Categories
شاعری

اکیلا علمبردار قہقہاتا ہوا (سعد منیر)

نہیں نہیں
ابھی تو جنگ جاری ہے
ساری فوج تمہاری ہے
پوری دنیا تمہاری حوصلہ سازی ہے
باقی ایک ٹانگ میری بھی باقی ہے
میرے تالو کو زبان لگ جاتی ہے
میرا حلق لنگڑاتا ہوا لفظ نکال لاتا ہے
تم پر خدا کی عنایت ہے
میں رجیم کا شہنشاہ ہوں
تم ستم شاہ گناہ سے ماورا
تمہارا ستم اندھا دھند دھندلاتا ہوا
میری کوکھ میں میرے ادھ مرے بچوں پر
بارشوں کا برسنا لے کر اترا ہے
مگر فکر نہ کر میرے دوست
میری ایک زبان باقی ہے
میری انگلیوں میں کچھ سانس آتی ہے
میں بوڑھی عورتوں کے سینے میں سے
ہمکتی بددعا بن کر چمٹ جاؤں گا
جراثیم تک کی حد تک اتر آؤں گا
کیونکہ میں جیت سے ہار تو گیا ہوں
ہار مگر مانا نہیں ہوں
اسی ضد سے آؤ کرو عہد مجھ سے
ابھی تو جنگ جاری ہے
موت موت ہے اسے مارو گولی
جنگ جنگ ہے
اور جنگ جاری ہے
Image: Fadi Abou Hassan

Categories
شاعری

میں کہاں جاؤں (نصرت زہرا)

میں جو خواب میں
ساڑھی پہن کر
سندھی بولتی ہوں
تم لوگ جو جنگ کرو گے
تو میں کہاں جاؤں گی؟
میرابچہ جو آج بھی
نانا کی جنم بھومی کا
طعنہ سہتا ہے
کیا وہ ایک نئی ہجرت کرے گا؟
یا ہم سب زندگی سے موت کی جانب
ہجرت کریں گے؟
تم جو جنگ کرو گے

Categories
شاعری

ایک عوامی نظم (زاہد امروز)

ہم خالی پیٹ سرحد پر
ہاتھوں کی امن زنجیر نہیں بنا سکتے
بُھوک ہماری رانیں خشک کر دیتی ہے
آنسو کبھی پیاس نہیں بجھاتے
رجز قومی ترانہ بن جائے
تو زرخیزی قحط اُگانے لگتی ہے
بچے ماں کی چھاتیوں سے
خون چوسنے لگتے ہیں
کوئی چہروں پہ پرچم نہیں بناتا
اور یومِ آزادی پر لوگ
پھلجھڑیاں نہیں، اپنی خوشیاں جلاتے ہیں

فوج کبھی نغمے نہیں گُنگنا سکتی
کہ سپاہی کھیتیاں اُجاڑنے والے
خود کار اوزار ہوتے ہیں

کیا پھول نوبیاہتا عورت کے بالوں
اور بچوں کے لباس پر ہی جچتا ہے؟
کاش۔۔۔!
وطن کی حدود کے تعیّن کے لیے
پھولوں کی کیاریاں
آ ہنی تاروں کا متبادل ہوتیں!

Categories
شاعری

پونے دو ارب گلیڈی ایٹرز ( علی اکبر ناطق)

مَیں گلیڈی ایٹر کے خونیں کھیل سے محظوظ ہوتا ہوں
جب وہ قتل کرنےکے لیے نہیں
ایک دوسرے سے بچنے کے لیے لڑتے ہیں

