Categories
نقطۂ نظر

پاکستانی طلبہ کے نام ایک خط

آداب!

 

میرا نام تصنیف حیدر ہے، میں بھارت کے شہر دہلی میں رہتا ہوں۔ آپ سے بات کرنے کا میرا مقصد محض اتنا ہے کہ مجھے اپنی ایک پاکستانی دوست کی بدولت یہ باتیں معلوم ہوئی ہیں کہ آپ کے کچھ اساتذہ میرے ملک کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے اور خصوصی طور پر ‘ہندوقوم’ کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں۔میں نے خیال کیا کہ بطور ایک بھارتی شہری اگر میں آپ سے مخاطب ہوکر آپ کی کچھ غلط فہمیاں دور کرسکوں تو شاید اپنے ملک سے کی جانے والی ایک بلاسبب کی نفرت کو کچھ حد تک دور کرنے میں کامیاب ہوجاؤں۔میں جانتا ہوں کہ میں ایک ایسے وقت میں آپ سے مخاطب ہوں، جب ہند و پاک میں نفرت کی سیاست گرم ہے۔اور اس گرم بازاری میں محبت کی آواز کو نہایت شک، خوف اور اندیشے کی نگاہ سے دیکھا جاسکتا ہے، پھر بھی میں یہ جوکھم اٹھانے کو تیار ہوں، اگر آپ میری بات ٹھنڈے دل سے سنیں اور اپنے کانوں کے ساتھ ساتھ اس خط کو پڑھتے ہوئے دماغ کا ایک بڑا حصہ بھی کھلا رکھیں۔

 

بھارت میں پاکستان سے بھی زیادہ مسلمان رہتے ہیں اور ان کے ہندوؤں سے بہت گہرے تعلقات ہیں۔ان تعلقات کی نوعیت کاروباری بھی ہے، گھریلو بھی، دوستانہ بھی اور معاندانہ بھی۔مگر تعلقات بہرحال ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔
میں آپ کو یہ خط کبھی نہ لکھتا اگر میری دوست مجھے یہ نہ بتاتی کہ کراچی یونیورسٹی میں موجودہ دور کی ایک استانی بچوں کو یہ بتارہی ہیں کہ اجنتا ایلورہ کے غاروں میں بنائے جانے والی پینٹنگز اور مجسمے مسلمانوں نے تعمیر کیے ہیں۔جب میں نے یہ بات سنی تو مجھے ہنسی نہیں آئی، کیونکہ میں بطور آپ کے ایک ہمدرد پڑوسی کے، آپ کو یہ بتانا اور باور کرانا چاہتا ہوں کہ نفرت انسان کی عقل کو ماؤف کردیتی ہے، اسے بہت حد تک اندھا بنادیتی ہے۔موصوفہ کو اپنی بات کہتے وقت یہ خیال بھی نہ رہا کہ ہندوستان کے قدیم غاروں میں موجود مجسموں کا کریڈٹ مسلمانوں کو دیتے وقت وہ یہ سوچیں کہ اسلام میں تصویر بنانا، مجسمے بنانا قطعی طور پر حرام مانا جاتا ہے۔اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی جاننا گوارا نہ کیا کہ دوسو قبل مسیح سے ساتویں صدی عیسوی تک تعمیر ہونے والے یہ مختلف مجسمے جو پہاڑوں کو کاٹ کر بنائے گئے ہیں، دراصل بودھ، جین اور ہندو تمدن کے بہترین نمونے ہیں، جن میں سماجی کاموں سے لے کر جنسی افعال تک کو نمایاں کیا گیا ہے۔بہرحال غلطی ان کی نہیں ہے۔ہوتا یہ ہے کہ جب نفرت کی سیاست اپنا کام کرتی ہے تو لوگ اسی طرح بغیر سوچے سمجھے ہر اس سائے پر حملہ کرنا شروع کردیتے ہیں، جسے وہ ذرا سی روشنی کی پیداوار سمجھتے ہوں۔میرے ملک میں بھی نفرت کا کاروبار کرنے والے ایسے لوگ ہیں، مگر میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ بھارت کی تعلیم اس نفرت پروری اور مسلمانوں پر کسی بھی قسم کی بازی لے جانے کے لیے راستے نہیں تلاش کرتی ہے۔ہندوؤں کے تعلق سے آپ کی حکومت، آپ کے اساتذہ ، آپ کو دھوکا دیتے ہیں۔ بھارت میں پاکستان سے بھی زیادہ مسلمان رہتے ہیں اور ان کے ہندوؤں سے بہت گہرے تعلقات ہیں۔ان تعلقات کی نوعیت کاروباری بھی ہے، گھریلو بھی، دوستانہ بھی اور معاندانہ بھی۔مگر تعلقات بہرحال ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔کبھی کبھی چھوٹے شہروں، گاؤوں میں کچھ فسادات ہوجاتے ہیں، مگر ان فسادات کا ہوپانا بس سیاسی جوڑ توڑ کا نتیجہ سمجھ لیجیے، اس میں ہندو مسلم نفرت کام نہیں کرتی ہے۔نہ ہندو مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں، نہ مسلمان ہندوؤں کو۔

 

