Categories
نقطۂ نظر

پاکستان کشمیریوں کو کس طرح مایوس کر رہا ہے

[blockquote style=”3″]

کنور خلدون شاہد کا یہ مضمون اس سے قبل مسلم ورلڈ ٹوڈے پر بھی شائع ہو چکا ہے، لالٹین قارئین کے لیے یہ مضمون ترجمہ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی 41 نشستوں کے انتخابات 21 جولائی 2016 کو منعقد ہوئے۔ ان انتخابات سے ایک رات پہلے تک ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہندوستانی افواج کے ہاتھوں 41 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ منقسم جموں و کشمیر کے دونوں حصے باہم اس طرح ایک دوسرے سے پیوست ہیں کہ ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والے مظالم سے پاکستانی سیاست دانوں کو ایک سفاکانہ خوشی محسوس ہوئی ہو گی، بھلا کشمیریوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کا اس سے بہتر موقع کیا ہو گا کہ جب لائن آف کنٹرول کے اُس جانب ہندوستانی افواج کشمیریوں پر اس بڑے پیمانے پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہو۔

 

یہ وقت سیاسی اعتبار سے سونے کی کان ثابت ہوا، لیکن 2018 کے انتخابات کے لیے۔

 

بلاشبہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں منعقد کرائے جانے والے انتخابات بھی محض ڈھونگ ہیں۔ یہاں کوئی بھی حکومت آ جائے اس خطے کے معاملات وفاقی حکومت ہی چلاتی ہے۔
بلاشبہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں منعقد کرائے جانے والے انتخابات بھی محض ڈھونگ ہیں۔ یہاں کوئی بھی حکومت آ جائے اس خطے کے معاملات وفاقی حکومت ہی چلاتی ہے۔ لیکن چونکہ پاکستانی رائے دہندگان کے دلوں میں کشمیر کے لیے ایک جذباتی وابستگی موجود ہے اسی لیے جہاں ایک جانب کشمیر جل رہا تھا، تو اسی آگ کی چنگاریوں سے پاکستانی سیاستدان اپنے مفادات کی انگیٹھیاں سلگاتے رہے۔

 

دیگر وفاقی اکائیوں کے برعکس پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اپنےانتظامی امور کے لیے مکمل طور پر وفاقی حکومت کا محتاج ہے، اس کے باوجود اس خطے کے نام کے ساتھ’ آزاد’ کا دم چھلا لگایا گیا ہے۔ ‘آزاد’ کا یہ سابقہ، پاکستانی حکام کی کشمیر کی آزادی سے متعلق سوچ کا بہترین عکاس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہادی جماعت حزب المجاہدین کو کشمیری جدوجہد کی نمائندہ جماعت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جب کہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ اور یونائیٹڈ کشمیر پیپلز پارٹی کو منظر نامے سے دور رکھا جاتا ہے۔ کشمیر کی آزدی اور خودمختاری کی حامی جماعتوں کو دبانے کے لیے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ آزاد کشمیر اور بھارتی مقبوضہ کشمیر، دونوں جگہ پر طاقت کا استعمال کرتی ہے۔

 

جھوٹ کے ان تمام پلندوں کے باوجود جو پاکستان اقوام متحدہ میں بار بار پیش کرتا ہے، پاکستان بالخصوص پنڈی والوں کے لیے کشمیر کی آزادی کا مطلب پاکستان سے الحاق کے سوا کچھ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہادی گروہ یا جنوبی ایشیاء کے دہشت گرد گروہوں کو آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ عسکریت پسدنی ترک کر کے سیاسی جدوجہد شروع کرنے والی جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ جیسی جماعتوں کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مکمل طور پر دبا دیا گیا ہے۔

 

جیسے جیسے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے نعرے “کشمیر بنے گا خود مختار” کی جگہ حزب المجاہدین کے نعرے “کشمیر بنے گا پاکستان” نے لی ہے ، کشمیریوں کی ہلاکتوں میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔
جیسے جیسے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے نعرے “کشمیر بنے گا خود مختار” کی جگہ حزب المجاہدین کے نعرے “کشمیر بنے گا پاکستان” نے لی ہے ، کشمیریوں کی ہلاکتوں میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ جتنے زیادہ کشمیری “کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعرے لگاتے ہلاک ہوئے، اقوام متحدہ میں پاکستان کا مقدمہ اتنا ہی مضبوط ہوتا گیا۔

 

بلاشبہ ایک ایسی حقیقی دنیا جو کسی جہادی یوٹوپیا کے زیر تسلط نہیں، وہاں پاکستان کے لیے اپنا مقدمہ پیش کرنے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں تھا کہ وہ ‘آزاد’ کشمیر کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹے۔ اس آزادی کو جانچنے کا ایک بہتر طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آزادی کی حامی جماعتوں کی انتخابی عمل میں شرکت کا جائزہ لیا جائے۔ آزاد کشمیر کے آئین کے باب دوئم کے یکشن سات کے مطابق: ” کسی بھی فرد یا جماعت کو (کشمیر کے) الحاق پاکستان کے ریاستی نظریے کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں”۔ ‘آزاد جموں و کشمیر’ اسمبلی کے جاری کردہ الیکشن آرڈیننس کے سیکشن 5 (2) (vii) کے مطابق “ریاست کے پالستان سے الحاق کے نظریے سے متصادم کسی بھی سرگرمی میں شامل ہونے والے یا ایسا بیان دینے والے فرد کو نااہل قرار دے دیا جائے گا۔” ان قوانین کا واضح مطلب یہی ہے کہ کوئی بھی شخص جو کشمیر کو پاکستان کا لازمی حصہ قرار دینے اور پاکستان سے کشمیر کے الحاق کا حلف اٹھانے کو تیار نہیں وہ پاکستان کے ازیرِ انتظام کشمیر کے انتخابات میں حصہ لینے کا اہل نہیں۔ سرکاری ملازمین کے لیے بھی اسی ریاستی نقطہ نگاہ سے اتفاق کرنا ضروری ہے۔

