Categories
شاعری

پشتون تحفظ موومنٹ (سلمان حیدر)

تم لوگوں کو قتل کرتے رہے
یہاں تک کہ
احساس تحفظ تمہاری گولیوں کا نشانہ بن گیا
تم نے بے گناہوں کو
ان کے بستروں کے سکون سے جھپٹ لیا
ان کی سواریوں کی راحت سے نیچے دھکیل دیا
ان کی خاندان کی عافیت سے کھینچ نکالا
اور ان کے دوستوں کی راحت سے اچک لیا
باقی بچ جانے والوں کو خاموشی کا گھن اندر ہی اندر کھانے لگا
یہاں تک کہ انہوں نے اپنی آواز سننا شروع کر دی
وہ کسی کا انتظار کیے بغیر
اپنی آرام گاہوں سے نکل آئے
اور انہوں نے اپنے جیسوں کو اپنے گرد پایا
انہوں نے سواریوں روک دیں
عافیت کو ترک کر دیا
راحت کو کسی اور دن کے لیے اٹھا رکھا
اور تمہارے دروازوں پر اپنی آوازیں بلند کر دیں
تمہارے ہتھیار خوف کھانے لگے
ان کی لبلبی پر رکھی انگلیاں
حیرت سے اکڑ گئیں
تم نے احساس تحفظ کو قتل کرتے ہوئے نہیں سوچا
کہ لوگ گھروں میں خوفزدہ ہو جائیں
تو سڑکوں پر نڈر ہو جاتے ہیں۔۔۔۔

Categories
شاعری

انتظام (سلمان حیدر)

ہماری گردنوں سے لپٹے ہوئے مفلر
ہمارا گلا گھونٹتے ہیں تو بڑھی ہوئی کھردری شیو میں الجھ جاتے ہیں
ہماری پتلیاں پپوٹوں کے بند دروازوں کے پیچھے موت کے انتظار میں بے چین ٹہل رہی ہیں
گلے آخری ہچکی کی ریہرسل کرتے سوکھ چکے
اپنے سوگواروں کے سیاہ لبادے لٹکانے کو کھونٹیاں ہم نے تابوت سے بچی ہوئی لکڑی سے بنائیں
اور انہیں راہدری کی طویل دیواروں چرچ کی کرسیوں کی طرز پر ترتیب دیا
کرسیاں جن کی ٹکٹکی پر ہم سے زیادہ زندہ رہنے والوں کو اذیت دی جائے گی
آتش دان میں جلتی کھپچیاں ہماری ہڈیوں کی طرح چٹختی ہیں
کچھ دیر میں یہ شور اس سلگتی ہوئی بھنبھناہٹ میں بدل جائے گا
جو اشلوک دہرانے کے عادی بوڑھوں کے پاس سے اٹھتی ہے
ہماری انگلیاں پٹ سن کی گرہیں کھولتے بے تابی کے تشنج کا شکار ہیں
ہم اپنے پھندے کی رسی بنتے ہوئے اس خدا کی حمد گائیں گے جس نے ہمیں زندگی دی۔۔۔
Image: Ma Desheng

Categories
شاعری

محبت کا سن یاس

وہ مجھے اپنی تصویریں بھیجتی ہے
اور مجھ سے میری نظموں کی توقع رکھتی ہے
میں نے لفظوں کا پھوک
اخباروں سے چن کر
لیکچروں کے بیچ ٹھونگتے رہنے کے لیے
اپنی جیبوں میں بھر رکھا ہے
ان لفظوں سے نظمیں نہیں لکھی جا سکتیں

اخبار جن چٹپٹے لفظوں سے بھرے ہوتے ہیں
وہ چائے کے ساتھ اچھے لگتے ہیں
نظم صرف سگریٹ کے ساتھ لکھی جا سکتی ہے
تصویر صرف کسیلے پانی کے ساتھ بنائی جا سکتی ہے
میں اپنی لائف انشورنس کا پریمیم کم کرنے کے لیے
سگریٹ چھوڑ چکا ہوں
کسیلے پانی پر خدا کا پہرہ ہے
اور اخبار میں لکھے لفظ صرف ری سائیکلنگ کے لیے بھیجے جانے کے قابل ہیں

