک ناقابل بیان اشتیاق کے ساتھ نیویارک کے گورنر کی صحافتی بریفنگز سنتے ہیں۔ ہم شماریات پر نظر رکھتے ہیں، اور امریکہ میں کھچاکھچ بھرے ہسپتالوں میں معمولی اجرت پر غیرمعمولی محنت کے ساتھ پلاسٹک کے تھیلوں اور پرانی برساتیوں سے ماسک بنا کے مریض تک مدد پہنچانے والی نرسوں کی کہانیاں سنتے ہیں۔ ان ریاستوں کے بارے سنتے ہیں جو وینٹی‌لیٹروں کے لیے ایک دوسرے کے مقابلے میں بولیاں لگاتے پھرتے ہیں، اور ڈاکٹر کے مخمصے کے بارے میں کہ کس مریض کو یہ ملنا چاہیے اور کسے مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ اور ہم اپنے آپ میں سوچتے ہیں، “خدایا! یہ امریکہ ہے!”

یہ اچانک، حقیقی، عظیم الشان اور ہمارے آنکھوں دیکھتے اپنی تہوں کو کھولتا ہوا المیہ ہے۔ لیکن یہ کچھ نیا نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی ریل کا ملبہ ہے جو سالوں سے پٹڑی کے پاس ایک کروٹ پڑا تھا۔ “مریضوں کو نکال پھینکنے” کی ویڈیوز کسے یاد نہیں ہوں گی – بیمار لوگ، جنہوں نے ابھی اپنے اسپتال کے گاؤن پہنے ہوئے تھے، ننگے پچھواڑوں کے ساتھ، جنہیں توہّمات کی بنا پر گلی کی نکڑ پر نکال پھینکا گیا؟ حالات کے مارے امریکی شہریوں پر ہسپتال کے دروازے زیادہ تر بند ہی رہے۔ اس سے کچھ غرض نہیں کہ وہ کس قدر بیمار ہیں یا کتنی تکلیف اٹھا چکے ہیں۔

کم از کم اب تک تو نہیں – کیونکہ اب، وائرس کے زمانے میں، ایک غریب آدمی کی بیماری ایک مالدار معاشرے کی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اور پھر بھی، برنی سانڈرس کو، جس نے سب کے حفظان صحت کے لیے ایک بے دھڑک مہم چلائی، وائٹ ہاؤس میں حسب امید جگہ پانے سے کوسوں دور سمجھا جا رہا ہے، خود اس کی اپنی پارٹی میں بھی۔

اور میرے دیس کی تو کیا ہی بات ہے، میرا غریب-امیر ملک، بھارت، جو نہایت دائیں بازو کے ہندو قوم پرستوں کی حکمرانی میں، جاگیرداری اور مذہبی بنیادپرستی، ذات پات اور سرمایہ داری نظام کے درمیان لٹکا ہوا ہے؟

دسمبر میں، جبکہ چین، ووہان میں وائرس کے پھوٹ پڑنے سے نبرد آزما تھا، بھارت سرکار ابھی ابھی پارلیمان میں منظور ہونے والے مسلم مخالف بے شرمانہ امتیازی شہریتی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے لاکھوں شہریوں کے ابھار سے نمٹنے میں مصروف تھی۔

بھارت میں کووڈ-19 کا پہلا کیس 30 جنوری کو درج ہوا، جبکہ کچھ ہی دن پہلے ہماری یوم جمہوریہ پریڈ کے محترم مہمان خصوصی، امازون جنگل کو ہڑپ کرنے والے کووڈ کے منکر جائر بولسونارو دہلی سے روانہ ہوئے تھے۔ لیکن حکمران جماعت کے نظام الاوقات میں وائرس کو سمیٹنے کے لیے فروری کے اندر بہت سا کام ابھی کرنے کو پڑا تھا۔ مہینے کے آخری ہفتے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سرکاری دورہ شیڈول میں تھا۔ انہیں ریاست گجرات میں ایک کھیلوں کے اسٹیڈیم میں دس لاکھ حاضرین کے وعدے سے للچایا گیا تھا۔ اس سب کچھ میں پیسہ خرچ ہوا تھا، اور کافی سارا وقت بھی۔

پھر دہلی اسمبلی کے انتخابات آ گئے جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا ہارنا لکھا ہوا تھا تاوقتیکہ انہوں نے اپنی بازی کو اٹھاوا دیا، جس سے کچھ بات بنی، ایک گھناؤنی، بے مہار ہندو قوم پرست مہم چلائی گئی، جو کہ جسمانی تشدد اور “غداروں” کو گولی مارنے کی دھمکیوں سے معمور تھی۔

وہ بہرحال ہار گئے۔ پھر اس کے بعد دہلی کے مسلمانوں کو اس کی سزا بھگتنا تھی، جنہیں اس ہتک کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ پولیس کی سرپرستی میں، ہندو فوجداروں کے مسلح جتھوں نے شمال-مشرقی دہلی کے مزدور طبقہ نواحات پر ہلہ بول دیا۔ گھر، دکانیں، مساجد اور اسکول جلائے گئے۔ حملے کے لیے تیار بیٹھے مسلمانوں نے جوابی وار کیا۔ مسلمانوں اور کچھ ہندؤوں سمیت 50 سے زائد لوگ مارے گئے۔