 

اس متنازعہ علاقے میں اس بڑے پیمانے پر پاکستانی فوج کی موجودگی قابل فہم ہے، تاہم اس علاقے میں جہادیوں کی تربیت و تعلیم کے 22 کیمپوں کی موجودگی ناقابل فہم ہے۔ ریاست کے ‘کشمیر بنے گا پاکستان’ کے بیانیے سے انحراف کرنے والے غیر جانبدار صحافیوں اور کتابوں پر پابندیاں بھی سمجھ سے بالاتر ہیں۔

 

سعید اسد کی کتاب “شعورِ فردا” جیسی کتابیں محض اس لیے پابندی کی زد میں ہیں کہ ان میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی رہنما مقبول بٹ کا خط موجود ہے۔
سعید اسد کی کتاب “شعورِ فردا” جیسی کتابیں محض اس لیے پابندی کی زد میں ہیں کہ ان میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی رہنما مقبول بٹ کا خط موجود ہے۔ خبررساں ادارے رائٹرز کے نامہ نگار وحید کیانی کو 2003 کی کشمیر اتحاد کانفرنس کی کوریج کرنے پر اٹھا لیا گیا۔ اس کانفرنس کے 300 مندوبین میں سے محض چار نے الحاق(دو پاکستان اور دو ہندوستان سے الحاق) کے حق میں ووٹ ڈالا جبکہ بقیہ تمام رائے دہندگان نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا۔ وحید کیانی کی رہائی کے بعد آزاد کشمیر کے اس وقت کے صدر سردار محمد انور خان نے مظفر آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ان سے کہا، “شکر کریں کہ آپ زندہ بچ گئے ہیں، شکرانے کے نفل ادا کیجیے”۔

 

پٹھان کوٹ واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کے چند روزبعد، اسی برس جنوری میں حزب المجاہدین کے روحانی کمانڈر اور متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے بھی مظفر آباد میں ایک پریس کانفرنس کی۔ یہ پریس کنفرنس انہی دنوں کی گئی جب پاکستانی سیکیورٹی ادارے بہاولپور میں ‘پٹھان کوٹ حملے کے ذمہ داران کی تلاش میں” چھاپے مار رہے تھے۔
ایک جانب جہاں پٹھانکوٹ حملے کے بعد پاکستان کی کشمیری مجاہدین سے متعلق دوغلی پالیسی زور و شور سے نافذ العمل تھی، وہیں دوسری جانب وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ اس ضمن میں ‘آزاد کشمیر’ اور گلگت بلتستان کے حکام اور مقامی سیاسی قیادت کے احتجاج کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ جموں و کشمیر کی علاقائی وحدت اور کشمیریوں کی جانب سے خودمختاری اور آزادی کے مطالبے کو پس پشت ڈالتے ہوئے، گلگت بلتستان کے پاکستان میں انضمام کا فیصلہ چینی حکام کی خواہشات کے پیش نظر کیا گیا۔ چینی حکام سی پیک کے کسی متنازع خطے سے گزرنے کے حامی نہیں۔

 

وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے پاکستان میں انضمام کی تجویز، اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کشمیری مجاہدین کی سرپرستی، آزاد کشمیر آئین کے تحت الحاق پاکستان کی تائید کا جبری تقاضا، مذہبی علماء کی جانب سے اپنے اسلام پسند ایجنڈے کے فروغ کے لیے لوگوں کے مسائل کا ڈھنڈورا پیٹا جانا اور ذرائع ابلاغ پر ہندوستانی حکام کے زیرِاختیار امور پر نشرواشاعت؛ یہی وہ تمام امور ہیں جو کشمیر پر پاکستان کی ناکامیوں کے سزاوار ہیں۔ انہی عوامل کے باعث پاکستانی اداروں نے اپنے اپنے مفادات کے تحت کشمیریوں کو مایوس کیا ہے۔

 

لشکرِ طیبہ، حرکتہ المجاہدین، جیش محمد اور حرکتہ الجہاد اسلامی کے ہاتھ لائن آف کنٹرول کی دونوں جانب بسنے والے کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
کشمیر میں ہندوستانی مظالم کی نشاندہی کرتے ہوئے پاکستان اپنے زیرِانتظام کشمیر میں روا رکھے جانے والے جبر کو چھپانا چاہتا ہے۔ اس دوہرے طرزعمل سے پاکستان کشمیریوں کے مصائب کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی مشکلات میں اضافے کا بھی باعث بن رہا ہے۔ حزب المجاہدین اور برہان وانی جن کی پذیرائی قدامت پسند اور لبرل ہر دو طرح کے حلقوں کی جانب سے کی جا رہی ہے، ایسے دہشت گرد گروہوں سے منسلک ہیں جو ہندوستانی کشمیر کے ساتھ ساتھ ‘آزاد کشمیر’ میں بھی کشمیریوں کے اغواء اور قتل و غارت میں ملوث ہیں۔ لشکرِ طیبہ، حرکتہ المجاہدین، جیش محمد اور حرکتہ الجہاد اسلامی کے ہاتھ لائن آف کنٹرول کی دونوں جانب بسنے والے کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

