Categories
شاعری

پونے دو ارب گلیڈی ایٹرز ( علی اکبر ناطق)

مَیں گلیڈی ایٹر کے خونیں کھیل سے محظوظ ہوتا ہوں
جب وہ قتل کرنےکے لیے نہیں
ایک دوسرے سے بچنے کے لیے لڑتے ہیں

پھر اُن میں سے ایک مارا جاتا ہے
یا پھر دونوں
یہاں تک کہ میدان خون کا تالاب بن جاتا ہے
اُسی لمحے تماشا دیکھنے والوں کی تالیاں گونجتی ہیں
تالیوں کی آوازیں گلیڈی ایٹر کی لاشیں نہیں سُنتیں
وہ فقط تڑپتی ہیں
مَیں اِس کھیل سے محظوظ ہوتا ہوں
کیونکہ مَیں جانتا ہوں
مَیں کسی بھالے ، نیزے یا تلوار کی ضرب سے بہت دُور ہوں
فقط ایک تماشائی
فاتح گلیڈی ایٹر کی قیمت
میری صرف ایک تالی کے برابر ہے
وہ تالی
جسے کبھی کبھی مَیں اپنے زانو پر پیٹتا ہوں
یا دونوں ہاتھوں سے بجاتا ہوں
گلیڈی ایٹر میری تالی کی آواز کو شناخت نہیں کر سکتا
کہ وہ ایک لمحے میں بہت سی تالیاں سُنتا ہے
یا اگر وہ زخموں سے چور ہے یا مر چکا ہے تو اُسے تالیاں بالکل سنائی نہیں دیتیں
اِس کا تجربہ
ایک ایسے شخص کو کیسے ہوسکتا ہے جو میدان سے باہر بیٹھا ہے
ہاں مگرجب تک اچانک تماشائی خواب سے بیدار نہ ہو جائے
اور اُسے پتا چلے کہ وہ خود گلیڈی ایٹر ہے
اور ابھی چند لمحوں بعد مرنا ہے
اے پونے دو ارب گلیڈی ایٹرو
ایک دن تمھیں پتا چلے گا کہ تم تماشائی نہیں ، گلیڈی ایٹر ہو
پھر تمھیں کوئی تالی، کوئی نعرہ سنائی نہیں دے گا
تمھارے کان بحرے ہو جائیں گے
اور میدان خون کے تالاب میں بدل جائیں گے
پھر تمھیں خبر ہو گی یہ تماشا محظوظ ہونے والا نہیں
Image: Pakistan Today

Categories
شاعری

عافیت کہاں ہے؟

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

عافیت کہاں ہے؟
(حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں)

[/vc_column_text][vc_column_text]

چلو آؤ، لوٹیں
کہ شام اب پچھل پیریوں کی طرح
خون کی پیاس سے چھٹپٹانے لگی ہے
ہوا کا سراپا
کسی خوف کی بھاری زنجیر سے خود کو باندھے ہوئے
لڑکھڑانے لگا ہے
گھروں کو چلیں
رات کا کالا عفریت ماتم گزیدہ ہے۔۔۔
غاروں سے نکلے گا، سڑکوں پہ گھومے گا
اور شہر کے باسیوں کو
جو (شب گرد ہیں) اپنے کالے پروں میں دبوچے گا ۔۔
کھا جائے گا!

 

آؤ، واپس گھروں کی طرف رُخ کریں
بند کمروں میں سیلن ہے، بُو ہے، گھٹن ہے
مگر عافیت ہے!

Image: Magdalena Abakanowicz
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
عکس و صدا

جنگ مسئلے کا حل نہیں، لاہور سے امن کا پیغام

اتوار 2 اکتوبر کی شام لبرٹی گول چکر لاہور پر لاہور کے شہریوں نے ہندوستان اور پاکستان میں بسنے والے ڈیڑھ ارب لوگوں کو امن کا پیغام دیا۔ مظاہرے کے شرکاء نے دونوں ملکوں پر اپنے مسائل پر امن طریقے سے حل کرنے پر زور دیا۔ امن کا یہ پیغام سرحد کے دونوں جانب بسنے والے لوگوں کے لیے ہے۔ یہ پیغام ان لوگوں کی آواز ہے جو جنگ کو مسائل کا حل نہیں سمجھتے بلکہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ مظاہرے میں شریک افراد نے جنگ کو بڑھاوا دینے کے رحجان کی مذمت کی اور اسے امن عالم کے لیے خطرہ قرار دیا۔ شرکاء نے اس موقع پر ‘آغازِ دوستی‘ کے لیے ویڈیو پیغامات بھی ریکارڈ کرائے۔

 

تصاویر اور رپورٹ: رضا خان

6

5
8
9
7
10
1
2
3

Categories
نقطۂ نظر

میں جنگ کے خلاف ہوں لیکن۔۔۔۔

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر کا یہ مضمون اس سے قبل ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ تصنیف حیدر کی اجازت سے اسے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

یہ اس سویرے کی بات ہے، جب میری آنکھ اتفاق سے جلد کھل گئی تھی، پتہ نہیں کیوں، کس بات پر مگر نیند ٹوٹی تو معلوم ہوا کہ نیند کے ساتھ ساتھ خواب بھی ٹوٹا ہے اور یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ سرحدی علاقے میں اٹھارہ جوانوں کو کچھ دہشت گردوں نے شہید کردیا ہے۔ حالانکہ لفظ شہید ہمیشہ میرے لیے کشمکش کا باعث رہا ہے اور میں اپنی دوست رامش فاطمہ سے اس حد تک اتفاق کرتا ہوں کہ یہ لفظ انسان کے قتل، اس کی موت کو تقدس کے ہالے میں لپیٹ کر طاق میں رکھ دینے کی سازش کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ بہرحال اب آپ میرے یہاں موجود اس لفظ کو قتل یا موت کے معنی میں پڑھ سکتے ہیں۔ ہم اس دن نیوز کی دکانوں پر پڑی لکڑی کی چھوٹی چھوٹی بینچوں پر بیٹھے رہے، جہاں تازہ اپڈیٹس کی جلیبیاں اتار کر عوام کو دی جاتی ہیں، کچھ کرکری، کچھ تازی، کچھ گرم اور کچھ بہت زیادہ جلی ہوئی۔ دکان دار کوشش کرتے ہیں کہ یہ جلیبیاں کرکری اور گرم ہوں تاکہ بیٹھے ہوئے لوگوں کو اس کی عادت پڑ جائے۔ سو اس دن بھی یہی ہورہا تھا۔ آج میں کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں، حالانکہ مجھ جیسے ایک گھریلو قسم کے ادیب کا ہندوپاک کی نہایت گنجلک، خطرناک، سازشی اور سخت ترین سیاست پر لکھا گیا کوئی بھی جملہ اعتبار کا درجہ نہیں رکھتا، مگر میں چونکہ ایک امن پسند، ڈرا ہوا اور خاموش طبع انسان ہوں، اس لیے چاہتا ہوں کہ میری بات بھی کبھی سنی جائے۔