ہزاروں لوگ ایک مقامی قبرستان میں پناہ گزین کیمپ میں منتقل ہو گئے۔ کٹی پھٹی لاشیں ابھی گندی، متعفن نالیوں میں پڑی تھیں جب سرکاری حکام نے کووڈ-19 کے بارے پہلا اجلاس منعقد کیا اور بیشتر بھارتیوں نے پہلی بار ہاتھوں کے سینی‌ٹائزر نامی چیز کے وجود کے بارے میں سننا شروع کیا۔

مارچ کا مہینہ بھی مصروف رہا۔ پہلے دو ہفتے وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں کانگریس حکومت کو ہٹا کر بی‌جے‌پی حکومت کو لانے کے لیے وقف کیے گئے۔ 11 مارچ کو عالمی ادارۂ صحت نے کووڈ-19 کو ایک عالمی وبا قرار دے دیا۔ دو دن بعد، 13 مارچ کو، وزارت صحت نے فرمایا کہ کورونا “صحت کی ایک ہنگامی صورتحال نہیں ہے”۔

بالآخر، 19 مارچ کو، بھارتی وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کیا۔ وہ گھر سے کچھ خاص کام کر کے نہیں آئے تھے۔ انہوں نے فرانس اور اٹلی سے لائحۂ عمل مستعار لیا۔ انہوں نے ہمیں “سماجی فاصلے” کی ضرورت کے بارے میں بتایا (جو ایسے معاشرے کے لیے سمجھنا مشکل نہیں تھا جو ذات پات میں اس قدر گُندھا ہوا ہے) اور 22 مارچ کو “عوامی کرفیو” کے دن کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس بابت تو کچھ نہیں بتایا کہ اس بحران میں ان کی حکومت کیا کرے گی، البتہ لوگوں سے تاکید کی کے اپنی بالکونیوں میں آ کر صحت کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے گھنٹیاں بجائیں اور اپنے برتن اور تھالیاں پیٹیں۔

انہوں نے اس بات کا تذکرہ نہیں کیا کہ، بھارت عین اس لمحے تک، حفاظتی سازوسامان اور سانس لینے کے آلات بھارتی صحت کارکنوں اور ہسپتالوں میں لانے کی بجائے باہر برآمد کر رہا تھا۔

کچھ اچھنبا نہیں کہ نریندر مودی کی اپیل کو بڑے جوش و خروش سے سنا گیا۔ برتن بجانے کے مارچ ہوئے، گروہی رقص اور جلوسوں کا اہتمام ہوا۔ سماجی فاصلے تو خیر کیا ہوتے۔ آگے آنے والے دنوں میں، لوگ مقدس گائے کے گوبر کے کنستروں میں کود پڑے، اور بی‌جے‌پی کے حامیوں نے گاؤ مُتر نوشی کی پارٹیوں کا انعقاد کیا۔ مسلمان بھی پیچھے نہیں رہے، کئی مسلم تنظیموں نے اعلان کیا کہ اوپر والا وائرس کو دور رکھے گا اور مومنوں کو بڑی تعداد میں مساجد میں اکٹھا ہونے کی تاکید کی۔

24 مارچ کو شام آٹھ بجے، مودی جی دوبارہ ٹی‌وی پر نمودار ہوئے اور اعلان کیا کہ، آدھی رات کے بعد سے، پورے بھارت میں لاک‌ڈاؤن ہو گا۔ بازار بند رہیں گے۔ تمام ذرائع آمد و رفت پر، عوامی ہوں یا نجی، مکمل پابندی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ یہ فیصلہ صرف ایک وزیر اعظم کی حیثیت میں ہی نہیں، بلکہ ہمارے خاندان کے بڑے میاں کے طور پر کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ اور کون ہو گا جو اس فیصلے کا نتیجہ بھگتنے والی ریاستی حکومتوں سے مشورہ کیے بغیر یہ فیصلہ کر سکے کہ ایک ارب اڑتیس کروڑ کی قوم تیاری کے صفر وقت کے ساتھ چار گھنٹے کے نوٹس پر لاک ڈاؤن میں ڈال دی جائے؟ ان کا طریقۂ کار یقیناً یہ تاثر دیتا ہے کہ بھارت کا وزیر اعظم شہریوں کو ایسی مخالف قوت سمجھتا ہے جس سے گھات لگانی ضروری ہے، جسے چونکایا تو جائے، لیکن کبھی اس پر بھروسا نہ کیا جائے۔

ہم لاک ڈاؤن پر ڈال دیے گئے۔ کئی طبی پیشہ ور اور ماہرین وبائی‌امراض نے اس اقدام پر داد دی ہے۔ شاید تصوراتی اعتبار سے وہ حق بجانب ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی منصوبہ بندی اور تیاری کے تباہ کن فقدان کی حمایت نہیں کرے گا جس نے دنیا کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ سزا نما لاک ڈاؤن کو اس کے عین الٹ بنا کے رکھ دیا جو اس کی اصل اغراض ہونی چاہئیں تھیں۔

