Categories
اداریہ

پائیدارامن ممکن تھا مگر امن کو ترجیح نہیں دی گئی۔ اداریہ

ہندوستان اور پاکستان کے مابین حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہیں لیکن اس مرتبہ کشیدگی کے اثرات کہیں زیادہ منفی اور دوررس نکلنے کا خدشہ موجود ہے۔ 2013 میں پاکستان میں نواز شریف کے برسراقتدار آنے اور اپنے ہم منصب کی تقریب حلف برداری میں شرکت سے امن کی جو امید پیدا ہوئی تھی وہ سرحد پار پاکستانی جہادی تنظیموں کے حملوں کے باعث معدوم ہو چکی ہے۔ حالیہ کشیدگی نہ صرف امن کی آئندہ کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہے بلکہ مستقبل قریب میں کسی پائیدار اور پرامن حل کاامکان تقریباً ختم کر سکتی ہے۔

پاکستان میں نواز شریف کے برسراقتدار آنے اور اپنے ہم منصب کی تقریب حلف برداری میں شرکت سے امن کی جو امید پیدا ہوئی تھی وہ سرحد پار پاکستانی جہادی تنظیموں کے حملوں کے باعث معدوم ہو چکی ہے۔
حالیہ کشیدگی میں عوامی اور سفارتی سطح پر دو مختلف لہجے اپنانے کا نقصان سامنے آ رہا ہے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر میں دی گئی تجاویز اور وزیر اعظم مودی کی جانب سے غریبی کے خلاف جنگ کی دعوت یہ ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت جنگ کو ایک قابل عمل انتخاب نہیں سمجھتی۔ لیکن دوسری جانب دونوں جانب ذرائع ابلاغ پر اپنے اپنے عوام کے لیے ایک ایسا پراپیگنڈا جاری ہے جس میں جنگ یا بھرپور دفاع کو ہی واحد حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں یقیناً ہندوستان کا رویہ زیادہ قابل تنقید ہے اور ہندوستانی قیادت اپنے ہی سخت لب و لہجے کے باعث ایک ایسی صورت حال کا شکار ہو چکی ہے جس میں مستقبل قریب میں مذاکرات یا سفارتی سطح پر معمول کے تعلقات کا امکان ختم ہو گیا ہے۔

حالیہ کشیدگی میں ایک متوقع جنگ کا امکان بھی اتنا ہی خوف زدہ کر دینے والا ہے جتنا کہ دونوں جانب کے ذرائع ابلاغ پر جنگ کے امکان اور متوقع جنگ کی حمایت کا پرجوش اور زروردار ظہار۔ ایک مسلح تصادم کے امکان تلے عوامی رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کو منقطع کیا جانا ایک ایسی خطرناک پیش رفت ہے جو مستقبل میں پاک ہند امن کے امکان کو دھندلا رہی ہے۔ ایک بڑی جنگ اگرچہ خار از امکان قرار دی جا سکتی ہے تاہم دونوں طرف عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی نفرت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنگ نہ ہونے کی صورت میں بھی مودی حکومت کی جانب سے عوامی حلقوں کو مطمئن کرنے کے لیے اپنایا گیا سخت رویہ پاکستانی عدم تحفظ میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ فنکاروں کو ملنے والی دھمکیاں، ہندوستان میں پاکستانی ڈراموں کی نشریات اور پاکستان میں ہندوستانی فلموں کی نمائش پر پابندی کسی بھی طرح خؤش آئند نہیں۔