 

جب بھی کہیں کوئی موت ہوتی ہے، ہمیں اس کا دکھ منانا چاہیے، دکھ اس معاملے میں کہ آج ایک پھول پک کر، سڑ کر، پچک کر زمین پر گرپڑا ہے۔
جب بھی کہیں کوئی موت ہوتی ہے، ہمیں اس کا دکھ منانا چاہیے، دکھ اس معاملے میں کہ آج ایک پھول پک کر، سڑ کر، پچک کر زمین پر گرپڑا ہے۔ عام طور پر ہمارے ملکوں میں سپاہیوں کی موت کو موت نہیں بلکہ قربانی سمجھا جاتا ہے، ان کے مرنے، ان کے قربان یا پھر شہید ہونے سے ان کے ماں باپ کو فرق نہیں پڑنا چاہیے، ان کے بچوں، ان کے خاندان والوں اور ان کے اپنوں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ فوج میں بھرتی ہونے کا ایک مقصد ہمارے یہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ لوگ وطن پر جان دینے کے لیے، کفن باندھ کر اپنے گھر سے نکلے ہیں۔ ہمارے یہاں ایک ٹرینڈ ہے، اگر آپ کو یہ بے وقت کا انگریزی لفظ برا معلوم ہوا ہے تو معافی چاہوں گا، مگر یہ روایت سے کئی گنا بہتر لفظ ہے۔ ٹرینڈ یہ ہے کہ ایک بھری ہوئی بندوق لیے ہوئے سپاہی کے پیچھے کھڑے ہوئے کچھ نہتے جی بھر کر جالیوں کے اس پار لوگوں کو گالیاں دینا چاہتے ہیں، کوسنا چاہتے ہیں، ان کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں، ان سے جھگڑا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں طرف ہے۔ اور جب اس جانب سے کوئی گولی آتی ہے تو سپاہی کا سینہ تو شہید ہونے ہی کے لیے بنایا گیا ہے، چنانچہ اس کا کوئی غم نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے غم میں مزید آبلہ پا ہو کر ایک نئے انسان کو وردی، کنٹوپ پہنا کر، بندوق ہاتھوں میں تھما کر اس کی پشت پناہی حاصل کرلینی چاہیے۔ ہمیں اس شخص کے گھروالوں، اس کے عزیزوں، اس کی زندگی، رشتوں، خوابوں، طور طریقوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔معاف کیجیے گا، مگر ہم اس مقام پر سپاہی اور خودکش بمبار میں فرق کرنا بھول جاتے ہیں۔سپاہی ایک ذمہ دار شہری ہوتا ہے، ایک ذمہ دار باپ ہوتا ہے، ایک ذمہ دار شوہر ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر ذمہ دار انسان ہوتا ہے، جس کے اندر وہ سارے جذبات موجود ہیں، جو اس کے پیچھے کھڑے ہوکر چخ چخ کرنے والوں میں ہونے کے امکانات ہیں۔ہم کبھی جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے، اس لیے کیوں نہیں گھبراتے کہ ہمیں ان سپاہیوں کی جان اور ان کے بچوں، بیویوں کی زندگی کی فکر ہو، ان سے محبت ہو، ان کی زندگی سے محبت ہو۔ہم نفرت کی دلدل میں اس قدر گہرےاترنے کے لیے تیار ہیں کہ اپنی طرف سے لڑنے کے لیے کچھ ایسے مجبور انسانوں کو آگے کرتے ہیں، جن کے لیے فوج میں بھرتی ہونا، ان کی چھوٹی بڑی ذمہ داریوں کو نبھانے کا نام بھی ہوسکتا ہے۔ جنگ کی خواہش آپ کی ہے، تو سپاہی کیوں مرے۔ آپ کہیں گے کہ اس کا کام ہی حفاظت کرنا ہے۔ تو میرا سوال ہے کہ حفاظت اصل کام ہے، موت اصل کام نہیں ہے۔ موت اس کا مقصد نہیں ہے، اس کا مقصد ایک سچی، صاف اور صحیح زندگی ہے۔ نفرت میں ڈوب جانے والے، اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ وہ نفرت کرنے والوں کی ہی زبان بول رہے ہیں۔اس بھاشا کا اپیوگ ہمیشہ ہوتا رہا ہے، ہر زمانے میں۔ اور ہر زمانے میں سوچنے والا ذہن ان کے لیے ایک نحوست، قابل نفرت اور گھن کرنے جیسی چیز ہی بنا رہا ہے۔سوشل میڈیا کی خبروں پر ہندو پاک کے عام لوگوں کے جذبات ، جس طرح منہ سے نکلنے والے جھاگ کی طرح ، کی بورڈ پر گھس کر پیدا کیے جانے والے لفظوں کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں،ان کا نظارہ تو ہر شخص نے کیا ہوگا۔ایک صاحب نے لکھا۔ ہندوستان پر نیوکلیر حملہ ہوجائے تو ہوجائے، ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔یہ بہت بڑا دیش ہے، جتنے لوگ بچیں گے، وہ پھر سے ہندوستان بنالیں گے، مگر ہم پاکستان کا نام و نقشہ اس دنیا سے ہٹا دیں گے۔میرے ذہن میں ان کے خیالات پڑھنے کے بعد دو باتیں ایک ساتھ پیدا ہوئیں۔ اول تو یہ کہ یہ کمنٹ کرتے وقت موصوف پوری طرح اس بات کی یقین دہانی کرچکے تھے کہ وہ بچنے والوں میں سے ہی ہوں گے، دوسرے ان کا رویہ اس دہشت گرد کی ہی طرح تھا، جو سوچتا ہے کہ بھیڑ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارگرایا جائے، مجھے تو مرنا ہی ہے، مگر میں اپنے دشمنوں کو بھی زیادہ سے زیادہ ختم کرسکوں۔اس کے لیے وہ تمام لوگ اس کے دشمن ہوتے ہیں، جن سے نہ وہ کبھی ملا، نہ ان کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کی، نہ عام زندگی میں انہیں اپنے ہی جیسا گھرداری اور کاروبار، عشق و تمدن میں الجھا ہوا انسان سمجھا، نہ وہ ان کے نام سے واقف، نہ ان کی فکریات سے۔بس چل پڑے، خود کو چیتھڑے چیتھڑے کرنے۔ اب اس سوچ میں اور اس سوچ میں کون سا ایسا فرق ہے۔ دہشت گردی، کہیں اور سے نہیں آتی، یہ بدلے کے جذبے سے پیدا ہونے والا ایک مرض ہے، ایک نفسیاتی مرض، جو انسان کو سوچنے سمجھنے سے محروم کرکے بس تباہی پھیلانے کی جانب راغب کرتا ہے۔اورتباہی بھی ان لوگوں کی ،جن کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو۔جن سے بلاواسطے کا ایک بیر ہو۔

