Categories
نان فکشن

ناشتہ، نہر، معاشی تفاوت اور ڈبل روٹی (ایک یادداشتی نوٹ) – قیصر نذیر خاورؔ

میرے بچپن میں ناشتے ویسے نہیں ہوتے تھے جیسے اب ہیں؛ تب برنچ بھی نہیں ہوتے تھے۔ گرمیوں میں دہی کلچہ یا لسی کلچہ عام تھا؛ صبح سویرے گلی کے ہر گھر سے ایک نہ ایک فرد ڈول اور تھیلا لیے، دہی، تِلوں والے کلچے اور برف لینے باہر نکلتا؛ واپسی پر اس کے ایک ہاتھ میں تھیلے میں کلچے دہی بھرا ڈول اور دوسرے میں سُتلی سے بندھا برف کا ٹکڑا لٹک رہا ہوتا۔ اس کی واپسی کے کچھ ہی دیر بعد تقریباً ہر گھر سے مدھانی کی آواز گونجنے لگتی؛ مدھانی جب برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے ڈول یا گڈوے میں ٹکراتی تو ایک خاص طرح کا ترنم پیدا ہوتا جیسے کسی آرکسٹرا کے چھوٹے بڑے ڈرم بج رہے ہوں؛ ایسے سمے میں جب آپ تنگ گلی میں سے گزر رہے ہوں تو آپ اس ترنم سے اندازہ لگا سکتے تھے کہ کس گھر میں کتنے لوگوں کے لیے لسی بن رہی ہوتی تھی۔ گرمیوں میں کسی کسی روز، عموماً اتوار یا چھٹی کے روز، البتہ، منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے ایک اور ہی طرح کا ناشتہ کیا جاتا۔ یہ شربت اور مربوں پر مشتمل ہوتا؛ مجھے یاد ہے کہ انارکلی کے ساتھ والے ‘ پیسہ اخبار’ بازار میں دو تین حکیموں کی دکانیں تھیں جن کے ہاں ہر طرح کے مربے اور طرح طرح کے شربت ملا کرتے تھے؛ صبح کے وقت ان حکیموں کا کاروبار انہیں دو اشیاء کی بِکری پر ہوتا تھا؛ کوئی چاندی کے ورق لگا سیب کا مربہ کھا کر صندل کا شربت پیتا اور اپنی راہ لیتا تو کوئی گاجر کا مربہ کھاتا اور اس پر بزوری شربت پی کر چل دیتا، کوئی غریب قطیرہ گوند، تخم ملنگاں اور شکر کے شربت کے ایک گلاس پر ہی اکتفا کرتا۔ میں اپنے گھر کی بات کروں تو میری والدہ کا پسندیدہ مربہ ‘آملوں ‘ کا ہوتا تھا اور شربت میں انہیں انار کا شربت سب سے زیادہ پسند تھا۔ اسی طرح میری بہنوں کی بھی اپنی اپنی پسند تھی۔ میرا بڑا بھائی دہی کلچے یا لسی کلچے کا ناشتہ نہیں کرتا تھا؛ وہ گرمیوں میں ہر روز رات کو کچھ بادام، چاروں مغز اور کچھ خشخاس پانی میں بھگوتا اور صبح اٹھ کر ورزش کرکے دودھ میں سردائی گھوٹتا اور اس کے دو گلاس پیتا؛ اسے باڈی بلڈنگ کا شوق تھا اور جب وہ کام پر نکتا تو محلے کی لڑکیاں اسے بانسی سِرکیوں کی اوٹ سے دیکھا کرتی تھیں۔ جس روز مربے اور شربت کی باری ہوتی تو میں بھی اس سے ایک گلاس سردائی کا مانگتا اور اسی پر گزارا کرتا؛ مجھے ’ شربت اور مربے ‘ والا ناشتہ کبھی پسند نہ آیا تھا۔

سردیوں میں اس کے برعکس انڈا پراٹھا یا رات کے بچے سالن کے ساتھ پراٹھا سب سے زیادہ عام تھا۔ کشمیری گھرانہ ہونے کے سبب ہمارے ہاں کالی چائے نہیں بنتی تھی، بلکہ سبز یعنی کشمیری چائے بنتی، جس کا قہوہ بنانے کے لیے ہماری ماں سونے سے پہلے پانی میں سبز چائے کی کچھ پتیاں ڈال کر رکھ دیتی تھیں اور صبح صبح اٹھ کر اسے ابالتے ہوئے اس میں ٹھنڈا پانی ملاتی جاتیں اور خوب پھینٹا لگاتیں۔ یہ چائے چونکہ نمکین ہوتی تھی اس لیے مجھے یہ پسند نہ تھی۔ میری ماں اسی لیے گلاس بھر چائے نمک ڈالنے سے پہلے الگ کر دیتیں تاکہ میں اس میں چینی گھول کر پی سکوں؛ چینی سے مجھے یاد آیا، یہ وہ زمانہ تھا جب یہ ہم جیسے لوئر مڈل کلاسیوں اور غریب عوام کو راشن ڈپوئوں سے ملا کرتی تھی اور اسے کم کم ہی استعمال میں لایا جاتا تھا؛ ویسے تو یہ راشننگ سسٹم دوسری جنگ عظیم اور قحط ِ بنگال سے جڑا تھا لیکن 1960 ء کی دہائی کے اوائل میں اسے دوبارہ رائج کر دیا گیا تھا؛ پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کے موڈ میں تھے۔ چینی کے علاوہ آٹا بھی راشن ڈپو پر ملا کرتا تھا؛ پھر یوں ہوا کہ دیسی گندم کم پڑ گئی تھی اور امریکی گندم ‘ پی ایل۔ 480 ‘ کے تحت آنے لگی اور اس کا آٹا ان ڈپوؤں پر ملنے لگا؛ اس کی روٹی اس رنگ کی بنتی جیسے ٹرمپ کے بال ہیں؛ لوگوں نے آٹا لینا چھوڑ دیا۔ اسی طرح جب چیکوسلواکیہ کی چقندر سے بنی چینی آنے لگی تو لوگوں نے یہ بھی لینا بند کر دی؛ یہ چینی گنے کے رس سے بنی چینی کے مقابلے میں کم میٹھی ہوتی تھی اور ایک چمچ کی بجائے دو چمچ ڈالنی پڑتی تھی۔ ان ڈپوؤں پر ملنے والے چاول بھی موٹے اور گھٹیا کوالٹی کے ہوتے تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب دودھ کی بھی قلت ہوئی تھی اور امریکی امداد کے تحت آیا خشک دودھ بھی ان راشن ڈپوؤں پر ملتا تھا۔

کبھی کبھار انڈے پراٹھے کی جگہ چائے میں باقر خانی، کھنڈ کلچہ، بَن یا دو تین رس ( پنجابی رسوں کو پاپے کہتے تھے ) ڈبو کر کھانا بھی ناشتے کا کام دیتا۔

سردیاں ہوں یا گرمیاں ایک اور خصوصی ناشتہ ‘پوری حلوے’ کا ہوتا تھا جو کسی کسی اتوار یا چھٹی کے روز ہی ہمیں ملتا؛ ہمارے گھر کے پاس پوریاں بنانے والے دو طرح کے تھے؛ ایک جو میدے کی پوریاں تلتے تھے دوسرے وہ جو آٹے کی پوریاں بناتے تھے؛ لاہورئیے میدے والی پوریاں کھاتے تھے جبکہ بٹوارے کے بعد مہاجر ہو کر آئے، اردو بولنے والے آٹے کی پوری کو ترجیح دیتے۔ ان دو طرح کی پوری بنانے والوں کی بھاجی* میں فرق ہوتا اور حلوے میں بھی۔ لیکن یہ دونوں ہی بھاجی اور حلوہ الگ الگ ‘ دَونوں ‘** میں دیا کرتے۔ میدے کی پوری والے آلو اور چنوں کی بھاجی ملا کر بناتے تھے اور ان کے حلوے کا رنگ سوجی جیسا ہی ہوتا جبکہ آٹے کی پوری بنانے والے آلو کی بھاجی اور چنوں کی الگ الگ بناتے، ان کا حلوہ بھی زردے کے رنگ جیسا ہوتا، اس کے علاوہ وہ ایک دَونے میں الگ سے سبزیوں کا کچا پکا اچار بھی دیتے۔

دو ناشتے اور بھی ہوتے تھے جو ہمارے گھر میں کبھی بھی کھائے نہیں گئے؛ ایک، لاہوریوں کے سری پائے، کھد*** اور مغز کے سالن کے ساتھ کلچے یا نان کا ناشتہ اور دوسرا، اردو بولنے والوں کا نہاری اور خمیری روٹی کا ناشتہ، اس میں خمیری روٹی کا متبادل ’ لال روٹی ‘ **** بھی ہوا کرتی تھی۔