 

کشمیر میں ہمارے ریاستی اداروں کی مشترکہ ناکامی انسداد دہشت گردی کی پاکستانی حکمت عملی اور نیشنل ایکشن پلان کو ایک ڈھکوسلہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ کیوں کہ اگر ہم نے کشمیری جہادیوں سے لاتعلقی اختیار کی تو ہمیں کشمیریوں کی خواہشات کے سامنے سر جھکانا پڑے گا۔ گزشتہ تین دہائیوں سے جاری اسلام پسند پروپیگنڈے کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ ‘کشمیر بنے گا پاکستان’ تمام کشمیریوں کی خواہش نہیں۔

Image: Drew Martin

Categories
گفتگو

آزاد کشمیر کتنا آزاد ہے؟

[blockquote style=”3″]

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حوالے سے یہ دعویٰ عام ہے کہ یہاں ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے مقابلے میں زیادہ سیاسی آزادی موجود ہے۔ اس ضمن میں حال ہی میں جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ولا نے عارف جمال سے ایک انٹرویو کیا ہے جسے یہاں ترجمہ کر کے شائع کیا جا رہا ہے۔ عارف جمال پاکستان اور اسلام پسندی کے ماہر ہیں۔ آپ نے امریکہ میں مقیم ہیں۔ عارف جمال “Call For Transnational Jihad: Lashkar-e-Taiba, 1985-2014.” سمیت کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

[/blockquote]

پاکستانی حکام ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں موجود نسبتاً زیادہ سیاسی آزادی کا اکثر ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر گزشتہ چند ہفتوں سے تشدد کی لپیٹ میں ہے۔ ہندوستانی حکام ریاست میں علیحدگی پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم کیے ہوئے ہے۔ برہان وانی کی ہلاکت سے اب تک وادی میں 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ برہان وانی کا تعلق 1990 سے برسرپیکار سب سے بڑے باغی گروہ حزب المجاہدین سے تھا۔

 

ہندوستان پاکستان پر اپنے زیرانتظام کشمیر میں باغیوں کو تربیت دینے اور انہیں لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب ہندوستانی کشمیر میں بھیجنے کے الزامات عائد کرتا آیا ہے۔
ہندوستان پاکستان پر اپنے زیرانتظام کشمیر میں باغیوں کو تربیت دینے اور انہیں لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب ہندوستانی کشمیر میں بھیجنے کے الزامات عائد کرتا آیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ہمیشہ ان الزامات سے انکار کیا گیا ہے۔ 1947 میں آزادی کے بعد سے اب تک دونوں ہمسایہ جوہری طاقتوں کے مابین ہونے والی تین میں سے دو جنگیں کشمیر پر ہوئیں۔ دونوں ممالک ہی کشمیر کے کچھ حصے پر قابض ہیں اور دونوں ممالک پورے کشمیر پر اپنا حق جتاتے ہیں۔

 

ہندوستانی کشمیر کی ابتر صورت حال، پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کی انتخابی مہم کا اہم موضوع رہی۔ پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو اور تحریک انصاف کے عمران خان سمیت کئی ممتاز پاکستانی سیاستدانوں نے ووٹ حاصل کرنے کے لیے انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔ ان رہنماوں نے اپنی تقاریر کے دوران تنازع کشمیر پر ہندوستانی حکومت کے طرزعمل اور ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں سیاسی آزادی کے فقدان پر شدید تنقید کی۔ پاکستانی جہادی تنظیم لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید نے ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلح باغیوں کی حمایت کا بھی اعلان کیا۔

 

امریکہ میں مقیم پاکستان اور اسلام پسندی کے ماہر عارف جمال کا ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ نئی دلی پر کمشیریوں کو سیاسی آزادی نہ دینے پر پاکستانی سیاستدانوں اور اسلام آباد کی تنقید غیر منصفانہ ہے، کیوں کہ پاکستان اپنے زیرانتظام کشمیر کا نظم و نسق بھی اسی جابرانہ انداز میں چلا رہا ہے۔ جمال کا کہنا تھا کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھی یونہی مذمت کی جانی چاہیئے۔

 

ڈی ڈبلیو: پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں انتخابات اور انتخابی عمل کس قدر آزاد اور منصفانہ ہے؟

 

اگرچہ پاکستان دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے زیرِانتظام کشمیر میں ایک “آزاد” حکومت موجود ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک ایسا علاقہ ہے جس پر پاکستانی فوج قابض ہے۔
عارف جمال: اگرچہ پاکستان دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے زیرِانتظام کشمیر میں ایک “آزاد” حکومت موجود ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک ایسا علاقہ ہے جس پر پاکستانی فوج قابض ہے۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی حکومت اسلام آباد حکومت کی ہدایات کے مطابق چلائی جاتی ہے اور قانون ساز اسمبلی وہی قوانین بناتی ہے جو پاکستانی حکام کے لیے قابل قبول ہوں۔