تماشوں کے شوقین شخص نے سب تماشوں کی ماں کو پیدا کر دکھایا۔

جب کہ ایک سہمی ہوئی دنیا محوِ تماشا تھی، بھارت نے اپنی تمامتر شرمناکی – اپنی سفاکانہ، ساختی، سماجی اور اقتصادی نابرابری، مصیبت زدگی کے لیے اپنی سنگدلانہ بے حسی – کے ساتھ خود سے پردہ اٹھایا۔

لاک‌ڈاؤن نے ایک ایسے کیمیاوی تجربے کا سا کام کیا جس سے اچانک چھپی ہوئی چیزیں چمک اٹھتی ہیں۔ جوں جوں دکانیں، ریستوران، کارخانے اور تعمیراتی صنعت بند ہوتی گئی، جوں جوں امیر اور متوسط طبقوں نے خود کو دروازہ بند کالونیوں میں محصور کر لیا، ہمارے قصبات اور میگاشہروں نے اپنے مزدور طبقات – اپنے تارک وطن مزدوروں – کو ایک ان‌چاہے فاضل مواد کی طرح نکال باہر کرنا شروع کر دیا۔

بہت سے مالکوں، مالک مکانوں کے دھتکارے ہوؤوں، کروڑوں افلاس کے ماروں، بھوکے، پیاسے لوگوں، بوڑھوں اور جوانوں، مردوں، عورتوں، بچوں، بیمار لوگوں، نابینا لوگوں، معذور لوگوں نے، جن کے پاس کہیں جانے کی کوئی راہ نہیں تھی، کوئی عوامی ٹرانسپورٹ نظر میں نہیں تھی، اپنے آبائی گاؤں کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا۔ وہ کئی دنوں تک بدایوں، آگرہ، اعظم‌گڑھ، علیگڑھ، لکھنؤ، گورکھپور کی طرف – سیکڑوں کلومیٹر دور تک چلتے رہے۔ کچھ تو راستے میں ہی مر گئے۔

وہ جانتے تھے کہ وہ ممکنہ طور پر فاقہ کشی کی رفتار گھٹانے کے لیے گھر جا رہے تھے۔ وہ شاید جانتے تھے کہ وہ خود بھی وائرس کے حامل ہو سکتے ہیں اور گھر پہنچ کر اپنے خاندانوں، اپنے والدین اور بزرگوں کو اس سے متاثر کر سکتے ہیں، لیکن انہیں اگر دلجوئی نہیں تو، اپنائیت، پناہ اور وقار کے شائبے کے ساتھ ساتھ خوراک کی ضرورت تو تھی۔

جب وہ چلے، تو کچھ کو پولیس کے ہاتھوں تشدد اور بے عزتی کا نشانہ بنایا گیا، جسے کرفیو کے سختی سے نفاذ کا ذمہ سونپا گیا تھا۔ جوانوں کو سڑک پر اوندھے جھکنے اور ڈڈو چال چلنے کا کہا گیا۔ بریلی کے شہر سے باہر، ایک گروہ کو ایک جگہ جمع کر کے ان پر کیمیکل سپرے کی بوچھاڑ ماری گئی۔

کچھ دن بعد، اس فکر کے تحت کہ انخلا کرنے والی آبادی دیہاتوں میں وائرس پھیلا دے گی، حکومت نے ریاستی سرحدوں کو پیدل لوگوں کے لیے بھی سیل کر دیا۔ کئی دنوں سے پیدل چلتے ہوئے لوگوں کو روک دیا گیا اور شہروں میں انہی کیمپوں میں واپس بھیج دیا گیا جہاں سے ابھی انہیں باہر ہانکا گیا تھا۔

بڑی عمر کے لوگوں میں اس سے 1947 کے تبادلۂ آبادی کی یادیں تازہ ہو گئیں، جب ہندوستان کا بٹوارہ ہوا اور پاکستان بنا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اب کے انخلا مذہب کی بجائے طبقاتی تقسیم کی بنیاد پر تھا۔ اس کے باوجود، یہ بھارت کے غریب ترین لوگ نہیں تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے پاس (کم از کم اب تک) شہر میں نوکری تھی اور واپس جانے کے لیے کوئی گھر تھا۔ بے روزگار، بے گھر اور لاچار جہاں تھے، کیا شہر کیا گاؤں، وہیں پڑے رہے، جہاں اس المیے کے رونما ہونے سے کافی پہلے گہرے اضطراب میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ان تمام اندوہناک دنوں میں، وزیر داخلہ امیت شاہ عوام کی نظروں سے اوجھل رہے۔

جب دہلی میں لوگ پیدل چلنا شروع ہوئے، میں نے دہلی اور اتر پردیش کے درمیان کی سرحد پر واقع غازی‌پور تک گاڑی لے جانے کے لیے اس رسالے کا پاس استعمال کیا جس کے لیے میں اکثر لکھتی ہوں۔

