Categories
شاعری

پونے دو ارب گلیڈی ایٹرز ( علی اکبر ناطق)

مَیں گلیڈی ایٹر کے خونیں کھیل سے محظوظ ہوتا ہوں
جب وہ قتل کرنےکے لیے نہیں
ایک دوسرے سے بچنے کے لیے لڑتے ہیں

پھر اُن میں سے ایک مارا جاتا ہے
یا پھر دونوں
یہاں تک کہ میدان خون کا تالاب بن جاتا ہے
اُسی لمحے تماشا دیکھنے والوں کی تالیاں گونجتی ہیں
تالیوں کی آوازیں گلیڈی ایٹر کی لاشیں نہیں سُنتیں
وہ فقط تڑپتی ہیں
مَیں اِس کھیل سے محظوظ ہوتا ہوں
کیونکہ مَیں جانتا ہوں
مَیں کسی بھالے ، نیزے یا تلوار کی ضرب سے بہت دُور ہوں
فقط ایک تماشائی
فاتح گلیڈی ایٹر کی قیمت
میری صرف ایک تالی کے برابر ہے
وہ تالی
جسے کبھی کبھی مَیں اپنے زانو پر پیٹتا ہوں
یا دونوں ہاتھوں سے بجاتا ہوں
گلیڈی ایٹر میری تالی کی آواز کو شناخت نہیں کر سکتا
کہ وہ ایک لمحے میں بہت سی تالیاں سُنتا ہے
یا اگر وہ زخموں سے چور ہے یا مر چکا ہے تو اُسے تالیاں بالکل سنائی نہیں دیتیں
اِس کا تجربہ
ایک ایسے شخص کو کیسے ہوسکتا ہے جو میدان سے باہر بیٹھا ہے
ہاں مگرجب تک اچانک تماشائی خواب سے بیدار نہ ہو جائے
اور اُسے پتا چلے کہ وہ خود گلیڈی ایٹر ہے
اور ابھی چند لمحوں بعد مرنا ہے
اے پونے دو ارب گلیڈی ایٹرو
ایک دن تمھیں پتا چلے گا کہ تم تماشائی نہیں ، گلیڈی ایٹر ہو
پھر تمھیں کوئی تالی، کوئی نعرہ سنائی نہیں دے گا
تمھارے کان بحرے ہو جائیں گے
اور میدان خون کے تالاب میں بدل جائیں گے
پھر تمھیں خبر ہو گی یہ تماشا محظوظ ہونے والا نہیں
Image: Pakistan Today

Categories
شاعری

جنگ: ایک کولاژ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

جنگ: ایک کولاژ

[/vc_column_text][vc_column_text]

مورچے کھودنے کا کفارہ دینے کو
قبریں جسموں سے پر کرنی پڑتی ہیں

 

———————

 

بوڑھی کمریں بیٹوں کے دفنانے کو جھکتی ہیں
سیدھی نہیں ہوتیں

 

—————-

 

قبروں پر جو پانی چھڑکا جاتا ہے
چکھ کر دیکھو
اس میں نمک ہے

 

————-

 

پائینتی لگ کر آپ ہی آپ سلگنے والی اس عورت نے
جنگ چھڑنے سے خوابوں کے دفنانے تک
خوشبو نہیں پہنی

 

———–

 

سرہانے پر ہاتھ پھیرتی ماں سے پوچھو
جیتا کون

 

—————

 

تمغے جس سونے سے ڈھالے جاتے ہیں
اس میں سے نیت کا کھوٹ علیحدہ کرنا ناممکن ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
اداریہ