اگر آپ فیس بک پر پاکستان اور مسلمانوں کے تعلق سے لکھے گئے کچھ غیر مسلموں کے کمنٹس دیکھ کر دل برداشتہ ہوتے ہیں تو اس کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔بھارت کی آبادی تقریباً ایک ارب تیس کروڑ سے زائد ہے، قریب انتیس ریاستوں میں بٹے ہوئے اس ملک کی زمینوں، جغرافیائی حالات، زبانوں، تہذیبوں سب میں اس قدر امتیاز موجود ہے کہ بھارت کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ ہی اس سوشل میڈیا کی پھیلائی ہوئی نفرت کا شکار ہوا ہے، یہاں ایسے بہت سے پڑھے لکھے، بہادر اور نڈر ہندو ہیں جو صرف مسلمانوں کے ہی نہیں، تمام اقلیتوں کے لیے لڑتے ہیں، ان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے ہیں۔اپنے ہی ملک کے کیا ہندوستان میں تمام دنیا کے لوگوں سے محبت کرنے والے ، ان کو انسان سمجھنے والے، ان کی قدر کرنے والے بے انتہا دل موجود ہیں۔عراق اور شام کے لیے کام کرنے والی سکھ این جی اوز ہیں، جنہوں نے اپنی جانب سے نہ جانے شام کے کتنے بچوں اور بڑوں کے کھانے، سونے اور ٹھیک سے رہنے کے انتظامات کیے ہیں۔دنیا بھر کی دقتیں اٹھا کر ان کے والنٹیرز نے یورپ کی سرحدوں پر پہنچ کر ان رفیوجیز کی مدد کی ہے۔اس لیے اگر کوئی آپ سے کسی شخص کی برائی اس واسطے سے کرتا ہے کہ وہ غیر مسلم ہے، تو اس کی بات نہ سنیے گا۔دلوں کے حال جاننے والا خدا ہے، خدا اگر چاہتا تو سب کو براہ راست اسلام پر ہی پیدا کرسکتا تھا۔لیکن مذہب اسلام زبردستی کا پیغام نہیں ہے، دین کا خیال، مذہب کا پرچار کسی پر تھوپا نہیں جاسکتا اور اس کے اپنانے یا نہ اپنانے سے کوئی بھی شخص اچھا یا برا نہیں ہوجاتا، یہ تو خدا کے ساتھ انسان کا معاملہ ہے، جس کی پوچھ تاچھ ہوئی بھی تو مرنے کے بعد ہوگی، بندے اور خدا کے درمیان موجود اس معاملے کو بنیاد بنا کر لوگوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا یا انہیں دور کرنے کی کوشش کرنا، ان کے بیچ نفرت پیدا کرنا ایک بہت ہی بری بات ہے، جس کی مذمت ہونی چاہیے، جس کو کبھی ماننا نہیں چاہیے۔تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے دل گیلےسیمنٹ کی تختی جیسے ہوتے ہیں، ان پر اگر کوئی نام لکھ دیا جائے، کوئی ناخن گڑو دیا جائے تو اس کا اثر زندگی بھر قائم رہتا ہے۔اس لیے اگر آپ کی اس چھوٹی سی تختی پر کوئی نفرت کو گڑونے یا گاڑنے کی کوشش کررہا ہو تو اسے روکیے۔دل ایک اچھا مقام ہے، ایک ایسا مقام جہاں خدا رہتا ہے، اور جہاں خدا رہتا ہے ، وہاں نفرت کا کوئی کام نہیں۔خدا اپنے سب بندوں سے محبت کرتا ہے، اگر نہ کرتا تو اس کے ہاتھ میں تو سب کچھ ہے، وہ لوگوں کا کھانا بند کرسکتا تھا، پانی بند کرسکتا تھا، ہزاروں ، لاکھوں لوگوں کو ایک ساتھ بیمار کرسکتا تھا، ان کے دماغوں کو لقوہ لگا سکتا تھا، لیکن اگر اس نے ایسا نہیں کیا ہے اور دنیا میں ہندو، سکھ، عیسائی، یہودی یہ تمام قومیں مستقل ترقی کررہی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ خدا ان سے ناراض نہیں ہے، وہ اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح نبھارہے ہیں۔مجھے میری دوست نے یہ بھی بتایا کہ وہی استانی صاحبہ کہتی ہیں کہ قرآن و حدیث میں لکھا ہے کہ دنیا کی کسی بھی قوم سے دوستی کرلو مگر ہندوئوں سے نہ کرو۔

 

یہاں ایسے بہت سے پڑھے لکھے، بہادر اور نڈر ہندو ہیں جو صرف مسلمانوں کے ہی نہیں، تمام اقلیتوں کے لیے لڑتے ہیں، ان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے ہیں۔
عجیب لوگ ہیں، جو آپ کو غلط باتیں بتارہے ہیں اور آپ کےیہاں کی انتظامیہ اور حکومت ان کے اوپر بچوں کا مستقبل برباد کرنے کے عوض کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ہندوئوں کا ذکر نہ تو قرآن میں ہے اور نہ احادیث میں۔عرب میں جب اسلام آیا تو ہندو وہاں بہت کم تعداد میں آباد تھے، عرب اور ہندوستان کی تجارت کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ہندوستان عربوں کے لیے ہمیشہ سے مسالوں کی ایک بڑی منڈی رہا تھا، مگر ان کے رسوم و رواج سے عرب کے عام لوگ، وہاں کے رہین و مکین زیادہ تر ناآشنا تھے۔ہندوستان ایک بہت پرانا ملک ہے،یہی وہ خطہ ہے، جس پر آج بہت سے دوسرے ملک بھی آباد ہوگئے ہیں۔پاکستان اور ہندوستان کو الگ ہوئے قریب ستر برس گزر چکے ہیں، لیکن کبھی ایک ہی ملک کہلانے والے یہ دو ممالک آج ایک دوسرے کو خوف اور شک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ایسا اس لیے ممکن ہوا کیونکہ ہم نے اپنی حکومتوں پر بھروسہ کیا۔ہم نے سوچا کہ وہ ہماری بھوک، ہماری غریبی اور ہماری ناخواندگی کو کم کریں گی، مٹائیں گی۔ مگر اس کے بجائے انہوں نے ہمیں نفرت کی جلتی ہوئی آندھیوں میں چھوڑ دیا۔اس سے ان کا ایک فائدہ ہوتا ہے، فائدہ یہ ہے کہ جب ہم انہیں بھوکے پیٹ دکھاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں، دیکھو دیکھو، پڑوسی ملک تمہاری پیٹھ پر وار کررہا ہے۔جب ہم ان سے غریبی کا رونا روتے ہیں، تب بھی وہ ہمارے ساتھ یہی کھیل کھیلتے ہیں۔اس معاملے کو اتنی ہوا مل گئی ہے کہ ہم اپنے پیٹ کو بھول چکے ہیں ، بس ہمیں اپنی پیٹھ ہی یاد رہ گئی ہے۔یاد رکھیے! اول تو کوئی مذہب اس نیت سے ہی نہیں آیا تھا کہ دنیا میں نفرت پھیلائے، مگر لوگوں نے خدا کے پیغامات کو بھی کاروبار میں بدل دیا۔آپ سوچیے، خود غور کیجیے کہ جو قرآن انسان کی قدر کرنے پر آمادہ کرے، زمین پر فساد پھیلانے سے منع کرے اور لوگوں کو زمین میں چلنے پھرنے اور اس پر موجود چیزوں پر غور کرنے کی دعوت دے، وہ قتل و غارت گری اور نفرت کو کیسے پناہ دے سکتا ہے۔جس مذہب نے اپنے لیے سلامتی کا نام چنا ہو، اس کے نام پر آپ کو جنگ و جدال، لڑائی بھڑائی، نفرت اور جلن کا پاٹھ پڑھایا جارہا ہے۔اس لیے اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اپنے ٹیچرز سے سوال کریں کہ تاریخ میں جو ہوا سو ہوا۔ مگر مستقبل کو کیوں بھیانک بنایاجارہا ہے۔تاریخ کو ہم نہیں بدل سکتے، خواہ وہ کتنی ہی خطرناک، بری اور غلیظ کیوں نہ ہو، لیکن ہم آنے والے کل کو بدل سکتے ہیں۔

 