 

امن حکومت کے ذریعے نہیں آ سکتا، یہ نعرے لگانے، چیخنے چلانے، گولیاں داغنے یا بم ماردینے سے نہیں آئے گا۔یہ بات کرنے کے ماحول سے پیدا ہو گا۔
یہی کام اس روز ان چار دہشتگردوں نے کیا، جو سرحد پار کرکے یہ جانتے بوجھتے اس طرف داخل ہوئے تھے کہ وہ کسی کو مار پائیں یا نہ مار پائیں مگر ان کا مرنا تو طے ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ انہوں نے کیا کیا ہے؟یہ وقت حکومتوں کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا نہیں ہے، وہ وقت گزر گیا، اب مسئلہ عوام کے ذریعے حل ہوگا۔جرمنی کے تاریخی معاہدے کو یاد کیجیے، جرمنی کی حکومتوں نے برلن کی دیوار کو نہیں گرایا تھا، عوام نے گرایا تھا۔ دیواریں تو ہمیں ہی گرانی ہوں گی۔ یہ کون لوگ ہیں، جو ہمیں جانے بوجھے بغیرہمارے بیچ مارنے، مرنے کے لیے آجاتے ہیں۔ہمیں ان کے مرض کی تشخیص کرنی ہو گی، ہمیں انہیں یہ یقین دلانا ہوگا کہ ہم ان کے دشمن نہیں ہیں، انہیں ہماری دشمنی پر جو لوگ آمادہ کررہے ہیں، دراصل وہ انہیں گمراہ کر رہے ہیں۔ امن حکومت کے ذریعے نہیں آ سکتا، یہ نعرے لگانے، چیخنے چلانے، گولیاں داغنے یا بم ماردینے سے نہیں آئے گا۔یہ بات کرنے کے ماحول سے پیدا ہو گا۔ اب آپ پوچھیں گے کہ بات کیسے ہو گی، یہ بھی آپ ہی کو طے کرنا ہے۔آپ کو کسی حکومت سے بات نہیں کرنی ہے، آپ عوام سے بات کیجیے، عوام میں یہ یقین پیدا کیجیے کہ وہیں کے رہنے والے، وہیں کے لوگوں کے درمیان آپ کی اس امیج کو غلط ثابت کر دیں، جو وہاں کے گھٹیا ذہن بنارہے ہیں۔ وہاں کے نصابات میں زبردستی جس طرح بھارت اور بھارتی لوگوں کو دشمن بتایا جارہا ہے، آپ اپنے عمل سے یہ ثابت کیجیے، کہ تمہارا نصاب جھوٹا ہے، تم لوگوں کو غلط تعلیم دے رہے ہو، کیونکہ اسکولی تعلیم اور حقیقت پسند انسانی زندگی میں بہت فرق ہوتا ہے۔

 

پاکستان ایک کمزور پڑتا ہوا ملک ہے، وہاں کے بہت سے رہنے والوں کے دماغوں میں مذہبی رگ پھول کر سبز سے نیلی ہوگئی ہے۔ انہیں یہ بات سمجھنے میں دشواری ہورہی ہے کہ زندگیاں کرکٹ کا میدان نہیں ہوا کرتیں۔جہاں ہوائوں میں چھکے، چوکے لگائے جائیں۔ میں حیران ہوں کہ ان کے وزیر دفاع ایک نیشنل چینل پر نیوکلیئر کو استعمال کرنے کی بات کربھی کیسے سکتے ہیں۔یہ سب کتنا خطرناک ہے، پاکستانی حکمرانوں اور وہاں کے مذہب پرست بیمار لوگوں کو اس سے کوئی مطلب نہیں۔ اب ایسی ہی کچھ آبادی ہمارے یہاں بھی ہے، جو اس بات کو نہیں سمجھتی کہ مسئلے مذہبی فقروں یا وطنی نعروں سے نہیں حل ہوتے۔انسانیت کی قدر کرنے سے حل ہوتے ہیں۔مگر ایسا نہیں ہے کہ ان کے یہاں اور ہمارے یہاں کی عوام سیکولر نہیں ہے، عوام جنگ چاہتی ہے یا اپنی تباہی کے لیے پر تولے بیٹھی ہے۔ ان کے مسائل بھی اتنے ہی زمینی ہیں، جتنے ہمارے ہیں۔مجھے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ اگر پاکستان نہیں بنا ہوتا تو کیا یہ مسائل ہوتے، جواب ملتا ہے کہ ہوتے اور شاید اس سے زیادہ بھی ہو سکتے تھے۔ کیونکہ مذہبی افتخار، نئی قومیت کے تصور کو جنم دے رہا ہے، جس سے اکیسویں صدی میں بڑی طاقتیں فائدے اٹھارہی ہیں۔نیوز چینلوں کی ان بکواسوں پر مت جائیے کہ امریکہ یا چین ہندوپاک کی ٹھڈیوں میں ہاتھ ڈال کر انہیں کس طرح منانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جنگ کا میدان اگر دو ملک بنتے ہیں، تو آج کے زمانے میں وہاں صرف وہ دو ممالک ہی نہیں لڑتے، بلکہ دنیا کے باقی بڑے ممالک بھی اسی کا فائدہ اٹھاکر اپنی طاقت جھونک دیتے ہیں، تاکہ ایک دوسرے سے اپنی زمین سے دور لوہا لیا جاسکے، ایک دوسرے کی طاقت کا اندازہ کیا جاسکے اور کسی ایک کو کمر جھکانے پر مجبور کیا جائے۔سیریا کا انجام آپ کے سامنے ہے۔ مگر افسوس کہ ہم نے گلوبل حالات سے کچھ نہیں سیکھا اور کیوں نہیں سیکھا یہ کسی اور سے نہیں، اپنے آپ سے پوچھیے۔خدا کی بخشی ہوئی عظیم تر نعمت یعنی کہ زندگی کو کوئلہ کردینے کی خواہش نہ رکھیے، کسی سے نفرت ہی کرنی ہے تو اس رویے سے کیجیے جو انسان کو انسان سے لڑنے پر مجبور کرتا ہے۔