پائیدارامن ممکن تھا مگر امن کو ترجیح نہیں دی گئی۔ اداریہ

ہندوستان اور پاکستان کے مابین حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہیں لیکن اس مرتبہ کشیدگی کے اثرات کہیں زیادہ منفی اور دوررس نکلنے کا خدشہ موجود ہے۔ 2013 میں پاکستان میں نواز شریف کے برسراقتدار آنے اور اپنے ہم منصب کی تقریب حلف برداری میں شرکت سے امن کی جو امید پیدا ہوئی تھی وہ سرحد پار پاکستانی جہادی تنظیموں کے حملوں کے باعث معدوم ہو چکی ہے۔ حالیہ کشیدگی نہ صرف امن کی آئندہ کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہے بلکہ مستقبل قریب میں کسی پائیدار اور پرامن حل کاامکان تقریباً ختم کر سکتی ہے۔

پاکستان میں نواز شریف کے برسراقتدار آنے اور اپنے ہم منصب کی تقریب حلف برداری میں شرکت سے امن کی جو امید پیدا ہوئی تھی وہ سرحد پار پاکستانی جہادی تنظیموں کے حملوں کے باعث معدوم ہو چکی ہے۔
حالیہ کشیدگی میں عوامی اور سفارتی سطح پر دو مختلف لہجے اپنانے کا نقصان سامنے آ رہا ہے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر میں دی گئی تجاویز اور وزیر اعظم مودی کی جانب سے غریبی کے خلاف جنگ کی دعوت یہ ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت جنگ کو ایک قابل عمل انتخاب نہیں سمجھتی۔ لیکن دوسری جانب دونوں جانب ذرائع ابلاغ پر اپنے اپنے عوام کے لیے ایک ایسا پراپیگنڈا جاری ہے جس میں جنگ یا بھرپور دفاع کو ہی واحد حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں یقیناً ہندوستان کا رویہ زیادہ قابل تنقید ہے اور ہندوستانی قیادت اپنے ہی سخت لب و لہجے کے باعث ایک ایسی صورت حال کا شکار ہو چکی ہے جس میں مستقبل قریب میں مذاکرات یا سفارتی سطح پر معمول کے تعلقات کا امکان ختم ہو گیا ہے۔

حالیہ کشیدگی میں ایک متوقع جنگ کا امکان بھی اتنا ہی خوف زدہ کر دینے والا ہے جتنا کہ دونوں جانب کے ذرائع ابلاغ پر جنگ کے امکان اور متوقع جنگ کی حمایت کا پرجوش اور زروردار ظہار۔ ایک مسلح تصادم کے امکان تلے عوامی رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کو منقطع کیا جانا ایک ایسی خطرناک پیش رفت ہے جو مستقبل میں پاک ہند امن کے امکان کو دھندلا رہی ہے۔ ایک بڑی جنگ اگرچہ خار از امکان قرار دی جا سکتی ہے تاہم دونوں طرف عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی نفرت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنگ نہ ہونے کی صورت میں بھی مودی حکومت کی جانب سے عوامی حلقوں کو مطمئن کرنے کے لیے اپنایا گیا سخت رویہ پاکستانی عدم تحفظ میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ فنکاروں کو ملنے والی دھمکیاں، ہندوستان میں پاکستانی ڈراموں کی نشریات اور پاکستان میں ہندوستانی فلموں کی نمائش پر پابندی کسی بھی طرح خؤش آئند نہیں۔

