Laaltain

اکیلا علمبردار قہقہاتا ہوا (سعد منیر)

نہیں نہیں ابھی تو جنگ جاری ہے ساری فوج تمہاری ہے پوری دنیا تمہاری حوصلہ سازی ہے باقی ایک ٹانگ میری بھی باقی ہے میرے تالو کو زبان لگ جاتی ہے میرا حلق لنگڑاتا ہوا لفظ نکال لاتا ہے تم پر خدا کی عنایت ہے میں رجیم کا شہنشاہ ہوں تم ستم شاہ گناہ سے […]

میں کہاں جاؤں (نصرت زہرا)

میں جو خواب میں ساڑھی پہن کر سندھی بولتی ہوں تم لوگ جو جنگ کرو گے تو میں کہاں جاؤں گی؟ میرابچہ جو آج بھی نانا کی جنم بھومی کا طعنہ سہتا ہے کیا وہ ایک نئی ہجرت کرے گا؟ یا ہم سب زندگی سے موت کی جانب ہجرت کریں گے؟ تم جو جنگ کرو […]

ایک عوامی نظم (زاہد امروز)

ہم خالی پیٹ سرحد پر ہاتھوں کی امن زنجیر نہیں بنا سکتے بُھوک ہماری رانیں خشک کر دیتی ہے آنسو کبھی پیاس نہیں بجھاتے رجز قومی ترانہ بن جائے تو زرخیزی قحط اُگانے لگتی ہے بچے ماں کی چھاتیوں سے خون چوسنے لگتے ہیں کوئی چہروں پہ پرچم نہیں بناتا اور یومِ آزادی پر لوگ […]

پونے دو ارب گلیڈی ایٹرز ( علی اکبر ناطق)

مَیں گلیڈی ایٹر کے خونیں کھیل سے محظوظ ہوتا ہوں جب وہ قتل کرنےکے لیے نہیں ایک دوسرے سے بچنے کے لیے لڑتے ہیں پھر اُن میں سے ایک مارا جاتا ہے یا پھر دونوں یہاں تک کہ میدان خون کا تالاب بن جاتا ہے اُسی لمحے تماشا دیکھنے والوں کی تالیاں گونجتی ہیں تالیوں […]

جنگ سخت کوش ہے

سلمیٰ جیلانی : کتنی عالی شان ہے جنگ
کتنی پرجوش
کتنی محنتی اور تیز رفتار

لاشوں کا احتجاج

صفیہ حیات: جنم لینے سے انکار سمے
بچے نے ڈائری لکھی
جس میں
بم دھماکوں سے
بہرے اور اندھے ھونے والے بچوں کی آپ بیتیاں تھیں

تشنگی، بے بسی لب دریا

دریا کنارے پُرسکوں انداز میں سویا ہوا، اوندھا پڑا، ہر فکر سے آزاد، یہ معصوم سا بچہ، پانی پی رہا ہے، شاید پیاسا ہوگا؟؟