 

ان اسباب کو ڈھونڈنا اور ڈھونڈ کر انہیں ختم کرنا نہایت ضروری ہے، جو شہادت کے اس غلط اور گمراہ کن تصور کو رائج ہونے میں مدد دیتے ہیں، ورنہ اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتاردینے والوں کی کمی کبھی نہیں ہوگی۔
میں سوچتا ہوں کہ وہ کون لوگ ہوں گے، جن کو اس بات پر مذہبی فقرے سنا کر آمادہ کرلیا جاتا ہوگا کہ تم کسی کی جان لے کر کوئی گناہ نہیں کررہے ہو، کسی باپ، کسی شوہر، کسی بیٹے کو ختم کرکے، اسے ابدی نیند سلا کر، اس کے افکار و نظریات سے ناواقف ہوتے ہوئے بھی تم کو ایک کھلکھلاتی جنت مل سکے گی۔ان اسباب کو ڈھونڈنا اور ڈھونڈ کر انہیں ختم کرنا نہایت ضروری ہے، جو شہادت کے اس غلط اور گمراہ کن تصور کو رائج ہونے میں مدد دیتے ہیں، ورنہ اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتاردینے والوں کی کمی کبھی نہیں ہوگی۔اس لیے ضروری ہے کہ جتنے انسان پیدا ہوں، اسی مقدار میں سوچنے والے ذہن پیدا ہوں۔شارلی ہیبدو پر جب حملہ ہوا تو فرانس میں دس لاکھ کے مجمع نے مل کر اپنے غصے کا اظہار کیا، لیکن وہاں کے لوگ مسلمانوں کے تعلق سے تب بھی یہی کہہ رہے تھے کہ انہیں تعلیم کی ضرورت ہے۔سچ ہے کہ تعلیم ہی اس مسئلے کا حل ہے، وہ تعلیم جو سوچنا سکھا سکے، صرف دوسروں کے کہے پر بنا سوچے سمجھے چلنے کاطریقہ نہ سکھائے۔

 

کشمیر کا جہاں تک معاملہ ہے، مجھے لگتا ہے کہ اس علاقے کو یہاں کی ہٹ دھرم مذہبی اور علیحدگی پسند سیاست نے جہنم بنارکھا ہے۔وہاں کے لوگوں کو چاہیے کہ ہندوستان کا ساتھ دیں۔ایک تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ملک کو دل سے اپنائیں اور اس کا حصہ بنیں اور اس سے محبت کریں۔انہوں نے ہمیشہ حالات کو اس قدر خراب اور عجیب رکھا ہے کہ ان کی علیحدگی پسندی نے ہندوستان کے باقی بیس بائیس کروڑ مسلمانوں کی ایمانداری اور وطن سے ایک قسم کے محبتانہ جذبے پر سوالیہ نشان قائم کردیا ہے۔کشمیریوں کو چاہیے کہ اس قسم کی سیاست سے باہر نکلیں اور ہندوستان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کرچلیں ، بغاوت یا علیحدگی کے نام پر کسی بندوق بردار کا ساتھ نہ دیں۔وہ اپنے لیے ایک خوشگوار ماحول پیدا کرسکتے ہیں۔مگر وہ نہیں کررہے ہیں۔وہ اس مسئلے کو پچھلے ستر سا ل سے مسئلہ بنائے ہوئے ہیں اور آگے بھی بنائے رکھیں گے، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا اور ان کی زندگیاں جنت و جہنم کے بیچ ڈولتے ہوئے ایک پل پر یونہی مجہول و مبہم رقص میں مبتلا رہیں گی۔یہ ٹچی حرکتیں، جن میں دوسری زمینی طاقتوں کی زبانی حمایت سے لے کر ایک الگ ملک کا شہری ہونے کے خواب تک پھیلی ہوئی ہیں، اب کشمیریوں کو بند کردینی چاہییں۔جس دن وہ یہ فیصلہ لیں گے، اپنے ہی نہیں، اپنے بچوں کے مستقبل کو بھی تابناک کردیں گے۔ہندو پاک کے وہ تمام لوگ جو اس زخم کے سوکھنے کے بجائے، ابھی بھی اسے اپنے نظریات سے ناسور بنے رہنے کی حمایت کرتے ہیں، وہ کشمیریوں کی زندگی کو ابتر کرنے کی سازش میں برابر کے شریک ہیں۔انہیں کشمیرکے رہنے والے انسانوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے، وہ بس ان کو بے وقوفوں کی طرح ایک مسلح فوج سے بھڑا دینا چاہتے ہیں، جس کا انجام نہایت کریہہ اور خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

 