پھر اُن میں سے ایک مارا جاتا ہے
یا پھر دونوں
یہاں تک کہ میدان خون کا تالاب بن جاتا ہے
اُسی لمحے تماشا دیکھنے والوں کی تالیاں گونجتی ہیں
تالیوں کی آوازیں گلیڈی ایٹر کی لاشیں نہیں سُنتیں
وہ فقط تڑپتی ہیں
مَیں اِس کھیل سے محظوظ ہوتا ہوں
کیونکہ مَیں جانتا ہوں
مَیں کسی بھالے ، نیزے یا تلوار کی ضرب سے بہت دُور ہوں
فقط ایک تماشائی
فاتح گلیڈی ایٹر کی قیمت
میری صرف ایک تالی کے برابر ہے
وہ تالی
جسے کبھی کبھی مَیں اپنے زانو پر پیٹتا ہوں
یا دونوں ہاتھوں سے بجاتا ہوں
گلیڈی ایٹر میری تالی کی آواز کو شناخت نہیں کر سکتا
کہ وہ ایک لمحے میں بہت سی تالیاں سُنتا ہے
یا اگر وہ زخموں سے چور ہے یا مر چکا ہے تو اُسے تالیاں بالکل سنائی نہیں دیتیں
اِس کا تجربہ
ایک ایسے شخص کو کیسے ہوسکتا ہے جو میدان سے باہر بیٹھا ہے
ہاں مگرجب تک اچانک تماشائی خواب سے بیدار نہ ہو جائے
اور اُسے پتا چلے کہ وہ خود گلیڈی ایٹر ہے
اور ابھی چند لمحوں بعد مرنا ہے
اے پونے دو ارب گلیڈی ایٹرو
ایک دن تمھیں پتا چلے گا کہ تم تماشائی نہیں ، گلیڈی ایٹر ہو
پھر تمھیں کوئی تالی، کوئی نعرہ سنائی نہیں دے گا
تمھارے کان بحرے ہو جائیں گے
اور میدان خون کے تالاب میں بدل جائیں گے
پھر تمھیں خبر ہو گی یہ تماشا محظوظ ہونے والا نہیں
Image: Pakistan Today

Categories
شاعری

جنگ سخت کوش ہے

عراقی نژاد امریکی شاعرہ دنیا میخائل
انگریزی سے ترجمہ سلمیٰ جیلانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتنی عالی شان ہے جنگ
کتنی پرجوش
کتنی محنتی اور تیز رفتار
صبح سویرے
سائرنوں کو جگاتی ہے
اور ایمبولینسوں کو
مختلف علاقوں میں بھیجتی ہے
لاشوں کو ہواؤں میں جھلاتی ہے
اسٹریچروں پر زخمیوں کو لادتی ہے
ماؤں کی آنکھوں سے
بارش کے سندیسے بھیجتی ہے
زمین کھود ڈالتی ہے
بہت سی چیزیں
کھنڈروں کے اندر بے ٹھکانا کر دیتی ہے
ان میں سے کچھ بے جان اور گیلے پن سے دمکتی ہوئی
اور کچھ زرد رو، ابھی بھی تڑپتی ہوئی
یہ سب سے زیادہ خیال پیدا کرتی ہے
بچوں کے ذہنوں میں
دیوتاؤں کا دل بہلاتی ہے
آسمان میں آتش بازی اور میزائل چھوڑ کر
کھیتوں میں بارودی سرنگوں کی بوائی کرتی ہے
خاندانوں کو ہجرت پر اکساتی ہے
پیشواؤں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے
جب وہ شیطان پر لعن طعن کرتے ہیں
(غریب شیطان ایک طرف آگ میں جھلستا ہے)
جنگ مسلسل کام میں لگی رہتی ہے،
دن دیکھتی ہے نہ رات
یہ ظالموں کا حوصلہ بڑھاتی ہے
کہ وہ لمبی لمبی تقریریں کریں
جرنیلوں کو تمغوں اور شاعروں کو موضوعات
سے نوازتی ہے
مصنوئی اعضاء کی صنعت کو بڑھاوا دیتی ہے
مکھیوں کو کھانا کھلاتی ہے
تاریخ کی کتابوں میں نئے صفحات جوڑتی ہے
قاتل اور مقتول میں مساوات قائم کرتی ہے
عاشقوں کو ایسے خط لکھنا سکھاتی ہے
کہ نوجوان لڑکیاں ان کا انتظار کرتے کرتے بوڑھی ہو جائیں
اخباروں کو تصویروں اور مضامین سے بھر دیتی ہے
یتیموں کے لئے نئے گھر تعمیر کرتی ہے
کفن بنانے والوں کو توانائی بخشتی ہے
قبریں کھودنے والوں کی پیٹھ ٹھونکتی ہے
اور سیاسی رہنما کے چہرے پر مسکراہٹ پینٹ کرتی ہے
وہ ناقابل بیان محنت سے کام کرتی ہے
پھر بھی
ابھی تک
کسی نے ایک لفظ اس کی تعریف میں نہیں کہا
Image: Wissam Al Jazairy