ڈبل روٹی کا رواج نہ تو ہمارے گھر میں تھا اور نہ ہی ہماری گلی اور آس پڑوس میں۔ یہ کہنا، بلکہ زیادہ مناسب ہو گا کہ میں نے میڑک تک اپنے گھر میں ناشتے کے لیے ڈبل روٹی آتے نہ دیکھی تھی، ہاں یہ تب ضرور آتی جب گھر میں کوئی بیمار ہوتا اور ہمارے معالج حکیم نیر واسطی مرحوم یا ڈاکٹر دلاور حسین ( ڈاکٹر انور سجاد کے والد مرحوم ) دوائی کے ساتھ زود ہضم غذا تجویز کرتے؛ زود ہضم غذاؤں میں دودھ ڈبل روٹی، دلیہ اور کسی حد تک ساگودانہ تجویز ہوا کرتے تھے؛ یہ ڈبل روٹی ہمارے والد کے دوست محکم دین کی بیکری سے آیا کرتی تھی۔ یہ نیلا گنبد کے پاس اب بھی ہے اور لاہور کی قدیم ترین بیکریوں میں سے ایک ہے۔

میں جب میڑک کرکے کالج میں داخل ہوا اور میرے کئی پر نکلے۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ناشتے میں انڈا پراٹھا یا رات کا بچا سالن و پراٹھا کھانے کی بجائے انڈوں کے ساتھ ڈبل روٹی کے سلائس کھائے جائیں؛ فرائی، سکریمبلڈ اور یا پھر آملیٹ اور ڈبل روٹی، دودھ اور انڈے میں تلے میٹھے فرنچ توس، چینی میں تلے خستہ اور کرارے توس اور ان کے ساتھ کالی چائے؛ میری ماں کو اب گلاس بھر کشمیری چائے الگ نہیں کرنی پڑتی بلکہ انہیں ایک کیتلی خریدنا پڑی جس میں وہ میرے لیے کالی چائے کا قہوہ ابال سکیں۔ یوں ہمارے گھر میں ڈبل روٹی تو آئی ساتھ میں کالی چائے بھی در آئی اور ٹی سیٹ، چینی سرامک کے کپ، ٹی کوزی بھی الماری کی زینت بنے؛ کالی چائے جسے انگریز کبھی گلیوں میں مفت بانٹا کرتے تھے؛ ہمارے والد کے بقول صبح سویرے ‘ٹم ٹمیں’ گلی گلی کوچہ کوچہ گھومتیں، ان پر لکڑیوں کی آگ پر بڑے بڑے حمام دھرے ہوتے جن میں کالی چائے کا قہوہ ابل رہا ہوتا، ان ٹم ٹموں پر بیٹھے میونسپلٹی کے کارندے گھنٹی بجاتے، بھونپو پر کالی چائے کی تعریفیں کرتے اور لوگوں کو دعوت دیتے کہ وہ برتن لے کر آئیں اور کالی چائے کا قہوہ مفت لے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شروع شروع میں تو وہ دودھ اور چینی ملا کر ‘ تیار ‘ چائے بانٹا کرتے تھے۔

کالج کے اوائلی زمانے میں مجھے ڈبل روٹی کی شناخت دو طرح سے ہی ہوئی تھی؛ چھوٹی اور بڑی؛ میں، چونکہ گھر میں ڈبل روٹی کا واحد شیدائی بنا تھا اس لیے ایک چھوٹی ڈبل روٹی خریدی جاتی جو سردیاں ہونے کے باعث دو یا بعض اوقات تین دن تک چل جاتی۔ گرمیوں میں، البتہ، میرے ناشتے کے معمول میں کوئی خاص فرق نہ آیا؛ دہی کی لسی میں پانی کی بجائے، البتہ، آدھا دودھ ہوتا۔
وقت کے ساتھ ساتھ مجھے بریڈ ( ڈبل روٹی ) کی دیگر اقسام کا بھی پتہ چلتا گیا؛ سادہ، مِلکی، میڈیم بران، فُل بران، فرانسیسی ‘ کریسوں’ وغیرہ وغیرہ۔

چھوٹی بڑی کا تصور بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا البتہ فرانسیسی ‘کریسوں’ کا سائز ایک سا ہی رہا؛ کریسوں سے مجھے یاد آیا کہ یہ میرے استاد زِم ( ZIM ) بہادر ( ظفر اقبال مرزا مرحوم ) کی پسندیدہ بریڈ تھی جسے وہ نمکین مکھن کے ساتھ بہت شوق سے کھایا کرتے تھے، جس کے ہر لقمے کے بعد وہ چائے کی چسکی نہیں وہسکی کا گھونٹ بھرا کرتے۔ چند سال پہلے مجھے ڈبل روٹی کی ایک اور قسم کے بارے میں بھی جاننے کا اتفاق ہوا۔

اس سے پہلے کہ میں یہ قصہ بیان کروں آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ جس طرح دریائے تھیمز لندن کو دو حصوں میں منقسم کرتا ہے اور چیلسی کو بقیہ لندن سے ممتاز کرتا ہے اسی طرح ‘بمباوالی۔ راوی۔ بیدیاں’ کی برانچ نہر لاہور میں سے گزرتے ہوئے اس شہر کو بھی دو حصوں میں بانٹتی ہے؛ یوں تو ‘بمباوالی۔ راوی۔ بیدیاں’ نہر مغلوں کے زمانے سے موجود تھی لیکن جب 1837/1838 ء کا بڑا قحط پڑا تو اس کے بعد شاید پنجاب کو اپنی عملداری میں لینے پر انگریزوں نے اس کی ایک برانچ نہر لاہور میں سے گزاری جو ‘ رائے ونڈ’ گاؤں تک جاتی تھی، اب تو رائے ونڈ ایک شہر کی شکل اختیار کر گیا ہے اور ‘ تبلیغیوں’ کا ایک گڑھ ہے۔ اس نہر کے مشرق میں وہ علاقے ہیں جن میں امراء اور ان لوگوں کے گھر بنگلے اور کوٹھیاں ہیں جو مالی لحاظ سے ‘کھاتے پیتے’ کہلاتے ہیں؛ دوسرے لفظوں میں یہ کینٹ ( چھاؤنی )، ماڈل ٹائون، گارڈن ٹائون، گلبرگ، ڈیفنس جیسے پوش علاقے ہیں جبکہ اس نہر کے دوسری طرف وہ علاقے ہیں جو پوش نہیں گو وہاں بھی کئی ‘کھاتے پیتے’ لوگ بستے ہیں؛ گرمیوں میں یہ نہر بہت کھل کر معاشی تفاوت کی تصویر پیش کرتی ہے جب اس میں مغربی آبادیوں کے ہزاروں بچے اس کا استعمال ‘ سوئمنگ پول ‘ کے طور پر کرتے ہیں اور پانی آلودہ ہونے کی وجہ سے دسیوں بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

میں نے اپنا بچپن اور جوانی کا کچھ حصہ انارکلی میں گزارا، پھر چند سال کرشن نگر ( جسے مذہبی انتہا پسندوں نے اب اسلام پورہ کا نام دے رکھا ہے۔ ) میں رہا؛ یہ دونوں نہر کے مغربی علاقے میں تھے اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ میں نے نہر کی حد پار کی اور اس کے مشرقی حصے میں آن بسا؛ ایسا کیونکر ہوا، یہ ایک الگ کہانی ہے۔

آئیے اب واپس چلتے ہیں ڈبل روٹی کے قصے کی طرف۔ ہوا یوں کہ چند برس پہلے میری زندگی میں ایک ایسی عورت آئی؛ وہ کیونکر آئی اور گئی، یہ ایک الگ قصہ ہے۔ وہ نوکری تو مشرقی حصے میں کرتی لیکن رہتی مغربی حصے کی ایک دور دراز کی بے ترتیب گنجان آبادی میں تھی؛ وہ اپنے گھر کی واحد کفیل تھی؛ اس کی چھوٹی بہن شادی شدہ تھی جبکہ اس کا چھوٹا بھائی کالج کے زمانے میں ہی موٹر سائیکل کے حادثے میں فوت ہو چکا تھا، بیاہی تو وہ بھی گئی تھی لیکن بوجوہ طلاق کے بعد ماں باپ کے ساتھ رہتی تھی۔ اس نے ایف اے کے بعد کی پڑھائی پرائیویٹ طور پر کی تھی اور انگریزی میں ایم اے کیا ہوا تھا۔ وہ ایک نجی سکول کی ہیڈ مسٹریس تھی؛ اس کے والد سے ملاقاتوں پر مجھے اندازہ ہوا تھا کہ انہیں انگریزی ادب کا خاصا ذوق تھا اور وہ بات بات میں کبھی چارلس ڈکنز، ڈی ایچ لارنس، ایچ جی ویلز یا کسی اور انگریز ادیب کا حوالہ دیتے؛ انہیں آرتھر کونان ڈوئل اور اس کے کردار شرلاک ہومز و ڈاکٹر واٹسن بہت پسند تھے۔ مجھے تبھی یہ سمجھ آیا تھا کہ خاتون نے انہیں کے زور دینے پر انگریزی میں ایم اے کیا ہو گا، گو اسے انگریزی پر کچھ خاص عبور نہ تھا۔