میں جنگ کے خلاف ہوں لیکن اس لیے کیونکہ میں یہ جانتا ہی نہیں کہ میری جنگ ہے کس سے۔
ہندو پاک کے کرکٹ میچ میں چھائے ہوئے ایڈونچر سے لے کر آج جنگ کی نوبت جب ایک دفعہ پھر ہمارے آسمانوں تک آن پہنچی ہے تو ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔ہم اپنے ملکوں کے وفادار ہیں تو ہمیں ان کی بھلائی کے بارے میں سوچنا چاہیے، ہمیں بغیر جانے، بغیر دیکھے ہوئے لوگوں کو دشمن سمجھنے کے بجائے ایک ایسی طاقت سے لڑنے کی ضرورت ہے، جو نفرت کو ہوا دے رہی ہے اور آئے دن اس نفرت کا سہارا لے کر معصوم لوگوں کی جان لینے کے درپے ہیں (جن میں بھٹکے ہوئے نوجوان بھی ہیں اور وردی پوش سپاہی بھی)۔

 

میں جنگ کے خلاف ہوں لیکن اس لیے کیونکہ میں یہ جانتا ہی نہیں کہ میری جنگ ہے کس سے۔میں کسی سٹیڈیم میں بیٹھ کر رنگ میں لڑنے والے اپنے فریق کے بدن میں حوصلے کی ہوا نہیں بھررہا ہوں، بلکہ یہ ایک ملک کا سوال ہے، جہاں کی آبادی، جہاں کی جگہوں، جہاں کے قصوں، جغرافیائی حصوں، تاریخی مقامات اور معاملات سے میرا ایک تعلق ہے۔میں کسی انسان کے خلاف نہیں جاسکتا، جب تک کہ اپنے ذہن کی کسوٹی پر اس کے نظریات کو نہ کس لوں۔میں چاہتا ہوں کہ بہکانے والی طاقتیں ختم ہوں، کیونکہ وہی سب سے بڑا مسئلہ ہیں لیکن میرے چاہنے سے ہوتا کیا ہے۔۔۔۔
Categories
اداریہ

پائیدارامن ممکن تھا مگر امن کو ترجیح نہیں دی گئی۔ اداریہ

ہندوستان اور پاکستان کے مابین حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہیں لیکن اس مرتبہ کشیدگی کے اثرات کہیں زیادہ منفی اور دوررس نکلنے کا خدشہ موجود ہے۔ 2013 میں پاکستان میں نواز شریف کے برسراقتدار آنے اور اپنے ہم منصب کی تقریب حلف برداری میں شرکت سے امن کی جو امید پیدا ہوئی تھی وہ سرحد پار پاکستانی جہادی تنظیموں کے حملوں کے باعث معدوم ہو چکی ہے۔ حالیہ کشیدگی نہ صرف امن کی آئندہ کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہے بلکہ مستقبل قریب میں کسی پائیدار اور پرامن حل کاامکان تقریباً ختم کر سکتی ہے۔

پاکستان میں نواز شریف کے برسراقتدار آنے اور اپنے ہم منصب کی تقریب حلف برداری میں شرکت سے امن کی جو امید پیدا ہوئی تھی وہ سرحد پار پاکستانی جہادی تنظیموں کے حملوں کے باعث معدوم ہو چکی ہے۔
حالیہ کشیدگی میں عوامی اور سفارتی سطح پر دو مختلف لہجے اپنانے کا نقصان سامنے آ رہا ہے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر میں دی گئی تجاویز اور وزیر اعظم مودی کی جانب سے غریبی کے خلاف جنگ کی دعوت یہ ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت جنگ کو ایک قابل عمل انتخاب نہیں سمجھتی۔ لیکن دوسری جانب دونوں جانب ذرائع ابلاغ پر اپنے اپنے عوام کے لیے ایک ایسا پراپیگنڈا جاری ہے جس میں جنگ یا بھرپور دفاع کو ہی واحد حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں یقیناً ہندوستان کا رویہ زیادہ قابل تنقید ہے اور ہندوستانی قیادت اپنے ہی سخت لب و لہجے کے باعث ایک ایسی صورت حال کا شکار ہو چکی ہے جس میں مستقبل قریب میں مذاکرات یا سفارتی سطح پر معمول کے تعلقات کا امکان ختم ہو گیا ہے۔

حالیہ کشیدگی میں ایک متوقع جنگ کا امکان بھی اتنا ہی خوف زدہ کر دینے والا ہے جتنا کہ دونوں جانب کے ذرائع ابلاغ پر جنگ کے امکان اور متوقع جنگ کی حمایت کا پرجوش اور زروردار ظہار۔ ایک مسلح تصادم کے امکان تلے عوامی رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کو منقطع کیا جانا ایک ایسی خطرناک پیش رفت ہے جو مستقبل میں پاک ہند امن کے امکان کو دھندلا رہی ہے۔ ایک بڑی جنگ اگرچہ خار از امکان قرار دی جا سکتی ہے تاہم دونوں طرف عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی نفرت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنگ نہ ہونے کی صورت میں بھی مودی حکومت کی جانب سے عوامی حلقوں کو مطمئن کرنے کے لیے اپنایا گیا سخت رویہ پاکستانی عدم تحفظ میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ فنکاروں کو ملنے والی دھمکیاں، ہندوستان میں پاکستانی ڈراموں کی نشریات اور پاکستان میں ہندوستانی فلموں کی نمائش پر پابندی کسی بھی طرح خؤش آئند نہیں۔