Categories
شاعری

لاشوں کا احتجاج

بچے اب درختوں پہ اگیں گے
جنم لینے سے انکار سمے
بچے نے ڈائری لکھی
جس میں
بم دھماکوں سے
بہرے اور اندھے ھونے والے بچوں کی آپ بیتیاں تھیں

ماؤوں کی خوفزدہ سانسوں میں
بسی کہانیوں میں
درد زہ کی چیخیں تھیں۔
زمیں بوس عمارتوں کے ملبے سے
خون آلود لاشیں
ظلم کے خلاف نعرے لگاتی بر آمد ہوئیں۔

حاملہ عورتیں جو بمباری کے زہریلے دھوئیں میں
مرنے کے قریب ہیں
دسویں مہینے میں بھی
بچوں نے جنم لینے سے انکار کر دیا
انھوں نے آپریشن تھیٹر جانے سے پہلے بتایا

داستانوں کی ڈائری کے لکھاری میں
گل مکئی لکھا جائے
تو شاید
انسانی لاشوں سے
ایسا تخم اگے
جو زمیں کی پیشانی کو سیندور سے بچا سکے۔
ورنہ بچوں کو
درختوں پہ اگنا پڑے گا۔

درخت یہ سن کر تھر تھر کانپ رہے ہیں۔
انھوں نے لاشوں کے ڈھیر دیکھ کر
خود کو بانجھ کر لیا ہے۔
کوئی انکی مددکو نہیں پہنچا
ابھی تک
آگ لگانے والے مفرور ہیں۔

Categories
شاعری

ایک اور فتح کے بعد

بموں اور گولیوں سے
مری دھرتی اب نئی دنیا اگائے گی
ہوا
مردہ گلے جسموں کی بو میں
لڑکھڑائے گی
ڈری سہمی ہوئی مائیں
اب اپنے وقت سے پہلے
زمانے جننا سیکھیں گی
کھلی آنکھوں میں حیرانی سمیٹے
میرے بچے
پہلی بولی، درد سے آہوں سے
اور چیخوں سے سیکھیں گے
بلیک آؤٹ میں بیٹھے
ایڈیسن کو شکریے کی میل بھیجیں گے
عقوبت خانوں میں بے داغ جسموں پر
زمانے چڑھ گئے تو کیا
ہم ایور یوتھ کریموں سے
ہر اک سلوٹ چھپالیں گے
کلوننگ کے لئے خلئے ملیں گے
فرد ہم پھر سے بنالیں گے
زمین یہ بجھ گئی تو کیا
نئے سیارے پر جاکے
نئی دنیا بسا لیں گے

Categories
شاعری

تماشائی حیرت زدہ رہ گئے

تماشائی حیرت زدہ رہ گئے
تماشا گروں نے
کبوتر نکالے تھے
شیشے کے خالی کنستر سے!

ماچس کی تیلی سے
بجلی کا کھمبا بنایا تھا
رسی پہ چلتی ہوئی ایک لڑکی
ہوا میں اڑائی تھی
بندر کے اندر سے
انسانی بچہ نکالا تھا
سب لوگ حیران تھے
کیسے جادو گروں نے
پرندے کو راکٹ بنایا
پتنگے کی دم سے سٹنگر نکالا
طلسماتی ہاتھوں نے
گیندوں کی مانند ایٹم بموں کو اچھالا !