لفظ صحیفوں میں ڈھونڈے جا سکتے ہیں
لیکن صحیفوں میں لکھے لفظ کثرت استعمال سے بے معنی ہو چکے ہیں
میں نے ان میں لکھی دعائیں رٹ ڈالیں
لیکن خدا کے کانوں میں ریشہ اتر آیا تھا
میں نے لفظوں کی تلاش میں ڈکشنریاں کھود ڈالیں
لیکن لفظ دب کر مر چکے تھے
میں نے ان مرے ہوئے لفظوں کو جوڑ کر گالیاں بنائی
لیکن کسی کو غصہ نہیں آیا
جن لفظوں پر کسی کو غصہ نہیں آتا
ان پر پیار آنے کی توقع بے سود ہے

ہم جیسے مردوں کو پیار کرنے کے لیے عورتیں درکار ہیں
اور غصہ کرنے کے لیے بھی
ہمیں نظمیں لکھنے کو عورتیں چاہئیں
اور گالیاں دینے کو بھی
ہم بچے پیدا کرنے کے لیے ان کے محتاج ہیں
اور لفظ جننے کے لیے بھی
خدا جانے تمہاری تصویر محبت کرنے کے لیے بوڑھی ہو چکی ہے
یا میں نظمیں جننے کے لیے نامرد۔۔۔
Image: Pawel kuczynski

Categories
شاعری

وہ سازش ڈھونڈ رہے تھے

کسی خفیہ راستے کی تلاش میں
انہوں نے سرکنڈوں کی بنی دیواروں پر
لپی ہوئی مٹی کھرچ ڈالی
اور تیل کا چولہا الٹ کر انہیں جلا دیا
چھاونی کے نقشے ڈھونڈنے کو
تھکے ہوئے جسموں پر منڈھا ہوا چمڑہ ادھیڑ کر
ہڈیوں میں سوراخ کیے
تاکہ رستا ہوا گودہ
بغاوت کے جراثیم ٹیسٹ کروانے
دارلحکومت بھیجا جا سکے
میلی چادریں بوٹوں تلے کچلیں
ادھڑے ہوئے گریبانوں میں
رال سے لتھڑے ہوئے ہاتھ ڈال کر
سوکھی ہوئی چھاتیاں ٹٹولیں
فاقہ زدہ پیٹوں کو بندوقوں کے دستوں سے ٹھونک
کر ان کے خالی ہونے کا اندازہ لگایا
پھٹے ہوئے جوتے سے جھانکتے ناخن کھینچ کر
ان کے اصلی ہونے کا یقین کیا
آنکھوں کی جھیلیں آنسووں سے خالی کروائیں
تاکہ ان کی تہہ میں چھپا ہوا اسلحہ برآمد کر سکیں
قہقہے ضبط کر لیے
اور مسکراہٹوں کے دانت توڑ ڈالے
ادھڑی ہوئی جیبوں میں
غیر ملکی کرنسی کی تلاش سے مایوس ہو کر پلٹے
تو جاتے ہوئے بچوں کے گلک توڑ گئے
جن میں انہوں نے خواب جمع کر رکھے تھے
میں اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر
اسکے خواب سمیٹ رہا ہوں
پھر اپنی نظموں کی کتاب ترتیب دوں گا۔۔۔۔
Image: Banksy

Categories
شاعری

جبر کی دنیا

جبر کی دنیا
زندگی کا ہیولہ سرچ ٹاور پر گھومتے سورج کی طرح
سیاہ پٹی سے ڈھکی آنکھوں کے سامنے
رات جیسے دن میں کئی بار گزرتا ہے
دن کو کرۂ ارض پر بچھی سرد ٹائلیں تلووں سے گننے میں صرف ہوتا ہے
کرۂ ارض جس کا شمالی قطب اس کے جنوبی قطب سے نو قدم دور ہے
رزق کا دروازہ مجھے کل تک زندہ رکھنے کے لیے دن میں تین بار کھولا جاتا ہے
میں من و سلویٰ کی چھلکتی پلیٹ ہتھکڑی لگے ہاتھ سے سنبھالنے میں مہارت حاصل کر چکا ہوں
مجھے یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ شہادت کی انگلی گلے پر پھیری جائے تو پسینہ پیشانی سے پھوٹتا ہے
پیشاب کی بوتل جس نل کے نیچے خالی کی جاتی ہے اس سے پینے کا پانی بھرنا مشکل ہوتا
اگر گالیوں اور کراہوں کے بیچ کی خاموشی پر مجھے موت کا گمان نہ ہوتا
انگلیوں کی پوریں دیوار پر کھدے وہ سب نام یاد کر چکی ہیں
جنھوں نے جبر کی دنیا مجھ سے پہلے دریافت کی
Categories
شاعری