ایک ایسے خطے میں جہاں مذہبی دہشت گرد گروہ سرحد کی دونوں جانب حملے کر رہے ہوں، جنگ کی حمایت یا جنگ کا ماحول پیدا کیے رکھنا کسی بھی وقت ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
ہندوستان کا سخت رویہ پاکستان کے لیے صورت حال مزید مخدوش کر رہا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے امن کی سنجیدہ کوششوں کی ناکامی پاکستان کی طاقتور فوج کو سخت رویہ اپنانے پر مجبور کر سکتی ہے۔ ہندوستان کو اس بات کا ادراک کرنا ہو گا کہ پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار کرنے کی کوشش پاکستان میں موجود غیر ریاستی عناصر کو تقویت دے گی اور یہ خطے کی سیکیورٹی اور امن کے لیے زہر قاتل ثابت ہو گا۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں کو یہ احساس ہونا چاہیئے کہ جنگ یا جنگجو طرزعمل کی حمایت کسی بھی سطح پر نہیں کی جا سکتی۔ ایک ایسے خطے میں جہاں مذہبی دہشت گرد گروہ سرحد کی دونوں جانب حملے کر رہے ہوں، جنگ کی حمایت یا جنگ کا ماحول پیدا کیے رکھنا کسی بھی وقت ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے لیے حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کے امکانات موجود تھے۔ اگر بھارتی وزیر اعظم پاکستان آمد جیسے مثبت اقدامات کی طرح پالیسی سازی کی سطح پر بھی جرات مندی کا مظاہرہ کرتے تو صورت حال مختلف ہو سکتی تھی۔ اگر پاکستان جہادی تنظیموں کے خلاف عملی اقدامات کرتا تو مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت ہو سکتی تھی۔ درحقیقت حالیہ کشیدگی ہندوستان اور پاکستان کی جانب سے امن کو پہلی ترجیح نہ بنانے کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کی جانب سے ریاستی سطح پر کشمیر جہاد عملاً ترک کرنے کے بعد ہندوستان اور پاکستان میں اعتماد کی فضا بہتر کی جا سکتی تھی لیکن پاکستان نے ہندوستان میں حملے کرنے والی جہادی تنظیموں اور افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی۔۔ پاکستان کی طرف سے جہاد کی پالیسی ترک کرنے کے اعلانات کے باوجود لشکر طیبہ جیسی تنظیمیں نہ صرف ہندوستان میں حملے کر رہی ہیں بلکہ پاکستانی عسکری ادارے ان تنظیموں کو اب بھی تحفط دے رہے ہیں۔ ہندوستان نواز شریف کے مفاہمانہ رویے کی بنیاد پر مذاکرات کو آگے بڑھا سکتا تھا مگر یہ موقع قوم پرست سیاست کی نذر ہو چکا ہے۔ پائیدار امن ممکن تھا مگر امن کو ایک بار پھر ترجیح نہیں دی گئی۔

Categories
نقطۂ نظر

ہندوستانی ہمسائے کے نام امید کے ساتھ ایک خط

ہندوستانی ہمسائے کے نام مزید خطوط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مجھے اعتراف ہے کہ یہ دور امن سے مایوس ہوجانے کا دور ہے۔ ہر قسم کی امید کھو دینے کے لیے بہت سی وجوہ ہیں اور ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ کسی بھی جنگ کے نتیجے میں انسانیت پر اعتبار کھو سکتے ہیں۔ بات خون سے پانی تک آ چکی ہے، جنگ کی افواہیں ایل او سی پر جھڑپوں سے سرحد کے آر پار جوہری حملوں تک کی قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں، فنکاروں کے خلاف دھمکیاں آنے لگی ہیں، پاک بھارت دوستی اور امن کی بات تو چھوڑو ہماری طرف تو اب ہندوستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت کی بھی گنجائش نہیں رہی۔ وطن سے محبت کی شرط ہمسائے کو گالی دینا قرار دے دی گئی ہے۔۔۔۔ ایسے میں مجھے اعتراف ہے کہ امن سے مایوس ہوا جا سکتا ہے اور انسانیت پر سے اعتبار اٹھ سکتا ہے۔

 

مگر میرے ہمسائے!

 

امن سے مایوس مت ہونا۔ یہ ٹھیک ہے کہ دونوں طرف قوم پرستی کا جنون دماغوں کو ماوف کر چکا ہے، یہ سچ ہے کہ ہتھیاروں کی دکانوں پر دیش بھگتوں اور وطن کے لیے جانیں قربان کرنے والوں کی قطاریں لمبی ہو گئی ہیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ اب فنکاروں کی سرحدیں متعین کر دی گئی ہیں لیکن پھر بھی جب تک ہندوستان اور پاکستان میں کوئی ایک بھی شخص ایسا موجود ہے جو امن کو جنگ پر ترجیح دیتا ہے تب تک مایوس مت ہونا۔

 

میرے ہمسائے!

 

انسانیت سے مایوس مت ہونا۔ یہ ٹھیک ہے کہ تمہاری طرف جنگ کرو، تباہ کرو اور مٹادو کے مطالبے کیے جا رہے ہیں اور ہماری طرف ہندوستان کے خلاف ‘جہاد’ کے متوالے پر تول رہے ہیں، یہ سچ ہے کہ دونوں جانب کے مذہبی جنونی اپنی اپنی تلواروں اور ترشولوں پر دھار بٹھا رہے ہیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ ان دیکھے خداوں کے نام لے لے کر اندھی نفرت کے الاو روشن کیے جا رہے ہیں،مجھے تسلیم ہے کہ ہم ایک دوسرے کو قتل کر کے یا ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل ہو کے ایسی جنتوں میں جانا چاہتے ہیں جن کا ہم سے وعدہ کیا گیا ہے، مجھے علم ہے کہ تمہاری طرف بھارت ایک مقدس اکائی ہے اور ہمیں غزوہ ہند کی وہ احادیث سکھائی جا رہی ہیں جو لشکروں کو تم پر چڑھ دوڑنے کی ترغیب دیتی ہیں۔۔۔۔ مگر جب تک ہندوستان اور پاکستان میں کوئی ایک بھی شخص انسانیت کو مذہب سے برتر خیال کرتا ہے تب تک مایوس مت ہونا۔

 

میرے ہمسائے!

 

سچائی سے مایوس مت ہونا۔ یہ ٹھیک ہے کہ دونوں جانب وطن دوستی کے جذبات ہماری آنکھوں میں خون بن کر اتر آئے ہیں اور ہمیں اب دوسرے کی بات میں سب کچھ جھوٹ کا پلندہ لگتا ہے، یہ سچ ہے کہ ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو سرکاری تاریخوں کے رجز کے ساتھ للکارا جا رہا ہے، یہ حقیقت ہے کہ دونوں طرف کے لشکریوں کو ناقابل شکست ہونے کے صحائف رٹائے گئے ہیں مگر جب تک ہندوستان اور پاکستان میں کوئی ایک بھی شخص سوال اٹھانے کی جرات کر رہا ہے سچائی سے مایوس مت ہونا۔

 

میرے ہمسائے!