ایک ایسے خطے میں جہاں مذہبی دہشت گرد گروہ سرحد کی دونوں جانب حملے کر رہے ہوں، جنگ کی حمایت یا جنگ کا ماحول پیدا کیے رکھنا کسی بھی وقت ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
ہندوستان کا سخت رویہ پاکستان کے لیے صورت حال مزید مخدوش کر رہا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے امن کی سنجیدہ کوششوں کی ناکامی پاکستان کی طاقتور فوج کو سخت رویہ اپنانے پر مجبور کر سکتی ہے۔ ہندوستان کو اس بات کا ادراک کرنا ہو گا کہ پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار کرنے کی کوشش پاکستان میں موجود غیر ریاستی عناصر کو تقویت دے گی اور یہ خطے کی سیکیورٹی اور امن کے لیے زہر قاتل ثابت ہو گا۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں کو یہ احساس ہونا چاہیئے کہ جنگ یا جنگجو طرزعمل کی حمایت کسی بھی سطح پر نہیں کی جا سکتی۔ ایک ایسے خطے میں جہاں مذہبی دہشت گرد گروہ سرحد کی دونوں جانب حملے کر رہے ہوں، جنگ کی حمایت یا جنگ کا ماحول پیدا کیے رکھنا کسی بھی وقت ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے لیے حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کے امکانات موجود تھے۔ اگر بھارتی وزیر اعظم پاکستان آمد جیسے مثبت اقدامات کی طرح پالیسی سازی کی سطح پر بھی جرات مندی کا مظاہرہ کرتے تو صورت حال مختلف ہو سکتی تھی۔ اگر پاکستان جہادی تنظیموں کے خلاف عملی اقدامات کرتا تو مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت ہو سکتی تھی۔ درحقیقت حالیہ کشیدگی ہندوستان اور پاکستان کی جانب سے امن کو پہلی ترجیح نہ بنانے کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کی جانب سے ریاستی سطح پر کشمیر جہاد عملاً ترک کرنے کے بعد ہندوستان اور پاکستان میں اعتماد کی فضا بہتر کی جا سکتی تھی لیکن پاکستان نے ہندوستان میں حملے کرنے والی جہادی تنظیموں اور افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی۔۔ پاکستان کی طرف سے جہاد کی پالیسی ترک کرنے کے اعلانات کے باوجود لشکر طیبہ جیسی تنظیمیں نہ صرف ہندوستان میں حملے کر رہی ہیں بلکہ پاکستانی عسکری ادارے ان تنظیموں کو اب بھی تحفط دے رہے ہیں۔ ہندوستان نواز شریف کے مفاہمانہ رویے کی بنیاد پر مذاکرات کو آگے بڑھا سکتا تھا مگر یہ موقع قوم پرست سیاست کی نذر ہو چکا ہے۔ پائیدار امن ممکن تھا مگر امن کو ایک بار پھر ترجیح نہیں دی گئی۔

Categories
نقطۂ نظر

ہندوستانی ہمسائے کے نام امید کے ساتھ ایک خط

ہندوستانی ہمسائے کے نام مزید خطوط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مجھے اعتراف ہے کہ یہ دور امن سے مایوس ہوجانے کا دور ہے۔ ہر قسم کی امید کھو دینے کے لیے بہت سی وجوہ ہیں اور ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ کسی بھی جنگ کے نتیجے میں انسانیت پر اعتبار کھو سکتے ہیں۔ بات خون سے پانی تک آ چکی ہے، جنگ کی افواہیں ایل او سی پر جھڑپوں سے سرحد کے آر پار جوہری حملوں تک کی قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں، فنکاروں کے خلاف دھمکیاں آنے لگی ہیں، پاک بھارت دوستی اور امن کی بات تو چھوڑو ہماری طرف تو اب ہندوستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت کی بھی گنجائش نہیں رہی۔ وطن سے محبت کی شرط ہمسائے کو گالی دینا قرار دے دی گئی ہے۔۔۔۔ ایسے میں مجھے اعتراف ہے کہ امن سے مایوس ہوا جا سکتا ہے اور انسانیت پر سے اعتبار اٹھ سکتا ہے۔

 

مگر میرے ہمسائے!

 

امن سے مایوس مت ہونا۔ یہ ٹھیک ہے کہ دونوں طرف قوم پرستی کا جنون دماغوں کو ماوف کر چکا ہے، یہ سچ ہے کہ ہتھیاروں کی دکانوں پر دیش بھگتوں اور وطن کے لیے جانیں قربان کرنے والوں کی قطاریں لمبی ہو گئی ہیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ اب فنکاروں کی سرحدیں متعین کر دی گئی ہیں لیکن پھر بھی جب تک ہندوستان اور پاکستان میں کوئی ایک بھی شخص ایسا موجود ہے جو امن کو جنگ پر ترجیح دیتا ہے تب تک مایوس مت ہونا۔

 

میرے ہمسائے!