تماشائی حیران تھے
کیسے جادو گروں نے
زمیں
راکھ کی ایک مٹھی میں تبدیل کر دی
Categories
نقطۂ نظر

تشنگی، بے بسی لب دریا

یہ معصوم بچہ، والدین کے ہمراہ اپنا گھر بار، مال ومتاع، تمام قیمتی اشیاء بیچ کر، اپنا شہر، ملک،بچپن، دوست احباب، اپنی چھوٹی سی دنیا کی تمام خوشیاں چهوڑ کر ایک ایسی دھرتی کی تلاش میں نکلا تھا، جہاں انہیں زندہ رہنے کی آزادی ہو۔
دریا کنارے پُرسکوں انداز میں سویا ہوا، اوندھا پڑا، ہر فکر سے آزاد، یہ معصوم سا بچہ، پانی پی رہا ہے، شاید پیاسا ہوگا؟؟
نہیں ۔ ۔ نہیں ۔ ۔
شاید رزق کی تلاش میں آیا ہوگا،بھوکا ہوگا؟؟
نہیں یہ بھوکا بھی نہیں۔
پھر تو یہ سمگلر ہوگا،کسی نے مارا ہوگا؟؟ اتنا کم سن سا سمگلر ؟؟
نہیں یہ سمگلر کیسے ہو سکتا ہے؟
پھر شاید بہتر نوکری یا ملازمت کے لیے یورپ جارہا ہو گا کہ سمندر کی نذر ہوگیا !!
مہاجر؟ مہاجر کون؟
دہشت گرد؟
نہیں !!
غریب، فقیر؟
نہیں!!
معذور، بیمار، ذہنی مریض؟
وہ بھی نہیں!!
پیسے کا بھوکا کسی سرمایہ دارکا بیٹا؟
نہیں !!
تو پھر یہ معصوم سا بچہ کون تھا؟
اپنی ماں کی آنکھوں کا تارا، باپ کا پیارا یہ معصوم بچہ، والدین کے ہمراہ اپناگھر بار، مال ومتاع، تمام قیمتی اشیاء بیچ کر، اپنا شہر، ملک،بچپن، دوست احباب، اپنی چھوٹی سی دنیا کی تمام خوشیاں چھوڑ کر ایک ایسی دھرتی کی تلاش میں نکلا تھا، جہاں انہیں زندہ رہنے کی آزادی ہو۔ محبت کی ایک وادی ہو۔خوشیاں سب کی سانجھی ہوں۔لیکن اس بچے کو ہرگز یہ معلوم نہ تھا کہ اس رستے پر قدم قدم پر خطرہ ہے۔ بھوکے پیاسے، گرتے پڑتے، چلتے چلتے دشوار سرحد تک جانا ہوتا ہے۔جہاں خاردار تاریں ہوتی ہیں، اسلحہ تھامے محافظ اور ممنوعہ جاگیریں ہوتی ہیں۔ جب تیز آہنی خاردارتاروں سے نہ چاہتے ہوئے بھی چل کر گزرنا ہوتا ہے تو جسم پر خراشیں پڑتی ہیں۔پھر انہیں تنگ وتاریک آہنی اور مضبوط کنٹینروں جہاں سانس لینا بھی محال ہوتا ہے میں لمبا سفر کرنا ہوتا ہے۔ ان قید خانوں میں امید صرف اک روزن سے آتی روشنی کی ایک کرن کی مانند ہوتی ہے۔
مگر جو بیمار ہو وہ کس طرح سے سانس لیتا ہے؟
جس پردردِ قلب یا فالج کا حملہ ہو و ہ کیسے درد سہتا ہے؟
ارے یہ کیا؟
دہشت،خوف اور جنگ کے خطرے سے بھگ کر آئے ہیں صاحب، جان کے لالے پڑے ہیں صاحب،انسان ہونے کے ناطے ہم پناہ اور امن کے لیے آئے ہیں!
سمندر؟
انہوں نے تو سمندر خواب میں بھی نہ دیکھا ہوگا۔
اتنا پانی! پھر لوگ پیاسے کیوں مرتے ہیں؟
اچھا! پانی نمکین جو ہے! جان لیوا پانی!