ایک ایسے خطے میں جہاں مذہبی دہشت گرد گروہ سرحد کی دونوں جانب حملے کر رہے ہوں، جنگ کی حمایت یا جنگ کا ماحول پیدا کیے رکھنا کسی بھی وقت ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
ہندوستان کا سخت رویہ پاکستان کے لیے صورت حال مزید مخدوش کر رہا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے امن کی سنجیدہ کوششوں کی ناکامی پاکستان کی طاقتور فوج کو سخت رویہ اپنانے پر مجبور کر سکتی ہے۔ ہندوستان کو اس بات کا ادراک کرنا ہو گا کہ پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار کرنے کی کوشش پاکستان میں موجود غیر ریاستی عناصر کو تقویت دے گی اور یہ خطے کی سیکیورٹی اور امن کے لیے زہر قاتل ثابت ہو گا۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں کو یہ احساس ہونا چاہیئے کہ جنگ یا جنگجو طرزعمل کی حمایت کسی بھی سطح پر نہیں کی جا سکتی۔ ایک ایسے خطے میں جہاں مذہبی دہشت گرد گروہ سرحد کی دونوں جانب حملے کر رہے ہوں، جنگ کی حمایت یا جنگ کا ماحول پیدا کیے رکھنا کسی بھی وقت ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے لیے حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کے امکانات موجود تھے۔ اگر بھارتی وزیر اعظم پاکستان آمد جیسے مثبت اقدامات کی طرح پالیسی سازی کی سطح پر بھی جرات مندی کا مظاہرہ کرتے تو صورت حال مختلف ہو سکتی تھی۔ اگر پاکستان جہادی تنظیموں کے خلاف عملی اقدامات کرتا تو مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت ہو سکتی تھی۔ درحقیقت حالیہ کشیدگی ہندوستان اور پاکستان کی جانب سے امن کو پہلی ترجیح نہ بنانے کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کی جانب سے ریاستی سطح پر کشمیر جہاد عملاً ترک کرنے کے بعد ہندوستان اور پاکستان میں اعتماد کی فضا بہتر کی جا سکتی تھی لیکن پاکستان نے ہندوستان میں حملے کرنے والی جہادی تنظیموں اور افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی۔۔ پاکستان کی طرف سے جہاد کی پالیسی ترک کرنے کے اعلانات کے باوجود لشکر طیبہ جیسی تنظیمیں نہ صرف ہندوستان میں حملے کر رہی ہیں بلکہ پاکستانی عسکری ادارے ان تنظیموں کو اب بھی تحفط دے رہے ہیں۔ ہندوستان نواز شریف کے مفاہمانہ رویے کی بنیاد پر مذاکرات کو آگے بڑھا سکتا تھا مگر یہ موقع قوم پرست سیاست کی نذر ہو چکا ہے۔ پائیدار امن ممکن تھا مگر امن کو ایک بار پھر ترجیح نہیں دی گئی۔

Categories
نقطۂ نظر

ہندوستانی ہمسائے کے نام اظہار یکجہتی کے لیے لکھا گیا خط

ہندوستانی ہمسائے کے نام مزید خطوط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

تم ٹھیک کہتے ہو کہ مجھے قوم پرست ہوئے بغیر بھی محب وطن ہونے کا حق حاصل ہے، میں اپنے وطن میں ہونے والی ناانصافیوں پر آواز اٹھانے کے باوجود بھی اپنے وطن کا باشندہ اور شہری رہ سکتا ہوں۔
“میں محب وطن ہو قوم پرست نہیں” یقین جانو تمہارے نوجوانوں نے وہ مشکل حل کر دی جو ہمیں آزادی کے بعد سے درپیش تھی۔ کیا ضروری ہے کہ وہی دیس میں رہنے کے لائق ہے جو قومیت کی اس تعریف سے متفق بھی ہو جو چند رہنما، چند ادارے یا کوئی سرکار طے کر دے؟ کیا ضروری ہے کہ ہم اکثریت، طاقتور، حاکم اور زورآور کے تصور قومیت پر ایمان لائیں اور پھر ہی ہمیں ہمارے وطن میں رہنے کی اجازت دی جائے؟ کیا یہ طے کر دیا گیا ہے کہ ہمارے وطنوں میں رہنے والوں کو وہی سوال اٹھانے کا حق ہے جو ان کے لیے لکھ دیے گئے ہیں؟ کیا ہم اپنی سرکار، اپنے آئین اپنی فوج، اپنی قومیت پر تنقید نہیں کر سکتے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ ہمیں اپنے رہنماوں کی ہاں میں ہاں ملانے کے بعد ہی اس وطن کا محب وطن شہری ہونے کا حق حاصل ہے؟ نہیں تم ٹھیک کہتے ہو کہ مجھے قوم پرست ہوئے بغیر بھی محب وطن ہونے کا حق حاصل ہے، میں اپنے وطن میں ہونے والی ناانصافیوں پر آواز اٹھانے کے باوجود بھی اپنے وطن کا باشندہ اور شہری رہ سکتا ہوں۔ تمہیں کسی آر ایس ایس سے حب الوطنی کی سند کی ضرورت نہیں اور مجھے کسی جماعت اسلامی سے خود کو منظور کرانے کی حاجت نہیں، ہم اپنے اپنے دیس میں پیدا ہوئے ہیں اور اس کی فضاوں پر ہمارا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی ہندتوا والے کا یا اسلامی ریاست والے کا۔

 