وہ جس گلی میں رہتی تھی، اس میں سوزوکی مہران بھی بمشکل جاتی جبکہ بڑی گاڑی کے جانے کا تو سوال ہی نہ اٹھتا تھا۔ راہ و رسم بڑھی تو میرا اس کے گھر بھی آنا جانا ہو گیا۔ مجھے جب بھی اس کے گھر جانا ہوتا تو مجھے اپنی گاڑی گلی کے باہر چوڑی سڑک کے کنارے کھڑی کرنا پڑتی یا میں اس کی ہی ‘مہران’ پر جاتا اور وہ واپسی پر مجھے ایسی جگہ اتار دیتی جہاں سے میں پبلک ٹرانسپورٹ پکڑتا اور اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتا؛ یہ ‘اوبر’ یا ‘ کریم ‘ کی اون لائن سروس شروع ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی سروسز اب بھی اس علاقے میں ناپید ہیں اور موبائل پر ان آبادیوں کے نقشے دھندلے پڑ جاتے ہیں۔

اُس برس جون کا مہینہ تھا اور سخت گرمی تھی اور ایسے میں اس کے والد کی 75 ویں سالگرہ آ گئی؛ پلاٹینیم جوبلی سالگرہ جس کے حوالے سے اس نے اپنے گھر میں ایک ڈنر کا اہتمام کر رکھا تھا۔ میں بھی مدعو تھا۔ وہ جب شام پانچ بجے اپنے دفتر سے فارغ ہوئی تو میرے دفتر آئی اور مجھے ساتھ لیے گھر کی طرف روانہ ہوئی؛ ویسے تو میرا دفتر بھی پانچ بجے بند ہو جاتا تھا لیکن میں دیر تک بیٹھا اپنے لکھنے پڑھنے کا کام کرتا رہتا اور گھر کا رُخ تبھی کرتا جب مجھے بھوک اور نیند کی طلب ہوتی۔ ہم جب راستے میں سے کیک اور کچھ دیگر لوازمات لے کر، اس کے گھر پہنچے تو گھڑی آٹھ بجا رہی تھی؛ کیک پر اس کے والد کے نام کے ہجے غلط تھے جن کو درست کرانے میں ہی گھنٹہ لگ گیا تھا۔ مدعوین کو، گو، ساڑھے آٹھ بجے کا وقت دیا گیا تھا لیکن انہوں نے آتے آتے دیر لگائی اور جب بزرگوار نے کیک کاٹا تو دیوار پر لگا کلاک دس بجانے کی تیاری کر رہا تھا۔ کھانا کھاتے گیارہ کا وقت ہو گیا اور جب باقی سب مہمان رخصت ہوئے تو بارہ بج رہے تھے؛ ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس نے نہر کے پار ان آبادیوں میں جانا تھا، جن میں سے ایک میں، میں رہتا تھا، ورنہ میں اس سے لفٹ لے کر اپنے ٹھکانے پر پہنچ سکتا تھا۔ مجھے اندازہ تھا اور اسے بھی کہ اس وقت مجھے کسی طرح کی پبلک ٹرانسپورٹ دور دور تک نہ ملنی تھی۔ میں نے اس کی طرف استفہامیہ نظروں سے دیکھا۔ اس نے اپنے والد کے کان میں کچھ کھسر پھسر کی۔ جنہوں نے مجھے رات وہیں، ان کے گھر، بسر کرنے کا بولا۔

“تم میری سٹڈی میں سو سکتے ہو۔ “، انہوں نے کہا، وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے اور انہوں نے گھر کے باہر والے کمرے میں اپنا دفتر بنا رکھا تھا، جس میں الماریاں وکالت کی کتابوں سے بھری تھیں اور دیگر فرنیچر کے علاوہ وہاں ایک ‘ بیڈ کم صوفہ’ بھی تھا؛ میں جب بھی اس گھر میں گیا مجھے ان کے اس کمرے میں کوئی مؤکل بیٹھا نظر نہ آیا تھا۔

“ڈیڈی ٹھیک کہتے ہیں۔۔۔ آپ یہیں سو جائیں۔۔۔ میں صبح دفتر جاتے ہوئے آپ کو ڈراپ کر دوں گی۔ “، خاتون نے کہا۔

اجنبی جگہ پر رات بسر کرنا میرے لیے مشکل ہوتا ہے لیکن اس سمے مجھے اور کوئی چارہ نظر نہ آیا اور میں وہیں رُک گیا۔ خاتون کے والد خاصے انگریز قسم کے انسان تھے، رات میں دھاری دار سلیپنگ سوٹ پہن کر سوتے؛ ویسا ہی جیسا میں نے بچپن میں راک ہڈسن کو فلم ‘ پِلو ٹاک ‘ میں پہنے دیکھا تھا۔ اور تو اور جب خاتون مجھے سٹڈی میں، سلیپنگ سوٹ تھمانے آئی تو وہ خود بھی نائٹ سوٹ میں نظر آئی جس پر اس نے گاؤن پہن رکھا تھا؛ سلیپنگ سوٹ مجھے قدرے چھوٹا تھا لیکن اتنا بھی نہیں کہ پھنس کر آئے؛ میں سوٹ لیے ملحقہ باتھ روم میں گھس گیا اور جب واپس کمرے میں آیا تو صوفہ بستر میں بدلا ہوا تھا اور اس پر سفید چادر بچھی ہوئی تھی، ساتھ پڑی تپائی پر پانی سے بھرا ایک گلاس پڑا تھا جو کروشیے کے ایک چھوٹے سے رومال سے ڈھکا تھا۔

سوتے جاگتے میں رات کا باقی ماندہ وقت کٹا اور صبح ہونے پر جب مجھے لگا کہ کچن میں برتن کھڑکنے لگے تھے تو میں نے بستر چھوڑا اور منہ پر پانی کے دو چھینٹے مارے، بستر کو واپس صوفے میں بدلا سفید چادر تہہ کرکے اس پر رکھی اور کپڑے بدل کر اس کمرے میں گیا جہاں ڈائننگ ٹیبل لگی تھی اور ایک کونے میں ٹی وی رکھا تھا؛ رات منائی گئی سالگرہ کے آثار بھی موجود تھے نیلی پیلی لال گلابی کریپ پیپر کی پٹیاں پنکھے کی ہوا میں پھڑپھڑا رہیں تھی اور غبارے ہوا کم ہو جانے کی سے سکڑے ہوئے تھے، ایک کونے میں بند تحائف کا انبار تھا جنہیں بزرگوار نے ابھی کھولا نہ تھا۔ خاتون کی والدہ اور والد کرسیوں پر بیٹھے اخبار دیکھ رہے تھے۔ سلام کے بعد میں نے بھی ایک کرسی سنبھال لی۔ کچھ ہی دیر میں خاتون کچن سے ناشتے کی ٹرے لیے باہر آئیں اور سب کے سامنے ایک ایک پلیٹ میں آملیٹ کے ٹکڑے اور دوسری پلیٹ میں سلائس رکھے۔ میں نے نوٹ کیا کہ ان سلائسوں پر سیلوفین چڑھا ہوا تھا اور اس سیلوفین پر کسی مروجہ کمپنی کا برانڈ نہ لکھا تھا۔ میں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اس نے جو سلائس اپنی والدہ، والد اور میرے سامنے رکھے وہ دو دو کی پیکنگ میں تھے جبکہ اس کی اپنی پلیٹ میں رکھی پیکنگ میں چار سلائس تھے۔ اس نے چائے دانی کے پاس بچے ہوئے آملیٹ والی پلیٹ اور دو دو کی پیکنگ والے سلائسوں کے دو پیکٹ رکھتے ہوئے کہا؛
“اگر آپ کو اور چاہیے ہوں تو آپ ان میں سے لے سکتے ہیں۔”، اس نے اپنا پیکٹ کھولا اور دو سلائسوں میں آملیٹ رکھتے ہوئے مزید کہا، ” ویسے مجھے پتہ ہے کہ آپ صبح بس چائے ہی پیتے ہیں۔”