آگے کا منظر اناجیلی انداز کا تھا۔ یا شاید نہیں۔ ایسی تعداد انجیل بھی کیا جانتی ہو گی۔ سماجی فاصلے کے نفاذ کے لیے لاک‌ڈاؤن کا نتیجہ بالکل الٹ تھا – ایک ناقابل اندازہ پیمانے پر جسموں کی بھرائی۔ بھارت کے قصبوں اور شہروں کے اندر بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ مرکزی شاہراہیں تو خالی ہوں گی، لیکن غریبوں کو جھونپڑوں اور جھگیوں میں کھچا کھچ بھر کے بند کر دیا گیا ہے۔

پیدل چلتے لوگوں میں میں نے جس سے بھی بات کی سبھی وائرس کے بارے میں فکرمند تھے۔ لیکن یہ ان کی زندگیوں کو گھیرے ہوئے بے‌روزگاری، فاقہ کشی اور پولیس کے تشدد کی نسبت کم حقیقی، کم حاضر تھا۔ وہ سب لوگ جن سے میں نے اس دن بات کی، بشمول مسلمان درزیوں کے اس گروہ کے جو ابھی کچھ ہفتے پہلے مسلم کش حملوں سے زندہ بچے تھے، ایک شخص نے مجھے خاص طور پر پریشان کیا۔ وہ رامجیت نامی ایک ترکھان تھا، جس کا گورکھپور سے نیپال کی سرحد تک پیدل جانے کا ارادہ تھا۔

“شاید جب مودی‌جی نے ایسا کرنے کا فیصلہ کیا تھا، انہیں ہمارے بارے کسی نے نہیں بتایا۔ شاید وہ ہمارے بارے میں جانتے ہی نہیں”، اس نے کہا۔

“ہم” سے مراد اندازاً 46 کروڑ لوگ ہیں۔

بھارت کی ریاستی حکومتوں نے (جیسا کہ امریکہ میں ہوا) اس بحران میں کہیں زیادہ دل اور سمجھ بوجھ دکھائی ہے۔ ٹریڈ یونینیں، شہری اور دوسرے گروہ خوراک اور ہنگامی راشن تقسیم کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت مالی امداد کی پرزور اپیلوں کی شنوائی میں سست ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم کے قومی ریلیف فنڈ میں پہلے سے کوئی نقد رقم دستیاب نہیں ہے۔ اس کی بجائے، کچھ پراسرار سے نئے PM-CARES فنڈ میں خیرخواہوں کی طرف سے رقم انڈیلی جانے لگی ہے۔ پہلے سے ملفوفہ کھانے مودی کی تصویر کے ساتھ اب نظر آنے لگے ہیں۔

اور تو اور، وزیر اعظم نے اپنی یوگا نِدرا ویڈیوز کی سانجھ کی ہے، جس میں الگ تھلگ ہونے کی تکان سے نمٹنے کے لیے ایک جعلی، اینی‌میٹڈ مودی ایک خوابوں کے بدن کے ساتھ یوگا آسنوں کا مظاہرہ کرتا ہے۔

یہ نرگسیت کافی پریشان کن ہے۔ شاید ان میں سے ایک آسن، ایک عرضگزاری آسن بھی ہو جس میں مودی جی فرانسیسی وزیر اعظم سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں رافیل لڑاکا طیاروں کی اس پریشان کن ڈیل سے مکرنے کی اجازت دی جائے اور وہ 7 کروڑ 80 لاکھ یورو ان چند کروڑ بھوکے لوگوں کی امداد کے لیے اشد طور پر درکار ہنگامی اقدامات کے لیے استعمال کر لیے جائیں۔ یقیناً فرانسیسی اس بات کو سمجھ پائیں گے۔

لاک ڈاؤن کے دوسرے ہفتے میں داخل ہوتے ہی، رسد کی زنجیریں ٹوٹنے لگی ہیں، ادویات اور ضروری سامان کمیاب ہو رہا ہے۔

ہزاروں ٹرک ڈرائیور ہائی‌ویز پر، بہت تھوڑی خوراک اور پانی کے ساتھ مارے مارے پھر رہے ہیں۔ کٹائی کے لیے تیار، کھڑی فصلوں کو آہستہ آہستہ گُھن کھا رہا ہے۔ اقتصادی بحران سر چڑھ چکا ہے۔ سیاسی بحران جاری ہے۔ سَردھاری میڈیا نے کووڈ کہانی کو اپنی 24/7 زہریلی مسلم مخالف مہم میں رکھ لیا ہے۔ تبلیغی جماعت نامی ایک تنظیم، جس نے لاک‌ڈاؤن سے پہلے دہلی میں ایک اجتماع منعقد کیا تھا، اس کی “مہا پھیلاؤکار” بن کر سامنے آئی ہے۔ یہ مسلمانوں پر کلنک ملنے اور عفریت بنانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ مجموعی طور پر لہجہ ایسا رکھا جا رہا ہے کہ وائرس مسلمانوں نے ایجاد کیا ہے اور وہ جہاد کی ایک شکل کے طور پر جان بوجھ کر اس کو پھیلا رہے ہیں۔