 

“آزاد کشمیر” کے انتخابی کمیشن میں بھی وہی اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں جو پاکستانی حکام کے لیے قابل قبول ہوں۔ کسی بھی ایسے سیاسی گروہ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جاتی جو پاکستانی کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کرے۔

 

اگرچہ پاکستانی قوانین کا اطلاق کشمیر کی سرزمین پر نہیں ہو تا لیکن پھر بھی اسلام آباد کی حکومت کشمیر کے معاملات میں مسلسل دخل اندازی کرتی رہتی ہے ۔ 1947 میں آزادی کے بعد ابتداء میں پاکستانی سیاسی جماعتوں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کی بھی اجازت نہیں تھی۔ یہ صورتحال 1970 کی دہائی میں تبدیل ہوئی جب قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں کو کشمیر کی سیاست اور انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی۔ نتیجتاً آج کشمیر کی چار بڑی سیاسی جماعتوں میں سے تین پاکستان کی قومی سیاسی جماعتوں کی ہی شاخیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ہر جماعت یہ ثابت کرنے کی کوشش کر تی ہے کہ وہ پاکستانی فوج اور سول انتظامیہ کی، دوسری جماعتوں سے بڑھ کر وفادار ہے۔

 

ڈی ڈبلیو: کیا پاکستان کی جانب سے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں سیاسی آزادی کے فقدان پر تنقید درست ہے، جبکہ آپ کے کہے کہ مطابق خود اس کے زیرانتظام کشمیر میں ایک جعلی سیاسی نظام موجود ہے؟

 

ہندوستان یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ کشمیری علیحدگی پسندوں کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مدد حاصل ہے۔
عارف جمال: میرا خیال ہے کہ ہندوستانی کشمیر میں بسنے والے لوگوں کو اتنی ہی سیاسی آزادی حاصل ہے جتنی بقیہ ہندوستان کے لوگوں کو میسر ہے۔ کشمیر ہندوستانی یونین کا آئینی حصہ ہے، اور اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کشمیریوں کو آئینی حقوق حاصل ہیں۔ بہت سے کشمیری کہیں گے کہ انہیں ہندوستانی آئین کی شق نمبر 370 کے تحت غیر کشمیریوں سے زیادہ حقوق حاصل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دائیں بازو کی قوم پرست جماعتیں اس آزادی کے خلاف ہیں اور آئین کی اس شق کا خاتمہ چاہتی ہیں۔

 

ڈی ڈبلیو: ہندوستان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے زیرِانتظام کشمیر میں سرگرم علیحدگی پسند گروہوں کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔ آپ ہندوستان کے اس دعوے کو کتنا درست سمجھتے ہیں؟

 

عارف جمال: ہندوستان یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ کشمیری علیحدگی پسندوں کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مدد حاصل ہے۔ زیادہ تر کشمیری جہادی تنظیموں کے تربیتی کیمپ پاکستان علاقوں یا پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں واقع ہیں۔ کشمیر کا سب سے بڑا جہادی گروہ حزب المجاہدین، پاکستان کی جماعت اسلامی کا مسلح دھڑا ہے۔ اس تنظیم میں پاکستانی اور کشمیری مجاہدین دونوں شامل ہیں اور یہ تنظیم پورے پاکستان میں یوسف شاہ جو پیر سید صلاح الدین کے نام سے جانے جاتے ہیں کی سربراہی میں سرگرمِ عمل ہے۔ دیگر اسلامی گروہ جیسے جماعت الدعوۃ/لشکر طیبہ بھی پاکستان اور کشمیر دونوں جگہ پر فعال ہے۔

 

1990 کے اوائل میں، پاکستانی فوجی جرنیلوں نے جہاد کشمیر کو حریت کانفرنس کی صورت میں ایک سیاسی چہرہ دیا۔ اس تنظیم کے دفاتر پاکستانی شہر راولپنڈی میں ہیں، حالاں کہ اس کی چوٹی کی تمام قیادت ہندوستانی کشمیر میں ہے۔

 

جموں و کشمیر پر مشتمل ایک آزاد ریاست کا تصور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی انتظامیہ کے لیے ناقابل قبول ہے۔
ڈی ڈبلیو: بعض تجزیہ کاروںکا کہنا ہے کہ دونوں طرف کے کشمیری ہندوستان اور پاکستان دونوں سے آزادی چاہتے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہمیں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر ایسی کوئی تحریک نظر نہیں آتی جیسے ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں نظر آتی ہے؟

 

عارف جمال: یہ دعویٰ درست نہیں (کہ پاکستان میں ایسی کوئی تحریک نہیں)، بظاہر ہمیں لگتا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آزاد ریاست کے قیام کی حمایت بڑے پیمانے پر موجود نہیں۔ جموں و کشمیر کی سابقہ شاہی ریاست کے علاقوں پر مشتمل آزاد ریاست کے قیام کی خواہاں جماعت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کی بنیاد 1960 کی دہائی کے وسط میں رکھی گئی تھی لیکن پاکستانی افواج نے اسے طاقت کے زور پر بری طرح کچل دیا۔ تاہم 1980 کی دہائی میں اسلام آباد حکومت نے (ہندوستانی کشمیر میں) ایک علیحدگی پسند تحریک شروع کرانے کے لیے کچھ عرصہ جے کے ایل ایف کی حمایت اور سرپرستی کی، تاہم 1990 کی دہائی میں یہ حمایت بھی واپس لے لی گئی۔