ان سلائسوں کا رنگ کچھ ویسا ہی تھا جیسا کہ آٹے کی پوریاں بنانے والے کے حلوے کا ہوتا تھا؛ ڈبل روٹی کی یہ دو اور چار سلائس والی یہ مِنی پیکنگز میرے لیے نئی تھیں جو نہر کے پار ان علاقوں میں نہیں ملتی تھیں، جن میں سے ایک میں، میں رہتا تھا۔ میں نے بھی پیکٹ کھولا اور سلائس کے ساتھ آملیٹ کھانے لگا؛ یہ سلائس عجیب طرح سے بے ذائقہ تھے۔ ناشتے کے بعد خاتون کچھ دیر غائب رہیں اور جب لوٹیں تو کام پر جانے کے لیے تیار تھیں۔

میں، جب، اس کی مہران میں بیٹھا اپنے ٹھکانے کی طرف جا رہا تھا تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ وقت کتنا بدل گیا تھا، گرمیوں اور سردیوں کے ناشتوں میں کوئی تخصیص نہ رہی تھی، ہر طرف کالی چائے کا راج تھا؛ اور ڈبل روٹی نہر کے دونوں طرف عام تھی یہ الگ بات کہ ایک طرف کی ڈبل روٹی دوسری طرف ملنے والی ڈبل روٹی سے ویسے ہی فرق تھی جیسے پوش علاقوں اور دوسرے علاقوں میں فرق تھا؛ ایک طرف یہ برانڈڈ تھی اور بس چھوٹی اور بڑی تھی جبکہ دوسری طرف شاید یہ انہیں مِنی پیکنگز میں تھی اور اس کا کوئی ‘برانڈ’ نیم بھی نہ تھا۔ خاتون، البتہ، سٹیرنگ پر ہاتھ جمائے، مسلسل بولے جا رہی تھی، کیا ؟ میں یہ صحیح طور سن نہ سکا، ہاں میں اتنا ضرور جان گیا کہ وہ مجھ میں اپنا خاوند تلاش کر رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*’بھاجی’ کم شوربے یا کم گریوی والا سالن
** ‘دَونوں’ دَونا ببول کے پتوں کو دھو اور سکھا کر اسی درخت کے کانٹوں سے تہہ در تہہ ٹانک کر پیالے کی شکل میں اس طرح بنایا جاتا تھا کہ اس میں ڈالی گئی شے رِس کر باہر نہ نکلے؛ یہ اپنے زمانے کا ڈسپوزیبل ہوا کرتا تھا۔
*** ‘کھد ‘بکرے، دُنبے یا کسی بھی بڑے جانور کے کّلوں اور زبان کا گوشت
****’لال روٹی ‘ دودھ میں گندھے میدے کی روٹی جو آہنی تندور میں لگتی تھی۔ اب اسے تندوری شیرمال بھی کہا جاتا ہے۔
نوٹ؛ اس یادداشتی نوٹ میں نہر کی جو تصویر استعمال کی گئی ہے وہ 1915 ء کی ہے۔

Categories
نان فکشن

تھارن ٹن کا لاہور

[blockquote style=”3″]

لاہور ایک تاریخی شہر ہے، تاریخی شہر اس لحاظ سے کہ اس کی تاریخ کا سرا رامچندر جی کے بیٹے لوہ سے جا ملتا ہے اور اسی مضمون میں معلوم ہوتا ہے کہ یونانی تاریخوں میں الگ ناموں سے مگر اس شہر کے موجود ہونے کے آثار نظر آتے ہیں۔اس مضمون میں جسے ہم نے نقوش کے لاہور نمبر سے یہاں آپ کے مطالعے کے لیے انتخاب کیا ہے۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ تھارن ٹن ، جس کا اصل نام ٹی ایچ تھارن ٹن تھا، ایک ایسا تاریخ داں ہے، جس کی اہمیت کو اس کے وقت اور بعد کے مورخین نے بھی لاہور شہر کے حوالے سے اہم اور مستند قرار دیا ہے۔نقوش کی فہرست میں اس کا نام گولڈنگ تھارن ٹن لکھا ہے اور مضمون میں جو صفحہ نمبر 976 پر موجود ہے، اس کا مکمل نام جے ایچ تھارن ٹن لکھا ہے۔ یہ دونوں نام غلط ہیں۔ تھارن ٹن کا اصل نام ٹی ایچ تھارن ٹن ہے، اس نے اٹھارہ سو ساٹھ میں جے لاک ووڈ کپلنگ (J. Lockwood Kipling) کے ہمراہ قدیم شہر لاہور کی تاریخ لکھی تھی، جس کو بعد میں کچھ اضافوں اور حواشی کے ساتھ کرنل ایچ آر گولڈنگ (Colonel H.R.Goulding) نے اٹھارہ سو چھیتر میں شائع کیا۔ تھارن ٹن اور کپلنگ کا کام ایک مخصوص طبقے کے لیے تھا اس لیے اس کام کی ذمہ داری، عوام کے لیے لکھی جانے والی تاریخ سے زیادہ بھاری تھی، کتاب کو بہت محنت سے تیار کیا گیا ہے اور محمد طفیل کی اس تلخیص میں وہ تمام اہم باتیں شامل کی گئی ہیں، جو کہ تھارن ٹن اور کپلنگ کی قدیم شہر لاہور کی مشترکہ طور پر لکھی ہوئی تاریخ کا نچوڑ کہی جاسکتی ہیں۔انہوں نے ٹھیک طور پر لکھا ہے کہ یہ کتاب بہت سی دوسری تواریخ سے زیادہ معتبر اور ان پر بھاری ہے ، وجہ اس کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ اسے سرکاری ریکارڈ کی خاطر لکھا گیا تھا۔ مضمون میں کچھ دلچسپ نکات ہیں، جن پر دھیان دینا ضروری ہے۔ لاہور قدیم وقتوں سے انتشار کا شکار شہر رہا ہے ۔ راجپوتوں کا بسایا ہوا یہ شہر ایک سے زائد جگہوں پر تھا۔ اس کی مٹی میں امن و آشتی سے محبت کا بڑا ثبوت داراشکوہ سے اس کی ہمدردی ہے، اس کی خوبصورتی کی مثال جہانگیر کی اس سے محبت ہے۔ ایک دلچسپ نکتہ اکبر کی بنائی ہوئی ان دو عمارتوں سے واضح ہوتا ہے، جن میں دھرم پور اور خیرپور کی عمارتوں میں، دھرم اور خیر کو ایک ہی معنوں میں استعمال کیا گیا ہے اور ایک طرف ایک عمارت تین اقوام کے لیے تو دوسری صرف ہندو قوم کے لیے تعمیر کرائی گئی ہے، جس سے اس بات کے ثبوت ملتے ہیں کہ مغلوں کے زمانے میں بھی اس شہر میں ہندوئوں کی تعداد دوسری قوموں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رہی ہوگی۔افسوس ہے کہ آج اس شہر پر جو لوگ حملے کررہے ہیں وہ اس کی تاریخ سے ٹھیک طور پر واقف نہیں اور جو واقف ہیں، وہ اسے مسخ کرکے ، اس کی شناخت کو اس سے الگ کرنے کی کھینچ تان میں لگے ہوئے ہیں۔جبکہ لاہور جہاں ایک طرف امن، محبت، آرٹ اور تصوف کا گہوارہ رہا ہے تو وہیں اس میں حکومت وقت کی سازشوں کے خلاف ایک قسم کی بغاوت بھی پائی جاتی رہی ہے۔ نام تو خیر لوگوں کے بدل گئے، ہجرت اور تقسیم کی چاپ نے اس کے پانی کو بھی گدلا ضرور کیا ہوگا مگر اس کی رگوں میں آج بھی کہیں راجپوتانہ خون دوڑ رہا ہوگا جو ظلم و جبر اورحکومتوں کی بربریت کے خلاف ایک زبردست آواز بن کر کہیں کچھ گلیوں میں ضرور گونج رہا ہوگا۔
(تصنیف حیدر)

[/blockquote]