“ہم اپنے دیس سے نہیں اپنے دیس میں رہنے کی آزادی ،مانگ رہے ہیں”۔ یقین جانو تمہارے طلبہ نے تو ہمارے منہ کی بات چھین لی اور وہی کہا جو ہم اپنے ہاں کہنے سے ڈرتے ہیں۔ تمہاری طرف بھی کچھ لوگ مذہب کے نام پر قومیت کی من پسند تعریف کر کے اسے سب پر لاگو کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے ہاں بھی بہت سے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اگر تم نے فلاں قومی نظریہ، یا فلاں کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ نہ مانا تو تمہیں اس دھرتی پر جینے کا حق نہیں۔ جو کہتا ہے کہ جو اگائے وہی کھائے، یا جس کی زمین سے نکلا پہلا حق اس کا، یا جس کی دھرتی کا ساحل ہے اسی کے زیر انتظام ہو، میں اپنی زبان بولوں گا، اپنی مرضی کے دین دھرم پر چلوں گا، سب انسانوں کو برابر سمجھوں گا، اسے کہا جاتا ہے کہ وہ دیس سے آزادی چاہتا ہے، غدار ہے ملک کو توڑنا چاہتا ہے، لیکن بھائی تمہارے ہاں کے نوجوان ٹھیک کہتے ہیں کہ ہم اپنے دیس میں رہنے کی آزادی مانگ رہے ہیں دیس سے آزادی نہیں مانگ رہے۔ تمہارئ جنگ آزادی کی جنگ ہے اور یہ تمام دنیا کے طلبہ اور نوجوانوں کی جنگ ہے جنہیں پیدا ہوتے ہی دین، دھرم، قومیت، لسانیت، جنس اور ذات کی زنجیریں پہنا کر اڑنے سے منع کر دیا جاتا ہے۔

 

تمہاری طرف بھی کچھ لوگ مذہب کے نام پر قومیت کی من پسند تعریف کر کے اسے سب پر لاگو کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے ہاں بھی بہت سے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اگر تم نے فلاں قومی نظریہ، یا فلاں کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ نہ مانا تو تمہیں اس دھرتی پر جینے کا حق نہیں۔
“سرحد پر لڑنے والے نہیں، لڑانے والے مجرم ہیں” یقین جانو صحیح کہتے ہو، بے چارا جو بندوق اٹھائے کھڑا ہے، جس کے سینے پر گولی لگتی ہے وہ نہیں اصل مجرم وہ ہے جو اس لڑائی سے خواہ وہ دیس کے اندر ہو، دیس کے باہر ہو، کسی اور کے دیس میں ہو یا اپنے ہی لوگوں میں ہو، لڑنے والے کا ہاتھ نہیں یہ لڑانے والے کا ہاتھ ہے جو ہتھیار چلانے کا ذمہ دار ہے۔ آخر کیوں جب کہ ہم مل کر رہ سکتے ہیں، اگا سکتے ہیں، سب کچھ بنا سکتے ہیں، پھر ہمیں ایک دوسرے سے چھیننے کی، اور اپنا حق بچانے کے لیے ہتھیار اٹھانے کی ضرورت ہے؟ ایک کسان کو اناج اگانے کے باوجود کیوں بھوکے رہنا پڑتا ہے، جس کی دھرتی سے کوئلہ نکلے اس کا چولہا کیوں ٹھنڈا رہے، جو وقردی پہن کر پہرے پر کھڑا ہو وہ کیوں کسی اور کے کیے کی سزا بھگتے؟ تم جو جنگ لڑ رہے ہو وہ جنگ میری بھی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارے ہاں کوئی جے این یو نہیں ہے، ہمارے نوجوانوں سے ان کی آوازیں داخلہ لینے سے پہلے ہی سرکار کے پاس جمع کرا دینے کا حلف لے لیا جاتا ہے۔ ہمارے طلبہ کو پولیس نہیں اٹھاتی، ان پر مقدمے نہیں بنتے بلکہ انہیں مسخ شدہ لاشوں میں بدل دیا جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی جو جنگ تم لڑ رہے ہو وہ میری بھی ہے اور ہم سب کی ہے۔ اور کبھی نہ کبھی ہم سب میں موجود کنہیا کمار جاگے گا اور اپنی آواز بلند کرے گا۔

 