پریشر ککر کی تقلید

پریشر ککر کی تقلید
میں کچن میں لوٹا تو وہ میرے سنک کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا
مندی ہوئی آنکھوں کے ساتھ کسی ادق زبان میں بڑبڑاتے ہوئے اس نے میرا مہمان بننے سے معذرت کی
ہم چمگادڑ سبزیوں کا احترام کرتے ہیں
سنک میں چھلی ہوئی گاجروں کی اترن اور کٹے ہوئے ٹنڈ کھڑے پانی میں تیر رہے تھے
اس نے جانے سے پہلے مجھے دالوں کے ماننے والے سے ملانے کا وعدہ کیا
دالوں کا ماننے والا مچھلی کے پیروکار کے ساتھ آیا
وہ چوڑے پتوں والی سبزیوں کے جنم دن کا میلہ دیکھنے جا رہے تھے
میں نے شوق اور حیرت کو ٹوکری میں ساتھ رکھ لیا
رش کی وجہ سے ہم چھلکوں پر پھسلتے ہوئے میلے سے لوٹ آئے
دن ڈھل گیا تھا اس لیے ہم نے حشرات اور چوپایوں کے عقیدت مندوں کا مناظرہ ٹی وی لاونج میں دیکھا
چھ ٹانگوں کی تقدیس گانے کے بیچ بھگڈر مچ گئی
ہم سموں تلے کچلے جانے سے بال بال بچنے والے اداکار کا انٹرویو سنتے سنتے بور ہو گئے
میں نے انہیں اپنے الحاد کا بتانے کے بعد پانی سے تواضع کی
وہ میری تھل تھل کرتی توند کی طرف بدتمیزی سے دیکھتے رہے۔۔۔۔۔
Categories
شاعری

آوازیں اغوا کرلی جاتی ہیں

اکیلی اور زندہ آوازیں
اغوا کرلی جاتی ہیں
تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی اپنی آوازیں
اپنی کتابوں میں
چھپا دو
مگر نہیں
سدھائے ہوئے کتے
کتابوں کو سونگھ کے
بتا دیتے ہیں
کہ کون سی کتاب
دیکھتی، سنتی اور بولتی ہے
تم آواز اور کتاب سمیت
اغوا ہو جاؤ گے
یہ سدھائے ہوئے کتے
گلی گلی سو نگھتے پھر رہے ہیں
اور کتنے سلمان حیدر
ابھی باقی بچے ہیں
کیا کرو گے؟
کہاں چھپاؤ گے؟
ایسی کوئی جگہ
نہیں ہے
جہاں زندہ آوازیں
چھپائی جا سکیں
تمہیں ان سدھائے ہوؤں
کو گلے سے دبوچنے کے لئے
اپنی آوازوں کو
جوڑ جوڑ کے
ایک زنجیر بنا نی ہو گی
ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم جانتے ہو
اکیلی اور زندہ آ وازیں
اغوا کر لی جاتی ہیں
Categories
شاعری

انسانی حقوق کا بینر(جس پر چیونٹیاں رینگ رہی ہیں)

انسانی حقوق کا بینر(جس پر چیونٹیاں رینگ رہی ہیں)
سلمان حیدر!
تمہاری نظمیں اس دریا کے لئے ہیں
جس میں انسانوں کی بہتی لاشیں
پہچان سے عاری ہیں

تمہاری نظمیں اس درخت کے لئے ہیں
جس پر بے گناہ پھانسی لٹکائے گئے

تمہاری نظمیں اس بندرگاہ کے لئے ہیں
جس سے ہمارے خواب اسمگل ہو کر
باہر بھیجے جاتے ہیں

تمہاری نظمیں اس پہاڑ کے لئے ہیں
جہاں کھڑے ہو کر دیکھا جا سکتا ہے
وہ جزیرہ بھی
جہاں دن رات جنگی جہاز اڑتے ہیں