مسٹر ٹی ایچ تھارن ٹن (T.H.Thornton) نے اپنے مقالے کے تاریخی حصے میں شہر لاہور کی تاریخ بیان کی ہے۔ یہ مقالہ 1860 میں لکھا گیا۔ ابتدا میں انہوں نے اپنے ماخذ پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے بیان کیا ہے کہ اسلامی دور سے پہلے لاہور کے متعلق کوئی مبسوط جائزہ نہیں ملتا۔ البتہ ادھر ادھر بکھرے ہوئے اشارات ضرور پائے جاتے ہیں۔ مثلا راجپوتانہ اور کشمیر کے وقائع کے سلسلے میں لاہور کا ذکر بھی مل جاتا ہے۔ اسلامی زمانے میں شہر لاہور کی مسلسل تاریخ ہماری رہنمائی کرنے کے لیے موجود ہے۔ لیکن اس تاریخ کی نوعیت عمومی ہے۔ تاریخ فرشتہ نظام الدین احمد اور عبدالقادر کی تاریخوں میں یا تاریخ الفی یا اقبال نامہ جہانگیری میں اس شہر کے مخصوص حالات پر روشنی نہیں ڈالی گئی۔ عبدالحمید لاہوری کی تصنیف یا سفینتہ الاولیا یا دوسری کتابیں جو مسلمان بزرگوں کے مقبروں سے متعلق بہت سی دلچسپ معلومات کو نظر انداز کرتی ہیں اور غیر دلچسپ جزویات کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔ لاہور کے متعلق جو جو افسانے اور روایات عوام کی زبانوں پر ہیں وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اتنی مبالغہ انگیز ہیں کہ نہ تو ان سے معلومات فراہم ہوتی ہیں اور نہ ان میں کوئی لطف ہی موجود ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی تاریخ سے بے پروا ہیں۔ ہندوئوں کی روایات لاہور کو شری رامچندر جی کے بیٹے لوہ سے منسلک کرتی ہیں۔ اس کے بعد ہندو راجائوں کے عہد میں لاہور کو جنگ اور شجاعت کی روایات میں اہم مقام حاصل رہا ہے۔ ان روایات سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ لاہور کی بنیاد راجپوتوں نے ڈالی۔ لاہور راجپوت ریاستوں میں سے قدیم ترین ریاست کا دارالحکومت تھا۔ اور جب ساتویں صدی سے دسویں صدی عیسوی تک ہندوستان پر مسلمانوں کے حملے ہوئے تو لاہور ہندو طاقت کا گڑھ تھا۔

 

لاہور کا نام تاریخ میں مختلف طریقوں سے آیا ہے۔ موجودہ شہر لاہور کے علاوہ بھی لاہور نام کے شہر پرانے زمانے میں موجود تھے۔ ایک لاہور افغانستان میں بھی تھا۔ جہاں کسی زمانے میں راجپوتوں کی ایک نوآبادی تھی۔ دوسرا لاہور پشاور کے ضلع میں تھا۔ لوہار کے نام سے ایک شہر راجپوتانے کی ریاست میواڑ میں تھا۔ مسلمان مصنفین نے لاہور، لوہار، لہاور، لھاور، لوہانور، لہاوار کے نام سے لاہور کا ذکر کیا ہے۔ راجپوتانے کے وقائع میں لاہور کا نام لوہ کوٹ، لاوپور اور اس سے پہلے لوہاوار آیا ہے جو غالبا لاہور کا صحیح ترین نام بھی ہے۔ البیرونی نے بھی (جو محمود غزنوی کا معاصر اور مصاحب تھا اورہندوستان کے ادب میں مہارت رکھتا تھا) یہ نام استعمال کیا ہے۔ لوہاوار سے مطلب قلعہ لوہ ہے اور لوہ کوٹ سے بھی یہی مراد ہے۔

 

لاہور کی بنیاد کب پڑی۔ یہ کہنا تقریبا ناممکن ہے۔ لیکن یہ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے اختتام سے پہلے لاہور ایک بڑی ریاست کا دارالحکومت تھا۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی کیا جاسکتا ہے کہ اگر پہلی صدی عیسوی میں لاہور موجود تھا۔ تو کم از کم اس کی کوئی خاص اہمیت نہ تھی۔

 

لاہور نام کا کوئی شہر یونانی مورخین کے علم میں نہ تھا اور نہ سکندر اعظم کے حملے کے سلسلے میں اس شہر کا کہیں نام آتا ہے۔ برنیز (Burnes) نے سانگلہ اور ایرین (Arrian) نے کتھوئی یا کیتھری کے نام کے دو شہروں کا تذکرہ کیا ہے جو راوی کے کنارے اسی جگہ آباد تھے جہاں اب لاہور واقع ہے تاہم اس میں شک نہیں کیا جاسکتا کہ سکندر اعظم نے راوی کو لاہور کے قریب سے پار کیا ہوگا۔ اور وہ وہیں سے گزرا ہو گا۔ جہاں اب لاہور جدید آباد ہے۔ قاہرہ کے رہنے والے یونانی الاصل جغرافیہ نویس تال می (Ptolemy) نے جو 1500 میں زندہ تھا۔ ایک شہر کا ذکر کیا ہے جو لابوکلہ (Labokla) کے نام سے مشہور تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شہر لاہور سے پچیس میل کے فاصلے پر آباد ہو گا۔ اس لحاظ سے اسے لاہور قدیم کہا جاسکتا ہے۔

 

تھارن ٹن نے اسلامی دورمیں لاہور کی تاریخ بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کی ہے۔ غزنویہ خاندان کا لاہور سے تعلق یوں ظاہر ہوتا ہے کہ مسعود ثانی نے 1098 سے 1114 تک لاہور کو اپنا پائے تخت بنایا۔ غوریوں اور خاندان غلاماں کے دور میں لاہور حکومت کے خلاف سازشوں کا مرکز تھا۔ 1241 میں چنگیز خاں کی افواج نے لاہور کو فتح کیا اور خوب تاخت و تاراج کیا۔ 1286 میں شہزادہ محمد جو سلطان غیاث الدین بلبن کا بیٹا تھا۔ منگولوں سے لڑتا ہوا مارا گیا۔ اور راوی کے کنارے امیر خسرو کو منگولوں نے گرفتار کرلیا۔ خلجی اور تغلق خاندان کے زمانے میں لاہور کی کوئی سیاسی اہمیت نہ تھی۔ البتہ گکھڑوں نے اس کو لوٹا اور مغل یہاں آباد ہوگئے۔ چنانچہ مغلوں کی آبادی اب تک مغلپورہ کے نام سے موجود ہے۔ 1293 میں تیمور نے لاہور کو فتح کیا۔ لیکن لوٹ مار نہ کی۔ غالبا یہ شہر متمول نہ تھا۔ اس کے بعد لاہور کبھی شاہان دہلی کے تسلط میں آجاتا تھا اور کبھی گکھڑوں کے ہاتھ میں چلا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ اس پر لودھیوں کا قبضہ ہوا۔

 

اس کے بعد مغل دور حکومت شروع ہوتا ہے۔ 1524 میں بابر نے لاہور کو فتح کیا۔ اگلے سال بابر نے دوبارہ فوج کشی کی۔ ہمایوں، اکبر، جہانگیر اور اورنگ زیب کا دور لاہور کی تاریخ کا سنہری دور ہے۔ یہ شہر شاہان وقت کی اقامت گاہ رہا۔ یہاں باغ لگائے گئے اور مقبرے اور مسجدیں تعمیر ہوئیں۔ آبادی بڑھی اور ابوالفضل کے الفاظ میں ‘یہ شہر تمام قوموں کی آماجگاہ بن گیا۔’آج بھی اس شہر میں مغل عمارات ادھر ادھر بکھری ہوئی ہیں۔ ہمایوں نے یہ شہر اپنے بھائی کامران کے حوالے کردیا۔ شیر شاہ سوری اور ہمایوں کی طویل جنگ کے دوران لاہور مغلوں کا قلعہ تھا۔جلا وطنی کے بعد ہمایوں جب ایران سے ہندوستان میں واپس آیا تو اس نے 1554 میں جشن منایا۔ ہمایوں کے مرنے پر یہ شہر اکبر کے بھائی مرزا حکیم کے قبضے میں آیا۔ جو 1563 میں لاہور کا گورنر تھا۔ 1584 سے 1598 تک لاہور اکبر کا دارالحکومت رہا۔ اکبر نے شہر سے باہر دو عمارات بنوائیں۔ ایک کا نام خیر پور تھا جو یہودیوں ، آتش پرستوں اور مسلمانوں کے واسطے تعمیر ہوئی۔ اور دوسری عمارت کا نام دھرم پورہ تھا۔ جو ہندوئوں کے لیے وقف تھی۔ ہفتے وار جلسے ہوتے تھے۔جس میں بیربل،فیضی، ابوالفضل اور دوسرے آزاد خیال علما و فضلا حصہ لیتے تھے۔ خیر پور کا ایک حصہ اب بھی امتداد زمانہ سے بچ رہا ہے۔ جودارا نگر کے قریب میاں میر والی سڑک کے بائیں جانب موجود ہے۔ جہانگیر کو یہ شہر بہت عزیز تھا۔ جب جہانگیر تخت نشیں ہوا تو شہزادہ خسرو نے اس سے بغاوت کی اور لاہور پر قابض ہوگیا۔ جہانگیر کے حکم سے خسرو کے خلاف فوج کشی کی گئی۔ شہر لاہور سے سات سو قیدی باہر لائے گئے اور ان کو قلعہ میں بند کیا گیا۔ جہانگیر کو یہ شہر اتنا عزیز تھا کہ اس نے آرزو کی کہ وہ مرنے کے بعد بھی یہیں دفن کیا جائے۔ چنانچہ شاہدرہ میں جہانگیر کا پر عظمت مقبرہ آج بھی موجود ہے اور نور جہاں بیگم کی بارہ دری جو اس کی آخری آرامگاہ ہے وہ بھی یہیں واقع ہے۔