“ہمیں بھوک، افلاس، ظلم، ذات پات، دھونس سے آزادی چاہیئے”
“ہم آزادی، جمہوریت، مساوات اور اشتراک کی بات کرتے ہیں”
“اقلیتوں، عورتوں، بے گھروں اور مظلوموں کے حقوق ہم اسی جدوجہد میں حاصل کریں گے۔”
“ہماری جدوجہد کسی ایک جماعت، کسی ایک رہنما، کسی ایک چینل کے خلاف نہیں”
“جو ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں وہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہہ رہے ہیں۔”
“آپ جھوٹ کو جھوٹ بنا سکتے ہیں، سچ کو جھوٹ نہیں بنا سکتے”
“دھرم کو جان لیں گے تو مانیں گے”

 

“جے این یو پر حمہ لوگوں آواز دبانے، بنیادی مسائل سے ان کی توجہ ہٹانے، یہ آواز اٹھانے والوں کو غدار کہنے کی کوشش ہے لیکن ہم بتانا چاہتے ہیں لیکن ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ لمبی لڑائی ہے، ہم اس لڑائی کو آگے بڑھائیں گے۔ “

 

ہمارے تمہارے مسئلے ایک ہیں، ہمیں اور تمہیں ایک جیسے لوگ لڑاتے ہیں، لوٹتے ہیں اور غدار قرار دیتے ہیں، ہم تمہاری جدوجہد میں تمہارے ساتھ ہیں۔ ابھی ہم کم ہیں، منتشر ہیں، کم زور ہیں مگر حق پر ہیں اور جیت ہماری ہو گی۔
سنو!
میں اور انسانیت، امن، بھائی چارے، مساوات اور آزادی پر یقین رکھنے والا ہر پاکستانی تمہارے ساتھ کھڑا ہے۔
سنو!
میں اور جمہوریت پر یقین رکھنے والا ہر پاکستانی تمہارے مطالبات کا حامی ہے۔
سنو!
ہمارے تمہارے مسئلے ایک ہیں، ہمیں اور تمہیں ایک جیسے لوگ لڑاتے ہیں، لوٹتے ہیں اور غدار قرار دیتے ہیں، ہم تمہاری جدوجہد میں تمہارے ساتھ ہیں۔ ابھی ہم کم ہیں، منتشر ہیں، کم زور ہیں مگر حق پر ہیں اور جیت ہماری ہو گی۔

 

میرا اور تمہارا مسئلہ ایک ہے، مقصد ایک ہے، ہم دونوں کو اپنے اپنے وطن سے نہیں اپنے اپنے وطن میں رہنے کی آزادی چاہیئے، اس آزادی کے لیے میرا اور تمہار نعرہ ایک ہے:

 

ہم کیا چاہتے آزادی
ذرا زور سے بولو، آزادی
سب مل کر بولو آزادی
میں بھی بولوں آزادی
تم بھی بولو آزادی
ہم لے کے رہیں گے آزادی
تم کچھ بھی کر لو آزادی
ہے حق ہمارا آزادی۔۔۔۔۔۔
ہے جان سے پیاری آزادی
میں بھی مانگوں آزادی
تم بھی مانگو آزادی

 

فقط تمہارا پاکستانی ہمسایہ
جس کے ہاں تمہارے ہاں جتنا احتجاج کرنے اور سچ بولنے کی آزادی بھی نہیں۔
Categories
شاعری

فرض کرو

youth-yell
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

فرض کرو

[/vc_column_text][vc_column_text]

تو فرض کرو
ہم دونوں کے ملکوں میں اتنا پریم جگے
ہم دونوں کے دیسوں میں ایسا عشق بسے
اس جانب کی برساتوں میں، اس جانب کی دھوپیں کھیلیں
اس جانب کے دھانی سورج، اُس جانب کے تن پر پھیلیں
تو کیسا ہو

 

تو کیسا ہو
جو آنکھوں میں نفرت کا کوئی بال نہ ہو
کیسا ہو امن کی نگری میں جب کوئی بدن کنگال نہ ہو
پھر پھول کھلیں، پھر دن گائیں
پھر راتوں کی تنہائی نہ ہو
جو بات ہے اتہاسوں میں دفن
وہ ہم نے کبھی دہرائی نہ ہو

 

تو فرض کرو پھر کیسا ہو
جب خواب کی ساری گلیوں سے مسلک کے تماشے دور رہیں
ہم عشق نشے میں چور رہیں

 

تو فرض کرو پھر کیسا ہو
جب ہنستے کھیلتے ہم اپنے مستقبل کو روشن کرلیں
جب چاہے اٹھیں اور جائیں ادھر
ان آنکھوں کا درشن کرلیں
اب توڑ دیں ہر محمل آو
اب چاک ہر اک چلمن کرلیں
تم آئنہ کرلو خود کو
ہم بھی خود کو درپن کرلیں

Image: Aghaz-e-Dosti
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]