 

انسانیت سے مایوس مت ہونا۔ یہ ٹھیک ہے کہ تمہاری طرف جنگ کرو، تباہ کرو اور مٹادو کے مطالبے کیے جا رہے ہیں اور ہماری طرف ہندوستان کے خلاف ‘جہاد’ کے متوالے پر تول رہے ہیں، یہ سچ ہے کہ دونوں جانب کے مذہبی جنونی اپنی اپنی تلواروں اور ترشولوں پر دھار بٹھا رہے ہیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ ان دیکھے خداوں کے نام لے لے کر اندھی نفرت کے الاو روشن کیے جا رہے ہیں،مجھے تسلیم ہے کہ ہم ایک دوسرے کو قتل کر کے یا ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل ہو کے ایسی جنتوں میں جانا چاہتے ہیں جن کا ہم سے وعدہ کیا گیا ہے، مجھے علم ہے کہ تمہاری طرف بھارت ایک مقدس اکائی ہے اور ہمیں غزوہ ہند کی وہ احادیث سکھائی جا رہی ہیں جو لشکروں کو تم پر چڑھ دوڑنے کی ترغیب دیتی ہیں۔۔۔۔ مگر جب تک ہندوستان اور پاکستان میں کوئی ایک بھی شخص انسانیت کو مذہب سے برتر خیال کرتا ہے تب تک مایوس مت ہونا۔

 

میرے ہمسائے!

 

سچائی سے مایوس مت ہونا۔ یہ ٹھیک ہے کہ دونوں جانب وطن دوستی کے جذبات ہماری آنکھوں میں خون بن کر اتر آئے ہیں اور ہمیں اب دوسرے کی بات میں سب کچھ جھوٹ کا پلندہ لگتا ہے، یہ سچ ہے کہ ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو سرکاری تاریخوں کے رجز کے ساتھ للکارا جا رہا ہے، یہ حقیقت ہے کہ دونوں طرف کے لشکریوں کو ناقابل شکست ہونے کے صحائف رٹائے گئے ہیں مگر جب تک ہندوستان اور پاکستان میں کوئی ایک بھی شخص سوال اٹھانے کی جرات کر رہا ہے سچائی سے مایوس مت ہونا۔

 

میرے ہمسائے!

 

خود سے اور مجھ سے مایوس مت ہونا۔ یہ درست ہے کہ دونوں جانب اپنے اپنے شجرہ نسب نئے سرے سے لکھے جا رہے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ ہم یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ہمارے اجداد ایک ساتھ رہتے تھے اور ایک دوسرے کے مشترکہ دشمنوں کے خلاف تلواریں سونتتے تھے، یہ سچ ہے کہ ہم اپنی تاریخ محمد بن قاسم سے شروع کرتے ہیں اور تم ہمیں بیرونی حملہ آور قرار دیتے ہو۔۔۔۔ لیکن جب تک ہندوستان یا پاکستان میں کوئی ایک بھی شخص مشترکہ اجداد کے تہذیبی ورثے کا دعویدار ہے تب تک مجھ سے اور خود سے مایوس مت ہونا۔

 

فقط
تمہارا پاکستانی ہمسایہ

Image: Dawn.com

Categories
شاعری

عشرہ/ جنگ کی خوشگوار شام

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا

 

اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس ختم ہو گیا

 

تابکاری کا امریکی صدارتی انتخابات پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا

 

روسی صدر کی اپنے چینی ہم منصب سے پانچ منٹ گفتگو

 

قدیم تہذیبوں کی تباہی لمحہء فکریہ ہے، عالمی رہنماؤں کا شدید ردعمل

 