 

شاہجہاں کے دور میں لاہور میں امن و امان رہا۔ اورنگ زیب کے بر سر حکومت آنے پر لاہور میں داراشکوہ کی ہمدردی کی ایک لہر پیدا ہوئی۔داراشکوہ لاہور میں رہتا تھا اور اہل لاہور میں بے حد مقبول تھا۔ داراشکوہ مشہور بزرگ میاں میر کا مرید تھا۔ اورنگ زیب نے داراشکوہ کی جائداد ضبط کرکے اس کی دولت سے بادشاہی مسجد بنائی۔ دور مغلیہ کے انحطاط اور سکھوں کے عروج، نادر شاہ واحمد شاہ ابدالی، شاہ زماں کے حملوں کے دوران میں لاہور پر جو کچھ بیتی مصنف نے اس کا حال مفصل بیان کیا ہے۔

 

تھارن ٹن کے مقالے کا دوسرا حصہ بیانیہ ہے۔مصنف نے سب سے پہلے لاہور کے رقبے پر نظر ڈالی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ لاہور کا رقبہ اس سے بہت بڑا ہے۔جتنا آج شہر لاہور گھیرے ہوئے ہے۔ بعض مصنفین کا خیال ہے کہ لاہور کے مختلف حصے تاریخ کے مختلف ادوار میں اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ لیکن یہ وسیع رقبہ کسی ایک وقت میں پورے کا پورا آبادی سے معمور نہیں رہا ہے۔ تاہم یہ ظاہر ہے کہ لاہور کا رقبہ پہلے چھتیس قطعوں پر مشتمل تھا۔ان کو گرز بھی کہتے تھے۔جس میں سے جدید شہر لاہور میں صرف نو قطعے شامل ہیں۔گویا یہ شہر سکڑ گیا ہے۔ بعض مصنفین کا خیال ہے کہ شہر لاہور اپنے موجودہ رقبے سے کبھی نہیں بڑھا۔ چنانچہ کھدائی کی جائے تو مقبروں اور باغ کی دیواروں کے نشان پائے جاتے ہیں جو اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ پرانا لاہور بھی اسی رقبے کے اندر آباد تھا۔ غالبا یہ شہر بہت گنجان تھا۔ امرتسر کی طرف جانے والی سڑک پر سیدھے ہاتھ کی جانب ایک ٹوٹی ہوئی مسجد ہے جو عید گاہ کہلاتی ہے۔ چنانچہ یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ یہ مسجد پرانے لاہور کے درمیان کہیں واقع ہوگی۔ اگرچہ یہ موجودہ لاہور سے تین میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اکبر کے زمانے کے ایک مصنف نے لاہور کے ایک قطعہ کے متعلق بیان کیا ہے کہ وہ لاہور کا سب سے آباد حصہ ہے۔ لیکن یہ قطعہ اب ویران ہے اور موجودہ شہر سے ایک میل کے فاصلے پر ہے۔ چنانچہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ شاہجہاں کے دور میں جب یہ شہر اپنے عروج پر تھا۔ اس کا رقبہ سولہ سترہ میل ہوگا۔ قدیم لاہور کا وہ حصہ جو شہر پناہ کے باہر واقع ہے کسی زمانے میں بڑا گنجان آباد تھا۔ جس میں لمبے لمبے بازار تھے۔ جو شہر پناہ کے دروازے تک پہنچے ہوئے تھے۔ شہر پناہ کے اندر اور باہر بسنے والی آبادی کے درمیان مقبرے ، باغات اور مسجدیں تھیں ۔ موتی محل کے آس پاس جو قدیم لاہور میں واقع ہے۔ اب بھی سونے چاندی کے سکے اور جواہرات تیز بارش کے بعد نکل آتے ہیں۔ لاہور کی عظمت کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ خصوصا اس لیے کہ بہت کم ایسے شہر ہونگے جو لوٹ مار، بد نظمی کا اس قدر شکار رہے ہوں۔ جتنا لاہور انگریزی عملدار ی سے پیش تر ایک سو بیس برس تک رہا۔ آٹھ مرتبہ احمد شاہ درانی کی فوجیں لوٹ مار کرتی ہوئی یہاں سے گزریں۔ مرہٹوں اور سکھوں نے اس کی تباہی میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی، کچی اینٹوں کی بنی ہوئی عمارات خاص طور پر زیر زمین ہوگئیں۔ اس لیے کہ موسم کا مقابلہ کرنا اس قسم کی عمارات کے لیے مشکل تھا۔ ہندوئوں سے لے کر پٹھانوں تک کے زمانے تک اس شہر میں قابل ذکر عمارات تعمیر نہیں ہوئیں۔ صرف مغل دور میں اس قسم کی اہم عمارات بنائی گئیں۔ یہ عمارتیں مغل فن تعمیر اور کاریگری کا نمونہ ہیں۔

 

تھارن ٹن نے صناعوں اور کاریگروں کی بے حد تعریف کی ہے۔ ان کی کاریگری کے نمونوں کو بے حد سراہا ہے کہ انہوں نے رقبہ کی حد بندی میں کمال دکھایا ہے۔ ترشے ہوئے پتھر کے پائے اور ان میں تزئین و آرائش کا استعمال۔ ستونوں کے اندر نکیلی کمانیں۔ کمانوں کی شکموں پر مخصوص و دلچسپ تزئین، سنگ مرمر پر عقیق و فیروزہ اور دوسرے قیمتی پتھروں کے ٹکڑے جمانے کا کام مورچہ بند منڈیریں، طشتری نما گنبد، اندرونی گنبدوں میں بیل بوٹوں اور کتبوں کے شاہکار۔ سنگ مرمر کی کھودی ہوئی جالیوں کی بہار،پتھروں پر منبت کاری، نگارخانوں میں نقش و نگار، محلات کے اندر سقفی حصوں پر رنگین شیشوں کا حیرت انگیز کام اس دور کی سنگی تعمیر کاری کی ناقابل فراموش یادگاریں ہیں۔

 

مصنف نے مغل عمارات کے علاوہ اس دور میں جو صنعت و حرفت میں ترقیاں ہوئیں اس کا بھی حال لکھا ہے کہ لاہور کس طرح مشرق کی اہم ترین منڈی بن گیا۔ پھر اس کے بعد سکھوں کی حکومت میں لاہور کی عمارات کس طرح تباہ ہوئیں۔ ان حالات کے علاوہ آخر میں مغل اور سکھ فن تعمیر پر بھی اظہار خیال کیا ہے اور لاہور میں مغل اور سکھ عمارتوں کے جو نمونے پائے جاتے ہیں ان سے فن تعمیر کے متعلق اہم نتائج بھی اخذ کیے گئے ہیں۔ تھارن ٹن کی یہ کتاب Lahoreاس دور کی اہم ترین کتاب ہے جو لاہور کی قدیم تاریخ پر ایک انمٹ کارنامہ ہے بلکہ یہ مختصر تاریخ لاہور کے دوسرے مورخین کی ضخیم تاریخی کتابوں پر بھی بھاری ہے۔
Categories
شاعری

یہ دلّی تھی، یہ لاہور تھا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

یہ دلّی تھی، یہ لاہور تھا
(ایک نامراد فینٹسی)

[/vc_column_text][vc_column_text]

پُرسا دینے کی تفصیل میں کیوں جاؤں میں؟
آنسو کس کے پونچھوں، سوگ مناؤں کس کا؟
آہ، اُف، تعزیت، ماتم
وائے، حیف ، افسوس، عزا داری کے جملے۔۔۔۔۔
میرا کلیجہ پھٹ جانے سے خوں شوئی میں بہہ نکلے ہیں
میں نا شکرا، اُس دھرتی کا بیٹا جس نے
مجھ جیسے نا خلف کو جیون دان دیا تھا
آج کے اس منحوس لگن میں
بوم شوم کے اس بد فال ا گھن میں
ایک اگھور وقت کے ان منحوس پلوں میں
ہنستے بستے شہروں کی سکراتِ مرگ کو دیکھ رہا ہوں!