کووڈ بحران ابھی اور آئے گا، یا نہیں۔ ہمیں نہیں جانتے۔ اگر، اور جب ایسا ہوتا ہے، ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس سے نمٹا جائے گا، مذہب، ذات اور طبقہ کے تمام تر روز افزوں تعصب کے ساتھ جو پوری طرح اپنی جگہ قائم ہے۔

آج (2 اپریل کو) بھارت میں تقریباً 2000 مصدقہ کیسز ہیں اور 58 اموات ہو چکی ہیں۔ یہ یقیناً غیر معتبر اعداد و شمار ہیں، جو افسوس ہے کہ بہت تھوڑے ٹیسٹوں پر مبنی ہیں۔ ماہرین کے مؤقف بے تحاشا مختلف ہیں۔ کچھ پیش بینیاں ہیں کہ ملین کے حساب سے کیس ہوں گے۔ دیگر کچھ سمجھتے ہیں کہ نقصان کہیں کم ہو گا۔ ہم اس بحران کے حقیقی محیط کو شاید کبھی نہ جان پائیں، یہاں تک کہ یہ ہمیں آ لے۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ عارضی ہسپتال ابھی شروع ہی نہیں ہوئے۔

بھارت کے عوامی ہسپتال اور کلینک – جو ہر سال اسہال، غذائیت کی کمی اور دیگر صحت کے مسائل سے مرنے والے تقریباً دس لاکھ بچوں، لاکھوں ٹی‌بی کے مریضوں (دنیا بھر کی چوتھائی) سے نمٹنے کے قابل بھی نہیں ہیں، خون کی کمی اور غذائیت کے مسائل کا شکار آبادی جو کہ ایسی کئی کئی معمولی امراض کی زد پر ہیں جو ان کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔ ایسے بحران سے نہیں نمٹ پائے گی جس سے امریکہ اور یورپ اس وقت نبرد آزما ہیں۔

تمام حفظان صحت کم و بیش ایک ٹھہراؤ پر جا چکا ہے کیونکہ ہسپتال وائرس سے متعلق خدمات سے پر لگ گئے ہیں۔ دہلی میں لیجنڈری آل انڈیا انسٹی‌ٹیوٹ برائے میڈیکل سائنسز بند ہو گیا ہے، سیکڑوں کینسر کے مریض، جنہیں کینسر مہاجرین بھی کہا جاتا ہے جو ہسپتال کے باہر سڑکوں پر رہتے ہیں، انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح دور ہانک دیا گیا ہے۔

لوگ گھروں پر بیمار پڑیں گے اور مر جائیں گے۔ کوئی ان کی کہانی نہیں جانے گا۔ ہو سکتا ہے وہ شماریات میں بھی نہ آئیں۔ ہم اس بات کی صرف امید ہی کر سکتے ہیں کہ وہ تحقیقات درست ہوں کہ وائرس کو ٹھنڈا موسم راس ہے (جبکہ دوسرے محققین کو اس پر شبہات ہیں)۔ لوگوں نے ایک جھلسا دینے والے، کربناک ہندوستانی موسم گرما کی ایسی غیر عقلی خواہش اس سے پہلے کبھی نہیں کی۔

ہم سب کو کیا ہو گیا ہے؟ جی ہاں، یہ ایک وائرس ہے۔ خود اپنی ایک سرزمین میں یہ کوئی اخلاقی عقیدہ نہیں رکھتا۔ لیکن یہ یقینی طور پر ایک وائرس سے کچھ بڑھ کر ہے۔ کچھ کا ماننا ہے کہ یہ ہمیں ہوش میں لانے کی کبریائی ادا ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ دنیا پر قبضہ کرنے کی چینی سازش ہے۔

یہ جو کچھ بھی ہے، کرونا وائرس نے دنیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے اور ایسے ساکت کیا ہے جیسے اور کوئی چیز نہ کر سکی تھی۔ ہمارے دماغ ابھی تک چکر میں ہیں، اور “معمولات” پر لوٹ آنے کے لیے بیتاب ہیں، اپنے مستقبل کو ماضی کے ساتھ ٹانکنے کی کوشش کرتے ہوئے اور بیچ کی دراڑ کو تسلیم کرنے سے انکاری۔ لیکن یہ دراڑ ہے تو سہی۔ اور اس بھیانک اداسی میں، یہ ہمیں اس قیامت خیز مشین پر دوبارہ غور کرنے کا موقع دیتی ہے جو ہم نے خود اپنے لیے بنا لی ہے۔ معمولات کی طرف واپس لوٹ جانے سے زیادہ بری کوئی چیز نہیں ہو گی۔