ہماری حکومتیں جمہوری ہیں، مگر وہ ہمیں بے وقوف بناتی آئی ہیں، مگر جب یہی کام ہمارے اسکول کرنے لگیں گے تو دنیا ہم پر ہنسے گی۔پڑوس کا ہندو آپ کا دشمن بنایا جارہا ہے، اور دور دیس کا عرب آپ کا بھائی۔یہ ایک غلط رویہ ہے، جسے دور کرنے، توڑنے اور کمزور کرنے کی ضرورت ہے۔آج یہ آپ کو نفرت سکھائیں گے، کل آپ کے ہاتھ میں بندوق تھمادیں گے۔ان کا کچھ نہ جائے گا، یہ گھروں میں بیٹھے رہیں گے، یونہی کسی اگلی جماعت کے سامنے بھارت اور ہندوؤں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے ، مگر آپ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، آپ کے والدین جنہوں نے بڑی محبت سے آپ کو پالا پوسا ہے،جنہوں نے آپ کی صورت میں ایک بہتر مستقبل اور خوبصورت دنیا کا خواب سجایا ہے، وہ آٹھ آٹھ آنسو روئیں گے۔نفرت ہم پر تھوپی جائے اور ہم اسے قبول کرلیں تو یہ ہماری بے وقوفی ہے۔ہماری اندھی تقلید، ہمیں اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔
بطور بھارتی شہری ، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ ملک ایک ایسی جگہ ہے، جہاں پوری دنیا میں مسلمان سب سے زیادہ محفوظ اور سب سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں۔جن فسادات کا ذکر کرکے آپ کو ورغلایا اور بہکایا جاتا ہے، وہ کئی برسوں میں جاکر ہوتے ہیں، اچھا، اتنا بڑا ملک ہے۔ایک گھر میں جب کئی افراد رہتے ہیں، ان کی سوچ، سمجھ ، زبان، بیان الگ نہ ہو تب بھی ان میں جھڑپیں ہوجاتی ہیں، یہ تو ایک ملک کا معاملہ ہے، لیکن یہ اتنا اندرونی معاملہ ہے کہ اس سے کسی مسلمان کی اپنے وطن سے محبت کم نہیں ہوتی،اگر کچھ ایسے مسلمان ہیں بھی، جو اس ملک کے خلاف سوچتے ہیں تو صرف وہی نہیں، ہر مذہب اور ہر فرقے میں اس قسم کے لوگ مل جاتے ہیں، جو محبت پر نفرت کو ترجیح دیتے ہیں، مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔دہشت گردی آج ایک ایسی تکلیف دہ حقیقت ہے، جس سے پوری دنیا جوجھ رہی ہے، ہم سب کو چاہیے کہ اس کا مل کر مقابلہ کریں،کیونکہ نفرت ختم ہونے سے کاروبار کے مواقع بڑھیں گے۔لوگوں میں اگر ایک دوسرے پر اعتماد بڑھے گا تو بھلائی اور دولت دونوں کے راستے روشن ہوں گے۔یہ دو ملک، پہلے ہی ایک ہی سرزمین ہوا کرتے تھے، اب ان کے درمیان ایک لکیر موجود ہے، مگر اس طرف والے، اس طرف والوں کے لیے اور اس طرف والے اس طرف والوں کے ایسے ہی دوست ہونے چاہیے، جو کبھی ایک ہی فلیٹ میں رہا کرتے تھے اور اب وہ دوسرے گھر میں منتقل ہوگئے ہیں۔اس کی وجہ سے کوئی نیا جھگڑا پیدا کرنا، کوئی نیا تنازعہ کھڑا کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ہمارا مقصد پہلے یہ ہونا چاہیے کہ ہم اچھے بنیں، ہمارے آس پاس کی دنیا اچھی بنے، نفرت انسانی ذہنوں کو سوچنے سمجھنے کے لائق نہیں چھوڑتی، وہ صرف بدلہ لینے پر اکساتی ہے۔اس لیے بدلے کے جذبات کو کچلنا بہت ضروری ہے، اپنے اندر کے اس راکشس کو ختم کرنا ضروری ہے، جو کسی اور کی جان لینے کا تصور ہمارے دماغ میں پیدا کرسکے۔

 

کبھی آپ کے ٹیچر، کبھی آپ کے مدرسہ کے معلم، کبھی آپ کے بزرگ آپ کو یہ بات کیوں نہیں بتاتے کہ جن ملکوں میں کھانے کے پیسے نہیں، وہاں اتنی بندوقیں، اتنے بھاری اسلحے، اس مقدار میں دوسرے ہتھیار کہاں سے آجاتے ہیں۔
ایک بات جو میں واضح طور پر آپ کو بتانا چاہتا ہوں، اور جو آپ کے معصوم ٹیچرز شاید ہی کبھی آپ سے ڈسکس کرتے ہوں ، وہ یہ ہے کہ زبان اور مذہب کے نام پر لڑی جانے والی سرد و گرم جنگوں کا مستقبل کچھ بھی ہو، مگر ان سے ہمیشہ ایسی طاقتیں فائدہ اٹھاتی ہیں، جن کو جلتے ہوئے جسموں پر ہاتھ سینکنے کا فن آتا ہے۔بھارت اور پاکستان میں اگر مذہب اور سیاست کے نام پر یہ جنگ جاری رہے گی تو لوگ اس جنگ میں ہتھیار اٹھاتے رہیں گے، کبھی آپ کے ٹیچر، کبھی آپ کے مدرسہ کے معلم، کبھی آپ کے بزرگ آپ کو یہ بات کیوں نہیں بتاتے کہ جن ملکوں میں کھانے کے پیسے نہیں، وہاں اتنی بندوقیں، اتنے بھاری اسلحے، اس مقدار میں دوسرے ہتھیار کہاں سے آجاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ ہتھیار بھوک مٹانے والے چار نوالوں سے کئی گنا زیادہ مہنگے ہوتے ہیں، اصل میں ایشیا کی بہت سی ایسی مذہبی و ملکی طاقتیں ہیں، جو ان علاقوں کو ترقی سے روکنے کے لیے کچھ لوگوں کو کام پر لگاتی ہیں،ان لوگوں کو پیسہ دیتی ہیں، خوب پیسہ، یہ پیسہ کبھی مسجد و مدرسہ کو دیے جانے والے فنڈ کے نام پر آتا ہے، کبھی پرائیوٹ اسکولوں میں مذہبی تعلیم کے فروغ کے نام پر، مگر آتا ہے اور وہ لوگ آپ کے خوبصورت محلوں، شہروں، گلیوں اور گھروں کے باہر زبان و تہذیب کی حفاظت کا ڈونگرا بجاتے ہوئے ہتھیار دھر کے کھڑے ہوجاتے ہیں۔جو ہتھیاردھر کر کھڑے نہیں ہوتے، وہ آپ کے معصوم ذہنوں میں تاریخ و تہذیب کی ایسی سوئیاں چبھوتے ہیں، جس سے آپ کو لگتا ہے کہ وہ صحیح کہہ رہے ہیں۔حالانکہ وہ آپ کے ملک کی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ان کی وجہ سے لوگ آپ کے ملک سے ڈرنے لگتے ہیں، سیاح تفریح کی غرض سے آپ کے ملک کا رخ نہیں کرتے، اس لیے نہ ٹورزم کا پیسہ آتا ہے نہ کوئی غیر ملکی کمپنی اس دہشت سے بھری ہوئی دھرتی پر پلانٹ لگانا چاہتی ہے۔وہاں اگر کچھ ممالک کے کارندے بزنس کرنے آتے بھی ہیں تو وہ صرف ان ہتھیاراٹھانے والے لوگوں کے آقائوں کے ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں، جنہیں وہاں نقصان کا کوئی اندیشہ نہ ہو۔ پوری دنیا میں آپ کی شبیہہ خراب ہوتی ہے۔آپ کو مذہب اور زبان کے نام پر ڈرا ڈرا کر یہ لوگ ایک دن آپ کے ہاتھ میں بھی ایک ہتھیار تھماکر آپ کو موت کی طرف دھکیل دیتے ہیں اور خود تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ مجھے آپ سے یہ باتیں کہنی پڑرہی ہیں، مگر حقیقت یہی ہے اور اب وہ وقت ہے کہ آپ کا اسے جاننا بہت ضروری ہے۔بھارت ایک اچھا ملک ہے، ایک ایسا ملک جس سے دوستی کرکے آپ کا ملک اپنے لیے بھی روزگار کے بہت سے وسائل پیدا کرسکتا ہے، لیکن انہی لوگوں کی وجہ سے آج نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ لوگ بھارت میں آپ کی طرف سے غیر مطمئین ہوئے جارہے ہیں۔اب آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ آپ کو جو بھی پڑھایا یا بتایا جائے، خاص طور پر مذہب، رسم، تاریخ، زبان اور بھارت کے تعلق سے۔آپ اس کے بارے میں انٹرنیٹ سے معلوم کریں۔اپنے رویے میں نرمی لائیں اور ٹیچر کی ہر بات پر ہامی بھرنے کی بجائے ان سے مناسب لہجے میں جائز سوالات پوچھیں جو آپ کے دماغ میں آتے ہیں۔