 

خود سے اور مجھ سے مایوس مت ہونا۔ یہ درست ہے کہ دونوں جانب اپنے اپنے شجرہ نسب نئے سرے سے لکھے جا رہے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ ہم یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ہمارے اجداد ایک ساتھ رہتے تھے اور ایک دوسرے کے مشترکہ دشمنوں کے خلاف تلواریں سونتتے تھے، یہ سچ ہے کہ ہم اپنی تاریخ محمد بن قاسم سے شروع کرتے ہیں اور تم ہمیں بیرونی حملہ آور قرار دیتے ہو۔۔۔۔ لیکن جب تک ہندوستان یا پاکستان میں کوئی ایک بھی شخص مشترکہ اجداد کے تہذیبی ورثے کا دعویدار ہے تب تک مجھ سے اور خود سے مایوس مت ہونا۔

 

فقط
تمہارا پاکستانی ہمسایہ

Image: Dawn.com

Categories
نقطۂ نظر

ہندوستانی ہمسائے کے نام اظہار یکجہتی کے لیے لکھا گیا خط

ہندوستانی ہمسائے کے نام مزید خطوط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

تم ٹھیک کہتے ہو کہ مجھے قوم پرست ہوئے بغیر بھی محب وطن ہونے کا حق حاصل ہے، میں اپنے وطن میں ہونے والی ناانصافیوں پر آواز اٹھانے کے باوجود بھی اپنے وطن کا باشندہ اور شہری رہ سکتا ہوں۔
“میں محب وطن ہو قوم پرست نہیں” یقین جانو تمہارے نوجوانوں نے وہ مشکل حل کر دی جو ہمیں آزادی کے بعد سے درپیش تھی۔ کیا ضروری ہے کہ وہی دیس میں رہنے کے لائق ہے جو قومیت کی اس تعریف سے متفق بھی ہو جو چند رہنما، چند ادارے یا کوئی سرکار طے کر دے؟ کیا ضروری ہے کہ ہم اکثریت، طاقتور، حاکم اور زورآور کے تصور قومیت پر ایمان لائیں اور پھر ہی ہمیں ہمارے وطن میں رہنے کی اجازت دی جائے؟ کیا یہ طے کر دیا گیا ہے کہ ہمارے وطنوں میں رہنے والوں کو وہی سوال اٹھانے کا حق ہے جو ان کے لیے لکھ دیے گئے ہیں؟ کیا ہم اپنی سرکار، اپنے آئین اپنی فوج، اپنی قومیت پر تنقید نہیں کر سکتے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ ہمیں اپنے رہنماوں کی ہاں میں ہاں ملانے کے بعد ہی اس وطن کا محب وطن شہری ہونے کا حق حاصل ہے؟ نہیں تم ٹھیک کہتے ہو کہ مجھے قوم پرست ہوئے بغیر بھی محب وطن ہونے کا حق حاصل ہے، میں اپنے وطن میں ہونے والی ناانصافیوں پر آواز اٹھانے کے باوجود بھی اپنے وطن کا باشندہ اور شہری رہ سکتا ہوں۔ تمہیں کسی آر ایس ایس سے حب الوطنی کی سند کی ضرورت نہیں اور مجھے کسی جماعت اسلامی سے خود کو منظور کرانے کی حاجت نہیں، ہم اپنے اپنے دیس میں پیدا ہوئے ہیں اور اس کی فضاوں پر ہمارا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی ہندتوا والے کا یا اسلامی ریاست والے کا۔

 

“ہم اپنے دیس سے نہیں اپنے دیس میں رہنے کی آزادی ،مانگ رہے ہیں”۔ یقین جانو تمہارے طلبہ نے تو ہمارے منہ کی بات چھین لی اور وہی کہا جو ہم اپنے ہاں کہنے سے ڈرتے ہیں۔ تمہاری طرف بھی کچھ لوگ مذہب کے نام پر قومیت کی من پسند تعریف کر کے اسے سب پر لاگو کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے ہاں بھی بہت سے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اگر تم نے فلاں قومی نظریہ، یا فلاں کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ نہ مانا تو تمہیں اس دھرتی پر جینے کا حق نہیں۔ جو کہتا ہے کہ جو اگائے وہی کھائے، یا جس کی زمین سے نکلا پہلا حق اس کا، یا جس کی دھرتی کا ساحل ہے اسی کے زیر انتظام ہو، میں اپنی زبان بولوں گا، اپنی مرضی کے دین دھرم پر چلوں گا، سب انسانوں کو برابر سمجھوں گا، اسے کہا جاتا ہے کہ وہ دیس سے آزادی چاہتا ہے، غدار ہے ملک کو توڑنا چاہتا ہے، لیکن بھائی تمہارے ہاں کے نوجوان ٹھیک کہتے ہیں کہ ہم اپنے دیس میں رہنے کی آزادی مانگ رہے ہیں دیس سے آزادی نہیں مانگ رہے۔ تمہارئ جنگ آزادی کی جنگ ہے اور یہ تمام دنیا کے طلبہ اور نوجوانوں کی جنگ ہے جنہیں پیدا ہوتے ہی دین، دھرم، قومیت، لسانیت، جنس اور ذات کی زنجیریں پہنا کر اڑنے سے منع کر دیا جاتا ہے۔

 

