Categories
خصوصی

حقائق نامہ اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ

[blockquote style=”3″]

یہ چشم کشا دستاویز لاہور کے ثقافتی ورثے، آبادی اور شناخت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں کی تحقیق اور محنت کا نتیجہ ہے۔ اورنج لائن میٹرو منصوبے کے تباہ کن اثرات سے لاہور کو محفوظ بنانے کے لیے جدوجہد کرنے والے ان رضاکاروں کی جانب سے جاری کیے گئے اس حقائق نامے کو مفاد عامہ کی غرض سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔ ہم قارئین سے التماس کرتے ہیں کہ ان حقائق کو پڑھیے، سمجھیے اور پھر اورنج لائن میٹرو ٹرین کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیجیے۔ لاہور کا مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے۔

[/blockquote]

حقائق نامہ لاہور ماس ٹرا نزٹ سسٹم

 

2007 میں چار لائنوں کے بنائے اور ڈیزائن کئے گئے منصوبے پر من و عن عمل نہیں کیا گیا ۔
گرین لائن: لمبائی 27 کلو میٹر: یہ منصوبہ دراصل ٹرین کا منصوبہ تھاجسے میٹرو بس منصوبے میں تبدیل کردیا گیا۔ اپنی اصل شکل میں اس منصوبے کو ڈیزائن کے مطابق مال روڈ سے منسلک ہونا تھا۔ میٹرو بس کا تعمیر شدہ منصوبے اصل منصوبے کی نسبت صرف ایک تہائی مسافروں کی سفری ضروریات پوری کرنے کی گنجائش رکھتا ہے اور اپنی بناوٹ کے لحاظ سے تادیر قائم نہیں رہ سکتا اسے بالآخر ٹرین منصوبے میں تبدیل کرنا پڑے گا۔
پرپل لائن: لمبائی 19 کلومیٹر: داتا دربار سے لے کر غازی روڈ تک بشمول لکشمی چوک، پنجاب اسمبلی،آواری ہوٹل،واپڈا ہاؤس، لارنس ہال،گورنر ہاؤس، ایچی سن کالج اور ایئر پورٹ۔
بلیو لائن: لمبائی 24 کلومیٹر: ایڈن ایونیو سے لےکر چوبرجی تک بشمول میانی صاحب قبرستان، لاہور کالج، کنیئرڈ کالج، سروسز ہسپتال،علامہ اقبال میڈیکل کالج،برکت مارکیٹ۔

 

اصل منصوبہ مربوط اور جامع ماس ٹرانزٹ نظام پر مبنی تھا
اصل منصوبہ مربوط اور جامع ماس ٹرانزٹ نظام پر مبنی تھا
حقائق نامہ اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ:

 

کل لمبائی: 27.1کلومیٹر بشمول 1.7 کلومیٹر جزوی زیر زمین( کٹاؤ+چھت) اور25.4 کلومیٹر بزریعہ پل حالانکہ اصل ڈیزائن میں اندرون شہر کا 7 کلومیٹر کا حصہ زیرزمین بننا تھا۔

 

غلط اور کل لاگت سے کم اعداد و شمار:

 

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق PC-1 منصبے کی لاگت 162 ارب روپے ہے جبکہ منصوبے کے لئے واگزار کرائی گئی زمین کی قیمت 21 ارب 46 کروڑ روپے اور مختلف اداروں کی تنصیبات کی منتقلی اور کام کی غرض سے اخراجات جن میں پی،ٹی،سی،ایل اور ایل ڈی اے کا خرچ9.5 ارب روپے، ٹریفک مینجمنٹ کے لئے2.57 ارب روپے، میڈیا مہم کے لئے 2.57 ارب روپے اور پی،ایح،اے کے لیے 5.15 ارب روپے اور دیگر متفرق اخراجات کے لئے مختص کردہ 1.03 ارب روپے بھی شامل کریں تو اس منصبے کی اصل لاگت دستیاب دستاویزات کے حساب سے 192.2 ارب روپے بن جاتی ہے جبکہ خبروں کے مطابق اس منصوبے کی لاگت 217 ارب روپے ہے ۔

 