مسلم دنیا اس مشکل گھڑی میں ہمیشہ کی طرح متحد ہے
او-آئی-سی، او-گئی-سی نے تہران اور ریاض سے مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا

 

آئی پی ایل پی، ایس ایل کے غیر معینہ مدت تک ملتوی کیے جانے کا امکان

 

اور ۔۔۔۔۔۔ کون ہو گا یورو ویژن 2016 کا فاتح
یہ جاننے کے لیے ہمارے ساتھ ساتھ رہئے!!
Categories
شاعری

عشرہ/ جنگ کی خوشگوار صبح

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

عشرہ/ جنگ کی خوشگوار صبح

[/vc_column_text][vc_column_text]

آنکھیں ملتے بہادر علی کو بیک وقت دیکھا جا سکتا تھا
نانبائی اور گوالے کے بالمقابل تھڑوں پر ملی جلی قطاروں میں
کنبے کے ساتوں افراد کا ناشتہ، نو سالہ شانوں پہ آن پڑا تھا
جلدی!جلدی! چھوٹے بہن بھائی کے ساتھ سکول کا رخ کرنا تھا
سب سے ضروری، گھر کے تینوں بڑے مردوں کو مزدوری جانا تھا

 

پراٹھا جانے کب سے یخ ٹھنڈا ہو رہا
چائے پکنے میں ابھی کتنی دیر اور ہے
ویسے اسے کوئی ایسی خاص بھی بھوک نہیں
پر باپو پیڑھی سے، ماں چوکی سے ٹلنے کا نام نہ لیں تو!!
لکشی بار بار آنکھ بچا کے روپی کو میسیج کرنے لگتا

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نقطۂ نظر

پہلا معرکہ

[blockquote style=”3″]

ڈاکٹر عبدالمجید کا یہ مضمون اس سے قبل روزنامہ دی نیشن پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ مصنف کی اجازت سے اس تحریر کا اردو ترجمہ لالٹین قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ عبدالمجید تدریس کے پیشے سے منسلک ہیں اور تاریخ کے ساتھ بین الاقوامی امور سے دلچسپی رکھتے ہیں۔

[/blockquote]

کانگریس نے کشمیر کی اندرونی سیاست میں جارحانہ انداز اپنایا اور مقامی سیاستدانوں خصوصاً نیشنل کانفرنس کے شیخ عبداللہ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ نے خود کو شاہی ریاستوں کی داخلی سیاست سے الگ تھلگ رکھا۔
پاکستان کے ہندوستان سے سفارتی تعلقات سالہا سال سے اس خطے میں ہندوستانی بالادستی کے خوف اور دونوں ملکوں کے مابین تنازعہ کشمیر کے پروردہ رہے ہیں۔ دو ہمسایوں کے مابین دیگر تنازعات کی طرح مسئلہ کشمیر کی جڑیں بھی تاریخ میں پیوست ہیں، یہ تنازعہ بھی برطانوی استعمار کے خروج کے بعد پیدا ہوا۔ تقسیم سے قبل کشمیر بھی دیگر 561 شاہی ریاستوں کی طرح ہی ایک نیم خودمختار ریاست کا درجہ رکھتی تھی۔ اس کی زیادہ تر آبادی مسلمان تھی اور اس پر ایک ہندوراجہ حاکم تھا۔

 

کشمیر میں تقسیم سے قبل مرکزی سیاسی جماعتوں (انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ) کی سرگرمیوں کی تفاصیل حسن ظہیر نے اکٹھی کی ہیں۔ یہ تفصیلات ان کی بطور مجسٹریٹ مرتب کی گئی یادداشتوں “The Times and Trial of The Rawalpindi Conspiracy Case 1951” میں شامل ہیں۔ کانگریس نے کشمیر کی اندرونی سیاست میں زیادہ سرگرم انداز اپنایا اور مقامی سیاستدانوں خصوصاً نیشنل کانفرنس کے شیخ عبداللہ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ نے خود کو شاہی ریاستوں کی داخلی سیاست سے الگ تھلگ رکھا۔ شاہی ریاستوں کی اندرونی سیاست سے اس فاصلے کے تقسیم کے بعد دور رس اثرات مرتب ہوئے۔