وہ دیکھو جزیرہ، وہ دیکھو شہر کی روشنیاں صاف دکھائی دے رہی ہیں! مگر پھر کیا ہوتا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ پہنچ گئے، کچھ پہنچ کر مر گئے کچھ ساحل تک بھی نہ پہنچے بلکہ دل میں اک روشن مستقبل کی امیدلیے ڈوب گئے۔ کچھ کے چہروں پر خوشی کی چمک کہ زندہ ہیں،کچھ گریہ و فغاں میں مگن کہ عزیز ساتھ چھوڑ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہالٹ! ہالٹ!!!!
کون ہو تم لوگ؟
ہم انسان ہیں صاحب!
کیوں اور کس لئے آئے ہو؟
دہشت،خوف اور جنگ کے خطرے سے بھاگ کر آئے ہیں صاحب، جان کے لالے پڑے ہیں صاحب،انسان ہونے کے ناطے ہم پناہ اور امن کے لیے آئے ہیں!
کہاں سے آئے ہو ؟
زمین، جنگل ، پہاڑ، برف، دریا، سمندر پار کر کے آئے صاحب !
کس ملک سے ہو؟
ایلان کردی اپنے قد، عمر اور وزن کے برابر زندہ رہنے کے لیے اس کرہ ارض پر کہیں بھی زمین کا ایک ٹکڑا چاہتا تھا، لیکن اسے کہیں جائے امان نہ ملی اور وہ سمندر کی بے رحم موجوں میں کھوگیا شاید دنیا تنگ پڑ گئی ہے
اسی کرہ ارض سے ہیں صاحب! مگر وہاں انسان ہی انسان کو کھانے کے درپے ہیں۔۔۔ بہت بے رحم اور خونخوار درندے ہیں وہاں!
تم پڑھے لکھے معلوم ہوتے ہو؟
جی صاحب ۔میں پروفیسر ہوں، یہ ایک ہنر مند ہے،یہ جو ساتھ کھرا ہے تاجر ہے، یہ لڑکا کالج کا لائق طالب علم ہے!
تمہیں معلوم ہے تم سب جس انداز میں ہماری سرحد پار کر کے آئے ہو، یہ غیر قانونی ہے۔ تم قانون توڑ کر آئے ہو۔ تم سب مجرم ہو۔
نہیں صاحب! یہ غیرقانونی نہیں، ہم نے کوئی جرم نہیں کیا، ہم مجرم نہیں۔
کیا آپ نے یہ نہیں سنا صاحب کہ تھامس پین کہتا تھا “یہ دنیا میرا ملک ہے،ساری انسانیت میری برادری اور اچھائی کرنا میرا مذہب ہے”۔
ہم تھامس پین کے مذہب اور قبیلے کے لوگ ہیں صاحبَ!! مگر ہم پورے نہیں ہیں، کچھ کو موت نے آلیا۔ جس تعداد میں چلے تھے، ان میں سے بہت سوں کو مشکلوں نے کھا لیا صاحب!!
اب ذرا اس بچے کو ہی دیکھ لیجئے صاحب!
وزن: 1 غنچہ پھول
قد: 2 فٹ
عمر :3 سال
ایلان کردی اپنے قد، عمر اور وزن کے برابر زندہ رہنے کے لیے اس کرہ ارض پر کہیں بھی زمین کا ایک ٹکڑا چاہتاتھا، لیکن اسے کہیں جائے امان نہ ملی اور وہ سمندر کی بے رحم موجوں میں کھوگیا شاید دنیا تنگ پڑ گئی ہے۔
مگر وہ صاحب !
وہ دنیا بھر کے اسلحہ ساز کارخانوں کے مالکان، خونخوار جنگجو،سیاست دان، مہاجر کمیٹیوں کے سربراہ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو! انسانیت اب بھی زندہ ہے۔
دیکھو! دنیا بھر میں ٹرین اسٹیشنوں، ہوائی اڈوں، ساحل سمندر کے کناروں، بس اسٹاپوں،تمہاری کھینچی سرحدی لکیروں پر انسان مہاجروں کو پانی کی بوتلوں، پھولوں،تحفوں، بچوں کے کھلونوں کے ساتھ خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔
تم سب ہار گئے۔۔۔۔ انسانیت جیت گئی!!!
Categories
نقطۂ نظر