 

انٹرنیٹ کا زمانہ ہے، آپ خبروں اور ہندوستانی دوستوں سے جڑ سکتے ہیں، آپ ان کے بارے میں معلوم کرسکتے ہیں۔کوئی اگر نفرت کا مظاہرہ کرے تو خوف مت کھائیے، بدلے کا جذبہ دل میں نہ پیدا کیجیے۔بس اس کو اپنے رویے سے یہ یقین دلائیے کہ وہ آپ کے ملک اور آپ کے لوگوں کے بارے میں جو رائے رکھتا ہے وہ غلط ہے۔تبھی شاید یہ مسئلہ حل ہوگا۔آپ آنے والے دور کا خواب ہیں اور یہ خواب بگڑنا نہیں چاہیے۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ چاہے کسی چھوٹے سے گائوں کے مدرسے میں پڑھتے ہوں یا کسی بڑے سکول میں۔ٹیچر، نیوز چینل یا پھر کسی ملا مولوی کے بہکاوے میں آئے بغیر خود چیزوں کو سمجھنے اور جاننے کی کوشش کیجیے۔اور اس میں اپنی نیت اچھی رکھیے۔یاد رکھیے! آپ کو ایک بہتر مستقبل بنانا ہے اور اس بہتر مستقبل کی شروعات ایک حوصلے سے ہونی چاہیے، ایک ایسے جذبے سے جس میں آپ یہ عزم کریں کہ لاشوں پر تجارت نہیں ہونے دیں گے،مذہب کے نام پر مزید بٹوارے نہیں برداشت کیے جائیں گے اور زبان کے تعلق سے کوئی فخر، کوئی انانیت خود میں پیدا نہ ہونے دیں گے۔آنے والا وقت شاید تب ہی سدھر سکتا ہے، ورنہ سب رفتہ رفتہ بگڑ رہا ہے، ہم بھی ، آپ بھی اور ہمارے ملکوں کے حالات بھی۔

 

آپ سے سمجھنے کی ایک چھوٹی سی امید کے ساتھ
بھارت سے آپ کا ایک مخلص دوست
تصنیف حیدر
Categories
شاعری

یہ دلّی تھی، یہ لاہور تھا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

یہ دلّی تھی، یہ لاہور تھا
(ایک نامراد فینٹسی)

[/vc_column_text][vc_column_text]

پُرسا دینے کی تفصیل میں کیوں جاؤں میں؟
آنسو کس کے پونچھوں، سوگ مناؤں کس کا؟
آہ، اُف، تعزیت، ماتم
وائے، حیف ، افسوس، عزا داری کے جملے۔۔۔۔۔
میرا کلیجہ پھٹ جانے سے خوں شوئی میں بہہ نکلے ہیں
میں نا شکرا، اُس دھرتی کا بیٹا جس نے
مجھ جیسے نا خلف کو جیون دان دیا تھا
آج کے اس منحوس لگن میں
بوم شوم کے اس بد فال ا گھن میں
ایک اگھور وقت کے ان منحوس پلوں میں
ہنستے بستے شہروں کی سکراتِ مرگ کو دیکھ رہا ہوں!

 

کاش کہ میں نا بینا ہوتا
پھوٹ گئی ہوتیں یہ آنکھیں، جو یہ منظر دیکھ رہی ہیں!
یہ دلّی ہے، یہ لاہور ہے
یہ دلّی تھی، یہ لاہور تھا!

 

امریکا میں بیٹھا میں بھی
لاکھوں دیگراپنے ملکوں کے پرواسی لوگوں جیسا
ٹی وی پر یہ منظر نامہ دیکھ رہا ہوں
شہر کہاں ہیں؟
عمارات، مینار، منارے کہاں گئے ہیں؟
ریل گاڑیاں،میٹرو کے اسٹیشن، کاریں
بجلی کے کھمبے اور تاریں
کس دریا میں غرق ہوئے ہیں؟
پنکھ پکھیرو، جانور، انسان کہاں ہیں؟
گدلی تاریکی میں باقی کچھ بھی نہیں ہے
ڈھیر راکھ کے، اڑتی دھول، بگولے زہریلی گیسوں کے
کوئی بھی عضوی باقیات، ذی روح نمو
حیوانی، خلقی اُپج نہیں ہے
پاشیدہ، مالیدہ، رسپیدہ ہے سب کچھ!