 

جموں و کشمیر پر مشتمل ایک آزاد ریاست کا تصور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی انتظامیہ کے لیے ناقابل قبول ہے۔ انتخابات کے دوران ایک آزاد کشمیر کے حصول کے لیے جلسے جلوس نکالنے پر پابندی ہے۔ تاہم پاکستانی کشمیری اس سیاسی صورت حال اور اسلام آباد حکومت کے سلوک سے نالاں ہیں۔ اگر آزادی کی حامی جے کے ایل ایف جیسی جماعتوں کو زیادہ سیاسی آزادی میسر ہو تو پاکستان سے آزادی کے مطالبے میں شدت آ سکتی ہے۔

 

ڈی ڈبلیو: کیا استصواب رائے کے ذریعے کشمیر کا تنازع حل کیا جا سکتا ہے؟

 

میرا نہیں خیال کے استصواب رائے یا ریفرنڈم کے ذریعے کشمیر کا تنازع حل کیا جا سکتا ہے کیوں کہ اسلام آباد حکومت کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی خواہاں نہیں۔ پاکستان کی طاقتور فوج دفاع کے لیے خطیر رقم کا جواز رکھنے کے لیے اس تنازعے کو زندہ رکھنا چاہتی ہے۔ یہ مسئلہ تبھی حل ہو سکے گا جب اسلام آباد میں ایک جمہور حکومت فوج کی مداخلت کے بغیر فیصلے کرنے کے قابل ہوگی۔
Categories
نقطۂ نظر

پہلا معرکہ

[blockquote style=”3″]

ڈاکٹر عبدالمجید کا یہ مضمون اس سے قبل روزنامہ دی نیشن پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ مصنف کی اجازت سے اس تحریر کا اردو ترجمہ لالٹین قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ عبدالمجید تدریس کے پیشے سے منسلک ہیں اور تاریخ کے ساتھ بین الاقوامی امور سے دلچسپی رکھتے ہیں۔

[/blockquote]

کانگریس نے کشمیر کی اندرونی سیاست میں جارحانہ انداز اپنایا اور مقامی سیاستدانوں خصوصاً نیشنل کانفرنس کے شیخ عبداللہ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ نے خود کو شاہی ریاستوں کی داخلی سیاست سے الگ تھلگ رکھا۔
پاکستان کے ہندوستان سے سفارتی تعلقات سالہا سال سے اس خطے میں ہندوستانی بالادستی کے خوف اور دونوں ملکوں کے مابین تنازعہ کشمیر کے پروردہ رہے ہیں۔ دو ہمسایوں کے مابین دیگر تنازعات کی طرح مسئلہ کشمیر کی جڑیں بھی تاریخ میں پیوست ہیں، یہ تنازعہ بھی برطانوی استعمار کے خروج کے بعد پیدا ہوا۔ تقسیم سے قبل کشمیر بھی دیگر 561 شاہی ریاستوں کی طرح ہی ایک نیم خودمختار ریاست کا درجہ رکھتی تھی۔ اس کی زیادہ تر آبادی مسلمان تھی اور اس پر ایک ہندوراجہ حاکم تھا۔

 

کشمیر میں تقسیم سے قبل مرکزی سیاسی جماعتوں (انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ) کی سرگرمیوں کی تفاصیل حسن ظہیر نے اکٹھی کی ہیں۔ یہ تفصیلات ان کی بطور مجسٹریٹ مرتب کی گئی یادداشتوں “The Times and Trial of The Rawalpindi Conspiracy Case 1951” میں شامل ہیں۔ کانگریس نے کشمیر کی اندرونی سیاست میں زیادہ سرگرم انداز اپنایا اور مقامی سیاستدانوں خصوصاً نیشنل کانفرنس کے شیخ عبداللہ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ نے خود کو شاہی ریاستوں کی داخلی سیاست سے الگ تھلگ رکھا۔ شاہی ریاستوں کی اندرونی سیاست سے اس فاصلے کے تقسیم کے بعد دور رس اثرات مرتب ہوئے۔

 

3 جون 1947 کے منصوبے کے تحت تقسیم ہند کا اعلان کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت مستقبل کی دونوں ریاستوں کی سرحدوں کا تعین کیا گیا اور شاہی ریاستوں کو ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی ایک سے الحاق کا انتخاب دیا گیا۔ ہندوستان اور پاکستان میں پنجاب اور بنگال کی حد بندی کے لیے حد بندی کمیشن بھی قائم کیے گئے۔ پاکستان کے سرکاری موقف کے مطابق کشمیر سے ملحق گورداسپور کے علاقے غیر منصفانہ طور پر ہندوستان میں شامل کیے گئے۔

 