تمہاری طرف بھی کچھ لوگ مذہب کے نام پر قومیت کی من پسند تعریف کر کے اسے سب پر لاگو کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے ہاں بھی بہت سے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اگر تم نے فلاں قومی نظریہ، یا فلاں کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ نہ مانا تو تمہیں اس دھرتی پر جینے کا حق نہیں۔
“سرحد پر لڑنے والے نہیں، لڑانے والے مجرم ہیں” یقین جانو صحیح کہتے ہو، بے چارا جو بندوق اٹھائے کھڑا ہے، جس کے سینے پر گولی لگتی ہے وہ نہیں اصل مجرم وہ ہے جو اس لڑائی سے خواہ وہ دیس کے اندر ہو، دیس کے باہر ہو، کسی اور کے دیس میں ہو یا اپنے ہی لوگوں میں ہو، لڑنے والے کا ہاتھ نہیں یہ لڑانے والے کا ہاتھ ہے جو ہتھیار چلانے کا ذمہ دار ہے۔ آخر کیوں جب کہ ہم مل کر رہ سکتے ہیں، اگا سکتے ہیں، سب کچھ بنا سکتے ہیں، پھر ہمیں ایک دوسرے سے چھیننے کی، اور اپنا حق بچانے کے لیے ہتھیار اٹھانے کی ضرورت ہے؟ ایک کسان کو اناج اگانے کے باوجود کیوں بھوکے رہنا پڑتا ہے، جس کی دھرتی سے کوئلہ نکلے اس کا چولہا کیوں ٹھنڈا رہے، جو وقردی پہن کر پہرے پر کھڑا ہو وہ کیوں کسی اور کے کیے کی سزا بھگتے؟ تم جو جنگ لڑ رہے ہو وہ جنگ میری بھی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارے ہاں کوئی جے این یو نہیں ہے، ہمارے نوجوانوں سے ان کی آوازیں داخلہ لینے سے پہلے ہی سرکار کے پاس جمع کرا دینے کا حلف لے لیا جاتا ہے۔ ہمارے طلبہ کو پولیس نہیں اٹھاتی، ان پر مقدمے نہیں بنتے بلکہ انہیں مسخ شدہ لاشوں میں بدل دیا جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی جو جنگ تم لڑ رہے ہو وہ میری بھی ہے اور ہم سب کی ہے۔ اور کبھی نہ کبھی ہم سب میں موجود کنہیا کمار جاگے گا اور اپنی آواز بلند کرے گا۔

 

“ہمیں بھوک، افلاس، ظلم، ذات پات، دھونس سے آزادی چاہیئے”
“ہم آزادی، جمہوریت، مساوات اور اشتراک کی بات کرتے ہیں”
“اقلیتوں، عورتوں، بے گھروں اور مظلوموں کے حقوق ہم اسی جدوجہد میں حاصل کریں گے۔”
“ہماری جدوجہد کسی ایک جماعت، کسی ایک رہنما، کسی ایک چینل کے خلاف نہیں”
“جو ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں وہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہہ رہے ہیں۔”
“آپ جھوٹ کو جھوٹ بنا سکتے ہیں، سچ کو جھوٹ نہیں بنا سکتے”
“دھرم کو جان لیں گے تو مانیں گے”

 

“جے این یو پر حمہ لوگوں آواز دبانے، بنیادی مسائل سے ان کی توجہ ہٹانے، یہ آواز اٹھانے والوں کو غدار کہنے کی کوشش ہے لیکن ہم بتانا چاہتے ہیں لیکن ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ لمبی لڑائی ہے، ہم اس لڑائی کو آگے بڑھائیں گے۔ “

 

ہمارے تمہارے مسئلے ایک ہیں، ہمیں اور تمہیں ایک جیسے لوگ لڑاتے ہیں، لوٹتے ہیں اور غدار قرار دیتے ہیں، ہم تمہاری جدوجہد میں تمہارے ساتھ ہیں۔ ابھی ہم کم ہیں، منتشر ہیں، کم زور ہیں مگر حق پر ہیں اور جیت ہماری ہو گی۔
سنو!
میں اور انسانیت، امن، بھائی چارے، مساوات اور آزادی پر یقین رکھنے والا ہر پاکستانی تمہارے ساتھ کھڑا ہے۔
سنو!
میں اور جمہوریت پر یقین رکھنے والا ہر پاکستانی تمہارے مطالبات کا حامی ہے۔
سنو!
ہمارے تمہارے مسئلے ایک ہیں، ہمیں اور تمہیں ایک جیسے لوگ لڑاتے ہیں، لوٹتے ہیں اور غدار قرار دیتے ہیں، ہم تمہاری جدوجہد میں تمہارے ساتھ ہیں۔ ابھی ہم کم ہیں، منتشر ہیں، کم زور ہیں مگر حق پر ہیں اور جیت ہماری ہو گی۔

 

میرا اور تمہارا مسئلہ ایک ہے، مقصد ایک ہے، ہم دونوں کو اپنے اپنے وطن سے نہیں اپنے اپنے وطن میں رہنے کی آزادی چاہیئے، اس آزادی کے لیے میرا اور تمہار نعرہ ایک ہے:

 

ہم کیا چاہتے آزادی
ذرا زور سے بولو، آزادی
سب مل کر بولو آزادی
میں بھی بولوں آزادی
تم بھی بولو آزادی
ہم لے کے رہیں گے آزادی
تم کچھ بھی کر لو آزادی
ہے حق ہمارا آزادی۔۔۔۔۔۔
ہے جان سے پیاری آزادی
میں بھی مانگوں آزادی
تم بھی مانگو آزادی

 

فقط تمہارا پاکستانی ہمسایہ
جس کے ہاں تمہارے ہاں جتنا احتجاج کرنے اور سچ بولنے کی آزادی بھی نہیں۔
Categories
شاعری

فرض کرو

youth-yell
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

فرض کرو

[/vc_column_text][vc_column_text]

تو فرض کرو
ہم دونوں کے ملکوں میں اتنا پریم جگے
ہم دونوں کے دیسوں میں ایسا عشق بسے
اس جانب کی برساتوں میں، اس جانب کی دھوپیں کھیلیں
اس جانب کے دھانی سورج، اُس جانب کے تن پر پھیلیں
تو کیسا ہو

 

تو کیسا ہو
جو آنکھوں میں نفرت کا کوئی بال نہ ہو
کیسا ہو امن کی نگری میں جب کوئی بدن کنگال نہ ہو
پھر پھول کھلیں، پھر دن گائیں
پھر راتوں کی تنہائی نہ ہو
جو بات ہے اتہاسوں میں دفن
وہ ہم نے کبھی دہرائی نہ ہو

 

تو فرض کرو پھر کیسا ہو
جب خواب کی ساری گلیوں سے مسلک کے تماشے دور رہیں
ہم عشق نشے میں چور رہیں

 

تو فرض کرو پھر کیسا ہو
جب ہنستے کھیلتے ہم اپنے مستقبل کو روشن کرلیں
جب چاہے اٹھیں اور جائیں ادھر
ان آنکھوں کا درشن کرلیں
اب توڑ دیں ہر محمل آو
اب چاک ہر اک چلمن کرلیں
تم آئنہ کرلو خود کو
ہم بھی خود کو درپن کرلیں

Image: Aghaz-e-Dosti
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]