 

اب تو راکھ کے ڈھیر ہیں، لیکن
کل تک یہ دلّی تھی، یہ لاہور تھا!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نقطۂ نظر

میں جنگ کے خلاف ہوں لیکن۔۔۔۔

[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر کا یہ مضمون اس سے قبل ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ تصنیف حیدر کی اجازت سے اسے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

یہ اس سویرے کی بات ہے، جب میری آنکھ اتفاق سے جلد کھل گئی تھی، پتہ نہیں کیوں، کس بات پر مگر نیند ٹوٹی تو معلوم ہوا کہ نیند کے ساتھ ساتھ خواب بھی ٹوٹا ہے اور یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ سرحدی علاقے میں اٹھارہ جوانوں کو کچھ دہشت گردوں نے شہید کردیا ہے۔ حالانکہ لفظ شہید ہمیشہ میرے لیے کشمکش کا باعث رہا ہے اور میں اپنی دوست رامش فاطمہ سے اس حد تک اتفاق کرتا ہوں کہ یہ لفظ انسان کے قتل، اس کی موت کو تقدس کے ہالے میں لپیٹ کر طاق میں رکھ دینے کی سازش کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ بہرحال اب آپ میرے یہاں موجود اس لفظ کو قتل یا موت کے معنی میں پڑھ سکتے ہیں۔ ہم اس دن نیوز کی دکانوں پر پڑی لکڑی کی چھوٹی چھوٹی بینچوں پر بیٹھے رہے، جہاں تازہ اپڈیٹس کی جلیبیاں اتار کر عوام کو دی جاتی ہیں، کچھ کرکری، کچھ تازی، کچھ گرم اور کچھ بہت زیادہ جلی ہوئی۔ دکان دار کوشش کرتے ہیں کہ یہ جلیبیاں کرکری اور گرم ہوں تاکہ بیٹھے ہوئے لوگوں کو اس کی عادت پڑ جائے۔ سو اس دن بھی یہی ہورہا تھا۔ آج میں کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں، حالانکہ مجھ جیسے ایک گھریلو قسم کے ادیب کا ہندوپاک کی نہایت گنجلک، خطرناک، سازشی اور سخت ترین سیاست پر لکھا گیا کوئی بھی جملہ اعتبار کا درجہ نہیں رکھتا، مگر میں چونکہ ایک امن پسند، ڈرا ہوا اور خاموش طبع انسان ہوں، اس لیے چاہتا ہوں کہ میری بات بھی کبھی سنی جائے۔

 

جب بھی کہیں کوئی موت ہوتی ہے، ہمیں اس کا دکھ منانا چاہیے، دکھ اس معاملے میں کہ آج ایک پھول پک کر، سڑ کر، پچک کر زمین پر گرپڑا ہے۔
جب بھی کہیں کوئی موت ہوتی ہے، ہمیں اس کا دکھ منانا چاہیے، دکھ اس معاملے میں کہ آج ایک پھول پک کر، سڑ کر، پچک کر زمین پر گرپڑا ہے۔ عام طور پر ہمارے ملکوں میں سپاہیوں کی موت کو موت نہیں بلکہ قربانی سمجھا جاتا ہے، ان کے مرنے، ان کے قربان یا پھر شہید ہونے سے ان کے ماں باپ کو فرق نہیں پڑنا چاہیے، ان کے بچوں، ان کے خاندان والوں اور ان کے اپنوں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ فوج میں بھرتی ہونے کا ایک مقصد ہمارے یہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ لوگ وطن پر جان دینے کے لیے، کفن باندھ کر اپنے گھر سے نکلے ہیں۔ ہمارے یہاں ایک ٹرینڈ ہے، اگر آپ کو یہ بے وقت کا انگریزی لفظ برا معلوم ہوا ہے تو معافی چاہوں گا، مگر یہ روایت سے کئی گنا بہتر لفظ ہے۔ ٹرینڈ یہ ہے کہ ایک بھری ہوئی بندوق لیے ہوئے سپاہی کے پیچھے کھڑے ہوئے کچھ نہتے جی بھر کر جالیوں کے اس پار لوگوں کو گالیاں دینا چاہتے ہیں، کوسنا چاہتے ہیں، ان کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں، ان سے جھگڑا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں طرف ہے۔ اور جب اس جانب سے کوئی گولی آتی ہے تو سپاہی کا سینہ تو شہید ہونے ہی کے لیے بنایا گیا ہے، چنانچہ اس کا کوئی غم نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے غم میں مزید آبلہ پا ہو کر ایک نئے انسان کو وردی، کنٹوپ پہنا کر، بندوق ہاتھوں میں تھما کر اس کی پشت پناہی حاصل کرلینی چاہیے۔ ہمیں اس شخص کے گھروالوں، اس کے عزیزوں، اس کی زندگی، رشتوں، خوابوں، طور طریقوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔معاف کیجیے گا، مگر ہم اس مقام پر سپاہی اور خودکش بمبار میں فرق کرنا بھول جاتے ہیں۔سپاہی ایک ذمہ دار شہری ہوتا ہے، ایک ذمہ دار باپ ہوتا ہے، ایک ذمہ دار شوہر ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر ذمہ دار انسان ہوتا ہے، جس کے اندر وہ سارے جذبات موجود ہیں، جو اس کے پیچھے کھڑے ہوکر چخ چخ کرنے والوں میں ہونے کے امکانات ہیں۔ہم کبھی جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے، اس لیے کیوں نہیں گھبراتے کہ ہمیں ان سپاہیوں کی جان اور ان کے بچوں، بیویوں کی زندگی کی فکر ہو، ان سے محبت ہو، ان کی زندگی سے محبت ہو۔ہم نفرت کی دلدل میں اس قدر گہرےاترنے کے لیے تیار ہیں کہ اپنی طرف سے لڑنے کے لیے کچھ ایسے مجبور انسانوں کو آگے کرتے ہیں، جن کے لیے فوج میں بھرتی ہونا، ان کی چھوٹی بڑی ذمہ داریوں کو نبھانے کا نام بھی ہوسکتا ہے۔ جنگ کی خواہش آپ کی ہے، تو سپاہی کیوں مرے۔ آپ کہیں گے کہ اس کا کام ہی حفاظت کرنا ہے۔ تو میرا سوال ہے کہ حفاظت اصل کام ہے، موت اصل کام نہیں ہے۔ موت اس کا مقصد نہیں ہے، اس کا مقصد ایک سچی، صاف اور صحیح زندگی ہے۔ نفرت میں ڈوب جانے والے، اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ وہ نفرت کرنے والوں کی ہی زبان بول رہے ہیں۔اس بھاشا کا اپیوگ ہمیشہ ہوتا رہا ہے، ہر زمانے میں۔ اور ہر زمانے میں سوچنے والا ذہن ان کے لیے ایک نحوست، قابل نفرت اور گھن کرنے جیسی چیز ہی بنا رہا ہے۔سوشل میڈیا کی خبروں پر ہندو پاک کے عام لوگوں کے جذبات ، جس طرح منہ سے نکلنے والے جھاگ کی طرح ، کی بورڈ پر گھس کر پیدا کیے جانے والے لفظوں کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں،ان کا نظارہ تو ہر شخص نے کیا ہوگا۔ایک صاحب نے لکھا۔ ہندوستان پر نیوکلیر حملہ ہوجائے تو ہوجائے، ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔یہ بہت بڑا دیش ہے، جتنے لوگ بچیں گے، وہ پھر سے ہندوستان بنالیں گے، مگر ہم پاکستان کا نام و نقشہ اس دنیا سے ہٹا دیں گے۔میرے ذہن میں ان کے خیالات پڑھنے کے بعد دو باتیں ایک ساتھ پیدا ہوئیں۔ اول تو یہ کہ یہ کمنٹ کرتے وقت موصوف پوری طرح اس بات کی یقین دہانی کرچکے تھے کہ وہ بچنے والوں میں سے ہی ہوں گے، دوسرے ان کا رویہ اس دہشت گرد کی ہی طرح تھا، جو سوچتا ہے کہ بھیڑ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارگرایا جائے، مجھے تو مرنا ہی ہے، مگر میں اپنے دشمنوں کو بھی زیادہ سے زیادہ ختم کرسکوں۔اس کے لیے وہ تمام لوگ اس کے دشمن ہوتے ہیں، جن سے نہ وہ کبھی ملا، نہ ان کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کی، نہ عام زندگی میں انہیں اپنے ہی جیسا گھرداری اور کاروبار، عشق و تمدن میں الجھا ہوا انسان سمجھا، نہ وہ ان کے نام سے واقف، نہ ان کی فکریات سے۔بس چل پڑے، خود کو چیتھڑے چیتھڑے کرنے۔ اب اس سوچ میں اور اس سوچ میں کون سا ایسا فرق ہے۔ دہشت گردی، کہیں اور سے نہیں آتی، یہ بدلے کے جذبے سے پیدا ہونے والا ایک مرض ہے، ایک نفسیاتی مرض، جو انسان کو سوچنے سمجھنے سے محروم کرکے بس تباہی پھیلانے کی جانب راغب کرتا ہے۔اورتباہی بھی ان لوگوں کی ،جن کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو۔جن سے بلاواسطے کا ایک بیر ہو۔