تمہاری نظمیں اس لڑکی کے لئے ہیں
جس کے بدن پر
انسانی حقوق کے دن سگریٹ داغے گئے

تمہاری نظمیں اس آدمی کے لئے ہیں
جو تیزی سے زیادہ فاصلہ طے کر کے
جیت کے نشان پر پہنچا
اور خاموشی سے ہار گیا

سلمان حیدر!
تمہاری نظمیں کسی اخبار کے لئے نہیں
جس سے شیشے صاف کرنے کا کام لیا جاسکتا ہے

تمہاری نظمیں کسی جوکر کے لئے بھی نہیں
جو سرکس میں قہقہے بیچتا ہے

تمہاری نظمیں بسکٹ کے اشتہار کے لئے بھی نہیں
جس میں عریاں لڑکی ضروری ہے

تمہاری نظمیں اس آدمی کے لئے ہیں
جو بم دھماکے میں مار دیا گیا
زندہ جلا دیا گیا
-یا-
اچانک غائب ہو گیا
Categories
شاعری

عشرہ // پہاڑ اوجھل

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
خرگوش کے کان پہ جوں رینگی
نہ جادوگر کے ہیٹ کو گزند پہنچی
نہ اس کے بوٹ کی پالش ہی بگڑی

 

ہجوم کی تھکی تھکی نظریں جس پر جمی ہوں
کم، بہت یا بالکل غیر محفوظ
زیاده راستے نہیں بچ رہتے اس کے واسطے

 

سچ، بیشک ادھورا سچ
بولتے ہی آنکھ اوجھل ہو جانا چاہیئے
غائب ہو جانا چاہیے۔۔۔ مکمل طور پر
آپ جادوگر ہوں، چاہےان چاہے خرگوش
Categories
شاعری

ایک دلاسہ جو ہم پر تهوکا گیا

ایک دلاسہ جو ہم پر تهوکا گیا
دکھ سایوں کی طرح ہمارا پیچھا کرتے ہیں
ہمارا قتل ہماری پیدائش کے دن ہمارے چہرے پر لکھ دیا جاتا ہے
ہم اپنے بے نشان چہرے اوڑھے ان قاتلوں کا انتظار کر رہے ہیں
جنہیں جانتے بوجھتے نامعلوم لکھا جائے گا
بندوقیں ہم پر قہقہے لگاتی ہیں
لیکن تکلیف تسلی کے ان لفظوں سے ہوتی ہے
جو بارود تھوک دینے والی گولی کے خول کی طرح
ہر قتل کے بعد زمین پر لڑھکتے ہیں
اس انتظار میں کہ انہیں دوبارہ استعمال کے لیے اکھٹا کر لیا جائے۔۔۔۔
Categories
شاعری

بقا کی دیوار

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بقا کی دیوار

[/vc_column_text][vc_column_text]

خون کے داغ ہیں
کچھ دیر بھی رہنے کے نہیں
کل سحر ہو گی تو بازار سجے گا پھر سے
پھر اسی طور سے بہہ نکلے گا لوگوں کا ہجوم
ایک گوشے میں کسی کاغذی پٹی کی نشانی دے کر
پار جانے سے بھی روکیں گے مگر کچھ دن تک
پھول رکھ دیں گے جو مرجھاتے چلے جائیں گے
پھول تو پھول ہیں اور کاغذی پٹی بھی بہت دن تو نہیں چل سکتی
لوگ ٹھہریں گے ذرا دیر کو چلتے چلتے
ایک آدھ ہاتھ بھی اٹھ جاۓ دعا کو شاید
انگلیاں تھام کے چلتے ہوے بچوں کو ذرا دوسری جانب لے کر
موت اور زیست کے آثار کے بیچ
ایسے آ جائیں گے جیسے اب کے
موت اگر آئی دُعاؤں کو یہ اٹھے ہوے ہاتھ
اس گریبان سے جا الجھیں گے بچوں کے لیے
اپنے لوگوں کے لیے
خستہ تن لوگ مرے
زیست کے گرد اٹھائیں گے بقا کی دیوار
لشکر شاہ کے پالے یہ گرانڈیل جوان
عفریت موت ک گرد
چار پانچ انچ کی اک کاغذی پٹی کا حصار۔۔۔۔۔۔۔