 

کاش کہ میں نا بینا ہوتا
پھوٹ گئی ہوتیں یہ آنکھیں، جو یہ منظر دیکھ رہی ہیں!
یہ دلّی ہے، یہ لاہور ہے
یہ دلّی تھی، یہ لاہور تھا!

 

امریکا میں بیٹھا میں بھی
لاکھوں دیگراپنے ملکوں کے پرواسی لوگوں جیسا
ٹی وی پر یہ منظر نامہ دیکھ رہا ہوں
شہر کہاں ہیں؟
عمارات، مینار، منارے کہاں گئے ہیں؟
ریل گاڑیاں،میٹرو کے اسٹیشن، کاریں
بجلی کے کھمبے اور تاریں
کس دریا میں غرق ہوئے ہیں؟
پنکھ پکھیرو، جانور، انسان کہاں ہیں؟
گدلی تاریکی میں باقی کچھ بھی نہیں ہے
ڈھیر راکھ کے، اڑتی دھول، بگولے زہریلی گیسوں کے
کوئی بھی عضوی باقیات، ذی روح نمو
حیوانی، خلقی اُپج نہیں ہے
پاشیدہ، مالیدہ، رسپیدہ ہے سب کچھ!

 

اب تو راکھ کے ڈھیر ہیں، لیکن
کل تک یہ دلّی تھی، یہ لاہور تھا!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
عکس و صدا

جنگ مسئلے کا حل نہیں، لاہور سے امن کا پیغام

اتوار 2 اکتوبر کی شام لبرٹی گول چکر لاہور پر لاہور کے شہریوں نے ہندوستان اور پاکستان میں بسنے والے ڈیڑھ ارب لوگوں کو امن کا پیغام دیا۔ مظاہرے کے شرکاء نے دونوں ملکوں پر اپنے مسائل پر امن طریقے سے حل کرنے پر زور دیا۔ امن کا یہ پیغام سرحد کے دونوں جانب بسنے والے لوگوں کے لیے ہے۔ یہ پیغام ان لوگوں کی آواز ہے جو جنگ کو مسائل کا حل نہیں سمجھتے بلکہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ مظاہرے میں شریک افراد نے جنگ کو بڑھاوا دینے کے رحجان کی مذمت کی اور اسے امن عالم کے لیے خطرہ قرار دیا۔ شرکاء نے اس موقع پر ‘آغازِ دوستی‘ کے لیے ویڈیو پیغامات بھی ریکارڈ کرائے۔

 

تصاویر اور رپورٹ: رضا خان

6

5
8
9
7
10
1
2
3

Categories
شاعری

صدا کر چلے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

صدا کر چلے

[/vc_column_text][vc_column_text]

(چوک چوبرجی پر، زیر تعمیر اورنج لائن میٹرو کی سائٹ کے قریب ایک گرد آلود ناشتے سے پہلے۔۔۔)

 

تو اب یوں ہے کہ جینے سے اچٹتا جا رہا ہے جی
ہر اک امکانِ خوش وقتی سے رغبت اتفاقی ہے
جلیسِ منبرِ ہستی کا خطبہ سن چکا ہوں میں
بس اب اک زہر خندِ نیستی کی جائے باقی ہے

 

سنو اے ساکنانِ شہرِ ناپرسانِ بے حالاں
یہاں سے اپنے خوابوں کے جنازے ڈھو رہا ہوں میں
ارادوں اور آدرشوں کی بکھری کرچیاں چن کر
بس اک دو دن میں اپنے گھر روانہ ہو رہا ہوں میں

 

ابھی کچھ وقت میں اس کا صفایا ہو چکا ہو گا
یہ اک آلودگی جو راستوں کو کاٹ کھاتی ہے
یہ اک بے ڈھنگ سا جو نقشِ پا سڑکوں پہ دِکھتا ہے
یہ اک مجذوب سی آواز جو گلیوں سے آتی ہے

 

یہ آوارہ جسے مارا نئی سمتوں کے دھوکے نے
یہ بھک منگا جو ان جاڑوں میں ننگے پاؤں پھرتا ہے
یہ بدمستا کہ جو اپنے غرورِ ناتوانی میں
سنبھلتا ہے، قدم بھر ڈگمگا جاتا ہے، گرتا ہے

 

جو شورِ محض میں پل بھر کو توفیقِ شنیدن ہو
تو ہر سیدھی نصیحت سن کے الٹی بات کہتا ہے
مثالی منظروں کو آپ ہی میں نقش کر کے پھر
انہی امثال کے خودساختہ زنداں میں رہتا ہے

 

کسی نے بات کی، اس کی زباں بولی کہ ہکلائی
کسی نے حال پوچھا، آنکھ ہے، کمبخت بھر آئی
کسے معلوم اس مجلوق تنہائی سے کچھ پہلے
اسے کس طور حاصل تھا دماغِ بزم آرائی

 

سخن کے باب میں اک اعتمادِ تام تھا اس کو
یہ حرف و صوت کے قضیوں پہ کھل کر بات کرتا تھا
بزرگوں کے بہت سے برمحل اشعار پڑھ پڑھ کے
یہ شمعِ بزم کی لَو بن کے دن سے رات کرتا تھا

 

زمستاں اس کو نرم و گرم پہلو میں سلاتا تھا
اجازت لے کے بجتی تھیں بہارِیں نوبتیں اس سے
منڈیروں کے پرندے اس کی سیٹی سے شناسا تھے
گلی میں کھلکھلا کر بولتی تھیں عورتیں اس سے

 

خوشا وقتے کہ جانش بود جانِ حلقۂ خوباں
حضورِ دلربایاں شغلِ ساز و نغمہ ھا کردن
شبِ آدینہ با ابرِ سپیدِ مَے پریدنھا
زمانہا بر دریچہ انتظارِ آشنا کردن

 

اسے کیا کیا نموئے شوق کی دولت میسر تھی
فراغِ ذوقِ بیکاری، خمارِ شانِ رسوائی
شبستاں اس کو بیداری کی خلعت سے نوازے تھے
مگر پھر بھی انہی جادوئی راتوں سے نہ بن پائی

 

سنو اے ساکنانِ شہرِ ناپرسانِ بے حالاں
ہوا اب بند مجھ پر یہ درِ بازارِ محرابی
تمہارے شہر کی راتوں میں اب کم کم ہی ملتی ہے
وہ دلجوئی، وہ جاں بخشی، وہ بے فکری، وہ خوش خوابی

 

یہ چادر اور پھیلانے کو پاؤں بھی تمہارے ہیں
ہوس کی راہ میں کیوں سرخ قالینیں بچھاتے ہو
تم اپنی حسرتِ تعمیر کو پالو، مگر یہ کیا
مرے رومان کے پالے مقابر ڈھائے جاتے ہو

 

کسی موہوم سی آسائشِ فردا کے چکر میں
حکایاتِ غمِ دیروز کا نقشہ بدلنا کیوں
تمہیں کس نے کہا ہر سست رو کے ساتھ چلنے کا
سبک قدمی میں لیکن سبزۂ رَہ کو کچلنا کیوں

 

عدم کی شاہرہ پر راستے کیا، اور منزل کیا
تم اس پر جس قدر رفتار پاؤ، کچھ نہ پاؤ گے
جہانِ ارتقا کی بھول بھلیوں اور سرابوں میں
یہی کچھ دور تک دوڑو گے اور پھر ہانپ جاؤ گے

 

الم یہ ہے کہ قرنوں کے نشانِ وقت پیما بھی
اسی تاریخ کے ٹکڑوں پہ ہی اب پل نہیں سکتے
ستم یہ ہے کہ اطوارِ تمدن کی بساطِ نو
بچھی ہے یوں کہ اب اس پر پیادے چل نہیں سکتے

 

تمہارے شہر میں اک اجنبی راہگیر ہوں اب میں
یہاں پر مجھ کو اک ذاتی ضروری کام تھا، سو ہے
مرے رومان کی دنیا بھلے سنورے، بھلے اجڑے
تمہارا شہر اک دلکش کتابی نام تھا، سو ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نقطۂ نظر