 

3 جون 1947 کے منصوبے کے تحت تقسیم ہند کا اعلان کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت مستقبل کی دونوں ریاستوں کی سرحدوں کا تعین کیا گیا اور شاہی ریاستوں کو ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی ایک سے الحاق کا انتخاب دیا گیا۔ ہندوستان اور پاکستان میں پنجاب اور بنگال کی حد بندی کے لیے حد بندی کمیشن بھی قائم کیے گئے۔ پاکستان کے سرکاری موقف کے مطابق کشمیر سے ملحق گورداسپور کے علاقے غیر منصفانہ طور پر ہندوستان میں شامل کیے گئے۔

 

مورخ شیریں الٰہی نے اپنے مقالے The Radcliffe Boundary Commission and the Fate of Kashmir میں اس امر کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ “پنجاب کی تقسیم کے لیے ضلع کی بجائے تحصیل کو اکائی تسلیم کیا گیا۔” ریڈکلف ایوارڈ نے گورداسپور کی چار میں سے تین تحصیلیں جن میں دو مسلم اکثریتی تحصیلیں بھی شامل تھیں، پنجاب سے متعلق مختلف سیکیورٹی تحفظات کے باعث ہندوستان میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم اگر یہ دونوں مسلم اکثریتی تحصیلیں بھی پاکستان میں شامل کر دی جاتیں، تب بھی پٹھانکوٹ کی ہندواکثریت کے باعث ہندوستان کو جموں و کشمیر تک زمینی راستہ میسر آ جاتا۔ اس بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ باربار دہرائے جانے والے اس الزام میں کہ گورداسپور کی ہندوستان میں شمولیت جموں و کشمیر کو ہندوستان کا حصہ بنانے کی کسی سازش کا حصہ تھا، درحقیقت کوئی صداقت نہیں۔

 

تقسیم کے کچھ عرصے بعد ہی، پونچھ کے قبائل نے ڈوگرہ افواج کے خلاف بغاوت کر دی اور انہیں بری طرح شکست دی۔ اسی دوران وزیرستان اور بلوچستان سے قبائل کو اس “جہاد” میں شمولیت کے لیے کشمیر منتقل کیا جانے لگا۔
ان وجوہ کی بناء پر شیریں الٰہی یہ نتیجہ اخذ کرتی ہیں،” اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ آیا کسی نے واقعی شاہی ریاستوں کے معاملات پر اثرانداز ہونے کی غرض سے سرحدوں میں ردوبدل کیا”۔ پاکستانی قیادت کشمیر کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے لازمی خیال کرتی تھی اور انہیں یقین تھا کہ راجہ پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کرے گا۔ تاہم راجہ کے سامنے پاکستانی خواہشات کے علاوہ اپنے اور غیر مسلم کشمیریوں کے تحفظ سمیت اور بھی کئی مسائل تھے۔

 

تقسیم کے کچھ عرصے بعد ہی، پونچھ کے قبائل نے ڈوگرہ افواج کے خلاف بغاوت کر دی اور انہیں بری طرح شکست دی۔ اسی دوران وزیرستان اور بلوچستان سے قبائل کو اس “جہاد” میں شمولیت کے لیے کشمیر منتقل کیا جانے لگا۔ ان قبائلی لشکروں کو فوج کی معانت حاصل تھی اور پنجاب حکومت نے انہیں ہتھیار بھی فراہم کیے۔ اکتوبر 1947 کے اختتام تک حملہ آور قبائلی لشکر سری نگر کے مضافات میں واقع بارہ مولہ تک جا پہنچے تھے۔ تاہم اس موقع پر حملہ آور فوج سے ایک فاش غلطی سرزد ہوئی۔ معروف فوٹو گرافر اور صحافی مارگریٹ برک-وائٹ اس اندوہناک منظر کی شاہد ہیں۔