 

امن حکومت کے ذریعے نہیں آ سکتا، یہ نعرے لگانے، چیخنے چلانے، گولیاں داغنے یا بم ماردینے سے نہیں آئے گا۔یہ بات کرنے کے ماحول سے پیدا ہو گا۔
یہی کام اس روز ان چار دہشتگردوں نے کیا، جو سرحد پار کرکے یہ جانتے بوجھتے اس طرف داخل ہوئے تھے کہ وہ کسی کو مار پائیں یا نہ مار پائیں مگر ان کا مرنا تو طے ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ انہوں نے کیا کیا ہے؟یہ وقت حکومتوں کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا نہیں ہے، وہ وقت گزر گیا، اب مسئلہ عوام کے ذریعے حل ہوگا۔جرمنی کے تاریخی معاہدے کو یاد کیجیے، جرمنی کی حکومتوں نے برلن کی دیوار کو نہیں گرایا تھا، عوام نے گرایا تھا۔ دیواریں تو ہمیں ہی گرانی ہوں گی۔ یہ کون لوگ ہیں، جو ہمیں جانے بوجھے بغیرہمارے بیچ مارنے، مرنے کے لیے آجاتے ہیں۔ہمیں ان کے مرض کی تشخیص کرنی ہو گی، ہمیں انہیں یہ یقین دلانا ہوگا کہ ہم ان کے دشمن نہیں ہیں، انہیں ہماری دشمنی پر جو لوگ آمادہ کررہے ہیں، دراصل وہ انہیں گمراہ کر رہے ہیں۔ امن حکومت کے ذریعے نہیں آ سکتا، یہ نعرے لگانے، چیخنے چلانے، گولیاں داغنے یا بم ماردینے سے نہیں آئے گا۔یہ بات کرنے کے ماحول سے پیدا ہو گا۔ اب آپ پوچھیں گے کہ بات کیسے ہو گی، یہ بھی آپ ہی کو طے کرنا ہے۔آپ کو کسی حکومت سے بات نہیں کرنی ہے، آپ عوام سے بات کیجیے، عوام میں یہ یقین پیدا کیجیے کہ وہیں کے رہنے والے، وہیں کے لوگوں کے درمیان آپ کی اس امیج کو غلط ثابت کر دیں، جو وہاں کے گھٹیا ذہن بنارہے ہیں۔ وہاں کے نصابات میں زبردستی جس طرح بھارت اور بھارتی لوگوں کو دشمن بتایا جارہا ہے، آپ اپنے عمل سے یہ ثابت کیجیے، کہ تمہارا نصاب جھوٹا ہے، تم لوگوں کو غلط تعلیم دے رہے ہو، کیونکہ اسکولی تعلیم اور حقیقت پسند انسانی زندگی میں بہت فرق ہوتا ہے۔

 

پاکستان ایک کمزور پڑتا ہوا ملک ہے، وہاں کے بہت سے رہنے والوں کے دماغوں میں مذہبی رگ پھول کر سبز سے نیلی ہوگئی ہے۔ انہیں یہ بات سمجھنے میں دشواری ہورہی ہے کہ زندگیاں کرکٹ کا میدان نہیں ہوا کرتیں۔جہاں ہوائوں میں چھکے، چوکے لگائے جائیں۔ میں حیران ہوں کہ ان کے وزیر دفاع ایک نیشنل چینل پر نیوکلیئر کو استعمال کرنے کی بات کربھی کیسے سکتے ہیں۔یہ سب کتنا خطرناک ہے، پاکستانی حکمرانوں اور وہاں کے مذہب پرست بیمار لوگوں کو اس سے کوئی مطلب نہیں۔ اب ایسی ہی کچھ آبادی ہمارے یہاں بھی ہے، جو اس بات کو نہیں سمجھتی کہ مسئلے مذہبی فقروں یا وطنی نعروں سے نہیں حل ہوتے۔انسانیت کی قدر کرنے سے حل ہوتے ہیں۔مگر ایسا نہیں ہے کہ ان کے یہاں اور ہمارے یہاں کی عوام سیکولر نہیں ہے، عوام جنگ چاہتی ہے یا اپنی تباہی کے لیے پر تولے بیٹھی ہے۔ ان کے مسائل بھی اتنے ہی زمینی ہیں، جتنے ہمارے ہیں۔مجھے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ اگر پاکستان نہیں بنا ہوتا تو کیا یہ مسائل ہوتے، جواب ملتا ہے کہ ہوتے اور شاید اس سے زیادہ بھی ہو سکتے تھے۔ کیونکہ مذہبی افتخار، نئی قومیت کے تصور کو جنم دے رہا ہے، جس سے اکیسویں صدی میں بڑی طاقتیں فائدے اٹھارہی ہیں۔نیوز چینلوں کی ان بکواسوں پر مت جائیے کہ امریکہ یا چین ہندوپاک کی ٹھڈیوں میں ہاتھ ڈال کر انہیں کس طرح منانے کی کوشش کررہے ہیں۔ جنگ کا میدان اگر دو ملک بنتے ہیں، تو آج کے زمانے میں وہاں صرف وہ دو ممالک ہی نہیں لڑتے، بلکہ دنیا کے باقی بڑے ممالک بھی اسی کا فائدہ اٹھاکر اپنی طاقت جھونک دیتے ہیں، تاکہ ایک دوسرے سے اپنی زمین سے دور لوہا لیا جاسکے، ایک دوسرے کی طاقت کا اندازہ کیا جاسکے اور کسی ایک کو کمر جھکانے پر مجبور کیا جائے۔سیریا کا انجام آپ کے سامنے ہے۔ مگر افسوس کہ ہم نے گلوبل حالات سے کچھ نہیں سیکھا اور کیوں نہیں سیکھا یہ کسی اور سے نہیں، اپنے آپ سے پوچھیے۔خدا کی بخشی ہوئی عظیم تر نعمت یعنی کہ زندگی کو کوئلہ کردینے کی خواہش نہ رکھیے، کسی سے نفرت ہی کرنی ہے تو اس رویے سے کیجیے جو انسان کو انسان سے لڑنے پر مجبور کرتا ہے۔