اس لاگت میں گھروں کی مسماری،سرمائے کی قیمت سود یا قرض کی صورت میں، ریڑھی پھیری لگانے والوں کے نقصان کا تخمینہ، گلی محلوں اور ورثے کی توڑ پھوڑ اور انہیں کمزور کرنے اور ماحول اور صحت سے متعلقہ مسائل کی قیمت شامل نہیں ہے اس کے باوجود سرکاری طور پر بتائی گئی لاگت سے کہیں زیادہ رقم اس منصوبے پر خرچ کی جائے گی۔ اس منصوبے کے لئے 74 میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہو گی جو اس منصوبے کو چلانے کے لیے درکار رقم میں اضافے کے ساتھ ساتھ، لوڈ شیڈنگ میں اضافے کا بھی باعث بنے گی۔

 

کمرشل قرضہ جات کا معاہدہ خفیہ رکھنا:

 

ایگزم بنک چین کے ساتھ تجارتی معاہدے کو بین الحکومتی فریم ورک کی آڑ میں خفیہ رکھا گیا جبکہ 162.6 ارب روپے کے اس قرض میں 92.2 ارب روپے چینی فرموں سے سامان کی خریداری کے لیے استعمال کیا جانا ہے جبکہ اس قرض پر صرف پہلے سال ساڑھے پانچ ارب روپے کا سود ادا کرنا پڑے گا۔

 

چودہ ارب سالانہ سبسڈی:

 

یکطرفہ کرایہ کرایہ بیس روپے وصول کیا جائے گا تو اس کے لیے سالانہ 14 ارب روپے کی سبسڈی دینی پڑے گی جو لاہور کے پانچ بڑے سرکاری ہسپتا لوں( میو، سروسز، جناح، شیخ زید اور جنرل ہسپتال) کے سالانہ بجٹ کے برابر ہے۔ پنجاب کے 16-2015 کے ترقیاتی بجٹ کے مطابق واٹر سپلائی اور سیوریج کا بجٹ 24 ارب روپے ہے جبکہ تعلیم کا بجٹ 55.5 ارب روپے اور صحت کا بجٹ30.7 ارب روپے ہے۔

 

اورنج ٹرین پر دی جانے والی سبسڈی لاہور کے ہسپتالوں کے سالانہ بجٹ کے برابر ہو گی
اورنج ٹرین پر دی جانے والی سبسڈی لاہور کے ہسپتالوں کے سالانہ بجٹ کے برابر ہو گی
کاروباری مراکز اور ذرائع معاش کی توڑُپھوڑ:

 

ملتان روڈ،میکلوڈ روڈ اورجی ٹی روڈ پر ناقص منصوبہ بندی اور عجلت کے سبب 27 کلومیٹر پر تعمیر کی وجہ سے ہزاروں دکانیں/کاروباری مراکز اور سینکڑوں ریڑھی بان،خوانچہ فروش بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور تعمیراتی کام کے پہلے چھ ماہ میں ان کے نقصان کا تخمینہ اندازا 21 ارب روپے ہے۔

 

اس منصوبے کی تعمیر سے اب تک ہونے والا نقصان
اس منصوبے کی تعمیر سے اب تک ہونے والا نقصان
ورثے کی تباہی:

 

نیسپاک منصوبے کے موجودہ ڈیزائن اور راستے کی بدولت قیمتی ورثے کی تباہی کا خدشہ ہے۔ تاریخی ورثہ شمار کیے جانے والے 11 میں سے 5 تاریخی مقامات جن میں دربار بابا موج دریا سرکار، لکشمی بلڈنگ، سینٹ انڈریو چرچ، جی۔ پی۔ او اور سپریم کورٹ رجسٹری کی بلڈنگ اور شالامار ہائیڈرولک ورک شامل ہیں کو جزوی یا مکمل مسمار کیے جانے کا اندیشہ ہے جکہ باقی ماندہ چھ تاریخی مقامات اور عمارات جن میں گلابی باغ، بدھو کا آوا، شالیمار باغ، چوبرجی، جی- پی- او، ایوان اوقاف اور کیتھڈرل چرچ شامل ہیں ہمیشہ کے لیے میٹرو ٹرین کے پیچھے چھپ کر اپنی اصل شان و شوکت کھو بیٹھیں گے۔ اسی طرح انگریز دور کے تعمیر شدہ دیگر اور بہت سے مقامات اور عمارتیں جن میں سینٹ پال چرچ بھی شامل ہے تباہ کیے جا چکے ہیں۔ اس تاریخی نقصان کا ازالہ کسی طرح ممکن نہیں، ان تاریخی مقامات کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اس بابت لاہور ہائیکورٹ اوریونیسکو کی واضح ہدایات موجود ہیں کہ ان تاریخی مقامات اور عمارات کی حدود میں 200 فٹ تک تعمیر اور کھدائی نہیں کی جا سکتی۔ ان احکامات کی خلاف ورزی سے لاہور کو مستقل طور پر سیاحتی آمدن سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے جبکہ ترکی سالانہ پچیس سے تیس ارب ڈالر صرف سیاحت سے کماتا ہے ۔