 

شمال مغرب سے آئے مہمند، آفریدی، وزیر اور محسود قبائل زبردست جنگجو تھے لیکن یہ قبائلی لشکر، علاقے پر قبضے کے لیے جنگ اور مال غنیمت کے لیے لڑائی میں فرق سے ناواقف تھے۔ تین روز تک قبائلی لشکریوں نے بارہ مولہ میں تباہی، جنسی درندگی اور لوٹ مار کا بازار گرم رکھا۔ برک وائٹ “ہاف وے ٹو فریڈم: میں بیان کرتی ہیں کہ “بعض اوقات مسلم بھائیوں کے لیے ان کی مدد اس قدر جلد پہنچ جاتی تھی کہ لوٹ مار کے سامان سے لدے پھندے ٹرک اور بسیں اسی روز یا اگلے ہی دن مزید قبائلیوں کو لیے لوٹ آتے تھے، جو نئے سرے سے ‘آزادی دلانے’ کا یہ عمل بلا تفریق دہراتے تھے اور ہندو، سکھ اور مسلمان دیہاتیوں کو ایک ہی طرح دھمکاتے تھے۔”

 

تنگ آ کر کشمیر کے ڈوگرہ راجہ نے ہندوستان سے الحاق کا فیصلہ کیا۔ چند ہی روز میں ہندوستانی افواج سری نگر پہنچ گئیں اور انہوں نے شہر کا نظم و نسق سنبھال لیا۔
بارہ مولہ مشن ہسپتال کی راہباوں نے جب اپنے مریضوں کو بچانے کی کوشش کی تو انہیں اجتماعی طور پر ذبح کر دیا گیا۔ نیشنل کانفرنس کے ایک رہنما میر مقبول شیروانی کشمیر ملیشیا کی جانب سے غیر منظم قبائلی لشکروں کے خلاف خفیہ کارروائیاں کیا کرتے تھے۔ حملہ آور قبائلیوں نے انہیں پکڑ لیا اور انہیں سب کے سامنے پاکستان کی حمایت کا اعلان کرنے کا حکم دیا۔ انکار کرنے پر انہوں نے “مقبول شیروانی کے ہاتھوں میں میخیں ٹھونک دیں”۔ ان کی پیشانی پر جست کے نوکدار ٹکڑے سے لکھا: غدار کی سزا موت ہے۔ بعدازاں انہیں ایک فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے اڑا دیا گیا تھا۔

 

تنگ آ کر کشمیر کے ڈوگرہ راجہ نے ہندوستان سے الحاق کا فیصلہ کیا۔ چند ہی روز میں ہندوستانی افواج سری نگر پہنچ گئیں اور انہوں نے شہر کا نظم و نسق سنبھال لیا۔ پاکستان کی باقاعدہ افواج نے بھی اپنی پوزیشن مستحکم بنانے کے لیے پیش قدمی کی لیکن ہندوستانی افواج نے اپنی تزویراتی برتری کے باعث انہیں پیچھے دھکیل دیا۔ 1947-48کی یہ جنگ اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان تک چند ماہ جاری رہی۔

 