تاریخی طور پر، عالمی وباؤں نے انسانوں کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ ماضی سے تعلق توڑ کر دنیا کو نئے سرے سے تصور میں لائیں۔ یہ اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ یہ ایک گزرگاہ ہے، ایک دنیا اور اس سے اگلی دنیا کے درمیان ایک دریچہ۔

یہ ہم پر منحصر ہے کہ اس سے گزرتے ہوئے، ہم اپنے تعصبات، نفرت اور اپنے حرص کے ملبوس، اپنے ڈیٹا بینکوں اور مردہ خیالات، اپنے مردہ دریاؤں اور غبار آلود آسمانوں کو بھی ساتھ گھسیٹ لائیں۔ یا ہم اس سے ہلکے پھلکے گزریں، بہت تھوڑے بوجھ کے ساتھ، نئی دنیا کے لیے سوچنے پر تیار۔ اور اس کے لیے لڑنے کے لیے تیار۔

Categories
نان فکشن

وبا کے دنوں کا خواب – تالیف حیدر

میں جانتا ہوں کہ انسان اپنی زندگی میں بہت ساری باتوں کے متعلق سوچتا ہے اس خواہش کے ساتھ کہ کاش وہ سچ ہو جائیں، لیکن ان میں سے اکثر سچ نہیں ہوتیں، اس کے باجود انسان خواب دیکھتا ہے اور اس خیال کو اپنے ذہن سے کبھی نکال نہیں پاتا ہے کہ اس کی سوچی ہوئی باتیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ یقیناً میں بھی کچھ اسی کیفیت میں ہوں، اس لمحے جب میں سو چنے پہ مجبور ہوں کہ میرا یہ خواب جسے میں اس وبا کے دوران دیکھ رہا ہوں و ہ کیوں کر سچ ہو گا۔ہم اور آپ ان دنوں اپنے گھر وں میں ہیں، دنیا کے زیادہ تر لوگ خواہ وہ امیر ہو یا غریب ایک انجان سی بیماری سے ڈرے ہوئے ہیں۔ موت اور بیماری کا ڈر جو ہمیں ایک کونے میں سمیٹے دے رہا ہے۔ لوگوں سے، انسانوں سے اور اپنوں تک سے دور کر رہا ہے۔ اس لیے ہم اس وبا کو ایک وحشت بھر ی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اس کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ زندگی جو ابھی چند مہینوں پہلے بالکل معمول پہ چل رہی تھی کاش پھر سے ویسی ہی ہو جائے۔ لیکن ابھی ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے سوائے اس خیال کے کہ زندگی دوبارہ ڈھرے پہ لانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ میرا خواب اسی ڈھرے سے جڑا ہوا ہے۔

آپ کو شائد کچھ اچھا نہ لگے لیکن میں ان دنوں ایک مصیبت میں مبتلا ہوں کہ میں دوبارہ وہ اپنی ماضی والی زندگی چاہتا بھی ہوں یا نہیں۔ بے شک مجھے ابھی نہیں معلوم کہ یہ وبا کتنی پھیلے گی یا ہم اس کا کوئی کار گر علاج کب تک تلاش کر پائیں گے، میں خود جو اس وقت اپنے خواب کی باتیں کر رہا ہوں وبا کے شکنجے سے محفوظ رہوں گا یا نہیں، اس خواہش کے ساتھ سانس لے رہا ہوں کہ مجھے اپنی ما قبل وبا والی زندگی میں نہیں لوٹنا۔ بے شک سب معمول پہ آ بھی جائے تو مجھے اپنی زندگی کو ایک نئے طرز سے دوبارہ شروع کرنا ہے، میں اس خیال کے ساتھ خود کو نہ جانے کیوں بہت مسرور پاتا ہوں کہ شائد یہ وبا جو ہماری جانوں سے کھیل رہی ہے، جس کے باعث ہزاروں زندگیوں کے چراغ گل ہو گئے ہیں اور لگاتار ہو رہے ہیں، ہمیں کچھ سکھا رہی ہے، یہ کسی میڈیا کے اینکر کا چیختا ہوا جملہ نہیں ہے، بلکہ ایک احساس ہے جسے ہمیں اپنے اندرون میں محسوس کرنا چاہئے۔

کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ وبا پوری دنیا میں کئی برسوں بعد اس خیال کو پیدا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے کس حد تک جڑے ہوئے ہیں۔ انسانیت ایک دوسرے سے کتنی وابستہ ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس بیماری کا کوئی پہلو مسرت بخش اور اچھا نہیں گردانہ جا سکتا، لیکن اسے ایک نظریے کےطور پہ دیکھنے کی کوشش کی جائے تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ ہم نے آخری بار کب اس بات پہ اپنے اندر کوئی تحرک محسوس کیا تھا جب ہم سے ہزاروں کوس دور بیٹھا ہوا کوئی شخص کسی بیماری سے مرا تھا۔ یہ موتیں جو ہمیں آئے دن میڈیا سے سننے کو ملتی ہیں یا وہ لوگ جن کے بارے میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس انجانی وبا کا شکار ہو گئے ہیں تو ہم اندر سے دہل جاتے ہیں، وہ بھی صرف یہ سوچ کر نہیں کہ یہ کسی طرح اس شخص سے ہم تک نہ پہنچ جائے بلکہ یہ سوچ کر کہ یہ اس شخص کو اور اس کے اطراف کے لوگوں کو کتنا پریشانی میں مبتلا کرے گی۔ بہت سے لوگ اس بات پہ معترض ہو سکتے ہیں کہ یہ بیماری کسی کی کوتاہی اور لا پروائی سے پھیلی ہے، بہت سے اس بات سے بھی دکھی ہو سکتے ہیں کہ یہ حکومتوں کی چشم پوشی کا صلا ہے، لیکن جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ یہ وبا ہر حال میں دھیرے دھیرے اپنے پاوں پھیلا رہی ہے تو ہمیں یہ خیال نہیں آتا کہ یہ فلاں کو نقصان پہنچائے اور فلاں کو نہیں۔ ہم اور آپ نفرت کی جس عالمی منڈی میں بیٹھیے سیاست کی کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں اور جس کے باعث تقسیم اور انتشار ہمارے ذہنوں میں گھر کرتا چلا جا رہا ہے اس وبا نے اسے ختم کرنے کا سامان مہیہ کیا ہے۔ یقیناً یہ انسانوں کا لہو پی رہی ہے، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ پوری دنیا اس وقت ایک ایسے انتشار کے عالم میں مبتلا ہے کہ خود ایک دوسرے کی جان کی دشمن بنی ہوئی ہے۔ امریکہ اور ایران میں موتوں کی خبر جب ایک ساتھ آتی ہے یا پاکستان اور ہندوستان میں اس بیماری کے متاثریں کا گراف ہمیں نظر آتا ہے تو ہم یکساں طور پہ مغموم ہوتے ہیں۔ حالاں کہ اس امر کی تحقیق جاری ہے کہ آخر یہ وبا چین کی وجہ سے پھیلی یا کسی اور ملک کی وجہ سے، اس کو پیدا کرنے والا کوئی تکنیکی ہتھیار بنا رہا تھا یا سپر پاور بننے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن ان سب باتوں کے درمیان ہمیں اس بات پہ بھی غور کرنا چاہیے کہ یہ وبا جتنے لوگوں کی جانیں لے رہی ہے اس سے ہم ایک نئی زندگی کی جانب اپنا سفر شروع کریں، جو لوگ اس وبا سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں ہمیں ان کی موت کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہئے، ان کی موت خواہ کسی تکنیکی ہتھیار کی سیاسی سازش کے تحت ہوئی ہو یا ایک انجانی وبا کے اصل اسباب کی بنا پہ ہمیں انہیں ان شہدا میں گنا چاہیے جنہوں نے زندگی کے دھارے کو تبدیل کرنے کا کام انجام دیا ہو۔ میرا خواب جس کے تحت میں اپنی ماضی کی زندگی میں نہیں لوٹنا چاہتا اسی خیال سے جڑا ہوا ہے کہ ہم اس نفرت اور حرص بھرے ماحول میں دوبارہ کیوں لوٹیں جہاں سے زندگی کے اس موڑ پہ پہنچ کر ہمیں یعنی تمام انسانیت کو ایک انجانے خوف سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں میں بند ہو کر اپنے مستقبل پہ غور کرنے کا موقع ہاتھ آیا ہے، خواہ وہ کوئی حکومتی ادارے کا بڑا افسر ہو یا کسی ذاتی کمپنی کا سربراہ، کسی نجی دکان کا مالک ہو یا چار پیسوں پہ گزارا کرنے والا کوئی مزدور۔ ہم سب کو یہ سوچنے کا موقع نصیب ہوا ہے کہ زندگی کے تبدیل کرنے کا راستہ کیا ہوتا ہے۔ ہم سب ایک سی مصیبت میں ہیں اور یہ ایک سی مصیبت ہمیں ایک کرنے میں کوشاں ہے، تو کیا ہم اس امر کی جانب قدم نہیں بھڑانا چاہیں گے جس سے دوریاں اور نفرتیں جو ہمارے اطراف میں خود غرضی کے باعث گھلی ہوئی ہیں انہیں سینیٹائز کر دیا جائے، قومی اور ملی، مفاد، ملکی اور غیر ملکی تعصب،مذہبی اور غیر مذہبی حرکات و سکنات سے آگے نکل کر ہم ایک نئی دنیا کو تشکیل دینے کی جانب قدم بڑھائیں۔