 

اورنج میٹرو کا پُل تاریخی عمارات کو پس منظر میں دھکیل دے گا
اورنج میٹرو کا پُل تاریخی عمارات کو پس منظر میں دھکیل دے گا
آبادیوں کی مسماری اور بے دخلی:

 

اورنج میٹرولائن کے لیے جاری تعمیرات کی وجہ سے پورے روٹ پر رہائشی اور کمرشل عمارات منہدم کی گئی ہیں۔ صرف پرانی انارکلی میں واقع کپور تھلہ ہاؤس کی مسماری سے دس ہزارافراد اور دربار موج دریا کے ارد گرد سال ہا سال سے آباد ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ ان آبادیوں میں موجود سکول، مساجد، امام بارگاہیں،ڈاک خانے اور کلینک تک مسمار کر دیے گئے ہیں۔ اسی طرح میکلوڈ روڈ، نکلسن روڈ اور پیرا شوٹ کالونی میں بھی یہی عمل دہرایا جا چکا ہے۔

 

بے گھر کیے گئے افراد کے معاوضے کا معاملہ:

 

بے گھر کیے گئے افراد میں سے صرف انہی افراد کو معاوضے ادا کیے گئے ہیں جن کے پاس ملکیتی کاغذات موجود تھے۔ معاوضے کی ادائیگی کے لیے مختلف مقامات پر مختلف طریق کار اپنائے گئے۔ معاوضے کی شرح بھی بازاری نرخ کے حساب سے بے حد کم ہے۔ بنگالی بلڈنگ میں ستر سال مقیم آٹھ سے دس افراد پر مشتمل کنبوں کو فی خاندان 10 لاکھ کے حساب سے ادائیگی کی گئی ہے، اس رقم میں لاہور میں کسی جگہ چھوٹے سے چھوٹا گھر بھی نہیں خریدا جا سکتا۔ ایسا ہی برتاو مہاراجہ بلڈنگ کے مکینوں کے ساتھ بھی روا رکھا گیا ہے۔

 

قوانین کی خلاف ورزی:

 

اس بات کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ کس طرح سے حکومت نے زمین مالکان کے پاس ہائیکورٹ کا حکم امتناعی موجود ہونے کے باوجود اس منصوبے کے لیے زمین واگزار کروانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ گھروں کی مسماری کے لئے لوگوں کو ڈرایا اور دھمکایا گیا ہے ۔ ریلوے کالونی کے بہت سے رہئائشیوں کو کسی قسم کا معاوضہ نہیں دیا گیا۔ زمین واگزار کرانے کے قانون کہ مطابق جائیداد کی قیمت کے 115 سے 125 فیصد کے حساب سے ادائیگی کی جانی چاہیئے۔ زمین کی قیمت کے علاوہ کاروبار کے نقصان اور نئی جگہ کی منتقلی کے اخراجات کی ادائیگی بھی حکومت کی ذمہ داری ہے مگر ان قانونی ضوابط پر عمل نہیں کیا گیا۔

 

آئین پاکستان، بین الاقوامی ورثے کے تحفظ سے متعلق کنونشن سمیت متعدد عالمی و ملکی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے معلومات تک رسائی کے قانون، عالمی کنونشن برائے اقتصادیات اور سماجی و ثقافتی حقوق سے متعلق عالمی قوانین اور معاہدوں کو بھی پامال کیا گیا ہے۔