مورخ شیریں الٰہی نے اپنے مقالے The Radcliffe Boundary Commission and the Fate of Kashmir میں اس امر کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ “پنجاب کی تقسیم کے لیے ضلع کی بجائے تحصیل کو اکائی تسلیم کیا گیا۔” ریڈکلف ایوارڈ نے گورداسپور کی چار میں سے تین تحصیلیں جن میں دو مسلم اکثریتی تحصیلیں بھی شامل تھیں، پنجاب سے متعلق مختلف سیکیورٹی تحفظات کے باعث ہندوستان میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم اگر یہ دونوں مسلم اکثریتی تحصیلیں بھی پاکستان میں شامل کر دی جاتیں، تب بھی پٹھانکوٹ کی ہندواکثریت کے باعث ہندوستان کو جموں و کشمیر تک زمینی راستہ میسر آ جاتا۔ اس بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ باربار دہرائے جانے والے اس الزام میں کہ گورداسپور کی ہندوستان میں شمولیت جموں و کشمیر کو ہندوستان کا حصہ بنانے کی کسی سازش کا حصہ تھا، درحقیقت کوئی صداقت نہیں۔

 

تقسیم کے کچھ عرصے بعد ہی، پونچھ کے قبائل نے ڈوگرہ افواج کے خلاف بغاوت کر دی اور انہیں بری طرح شکست دی۔ اسی دوران وزیرستان اور بلوچستان سے قبائل کو اس “جہاد” میں شمولیت کے لیے کشمیر منتقل کیا جانے لگا۔
ان وجوہ کی بناء پر شیریں الٰہی یہ نتیجہ اخذ کرتی ہیں،” اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ آیا کسی نے واقعی شاہی ریاستوں کے معاملات پر اثرانداز ہونے کی غرض سے سرحدوں میں ردوبدل کیا”۔ پاکستانی قیادت کشمیر کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے لازمی خیال کرتی تھی اور انہیں یقین تھا کہ راجہ پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کرے گا۔ تاہم راجہ کے سامنے پاکستانی خواہشات کے علاوہ اپنے اور غیر مسلم کشمیریوں کے تحفظ سمیت اور بھی کئی مسائل تھے۔

 

تقسیم کے کچھ عرصے بعد ہی، پونچھ کے قبائل نے ڈوگرہ افواج کے خلاف بغاوت کر دی اور انہیں بری طرح شکست دی۔ اسی دوران وزیرستان اور بلوچستان سے قبائل کو اس “جہاد” میں شمولیت کے لیے کشمیر منتقل کیا جانے لگا۔ ان قبائلی لشکروں کو فوج کی معانت حاصل تھی اور پنجاب حکومت نے انہیں ہتھیار بھی فراہم کیے۔ اکتوبر 1947 کے اختتام تک حملہ آور قبائلی لشکر سری نگر کے مضافات میں واقع بارہ مولہ تک جا پہنچے تھے۔ تاہم اس موقع پر حملہ آور فوج سے ایک فاش غلطی سرزد ہوئی۔ معروف فوٹو گرافر اور صحافی مارگریٹ برک-وائٹ اس اندوہناک منظر کی شاہد ہیں۔

 

شمال مغرب سے آئے مہمند، آفریدی، وزیر اور محسود قبائل زبردست جنگجو تھے لیکن یہ قبائلی لشکر، علاقے پر قبضے کے لیے جنگ اور مال غنیمت کے لیے لڑائی میں فرق سے ناواقف تھے۔ تین روز تک قبائلی لشکریوں نے بارہ مولہ میں تباہی، جنسی درندگی اور لوٹ مار کا بازار گرم رکھا۔ برک وائٹ “ہاف وے ٹو فریڈم: میں بیان کرتی ہیں کہ “بعض اوقات مسلم بھائیوں کے لیے ان کی مدد اس قدر جلد پہنچ جاتی تھی کہ لوٹ مار کے سامان سے لدے پھندے ٹرک اور بسیں اسی روز یا اگلے ہی دن مزید قبائلیوں کو لیے لوٹ آتے تھے، جو نئے سرے سے ‘آزادی دلانے’ کا یہ عمل بلا تفریق دہراتے تھے اور ہندو، سکھ اور مسلمان دیہاتیوں کو ایک ہی طرح دھمکاتے تھے۔”

 

تنگ آ کر کشمیر کے ڈوگرہ راجہ نے ہندوستان سے الحاق کا فیصلہ کیا۔ چند ہی روز میں ہندوستانی افواج سری نگر پہنچ گئیں اور انہوں نے شہر کا نظم و نسق سنبھال لیا۔
بارہ مولہ مشن ہسپتال کی راہباوں نے جب اپنے مریضوں کو بچانے کی کوشش کی تو انہیں اجتماعی طور پر ذبح کر دیا گیا۔ نیشنل کانفرنس کے ایک رہنما میر مقبول شیروانی کشمیر ملیشیا کی جانب سے غیر منظم قبائلی لشکروں کے خلاف خفیہ کارروائیاں کیا کرتے تھے۔ حملہ آور قبائلیوں نے انہیں پکڑ لیا اور انہیں سب کے سامنے پاکستان کی حمایت کا اعلان کرنے کا حکم دیا۔ انکار کرنے پر انہوں نے “مقبول شیروانی کے ہاتھوں میں میخیں ٹھونک دیں”۔ ان کی پیشانی پر جست کے نوکدار ٹکڑے سے لکھا: غدار کی سزا موت ہے۔ بعدازاں انہیں ایک فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے اڑا دیا گیا تھا۔

 