سنی تحریک بھی اب شُکر منائے

کتنی ساری باتیں اور خبریں آس پاس آنکھیں پھاڑ پھاڑ دیکھ رہی ہیں۔ سمجھ میں آنا دشوار ہو رہا ہے کہ کس کو بڑی خبر سمجھوں اور لفظوں کے پانی میں مدھانی ڈال دوں، کہ شاید اپنے گھسے پِٹے شعور کی ٹِیسوں کا کچھ تو بوجھ ہلکا ہو جائے۔
اس لمبی خبری قطار میں قندوز میں اسپتال پہ امریکی طیاروں کی بمباری پہ اپنے اثر میں “گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ” قسم کی بارک اوبامہ کی معافی؛ بھارت میں مقدس گائے پہ فرضی پھرنے والی چھری کے بعد انسانوں سے ایسا سلوک کہ جو جاں بحق حاجیوں کے جسد ہائے خاکی سےسعودیوں کے “اعلیٰ سلوک” کو بُھلانے باعث بن جائے ؛ این اے 122 لاہور میں چائے کی پیالی میں طوفان؛ کراچی پولیس کی جانب سے گمشدگان کی بازیابی پہ چھپا “افسری معطلی والا اشتہار”، کہ یہ بھی اہم ہے کہ “نا معلوم” کا ایڈیشن 2.0 اشتہاری طور پر ریلیز ہوگیا اور اگر بات گہری ہے تو کتنے ہولے اور ہلکے انداز سے “گہرائی” کھودی گئی؛ اور سپریم کورٹ کا قبلہ غازی ممتاز قادری مدظلہ کی ابدی حیات کے پروانے پہ ایک واضح فیصلہ!
حب الوطنی کا بزنس کلاس ٹکٹ تو ایسے ہی ہاتھ آ جائے گا کہ بھارت میں اخلاق احمد کی موت کا ماتم کرتے کرتے بالکل ذکر نہ کروں کہ گوجرہ میں کیا ہوا تھا
بہ روایتِ اردو کالم نگاری، منبر آرائی، عشق کی مفت کی لاٹری اور حب الوطنی کا بزنس کلاس ٹکٹ تو آسانی سے مل سکتا ہے کہ اوبامہ اور امریکہ کی قندوز پہ “زود پشیمان” معافی کے آس پاس اتنی مثالیں جَڑ دوں کہ انسانی حقوق کی امریکی خلاف ورزیاں اور جنگی جرائم ابو غریب جیل کی دیواریں پھلانگ کے گوانتانامو بے جا کے دھوپ سینکیں۔ ایسا ایمان افروز مضمون لکھوں کہ امریکیوں کو یاد آ جائے کہ اونچے ٹاوروں میں لگ بھگ تین ہزار اچھے پیارے انسانوں کی جانیں اپنے ہی ایک وقت کے بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت پالے ہوئے سنپولیوں اور طاقت کی لاشریکیت کی خاطر روح فروشی کی سرمستی میں پالے اژدھوں کے ہاتھوں گئی تھیں۔ پر اسی اژدھے کے نام سے کچھ اور دوسرے رنگوں کی چمڑی والے انسانوں کے “ذیلی نقصان” یا آپ کی اپنی نرم گوئی میں کہیں تو “Collateral Damage” کو آپ نے اپنی اندھی اور کانی حد تک غیر حسابی مساوات کے مطابق دسیوں، سینکڑوں اور ہزاروں سے ضرب دے چکے ہیں۔ اب تو جُھرجُھری سی آنے لگتی ہے کہ کب آئے گا وہ ٹھنڈا موسم کہ آپ کو لاکھوں سے ضرب دئیے بغیر شانتی ہو جائے گی؟
حب الوطنی کا بزنس کلاس ٹکٹ تو ایسے ہی ہاتھ آ جائے گا کہ بھارت میں اخلاق احمد کی موت کا ماتم کرتے کرتے بالکل ذکر نہ کروں کہ گوجرہ میں کیا ہوا تھا، بس اتنا ذہن میں رکھوں کہ لاہور کے بادامی باغ میں صرف بسوں کا اڈا ہی ہوتا ہے اور ہر اڈے کا مینیجر کوئی مجید بٹ ہی ہوتا ہے، باقی وہاں کچھ نہیں ہوا تھا۔ اس پُرخار یاد کو دفع دور کروں کہ گوجرانوالہ میں ماں کے پیٹ میں ہی ماں سمیت بچہ جلا دیا گیا تھا، لاہور میں “جماعت خانہ” کے ساتھ ایمان کی حرارت والوں نے کیا حرکت فرمائی تھی، کوٹ رادھا کشن میں دو انسانوں کے لئے دوزخ کس نے برپا کی تھی۔ آسیہ بی بی کے ساتھ کیا ہوا، رمشا کنول کس گڑیا کا نام ہے؟ حب الوطنی کا بزنس کلاس ٹکٹ جب ہی کہ ملے گا کہ ان معاملات پہ میں اپنے ضمیر اور اپنے گریبان کے نالے نہ سنوں، ایک گُل بن جاؤں، بس ہمہ تن گوش رہوں۔ البتہ شیوسنا کی کرکٹ کی پچوں کو اکھاڑنے، ہمارے فنکاروں کے گائیکی کے پروگراموں کو “ہندو توا” کے بل بل لے جانے کا ڈھنڈورا پیٹوں؛ مودی کے گجرات کی خوفناک فلم کا احمد قریشی چوعرقہ بناؤں! لیکن یہ مانتے ہوئے کہ آپ سائبر سپیس کے قاری ہیں اور دماغ پہ زور دینا گوارا نہیں کرتے، بالواسطہ کہی بات کو مشکل طرز تحریر جان کے ردکرتے ہو تو کھلے بندوں کہے دیتا ہوں کہ میرے اپنا دیس میری اپنی روح اور میرا اپنا جسم ہے۔ مجھے پہلے اس کے رِستے نا سوروں کا ادراک کرنا ہے کہ کبھی تو علاج اور دوا کا بندوبست ہوسکے۔ مجھے کہیں اور کی، آر پار کی غلاظتیں اور بدبو ئیں سونگھ کے اپنے آس پاس کی بدبو اور تعفن کے احساس کو گہری نیند نہیں سلانا!
ایک اور مذہبی تحریک جسے جناب ثروت اعجاز قادری چلاتے ہیں اس نے اپنے لیے روزگار ڈھونڈ لیا ہے کہ وہ ممتاز قادری مدظلہ کی شہادت کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کرے گی۔ بس اللہ کسی تحریک کو بے روزگار نہ کرے۔
رہی بات منبر آرائی اور “عشق” کی مفت کی لاٹری کی تو جناب قادری کو میں غازی لکھوں، حضرت جانوں، ان کے سائے تک کو زمیں پے نا پڑنے دوں! کہ عاشق کا تو جنازہ بھی دھوم سے نکالنے کے منشور دیئے گئے ہیں۔ پر فوراً غلط ہو جاؤں جو یہ بولوں کہ شہادت اگر ہے مطلوب و مقصود مومن تو پھر یہ ایڈووکیٹ نذیر اختر صاحب اس عاشق بامراد، غازی ممتاز قادری کو گناہوں بھری اس دنیا میں مزید رکھنے پہ مُصر کیوں ہیں؟ کاہے کو اپیلیں دائر کرتے ہیں کہ “سزا” کم کی جائے۔ بھلا یہ خود سے ایک بلاسفیمی نہیں ہے کہ اس “جزا” کو سزا کہا جا رہا ہے؟ بلکہ عرض ہے کہ جو قبلہ ممتاز قادری کو بذریعہ تقاریر جمعہ اس “سعادت” کی طرف لے کے آئے، اور عدالتوں کی پیشی کے دوران پھول کی پتیاں نچھاور کرتے رہے ہیں انہیں بھی ساتھ ہی مطلوب و مقصودِ مومن کی خوبصورت دنیا کی طرف مراجعت کی دعوت دی جائے۔ لیکن ایک اور مذہبی تحریک جسے جناب ثروت اعجاز قادری چلاتے ہیں اس نے اپنے لیے روزگار ڈھونڈ لیا ہے کہ وہ ممتاز قادری مدظلہ کی شہادت کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کرے گی۔ بس اللہ کسی تحریک کو بے روزگار نہ کرے۔ اس تحریک کے پاس فراغت تھی باقی تو کچھ افغانستان کے کلمے سیدھے کرانے، کچھ لال قلعے پر جھنڈا لہرانے، کشمیر کو پاکستان بنانے، غزوہ ہند برپا کرنے کے مشن پر مامور ہیں اور کچھ تہران کو عالم مشرق کا جنیوا بنانے کی لیے دن کو رات کئے ہوئے ہیں، کچھ بھارت کو سیکولر اور پاکستان کو عمامہ پہنانے میں ہمہ تن مصروف ہیں اور سر کھجانے کی فرصت نہیں ان کے پاس، اور اب بچی کھچی سنی تحریک کو بھی کام مل گیا ہے۔ اللہ بڑا بے نیاز ہے۔