 

ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی:

 

اس منصبے کے لئے ماحولیاتی تبدیلیوں کے متعلقہ ادارے ای۔ آئی۔ اے کی مرتب کردہ رپورٹ جعلی تھی اور حقائق کے برعکس تھی۔ EIA کی رپورٹ کے مطابق اورنج ٹرین کے پروجیکٹ کی خاطر620 درخت کا ٹے گئے جبکہ ان کی اصل تعداد 3653 تھی۔

 

مجرمانہ غفلت کی وجہ سے اموات:

 

The Environment Mitigation and Management Plan (EMMP) کے قوانین پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اس منصوبے کی تعمیر شروع ہونےسے اب تک 30 اموات واقع ہو چکی ہیں۔ ان اموات کے علاوہ معاوضے نہ ملنے اور غیر یقینی صورت حال کے باعث خودکشیوں کے واقعات اور عام شہریوں کی اموات بھی رپورٹ کی گئی ہیں۔ منصوبے پر کام کرنے والے مزدوروں کی تربیت نہ ہونے، حفاظتی تدابیر پر عمل نہ کرنے، تعمیر کی جگہ کو مکمل طور پر نہ ڈھانپنے اور ٹریفک کی روانی کے دوران بھاری مشینری کو گزارنے سے بھی حادثات پیش آئے ہیں۔ مشینری اور سازوسامان لانے والے ڈرائیور بھی تربیت یافتہ نہیں جو سنگین حادثات کا باعث بن سکتا ہے۔

 

لاھورماس ٹرانزٹ سسٹم کی تباہی:

 

اس منصوبے کے اصل ڈیزائن کے مطابق٪17 ٹریفک نے گرین لائن سے اورنج لائن پر منتقل ہونا تھا لیکن ڈیزائن میں تبدیلی کے بعد اب ایسا ہونا ممکن نہیں۔ اس خامی کی وجہ سے اس منصوبے کی تکمیل کے بعد بھی ٹرانسپورٹ کی ضروریات کا پورا ہونا تقریباً ناممکن ہے۔

 

کیا حکومت کے پاس شہریوں کے ان سوالات کے جواب ہیں؟

 

پنجاب اسمبلی میں اتنے بڑے منصبے پر بحث کیوں نہیں ہوئی؟ اور نہ ہی عوامی سطح پر کوئی بحث کی گئی؟
دو سال کی تحقیق کے بعد بنائے گئے منصوبے کے ڈیزائن میں کس نے اور کیوں تبدیلی کی؟
ایک غیر پائیدار اور بے ربط ٹرانسپورٹ منصوبے کو اہل لاہور پر مسلط کیوں کیا جا رہا ہے؟
ماحولیات کے تحفظ کے ادارے کے پاس اس منصوبے سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینے کی صلاحیت کیوں نہیں ہے۔
محمکہ آثار قدیمہ نے اسپیشل پریمسسز ایکٹ اور محکمہ آثار قدیمہ کی مقرر کردہ 200 فٹ کی حدود میں تعمیر کی ممانعت کے باوجود تعمیر اور کھدائی کی اجازت کیوں اور کس طرح دی؟
اورنج ٹرین کا منصوبہ لاہور کی صرف ٪2 آبادی کی ٹریفک ضرویرت کو پورا کرتا ہے، لاہور اور پنجاب کی باقی ماندہ آبادی کی ٹرانسپورٹ ضروریات کون پوری کرے گا؟

 

قابل عمل متبا دل بذریعہ ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی :

 