میں اپنے ماضی کی طرف نہیں لوٹنا چاہتا، اس لیے کیوں کہ میں جس ماحول میں سانس لیتا رہا ہوں وہاں مجھے سیاسی الجھنوں کا شکار ہونا پڑا ہے، مذہبی جھگڑوں کا قہر جھیلنا پڑا ہے، بے روز گاری کی مار، حقارت کی نظریں، اونچ نیچ کی بپتا، رنگ، نسل کی تقسیم اور اسی نوع کے بے شمار عذاب برداشت کرنے پڑے ہیں۔ ان دنوں جو میں اپنے کمرے میں قید ہوں تو اس بات پہ میرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آتی ہے کہ فی الحال ہی سہی کوئی مذہبی دنگا نہیں ہو رہا ہے، جز وقتی ہی سہی لیکن پڑوسی ممالک سے نفرت کی آگ نہیں بھڑک رہی ہے۔ کچھ دیر کے لیے ہی سہی ہم لوگوں کے بھوکے پیٹوں کے متعلق سوچ رہے ہیں، مزدوروں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے کے بجائے ان کی مدد کرنے میں کوشاں ہیں۔ میں اس ماضی میں نہ لوٹنے کا خواب اس لیے دیکھ رہا ہوں کیوں کہ میں نے وہاں لوگوں کو بھوک سے بلبلاتے دیکھا ہے اور اس تجربے سے گزرا ہوں کہ ان سے ایک روٹی کو پوچھنے والا کوئی نہ تھا، میں نے اس زندگی میں لوگوں کے چہروں پہ اپنے جیسے دکھنے والے انسانوں کے لیے نفرت دیکھی ہے، اتنی زیادہ کہ جس میں برداشت کا شائبہ تک موجود نہ تھا، میں نے جھوٹے نعرے اور کھوکھلے وعدے دیکھے ہیں، عورتوں پہ ہونے والے مظالم اور بچوں کی لاشوں کے کاروبار دیکھے ہیں۔ میں آج جب اپنی بالکنی پہ کھڑا ہوتا ہوں یا اپنی چھت پہ تنہا ٹہلتا ہوں تو اس بات پہ غور کرتا ہوں کہ اگر یہ وبا چند روز بعد چلی بھی گئی یا ہم نے اس سے لڑنے کا کوئی ہتھیار بنا بھی لیا تو کیا ہوگا۔ ہم دوبارہ اپنی وحشیانہ اور لالچی حرکتوں کے ساتھ سڑکوں پہ اتر آئیں گے۔ حکومتیں لالچ اور مذہب کا کاروبار شروع کر دے گیں۔ لوگوں کے چیخ پکار سے ہوا آلودہ ہونے لگے گی۔ انسانی حقوق کی پامالی کا مظاہرہ ہونے لگے گا اور اسے عوام پہ ظاہر کرنے کے لیے لوگ راستوں پہ بھیڑ لگا کر جمع ہو جائیں گے۔ حفاظتی دستے اپنی طاقت کا غلط استعمال کریں گے۔ جوان لڑکیوں کی عزت پامال ہوگی اور کمزور وں کو ان کی تہذیب اور ماننیتاوں کے لیے مورد الزام ٹھہرا کر سر عام قتل کیا جائے گا۔ انسان سے زیادہ جانوروں کو اہمیت دی جائے گی۔ پڑوسی پڑوسی پہ چیخے گا، شناخت کے مسائل پھر سر اٹھائیں گے اور انسان بندوق کی نال کو سیدھا کر کے اپنی ناجائز خواہشیں پوری کرتا پھرے گا۔ پھر غریبوں کے بارے میں کون سوچے گا۔ مزدوروں کی دو وقت کی روٹی کی ذمہ داری حکومت کیوں لے گی۔ امیر اپنے گھروں میں کام کرنے والوں کی تنخواہوں کے عوض میں انہیں چھٹیاں کیوں دیں گے۔ یقیناً اس وقت زندگی کا پہیا بالکل دھیما پڑ گیا ہے، لوگ اپنے کاموں پہ نہیں جا پا رہے ہیں، طرح طرح کی مصیبتوں کے شکار ہو رہے ہیں، معاشی نظام متاثر ہوتا چلا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ بہت دیر تک نہیں چل سکتا۔ یہ وبا خواہ کتنے ہی ہزاروں لوگوں کی جانیں کیوں نہ لے لے، زندگی کو دوبارہ اپنے ٹریک پہ آنا ہے اور وہ یقیناً آ کر رہے گی، لیکن اگر ہم ذرا غور کریں اور اس امر کی جانب ایک قدم پڑھائیں کہ وہ ٹریک جس پہ دوبارہ زندگی کا پہیا دوڑے گا اس کا سفر ظلم و استبداد، حرص و طمع کی طرف نہ ہو کر انسانیت کی طرف ہو تو کتنا بہتر ہے۔ ایسی انسانیت جو بالکل اس وبا کی طرح انوکھی ہو، جس سے ہم اب تک بالکل انجان ہیں اور جس کا کوئی لائحہ عمل بھی ابھی ہمارے پاس نہیں ہے، لیکن اگر ہم عزم کریں اور دوبارہ اس گھناونی دنیا کی طرف نہ لوٹنے کی سعی کو اپنا لکش بنا لیں تو مجھے یقین ہے کہ جس طرح بارہ مہینے میں ہم اس وبا کی ویکسین بنا سکتے ہیں اسی طرح کوئی نہ کوئی نئی انسانیت کا لائحہ عمل بھی ضرورتیار کر ہی لیں گے۔