 

ان اسباب کو ڈھونڈنا اور ڈھونڈ کر انہیں ختم کرنا نہایت ضروری ہے، جو شہادت کے اس غلط اور گمراہ کن تصور کو رائج ہونے میں مدد دیتے ہیں، ورنہ اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتاردینے والوں کی کمی کبھی نہیں ہوگی۔
میں سوچتا ہوں کہ وہ کون لوگ ہوں گے، جن کو اس بات پر مذہبی فقرے سنا کر آمادہ کرلیا جاتا ہوگا کہ تم کسی کی جان لے کر کوئی گناہ نہیں کررہے ہو، کسی باپ، کسی شوہر، کسی بیٹے کو ختم کرکے، اسے ابدی نیند سلا کر، اس کے افکار و نظریات سے ناواقف ہوتے ہوئے بھی تم کو ایک کھلکھلاتی جنت مل سکے گی۔ان اسباب کو ڈھونڈنا اور ڈھونڈ کر انہیں ختم کرنا نہایت ضروری ہے، جو شہادت کے اس غلط اور گمراہ کن تصور کو رائج ہونے میں مدد دیتے ہیں، ورنہ اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتاردینے والوں کی کمی کبھی نہیں ہوگی۔اس لیے ضروری ہے کہ جتنے انسان پیدا ہوں، اسی مقدار میں سوچنے والے ذہن پیدا ہوں۔شارلی ہیبدو پر جب حملہ ہوا تو فرانس میں دس لاکھ کے مجمع نے مل کر اپنے غصے کا اظہار کیا، لیکن وہاں کے لوگ مسلمانوں کے تعلق سے تب بھی یہی کہہ رہے تھے کہ انہیں تعلیم کی ضرورت ہے۔سچ ہے کہ تعلیم ہی اس مسئلے کا حل ہے، وہ تعلیم جو سوچنا سکھا سکے، صرف دوسروں کے کہے پر بنا سوچے سمجھے چلنے کاطریقہ نہ سکھائے۔

 

کشمیر کا جہاں تک معاملہ ہے، مجھے لگتا ہے کہ اس علاقے کو یہاں کی ہٹ دھرم مذہبی اور علیحدگی پسند سیاست نے جہنم بنارکھا ہے۔وہاں کے لوگوں کو چاہیے کہ ہندوستان کا ساتھ دیں۔ایک تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ملک کو دل سے اپنائیں اور اس کا حصہ بنیں اور اس سے محبت کریں۔انہوں نے ہمیشہ حالات کو اس قدر خراب اور عجیب رکھا ہے کہ ان کی علیحدگی پسندی نے ہندوستان کے باقی بیس بائیس کروڑ مسلمانوں کی ایمانداری اور وطن سے ایک قسم کے محبتانہ جذبے پر سوالیہ نشان قائم کردیا ہے۔کشمیریوں کو چاہیے کہ اس قسم کی سیاست سے باہر نکلیں اور ہندوستان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کرچلیں ، بغاوت یا علیحدگی کے نام پر کسی بندوق بردار کا ساتھ نہ دیں۔وہ اپنے لیے ایک خوشگوار ماحول پیدا کرسکتے ہیں۔مگر وہ نہیں کررہے ہیں۔وہ اس مسئلے کو پچھلے ستر سا ل سے مسئلہ بنائے ہوئے ہیں اور آگے بھی بنائے رکھیں گے، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا اور ان کی زندگیاں جنت و جہنم کے بیچ ڈولتے ہوئے ایک پل پر یونہی مجہول و مبہم رقص میں مبتلا رہیں گی۔یہ ٹچی حرکتیں، جن میں دوسری زمینی طاقتوں کی زبانی حمایت سے لے کر ایک الگ ملک کا شہری ہونے کے خواب تک پھیلی ہوئی ہیں، اب کشمیریوں کو بند کردینی چاہییں۔جس دن وہ یہ فیصلہ لیں گے، اپنے ہی نہیں، اپنے بچوں کے مستقبل کو بھی تابناک کردیں گے۔ہندو پاک کے وہ تمام لوگ جو اس زخم کے سوکھنے کے بجائے، ابھی بھی اسے اپنے نظریات سے ناسور بنے رہنے کی حمایت کرتے ہیں، وہ کشمیریوں کی زندگی کو ابتر کرنے کی سازش میں برابر کے شریک ہیں۔انہیں کشمیرکے رہنے والے انسانوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے، وہ بس ان کو بے وقوفوں کی طرح ایک مسلح فوج سے بھڑا دینا چاہتے ہیں، جس کا انجام نہایت کریہہ اور خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

 

میں جنگ کے خلاف ہوں لیکن اس لیے کیونکہ میں یہ جانتا ہی نہیں کہ میری جنگ ہے کس سے۔
ہندو پاک کے کرکٹ میچ میں چھائے ہوئے ایڈونچر سے لے کر آج جنگ کی نوبت جب ایک دفعہ پھر ہمارے آسمانوں تک آن پہنچی ہے تو ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔ہم اپنے ملکوں کے وفادار ہیں تو ہمیں ان کی بھلائی کے بارے میں سوچنا چاہیے، ہمیں بغیر جانے، بغیر دیکھے ہوئے لوگوں کو دشمن سمجھنے کے بجائے ایک ایسی طاقت سے لڑنے کی ضرورت ہے، جو نفرت کو ہوا دے رہی ہے اور آئے دن اس نفرت کا سہارا لے کر معصوم لوگوں کی جان لینے کے درپے ہیں (جن میں بھٹکے ہوئے نوجوان بھی ہیں اور وردی پوش سپاہی بھی)۔

 