Image: tribune.com.pk
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

جنگ: ایک کولاژ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

جنگ: ایک کولاژ

[/vc_column_text][vc_column_text]

مورچے کھودنے کا کفارہ دینے کو
قبریں جسموں سے پر کرنی پڑتی ہیں

 

———————

 

بوڑھی کمریں بیٹوں کے دفنانے کو جھکتی ہیں
سیدھی نہیں ہوتیں

 

—————-

 

قبروں پر جو پانی چھڑکا جاتا ہے
چکھ کر دیکھو
اس میں نمک ہے

 

————-

 

پائینتی لگ کر آپ ہی آپ سلگنے والی اس عورت نے
جنگ چھڑنے سے خوابوں کے دفنانے تک
خوشبو نہیں پہنی

 

———–

 

سرہانے پر ہاتھ پھیرتی ماں سے پوچھو
جیتا کون

 

—————

 

تمغے جس سونے سے ڈھالے جاتے ہیں
اس میں سے نیت کا کھوٹ علیحدہ کرنا ناممکن ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

گونگے لفظ چبانے والو

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

گونگے لفظ چبانے والو

[/vc_column_text][vc_column_text]

گونگے لفظ چبانے والو
اندھے حکم سنانے والو
سلوٹ سلوٹ لہجوں پر
قانون کا پالش کیا ہتھوڑا
ٹھک ٹھک ٹھک برسانے والو
لفظ چبائے جا سکتے ہیں
حکم سنائے جا سکتے ہیں
چند زبانیں ظل الہی کے بارے میں
اپنی اپنی ماں بولی میں
نازیبا باتیں کرتی ہیں
ان پر تالے ڈل سکتے ہیں
لب سلوائے جا سکتے ہیں
جن جبڑوں میں اپنی زبانیں روکنے کی طاقت بھی نہیں ہے
ان کو توڑا جا سکتا ہے
ان کے لیے کسی آہن گر سے خاص شکنجے بھی بنوائے جا سکتے ہیں
لیکن پستولوں کو طمنچہ کہہ دینے سے
بولی کو گولی نہیں لگتی
اور آئین کے تختہ سیاہ پر لکھ دینے سے
کوئی زباں نافذ نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

چاند میری زمیں پھول میرا وطن

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

چاند میری زمیں پھول میرا وطن

[/vc_column_text][vc_column_text]

چاند میری زمیں پھول میرا وطن
میرے دہقان فاقوں کے مارے ہوئے
سینچ کر خون سے کھیت ہارے ہوئے
لوٹ کر لے گیا پھر وڈیرہ کوئی
میرے کھیتوں کی مٹی کے لعل و یمن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن

 

میرے بچوں کے ہاتھوں میں ہتھیار کیوں
ہر گھڑی لڑنے مرنے پہ تیار کیوں
اس کی تکفیر کیا اس سے تکرار کیوں
کیوں لہو میں نہائے ہیں کوہ و دمن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن

 

میرے فوجی جواں جراتوں کے نشاں
مارتے بس نہتوں کو ہیں گولیاں
کچھ کی لاشیں برہنہ ملی ہیں ہمیں
اور کچھ کو ملا بوریوں کا کفن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن

 

ڈالروں سے گھر اپنے سجائے گئے
میرے بیٹوں کو فتوے سنائے گئے
کچھ تو کشمیر کو جا کے لوٹے نہیں
اورکچھ سٹریٹیجک ڈیپتھ میں ہیں دفن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

نوحے کی دهن کوئی کمپوز نہیں کرتا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

نوحے کی دهن کوئی کمپوز نہیں کرتا

[/vc_column_text][vc_column_text]

نوحے کی دھن کوئی کمپوز نہیں کرتا
بین سر میں نا کیے جائیں
تو کسی ماتھے پر شکن نہیں آتی
سسکیاں پچھم سے مدھم پر کب آئیں گی
کوئی نہیں بتا سکتا
پچھاڑیں کھانے کا کوئی قاعدہ ہے نا قرینہ
آنسو قطار بنا کر نہیں نکلتے
موت روز آنے کے باوجود اپنا ٹائم ٹیبل نہیں بناتی
لیکن تعزیت رسم ہے
سو افسردہ ہونے کی ایکٹنگ سکھانے کا سکول کھولنا ہو گا…

Image: Alexis Anne Grant
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]