تنگ آ کر کشمیر کے ڈوگرہ راجہ نے ہندوستان سے الحاق کا فیصلہ کیا۔ چند ہی روز میں ہندوستانی افواج سری نگر پہنچ گئیں اور انہوں نے شہر کا نظم و نسق سنبھال لیا۔ پاکستان کی باقاعدہ افواج نے بھی اپنی پوزیشن مستحکم بنانے کے لیے پیش قدمی کی لیکن ہندوستانی افواج نے اپنی تزویراتی برتری کے باعث انہیں پیچھے دھکیل دیا۔ 1947-48کی یہ جنگ اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان تک چند ماہ جاری رہی۔

 

ہندوستانی صحافی پروین سوامی نے اپنی کتاب “Indian, Pakistan and the Secret Jihad” میں ذکر کیا ہے کہ 1947-48 کی جنگ ریاست حکمت عملی کے تحت شروع کی گئی مقدس جنگ تھی نا کہ مذہبی اشتعال انگیزی یا برادرانہ ہمدردی کے جذبات کے باعث شروع ہونے والی کوئی بغاوت (جیسا کہ ہمارے قومی بیانیے میں مذکور ہے)۔ جنگ بندی کے بعد بھی فوجی کارروائیوں میں حصہ لینے والے بہت سے افسران کشمیر کو “آزاد کرانے” کے خواب دیکھتے رہے۔ “راولپنڈی سازش کیس” کے ذمہ داران کے لیے پاکستان پر قبضے کے بعد کشمیر کی آزادی اس سازش کے بنیادی محرکات میں سے ایک تھی۔ پہلی دہائی میں ہی کشمیر کے معاملات پر صورت حال کی تبدیلی کی خفیہ کوششیں شروع ہو چکی تھیں جیسا کہ 1958 کی “کشمیر سازش کیس” سے ظاہر ہوتا ہے۔ کشمیر کی پہلی جنگ سے ہمیں کشمیر پر بعد کے برسوں میں پاکستان کی جانب سے اپنائی گئی حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے کافی سراغ ملتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

وفاق سے ایک مطالبہ

جیو ٹی وی کے پروگرام جرگہ میں مولانا فضل الرحمان نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کشمیر تنازعہ کا حصہ ہے اور کشمیر کو متنازعہ علاقہ قراردینا پاکستان کا اصولی موقف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے کشمیر پر اپنا تسلط قائم کیا ہے جس کی وجہ سےپاکستان نہ آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے کیوں کہ ایسا کرنا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق انڈیا اور پاکستان کسی بھی متنازعہ خطے کو اپنا آئینی حصہ نہیں بناسکتے۔ حق خودارادیت کشمیر اور اس تنازعہ کے شکار لوگوں کا حق ہے جس کی بنیاد پر ہی یہ فیصلہ ہو سکتا ہے کہ وہ کس ملک کا ساتھ دیتے ہیں۔ جغرافیائی مطابقت اور سماجی عوامل کی بناء پر ہمیں اطمینان ہے کہ جب بھی حق خودارادیت استعمال ہوگا تو کشمیر کے لوگ مملکت پاکستان کے حق میں فیصلہ دیں گے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک متنازعہ علاقے کو اپنا آئینی صوبہ نہیں بناسکتا اور اسی وجہ سے پاکستان نے اپنے اصولی موقف کی بنیاد پر کشمیر کو آزاد حکومت اور گلگت بلتستان کو صوبے کی حیثیت دی ہے صوبہ ‘ہونے’ اور ‘حیثیت دینے’ میں بڑافرق ہے۔

 

مولانا ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور کشمیر کمیٹی کی سربراہی بھی کرتے رہے ہیں۔ ان کے اس بیان کے جواب میں بس اتنا ہی عرض کرنا چاہوں گا کہ شاید گلگت بلتستان کی تاریخی حیثیت کے حوالے سے ان کا علم محدود ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی سیاست میں مولانا کی جماعت کا سیاسی وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ تو علامہ راجہ ناصر جعفری اور علامہ ساجد نقوی صاحب کا آپ پر احسان ہے کہ اُن کے درمیان اختلافات کی وجہ سے آپ کی جماعت کو قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی نشست مل گئی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ گلگت بلتستان کی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کریں۔ یکم نومبر گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے اور گلگت بلتستان کے عوام نے ہر برس کی طرح اس مرتبہ بھی اپنا یوم آزادی منایا ہے جو مولانا کے اس بیان کا موثر ترین جواب ہے۔

 

اقوام متحدہ نے قرار داد منظور کی تھی کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان گلگت اور مظفر آباد میں خود مختار حکومت قائم کرے اور انتظامی معاملات مقامی حکومت کے حوالے کرے لیکن اس قرارداد پر پوری طرح عمل نہیں ہوسکا۔
مولانا کو معلوم ہونا چاہیئے کہ اپنی آزادی کی جنگ گلگت بلتستان کے مقامی لوگوں نے بغیر کسی غیر ریاستی امداد کے جیتی تھی لیکن آزاد کشمیر ‘فتح’ کرنے کے لیے مقامی کشمیریوں کی بجائے پاکستان کے قبائلی علاقوں کے لشکر بھیجے گئےتھے۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ اُس جنگ کے بعد فاتح گلگت کرنل مرزا حسن خان نے ایک عبوری کابینہ تشکیل دی تھی تاکہ ایک آزاد اور خود مختار ریاست کی حیثیت سے آئندہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے ۔ مولانا اگر تاریخ کے اوراق پلٹیں تو انہیں بھی شائد معلوم ہوجائے کہ اُس وقت چونکہ کئی علاقے ایسے تھے جہاں ‘باغی’ فوج نے رِٹ قائم کرنا تھی یہی وجہ تھی کہ کرنل حسن خان نے انتظامی معاملات عبوری کابینہ کے سپرد کرتے ہوئے اگلے محاذ پر فوج کی کمان سنبھال لی۔ بدقسمتی سے اُس وقت گلگت میں مقیم برطانوی میجر براون جو کرنل حسن خان سے ذاتی اختلافات رکھتے تھے، نے اپنے حواریوں سے مل کر آزادریاست گلگت بلتستان کے مستقبل کا سودا کیا۔ گلگت کا نظم و نسق سنبھالنے کے لیے ایک بیوروکریٹ سردار ابراہیم تشریف لائے اور انہوں نے آتے ہی ریاستی ذمہ داران سے صلاح مشورہ کیے بغیرایف سی آر نافذ کردیا۔ ان صاحب نے تحریری معاہدے کے بغیر ریاست کا نظم و نسق سنبھال لیا اور بعد میں اس عارضی بندوبست کو الحاق کا نام دے دیا۔