ہندوستانی صحافی پروین سوامی نے اپنی کتاب “Indian, Pakistan and the Secret Jihad” میں ذکر کیا ہے کہ 1947-48 کی جنگ ریاست حکمت عملی کے تحت شروع کی گئی مقدس جنگ تھی نا کہ مذہبی اشتعال انگیزی یا برادرانہ ہمدردی کے جذبات کے باعث شروع ہونے والی کوئی بغاوت (جیسا کہ ہمارے قومی بیانیے میں مذکور ہے)۔ جنگ بندی کے بعد بھی فوجی کارروائیوں میں حصہ لینے والے بہت سے افسران کشمیر کو “آزاد کرانے” کے خواب دیکھتے رہے۔ “راولپنڈی سازش کیس” کے ذمہ داران کے لیے پاکستان پر قبضے کے بعد کشمیر کی آزادی اس سازش کے بنیادی محرکات میں سے ایک تھی۔ پہلی دہائی میں ہی کشمیر کے معاملات پر صورت حال کی تبدیلی کی خفیہ کوششیں شروع ہو چکی تھیں جیسا کہ 1958 کی “کشمیر سازش کیس” سے ظاہر ہوتا ہے۔ کشمیر کی پہلی جنگ سے ہمیں کشمیر پر بعد کے برسوں میں پاکستان کی جانب سے اپنائی گئی حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے کافی سراغ ملتے ہیں۔
Categories
فکشن

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری – 5 دسمبر 1971- ماں کا خط

میں ابھی سویا ہی ہوا تھا کہ جی ۔تھری کے فائر کی آواز نے جگا دیا۔ باہر نکل کے دیکھا تو میں گھبرا کے رہ گیا۔کیپٹن صاحب نے کل گرفتار ہونے والے سات بنگالیوں میں سے تین کو شُوٹ کرنے کا حُکم دے دیا تھا۔ باقی لوگ بوڑھے تھے اور ایک تو شکل سے بھی بنگالی نہیں لگ رہا تھا اور وہ تھا بھی گونگا۔ درختوں سے بندھے ان باغیوں کو نائیک سردار صاحب اور اُستاد پاجامے نے فائر مارے۔ یہ خدائی فوجدار۔۔۔۔ جی۔ تھری نیا ہتھیار ہے اور بڑا ظالم ہے۔ان باغیوں کے خون کے چھینٹے دُور دُور تک اُڑے اور ناریل کے درختوں کے تنے چھلنی ہوگئے۔ پُنّوں اُس وقت کوت گارڈ تھا اور دیکھ رہا تھا۔ وہ یہ منظر دیکھ کر چکرا گیا اور قے کرنے لگا۔ نرسنگ اردلی نے اُسے دوا دی جبکہ اُستاد نے اُسے بہت گالیاں دیں۔

 

تین بجے سرچ پارٹی کی فالنی ہوئی ۔ کیپٹن صاحب بتا رہے تھے کے فارورڈ ڈپو سے راشن آرہا تھا جسے مُکتی والوں نے گھات لگا کر تباہ کر دیا ہے اور نصیب شاہ بھی شہید ہو گیاہے۔کیپٹن صاحب بہت غصّے میں تھے آج۔ برگیڈ ہیڈ کوارٹر سے ڈی ۔آر آیا تھا۔اُس کے پاس میرا ایک خط بھی تھا۔ کافی پُرانی تاریخ کا تھا۔ماں نے لکھا ہے کہ میں نادِ علی پڑھا کروں اور پُنّوں کو بھی پڑھاوں کیونکہ بنگالی عورتیں مَردوں پہ کالا جادو کر دیتی ہیں۔اب میں اپنی سیدھی سادی ماں کو کیا بتاتا کہ واقعی سی ایم ایچ ڈھاکے کی ایک بنگالن نرس نے تو اگست میں، چند دن کیلئے مُجھ پہ جادو ہی کر دیا تھا، یہ تو شُکر ہے کہ میں وہاں چنددن ہی رہا۔

 

اقبال بھائی کی ہیڈ ماسٹر کے عہدے پر ترقی کی خبر پڑھ کر خوشی ہوئی ۔گھر کے قریب، چکوال کے ہی ایک اسکول میں تبادلہ ہوا ہے اُن کا۔اُنہوں نے لکھا تھا کہ بچے کی پیدائش کے دن قریب ہیں لیکن فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ، بھائی سب معاملات سنبھال لیں گے۔ میری تنخواہیں گھر پہنچ گئی ہیں۔


ڈائری کے گزشتہ دن