اورنج ٹرین کا اصل منصوبہ ماحول اور تاریخی ورثے کو سامنے رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا 7.1 کلو میٹر حصہ زیر زمین تھا۔ اگر اس ڈیزائن میں چند کلو میٹر کا مزید اضافہ کر دیا جائے اور اس کے اسٹیشنز کو بھیزمین کی سطح پر تعمیر کرنے کی بجائے زیرزمین تعمیر کیا جائے تو لاہور میں ایک ایسی اورنج ٹرین بن سکتی ہے جو چوبرجی سے شروع ہو کر شالامار باغ تک زیر زمین بن سکتی ہے۔ ایسا کرنے سے نا صرف اندرون شہرگھروں اور دکانوں کو گرانے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی بلکہ کنکریٹ کا استعمال نہ ہونے کے سبب یہ منصوبہ ماحول دوست بھی ہو گا۔ اس منصوبے کی لائنز باہم منسلک ہوں گی جس کی وجہ سے ٹریفک کی ضروریات بہتر انداز میں پوری ہوں گی۔ اس شعبے میں سرمایہ کاری کے ذریعے بسوں کی تعداد میں اضافے سے پیدل چلنے والوں کو بھی آسانی ہو گی۔

Image Courtesy: Lahore, Metro aur Aap, Daily Times, Photo.app.com.pk

Categories
فکشن

میٹرو نہیں بنیادی ضروریات

youth-yell

گرمی کی شدت کسی بھی ذی روح کو تڑپا نے کے لئے کافی تھی کچھ اس سے پناہ لینے اور دوسرا وقت بھی کھانے کا تھا سو ہم نے ایک اچھے ریستوران کا رخ کیا۔ چند لمحوں میں ہی باوردی بیرا آرڈر لینے کو آ موجود تھا ۔ اسے کھانے کی بابت تفصیل بتاتے ہی تاکیداً کہا کہ فوراً سے پہلے ٹھنڈا پانی لے کر پہنچے۔ وہ ‘جی بہتر’ کہتے ہی غائب ہوا اور ہم بیٹھ کر انتظار کرنے لگے۔ چند منٹ بعد وہ آیا اور میز پر پلیٹیں اور گلاس رکھ گیا، پانی کی تاکید بھی ہم نے دوبارہ کی اور انتظار کرنے لگے۔ چند لمحے بعد وہ ہمارے سامنے سلاد اور رائتے کی پلیٹ رکھنے آن پہنچا، ہم جو پیاس کی شدت سے جاں بلب تھے شدید تلملائے اور چیخے چلائے بھی مگر اس پر ہماری کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ اپنی مرضی سے یہ تعین کرنے میں لگا رہا کہ ہمارے لیے کیا اہم ہے۔ غرض بیرے کے کئی چکروں کے بعد تمام کھانا میز پرلگ چکا تو بھی پانی ندارد۔۔۔

 

پاکستان جیسا ملک جہاں کی نصف سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جہاں صحت و صفائی کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں لوگ معمولی قابلِ علاج بیماریوں سے لڑتے ہوئے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں
میں جب اس واقعے اور اپنی موجودہ حکومت اور عوام الناس کی حالت زار کا جائزہ لیتا ہوں تو کسی طور بھی صورتحال اس مندرجہ بالا واقعہ سے مختلف نظر نہیں آتی۔ پاکستان جیسا ملک جہاں کی نصف سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جہاں صحت و صفائی کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں لوگ معمولی قابلِ علاج بیماریوں سے لڑتے ہوئے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، جن بیماریوں کے نام تک سے اب دنیا کے بیشتر ممالک آشنا نہیں رہے وہ یہاں اب بھی موجود ہیں، جہاں پینے کا پانی تک میسر نہیں اور عوام کی اکثریت گندا پانی پینے پرمجبور ہے، جہاں تعلیم کی سہولیات کا یہ حال ہے کہ آدھی آبادی نے سکول کا منہ تک نہیں دیکھا اور کئی بچے جو سکول جانے کی عمر کے ہیں وہ ہوٹلوں پر برتن دھونے اور ورکشاپس پر ٹائروں کو پنکچر لگانے پر اس لیے مجبور ہیں کہ اس کے بناء گھر کا چولہا جلنا ناممکن ہے وہاں ہمارے خادمان اعلیٰ ہمارے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی کی بجائے پرشکوہ سڑکوں اور میٹرو لائنوں کی تعمیر میں مصروف ہیں۔

 