 

معاہدہ کراچی میں گلگت بلتستان کا آئینی مستقبل مقامی عوام کی بجائے وفاق کے ہاتھ میں دے دیا گیا اور عوام سے رائے لیے بغیر اس معاہدے کے ذریعے ریاست کے باشندوں کو پاکستان کے ساتھ نتھی کر دیا گیا۔ اس تمام صورت حال کو دیکھ کر بھارت نے جب قوام متحدہ سے رجوع کیا تو اقوام متحدہ نے قرار داد منظور کی تھی کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان گلگت اور مظفر آباد میں خود مختار حکومت قائم کرے اور انتظامی معاملات مقامی حکومت کے حوالے کرے لیکن اس قرارداد پر پوری طرح عمل نہیں ہوسکا۔ پاکستان گلگت بلتستان کے معاملے میں دوہرا موقف رکھتا ہے، اپنے مفادات کی خاطر اس علاقے کی اپنی مرضی کی آئینی حیثیت مقرر کرتا ہے۔ آگے چل کر گلگت بلتستان سے سٹیٹ سبجیکٹ رول بھی ختم کر دیا گیا۔ اسی طرح ضیاء الحق کے دور میں آزاد کشمیر کے برعکس یہاں مارشل لاء نافذ کیا گیا لیکن اُس وقت کسی نے گلگت بلتستان کو متازعہ کشمیر کا حصہ قرار نہیں دیا۔ آج پاکستان نہ تو گلگت بلتستان کو خودمختار علاقہ قرار دیتا ہے اور نہ ہی یہاں کے بیس لاکھ عوام کے اندر بڑھتے ہوئے احساس محرومی کو ختم کرنے کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے۔ آخر آپ کا ایجنڈا کیا ہے؟

 

ہم وفاق پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے ممکنہ حل تک اس خطے کو یکم نومبر 1947کی خود مختار حیثیت پر بحال کر دے اور یہاں کے عوام کو مکمل داخلی خود مختاری دے
گلگت بلتستان کے عوام سیاسی شناخت کے بغیر اپنا وجود نامکمل سمجھتے ہیں۔ گلگت بلتستان آئینی طور پر پاکستان کا حصہ نہیں اور اسے آئینی بندوبست کا حصہ بنانے میں اقوام متحدہ کی قراداد اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف حائل ہیں۔ لیکن یہاں کے عوام کے مسائل حل کرنے، اوران کا احساس محرومی ختم کرنے میں ایسی کوئی روکاوٹ نہیں۔ یہاں کے عوام کا احساس محرومی ختم کرنے کے لیے گلگت بلتستان کی تاریخی، قانونی حیثیت اور انقلابِ گلگت بلتستان کی حقیقت اور اُس وقت کے غلط فیصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے مثبت فیصلے کرنے ہوں گے۔ جغرافیائی اور سماجی رشتوں کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تواس خطے کو پاکستان سے الگ کرنا گلگت بلتستان اور پاکستان دونوں کے مفاد میں نہیں، لیکن افسوس پاکستانی ریاست اور مولانا فضل ارحمان یہاں کے لوگوں پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ مولانا ایک صاحب بصیرت اور دور اندیش سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں لیکن گلگت بلتستان کے حوالے سے ان کا نقطہ نظر خاصا غیر دانشمندانہ ہے۔ یہاں کے عوام آپ سے توقع رکھتے تھے کہ آپ وفاق سے گلگت بلتستان کے عوام کا احساس محرومی ختم کرنے کا مطالبہ کریں گے، ہمیں امید تھی کہ آپ گلگت بلتستان کو مکمل سیاسی شناخت کی ضمانت فراہم کریں گے لیکن آپ کا حالیہ انٹرویو مایوس کن ہے۔ ہم وفاق پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے ممکنہ حل تک اس خطے کو یکم نومبر 1947 کی خود مختار حیثیت پر بحال کر دے اور یہاں کے عوام کو مکمل داخلی خود مختاری دے کر یہاں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی یقینی بنائیں۔ اب یہ ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام تجارتی راستے کھول دیئے جائیں خاص طور پر سکردو کارگل روڈ کو آمدورفت کے لیے کھول کر منقسم خاندانوں کو ایک دوسرے ملنے کی اجازت دی جائے۔