میں جنگ کے خلاف ہوں لیکن اس لیے کیونکہ میں یہ جانتا ہی نہیں کہ میری جنگ ہے کس سے۔میں کسی سٹیڈیم میں بیٹھ کر رنگ میں لڑنے والے اپنے فریق کے بدن میں حوصلے کی ہوا نہیں بھررہا ہوں، بلکہ یہ ایک ملک کا سوال ہے، جہاں کی آبادی، جہاں کی جگہوں، جہاں کے قصوں، جغرافیائی حصوں، تاریخی مقامات اور معاملات سے میرا ایک تعلق ہے۔میں کسی انسان کے خلاف نہیں جاسکتا، جب تک کہ اپنے ذہن کی کسوٹی پر اس کے نظریات کو نہ کس لوں۔میں چاہتا ہوں کہ بہکانے والی طاقتیں ختم ہوں، کیونکہ وہی سب سے بڑا مسئلہ ہیں لیکن میرے چاہنے سے ہوتا کیا ہے۔۔۔۔
Categories
اداریہ

پائیدارامن ممکن تھا مگر امن کو ترجیح نہیں دی گئی۔ اداریہ

ہندوستان اور پاکستان کے مابین حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہیں لیکن اس مرتبہ کشیدگی کے اثرات کہیں زیادہ منفی اور دوررس نکلنے کا خدشہ موجود ہے۔ 2013 میں پاکستان میں نواز شریف کے برسراقتدار آنے اور اپنے ہم منصب کی تقریب حلف برداری میں شرکت سے امن کی جو امید پیدا ہوئی تھی وہ سرحد پار پاکستانی جہادی تنظیموں کے حملوں کے باعث معدوم ہو چکی ہے۔ حالیہ کشیدگی نہ صرف امن کی آئندہ کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہے بلکہ مستقبل قریب میں کسی پائیدار اور پرامن حل کاامکان تقریباً ختم کر سکتی ہے۔

پاکستان میں نواز شریف کے برسراقتدار آنے اور اپنے ہم منصب کی تقریب حلف برداری میں شرکت سے امن کی جو امید پیدا ہوئی تھی وہ سرحد پار پاکستانی جہادی تنظیموں کے حملوں کے باعث معدوم ہو چکی ہے۔
حالیہ کشیدگی میں عوامی اور سفارتی سطح پر دو مختلف لہجے اپنانے کا نقصان سامنے آ رہا ہے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم نواز شریف کی تقریر میں دی گئی تجاویز اور وزیر اعظم مودی کی جانب سے غریبی کے خلاف جنگ کی دعوت یہ ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت جنگ کو ایک قابل عمل انتخاب نہیں سمجھتی۔ لیکن دوسری جانب دونوں جانب ذرائع ابلاغ پر اپنے اپنے عوام کے لیے ایک ایسا پراپیگنڈا جاری ہے جس میں جنگ یا بھرپور دفاع کو ہی واحد حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں یقیناً ہندوستان کا رویہ زیادہ قابل تنقید ہے اور ہندوستانی قیادت اپنے ہی سخت لب و لہجے کے باعث ایک ایسی صورت حال کا شکار ہو چکی ہے جس میں مستقبل قریب میں مذاکرات یا سفارتی سطح پر معمول کے تعلقات کا امکان ختم ہو گیا ہے۔

حالیہ کشیدگی میں ایک متوقع جنگ کا امکان بھی اتنا ہی خوف زدہ کر دینے والا ہے جتنا کہ دونوں جانب کے ذرائع ابلاغ پر جنگ کے امکان اور متوقع جنگ کی حمایت کا پرجوش اور زروردار ظہار۔ ایک مسلح تصادم کے امکان تلے عوامی رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کو منقطع کیا جانا ایک ایسی خطرناک پیش رفت ہے جو مستقبل میں پاک ہند امن کے امکان کو دھندلا رہی ہے۔ ایک بڑی جنگ اگرچہ خار از امکان قرار دی جا سکتی ہے تاہم دونوں طرف عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی نفرت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنگ نہ ہونے کی صورت میں بھی مودی حکومت کی جانب سے عوامی حلقوں کو مطمئن کرنے کے لیے اپنایا گیا سخت رویہ پاکستانی عدم تحفظ میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ فنکاروں کو ملنے والی دھمکیاں، ہندوستان میں پاکستانی ڈراموں کی نشریات اور پاکستان میں ہندوستانی فلموں کی نمائش پر پابندی کسی بھی طرح خؤش آئند نہیں۔

ایک ایسے خطے میں جہاں مذہبی دہشت گرد گروہ سرحد کی دونوں جانب حملے کر رہے ہوں، جنگ کی حمایت یا جنگ کا ماحول پیدا کیے رکھنا کسی بھی وقت ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
ہندوستان کا سخت رویہ پاکستان کے لیے صورت حال مزید مخدوش کر رہا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے امن کی سنجیدہ کوششوں کی ناکامی پاکستان کی طاقتور فوج کو سخت رویہ اپنانے پر مجبور کر سکتی ہے۔ ہندوستان کو اس بات کا ادراک کرنا ہو گا کہ پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار کرنے کی کوشش پاکستان میں موجود غیر ریاستی عناصر کو تقویت دے گی اور یہ خطے کی سیکیورٹی اور امن کے لیے زہر قاتل ثابت ہو گا۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں کو یہ احساس ہونا چاہیئے کہ جنگ یا جنگجو طرزعمل کی حمایت کسی بھی سطح پر نہیں کی جا سکتی۔ ایک ایسے خطے میں جہاں مذہبی دہشت گرد گروہ سرحد کی دونوں جانب حملے کر رہے ہوں، جنگ کی حمایت یا جنگ کا ماحول پیدا کیے رکھنا کسی بھی وقت ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے لیے حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کے امکانات موجود تھے۔ اگر بھارتی وزیر اعظم پاکستان آمد جیسے مثبت اقدامات کی طرح پالیسی سازی کی سطح پر بھی جرات مندی کا مظاہرہ کرتے تو صورت حال مختلف ہو سکتی تھی۔ اگر پاکستان جہادی تنظیموں کے خلاف عملی اقدامات کرتا تو مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت ہو سکتی تھی۔ درحقیقت حالیہ کشیدگی ہندوستان اور پاکستان کی جانب سے امن کو پہلی ترجیح نہ بنانے کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کی جانب سے ریاستی سطح پر کشمیر جہاد عملاً ترک کرنے کے بعد ہندوستان اور پاکستان میں اعتماد کی فضا بہتر کی جا سکتی تھی لیکن پاکستان نے ہندوستان میں حملے کرنے والی جہادی تنظیموں اور افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی۔۔ پاکستان کی طرف سے جہاد کی پالیسی ترک کرنے کے اعلانات کے باوجود لشکر طیبہ جیسی تنظیمیں نہ صرف ہندوستان میں حملے کر رہی ہیں بلکہ پاکستانی عسکری ادارے ان تنظیموں کو اب بھی تحفط دے رہے ہیں۔ ہندوستان نواز شریف کے مفاہمانہ رویے کی بنیاد پر مذاکرات کو آگے بڑھا سکتا تھا مگر یہ موقع قوم پرست سیاست کی نذر ہو چکا ہے۔ پائیدار امن ممکن تھا مگر امن کو ایک بار پھر ترجیح نہیں دی گئی۔