ان بچوں میں سے اگر کوئی زندگی اور حالات سے لڑ کر کسی نہ کسی طور سکول اور کالج کی سطح سے آگے نکل بھی جائے تو یونیورسٹی کے بھاری اخراجات ادا کرنے کی سکت نہ ہونے کہ باعث ذرا بہتر انداز میں برتن دھونے اور پنکچر لگانے کا کام کرنے لگتا ہے، مگر اس سب پر ہماری حکومت کا رویہ کسی طور بھی اس ہوٹل کے ویٹر سے مختلف نہیں جو اپنے تئیں ہمارے لیے تعیش کا سامان تو فراہم کر رہا ہے مگر کسی طور بھی وہ بنیادی سہولیات فراہم کرنے کو تیار نہیں جن کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔

 

میرے نزدیک ایک جاں بلب قوم کے لیے ان منصوبوں کی حثیت ایسے ہی ہے جیسے کسی پیاس سے مرتے ہوئے انسان کے گرد من و سلویٰ اور انواع و اقسام کے کھانے چن دیئے جائیں مگر پانی نہ دیا جائے۔
ہماری حکومت بھی اپنی توانائیاں اور وسائل میٹرو جیسے منصوبوں، سڑکوں اور ایسے دیگر معاملات میں صرف کر رہی ہے لیکن وہ یہ ادراک کرنے سے قاصر ہے کہ بھوک سے مرتے، پیاس سے بلبلاتے اور تعلیم کے لیے ترستے عوام کو بنیادی سہولیات درکار ہیں۔ حکمران یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ کسی بھی وبا کے لیے سازگار ماحول میں رہنے والی قوم صحت کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث موت کو ہر وقت گلے لگانے کو تیار ہے، اس قوم کو اس نوع کے منصوبوں سے زیادہ خوراک، گھر، علاج اور پانی جیسی ضروریاتِ زندگی درکار ہیں۔ حکومت جن منصوبوں پر اپنے وسائل اور توانائی صرف کر رہی ہے ان کی بجائے تعلیم و صحت کے محاز پر جنگی بنیادوں پر انقلابی نوعیت کے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ میں میٹرو یا دیگر ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت نہیں کر رہا مگر میں ان کی وکالت بھی نہیں کر رہا کہ میرے نزدیک ایک جاں بلب قوم کے لیے ان منصوبوں کی حثیت ایسے ہی ہے جیسے کسی پیاس سے مرتے ہوئے انسان کے گرد من و سلویٰ اور انواع و اقسام کے کھانے تو چن دیئے جائیں اور اس ساری مشقت میں اسے پانی کے دوگھونٹ سے محروم رکھتے ہوئے ایڑیاں رگڑرگڑ کر جان دینے پر مجبور کر دیا جائے، سو صاحبان اقتدار خدارا اپنی ترجیہات کو درست سمت دیتے ہوئے اپنی توانائیاں استعمال کریں تاکہ اس مرتی، تڑپتی اور روتی قوم کا کچھ بھلابھی ہو سکے۔

Image: Lahore, Metro aur Aap

Categories
شاعری

صدا کر چلے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

صدا کر چلے

[/vc_column_text][vc_column_text]

(چوک چوبرجی پر، زیر تعمیر اورنج لائن میٹرو کی سائٹ کے قریب ایک گرد آلود ناشتے سے پہلے۔۔۔)

 

تو اب یوں ہے کہ جینے سے اچٹتا جا رہا ہے جی
ہر اک امکانِ خوش وقتی سے رغبت اتفاقی ہے
جلیسِ منبرِ ہستی کا خطبہ سن چکا ہوں میں
بس اب اک زہر خندِ نیستی کی جائے باقی ہے

 

سنو اے ساکنانِ شہرِ ناپرسانِ بے حالاں
یہاں سے اپنے خوابوں کے جنازے ڈھو رہا ہوں میں
ارادوں اور آدرشوں کی بکھری کرچیاں چن کر
بس اک دو دن میں اپنے گھر روانہ ہو رہا ہوں میں

 

ابھی کچھ وقت میں اس کا صفایا ہو چکا ہو گا
یہ اک آلودگی جو راستوں کو کاٹ کھاتی ہے
یہ اک بے ڈھنگ سا جو نقشِ پا سڑکوں پہ دِکھتا ہے
یہ اک مجذوب سی آواز جو گلیوں سے آتی ہے

 