ایک افسانہ ایک حقیقت

میدان جنگ میں اسے مدمقابل فوجوں کے نمائندہ قومی پرچم نظر آئے ۔ ان بلند پرچموں کے نیچے انسانی اعضاء بکھرے ہوئے تھے۔ ہرطرف خون ہی خون نظر آرہا تھا۔ بہت کوشش کے باوجود بھی وہ فاتح اور مفتوح کے انسانی اعضاء اور خون کی رنگت میں کوئی بھی فرق نہ کرسکا
دن اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا تھااور شب کے گہرے سائے پھیلتے جارہے تھے۔ ان سایوں میں دو ر دور تک خاموشی نے بسیرا کرلیا تھا۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور توپوں کی گھن گرج میدان جنگ میں عارضی اور وقتی جیت کے ساتھ ہی بند ہوچکی تھیں۔ بارود کا دھواں ہر جانب نظر آرہا تھا اور محسوس ہورہا تھا کہ جیسے اس جگہ کا مقدر ایک میدان جنگ ہونے کے سوا کچھ نہیں۔اس نے اپنے ہوش و حواس سنبھالے ،اٹھ کر اردگرد کے مناظرسے لپٹی ہوئی خاموشی کو محسوس کیا اوراس گھٹن زدہ ماحول میں گہری سانسیں لینی شروع کردیں۔ اس نے ہمت کرکے اپنے بکھر ے ہوئے وجود کو اپنے ہوش و حواس کے ساتھ منسلک کیا اور بوجھل قدموں کے ساتھ چلنے لگا۔ میدان جنگ میں اسے مدمقابل فوجوں کے نمائندہ قومی پرچم نظر آئے ۔ ان بلند پرچموں کے نیچے انسانی اعضاء بکھرے ہوئے تھے۔ ہرطرف خون ہی خون نظر آرہا تھا۔ بہت کوشش کے باوجود بھی وہ فاتح اور مفتوح کے انسانی اعضاء اور خون کی رنگت میں کوئی بھی فرق نہ کرسکا ۔
سب کچھ اس جنگ کی نذر ہوچکا تھا۔
راستے میں اس نے انسانی زندگیوں کو بارود سے اڑانے والے ہیلی کاپٹروں سے اب انسانیت کے نام دی جانے والی امداد کے بڑے بڑے پیکٹ ہوا سے زمین کی جانب آتے دیکھے۔
یہ درد ناک مناظر اس کے درد کو بڑھاوا دے رہے تھے۔ کچھ دیر چلنے کے بعد اسے ایک عارضی طبی امدادی مرکز نظر آیا ۔ یہاں داخل ہوا اور دوسرے فوجیوں کو بھی یہاں موجود پایا ۔ وہ ایک طرف خالی بستر پرلیٹ گیا ۔ جسمانی درد سے کہیں زیادہ اثر ان دلخراش مناظر نے اس کے دل و دماغ پر چھوڑا تھا۔ اگلے ہی لمحے اس نے دیکھا کہ جن ممالک نے اس جنگ کے دوران لاشوں کے ڈھیر لگائے تھے انہی کی جانب سے زخمی فوجیوں کے لیے علاج اور امداد کا بھرپور انتظام کیا گیا تھا۔ وہ چکرا کے گرپڑا اور بے ہوش ہوگیا۔ اسے جب ہوش میں آیا تو وہ فوراً وہاں سے نکل گیا۔ وہ سوچ بچار کے گہرے سمندر میں غرق تھا۔ ایک عجیب سی کیفیت سے دو چار ہوکر وہ بوجھل قدموں کے ساتھ آگے کی جانب بڑھ رہا تھا۔ راستے میں اس نے انسانی زندگیوں کو بارود سے اڑانے والے ہیلی کاپٹروں سے اب انسانیت کے نام دی جانے والی امداد کے بڑے بڑے پیکٹ ہوا سے زمین کی جانب آتے دیکھے۔ اپنی جنگی ہوس پوری کرنے کے بعد اب انسانیت کے دلفریب مناظر اس کے سامنے پوری طرح عیاں تھے۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ یہ چند ممالک اپنی ہوس اور ہتھیاروں کی نمائش کی خاطر ہی اس پرسکون اور آباد دنیا میں جنگ برپا کرتے ہیں اور پھر لاکھوں کروڑوں معصوم زندگیوں کے خون سے ہولی کھیل کر اپنے ذلت آمیز اور مذموم مقاصدکی تکمیل کرتے ہیں۔
اسے یہ محسوس ہوا کہ دونوں طرف کے ہلاک شدہ فوجی اپنے بکھرے ہوئے اعضاء کے ساتھ یہ سوال کررہے ہیں کہ آخر ہماراقصور کیا تھا؟
اس کے ٹوٹے پھوٹے سامان میں صرف ایک چھوٹا ریڈیو ہی سلامت رہا۔ کچھ آوازیں سنائی دیں۔ کان قریب لگا کر سنا تو یہ خبر ریڈیو پر پڑھی جارہی تھی کہ جنگ کے بعد دونوں اطراف کے سپہ سالاروں کے مابین جنگ بندی کی شرائط طے پا گئی ہیں۔ اس نے یہ بھی سنا کے متحارب فریقین کی حکومتوں نے جنگ زدہ علاقے کی آبادکاری کے لیے بڑی بڑی کمپنیوں سے تاریخ ساز معاہدہ کیا ہے۔ ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے یہ خوش خبری اب ان تمام گھروں کے اندر سنی اور دیکھی جارہی تھی کہ جن کے لخت جگر اس جنگ کا ایندھن بن چکے تھے۔ دنیا بھر کے میڈیا میں یہ جشن برپا تھا کہ آخر کار انسانیت کی فتح ہوئی اور اب ان لاکھوں کروڑوں معصوم سپاہیوں کی لاشوں اور ان کے انسانی اعضاء پر یہ مقام پھر آباد کیا جائے گا۔ اس نے تمام چیزوں سے چھٹکارا حاصل کیا ، ایک لمبی اور گہری سانس لے کر اس نے جنگ زدہ میدان پر ایک نگاہ ڈالی۔ اسے یہ محسوس ہوا کہ دونوں طرف کے ہلاک شدہ فوجی اپنے بکھرے ہوئے اعضاء کے ساتھ یہ سوال کررہے ہیں کہ آخر ہماراقصور کیا تھا؟ اس دنیا میں موجود وسائل کی تقسیم سے لےکر جھوٹی قوم پرستی اور نمائشی حب الوطنی کے طوق تک ہر پھندا معصوم انسانوں کی گردنوں میں ڈالا گیا ہے ۔ ان سپہ سالاروں اور ہتھیاروں کے سوداگروں نے علاقوں کی آپسی بندر بانٹ اور ہتھیاروں کی نمائش کے لئے صدیوں سے آباد اور پر امن اس دھرتی اور اس کے علاقوں کوجنگ زدہ بنانے کے علاوہ ہمیں اور کیا دیا ہے؟