یہ آوارہ جسے مارا نئی سمتوں کے دھوکے نے
یہ بھک منگا جو ان جاڑوں میں ننگے پاؤں پھرتا ہے
یہ بدمستا کہ جو اپنے غرورِ ناتوانی میں
سنبھلتا ہے، قدم بھر ڈگمگا جاتا ہے، گرتا ہے

 

جو شورِ محض میں پل بھر کو توفیقِ شنیدن ہو
تو ہر سیدھی نصیحت سن کے الٹی بات کہتا ہے
مثالی منظروں کو آپ ہی میں نقش کر کے پھر
انہی امثال کے خودساختہ زنداں میں رہتا ہے

 

کسی نے بات کی، اس کی زباں بولی کہ ہکلائی
کسی نے حال پوچھا، آنکھ ہے، کمبخت بھر آئی
کسے معلوم اس مجلوق تنہائی سے کچھ پہلے
اسے کس طور حاصل تھا دماغِ بزم آرائی

 

سخن کے باب میں اک اعتمادِ تام تھا اس کو
یہ حرف و صوت کے قضیوں پہ کھل کر بات کرتا تھا
بزرگوں کے بہت سے برمحل اشعار پڑھ پڑھ کے
یہ شمعِ بزم کی لَو بن کے دن سے رات کرتا تھا

 

زمستاں اس کو نرم و گرم پہلو میں سلاتا تھا
اجازت لے کے بجتی تھیں بہارِیں نوبتیں اس سے
منڈیروں کے پرندے اس کی سیٹی سے شناسا تھے
گلی میں کھلکھلا کر بولتی تھیں عورتیں اس سے

 

خوشا وقتے کہ جانش بود جانِ حلقۂ خوباں
حضورِ دلربایاں شغلِ ساز و نغمہ ھا کردن
شبِ آدینہ با ابرِ سپیدِ مَے پریدنھا
زمانہا بر دریچہ انتظارِ آشنا کردن

 

اسے کیا کیا نموئے شوق کی دولت میسر تھی
فراغِ ذوقِ بیکاری، خمارِ شانِ رسوائی
شبستاں اس کو بیداری کی خلعت سے نوازے تھے
مگر پھر بھی انہی جادوئی راتوں سے نہ بن پائی

 

سنو اے ساکنانِ شہرِ ناپرسانِ بے حالاں
ہوا اب بند مجھ پر یہ درِ بازارِ محرابی
تمہارے شہر کی راتوں میں اب کم کم ہی ملتی ہے
وہ دلجوئی، وہ جاں بخشی، وہ بے فکری، وہ خوش خوابی

 

یہ چادر اور پھیلانے کو پاؤں بھی تمہارے ہیں
ہوس کی راہ میں کیوں سرخ قالینیں بچھاتے ہو
تم اپنی حسرتِ تعمیر کو پالو، مگر یہ کیا
مرے رومان کے پالے مقابر ڈھائے جاتے ہو

 

کسی موہوم سی آسائشِ فردا کے چکر میں
حکایاتِ غمِ دیروز کا نقشہ بدلنا کیوں
تمہیں کس نے کہا ہر سست رو کے ساتھ چلنے کا
سبک قدمی میں لیکن سبزۂ رَہ کو کچلنا کیوں

 

عدم کی شاہرہ پر راستے کیا، اور منزل کیا
تم اس پر جس قدر رفتار پاؤ، کچھ نہ پاؤ گے
جہانِ ارتقا کی بھول بھلیوں اور سرابوں میں
یہی کچھ دور تک دوڑو گے اور پھر ہانپ جاؤ گے

 

الم یہ ہے کہ قرنوں کے نشانِ وقت پیما بھی
اسی تاریخ کے ٹکڑوں پہ ہی اب پل نہیں سکتے
ستم یہ ہے کہ اطوارِ تمدن کی بساطِ نو
بچھی ہے یوں کہ اب اس پر پیادے چل نہیں سکتے

 

تمہارے شہر میں اک اجنبی راہگیر ہوں اب میں
یہاں پر مجھ کو اک ذاتی ضروری کام تھا، سو ہے
مرے رومان کی دنیا بھلے سنورے، بھلے اجڑے
تمہارا شہر اک دلکش کتابی نام تھا، سو ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]